Author: misbah116@hotmail.com

  • اشکِ وفا — ماریہ نصیر (پہلا حصّہ)

    اشکِ وفا — ماریہ نصیر (پہلا حصّہ)

    چِڑیوں کی چہچہاہٹ اور پرندوں کے سُریلے گیتوں نے ایک نئی صبح کا آغاز کیا ۔کل رات کی موسلادھار بارش کے بعد موسم نہایت خوشگوار ہوگیا تھا۔ سورج کی کِرنیں اپنی روشنی ہر سو پھیلا رہی تھیں۔ دِسمبر کی سرد ہوائیں ایک خوبصورت احساس کی طرح ہر شے کو حسین اِمتزاج بخش رہی تھیں۔ لان میں لگے لہلہاتے پھول اور پتّے مسکراکر اپنے نکھرنے کی نوید دے رہے تھے۔
    موسم میں خُنکی شامل ہو گئی تھی۔ کھوئی کھوئی سی عرشیہ اپنے ٹیرس پہ کھڑی کسی گہری سوچ میں گُم تھی۔اپنے شانے پرکسی کے ہاتھ کا دباؤ محسوس کرکے وہ چونکی۔
    ‘کہاں کھوئی ہوئی ہو کن سوچوں میں گم ہو؟’ وہ اُسکے چہرے کو بغور دیکھتا ہوا بولا
    ‘ارے آپ کب آئے ؟ ناشتا کرلیا کیا؟’ عرشیہ نے پردے برابر کرتے ہوئے پوچھا۔ وہ ابھی ابھی جوگنگ کرکے واپس لوٹا تھا
    ‘ ہم ناشتا آپ کے بغیر کرلیتے؟’ اُس نے اُسکے بالوں کو نرمی سے چھوا
    ‘میں تو بس موسم کا جائزہ لینے یہاں آگئی تھی کتنا خوبصورت موسم ہورہا ہے نا !! ‘ کِھلی ہوئی مسکراہٹ عرشیہ کے چہرے سے ظاہر تھی۔ صبح کی مدھم روشنی، پھولوں کی دھیمی خوشبو اور گیت گاتے پنچھی اُسے اپنی کمزوری لگا کرتے تھے۔اُسے ہمیشہ سے ایسا موسم بہت دلکش لگتا تھا۔
    ‘تو کیا خیال ہے پھر؟ کیوں نہ ایسے خوبصورت موسم سے لُطف اُٹھائیں اور کہیں ایسی جگہ چلیں جہاں بس میں اور تم۔۔۔۔’
    ‘شارق۔۔!! میں آپکی شرارتیں خوب سمجھتی ہوں، موسم کا مزہ بھی لیںگے فالحال تو آپ ڈائننگ ٹیبل پر چلیںامّی ہمارا انتظار کررہی ہونگی، آپ نے مجھے بھی باتوں میں لگا لیا۔’
    ‘جو حُکم ملکئہِ عالیہ کا۔’ شارق نے سر کو ہلکا سا خم دیا اور محبت سے اُسکا ہاتھ تھام کر باہر کی جانب بڑھ گیا
    ************************

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    سُمیر یزدانی اور حیدر یزدانی دونوں بھائی تھے۔ دونوں ‘یزدانی پیلیس’ میں نیچے اوپر کے پورشنز میںرہتے تھے ۔ سُمیر یزدانی، حیدر کے بڑے بھائی تھے اور وہ اوپر والے پورشن میںاپنی بیوی زُنیرہ اور بیٹی عرشیہ کے ساتھ رہتے تھے۔ اُنکی تین ہی بیٹیاں تھیں جسمیں عرشیہ کا نمبر سب سے آخری تھا۔ وہ اُنکی سب سے چھوٹی اورلاڈلی بیٹی تھی۔ اُنکی بڑی دونوں بیٹیاں آئزہ اور مہوش شادیوں کے بعدکینیڈا میںمُقیم تھیں۔ جبکہ حیدر یزدانی نیچے والے پورشن میںاپنی بیوی انیلہ اور بیٹے شارق کے ساتھ رہتے تھے۔ شارق اُنکا اِکلوتاسپوت تھا۔ دونوں گھرانوں کے آپس میں بہت اچھے تعلُقات تھے۔ اِن سب نے اپنا آشیانہ بہت خوبصورتی اورڈھیر ساری مُحبتوں سے سجایا تھا۔اِنکا شُمار نہایت سُلجھے ہوئے گھرانوں میں ہوتا تھا۔
    عرشیہ اور شارق ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم تھے۔اُن دونوں کی مُحبت کسی سے چُھپی ہوئی نہیں تھی۔ وہ دونوں بچپن سے ساتھ ساتھ ہی رہے تھے اور ہم عُمر ہونے کے باعث دونوں کی اسکولنگ بھی ایک ہی جگہ سے ہوئی تھی۔ دونوں نے ساتھ ہی ایم۔بی۔اے کیا تھا۔وہ دونوں زندگی کے ہر موڑ پر ایک دوجے کے سنگ رہے تھے۔
    شارق کے ایم۔بی۔اے کرنے کے دوران ایک دِن اچانک حیدرصاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا جسے وہ برداشت نہ کر پائے اور اِس دارِ فانی سے رُخصت ہوگئے۔ وہ اپنی زندگی میں ہی شارق اور عرشیہ کی منگنی کر گئے تھے۔ اُنکا سارا بزنس اب شارق بخوبی سنبھال رہا تھا۔ کُچھ عرصے بعد دونوں کی شادی کردی گئی اور اب اُنکی شادی کو ایک ماہ ہو چلا تھا۔ عرشیہ شارق کے ساتھ بہت خوش تھی، یہ زندگی کا وہ خواب تھا جو دونوں نے ساتھ مِل کر دیکھا تھا۔لیکن کبھی کبھی نجانے کونسی ایسی بات تھی جو عرشیہ کو ایک انجانی سی پریشانی میں مُبتلاکر دیتی تھی۔ شارق محسوس کرتا تھا لیکن وہ چاہتا تھا کہ عرشیہ خود اُسے اپنی پریشانی بتائے۔
    ************************
    عرشیہ مُلازمہ سے سارے کام کرواکراپنے کمرے میں آگئی تھی۔آٹھ بجنے والے تھے، شارق کے آفس سے آنے کا ٹائم ہو رہا تھا۔ وہ تّیار ہو کر کپڑے طے کرنے کی غرض سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
    کچھ ہی دیر میں دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا ۔ اُسے کام میں مصروف دیکھ کر شارق کو شرارت سوجھی۔ آج اُس نے شارق کا پسندیدہ لِباس زیب تن کیا تھا۔ سُرخ و سفید فراک اور پاجامے میں ہلکے کام کا سوٹ پہنے وہ پہلے سے بھی زیادہ نِکھری نِکھری اور دلکش لگ رہی تھی۔ بالوں کو پُشت پر کُھلا چھوڑ دیا تھا۔
    ‘السّلامُ علیکُم’ عرشیہ نے اُسے آتا دیکھ کر سلام میں پہل کی
    ‘وعلیکُم السّلام! کیسے مِزاج ہیں ہماری مِسز کے؟ اور یہ کیا کام لیکر بیٹھی ہوئی ہو، مُلازمہ ہے نا اِن سب کاموں کیلئے۔’ شارق نے اُسکے ہاتھ میں پکڑی شرٹ لیکر سائیڈ میں پھینک دی۔
    ‘ارے! کیا کرتے ہیں شارق میں نے ابھی طے کی تھی وہ شرٹ۔ مُجھے آپکے کام کرنا اچھا لگتا ہے اور اگر سب کام مُلازمہ ہی کریگی تو پھر میں کیا کرونگی؟’ عرشیہ نے سارے کپڑے سائیڈ پر کردئیے جانتی تھی کہ اب شارق اُسے کوئی کام نہیں کرنے دیگا۔
    ‘تُم صرف مجھے یاد کیا کرو جیسے ہر وقت میں تُمھیں کرتا ہوں۔’ شارق نے اُسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر لبوں سے لگا لیا
    ‘ہیں! آپ مُجھے ہر وقت یاد کرتے ہیں آفس میں تو پھرکام کون کرتا ہے ؟’ عرشیہ نے اُسے چھیڑا۔ وہ اُسکی گود میں سر رکھ کر نیم دراز ہوگیا اور بولا
    ‘کام کون دیوانہ کرنا چاہتا ہے، ہم تو بس تُمھیں اور صرف تُمھیں یاد کرنا چاہتے ہیں۔’
    ‘پر اِن یادوں سے پیٹ تو نہیں بھرنے والا نا! چلیں مُجھے بہت بھوک لگی ہے۔آپ چینج کرلیں پھر کھانا کھاتے ہیں۔ ‘ عرشیہ اُسکی شرارتیں سمجھ گئی تھی تبھی اُٹھتے ہوئے بولی۔
    ‘یار کبھی تو رومانٹِک ہونے دیا کرو’ اُسنے مُنہ بناکر کہا جس پر عرشیہ کِھلکِھلاکر ہنس پڑی
    ‘اُس کیلئے ساری عُمر پڑی ہے، چلیں چلیں۔ مُجھے پتا ہے آپکو کتنی بھوک لگی ہوئی ہے ۔ آج میں نے آپکی پسندیدہ ڈِشز بنائی ہیں بِریانی اور شامی کباب۔’ وہ جانتی تھی کہ شارق بھوک کا کتنا کچّا ہے اِس لئے اُسے کھانے کا لالچ دیکر بہلانا چاہا پر شارق پر کوئی اثر نہ ہوا اُلٹا وہ مُنہ بناتا ہوا بولا۔
    ‘ہونہہ!شامی کباب! مُجھے نہیں کھانے!’ اُسکا موڈ سخت آف ہو چُکا تھا
    ‘اچھا نا! اب ناراض تو نہ ہو پلیز۔ اِتنے دل سے بنایا ہے میں نے سب کُچھ آپ کیلئے۔’ عرشیہ نے دھیرے سے اُسکے بال بکھیرے اور وہ ہمیشہ کی طرح اُسکی اِس چھوٹی سی ادا پر مان گیا۔
    وہ ایسا ہی تو تھا۔۔
    عرشیہ کی ایک مُسکراہٹ پر مان جایا کرتا تھا۔وہ اُسے خود سے بھی بڑھ کر چاہتا تھا۔ اپنی زندگی میں شارق نے اگرکسی لڑکی کو بے اِنتہا اور بے حِساب چاہا تھا تو وہ عرشیہ سُمیر ہی تھی۔ اور عرشیہ کا حال بھی اُس سے کُچھ الگ نہ تھا۔ اُسے شارق کے بغیر اپنا آپ نا مکمّل سا لگتا تھا۔ دونوں کی جان بستی تھی ایک دوسرے میں۔
    ************************
    کِھڑکی میں کھڑی گُم سُم اور گہری سوچ میں ڈوبی عرشیہ کو دیکھ کر شارق اُسکے قریب چلا آیا۔
    ‘آشی! کیا سوچ رہی ہو؟’ وہ اُسے اکثر آشی کہہ کر مُخاطب کرتا تھا۔ آج شارق نے سوچ رکھا تھا کہ اُسکی پریشانی کی وجہ جان کر رہے گا۔ وہ کبھی بیٹھے بیٹھے کھو جاتی ۔ اچانک گم سم ہو جایا کرتی۔ بظاہر سب کُچھ ٹھیک تھا، وہ اسکے ساتھ بہت خوش باش بھی تھی لیکن کوئی ایسی بات ضرور تھی جو وہ اپنے دل میں چُھپا کر بیٹھی تھی اورجو کہیں نہ کہیں اسے پریشان کر رہی تھی۔
    ‘نہیں کسی سوچ میں نہیں۔ میں تو بس یونہی کھڑی تھی۔’ وہ نظریں جُھکا کر بولی جانتی تھی کہ اُسے جھوٹ بولنا بالکل نہیں آتا تھا
    ‘اِدھر آؤ! یہاں بیٹھو!’ وہ اُسکا ہاتھ پکڑ کر بیڈ کے پاس لے آیا اور بیڈ پر بِٹھا کر خود اسکے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گیا
    ‘کیا بات ہے؟ میں بہت دن سے دیکھ رہا ہوں تم کچھ پریشان لگتی ہو۔ تم مجھ سے شئیر کرسکتی ہو۔ بتاؤ کیا اُلجھن ہے؟’
    ‘نہیں! نہیں تو! ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔’ وہ اسکے ا ج اچانک پوچھ لینے پر کچھ گھبراگئی تھی
    ‘آشی! کیا تمھیں لگتا ہے کہ میں تمھاری پریشانی نہیں سمجھونگا؟ اگر ایسا ہے تو جب میں تمھیں اِس قابل لگنے لگوں تب مجھ سے اپنی پریشانی بانٹ لینا۔’ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھنے کو تھا جب عرشیہ نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے آگے بڑھنے سے روک لیا۔
    ‘نہیں پلیز! ایسا کچھ نہیں ہے شیری! میں بس ایک بات کی وجہ سے تھوڑی سی پریشان رہتی ہوں کہ کہیں اسکی مُجرم میں تو نہیں ہوں؟’
    ‘کس کی مجرم؟ کیا بتانا چاہ رہی ہو جان پلیز کُھل کر بتاؤ۔’ شارق سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
    ‘روحیل کی!’ عرشیہ نے اُسے آج سب بتانے کا تہےّا کر لیا تھا
    ‘روحیل ؟ یہ اپنا روحیل سکندر؟ دیکھو مجھے کُھل کر سب بتاؤ تبھی کچھ سمجھ پاؤنگا۔’ وہ اپنائیت سے بولا تو عرشیہ اسکے مقابل کھڑی ہوکر رندھی ہوئی آواز میں بولی۔
    ‘آپ مجھے سمجھیں گے نا؟ میری بات کو غلط تو نہیں سمجھیں گے نا؟ میں نہیں چاہتی کہ کوئی چھوٹی سی بات بھی ہمارے اِس پیارے سے رشتے کو خراب کرے۔ میں آپکو کھونا نہیں چاہتی۔’ اُسکی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ وہ بہت حسّاس طبیعت کی لڑکی تھی۔
    ‘ارے میری جان! مجھ پر بھروسہ کرو اور کھل کر سب بتاؤ پلیز۔ ہو سکتا ہے میں تمھاری پریشانی دور کردوں۔’ عرشیہ کو اسطرح پریشان دیکھ کر وہ سچ میں کچھ گھبرا گیا تھا۔ شارق نے اسکے گِرد بازو حمائل کر کے اُسے اپنے ہونے کا احساس دلایا۔
    عرشیہ کے ذہن کے پردے پر ماضی کے واقعات ایک فلم کی طرح گردش کرنے لگے۔۔۔
    ************************
    عرشیہ اور شارق کی اسکولنگ ایک ہی اسکول سے ہو ئی تھی۔ ان ہی کی کلاس میں ایک روحیل سکندر بھی تھا۔
    وہ بہت خوبرو اور اچھی شکل و صورت کا مالک تھا۔
    نہایت گوری رنگت۔۔
    سُرخی مائل ہونٹ۔۔
    کُشادہ پیشانی۔۔
    سیاہ روشن آنکھیں۔۔ اُس پرگھنی پلکیں۔۔
    سیاہ گھنے بال۔۔
    غرض کہ وہ سب لڑکوں میں سب سے اچھے قد کاٹ کا لڑکا تھا۔
    روحیل اور اسکی ایک چھوٹی بہن رابیل تھی۔ یہ دو ہی بھائی بہن تھے۔ اُن کے والدسکندرصاحب کا لیدر گارمنٹس کا بزنس پورے پاکستان میں پھیلا ہوا تھا۔ انکا شمار کراچی کے امیر ترین صنعتکاروں میں ہوتا تھا۔ اپنے ماں باپ کا اکلوتابیٹا ہونے کی وجہ سے وہ کافی لا اُبالی اور لاپرواہ طبیعت کا مالک تھا۔ پڑھائی میں بھی خاص اچھا نہ تھا اور اسی وجہ سے وہ عرشیہ کو ایک آنکھ نہ بھاتا ۔دوسری طرف وہ بہت ہی سلجھی ہوئی طبیعت کی ، اور ذہین ہونے کے باعث پڑھائی میں بھی بہت تیز تھی۔ہر ٹیچر کی آنکھ کا تارا۔ اِسی ذہانت اور قابلیت کی بدولت اسے ہر سال کلاس کا لیڈر بنادیا جاتا جسکی تمام تر ذمہ داریاں وہ بخوبی سنبھالتی تھی۔
    عرشیہ کا مِزاج دھیما ضرور تھا لیکن وہ غصُے کی بہت تیز تھی۔ کسی کی غلط بات برداشت کرنا اُسنے سیکھا نہیں تھا۔ اُسکے غصُے کی وجہ سے ہی کسی بھی لڑکے کی اُس سے بات کرنے کی ہمُت نہیں ہوتی تھی۔اور خصوصاً روحیل سے تو اسے سخت چِڑ تھی، کیوں؟ یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
    نویں جماعت کے امتحانوں سے کچھ دن قبل عرشیہ شدید بیمار پڑگئی تھی۔ جب وہ کافی دن کی غیر حاضری کے بعد اسکول آئی تو سب ہی اسکے لئے فکرمند تھے اور اسکی خیریت دریافت کر رہے تھے۔ ایسے میں روحیل بھی اُسکے پاس چلا آیا۔
    ‘کیسی ہو تم؟ اب طبیعت کیسی ہے تمھاری؟’
    ‘ٹھیک ہوں!’ عرشیہ نے منہ موڑتے ہوئے ناگواری سے جواب دیا۔ اسوقت روحیل کی موجودگی اسے سخت زہر لگی تھی۔
    ‘اور تمھارا کام؟ وہ میں کردوں؟’ وہ اپنائیت سے پوچھ رہا تھا
    ‘جاؤ اپنا کام کرو۔ میرے کام کی فکر نہ کرو۔’
    روحیل کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اُداس چہرہ لئے وہاں سے چلاگیا۔
    ***********************
    اُنکی اسکول وین ‘روحیل وِلا’ کے آگے خراب ہوگئی تھی۔ وہ سب کو اپنے گھر کے اندر لے گیا کیونکہ وین ٹھیک ہونے میں ابھی کافی وقت لگنا تھا۔ سب خوشی خوشی اُسکے گھر کے اندر چل دئیے سوائے عرشیہ کے، وہ بار بار بولنے پر بھی اندر نہیں گئی تھی اور باہر ہی کھڑی ہو گئی ۔ اُسے اِسوقت شارق پر شدید تاؤ آرہا تھا جو اُسے باہر اکیلا چھوڑ کر خود اندر جاکر بیٹھ گیا تھا۔ ابھی عرشیہ دل ہی دل میں شارق کو گالیوں سے نواز رہی تھی کہ کسی نے چُٹکی بجا کر اُسے اپنی طرف متوجّہ کیا۔ وہ روحیل تھا۔ اُسے دیکھ کر عرشیہ کا غصّہ اور بڑھ گیا تھا۔
    ‘تم بھی چلو نا اندر، یہاں کیوں کھڑی ہو؟’
    ‘نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں!’ عرشیہ نے سپاٹ لہجے میں کہا
    ‘چلو پلیز کب تک یہاں کھڑی رہوگی، وین ٹھیک ہونے میں ٹائم لگ جائیگا۔’ روحیل نے اسے منانا چاہا
    ‘کہہ جو دیا کہ نہیں جانا بس، ہر بات میں بحث مت کیا کرو۔’ وہ غصّے سے بولی
    ‘اچھا ٹھیک ہے مت جاؤ ۔’ یہ کہہ کر وہ بھی اُس سے کچھ فاصلے پر ہی کھڑا ہوگیا
    ‘اب میرے سر پہ کیوں کھڑے ہو، جاؤ یہاں سے۔ اور پلیز اندر سے شارق کو بھیج دو بد تمیز مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر چلاگیا۔’ وہ اسکے ہٹ دھرمی سے وہیں کھڑے رہنے پر مزید غصّہ ہوئی تھی۔
    ‘میں۔۔۔۔’ روحیل کے اور کچھ بھی کہنے سے پہلے وہ اُسے گھورتے ہوئے بولی
    ‘دفع ہوجاؤ یہاں سے ابھی اسی وقت!’ روحیل اپنی اِس بے عِزّتی پر دانت پیستا تیزی سے اندر کی جانب بڑھ گیا۔
    ***********************

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • مائے نی میں کنوں آکھاں — سمیہ صدف (دوسرا اور آخری حصّہ)

    مائے نی میں کنوں آکھاں — سمیہ صدف (دوسرا اور آخری حصّہ)

