Author: misbah116@hotmail.com

  • آؤ کتابیں کھولیں

    آؤ کتابیں کھولیں

    آؤ کتابیں کھولیں
    آؤ کتابیں کھولیں

    ہم اسکول سے ہولیں
    بات ادب کی بولیں

    کرلی ہم نے بہت ہے مستی
    ملے گی اس سے شہرت سستی

    ہوگی ورنہ پھر رسوائی
    جو کام نہ کسی کے آئی

    چلو اب ہی محنت کرلیں
    اور قسمت کو بدل لیں

    جو وقت بچا ہم پائیں
    تو مُلک کو خوب چلائیں

    سب کو پیچھے چھوڑیں ہم
    آگے آگے دوڑیں ہم

    آؤ کتابیں کھولیں
    آؤ کتابیں کھولیں

  • حماقتیں — اُمِّ طیفور

    ”دل دار صدقے، لکھ وار صدقے
    دل دار صدقے، لکھ وار صدقے
    دل دار صدقے، لکھ وار صدقے
    تیرا کرم ہویا، ہویا پیارے صدقے…”
    چھوٹے سے صحن میں ایف۔ ایم سی نکلتی نورجہاں کی سریلی آواز پھیلتی جا رہی تھی۔ سارا صحن دُھلا دُھلایا سا چمک اور مہک رہا تھا… مہکنے کی وجہ تو یہ تھی کہ صحن میں بلبل نانی کی من پسند چنبیلی کے عطر کی شیشی ٹوٹ کے چور چور ہوئی تھی اور اُس کی خوشبو صحن دُھلنے کے باوجود سارے میں پھیلی تھی۔ بلبل نانی اس صدمے سے چور چور دل لئے… موچنا ہاتھ میں تھامے اپنی باریک تر بھنوئوں کے زائد بال اُکھاڑ رہی تھیں… چند سیکنڈ بعد عطر کے غم میں منہ سے سسکی سی خارج ہوتی تھی۔
    صحن کے نکڑ پر لگے امرود کے پیڑ کے نیچے بید کی کرسی پر پیر پسارے بابرا نے چور نظروں سے نانی کے جارحانہ انداز کو دیکھا تھا، جن کا موچنا بڑی تیزی سے بھنوئوں کی باریکی میں اضافہ کر رہا تھا۔ ”بس کر دیں بلبل نانی … اسی تیزی سے اگر بال اکھاڑتی گئیں تو ساری بھوں اُڑ جائے گی اور آپ آٹے کے پیڑے جیسی لگنے لگیں گی…”
    ”میں کہتی ہوں چپ کر جا بابرا… میرے منہ نہ لگ … میرے صلّو میاں کی نشانی تھا یہ عطر… جو تیری بے پرواہی کی نذر ہو گیا … ہائے میرے مرحوم شوہر کا تحفہ ویڑے میں بکھر گیا…”





    بلبل نانی نے ایک اور سسکی لی، ساتھ ہی غصے کے مارے اکٹھے دو بال اکھیڑ ڈالے، بھؤں بے چاری عین درمیان سے اُڑ گئی۔ بلبل نانی نے بے یقینی سے دستی آئینے میں دیکھا… اور اب کے اُن کا رنگ اُڑ گیا… بابرا کے زور دار قہقہے نے اُنھیں یقین دلایا کہ بیڑہ پوری طرح غرق ہو گیا ہے۔ ”دیکھا…! میں نے کہا تھا ناں کہ ہاتھ ہولا رکھیں… بن گئی ناں موٹر وے … ہاہاہا!”
    ”رک ذرا کم بخت!” بلبل نانی چار پائی کے نیچے سے جوتی تلاشتی ہوئی بولیں۔
    ”آپ کی چپل میں نے پہنی ہوئی ہے…”
    ”تینوں اللہ پچھے گا بابرا…! آج کے دن دو صدمے لگا دیئے تو نے مجھے…”
    ”لو بھلا…! یہ موٹر وے بنانے میں میرا کیا ہاتھ… مشینری آپ کی اپنی تھی بلبل نانی…”
    بابرا ہنستے ہوئے قریب آئی اور بہ غور جائزہ لیتے ہوئے بولی ۔
    ”ویسے بچا ہوا کیا ہے ابھی… چار دنوں میں یہ چار بال اُگ آئیں گے، لائیں گری کا تیل رگڑ دوں…”
    ”اپنے سر میں ڈال جدھر ناس پھرا ہوا ہے… بالوں کا! تجھے دیکھ کر تو مجھے جمعرات والا فقیر بابا یاد آجاتا ہے، جس کی میل سے گجی (گندھی) یہ موٹی موٹی لٹیں ہوتی تھیں… مرن جو گا… ایسا دکھتا تھا جیسے سر پر سُنڈیوں کی کنالی اُلٹا دی ہو۔”
    ”آخ تھو …!” بابرا نے کراہیت سے مصنوعی اُبکائی لی… ”حد ہو گئی بلبل نانی، یہ میں نے ہئیر اسٹائل بنایا ہوا ہے… کرل ہیں یہ کرل…”
    ”ایڈا منہ مٹکا کے نہ بول … کڑل پٹے جائے گا… اور اب جا ذرا اس موئے گانے کی آواز اونچی تو کر … حق ہاہ! میری بڑی یادیں جڑی ہیں اس گیت کے ساتھ …”
    بلبل نانی گائو تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر نیم دراز ہوتے ہوئے بولیں آنکھوں میں پرانی یادوں کی ایک خماری سی تیر گئی۔
    ”یقینا نانا بھی اُس یاد کا لازمی حصہ ہوں گے… ہیں ناں!”
    ”ہائے ہائے! کی یاد کرا دِتا ظالمے! میں اُن کو دیکھ کر بڑے بانکپن سے یہ گانا گنگنایا کرتی تھی اور وہ بالکل کسی مغرور ہیرو کی طرح اینٹھتے چلے جاتے تھے… اکڑ ہی ختم نہیں ہوتی تھی اُن کی… میں اٹھلا کر ہاتھ تھامتی اور وہ جھٹک کر بولتے… جانسن…! جب بھی پہ لاڈ آتا تو مجھے یہی بولا کرتے تھے… جانسن!…”
    ”پھوپھوپھو…!” ہنسی کسی پھوار کی صورت بابرا کے منہ سے برآمد ہوئی تھی… بلبل نانی نے خشمگیں نظروں سے دیکھا، سارا ٹیمپو بیڑہ غرق کر دیا تھا۔
    ”بلبل نانی! جانسن نہیں ”نان سینس” کہتے تھے وہ نان سینس!” بابرا پھر ہنسنے لگی تھی اور بلبل نانی کا چہرہ خفت سے انار ہوا جاتا تھا۔ اُس وقت بھلے نہ سہی مگر اب تو اُنہیں بہ خوبی ”نان سینس” کا مطلب آتا تھا۔
    ”بکواس بند کرتی ہے یا تیری گچی مروڑوں… شرم نہیں آتی ہم دونوں کے سین میں کودتے…”
    ”کیہڑا سین نانی… میں کدھر سے آگئی آپ کے سین میں… ہوتی تو تب ہی جانسن کی تشریح نہ کر دیتی… اچھا چلیں چھوڑیں… مجھے یاد آیا کہ کل ماما کا فون آیا تھا، پیسے بھجوائے ہیں اُنہوں نے گرمیوں کی شاپنگ کے … کل میں بتول کے ساتھ شاہ عالمی جائوں گی… آپ نے کچھ منگوانا ہوا تو بتا دینا”۔ بابرا بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے بے نیازی سے بولی۔
    ”ماں صدقے…! میرا بچہ میرے واسطے تین، چار ذرا کھلتے رنگوں والے پرنٹ پکڑ لینا… جو مجھ پر جچیں…”
    بلبل نانی ململ کے دوپٹے کو دائیں ہاتھ سے بائیں شانے پر سیٹ کرتے ہوئے بولیں۔
    ”اللہ کو مانیں نانی…! مجھے بھلا پتا نہیں کہ آپ کھلتے کن رنگوں کو کہتی ہیں… یہ کھٹے مالٹے جیسے رنگ اور تیکھے جامنی، بیگنی شیڈ آپ کو پسند آتے ہیں اور میں کم از کم ایسے پرنٹ اور رنگ خرید کر دکان داروں کے آگے بستی نہیں کروا سکتی…”
    ”گرقی (غرقی) پھرے تیری بستی کو… میری پسند کا مذاق اُڑاتی ہے … پھول جھاڑو کے منہ والی نہ ہووے تے…”
    بلبل نانی کا تنفس تیز ہوا تھا… نتھنے پھولنے پچکنے لگے ۔
    ”اب تو ہرگز ہرگز نہیں لائوں گی میں ایسے چھچھورے رنگ… بس ہلکے ہلکے، میٹھے میٹھے رنگوں والے پرنٹ لائوں گی… آپ کی عمر کے مطابق…”
    بابرا نے بلبل نانی کی چپلیں اُتار کر اُن کی چار پائی کے آگے دھریں اور کھڑے ہو کر فیصلہ سنایا۔
    ”ہاں… ہاں! کفن اوڑھا دے مجھے … ابھی سے بڑھاپا متھے مارلوں… کوئی ایسی بڈھی نہیں ہو گئی میں … بڈھی ہو گئی تیری ماں، بڈھی ہو گئی تیری دادی … بڈھی ہو گی تیری …”





    ”نانی…!” بابرا نے فقرہ مکمل کرنے کے ساتھ ہی اندرکمرے کی جانب دوڑ لگا دی تھی۔ بلبل نانی کی چپل لگنے سے پہلے ہی وہ گم ہو چکی تھی… مگر چپل اُڑتی ہوئی سر بکھیرتے جدید طرز کے ایف ایم ریڈیو کو جا لگی… وہ بے چارہ تاب نہ لاتے ہوئے پھڑک کر اسٹول سے گرا تھا… تیسرا صدمہ!…
    بلبل نانی سکتے کی کیفیت میں اُسے تکے جار ہی تھیں، جس کے اندرونی نظام میں خدا جانے کیا خرابی آئی کہ وہ اوّل فول بکنے لگا تھا۔
    نورجہاں کا گانا اور کسی دوسرے اسٹیشن پر چلنے والا پھکڑ جگتوں سے مزین اسٹیج شو مدغم ہو گیا… اور اب جو آواز میں اُبھر رہی تھیں وہ بلبل نانی کے کلیجے کے پار ہوئی جاتی تھیں۔
    ”دل دار صدق… کھوتے دا پتر…”
    لکھ وار صدقے …… اے آنڈے میں دِتے سی…”
    تیرا کرم ہویا،… … بساں (بس) وچ سرمہ ویچن والیا…”
    ”ہویا پیار صدقے … لکھ دی لعنت…!”
    بلبل نانی کی دوسری چپل لہراتی ہوئی آئی اور ریڈیو کا ٹینٹوا دبا گئی۔
    نانی طیش سے پیروں پر ڈالا کھیس سر تک اوڑھ کر لیٹ گئیں اور زیر لب بڑبڑائیں…… ”لکھ دی لعنت”۔
    ٭٭٭٭
    دن کے گیارہ بجے تھے… صبح کی لائٹ گئی ہوئی تھی… بلبل نانی اکتائی ہوئی صحن کے وسط میں بچھی چار پائی پر بیٹھی مٹر چھیل رہی تھیں۔ بابرا ابھی ابھی آدھے مٹر پھانک کر اور پھر کمر پر بلبل نانی کی زور دار چپیڑ کھا کر تیار ہونے کے لئے اندر چلی گئی تھی۔ اُسے اور بتول کو آج شاہ عالمی جانا تھا… دیر بھی ہو سکتی تھی لہٰذا کافی کام نبٹا بیٹھی تھی… بلبل نانی کوفت کے عالم میں بھی دھیمے سروں میں گنگنا رہی تھیں۔
    ”لے آئی پھر کہاں پہ … قسمت ہمیں کہاں سے …”
    ”یہ تو وہی جگہ ہے… گزرے تھے…”
    بلبل نانی ابھی پوری طرح گزر بھی نہ پائی تھیں کہ دھاڑ کی آواز سے داخلی دروازے کو دیوار سے مارتی بتول فاطمہ ڈیوڑھی سے گزرتی صحن میں داخل ہوئی تھیں۔ تیز رنگوں والے کھچڑی پرنٹ اور ویسا ہی دوپٹہ اوڑھے … آنکھوں پر ٹھیلے سے لئے سستے بڑے شیشوں والے گاگلز چڑھائے … پیروں میں سلور تلے والی کولہا پوری چپل پہنے… بتول فاطمہ بازار جانے کے لئے مکمل تیاری کے ساتھ پہنچ چکی تھی۔ طوطے کا رنگ کا پرس بھی ہاتھ میں جھول رہا تھا۔
    ”ہیلو گرینڈما …… کیسی ہوئنگ آپ……”
    بتول نے بلبل نانی کے قریب جا کر چٹ سے اُن کا گال چوما اور بڑے اسٹائل سے حال پوچھا۔ بلبل نانی بتول پر بڑی فریفتہ تھیں … وہ ہو بہو اُنھیں اپنی جوانی لگا کرتی تھی… حالاں کہ بابرا بھی ہوبہو اُنہی پہ پڑی تھی مگر بتول نے تو چھچھورپن کا ریکارڈ قائم کر رکھا تھا۔
    ”ماں صدقے … ! کیسی ہے بتولاں… بابرا تو اندر تیار ہو رہی ہے…”
    ”اُف…! گرینڈما میرا نیم بتول فاطمہ ہوئنگ… پلیز! ڈونٹ رانگ سیئنگ…!”
    ”ذرا بندے دے پتربن کر بولیا کر … اور بتولاں تیری ماں تجھے سب سے زیادہ کہتی ہے… پہلے اُسے منع کر … ویسے کر کیا رہی تھی ثریا…”
    بلبل نانی نے چھلے ہوئے مٹر کے دانے سمیٹتے بتول کے ہاتھوں پر دھپ لگاتے ہوئے پوچھا۔
    ”ساگ پکائنگ اور پھر کلی (اکیلی) ہی کھائنگ… میں تو شاہ علمی سے ہی چاٹ اور برگر کھا کر آئینگ…”
    بتول نے چٹخارہ بھرا تو بے اختیار بلبل نانی کے منہ میں پانی آگیا… اتنے میں بابرا کاندھے پر بیگ لٹکائے… نک سک سے درست چلی آئی۔ دونوں سہیلیاں یوں گلے ملیں جیسے مدتوں بعد سامنا ہوا ہو… حالاںکہ چوبیس گھنٹوں میں چودہ گھنٹے تو دونوں درمیانی دیوار پر چڑھی رہتی تھیں… ساتھ والا گھر بتول کا ہی تو تھا۔
    ”ماں کو کہتی ہوئی جا کہ بلبل نانی کہہ رہی ہیں کہ ساگ پکا کر تھوڑا مجھے بھی بھیجیں… اب میں کیا اکیلی جان کچن میں کھپتی پھروں…”بلبل نانی نے دونوں کا معانقہ لمبا ہوتا دیکھا تو بیچ میں اپنا مدعا بیان کر کے اُن کا دھیان بٹایا۔
    ”اوکے گرینڈما… ابھی آسکنگ… مگر ابھی ٹائم لگینگ… ابھی وہ گھوٹنگ… پھر تڑکا لگائنگ… پھر… ”
    ”اے بتول کی بچی…!” بیچ میں ہی بابرا نے کوفت زدہ ہوتے ہوئے ٹوکا…
    ”اگر تو نے یہ ”آئینگ” اور ”جائینگ” دکان داروں کے سامنے کیا نا… تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا… بستی (بے عزتی) کرا کر رکھ دیتی ہو… اگلوں کو بھی پتا لگ جاتا ہے کہ چوبرجی کی ”کھڈوں” سے نکل کر آئی ہیں۔”





