Author: misbah116@hotmail.com

  • سرائیکی لوک کہانی | جیونی اور چور

    سرائیکی لوک کہانی | جیونی اور چور

    سرائیکی لوک کہانی
    جیونی اور چور
    اختر عباس

    اختر عباس ملک کے ممتاز تربیت کار ، ماسٹر ٹرینر اور ایچ آرکنسلٹنٹ ہیں ۔ ماہنامہ ہمقدم، اردو ڈائجسٹ، قومی ڈائجسٹ اور بچوں کے رسالے ماہنامہ پھول کے مدیر رہے اور ایڈیٹر بھیا کے نام سے شہرت پائی۔ ان کی 35کتابوں کی سات لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں ۔ اس کے علاوہ 70ہزار طلبہ و طالبات کے لیے منی بک سیریز کی پانچ کتابیں جنہیں HAI نے گورنمنٹ آف آزاد جموں کشمیر کے لیے ساڑھے تین لاکھ کی تعداد میں شائع کیا۔ پاکستان میںبچوں کے ادب کا سب سے بڑا ایوارڈ یوبی ایل لٹریری ایکسی لینس بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ”الف نگر ” کے لوک کہانی نمبر کے لیے انہوں نے خصوصی طور پر ”سرائیکی وسیب لوک کہانی” لکھی ہے۔

    سچ تو یہی ہے کہ لوک داستانوں کا کوئی سال ، مہینہ اور دن نہیں ہوتا، میں نے یہ داستان جنوبی پنجاب کے شہر نور پور نورنگا میں سنی۔ اس کا آغاز مبارک پور سے ہوا اور اختتام آج تک نہ ہوسکا۔ بتایا جاتا ہے کہ مبارک پور نامی قصبہ ریاست بہاولپور کے تیسرے نواب محمد مبارک خان عباسی نے 1757ء میں آباد کیا۔
    یوں کہہ لیجیے کہ یہ لوک داستان 1757 ء اور 1762 کے درمیانی برسوں میں وجود میں آئی ، البتہ میں نے 1976ء میں اس وقت سنی جب ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔
    مبارک پور جانے والی سڑک پر مُجی کی دودھ ملائی والی دکان تھی۔ تب وہاں دہی کا رواج نہیں تھا ۔ ہم وہاں سے روزانہ ملائی خریدنے جاتے اور گرم تنوری روٹی کے ساتھ کھایا کرتے تھے ۔ ہمارے اسکول کا کارِخاص فیض محمد تھا ۔جوخود کو دادپوترا کہلواتا تھا ۔ وہ اس علاقے کا رہائشی تھا اور اسی نے یہ داستان پہلی بار مزے لے لے کر سنائی دوسری اور تیسری بار کے راوی الگ الگہیں۔
    مبارک پور کی بستی میں مبارک نام کا ایک معمولی سا کسان رہتا تھا۔ چند ایکڑ زمین اس کی کل کائنات تھی جس میں وہ کاشت کاری کرتا۔ا یک بھینس اور دو تین بکریاں مبارک کے گھر کی رونق تھیں۔ بارہ چودہ سال کی ایک بیٹی تھی… جیونی!
    سبھی اسے امّاں جیونی کہہ کر بلاتے (اس علاقے میں بچی کو اماں کہتے ہیں، بوڑھی عورت کو نہیں) اس کی اصل والدہ کون تھی، زندہ بھی تھی یا مرچکی تھی۔اس کا کسی کو علم نہیں، جیونی کا ایک ماموں تھا رحیم بخش داد پوترا، وہ کسان تھا یا دکان دار یہ بھی واضح نہیں مگر اتنا علم ہے کہ وہ جیونی کا سگا ماموں نہ تھا۔ جیونی کے گھر وہ باقاعدگی سے آتا اور عام طور پر دن چڑھے اس وقت آتا جب جیونی کھانے کی تیاری کر رہی ہوتی۔ ہانڈی چولھے پر رکھ کر وہ آٹا گوندھ رہی ہوتی۔ مبارک بخش بھی دوپہر کو عین اسی وقت گھر آتا جب جیونی کھانا پکا کر گرم گرم روٹیاں چنگیر میں رکھ چکی ہوتی۔ کبھی وہ پہلی روٹی پکنے تک اور کبھی دوسری روٹی کے توے سے اترنے تک گھر پہنچتا۔
    قصبہ بے شک تاریخی تھا مگر رقبے میں چھوٹا اور وسائل اور آمدنی کے حساب سے تو کافی چھوٹا تھا۔ اس لیے مکینوں کی زندگی بہت آسان نہ تھی۔ سبھی سرائیکی بولتے۔ اس میٹھے لہجے کی زبان کی مٹھاس سے زندگی کی تلخیوں اور تلخ یادوں کو سینے سے لگائے جی رہے تھے کہ جب اچانک بستی میں وارداتیں ہونے لگیں۔ آغاز چھوٹی چھوٹی چوریوں سے ہوا۔ لوگ یہی سمجھتے کہ وہ اپنی گم شدہ چیز کہیں رکھ کر بھول گئے ہوں گے۔ پھر جب بڑی بڑی وارداتیں ہونے لگیں تو اس مسئلے نے سنگین شکل اختیار کرلی۔ وہاں پولیس اور فوج کا روایتی انتظام تھا اور نہ ہی کوئی اہم سرکاری افسر داد رسی کے لیے تعینات تھا۔
    بستی مبارک پور کے سیانے ہر دوسرے تیسرے دن شام کو جمع ہوتے اور چوری کی وارداتوں کی تازہ خبریں اور پرانے تبصرے سنتے۔ باہم مشورے سے یہی طے ہوا کہ اوّل تو گھروں کے دروازے لگائے جائیں اور انہیں اندر سے بند کیا جائے، دوم یہ کہ دیواریں بنوا لی جائیں مگر چور بھی گھر کا بھیدی اور بستی کا باسی تھا، وہ ان سبھی دائو پیچ کو سنتا اور ان کا توڑ نکال لیتا۔ ایسے ہی کئی ہفتے مہینے گزر گئے چور پکڑا گیا نہ چوری روکی جاسکی۔
    اچھی خاصی پرسکون بستی میں بے سکونی اور بے چینی کسی وبا کی طرح پھیل گئی اور اس سے بچنے کی راہ نہیں مل رہی تھی۔ اس دوران سیانوں نے بڑی مہارت سے طے کیا کہ جس روز چور پکڑا گیا، سب مل کر اس کی ٹھکائی کریں اور اس کا بازو اور ٹانگ اُلٹے رخ سے کاٹ دی جائے گی، یعنی دایاں بازو اوربائیں ٹانگ کاٹنی ہوگی اور بایاں بازو تو دائیں ٹانگ ہوگی۔ اتنی بڑی سزا اور سخت فیصلے بھی چور کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ بن سکے۔
    پھر ایک دن وہ معاملہ ہوگیا جس نے اس بستی کے رہنے والوں کے ساتھ جیونی اور مبارک بخش کو بھی لوک داستان کا حصہ بنادیا ۔ مبارک بخش اپنے معمول کے مطابق دوپہر کے وقت گھر جا رہا تھا۔ جب اس نے دور سے اپنا دروازہ کھلا پایا۔ اس کادل دھک سے رہ گیا ۔اچھے زمانے تھے بچوں کی عزت اور اغوا کا خطرہ پریشانی کا باعث نہ بنتا تھا ۔ البتہ سامان کی چوری تکلیف پہنچاتی ، بڑی مشکل سے دمڑی دمڑی جوڑ کر گھر کی چیزیں جمع ہوتیں تھیں۔ مبارک بخش جونہی گھر داخل ہوا ایک ادھیڑ عمر آدمی کو سرجھکائے بیٹھے پایا۔ اس نے وہیں سے للکارا۔
    ”ہاں بھئی کیہڑا ہیں۔” (ہاں بھئی کون ہو؟)

