Author: misbah116@hotmail.com

  • داستانِ حیات

    داستانِ حیات
    علی فاروق
    (داستانِ شبِ غم اور قصہ روزِ درد، اُس مظلوم مخلوق کا جسے ”طالبِ علم” کہتے ہیں……)
    اپنی پیدائش کے چند لمحات بعد ہی وہ بے چارہ اس بات کا ماتم کر تانظر آتا ہے کہ وہ عاقبت نااندیشوں کے کس جہان میں پھنس گیا۔ بڑوں کی محفل میں ایک جانب اعلانِ شاہی صادر ہوتا ہے: ”ہمارا بیٹا ڈاکٹر بنے گا”دوسری صدا آتی ہے” انجینئر بنے گا” (انسان بنانے کا کبھی کسی کو خیال ہی نہیں آیا) بس اس کی کم بختی شروع ہو جاتی ہے۔
    والدین کیا جانیں اس لمحے کی بے چارگی! جب گرم کمبل، حسین نیند اور سہانے خواب، اچانک ایک دھاڑ سے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں: ”بیٹا! اٹھوسکول نہیں جانا”۔ جتنی گالیاں (اور وہ بھی پنجابی میں) موجدِ تعلیم جدید کو دینے کا اُس وقت دل چاہتا ہے وہ بس وہی جانتا ہے۔ دادی اماں کی کہانی والی پریوں کے ساتھ ابھی بچہ بے چارہ تصوراتی محلات میں گھوم رہا ہوتا ہے، مولوی صاحب کی دھاڑ سن کر ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھتا ہے۔
    10 کلو وزن والے بچے پر 20کلو کتابیں لاد دی جاتی ہیں (آج تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ اگر گدھے پر کتابوں کا انبار لاد دیا جائے تو وہ ”استاد” ہونے کا دعویٰ کیوں نہیں کرتا… حالاں کہ آج کل ہمارے سیاست دان ایسے اداروں سے بھی ڈگریاں لے لیتے ہیں، جن کا قیام سو سال بعد ہوتا ہے، اور پھر فخریہ طور پر ‘ڈال سے ڈاکٹر’ کہلا کر خوش ہوتے ہیں)… ہائے وہ رِقت انگیز مناظر!! ! جب باپ، بچے کو سکول کے گیٹ سے اندر داخل کرتا بلکہ زبردستی دھکیلتا ہے اور وہ بچہ ایسے بے جان قدم اُٹھاتا مڑ مڑ کر ظالم کو دیکھتا ہے جیسے پھانسی گھاٹ کی جانب جا رہا ہو ۔ اس کی امید کا سہارا hopping best ….. for next time ہی ہوتا ہے۔
    چھٹی کی گھنٹی سنتے ہی جو دِلی سکون اور ذہنی اطمینان حاصل ہوتا ہے، گھر آتے ہی ماں جی کے اس اعلان سے سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے: ”تمہارے پاپا نے تمہارے لیے نیا ٹیوٹر مقرر کیا ہے۔ آج سے عصر تا عشا تم گھر میں پڑھائی کیا کرو گے۔”


    ”اگر کبھی ٹی وی پر پسندیدہ کارٹون لگے ہوں تو ریموٹ فوراً سے پیشتر ایسے جھپٹ لیا جاتا ہے، جیسے حکمران عوام سے جینے کا حق چھینتے ہیں اور ساتھ ہی ڈانٹتے ہوئے کہا جاتا ہے: ”چلو اُٹھو!! پڑھو جاکر ، تمہارے امتحان سر پر ہیں”… (پتانہیں یہ امتحان ہی کیوں سر پر ہوتے ہیں؟ کوئی ہیروں سے سجا تاج کیوں نہیں ہوتا…؟؟)
    سارے بڑے (والدین، اساتذہ اور گلی محلوں میں ہوا کے ساتھ اُڑنے والے لفافوں کی طرح بکثرت پائے جانے والے دانشور) فریب کا ایسا لولی پوپ بچے کے منہ میں گھسیڑتے کہ وہ آخر وقت سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ گیم کیا کھیلی گئی۔ ”بیٹا! یہ سکول کے چند سال پڑھ لو، کالج میں تو پھر عیش ہی عیش ہو گا…… محنت کر لو کالج میں ایڈمیشن ہو گیا تو موجیں ہی کرو گے”۔
    پھر کالج یونی ورسٹی کے زمانے میں یہ ہدایت ہوتی کہ اب یہ آخری سٹیج ہے تمہاری سٹڈیز کی، اس کو بھی اچھا ہونا چاہیے، پروفیشنل لائف میں تو مزے ہی مزے ہوں گے……” (ہر دور کے اینڈ پہ ان کے ”عیش” کے وعدے کو تازہ دم کرنے کی بات کی جائے تو …… مٹی پائو جی…… رات گئی، بات گئی!!)
    ایک طالب علم جس دور کے بارے میں سہانے خواب دیکھتاہے۔ اب وہ شروع ہوتا ہے تعلیمی سفر کے اختتام پر اور ”جن گھر والوں کا ہمیشہ کھاتے رہے” ان کو کھلانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے شروع کرنے سے… اب جناب صاحب کے پاس ڈگری ہے…… اعلیٰ تعلیم …… اور اپنے تمام کوائف اٹھا کر مطلوبہ ملازمت ڈھونڈنے کے لیے اتنی جگہوں کے دھکے کھاتا ہے کہ اسے بعض دفعہ وہ چند کاغذات بھی پہاڑ سے زیادہ وزنی محسوس ہوتے ہیں۔
    اس سارے دور میں کھوجتی نگاہیں، ذومعنی اشارے اور مثالی ”حسن سلوک” بعض رشتہ داروں کی جانب سے تحفے میں ملتاہے وہ بھی زبردست ہے……
    ”بیٹاابھی تک جاب ہی نہیں ملی … وہ اسلم صاحب کا بیٹا بھی تو اسی یونی ورسٹی سے پڑھا ہے، وہ کب سے اتنی اچھی پوسٹ پر بیٹھا ہے……” پھر سرگوشی کرتے ہوئے ”رزلٹ تو ٹھیک آیا اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں!” ہاہاہاہا۔
    (بس چچا جان ایک بات بھول گئے کہ اسلم صاحب کے چچا ایک بڑی انڈسٹری کے چیئرمین ہیں)


    ”میں تو شاہ صاحب سے پہلے ہی کہتا تھا کہ کاروبار میں ڈال دو چھوکرے کو، کیا رکھا ہے انگریزی پڑھائیوں میں!!! خوفِ خدا باقیہے نا مخلوق سے شرم …… اپنے ہمسائے کو ہی دیکھ لو، کہاں پہنچ گیا ہے اس کا کاروبار……”ایک ہمسائے کی کا جلتی پر تیل ڈالنے کا کام۔
    ”ہاتھ کا کاری گر ہوتا تو باہر ہی چلا جاتا… (چاہے وہاں جا کر ٹیکسی چلانا پڑتی) …… آپ نے تو ایسے ہی اتنی رقم ضائع کر دی اس پر…” ایک رشتہ دار کی جلی کٹی۔
    پر ان سب سے زیادہ تکلیف دہ موقع وہ ہوتا ہے جب ماں کہتی ہے کہ بیٹا …… فارغ بیٹھے ہو تو ذرا یہ ”مٹر” ہی چھیل دو…… مشین کی سوئی میں ”دھاگا” ڈال دو…… ”جالے” ہی اتار دو …… اور بابا کہتے ہیں بیٹا …… ”کال” نہیں آئی کہیں سے !!!!!خالی کیوں بیٹھے ہو تو کار ہی صاف کر دو۔”
    ان حالات کے بعد اقبال کے شاہین کو زندہ رہنے کے لیے اقبال کے ہی تجویز کردہ نسخے پر عمل کرنا پڑے گا ……… بہ قول شاعر مشرق علامہ اقبال:
    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

  • تو ہی تو کا عالم

    پیش لفظ

    ایک محبت….!

    محبت جس نے اپنے لیے ہمیشہ عام چہروں سے لے کر ، بہت خاص چہروں کو چنا ہے۔ ہر بار محبت کا انتخاب لاجواب رہا مگر اس بار محبت نے جس کا انتخاب کیا عام سوچ و نظر میں وہ محبت کے لیے پیدا ہی نہیں ہوا ہے۔

    ایک ایسی ہی محبت کی داستان جو کسی مرد یا عورت کے ملن یا جدائی سے تخلیق نہیں ہوئی بلکہ یہ کہانی ہے محبت کے اُس رنگ کی جسے کسی دور میں معاشرے نے کبھی ہی قبول نہیں کیا۔

    محبت کا امرت کسی ایک رنگ ،کسی ایک نسل یا کسی ایک جنس کے لیے مخصوص نہیں ہے۔

    محبت زرخیز زمین سے پیدا ہونے کے لیے نہیں بنیبلکہ محبت کا وصف یہ ہے کہ وہ بنجر زمین کو بھی زرخیز بنا دیتی ہے۔

    کبھی کبھی محبت اس جنس کے خمیر سے بھی اٹھتی اور سانس لیتی ہے جسے خواجہ سرا سمجھ کر ہمیشہ کمتر سمجھا اور مانا گیا ہے۔

    ایک ایسی ہی کہانی کہ جب کوئی اپنی محروی کے احساس سے لڑتے لڑتے زندگی گزارتے اچانک جس نقطے پر ٹھہرا، وہ محبت کا تھا۔

    ایک عورت کی محبت کو پانے کی تمنا اور خواہش کی راہ میں اس کی محرومی اور کمی اس کی راہ میں رکاوٹ بن کر سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔ محبت میں صرف جدائی ملتی تو شاید وہ برادشت کر لیتا مگر اُسے حقارت اور تحقیر ملی تو وہ اپنے حواس کھونے لگا۔ وہ جسم کے خام سے رب کی پہچان کر رہا تھا۔ اسی لیے اس سے بد گمان ہو کر اس سے دور ہوتا گیا مگر و ہ یہ نہیں جانتا تھا کہ جسموں کا خام صرف دنیا کے ترازو میں وزنی ہوتا ہے۔

    ایک محبت….

    جو اٹھتی تو جسموں کے خام سے ہے ، مگر جاوداں زندگی اسے عشق کے جام سے ملتی ہے۔

    ایک محبت….

    جو صرف اپنی ذات سے، اُس کی ذات تک لے جا نے کے لیے راستے میں آئی تھی۔

    ہر محبت ایک ایسا نقطہ ہے جو دنیا اور خلا میں رابطہ قائم کردیتا ہے ۔ جب انسان اپنی محبت سے گزر کر اس نقطے کو کراس کرتا ہے، تو اُس کے سامنے میلوں دور دور تک خلا پھیلا ہوتا ہے، نظر اور دل کو چیرتا سناٹا ہوتا ہے۔

    مگر پھر بھی وہ وجود عشق کا جام پیے، مست قدموں سے چلتا ، رقص کرتا ، جگہ جگہ اپنے جنوں کی مہر ثبت کرتا، عشق کی منزلیں طے کرنے لگتا ہے۔ عام نظر کے لیے وہ خلا ہے جہاں کچھ بھی نہیں سوائے خاموشی اور سناٹے کے مگر عشق کے دیوانے جانتے ہیں کہ وہاں قدم قدم پر یار کے جلوے بکھرے ہوئے ہیں۔ اسی لیے کبھی جبین خاک پر سجدہ کرتی اور کبھی پتھر کو چومتی ہے۔

    اور وہ وحدہ لا شریک ہر ذرے میں جلوہ افروز ہوتا ہے۔

    دیکھنے والی نظر اُس کا جلوہ ہر ذرے ذرے میں دیکھتی ہے۔

     جسے دنیا خلا او ر سناٹے کا جہاں یا عالم کہتی ہے۔

     وہ اس کے لیے صرف ”تُو ہی تُو کا عالم“ ہوتا ہے۔

    یہی وہ منزل ہے جس کی طلب اجسام کو نہیں ، روح کو ہوتی ہے۔

    اور روح جسم کے لباس سے پاک اور الگ ہوتی ہے ۔

    پھر چاہے وہ روح کسی مرد کی ہو یا کسی عورت کی یا پھر خواجہ سرا کی….