    ”اُف…! بابراہ یو آر جسٹ کر پکنگ…! تمہیں کیا بتا کہ کتنا اچھا امپریشن پڑنگ… یہی محسوس منٹ ہوئینگ کہ لڑکیاں پڑھی لکھی اور وڈے گھروں کی ہوئینگ…!”
    بتول نے اِٹھلا کر بابرا کو تسلی دی… بلبل نانی نے اپنی ادھوری بھؤں اُچکا کر دونوں کو دیکھا اور ہنستے ہوئے بولیں۔
    ”کتھے دیاں پڑھی لکھی کڑیاں… بی۔ اے تو کیا مرا نہیں جا رہا دونوں سے… دوسرا سال ہے لڑھکتے ہوئے… اَج کل کے مُنڈے تو ایم۔ اے سے کم کوئی کڑی تکتے بھی نہیں … اس سال بھی اٹک گئیں تو ہو گئے پڑھے لکھے منڈوں سے ویاہ…”
    ”ہوجائیں گے بلبل نانی … ہو جائیں گے… جس طرح آپ کا ہو گیا تھا نانا کے ساتھ… آپ نے تو آٹھویں جماعت میں ہی قسم کھا لی تھی کہ نویں کہ منہ نہیں دیکھنا … پھر بھی نانا کو آپ بھاگئیں… ایسے ہی ہمارا بھی دائو چل جائے گا…” بابرا نے سینڈل کا اسٹریپ ٹائٹ کرتے ہوئے بلبل نانی کو تفصیل سے اُن کا ماضی یاد کروایا… پیچھے کھڑی بتول دانت نکو سے جارہی تھی۔
    ”بابرا… مرن جو گئے تیری زبان تو بالکل اپنی دادی پر پڑی ہے… ذرا عقل بھی لے لیتے تھوڑی سی … یا وہ کالج میں بیچ کھائی ہے…” بلبل نانی کھسیانی سی ہوئی بابرا کے لئے لیتی ہوئی بولیں۔ بابرا فوراً ان کے قریب آئی اور گلے میں بازو ڈالتے ہوئے بولی: ”ہائے نہیں بلبل نانی… ایسا کیسے ہو سکتا ہے… مجھے تو بس آپ اچھی لگتی ہیں… پھر عقل کیسے کسی اور کی اچھی لگتی…” بلبل نانی جو اُس کے لاڈ پر موم ہو گئیں تھیں… آخری فقرہ سمجھ میں آتے ہی رکھ کر اس کی کمر پر دو تھپڑ دھرے۔
    ”پراں مر…! تیری عقل مجھ پر پڑی ہوتی تو اب تک بیاہ کر اگلے گھر دفع بھی ہو گئی ہوتی… جا اب اگر زیادہ بکواس کیتی تو بٹھالوں گی گھر… سارے پرنٹ پھر تیری شکل پہ ہی اُتر آئیں گے… سمجھی!” بابرا خاموشی سے کمر سہلاتی بتول کو آنکھ سے ڈیوڑھی کی طرف اشارہ کرتی کھڑی ہو گئی مبادا بلبل نانی سچ میں روک نہ لیں۔ ”اے بتول!… اپنی اماں کو کہتی کہ تم لوگوں کے ساتھ ہی چلی جاتی… اکیلی جائو گی دونوں تو فکر رہے گی مجھے…” بلبل نانی کے لہجے میں تشویش تھی… دونوں سہیلیوںکی نظریں ٹکرائیں… تبھی بتول آگے بڑھی اور بولی…
    ”وہ … گرینڈما! آپ فکر ناٹ… ہمارے ساتھ ببلو جائینگ، وہ مرد بچہ ہوئینگ…”
    ”وہ تیرا چھے سال کا بھتیجا… او پاٹی( پھٹی) نیکر تے وگندی نک والا… مرد”… شاباش اے!”
    بلبل نانی نے استہزائیہ انداز میں ہونٹ پھیلا کر بتول کو گھورا …
    بتول برا مناتے ہوئے بولی: ”میرا بھتیجا بڑا ہوشیار ہوئینگ… گرینڈما!”
    ”آہو…! جتنا زمین کے اُتے ہوئینگ، اُتنا ہی زمین کے تھلے بھی ہوئینگ…” یہ بابرا تھی… جس نے بتول کے انداز میں ہی نانی کو تسلی دی تھی اور پھر خود ہی ہنس پڑی تھی۔
    ”ذرا چھیتی واپسی کرنا… موبیل (موبائل) بند نہ کرنا… تے بابرا میری پسند کے چار ودھیا جوڑے پھڑ کے لے آئیں… ورنہ جوتُو اپنے لئے لائے گی نا… میں وہی لے لوں گی… سمجھی!”
    بلبل نانی نے بابرا کو دھمکی دینی ضروری سمجھی تھی ورنہ بابرا کا ارادہ واقعی اس دفعہ نانی کے لئے سوبر رنگ لانے کا تھا۔ مگر بلبل نانی سے کچھ بعید نہیں تھا… وہ سچ میں اُس کے کپڑے جھپٹ لیتیں… اس لئے عافیت اسی میں تھی کہ نانی کے من پسند رنگوں کے پرنٹ لا کر اُن کے حوالے کرتی…! مزید بحث میں پڑنے کی بجائے بابرا نے بتول کا ہاتھ تھاما اور داخلی دروازے کا رُخ کیا۔
    ٭٭٭٭




  • تھکن — سمیرا غزل

    تھکن — سمیرا غزل

    انسان کتنا نادان ہے….کیسے کیسے رواج ،ظالم سماج، بصیرت سے محروم، حقیقت سے انجان حقیقت، جو نہیں ہے سے ہونے تک کی گواہ ہے، جس تک پہنچنے میں انسان کی آنکھوں کے آگے ڈھٹائی کی تنی ہوئی چربی رکاوٹ بنی رہتی ہے” وہ کہہ رہی تھی اور میں سن رہی تھی۔
    ”کیا تمہیں ریت کی پیاس کا اندازہ ہے سبین؟” اس نے خلا میں گھورتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں ہے! کبھی نہیں بجھتی۔” میں نے کہا۔
    ”تم نے کبھی کسی صحرا سے گزرتے ہوئے اس کی پیاس بجھانے کی کوشش کی؟”
    ”نہیں!”میں نے نفی میں سر ہلایا۔
    "مگر میں نے کی ہے اور تم جانو یہ دنیا کا سب سے زیادہ تھکا دینے والا اور مشکل ترین کام ہے” وہ اسی طرح خلا میں تکتے ہوئے بات کرتے جارہی تھی۔
    ”تم نے یہ کوشش کیوں کی؟” میں نے عام سے لہجے میں پوچھا۔
    "تاکہ خود کو سیراب کر سکوں”
    ”ناکام کیوں ہوگئیں؟”





    "کیو ںکہ صحرا کی پیاس کبھی نہیں بُجھتی، اپنا آپ جھلس جاتا ہے، مگر ہوس باقی رہتی ہے، یہ سب سے تھکادینے والا کام ہے۔” اس کی آنکھوں میں ننھے ننھے تارے چمکنے لگے۔
    نیا واقعہ کیا ہے؟ میں نے افسردہ ہوکے سر جھکا لیا اور پوچھا۔
    "رواج، وہ رواج جس کی بھوک مٹاتے مٹاتے ہم ادھ موئے ہوجاتے ہیں” اس کی زبان میں لرزش تھی۔
    ”کون سا رواج” میں نے تعجب سے پوچھا؟
    ”وہ رواج جس کی ادائی پہ نہیں ہونے پہ دکھ ہوتا ہے۔ ”کچھ بتا تو……” میں نے زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”کال ریکارڈنگ ملی ہے۔” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی۔ ارے بابا کس کی؟ میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا۔
    ”ان کی جو رواجوں کے پابند ہیں…”
    ”کون؟” میں نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔
    وہی جنہوں نے کہا کہ ہم نے آج تک کوئی حق ادا نہیں کیا۔” وہ مجھے اپنی مبہم باتوں میں الجھا رہی تھی اور میں گتھی کو سلجھانے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔
    "وہی جن کا موبائل میری بیٹی نے گیم کھیلنے کے لیے مانگا تھا اور پھر معلوم نہیں کیسے وہ ریکارڈنگ چل گئی” وہ بڑبڑائی..
    کون ن ن ن سسی ریکارڈنگ؟؟” میں حیرانی سے چلائی۔
    "وہ جو شاید ان کے پاس غلطی سے ریکارڈ ہوگئی تھی۔”
    ”کچھ بتاؤ گی بھی فائزہ؟ یا یونہی پہیلیاںبُجھاتی رہو گی؟” میں چیخ پڑی۔
    "جس میں میری نند نے دوسری نند سے میری شکایت کی اور بتایا کہ میں اتنی بری اس لیے ہوں کہ میرا میکا بھی ایسا ہے۔” وہ پھر لمبے وقفے پر چلی گئی۔
    ”افففففف تو وجہ کیا تھی یہ سب کہنے کی؟”
    "انہیں عید کی دعوت کے فوراً بعد ان کی امی یعنی میری ساس کی عدت پوری ہونے کی خوشی میں دعوت چاہیے تھی اور ان کا یہ قدیم رواج مجھے قطعاً یاد نہیں رہا”
    ”اف توبہ کیا جہالت ہے فائزہ؟” غصہ سے میری رگیں تن گئیں۔
    ”میں نے تمہیں کہا تھا نہ سبین کہ صحرا کی پیاس کبھی نہیں بُجھتی اور جس کا پیٹ ہی صحرا بن جائے تو ان کے غم بھی پیٹ کی ہی سوچتے ہیں۔” یہ کہتے ہوئے اس کی پلکوں پہ صدیوں کا بوجھ اور لہجے میں گہری تھکن تھی۔

    ٭…٭…٭




  • صدیاں — سائرہ اقبال

    صدیاں بیتی تھیں یا لمحے کیا معلوم ؟ لمحوں کی خبر تو وہ رکھتے ہیں جن کے پاس کھونے کو بھی بہت ہو ، پانے کو بھی بہت ۔ آپا کے پاس کیا تھا ؟ ظاہری طور پہ توکچھ نہیں ۔ جب سے آنکھ کھولی ہے، آپا کو یہیں پایا ہے اِسی کھڑکی میں۔ بس جمعرات کو بچوں میں ٹافیاں تقسیم کرتے دیکھا اور پھر اِسی کھڑکی میں کھڑے۔ کبھی جی کیا تو پاس پڑی کُرسی پر بیٹھ گئیں ۔ اکثر اکیڈمی سے آ کر بی آپا کے پاس بیٹھنے کی کوشش، کبھی اماں بیٹھنے نہ دیتیں تو کبھی آپا ہی زیادہ بات نہ کرتیں۔ ایک دم حسبِ عادت آپا کے پاس گئی انہیں کھڑکی سے ہٹا کر پلنگ کی طرف لے گئی اور کہنے لگی:
    ”آپا۔۔! کیا ہر وقت وہاں کھڑی رہتی ہیں؟ یہاں بیٹھئے ۔ ”
    ”آپا اپنے مخصوص انداز میں کہتیں، ‘پرے ہٹو۔ تُم کیا جانو ان احساسات کو؟”
    ”آپا آپ کیوں مُجھے ابھی تک بچہ ہی سمجھتی ہیں؟ جب میں یہاں آئی تھی نا تب تھی چار برس کی۔ اب تو پُورے اٹھارہ برس کی ہوں بلکہ دیکھنے میں آپ جتنی ہی لگتی ہوں۔”
    ”میرے جیسی نہ بن جانا۔” آپا نے جلے کٹے لہجے میں کہا۔
    ”ضوفی ۔۔ ضوفی ۔۔’ ‘ اماں نے آواز دی۔
    ”لو جی آ گئی اماں کی آواز ۔” ضوفشاں نے کہا۔





    ”آبیٹا! پہنچتے ہی گُھس گئی بدروح کے پاس۔ روٹیاں ڈال لے، نعمان ، نوید اور وارث آنے والے ہوں گے۔ بس دس بارہ ہی ڈالنی ہیں۔”
    حاجرہ اور سمیرا کو بھی بھوک لگ گئی ہو گی اور بہو بیگم کی بھی دو ڈال دیجئیو۔” اماں نے آواز لگائی۔
    ‘آئی اماں۔ ‘ ضوفشاں نے کہا۔
    ضوفشاں کمرے سے باہر نکلی۔’ ‘بس دو منٹ میں ڈال دوں گی۔”
    ”ہاں میری شیر بیٹی۔” اماں نے کہا۔
    ”اماں بچوں کے لئے بھی ڈالنی ہیں روٹیاں؟” ضوفشاں نے باورچی خانے سے آواز لگائی۔
    ‘نہیں روٹیاں بنا کر ان کے لئے چاول اُبال لینا۔”
    ”حاجرہ کی بیٹی ٹھیک نہیں۔ پھر وہ کھائے گی تو نوید کے بچے بھی مانگیں گے ۔ بھئی میں تو برابری کرتی سب کے ساتھ تو سب بچوں کے لئے چاول ہی اُبال دو۔” اماں نے کچھ خود کلامی کی تو کچھ ضوفشاں کو اعلان کیا۔
    ”اچھا اماں۔’ ‘ ضوفشاں نے جواب دیا۔
    نوید کھانا کھانے لگا تو بولا: ”بھئی سلاد آج پھر کسی نے نہیں کاٹا ۔ سلاد کے بغیر کہاں کھانا اندر جاتا ہے۔”
    ”چاول اُبالنے لگ گئی تھی بھائی۔ ابھی کاٹ دیتی ہوں۔” ضوفشاں نے کہا۔
    ”جیب میں ٹکا ایک نہیں اور نخرے دیکھو۔’ ‘ حاجرہ بڑبڑائی۔
    ”دو دو میرے میاں کو طعنے ، بے روزگار ہے ناں ۔ تبھی اپنی پسند کا اظہار بھی نہیں کر سکتا۔” صائمہ بھابھی نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”سلاد کاٹ دو ضوفی ۔” اماں نے آواز دی۔
    ”ابھی لائی اماں۔” ضوفی نے جواباً کہا۔
    ”تو بھابھی اُٹھ کے کاٹ لے نا۔ یہاں کیوں ہر کوئی مُفت کی روٹیاں توڑنے میں لگا ہے۔” حاجرہ نے اپنی بیٹی کے منہ میں چاول ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”اماں سلاد نہیں ہے۔” ضوفی نے باورچی خانے سے آواز دی۔
    ”یہی زبان ہے جس نے تُمہیں گھر بٹھایا ہے۔’ ‘ بھابھی نے نوالہ توڑتے ہوئے کہا۔
    ”جو بھی ہے ، جیسی بھی ہوں ، مُفت کا نہیں کھا رہی ۔ محنت کرتی ہوں اور خود کماتی ہوں ۔ کسی پہ بوجھ نہیں ہوں۔ تُم تو گھر بسا کے چار بچوں میاں سمیت سب پہ بوجھ ہو۔” حاجرہ نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”ضوفشاں آئو تُم بھی کھائو ۔’ ‘ سمیرا نے آواز دیتے ہوئے کہا ۔
    ”میں بس آپا کو کھانا دے آئوں پھر کھاتی ہوں۔”
    ”اماں! نحوست کب تک کھڑکی کے سرہانے کھڑی رہے گی؟ مفت کی عادت پڑ گئی ہے ۔ اچھی بھلی نوکری کو لات مار دی۔” نوید نے کہا۔
    ”ہاں ہاں! کمائو بھائی جو نظر آ رہا تھا ۔ نیت کے کھوٹے لوگ۔” صائمہ بھابھی نے کہا ۔
    جب بھی وہ نیت کے کھوٹے لوگ کہتی، نائلہ ان کی طرف حیرانی سے دیکھتی پھر بھابھی چِڑ کے کہتیں:
    ”اے ہے ۔۔ تو کیا گھور رہی ہے مجھے ۔ کام کر جو کر رہی ہے ۔ ”
    اماں خاموشی سے سُنتی رہتیں۔ایک دِن حاجرہ نے طیش میں آ کر کہہ ہی دیا:
    ”اس وقت تو بڑا نئی نویلی دُلہن کے آنچل میں منہ چھپائے اماں اور بہنوں کو چھوڑ گئے تھے ۔ یہ وہی ہے جس کے آسرے پر چھوڑ گئے تھے۔”
    بھابھی طیش میں آتی اور چلاتی:
    ”ہائے ہائے بد زبان ، اسی زبان نے تو گھر بٹھایا ہے تجھے۔۔ورنہ۔ آج تیرا بھی گھر بس رہا ہوتا۔”
    ”تُم نہ ان کے منہ لگو صائمہ ، یہ ہے ہی بد لحاظ ، بد تمیز ، نہ چھوٹے کی تمیز نہ بڑے کی ۔” نوید کہتا۔
    اماں بین کرنے لگتیں۔
    ”میری تو قسمت ہی خراب ہے ۔گھر والا اچھا نکلا نہ اولاد ۔ جوانی میں ہی مجھے بیوہ کر کے اس کنواری رانی کے ساتھ نکل گیا۔”
    سمیرا باتوں میں ہمیشہ ہی ایک نیا چٹکلا چھوڑتی۔
    ”اماں سُنا ہے ابا اس رانی کے ساتھ فیصل آباد میں ہیں آج کل۔ ابا کی کوئی اولاد نہیں رانی سے۔ یہ بھی سُننے میں آیا ہے کہ وہ کہتی ہے میری سوتن نے کالا جادو کرایا ہے۔”
    ”پچھلی بار تو نے بتایا تھا کہ ابا کی بیٹی جوان ہے اور بیٹا، یہ اپنے ٹنکو جیسا ہے ۔ آج کہہ رہی ہے رانی بانجھ ہے ۔” حاجرہ کہتی ۔
    ”یہ لو۔۔ کھاتی ماں کا ہے ، اوڑھتی پہنتی ماں کا ہے۔ اتنی فکر ہے ابا کی تو جائو، ساتھ ہی چلے جائو۔” اماں چلاتی رہ جاتیں۔
    ضوفشاں کھانے کے برتن اُٹھاتی ، کچن سمیٹتی ۔ نوید ، وارث اور نعمان پھر سے آوارہ گردی کے لئے نکل جاتے ۔ بس ایک یہی کام تھا جو وہ دِل لگا کر اور پابندی سے کیا کرتے تھے ۔ ضوفی اپنے کام سے فارغ ہو کر آپا کے کمرے میں چلی جاتی مگر آپا بتیاں بُجھا کر سو جایا کرتی تھی ، وہ جانتی تھی کہ وہ سوتی نہیں ہے ۔ وہ تو بس آنکھیں موندتی ہے ، دِن میں وہی آنکھیں ڈھیروں خیال و خواب سجائے باہر جھانکتی تھیں مگر پھر بھی وہ آنکھیں خالی ہی ہوتی تھیں ۔ اور رات میں سارے خواب سارے خیال ایک گٹھری میں باندھ کر اپنے سرہانے رکھ لیتیں ۔ پھر وہ آنکھیں اتنی بھری ہوئی ہوتیں کہ خالی کرنے کو جگہ نہ ملتی تھی ۔آپا کاغذ قلم اُٹھائے ، دِل ہلکا کرنے لگتی۔
    ”زندگی کے پہلے دس برس چِک چِک بَک بَک میں گُزر گئے ۔ پندرہ برس کی ہوئی تو فکرِ معاش
    لاحق ہو گیا بہت موذی بیماری ہے ۔ لاحق ہو جائے تو دم کے ساتھ ہی نکلتی ہے۔ اچھوت ہے،
    کوئی آسرا دینے آتا ہے نہ بوجھ ہلکا کرنے ۔ نوکری ملی تو بھی جذبے والی ۔ بڑے ہسپتال میں
    نرس لگ گئی ۔ اٹھارہ سے بیس برس تو خوب گزرے اور پھر ۔۔۔۔ ‘ ‘
    ایک دِن چھُپ کر ، ابھی یہی تک پڑھا تھا کہ آپا آگئیں ۔ میں صفائی کرنے لگی ۔اس دِن کے بعد وہ ڈائری نظر نہ آئی ۔ رات کو اماں کو چائے دینے گئی تو سوچا آپا کے بارے میں پوچھوں ۔ ابھی کچھ پوچھنا چاہا ہی تھا کہ اماں نے تنخواہ کا حساب مانگ لیا ۔
    ”اماں اِس بار کالج کی فیس دینی پڑ گئی۔” اماں بگڑ اُٹھیں، ظاہری بات ہے گھر کا خرچ کم پڑ گیا تھا ۔ اماں نے حاجرہ سے پیسے مانگے تو حاجرہ کہنے لگی:
    ”میں یہاں کسی کے لئے نہیں کماتی۔ اپنے اور اپنے بچے کے لئے کماتی ہوں۔”
    ”ہاں ہاں مُجھے بے روزگاری کے طعنے دیا کرو۔ یہی نوید تھا جو سب کی جان ہوا کرتا تھا اور اب کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ ہیں ہی سب پیسے کے پُجاری ۔” نوید بھائی تو جیسے بگڑ پڑے۔
    ”ہاں بہن کس کی ہے آخر حسد تو کرے گی ۔ بھلا میرامیاں کیوں کسی کا بُرا چاہے گا۔” پھر بھابھی کی دھماکے دار آواز آتی۔
    بھابھی کا بھائی چہل قدمی کے بہانے باہر چلا جاتا ۔ وارث چھت پر کھڑا لڑکیاں تاکتا رہتا۔ نعمان ویسے تو گُونگا بہرا تھا مگر آنکھوں کے اشارے خوب جانتا تھا ۔ ہر گزرتی لڑکی کو دیکھ کر بالوں میں کنگھی کرتا اور مُسکراتا ۔ لڑکیاں کہتی گزرتیں:
    ”دیکھو جھلا ڈورا بھی ہے اور گونگا بھی پھر بھی حرکتوں سے باز نہیں آتا۔” وہ خوش ہوتا کہ لڑکیاں دیکھ رہی ہیں۔