    اُس نے دھیما سا جواب دیا جو مبارک کے پلّے نہ پڑا ۔ وہ اس کے قریب ہوا، اپنا سوال دہرایا ۔ ساتھ میں مزید جملے کا اضافہ کیا۔
    ”کینویں بیٹھیں ایں؟” (کیسے بیٹھے ہو؟) اس نے سر نہیں اٹھایا اور بولا: ”ہک گل نے اٹھن دے قابل ای کائی نئیں چھڈے۔” (ایک بات نے اٹھنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا)
    ”کیا مطلب ہے تیڈا بھرا ، سدھی گل چا کر۔” (او بھائی میرے پہیلیاں نہ بھجوائو سیدھی بات کرو) اس آدمی نے ٹھنڈی آہ بھری ، منہ اوپر اٹھایا اور بولا:
    ”آیا تو میں چوری کرنے تھا، مگر تمہاری بیٹی کے ایک جملے نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔”
    مبارک بخش نے دائیں بائیں دیکھا، کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر اس آدمی کا بازو پکڑ ااور اندر لے گیا ۔ دروازہ زور سے بند کیا۔ اسی اثنامیں اندر سے آواز آئی:
    ”ماما سائیں! کتھاں رہ گئے وے ،اندر آونجو۔” (ماموں آپ کہاں رہ گئے، اندر آجائیں) چور نے مبارک کو بتایا کہ چند منٹ پہلے جب میں چوری کی نیت سے گھوم رہا تھا، توتمہارے گھر کا دروازہ کھلا دیکھا، اندر داخل ہونے لگا تو اس کے پٹ سے ٹکر ا گیا۔ اسی لمحے اندر سے آواز آئی:”ماما !سائیں آجاؤ، روٹی پک رہی اے۔”
    مجھے یوں لگا جسے کسی نے جلتا ہوا انگارہ مرے کانوں میں رکھ دیا ہو ۔ وہ ایک چور کو ماما سائیں کہہ رہی تھی اور کیا کوئی ماموں اپنی بیٹی کے گھر چوری کرتا ہے؟”
    لوک داستان سنانے والے یہ بتانے سے آج بھی قاصر ہیں کہ چور کا کیابنا؟
    ہاں یہ بتاتے ہیں کہ اسے جیونی اور اس کے ابّا نے معاف کردیا۔ چور انہی کی برادری کا تھا۔ جیونی کی صرف ایک بات اس کے :باپ کی سمجھ میں آگئی کہ
    ”بابا سائیں !کون آدھا ہے ایہو چور اے، کیں نئی ڈیٹھا؟ ”(کون کہے گا یہ چور ہے ، کسی نے نہیں دیکھا)
    ”بات دل کو لگتی ہے کہ جب ماموں گھر آئے تو پھر چور نہ ہوا نا!”جیونی کے باپ نے سوچا۔
    مبارک پور بستی کا نام شاید جیونی کے ابا مبارک کے نام پر ہی رکھا گیا ہو۔ وہ چور تو کبھی پکڑا نہ جاسکا، ہاں البتہ اس کے بعد چوری کی کوئی واردات نہ ہوئی۔ کہتے ہیں جیونی کے گھر دوپہر کے کھانے کے وقت اکثر ایک مہمان اور بھی آجایا کرتا تھا۔ لوک داستان والے اس کا نام بتانے سے آج تک قاصر ہیں، میں بھلا کیسے بتا سکتا ہوں۔
    ٭…٭…٭

  • ہینگنی اور ولیدنی | تھل کی لوک کہانی

    ہینگنی اور ولیدنی | تھل کی لوک کہانی

    تھل کی لوک کہانی
    ہینگنی اور ولیدنی
    سارہ قیوم

    سارہ قیوم صاحبہ نے ایک لمبے عرصے بعد 2016ء میں دوبارہ لکھنے کا آغاز کیا۔ ادب کی کئی اصناف میں قلم کے جوہر دکھائے، جن میں بچوں کی کہانیاں، نظمیں، مزاح، بڑوں کے لیے ناول، طنز و مزاح اور ڈرامے شامل ہیں۔ ایکسپریس چینل پر ان کا ایک عدد ڈرامہ بھی نشر ہوچکا ہے۔ شعبہ تدریس سے منسلک ہیں، اس لیے جدید تقاضوں کے
    مطابق بچوں کے ادب میں روایت اور جدت کے امتزاج سے بخوبی واقف ہیں۔ انگلش اور اردو دونوں زبانوں میں بے شمار کہانیاں شائع ہوچکی ہیں۔

    ایک اونٹ اور گیدڑ کی دوستی ہوگئی۔ گیدڑ اونٹ کو بڑا جان کر ماموں کہتا اور اس کی محبت کا دم بھرنے لگا۔ اونٹ بھی گیدڑ سے شفقت سے پیش آنے لگا۔
    ایک مرتبہ کچھ ایسا موسم بدلا کہ کئی مہینوں تک بارش نہ ہوئی۔ جب فصل باڑی نہ ہوئی تو کھانے کو کچھ نہ رہا۔ دریا کے اُس پار ایک گاؤں آباد تھا جہاں کے کھیت ہرے بھرے تھے۔ ان کھیتوں کے مالک کسان دریا سے پانی لاکر کھیتوں کو دیتے تھے لہٰذا فصلیں ہری بھری تھیں۔ اونٹ اور گیدڑ روزانہ للچائی نظروں سے ان ہرے بھرے کھیتوں کو دیکھتے اور بارش کی دعائیں مانگا کرتے۔
    ایک دن گیدڑ نے اونٹ سے کہا: ”ماما جی! اب تو بھوکے رہ رہ کر پیٹ پسلیوں سے جالگا ہے۔ بارش ہونے کی کوئی امید نہیں، میری مانو تو دریا پار گاؤں میں چلتے ہیں اور کچھ پیٹ پوجا کرتے ہیں۔”
    اونٹ بولا: ”ٹھیک کہتے ہو بیٹا! گو کہ یہ اچھی بات نہیں کہ کسی دوسرے کی اجازت کے بغیر اس کی چیز لی جائے لیکن مجبوری ہے، یہاں رہے تو فاقوں مرجائیں گے۔”
    طے پایا کہ اونٹ چوں کہ قد میں لمبا ہے، لہٰذا وہ گیدڑ کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر دریا پار کرا دے گا۔ دونوں کسی کھیت میں گھس کر پیٹ بھریں گے اور فوراً واپس آجائیں گے۔ شام ہوتے ہی دونوں نے دریا پار کیا اور گاؤں میں داخل ہوئے۔ کسان اس وقت کھیتوں سے گھر واپس جارہے تھے۔
    اونٹ اور گیدڑ ان کی نظروں سے بچنے کے لیے درختوں کے ایک جھنڈ میں چھپ گئے۔ انہیں اندھیرا ہونے کا انتظار کرنا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر کھیتوں میں چوری کرتے پکڑے گئے تو کسان خوب پیٹیں گے۔ جونہی رات ہوئی اور کھیتوں میں سناٹا چھا گیا تو وہ دونوں خربوزوں کے ایک کھیت میں گھس گئے۔ موٹے موٹے میٹھے خربوزے دیکھ کر ان کے منہ میں پانی بھر آیا اور وہ ندیدوں کی طرح خربوزے کھانے میں جُت گئے۔ گیدڑ کا پیٹ چھوٹا تھا، چار پانچ خربوزے کھا کر ہی بھر گیا۔ پیٹ بھرا تو اُسے شرارت سوجھی۔ اونٹ سے کہنے لگا: ”ماما جی مجھے تو ہینگنی آئی ہے۔”
    اونٹ گھبرا کر بولا: ”میری تو ابھی ڈاڑھ بھی گیلی نہیں ہوئی، تُو ہینگنی کو روک کے رکھ، میں پیٹ بھر کر کھالوں، پھر ہینگ لینا۔”
    گیدڑ نے کہا: ”ماما جی ذرا جلدی کرو، بڑی زور کی ہینگنی آئی ہے۔ آپ کی خاطر چار پانچ منٹ کے لیے رُک سکتا ہوں، اس سے زیادہ نہیں۔”
    اونٹ جلدی جلدی خربوزے کھانے لگا لیکن اس کا پیٹ بڑا تھا، اتنی جلدی کہاں بھر سکتا تھا۔ وہ ابھی چند خربوزے ہی کھا پایا تھا کہ گیدڑ نے ہینگنا شروع کردیا۔
    ”بیٹا! میری خاطر تھوڑی دیر رک جاؤ۔” اونٹ پریشانی سے بولا۔
    ”ماما جی! اب تو ہینگنی گلے تک آپہنچی ہے، وہ مزید نہیں رک سکتا۔”
    یہ کہہ کر اس نے منہ آسمان کی طرف اٹھایا اور تیز آواز میں ہووووو کرنے لگا۔ اونٹ گھبرا کر بھاگا لیکن گیدڑ کی آواز سے کسان بیدار ہوچکا تھا۔ لمبا تڑنگا اونٹ اسے دور ہی سے نظر آگیا۔ وہ ڈنڈا لے کر اس کے پیچھے لپکا۔ گیدڑ تو مزے سے کھیتوں میں چھپ گیا جبکہ اونٹ کسان کے ہتھے چڑھ گیا۔ کسان نے ڈنڈے سے اس کی خوب مرمت کی۔
    بے چارہ اونٹ رات بھر دریا کے کنارے ایک درخت کے نیچے پڑا رہا اور چوٹوں کے درد سے کراہتا رہا۔ صبح ہوئی تو گیدڑ بھی اس سے آملا۔ وہ ساری رات کھیت میں خربوزے کھاکھا کر خوب سیر ہوچکا تھا۔
    ”چل بیٹا اب گھر چلیں۔” اونٹ نے مختصر سی بات کی مگر گیدڑ سے اس کی شرارت کے بارے میں کچھ نہ کہا۔
    گیدڑ مزے سے اونٹ پر چڑھ بیٹھا اور اونٹ دریا میں اتر گیا۔ دریا میں ایک جگہ پانی گہرا تھا۔ اونٹ سیدھا اس جگہ پر پہنچ کر رک گیا۔
    ”کیا بات ہے ماما جی، رک کیوں گئے؟” گیدڑ نے پوچھا۔
    ”کیا بتاؤں، بڑے زور کی ولیدنی آئی ہے۔” اونٹ نے کہا۔
    اب تو گیدڑ بڑا گھبرایا۔ اس نے منت بھرے لہجے میں کہا: ”ماما جی! خدا کا واسطہ کچھ دیر کے لیے ولیدنی روکو۔ ہم دریا کے بیچوں بیچ کھڑے ہیں۔ آپ ولیدنی کرو گے تو ہم ڈوب جائیں گے۔”
    اونٹ نے کہا: ”میں مجبور ہوں، اتنے زور کی ولیدنی آئی ہے کہ روک نہیں سکتا۔ تم سے بہتر یہ بات کون سمجھ سکتا ہے کہ جب ہینگنی اور ولیدنی آجائیں تو روکے نہیں رکتیں۔”
    گیدڑ سمجھ گیا کہ اونٹ اصل میں اسے شرارت کی سزا دے رہا ہے۔ اس نے جوٹھان لی ہے۔ اب بِن کیے نہ ٹلے گا۔ اس نے اونٹ سے التجا کی:
    ”اچھا ماما جی! ولیدنی آئی ہے تو ضرور کرو، لیکن ایک مہربانی کردو کہ مجھے پیٹھ سے اتار کر اپنے منہ میں داب لو تاکہ میں ڈوبنے سے بچ جاؤں، جب تم ولید نے لگو تو منہ اوپر اٹھا لینا۔”
    اونٹ نے دل میں سوچا: ”شاباش بیٹا! یہی تو میں چاہتا تھا۔”
    اس نے گیدڑ کو منہ میں دبایا اور اُسے خوب غوطے دیے۔ گہرے پانی میں ڈبکیاں کھانے سے گیدڑ کو دن میں تارے نظر آگئے۔ برا حال ہوا تو لگا دہائی دینے، ”ہائے مار ڈالا، ماما جی! آپ تو کہتے تھے ولیدنی آئی ہے، یہ کیا کررہے ہو؟”
    اونٹ نے مسکرا کر کہا: ”ہاں بیٹا! ولیدنی آئی ضرور ہے مگر منہ میں۔”
    یہ کہہ کر اس نے گیدڑ کو پانچ میں پٹخ دیا۔ یوں شرارتی گیدڑ کو اس کی شرارت کی خوب سزا ملی۔
    ٭…٭…٭