    مرکزی خیال

    اس نے کُن کہا، تو مٹی سے جسم کا خمیر اٹھا۔

    وہ کُن کہے گا، تو مٹی کو اس کی امانت لوٹا دی جائے گی۔

    مٹی ، مٹی میں مل جائے گی۔

    اس لیے کہ جسم خام ہے۔

    جسم کے لبادے میں روح ایک مقرر وقت کے لیے پھونکی گئی ہے۔

    حکم آئے گا اور روح ا پنے اصل کی طرف لوٹ جائے گی۔

    اس لیے کہ روح خالص ہے۔

    اور اللہ ہر خالص چیز کو پسند کرتا ہے، محبوب رکھتا ہے۔

    ”بے شک اللہ جسموں سے نہیں ، روح سے محبت کرتا ہے۔“

    ٭….٭….٭

    گہری رات کے آخری پہر اماوس کی تاریکی کو چیرتی ، درد کی انتہاﺅں سے گزرتی اور اذیت کے آخری لمحوں میں جب اسے لگا کہ وہ ہمت ہار دے گی۔ اسی وقت اس کے کانوں میں بچے کے رونے کی آواز گونجی ۔اس کے وجود نے ایک اور وجود کو رب کے حکم سے جنم دیا تھا۔ ماں بننے کا احساس اور رتبہ اس کے اندر کھوئی ہوئی توانائی واپس لانے لگا۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا مگر اس کے آگے گہری دھند چھائی تھی۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد وہ بہ مشکل بچے کے ہلتے ہاتھ پاﺅں دیکھ سکی اور پھر پرسکون ہو کے گہری نیند سو گئی ۔ وہ دل ہی دل میں مطمئن تھی کہ جب سو کر اٹھے گی تو بچہ اس کے پہلو میں ہوگا۔ نہ جانے کتنی دیر بعد اسے ہوش آیا ۔ اس کے آس پاس خاموشی تھی ۔ اس نے بے چین ہو کر اپنے پہلو پر نظر ڈالی اور اس کا دل دھک سے رہ گیا ۔وہ خالی تھا۔

    اس نے کہنی کے بل اٹھنے کی کوشش کی مگر کمزوری کی وجہ سے کراہ کر رہ گئی ۔ اسی وقت اماں رحیمہ نے کمرے میں قدم رکھا اور اسے جاگتے دیکھ کر فوراً اس کی طرف بڑھی ۔

    ”بی بی سائیں ! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟“ اماں رحیمہ نے فکرمندی سے اس کے زرد چہرے اور کانپتے ہونٹوں کو دیکھا۔

    ”اماں رحیمہ، میرا بچہ کہاں ہے؟“ اس نے بے تابی سے پوچھا۔ اماں رحیمہ کا چہرہ ایک دم ہی زرد ہوگیا اور اس نے آگے بڑھ کر اس کی نم پیشانی سے پسینا صاف کیا اور دھیرے سے بولی۔

    ”بی بی سائیں! آپ کے ہاں مردہ بچے نے جنم لیا تھا۔ اب تک تو اس کی تدفین بھی ہوچکی ہوگی۔ آپ آرام سے لیٹ جائیں ، اللہ بہت جلد آپ کی دوبارہ گود ہری کرے گا۔میں آپ کے لیے گرم دودھ لاتی ہوں۔“

    ”نہیں…. یہ نہیں ہو سکتا۔“ اس کے چہرے کا رنگ یک دم ہی مزید زرد پڑ گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

    ” اماں رحیمہ، آپ جھوٹ بول رہی ہیں ۔ میرا بچہ مردہ پیدا نہیں ہوا تھا ۔ میں نے خود اس کے رونے کی آواز سنی اور غنودگی میں جانے سے پہلے اس کے ہاتھ پاﺅں بھی ہلتے دیکھے تھے۔آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ وہ مردہ پیدا ہوا تھا؟ یہ جھوٹ کیوں اور کس لیے؟ کہاں ہے میرا بچہ؟ بولیں، نہیںتو میں کسی حد سے بھی گزر جاﺅں گی۔“ وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی۔ اماں رحیمہ نے ایک نظر اس کے غصے سے لال ہوتے چہرے پر ڈالی۔ کمزوری کی وجہ سے اس کی سانس بھی پھول گئی تھی۔

    ”بی بی سائیں! میں اس حویلی کی پرانی ملازمہ ہوں۔ میری ہر سانس بھی آپ لوگوں پر قربان ہے۔ مجھے جو حکم ملا میں نے اسے پورا کیا ہے ۔ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔آپ آرام کریں۔“

    ”کس نے حکم دیا ہے تمہیں؟“ اس نے سخت لہجے میں پوچھا۔ اماں رحیمہ ایک دم ہی چپ کر گئیں اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتیں۔ کمرے میں کوئی داخل ہوا اور ایک ایک قدم مضبوطی سے جماتا، اس کے سرہانے پہنچ کر بولا۔

    ” میں نے حکم دیا ہے نور بانو!کیا تمہیں ہمارے عمل پر بھی شک ہے؟“ اس کی سُرخ آنکھوں اور گھنی مونچھوں تلے پھڑپھڑاتے لب ، اس کے اندورنی انتشار اور تکلیف کو ظاہر کر رہے تھے ۔ اماں رحیمہ خان زادہ شمشیر کو دیکھ کر مو ¿دب انداز میں سر جھکاتی خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔جب کہ نور بانو پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے محبوب شوہر کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ وہ جانتی تھی کہ آنے والے اس بچے کا انتظار ان دونوں ہی کو بہت بے صبری سے تھا اور کیوں نہ ہوتا ۔ آنے والا بچہ ان کی نسل در نسل چلی آرہی گدی کا وارث بننا تھا ۔ پھر اب کیسے….؟

    ” میری محبت کو آپ پر کبھی شک نہیں ہو سکتا مگر ایک ماں کا بے چین دل یہ جاننے کے لیے تڑپ رہا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ میرے زندہ بچے کو مردہ قرار دے کر زمانے کی نظروں سے چھپایا جا رہا ہے ۔اتنا تو میں بھی جانتی ہوں کہ آپ لوگوں کا خاندان زمانہ جاہلیت کے لوگوں جیسا ہرگز نہیں ہے کہ جو بیٹیوں کی پیدائش پر انھیں ، شرمندگی اور نفرت سے زندہ دفنا دیں۔پھر ایسا کیا ہے جو میری نظروں سے پو شیدہ ہے ؟“ نور بانو نے بے قراری سے پوچھا۔ خان زادہ شمشیر نے اپنی نم آنکھوں کو سختی سے بند کیا اور کچھ لمحوں کے بعد کھولا، تو نور بانو ان کی آنکھوں میں دیکھتی ، ایک دم ہی خوف زدہ ہوگئی۔

    ” نور بانو! آپ کی تسلی کے لیے صرف اتنا بتا دوں کہ میں چاہتے ہوئے بھی زمانہ جاہلیت کی رسم کو نہیں نبھا سکا کہ ایک جیتے جاگتے وجود کو مٹی کا حصہ بنا دوں مگر میرے میں اتنا حوصلہ اور برداشت بھی نہیں ہے کہ میں اپنے ساتھ کیے قدرت کے اس سنگین مذاق کو تمغے کی طرح اپنے سینے پر سجا کر، اپنی خاندانی گدی کا مذاق بنا لوں۔“

    ”گدی کا وارث نہ سہی مگر بیٹی بھی ہوتی تو وہ میرے دل کے قریب ہوتی مگر نہ جانے قدرت کو ہمارا امتحان لینا مقصود تھا جو ہمیں ”تیسری جنس “(خواجہ سرا ) سے آزمایا گیا ہے۔“ خان زادہ نے کہا، تو نوربانوکی چیخ نکل گئی اور وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی۔

    ”او میرے خدایا۔“نوربانو دکھ کی شدت سے رونے لگی۔

    ” نور بانو !اس بات کو یہاں ہی دفن سمجھو اور بھول جاﺅ کہ ہماری زندگی میں کبھی ایسا کوئی طوفان آیا تھا۔یہ ہم خان زادوں کی عزت اور شان کے خلاف ہے ۔“

    اس نے سختی سے بات ختم کی، روتی بلکتی نور بانو پر ایک نظر ڈالی اور تیزی سے پلٹ کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔ پیچھے نور بانو ایسے بین کر رہی تھی جیسے سچ میں اس نے مردہ بچے کو جنم دیا ہو۔

    شاید مردہ بچہ پیدا ہوتا، تو اُسے اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنی اس وقت ہو رہی تھی ۔اسے قدرت کے اس سنگین مذاق اور اپنی خالی گود کا دکھ چیر رہا تھا ۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس کے یہ بہتے آنسو کس کے لیے ہیں ۔ رب کی آزمائش میں پورے نہ اترنے کے لیے یا اپنی ممتا کی کمزوری پر جو ایسے بچے کو اپنانے سے ڈر کر کہیں دور جا چھپی تھی ۔

    ٭….٭….٭



    اس نے بار میں آکر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھتے ہوئے ،وہسکی لانے کا آرڈر دیا ۔ اسے دیکھ کر جولین باقی گاہکوں کو چھوڑتی فوراً اس کی طرف بڑھی۔جولین کے سنہری بالوں کی کئی لٹیں بہت نفاست اور خوبصورتی سے کندھے اور چہر ے کے اطراف میں بکھری ہوئیں تھیں۔اس کا متناسب سراپا اور دلکش ادائیں وہاں موجود بہت سے گاہکوں کواپنی طرف متوجہ کر لیتی تھیں مگر جولین اپنی خوبصورتی کو بہت سوچ سمجھ کر کیش کرواتی تھی ۔

    ”ہیلو!“ جولین نے ٹرے میز پر رکھتے ہوئے دل کش انداز سے کہا ۔ اپنے موبائل پر تیزی سے انگلیاں چلاتے ایڈم نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔ جولین کا خوشبو میں بسا سراپا دیکھ کر ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آگئی۔ اسے خوب صورت چہرے اور اچھی خوشبو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتے تھے۔