  • لیپ ٹاپ — ثناء سعید

    لیپ ٹاپ — ثناء سعید

    اس کے ہاتھ کی بورڈ پر تیزی سے چل رہے تھے، کی بورڈ کی keys کی ٹِک ٹِک اور صفحے پلٹنے کی آوازوں کے علاوہ وہاں اگر کوئی اور آواز تھی تو اس کے زور زور سے دھڑکتے دل کی تھی، جو شاید وہ خود ہی سن سکتی تھی… اسے اپنے دل کے دھڑکنے کی رفتار مسلسل بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی… دراصل بجلی پچھلے ایک گھنٹے سے غائب تھی۔ اس کا آٹھ سالہ پرانا لیپ ٹاپ اب اپنی آخری سانس لے رہا تھا… نوٹیفکیشن پینل میں بار بار ایک پیغام آرہا تھا۔
    "20% available. Please replace your battery or plug in charger”
    مائیکرو سافٹ آفس پر کام کرتے ہوئے وہ بہ یک وقت تین ایپلی کیشنز پر کام کر رہی تھی… اسے اپنی پریزنٹیشن تیار کرنا تھی اور ایم ایس ورڈ میں ایک ڈاکومنٹ بھی جمع کروانا تھا… کچھ ضروری اعداد و شمار کو ایکسل میں مینو پلیٹ بھی کرنا تھا۔
    ابھی چند سیکنڈ پہلے اس کے لیپ ٹاپ سے اُٹھنے والی بیپ کی آواز کے ساتھ ہی سکرین خالی ہوئی اور ساری بتیاں بجھ گئیں سوائے ایک بتی کے، جو نکھرے نکھرے رنگوں کے بعد اب انتہائی سڑے ہوئے زرد شیڈ میں بدل کے جلنے بجھنے لگی تھی، وہ بھی انتہائی سست انداز میں… یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اسے سانس کا مرض ہو… وہ بے اختیار اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی تھی۔
    ”اُف! اب یہ آن ہونے میں بھی وقت لگائے گا… ایک تو یہ بڈھا لیپ ٹاپ بھی چیونٹی کی رفتار سے چلتاہے۔”
    انتہائی کوفت بھرے انداز میں اس نے دوبارہ پاور کا بٹن دبایا… وہ آنکھوں میں بے زاری اور بے چینی کا امتزاج لیے سکرین پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ Continue with window resume کا پیغام سکرین پر نمودار ہوتے ہی اس نے پوری قوت سے Enter کا بٹن دبایا ۔ یہاں ”اولڈ از گولڈ” والا محاورہ اس کے کام آیا تھا ورنہ تو اس کا کی بورڈ کب کا خراب ہو چکا تھا…
    اب سیاہ پس منظر میں "resuming window” کے الفاظ کے سانس کا اتار چڑھائو واضح تھا، جو اس کی کوفت میں اضافے کا باعث بنا۔
    آخر کار اس کا سسٹم آن ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے فوراً ایگزل، پاور پوائنٹ اور ورڈ کی فائلز کھولیں اور Ctrl+S دبایا… اور اب وہ دوبارہ ورڈ کی فائل میں کام کر رہی تھی۔ اس کی انگلیاں بڑے ماہرانہ انداز میں تیزی سے حرکت کر رہی تھیں، مگر وہ کچھ زیادہ ہی پریشان تھی، اسی لئے وہ بار بار غلط بٹن دبا رہی تھی… یہ سلسلہ اس کی کوفت میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہا تھا۔





    اس نے بہ مشکل اپنی کوفت پر قابو پایا، تبھی وہ پوری توجہ کام پر مرکوز کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو پائی۔ آخر کار مزید بیس منٹ چلنے کے بعد اس کا لیپ ٹاپ ایک ہلکی سی آواز کے ساتھ بند ہو گیا ۔
    اداس چہرے پر بے پناہ بے بسی، غصہ اور معصومیت لئے اس کا دل چاہا کہ وہ لیپ ٹاپ اٹھائے اور دیوار پر پٹخ دے۔ یہ نہیں تو وہ کم سے کم لیپ ٹاپ پر ایک زور دار مکا ہی دے مارے… ”نہیں” اس کے اندر سے ایک آواز اُبھری… اگر وہ ایسا کرے گی تو نقصان اس کا اپنا ہی ہو گا۔ لیپ ٹاپ ٹوٹنے سے اس کا مالی نقصان ہی نہیں بلکہ خاصا دماغی نقصان بھی ہو گا… اس کا سارا ڈیٹا اسی لیپ ٹاپ میں ہی تھا… اس کے ٹوٹ جانے کی صورت میں وہ ڈیٹا توری کور کر سکتی تھی، لیکن اگر ہارڈ ڈسک ہی جل جاتی تو… نہیں وہ کوئی ایسا کام کرنے کی پوزیشن میں ہرگز نہ تھی۔ شام کے پانچ بج رہے تھے اور کل نو بجے اسے پریزینٹیشن دینا تھی۔
    ہنوز اسی موڈ میں کسی بھٹکی ہوئی روح کی مانند کمرے کے اندر باہر کئی چکر لگانے کے بعد اس نے ایک کُشن اُٹھایا اور اپنی پوری قوت سے سامنے دیوار پر دے مارا، جو دیوار کے ساتھ رکھی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے پرفیوم کی بوتل کو جا لگا… اب پرفیوم اور کشن دونوں زمین پر بے ترتیب انداز میں پڑے تھے… یہ دیکھ وہ پیچ و تاب کھا کے رہ گئی… ناچار اپنی جگہ سے اٹھی اور کشن اور پرفیوم دوبارہ اپنی جگہ پر رکھے۔ اپنے کمرے میں وہ مکمل طور پر آزاد تھی۔ جو چیز چاہتی اُٹھا کے پٹخ سکتی تھی، اس طرح کم از کم اس کے دل کا بوجھ تو ہلکا ہو جاتا، مگر وہ ایسا بھی نہیں کر سکتی تھی… اس طرح اس کا کمرہ درہم برہم ہو جاتا، پھر اسے واپس اپنی حالت میں بھی خود ہی لانا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ بکھرے کمرے سے بذاتِ خود اُسے بھی سخت اُلجھن ہوتی تھی، وجہ نمبر دو اگر وہ کمرے کو اسی حالت میں چھوڑ دیتی تو ماما… اگر وہ کمرے میں آگئیں تو اس کی کیا دُرگت بنے گی؟ یہ سوچ کر ہی وہ کانپ اٹھی۔
    ٭٭٭٭
    لائٹ کا انتظار کرتے کرتے دو گھنٹے گزر چکے تھے، باہر اندھیرا چھا رہا تھا۔ اسے اپنے اندر بھی سب کچھ اندھیرے میں ڈوبتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ آخرکار وہ بے چارگی کے عالم میں تھک کر بیٹھ گئی۔ اس کا دل بے اختیار رونے کو چاہا، مگر اگلے لمحے ایک خیال آتے ہی اس نے خود کو پوری قوت سے روکا…
    آپ کے خیال میں اسے کیا خیال آسکتا ہے؟… شاید اس کے دماغ میں کوئی متبادل حل نکل آیا مثلاً آس پڑوس سے یا کسی کزن وغیرہ سے لیپ ٹاپ کچھ وقت کے لئے ادھار مانگ لے، تو آپ غلط سوچ رہے ہیں وہ ایسا بالکل بھی نہیں کر سکتی تھی کیوںکہ جس ڈیٹا کی بنیاد پر اسے ادھوری پریزنٹیشن تیار کرنا تھی، وہ ڈیٹا اور ادھوری پریزنٹیشن دونوں ہی اس مرے ہوئے لیپ ٹاپ میں تھے
    … دوسرا آپشن کیا ہو سکتا ہے؟… وہ یو۔پی۔ ایس والے کسی خوش نصیب گھر میں جا کر گزارش کرے… ایسا بھی بالکل نہیں تھا… وہ ضرورتاً کسی کے گھر میں قدم رکھنا بھی شدید گناہ سمجھتی تھی… تو کیا ہو سکتا ہے؟… درحقیقت اس نے امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا … وہ جانتی تھی بجلی آئے گی ضرور چاہے رات کے کسی پہر چور کی طرح آئے اور چپکے سے چلی جائے… اس قدر سمجھ داری اور اُمید کے پیچھے ایک خاص وجہ کار فرما تھی… رونے سے سر میں درد ہوتا ہے اور پھر کوئی بھی کام ٹھیک سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا … اسے تو صبح پریزنٹیشن ہر حال میں دینی تھی… اف اس کے سر کا درد… ایک دفعہ شروع ہو جائے تو آسانی سے جاتا نہیں… بس یہ ہی بات تھی۔ وہ اچھی طرح سے جانتی تھی اپنے سر درد کو … دوا کھانے سے تو اسے چڑ تھی … رہی بات بجلی کے چوروں کی طرح آنے کی، تو اس مسئلے کا حل اس کے پاس موجود تھا۔ وہ یہ کہ نومبر کے مہینے میں وہ پنکھا پوری رفتار سے چلا کے سوئے گی، وہ بھی کمبل اوڑھے بغیر، جس سے بجلی آنے پر اس کی آنکھ خود بہ خود ہی کھل جائے گی… لیکن اس کی نوبت نہ آئی۔ عصر، مغرب اور عشا کی نماز کے بعد انتہائی خشوع وخضوع سے مانگی گئی دعا قبول ہو گئی تھی… عین سات بج کے پندرہ منٹ پر بجلی آگئی… وہ مارے خوشی کے زمین سے کوئی دو فٹ اوپر اچھلی اور فوراً بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں پہنچی اورپھر اس نے بجلی دوبارہ نہ جانے کی دعائیں کرتے ہوئے لیپ ٹاپ آن کیا۔ حسبِ سابق لیپ ٹاپ انتہائی سست روی سے آن ہوا۔ اس دوران اس کے ہونٹ مسلسل حرکت کر رہے تھے… شاید وہ کوئی ورد کررہی تھی۔ لیپ ٹاپ آن ہوتے ہی اس نے ایک بار پھر اپنا کام شروع کیا، ورڈ کی فائل میں موجود آخری پیراگراف غائب تھا… مگر وہ پرواہ کئے بغیر ایک بار پھر تیزی سے اپنا کام کر رہی تھی…
    ٭٭٭٭




  • حصار —- نورالصباء

    وہ اس کا اپنے گھر میں آخری دن تھا۔ ماں باپ نے اسے اچھی طرح باور کرا دیا تھا کہ رخصتی کے بعد اسے سسرال کو ہی اپنا گھر سمجھنا ہو گا۔ وہ ان لڑکیوں میں سے تھی جو جاتی ڈولی پر اور واپس ڈولے پر ہی سسرال کی دہلیز پار کرتی ہیں۔
    ”عمارہ بیٹی، کیا سوچ رہی ہو؟ دستخط کرو۔۔۔۔ مولوی صاحب انتظار کر رہے ہیں۔” ماں کی آواز پر وہ جیسے ہوش میں آئی تھی اور مستقبل کے اندیشوں میں گھری اس لڑکی نے کانپتے، لرزتے ہاتھوں سے نکاح نامے پر دستخط کر دیئے تھے۔