  • ہندکو لوک کہانی(سنی سنائی)

    ہندکو لوک کہانی(سنی سنائی)

    ہندکو لوک کہانی(سنی سنائی)
    گونگلو میاں اور سات چور

    محمد احمد جواد

     

    پرانے وقتوں کی بات ہے، رام پور گاؤں میں ”گونگلو ” نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ اس کا باپ مر چکا تھا جب کہ ماں بیٹا چھوٹے سے گھر میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ اس کا اصل نام حمید تھا مگر گورا چٹا اور گول مٹول ہونے کی وجہ سے گاؤں والے اسے ”گونگلو میاں” پکارتے تھے۔ وہ سیدھا سادہ نوجوان تھا۔
    گونگلو سارا دن گھر فارغ بیٹھا رہتا۔ ایک دن ماں نے اسے کہا: ”اتنے بڑے ہو گئے ہو، ہر وقت بے کار پڑے رہتے ہو، جاؤ اور کچھ کما کر لاؤ۔” ماں کی بات سن کر گونگلو میاںنے جوش سے انگڑائی لی اور دو روٹیاں رومال میں باندھ کر گھر سے نکل پڑا۔
    گونگلو میاں کی قسمت بڑی اچھی تھی۔اس کا ہر کام قدرتی طور پر آسان ہو جاتا تھا۔ سر پر روٹیاں رکھے، وہ سڑک پر جا رہا تھا کہ اسے کچھ لوگ نظر آئے۔ وہ اپنا بیل تلاش کررہے تھے۔ انہوں نے گونگلو میاں کو دیکھا تو اس کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”گونگلو میاں! ہمارا بیل گم ہو گیا ہے۔ آپ دعا کرو کہ بیل مل جائے۔”
    گونگلو میاں نے بات سن کر جواب دیا: ”اِدھر دیکھو، اُدھر دیکھو، بیل مل جائے گا۔” انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھا تو بیل کھیتوں سے چرتا ہوا نکل رہا تھا۔ وہ بہت خوش ہوئے اورخوشی میں گونگلو میاں کو انعام دیا۔ گونگلو میاں انعام لیے گھر داخل ہوئے تو ماں اسے دیکھ کر بڑی خوش ہوئی۔ گونگلو میاں کی چہار سُو مشہوری ہو گئی کہ وہ درویش ہے اور لوگوں کی گم شدہ چیزیں انہیں ڈھونڈ دیتا ہے۔
    کچھ دنوں بعد گونگلو میاں گھر سے دوبارہ نکلے۔ اس بار چلتے ہوئے اُسے ایک بوڑھا آدمی ملا۔ بوڑھے نے گونگلو میاں کو روکا اور کہا: ”گونگلو میاں! میری بیٹی کی سونے کی انگوٹھی گم ہو گئی ہے۔آپ دعا کروہمیں انگوٹھی مل جائے۔” گونگلو میاں دل میں کہنے لگے: ”میں درویش تو ہوں نہیں جو انگوٹھی ڈھونڈ نکالوں؟ چلو کچھ نہ کچھ تو کرتا ہوں۔” یہ سوچ کر گونگلو میاں نے بوڑھے آدمی سے کہا: ”بڑے میاں! لنگر پکاؤ، آپ بھی کھاؤ اور مجھے بھی کھلاؤ، انگوٹھی مل جائے گی۔”
    بوڑھے کی بیٹی لنگر کے لیے چاول نکالنے لگی تو چاولوں میں سے انگوٹھی نکل آئی۔ بوڑھا بڑا خوش ہوا۔ اس نے گونگلو میاں کو ڈھیر سارا انعام دیا۔ گونگلو کے وارے نیارے ہوگئے۔ وہ خوشی خوشی گھر لوٹ آیا۔
    کچھ عرصے بعد بادشاہ کے محل میں چوری ہو گئی۔ شہزادی کا قیمتی ہار کوئی چور لے گیا تھا، بہت تلاش کے بعد بھی چوروں کا سراغ نہ ملا۔ آخر بادشاہ نے گونگلو میاں کو دربار میں بلابھیجا اور کہا: ”گونگلو میاں! شہزادی کا قیمتی ہار چوری ہو گیا ہے، ہار ڈھونڈ کر دو، نہیں تو سزا ملے گی۔” گھونگلو میاں نے وضاحت کرتے ہوئے جواب دیا: ”بادشاہ سلامت! مَیں درویش تو ہوں نہیں جو ہار ڈھونڈ لاؤں۔ میری کرامت ایسے ہی مشہور ہو گئی ہے۔” بادشاہ نے گونگلو میاں سے کہا: ”مجھے بس گم شدہ ہار چاہیے۔” گونگلو چپ ہو گیا اور بات کو ختم کرتے ہوئے کہنے لگا:”چلو! کچھ نہ کچھ تو کرتے ہیں۔ آپ مجھے سات دنوں کی مہلت دیں۔” مہلت لے کر وہ گھر آگیا۔
    گونگلو اگلے روز جنگل میں نکل گیا۔ وہاں جا کر اس نے آواز لگائی: ”ایک تو آگیا، باقی رہ گئے چھے وہ بھی آجائیں گے۔” وہ اپنی مہلت ختم ہونے کے دن گننے لگا۔ گونگلو میاں کو علم نہ ہوا کہ قریب چور کھڑا اس کی باتیں سن رہا ہے۔ چور سمجھاشاید گونگلو اس کی بات کررہا ہے۔ وہ اپنے ساتھی چوروں کو بتانے کے لیے بھاگم بھاگ ان کے پاس پہنچا اور پریشان صورت بناکرکہنے لگا: ”گونگلو میاں کو پتا چل گیا ہے کہ محل سے چوری ہم نے کی ہے۔ اب ہماری خیر نہیں ہے۔” باقی چوراسے حیرت سے دیکھنے لگے۔ اگلے روز اس بات کی تصدیق کے لیے دوسرا چور پہلے چور کے ساتھ گیا۔دونوں وہاں پہنچے تو حسبِ معمول گونگلو میاں کی اُونچی اُونچی آواز سنائی دے رہی تھی۔
    ”پہلے کے ساتھ آج دوسرا بھی چلا آیا، باقی رہ گئے چھے۔ وہ بھی جلد ہی آ رہے ہیں۔” گونگلو نے کہا تو چوروں کے کان کھڑے ہو گئے۔ وہ بھاگم بھاگ اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچے اور انہیں ساری حقیقت بتائی۔ باقی چورو ں نے بھی ایک ایک کر کے یہی عمل دہرایا۔ روز جتنے چور آتے، گونگلو ان کی تعداد بول کر کہتا۔ اتنے آگئے اورباقی اتنے رہ گئے۔ وہ بھی جلد ہی آجائیں گے۔ آخر ساتویں روز چوروں کا سردار خود معاملہ دیکھنے وہاں آیا۔ باقی چور بھی اس کے ہمراہ تھے۔
    وہاں پہنچ کرسارے چور درخت کی اوٹ میں چھپ گئے اور کان لگا کر سننے لگے۔ گونگلو میاں اپنی مستی میں آلتی پالتی مار کر بیٹھے تھے۔جیسے ہی سردار وہا ں آیا، گونگلو بلند آواز سے بولا: ”لوجی! آج ساتوں کے ساتوں آ گئے۔ اب جو ہو گا وہ کل دربارہی میں دیکھا جائے گا۔” گونگلو اپنی سزا کے بارے میں کہہ رہا تھا۔ اس کی مہلت کے ساتوں دن گزر گئے تھے اور اس نے ابھی تک چورنہیں ڈھونڈے تھے۔ درختوں کی اوٹ میں چھپے چوروں نے اندازہ لگایا گویا گونگلو میاں نے انہیں ڈھونڈ لیا ہے۔ اب وہ پکڑے گئے ہیں۔ یہ سوچ کر سارے چور پریشان ہوگئے۔
    انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اب کیا کریں۔ طے پایا کہ گونگلو میاں کو کچھ دے دلا کرباشاہ کی سزا سے بچا جائے۔ جان ہے تو جہان ہے۔مشورہ کر کے سارے بھاگم بھاگ گونگلو میاں کے پاس آئے۔ ڈر اورخوف کے مارے چور اُس کے پاؤں میں گر پڑے اور چوری تسلیم کرتے ہوئے بولے: ”گونگلو میاں! چوری ہم نے ہی کی ہے ۔ ہم آپ کو چور ی کا ہار اور ساتھ ڈھیر سارا مال دیتے ہیں۔آپ بس ہمیں بادشاہ سے بچا لیں۔” چوروں نے ہار اور دوسرا سامان گونگلو میاں کے حوالے کیا اور خودکہیں بھاگ نکلے۔
    اگلے روز ہار مل جانے پر بادشاہ بڑا خوش ہوا۔اس نے گونگلو میاں کو ڈھیر سارا انعام دیا اور اسے اپنا مصاحبِ خاص بنا لیا۔
    ٭…٭…٭