    اُس نے آنکھیں کھولیں تو پہلا خیال دماغ میں یہی آیا تھا کہ قیامت سے گزر کر وہ کسی اندھیری قبر میں جاپہنچی تھی۔ قیامت کے بعد ایک اور قیامت شاید وہ یوم حشر تھا۔ حساب کتاب ہونے والا تھا۔ اسی امید نے اس کے بے جان جسم میں نئی جان ڈال دی تھی کہ سزا جزا کا دور آچکا تھا اور اُسے یقین تھا کہ اگر یہ یوم حشر تھا تو آج اُس کے ساتھ انصاف ضرور ہونے والا تھا۔
    اس سے پہلے بھی کئی بار وہ اس نے مکمل بے ہوشی سے نیم بے ہوشی تک کا سفر کیا تھا۔ مگر آج انصاف کی اُمید جاگتے ہی وہ اپنے پورے حواسوں سمیت بیدار ہوچکی تھی۔ مگر نہیں۔ ابھی سزاؤں کا دور ختم نہیں ہوا تھا۔ وہ زندہ تھی اور پٹیوں میں لپٹے جسم کے ساتھ کسی اچھے اور مہنگے اسپتال کے بستر پر موجود تھی۔ اس نے گردن موڑ کر خود کو حرکت دینے کی کوشش کی۔ مگر پورے جسم سے اُٹھتی درد کی ٹیسوں نے اُسے کراہنے پر مجبور کردیا تھا۔ اُسی وقت دو ہاتھوں نے اُسے سہارا دے کر پانی کا گلاس اُس کے لبوں سے لگایا تھا۔ نظروں کے سامنے بہت سے اجنبی چہروں کے درمیان وہ ایک شناسا چہرہ تھا۔ اس نے پہچاننے کی کوشش میں ذہن پر زور ڈالا۔
    ”ننھی۔” اس کے لب کپکپائے۔ گزرے ہوئے کئی سالوں میں اماں کے سوا ہر چہرہ دھند لا گیا تھا۔ ننھی نے پانی کا گلاس رکھ کر سہارا دے کر اُسے بٹھایا تھا۔ جسم کے ہر حصے کی چیخ و پکار پر کان دھرے بغیر اس نے اپنے ہاتھوں سے ننھی کا چہرہ ٹٹولا۔ تبھی ایک اور جانا پہچانا چہرہ اس کے سامنے آگیا۔
    ”کاکا۔”
    ”نن ۔ نہیں عمران۔” نفی میں سرہلا کر اس نے اس کا اصل نام لیا۔ اس کے بلانے پر وہ آگے بڑھاتھا۔ کتنا بڑا ہوگیا تھا۔ اس کے کندھوں تک بمشکل پہنچنے والا اب اس سے بھی لمبا ہوچکا تھا۔ کاکے کے پیچھے کھڑی اماں کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
    ”اماں۔ میری پیاری اماں۔” وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی۔ مگر اس کے اس طرح بین ڈالنے پر بھی اماں سر درویہ لئے بیڈکے کنارے پر بیٹھ گئی تھی۔ نہ اُسے سینے سے لگایا، نہ ماتھا چوما، نہ پیار کیا۔
    ”چپ کر جا بدبخت۔” وہی بے زار سے لہجہ اس کے کچھ اور زخم ہرے کرگیا تھا۔ پھر چارونا چار وہ اس کے قریب کھسک کر اُس کا سر سہلانے لگی تھی۔ وہ اماں کے قریب ہوکر اُس سے لپٹ گئی۔
    ”اماں مجھے بچالو۔ وہ مجھے مار ڈالے گی۔ اس نے مجھے جلا دیا ہے اماں۔ میرے بال ، میرا ماتھا، میری چوڑیاں۔ ہائے نی مائے۔” بے ربط جملے بولتے ہوئے وہ بین ڈال رہی تھی۔ اس کا ماتھا دیکھ کر شیمو نے اپنا منہ دوپٹہ میں چھپا لیا تھا۔ کتنا خوبصورت گورا اور کشادہ ماتھا تھا اس کا ۔ مگر اس وقت اسی پیشانی سے کھال کے ٹکڑے اُکھڑ کر نیچے لٹک رہے تھے۔ روتے ہوئے اس کے درد میں اضافہ ہونے لگا تو وہ بے حال ہوکر چلانے لگی۔ نرس نے اُسے درد کے علاوہ نیند کا انجکشن بھی لگادیا تھا۔ اُس کی تکلیف دیکھ کر اماں اور ننھی بھی دوپٹے منہ پر ڈال کر روپڑی تھیں۔ جبکہ وہ تھوڑی دیر رونے کے بعد اب غنودگی میں تھی۔
    کئی روز سے اُس کی یہی حالت تھی کہ ہوش میں آتے ہی وہ بے قابو ہوکر چلانا شروع کردیتی۔ بستر سے اُتر کر بھاگنے کی کوشش میں اس کے ٹھیک ہوتے ہوئے زخم بھی خراب ہوگئے تھے۔ مگر وہ کسی کو بھی قریب نہیں آنے دیتی تھی۔ عجیب پاگلوں جیسی حرکتیں اور دیوانوں جیسی باتیں۔ جنت بوا آئیں تو اُنہیں دیکھ کر وہ پہلے تو بالکل چپ سی ہوگئی۔ پھر زاروقطار رونے لگی۔ انہوں نے اُسے سینے سے لگایا تو عجیب سا درد دل میں جاگ گیا تھا۔ ایسی ٹھنڈک اور مٹھاس کا احساس تو اماں کے گلے لگ کر بھی نہ ہوتا تھا۔ آہستہ آہستہ حواس بحال ہوئے تو پہلا خیال اُسے اس کا آیا تھا جس سے خاموش محبت کا رشتہ اور تحفظ کا تعلق تھا۔ نظریں اُسے تلاشنے لگی تھیں۔ مگر نہ جانے وہ اُس پر ڈھائے جانے والے مظالم سے ناواقف تھا یا پھر باقی سب کی طرح بے حس ہوگیا تھا۔ شاید ایسا ہی تھا مگر دل تھا کہ امید کے اس آخری چراغ کو گل کرنے پر آمادہ نہ تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    کچھ دن بعد پولیس اُس کا بیان لینے آئی تھی۔ وہ گونگے کا گڑ کھائے چپ چاپ بیٹھی رہی تھی۔
    ”تھانیدار جی۔ ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا کڑی کا۔” اس کی ماں روانی سے جھوٹ بول رہی تھی اور وہ حیرت سے اس کا منہ تکنے لگی۔
    ”اور یہ جو جلنے کے نشان ہیں۔” تھانیدار نے کاغذ پکڑ کر لکھنا شروع کیا۔
    ”جی وہ تو گڈی کا سلنڈر پھٹ گیا تھا تاں گیس والا۔ اگ بھی لگ گئی اس کے ساتھ ہی تو اس کا متھا بھر سڑ گیا۔ میں تو جی نال ہی تھی ناں۔ میں پہلے ہی پرے گرگئی تھی تو زیادہ چوٹ نہیں آئی جی۔” وہ ہاتھ ہلا ہلا کر بتارہی تھی۔
    ”کس جگہ ہوا تھا یہ واقعہ؟”
    ”وہ جی۔ وہ جی … شہدرے سے تھوڑا اگے کوئی جگہ تھی۔ ناں تو مجھے نہیں پتہ جی۔” اب کے وہ ان پڑھ عورت گڑبڑاگئی تھی۔ مگر تھانیدار کو بھی خاص دلچسپی نہ تھی۔ اس نے معمول کی کاغذی کارروائی مکمل کی۔
    ”یہ اس پر لڑکی کا انگوٹھا لگوا دینا۔” اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات ماتحت کے حوالے کئے۔
    وہ ٹکٹکی باندھے ماں کا منہ تک رہی تھی۔ اس کا دل چاہا کہ چیخ چیخ کر پولیس کو بتائے کہ گزرے ہوئے سالوں میں وہ کن مظالم کاشکار رہی تھی۔ کتنی بار اُسے نیل پڑے، زخم آئے، تعداد تو اُسے خود بھی یاد نہیں تھی۔ کتنی بار تنہائی میں صاحب جی نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی اور گزرتے گزرتے اُسے چھونے کی کوشش کی۔ کتنی بے دردی سے اس کے بال کاٹے گئے، کتنی بے رحمی سے اُسے استری سے جلایا گیا۔ مگر ا سکے پاس وہ الفاظ ہی نہیں تھے جو ا س کی ایک بارکی مار اور درد کی بھی ترجمانی کرسکتے۔ ویسے بھی سننے کی پرواہ بھی کسے تھی۔ ماں نے اس کا ہاتھ آگے کرکے کاغذوں پر انگوٹھا لگوایا۔ شکایت بھری نظروں سے ماں کی جانب دیکھ کر اس نے رُخ موڑ لیا تھا۔
    ”سیانی ہو تم بی بی۔ جیسا میں نے سمجھایا تھا تم نے بالکل ٹھیک ویسا ہی کیا۔ تھانے کچہری کے چکر میں پڑ کر کیا ملتا۔ نری خواری اور ذلت۔ اُلٹا تیری ہی لڑکی پر کیس بنتا کہ ایک تو اس نے مالکوں کے زیور چرائے اور دوسرا اُن کے خانساماں کے ساتھ…” تھانیدار نے بڑے افسر کے جاتے ہی اس کی ماں کی شاندار ایکٹنگ کو سراہتے ہوئے مونچھوں کو تاؤ دیا۔
    ”جی جی تھانیدار جی۔ اب تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا نا کڑی کے لئے۔” اس نے خوش آمدانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے ہاتھ جوڑے۔
    ”بے فکر رہو مائی۔ بس تم سمجھ رہی ہو ناں میری بات۔ پکا پکا حدود کا کیس بنتا اور ڈاکے کا الگ۔ تمہاری لڑکی کے علاج کا سارا خرچہ پانی تو وہی لوگ دیں گے نا۔ ان بڑے لوگوں کا کچھ نہیں جاتا۔ صلح صفائی ہوگئی تے کج تواڈا بھلا تے کج ساڈا (کچھ تمہارا بھلا کچھ ہمارا)۔” اس کے ہنستے ہوئے اس کی موٹی سی توند بھی ہلنے لگی تھی۔ نکلتے ہوئے اس نے ہزار ہزار کے کچھ نوٹ اس کی ماں کو پکڑائے تھے۔
    ”بس اب پکی رہنا اس بیان پر۔ اور خبردار جو صاحب لوگوں کے آس پاس بھی نظر آئی۔ اندر کردوں گاسیدھا سیدھا۔” اس نے تڑی لگائی ۔ شہزادی کی سمجھ میں آدھی بات آئی تھی اور باقی کی سر پر سے گزر گئی تھی۔
    ”خانساماں؟ وہ نواز بابا۔”
    حیرت و استعجاب سے وہ بت بن کر رہ گئی تھی۔
    ٭…٭…٭
    کتنا عرصہ وہ اپنوں سے ملنے، ان کی صورت دیکھنے کو ان سے دل کی باتیں کرنے کو ترستی اور روتی رہی تھی مگر اب ان سے مل کر اُسے لگتا تھا کہ سارے الفاظ ختم ہوگئے تھے۔ سب احساسات بھاپ کر اُڑگئے تھے۔ تشنگی اور بڑھ گئی تھی۔ تقریباً ایک ڈیڑھ ماہ وہ ہسپتال میں زیر علاج رہی ۔ ننھی کام سے واپسی پر روز اُسے ملنے آتی تھی۔ کاکا اور منی چکر لگا لیا کرتے تھے۔ ننھی بیان نہ دینے پر دل ہی دل میں اُس سے سخت خفا تھی۔ دوسری طرف اماں کا سرد ، بے مہر رویہ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ وہ بھی اس سے اکھڑی اکھڑی رہتی تھی۔ وہ سوچ سوچ کر پاگل ہوتی مگر اپنا قصور نہ جان پاتی۔ اب اس کا واحد سہارا جنت بوا تھیں۔ اس کی آخری امید۔ انہوں نے بہت دن سے چکر نہیں لگایا تھا۔
    ”شاید بیمار ہوں یا گاؤں چلی گئی ہوں۔ مگر جیسے ہی وہ واپس آئیں گی۔ میں اُنہیں ساری صورت حال بتاؤں گی۔پھر یقینا وہ اور وسیم میری مدد کریں گے۔ دوبارہ جاکر بیان دوںگی تھانے۔”
    اس نے پکا ارادہ کررکھا تھا۔ مگر ان کے چکر نہ لگانے پر پریشان بھی تھی۔ پھر اُس کے گھر جانے میں دو دن باقی تھے تو آخر کار وہ آہی گئیں۔
    ”بیٹا تمہیں تو پتہ ہے نا صاحب لوگوں کا۔ ان سے چھپ کر آنا پڑتا ہے۔ ورنہ تم پر تو جو ظلم ہوا سو ہوا۔ مجھ بڑھیا کو بھی نکال باہر کیا تو کہاں جاؤں گی۔ پچھلی دو بار تو وسیم ہی کہیں کام سے جاتے ہوئے چھوڑ گیا تھا۔ مگر یہ نیا لڑکا ایک تو گاڑی ایسے چلاتا ہے جیسے جہاز اُڑا رہا ہو ۔ دوسرا اس کا کیا بھروسہ گھر جاکر شکایت ہی کردے۔ آج بھی اپنی دیورانی کی بہن کاکہہ کر دو اسٹاپ پیچھے اُتر گئی ۔ آدھا گھنٹہ اُدھر بیٹھی رہی پھر رکشہ کرکے ادھر آئی ہوں۔” وہ اس کے لئے سیب کترنے لگیں۔ مگر اس کا ذہن تو کہیں اور ہی اٹکا ہوا تھا۔
    ”نیا لڑکا؟” اس نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا۔
    ”ہاں نیا ڈرائیور ہے صاحب لوگوں کا عجیب، بدتمیز، بد لحاظ لڑکا ہے باتیں تو ایسی کرتا ہے…” اُسے بھلا کیا دلچسپی ہونی تھی اس نئے ڈرائیور کے ذکر میں۔
    ”تت تو کیاوسیم کو نکال دیا ہوگا۔” واہمے دماغ میں جگہ بنانے لگے تھے۔
    ”کیا خبر اس نے میرے ساتھ ہونے والا ظلم دیکھ کر خود ہی لعنت بھیجی ہو ایسے جلادوں کی نوکری پر۔”مگر دل پھر سے خوابوں کے سنگ ہولیا۔
    ”ہوسکتا ہے اس نے میرے حق میںکچھ کہا ہو۔ حمایت کی ہو میری۔ تو بھلا بیگم صاحبہ کیوں برداشت کرتیں۔” اس کی خوش فہمیوں نے ایک بار پھر سے اُسے خوابوں کے راستے کا مسافر بنادیا تھا۔
    ”جنت بوا آپ کو تو پتہ ہے نا میرے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے۔ اور پھر میری ظالم ماں جو میرے حق میں بولنے کی بجائے پتہ نہیں کیا بیان دیتی رہی پولیس والوں کو۔ صاحب لوگوں اور تھانیدار کے ڈر سے اس نے سارا جھوٹ بتایا اور…”
    وہ اپنی بپتاان کے گوش گزار کرنے لگی۔ انہیں بھی خاصا افسوس ہوا تھا۔ مگر ان کے حیران نہ ہونے پر وہ ضرور حیران ہوئی تھی۔
    ”ماں کو ظالم نہ کہو بیٹا۔ رب کے بعد سب سے زیادہ مہربان اور شفیق ہوتی ہے ماں۔ بس مجبور ہوجاتی ہے۔ صاحب لوگوں سے بھلا کون مقابلہ کرسکتا ہے۔ یہ بھی ان کی مہربانی کہ تمہارے علاج کا خرچا دے دیا۔ ورنہ ایسے بڑے لوگوں کو کون پوچھ سکتا ہے۔ تمہاری ماں کہاں اسپتالوں میں دھکے کھاتی پھرتی بے چاری۔”
    وہ نرمی سے اُسے سمجھا رہی تھیں۔ پہلی بار اُسے ان کی باتوں سے اختلاف ہوا تھا۔ مگر وہ خاموش رہی۔ وہ خود جیسی نرم دل اور محبت کرنے والی تھیں، شاید ہر ماں کو ایسا ہی سمجھتی تھیں۔
    ”صاحب لوگوں نے نیا ڈرائیور رکھ لیا تو وہ پرانا…میرا مطلب ہے وہ وسیم باؤ۔” نام لیتے ہوئے وہ جھجک گئی تھی۔
    ”ہاں وسیم۔ وہ چلا گیا۔” سرسری سا جواب دے کر وہ پھر خاموش ہوگئیں۔
    ”کہاں؟” نہ چاہتے ہوئے بھی اُسے پوچھنا پڑا تھا۔
    ”اپنے شہر۔ اس کی ماں اکیلی تھی ناں شیخوپورہ میں۔” وہ جتنا اس موضوع سے بچنا چاہ رہی تھیں اس کے تجسس کو اور ہوا دے رہی تھیں۔
    ”پر اس کی تو نوکری تھی ناں ۔ کوئی اور مل گئی کیا؟” اس کے انداز میںبے چینی تھی۔
    ”کتنا غیر ت مند تھا جو اس کی خاطر لگی لگائی نوکری چھوڑ گیا تھا۔” دم توڑتی ہوئی اُمیدوں کو خوش فہمی نے آخری سہارا دیا تھا۔
    ” ہاں مل گئی تھی۔” انہوں نے زیر لب دہرایا۔ مگر زیادہ دیر اس کی آنکھوں میں چھپے ان گنت سوالوں کو نظر انداز نہ کرسکیں۔
    ”اس کی ماں نے منگنی کردی تھی اس کے ماموں کی بیٹی سے۔ ماموںنے دکان کھول دی۔ اُسی پر ہوتا ہے آج کل۔” نظریں چرا کر وہ اتنا ہی کہہ پائی تھیں۔
    ٭…٭…٭
    وقت تھا کہ گزرتا جاتا تھا مگر اس کا دل جیسے کہیں ٹھہر سا گیا تھا۔ جس میں اب نہ کسی سے ملنے کی خواہش جاگی تھی اور نہ ہی کچھ کھونے کا اندیشہ تھا۔ سب ہار کر اور دل ہار کر وہ خود بھی جیسے مرگئی تھی۔ بس کبھی کبھی اماں کا سر د رویہ دیکھ کر وہ خود سے اپنا قصور ضرور وپوچھنا چاہتی تھی۔ ننھی بھی اب اس سے کم کم ہی بات کرتی تھی۔ وہ ان سب کی بے زاری کی وجہ سے بے خبر تھی۔ مگر جاننا ضرور چاہتی تھی۔
    ”اماں تو نے مجھے چپ کروا دیا تھا۔ ورنہ میں پولیس والوں کو سب سچ بتا کر ان کمینوں کو ہتھ کڑی ضرور لگواتی۔” ننھی کمرے میں کسی کام سے آئی تھی مگر اُسے اندھیرے میں بے آواز آنسو بہاتا دیکھ کر باہر جاکر اماں سے اُلجھ پڑی تھی۔ وہ اکثر ہی بے سبب اماں سے اُلجھ پڑا کرتی تھی۔
    اس کے باقی زخم تو مندمل ہوگئے تھے۔ مگر بازو میں چوڑیاں کھب جانے سے گہرا زخم آیا تھا۔ جس کا نشان باقی رہ گیا تھا۔ ایک روز پہلے ہی اس نے آئینہ منگواکر دیکھا تو اس کی چیخیں نکل گئی تھیں۔ آئینہ اس کے ہاتھ سے گر کر کرچی کرچی ہوگیا تھا۔
    کتنے دن تو اماں اور ننھی نے آئینہ چھپائے رکھا تھا۔ وہ پوچھتی تو وہ نہ ملنے کا بہانہ کردیتیں۔ مگر اس نے آخر کھوج ہی نکالا تھا۔ مگر کبھی کبھی انسان کچھ کھوجنے کی خواہش میں سب گم بھی کر بیٹھتا ہے۔ بہت دیر تک وہ ننھی کے گلے لگ کر سسکتی رہی۔ ماتھے کی جگہ گوشت اور کھال کا ملا جلا سیاہی مائل سرخ لوتھڑا لٹک رہا تھا۔ بازو کا نشان تو وہ آستینوں میں چھپا لیا کرتی تھی۔ مگر ماتھے پر گوشت کا بدنما لوتھڑا تو چیخ چیخ کر اپنے ہونے کا اعلان کررہا تھا۔ جسے سوائے اس کے سب بخوبی دیکھ سکتے تھے۔ ننھی اس کے یوں ٹوٹ جانے پر خود بھی روپڑی تھی۔
    ”ہاں۔ تو تو بڑی افسرنی لگی ہوئی ہے کہیں پر۔ باپ تیرا وزیر تھاماں تیری ٹی وی پر خبریں پڑھتی ہے۔ جب اپنی تھالی میں چھید ہو تو بندہ دوسرے کے متھے کیوں لگے۔” اس کی روز کی بڑبڑ سے تنگ آکر اماں نے بھی جوتی ہاتھ میں لے لی تھی۔ جوان اولاد جو دوبدو کھڑی تھی کڑے تیور لئے۔
    ”کیا مطلب ہے تیرا؟” ننھی چونک گئی تھی اور اس کے بھی کان کھڑے ہوگئے تھے۔
    ”منہ نہ کھلوا میرا۔ کسی کو پتہ چلانا تو صورت سے تو گئی ہی ہے لوگ اس کی مشہوری سنیں گے تو کسی لولے لنگڑے، شرابی نے بھی نہیں ویاہنا اسے۔” اماںنے ہاتھ میں پکڑی چپل زمین پر دے ماری تھی۔
    ”صورت بگڑی ہے تو اس میں اس کا کیا قصور؟ الٹا ظلم بھی اسی کے ساتھ ہوا ہے۔ اور کیا مشہوری ہونی ہے۔” ننھی کو اور تاؤ آگیا۔
    ”انہوں نے اسے گھر کا بندہ سمجھ کر رکھا ہوا تھا تو اپنی اوقات میں رہتی۔ خود کو مالکن سمجھنے لگی تھی نواب زادی۔ کیا ضرورت تھی اوقات سے باہر ہونے کی۔ فیشنی بال کٹوا کر خود کو مالکن بنا کر بیٹھے گی۔ ناز نخرے دکھائے گی ووہٹیوں کی طرح کے تو مرد تو آخر مرد ہوتا ہے۔ پھسل گئی اس کی نظر۔ مرد کے قدم بہکنے میں کیا دیر لگتی ہے۔ عورت کو تو حیا والا بن کر رہنا چاہیے۔ کتنے سال ہوگئے تیرے پیو کو مرے۔ جوان سوہنی اونچی لمبی تھی میں۔ یہ تو اب بڈھی ہوگئی ہوں، ہڈیاں نچڑ گئیں کم کر کر کے۔ کما کما کر تم لوگوں کو پال کر بھک برداشت کرکے۔ مگر مجال ہے جو اس کے مرنے کے بعد کبھی سرمہ بھی لگایا ہو کہ پرائے مردوں کی نظر پڑے گی تو جینا مشکل کردیں گے اور اسے دیکھو۔ کنواری کڑی۔ بھکے گھر کی اور نخرے میموں والے۔ ہک ہاہ۔ اپنی تقدیر کھوٹی ہو تو دوسروں پر الزام کا ہے کودھریں۔” وہ ہانپتی ہوئی چارپائی پر بیٹھ گئی۔ ننھی پر سکتہ طاری ہوگیا تھا اور خود اس کی وہ حالت تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اماں کے الفاظ کسی گولی کی طرح اس کے سینے میں پیوست ہوگئے تھے۔ اُسے لگ رہا تھا کہ اُس کے سر سے آسمان ہی نہیں پاؤں تلے سے زمین بھی کھسک گئی ہو۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ زمین پھٹتی اور وہ اس میں سماجاتی۔ خود پر ہونے والے تمام مظالم برداشت کرکے اُس نے اپنی ماں کو جن پتھروں سے بچائے رکھا تھا آج اُسے وہی پتھر اُٹھا کر مارنے والا کوئی اور نہیں اس کی اپنی سگی ماں ہی تھی۔ تیر کی طرح وہ اُٹھ کر باہر آگئی تھی۔
    ”میں اور میری تقدیر نہیں خراب۔ میری مت ماری گئی تھی کہ تجھے کبھی بتایا ہی نہیں کہ کس طرح معمولی سی بات پر میری چمڑی اُدھیڑی جاتی تھی کس طرح میرا نیلوں سے بھرا بدن، پھوڑے کی طرح دکھتا جوڑ جوڑ تیرے ہاتھوں کے مرہم کو تڑپتا تھا۔ صرف اس لئے اس نے میرے بال کاٹ ڈالے کہ میں جوان تھی، سوہنی تھی، اور اس کے گھر والے کی خراب نظر ان پر پڑگئی تھی۔ میرا مغز خراب تھا جو میں سمجھتی تھی کہ تو ماں ہے۔رب کے بعد سب سے زیادہ محبت کرنے والی۔ تو میری ہر تکلیف سمجھ جائے گی۔ میں بھول گئی تھی کہ جب ہم غریبوں، بھکوں کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں ہوتی۔ تن ڈھانپنے کو کپڑا نہیں ہوتا، سر پر چھت نہیں ہوتی تو ماں کی محبت اور مامتا بھی ہمارے لئے نہیں ہوتی۔ ماں تو کیا ہمارا تو اللہ بھی نہیں ہوتا۔ سب امیروں کے چونچلے ہیں۔ سولہ سنگھار بھی ان کے لئے، فیشن نخرے بھی ان کے لئے، خواب بھی ان کے ، رشتے ناتے، ماں پیو بھی اور خود اللہ بھی اُن ہی کا ہے۔ ہمارے تو نہ پیروں کے نیچے زمین ہوتی ہے نہ سر پر آسمان اور نہ ہی آسمان والا اپنا ہوتا ہے۔ اُس کو بھی ہم سے پیار نہیں۔ وہ بے نیاز ہے ناں۔ ہم کیڑے مکوڑوں کی طرح گٹر میں زندگی گزارنے والوں کو بنا کر وہ بے نیاز ہوجاتا ہے۔ پھر ہم جیئیں یا مریں ۔ اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
    اپنے جسم کو صحن کے بیچوں بیچ عریاں کئے وہ تازہ زخموں کے ساتھ ساتھ پرانے گھاؤ کے نشان دکھاتی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ ننھی ساکت تھی۔ منی کا منہ کھل گیا تھا۔ جبکہ کاکا رخ موڑ گیا تھا۔ سفید لٹھے کی مانند چہرہ لئے شیمو اس کی جانب بڑھی تھی مگر وہ اس کے ہاتھ جھٹک کر بھاگتی ہوئی اندر چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    ”شہزادی ! دیکھ میں نے تیرے لئے کیا ڈھونڈا ہے۔” وہ پیالہ ہاتھ میں لئے چاول کھانے میں مگن تھی۔ جب ننھی اٹھلاتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
    ”کیا ہے؟” سرسری سالہجہ تھا۔
    ننھی نے ہاتھ آگے کئے تو اس کے دل سے آہ نکل گئی۔ اس کے ہاتھ میں اس کی بہت پرانی کہانیاں تھیں۔ وہ نہ جانے گھر کے کس گوشے سے ڈھونڈ لائی تھی۔ اور نادانستگی میں اس کے کتنے زخموں کے کھرنڈ اکھیڑ گئی تھی۔ اس کا دل بہلانے کے لئے ننھی اب اُسے وہ کتابیں کھول کھول کر دکھا رہی تھی ۔ مگر وہ خاص متوجہ نہ تھی۔
    ”یہ اتنی رنگ برنگی تصویروں والی، مزے مزے کی کہانیاں تیری ہیں؟” کاکا خوشی سے ان کی طرف لپکا تھا۔
    ”ہاں۔” وہ دوبارہ چاول کھانے لگ گئی۔
    ”پتہ ہے باورچی خانے کی جھاڑ پونچھ کرتے ہوئے مجھے ایک بار صندوق میں سے یہ ملی تھیں تو میں نے صاف کرکے دوبارہ تھیلے میں ڈال کر سنبھال دی تھیں یہ لے۔” ننھی نے کہانیاں اُس کی جانب بڑھائیں۔
    ”میں کیا کروں گی اِ ن کا۔ پھینک دے انہیں۔” اس کی سرد مہری پر ننھی کا چہرہ بجھ سا گیا تھا۔
    ”سچی شہزادی تو نے یہ ساری پڑھی ہیں؟ مجھے سنائے گی نا روز؟”وہ خوشی سے اٹھلایا۔
    ”کیا کرے گا سن کر؟ سب جھوٹ اور بکواس لکھا ہوتا ہے ان میں۔” اسے کہانیاں دیکھ کر وحشت سی ہورہی تھی۔دل چاہ رہا تھا کہ اُٹھا کر باہر پھینک دے مگر کاکا بھی بے حد ضدی تھا۔ اس کے سر ہوگیا اور مناکر ہی دم لیا۔ روز رات کو اس کے پاس آکر بیٹھ جاتااور تب تک جان ہی نہ چھوڑتا جب تک وہ اُسے ایک دو کہانیاں سنا نہ لیتی۔ آنکھیں بند کئے اُسے سناتے ہوئے شہزادی کا دل کرتا کہ وہ سب کہانیوں کا انجام بھیانک کردے۔ اپنے جلے ہوئے ماتھے اور سیاہ مقدر کی طرح۔ جس کی وجہ سے بچے اُس سے ڈرنے لگے تھے۔ وہ کام پر جاتی تو لوگوں کی ہمدردی اور ترس بھری نظریں اُسے زہر لگا کرتی تھیں۔ اکثر اوقات چھوٹے بچے اُسے دیکھ کر ماؤں کی گود میں جا گھستے۔ اس نے چادر کا گھونگھٹ سا بناکر ماتھا ڈھانپنا شروع کردیا تھا۔
    ”بتانا پھر آگے کیا ہوا؟” وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ کاکے کی آواز اُسے حال میں لے آئی۔ اُس نے کہانی کا سلسلہ پھر سے جوڑا۔ مگر دل چاہ رہا تھا کہ کہانی کے انجام کو حقیقت میں لاکھڑا کرے۔ تاکہ پھر کبھی کوئی لڑکی ان کی کشش میں آکر خواب نہ بنے۔
    ”پھر سینڈریلا کی ماں اور بہنوں نے اس پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی اور شہزادہ مایوس لوٹ گیا۔”
    ”پھر سنو وائٹ کو ظالم جادوگرنی نے مار ڈالا۔”
    ”جب تک شہزادہ سوئی ہوئی شہزادی کو جگانے پہنچا چڑیل اس کا بھیس بدل کر لیٹ چکی تھی اور شہزادہ چڑیل کو شہزادی سمجھ کر ساتھ لے گیا۔”
    ”پھر ریڈرائڈنگ ہڈ راستہ بھول کر جنگل کے خونی درندوں کے ہاتھ لگ گئی۔”
    ”پھر شہزادی کو بونوںنے قید کرکے رکھ لیا اور اُس سے اپنے سب کام کروانے لگے اور وہ ان کے مظالم کا شکار ہوکر رہ گئی۔”
    ”شہزادے کے جسم کی آخری سوئی چڑیل نے نکالی۔”
    کبھی کبھی اس پر دورہ پڑ جاتا تو وہ جنونی انداز میں ایسی باتیں کرنے لگ جاتی۔
    ”ایسا بھلا کب ہوتا ہے؟ تو جھوٹی کہانیاں سناتی ہے۔” کاکا منہ پھلا کر چلاجاتا ہے۔
    ”ایسا ہی ہوتا ہے۔ کہانیاں تو جھوٹی ہی ہوتی ہیں۔” وہ آنکھیں میچے خو د اذیتی کی منزلیں پار کرتی سفاک انداز میں ہنستی تو ہنستی ہی چلی جاتی۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ ان کہانیوں کی رحم دل پری جو جادو کی چھڑی گھماتی اور آن کی آن میں سب اچھا کردیتی کو ان کہانیوں سے غائب کردے۔ جس کا مقصد صرف معصوم اور بھولی بھالی لڑکیوں کو خواب دکھانا تھا۔ خود حقیقت میں تو اُس کا واسطہ کم عمری میں ہی درندوں اور شیطانوں سے پڑا تھا۔ جنہوں نے اس کی پلکوں سے سارے خواب نوچنے کے ساتھ ساتھ خواب دیکھنے والی آنکھیں بھی بھسم کر ڈالی تھیں۔مگر کوئی رحمدل پری اس کی مدد کو نہیں آئی تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • مائے نی میں کنوں آکھاں — سمیہ صدف (پہلا حصّہ)