    اس نے سسرال میں قدم رکھا تو طرح طرح کے امتحان راہ میں حائل ہوئے۔ کبھی اسے سانولے رنگ پر طعنے سننے پڑے تو کبھی معمول سے چھوٹے قد کی وجہ سے دیورانیوں اور جیٹھانیوں نے پھبتیاں کسیں۔ کبھی ساس نندوں نے اس کا جہیز پسند نہ آنے پر اس کی تذلیل کی تو کبھی شوہر نام دار کو اس کے ہاتھ کا پکا کھانا پسند نہ آیا۔
    ایک دن یوں ہی کسی کاروباری مسئلہ میں الجھا، چڑچڑے مزاج والا اس کا شوہر گھر آیا تو کھانے میں ذرا سے نمک کی کسر رہ جانے پر بے جا الجھ پڑا۔
    ”یہ کیسا کھانا بنایا ہے؟ نہ نمک ہے نہ مرچ۔ کتے بھی نہیں کھاتے ایسا کھانا۔ دفع ہو جا میرے سامنے سے۔”
    شوہر نے پہلا نوالہ منہ میں رکھتے ہی برتن فرش پر دے مارے تھے۔ اس کے بعد اس نے اپنے شوہر کی جھڑکیاں اور طعنے سُنے تھے اور لرزتے ہاتھوں سے فرش پر بکھری کانچ کی پلیٹوں کو سمیٹا تھا۔
    اور پھر وہ اس بد سلوکی کی عادی بنتی گئی۔ ہر تھوڑے دن کے بعد اس کا شوہر اسے مارتا پیٹتا اور وہ خاموش بت بنی سب سہتی جاتی۔ بہت تھوڑے عرصے میں اس کی صحت تباہ ہو گئی تھی۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نمودار ہو گئے تھے اور ہاتھوں میں غیر معمولی لرزش پیدا ہو گئی تھی، جسے وہ سب سے چھپانے کی ہر ممکن کوشش کیا کرتی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ اگر اس نے خود کو نہ سنبھالا تو شوہر اس کے سر پر سوتن لا بٹھائے گا۔ اسی لئے ہر روز وہ اپنے زخم خود ٹکورتی اور اپنی گہری اداسی کو بنائو سنگھار کے پیچھے چُھپا لیا کرتی۔
    اس کا استحصال یونہی جاری رہا۔ سب اسے کمزور سمجھ کر زیر عتاب لاتے رہے، اس کی عزتِ نفس کو روندتے رہے۔ دن رات اس کے لرزتے ہاتھ گھر کے سینکڑوں کاموں میں مصروف رہتے۔ راتوں کو وہ جاگتی اور خدا سے اپنی بے وقعتی کے شکوے کیا کرتی۔
    سسرال والوں کے مظالم کچھ اس لیے بھی بڑھ گئے تھے کیوں کہ اب تک اس کی گود خالی تھی۔ وہ مایوس نہیں تھی، اسے امید تھی کہ بیٹے کی پیدائش اس کے سسرال میں اس کی حیثیت بحال کردے گی۔ اس کے ناتواں ہاتھ سراپا دعا بن گئے پھر اس کی مراد بر آئی اور موت جیسی سختی جھیلنے کے بعد اس کے ہاتھوں نے ایک ننھے وجود کو تھاما۔
    بیٹے کی خوشی اس کے لئے ویسی ہی تھی جیسے صحرا نورد کو کہیں طویل سفر میں نخلستان مل جاتا ہے۔ اس بیٹے کا نام گھر والوں نے ساجد رکھا تھا۔ اس کے بعد عمارہ کے آنگن میں کوئی دوسرا پھول نہ کھلا۔





    وہ ہاتھ اس ننھے وجود کے لئے فرشتوں کے پروں جیسا حصار بنے رہتے۔ وہ ننھا وجود ان ہاتھوں کا چھالا تھا۔ سالہا سال ان ہاتھوں نے اس وجود کی پرورش کی اور اس پودے کو تناور درخت بنا دیا تھا۔ ان ہاتھوں نے دن رات ساجد کی نشو و نما کرتے کرتے اپنی رعنائیاں کھو دی تھیں۔
    کئی سال تک ساجد کی خوشیوں پر اپنی خوشیاں قربان کرتے ان ہاتھوں نے ساجد کی دل و جان سے خدمت کی۔ پھر ساجد کی خواہش پر اس کے سر پر سہرا سجایا۔ وہ ہاتھ ہر روز ساجد کی دعا کے لئے اٹھتے تھے اور بہو کے گھر میں آ جانے کے بعد بھی ساجد کے سارے کام نپٹاتے نہ تھکتے تھے۔
    کچھ ہی عرصے کے بعد عمارہ بی بی کے ہاتھوں سے اس کا شوہر اپنا ہاتھ چھڑا کر ابدی سفر پر چل پڑا۔ وہ نا تواں ہاتھ مزید ضعف کا شکار ہو گئے۔ اب ساجد پر ماں اور بیوی کی مکمل ذمہ داری آن پڑی تھی۔ وہ خرچوں کے طوفان سے بوکھلا گیا۔ جب تک ابا دکان پر بیٹھا کرتے تھے اماں کا خرچہ خود اٹھاتے تھے۔ مگر اب ساجد کو سارا خرچہ خود اٹھانا پڑ رہا تھا۔
    اس وجہ سے اس کی بیوی بھی اس سے روز روز لڑنے لگی۔ صائمہ کو لگتا تھا کہ ساجد ساری تنخواہ اماں پر خرچ کر دیتا ہے۔
    دن رات صائمہ اپنی ساس کو بے کار بیٹھنے کے طعنے دیتی اور جلی کٹی باتیں سناتی۔ عمارہ بی بی لرزتے ہاتھوں سے گھر کے سارے کام کرتی رہتیں تا کہ بہو کے شکوے دور کر سکیں مگر شاید بہو کو ان کی دو وقت کی روٹی بھی کھلتی تھی۔ اسی لئے اکثر صائمہ ساجد سے شکایت کرتی کہ دو وقت کا سالن اماں ایک ہی وقت میں کھا جاتی ہیں۔ پندرہ دن کا راشن ایک ہفتے میں ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔
    وہ لرزتے ہاتھ چپ چاپ تماشا دیکھتے اور حیران ہو کر سوچتے کہ کیا وہ وقت ان پر نہیں گزرا جب وہ ہاتھ ننھے ساجد کے چھوٹے بڑے کام کرتے کرتے گھس جایا کرتے تھے؟ کیا وہ وقت بہت پرانا ہو گیا جب وہ ہاتھ ساجد کی فرمائش پر کھانا بنا کر نوالے اس کے منہ میں ڈالتے تھے؟ کیا ساجد سب کچھ بھول گیا تھا؟ یا صائمہ کی ناراضی سے ڈر کر نا حق اسی کا ساتھ دیتا تھا؟
    محبت سوال و جواب کی حاجت ختم کر دیتی ہے۔ ماں جب اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے تو اس سے یہ سوال نہیں کرتی کہ بچہ بڑا ہو کر وہی محبت اسے لوٹائے گا یا نہیں بلکہ ماں تو اپنی اولاد سے بے لوث محبت کرتی ہے۔ دنیا چاہے جو بھی کہے مگر قدرت کی لغت میں ماں کا محبت کے سوا کوئی دوسرا مطلب نہیں۔
    عمارہ بی بی نے بھی خاموشی کو اپنا وطیرہ بنا لیا۔ بیٹے اور بہو کی ہر گستاخی کو خندہ پیشانی سے نظر انداز کرتی وہ عورت صرف اس ڈر سے خاموش رہنے لگی کہ کہیں اس کا بیٹا جھگڑوں سے بے زار ہو کر اسے چھوڑ ہی نہ دے۔
    وقت یوں ہی گزرتا رہا۔ صائمہ کو ساس کی خاموشی بھی زہر لگنے لگی۔ وہ چاہتی تھی کہ ایک دن اس کی ساس اتنا جھگڑا کرے کہ ساجد ساس کو گھر سے نکال دے۔ ہر بار صائمہ کچھ ایسا کرتی کہ ساجد ماں سے بے زار ہوجائے اور ہر بار ساس صبر اور تحمل سے جھگڑا رفع دفع کر دیتی۔
    ایک روز صائمہ کو فساد ڈالنے کا ایک سنہری موقع مل ہی گیا۔
    ”اماں! ذرا یہ ساجد کی شرٹ استری کر دیں۔ میں کچن میں دودھ ابال رہی ہوں۔” صائمہ ساس کے ہاتھ میں جان بوجھ کر خراب استری اور ساجد کی نئی شرٹ پکڑا کر چلی گئی۔ عمارہ بی بی نے گرم استری شرٹ پر رکھی۔ خراب ہونے کی وجہ سے استری نے نئی شرٹ جلا ڈالی۔ تھوڑی دیر بعد ساجد نے اپنی اماں کے ہاتھوں میں استری اور جلی ہوئی شرٹ دیکھی تو سیخ پا ہو گیا۔
    ”اماں! یہ کیا کیا آپ نے؟ میری نئی شرٹ استری کے نیچے رکھ کر بھول گئیں؟ کچھ خیال نہیں ہے آپ کو میرا؟ کتنی محنت سے ایک ایک پائی کما کر لاتا ہوں، اور آپ میرا نقصان ہی کرتی رہتی ہیں۔ اگر استری کرنے کا جی نہیں چاہ رہا تھا تو کہہ دیا ہوتا پہلے ہی، صائمہ کر دیتی یہ کام بھی۔”
    وہ عورت اپنے بیٹے کے منہ سے یہ جملے سن کر حیران تھی۔ اس ماں کے ہاتھ انجانے خوف سے لرز رہے تھے۔ اب ان ہاتھوں میں اس عورت کے آنسو پونچھنے کی طاقت نہ رہی تھی۔ کیوں کہ اب حد ہوگئی تھی اور پھر عمارہ بی بی کے لرزتے ہاتھ معافی کے انداز میں ساجد کے سامنے جڑ گئے۔
    ”صائمہ۔۔۔۔صائمہ! میری دوسری شرٹ استری کرو فورا۔” وہ اماں کے جڑے ہاتھوں کو نظرانداز کرتا ہوا چنگھاڑا تھا۔




  • گردشِ طالع —- اسماء حسن

    تنگ دستی انسان کو ننگے پاؤں سفر کرواتی ہے، جب تک کہ آبلوں میں سوراخ ہو کروہ پھٹ نہ جائیں۔ زخم بھر جانے کے بعد ایک نیا سفرکسی نئے آبلے کا منتظر ہوتا ہے اور پھر چل سو چل جب تک سانسوں کی ڈور چلتی ہے، قسمت کا پھیر ختم ہی نہیں ہوتا۔ اس نے گھڑی کی جانب دیکھا تودوپہر کے بارہ بج چکے تھے۔ دہکتا سورج سوا نیزے پر کھڑا اپنے ہونے کا پتا دے رہا تھا۔ گھر سے نکلے ہوئے اسے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔ اب تک اسے سڑک پر ہونا چاہیے تھا، مگربدنصیبی کسی بھیانک پرچھائی کی طرح اس کا تعاقب کر رہی تھی۔ گردشِ طالع تھی کہ دو پل بھی کہیں سکون سے جینے نہیں دیتی تھی۔ گھسی پٹی پلاسٹک کی چپل اسے موچی کے تھڑے تک لے گئی۔ اس کا جی چاہا کہ موچی پیسے لینا بھول جائے، مگر وہ بھی توقسمت کا دھنی نہیں تھا۔۔ ضروریات کا اکھاڑاتو اس کے آنگن میں بھی لگتا ہو گا جس میں اکثر جذبات ہار جاتے ہوں گے۔ کیوں کہ خواہشات کو نکیل پہنائی جا سکتی ہے، مگر بھوکے شکم کوپابندِ سلاسل نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں تو صرف صبر کی سولی پر لٹکا جاسکتا ہے۔
    "دس روپے”





    موچی کا یہ جملہ سنتے ہی اس نے چادر کے کونے کی گرہ کچھ یوں کھولی جیسے دس روپے نہیں، زندگی کا گراں بہا خزانہ دینے لگی ہو۔ سو روپے کے نوٹ کی تہیں بتا رہی تھیں کہ اسے کتنا سنبھال کر رکھا گیا ہو گا۔ اس نے نوے روپے بقایا لیے اورچادر کے کونے سے باندھ کر آگے چل پڑی۔ جولائی کی تپتی دوپہر بدن کو جھلسا رہی تھی، مگر وہ اس کی پروا کئے بغیر ہی چلتی رہی۔ دو بجے سے پہلے پہلے اسے وہاں پہنچنا تھا۔ یہ ہی سوچ اس کی رفتار کو تھمنے نہیں دے رہی تھی۔ چادر کے پلو سے پسینہ پونچھتے ہوئے وہ باربار نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتی ہوئی کسی سائبان کی منتظر تھی، مگر سورج کی بھون دینے والی تپش پر کسی گہری سیاہ بدلی نے اپنا مسکن نہیں ڈالا تھا۔
    ہجوم کو چیرتی ہوئی وہ دنیا مافیہا سے بیگانہ آگے بڑھتی رہی۔ ہر طرف چہل پہل تھی۔ لوگ جگہ جگہ ٹولیاں بنا کر ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے اورایک وہ تھی جس کے لبوں پر مارے بھوک و پیاس کے چاندی چمک رہی تھی۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے وہ سڑک کی طرف بھاگتی چلی جا رہی تھی۔
    گھڑی پر نظرپڑتے ہی مخمصے کے عالم میں سڑک پردوقدم آگے رکھتے ہوئے، اس نے رکشہ روکنے کی کوشش کی۔ رکشے والے نے ایک جھٹکے سے رکشہ روکا اوراسے کھری کھری سنانے لگا۔
    "کیا کررہی ہواماں؟ مرنے کا ارادہ ہے کیا؟ "وہ اماں تو ہرگز نہ تھی، مگر زندگی کے قرض اتارتے اتارتے وہ اپنی عمر سے دوگنی دکھائی دینے لگی تھی۔۔!!
    پھر اس نے ایک نظراس کے حلیے پرڈالی اور سرسے پیر تک دیکھتے ہوئے بڑبڑانے لگا:
    "ہاں! آج کل تم لوگوں نے کمائی کے نئے طریقے جو ڈھونڈ لیے ہیں۔ کسی موٹرگاڑی یا سائیکل، رکشے کے نیچے آؤ اور زخمی ہونے کابہانہ بنا کرکچھ پیسے بٹورلو۔”
    "نہیں نہیں بھائی صاحب ۔ مجھے تو اس ایڈریس پرجانا ہے۔”
    اس کے بولنے کا انداز اس کے حلیے سے بالکل میل نہ کھاتا تھا۔ اس لیے رکشے والے نے عورت کو سرتا پا دوبارہ کچھ یوں دیکھا کہ وہ لجاتی ہوئی خود کو اپنی میلی کچیلی چادرسے ڈھانپنے کی ناکام کوشش کرنے لگی، جو جگہ جگہ سے تار تار تھی۔
    دوسو روپے کرایہ ہوگا، بیٹھو”
    رکشے والے نے اسے اندر بیٹھنے کے لیے کہا تو اس کے چہرے پر گرمی کے پسینے کے ساتھ ساتھ فکرمندی بھی جھلکنے لگی۔ اسے پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی، اس لیئے انجام سوچے بغیر ہی وہ رکشے میں بیٹھ گئی۔ راستے میں ایک بڑا قبرستان پڑتا تھا۔ وہ جب بھی وہاں سے گزرتی تو اپنی ماں پر فاتحہ پڑھ کر دور ہی سے پھونک دیا کرتی تھی۔ آج ماں کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے وہ ساری عیدیں یاد آنے لگیں، جب ابا اس کے کپڑوں کے ساتھ ساتھ اس کی سہیلیوں کے لیے بھی جوڑے لایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ اس کی سب سے اچھی سہیلی ناہید کا جوڑا لانا بھول گئے تو اس نے کتنی لڑائی کی اور دھمکیاں دیتی پھری کہ اگر ناہید کا اسی طرح کا جوڑا نہ لایا گیا تو وہ بھی نیا جوڑا نہیں پہنے گی۔
    چاند رات کی دمکتی روشنیوں میں ابا ہجوم سے بھرے بازار میں مارے مارے پھرتے رہے اوراس کی سہیلی کا جوڑا لا کر ہی جان بخشی ہوئی تھی۔ یہ خیال آتے ہی وہ ہنس دی۔ عید سے بہت دن پہلے ہی ابا برآمدے میں پڑے ایک بڑے سے تخت پر جوڑے، چوڑیاں اور مہندی کا سامان لاکررکھ دیا کرتے تھے۔ وہ بھاگ کرمحلے کی سبھی عورتوں کو بلا کرلاتی اور بڑے شوق سے کُرسی رکھ کر تخت کے پاس بیٹھ جاتی اورسب کو مشورے دیا کرتی۔ جب محلے بھر کی عورتیں واپسی پر جاتے ہوئے آنسوؤں سے لبریز آنکھیں لیے ابا کو دعائیں دیتیں تووہ بڑے معصومانہ انداز میں پوچھا کرتی:
    "اماں یہ ساری عورتیں رو رو کر ابا کو دعائیں کیوں دیتی ہیں؟” تو اماں اس کے معصوم سوالوں پر مسکرا دیتی تھیں۔ گھر کا دروازہ اس وقت تک بند نہیں ہوتا تھا، جب تک آخری سائل کھڑا ہو۔
    آہ! کیسے میٹھے زمانے تھے کہ دیوارو درسب ہی کے لیے کھلے رہتے تھے۔
    ایک مرتبہ ابا مغرب کی نماز کے لیے گھر سے نکل رہے تھے توچاچا شریف ان سے ٹکرا گئے۔ ابا نے پوچھا کہ کیا بات ہے شریف دین، تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے کہاں جا رہا ہے؟ اور یہ تیری بغل میں کیا ہے؟ تو چاچا شریف کی آنکھوں کے آنسو ساری داستان سنانے لگے۔ اس نے بغل سے ایک پوٹلی نکال کر دکھاتے ہوئے کہا تھا:
    "بھائی جی! یہ آپ کی بھابھی کا زیور بیچنے جا رہا ہوں۔” تو ابا نے اس کے ہاتھ سے وہ چھین لیا اورلاکراماں کو دیتے ہوئے کہا:
    جا یہ زیور (پرجائی بھابھی) کوواپس کردے۔
    پھرسیف الماری کی طرف بڑھے اور پیسے اُٹھا کر چاچا شریف کو یہ کہتے ہوئے دیئے تھے کہ آئندہ کبھی بھابھی کا زیور نہ بیچنا یہ تو عورت کا گہنا ہوتا ہے اور یہ پیسے تب تک نہ لوٹانا جب تک تیرے پاس نہ ہوں۔” یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو کسی بہتے دریا کی طرح رواں ہوکر اس کے دامن کو تر کرنے لگے۔
    رکشہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ گرمی قہر برسا رہی تھی۔ ہوا کے گرم تھپیڑے اس کے سانولے چہرے سے ٹکراتے تو وہ منہ کو باریک ململ کی چادر سے ڈھانپنے کی کوشش کرنے لگتی۔ اسے اماں کی یاد ستانے لگی۔ ماں اس کے سانولے رنگ سے جتنا پریشان رہتی تھی وہ اتنی ہی بے پروائی دکھاتی۔ وہ جب بھی باہر نکلتی، تو ماں اسے چہرے کو ڈھانپنے کے گر سکھاتی تاکہ گرد مٹی نہ جمے اور دھوپ سے رنگ مزید کالا نہ ہو جائے۔





