Author: misbah116@hotmail.com

  • اب تو موت بھی نصیحت نہیں کرتی — اسیرِ حجاز

    میں نے جیب سے اپنا نیا آئی فون نکالا، ملیحہ کا میسج تھا "Very cute look… Jan!!!” اوپر دیکھا تو دوسری منزل پر کھڑی وہ بڑے پُر جوش انداز سے ہاتھ ہلا رہی تھی۔اُس نے سکن ٹائٹ ٹرائوزر اور بغیر بازوئوں والی شرٹ زیب تن کر رکھی تھی۔
    "You are all set to kill me… Mili” میں نے جواب دیا اور ساتھ ہی اشارہ کیا کہ وقفے میں ملتے ہیں۔ مجھے ان رنگین تتلیوں میں ہمیشہ ہی بہت کشش محسوس ہوتی تھی، جو میری طرف خود ہی کھنچی چلی آتی تھیں۔ رومانس، ڈیٹنگ سب کچھ میری زندگی کا لازمی حصہ تھے… کچھ میری وجاہت اور کچھ شاہانہ اخراجات، مہنگے ترین مالز سے ان کے لئے تحائف اور اچھے ہوٹلز میں کھانا… ان لڑکیوں کو اس سب کے علاوہ کسی چیز سے مطلب بھی کیا۔ اچانک میری نظر سامنے لگے ٹائم ٹیبل پر پڑی…
    Islamic studies: 9-11am
    ”اوہ نو!” میں نے افسوس سے سر پر ہاتھ مارا۔ پوری انجینئرنگ میں سب سے بور سبجیکٹ۔ پتا نہیں ان HEC والوں کی عقل کہاں چلی جاتی ہے؟ ہمیشہ کی طرح مجھے سلیبس طے کرنے والوں پہ غصہ آ رہا تھا، جو ایک غیر تکنیکی مضمون کو اتنی پروفیشنل پڑھائی کا حصہ بنانے پر تلے رہتے ہیں۔ ہم الحمدللہ مسلمان ہیں، نماز روزے کا پتا ہے، پھربھی نہ جانے کیوں ہمیں وہی چیزیں بار بار رٹتے رہنیپر مجبور کرتے ہیں۔ اوپر سے ڈاکٹر ذوالقرنین! قسم سے ان ڈاکٹر صاحب کو تو ایمان داری کا ایسا رو گ لگا ہے کہ بس!!! مجال ہے جو کبھی ایک لیکچر بھی کینسل کر دیں۔ دو گھنٹے تک پھر ان کا لیکچر!!!!





    پورے سمسٹر میں آج میں دوسری بار ان کی کلاس میں جا رہا تھا۔ میرے پورے تعلیمی کیرئیر میں یہ شاید واحد مضمون تھا جسے میں نے ہمیشہ "one eyed study” کے ذریعے پاس کیا تھا۔ آج تو پیچھے والی ساری نشستیں پُرہونے پر مجبوراً مجھے ڈاکٹر صاحب کے بالکل سامنے والی سیٹ پر بیٹھنا پڑا۔
    ”مر گئے۔ آج تو بچنے کا کوئی امکان بھی نہیں۔ کیسے گزریں گے یہ دو گھنٹے؟؟؟” میں نے بے بسی سے سوچا۔ ڈاکٹر صاحب نے بورڈ پر لکھنا بند کر دیا تھا۔ تختۂ سفید پہ تاریخ کے ساتھ آج کے لیکچر کا عنوان بھی خوشخط لکھا ہو اتھا…
    ”ہر ذی روح نے موت کا مزا چکھنا ہے۔”
    ”موت ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا۔ لوگ خدا کو ماننے سے منکر ہو سکتے ہیں، رسولوں کی حقانیت کو اپنے بے بنیاد نظریات کے مقابل غلط سمجھ سکتے ہیں، آسمانی کتابوں، مر کر جی اٹھنے اور جنت و جہنم کو تو جھٹلا سکتے ہیں مگر موت… یہ ایسی ایک اٹل حقیقت ہے کہ کسی بھی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھنے والا، چاہے تعصب کی کتنی ہی گہری عینک لگا لے، موت کو نہیں جھٹلا سکتا” ڈاکٹر صاحب کی نرم مگر مضبوط آواز گونج رہی تھی۔
    ”ان مولوی لوگوں کو بھی بس موت، جنت اور جہنم کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا، مغرب ترقی کی انتہائوں کو چھو رہا ہے، ہماری زندگی ان کی ایجادات کی مرہونِ منت ہیں اور یہ ہیں کہ بس اسی ”پتھر کے دور” میں جی رہے ہیں”… میں نے ناگواری سے سوچا!