    مائے نی میں کنوں آکھاں — سمیہ صدف (پہلا حصّہ)

    گھنٹہ بھر کوشش کرنے کے بعد بھی میں بمشکل چند لائنیں کاغذ پر گھسیٹ پایا تھا۔ جھنجھلاہٹ کے عالم میں قلم کاغذ پر پٹختے ہوئے میں نے گہرا سانس لیا۔ جولائی کا مہینہ اختتام پذیر تھا۔ اس موسم میں عموماً لاہور کی ہوائیں شعلے برسارہی ہوتی ہیں، مگر گزشتہ دو تین دن کی وقفہ وقفہ سے ہونے والی بارشوں کے باعث موسم خاصا خوشگوار ہوگیا تھا۔ تاہم بارش کے بعد تالاب بن جانیوالی سڑکوں کو اصل حالت میں واپس آنے کیلئے تھوڑا وقت درکار تھا۔ موسم خوشگوار ہونے کے باعث باغ میں خاصی چہل پہل نظر آرہی تھی ورنہ عموماً اس وقت یہ جگہ سنسان ہوا کرتی تھی۔ اِدھر سے اُدھر بھاگتے ہوئے بچے کولڈ ڈرنکس، چپس اور آئس کریم تھامے خاصا چہک رہے تھے۔ میں نے فائل ایک سائڈ پر رکھ کر پاس پڑا ہوا اخبار اُٹھا لیا۔ خبروں پر ایک سرسری نظر ڈال کر بے زاری سے سرہلاتے ہوئے اخبار فولڈ کرکے دوبارہ بنچ پر رکھ دیا۔ لوڈشیڈنگ، پانی کا بحران، مہنگائی، کرپشن، تیل کی چڑھتی ہوئی قیمتیں، غیرت کے نام پر قتل جیسی خبروں سے بھرا ہوا یہ اخبار کسی بھی نارمل انسان کو محض چند منٹوں میں فرسٹریشن کا شکار کردینے کے لئے کافی تھا۔ یاور میرے ہاتھ میں دبے ہوئے اخبار کو دیکھ کر اکثر اُسے بلڈپریشر ہائی کرنے اور ہارٹ اٹیک کروانے کا سب سے آزمودہ نسخہ قرار دیا کرتا تھا۔ مگر کیا کیا جاسکتا تھا کہ ہماری فیلڈ ہی ایسی تھی کہ خبر اور اخبار ہی کھانا پینا اور اوڑھنا بچھونا تھے۔ اس لئے ممکن ہی نہ تھا کہ باقی لوگوں کی طرح کبوتر بن کر آنکھیں بند کرلیتے اور اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتے۔
    ”سر میرا خیال ہے کہ اخبار میں جگہ جگہ قیمتوں سے متعلق بکھری ہوئی خبروں کی بجائے ہم الگ سے مہنگائی ویکلی (weekly) ایڈیشن نہ شائع کرنا شروع کردیں۔ ”یاور اکثر مذاق میں کہتا تو ایڈیٹر صاحب اپنی عینک کے اوپر سے اُسے گھورتے ہوئے جواب دیتے۔
    ”ہاں پھر اس کے جو چارجز ہوں گے وہ تم اپنی سیلری میں سے کٹوانا۔ کیونکہ کاغذ کون سادرختوں پر لگے ہوتے ہیں۔ ان کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔”
    انہوں نے کاغذوں کا ایک انبار ڈسٹ بن کی نذر کیا۔
    ”قیمتیں تو ہر چیز کی ہی آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ اللہ کا شکر کہ آکسیجن پر ٹیکس نہیں لگا، ورنہ امیروں کے تو گودام سلنڈروں سے بھرے ہوتے اور غریب بے چارے سانس بھی مہینوں بعد ہی لیتے۔” اس نے تشکرانہ لہجہ اختیار کیا۔
    ”برخوردار! آج کل کے زمانے میں کوئی بھی چیز سستی نہیں ہے۔” اُنہوں نے فائلو ں میں سر گھسیڑا۔
    ”سوائے انسانی جان کے!” نہ چاہتے ہوئے بھی میری زبان اکثر پھسل جاتی۔
    ”حیرت ہے شکیلہ! بھابی تمہاری بچے سمیت کب سے میکہ بیٹھی ہوئی ہے اور تم ہو کہ ان کی محبت میں مری جارہی ہو۔” ثنا کی آواز مجھے حال میں کھینچ کر واپس لے آئی وہ شکیلہ کی فرمائش پر بچوں کے کپڑے اور کھلونے چھانٹی کرکے ایک طرف رکھتی جارہی تھی جنہیں شکیلہ محترمہ شاپرز میں بھرتی جارہی تھی۔ وہ بھی اپنے نام کی ایک ہی تھی۔ کبھی کتابیں لے کر ثنا کے پاس پہنچ جاتی تو کسی دن انگلش کے آدھے ادھورے جملے کہیں سے سن کر آجاتی اور پھر ان کا مطلب پوچھ پوچھ کر ثنا کو اُلجھائے رکھتی۔
    ”باجی ہو آر یو کا کیا مطلب ہے۔”
    ”اور آئی ایم کا؟” ثنا زچ ہوجاتی ۔ اس روز بھی وہ سامان چھانٹی کروانے کے ساتھ ساتھ آدھے ادھورے جملوں سے اُسے تپائے جارہی تھی۔
    ”بھابی میکے جاکر بیٹھی ہے تو قصور بھی تو بھائی کا ہی ہے نا۔” اس نے کھلونے سمیٹ کر شاپر میں ڈالے۔
    ”تم دنیا کی پہلی نند ہو جو بھابی کی نہ صرف طرفداری کررہی ہے بلکہ ہر بار اتنی چیزیں بھی جمع کرکے لے کر جاتی ہے بھابی اور بھتیجے کیلئے۔” ثنا نے حیرت کا اظہار کیا۔
    ”غلطی میرے بھائی کی ہی ہے جی۔ اس کا چکر چل رہا ہے میری چاچی کے ساتھ ۔” اس نے منہ بنایا جبکہ ثنا حیران رہ گئی۔
    ”چاچی کے ساتھ؟” اس کے حرکت کرتے ہوئے ہاتھ یوں ساکت ہوئے جیسے ایٹم بم گرنے کی خبر پڑھ لی ہو۔
    ”تو تمہارے چچا اور باقی خاندان والے کچھ کہتے نہیں؟”
    ”چچا کی تو وفات ہوگئی ہے۔ کافی بڑے تھے چاچی سے عمر میں۔ اب کون روک ٹوک کرے؟”اس نے شانے اچکاتے ہوئے کہا۔
    ”تو تم لوگ چاچی کو ا س کے والدین کے گھر بھیج دو۔ اولاد بھی نہیں ہے وہ اس کی کسی اچھی جگہ شادی کروادیں۔” ثنا نے سمجھدار کا مظاہرہ کیا۔
    ” اچھی جگہ؟ جب کنواری تھی تب بڑی عمر والے سے بیاہ دی تھی تو اب کون سا اچھا رشتہ ملے گا بھلا۔ والدین لے کر جانا بھی نہیں چاہتے۔ گھر میں آگے چار جوان لڑکیاں بیٹھی بڈھی ہورہی ہیں تو بیوہ بیٹی کے رشتہ اور کھانے پینے کی ذمہ داری کون اُٹھائے۔” وہ یوں ہنسی جیسے کوئی لطیفہ سن لیا ہو۔
    ”مگر ان کو اس سب معاملے سے کوئی بڑا آگاہ کرے تب تو وہ یقینا لے ہی جائیں گے۔ اُنہیں بھی تو پتہ چلے کہ ان کی بیٹی بیوگی کے بعد ان کی عزت کو بٹہ لگارہی ہے اور کسی کا گھر خراب کررہی ہے۔” ثنا جذباتی ہوگئی تھی۔
    ”باجی اس کا بوڑھا باپ بستر پر پڑا ہے۔ ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے ۔ بہنیں بھی لوگوں کے کپڑے سیتی ہیں تب بھی روٹی کے لالے پڑے ہوتے ہیں۔ خالی پیٹ کسی نے عزت کا اچار ڈالنا ہے۔” وہ بے دھیانی میں بڑی گہری بات کر گئی تھی۔
    ”اب ایسی بھی بات نہیں ہے کہ وہ دو وقت کی روٹی کے پیچھے بیٹھی کی حرکتوں کی طرف سے آنکھیں بند کرکے بیٹھ جائیں۔اُنہیں خبر تو کرو۔ اپنی اماں سے کہو وہ بات کریں۔ خود ہی سے سب اندازہ لگاکر بیٹھ گئے ہو۔” اس نے منہ بسورا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”انہیں سب پتہ ہے جی، آپ نہیں سمجھیں گی باجی! جہاں سارا دن کی بھاگ دوڑ کے بعد بھی رات کو پیٹ بھر کھانا نہ ملے وہاں ان باتوں کے بارے میں کون سوچتا ہے۔ ہمارے علاقے میں کبھی آکر دیکھیںہر گھرکا یہی حال ہے۔ لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والی کنواری جوان بیٹیاں چاہے شام دیر سے گھر واپس آئیں اور کام زیادہ ہونے کا بہانہ کردیں اور چاہے نیا جوڑا میک اپ جیولری اور موبائل ہاتھ میں لے کر پھر یں کسی کو کوئی فکر نہیں ہوتی نہ کوئی کچھ پوچھتا ہے۔ دن بھر گھر گھر کام کرنیوالی اور رات کو میاں سے پٹ کر ہلدی ملنے والی ہماری ماؤں کے پاس اتنا وقت کہاں کہ وہ ہم سے تفتیش کرتی پھریں یا ہم پر نظر رکھ سکیں۔” اس کے لہجے اور انداز میں ایسا کچھ تھا کہ میں لمحہ بھر کو پین روک کر اُسے دیکھنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ وہ بیس بائیس سالہ لڑکی میچورٹی کے لحاظ سے اُس وقت اپنی عمر سے دگنی باتیں کررہی تھی مگر گھر کی چار دیواری میں مارننگ شوز دیکھ کر اور برانڈڈ کپڑے پہن کر زندگی گزارنے والی میری بیوی میں اتنی سمجھ بھلا کہاں سے آتی۔ سچ ہے کہ تجربہ سب سے بڑا استاد ہے۔ تب ہی تو ان پڑھ کام والی اس وقت خود استاد بنی بیٹھی تھی اور حسب توقع ثنا ناسمجھنے والے انداز میں شکیلہ کو گھور رہی تھی۔
    ”اب دیکھیں میری اماں صبح صفائی اور گھر کے تھوڑے بہت کام نمٹا کر سات بجے میرے ساتھ گھر سے نکلتی ہے۔ جمیلہ بچوں کی وجہ سے صبح کام کاج نہیں کرسکتی۔ دوپہر میں میں یا جمال واپس آتے ہیں تو وہ بچوں کو روٹی کھلا کر کام پر نکلتی ہے۔ جمال کھیل کود میں لگ جاتا ہے ایسے میں میں اگر شام دیر سے بھی واپس جاؤں تو پوچھنے والا کون بیٹھا ہے۔ سائیں اور بی بی کو تو خود کا ہوش نہیں ہوتا۔” اس نے اپنے معذور بھائی اور بہن کا نام لیا ۔ دو مرلہ کے اس کے مکان میں گھر کے افراد اور مسائل کا ایک انبار جمع تھا۔ لاہور کے علاقہ ”چونگی اَمر سدھو” کا ایک غریب گھرانہ جہاں ماں اور بڑا بھائی صبح کام کو نکلتے تو رات گئے واپس آتے۔ بڑی بہن جمیلہ جو تین بچوں کے بعد طلاق لے کر گھر آبیٹھی تھی خود گھروں میں کام کرکے بمشکل اپنے بچوں کا خرچا پورا کرتی۔پھر دو ذہنی معذور بھائی بہن جو سارا دن میلے کپڑوں اور منہ سے ٹپکتی رال کے ساتھ گھر ے دروازے پر بیٹھے رہتے۔ پھر شکیلہ تھی اور اس کا بھائی جمال جو کسی خیراتی سکول میں پڑھ رہا تھا۔ ایک یہی نہیں اس علاقے میں اکثریت ایسے ہی گھروں کی تھی۔ جگہ جگہ سرنجوں میں زہر بھر کر رگوں میں اُتارنے والے بھی نظر آجاتے تھے جوکہ معمولی بات تھی۔
    میں جو پچھلے دو گھنٹوں سے کچھ لکھنے کی کوشش کررہا تھا کبھی بچوں کے شور اور کبھی بیگم کے اس بحث و مباحثہ سے ڈسٹرب ہوکر کاغذ کے گولے ڈسٹ بن کی نذ رکرتا جارہا تھا۔ تنگ آکر اپنا سارا سازوسامان اُٹھا کر میں تنہائی اور خاموشی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ کچھ روز قبل ایڈیٹر صاحب نے میگزین کے اسپیشل ایڈیشن کے لئے مجھے کوئی ہلکا پھلکا، مزاح سے بھرپور مضمون لکھنے کو کہا تھا جوکہ میری عادت اور لکھنے کے انداز دونوں کے ہی برعکس تھا۔
    ”سرآج کل کے دور میں ہلکا پھلکا اور آسان لکھنا ہی تو زیادہ بھاری اور مشکل کام ہے۔”
    میں نے ٹال مٹول سے کام لیا۔
    ”برخوردار! اس بات کا بھی تو دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ بھاری بھرکم اکثر خود پر ہی بھاری پڑتا ہے۔” اُنہوں نے ذومعنی لہجہ اختیار کیا۔ یہ حقیقت تھی کہ میرے لکھنے کے خاصے کھلے ڈلے اور بے باک سٹائل نے اُنہیں کئی بار ناکوں چنے چبوائے تھے۔ کئی بار تنبیہی نوٹس بھی مل چکے تھے۔ مگر مجھے لمبی چھٹی دینا ان کے بس میں نہیں تھا۔ کیونکہ میرے لکھے ہوئے کالم، مضامین اور آرٹیکل ان کے اخبار اور میگزین کی جان ہوتے تھے۔ کچھ مگرمچھوں اور گندی مچھلیوں کو چھوڑ کر میرے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ باقی تمام عوام خصوصاً متوسط طبقہ کے دل کی آواز ہوتے تھے جس کی بنا پر ان کا اخبار چل رہا تھا۔ ورنہ پرانے اخبار سے سالوں کی وابستگی کے بعد ان کی حالات کے مطابق بدلتی ہوئی حکمت ِ عملی کے سبب مجھے کنارا کشی اختیار کرنا پڑی تھی۔
    ”سعد! تم لکھنے میں بہت تلخ ہوجاتے ہو۔ عوام یہ سب پڑھنا نہیں چاہتی اور پھر اوپر سے بھی پریشر بڑھتا جارہا ہے اتنا سچ اور اتنی تلخی کسی سے ہضم نہیں ہوتی۔” پرانے اخبار کے ایڈیٹر صاحب عاجز آچکے تھے۔
    ”سر یہ سب منظر عام پر نہیں آئے گا تو معاشرے کی اصلاح کیسے ممکن ہوگی؟ غربت، بیروزگاری، کرپشن جیسے مسائل کو پس پشت ڈال کر غیر اہم اور بے فائدہ چیزوں پر صفحے کالے کرنے کا کیا فائدہ؟” میں پھر سے اُسی بحث لاحاصل میں پڑگیا تھا۔ اس تلخی کی وجہ میرا یہ نیا آرٹیکل بھی تھا جس کو پڑھ کر ہر صاحب قلم تعریفوں کے پل تو باندھتا مگر ساتھ ہی اسے چھاپنے سے معذرت کے الفاظ بھی ترتیب دینے لگتا۔
    ”ہماری اَسّی فیصد عوام پہلے ہی ان روز مرہ مسائل اور ٹینشنز سے بے زار ہو چکی ہے۔ تھوڑی دیر کو ان سوچوں اور مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لئے اگر وہ میگزین اُٹھا لیتے ہیں تو یقینا وہ اس میگزین میں یہ سب پڑھنا نہیں چاہتے۔ کچھ مزاح اور تفریح کا سامان ڈھونڈتے ہیں۔ گلیمر چاہتے ہیں۔ اس قسم کے آرٹیکل اورخبریں عوام کو مزید فرسٹریشن کے سوا کچھ نہیں دیتے۔” انہوں نے سمجھانے کی کوشش کی۔
    ”اور گلیمر اور تفریح کیا ہے سر؟ آخر کیا لکھو ں میں؟ یہی کہ بسنت ایک ملکی اور ثقافتی تہوار ہے کیونکہ اب ثقافت کا مطلب محض ناچ گانا رہ گیا ہے۔ اگست کے مہینے میں ہفتہ دو ہفتہ گھرو ں پر قومی پرچم لہرا کر اندر بیٹھ کر انڈین ڈراموں سے لطف اندوز ہونا اور پھر جیوے جیوے پاکستان گالینا ”حب الوطنی” ہے؟ یا پھر اس بات پر بحث کروں کہ ویلنٹائن ڈے محبتوں کا تہوار ہے۔ نوجوانوں کی بے ضرر خوشیاں اور تفریحات ہیں ان میں اسلام کو نہ ٹھونسیں ۔ پر کونسی محبت سر؟ جس قوم کا بال بال سود اور قرضے میں جکڑا ہو کیا اُسے پھولوں کے کارڈز پر پیسے ضائع کرنا زیب دیتا ہے؟ جہاں آئے دن ماؤں کے لعل اُٹھائے جارہے ہوں اُن کے اعضا بیچے جارہے ہیں، تھر میں بچے فاقہ سے مررہے ہوںوہاں میں یہ بحث لاحاصل چھیڑدوں کہ فلاں ماڈل کوکافلاں سیاست دان کے ساتھ افیئر ہے یا نئی بالی ووڈ فلم کا فرسٹ ڈے فرسٹ شو ہاؤس فل گیا؟ کیا یہ قلم اور اس کی طاقت کے ساتھ مذاق نہیں ہوگا؟”
    مجھے اب واقعتا غصہ آگیاتھا۔
    ”تم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ آج کل کی عوام یہی سب دیکھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں؟ اخبار بند کرکے میں کوئی فلاحی کام تو نہیں کرسکتا فی سبیل اللہ۔” ان کے انداز میں تضحیک کا عنصر نمایاں تھا۔ میں نے بحث کو ختم کردینا ہی مناسب سمجھا اور خاموشی سے اُٹھ کر وہاں سے چل دیا۔
    مگر اگلے ہی دن اُنہیں اپنا استعفیٰ میل کرچکا تھا۔ پیسے ، شہرت ، نمبر ون کی دوڑ میں کسی کو یہ سمجھانا کہ کیا چیز مفید ہے اور کیا مضر ، حق کیا ہے اور باطل کیا اور کونسی چیز نشے کی لت سے بھی زیادہ مہلک ہے بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھا۔
    اس کے بعد بہت عرصہ مجھے فارغ ہی رہنا پڑا۔ جہاں میری ٹیلنٹ اور معلومات کو سراہا جاتا اور یہ بتایا جاتا کہ میں اس فیلڈ میں بہت آگے تک جاسکتا تھا وہیں پر اپنا سٹائل تھوڑا سا چینج کرنے کو بھی کہا جاتا۔اس سٹائل کی تبدیلی کے مفہوم سے میں اچھی طرح واقف تھا۔ مگر اس ضمیر کا کیا کرتا جو کسی طور نہ خاموش ہوتا تھا۔ مجھے سڑکوں پر بے مقصد گھومتے ہوئے ایک گھنٹہ سے اوپر ہوچکا تھا۔ فیروز پور روڈ سے قینچی اسٹاپ کراس کرتے ہوئے مجھے بیگم کا آرڈر یاد آگیا۔ شکر ہی تھا کہ گھر نہیں پہنچ گیاتھا ورنہ جھڑپ یقینی تھی۔ آج سنڈے تھا اور شام میں اُسے کسی تقریب میں جانا تھا سو اس کی لاڈلی شکیلہ کو شام میں بچوں کے پاس ٹھہرنے کا پیغام دینا لازمی تھا۔ گاڑی واپس موڑتے ہی مجھے دانتوں تلے پسینہ آگیا۔ شدید بارش کے بعد اس علاقہ میں گاڑی لے کر جانا ایک عذاب سے کم نہ تھا۔ ”چونگی امر سدھو” کا وہ علاقہ جہاں ذرا سی بارش کے بعد ہی جگہ جگہ گندے پانی کے جوہڑ بن جاتے تھے۔ مگر اس علاقہ کے بچے ان گندے پانی کے جوہڑوں کو سوئمنگ پول سمجھ کر انجوائے کرتے نظر آتے۔ شکیلہ کے گھر تک جاتے جاتے میرے صاف ستھرے لباس پر جگہ جگہ مختلف نقشے بن چکے تھے۔ واپسی پر مجھے چوک سے کچھ پہلے ”وہ ” اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی نظر آئی۔اکثر اس راستے سے گزرتے ہوئے بہت سی دکانوں کے بیچوں بیچ موجود اس سبزی فروٹ کی چھوٹی سی ٹھیلا نما دکان پر میری نظر چند سیکنڈ کے لئے اس پرجارکتی تھی۔ میلا کچیلا، جگہ جگہ سے پھٹا ہوا لباس، گرد آلود گھونسلہ جیسے بال، میل سے آٹا ہوا جسم، لمبے سیاہ ناخن، چپل سے بے نیاز سیاہ گھر والے پیر کیچڑ میں مار مار کر وہ اردگرد کے ماحول سے بے نیاز نیچے گرا ہوا گلاسڑاپھل بھی یوں رغبت سے کھا رہی ہوتی جیسے کوئی بچہ آئس کریم یا چاکلیٹ سے لطف اندوز ہورہا ہو۔ ایک لمحہ کو تو مجھے اُبکائی سی آگئی تھی۔مگر کوئی بھی ذی ہوش انسان اس پر ایک نظر ڈال کر ہی یہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ اس کی ذہنی حالت صاف گندے، اچھے برے کا تصور سمجھنے سے قاصر تھی۔ جو چیز پہلی ہی نظر میں دیکھنے والوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتی ان میں سے ایک تو اس کے ماتھے پر ابھرا ہوا سیاہ گوشت کا لوتھڑا جیسے الگ سے وہاں چپکایا گیا ہو اور کے علاوہ اس کے دائیں بازو پر موجود میل کچیل کے درمیان کسی پرانے اور گہرے زخم کے واضح نشانات تھے۔ اس تمام حلیہ کے باوجود اگر اس کا بغور جائزہ لیا جاتا تو اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ اس کی عمر کوئی تیس بتیس کے لگ بھگ تھی۔ یقینا وہ چند سال پہلے بہت خوبصورت بھی رہی ہوگی۔ مگر اس وقت تو اُسے اس حالت میں دیکھ کر سوائے کراہیت اور ترس کے اور کچھ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ اکثر وہ اسی ساٹھ ستر سالہ سبزی والے کی ریڑھی کے پاس بیٹھی کچھ کھانے میں مصروف نظر آتی۔ کبھی ہاتھ میں پکڑا باسی روٹی کا ٹکڑا، کوئی گلاسڑا پھل یا فنگس زدہ سالن جیسے کوئی بھی نارمل انسان دیکھ کر یا سونگھ کر ہی کوسوں دور پھینک دے۔ مگر وہ یہ سب ایسی رغبت سے کھا رہی ہوتی جیسے کئی دنوں کے فاقہ کش کے سامنے ایسے لذیذ کھانوں کا دستر خوان سجادیا گیا ہو۔ جن کی خوشبو دور تک کھڑے لوگوں کو بھی اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہو۔
    ”وہ کون تھی؟ کہاں سے آئی تھی؟” میں نے کبھی غور کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی تھی۔ کیونکہ میں جس فیلڈسے وابستہ تھا اس میں میرا واسطہ ہر طرح کے لوگوں سے پڑتا رہتا تھا۔ معاشرہ کی اکثریت غربت اور مسائل کی چکی میں پس رہی تھی۔ خاص طور پر اس علاقے میں تو مسائل کا ایک انبار جمع تھا۔ ڈھائی تین مرلہ کے گھروں میں کئی کئی خاندان بیک وقت، لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت ، نشے کی لت اور بھوک جیسے محاذوں پر برسرپیکار نظر آتے تھے۔
    مگر اس روز بلا ارادہ ہی میرے قدم ”مراد فروٹ شاپ” کی طرف بڑھنے لگے تھے ۔
    ٭…٭…٭
    ”اماں چوڑیاں۔” اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا بھاری تھیلا ایک ہاتھ سے دوسرے میں منتقل کیا اور للچائی ہوئی نظروں سے سامنے دکان میں لشکارے مارتی رنگ برنگی چوڑیوں کو دیکھنے لگی۔
    ”چل آگے۔” شیمو نے رکے بغیر اُسے گھر کا۔
    ”اماں آج تو لے دے۔ عید آرہی ہے نا!” تھیلا نیچے رکھ کر وہ ہمکنے لگی تھی۔ دکان میں رنگ برنگی ٹیوب لائٹس کی روشنی میں چکتی دمکتی چوڑیوں نے اس بار بھی اس کے قدم جکڑ لئے تھے۔
    ”آہو، تیرے پیو کا منی آرڈر آئے گا نا عید پر۔” سرپر رکھی وزنی بوری نیچے رکھ کر پھولی سانسیں بحال کرتے ہوئے اُس نے دوپٹے کے پلو سے پسینہ صاف کیا جبکہ شیمو کو رکتے دیکھ کر اس کے دل میں موہوم سی اُمید جاگ اُٹھی تھی۔
    ”اماں صرف آدھی درجن لے دے۔وہ سستی والی۔” اماں کے ہاتھ بوری کی طرف دوبارہ بڑھتے دیکھ کر اس نے پھر التجا کی۔
    ”سیدھی طرح ٹر(چل) ہن(اب)۔” اس نے ہاتھ گھما کر اُسے کس کر دو تھپڑ جڑے اور بوری دوبارہ سر پرلادلی۔ اماں کے قدم آگے بڑھتے دیکھ کر بھی اُسے من من بھر وزنی قدم اُٹھاتے دقت ہورہی تھی۔ نگاہیں جیسے جم سی گئیں تھیں۔ دفعتاً شیمو نے مڑ کر اُسے پھر سے گھورا اور ساتھ ہی گالیوں سے بھی نوازا۔ جبکہ اب دکاندار بھی اُسے اشارے سے وہاں سے ہٹنے کا کہہ رہا تھا۔ ہاتھ میں تھیلا پکڑے وہ مرے مرے قدم گھسیٹتی اس کے پیچھے چل پڑی۔ مگر بار بار مڑ کر حسرت بھری نظروں سے دکان کی جانب دیکھتی جاتی تھی۔ ایک قطار میں لگے ڈھیر سارے سیٹ اس کی نظروں کے سامنے سے ہٹ ہی نہیں رہے تھے۔موڑ مڑنے تک وہ مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتی رہی۔
    شیمو نے گھر میں داخل ہوکر بوری باہر صحن میں رکھی جبکہ وہ ٹھیلا لئے ابھی باہر ہی کھڑی تھی گویا ناراضی کااظہار کررہی ہو۔مگر پروا کسے تھی۔
    ”نواب زادی اب اندر آئے گی یا بینڈ باجے بجواؤں تیرے لئے۔ اتنے کا م پڑے ہیں تیرا خصم آکر کرے گا۔” صحن میں اس کی چنگھاڑ بخوبی آس پاس کے مکان میں بھی سنی جاسکتی تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • محبوب چہرہ — محمد جمیل اختر