    وہ بڑی معصومیت سے ماں سے پوچھتی:
    "اماں آپ چھوٹی کو کیوں نہیں کہتیں کہ سر پر اوڑھنی ڈال کرنکلا کرے۔” تو ماں اس کے گالوں کو تھپک کر کہتی:
    "پوری جھلی ہے تو۔” اس پر وہ ہنس دیتی تھی۔
    قبرستان کب کا گزر چکا تھا۔ آج وہ فاتحہ پڑھنا بھی بھول گئی تھی۔
    آنسو سانولے گالوں پرموتیوں کی طرح ٹھہرسے گئے۔ رکشہ کوایک دم جھٹکا لگا۔ وہ پادِ ما ضی سے نکل کر حال کی سنسان سڑک پر بے سرو سامان ننگے سر آن کھڑی ہوئی۔
    "ایک غریب دوسرے غریب کو کیسے ٹھگ سکتا ہے؟ کیسے دھوکا دے سکتا ہے؟ اگر میرے پاس پورا کرایہ نہیں تو اسے بتا دینا چاہیئے، وہ بھی غریب بندہ ہے میرے دکھ کو سمجھے گا۔”
    ناجانے اس نے اپنے ذہن کے منتشر خیالات کوکیسے یک جا کیا اور کپکپاتی زبان سے رکشے والے کو مخاطب کرکے یہ کہہ دیا کہ اس کے پاس کرایہ صرف نوے روپے ہے۔ یہ سنتے ہی رکشے والے نے ایک جھٹکے سے رکشہ روکا۔
    "کیا؟ تمہارے پاس کرایہ نہیں؟ تم کتنی چال باز عورت ہو۔ میں تو پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ تم جیسی بھیک منگی عورتیں ڈرامے بازیاں کرکے اپنے مقصد پورے کرتی ہیں۔ چلو اترو میرے رکشے سے فٹافٹ! ورنہ میں بازو کھینچ کر نیچے اتار دوں گا۔”
    وہ اپنے دائیں ہاتھ سے کچھ یوں چٹکی بجا رہا تھا کہ اگر وہ واقعی دو منٹ میں نہ اتری، تو وہ اس کے سر کی چادر تک کھینچ ڈالے گا۔
    "نہیں بھائی صاحب ایسا نہ کہیں میں دھوکے باز نہیں، مجھے ہر صورت دو بجے اس ایڈریس پر پہنچنا ہے۔ میرا وعدہ ہے کہ وہاں پہنچتے ہی تمہیں پیسے دے دوں گی۔ دیکھو! دو بجنے میں صرف پندرہ منٹ رہ گئے ہیں۔”
    "تمہاری سمجھ میں نہیں آرہا؟ جلدی اترو، ورنہ تمہیں دھکے مار کر رکشے سے اتار دوں گا اور نوے روپیہ نکالو۔ یہاں تک کا اتنا ہی کرایہ بنتا ہے۔ تمہارے پیسے پورے ہوئے، چلو اترو۔”
    رکشے والے کا ایسا اہانت بھرا لہجہ دیکھ کرمزید کچھ کہنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔ نم پلکیں لیے وہ رکشے سے نیچے اتر گئی اور چادر کے کونے سے نوّے روپیہ نکال کر رکشے والے کے حوالے کر دیئے۔ ننگے آسمان تلے اور برہنہ زمین کے سینے پر گھسی پٹی چپل پہنے وہ دوڑنے لگی۔ چپل کے نیچے سے محسوس ہوتی لو اس کے پاؤں کے تلووں تک کو جھلسا رہی تھی۔ بوکھلاہٹ کے انداز میں لوگوں سے راستہ پوچھتی تو لوگ اسے عجیب نظروں سے گھورنے لگتے کہ جیسے وہ کوئی پاگل ہو جو راستہ بھٹک گئی ہو۔
    "دو بجے سے پہلے وہاں پہنچنا ہے، ضرور پہنچنا ہے۔ اگر نہ پہنچی تو کیا ہو گا۔ سب کچھ ادھورا رہ جائے گا۔ سب کے منہ لٹک جائیں گے۔ پورا گھر میری واپسی کا منتظر بیٹھا ہے۔”
    یہی سوچیں اس کے قدموں کو مزید تیز کیے جا رہی تھیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑک سے ہوتی ہوئی اس کی رہتی سہتی چپل بھی ٹوٹ چلی تھی۔ اس نے چپل اتار کر ہاتھ میں پکڑی اورمنزل کی جانب چلنے لگی۔ اس کے پاؤں کے آبلے بتا رہے تھے کہ اس نے کتنا سفر طے کر لیا ہے۔ تپتی تارکول کی سڑک کسی ریگستان کی گرم ریت کا سا جھلساؤ پیدا کر رہی تھی۔
    آخر کار ہانپتی ہوئی وہ اس گیٹ کے سامنے کھڑی تھی، جس کی تلاش میں اس نے ننگے پاؤں سفر کیا تھا۔
    اندر جانے لگی تو گارڈ کے ہاتھ نے اسے اندر جانے سے روک دیا۔
    "کیا بات ہے بی بی کہاں بھاگی چلی جا رہی ہو؟”
    "وہ مجھے صالح صاحب سے ملنا تھا، انہوں نے آج کے دن ملاقات کا کہا تھا”!
    وہ پھولی سانس لیے صرف اتنا ہی کہہ سکی۔
    "اوہ! اچھا تو تم اس مقصد کے لیے آئی ہو، مگر وقت تو دو بجے تک کا تھا۔ اب تو گیٹ بند ہو چکا ہے۔ صاحب لوگ جا چکے ہیں۔”
    "مگر میں تو بہت دور سے بہت آس لے کرآئی ہوں ۔ تم ایک مرتبہ اندر جا کرصاحب سے پوچھ لو۔ وہ تو بہت نیک انسان ہیں ۔ وہ میری مدد ضرورکریں گے۔”
    "جا یہاں سے۔ گیٹ صاحب لوگوں نے ہی بند کروایا ہے۔ اگلے سال آنا اورہاں وقت کاخیال رکھنا۔ اس بابرکت مہینے میں تو وقت کا خیال رکھ لیا کرو۔ صاحب لوگوں کو نماز روزہ بھی کرنا ہوتا ہے۔ آج جمعتہ الوداع ہے۔ اس میں کمی بیشی نہیں ہونی چاہیئے۔”
    "وقت” پر زور دیتے ہوئے چوکیدارنے گیٹ بند کرلیا۔ اس میں تو یہ تک کہنے کی ہمت نہیں تھی کہ وہ تو واپسی کا کرایہ بھی یہاں سے ملنے والی اعانت سے ادا کرنے والی تھی۔ اس نے سر آسمان کی طرف اٹھایا اور استعجابیہ نگاہیں لیے اس کی تقسیم پرشکوہ کناں ہونے لگی۔ پھراس کے ذہن میں ابا کے گھر کا تخت گردش کرنے لگا جہاں وقت کی کوئی قید نہیں تھی اور کوئی عورت بھی آخری عورت نہیں ہوتی تھی۔ اس کی زبان سے محض اتنا ہی نکل سکا "اگلا سال؟ "اور وہ وہیں پرگرپڑی۔




  • مارو گولی — سارہ قیوم

    اس نے برآمدے میں نکل کر اپنے پیچھے دروازہ بند کیا اور سر اٹھا کر روشن آسمان کو دیکھا۔ جاتی بہار کے چمک دار دن کی چھب ایسی تھی جیسے سونے میں جڑا کندن۔ اس نے اس چمچماتے آسمان سے نظریں چرا کر رخ موڑا اور دروازہ لاک کرنے کے لئے چابی نکالی۔ دروازے کے پاس پڑے گملے پر اس کی نظر اٹک گئی۔
    گلاب کے پودے میں چند سرخ کلیاں کھل رہی تھیں۔ مالی شاید تھوڑی دیر پہلے ہی پانی لگا کر گیا تھا۔ پتے دھل کر زمرد بن چکے تھے اور کلیاں لعل۔ چابی اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ گہرا سانس لے کر اس نے جھک کر چابی اٹھائی اور دروازہ لاک کیا اور پھر خود کو گیٹ پر کھڑا پایا۔ اس نے حیرت سے اس لمبے ڈرائیو وے کو مڑ کر دیکھا جسے عبور کرکے وہ گیٹ تک آپہنچی تھی اور اسے احساس بھی نہ ہوا تھا۔ سر جھٹک کر اس نے اپنے خیالوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی اور گیٹ کھولا۔ سڑک کے اس پار گل موہر کا درخت سچے موتیوں کے پھولوں سے لدا کھڑا تھا۔ گویا کسی ہرے زرتار آنچل کے کنارے سے مولسری کی نالیاں جھانک رہی ہوں۔ اس نے خالی خالی نظروں سے پر رونق سڑک کو دیکھا، چند گھر چھوڑ کر ایک عمارت بن رہی تھی اور اس کے سامنے بجری اور سیمنٹ کا ڈھیر پڑا تھا۔ چند مزدور اس ڈھیر سے اپنے تسلے بھر بھر کر اندر لے جارہے تھے۔ اس نے گردن موڑ کر دوسری طرف دیکھا۔ ساتھ والے گھر پر عید میلادالنبیۖ کے لیے بتیاں لگائی جارہی تھیں۔ چند لڑکے ننھے ننھے قمقموں کی تاریں گولائی میں گھر کی چھت سے لٹکا رہے تھے۔ گھر کا ماتھا اس طرح سج رہا تھا جیسے وہ دلہن ہو اور جھومر اس کا سر ڈھانپ رہا ہو۔
    ”دیر ہورہی ہے، امی انتظار کررہی ہوں گی۔” اس نے باآوازِ بلند خود کو یاد دلایا۔ صبح ہی تو اس نے راحت کو فون کرکے کہا تھا:
    ”امی میں گیارہ بجے تک آئوں گی۔ میرا زیور نکال کر رکھیے گا۔”
    وہ اپنے زیور لینے جارہی تھی۔ حیا، وفاداری اور محبت کا جو زیور وہ اپنے تن من پر سجائے رکھتی تھی، اس کے شوہر کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے اسے وہ زیور لانے کا حکم دیا تھا جسے بیچ کر پیسے آسکتے ہیں۔ وہ اپنی پسند کا زیور سینے سے لگائے، اپنے شوہر کی پسند کا زیور لینے جارہی تھی۔
    ٭…٭…٭