    ” آج رات ایک پارٹی میں چلو گی میرے ساتھ ؟“ ایڈم نے گلاس میں جام بھرتے ہوئے مصروف سے انداز میں پوچھا ۔جولین کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ ایڈم کے ساتھ رات گزارنے کا مطلب، ایک لگثرری لائف اسٹائل کو بہت قریب سے دیکھنا اور محسوس کر نا تھا اور اس کے علاوہ ایڈم اپنی دولت خرچ کرنے کے معاملے میں بادشاہ تھا ۔ دونوں ہاتھوں اور بند آنکھوں سے پیسہ اڑانے والا۔ بدلے میں اسے صرف جولین کا ساتھ اور وقت چاہیے ہوتا جس میں زیادہ تر وہ جولین کی مر ضی ا ور پسند ہی سے اسے شاپنگ کرواتا اور پھر اچھے سے ڈنر کے بعد کبھی لیٹ نائٹ اچھی سی مووی دیکھتے یا پھر اسے ایسی ہی کسی پارٹی میں اپنے ساتھ لے جاتا جو صبح تک چلتی تھی اور صبح ہوتے ہی جولین اس خوب صورت خواب سے جاگ کر واپس اپنی درماندہ اور پس ماندہ زندگی میں لوٹ آتی۔ ایڈم کے ساتھ ایک دن گزارنا ، اس کے مہینے بھر کی کمائی کے برابر ہوتا تھا ۔ جولین نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا ۔ ایڈم نے مُسکرا کر اس کی طرف دیکھاجو خوشی سے جھومتی، مُسکراتی واپس پلٹ گئی تھی ۔

    ”کچھ دیر بعد ایڈم کی نئے ماڈل کی چمکتی گاڑی میں وہ بہت اترا کر بیٹھ رہی تھی کہ آج رات کی ملکہ صرف وہ تھی۔“

    ٭….٭….٭

    ”کٹ!“ شہرام نے بے زاری سے کہا تو آڈیشن دیتی لڑکی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اسے اپنی خوبصورتی اور اداﺅں پر پورا پورا یقین تھا مگر اس وقت شہرام کے چہرے کے بگڑے زاویوں نے اس کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی تھی ،جب کہ دوسری طرف شہرام ، اپنے اسسٹنٹ پر برس رہا تھا ۔

    ” مبشر میں نے کہا تھا کہ مجھے قدرتی حسن اور معصومیت سے بھرا چہرہ چاہیے۔ اس طرح کے بناوٹی حسن اور اداﺅں کی ضرورت ہوتی تو اتنے مہینوں سے میں خوار نہ ہو رہا ہوتا۔پتا نہیں تم لوگوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی۔“

    شہرام نے بے زار لہجے میں کہا ۔ مبشر نے کن انکھیوں سے اپنے ساتھ کھڑے ، کولیگ احمد کی طرف دیکھا ۔ وہ بھی گہری سانس لیتے ہوئے کندھے اُچکاتا رہ گیا۔ جیسے اس کی سمجھ میں بھی یہ سب نہ آرہا ہو۔

    ” سر! پچھلے چھے مہینوں سے ہم تقریباً پورے ملک میں خوب صورت اور نئے چہروں کا آڈیشن لے چکے ہیںمگر کوئی لڑکی ، آپ کے معیار کے مطابق نہیں مل رہی ۔اس طرح تو یہ پروجیکٹ کبھی مکمل نہیں ہوگا جس کے لیے آپ کب سے تیاریاں کر رہے ہیں۔“

    مبشر نے باقی لوگوں کو بیک اپ کا شارہ کرتے ، شہرام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔جو سر جھکا کر کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ وہ اس کی بات پر چونکا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا۔

    ” اگر مجھے میری پسند کے مطابق چہرہ نہیں ملے گا، تو یہ فلم بھی کبھی مکمل نہیں ہو گی ۔ میں اپنے معیار پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتا۔“ شہرام نے سنجیدگی سے کہا اور کار کی چابیاں اٹھاکر تیز تیز قدم اٹھاتا، آڈیٹوریم سے باہر نکل گیا ۔

    ” کیا ہو ا؟ کیا شہرام سر کو میرا کام پسند نہیں آیا؟“

    اسی لڑکی نے پاس آ کر فکرمندی سے پوچھا ۔ اسے بہت امید تھی کہ اسے شہرام کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل جائے گا اور اگر ایسا ہوجاتا، تو اس کی زندگی بدل جاتی ۔ اس کے لیے شہرت اور ترقی کے دروازے کھل جاتے کیوں کہ شہرام کی بنائی فلمیں اپنے موضوع اور ہدایت کاری کے اعتبار سے عالمی سطح پر بھی ایک واضح مقام رکھتی تھیں۔ پاکستان میں ہونے والے ایوارڈ فنکشن میں زیادہ تر ایوارڈز ، شہرام کی ہدایت کاری میں بننے والے مختلف پروجیکٹ جیسے ٹی وی ڈرامے ، ڈاکومنٹری فلم اور فیچر فلموں ہی کو ملتے تھے۔ملک سے باہر بھی اس کی مارکیٹ بہت اچھی تھی مگر اصل مسئلہ یہ تھا کہ شہرام اپنے کام کے بارے میں بہت جنونی اور ایمان دار تھا ۔ وہ اپنے اسکرپٹ سے لے کر کاسٹنگ تک ہر چیز پر کئی کئی بار غور کرتا اور اپنے معیار سے کم کسی چیز پر سمجھوتہ نہیں کرتا تھا ۔اس کا پروڈکشن ہاﺅس ڈریم انٹرٹینمنٹ کے نام سے چلتا تھا جس میں اس کا پارٹنر پہلے کوئی اور تھا مگر پھر اس کے اچانک چھوڑ کر چلے جانے کی وجہ سے شہرام اس ادارے کو اکیلا ہی چلا رہا تھا ۔اس کے پارٹنر کا قصہ بھی دل چسپ تھا جس کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کرتی رہی تھیں۔ کچھ کہتے تھے کہ اس پروڈکشن ہاﺅس کی بڑھتی مقبولیت اور نام نے ان دونوں کے درمیان پھوٹ ڈلوا دی تھی ۔اس لیے شہرام نے چالاکی سے اپنے پارٹنر کو راستے سے ہٹا دیا اور پھر اس کی گمشدگی کا شور مچا دیا۔ کچھ کے مطابق ان دونوں کے درمیان اصل جھگڑا اور پھوٹ ایک خوبصورت اور طرح دار ہیروئن کی وجہ سے پڑی تھی ۔کچھ یہ بھی کہتے تھے کہ شہرام کا پارٹنر اپنی رضا اور خوشی سے سب کچھ چھوڑ کر گمنامی کی زندگی گزار رہا ہے ۔ غرض اس سے متعلق بہت سی کہانیاں گردش میں رہیں مگر شہرام نے کسی بھی بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ وہ خاموشی سے اپنے کام پر توجہ دیتا ، کامیابی کی منزلیں طے کر رہا تھا اور یہ بات ہی اس کے مخالفوں کے لیے تکلیف دہ تھی کہ شہرام ایک چٹان کی طرح اپنی جگہ پر کھڑا ہے اور کسی چیز سے ڈرتا یا جھکتا نہیں۔

    وہ جانتا تھا کہ دنیا کی زبان اور باتوں کو روکنے اور ان پر کڑھنے کے بجائے ، اپنا سفر جاری رکھنا ضروری ہوتا ہے کیوں کہ پھر ایک وقت آتا ہے کہ یہ دنیا ہی آپ کی کامیابی اور ترقی دیکھ کر آپ کی پیچھے بھاگتی ہے اور گزرتے وقت نے اس بات کو سچ ثابت کیا تھا ۔ کئی سال پہلے کی ان سب باتوں کو بھلا کر یا نظرانداز کر کے لوگ آج بھی اس کے ساتھ کام کرنے کو منتیں، سفارشیں کرتے اور دعائیں مانگتے تھے مگر روز بہ روز اس کے سخت ہوتے اصولوں اور معیار کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی خواہش ادھوری ہی رہ جاتی۔

    ”شہرام صاحب کو جس چہرے کی تلاش ہے ۔ وہ آپ کا نہیں ہے محترمہ۔ اسی لیے وہ اٹھ کر چلے گئے ہیں۔“

     مبشر نے ایک نظراس کے خفت سے سُرخ ہوتے چہرے پر ڈالی ۔

    ”ہونہہ! میں تو خود ایسے مشکوک کردار والے شخص کے ساتھ کام کرنا پسند نہیں کروں گی جس کے ماضی سے بہت سی کہانیاںجڑی ہوئیں ہیں ۔“ اس نے غصے سے تپتے ہوئے کہا ۔

    مبشر اور احمدجو وہاں سے جانے والے تھے ۔ ایک دم رکے اور پلٹ کر اس کی طرف قدم بڑھائے۔ وہ ماڈل ڈر کر پیچھے ہٹی تب ہی مبشر نے اپنا سر خم کیا اور ایک ہاتھ سینے پر رکھتے ہوئے نرمی سے کہا ۔

    ” ہم اس احسان کو ہمیشہ یاد رکھیں گے محترمہ !“

     مبشرنے سر اٹھا کر مُسکراتے ہوئے علی کی طرف دیکھا جس کے ہونٹوں پر بھی ہلکی سی مُسکراہٹ تھی ۔

    وہ دونوں وہاں سے چلے گئے اور وہ ماڈل منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی رہ گئی۔

    ٭….٭….٭

    نور بانو نے محبت بھری نظروں سے اپنے جگر گوشے بارہ سالہ احمد کی طرف دیکھا جو ابھی ابھی مدرسے سے واپس آیا تھا ۔ آتے ہی ٹھنڈے پانی کا گلاس رحیمہ بی بی نے اس کے سُرخ ہونٹوں سے لگایا۔ گرمی کی شدت سے اس کا خوب صورت چہرہ تمتمارہا تھا ۔

    ” میں صدقے ! احمد بابا آپ یہاں بیٹھ جائیں ۔ گرمی نے حشر برا کر دیا ہے آپ کا۔“

    رحیمہ بی بی کی پوری کوشش تھی کہ احمد کے تپتے جسم کو ٹھنڈک اور سکون پہنچا سکے ۔احمد قریب ہی ایک مدرسے میں قرآن کی تعلیم حاصل کر رہا تھا ۔

    ”امی جان!“ احمد نے دونوں بازو پھیلائے اور ماں کی گود میں چھپ گیا۔ نور بانو نے محبت سے اس کی روشن پیشانی چومی۔ اس کے گھنے سیاہ بالوں میں انگلیاں پھیرتی وہ ممتا کے دریا میں بہتی بہتی کہیں بہت دور نکل گئی ۔

    ” کیا کوئی اسے بھی اسی نرمی اور محبت سے سینے سے لگاتا ، اپنی گود میں چھپاتا ہو گا؟ کیا اس کے تپتے ، سلگتے جسم کو سمیٹ کر کوئی اسی طرح اپنی محبت اور شفقت کی ٹھنڈی چھاﺅں تلے سلاتا ہو گا؟“

    نوربانو کا حرکت کرتا ہاتھ بے ساختہ رُک سا گیا۔ کسی کے ننھے ہاتھ اور پاﺅں کی حرکت اس کے دل کو کچلنے لگی ۔ اس کی ممتا سیراب ہو کر بھی نہ جانے کیوںپیاسی تھی؟احمد جیسا ذہین اور لائق بیٹا اور مریم اور آمنہ جیسی دو پیاری پیاری بیٹیاں ہونے کے باوجود بھی، اس کے ذہن کے پردے پر ایک دھندلا سا تصور اکثر لہراتا رہتا تھا ۔ اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا ۔سوائے اس کے ننھے ہاتھوں اور پاﺅں کے اور ہاں ایک اور چیز بھی جو اس کے ذہن پر نقش رہ گئی تھی ۔ اس کے دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی کے نیچے بنا چاند کی شکل جیسا ایک نشان!اکثر اس کی پیاسی ممتا اس نشان کو چومنے کے لیے کئی بار بے قرار ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں پھیلا نم ، آنکھ کے پانی سے ملنے کے باوجود بھی اکثر محسوس ہوتا تھا ۔