    محبوب چہرہ — محمد جمیل اختر

    ہاں ہر چہرہ کسی کا محبوب ہوتا ہے یہ بات آپ نے ضرور سن رکھی ہوگی۔ سب کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے لیکن کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ کیا یہ واقعی سچ ہے؟ اگر آپ اسے سچ سمجھتے ہیں تو میرے سا تھ آئیں میں آپ کواس بستی کے کچھ لوگوں سے ملواتا ہوں جو بالکل ویسے ہی سانس لے رہے ہیں جیسے کہ باقی انسان لیکن کچھ فرق تو ہے۔ معلوم نہیں یہ کس کے محبوب ہیں۔شاید ان سے ملنے کے بعد آپ کے خیالات بدل جائیں۔
    یہ ہے کمالا مسلی، کیا یہ بھی کسی محبوب ہوگا ؟ کوئی تو اس کی بھی عزت کرتا ہوگا؟
    کیا کہا ؟ اس کی بیوی؟
    واقعی ،بات ہونی تو ایسی ہی چاہیے تھی لیکن ایساہے نہیں ، اس کی بیوی اسے سارا دن برا بھلا کہتی رہتی ہے، اور باقی دنیا چوں کہ بہت صاف ستھری ہے سو وہ ایک گند اٹھانے والے سے محبت کیوں کر کرے گی۔ گند اٹھانا کوئی ایسا غیر اہم کام بھی نہیں ہے دنیا کو کمالے کو مسلی نہیں کہنا چاہیے کم از کم نام تو پورا لینا چاہیے۔ اچھا نام پورا نہ لیں لیکن ساتھ مسلی تو نہ لگائیں۔ اچھا مسلی بھی کہہ لیں لیکن اسے گندا تو نہ سمجھیں لیکن دنیا اسے گندا سمجھتی ہے اوردنیا تن کے کالے اور من کے کالے میں فرق نہیں کرتی۔ کمالا تو چلیں مسلی ہے سو اس سے تو محبت نہیں کی جاسکتی لیکن اس گائوں میں ایک اور دکھی عورت بھی تھی۔ غلام حسین کی بڑی بیٹی سلیمہ ۔ غلام حسین کی چار بیٹیوں میں یہ سب سے بڑی، سلیقہ شعار اور نیک سیرت لڑکی تھی۔
    بس ذرا رنگ کالا تھا، بچپن میں چیچک ہوا تو وہ اپنی نشانی بھی چھوڑ گیا لیکن اگر محبت اندھی ہے تو پھر سلیمہ سے بھی کسی کو تو محبت ہونی چاہیے تھی۔ زندگی کی پینتیس بہاریں دیکھیں لیکن جب بھی کوئی رشتے کے لیے آیاتو اس نے اس سے چھوٹی بہنوں کا ہی رشتہ مانگا ، شروع شروع میں غلام حسین نے انکار کیا کہ پہلے سلیمہ کا بوجھ سر سے اترنا چاہیے لیکن یہ وہ بوجھ تھا جو کوئی اٹھانے کوتیار ہی نہیں تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ سلیمہ چاند کا ٹکڑا تھی لیکن کوئی بھی اسے اپنے گھر لے جانے کوتیار نہیں تھاکیا آپ یقین کریں گے کہ اس کے لیے پینتیس سال تک کوئی رشتہ لے کر نہیں آیا اور جب ایک رشتہ آیا تو وہ ساتھ کے گائوں کے ایک رنڈوے مراثی کا جس کو اپنے دو بچوں کے پرورش کے لیے کوئی عورت چاہیے تھی۔
    غلام حسین کا بوڑھا جسم اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ انکارکرے سو سلیمہ بیاہ دی گئی ۔ ایسی شادیاں شاید ہی آپ نے کہیں دیکھی ہوں جس میں کسی کو کوئی خوشی نہ محسوس ہورہی ہو حتیٰ کہ دُلہا دلہن کو بھی ۔ وہ بڑی خدمت گزار بیوی تھی لیکن پھر بھی کھانا کم اور ذرا ذرا سی بات پر مار زیادہ کھاتی ۔ ہاں آپ نے ایسی کہانیاں سن رکھی ہوں گی کہ عورتوں پر بڑا ظلم ہوتا ہے لیکن کیا یہ جھوٹ ہے ؟ سلیمہ ایسا خزانہ تھی جو کسی بددیانت کے ہاتھ لگ جائے اور اسے سمجھ ہی نہ ہو کہ اس کا کرنا کیا ہے۔ دو سال بعد اسے کوئی پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ کون ہے، سینتیس سال کی عمر میں وہ ایسی بیمار ہوئی کہ مر گئی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اور ظلم یہ کہ اس کے شوہر کو کو ئی غم بھی نہیں تھا۔ تو سلیمہ کس کی محبوب تھی؟ شاید اس کے دل میں بھی کوئی خواب ہو کہ وہ بھی کسی کی محبوب ہو۔آہ دنیا میں محبت کو بھی کوئی وجہ چاہیے بغیر وجہ کے یہ بھی نہیں ہوتی۔
    آئیے آگے چلتے ہیں ان سے ملیے! ہاں یہ صاحب جو سر پر بھاری سا تھیلا اٹھائے جارہے ہیں جی یہ جانی صاحب ہیں ، نہیں یہ کسی کے جانی نہیں ا ن کو لوگ جانی کہہ کر پکارتے ہیں۔ ساری بستی میں یہ سب سے سستے مزدور ہیں۔ کوئی بھی سامان اٹھوانا ہو کتنی دور لے کر جانا ہو کرایہ فقط پانچ روپے لیتے ہیں۔ دماغی صلاحیت کے اعتبار سے جانی تھوڑا کمزور ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک بار کچھ سال قبل کسی کام کے سلسلے میں اسے شہر بھیجا گیا تو بے چارا بس سٹاپ پر اترتے ہی پریشان ہوگیا کہ اتنی گاڑیا ں اور اتنے لوگ کہاں جارہے ہیں یا کہاں سے آرہے ہیں؟ سونے پر سہاگہ پہلے کسی نے جیب کاٹ لی پھر کوئی سامان کی پوٹلی بھی لے اُڑا۔ اب واپس کیسے آتا یہاں توکوئی جان پہچان کے بغیر سامان بھی نا اُٹھواتا۔
    لوگوں کی بڑی منتیں کیں کہ دیکھیں میرا سامان چوری ہوگیا ہے، مجھے گھر جانا ہے کچھ روپے دے دیں۔ میں بستی جاکربہت سا سامان اٹھائوں گا تو پہلے آپ کا قرض ادا کروں گا لیکن یہ شہر عجیب تھا یہاں کسی کو کسی پر اعتبار ہی نہیں تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ ایک تو آج کل مانگنے والوں کے پاس نئے نئے گر آگئے ہیں، کوئی دھوکے باز کہتا، کوئی چور اور کوئی کچھ بھی نہ کہتا بس آنکھیں دکھا دیتا ۔ حالاں کہ وہ چور نہیں تھا دھوکے باز تو بالکل بھی نہیں تھا۔ سارے گائوں کا سامان اُٹھاتا اور کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کی ، کئی دفعہ مالٹوں کی پوری بوری چودھریوں کے گھر پہنچائی لیکن مجال ہے کہ ایک مالٹابھی جانی نے لیا ہو حالاں کہ پوری بوری میں سے کسی کو کیا معلوم کے ایک مالٹا کم ہے لیکن نہیں۔ پھر کسی نے بتایا کہ چوک میں مزدور بیٹھے ہیں ان کے ساتھ بیٹھ جائو قسمت ہوئی تو مزدوری مل جائے گی۔ سو وہ بیٹھ گیا وہیں، ایک صاحب آئے اور سبزی منڈی میں کچھ بوریاں ٹرک پر لادنے کا کہا، مزدوری پوچھی گئی تو جانی صاحب کے منہ سے ہمیشہ کی طرح پانچ نکلا ہی تھا کہ وہ صاحب بولے:” او نہ بھائی اس کام کے پانچ سو تو نہیں بنتے تین سو دوں گا۔”” جی جی ٹھیک ہے بلکہ بہت ٹھیک ہے۔” اور یوں شام کو جانی کو زندگی کی سب سے زیادہ مزدوری ملی ۔ا گلی ہی گاڑی پر بیٹھ کر واپس آگئے اور کئی دن گھر سے نہ نکلے ۔
    جب گھرسے نکلتے تو لوگ کہتے سنا ہے جانی شہر گئے تھے ؟ سنا ہے راستہ بھول گئے تھے؟ کچھ من چلے تو انہیں شہری بابو کہہ کر بھی چھیڑتے۔
    ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ہر چہرہ کسی کا محبوب ہوتا ہے تو جانی کس کامحبوب ہوگا؟ وہ بے چارہ تو اپنی بیوی کا بھی محبوب نہ بن سکا تو اور لوگوں کا کیا محبوب بنتا۔
    اس کی بیوی کا قصہ کچھ یوں ہے کہ جس روز جانی کی شادی ہوئی بیوی اگلے ہی دن روٹھ کر میکے چلی گئی کہ میں نے نہیں رہنا اس پاگل کے ساتھ اور خلع کا مقدمہ کردیا۔ آخر یہ جھگڑا طلاق پر ختم ہوا۔ کہتے ہیں کہ طلاق کے کاغذوں پر جانی نے رو رو کر انگوٹھے لگائے تھے۔ جانی کے آنسو بھلا کس نے دیکھنے تھے۔ اب بھی گائوں والے جانی بے چارے کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ جانی سے اس کی بیوی کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ یہ دنیا سچ میں بہت ظالم ہے۔جانی تمام عمر کسی کا محبوب نہیں بن سکا۔محبت کیوں کر اندھی ہوتی ہے؟
    یہ ابھی تین گلیوں کی کہانیاں تھیں۔ ہاں ہاں آپ ضرور کہیں گے کہ ان تین گلیوں میں کتنے ہی محبوب چہرے ہوں گے۔ جی بالکل آپ درست کہہ رہے ہیں جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ محبت کسی نہ کسی وجہ سے ہی ہوتی ہے، سو میرے ساتھ انہی گلیوں میں تھوڑی دیر گھومیے وجہ بھی مل جائے گی۔
    یہ جو ابھی ابھی نئے ماڈل کی گاڑی گزری ہے جس کو دیکھ کر لوگ ہاتھ ہلا رہے تھے، یہ ملک صاحب کی بیٹے کی گاڑی تھی، ملک صاحب کا اکلوتا سپوت، ملک جابرجو کہ ملک صاحب کی ساری جائیداد کا وارث ہے۔ یقین مانیں وہ بُرا آدمی ہے، جوا کھیلتا ہے، شراب پیتا ہے، لیکن پھر بھی یہ دنیا اسے اچھا سمجھ کر سلام کرتی ہے۔ جابرسے محبت کی جاسکتی ہے کیوں کہ اتنی بڑی جائیداد محبت کرنے کی وجہ ہو سکتی ہے۔ یہی ملک جابر اگر کمالے مسلی کا بیٹا ہوتا تو سارے گائوں والے اس پر تھوکتے اور شرابی ، جواری کہہ کر اب تک گائوں بدر کر چکے ہوتے لیکن وہ جہاں سے گزرتا ہے، سلام ملک صاحب کو ہو رہا ہوتا ہے۔
    آئیں اب آپ کو دوسری گلی کی ہر دل عزیز شخصیت سے ملواتا ہوں۔ یہ ہیں ڈاکٹر ناصر، یقین مانیں یہ ڈاکٹر نہیں ہیں۔ کوئی ڈگری بھی نہیں ہے۔ بس شہر سے کمپائونڈری کا کوئی کورس کیا ہوا ہے یہاں گائوں میں کوئی ڈاکٹر نہیں تھاتو انہوں نے کلینک کھول لیا اور باہر ڈاکٹر ناصر ایم بی بی ایس لکھوا لیا اور ڈاکٹروں کی طرح ایک موٹی سی عینک لگائی سٹھیتوسکوپ گلے میں لگایا اور پورے ڈاکٹر بن گئے۔ سارے گائوں کا علاج کرتے ہیں اور جیب بھرتے ہیں لیکن گائوں میںکسی کوکوئی اعتراض نہیں ہے۔
    کس نے ڈگریاں چیک کرنی تھیں اور چیک بھی کیوں کرتے؟ یہاں جہاں ہم رہتے ہیں لوگ جعلی ڈگریا ں لے کر ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں، یہ تو پھر ایک کلینک ہے۔ سو سارے گائوں میں ڈاکٹر ناصر کی واہ واہ ہوتی ہے۔ یقینا کئی لڑکیا ں دل ہی دل میں انہیں اپنے خوابوں کا شہزادہ سمجھتی ہوں گی حالاں کہ وہ ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک قومی مجرم ہے جو لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے لیکن دنیا کب سمجھتی ہے۔ دنیا بالکل بھی نہیں سمجھتی ان کہانیوں کے سننے کے بعد بھی آپ یقینا کہہ رہے ہوں گے کہ ”محبت تو اندھی ہوتی ہے۔”
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • نیا قانون — سعادت حسن منٹو