    پچھلی شام ظہیر جس وقت آیا تھا، اس وقت وہ احمد کو پڑھا رہی تھی۔ اس وقت ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں جن میں کورنگی کے علاقے میں ڈکیتی کی واردات کی فوٹیج دکھائی جارہی تھی۔
    نیوز کاسٹر چلا چلا کر کہہ رہی تھی:
    ”نامعلوم افراد نے راہ گیر سے نقدی اور موبائل چھین کر گولی مار دی۔”
    اس نے جھرجھری لے کر ریموٹ اٹھایا اور آواز آہستہ کردی۔ احمد بھی کام چھوڑ کر محویت سے ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ اس نے نرمی سے اس کا چہرہ اپنی طرف گھمایا۔
    ”ادھر دھیان دو بیٹا، کل quiz ہے آپ کا۔ یہ لفظ پڑھو کیا ہے؟ speelingکرو اس کے۔”
    ”ماما ڈاکو نے اس کو گولی مار دی؟” احمد نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا۔
    ”ہاں بیٹا!” اس نے والیم مزید کم کرتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں؟” احمد نے سوال کیا۔
    ابھی وہ اس کیوں کا جواب سوچ ہی رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور ظہیر اندر داخل ہوا۔ سعدیہ نے مسکرا کر سلام کیا۔ ظہیر نے جواب دے کر بریف کیس میز پر رکھا اور ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے سعدیہ کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا۔
    ”کیا ہورہا ہے پارٹنر؟” اس نے احمد کے بال بکھیرتے ہوئے پوچھا۔
    ”پڑھائی!” سعدیہ نے مسکرا کر احمد کو دیکھا۔
    اسے ظہیر کے سوالوں کے یک لفظی جواب دینے کی عادت تھی کیوں کہ وہ ساری بات میں سے بہ مشکل ایک دو الفاظ ہی سنتا تھا۔ اب بھی وہ سعدیہ کا جواب سنے بغیر ریموٹ اٹھا چکا تھا۔ والیم اونچا کرتے ہوئے وہ ٹی وی دیکھنے لگا جہاں اب بھی راہ گیر کو گولی مارنے کا واویلا جاری تھا۔ ظہیر کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں:
    ”کیا حالات ہوگئے ہیں جہاں دیکھو ڈکیتی، جب دیکھو قتل، گولی تو ایسے مارتے ہیں جیسے یہ کوئی بات ہی نہیں۔”
    احمد پھر یک ٹک ٹی وی دیکھنیلگا تھا۔ سعدیہ نے ایک مرتبہ پھر اس کا چہرہ گھما کر کتاب کی طرف کیا اور بات بدل دی۔
    ”چائے لائوں آپ کے لیے؟” اس نے ظہیر سے پوچھا۔
    ”ہاں ذرا strongسی۔” اس نے بے دھیانی میں جواب دیا۔
    سعدیہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ ساس کی غیرموجودگی میں اسے کچن میں کام کرنے کا بہت مزہ آتا تھا۔ اب تو ویسے بھی دونوں ساس سسر عمرے پر گئے ہوئے تھے لمبی چھٹی تھی سعدیہ کی۔ ہر روز یومِ آزادی تھا۔
    وہ اپنے خیالوں میں گم مسکراتے ہوئے چائے کا پانی رکھ کر پتی کا ڈبا نکالنے لگی۔ اسی وقت ظہیر بڑی بے فکری سے آستینیں چڑھاتا ہوا اس کے برابر آکھڑا ہوا۔ سعدیہ نے حیران ہوکر اسے دیکھا، کچن میں تو وہ کبھی نہیں آتا تھا۔
    ”زیور کہاں پڑا ہے تمہارا؟” ظہیر نے پانی میں جھانکتے ہوئے بڑے عامیانہ انداز میں پوچھا۔سعدیہ کو ایک مرتبہ پھر حیرت ہوئی۔
    ”آپ جانتے تو ہیں امی کی طرف پڑا ہے، سیف لاکر میں۔” اس نے ظہیر کو یاد دلایا۔
    ”او ہاں! زیور لے آئو تم کل جاکر۔” اس نے بڑے آرام سے کہا۔ سعدیہ ایک بار پھر مسکرا دی۔
    ”ٹھیک ہے۔ کوئی شادی ہے کیا؟” اس نے پوچھا۔
    ”نہیں شادی نہیںہے، بیچنا ہے زیور۔ مجھے ضرورت ہے پیسوں کی۔” کھولتے پانی میں پتی ڈالتے سعدیہ کے ہاتھ جہاں تھے، وہیںتھم گئے۔
    ”بیچا ہے؟ آپ میرا زیور بیچیں گے؟” اس نے بے یقینی سے کہا۔
    ”ہاں! تو؟ اتنے زیور کا کرنا کیا ہے تم نے؟اس وقت ضرورت ہے مجھے ،ایسے وقت کے لیے ہی ہوتا ہے زیور۔”ظہیر نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔
    ”آپ اپنی طرف کا زیور تو پہلے ہی بیچ چکے ہیں۔” اس نے پتی ڈالتے ہوئے پھیکی سی ہنسی سے کہا۔
    ”ہاں تو میری چیز تھی میں نے بیچ دی۔” اسے ظہیر کے لہجے میں وہ جھلاہٹ نظر آئی جو برہمی کا پیش خیمہ تھی۔ وہ برہمی جو اشتعال کا ہر اول دستہ تھی، وہ اشتعال جس سے سعدیہ کی جان نکلتی تھی۔ اس نے ہمت مجتمع کرکے کہا:
    ”لیکن میں اپنا زیور نہیں بیچوں گی۔ میرے ماں باپ کی نشانی ہے وہ۔”
    سعدیہ کے دل نے اسے ٹھیک وارننگ دی تھی۔ ظہیر نے درشتی سے سعدیہ کا بازو پکڑ کر اسے جھٹکے سے اپنی طرف موڑا۔ سعدیہ کے ہاتھ سے پتی کا ڈبا گرتے گرتے بچا۔ اپنے آپ کو کھولتے پانی کے برتن سے بچاتے سعدیہ کی نظر احمد پر پڑی جو لائونج کے کھلے دروازے سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت، خوف، تجسس سب کچھ تھا۔ سعدیہ نے ظہیر کی آنکھوں میں دیکھا، وہاں اسے شعلے بھڑکتے نظر آئے۔
    ”تو پھر تم بھی جائو گی اپنی ماں کے پاس۔” اس نے سعدیہ کے بازو کو جھٹکا دے کر کہا۔
    ”مجھے نہیں چاہیے ایسی بیوی جو آڑے وقت میرے کام ہی نہ آئے۔” غصے سے اس کے نقوش بگڑ رہے تھے۔ سعدیہ ڈر کر اپنے آپ میں سمٹ گئی۔
    ”کل صبح جا کر زیور لے کر آئو ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔” ظہیر نے اس کے بازو کو ایک مرتبہ پھر جھٹکا دیا اور اسے وہیں کھڑا چھوڑ کر چلا گیا۔ طلاق کا لفظ سعدیہ کو گولی کی طرح لگا۔ کتنی مرتبہ سن چکی تھی وہ یہ لفظ، یہ جملہ ”طلاق دے دوں گا۔” ہر مرتبہ اسے یوں لگتا جیسے اس کے دل میں کسی نے نئے سرے سے چھری گھونپ دی ہے۔ ہر مرتبہ اس لفظ کو سننے کی ذلت اسے اذیت کی نئی کھائی میں پھینک دیتی تھی۔ وہاں کھڑے کھڑے سعدیہ کو وہ تمام مواقع یاد آنے لگے جب اسے طلاق کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس نے ان یادوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی مگر وہ کسی بلا کی طرح اسے چمٹ گئیں۔
    اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا ابھی صرف ایک ہفتہ ہی گزرا تھا ان کی رخصتی کو۔ اس کا دل ابھی تک ماں کے گھر میں اٹکا تھا۔ اس روز امی نے انہیں رات کے کھانے پر بلایا تھا اور دبی زبان سے اسے رات رکنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ وہ بھی رکنا چاہتی تھی۔ اس نے ظہیر سے کہا، وہ خاموش ہوگیا۔ وہ تو کم عمر تھی، ظہیر کے موڈ کو نہ پہچان سکی مگر امی سمجھ گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے اسے رات رکنے کا نہ کہا۔ وہ بھی اپنی دھن میں مگن خوش خوش امی کے گھر سے واپس۔
    ”کتنا دل تھا میرا آج امی کے گھر رکنے کا۔” اس نے چوڑیاں اتارتے ہوئے کہا:
    ”آپ نے رکنے ہی نہیں دیا۔”
    ظہیر قدم بڑھا کر اس کے پیچھے آکھڑا ہوا۔ سعدیہ نے سر اٹھا کر مسکراتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں اسے دیکھا۔ اس کے تاثرات دیکھ کر اس کی مسکراہٹ منجمد ہوگئی۔
    ”اتنا ہی شوق ہے ماں کے گھر رہنے کا تو پھر جائو، وہیں رہو… یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟”
    ”میں نے یہ تو نہیں کہا۔” سعدیہ نے اٹکتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں نہیں! کہہ دو بے شک۔” ظہیر نے طنز سے کہا۔
    ”میں اور میرا گھر پسند نہیں، ماں بہن سے بہت پیار ہے تو بے شک چھوڑ دو مجھے۔ طلاق لے لو اور چلی جائو۔”





    اس لفظ کو سننے کی تکلیف سعدیہ اب بھی محسوس کرسکتی تھی۔ وہ تیزی سے ظہیر کی طرف پلٹی۔
    ”آپ طلاق دے سکتے ہیں مجھے؟” اس نے کانپتی آواز میں بے یقینی سے پوچھا۔
    ”ہاں! مجھے کوئی پرابلم نہیں یہ تمہاری چوائس ہے۔” ظہیر نے سرد لہجے میں کہا۔ سعدیہ روتے ہوئے ظہیر سے لپٹ گئی۔
    ”نہیں مجھے طلاق نہیں چاہیے۔ میں پیار کرتی ہوں آپ سے۔ مجھے کبھی طلاق مت دینا۔” اس نے روتے ہوئے کہا۔
    اور اس التجا کے ساتھ اس نے اپنی دکھتی رگ ظہیر کے ہاتھ میں دے دی۔ اس کے بعد اسے کتنی مرتبہ طلاق کی دھمکی سننا پڑی، اب تو وہ گنتی بھی بھول گئی تھی۔ مگر یادیں تھیں کہ اسے وہ تکلیف بھولنے کا موقع نہیں دیتی تھیں۔
    اسے وہ دن یاد آیا جب اس کی شادی کے تین مہینے بعد ظہیر کی ماموں زاد بہن کی شادی آئی۔ سعدیہ نے اپنے جہیز کا سب سے خوب صورت سوٹ نکالا، اپنے سارے کپڑوں میں سے یہ اس کا پسندیدہ سوٹ تھا۔ اس نے بیسیوں چکر لگائے کام والے درزی کے پاس، پھر کہیں جا کر اس کی مرضی کا سوٹ بنا۔ قریبی شادی تھی اس لیے اس نے بڑے چائو سے یہ سوٹ اور میچنگ جیولری نکالی۔ اسی وقت اس کی نند فریحہ کسی کام سے اس کے کمرے میں آئی۔
    ”ہائے! کتنا خوب صورت ڈریس ہے بھابھی” اس نے فدا ہوکر کہا۔
    ”ہے نا؟ میں نے خود ڈیزائن کیا ہے۔” سعدیہ خوش ہوگئی۔
    ”میرا تو مسئلہ حل ہوگیا بھابھی۔ اتنے دنوں سے اس فکر میں تھی کہ فرسٹ کزن کی شادی میں میرے کپڑے سب سے اچھیہونے چاہئیں۔ اب یہ پہنوں گی… دے دیں گی نا آپ؟” فریحہ نے خوشی سے پوچھا۔ سعدیہ کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی۔ اس نے مدد طلب نگاہوں سے بستر پر نیم دراز ظہیر کو دیکھا۔
    ”ہاں ہاںچ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟تم رکھ لو یہ ڈریس فریحہ بلکہ سعدیہ اس کے ساتھ کی جیولری بھی دے دو فریحہ کو۔” ظہیر نے فراخ دلی سے کہا۔فریحہ خوشی سے کھل اٹھی۔ اس نے سعدیہ کے ہاتھ سے ڈریس لے لیا۔
    ”تھینک یو بھائی، جیولری ابھی آکر لے لوں گی، امی کو سوٹ دکھا آئوں۔”
    فریحہ دروازہ کھول کر نکل گئی۔ سعدیہ دھواں دھواں چہرے کے ساتھ وہیں کھڑی رہ گئی۔
    ”تم نے منہ کیوں بنا لیا؟ اتنا چھوٹا دل ہے تمہارا؟ ایک سوٹ کے پیچھے موڈ دکھا رہی ہو؟” ظہیر نے ناگواری سے کہا۔سعدیہ نے مسکرانے کی کوشش کی:
    ”نہیں تو، کوئی بات نہیں۔”ظہیر نے سر ہلایا اور سختی سے کہا:
    ” میرے لیے ماں باپ اور بہن بھائی ہر چیز سے بڑھ کر ہیں۔ تمہیں اگر یہ معمولی چیزیں ان سے زیادہ عزیز ہیں تو اس گھر میں تمہاری کوئی جگہ نہیں۔ طلاق لو اور چلی جائو واپس۔”
    یہ ان ٹھوکروں کی ابتدا تھی جو اس سفر میں قدم قدم پر سعدیہ کی منتظر تھیں۔ ان ٹھوکروں میں اس کی ساس نے بھی بہ قدر توفیق حصہ ڈالا تھا۔
    ”دو گھنٹے بیٹھی رہی رضیہ خالہ،تمہاری بیوی نے اپنے کمرے سے قدم تک نہیں نکالا۔” سعدیہ کے کانوں میں اپنی ساس کی آواز گونجی۔ ظہیر کے دفتر سے آتے ہی وہ عدالت لگا کر کھڑی ہو جاتی تھیں۔
    ظہیر نے غصے میں سعدیہ کو خشمگیں نظروں سے گھورا۔ سعدیہ سہم گئی۔ بڑی بری عادت تھی اس کی ذرا سی بات پر سہم جاتی تھی۔ ذرا سی دھمکی سے ڈر جاتی تھی۔ اس نے معذرت خواہانہ انداز میں اپنی صفائی پیش کی۔
    ”امی مجھے تو پتا نہیں تھا کہ وہ آئی ہوئی ہیں، مجھے کسی نے نہیں بتایا۔”اس نے ڈرے ڈرے لہجے میں کہا۔
    ”ہاں تو یہ تمہارا فرض نہیں کہ گھر میں آئے گئے کا خیال رکھو؟ تمہیں دعوت نامے بھیجے جائیں کہ مہارانی آئو، مہمانوں کو اپنی زیارت کرائو؟” اس کی ساس نے ڈپٹ کر کہا۔سعدیہ نے لجاجت سے کہا:
    ”امی آپ مجھے بتا دیتیں تو…”اس کی بات پوری نہ ہوسکی، اس کی ساس نے تیوریاں چڑھا کر کہا:
    ”لو!… اب یہ میرا قصورہے، دیکھ رہے ہو ظہیر اپنی بیوی کا رویہ؟ یہ کرتی ہے یہ ہمارے ساتھ۔”
    سعدیہ روہانسی ہوگئی
    ”میں نے تو…”
    ”معافی مانگو امی سے!”ظہیر نے غصے سے اس کی بات کاٹ دی۔
    سعدیہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی، پھر کم زور سے لہجے میں بولی:
    ”ظہیر میں اوپر اپنے کمرے میں تھی، مجھے مہمانوں کے آنے کا پتا نہیں چلا، مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں۔”
    ”معافی مانگو۔” ظہیر نے دھاڑ کر کہا،سعدیہ کی روح فنا ہوگئی۔
    ”سوری… سوری امی۔” اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا لیکن ظہیر کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ اس نے چیخ کر کہا:
    ”آئندہ شکایت نہ ملے مجھے ورنہ طلاق لے کر گھر جائو گی۔”
    کتنی عجیب بات تھی، اسے حکم دیا جاتا تھا کہ اس گھر کو اپنا گھر سمجھ کر رہے اور پھر بات بات پر اسے گھر بھیجنے کی دھمکی دی جاتی تھی۔
    اس کے میکے یا دوستوں کی طرف سے کوئی بلاوا آتا تو ایک ہی جملہ سننے کو ملتا:
    ”جائو! واپس نہ آنا۔”
    آہستہ آہستہ اس نے ہر جگہ جانا چھوڑ دیا۔ پھر طعنہ ملنے لگا تم آلسی ہو، باہر کی لڑکیاں تو بڑی طرح دار ہیں۔ تمہیں طلاق دے دوں گا، ان میں سے کوئی گھر لے آئوں گا۔” اس کا دل چاہا کہ پوچھے:
    ”گھر لا کر ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کرو گے؟” لیکن برا ہو اس ڈر کا جو اسے قدرت نے بے حساب عطا کیا تھا۔ وہ ڈرتی تھی، وہ ڈراتا تھا۔
    ”گرم کھانا کھانے کی عادت ہے مجھے۔ بندہ سارے دن کا تھکا ہاراگھر آئے اور ٹھنڈا کھانا کھائے؟” وہ طیش میں آکر کہتا۔
    ایک دن اس کے انتظار میں اس کی آنکھ لگ گئی۔ ان دنوں ویسے بھی اس کا آٹھواں مہینہ تھا، وہ خود اپنے آپ سے بے زار تھی۔ کھانا ٹھنڈا ہوگیا، وہ بھوکی ہی سو گئی۔
    ”کھانا گرم کھانے کی عادت ہے مجھے۔” ظہیر نے آکر اسے اٹھایا اور غصے سے اسے تنبیہہ کی۔
    ”سوری! میری آنکھ لگ گئی تھی۔” وہ سوتے سے اٹھتی ہوئی مجرمانہ انداز میں بولی۔
    ”سارا دن کرتی کیا ہو تم؟کیا فائدہ ایسی بیوی کا جو مجھے تازہ روٹی تک نہ دے سکے؟ ایسی بیوی کو تو گھر بھیج دینا چاہیے۔” ظہیر نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
    ”پلیز ظہیر! چھوٹی چھوٹی باتوں پر اتنا غصے میں نہ آیا کریں۔” اس نے تھکن سے چور التجائیہ انداز میں کہا۔