    نہ جانے کیسی تڑپ اور جلن تھی جو ا حمد، مریم، آمنہ جیسے بچوں پر اپنی محبت، اپنی ممتا لٹانے کے باوجود بھی سیراب نہیں ہوتی تھی۔ نہ جانے کیسی بے چینی تھی جو دعاﺅں اور طویل سجدوں ، صدقہ خیرات ، سے بھی کم نہیں ہوتی تھی ۔

    نور بانو کا دل اکثر ایک خواہش پر مچل کر رہ جاتا کہ کیا خان زادہ شمشیر بھی ایسی ہی آگ یا جلن کا شکار ہیں؟ کیا یہ سب صرف ممتا ہی کا نصیب بنا ہے یا اس آگ میں کچھ حصہ باپ کا بھی ہے؟ مگر یہ پوچھنے اور جاننے کی ہمت وہ آج تک نہیں کر پائی تھی ۔ کچھ باتوں اور چیزوں پر پڑے پردے ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے اپنی ذات پر پڑے ہوں !گمنام سے ، چپ چاپ مگر اپنے ہونے کے یقین کے ساتھ بہت بھاری اورجان لیوا سے۔ ایسے ہی بہت سے سوالوں اور جوابوں کی ایک عدالت کو دل میں سجائے ، وہ لمحوں، سے دنوں ، دنوں سے ہفتوں اور پھر مہینوں سے سالوں کے درمیان چکراتی ،عمر کی کئی منزلیں طے کر گئی۔خان زادہ احمد نے اپنی خاندانی گدی سنبھال لی۔ اس دن اس کے باپ کا سر فخر سے اونچا اور آنکھوں میں آنسو تھے۔ رب نے اسے دنیا کے سامنے سرخرو کردیا مگر وہ خو د اپنے رب کے سامنے شرمندہ اور نادم سا سر جھکائے کھڑا تھا۔

    حیرت تو اس بات کی تھی کہ وہ مہربان ذات اس کے گناہ اور عیب سے واقف ہونے کے باوجود اسے ، اس کی مرضی اور منشا کے مطابق نوازے جا رہی تھی ۔اس نے دنیا طلب کی اسے دنیا ہی ملی۔ مریم اور آمنہ کی شادیاں ، روایتی رسم و رواج کے مطابق ، خاندان کے بہترین گھرانوں میں ہوئیں۔ اب خان زادہ احمد کے سہرے کے پھول کھلنے تھے جس کے لیے نوربانو کی نازک اندام اور خوبصورت بھتیجی عائشہ کو چنا گیا ۔ نور بانو ، پوری چاہ اور لگن سے تیاریوں میں مشغول تھی۔ مریم اور آمنہ بھی ماں کے ساتھ شامل تھیں ۔ سب کچھ کتنا مکمل اور خوبصورت تھا ۔ کسی خواب کی طرح….

    خواب در خواب جینا ہماری چاہ اور اوّلین خواہش ہوتی ہے ۔ ایک خواب کے بعد دوسرے خواب کی چاہ اور طلب ،نفس کے گھوڑے دوڑائے ِ سر پٹ اور اندھا دھند بھاگنے پر مجبور کرتی ہے۔دیکھا جائے تو سارا کھیل ہی اس چاہ اور طلب کا ہے جو خوابوں کے سر سبز میدانوں میں اڑنے اور بسیرا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

    کیا اپنی چاہ اور خواہش کو، اپنے رب کی چاہ اور خواہش پر قربان کرنا، ہی تقویٰ اور پاکیزگی کی معراج نہیں ہے؟

    کیا انسان ہوتے ہوئے ، حسب ونسب ، جاہ وجلال کی تمنا رکھنا غلط ہے؟

    کیا رب کے حکم سے زمین پر پیدا ہونے والاکوئی بھی جاندار وجود ، اُس ذات کی حکمت اور دانائی سے بے نیاز ہو سکتا ہے؟

    اگر ایمان یہ کہتا ہے کہ نہیں کیوں کہ وہ ذات غلطیوں اور خطاﺅں سے پاک ہے ، تو و ہ ایمان کامل ہے ۔

    اور اگر عقیدہ متزلزل ہو کر” اگرمگرشاید“ جیسی بیساکھیوں پر چلتا ہے، تو وہ عقیدہ ہی باطل کہلائے گا۔

    ”پھر اگر انسان اس رب کے فیصلے کو غلط قرار دے کر ، اپنی مرضی چلائے تو اسے ضد کہیں گے یا نافرمانی یا اس ذات کی ناشکری ۔“

    جو بھی کہیں گے ۔

    مگر پھر آزمائش انسان اپنے لیے خود لکھتا اور چنتا ہے۔

     مگر کیا آزمائش بھی کوئی چنتا ہے ؟

    ہاں….!

    ”ہر کمزور ایمان والا اور دنیا کی چاہ میں رب کے صادر کیے فیصلوں کو رد کرنے والا، اپنے لیے آزمائش کی وہ آگ چنتا ہے جو صرف جلاتی ہی نہیں ، بھسم بھی کر دیتی ہے۔“

    رب کے پیارے بندوں پر آئی آزمائش انھیں دہکا کر کندن بنا دیتی ہے ، نایا ب کر دیتی ہے۔

    کہ پھر کوئی چیز انھیں فنا نہیں کر پاتی ۔

     وہ خود ہی اپنی ذات میں فنا ہو کر اپنے رب کی رضا پا لیتے ہیں۔

     مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا۔

    میری خاک جگنو بنا کر اڑا۔

    ٭….٭….٭

    ” کافی دنوں سے تمہارا پرنس چارمنگ نظر نہیں آرہا؟“

    شفٹ ختم ہوتے ہی دونوں نے اپنا ویٹریس کا مخصوص لباس تبدیل کیا اور اپنے اپنے بیگ کندھے پر ڈال کر وہاں سے باہر نکلیں ، تو کرسٹی نے چپ چپ سی جولین سے پوچھا۔ وہ بے زاری سے کندھے اچکا کر رہ گئی، جیسے خود بھی اس سوال کا جواب سو چ سوچ کر تھک گئی ہو۔

    ”ویسے تم لوگوں کا رشتہ کافی گہرا بن چکا ہوگا۔ تمہیں ضرور اسے مجبور کرنا چاہیے کہ وہ تم سے شادی کر لے ۔ پسند تو تمہیں کرتا ہی ہے اسی لیے تو تم پر اس کی خاص نظرِ کرم ہے۔ویسے اگر ایسا ہو جائے تو تمہاری تو قسمت ہی سنور جائے گی۔ دولت سے لے کر اچھی شکل صورت سب کچھ تو ہے اس کے پاس اور….!“

    کرسٹی اپنی ہی دھن میں بولے جا رہی تھی ۔ جب ساتھ چلتی جولین نے اسے ٹوکا۔

    ”اُف اوہو تم بھی کتنی دور تک سوچتی ہو۔ وہ لاکھ مجھ پر مہربان سہی مگر پھر بھی مجھ سے ملنے میں ایک فاصلہ رکھتا ہے۔ وہ اپنے دوستوں ، اپنے گھر ہونے والی پارٹیز میں مجھے بہ خوشی لے کر جاتا ہے، میری کمر میں ہاتھ ڈال کر، رومانٹک میوزک پر جھومتا ہے ، میری خوبصورتی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے ، میری من پسند شاپنگ ، ڈنر ، سب کرواتا ہے مگر اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ صرف میرے وقت اور خوب صورتی کی قیمت ادا کرتا ہے۔ جیسے میں بازار میں بکنے والی کوئی چیز ہوں۔ جس سے وہ جب دل چاہے ، کھیل سکتا ہے ، اپنا دل بہلا سکتا ہے۔مگر اس سے زیادہ اہمیت اور عزت دینے کو وہ تیار نہیں ہے۔“

    جولین کی خوب صورت ، نیلی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی ۔ کرسٹی نے ہمدردی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

    ” کیا تم اس سے محبت کرتی ہو؟“ کرسٹی نے پوچھا، تو جولین اس کی طرف دیکھتی رہ گئی ۔

    ”پتا نہیں ! شاید محبت اور ضرورت میںبہت فرق ہے کرسٹی۔ محبت تو مجھے آج بھی جوڈی سے ہے ۔ اس کی بے وفائی اور دھوکا دہی کے باوجود بھی۔ ایڈم میری ضرورت تو ہو سکتا ہے مگر محبت نہیں۔ ایڈم کی بے تحاشا دولت مجھے اپنی غربت سے باہر نکلنے کا ایک راستہ نظر آتا ہے مگر….“ جولین گہری سانس لے کر رہ گئی ۔کرسٹی ساتھ چلتے چلتے تھوڑی اور اس کے قریب ہوئی اور راز داری سے پوچھنے لگی ۔

    ” کیا تم اب بھی جوڈی سے….“ جولین کے لبوں پر خوب صورت سی ہنسی پھیل گئی ۔

    ” ہاں پچھلے ویک اینڈ ہم نے ایک دوسرے کی قربت ہی میں گزارا تھا ۔اس کے فلیٹ پر اور تم جانتی ہو وہ کہہ رہا تھا کہ بہت جلد وہ مجھ سے شادی کر لے گا مگر میں سوچ رہی ہوں کہ اگر شادی کے بعد بھی اس کی یہی حرکتیں رہیں تو؟ پھر اس سے شادی کر کے بھی مجھے غربت بھری زندگی ہی گزارنی پڑے گی مگر یہ بھی ہے کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی اور….“

    جولین ایسے بول رہی تھی جیسے اس کی اندر ادھم مچاتی ، شور کرتی سوچوں کو باہر کا راستہ مل گیا ہو۔ اس کی ایک بات ختم ہونے سے پہلے ہی دوسری شروع ہو جاتی ۔ کرسٹی گہری سانس لے کر رہ گئی ۔ اب جولین کو چپ کروانا تقریباً ناممکن تھا ۔اس لیے اس نے خاموش ہونا ہی بہتر سمجھا اور جولین کے ساتھ فٹ پاتھ پر چلتی ، کن انکھیوں سے آس پاس سے گزرتے ، ہشاش بشاش لوگوں کو دیکھنے لگی کہ خوش چہرے ہوں یا منظر دونوں ہی نظروں کو بہت بھلے لگتے ہیں۔

    ٭….٭….٭

    شہرام کی عمر تیس کا ہندسہ عبور کر چکی تھی۔ وہ ایک بہت ہی ویل آف فیملی سے تعلق رکھتا تھا ۔ اس کے دو بڑے بھائی اور ایک بہن امریکا میں کئی سالوں سے مقیم ،اپنی اپنی شادی شدہ زندگی ہنسی خوشی گزار رہے تھے ۔ شہرام ان سب میں چھوٹا اور من موجی تھا ۔ والدین کئی سال پہلے وفات پا چکے تھے ۔ شہرام کی تعلیم اور جوانی کا زیادہ تر حصہ امریکا ہی میں گزرا تھا ۔ اس کے دونوں بھائی بھی اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہاں ہی اپنی اپنی مرضی اور پسند سے شادی کرکے خوشگوار زندگی گزار رہے تھے۔ شہرام کے والدین کی بہت خواہش تھی کہ ان کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے ہی زندگی گزاریں ۔