    نیا قانون — سعادت حسن منٹو

    منگو کوچوان اپنے اڈے میں بہت عقلمند آدمی سمجھا جاتا تھا۔ گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابر تھی اور اس نے کبھی اسکول کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں کا علم تھا۔ اڈے کے وہ تمام کوچوان جن کو یہ جاننے کی خواہش ہوتی تھی کہ دنیا کے اندر کیا ہو رہا ہے، استاد منگو کی وسیع معلومات سے اچھی طرح واقف تھے۔
    پچھلے دنوں جب استاد منگو نے اپنی ایک سواری سے اسپین میں جنگ چھڑ جانے کی افواہ سنی تھی تو اس نے گاما چودھری کے چوڑے کاندھے پر تھپکی دے کر مدبرانہ انداز میں پیش گوئی کی تھی، ’’دیکھ لینا گاما چودھری، تھوڑے ہی دنوں میں اسپین کے اندر جنگ چھڑ جائے گی۔‘‘
    جب گاما چودھری نے اس سے یہ پوچھا تھاکہ اسپین کہاں واقع ہے تو استاد منگو نے بڑی متانت سے جواب دیا تھا، ’’ولایت میں اور کہاں؟‘‘
    اسپین کی جنگ چھڑی۔ اور جب ہرشخص کو پتہ چل گیا تو اسٹیشن کے اڈے میں جتنے کوچوان حقہ پی رہے تھےدل ہی دل میں استاد منگو کی بڑائی کا اعتراف کر رہے تھے۔ اور استاد منگو اس وقت مال روڈ کی چمکیلی سطح پر تانگہ چلاتے ہوئے کسی سواری سے تازہ ہندو مسلم فساد پر تبادلہ خیال کر رہا تھا۔

    اس روز شام کے قریب جب وہ اڈے میں آیا تو اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر تمتمایا ہوا تھا۔ حقے کا دور چلتے چلتے جب ہندو مسلم فساد کی بات چھڑی تو استاد منگو نےسر پر سے خاکی پگڑی اتاری اور بغل میں داب کر بڑے مفکرانہ لہجے میں کہا، ’’یہ کسی پیر کی بددعا کا نتیجہ ہے کہ آئے دن ہندوؤں اور مسلمانوں میں چاقو، چھریاں چلتی رہتی ہیں۔ اور میں نے اپنے بڑوں سے سناہے کہ اکبر بادشاہ نے کسی درویش کا دل دکھایا تھا۔ اور اس درویش نے جل کر یہ بددعا دی تھی، ’جا، تیرے ہندستان میں ہمیشہ فساد ہی ہوتے رہیں گے‘ اور دیکھ لو جب سے اکبر بادشاہ کا راج ختم ہوا ہے ہندستان میں فساد پر فساد ہوتے رہتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔ اور پھر حقّے کا دم لگا کر اپنی بات شروع کی، ’’یہ کانگرسی ہندستان کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر یہ لوگ ہزار سال بھی سر پٹکتے رہیں تو کچھ نہ ہو گا۔ بڑی سے بڑی بات یہ ہو گی کہ انگریز چلا جائے گا اور کوئی اٹلی والا آجائے گا۔ یا وہ روس والا جس کی بابت میں نے سنا ہے کہ بہت تگڑا آدمی ہے۔ لیکن ہندستان سدا غلام رہے گا۔ ہاں میں یہ کہنا بھول ہی گیا کہ پیر نے یہ بددعا بھی دی تھی کہ ہندستان پر ہمیشہ باہر کے آدمی راج کرتے رہیں گے۔‘‘

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    استاد منگو کو انگریزوں سے بڑی نفرت تھی۔ اور اس نفرت کا سبب تو وہ یہ بتلایا کرتا تھا کہ وہ ہندستان پر اپنا سکہ چلاتے ہیں۔ اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں۔ مگر اس کے تنّفر کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستایا کرتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے گویا وہ ایک ذلیل کتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ان کا رنگ بھی بالکل پسند نہ تھا۔ جب کبھی وہ گورے کے سرخ وسپید چہرے کو دیکھتا تو اُسے متلی آ جاتی۔ نہ معلوم کیوں وہ کہا کرتا تھا کہ ان کے لال جھریوں بھرے چہرے دیکھ کر مجھے وہ لاش یاد آ جاتی ہے جس کے جسم پر سے اوپر کی جھلّی گل گل کر جھڑ رہی ہو۔
    جب کسی شرابی گورے سے اس کا جھگڑا ہو جاتا تو سارا دن اس کی طبیعت مکّدر رہتی۔ اور وہ شام کو اڈے میں آکر ہل مارکہ سگرٹ پیتے یا حُقے کے کش لگاتے ہوئے اس ’گورے‘ کو جی بھر کر سنایا کرتا۔ ’’۔۔۔‘‘ یہ موٹی گالی دینے کے بعد وہ اپنے سر کو ڈھیلی پگڑی سمیت جھٹکا دے کر کہا کرتا تھا، ’’آگ لینے آئے تھے۔ اب گھر کے مالک ہی بن گئے ہیں۔ ناک میں دم کر رکھا ہے ان بندروں کی اولاد نے۔ یوں رعب گانٹھتے ہیں گویا ہم ان کے باوا کے نوکر ہیں ۔‘‘
    اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا۔ جب تک اس کا کوئی ساتھی اس کے پاس بیٹھا رہتا وہ اپنے سینے کی آگ اگلتا رہتا، ’’شکل دیکھتے ہو نا تم اس کی۔۔۔ جیسے کوڑھ ہو رہا ہے۔۔۔ بالکل مردار، ایک دھپّے کی مار اور گٹ پٹ یوں بک رہا تھا جیسے مار ہی ڈالے گا۔ تیری جان کی قسم، پہلے پہل جی میں آئی کہ ملعون کی کھوپڑی کے پرزے اڑا دوں لیکن اس خیال سے ٹل گیا کہ اس مردود کو مارنا اپنی ہتک ہے۔۔۔‘‘ یہ کہتے کہتے وہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو جاتا۔ اور ناک کو خاکی قمیص سے صاف کرنے کے بعد پھر بڑبڑانے لگ جاتا، ’’قسم ہے بھگوان کی ان لاٹ صاحبوں کے ناز اٹھاتے اٹھاتے تنگ آ گیا ہوں۔ جب کبھی ان کا منحوس چہرہ دیکھتا ہوں رگوں میں خون کھولنے لگ جاتا ہے۔ کوئی نیا قانون وانون بنے تو ان لوگوں سے نجات ملے۔ تیری قسم جان میں جان آ جائے۔‘‘
    اور جب ایک روز استاد منگو نے کچہری سے اپنے تانگے پر دو سواریاں لادیں اور ان کی گفتگو سے اسے پتہ چلا کہ ہندستان میں جدید آئین کا نفاذ ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
    دو مارواڑی جو کچہری میں اپنے دیوانی مقدمے کے سلسلے میں آئے تھے گھر جاتے ہوئے جدید آئین یعنی انڈیا ایکٹ کے متعلق آپس میں بات چیت کر رہے تھے، ’’سنا ہے کہ پہلی اپریل سے ہندوستان میں نیا قانون چلے گا۔۔۔ یا ہر چیز بدل جائے گی؟‘‘
    ’’ہر چیز تو نہیں بدلے گی۔ مگر کہتے ہیں کہ بہت کچھ بدل جائے گا اور ہندستانیوں کو آزادی مل جائے گی؟‘‘
    ’’کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا؟‘‘
    ’’یہ پوچھنے کی بات ہے کل کسی وکیل سے دریافت کریں گے۔‘‘ ان مارواڑیوں کی بات چیت استاد منگو کے دل میں ناقابلِ بیان خوشی پیدا کر رہی تھی۔ وہ اپنے گھوڑے کو ہمیشہ گالیاں دیتا تھا۔ اور چابک سے بہت بری طرح پیٹا کرتا تھا۔ مگر اس روز وہ بار بار پیچھے مڑ کر مارواڑیوں کی طرف دیکھتا۔ اور اپنی بڑھی ہوئی مونچھوں کے بال ایک انگلی سے بڑی صفائی کے ساتھ اونچے کرکے گھوڑے کی پیٹھ پر باگیں ڈھیلی کرتے ہوئے بڑے پیار سے کہتا، ’’چل بیٹا۔۔۔ ذرا ہوا سے باتیں کرکے دکھا دے۔‘‘
    مارواڑیوں کو ان کے ٹھکانے پہنچا کر اس نے انارکلی میں دینو حلوائی کی دکان پر آدھ سیر دہی کی لسّی پی کر ایک بڑی ڈکار لی۔اور مونچھوں کو منہ میں دبا کر ان کو چوستے ہوئے ایسے ہی بلند آواز میں کہا، ’’ہت تیری ایسی تیسی۔‘‘
    شام کو جب وہ اڈے کو لوٹا تو خلافِ معمول اسے وہاں اپنی جان پہچان کا کوئی آدمی نہ مل سکا۔ یہ دیکھ کر اس کے سینے میں ایک عجیب و غریب طوفان برپا ہو گیا۔ آج وہ ایک بڑی خبر اپنے دوستوں کو سنانے والا تھا۔۔۔ بہت بڑی خبر، اور اس خبر کو اپنے اندر سے نکالنے کے لیے وہ سخت مجبور ہو رہا تھا لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔
    آدھ گھنٹے تک وہ چابک بغل میں دبائے اسٹیشن کے اڈے کی آہنی چھت کے نیچے بیقراری کی حالت میں ٹہلتا رہا۔ اس کے دماغ میں بڑے اچھے اچھے خیالات آ رہے تھے۔ نئے قانون کے نفاذ کی خبر نے اس کو ایک نئی دنیا میں لاکر کھڑا کر دیا تھا۔ وہ اس نئے قانون کے متعلق جو پہلی اپریل کو ہندستان میں نافذ ہونے والا تھا اپنے دماغ کی تمام بتیاں روشن کرکے غورو فکر کر رہا تھا۔ اس کے کانوں میں مارواڑی کا یہ اندیشہ ’’کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا؟‘‘ بار بار گونج رہا تھا۔ اور اس کے تمام جسم میں مسّرت کی ایک لہر دوڑا رہا تھا۔ کئی بار اپنی گھنی مونچھوں کے اندر ہنس کر اس نے مارواڑیوں کو گالی دی۔۔۔ ’’غریبوں کی کھٹیا میں گُھسے ہوئے کھٹمل۔۔۔ نیا قانون ان کے لیے کھولتا ہوا پانی ہو گا۔‘‘
    وہ بے حد مسرور تھا، خاص کر اس وقت اس کے دل کو بہت ٹھنڈک پہنچتی جب وہ خیال کرتا کہ گوروں۔۔۔ سفید چوہوں (وہ ان کو اسی نام سے یاد کیا کرتا تھا) کی تھوتھنیاں نئے قانون کے آتے ہی بلوں میں ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی۔
    جب نتھو گنجا، پگڑی بغل میں دبائے، اڈے میں داخل ہوا تو استاد منگو بڑھ کر اس سے ملا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہنے لگا، ’’لا ہاتھ ادھر۔۔۔ ایسی خبر سناؤں کہ جی خوش ہو جائے۔۔۔ تیری اس گنجی کھوپری پر بال اگ آئیں۔‘‘ اور یہ کہہ کر منگو نے بڑےمزے لے لے کر نئے قانون کے متعلق اپنے دوست سے باتیں شروع کر دیں۔ دورانِ گفتگو میں اس نے کئی مرتبہ نتھو گنجے کے ہاتھ پر زور سے اپنا ہاتھ مار کر کہا، ’’تو دیکھتا رہ، کیا بنتا ہے، یہ روس والا بادشاہ کچھ نہ کچھ ضرور کرکے رہے گا۔‘‘

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • اے شب تاریک گزر — صدف ریحان گیلانی (تیسرا اور آخری حصّہ)

    اے شب تاریک گزر — صدف ریحان گیلانی (تیسرا اور آخری حصّہ)