  • لوک کہانی | دُوسری ترکیب

    لوک کہانی | دُوسری ترکیب

    لوک کہانی
    دُوسری ترکیب
    نذیر انبالوی

    جناب نذیر انبالوی کا اصل نام نذیر الحسن ہے۔ لاہور میں پیدا ہوئے۔ پاکستان میں بچوں کے ادب کی تاریخ ان کے نام کے بغیر نامکمل ہے۔ اسّی کی دہائی سے لکھنے کا آغاز کیا اور آج تک بغیر کسی تعطل کے مسلسل ان کا قلم بچوں کی ذہنی تربیت کا کام سرانجام دے رہا ہے۔ 70 کے قریب کتابوں کے مصنف ہیں۔ ماہنامہ تعلیم و تربیت کے مدیر رہے۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے مختلف جماعتوں کی اُردو کی کتابیں انہی کی محنت کا ثمر ہیں۔ الف نگر میگزین میں قارئین ان کی خاص کہانیوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔

    تنال نے گود میں بچھڑا اُٹھا رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ میں گائے کی رسی تھی۔ صحن میں اس کی بیوی چارپائی پر بیٹھی سبزی بنا رہی تھی۔
    ”نیک بخت! اللہ نے ہماری سن لی ہے، یہ گائے اوراِس کا دودھ ہمارا ہے، خوب دودھ پیو۔” تنال نے بچھڑے کو صحن میں چھوڑ کر گائے کو تھپکی دیتے ہوئے کہا۔
    ”بات کچھ سمجھ میں آئی نہیں۔” بیوی نے پہلے بچھڑے اور پھر گائے کو دیکھتے ہوئے تنال سے کہا۔
    ”بادشاہ سلامت نے اپنے خاص نوکروں کو ایک گائے اور اُس کا بچھڑا دیا ہے، جو کوئی بھی بچھڑے کو گائے کا دودھ پلا کر صحت مند کرے گا اُسے خصوصی انعام ملے گا۔” تنال نے تفصیلی بتائی۔
    ”اچھا تو یہ بات ہے، بھئی سارا دودھ تو بچھڑا پی جائے گا پھر یہ دودھ ہمارا کیسے ہوا؟” بیوی کو فکر مند دیکھ کر تنال نے نہایت اطمینان سے کہا:
    ”تم دیکھتی جاؤ میں کیا کرتا ہوں، بس تم دودھ پیو اور جان بناؤ۔”
    پھر دونوں روز ہی گائے کا دودھ پینے لگے اور جو بچ جاتا، تو رشتہ داروں کو بھیج دیتے۔ دودھ نہ ملنے کے باعث بچھڑا قد میں بڑھا اور نہ ہی صحت مند ہوسکا۔ گھر میں جو روٹی پکتی وہ بہ مشکل بچھڑے کو کھانے کو ملتی۔ گائے کا دودھ پیتے پیتے تنال ہٹا کٹا ہوگیا اور اُس کی بیوی بھی خاصی صحت مند ہوگئی تھی۔ انہیں اُس وقت فکر لاحق ہوئی جب کچھ عرصے بعد بادشاہ نے ملازموں کو اپنے اپنے بچھڑوں سمیت دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔ تنال نے ایک ترکیب سوچ رکھی تھی۔ دربار میں جانے سے قبل اُس نے اس ترکیب کو عملی جامہ پہنایا۔ اُس نے ایک برتن میں دودھ کو خوب گرم کیا۔ پھر وہ برتن بچھڑے کے سامنے رکھا، تو بچھڑا جیسے ہی دودھ پینے لگا، گرم دودھ سے اُس کا منہ جل گیا۔ وہ خوب چیخا چلّایا اور بے قرار ہوکر اِدھر اُدھر بھاگنے لگا۔ آخر بچھڑا ایک طرف خاموش ہوکر بیٹھ گیا۔
    اگلے دن تنال بچھڑا لے کر دربار پہنچا، تو بادشاہ نے بچھڑا دیکھ کر کہا:
    ”یہ تو پہلے سے بھی کمزور ہوگیا، لگتا ہے تم اس کے حصے کا دودھ پیتے رہے ہو۔”
    ”حضور! ایسی بات نہیں، بلکہ اسے دودھ پسند ہی نہیں ہے، میں نے جب بھی اس کے سامنے دودھ رکھا اِس نے پیا ہی نہیں۔” تنال نے صفائی پیش کی۔
    ”ابھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا ہے۔” بادشاہ سلامت نے تنال کو گھورتے ہوئے کہا۔
    پھر بادشاہ کے حکم پر ایک برتن میں دودھ لایا گیا۔ بادشاہ سلامت نے جلاد کو حکم دیا کہ اگر تنال کا جرم ثابت ہوجائے تو اس کی گردن اُڑا دینا۔ دودھ کا برتن بچھڑے کے سامنے رکھا گیا۔ بچھڑا تو پہلے ہی گرم دودھ سے خوف زدہ تھا۔ جیسے ہی اُس کے سامنے دودھ رکھا گیا اُس نے آنکھ اٹھا کر بھی اُسے نہ دیکھا۔ بادشاہ کو کیا معلوم تھا کہ بچھڑا دودھ کیوں نہیں پی رہا۔ یوں تنال کی ترکیب کام یاب ہوگئی۔ وہ دل ہی دل میں بے حد خوش تھا۔
    بادشاہ نے اپنے وزیر کی طرف دیکھا۔ وزیر نے بادشاہ کی آنکھوں میں چھپے سوال کو جانچ لیا تھا۔ اُس نے آگے بڑھ کر بچھڑے کو قابو کرلیا۔ وزیر نے بچھڑے کے منہ کو بہ غور دیکھا تو فوراً بولا:
    ”حضور! تنال نے جھوٹ بولا ہے کہ بچھڑے کو دودھ پسند نہیں، وہ دودھ کیسے پیے گا، اس کا تو منہ برُی طرح جلا ہوا ہے۔”
    ”بچھڑے کا منہ جلا ہوا ہے؟” بادشاہ نے دہرایا۔
    ”جی بادشاہ سلامت! بچھڑے کا منہ جلا ہوا ہے۔” وزیر نے تنال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ بادشاہ تنال کو گھورنے لگا۔
    ”وہ… وہ… سرکار میری بیوی نے دودھ گرم کرکے پتیلی میں رکھا ہی تھا کہ بچھڑے نے اُس میں منہ ڈال لیا۔” تنال کے چہرے کی رنگت زرد ہورہی تھی۔
    ”سچ سچ بتاؤ ورنہ جلاد ہمارے حکم کا منتظر ہے۔” بادشاہ چلّایا۔