    ”اسی بات کو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں کہ اگر تم میرے وجود سے انکاری ہو اور انسان ہی کو ہر طرح کی طاقتوں کا سرچشمہ سمجھتے ہو، تو جس وقت ہم تم میں سے کسی ایک کی جان نکالتے ہیں تو تم اس کو واپس کیوں نہیں ڈال لیتے؟؟ اور سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود انسان اس قابل ہو ہی نہیں سکا کہ وہ اس دعویٰ کو جھٹلا سکے۔”
    میں اپنی زندگی اور کامیابیوں کے متعلق سوچ رہا تھا۔ ابھی تو مجھے بہت کچھ کرنا ہے، یہ صدارتی ایوارڈ، بورڈ ٹاپر… یہ تو ابھی شروعات ہیں… میں سائنسدان بننا چاہتا ہوں اور میری منزل ”ناسا” ہے…
    ”(لوگو) تمہیں (مال و خواہشات کی) بہت سی طلب نے غفلت میں ڈال دیا ، یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔”
    موت کو بھول جانا بہت بڑی حماقت ہے، ہم لوگ پوری زندگی کا ٹائم ٹیبل سیٹ کرتے ہیں، پر اس میں صرف ایک چیز کبھی فٹ نہیں کرتے اور وہ ہے موت۔ دنیا کی چاہت میں انسانوں کے دل گناہوں سے زنگ آلود ہو جاتے ہیں، نصیحت اثر نہیں کرتی، الفاظ بے فائدہ ثابت ہو جاتے ہیں۔
    ”پھر اس کے بعد تمہارے دِل سخت ہو گئے گویا کہ وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی سخت”
    اور اس سختی سے نجات کا سب سے کارگر طریقہ ہے موت کی یاد۔ جب انسان کو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر اس نے اس جہان فانی کو چھوڑ جانا ہے اور دنیاوی مال و متاع یہاں ہی رہ جانا ہے تو وہ بہت سی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے مارا مارا نہیں پھرتا… یہی وجہ تھی کہ نبی ۖ خود بھی موت کا تذکرہ کثرت سے فرمایا کرتے اور صحابہ کوبھی اس کی تلقین فرماتے۔”
    اگر ہر وقت موت کا ہی سوچتے رہے تو پھر تو گئے کام سے۔ دنیا کا نظام ہی ختم ہو جائے گا اگر ہر کوئی یہ سوچ ہر وقت ساتھ لیے پھرے تو … اور یاروں دوستوں کے ساتھ کی جانے والی تفریح!!! ہنہ، موت جب آئے گی تو دیکھ لیں گے۔”





    ”ایک دفعہ نبی ۖ صحابہ کی مجلس میں تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ کھلکھلا کے ہنس رہے تھے اور ہنسی کی وجہ سے ان کے دانت کھل رہے تھے۔ آپ ۖ نے فرمایا کہ اگر تم موت کو کثرت سے یاد کرو تو جو حالت میں دیکھ رہا ہوں وہ پیدا نہ ہو۔ قبر پر کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب وہ یہ آواز نہ دیتی ہو کہ میں تنہائی کا گھر ہوں، بیگانگی اور کیڑوں کا مسکن ہوں۔ جب کوئی صالح میت اس میں رکھی جاتی ہے تو وہ اسے کہتی ہے کہ تیرا آنا مبارک ہو، زمین پر جتنے آدمی چلتے تھے، تجھ ہی سے مجھ کو زیادہ الفت تھی آج جب تو میرے حوالے ہوا ہے تو میرے حسن سلوک کو بھی دیکھ لے گا۔ اس کے بعد وہ حدِ نگاہ تک وسیع ہو جاتی ہے اور ایک دروازہ جنت کا کھل جاتا ہے۔ اور جب کوئی بدکردار اس میں رکھا جاتا ہے تو کہتی ہے کہ تیرا آنا نامبارک ، برا کیا جو تو آیا، زمین پر جتنے آدمی چلتے تھے تجھ سے ہی مجھے سب سے زیادہ نفرت تھی۔ اس کے بعد وہ اس کو اتنا دباتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دو سرے میں گھس جاتی ہیں اور جہنم کی ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔ جہاں سے جہنم کا دھواں اور بدبو اس کو آتی رہتی ہے۔”
    ”آج آنے کی غلطی ہو گئی ہے تو اب اس کی سزا اس طرح ملے گی!!!” میں نے انتہائی بے زاری سے سوچا۔