    شہباز کبیر کی اولاد میں وہ تیسرے نمبر پر تھی۔ بھولی بھالی۔ من موہنی صورت، بلا کی سادہ مزاج اور حد درجے ذہین۔ جس عمر میں بچے کھیل کھلونوں کی جانب رغبت رکھتے ہیں۔ وہ تب بھی کتابوں میں سردیئے ہوتی۔ اس کی اپنی ایک الگ ہی دنیا تھی۔ پہلے تو وہ گاؤں کے ہی پرائمری اسکول جاتی تھی پھر جب بھائی اور آپا کے پرائمری کے پاس کرنے کے بعد شہر کے اسکول میں داخلہ ہوا تو اباجی نے اسے بھی ان کے ساتھ ہی بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ یوں وہ تیسری جماعت سے ہی شہر جانے لگی اور یہ ایک بہترین فیصلہ ہوا اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا۔
    ”میری بیٹی تو پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے گی۔” یہ آپابی کا خواب تھا۔
    آپا بی جو خود کبھی پڑھنے لکھنے کی بے حد شوقین رہی تھیں۔ مگر دیہاتی زندگی، تعلیم ماحول کا فقدان، ناکافی سہولتیں، وہ صرف قرآن پاک پڑھنا ہی سیکھ سکیں جو وہ بہترین قرات سے پڑھا کرتیں۔ جب بیاہ کر شہباز کبیر کے گھر آئیں تو ان کے مشورے سے گاؤں کی بچیوں کو قرآن پاک پڑھانے لگیں۔ سب انہیں آپابی پکارنے لگے حتیٰ کہ پھر ان کی اولاد بھی یہی کہنے لگی۔ جب بچے پڑھنے لکھنے بیٹھتے ساتھ وہ بھی بیٹھ جاتیں یوں کوشش سے تھوڑی بہت اردو پڑھنا بھی سیکھ لی۔
    اب اپنے خواب انہوںنے بیٹی کی پلکوں پر دوسردیئے اور وہ ایک اچھی امانت دار ثابت ہوئی پھر وقت نے بتایا۔
    حسن و ذہانت میں ان کی بڑی بیٹی بھی کم نہ تھی۔ بلکہ دیکھا جاتا تو خوبصورتی میں وہ چھوٹی سے دو ہاتھ آگے ہی تھی۔ مگر بس اک کمی تھی اس کے مزاج میں وہ لگن اور جذبہ نہ تھا جس کے بل پر چھوٹی منزل پہ منزلیں مارتی چلی گئی۔
    شاندار نمبروں سے بارہ جماعتیں پاس کرنے کے بعد قسمت کی یاوری سے اسے میڈیکل کالج میں بآسانی داخلہ مل گیا تھا۔ آپابی کے تو پاؤں ہی زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ یہ نہیں تھا کہ خاندان میں سے کوئی اور اس فیلڈ میں نہیں تھا زینت پھوپھو کا بڑا بیٹا ڈاکٹر بن رہا تھا۔ ہاں وہ پہلی لڑکی تھی جو اتنی سخت پڑھائی کرنے جارہی تھی۔
    پہلے تو یہ تھا کہ اباجی نے گاڑی لگوا رکھی تھی صبح سویرے شہر لے جاتی پھر دوپہر واپسی پھر دلاور بھائی نے ڈرائیونگ سیکھ لی تو اپنی کار لے لی۔ مگر اب منہ اندھیرے اٹھ کر جانا اور شام تک واپسی کے بعد ہمت ہی نہ بچتی کہ رات گئے تک پڑھا جائے۔ بہت ہی مشکل ہونے لگا تھا۔ اس کی یہ روٹین دیکھ کر آپابی نے ہی شور ڈالا تھا۔
    اس طرح تو یہ لڑکی بیمار ہوجائے گی۔ ارے دوسروں کا علاج کرنے جوگی تو اللہ جانے کب ہوگی یہ نہ ہو کہ ہمیں اس کا ہی علاج کروانا پڑ جائے۔
    میں بہت تھک جاتی ہوں آپابی۔ پھر ٹھیک سے پڑھائی بھی نہیں ہوپاتی۔ اباجی سے کہیں نہ کہ مجھے ہاسٹل میں رہنے کی اجازت دے دیں۔
    مگر اباجی کو زمانے کے حالات سے ڈر لگتا تھا لوگوں کی رنگ رنگ کی باتیں سن کر وہ سخت متامل تھے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    میں ذکیہ بھابھی سے بات کرلیتا ہوں۔ جب اپنے شہر میں ہیں تو ضرور ہاسٹل میں رہنا ہے۔ وہ ایک الگ کمرہ تمہیں دے دیں گی۔ آرام سے رہنا سکون سے پڑھنا۔ آخر انہوں نے ہی حل نکالا تھا۔ مگر جس پر آپابی تو کیا اسے بھی شدید اعتراض تھا۔
    ”افوہ بڑی تائی۔ نہیں نہیں آپابی خدا کے واسطے۔ اباجی کو سمجھائیں۔ کتنی باتیں کرتی ہیں بڑی تائی۔ وہ تو سارے زمانے کی خبریں رکھتی ہیں پھر ان پر بے مقصد ڈسکشن کرنا بھی ان کی ہابی ہے۔ اس پر ان کا اتنا بڑا کنبہ۔ میں اس ماحول میں قطعی ایڈجسٹ نہیں ہوپاوؑں گی۔ میں بالکل نہیں رہونگی وہاں۔ اس نے واویلا مچایا پھر کسی طرح آپابی نے اباجی کو راضی کیا یہ تو وہی جانتی ہوں گی اور جب وہ پہلی بار اسے ہاسٹل چھوڑنے گئے تو خوب غصے میں تھے۔
    میرا دل ابھی بھی مطمئن نہیں ہے۔ پر میں نے تمہاری بات مان لی۔ لیکن یاد رکھنا۔ آئندہ تمہیں میرا ہر فیصلہ ماننا ہوگا۔” اور وہ تو اسی خوشی میں تھی کہ اب سکون سے پڑھا کرے گی زور و شور سے سرہلادیا۔
    افضل ماموں کے بڑے بیٹے کی شادی تھی۔ آپابی خریداری کرنے شہر آئی تھیں۔ واپسی پر اسے بھی زبردستی ساتھ لے آئیں۔
    ”پڑھ پڑھ کر کتنا سا منہ نکل آیا ہے میری بچی کا چار دن رونق میلہ دیکھوگی تو طبیعت پر اچھا اثر پڑے گا اور ہاں کوئی کتاب مت اٹھانا ساتھ میں۔ خاندان والے تو پہلے ہی جل جل کر مررہے ہیں وہاں بھی جاکر پڑھتی رہیں تو کہیں نظر ہی نہ لگ جائے۔ دھیان کرو اپنا۔ وہ ماں تھیں۔ خوب وہمی ہورہی تھیں۔ اس نے پھر بھی نظر بچاکر ایک دو کتابیں بیگ میں ڈال لیں۔ چند ہی دنوں میں ٹیسٹ اسٹارٹ ہورہے تھے وہ وقت ضائع کرنے کے حق میں نہیں تھی۔ اور وہ مہندی کا فنکشن تھا سارے خاندان کی لڑکیوں نے تیاریوں میں ایک دوسرے کو مات دینے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ اس کے اور آپا کے ڈریس آپابی ہی لے کر آئیں تھیں۔ جو اس نے تو بخوشی قبول کرلئے تھے مگر آپا نے سب میں ہی خوب خوب نقص نکالے تھے وہ تو اگلے ہی دن شہر جاکر اپنی پسند کے کپڑے لے کر آئی تھیں بھئی ان کے سسرال والے بھی اس شادی میں شرکت کرنے آرہے تھے اور خاص طور پر منگیتر صاحب بھی تو ان کا نخرہ کرنا بنتا تھا وہ خوب سجتی سنورتی۔ جبکہ وہ ٹشو کی گوٹالگی گھیر دار فراک سے بنا کسی میک اپ اور بھاری جیولری کے لمبے بالوں کی ڈھیلی ڈھالی سی چٹیا گوندھے آگئی تھی۔
    ہر طرف مخصوص ہلا گلا تھا۔ بڑے سارے صحن میں دریاں بچھی تھیں عین وسط میں علاقے کی مشہور میراثنیں اپنی پاٹ دار آوازوں میں پٹے اور شگنوں کے گیت گا رہی تھیں۔ خاندان کی بڑی بوڑھیاں بھی اردگرد گھیر ڈالے اپنی لرزتی آواز ساتھ ملانے لگیں۔ منچلی لڑکیاں کسی رشتے کی مامی، چاچی کو گھیر لائیں اور لڈی ڈالنے پر مجبور کرتیں۔ وہ بھی چار نا چار دونوں ہوا میں تلوار کی طرح لہراتے دو چار گول چکر کاٹ دیتیں۔
    لڑکیوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہوجاتا پھر رسم کے وقت سرخ دوپٹے کی چھاوؑں میں دولہا میاں کو لاکر رنگ رنگ کے پھولوں سے سجی چوکی پر بٹھا دیا گیا۔ اتنا شو رشرابہ کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔ سب ادھر مصروف تھے۔ وہ چپکے سے کھسک کر ماموں جی کے کمرے میں جا بیٹھی۔ بڑے سادے ہینڈ پرس میں کتاب ، پین، پیڈ سب موجود تھا۔ عادت تھی جو یاد کرتی ساتھ کے ساتھ لکھتی بھی جاتی یوں زیادہ اچھے سے ذہن نشین ہوجاتا۔ وہ مصروف تھی تبھی کوئی کمرے میں آیا اور اسے سب سے چھپ چھپا کر کتابوں میں گم دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس کی خوبیوں کے متعلق سنا تو تھا آج آنکھوں سے دیکھ بھی لیا۔ باہر کی دل لبھاتی محفل کو چھوڑ کر یہاں اپنے ہی دھیان میں رٹے مارتی گلابی رنگ کی فراک میں وہ گلابی گڑیا ہی لگ رہی تھی۔ وہ اسے ڈسٹرب کئے بنا ہی پلٹ گیا۔
    ان کے ہاں کا رواج تھا جو بھی دینا دلانا ہوتا وہ بھی آج کے دن ہی نبیڑلیاجاتا سب برادری والے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق تحفے تحائف دیتے جس کی سب تفصیل درج کرنا ضروری ہوتا تھا تاکہ پھرجب کوئی بیٹا بیٹی بیاہے تو اسے کے دیئے کے مطابق دیا جاسکے۔ مامی حلیمہ کاپی پنسل دھونڈتی پھر رہی تھیں۔ کہ ماموں کے کمرے میں اسے بیٹھے دیکھ لیا۔
    ”لوبھئی بڑے یونہی نہیں علم کے فائدے بتاگئے پڑھا لکھا ہی جانے کاغذ قلم کی حیثیت۔ ادھر اتنے بڑے گھر میں۔ میں تو ڈھونڈ ڈھونڈ کہ مرگئی اور مسئلے کا حل نکلا ہماری ڈاکٹرنی صاحبہ کے پاس۔ لا ادھر دے مجھے۔ اچھا بلکہ یوں کر میری ٹٹی پجی(ٹوٹی پھوٹی) لکھائی میں لکھا کیا سمجھ آئے گا کسی کو۔ اگلے سٹیم پڑنے پر گالیاں ہی دیں گے مجھے۔ چل آ میری شہزادی تو ہی لکھ دے سارا حساب۔
    وہ اسے پنڈال میں کھینچ لائیں۔ ایک طرف دری پر سب چاچیاں، مامیاں، خالائیں، پھوپھیاں اپنا اپنا ”ورتارا” لے کر جمع تھیں۔ چلو لکھو۔
    خالہ فاخرہ کی طرف سے مبلغ پانچ سو روپیہ سمیت چار جوڑے۔
    چابی کبریٰ کی طرف سے ووہٹی کے لئے سونے کا چھلا سمیت مارے ٹیر کے جوڑے اور … مامی حلیمہ اسے لکھواتی جارہی تھیں۔ وہ بری پھنسی تھی۔ کاغذ قلم پاس رکھنے کا کبھی یہ انجام بھی ہوگا سوچا نہ تھا۔ وہ جھنجھلائی ہوئی بار بار چہرے پر پھسل آنے والی ریشمی لٹ کو کان کے پیچھے اڑستی۔ وہ ادھر سے گذرا تھا کہ نظر پڑی۔ اس کی حالت زار پر بے اختیار ہنسی آئی مگر اگلے ہی پل یہ خیال کہ وہ تو تندہی سے پڑھ رہی تھی اور اس کی پڑھائی ہر کام سے زیادہ ضروری ہے اور یہ اس سے بہتر بھلا کون جانتا وہ ادھر ہی آگیا۔
    ”کتنا مال اکٹھا ہوگیا مامی جی۔ آپ سب تو پوری دکان سجا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر حساب میں ذرا سی بھی گڑ بڑ رہ گئی تو… اور اگر کل کلاں کو سحرش باجی کی شادی پر آپ نے ورتارے میں ایک جوڑا بھی کم رکھا نہ تو خالہ بشریٰ نے ذرا لحاظ نہیں کرنا وہ تو لڑنے پہنچ جائیں گی اور پھر آپ کو بچانے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔ لائیں مجھے دیں میں تمام تفصیل لکھ دیتا ہوں۔” اور اس نے نہایت ممنون نگاہ سے دیکھا تھا۔
    ”تھینکس محسن بھائی۔”
    مینشن ناٹ۔ جاؤ جاکر پڑھو۔” وہ مسکرایا۔ وہ بھی مسکراتی ہوئی اٹھ گئی۔
    محسن کی نظر پشت پر لہراتی لمبی چوٹی کے بلوں میں الجھ کر ساتھ چلی گئی تھی۔ یہ کیا اور کیوں ہوا تھا اس کے ساتھ۔ وہ خود نہیں سمجھ پایا۔ جسے دیکھنے کا اسے حق تھا اسے تو نظر بھر بھی نہ دیکھا جبکہ وہ سچ سنور کر سامنے آتی رہی۔
    اس کی اور نفیسہ کی منگنی بہت دھوم دھام سے تو نہ ہوئی تھی بس چار سال پہلے جب نفیسہ نے دسویں کا امتحان بہت اچھے نمبروںسے پاس کیا تو زینت پھوپھو مبارک باد دینے کے بہانے آئیں تھیں۔ اپنی یہ خوبصورت اور نخریلی سی بھتیجی تو انہیں شروع سے ہی بہت پیاری تھی۔ پھر ان کا شہزادوں جیسا بیٹا بھی کسی سے کم نہ تھا پورے خاندان کا پہلا قابل اور ذہین بچہ تھا جو ڈاکٹر بن رہا تھا ایسا پڑھا لکھا اور خوبرو کوئی اور نہ تھا پوری برادری میں سمجھو چاند سورج کی جوڑی ہوتی۔ انہوں نے تو بہت پہلے سے سوچ رکھا تھا۔ اس بار آئیں تو بھائی کے سامنے اپنی خواہش کااظہار کرڈالا۔ اور انہیں بھلا کیا اعتراض ہونا تھا۔ گاوؑں کے مشہور حلوائی سے پانچ کلو بالو شاہی منگوا کر اور شگن کے ایک سو ایک روپیہ نفیسہ کے ہاتھ پر رکھ کر وہ بات پکی کرگئیں۔
    اور اب یہ تھا کہ عید کے عید نفیسہ کا شاندار جوڑا۔ چوڑیاں، مہندی، مٹھائی آجاتی، ادھر سے بھی محسن کے لئے عید کا جوڑا، جوتا، ٹوپی، رومال چلا جاتا۔ اس بار بھی زینت پھوپھو کی بہو کے شایان شان خریداری کرنا تھی وہ بیٹے کے سر ہوگئیں کہ بازار لے چلے۔ دو چار دن تو وہ ٹال مٹول کرتا رہا۔ پھر اک شام جب باقی افراد خانہ ادھر ادھر مصروف تھے تو ہ فیصلہ کن انداز اپنائے سامنے آبیٹھا۔
    ”مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنا ہے۔”
    ”ہاں بولو۔” وہ دھلے کپڑے تہہ لگا رہی تھیں۔
    آپ اس بار ماموں کی طرف عید لے کر جائیں گی مگر …
    مگر… زینت پھوپھو نے گردن موڑ کر بیٹے کو دیکھا جس کی نظریں فرش پر گڑی تھیں۔ چہرہ حد درجے سرخ۔ ”مگر … کیا” ان کا دل جانے کیوں ہول ہوگیا تھا۔
    ”مگر نفیسہ کے لئے نہیں سجیلہ کے لئے۔” اور انکے ہاتھ سے پھوپھا کی بوسگی کی قیمتی قمیض چھوٹ کر پیروںمیں جا پڑی۔
    ”ہائے میرے اللہ۔ یہ کیا بکواس کررہا ہے تو محسن؟ ”انہوں نے دو ہتھڑ سینے پر مارے تھے۔
    ”بے غیرتا، بے شرما، یہ کیا بک رہا ہے۔ ہوش میں تو ہے اپنے ۔”
    میں اپنے پورے حواسوں میں ہوں اماں۔ میں نے بہت سوچا ہے۔ نفیسہ بے شک بہت خوبصورت ہے۔ مگر اس کے انداز دیکھے ہیں آپ نے اس کا مزاج میری سمجھ میں نہیں آیا۔ قاسم کی شادی پر دیکھتا رہا ہوں میں اسے۔ جبکہ اس کے برعکس سجیلہ بہت سمجھدار لڑکی ہے۔ پھر وہ بھی تو ڈاکٹر بن رہی ہے میری طرح اور میری خواہش ہے کہ میری بیوی بھی ڈاکٹر ہو۔ مجھے یقین ہے ماموں میری بات سمجھ جائیں گے وہ بھی تو انہی کی بیٹی ہے پھر ہم کونسا رشتہ ختم کریں گے۔ نفیسہ نہ سہی… سجیلہ ہی…
    ”بس۔ میں ادھر ہی ڈک (بند) لے منہ کو۔ خبردار جو آئندہ تیری زبان پر یہ بات آئی۔ اوئے کم بختا اس عمرے میرے چٹے چونڈے میں سواء ڈلوائے گا زمانے کے ہاتھوں ۔ نفیسہ تیری منگ ہے۔ ساری دنیا کو پتہ ہے۔ تیری شادی بھی اسی سے ہوگی کن کھول کہ سن لے تو۔ اپنی خواہشیں تو اپنے پاس رکھ اور اس گل کو یہیں مکا کے دفع ہوجا ادھر سے۔ ” ان کا غصہ تو آسمان کو چھونے لگا اور وہ اس وقت تو اٹھ گیا تھا مگر بات ختم نہیں کی تھی۔ اور اگلی بار جب پھر دل کے ہاتھوں سخت مجبور ہوکر مدعا گوش گزار کرنے لگا تو اماں نے ابا کا پشاوری جوتا اٹھا کر پیٹ ڈالا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • اے شب تاریک گزر — صدف ریحان گیلانی (دوسرا حصّہ)

    اے شب تاریک گزر — صدف ریحان گیلانی (دوسرا حصّہ)

    اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب زندگی بہت خوبصورت تھی۔ اور زندگی تو کبھی بھی بدصورت نہیں ہوتی یہ تو ہمارے ہی محسوسات ہوتے ہیں جو اس کے حسن کا معیار قائم کرتے ہیں۔ اور حسن تو دیکھنے والی آنکھ میں ہوتا ہے اگر اس آنکھ میں سکھ کا موتی ہے تو ہر نظارہ دلکش اور اگر آنکھ میں غم کا کنکر چھب جائے تو چاروں اور گھور سیاہ بادل چھا جاتے ہیں۔
    ایم۔ بی ۔ بی۔ ایس کے فائنل ایگزام ہوچکے تھے۔ ابھی کچھ ٹائم تھا ہاؤس جاب شروع کرنے میں اور ان کے ا س ٹائم کو سود مند بنایا تھا سر ہارون حیات نے۔ جو پاپا کے دیرینہ دوست ہونے کے ساتھ اس کے قابل احترام استاد بھی تھے۔ ان کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا اور جو ہر سال فائنل ایگزام سے فارغ ہونے والے طلباء طالبات اور سینئرز ڈاکٹرز کا گروپ لیکر اپنے علاقے کے ایک ایک گاؤں میں فری میڈیکل کیمپ لگایا کرتے اور ان کی اس کوشش سے جہاں نو آمو ز ڈاکٹر کو نئے تجربات سے آشنائی و رہنمائی ملتی وہیں کئی بیمار و مجبور لوگوں کو زندگی کو سکون ملتا۔
    پچھلی بار وہ ان کے گروپ کا فعال ممبررہا تھا۔ ان دنوں میں بہت کچھ سیکھاتھا اس نے۔ پورا ایک ماہ دن اور رات کا فرق مٹا کر ان سب نے کام کیا تھا مزے کی بات تو یہ کہ کسی کو بھی کسی بھی پل تھکن کا احساس تک نہیںہوا تھا۔ جب بیماری کے ہاتھوں تنگ آیا کوئی سکتا ہوا انسان ان کی سیمائی سے سکون پاکر بے اختیار دعا دیتا۔ تو دل سرشاریت کے انوکھے احساس سے بھر جاتا۔ روح نئے سرے سے توانا ہوکر کسی اور کی خدمت میں جت جاتی۔
    آپا بی سخت خفا ہیں بہت گلہ کررہی تھیں وہ تم اتنے بزی رہے کہ ان سے ملنے بھی نہیں گئے۔ اب یوں کرو یہ دو تین دن ان کے پاس رہو ان کا دل بہل جائے گا۔ جس روز ان سب نے رفت سفر باندھنا تھا اس دن اسے مما نے آرڈر کیا اور وہ بھلا سرتابی کرتا اور پھر سرہارون حیات کے گاؤں سے صرف چند میل کا ہی تو فاصلہ تھا اس کے ننھیالی گاؤں کا اور ان کی طرف سے تو وہاں کیمپ بھی لگایا گیا تھا لیکن اس کی ڈیوٹی وہاں نہیں لگی تھی اگر ایسا ہوتا تو وہ ان سے ضرور مل لیتا۔ ان کا درائیور ہی اسے وہاں چھوڑ آیا تھا۔ حویلی کا گیٹ بھڑا ہوا تھا۔ وہ بہت مگن سا اپنے ہی دھیان میں آرہا تھا کہ دائیں طرف بانسوں کے جھنڈ تلے گھاس پر مند مارتا لمبی سی گردن والا دودھیا سفید بطخا چوکنا ہوکر کوئیک کو ئیک کرتا اس کی جانب لپکا اگر وہ فوراً پلٹ کر باہر نہ نکلتا تو کوئی خشک نہیں تھا کہ وہ بے مروت نوکیلی چونچ اور پروں سے ہی اس کی تواضع کردیتا اور گیٹ بندکرنا تو وہ ہر گز نہیں بھولا تھا اندر اس نے کھپ ڈال دی تھی اس کے ہوتے ہوئے کوئی نیا بندہ حویلی میں گھس آئے مجال تھی کسی کی جبکہ وہ تو اتنا بہ اخلاق تھا کہ اکثر گھر والے بھی نہ پہچانتا ۔ بس ایک آپا بی ہی تھیں جن سے وہ تمیز سے پیش آیا کرتا۔ لیموں کے بوٹے سے تازہ تازہ رس اور خوشبوبھرے لیموں چنتی زرتاشہ کا ہنس ہنس کر برا حال تھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    شاباشے۔ یہاں کھڑی دانت نکالے جاؤ کس وچارے کی شامت لے آیا ہے کم بخت۔ پتہ تو کیا ہوتا اوہ پرے ہو بے ہدا تیاچنگی مصیبت پڑگئی ہمیں کوئی غریب دروازہ بھی نہیں پار کرسکتا سارا پنڈ شکایتیں لے کر آنے لگا ہے اب تو تیری۔ بطخ کیا انڈوں پر بیٹھی تو نے جینا ہی دوبھر کردیا ہمارا۔ سارے ہی دشمن لگتے ہیں تجھے۔ اب تو نہر پر بھی نہیں جاتا وڈا آیا سیانا آپا بی اسے کھرک کر اس بے زبان کے لیتے لینے لگیں اور ان کے دبکوں اور ہاتھ میں لمبی سوئی دیکھ کر وہ گردن نیچی کئے پھر سے باستوں کی طرف مڑگیا۔
    جرار بھائی ہیں آپا بی ۔ بہت ہی اچھا ہوا ان کے ساتھ۔ بڑا رعب دکھاتے ہیں ناں اپنی بہادری کا آج تو ان کا پول کھل ہی گیا۔ زرتاشہ نے اسے آتے نہیں صرف جاتے دیکھا تھا اور وہ بھی نیلی جینز میں لمبی ٹانگیں، وہ سمجھی باہر جرار ہے جو آج کسی بھی وقت آیا چاہتا تھا۔ آپا بی گیٹ کھول رہی تھیں۔
    ماں صدقے میرا بچہ۔ میرا شہزادہ ۔ آگیا نانی کا خیال ۔” کمال ہی ہوگیا تنا پرتپاک استقبال وہ بھی جرار کا۔ وہ متحیر بھی ادھر آئی تھی اور سامنے ہی موجود تھی ہستی کو دیکھ کر ”ہاں” کی صورت منہ کھل گیا۔ بے اختیاری میں جو ہاتھ منہ پر دھرا تو اس میں پکڑا دوپٹے کا کونہ پھسلنے سے گول گول ہرے پیلے کتنے ہی لمحوں دورت کر لڑھکتے چلے گئے۔
    اور اس کی ہنسی کی آواز تواس نے بھی سنی تھی اسی لئے تو ہنسنے والی کو تلاشا تھا اور وہ سامنے ہی تو کھڑی تھی۔ سنچیریا کی بیل کے نیچے ذرد اور سبز رنگ کے خوبصورت لباس میں اس منظر کا حصہ دکھائی دیتی۔ جھکا سر تھوڑی اور گردن ملی ہوئی۔ وہ بہت عرصے کے بعد یہاں آیا تھا اور اسے تو کہیں بچپن میں دیکھا تھا لمبی سی فراک، دو پونیاں کئے ہوئے۔ خوب کیوٹ ڈول سی۔ اور اب وہ ڈول کتنی بڑی ہوگئی تھی۔ مگر چہرے پہ معصومیت اور بھولپن وہی تھا۔ اور وہ کہہ گیا۔
    افوہ آپا بی بہت ہی بدتمیز قسم کی چیزیں پال رکھی ہیں آپ نے تو۔ دیکھا اسے تھا اور کہا ان سے جو اس کی شرار ت کو سمجھی نہیں تھیں اور وہ سمجھ گئی تھی اس لئے تو سر اوپر اٹھایا تھا۔ نہایت شفاف گلابی رنگ ، تیکھے نقوش بڑی بڑی سحر طراز آنکھیں جنہیں دیکھتے ہی وہ دیکھتے کا دیکھتا رہ گیا تھا۔ جبکہ وہ اگلے ہی پل پھر سر جھکا گئی تھی۔ آپا بی جو سمجھیں تھیں اس کے مطابق کہہ رہی تھیں۔
    یہ کوئی اب کا نہیں ہے ہمارے ساتھ۔ اسے تو کئی سال ہوگئے۔ اللہ بخشے تمہارے نانا کا شوق تھا یہ۔ گھر میں کتا رکھتے نہیں تھے کہ رحمت کے فرشتے نہیں آتے اس کے ہونے سے۔ اسیرکھا تھا راکھی کے خیال سے۔ اور یہی تو خاصیت ہے اس نمانے کی۔ مجال ہے کہ کوئی دسے پچھے بنا اندر آجائے۔ اک پیار بھری نظر انہوں نے اس کپتے پر ڈالی تھی جو ابھی بھی گردن تانے چوکس نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔ وہ سرہلاتا مسکرادیا۔
    اور تم یہ کیا منہ سٹ (پھینک) کہ کھڑی ہو۔ اٹھائے سارے نمبو۔ یہ اپنی زرتاشہ ہے تمہاری خالہ نفیسہ کی بیٹی پہچانا۔ اسے گھرک کر وہ اب تعارف کروارہی تھیں۔ اور یوں تو خالہ نفیسہ سے ملے بھی عرصہ ہوگیا تھا مگر اسے اچھی طرح یاد تھا ان کا ہر انداز بے پناہ حسین سراپا اور پر غرار شخصیت اور ان کی بیٹی بھی ویسی ہی لگ رہی تھی۔وہی ہی خوبصورت ویسی ہی پرتمکنت۔
    پہچان گیا ہوں آپا بی نہ پہچاننے والی تو کوئی بات ہی نہیں ہے یہ بالکل انہی کے جیسی لگ رہی ہے۔
    وہ نفیسہ جیسی نہ نہ یہ تو مجھے اپنی سجیلہ جیسی لگتی ہے۔ اس کا ہر انداز بالکل اسی کے جیسا ہے۔ ویسے ہی شوق۔ ویسے ہی کام۔ ویسی ہی شرارتیں۔ تم رہوگے ناں یہان تو دیکھا اس کی حرکتیں۔ اسی کی طرح لاپرواہ اور پھوہڑ ہے یہ۔
    ایں۔ ابتہاش کی آنکھیں مارے حیرت کے پھیل گئیں۔ سمجھ نہیں آئی کہ وہ مما کی تعریف کررہی ہیں یا اس کی بدتعریفی۔ اور ادھر وہ سراٹھائے مسکرا رہی تھی۔ تم سناؤ ماں کیسی ہے تمہاری۔ باپ ٹھیک ہے؟ وہ اپنے تخت کی طرف بڑھ گئیں تھیں اسے بھی ان کی تقلید میں قدم بڑھانے پڑے۔ زرتاشہ لیمن سمیٹ رہی تھی اور ادھر اس بدمزاج بطخے کو اپناغصہ اتارنے کے لئے وہی آسان ٹارگٹ نظر آئی تھی۔ وہ گردن نکالے آرہا تھا اس نے مارے بدحواسی کے پھر سے لیمن پھینک کر چیخ مار دی۔
    ابتہاش ایک پل کی غفلت کئے بغیر تخت کے ساتھ رکھی سوئی لے کر اٹھا تھا۔
    اور بے ہدایتا، تیراککھ نہ رہے۔ گھر والوں کو تو بخش دیا کر ۔ آپا بی چلائیں تھیں۔ اور کچھ اس ہتھیار کی دہشت کچھ ان کی آواز۔ وہ اپنے بڑے بڑے پر پھیلائے کوئیک کوئیک کرتا واپسی کی راہ ہولیا۔
    ”آنکھیں کھول لو چلا گیا ہے وہ۔” وہ کبوتر کی طرح زور سے پلکیں پیچھے کھڑی تھی۔ گلابی چہرہ دیک کر سرخ ہورہا تھا اتنی شرمندگی ہوئی تھی کہ اف۔
    اب میں ہوں؟ وہ پوچھ رہا تھا اور اس نے اجازت تو دی نہیں تھی وہ پھر بھی نہیں رہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    جرار کے آتے ہی آپا بی نے اس کے ذمے کام لگایا تھا کہ باغ میں گھاس کے ایک مخصوص خطے پر بانسوں کی باڑھ لگادی جائے تاکہ ان کے عزیز جان یادگاری بطخے نے آجکل جو پورے علاقے میں شر پھیلا رکھا ہے اس کی روک تھام کی جاسکے۔
    کبھی حویلی میں بھی خوش رونق ہوا کرتی تھی پھر نانا جی نہ رہے اور ان کے بعد بڑے ماموں اپنے حصے کی زمینیں بیچ باچ کر پوری فیملی سمیت ملائیشیا شفٹ ہوگئے ۔ برسوں بعد آئے چھوٹے ماموں کو اپنی نوکری سے فرصت نہ تھی۔ گھر آتے تو بیوی اور بچوں کی سوفرمائشیں ایسے میں آپا بی کی الجھنیں یونہی الجھی رہ جاتیں۔ اب جب سے جرار ادھر آنے لگا تھا تو سمجھو سکون ہوگیا تھا انہیں۔ کوئی نہ کوئی بگڑا کام سنور جاتا۔
    اب وہ سب کو ساتھ لگائے صبح سے مصروف تھا پہلے تو نہر کنارے لگے بانس اور سرکنڈے کاٹ کر لائے گئے تھے اب انہیں مناسب ٹکڑوں میں کاٹ کر توڑنے کاعمل جاری تھا۔
    جرار نہایت شاقی سے مٹی میں کھڈائی کرکے گڈھا نکالتا ابتہاش بانس کا ایک سرا دباتا فرحت خوب ٹھونک ٹھونک کر دوبارہ سے مٹی پر کردیتی۔ چھٹی کا دن تھا ماموںکے احزم اور گڑیا بھی نیچے بھاگ آئے اور ان کا ہاتھ بٹانے لگے۔ بانسوں کے بعد ان پر سرکنڈوں کو ترتیب سے جوڑنا تھا تاکہ وہ دہشت گرد کہیں سے جگہ پاکر کھلے صحن میں نکل نہ سکے۔
    سعیدہ لہسن پیاز کاٹتیں دوپہر کے کھانے کی تیاری شروع کرچکی تھیں۔ آپا بی اپنے تخت پر جلوہ افروز وہیں سے ان کے کام کا جائزہ لے رہی تھیں اور جہاں کہیں ضرورت سمجھتیں مشورے سے بھی نواز دیتیں۔
    السلام علیکم ایوری ون کانس رنگ کے ایمبرائڈ ڈ سوٹ میں نکھری ستھری زرتاشہ کمرے سے نکلی تھی۔
    ماشاء اللہ خیر سے صبح ہوگئی میری شہزادی کی۔ آپا بی نے دیکھا تو پیار سے شکر کیا طنز وہ ڈھٹائی سے مسکراتی پاس آبیٹھی۔
    دن چڑھے تک بستر توڑتے رہنا کوئی اچھی عادت نہیں ہے لڑکی تم بھی بگڑتی جارہی ہو۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • اے شب تاریک گزر —- صدف ریحان گیلانی (پہلا حصّہ)