    ”مم… میں… میں جھوٹ نہیں بول رہا، سرکار رحم کیجیے۔ آپ رحم کرنے والے ہیں، میں بچھڑے کو حکیم صاحب کے پاس لے جاتا ہوں، یہ ٹھیک ہوجائے گا۔” تنال کی کسی بات کا بادشاہ سلامت کو اعتبار نہیں تھا۔ تنال چوں کہ بادشاہ کا پرانا ملازم تھا۔ اس لیے بادشاہ کو اس پر رحم آگیا۔ چناں چہ بچھڑا اور گائے واپس لے کر اُسے ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ تنال کو کیا خبر تھی کہ گائے کا دودھ پینے کی اُسے اتنی کڑی سزا ملے گی۔ وہ منہ لٹکائے گھر داخل ہوا، تو بیوی کے سوال کرنے پر اُس نے ساری بات بتا دی۔
    ”چلو تمہاری جان تو بچ گئی ہے، جان ہے تو جہان ہے، اب گھر کا نظام کیسے چلے گا؟ جاؤ کوئی ملازمت تلاش کرو۔”
    بیوی کی بات سن کر تنال نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”ایک ترکیب ہے میرے ذہن میں۔”
    ”پھر ایک ترکیب؟ تمہاری پہلی ترکیب تو ناکام ہوگئی۔”
    ”میری یہ ترکیب ناکام نہیں ہوگی، ابھی اور اسی وقت دُوسری ترکیب کو عملی شکل دیتا ہوں۔” تنال نے یہ کہہ کر زور زور سے چلّانا شروع کردیا۔ شور سن کر پڑوسی اس کے گھر آگئے۔
    ”میرے پیٹ میں شدید درد ہے، میرا زندہ رہنا مشکل ہے، مجھے بادشاہ سلامت کے پاس لے جاؤ، میں بچ نہیں پاؤں گا۔” تنال کی آہ و بکا سن کر پڑوسی اُسے بادشاہ کے دربار لے گئے۔ اُس کی یہ حالت دیکھ کر بادشاہ سلامت کو بھی ترس آگیا۔ تنال نے روتے ہوئے کہا۔
    ”سرکار! میرا آخری وقت ہے، میں آپ کے سامنے وصیّت لکھوانا چاہتا ہوں، میرے گھر میں دو صندوق ہیں۔ وہ اپنی تحویل میں لے لیں، میں مر گیا تو ڈاکو صندوق میں رکھی دولت لوٹ لیں گے۔ آپ دونوں صندوق لے لیں اور میری بیوی کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر دیں۔”
    بادشاہ چوں کہ رحم دل تھا، اُس نے تنال کی بات مان لی۔ بادشاہ نے سپاہی بھیج کر تنال کے گھر سے تالے لگے صندوق محل میں منگوا لیے۔ شاہی طبیب نے تنال کا معائنہ کیا، درد ہوتا تو ٹھیک ہوتا۔ چالاک اور لالچی تنال تو جھوٹ موٹ درد کا بہانہ بنا رہا تھا۔ بیوی برابر اس کا ساتھ دے رہی تھی۔ شاہی طبیب کے علاج سے تنال کو افاقہ ہوگیا، تو بادشاہ سلامت نے اُسے دربارہ میں بلایا اور صندوقوں میں رکھی دولت کے بارے میں سوال کیا۔ تنال تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ بادشاہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ صندوقوں میں اشرفیوں کے ساتھ کتنے ہیرے جواہرات ہیں۔ جب صندوقوں کے تالے توڑے گئے تو بادشاہ اُن میں پتھر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ تنال کی چالاکی جان گیا تھا۔
    تنال اپنی دُوسری ترکیب کے تحت قاضی کی عدالت میں انصاف کے لیے فریاد کررہا تھا۔ بادشاہ کو قاضی نے عدالت میں طلب کرلیا۔ بادشاہ نے سزا سے بچنے کے لیے صندوق اشرفیوں اور ہیرے جواہرات سے بھر کر تنال کے حوالے کردیے۔ یہی تو تنال چاہتا تھا۔ اُس کی دُوسری ترکیب کامیاب ہوگئی تھی۔ اشرفیوں سے بھرے صندوقوں کو حاصل کرکے تنال کے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ وہ اپنی کام یابی پر بے حد خوش تھا۔ اب اُسے کہیں ملازمت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ عقل مند کہتے ہیں کہ دولت جیسے حاصل کی جاتی ہے ویسے ہی چلی بھی جاتی ہے، یہی کچھ تنال کے ساتھ ہوا۔ ایک رات ڈاکو آئے اور دونوں صندوق اٹھا کر لے گئے۔ دولت جاتے ہی تنال کا دماغ اُلٹ گیا۔ اب وہ گلیوں اور بازاروں میں ہر وقت یہی کہتا پھرتا ہے۔ ”دُوسری ترکیب، دُوسری ترکیب” یہ کہتے ہوئے وہ کبھی ہنستا ہے اور کبھی رونے لگتا۔ دولت کا تعاقب کرنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ صدیوں سے براہوی لوگ آج بھی تنال کو لالچی آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں۔
    ٭…٭…٭

  • لوک کہانی | دُلّے کی وار

    لوک کہانی | دُلّے کی وار

    لوک کہانی
    دُلّے کی وار
    شازیہ ستار نایاب

    شازیہ ستار نایاب کا تعلق لاہور سے ہے۔ سیاسیات میں ماسٹرز کررکھا ہے۔ بچپن سے لکھنے کا آغاز کیا۔ پھول، نونہال، الف کتاب، کرن اور آنچل جیسے رسائل کے لیے لکھا۔ کچھ تعطل کے بعد 2016ء سے دوبارہ لکھنے کا آغاز کیا۔ الف نگر کے لیے مستقل لکھ رہی ہیں۔ بچوں اور بڑوں کے لیے بہت سی کہانیاں اور مضامین ان کے کریڈٹ پر ہیں۔

    ”زہراں کے ابّا! اس سال توزہراں کی شادی نہیں ہو سکتی۔” حمیدہ بی بی نے مایوسی کے عالم میں کہا۔
    ”ہاں ایسا ہی لگتا ہے نیک بخت! سوچا تھا اس بار فصل اچھی ہوئی ہے تو آرام سے دھی رانی کی شادی کر دیں گے مگر حکومتی کارندے اتنا زیادہ لگان لے گئے کہ کچھ بچا ہی نہیں۔” دینو نے مایوسی سے کہا۔
    ”میں تو لڑکے کی ماں کو شادی کی تاریخ لینے کا کہہ آئی تھی۔” حمیدہ روہانسی ہوئی۔
    دینو ابھی اسے تسلی دینے کے لیے الفاظ سوچ ہی رہا تھا کہ کپڑے کی ایک تھیلی اس کے قدموں میں آگری، اس کے ساتھ ہی دروازے پر دستک ہوئی۔ دینو نے ایک نظر تھیلی پر ڈالی پھر آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔
    ”سلام چاچا!” آنے والے نے کہا۔
    ”اوئے دُلّا بھٹی… یہ تھیلی تُو نے پھینکی ہے؟”
    ”ہاں! اوپر خدا ہے اور نیچے عبداللہ بھٹی۔ جب تک زندہ ہوں کسی بہن، بیٹی کا بیاہ نہیں رک سکتا۔ یہ اشرفیاں رکھ اور بیٹی بیاہنے کی تیاری کر۔” عبداللہ بھٹی نے کہا۔
    ”جیتا رہ میرا پتر! ہم غریبوں کا بھی خدا کے بعد تُو ہی سہارا ہے۔” دینو نے بے اختیار دعا دی اور عبداللہ بھٹی کو گلے لگا لیا۔
    ”رب سوہنا تجھے گرم ہوا سے بچائے۔ تجھے میری عمر بھی لگ جائے، تو نے ہم پہ بڑا احسان کیا ہے۔” حمیدہ بی بی نے خوش ہوکر کہا۔
    ”کوئی احسان نہیں ہے میرا۔ یہ تمہارا ہی پیسہ ہے جو مغلیہ حکومت لگان کے نام پر لے جاتی ہے۔ یہ مغل حکمران ہمیں اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں اور غلامی میرے باپ دادا نے کبھی قبول نہیں کی تو میں کیسے کر لوں؟” عبداللہ بھٹی کی آنکھوں میں خون اُتر آیا۔ اپنے باپ اور دادا کے چہرے اُس کی نگاہوں میں گھوم گئے۔
    ”چلتا ہوں چاچا! بیاہ پر آؤں گا۔”
    ”ضرور پتر! رب راکھا۔” دینو نے کہا۔
    ”رب راکھا۔” عبداللہ بھٹی نے کہا اور گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔
    عبداللہ تو چلا گیا لیکن بوڑھے دینو کی نگاہوں کے سامنے ماضی کا منظر گھوم گیا، جب ساندل بار (پنڈی بھٹیاں کا قریبی علاقہ) میں صدیوں سے بھٹی خاندان کی حکومت تھی۔ تب مغلوں نے ہندوستان پر حملہ کیا تو اسی علاقے کو اپنی گزر گاہ بنایا۔ مغل لشکر یہاں لوٹ مار کرتے فصلوں اور چرا گاہوں کو اجاڑتے چلے گئے۔ مزاحمت کرنے والوں کو قتل کردیتے، کھڑی فصلوں کو آگ لگا دیتے۔ ایسی صورت حال یہاں کے لوگوں کے لیے نا قابل برداشت تھی۔ پھر لوگ لگان (ٹیکس) کے ظالمانہ قوانین سے بھی تنگ تھے۔ تب سردار ساندل بھٹی نے اپنے جوان منظم کر کے مغلیہ تسلط کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیا۔ ساندل بھٹی کا بیٹا فرید بھٹی بھی اس کے ساتھ تھا۔ اکبر بادشاہ نے ان کے خلاف لشکر کشی کی اور قلعہ فرید تباہ کرکے دونوں کو گرفتار کیا اور اس کے بعد انہیں پھانسی دے دی۔ جب عبداللہ جوان ہوا تو اسے اُس کے باپ دادا کی شہادت کے متعلق بتایا گیا۔ وہ بھی اپنے باپ اور دادا کی طرح بہادر تھا۔ آزادی سے محبت اس کے لہو میں دوڑ رہی تھی۔