  • میری پری میری جان — اقراء عابد

    کبھی پھولوں کو روتے دیکھا ہے تم نے؟
    پھول نہیں روتے ۔۔ روتے بھی ہوں تو اپنا درد اپنے اندر پنہاں کسی کونے میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے چہروں پر مسکان بکھیرتے ہیں، اپنے درد کی جھلک بھی دوسروں پر عیاں نہیں ہونے دیتے میری جان!
    پھول تو پھول ہوتے ہیں۔۔ خوشیاں دیتے ہیں۔۔۔ خوشبویں بکھیرتے ہیں۔ سپنے سجاتے ہیں۔۔۔ بناتے ہیں۔۔۔ درد مٹاتے ہیں۔۔
    پھول تو پھول ہوتے ہیں نا پری! تم بھی تو پھول ہو، ننھا سا پیارا سا پھول۔۔ جس نے کبھی مُرجھانا نہیں ہے، ہمیشہ کِھلے ہی رہنا ہے تاکہ تم سے منسلک لوگ بھی اپنے پھول کو دیکھ کر اپنے لبوں کی مسکان برقرار رکھ سکیں۔ وہ کب سے اپنی پری کا سیال صاف کر رہا تھا۔ وہ اب وہ تھک چکا تھا، لیکن پری کا سیال مسلسل رواں تھا۔
    اُس نے پانی کی تلاش میں ارد گرد کا بہ غور جائزہ لیا تو پتا چلا اِس ڈربے نما کمرے میں ایک ذی روح کا رہنا ایسے ہی ہے جیسے کسی کو گہرے کنویں میں پھینک دیا جاے اور اُس کنویں کو اوپر سے اچھی طرح ڈھانپ دیا جائے۔۔۔ کنواں نما عجیب و غریب یہ کمرہ چوڑائی میں کم اور گولائی میں زیادہ تھا یوں جیسے سچ میں کنواں کھودا گیا ہو۔ دیواریں بھی لمبی لمبی مگر گولائی میں تھیں اوپر چھت کی طرف دیکھا تو ایک بہت اوپر گارڈر کے ساتھ ایک پرانی طرز کا پنکھا جھول رہا تھا، جو صرف خود کو ہوا دے رہا تھا۔ روشنی کے نام پر صرف ایک بلب سنہری سی روشنی پھینک رہا تھا جو اس کھنڈر نما کمرے کے لیے کافی نہیں تھی۔ ایک خستہ حال سی چارپائی پر میلی سی سفید چادر بچھی تھی، جس پر تکیہ ندارد تھا۔ اُسی تکیے کی جگہ بیٹھی وہ نیر بہا رہی تھی جب کہ سُبحان احمد اُس کے سامنے گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھا اُسے دیوانہ وار چُپ کروا رہا تھا۔ چارپائی کے سائیڈ پر ایک چھوٹا سا میز پڑا تھا جس پر پانی کا جگ تھا اور ساتھ ہی گلاس بھی موجود تھا، مگر دیکھنے سے پتا چلتا تھا کہ برتن کافی عرصے سے دھلنے سے محروم پڑے ہیں۔ وہ پانی ڈالنے کے لیے آگے بڑھا تو یہ دیکھ کر جل اُٹھا کہ جگ میں پانی ہی موجود نہ تھا۔ یوں جیسے بہت دنوں سے یہاں کسی نے مڑ کر بھی نہ دیکھا ہو۔
    ”اُٹھو پری! چلو یہاں سے، میں اب مزید تمہیں ان لوگوں کے سپرد نہیں کر سکتا۔” سبحان نے پری کوبازئووں کا سہارا دیا اور اُسے باہر لے آیا۔ پری کی اُمید بندھی کہ اب اس قید سے جان چھوٹ جائے گی۔





    ”ارے ارے! کہاں لے کر جا رہے ہیں آپ پیشنٹ کو؟ ان کے انجکشن کا ٹائم ہو گیا ہے۔” جیسے ہی وہ پری کو لے کر باہر نکلا، نرس نے اُسے روک لیا۔
    ”ہٹ جائو رستے سے، میں سب جانتا ہوں کون سے انجکشن کی تم بات کر رہی ہو۔ ارے ذرا سی بھی انسانیت نہیں ہے تم لوگوں میں۔” وہ ڈسٹ بن میں پڑی انجکشن کی خالی شیشی دیکھ چکا تھا اور جانتا تھا یہ نشے کا انجکشن سونا کو کیسے اندر ہی اندر ختم کر رہا ہے۔ وہ اب کسی کی سننے والا نہیں تھا۔ اُس نے پری کو گاڑی میں بیٹھایا اور اُسے انتظار کرنے کیلئے کہا۔
    اس نے کسی کی بات نہیں سنی، کسی نرس کو مڑ کر جواب نہیں دیا۔ گاڑی لاک کر کے وہ سیدھا پری کے ڈاکٹر سلیم جیلانی کے پاس آگیا۔ ڈاکٹر نے حیرانی سے اُس کی طرف دیکھا، پھر پیچھے کھڑی ریسپشنسٹ کی طرف۔۔
    ”ای ایم رئیلی سوری سر! میں نے ان صاحب کو بہت روکا مگر یہ زبردستی روم نمبر سات کے پیشنٹ کو لے گئے اور اب زبردستی آپ کے روم میں گھس گئے۔ سوری سر!” ریسپشنسٹ شرمندہ کھڑی تھی۔ ڈاکٹر سلیم نے اُسے جانے کا اشارہ کیا۔
    ”جی تشریف رکھیے سبحان صاحب! کیسے ہیں آپ؟” ڈاکٹر نے سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
    ”میں یہاں تشریف رکھنے نہیں بلکہ آپ کو اس بات سے آگاہ کرنے آیا ہوں کہ میں اپنی پری کو یہاں سے لے جا رہا ہوں۔ میں مزید اسے یہاں، اس قید خانے میں نہیں دیکھ سکتا۔ ارے قید خانے بھی اس سے اچھے ہوتے ہیں، وہاں بھی دو وقت کا کھانا اور پانی تو نصیب ہو جاتا ہے۔ میں ایک ماہ کے لیے ایمرجنسی میں فارن کیا چلا گیا، آپ کو اور آپ کے عملے کو لگا پری کا باپ مر گیا۔ نہیں ہر گز نہیں! وہ میری پری ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ میں نہیں جانتا اُس کو جنم دینے والے ماں باپ کون تھے اور کون بد نصیب اپنی اتنی پیاری بچی کو آپ جیسے قصائیوں کے ہاتھ دے گئے۔ ارے آپ ڈاکٹر نہیں ہیں، آپ پیسا بٹورنے والی مشینیں ہیں، جن کے منہ میں پیسا ٹھونستے رہو تو وہ ٹھیک سے کام کریں گی، ورنہ آپ کا وہ حشر کریں گی کہ آپ اپنا آپ بھول جائو گے۔” سبحان صاحب بے نقط اسے سنا رہے تھے۔
    ”ارے وہ تو معصوم ہے، ٹھیک سے کچھ بتا بھی نہیں سکتی کہ اسے کیا چاہیے؟ اُسے کچھ کھانا ہے یا پینا ہے۔ اور آپ انسانیت کے درجے سے اس قدر گر چکے ہیں کہ اُس کو کھانا تو کیا پانی تک نصیب نہیں ہوتا۔ بلکہ الٹا اُس کو نشہ آور ادویات دی جاتی ہیں تاکہ وہ نہ اٹھے اور نہ ہی آپ کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔ اپنی آسانی کیلئے کسی معصوم کی جان کو خطرے میں کیسے ڈال سکتے ہیں آپ؟” یہ کہتے ہی اس نے میز پر بھاری ہاتھ مارا تو اس پر پڑی تمام چیزیں ایک بار چیخ اٹھیں۔ آج اُس نے اپنی ساری کی بھڑاس بنا کسی لگی لپٹی کے نکال دی۔ ڈاکٹر بڑے مطمئن انداز سے اپنی چئیر پر جھول رہا تھا۔ سُبحان کو لگا وہ بھینس کے آگے بین بجا رہا ہے، اس لئے وہ جانے کے لیے مڑگیا۔۔
    ”دیکھیے سُبحان صاحب! آپ انجلا کو نہیں لے کر جا سکتے۔ اس کا آپ سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہے۔” گلا کھنکارتے ہوئے جو الفاظ ڈاکٹر نے اُس کے کانوں میں منتقل کیے تھے انہوں نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ اُس کا دل چاہا ایک بار اس ڈاکٹر کا گریبان چاک کر دے اور اُسے اُس کی اوقات دکھا دے مگر وہ کوئی عام انسان نہیں تھا، سبحان احمد لغاری تھا جو چاہتا تو کھڑے کھڑے پورا ہسپتال اور اس جیسے کئی ڈاکٹرز خرید سکتا تھا مگر وہ ایسا نہیں تھا۔ وہ تو پیار بانٹنا جانتا تھا، نفرت نہیں۔۔
    ”خون کے رشتے اگر ایسے ہوتے ہیں جو اپنے معصوم جگر کے ٹکڑوں کو یوں آپ جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں تھما جاتے ہیں تاکہ آپ جو چاہے اُن کے ساتھ سلوک کریں اور مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تو میں لعنت بھیجتا ہوں ایسے خونی رشتوں پر۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ میری بیٹی ہے، میری پری ہے اور میں اُسے مزید تکلیف میں تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔۔ سمجھے آپ ؟ میں لے جا رہا ہوں اُسے اپنے ساتھ۔ خدا حافظ!” وہ پھرتی سے ہسپتال سے باہر نکلا اور گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔
    ”پری بیٹا! آپ کا کمرہ دوتین دن میں تیار ہو جائے گا تب تک میرا بچہ میرے ساتھ اسی کمرے میں رہے گا۔ ٹھیک ہے نا؟” وہ اپنی پری کے تمام اشاروں کو سمجھتا تھا اس لئے مطمئن ہو گیا۔ وہ پری کے کمرے کے لیے بہترین ڈیکوریٹر کو ہائر کرنا چاہتا تھا اور اس نے اس کام میں دیر نہیں کی۔





    چار دن کی مسلسل محنت اور کوشش کے بعد سُبحان آج کافی مطمئن تھا۔ اُس نے آفس کا سارا کام اپنے مینیجر کو سونپ دیا تھا اور اپنی پری کا کمرہ اپنی زیرِ نگرانی تیار کروایا تھا۔۔ لیکن ابھی پری اُسی کے کمرے میں رہ رہی تھی کیوں کہ اُس کی صحت کافی خراب تھی۔ وہ بہت کم زور ہو گئی تھی۔ صرف ایک ماہ میں وہ سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی تھی ۔ کمرے سے فارغ ہوتے ہی سبحان نے شہر کے سب سے بہترین سائیکالوجسٹ سے رابطہ کرکے ٹائم لے لیا تھا۔
    وہ بہت خوش تھا۔ اُس کی پری اُس کے ساتھ تھی اور پری بھی پہلے کی نسبت اب قدرے مطمئن ہو گئی تھی۔ اب وہ توڑ پھوڑ اور چیختی چلاتی کم تھی اور صحیح اور بہتر دوا ملنے سے اب سُبحان کی پری اس سے کچھ کچھ ٹوٹی پھوٹی باتیں بھی کرنے لگی تھی جس کی سمجھ صرف اُسی کو آتی تھی۔ وہ سب بھول گیا تھا، آفس بھی اب کم کم ہی جاتا تھا۔ کوئی بہت ایمرجنسی ہوتی تو وہ پری کو آپا عفت کے حوالے کر کے جاتا جو اُس نے پری کے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے رکھی تھی۔ کھانا بنانے کیلئے باورچی تھا، مگر ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق پری کا کھانا آپا عفت بناتیں۔ پری کو نہلانا اور اُس کے دیگر معاملات آپا عفت دیکھتیں تھیں۔۔ دوائیں وغیرہ بہت احتیاط اور دھیان سے سُبحان خود پری کو دیتا تھا۔۔ صرف چھے ماہ کے عرصے میں پری پہلے کی نسبت بہت سنبھل گئی تھی۔ سبحان بہت خوش تھا۔ اب وہ کچھ کچھ بنا سہارے کے چلنے لگی تھی۔ لیکن کبھی کبھی پری پر وہی دورہ پڑنے لگتا، وہ چیختی چلاتی، چیزیں اٹھا اٹھا کر پٹختی اور کھانا تک نہ کھاتی۔ حتیٰ کہ کبھی کبھار وہ سُبحان کو بھی پیٹنے لگتی، جب وہ اُسے باز رکھنے کیلئے اپنے بازوئوں میں بھرتا اور وہ اپنا آپ چھوڑوانے کی کوشش کرتی تو ایسے میں بھی سُبحان سخت پریشان ہونے کے باوجود کبھی اُس سے سختی سے پیش نہیں آتا تھا بلکہ ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرتا، بے تحاشا لاڈ پیار دیکھ کر پری بھی شانت ہو جاتی۔۔ پری کی صحت کی وجہ سے وہ اُس کو اپنے ہی کمرے میں رکھتا تھا اپنے ہی ساتھ سلاتا، اپنے ہی ساتھ کھلاتا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اُس کی خوشیوں کی مدت اتنی کم ہے۔۔
    ”گرفتار کر لیجیے انہیں انسپکٹر صاحب! انہی کے قبضے میں ہے میری بہن ۔۔ یہ کمینہ ہسپتال کے پورے عملے کے ساتھ بدتمیزی کر کے اور دھمکیاں دے کہ ورغلا کر میری بہن کو اپنے ساتھ لے آیا۔ وہ تو بہت چھوٹی ہے صرف۔۔آمم آ۔۔” سات یا ساڑھے سات سال کی ہو گی وہ۔۔ اسے کیا پتا یہ کون ہے۔ میری انجلا اسی کے پاس ہے انسپکٹر صاحب۔
    پولیس کے ساتھ ڈاکٹر سلیم جیلانی اور ایک ماڈرن سی لڑکی آج اُس کے گھر میں موجود تھی وہ ابھی ابھی پری کو ناشتہ کروا کر باہر نکلا ہی تھا کہ لائونج میں تمام لوگوں کو کھڑا دیکھ کر پہلے تو کچھ سمجھ ہی نہیں پایا مگر اُس عورت کے الفاظ سن کر اُسے سب سمجھ میں آ گیا۔۔۔
    ”محترمہ سب سے پہلی بات تو میں آپ کو جانتا نہیں ہوں اور اگر آپ پری کی بہن ہونے کا دعوی کر رہی ہیں تو آپ کو اتنا بتاتا چلوں کہ پری کی عمر سات یا ساڑھے سات سال نہیں بلکہ دس سال اور چار ماہ ہے اور دوسری بات میں ہسپتال کے عملے سے بدتمیزی کر کے ضرور آیا ہوں گا مگر دھمکیاں دینا میرا شیوہ نہیں۔۔۔” سبحان احمد قدرے تحمل سے بولے۔
    ”باقی رہ گئی اریسٹ کرنے کی بات تو کوئی ٹھوس وارنٹ لے کر آئیے، پھر آپ مجھے اریسٹ کیجیے گا۔ اب آپ جا سکتے ہیں میرا وقت بہت قیمتی ہے۔ شکریہ۔۔” وہ اپنی بات کہہ کر رکا نہیں بلکہ واپس اپنے کمرے میں آگیا۔ وہ پری کو کھو دینے کے ڈر سے پریشان ضرور تھا اور کسی بات کی اسے پرواہ نہیں تھی۔
    اُس نے اپنے فون پر نمبر ملایا اور آہستگی سے سب کہتا گیا۔
    ”اور ہاں سنو! مجھے آج ہی اپ ڈیٹ کرنا ہے تم نے۔۔ اوکے اللہ حافظ۔۔”
    پھر پورا دن وہ سکون سے نہیں بیٹھا۔ کبھی ایک کال ملاتا تو کبھی دوسری۔۔۔۔ ایسے ہی شام ڈھل گئی اور اب رات بھی ۔۔ کتنی ہی بار کرم دین کھانے کا پوچھنے آیا مگر ہر بار اُس کا جواب یہی ہوتا بھوک نہیں ہے مجھے، آپا سے کہیں پری کو کھلا دیں اور دوا بھی دے دیں۔
    نماز تو پہلے بھی وہ کوئی نہیں چھوڑتا تھا مگر آج پری کو سلانے کے بعدسے وہ جائے نماز پر بیٹھا تھا اور اب وال کلاک اُسے تین بجنے کا اعلان سنا رہا تھا۔ وہ سجدے سے اٹھا تو اُس کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔۔ مدھم سی روشنی میں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ان چند گھنٹوں میں صدیوں کا سفر طے کرکے لوٹا ہو۔۔ ایک نظر مطمئن سی سوئی ہوئی پری کے چہرے پر ڈالی اور جائے نماز کو تہہ کرمیز پر رکھااور کمرے سے باہر نکل آیا۔