    اے شب تاریک گزر —- صدف ریحان گیلانی (پہلا حصّہ)

    کھڑکیاں دروازے بند کرلینے سے اگر زندگی کے ہارے ہوئے لمحوں کا آسیب اپنی ہیبت ناکی سمیت کہیں فنا ہوجاتا تو پھر بھلا دنیا میں دکھ ہی کیا رہ جاتا مگر مصیبت تو یہی ہے کہ چاہے خود کو کسی اونچی فصیلوں والے قلعے میں بھی محصور کرلو۔ یہ آسیب وہاں پر بھی پھڑپھڑاتا ہوا پہنچ جاتا ہے۔
    بہتیرا جھٹکو، نظریں چراؤ، منہ پھیرلو۔
    لیکن یہ کم بخت کچھ یوں اپنے خونی پنجوں میں دبو چتا ہے کہ پور پور نیلی پڑجاتی ہے۔ ساری آہیں،کراہیں پن کر سینے میں سر پٹخنے لگتی ہیں۔ مارے نالے حلق میں گھٹ گھٹ جاتے ہیں۔ روح صحراؤں کے سفر پر نکل پڑتی ہے۔
    کہنے کوتو وہ دو گھنٹوں سے کمرہ بند ہوئے سورہی تھی لیکن کیا وہ واقعی سورہی تھی؟
    آہ… نیند !! جس کی وہ کبھی بے حد رسیا تھی۔ خوب سوتی مزے سے جی بھر کر بے فکری کے جھولوں میں نہ صرف اپنے بستر پر بلکہ وہ تو کہیں بھی پڑ کر سوجاتی ہیں۔ نیند تو آنکھ بندکرنے کی محتاج ہوتی یوں آکر پلکوں پر بسیرا کرتی کہ پھر کوئی سر پر آکر ڈھول پیٹتا رہے اس کی بلا سے۔ ہک ہاہ۔ کیادن تھے وہ بھی جب زندگی پورے رنگوں کے ساتھ اس کے اندر جیتی لیتی تھی اور … اب تو جیسے دمے کے جھٹکے لگتے تھے سانس بھی کھینچ کھینچ کر لینا پڑتا تھا۔
    آخر ہمارے ہاتھ کی لکیریں ویسی ہی کیوں نہیں رہتیں جیسی ہم چاہتے ہیں۔ صاف ستھری سیدھی سڑک کے جیسی جس پر خوابوں کی رتھ دوڑتی چلی جائے۔ بغیر رکے، بنا جھٹکا کھائے، کوئی اسپیڈ بریکر نہ روکے، کوئی اشارہ نہ ٹوکے، ہر راستہ ہوا کے پروں کے ساتھ ساتھ طے ہوتا چلا جائے۔ مگر… اوف یہ سب خواب، خیال، تصورانہی ہاتھوں کی الجھی، گنجلک لکیروں میں گم ہوگیا تھاجی تو چاہتا تھا اپنی ہی ہتھیلیوں کو کھرچ ڈالے، لیکن کیاہوتا پھر؟…
    آخر چاہا ہی تھا کیا اس تقدیر سے؟
    صرف ایک خواب؟
    فقط اک آرزو؟
    اک تمنا…
    اک خواہش…جو یو ں لاحاصل قرار دی گئی کہ بدلے میں آنکھیں ہی بے خواب کردی گئیں۔ ابھی تو تتلیوں، پھولوں کے رنگ آنچل میں سمیٹنا چاہے تھے کہ جانے کہاں سے کانٹے اگ آئے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    سامنے قیمتی مشروب سے بھرا پیالہ رکھا ہو اور پیاس لگی ہوپانی کی۔ تو پھر وہ پیالہ نظروں میں جچتا نہیں۔ جی ہی نہیں کرتا اسے ہونٹوں تک لے جانے کو… پانی … پانی… روم روم سے آواز آتی ہے۔
    بڑھتی تشنگی جان کو جھلسانے لگتی ہے روح تڑک کر نڈھال پڑجاتی ہے۔ وہ بھی خار خار ہوگئی تھی۔ زخم تازہ تھے سوداد بھی اسی قدر تھا اور پھر اپنے ایسے زخم پرانے ہو بھی جائیں تو ان پر کھرنڈ آتا ہی کہاں ہے وہ تو ہمیشہ اسی طرح رہتے ہیں۔ پانی پر جمی کاٹی کی طرح۔ ذرا سا چھولو تو پر درد وہی اذیت رسانی۔ جو رگ رگ کو کاٹتی چلی جائے۔ کنپٹیوں سے ہوکر بہتا مائع آج پھر تکیہ بھگورہا تھا۔ اندھیرے کمرے میں یک لخت روشنی کی کرن سی پھوٹنے لگی سائڈ ٹیبل پر رکھا سیل فون تھر تھرارہا تھا۔
    دونوں ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑتے ذرا سا سراٹھا کر چمکتی اسکرین پر نظر ڈالی ”عروج کالنگ” اوہنوں۔ اس نے کوفت سے سرپھر تکیے پر ڈالا۔ وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی اور اس وقت پھر عروج؟ حلق تک میں کرواہٹ گل گئی تھی۔
    بندکمرے میں دم گھٹنے لگا تھا اس نے بڑھ کر کھڑکیاں کھول دیں۔
    اک اور شام غم ڈھل رہی تھی اک اور شب تاریک کو صدا دے کر افق کی لالی اور اس کی آنکھوں کی سرخی میں کوئی خاص فرقا نہ دکھتا تھا۔ عارض نرگس سے ہورہے تھے۔ طبیعت پر عجب کسل مندی سی چھائی تھی۔ جو کھلے پٹ سے اندر آتی تازہ ہوا سے بھی دور نہ ہوئی اور شاید دور ہو بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ جب خزاں اندر بہت دور تک اپنا خیمہ گاڑلے تو پھر باہر کے سب موسم بے اثر ہوجاتے ہیں۔
    کتنی دیر وہ چوکھٹ پر ہتھیلیاں ٹکائے سورج کو گگن کے پار اترتے دیکھتی رہی۔ فون وقفے وقفے سے تھرتھراتا رہا اس کی صرف اک نظر عنایت کو جو وہ ہر گز بخشنے پر تیار نہ تھی۔ واش روم جاکر جلتی آنکھوں پر ٹھنڈے پانی کے کتنے ہی چھینٹے مارے لیکن لگتا تھا کہیں چنگاری سی اب بھی دبی ہے۔ دوپٹے کے پلوسے چہرہ تھپتھپاتی لاؤنج میں چلی آئی۔
    خیر نال اٹھ گئی دھی رانی ۔ میں تمہارے ہی پاس آرہی تھی۔ چائے لے آؤں پتر۔ اسے دیکھتے ہی صفیہ بوا کچن سے نکلیں۔
    ہاں بوا چائے لے آئیں اور ہاں میرے سر میں بہت درد ہے۔ ساتھ کوئی پین کلر بھی لادیں پلیز۔
    اور وہ نہ بھی بتاتی تب بھی انہوں نے دیکھ لیا تھا۔ بے رونق ستا ہوا چہرہ، سوجی آنکھیں، جو صاف چغلی کھا رہی تھیں۔ بے اختیار ان کا ہاتھ اس کے ماتھے پر ٹکا۔
    سر میں درد کیوں ہے پتر۔ خیرتے ہے ناں اور یہ روز روز سر میںدرد کیوںہونے لگاہے پتر۔ پھر تمہارا بنا مشورے گولیاں پھنکنا اور تو ٹھیک نہیں ہے بچے۔ دیکھو تو یہ رنگ کیساپیلا پھٹک ہورہا ہے۔ میں تو کہتی ہوں کسی اچھے سے ڈاکٹر کو دکھاؤ۔
    ڈاکٹر… اف سینیسے اک ہوک سی اٹھی۔ جوروگ جو نک بن کر اس کی روح کو چمٹ گئے تھے ان کا علاج اب کسی ڈاکٹر کے پاس تھا کیا؟ اگر کہو تو سر میں تیل ڈال دوں لگتا ہے کئی دن سے کنگھا ہی نہیں کیا۔
    دیکھو تو کیا حشر ہورہا ہے۔ ان کی انگلیاں اس کے الجھے بالوں میں پھنس گئی تھیں۔ اچھا آپ تیل بھی لگادیجئے گا کیا فرق پڑتا ہے۔ ابھی تو جائیں چائے اور پین کلر لے آئیں پلیز… زرتاشہ نے صوفے کی بیک سے سرٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ بوا کچن کی جانب مڑگئیں۔
    ارے بھئی تم خود ادھرہو۔ فون کہاں ہے تمہارا۔ عروج کب سے کال کررہی ہے تمہیں حد ہوتی ہے لاپروائی کی۔ یہ لو عروج ڈارلنگ بات کرلو اس سے۔
    نفیسہ اچانک جانے کدھر سے نکلیں تھیں اور قبل اس کے کہ وہ کچھ سمجھتی یا منع کرپاتی انہوں نے اپنا قیمتی سیل فون اس کے کان سے چپکا دیا تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق اب کیا ہوسکتا تھا علاوہ بات کرنے کے۔
    خواہ مخواہ کی خوش اخلاقی بگھارنا اس کے نزدیک ہمیشہ سے منافقت کے زمرے میں آتا تھا اور غضب یہ کہ اب اسی منافقت کے سہارے سفر زیست طے کرنا ہوگا۔کبھی بہت زعم سے ہم کئی باتوں پر کاندھے اچکاکر ”آئی ڈونٹ کیئر” کہہ دیتے ہیں اور پھر یوں ہوتا ہے کہوہی باتیں کسی وقت پلٹ کر منہ چڑانے لگتی ہیں تب ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے سوائے خود سے ہی نظریں چرانے کے۔ عروج سدا کی باتونی، ہنوز،کتنی خوش باش رہتی ہے ناں وہ اور اسے تو ہنستے لوگوں سے جیسے چڑ سی ہونے لگی تھی دو چار باتوں پر ہوں ہاں کرکے اس نے فون واپس ماں کی جانب بڑھایا جو بغور اس کے انداز دیکھ رہی تھیں۔ ان کی لاڈلی سے اس نے ٹھیک سے بات نہیں کی تھی سو اس جرم کی پاداش میں کلاس بھی لگ سکتی تھی اور فی الوقت کسی بھی طرح کی نصیحت سننے کا موڈ نہ تھا فوری کھسکنے کا سوچا مگر بھلا ہو بوا کا جو چائے لے آئیں تھیں مطلوبہ لوازم سمیت…
    یہ کیا ہے ؟ نفیسہ کی نظر ٹرے میں رکھی دوا پر تھی۔
    بیٹی کے سر میں درد ہے۔ میں نے تو کہا اسے مت کھایا کرو الٹی پلٹی دوائیں۔ کسی اچھے سے ڈاکٹر کو دکھالو۔ دیکھو تو حالت کیا ہوگئی ہے اس کی۔ بوا فکر مند ہورہی تھیں۔ انہوں نے بھی اس کا چہرہ جانچا۔
    ہاں تو درد تو ہوگا ناں جب سارا سارا دن کمرے میں بند رہوگی۔ پتہ نہیں کیا ہوتا جارہا ہے تمہیں۔ سب مینرز بھولنے لگی ہو کتنا کہا اسے اپنا خیال رکھا کرو۔ فریش رہا کرو۔ آخر ٹینشن کیا ہے۔ تمہیں تو اب کسی سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں۔ کیا سوچتی ہوگی عروج ارے اسے کس لئے اگنور کررہی ہو۔ کیوں بات نہیں کرنا چاہتی اس سے پتہ ہے ناں کون ہے وہ۔ اس سے ایک نہیں دو دو رشتے ہیں تمہارے اور دونوں ہی توجہ اور عزت کے متقاضی ۔ کیا سوچتی ہوگی وہ بچی۔ تم لوگوں نے ہر مقام پر مجھے بس تنگ کرنے کی قسم کھائی ہے اور ایک وہ جلاد ہے کم بخت ۔ اس کا علیحدہ نخرہ ہے۔ وہ بھی بات نہیں کرتا اس سے فون تک نہیں اٹھاتااس کا اور اس کی وجہ سے کتنی اپ سیٹ رہتی ہے بے چاری۔ اب اگر تم بھی یوں ایٹی ٹیوڈ دکھاؤ گی تو سمجھ لو کہ یہ تمہارے ہی حق میں اچھا نہیں ہوگا۔ ارے تمہیں تو چاہیے کہ تم اس کے ساتھ نہیں بولو دوستی بڑھاؤ اسے ابھی سے اپنی مٹھی میں کرنے کی کوشش کروگی تو کل کو…
    پلیز مام لیو اٹ۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ جی نہیں چاہا بات کرنے کو پھر کبھی کرلونگی ابھی چھوڑ دیں یہ قصہ حلق میں اترا گھونٹ کونین گھلا ہوگیا تھا کپ ٹیبل پر پٹخ دیا۔
    ہاں تو کیوں ٹھیک نہیں ہے طبیعت ؟ کیا ہوگیا ہے؟
    ”ہر وقت منہ پھلائے پھرتی رہتی ہو۔ جب گونگے کا گڑ کھائے رہوگی تو یہی ہوگا۔ شکل دیکھی ہے آئینے میں اپنی۔ برسوں کی بیمار لگ رہی ہو حلیہ دیکھو ذرا اپنا کتنے روز ہوگئے ڈریس چینج نہیں کیا تم نے؟ کتنی بار میں نے کہا پارلر سے ہو آؤ۔ حالت سدھار لو اپنی مگر تم نے تو جیسے کوئی بھی بات نہ ماننے کا تہیہ کررکھا ہے۔” اور اس نے بے اختیار سراٹھا کر انہیں دیکھا تھا۔
    اب بھی یہ الزام؟؟ ان کے کہنے پر اس نے چپ چاپ اپنی پوری زندگی داؤ پر لگادی پھر بھی وہ خوش نہیں تھیں۔ اک کندچھری تھی جو عین شہ رگ کے اوپر رکھی گئی تھی۔ کرب کے مارے پلکیں بیچ لیں۔
    ستا ڈالا ہے تم دونوں نے تو مجھے۔ ایک وہ ہے جسے رتی بھر میرا احساس نہیں اتنا لاڈ پیار کیا اس دل کے لئے دیا تھاکہ میرے ہی مقابلے پر اتر آوؑ۔ میرے ہی فیصلوں کو رد کرنے کی جرات کرو۔ حد ہوگئی اور تمہیں تو میرا کہا اپنا بھی خیال نہیں ہے۔ ایسا کیا ہوگیا ہے آخر اس چپ کی وجہ جان سکتی ہوں میں کیا ثابت کرنا چاہتی ہو اس رویے سے۔ میں نے کوئی ظلم کردیا ہے تمہارے اوپر؟
    کیا بات ہے؟ کیوں ڈانٹ رہی ہو میری گڑیا کو؟ وہ عادتاً نان اسٹاپ شروع ہوچکی تھیں کسی کی پراہ کئے بغیر۔ غیاث ہمدانی ابھی آفس سے لوٹے تھے سیدھا وہی چلے آئے۔
    ارے میری ایسی قسمت کہاں کہ میں انہیں ڈانٹ سکوں۔ یہ تو آپ کی شہہ ہے جو انہوں نے میری زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں مسز علیم کی بیٹی کی مہندی ہے آج اور میں نے چار روز پہلے سے بتارکھا ہے۔ لیکن ذرا صورت دیکھیں اس کی یہ ہے کہیں لے جانے کے لائق۔ میں نے شرمندہ ہونا ہے وہاں۔ اس کا پورا سسرال انوائیٹڈ ہوگا وہ سب کیا دیکھیں گے۔ دنیا تو پل میں رائی کا پہاڑ کھڑا کرتی ہے۔ اسے تو کسی سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں رہا۔ اس کی بدمزاجی کی کیا کیا وضاحتیں دونگی میں لوگوں کو۔ آج عروج کا فون آیا تھا۔ اب وہ پوری تفصیل بیان کررہی تھیں اور غیاث ہمدانی کی نظر بیٹی کے جھکے چہرے اور لرزتی پلکوں پر تھی۔
    اچھا سب باتیں چھوڑ و تم جاؤ میرے لئے اچھی سی چائے بنواؤ اور ساتھ میں کچھ کھانے کو بھی بہت بھوک لگی ہے۔ وہ اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئے اور اسے بازو کے گھیرے میں لے لیا گویا اپنی شفقت بھری پناہ میں اور یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آیا تھا۔ جب کہیں نفیسہ بیگم اپنی جلالی طبیعت کی دھوپ سے بچوں کو گرمانا شروع کرتیں وہیں وہ ان کے لئے گھنی چھایا بن جاتے۔ ماں کی عتاب بھری سختیوں سے وہی تو بچاتے آئے تھے انہیںَ بلا کے نرم مزاج غیاث ہمدانی جب کسی اور کے ساتھ تلخی نہیں برت سکتے تھے تو پھر اپنی اولاد کے معاملے میں تو وہ بالکل ہی موم کا دل رکھتے تھے خصوصاً اس سے تو انہیں بے پناہ محبت تھی اکثر گھرانوں میں باپ کی سخت گیری کے آگے ماں بچوں کے لئے ڈھال بن جاتی ہے جبکہ یہاں معاملہ یکسر الٹ تھا بچپن سے ہی وہ ماں سے زیادہ ان کے قریب رہی تھی۔ ماں کا شعلہ مزاج اسے ہمیشہ ان سے دور اور خائف رکھتا تھا۔
    اور اب تو وہ ان سے بالکل ہی خفا ہوگئی تھی مگر اظہار کی جرات نہ تھی۔
    اب بھی وہی ہمیشہ کی طرح جی چاہ رہا تھا باپ کے سینے میں منہ چھپا کر ایک بار تو خوب سارا رولے تاکہ اندر جمع ہوتی کثافت کچھ تو بہہ جائے گوکہ اسے یہ بھی علم تھا۔ جو پھول نوچ کر تپتی ریت پر پھینک دیئے جائیں وہ پھر سے خوشبو نہیں دیتے۔
    ہاں بیٹا اب بتاؤ کیا بات ہے؟ کیوں تنگ کررہی ہو اپنی ماں کو؟ طریقے سے نفیسہ بیگم کو وہاں سے ہٹانے کے بعد وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
    میں کیوں تنگ کرونگی ماما کو وہ تو میں یونہی… تیزی سے پلکیں جھپکا جھپکا کر آنسو اندر اتارتی وہ انہیں بالکل وہی چھوٹی سی گڑیا لگی جب وہ ماں کے غصے سے بچنے کو ان کے دامن میں پناہڈھونڈا کرتی تھی وہ سہمی، گھبرائی ہوئی ذرتاشہ اب اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ اسے اپنے آپ کو سنبھالنا بھی آگیا تھا۔
    اور اچھا اس کا مطلب آپ نہیں آپ کی مام آپ کو تنگ کررہی ہیں۔ ناٹ گڈ۔ انہوں نے جیسے کچھ سمجھتے سرہلایا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • خونی سایہ — عمارہ خان (تیسرا اور آخری حصہ)

    خونی سایہ — عمارہ خان (تیسرا اور آخری حصہ)