    پنڈی بھٹیاں کے قریبی گاؤں کوٹ نکہ میں ایک بڑا ظالم زمیندار رہا کرتا تھا۔ تمام لوگ اُس کے ڈر سے کانپتے تھے۔ ایک دفعہ کسی غریب ہندو مُول چند کی خوب صورت لڑکی سُندر مندریے پر اُس کی نگاہ پڑ گئی ۔ زمیندار نے لڑکی کے باپ سے اُس کا ہاتھ مانگا۔ مُول چند خوف کے مارے انکار نہ کرسکتا تھا مگر غیر مذہب میں وہ لڑکی بیاہنے کے لیے تیار نہ تھا۔ چناں چہ وہ بھاگ کر پنڈی بھٹیاں میں دُلّا بھٹی کے پاس آگیا اور سارا ماجرا سنایا۔ ایک منصوبہ بندی کے تحت دُلّا بھٹی نے مُول چند کو کہا کہ وہ زمیندار کو بیٹی کے رشتہ کے لیے ہاں کرکے تاریخ مقرر کردے۔
    مُول چند نے ایسا ہی کیا۔ دوسری طرف دُلاّ بھٹی نے سانگلہ میں اپنے ایک ہندو دوست کے لڑکے سے سُندر مندریے کا رشتہ طے کردیا اور اُسے شادی کی وہی تاریخ دی جو مُول چند نے کوٹ نکہ کے زمیندار کو دی تھی۔ زمیندار کی برات سج دھج کر مُول چند کے دروازے تک پہنچی ہی تھی کہ اُدھر دُلاّ بھٹی دوسری برات لے کر آگیا۔ دُلّا بھٹی کے شیر جوانوں نے زمیندار کو بڑی مضبوطی سے پکڑ کر نیچے گرا لیا اور اُوپر سے جُوتے برسانے شروع کردیے۔ وہ بھی یوں کہ جیسے بادلوں میں بجلی کڑکتی ہے۔ معافی مانگنے پر زمیندار کی خلاصی ہوئی اور اسے سندر مندریے کو بیٹی کہنا پڑا۔ اس کے بعد سُندر مندریے کی شادی ہندو لڑکے سے کردی گئی اور شادی کی رسم میں دُلّا بھٹی خود سُندر مندریے کے باپ کی حیثیت سے شریک ہوا۔ اس واقعہ کے بعد دُلاّ بھٹی مظلوم عوام کا لیڈر بن گیا۔
    ہندوستان میں اس وقت تک شہنشاہ اکبر ایک نئے دین ”دینِ الٰہی” کی بنیاد رکھ چکا تھا جسے مسلمانوں نے سخت نا پسند کیا۔ دینِ الٰہی کی نا پسندیدگی، آزادی کی تڑپ اور مظلوم کسانوں پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر بے شمار لوگ عبداللہ بھٹی کے گرد اکٹھے ہو گئے۔ ارد گرد کی ریاستوں کے حاکم بھی اُس کے ساتھ مل گئے۔ والد فرید بھٹی اور دادا ساندل بھٹی کے بعد عبداللہ بھٹی ساندل بار کی سرحدوں کو وسیع کرتا چلا گیا۔
    عبداللہ بھٹی کی بڑھتی ہوئی طاقت شہنشاہ اکبر کے لیے مستقل خطرہ بن گئی تھی۔ مغربی پنجاب کے لوگ اس کے ساتھ تھے۔ وہ مغلیہ افواج کو لوٹتا اور مال غریبوں میں تقسیم کر دیتا۔ وہ شاہی نوابوں کے لیے ایک مسئلہ بن گیا۔ اس کی وجہ سے مغلیہ سلطنت کے دبدبے میں کمی آرہی تھی۔ چناں چہ شہنشاہ اکبر اعظم کو خود لاہور آنا پڑا۔ دوسری طرف عبداللہ بھٹی کو بھی مغلیہ حکومت کے اقدامات کی خبر ہو گئی۔ وہ بھی اُن کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔
    ایک دن عبداللہ کو اطلاع ملی کہ ساندل بار کے شمالی علاقے میں ایک قافلہ مغلوں کے لیے رسد لے کر جا رہا ہے۔ عبداللہ بھٹی اور اس کے ساتھی تیزی سے سفر کرتے ہوئے رسد کے قافلے تک پہنچ گئے۔ قافلہ تھکا ہوا تھا۔ عبداللہ اور اس کے ساتھیوں نے بارہ ہزار کی نفری کے اس قافلے پر اتنی شدت سے حملہ کیا کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے تتر بتر ہوگیا۔ قافلے کے سردار کا سر کاٹ کر عبداللہ بھٹی نے اکبر بادشاہ کے درباری اور ایک بااثر شخص کو اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ یہ بادشاہ کے لیے دُلّا بھٹی کی طرف سے تحفہ ہے۔ اگر ساندل بار میں لگان کے لیے کسی کو بھیجا یا کو ئی رسد کا قافلہ بغیر اجازت یہاں سے گزرا تو اس کا بھی یہی حشر ہو گا۔
    یہ پیغام پا کر بادشاہ غصے میں آگ بگولا ہو گیا اور بولا: ”کون سورما ہے جو ا س کو ہمارے دربار میں پیش کرے۔” اس وقت کے

  • سنی سنائی لوک کہانی | بوتل والا جن

    سنی سنائی لوک کہانی | بوتل والا جن

    سنی سنائی لوک کہانی
    بوتل والا جن
    علی اکمل تصور

    قصور سے تعلق رکھنے والے جناب علی اکمل تصور کی پہلی کہانی 1990ء میں شائع ہوئی۔ ایک بہترین کہانی کار کے طور پر انہوں نے بچوں کا ادب میں اپنا لوہا منوایا۔ 1993ء میں دعوة اکیڈمی شعبہ بچوں کا ادب سے بہترین ادیب کا ایوارڈ حاصل کیا۔ ملک بھر کے بڑے رسائل میں ان کی کہانیاں نئی نسل کی ادبی و اخلاقی تربیت کر رہی ہیں۔ الف نگر کے لیے یہ ان کی پہلی تحریر ہے۔
    تقریباً دو سو سال پہلے کی بات ہے۔ کسی گاؤں میں ایک ہندو چرواہا رام داس رہتا تھا۔وہ بکریاں پال کر گزر بسر کرتا۔ بے چارا تنگ دستی کا مارا ہر وقت سوچوں میں ڈوبا رہتا۔ اس دن بھی وہ کچھ سوچ رہا تھا۔ اس کے آگے آگے بکریاں اٹکھیلیاں کرتے چل رہی تھیں۔ اِن کی منزل گاؤں سے دور ایک گھنا جنگل تھا۔ جہاں بکریوں کو کھانے کے لیے چارا مل جاتا تھا۔ رام داس کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ اپنی بیوی کا علاج کروانے کے لیے اس نے ساہوکار سے قرض لیا پھر ساہوکار نے اُسے سود کے ذریعے اپنے شکنجے میں کس لیا تھا۔ اب وہ رام داس سے اُس کی بکریوں کا ریوڑ چھیننا چاہتا تھا۔
    ”میں بنیے کے قرض سے نجات کیسے حاصل کروں؟” وہ یہی بات سوچ رہا تھا کہ جنگل آگیا۔ سورج سر پر پہنچ چکا تھا۔ وہ ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گیا۔ اس کی بکریاں اِدھر اُدھر گھوم پھر کر گھاس کھا رہی تھیں۔ اچانک رام داس نے سورج کی روشنی میں چمکتی ہوئی ایک چیز دیکھی۔
    ”یہ کیا ہوسکتا ہے؟” تجسس کے ساتھ وہ اس کی طرف لپکا۔ یہ جادوئی بوتل تھی جس میں جن قید تھا۔ خوشی سے اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
    ”اگر اس میں سے جن نکل آئے تو وارے نیارے ہوجائیں۔” اُس کے دل میں امید جاگی۔ اس نے جیسے ہی بوتل کا ڈھکن کھولا، اچانک اس سے دھواں نکلنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دھویں نے ایک بھیانک شکل والے جن کی صورت اختیار کرلی۔ خوشی سے رام داس ناچنے لگا۔
    ”تو کیا میں نے اپنے بچپن میں جنوںوالی جو کہانیاں سنی تھیں وہ سب سچی تھیں؟” رام داس سوچنے لگا۔ اب وہ منتظر تھا کہ جن کب اس کی خواہشات پوری کرتا ہے، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ جن تو اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔
    ”اے نادان آدمی! میری بات سن۔” جن کڑکتے لہجے میں بولا۔ اس کی آواز ایسی خوف ناک تھی کہ رام داس کی گھگیبندھ گئی۔ اس کے باوجود وہ ہمت کرکے بولا: ”تمیز سے بات کر، میں تیرا مالک ہوں۔”
    ”مالک… ہاہاہا۔ احمق آدمی میں بوتل کا قیدی ہوں۔ تم نے اپنی شامت کو خود آواز دی ہے، مجھے بھوک لگی ہے، میں کیا کروں؟ کس کو کھاؤں؟ ہاں میں تمہیں کھاؤں گا۔ آدم بُو… آدم بُو۔”جن چلّایا۔
    اُس کی باتیں سن کر رام داس کو چکر آگیا۔ ”یہ اچھی بات نہیں ہے، میں نے تمہیں قید سے آزاد کیا ہے۔ تمہارے ساتھ نیکی کی ہے اور تم میرے ساتھ زیادتی کرنا چاہتے ہو؟” رام داس نے کہا۔
    ”نیکی کیا ہے؟ زیادتی کیا ہے؟ میں نہیں جانتا۔ میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ مجھے بھوک لگی ہے اور اب میں تمہیں کھا کر اپنی بھوک مٹاؤں گا۔” جن بولا۔
    ”کیا تم نیکی اور بدی کا فلسفہ نہیں جانتے؟ چلو میرے ساتھ، پہلے ہم کسی منصف سے فیصلہ لیتے ہیں کہ نیکی کا بدلہ بدی سے نہیں دیا جاتا۔” رام داس نے کہا۔ ”ٹھیک ہے لیکن اگر فیصلہ میرے حق میں ہوگیا، تو میں تمہیں کھا جاؤں گا۔” جن کی بات سن کر رام داس نے سکھ کا سانس لیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ فیصلہ اُس کے حق میں ہوگا اور یوں اُس کی جان بچ جائے گی۔ رام داس کو اپنی جان کے لالے پڑے تھے وہ بکریوں کا کیا کرتا۔ اس نے اپنی بکریاں جنگل میں چھوڑیں اور ایک جانب چل پڑا۔ جن اُس کے سر پر ہوا میں پرواز کررہا تھا۔ چلتے چلتے سامنے ایک بلند پہاڑ آگیا۔ پہاڑ دیکھ کر رام داس رُک گیا۔ اب اس نے بلند آواز میں پہاڑ کو آواز دی: ”اے پہاڑ! ہمارے درمیان نیکی اور بدی کا فیصلہ کر دو۔”