  • کردار —-ہاجرہ ریحان

    ”تم جیسی عورتوں کا تو طریقہ یہی ہے کہ جب اپنا شوہر سنبھالا نہیں گیا تو دوسرے مردوں پر دانت مارنے شروع کر دئیے. . . اس لئے کہ گھر کا خرچہ بھی تو چلانا ہے… اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچے… پوچھے کوئی کہ اتنے اچھے رنگ کی مہنگی ساڑھی آخر کیوں آسمان سے تمہارے ہی گھر پر ٹپکی…؟ ابھی بس کہاں . . . ؟ ابھی تو بچے کو بھی بڑا کرنا ہے. . . اُس کو بھی یہی شان و شوکت دینی ہے. . . ارے تم جیسیوں سے اچھی تو طوائفیں ہوتی ہیں کم از کم جو کام کرتی ہیں وہ مانتی تو ہیں . . . شرافت کا لباد ہ اوڑھ کر . . . بے وقوف تو نہیں بناتی رہتیں۔”
    وہ دانت پیستے ہوئے مجھے بے نقط سنائے چلی جا رہی تھی… اور اُس کی چلتی ہوئی زبان ایک لمحے کے لئے بھی نہیں رُکی تھی… میں اُس کے کہے چند جملے بیچ بیچ میں اچک کر اپنے دماغ میں دُہرا رہی تھی…
    ”اچھے رنگ کی مہنگی ساڑھی…؟ ھم م م…!” میں نے دل میں سوچا…
    ‘ بھلا بتائو . . . اگر اس کی جگہ کوئی اور عورت ہوتی… جب کہ وہ اپنے تئیں شوہر کی محبوبہ کو ساری دنیا کے سامنے ذلیل کرنے اور اپنے شوہر کا اُس سے پیچھا چھڑانے کے لئے باقاعدہ محاذ پر ڈٹی ہوتی . . . تو اس قدر اہم وقت میں کیا وہ میری ساڑھی کو اس طرح باریک بینی سے دیکھ سکتی تھی ؟ساڑھی کی مالیت . . . رنگ . . . کپڑے کا اندازہ لگا سکتی تھی ؟’





    اچانک ایک لمبا… سا شخص بھاگتا ہوا اُس کے قریب آ گیا…
    ”کیا بکواس ہے یہ . . . پاگل تو نہیں ہو؟ نکلو یہاں سے… چلو…!” وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر تقریباً کھینچتا ہوا اُسے باہر لے جانے کی کوشش کرنے لگا. . . اور تھوڑا بہت کام یاب بھی ہو گیا . . . کہ وہ ہاتھ چھڑا کر پھر چیخی:
    ”ہاں ہاں! کیوں نہیں؟ بھانڈا پھوٹ گیا تو اب کیسے مجھے گھسیٹ رہا ہے۔ بے شرم! اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری عورت کے پاس رات میں جاتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ تو دن میں ملنے میں کیا پریشانی ہے… بے شرم… اب شرم کیسی؟”
    ”کس قسم کی بکواس کر رہی ہو ؟ سب کے سامنے تماشہ بنا رکھا ہے . . . کتنی بار بتایا ہے کہ یہ تو . . . بس ایک کردار ہے . . . کیوں سمجھ نہیں آ رہا تمہیں بولو ؟” لمبا آدمی پھنکارا . . . مگر اب اس کی توپ کا دہانا اپنے شوہر کی طرف ہو گیا تھا . . . وہ دونوں برابری سے ایک دوسرے کو تیز لفظوں میں سُنا رہے تھے . . . مجھے ایک پل کے لئے لگا کہ جیسے لمبا آدمی جان بوجھ کر کچھ اس لئے اپنی بیوی سے ترکی بہ ترکی بات کر رہا تھا تاکہ مجھ پر سے اُس کی توجہ ہٹ سکے . . . اور میں . . . میں کھانے کی بھری رکابیوں میں سجی لمبی سی میز کے ساتھ ہی کھڑی تھی… کچھ لوگ سب کچھ سُن اور دیکھ کر ناصرف تماشے سے محظوظ ہو رہے تھے بلکہ کھانا لینے کے لئے خالی پلیٹ ہاتھ میں لئے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے قطار میں کھڑے تھے…
    لمبا آدمی… دانت پیستی… چیختی… باتیں سُناتی عورت کو آخر کار شامیانے سے لے کر نکل گیا . . . میں کھڑی کی کھڑی رہ گئی . . . کاش کہ مجھے بھی کوئی اسی طرح زبردستی گھسیٹ کر باہر چھوڑ آئے کہ میرے قدموں میں تو جیسے جان ختم ہو چکی تھی… وہ پتھر کے ہو کر زمین کے اندر کسی تہہ تک پہنچ کر منجمد ہو چکے تھے۔
    یہ سب کیا ہوا ؟ میں حیران ہی نہیں پریشان بھی تھی . . . میں تو ابھی شاید یہی کوئی آدھا گھنٹہ پہلے ہی شامیانے میں داخل ہو کر میزبان خاتون ِ خانہ سے چند ایک معمول کی رسمی سی باتیں کر کے اُن کے ہاتھ میں لفافہ پکڑا کر الگ تھلگ پُرسکون بیٹھی رہی تھی . . . اور اب کھانا لگتا دیکھ کر میز کے قریب پہنچی تھی… کہ یہ دانت پیستی عورت تیز قدموں سے میرے پاس آئی، میں یہی سمجھی تھی کے وہ بھی کھانا لینے ہی تیزی سے اس طرف آ رہی ہے مگر پھر جب اُس نے مجھے مخاطب کئے بغیر ہی شور مچا کر مجھے باتیں سُنانا شروع کر دیں تو میں گھبرا کر کچھ نہ سمجھ کر اپنی جگہ جم کر رہ گئی تھی… میں نے ایک دو بار اپنے ارد گرد دیکھا تھا کہ شاید کوئی میری مدد کرنے آگے بڑھے… مگر نہیں۔ میں چونکی، میزبان خاتون ِ خانہ گھبرائی ہوئی میری طرف دوڑی چلی آرہی تھیں:
    ”اوہ ہو! بھئی میں بہت شرمندہ ہوں، تم یقین کرو میں نے تو خود کئی بار شہلا کو سمجھایا کہ ایسا بھی کیا کردار وغیرہ کہ اصل زندگی میں کسی نہ کسی سے مماثلت ہو ہی جاتی ہے اب اتنی سی بات کا کیا بتنگڑ بنانا مگر نہیں، بھئی وہ تو بس حد ہی پار کر گئی آج… اب میں کیا کہوں؟”
    میزبان خاتون ِ خانہ ایک عمر رسیدہ مگر بے حد مہذب خاتون تھیں . . . شوہر کسی زمانے میں بہت مشہور وکیل رہ چکے تھے اس لئے پوری بلڈنگ میں وہ وکیل صاحب کی بیگم کے نام سے مشہور تھیں۔ یہ بلڈنگ کا واحد گھر تھا جس میں جب جس خاتون کا دل چاہتا، جا سکتی تھیں کیوں کہ دونوں عمر رسیدہ میاں بیوی اکیلے ہی رہتے تھے اور بلڈنگ کے بچوں سے لے کر اپنے ہم عمر ہر رہائشی سے راہ و رسم رکھتے تھے. . . اُن کے مہذب اور بے حد پرخلوص انداز ِ گفتگو سے میں بھی متاثر تھی لہٰذا جب انھوں نے مجھے اپنے نومولود پوتے جو کہ کینیڈا سے اپنے والدین کے ساتھ آیا ہوا تھا کے عقیقے میں بلایا تو میں انکار نہ کر سکی. . . وکیل صاحب کی بیگم نے حد ممکن طریقے سے مجھے دلاسہ دینے کی کوشش تو کی تھی، مگر میں ابھی تک حالات پر غور کرنے کے قابل نہیں ہو سکی تھی۔ میں لڑتے جھگڑتے میاں بیوی کی ہر بات سُن چکی تھی اور وکیل صاحب کی بیگم نے جو بھی کہا وہ بھی میری سماعت میں محفوظ تھا مگر میں اس وقت صرف اور صرف تنہائی چاہتی تھی . . . خالی پلیٹ لئے ان جڑے ہوئے قطار میں کھڑے لوگوں کی نظروں سے یک دم غائب ہو جانا چاہتی تھی، لہٰذا کچھ کہے بغیر بہت ہمت کرکے میں ہلکے ہلکے قدموں سے شامیانے سے نکلنے کے لئے آگے بڑھ گئی… دکھ تو یہ تھا کہ محلے کی شادی تھی اور فلیٹ کی بلڈنگ کے تمام ہی رہائشی یہاں موجود تھے ا ور اطمینان اس بات کا کہ ان سب میں کوئی رشتہ دار نہیں تھا . . .
    ”چلو کوئی بات نہیں سب ٹھیک ہے…” میں نے خود کو دلاسہ دیا…





    ”ویسے بھی میں فلیٹ کی بلڈنگ کے دوسرے رہائشیوں سے کسی بھی قسم کی راہ و رسم تو رکھتی ہی نہیں ہوں . . . میں تو ہمیشہ سے ہی لوگوں کو خود سے دور رکھنے کی عادی ہوں اب اور سرد مہری برتنے لگوں گی اور پھر فرض کرو اگر کسی نے ہمت کر کے پوچھ بھی لیا تو . . . تو . . . وہی بتا دوں گی جو سچ ہے، یعنی کہ یہ سب غلط فہمی ہے۔ میں تو خاتون کو جانتی ہوں اور نہ ہی اُن کے شوہر کو . . . یقینا خاتون مجھے کوئی اور سمجھ کر باتیں سُناتی رہی ہیں . . . میں گھر تک آتے ان چند لمحوں میں ہی جو کچھ ہو چکا اُس پر غور کرنے کے بجائے مستقبل میں کس طرح اور کیسے خود کو بچانا ہے اُس پر سوچنے لگی تھی . . . اچانک مجھے حیرت ہونے لگی . . . یہ المیہ ہے یا پھر مجھ پر نعمت ِ خداوندی ہے کہ میں ہر مشکل لمحے کو صرف اس لئے گزار لیتی ہوں کے مجھے اُس لمحے کے بعد حفظ ِ ماتقدم کے طور پر اپنے لئے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ میں ہر مشکل گھڑی میں بالکل ساکت… بے جان اور بے حس ہو جاتی ہوں… آنسو کیا میری تو آنکھ تک نہیں ڈبڈباتی، جیسے اُس مشکل لمحے کے رونما ہونے یا گزر جانے سے کہیں پہلے ہی میرا دماغ جھٹ سے لائحہ عمل پر کام شروع کر دیتا ہے، اور میرا دل میرے دماغ کی اس قدر گہری سوچ کے درمیان چُپ چاپ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے کہ مجھے خبر تک نہیں ہوتی۔ اصولاً ابھی مجھے زار و قطار رونا شروع کر دینا چاہیئے تھا۔ جب لوگ متوجہ ہو ہی چکے تھے تو اب کیا خود کو بچانا؟ روتے ہوئے سب کو بتا دیتی کے یوں بھی کوئی کسی کو بے قصور اتنا سُناتا ہے؟ جب وہ لمبا آدمی اُس عورت کو گھسیٹ کر لے جا رہا تھا تب ہی رونا شروع کر دیتی . . . یا پھر کسی فلم کی نازک ہیروئن کی طرح بے ہوش ہو جاتی اور پنڈال میں موجود تمام کے تمام لوگوں کی ہمدردی سمیٹ لیتی۔ میں دل ہی دل میں مسکرا اُٹھی، یہ سب بھی تو ایک طرح کا لائحہ عمل ہی ہے. . . یعنی میں ہر صورت میں محسوس کرنے کے بجائے صرف اور صرف لائحہ عمل ہی تیار کر رہی ہوں۔ کیوں؟ آخر کیوں میں اُس لمحے کو محسوس نہیں کر پا رہی؟ کیوں میں جذباتی نہیں ہو رہی؟ ایسا لگ رہا ہے جیسے ہاتھوں میں خالی پلیٹ لئے ان تمام لوگوں میں شامل ہوں اور یہ لمحہ مجھ پر نہیں کسی اور پر گزر گیا ہے۔ نہیں، یہ نعمت ِ خداوندی نہیں ہو سکتی یہ تو المیہ ہے۔ میں بے حس سُن بلکہ ہو چکی ہوں۔ میرے سینے میں دل نہیں دھڑکتا… میں محسوس کرنے اور محسوس کر کے کسی بھی قسم کا رد ِعمل دکھانے سے قاصر وہ جان دار ہوں، جو صرف سانس لیتی ہوں… جیسے مصروف شاہراہ کے بیچ میں سجاوٹ کے لیے لگائے گئے درخت ہر دوسرے تیسرے دن تراشے جاتے ہیں تاکہ اُن کی شکل و صورت شاہراہ سے گزرنے والوں کو ہر موسم میں ایک جیسی نظر آئے. . . سجاوٹ کے لئے لگائے گئے نصیب میں بھلا جنگلوں، بیابانوں یا باغات میں اُگنے والے درختوں کی مانند ادھر اُدھر پھیلتی، پھولوں اور پھلوں سے لدی ہوئی مہکتی شاخیں، موسم کی خوشی اور آزادی کہاں ہو سکتی ہے، کیسا کرب ناک احساس ہے یہ کہ ایک درخت ہو کر بھی کسی کو پھل . . . پھول یہاں تک کے سایہ بھی نہیں دے سکتی ؟ میں خود کو ہر دوسرے تیسرے دن تراش خراش کر قریب سے گزرنے والے کو ہر موسم میں ایک جیسی نظر آتی ہوں۔ خود کو کبھی بھی جذباتی یا بے قابو نہیں ہونے دیتی اور اگر کبھی کہیں ایسا مشکل لمحہ آبھی جائے جہاں مجھ سے میرا دل آزادی مانگے تو… پتا نہیں میں کیا کروں گی؟ خیر دیکھا جائے گا۔ ابھی تک تو ایسا کوئی لمحہ آیا نہیں۔ میں اپنے المیوں کے ساتھ رہنے کی عادی ہو چکی ہوں اور… اپنی تراش خراش پر قانع ہوں، بس… وقت گزر جائے…
    اور وقت تو گزر ہی جاتا ہے۔ تین چار دن خاموشی میں گزر گئے۔ میں کئی بار تمام واقعے پر غوروفکر کر چکی تھی… واقعی میں اُس لمبے آدمی کو صرف اس قدر جانتی تھی کہ وہ ہماری ہی بلڈنگ میں کسی فلیٹ کا رہائشی تھا۔ ہمارا ٹکرائو لفٹ میں یا بلڈنگ سے باہر جاتے ہوئے یا پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرتے ہوئے ہوا بھی تھا تو ایک دوسرے کو نظر انداز کر کے گزر جاتے تھے. . . میں عمر رسیدہ رہائشیوں کو سلام کر لیا کرتی تھی مگر اس اونچے لمبے جوان آدمی سے سلام و دعا کرنے کا کوئی جواز بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔ ہاں اتنا معلوم تھا کہ میرا آٹھ سالہ بیٹا جمال جس کو پیار سے میں جمی کہا کرتی تھی اُس کے بیٹے کے ساتھ اکثر کھیلتا تھا جو کہ جمی کا ہی ہم عمر تھا . . . اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا . . . پتا نہیں اُس اونچے لمبے آدمی جس کا میں نام تک نہیں جانتی تھی اُس کی بیوی نے مجھے اپنے شوہر کے ساتھ کیوں جوڑا؟ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ غلط فہمی اگر ہوئی بھی تو بھی کہیں نہ کہیں کوئی راستہ، کوئی کواڑ یا پھر چھوٹی سی کوئی نشانی، کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہے جو رائی کا پہاڑ بنتا ہے۔ میرے دماغ میں جیسے کوئی مسلسل کیلیں ٹھونک رہا تھا، کردار! کردار! کردار! مجھے بار بار کبھی لمبے آدمی کی کہی بات یاد آتی یا پھر وکیل صاحب کی بیگم کی کہ وہ تو بس ایک کردار ہے۔ کردار کی اصل زندگی میں مماثلت! یہ کیا کہا تھا لمبے آدمی نے اپنی بیوی سے اور پھر ایسی ہی بات وکیل صاحب کی بیگم نے بھی دہرائی تھی ؟ آخر یہ سب میرے کردار پر بات کیوں کرتے رہے ہیں؟ یہ کیا معاملہ ہے اور کب سے ان سب کے زیر ِ غور ہے اور مجھے ہی نہیں معلوم؟ میں کبھی الجھتی تو خود پر غصہ بھی کرتی۔ مجھے اُسی وقت خاتون سے پوچھ لینا چا ہئے تھا۔ آخر اس قدر جلد بھاگنے کی کیا پڑ گئی تھی… کچھ دیر اُن کی بات تو سُن لیتی شاید وہ مجھے تمام صورت حال سے آگاہ ہی کر دیتیں… میں سوچ سوچ کر بہت ہلکان ہوئی اور پھر جیسے بات معمول پر آ گئی…