    شہرام کے والد یوسف خان کے آباءواجداد میں سے زیادہ تر آرمی سے وابستہ رہے تھے۔ اپنی فیملی میں تین بھائیوں میں سے یوسف ہی واحد فرد تھے جو آرمی میں نہیں جا سکے جس کا افسوس ان کے والد کو مرتے دم تک رہا ۔ یوسف کے والد جہانگیر نے ۵۶۹۱ ءاور ۱۷۹۱ ءکی جنگیں بہت بہادری اور شجاعتسے لڑیں تھیں ۔ ۱۷۹۱ءکی جنگ میں انہیں دشمنوں کی قید میں بھی رہنا پڑا ۔اسی چیز نے ان کے اندر وطن سے محبت اور جنوں کو بہت بڑھا دیا تھا ۔اپنے تینوں بیٹوں کو فوجی وردی میں اور وطن کی خاطر جان نثار کرتے دیکھنا ان کی شدید خواہش تھی ۔ ان کی یہ خواہش بڑے دونوں بیٹوں نے کارگل اور سیاچن کے محاذ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے پوری بھی کی تھی ۔ اپنے جوان بیٹوں کی شہادت نے انہیں بڑھاپے میں بھی جوان رکھا تھا ۔ وہ فخر سے اپنے بیٹوں کا ذکر کرتے ۔ان کی ماں بہ ظاہر مضبوط مگر اندر ہی اندر بیٹوں کی جدائی کا غم دل سے لگائے بہت جلد بیمار ہو کر خالقِ حقیقی سے جا ملیں مگر جاتے جاتے وہ اپنی واحد خوشی، اپنے بیٹے کے سہرے کے پھول کھلتے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر گئیں ۔ بڑے دونوں بیٹوں کو شہادت کی اتنی جلدی تھی کہ اُن کے سہرے کے پھولوں کے بجائے ، قبر کے پھول کھلے تھے ۔

    یوسف خان کی بیوی شہلا بہت اچھی اور محبت کرنے والی خاتون تھی ۔اسی لیے بہت جلد ساس سسر کے دل کے قریب پہنچ گئی ۔ یوسف کی ماں کی اچانک وفات نے اسے بھی بہت دھچکا پہنچایا تھا مگر پھر آنگن میں کھلنے والے ننھے ننھے پھولوں نے اپنی خوشبو اور مہکار سے سب کے دلوں کو پھر سے آبا د کر دیا۔ جہانگیر نے اپنے تینوں پوتوں کے لیے یہی سوچا ہوا تھا کہ وہ فوج میں جائیں گے ۔ وہ اکثر بہت دکھبھری نگاہوں سے یوسف کی طرف دیکھتے اور سر جھٹک کر آسمان کی طرف دیکھ کر آہ بھرتے ۔

    ” کیا تھا مولا اگر اسے بھی شہادت کا رتبہ ملتا۔ اس کے سینے پر بھی آرمی کا میڈل چمکتا مگر اس کی بدقسمتی۔“

    یوسف اپنی محنت اور قابلیت سے اپنے بزنس کو دن رات ترقی دیتا کامیابی کی منزلیں طے کر رہا تھا کہ لوگ اس پر رشک کرتے تھے ۔ اپنے بیٹوں کو اس کی فرماں برداری اور محنت کی مثالیں دیتے تھے ۔ وہ اپنے باپ کی نظروں میں کھوٹے سکے کی طرح تھا۔ساری دنیا کو اس پر فخر تھا ،سوائے اس کے باپ کے۔



    ہاں اگر آج وہ فوج میں ہوتا، تو اس کے باپ کا سرفخر سے بلند ہوتا۔شہلا اکثر یوسف کی حالت دیکھ کر ہنس پڑتی تھی جو باپ کے منہ سے تعریف سننے کے لیے کسی بچے کی طرح ضد کرتا اور منتظر رہتا تھامگر کبھی کبھی اسے بہت دکھ بھی ہوتا کہ اس کا محبوب شوہر کتنی چھوٹی سی خواہش دل میں رکھے ، زندگی گزار رہا ہے کہ اسے اپنی کوئی کامیابی، کامیابی نہیں لگتی ۔ وہ اکثر شہلا سے کہتا تھا کہ

    ” کاش گزرا وقت واپس لوٹ آئے اور وہ اپنے باپ کی خواہش پوری کرسکے۔“

    اب یوسف کو اپنی نوجوانی کی اس ضد اور بحث پر بہت غصہ آتا تھا جو وہ اپنے والدین سے فوج میں نہ جانے کی وجہ سے کرتا تھا۔شاید اپنے باپ کی سختی اور ہدایتوں سے چڑ کر اس نے فوج میں نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا مگر اب اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ کسی طرح اپنے باپ کی دلی خواہش پوری کرسکے۔اسے امید کی ایک کرن ، اپنے بچوں کی صورت میں نظر آتی تھی جو کام وہ خود نہیں کر سکا، اپنے بچوں سے لینا چاہتا تھا مگر اپنی وفات سے کچھ دن پہلے یوسف کے والد جہانگیر نے بہت محبت سے اس کا ماتھا چوما اور کتنی ہی دیر اس کے چہرے کو اپنی نم آنکھوں سے دیکھتے رہے۔

    ”تم جانتے ہو یوسف دنیا میںکچھ رشتے اپنی جان اور زندگی سے بڑھ کر پیارے اور عزیز ہوتے ہیں۔میرا ایسا ہی رشتہ میری مٹی ، میرے وطن سے بن کر میرے خون کی ہر بوند کے ساتھ دوڑتا، گردش کرتا رہا۔ شاید تمہیں ایسا لگتا ہو کہ میں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہو۔ اپنے وجود سے سینچے پودوں سے محبت فطری چیز ہے یوسف۔ ہم چاہ کر بھی اس سے انکار نہیں کر سکتے ہیں۔ بس تمہارے معاملے میں فرق یہ ہوا کہ فوقیت میں میری ، مٹی کی محبت ،تم سے جیت گئی!“

    ” مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ہے باباجان۔“ یوسف نے اُن کے ہاتھ چوم لیے ۔

    ” جیتے رہو میرے بچے!مگر میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔ زندگی میں کچھ بھی کرو، کتنی بھی کامیابی حاصل کر لو ، اپنی مٹی ، اپنے وطن سے رشتہ بنائے رکھنا اور یہ بات اپنے بچوں کو بھی سکھانا۔ “

    یوسف نے اپنے باپ سے وعدہ کیا کہ وہ اس رشتے کو ہمیشہ بنائے رکھے گا اور اپنی آخری سانس تک اس وعدے پر قائم بھی رہامگر اس کی طرح اس کے بچے بھی آزاد فضاﺅں کے پنچھی بن کر، پردیس میں جا بسے۔یوسف نے اپنی طرف سے کوشش کی کہ وہ سب پاکستان میں سیٹ ہو جائیں مگر ان کے لیے زیادہ کشش اور ترقی کے بہترین مواقع پردیس ہی میں تھے ۔

    قسمت سے اکلوتی بیٹی کی شادی بھی امریکا میں مقیم اس کے قریبی دوست کے بیٹے سے ہوئی۔ شہرام سب سے چھوٹا تھا ۔ یوسف کے بہت قریب بھی ۔اور سب کی امیدوں اور خواہشوں کا واحد مرکز بھی۔مگر گریجویشن کے بعد شہرام نے بھی باہر جانے کی ضد کی تو یوسف کو اس کی ماننی پڑی ۔ شہرام نے اپنے شوق اور دلچسپی سے ایم بی اے کر کے ، فلم اور ہدایتکاری کے کئی کورس کیے اور بہت سے لوگوں کے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر کام بھی کیا۔پھر اس نے سنجیدگی سے اس شعبے میں قدم رکھا۔ پہلے مختلف ڈاکومنٹری فلمیں بنائیں پھر فلم میکینگ کی طرف آگیا۔

    اس دوران یوسف اسے اکثر پاکستان واپس آنے کو کہتا رہتا۔ شہرام کہتا:

    ” پاپاجان! مجھے ابھی بہت سے کام کرنے ہیں۔ تب ہی آپ کا نام روشن کروں گا۔“

    ” مجھے اس بات کی زیادہ خوشی ہو گی کہ تم میرے نام سے زیادہ ، اپنے ملک کا نام روشن کرو۔“

    یوسف اسے دوٹوک کہتا، تو شہرام ہنس پڑتا اور پھر شرارتاً اپنے باپ سے کہتا۔

    ” ویسے پاپاجان کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ آپ کوہم سب سے زیادہ محبت ، اپنے ملک سے ہے۔“

    یوسف بہت اطمینان بھرے اور فخریہ لہجے میں کہتے ۔

  • چکلے – ساحر لدھیانوی

    چکلے

    ساحر لدھیانوی

     

     



    یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے
    یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے
    کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ خودی کے
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہ پر پیچ گلیاں یہ بے خواب بازار
    یہ گمنام راہی یہ سکوں کی جھنکار
    یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    تعفن سے پر نیم روشن یہ گلیاں
    یہ مسلی ہوئی ادھ کھلی زرد کلیاں
    یہ بکتی ہوئی کھوکھلی رنگ رلیاں
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    وہ اجلے دریچوں میں پائل کی چھن چھن
    تنفس کی الجھن پہ طبلے کی دھن دھن
    یہ بے روح کمروں میں کھانسی کی ٹھن ٹھن
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہ گونجے ہوئے قہقہے راستوں پر
    یہ چاروں طرف بھیڑ سی کھڑکیوں پر
    یہ آوازے کھنچتے ہوئے آنچلوں پر
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہ پھولوں کے گجرے یہ پیکوں کے چھینٹے
    یہ بیباک نظریں یہ گستاخ فقرے
    یہ ڈھلکے بدن اور یہ مدقوق چہرے
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہ بھوکی نگاہیں حسینوں کی جانب
    یہ بڑھتے ہوئے ہاتھ سینوں کی جانب
    لپکتے ہوئے پاؤں زینوں کی جانب
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہاں پیر بھی آ چکے ہیں جواں بھی
    تنو مند بیٹے بھی ابا میاں بھی
    یہ بیوی بھی ہے اور بہن بھی ہے ماں بھی
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
    یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
    پیمبر کی امت زلیخا کی بیٹی
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    بلاؤ خدایان دیں کو بلاؤ
    یہ کوچے یہ گلیاں یہ منظر دکھاؤ
    ثناخوان تقدیس مشرق کو لاؤ
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں

    ساحر لدھیانوی



  • اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز



    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
    یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

    غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
    نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

    تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
    دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

    آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
    کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

    اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
    جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

  • پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر



    پورا دکھ اور آدھا چاند
    ہجر کی شب اور ایسا چاند

    دن میں وحشت بہل گئی
    رات ہوئی اور نکلا چاند

    کس مقتل سے گزرا ہوگا
    اتنا سہما سہما چاند

    یادوں کی آباد گلی میں
    گھوم رہا ہے تنہا چاند

    میری کروٹ پر جاگ اٹھے
    نیند کا کتنا کچا چاند

    میرے منہ کو کس حیرت سے
    دیکھ رہا ہے بھولا چاند

    اتنے گھنے بادل کے پیچھے
    کتنا تنہا ہوگا چاند

    آنسو روکے نور نہائے
    دل دریا تن صحرا چاند

    اتنے روشن چہرے پر بھی
    سورج کا ہے سایا چاند

    جب پانی میں چہرہ دیکھا
    تو نے کس کو سوچا چاند

    برگد کی اک شاخ ہٹا کر
    جانے کس کو جھانکا چاند

    بادل کے ریشم جھولے میں
    بھور سمے تک سویا چاند

    رات کے شانے پر سر رکھے
    دیکھ رہا ہے سپنا چاند

    سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر
    شبنم تھی یا ننھا چاند

    ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا
    اس کی صورت ہجر کا چاند

    صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
    اپنے عشق میں سچا چاند

    رات کے شاید ایک بجے ہیں
    سوتا ہوگا میرا چاند



  • گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح ۔ پروین شاکر



    گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
    دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح

    راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
    جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح

    ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک
    اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح

    وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے
    تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح

    غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
    میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح

    یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
    شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح

    کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
    تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

    شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
    گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح

    ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی
    تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح



  • حسینہ معین – گفتگو

    حسینہ معین – گفتگو



    حسینہ معین جدید پاکستانی ٹی وی ڈرامے کے موجدوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی اس وقت جوائن کیا جب ڈرامہ بہت گہرے اور سنجیدہ سروں میں تھا ۔ پھر حسینہ معین آئیںاور نہوں نے پی ٹی وی کی سرمئی سکرین پر جیسے رنگ بکھیر دیے۔۔۔

    ایک بہائو سے چلتی ہوئی تیز رفتا ر کہانی۔۔ایسے زندہ ، سانس لیتے کردار کہ جیسے ابھی سکرین سے نکل کر آپ کے سامنے چلنے پھرنے لگیں گے۔ ۔۔بے ساختہ، تیکھے مکالمے کہ ذہن عش عش کر اُٹھے۔۔۔اور کہانی کا مرکزی کردارنبھاتی، ایک مضبوط، ہنس مکھ، بہادر لڑکی۔ 

    یہ سب عناصر نہ صرف حسینہ آپا کی پہچان بنے، بلکہ انہوں نے عورت کو ٹی وی پر لکھے جانے کا ، دکھائے جانے کا ایک نیا انداز بھی بخشا۔ آپ کہانی پڑھنے یا لکھنے کے شوق کے بارے میں سنجیدہ ہوں اور آپ نے حسینہ آپا کے ڈرامے نہ دیکھ رکھے ہوں، یہ دو متضاد باتیں محسوس ہوتی ہیں۔تو آئیے، ملواتے ہیں آپ کو حسینہ آپا سے۔۔۔اور جانتے ہیں ان سے کہانی کی بنت کے راز۔

    الف کتاب : آپا، کچھ اپنے سفر کی شروعات کے بارے میں بتائیے۔کیسے لکھنا شروع کیا آپ نے؟

    حسینہ معین: (مسکراتے ہوئے)میری شروعات؟ اصل میں میں نے لکھناشروع کیا تھا جب میں کلاس 7th میں تھی۔ یہاں سے بچوں کا ایک میگزین نکلتا تھا  ‘بھائی جان’  اورجنگ کا بچوں کا اخبار تھا،جس میں میں نے کچھ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھی تھیں۔پھر کالج کے زمانے کی بات ہے کہ وہاں سرکولر آیا ریڈیو پاکستان سے ،کہ جشنِ تمثیل ہو رہا ہے طلبا ء و طالبات کاتو آپ کے کالج سے بھی ہمیں ٢٥ منٹ کا ایک ڈرامہ چاہیے۔اس وقت میں صرف سیکنڈ ائیر میں تھی۔ہماری اُردو کی پروفیسر تھیں، مسز سلمیٰ حقی، انہوں نے مجھے کہا کہ تم لکھو۔کیونکہ وہ دیکھتی تھیں کہ میں وال پیپر میگزین کے لیے کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھی، حالانکہ وہ بس یونہی شرارت کی چیزیں تھیں کہ کبھی کسی ٹیچر کے بارے میں کچھ لکھ دیا کبھی کسی لڑکی کے بارے میں، تو انہوں نے کہا کہ تم لکھو۔ میں نے کہا کہ بھئی مجھے تو نہیں آتا۔یہ ڈرامہ ورامہ تو الگ چیز ہے۔تو انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں تم ہی لکھو۔ بس پھر میں نے دو ڈھائی دن میں ڈرامہ لکھ کر انہیں دے دیا۔ کچھ دن بعد اطلاع آئی کہ اسے فرسٹ پرائز ملا ہے۔ہماری پرنسپل نے اسمبلی میں اعلان کیا۔ اس سے بڑی خوشی ہوئی کہ واہ بھئی۔ بس وہ ہماری بریک تھی، سٹارٹنگ پوائنٹ۔اس کے بعد ریڈیو پاکستان والوں نے کہا کہ آپ Studio no. 9 کے لیے لکھیں۔آ پ کی رائٹنگ میچور ہے۔تو میں نے خوشی میں اس پروگرام کے لیے آٹھ دس ڈرامے لکھے۔اس کے بعد میں بی اے کر کے ایم اے میں چلی گئی تو ایم اے چونکہ کچھ مشکل ہوتا ہے تو پھر ڈرامے لکھنا چھوڑ دیے۔پھر ایم اے کیا، پھر بی ایڈ کیا۔ پھر (سوچتے ہوئے)  جب کراچی میں ٹی وی آیا تو انہوں نے ریڈیوکا ایک ڈرامہ لے کر مجھے کہا کہ اسے آپ ٹی وی کے لیےdramatize کر دیں۔ اب ریڈیو کے لیے لکھنا آسان ہے۔ بس آپ کی imagination کام کرتی ہے اور آپ لکھتے چلے  جاتے ہیں۔لیکن ٹی وی کے لیے آپ کو دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ کیا ایسا اصل میں ہو سکتا ہے یا نہیں، ٹی وی کی سکرین پہ اسے کسی physical حالت میں دکھایا جا سکتا ہے یا نہیں۔تو خیر پھر میں نے اسی ڈرامے کو ٹی وی کے لیے لکھ دیا۔ ”نیا راستہ” کے نام سے وہ ڈرامہ چلا۔وہ بھی بہت کامیاب ہوا۔ خیر ہو سکتا ہے اس میں میرا کوئی کمال نہ ہو، کامیڈی کی وجہ سے وہ ڈرامہ مشہور ہو گیا ہو۔ بہر حال پھر مجھے پی ٹی وی والوں نے باقاعدہ بلایا اور کہا کہ آپ عید کے لیے ایک پلے لکھیں۔ پھر میں نے عید کے لیے Happy Eid Mubarak لکھا۔ اس میں مرکزی کردار نیلوفر(عباسی) اور شکیل نے کیے۔وہ بھی بہت پاپولر ہوا۔ اصل میں اس زمانے میں کامیڈی بہت کم کی جا رہی تھی۔ خیر وہ اتنا مشہور ہوا کہ اس کے فوری بعدپی ٹی وی والوں نے کہا کہ اب آپ ایک سیریل لکھیں۔ عظیم بیگ چغتائی کی ایک کتاب تھی، اس میں سے ایک کہانی تھی ”عورت تیرا نام کمزوری”۔۔۔انہوں نے کہا کہ اس پر سیریل لکھ دیں۔ جب میں نے وہ کہانی پڑھی تو وہ بس ایک دس ، بارہ صفحے کا افسانہ تھا، اب اُسے سات قسطوں میں بنانا، میں نے کہا یہ تو بڑا مشکل ہے۔اور وہ تھا بھی 1920ء سے 1930ء کے دوران کا۔اس زمانے کے مزاق بھی الگ تھے، کرداروں کی بنائی بھی، سب الگ تھا۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، آپ اسے چھوڑیں، بس مرکزی خیال لے کر اپنی کہانی لکھ دیں۔Free adaptation۔تو وہ پھر ہم نے شہزوری کے نام سے کیا اور luckily شہزوری بہت زیادہ کامیاب رہا۔

    الف کتاب: شہزوری تو بہت زبردست پلے تھا۔ کمال۔ اتنے برجستہ مکالمے، اور ایسی دلیر لڑکی۔

    حسینہ معین:دیکھو، ٹی وی ڈرامے کی کامیابی، تین لوگوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔رائٹر، ڈائیریکٹر، اور آرٹسٹ۔اگر تینوں میں میل نہ ہو تو ڈرامہ وہیں ختم ہو جاتا ہے۔اور شہزوری میں یہ سب موجود تھا۔ اب جب شہزوری کامیاب ہوا تو بس ایک سلسلہ سا چل پڑا۔



    ٢۔آپ نے پی ٹی وی کے لیے پہلا اوریجنل سکرپٹ لکھا، کرن کہانی۔ اس سے پہلے ناولز کو ڈرامائی تشکیل دی جاتی تھی۔ اس تجربے کے بارے میں بتائیے۔

    حسینہ معین:یہ شہزوری کے بعد ہوا۔ جب شہزوری کامیاب ہوا تو مجھے پی ٹی وی والوں نے کہا کہ اب آپ ایک اور لکھیے، وہ بھی عظیم بیگ چغتائی کی ایک کتاب تھی۔ ۔تب میں نے انہیں کہا کہ دیکھیے ایسا کرتے ہیں کہ میں ایک آئیڈیا دیتی ہوں اور اس پر ہی لکھ لیتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کسی کہانی پہ لکھنے میں بھی اتنی ہی محنت پڑتی ہے کیونکہ کہانی بالکل نئے سرے سے لکھنی ہوتی ہے، صرف مرکزی خیال لیا جاتا ہے۔ توانہوں نے کہا کہ اچھا آپ آئیڈیا دیں۔ تو پھر میں نے کرن کہانی کا آئیڈیا دیا۔شروع میں وہ لوگ بڑے پریشان تھے کہ بھئی پہلے تو ہمارے ہاں ایسا کبھی ہوا نہیں، کیونکہ ہم تو ہفتے کے ہفتے کے حساب سے چلتے ہیں۔ ایک ہفتے کا لکھا اگلے ہفتے میں شوٹ ہوتا ہے اور ریکارڈ ہو کر آن ائیر چلا جاتا ہے۔اب اگر کہانی لکھتے ہوئے آپ کہیں رُک گئیں اور آپ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کہانی آگے کیسے جائے تو ہم تو مارے جائیں گے۔ میں نے انہیں مطمئن کرنے کی بہت کوشش کی کہ ایسا نہیں ہو گا۔ اور تب اس وقت بہت لوگوں نے میرا ساتھ دیا۔افتخار عارف صاحب تھے وہاں، انہوں نے کہا کہ آپ لوگ فکر نہ کریں، یہ کر لیں گی۔محسن علی صاحب نے بھی کہا کہ یہ کر لیں گی۔کنور آفتاب صاحب اس وقت وہاں کے جی ایم تھے۔تو ان سب لوگوں نے اتنا encourage کیا کہ کرن کہانی بن گئی، اور لکھی گئی اور آخر تک ڈائریکٹرز میں ہمارے ساتھ شیرین خان بھی شامل ہو گئیں۔اور وہ بھی بہت اچھی ڈائیریکٹر تھیں۔کرن کہانی کی کامیابی کے بعد پی ٹی وی والوں نے کہا کہ بس اب آپ خود ہی لکھیے، اپنے آئیڈیاز پر۔بس پھر میں نے زیر زبر پیش لکھا، انکل عُرفی لکھا ۔