    پہاڑ نے فوراً ہی جواب دیا۔”نیکی اور بدی کا فیصلہ؟ آخر بات کیا ہے؟”
    رام داس بولا: ”یہ ظالم جن بوتل میں قید تھا۔ میں نے اِسے آزادی دلائی اور اب یہ مجھے ہی کھانا چاہتا ہے۔ کیا نیکی اور بدی برابر ہوسکتے ہیں؟” رام داس کی بات سن کر پہاڑ نے ٹھنڈی آہ بھری اور بولا: ”تمہیں کیا بتاؤں دوست! میں تو خود بہت دکھی ہوں۔ قدرت نے مجھے طاقت دی اور میں نے اس زمین کو سنبھال رکھا ہے، مگر یہ انسان میری جڑیں کھود رہے ہیں، سرنگیں بنا رہے ہیں۔ وہ میرے پتھروں سے اپنے مکانات تعمیر کرتے ہیں ، مجھ میں کوئلے اور ہیرے تلاش کررہے ہیں۔ اگر یہ سب یونہی چلتا رہا تو جلدی ہی میں زمین بوس ہوجاؤں گا، میں بہت دکھی ہوں۔ میں منصف بن کر تمہارا فیصلہ نہیں کرسکتا، جاؤ کوئی اور منصف ڈھونڈ لو۔” پہاڑ کی بات سن کر رام داس بوجھل دل کے ساتھ آگے روانہ ہوا۔ تھوڑی دور جاکر اُسے ایک درخت نظر آیا۔ یہ بوڑھا درخت تھا۔
    ”اے درخت! ہمارے درمیان نیکی اور بدی کا فیصلہ کر دو۔”اُس نے التجا کی۔
    ”نیکی اور بدی کا فیصلہ؟ ہوا کیا ہے؟” درخت نے پوچھا۔
    ”یہ جن بوتل میں قید تھا۔ میں نے اِسے آزادی دلائی اور اب یہ مجھے ہی کھانا چاہتا ہے، کیا نیکی اور بدی برابر ہو سکتے ہیں؟” رام داس کی بات سن کر درخت نے سرد آہ بھری۔
    ”میں تمہیں کیا بتاؤں دوست! میں تو خود بہت دکھی ہوں، قدرت نے مجھے بہت خاص بنایا ہے۔ میں پھل دیتا ہوں اور سایہ بھی، مگر اس کے باوجود انسان میرے در پے ہے۔ یہ پھل لینے کے لیے مجھے پتھر مارتے ہیں۔ کلہاڑی سے میری شاخیں کاٹتے ہیں۔ مجھے بہت درد ہوتا ہے۔ اب تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ کسی روز انسان آرے سے مجھے کاٹ پھنکیں گے۔ میں بہت دکھی ہوں۔ میں منصف بن کر تمہارا فیصلہ نہیں کرسکتا، جاؤ کوئی اور منصف ڈھونڈ لو۔” درخت کی باتیں سن کر رام داس گھبرا گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو اُتر آئے۔
    ”تم خود کو مظلوم سمجھتے ہو؟ دراصل اس زمین پر سب سے بڑے ظالم تم لوگ خود ہی ہو۔” جن خوش ہوکر قہقہے لگا رہا تھا۔
    ”امید ابھی باقی ہے ظالم جن! چلو میرے ساتھ۔” رام داس چل پڑا۔ اب اُس کی منزل مومن خان کے کھیت تھے۔ مومن خان ایک کاشت کار تھا۔ جب رام داس، مومن خان کے کھیتوں میں پہنچا، تو دیکھا۔ مومن خان بیلوں کی مدد سے کھیت میں ہل چلا رہا تھا۔
    ”مومن خان!” رام داس نے اُسے آواز دی۔ وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر رام داس کے پاس چلا آیا۔

  • گوادر کی لوک کہانی (سنی سنائی)

    گوادر کی لوک کہانی (سنی سنائی)

    گوادر کی لوک کہانی (سنی سنائی)
    انوکھا جزیرہ
    مصباح ناز

    جہلم سے تعلق رکھنے والی مصباح ناز نے بی کام کررکھا ہے۔ لکھنے پڑھنے کا جنون بچپن ہی سے تھا۔ پہلی کہانی 2018ء میں الف کتاب پورٹل پر شائع ہوئی۔ اس سے مزید لکھنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ بچوں کے لیے ”انوکھا جزیرہ” یقینا ان کے روشن ادبی مستقبل کی نوید ہے۔
    آج کل پاکستان کے ساحلی شہر گوادر کے پوری دنیا میں چرچے ہیں۔ برسوں سے اس شہر میں رہنے والے ماہی گیر جانتے ہیں کہ یہاں سمندر کے بیچوں بیچ کئی چھوٹے چھوٹے جزیرے موجود ہیں۔ اسی علاقے کی ایک لوک داستان جسے آج بھی مقامی لوگ بڑے دل چسپ انداز میں سناتے ہیںکہ برسوں پہلے یہاں ساحل کے پاس جوہن دار نام کا ایک مچھیرا رہتا تھا۔ وہ اپنی گزر بسر کے لیے جال بُنتا، مچھلیاں پکڑتا، پھر انہیں بیچ کر پیسے کماتا تھا۔
    ایک روز جوہن دار نے دوسرے مچھیروںکے ہمراہ گہرے سمندر میں جال لگانے کا فیصلہ کیا، چناں چہ وہ سبھی ایک کشتی میں سوار ہوئے پھر کچھ دیر بعد کشتی سمندر کی لہروں پر سفر کرتی ہوئی گہرے پانی کی طرف جانے لگی ۔چلتے چلتے وہ بہت دور پہنچ گئے۔ہر طرف پانی ہی پانی تھا ۔کشتی میں اس وقت جوہن دار سمیت پانچ لوگ سوار تھے ۔سیر کرتے اور مچھلیاں پکڑتے شام کا وقت ہوا تو اچانک ایک مچھیرے نے بتایا کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہونے والا ہے۔
    ”اوہ ! اب کیا ہوگا؟میرے خیا ل میں ہمیں واپس چلنا چاہیے ۔”دوسرے مچھیرے نے کہا۔ اچانک جوہن دار چِلّااُٹھا:’دوستو! سامنے دیکھو ،وہ کیا ہے ؟”
    سب نے گہرے پانی کی طرف نگاہ دوڑائی تو انہیں ایک نشان سا نظر آیا ۔ شایدسامنے کو ئی چھوٹا سا جزیرہ تھا۔
    ”میرے خیال میں ہمیں اسی طرف چلنا چاہیے۔” یہ کہہ کر جوہن دار نے کشتی کا رخ جزیرے کی جانب کردیا ۔وہاں پہنچتے ہی جوہن دار نے دوستوں کی مدد سے کشتی کا لنگر ڈال دیا۔ اس جزیرے پر پہلے کبھی اِن کا گزر نہیں ہوا تھا۔اسی لیے وہ ذرا محتاط اندا ز میںقدم اٹھاتے آگے بڑھنے لگے۔ ابھی انہوں نے جزیرے پر کھانے پینے کے سامان کی تلاش شروع ہی کی تھی کہ اچانک وہاں عجیب شکلوں والے کچھ لوگ آئے اورانہیں زبردستی پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔
    جوہن اورباقی مچھیرے اس ناگہانی آفت سے گھبرا گئے ۔ان کی آنکھیں بند کرکے انہیں ایک ویران جگہ پر لے جایا گیا۔کچھ دیر بعدوہ سبھی ایک غار میں قید تھے۔ جب ان کی آنکھوں سے پٹی ہٹائی گئی تو خود کو اس خوف ناک جگہ پردیکھ کر وہ پریشان ہوگئے۔ سامنے اونچی جگہ پر ڈرائونی شکل والاایک آدمی بیٹھا تھا۔ اس کا نام نپکو تھا۔ نپکو اپنا تازہ شکار دیکھ کرہولے سے مسکرا رہا تھا۔
    ”تم کون لوگ ہو ؟اور ہم سے کیا چاہتے ہو؟” جوہن دار نے گھبرا کر پوچھا۔