    فلک جب سے اسٹور سے آیا تھا ایک ہی اینگل میں بیٹھا مسلسل سوچوں میں گم تھا۔ سارہ کافی دیر تک دیکھتی رہی، لیکن پھر مجبور ہوکے اس کے پاس چلی آئی۔
    ”کیا ہوا فلک، کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں۔ کھانا بھی نہیں کھایا دیکھیں ٹھنڈا ہوگیا ہے۔”
    فلک نے چونک کے سارہ کو دیکھا اور سامنے رکھے کھانے پر بھی نظر ڈالی جو پتا نہیں کب سارہ رکھ گئی تھی۔
    ”ہوں…بس ایسے ہی۔”
    ”کوئی پریشانی ہے، تو مجھے بتادیں شاید کوئی مدد کرسکوں۔” سارہ نے بات برائے بات کرنی چاہی۔
    فلک واقعی اس وقت سارہ کو دیکھ کے سوچ رہا تھا کہ ایشل سے شادی کا کیا جواز دے پائے گا اسے۔
    ”تم مجھے کتنا چاہتی ہو۔ فلک خود بھی حیران رہ گیا اپنے سوال پر۔”
    سارہ نے چونک کے فلک کو دیکھا۔ پھر مسکراکے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے سکون سے جواب دیا۔
    ”اپنی جان بھی دے سکتی ہوں آپ کی خاطر۔”
    فلک نے اسے چونک کے دیکھا اور خود کلامی سی کی۔
    ”ہاں جان بھی تو…نہ رہے گا بانس نہ دینی بجے گی بانسری۔”
    سارہ فلک کے ذہن میں چلنے والی الجھن سے بے خبر، اس کے پاس آ کے بیٹھ گئی۔
    ”فلک میں آپ سے واقعی بہت محبت کرتی ہوں۔ میرے پاس آپ کے سوا اور ہے ہی کون… جان تو معمولی سی چیز ہے۔ اگر میرے بس میں ہو، تو یہ دنیا نچھاور کردوں آپ پر۔” سارہ نے جذب سے کہا، تو فلک بے ساختہ شرمندہ ہوگیا۔
    ”اتنا چاہتی ہو مجھے سارہ۔ٔٔ فلک نے شرما کے منہ پھیر لیا۔ وہ نہیں جانتی تھی کس سخت دل سے جی لگا بیٹھی ہے جو پہلے ہی کسی دوسرے کے نام پر دھڑکتا ہے اور اب اس کو بھی اپنی محبت پر قربان کرنے چلا تھا، لیکن فلک بھول گیا تھا، مکافات عمل بھی کوئی چیز ہے ۔ورنہ یہ دنیا ایسے ہی خود غرض لوگوں کی اجارہ داری پر ختم ہوچکی ہوتی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”تم فیکٹری آجاؤ نا فلک…” ایشل نے دبے دبے لہجے میں فلک سے بحث جاری رکھی ۔
    ”ہم ادھر لنچ کرلیں گے ، پلیز میں بہت مصروف ہوں آج …”
    ”مصروف تو میں بھی ہوں ایشل، لیکن تمہاری خاطر سب چھوڑ چھاڑ کے … خیر چلو تم کام کرلو پھر کبھی مل لیں گے۔” فلک نے جانے انجانے ایشل کے جذبات دیکھنے چاہے۔
    ”تم جانتے ہو فلک، یہ فیکٹری کام اور بزنس میرے مطلب کے نہیں۔ جب سارا دن خالی دیواروں کو دیکھ دیکھ کے نفسیاتی طور پر پاگل ہونے لگتی ہوں، تو ادھر آجاتی ہوں اور چاہ کے بھی پلٹ نہیں سکتی جب تک…” ایشل نے جھجک کے بات ادھوری چھوڑ دی، لیکن فلک کی جانب سے کوئی سوال نہ پا کے خود ہی بات مکمل کرلی۔
    ”جب تک کوئی مضبوط سہارا نہیں مل جائے مجھے ، اسی جگہ رہنا ہے فلک سمجھو بات کو۔”
    فلک بے ساختہ تڑپ گیا۔
    ”اوہ ایشل۔میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔”
    ”نہیں فلک اب نہیں۔ مجھے جھوٹے خواب نہیں دکھانا۔ وہ وقت الگ تھا اب میں اتنی کمزور ہوچکی ہوں کہ دوسرا جھٹکا نہیں سہ سکتی۔ تمہاری بیوی ہے، گھر ہے تم اس کو دیکھو۔ میں ٹھیک ہوں جہاں اتنا وقت گزرا ہے وہیں باقی بھی گزر جائے گا۔” ایشل نے تلخ مسکراہٹ سے جواب دیا۔
    ”میں آرہا ہوں تم میرا انتظار کرو۔” فلک نے تیزی سے فون کاٹ کے گاڑی کا رخ اسی فیکٹری کی جانب موڑا جہاں ایشل کو پانے کے لیے معمولی سی نوکری کرنے گیا تھا اور اسی کا سوال کرنے پر بے عزت ہوکے نکال دیا گیا تھا۔ وقت وقت کی بات تھی، جو کبھی بھی ایک سا نہیں رہتا۔
    ٭…٭…٭
    ”کیوں اتنی اداس رہتی ہو سارہ۔ خوش رہا کرو۔” قدسیہ بیگم نے سارہ کو روکھے الجھے ہوئے بالوں کے ساتھ پھرتے دیکھا، تو ٹوک گئیں۔
    ”کس کے لیے تیارہوں اماں؟” سارہ نے چائے کا کپ ان کی جانب بڑھاتے ہوئے تھکے لہجے میں پوچھا۔
    ”اپنے لیے ، میرے لیے۔ دیکھو فلک جتنی محنت کررہا ہے ہمارے لیے ہی تو کررہا ہے نا۔” قدسیہ بیگم نے سارہ کو اپنے پاس بٹھاتے ہوئے ، ایک بار پھر اسے دلاسا دیا۔ وہ یہ بات بھول گئیں تھیں کہ بیوی کے لیے شوہر کی ایک نظر ہی کافی ہوتی ہے۔ وہ بھانپ جاتی ہے اس کا شوہر اس کی جانب راغب نہیں ہے۔
    ”اماں میں کب سے ایک بات پوچھنا چاہ رہی تھی آپ سے۔” سارہ نے جھجک کے قدسیہ بیگم کی جانب دیکھا۔
    ”ہاں ہاں پوچھو بیٹی۔ ماں سے بھی کوئی اجازت لے کے بات کرتا ہے کیا۔”
    ”فلک اس شادی کے لیے راضی نہیں تھے کیا۔” سارہ نے دھیمے لہجے میں اپنے دل کی الجھن قدسیہ بیگم سے شیئر کی۔
    یہ سنتے ہی قدسیہ بیگم کے ہاتھ میں چائے کا کپ لرز گیا۔
    ”ایسی تو کوئی بات نہیں سارہ۔ یہ شادی اسی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔ ہم تمہیں اتنے دقیانوسی لگتے ہیں کہ پرانے زمانے کی طرح زبردستی شادی کرادیں گے وہ بھی لڑکے کی… ”قدسیہ بیگم نے بات کا رخ ہلکے پھلکے انداز میں بدلنا چاہا۔
    ”ویسے بھی اتنا وقت ہوگیا ہے تمہاری شادی کو اگر وہ تمہیں پسند نہیں کرتا، تو کیوں گھر میں رکھتا؟”
    ”لیکن اماں…” سارہ اپنی ساس کو فلک کے سرد مزاج کے متعلق بتانے سے جھجک رہی تھی۔
    ”سارہ ۔ ہم نے کڑا وقت گزارا ہے۔ اب فلک جو یہ دن رات محنت کررہا ہے سمجھو اس کا مداوا کرنے کے لیے …”
    ”اور یہ جو وقت گزر رہا ہے اماں ، پھر بعد میں اس کا مداوا کریں گے؟” سارہ کے اس سوال کا جواب قدسیہ بیگم کے پاس نہیں تھا۔
    ”کیوں فکر کرتی ہو، فلک کے ابا، اماں کی پسند ہو ایسے کیسے اس کو ناپسند ہوسکتی ہو تم۔” قدسیہ بیگم نے اپنی ہر ممکن کوشش کرلی، لیکن سارہ بھی اپنے شوہر کے بدلتے مزاج کو بخوبی جاننے لگی تھی۔اس کی چھٹی حس اسے اشارہ دے رہی تھی ، کچھ بہت غلط ہونے والا ہے۔
    ٭…٭…٭
    ”آؤ فلک آؤ۔” ایشل نے خوش دلی سے استقبال کیا، لیکن اس کے چہرے کی تھکن فلک کو بہت واضح محسو س ہوئی۔
    ”لنچ پر جانا ہے یا ادھر ہی آرڈر کردوں۔”
    ”کیوں تھکاتی ہو اتنا خود کو ایشل؟” فلک نے سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے ایشل سے سوال کیا۔
    ایشل نے آنکھیں موندے بہت سے آنسو پیچھے دھکیلے اور زیرلب جواب دیا۔
    ”پھر کیا کروں اور کچھ ہے بھی تو نہیں کرنے کو؟”
    ”تمہاری کوئی اولاد؟” جھجکتے ہوئے فلک نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
    ایشل نے آنکھیں کھول کے فلک کو دیکھا اور نظریں جھکا کے خود ترسی کا شکار ہوگئی۔
    ”نہیں میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ میں اکیلی ہی ہوں اور شاید اکیلے ہی رہوں گی ہمیشہ۔”
    فلک نے یہ سن کے اپنے جسم و جان میں سکون کی لہر دوڑتی ہوئی محسوس کی۔
    ”تم سناؤ۔ شادی تو کرلی ، بچے نہیں بتائے کتنے ہیں اور کس کلاس میں ہیں۔” ایشل نے نم آنکھوں سے فلک کو دیکھا۔
    ”اتنی بار بات ہوئی لیکن کبھی پوچھا ہی نہیں تمہاری فیملی کے بارے میں۔”
    ”ہوں کی ہے شادی اور رہے بچے… مجھے کچھ چاہ نہیں تھی۔ اسی لیے …”
    ”تمہاری بیوی…کیا اُسے بھی ، میر امطلب ہے ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے ماں بننا۔”
    ”زبردستی کاسودا تھا ایشل…ابا، اماں کی خواہش پوری کردی بس کافی تھا۔ اب بیوی کی بھی کرنا مناسب نہیں سمجھا میں نے۔” خود غرضی سے جواب دیتا فلک ، وہ فلک نہیں لگ رہا تھا جو یونی ورسٹی میں مشہور ہی دوسروں کے کام کرنے کے لیے تھا۔ ایشل نے بہ غور اسے دیکھا۔
    ”خوش نہیں ہوفلک؟”
    ”تم ہو…؟”
    ایشل نے بے ساختہ نفی میں سر ہلادیا۔
    ”پھر میں کیسے خوش رہ سکتا ہوں۔”
    ”جب ہم نے ملنا ہی نہیں تھا تو…”ایشل نے افسوس سے سر جھکا لیا۔
    ”ہم کیوں ملے تھے فلک اور ہم اب کیوں ملے جب کہ ایک نہیں ہوسکتے۔ یہ قسمت بار بار ہم سے ہی کیوں کھیل رہی ہے۔”
    ”میں اب کسی کو نہیں کھیلنے دوں گا ایشل۔” فلک نے ایشل کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
    ”اب نہیں… بس اب کوئی نہیں آسکتا ہمارے بیچ۔” فلک نے فولادی لہجے میں خود سے عہد کیا۔
    ”کاش کوئی جادو ہوجائے اور پچھلا وقت واپس مل سکے ہمیں۔” ایشل نے بھرائی ہوئی آواز میں اپنے دل کی بات کہہ دی۔
    ”تمہارا گھر بس چکا ہے بیوی ہے۔ ان کی موجودگی میں ایسے ملنا مجھے…کاش ہم کسی طرح پرانا وقت جی سکتے جب ہم ایک تھے۔”
    ”ابھی بھی ہم مل سکتے ہیں۔ ایشل تم دیکھنا ہم ایک ہوجائیں گے۔ ہاں ہم ایک ہوجائیں گے، تم بس میرا انتظار کرو۔” فلک کو ایک دم کسی سوچ نے بے چین کیا ۔
    ”ہاں ایسا ہوسکتا ہے۔ ایشل اس بار میں واپس آؤں گا میر ا یقین کرو۔” فلک تیزی سے بات مکمل کرکے آفس سے باہر نکل گیا اور ایشل اسے حیرانی سے دیکھتی رہ گئی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ فلک اس کی خاطر کسی دوسری انسانی جان سے کھیلنے جا رہا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • خونی سایہ — عمارہ خان (دوسرا حصہ)

    خونی سایہ — عمارہ خان (دوسرا حصہ)

    فلک ناشتا تیار ہے جلدی آجاؤ۔ قدسیہ بیگم نے فلک کو آواز لگائی اور چائے دم پر رکھی۔
    فلک جو باتھ روم میں آئینے کے سامنے شیو کررہا تھا، ماں کی آوازسن کے سر ہلاتا منہ پر پانی کے چھپکے مارنے لگا۔ آئینے میں فلک کا عکس نیچے ہوجاتے ہی، اس کے پیچھے کھڑا ایک سایہ آئینے میں نظر آنے لگا۔ اس بات سے بے خبر فلک مستقل چہرے پر چھپکے مار رہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”میں آج سکندر صاحب سے بات کرنے کی کوشش ضرور کروں گا۔” فلک نے سکندر صاحب کے آفس جاتے ہوئے دل ہی دل میں ایک بار پھر خود کو یاد کرایا اور اپنی ہمت بندھائی۔
    ”کیا ہوا زیادہ سے زیادہ منع ہی کریں گے یا ہوسکتا ہے نوکری سے نکال دیں، لیکن مجھے تسلی تورہے گی کوشش کی تھی ایشل کو پانے کی۔” انہی سوچوں میں گم وہ کب سکندر صاحب کے عین سامنے جابیٹھا اسے علم ہی نہیں ہوا۔
    ”اوہ یس یس…یو کین کم مائے پلیس۔”
    فلک نے چونک کے سکندر صاحب کو دیکھا جو کسی سے نہایت خوش گوار موڈ میں بات کررہے تھے۔
    ”ہوں موقع اچھا ہے۔ فون بند ہونے کے فوراً بعد میں بات کرلوں گا۔” فلک نے اپنی منصوبہ بندی جاری رکھی۔
    ”شیور شیور… اوکے پھر… ڈن ہوگیا۔ کل کا ڈنر میرے گھر… ہاں یار اب وقت ہے۔ بزنس کوفیملی بزنس بنا ہی لیا جائے۔ آخر ایک ہی بیٹی ہے میری۔ کسی ایرے غیرے کو تو دینے سے رہا نا۔” فلک جو فائل سکندر صاحب کے سامنے رکھ کے ہاتھ کے اشارے سے سائن کرنے کی جگہ بتا رہا تھا ایک دم ساکت ہوگیا۔ سکندرنے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
    ”اسی لیے تو تم سے رشتہ جوڑ رہا ہوں سمدھی ہم پلہ ہی جچتا ہے بھئی۔” زوردار قہقہہ لگا کے اپنی ہی بات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سکندر صاحب نے با ت سمیٹی۔
    ”اچھا اچھا چلو، کام کرنے دو۔ کل ملتے ہیں پھر اور ہاں مٹھائی لیتے آنا خوشی کے موقع پر کچھ بدپرہیزی ہوہی سکتی ہے نا۔” مسکراتے ہوئے فون رکھا اور گم صم کھڑے فلک کی طرف دیکھ کے اچنبھے سے پوچھا۔
    ”یس فلک واٹ ہیپنڈ؟” سکندر صاحب نے لمحے بھر بعد باقاعدہ ہاتھ ہلا کے فلک کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی۔
    ”ہیلووووو ینگ مین۔ واٹس رونگ ود یو؟”
    ”نن نتھنگ سر…” فلک نے چونک کے سکندر صاحب کو دیکھااور اپنے اندر دم توڑتی ہوئی ایشل کی آس کو محسوس کیا۔
    ”اور کہاں سائن کرنے ہیں بھئی’ٔٔ سکندرصاحب نے خوش گوار لہجے میں پوچھتے ہوئے اس کی جانب بہ غور دیکھا، لیکن اسی وقت بجتے ہوئے فون نے ان کی توجہ دوسری جانب کردی۔ سکندر صاحب کے مصروف ہوتے ہی فلک گم صم سا آہستگی سے چلتا ہوا شکستہ قدموں سے باہر کی جانب مڑ گیا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”اور آج میں نے تمہیں بھی کھو دیاایشل…”
    فلک اپنی سوچوں میں پریشان حال بس اسٹاپ کی جانب قدم بڑھارہا تھا کہ اسے اپنے بائیں جانب تیزسانسوں کی آواز آئی اور اس کے ساتھ گھسیٹے ہوئے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ فلک نے بے زاری سے اِدھر اُدھر دیکھا، لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔ اس نے کندھے اُچکا کے ایک بار پھر بس اسٹاپ کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ فلک نے بس اسٹاپ تک جانے کے لیے مین روڈ پار کرنی چاہی۔ جیسے ہی وہ بیچ سڑک تک پہنچا اسے دوسری جانب سے ایک سایہ اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے نظر آیا۔ فلک ہکا بکا سڑک پر کھڑا رہ گیا۔ قسمت اچھی تھی جو ایسے بیچ سڑک میں رک جانے سے کسی گاڑی کے نیچے نہیں آیا ورنہ فلک نے انجانے میں خودکشی کی ہی کوشش کی تھی۔ تیز ہارن کی آواز سن کے فلک اپنے ہوش میں آیااور جلدی سے باقی سڑک پار کی۔ اسٹاپ پر پہنچ کے اس ہیولے کو ہر طرف ڈھونڈنے کی کوشش کی، لیکن وہ کہیں نہیں تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”کیا ہوا فلک میرے بچے، جب سے کام سے واپس آئے ہو گم صم بیٹھے ہو۔ سب خیر تو ہے نا۔” قدسیہ بیگم نے کھانے کی ٹرے اٹھاتے ہوئے کہا ۔ برائے نام ہی کھانا کھاکے فلک خاموشی سے صحن میں بچھی چارپائی پر نیم درازہوگیا۔
    ”اماں وہ مجھے…” فلک ابھی بہانہ بنانے کے لیے کوئی بات سوچ ہی رہا تھا کہ ایشل کے فون نے اسے ساکت کردیا۔
    ”ہیلو…” سرسراتی ہوئی آواز سن کے ایشل نے بہ مشکل اپنا غصہ کنڑول کیا۔
    ”تمہیں معلوم ہے نا میرارشتہ طے ہونے جارہا ہے۔” ایشل کے چیختی ہوئی آواز یقینا موبائل اسپیکر سے باہر تک سنائی دے رہی تھی۔ قدسیہ بیگم نے چونک کے فلک کو دیکھا۔ فلک نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا کے چائے پینے کا اشارہ کیا جسے قدسیہ بیگم سمجھ کے خاموشی سے کچن کی جانب بڑھ گئیں، لیکن یہ الگ بات تھی کہ ان کا رواں رواں کان بنا فلک شیر کی جانب متوجہ رہا۔
    ”ہیلو ہیلو…فلک آر یو دئیر…” ایشل نے گھبرا کے فون چیک کیا کہ آیا لائن تو نہیں کٹ گئی۔
    ”ہاں سن رہا ہوں۔” فلک کی مایوسی میں ڈوبی ہوئی آواز سن کے ایشل کو مزید غصہ آگیا۔
    ”بس سنتے ہی رہنا کچھ کرنا نہیں تم۔”
    ”تم بتاؤ میں کیا کرسکتا ہوں؟”
    ”مجھ سے پوچھ کے محبت کی تھی ؟” ایشل روہانسی ہوگئی۔
    ”مت کرو ایسا۔ میں پہلے ہی پریشان ہوں۔” فلک نے بھی ذہنی اذیت جھیلتے ہوئے ایشل کو ٹوکا۔
    ”تم،ت۔تم… پریشان ہو اور تمہیں میری پریشانی کا ذرا سا بھی اندازہ ہے فلک؟ وہ لوگ… وہ لوگ کل…”
    فلک نے مایوس ہوکے آنکھیں بندکرلیں۔
    ”تم ایک بار… تم ایک بار پاپا سے بات تو کرکے دیکھو۔ایشل نے ایک بار پھر فلک کو اکسایا۔ باقی میں دیکھ لوں گی لیکن بات تو شروع کرونا۔ میں لڑکی ہوکے کیسے… سمجھ کیوں نہیں رہو فلک؟”
    ”سکندر صاحب کبھی نہیں مانیں گے۔ مشکل ہے ایشل بہت مشکل ہے ۔” فلک کے کانوں میں سکندر صاحب کی باتیں گونج گئیں۔
    ”پلیز میری خاطر ایک بار کوشش تو کرو میں نہیں رہ سکتی تمہارے بنا فلک۔” ایشل نے اپنے نسوانی پندار کو چکنا چور کرتے ہوئے کہہ ہی دیا، تو فلک کو بھی احساس ہوا جب وہ لڑکی ہو کے اسٹینڈ لے سکتی ہے، تو میں تو پھر مرد ہوں۔
    ”میں کل ضرور بات کروں گا سکندر صاحب سے۔” فلک نے ایشل کو ایک بار پھر بھرپور تسلی دی۔
    قدسیہ بیگم کچن کی چوکھٹ سے لگی یک طرفہ بات سن رہی تھیں وہ ہکا بکا رہ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    بات کرنے میں کیا ہرج ہے۔ فلک نے دل ہی دل میں اپنی ہمت بندھائی۔ ایک بار سر کے کانوں میں بات ڈال دی جائے باقی یقینا ایشل دیکھ لے گی۔ فلک نے گہری سانس لیتے ہوئے خود کو کمپوز کیا اور سکندر صاحب کے کمرے کا دروازہ دیکھ کے ہونٹ بھینچ لیے۔ ارے ے ے ے یہ کیا؟
    سامنے ہی سڑک پار ہیولہ سکندر صاحب کے کمرے کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ فلک نے یہ دیکھ کے بے اختیار ہی تیزی سے اپنے قدم بڑھائے اور جھٹکے سے دروازہ کھول دیا۔ پھر وہیں کھڑے ہوکے چاروں طر ف حیران نظروں سے جائزہ لینے کے بعد وہ ٹھٹک کے رہ گیا۔ سامنے ہی سکندر صاحب کوٹ پہنتے ہوئے ترش نگاہوں سے اسے گھور رہے تھے۔
    ”یہ کیا بدتمیزی ہے فلک؟” سکندر صاحب نے کوٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے ناگواری سے پوچھا۔
    ”سس سوری سر…وہ میں نے کسی کو اندر آتے دیکھا تھا۔”
    ”کس کو؟” سکندر صاحب نے سرجھٹکتے ہوئے سامنے میز پر رکھا ہوا موبائل اٹھایا ۔
    ”کون ہو تم ؟” فلک نے اچانک سکندر صاحب کے عین پیچھے کرسی پر بیٹھے ہوئے سائے کو دیکھ کے پوچھا۔
    ”کیا ہوگیا تمہیں فلک؟” سکندر صاحب نے فلک کی نظروں کا پیچھا کرتے ہوئے اپنی کرسی کی جانب دیکھا اور سوالیہ نظروں سے ایک بار پھر فلک کو دیکھتے ہوئے ماتھے پر بل ڈالے۔
    ”وہ سر…وہ ( ہاتھ کے اشارے سے پیچھے کرسی کی سمت ان کی توجہ مرکوز کرانی چاہی)یہ مجھے کل سڑک پر بھی ملا تھا اور ایک دم غائب ہوگیا اور آج آپ کی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔”
    سکندرصاحب نے پیچھے پلٹ کے دیکھا، جہاں خالی کرسی پڑی ہوئی تھی۔
    ”کون بیٹھ گیا بھئی میری کرسی پہ ، یہ تو خالی ہے۔ لگتا ہے کام کا کچھ زیادہ ہی اسٹریس لیا ہے تم نے۔ ویسے تو خیر اچھی بات ہے، لیکن اتنی بہکی بہکی باتوں کی اِدھر کوئی گنجائش نہیں ہے ینگ بوائے۔” سکندر صاحب کا موڈ یقینا بہت خوش گوار تھا جو ابھی تک فلک کو برداشت کررہے تھے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});