    الف کتاب: آپ کے یہ تمام ڈرامے بے حد کامیاب رہے، بہت مشہور ہوئے۔ ایک اچھے سکرپٹ کے علاوہ اور کیا وجوہات تھیں ان کامیابیوں کی؟

    حسینہ معین:دیکھیں میری ہمیشہ سے پریکٹس تھی کہ میں دو ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کرتی تھی۔دو اس لیے کہ ایک ڈائریکٹر میرے ساتھ ڈسکس کر رہا ہوتا تھا ، سن رہا ہوتا تھا کہ میں نے کیا لکھا ہے،اور اگر اس کو ٹھیک کیا جائے تو کیسے کیا جائے اور دوسرا ڈرامہ ریکارڈ کروا رہا ہوتا تھا۔لیکن آپ یہ دیکھیں کہ آپ میری جتنی بھی سیریلز دیکھیںگے آپ کو کہیں بھی ڈائریکشن کا فرق نظر نہیں آئے گا۔یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے بہت اچھے ڈائریکٹرز ملے۔ شروع ہی سے یہ میرے ساتھ یہ دو ڈائریکٹرز، شیرین خان اور محسن علی چلتے رہے۔ So much so  کہ جب میں نے ہیڈ کوارٹر میں آئیڈیا دیا کہ میں ہنری جیمز کے ناول ”The Portrait of a Lady” پہ لکھنا چاہتی ہوںتو وہاں سے جواب آیا کہ اگر یہ حسینہ کر رہی ہیں تو کرنے دیں لیکن اگر کوئی اور کر رہا ہے تو نہیں ہو گا!



  • منّزہ سہام مرزا – گفتگو

    منّزہ سہام مرزا – گفتگو

    گفتگو

    منّزہ سہام مرزا

    (منّزہ سہام مرزا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ منّزہ اپنے بچپن سے ہی اس شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ان کے والد سہام مرزا صاحب دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کے مدیرِ اعلیٰ اور بانی تھے۔ اب منّزہ سہام ماہ نامہ دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کی ادارت کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔)

    ٭ کچھ اپنے حوالے سے بتائیں، آپ کب سے اس فیلڈ میں ہیں؟

    منّزہ: میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں اپنے والد کے ساتھ واقعی میں بچپن سے ہی اس فیلڈ میں ہوں۔ جب وہ آفس جاتے تو میں بھی ان کے ساتھ جایا کرتی تھی۔ میرا شروع سے ہی اس کام کے ساتھ ایک خاص لگاؤ رہاہے، وہ مجھ سے کہانیوں کو ڈسکس کیا کرتے تھے، اچھا بتاؤ یہ افسانے، یہ کہانیاں کیسی ہیں؟ ہمارے ادارے سے بچوں کا رسالہ بھی نکلتا تھا جس کا نام ہی ”بچوں کا رسالہ تھا،” میں اس میں ”کوّا کہانی” کے نام سے کہانی لکھتی تھی، اس کا مرکزی خیال ابّو نے ہی دیا تھا کہ ایک کوّا ایک گھر میں بیٹھا ہے اور وہ اس گھر یا اس جگہ پر جو کچھ دیکھ رہا ہے، وہ سب بیان کررہا ہے۔ تو بہت چھوٹی سی عمر سے ہی بچوں کی کہانیوں میں معاشرے مسائل کو ڈسکس کیا۔ مجھے بلیاں بہت پسند تھیں، پہلی کہانی میں نے پانچویں جماعت میں لکھی تھی جس کا نام بلّی کانفرنس تھا، اور اس کے بعد کوّا کہانی۔ جانوروں کی کہانیاں زیادہ لکھیں۔ ابّو کے انتقال کے بعد جب میں نے آفس سنبھالا تو بہت سی چیزوں کا مجھے نہیں پتا تھا، لیکن ابّو کے ساتھ آفس آتے جاتے بہت سی چیزیں غیر ارادی طور پر میں سیکھتی گئی اور مجھے زیادہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میں نے ویسے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا ہوا ہے۔ گریجوایشن میں نے سینٹ جوزف کالج اور ماسٹرز کراچی یونی ورسٹی سے کیا تھا۔

    ٭ آپ جب ایڈیٹنگ کی فیلڈ میں باقاعدہ طور پر آئیں تو اس کے بعد سے آپ نے لکھناترک کردیا یا ابھی بھی جاری ہے؟

    منّزہ: ترک نہیں کیا، میں کالمز لکھتی رہی۔ میرا مزاج تھوڑا سا تبدیل ہوا۔میں پہلے کہانیاں اور افسانے لکھتی تھی، پھر مجھے کالم لکھنے میں مزہ آنے لگا۔ وہ ایک چیز جو میرے اندر شروع سے تھی سوشل ایشوز کو ڈسکس کرنا، وہ افسانے میں بھی کی جاسکتی ہے لیکن ذاتی طور پر مجھے کم الفاظ میں چیز کہنا یا لکھنا اچھا لگتا ہے تو ظاہر ہے وہ چیز آپ کالم میں کرسکتے ہیں، پھر میں کالمز لکھتی رہی۔ کالمز لکھ کر بھی تھک گئی کہ کچھ فائدہ نہیں ہوتا کتنا آپ لوگوں کوسمجھائیں (مسکراتی ہیں)، کالم لکھنا بھی چھوڑ دیا۔ اس کے بعد میں نے ایک چھوٹی سی ڈائری کے طور پر ‘شہید کی ڈائری’ لکھنا شروع کی جو دو صفحات پر مشتمل ہوتی تھی، وہ 1965ء کی جنگ کا ایک گمنام شہید ہے، وہ جنّت سے بیٹھ کر ہمارے ملک کو کیسے دیکھ رہا ہے، اس کو کیا نظر آرہا ہے۔ وہ سلسلہ چلتا رہا، لیکن اب واقعی میں لکھنے کی فرصت نہیں ہے، جب آپ ایک ادارہ چلارہے ہوتے ہیں تو مشکل ہوجاتا ہے۔ اب دل میرا چاہتا ہے لیکن وقت نہیں مل پاتا۔

  • شکیل عادل زادہ – گفتگو

    گفتگو

    شکیل عادل زادہ

    شکیل عادل زادہ صحافت اورڈائجسٹ کی دنیا کا بے حد معتبر نام ہیں۔ مقبول زمانہ ڈائجسٹ ”سب رنگ” ان کی پہچان بنا۔ 1938ء میں مراد آباد میں پیدا ہونے والے شکیل عادل زادہ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ چھے سال کے تھے جب والد دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ نامساعد مالی حالات کے باعث خود تگ و دو کرتے ہوئے تعلیمی منازل طے کیں۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے اور بطورِ صحافی اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی محنت اور لگن سے ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے اس درجے تک پہنچے کہ اپنی ذات میں ایک ادارہ بنے۔ انہوںنے سب رنگ کے پلیٹ فارم سے اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے بہترین کارہائے نمایاں انجام دیئے۔

    الف کتاب کے کونٹینٹ مینیجر حسن عمر سے ہوئی شکیل عادل زادہ کی گفتگو کا احوال پڑھیے۔

    حسن عمر: ویسے تو ہم سب جانتے ہیں کہ آپ کی عمر گزری ہے اس دشت کی سیاحی میں مگر پھر بھی ہمارے قارئین کے لیے مختصراً تعارف کہ آپ کب سے اس فیلڈ میں ہیں، شروعات کیسے ہوئیں؟

    شکیل: میں عملی زندگی میں اخبار کے راستے داخل ہوا تھا۔یہ سفر  رئیس امروہوی صاحب کے روزنامہ ”شیراز” سے شروع ہوا۔ یہ اُس زمانے میں شائع ہونے والا  ایک ناکام پرچہ تھا۔ لیکن جب میں اس سے وابستہ ہوا  تو تب وہ ڈمی (dummy) پر چھپتا تھا۔جب پرچے میں جان نہ رہتی تو پھر ڈیکلریشن زندہ رکھنے کے لیے وہ ڈمی پر چھپا کرتے تھے۔ تو میں نے اسے مزید ڈمی کردیا۔ یہ بات ہے سن ستاون(1957) کی۔چوں کہ کچھ اشتہارات تھے، تقریباً آٹھ نو سو روپے کے، اس زمانے میں آٹھ نو سو روپے بھی بہت ہوتے تھے ، تو ہم یہ کرتے کہ اشتہارات چھاپنے کے لیے چار صفحے کا سنڈے ایڈیشن چھاپتے جب کہ  باقی سولہ صفحے چھاپنے کے لیے ہمیں ڈمی کی مدد لینا پڑتی تھی۔ قانون یہ ہے کہ سولہ پرچوں کی ماہانہ ڈمی اگر داخل کی جائے توڈیکلریشن زندہ رہتا ہے۔ تو چار تو ہم سنڈے ایڈیشن چھاپ دیتے تھے مہینے میں، باقی سپلیمنٹ کے طور پر ایک صفحہ پر مشتمل اخبار روزانہ چھاپ دیتے تھے،جو تقریباً سو کے قریب چھپتا تھا۔ اس میں ہمیں کافی بچت ہونے لگی جس میں سے رئیس صاحب کا ذاتی خرچہ نکل آتا تھا۔ رئیس صاحب سے میرا تعلق یوں ہوا کہ میرے والد اور رئیس صاحب ہندوستان کے شہر مرادآباد سے ایک رسالہ نکالتے تھے جس کا نام تھا ”مسافر”۔ رئیس صاحب تقسیم کے فوراً بعد پاکستان آگئے اور میں کوئی دس سال بعد یہاں آیا۔ یہاں آیا تو کچھ عرصہ اپنے عزیزوں کے ہاں گزارا لیکن بعد میں رئیس صاحب کے گھر ہی رہا۔تو گویا میری لکھنے کی تربیت اسی خاندان میں ہوئی۔ رئیس امروہوی ،سیّد محمد تقی اور ان کے چھوٹے بھائی جون ایلیا کی ہمراہی میں سارا وقت گزرا اور یہی میرا عملی زندگی کا آغاز تھا۔ ہم پڑھتے بھی رہے، اردو کالج میں داخلہ لیا، وہاں سے بی کام کیا، پھر external student کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں اور بعد میں پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرزکیا۔ یہ میری مختصراً روداد ہے (مسکراتے ہیں)