    ”یہ جزیرہ ہمارا ہے اور ہماری اجازت کے بغیر یہاں کوئی پرندہ بھی پَر نہیں مار سکتا، تم لوگوں نے ہم سے پوچھے بغیر یہاں کشتی کیوں روکی؟ اسی لیے میرے آدمی تمہیں یہاں لے آئے ہیں۔” نپکو نے رعب دار آواز میں کہا۔
    ”مگر ہمیں معلوم نہ تھا،آپ اگر ہمیں معاف کردوتو ہم فوراََ یہاں سے چلے جاتے ہیں۔” جوہن نے درخواست کی لیکن نپکو نہ مانا ،وہ بہت بے رحم اور ظالم جادوگر تھا۔ اس نے فوراً کوئی منتر پڑھا پھر جوہن کے سوا باقی تمام مچھیروں کو مٹی کا پتلا بنا دیا۔ یہ دیکھ کر جوہن مزیدخوف زدہ ہوگیا۔ نپکواب جوہن سے مخاطب ہوا:
    ”سنو!تم مجھے بہادر لگتے ہو، میرے پاس تمہارے لیے ایک کام ہے، اگر تم نے میرا وہ کام کردیا تو میں تمہارے دوستوں کو پھر سے اصل صورت میں لے آئوں گا،صرف یہی نہیں،بلکہ تم لوگو ںکو آزاد بھی کردوں گا۔” نپکو نے کہا۔
    ”اوہ!کیسا کام؟” جوہن دار نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
    ”ہمارے دیوتا کو تمہارے دیس کے ایک درویش عامل نے مٹی کا پتلا بنا دیا ہے، دیوتا ہمیں ایک مفید قسم کا جادو سکھا رہے تھے مگر عامل کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ اس نے اپنے عمل سے ہمارے دیوتا کو مٹی کا بنا دیا۔کئی سال بعد وہ عامل مرگیا اور مرتے وقت اس نے یہ سارا عمل اپنی بیٹی کو سکھا دیا تھا ۔ اب اس کی بیٹی یہ سب کچھ جانتی ہے۔ اگر تم اُسے اغوا کرکے یہاں لے آئو تو وہ ہمارے دیوتا کو ٹھیک کرسکتی ہے۔” نپکو نے تفصیل بتائی۔
    جوہن کے پاس اپنے دوست مچھیروں کی زندگی بچانے کا کوئی اور راستہ نہ تھا، اسی لیے وہ مان گیا۔ مشن پر جانے سے پہلے نپکو نے جوہن کو ایک جادوئی ہار دیا۔
    ”لو،یہ رکھ لو، اگرتم یہ ہار کسی طرح عامل کی بیٹی کے گلے میں پہنا دو، تو وہ اسی وقت تمہاری قید میںآجائے گی۔” نپکو نے اسے ہار دیتے ہوئے کہا۔
    جوہن ہار لیے سفر پر روانہ ہوگیا۔ چلتے چلتے وہ اس بستی میں پہنچ گیا جہاں عامل کی بیٹی رہتی تھی۔ اس نے لوگوں سے اُس عامل کے گھر کا پتا پوچھا اور کچھ ہی دیر بعد اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ دروازے پر دستک دی تو ایک لڑکی نے دروازہ کھولا۔ سامنے ایک مسافر کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ جوہن سے کچھ پوچھتی ،وہ خود ہی بول پڑا:
    ”اے نیک دل لڑکی !میں مسافر ہوں اورسفر کرکے کافی تھک گیا ہوں۔مجھے پینے کے لیے پانی چاہیے۔” جوہن کی معصوم شکل پر لڑکی کو رحم آیا۔ اس نے جوہن کو دروازے پر ہی رکنے کاکہا اور تھوڑی دیر بعد اس کے لیے پانی لے آئی۔
    ”نام کیا ہے تمہارا ؟” لڑکی نے اس سے پوچھا۔
    ”جوہن… جوہن نام ہے میرا، یہ ساتھ والے شہر سے آیا ہوں۔”
    ”کیا کرنے آئے یہاں؟” لڑکی نے سپاٹ لہجے میںپوچھا۔
    ”تت… تاجر ہوں۔” جوہن نے فوراََ بات بنائی۔

  • زندگی کا سانس |سو لفظی کہانی

    زندگی کا سانس |سو لفظی کہانی

    زندگی کا سانس
    تنزیلہ احمد

    کافی دیر سے اپنی جگہ ساکت وہ آنکھوں میں افسردگی سموئے ہوئے تھی۔
    فراک کے کونے مسلتی وہ اپنے باپ کو شکست خوردہ حالت میں کیاری کے پاس بیٹھے دیکھ رہی تھی۔ ان کی زندگیوں کا آج ناخوش گوار ترین دن تھا۔
    دوپہر کو اس کا نومولود بھائی ہمیشہ کے لیے ان کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔ اس کا معصوم سا دل سناٹوں کے زیر اثر تھا۔
    ننھا دماغ یہ سمجھانے میں ناکام رہا کہ کیسے وہ اپنے باپ کی دلجوئی کرے۔
    اچانک باپ کی نظر اس کی جانب اُٹھی۔ افسردہ آنکھوں میں چمک کوندی۔
    یہاں زندگی اب بھی سانس لے رہی تھی۔
    ٭…٭…٭

  • زندگی | سو لفظی کہانی

    زندگی | سو لفظی کہانی

    زندگی
    عشوارانا

    ”سلام صاحب…” صاحب نے سرسری سا سر ہلایا۔
    ”وہ… صاحب… تنخواہ…” مالی بابا بات کرنے کو آگے بڑھے۔
    صاحب نے ہاتھ ہلایا کہ دے دیں گے۔
    مالی بابا کہہ نہ سکے کہ شدید ضرورت ہے، پہلے ہی ہفتہ بھر دیر ہو گئی ہے۔
    ”ہاں سنو! پودوں کو وقت پہ پانی دے دینا،
    ان کی حفاظت اور دیکھ بھال نہ ہو تو زندہ نہیں رہتے۔”
    صاحب دروازہ کھول کرگاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولے۔
    ”غریب کو بھی خوراک کا پیسہ نہ ملے یا بھوکا سوئے تو وہ بھی زندہ نہیں رہتا۔”
    مالی بابا نے باہر نکلتی گاڑی کو دیکھتے ہوئے حسرت سے سوچا۔
    ٭…٭…٭

  • تضاد | سو لفظی کہانی

    تضاد | سو لفظی کہانی

    سو لفظی کہانی

    تضاد
    مدثرہ عندلیب
    باہر صحن میں کھیلتے اور شور مچاتے بچے کھانے پینے کی چیزوں کے ریپر بھی خوب بکھیر رہے تھے…
    دس سالہ نعمان چیختی آواز کے ساتھ… باہر صحن میں کھیلتے بچوں کو ڈانٹ رہا تھا۔
    برا بھلا کہہ رہا تھا… اتنا گند کیوں مچا رکھا ہے… اتنا شور کیوں کررہے ہو؟
    نعمان کی اونچی آواز سن کر… اس کے ابو کمرے سے باہرنکلے…
    نعمان کے بازو کوزور سے مروڑا… اور بری طرح اسے جھنجھوڑتے ہوئے چیخے:
    ”کیا شور مچا رکھا ہے نعمان تم نے… کیابچوں کو اس طرح ڈانٹتے ہیں؟”

    ٭…٭…٭