    حسن عمر: سب رنگ کا آئیڈیا کسی نے دیا تھا یا یہ خالصتاً آپ کا اپنا آئیڈیا تھا؟

    شکیل: جی ہاں بالکل! یہ میرا اپنا آئیڈ یا تھا۔ہوا کچھ یوں کہ ”شیراز” تقریباً ایک سال تک چلا۔ جون ایلیا بھی اسی زمانے میں ہندوستان سے آئے تھے اور بہت بیمار تھے۔ انہیں TB تھی ایک طویل علاج کے بعد وہ ٹھیک تو ہو گئے مگر ان کی دوبارہ صحت مند زندگی کی طرف بحالی کے لیے ایک رسالہ نکالا گیا جس کا نام تھا ”انشائ” ۔ یہ ایک علمی اور ادبی پرچہ تھا۔ ادبی کم اور علمی زیادہ تھا کیوں کہ یہ گھرانہ  اپنی  علمی حیثیت سے زیادہ پہچانا جاتا تھا۔ ایک سال کے بعد میں بھی انشاء سے وابستہ ہوگیا۔ انشاء میں مارکیٹنگ یعنی اشتہارات کا حصول اور طباعت کی ذمے داری میری تھی۔ سرکولیشن کا کام ان کے تیسرے بھائی سید محمد عباس کرتے تھے اور پرچے کی ایڈیٹنگ جون ایلیا کرتے۔  رفتہ رفتہ میں بھی ایڈیٹنگ میں دل چسپی لینے لگا۔ انشاء ایک ادبی پرچے کی طرح چلتا رہا اور ہماری سر توڑ کوشش کے باوجود اس کی اشاعت ساڑھے بارہ سو سے آگے نہ بڑھ پائی۔ اس کے کئی تیور اور  روپ بدلے۔۔خواتین کے ٹائٹل بھی لگائے( مسکراتے ہیں) لیکن اس کی سرکولیشن ساڑھے بارہ سو سے زیادہ نہ ہوسکی۔ اس زمانے میں اردو ڈائجسٹ کی بڑی شہرت تھی اور اس کی اشاعتی تعداد نوے ہزار تک جا پہنچی تھی۔ ہم تین لوگوں کا روز گار انشاء سے ہی وابستہ تھا، جون ایلیا، ان کے بڑے بھائی سید محمد عباس اور میں۔۔۔تاثر یہ تھا کہ یہ ہم تینوں کا پرچہ ہے۔ پھر ہم نے الطاف حسن قریشی کے اُردو ڈائجسٹ کی مقبولیت سے متاثر ہوکر انشاء کو ”عالمی ڈائجسٹ” کردیا۔۔ عالمی ڈائجسٹ میں دو ایک سال تک جون صاحب زیادہ مستعدرہے، لیکن ڈائجسٹوں کے بارے یہ تاثر غالب تھا کہ یہ دوسرے درجے کی چیزیں ہیں، جو ابھی تک قائم ہے۔ اس تاثر کے پیشِ نظر وہ اس سے بتدریج علیحدہ ہوتے گئے، اور میں اس میں اسی طرح شامل ہوتا گیا۔ باقاعدہ ادارت میں میرا نام آنے لگا، کہانیوں کے انتخاب وغیرہ میں عباس صاحب میرا ساتھ دیتے۔۔۔اس سے فرق یہ پڑا کہ ڈائجسٹکی اشاعت ساڑھے بارہ سو سے ساڑھے چار ہزار تک پہنچی لیکن پھر وہیں ٹھہر گئی۔ بے حد کوششوں کے باوجود اس میں اضافہ نہ کر پائے۔ پھر مزید چارے کے طور پر  ہم نے کالی مائی ٹائپ کی پراسرار کہانیاں قسط وار شائع کرنا شروع کیں اور اسے فکشن کی طرف لے آئییہ طریقہ کار آمد ثابت ہوا اور اشاعت بیس ہزار تک جا پہنچی۔ لیکن جب اس کی اشاعت بیس ہزار تک ہوئی، تو مجھے یہ تاثر ملنے لگا کہ یہاں میری حیثیت  ملازم کی سی ہے، جب کہ حقیقت  میں ،میں پارٹنر تھا۔ ایک مشہور ناقد ہیں سید محمد علی صدیقی جو ڈان میں Aerial کے نام سے کالم لکھتے ہیں اور اُردو تنقید میں ان کا بڑا نام ہے۔ انہوں نے میری طرف سے رئیس امروہوی اور سید محمد تقی سے بات کی کہ شکیل کا رسالے  میں کیا حصہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا  کہ شکیل تو مالک ہیں، جیسے جون ویسے شکیل۔ (مسکراتے ہیں) صدیقی صاحب نے مجھے بتایا تو میں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں تو وہ کرتے رہتے  ہیں ان کی کوئی قانونی حیثیت بھی تو ہو۔ انہوں نے رئیس صاحب سے دوبارہ بات کی تو انہوں نے کہا کہ دستاویزی ثبوت کیسا، یہ پرچہ تو رئیس صاحب سمیت سب کا ہے، تقی صاحب اور، ان کی اولادوں کا بھی ہے۔ میں نے ان کے رویئے سے بد دل ہوتے ہوئے ‘سب رنگ’ کے نام سے اپنا ایک ڈیکلریشن چپکے سے فائل کردیا تھا ۔ یہ ایوب خان کا زمانہ تھا اور اس زمانے میں ڈیکلریشن کا ملنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا،وہ امپورٹ لائسنس کی طرح ملتا تھا۔ مجھے ڈیکلریشن داخل کیے ہوئے زمانہ ہوگیا۔ بہت کوششوں کے بعد بالآخر نومبر 1979 میں مجھے اس کا ڈیکلریشن مل ہی گیا۔ پیسے ویسے تو میرے پاس اس وقت تھے نہیں، جمع پونجی بھی پانچ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ تو میں نے رئیس امروہوی کو  خط لکھا کہ اگر میرا کچھ بقایا بنتا ہے تو مجھے دے دیا جائے، میں یہ رسالہ چھوڑ رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے ایک پیسہ نہ دیا، البتہ یہ چاہا کہ میں دوبارہ آجاؤں۔۔میں نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ میں اپنا ایک پرچہ نکال رہا ہوں۔ آخر کار اپنے ان پانچ ہزار سے سب رنگ کی ابتدا کی، کچھ دوستوں نے مدد کی۔عالمی ڈائجسٹ کے زمانے میں جو تعلقات پریس اور بائنڈر سے بن چکے تھے ،انہوںنے بڑی معاونت کی۔پریس والوں نے کہا کہ ہم چھاپیں گے اور جب پرچہ چل نکلے  تو ہمیں پیسے دے دیجیے گا۔ پھرلکھاریوں اور ادیبوں نے بھی بڑا ساتھ دیا۔ پہلا پرچہ ہم نے جنوری 70 میں پانچ ہزار کی تعداد میں چھاپا۔ اس زمانے میں ریڈرز ڈائجسٹ بھی اُردو ڈائجسٹ کی طرح اپنا ایک نام اور مقام رکھتا تھا۔ میں نے سب رنگ کو ریڈرز ڈائجسٹ کی طرز پہ تیار کیا تاکہ لوگوں کو عام ڈائجسٹ سے ہٹ کر کچھ پڑھنے کو ملے۔ پہلا شمارہ ساڑھے تین ہزار بکا، ڈیڑھ ہزار واپس آگیا۔ ہم نے دوسرا پرچہ بھی پانچ ہزار ہی چھاپا، اس میں سے بھی ساڑھے تین ہزار ہی بک سکا۔ یہ صورت حال  خاصی  تشویش ناک تھی۔ چناں چہ ہم نے اپنا رخ فکشن کی طرف موڑا۔ جس طرح ہم فکشن پر مبنی پرچہ عالمی ڈائجسٹ نکالتے تھے، اس ہی طرح ہم سب رنگ میں بھی فکشن پر زیادہ توجہ دینے لگے۔ تیسرا شمارہ بھی پانچ ہزارچھپا لیکن وہ پورا بک گیا۔ چوتھا پرچہ غالباً چھے ہزار چھپا تھا اور جو سب کا سب بک گیا تھا، یہاں تک کہ ہمارے پاس ایک بھی کاپی نہ بچی۔ اسے قارئین کی طرف سے پذیرائی ملنے لگی اور بتدریج بڑھنے لگی اس کی اشاعت بتدریج بڑھنے لگی، پہلے سال اس کی بیس ہزار، دوسرے سال بیالیس ہزار، تیسرے سال باسٹھ ہزار ، چوتھے سال اسّی ہزار، پانچویں سال ایک لاکھ اور پھر یہ ڈیڑھ لاکھ سے اوپر تک بھی چھپا۔ یہ کیوں کر ہوا؟ اس لیے کہ ہم نے بہت صدقِ نیت سے کام کیا، بہت خلوص سے، بہت محنت اور جانفشانی سے اور لوگوں کو وہ معیاری تحریریں پڑھنے کو دیں جو وہ ڈھونڈ رہے تھے۔ میرے بعد عالمی ڈائجسٹ ، جون صاحب کی بیگم زاہدہ حنا نے سنبھالا، انہوں نے بھی اسے بہت بہتر بنایا اور اس کی اشاعت بیس ہزار تک جا پہنچی مگرہم بہت آگے بڑھ چکے تھے۔تو یوں یہ سفر شروع ہوا۔

  • چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

    چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

    چشمہ

    انعم سجیل



    ”امیّ! مجھے فہد سے شادی نہیں کرنی، آپ پلیز تائی جان کو منع کر دیں ۔“

    ”لیکن آخر کیا بُرائی ہے اُس میں؟ پڑھا لکھا ہے، اچھی نوکری ہے اور سب سے بڑھ کر اپنی نظروں کے سامنے پلا بڑھا ہے۔ کوئی وجہ بھی تو ہو انکار کی؟“ زلیخا بیگم نے کڑے لہجے میں اپنی بیٹی صالحہ سے استفسار کیا۔

    ”امّی! آپ کو تو پتا ہے فہد نظر کا چشمہ لگا تاہے اور مجھے کسی ایسے شخص سے شادی نہیں کرنی جس کو میں عینک کے بغیر نظر ہی نا آﺅں۔ آپ بس دوسرے رشتے کو فائنل کر دیں۔“ صالحہ نے جیسے ضد ہی پکڑ لی اور زلیخا بیگم کو اپنی لاڈلی بیٹی کی ضد کے آگے ہار ماننا ہی پڑی۔ یوں صالحہ فیض کی دلہن بن کر اس کے بڑے سے گھر میں آ گئی۔

    فیض ایک کام ےاب اور معروف بزنس مین تھا جس کے لیے سب سے ضروری اس کا کاروبار تھا۔ خوب صورت بیوی کی حیثیت اس کے لیے ایک شو پیس سے زیادہ نہ تھی جس کو گھر میںلا کر سجا وٹ کے لیے رکھ دیا گیا ہو۔یوں تو صالحہ کو آسائشوں کی کمی نہ تھی، کمی تھی تو صرف احساس کی۔ بات صرف ایک نظر کی تھی۔وہ ہر روز تیار ہو کر فیض کا انتظار کرتی اور چاہتی تھی کہ وہ اس کو نظر بھر کر دیکھے ، اس کے حسن کی تعریف کرے، اس کو اپنا وقت دے لیکن فیض کے خیال میں یہ سب فارغ لوگوں کے چونچلے تھے۔اور پھر ہر گزرتے دن نے صالحہ کو باور کرایا کہ بصارت کم زور ہونے پر تو چشمہ لگا کر سب کچھ ٹھیک سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن اگر آنکھوں پر بے حسی کا ان دیکھاچشمہ لگا ہو تو بھرپور بصارت کے باوجود بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

    ٭….٭….٭