    ”صحابہ ہر وقت موت کو پیشِ نظر رکھتے تھے، اور اسی وجہ سے ان کے دل دنیا سے اچاٹ رہتے تھے۔ اس حالت میں ان کو ذرہ بھر بھی تغیر محسوس ہوتا تو فوراً سے پیشتر خود کو ملامت کرتے۔ ایک دفعہ ایک محفل میں جب نبی ۖ نے قبر کے حشر کا ذکر فرمایا تو صحابہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مجلس کے بعد جب حنظلہ گھر آئے اور بیوی بچوں کے ساتھہنسی مذاق میں مشغول ہوئے تو فوراً یہ خیال آیا کہ آپ ۖ کی خدمت میں تو آنسو اور یہاں یہ حال؟ خود کو منافق سمجھتے ہوئے حاضر خدمت ہوئے تو آپ ۖ نے فرمایا کہ ہر وقت میری مجلس والی کیفیت رہے تو فرشتے سرِ بازار تم سے مصافحہ کرنے لگ جائیں، لیکن ایسا تو کبھی کبھی ہوتا ہے۔”
    مجھے کسی کی موت نے کبھی نہیں رلایا تھا، حتیٰ کہ اپنی سگی ماں کی وفات پر بھی ایک آنسو تک نہیں نکلا تھا میرا، احساس تک نہیں ہوا تھا کہ کیا ہو چکا ہے… میرے سب جاننے والے میرے حوصلے کی داد دیا کرتے تھے۔ مجھے سب سے بڑی ڈرامہ باز وہ عورتیں لگتی ہیں جو مردے کے سرہانے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں… اس پر میں ہمیشہ ایک ہی لفظ بولا کرتا تھا… "Overacting”۔
    ”حضرت عبداللہ ایک حدیث اس طرح سے بیان فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی مسافر اور فرماتے تھے کہ اگر صبح مل جائے تو شام کی امید مت رکھو اور شام کو پالو تو صبح کی امید نہ رکھو۔”
    ”پھر تو بندہ مصلے سے سر ہی نہ اٹھائے، اس میں دنیا داری تو کہیں نہیں بچتی”… میں نے سوچا۔
    ”حضرت عثمان قبر کے ذکر پر اتنا روتے تھے کہ بعض دفعہ داڑھی تر ہو جاتی۔ فرمایا کرتے تھے کہ یہ آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، جو اس میں سرخرو ہوا وہ آگے بھی بچ جائے گا۔ حضرت عمر جن کی فراست کا ہر کوئی معترف تھا اور ہے، انہوں نے اپنی مہر ایک عبارت پر درج کروا رکھی تھی۔
    ”نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے”
    یہ الفاظ اچانک ہی میرے دل میں جا پیوست ہوئے اور میرے ذہن پر دستک دینے لگے… مجھے کچھ اور سجھائی دے رہا تھا نہ سنائی۔ اس ایک عبارت کے الفاظ نے مجھے کیا کر دیا تھا؟ میں سمجھنے سے قاصر تھا… میں تو بڑے بڑے علماء کی باتوں کو چٹکیوں میں اُڑا دیا کرتا تھا… اس ایک فقرے میں کیا جادو تھا… میری ساری حسیات یک دم میرا ساتھ چھوڑ گئی تھیں… میں، جسے اپنی قوتِ ارادی پر ناز تھا مجھ سے فیصلے کی ساری قوت لے لی گئی تھی… جس کو اپنی دماغ پہ غرور تھا… اس کا ذہن کام کرنا چھوڑ گیا تھا… میں تو انتہا درجے کا پریکٹیکل آدمی تھا… پھر بھی نہ جانے کون سی طاقت تھی جو مجھے ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے پہ مجبور کر رہی تھی؟؟؟ مجھے اپنے سامنے مرنے والے سارے لوگ ایک ایک کر کے یاد آنے لگے جنہیں میں غیر سنجیدگی سے لیا کرتا تھا۔ وہ جنازے جن میں مجھے میرے گھر والے زبردستی بھیج دیا کرتے تھے، وہ ساری میتیں میرے ذہن میں دستک دینے لگیں۔ سفید کپڑوں میں ملبوس وہ چہرے ایک سلائیڈ شو میں چلنے لگے اور ہر کسی کے منہ سے بس ایک سوال نکل کر آرہا تھا کہ کیا تم نے کبھی اس دنیا کو نہیں چھوڑنا، کیا تم ہمیشہ رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہو؟ ابھی کل ہی دوست کی والدہ کے جنازے کے لئے گیا تھا، چوںکہ میرا ارادہ خانہ پری کا تھا اس لئے راستے میں سب دوستوں کے ساتھ ویسے ہی فحش گفت گو، کار میں انگلش دھنیں اور آنکھوں سے بد نظری… مجھے کھانا پسند نہیں آیا تھا، میں نے اپنے دوست کی خوب مٹی پلید کی، کہ اس موقع پر تو اچھا انتظام کر لیتے… اس کے بعد ہم چاروں دوست وہاں سے نکلے اور سیدھے ایک اچھے ہوٹل گئے۔ رات ہو چکی تھی اس لئے ”شیشے” کا پروگرام بنایا اور شہر کے مشہور ”حقہ بار” پہنچ گئے…
    پتا ہے کبھی کبھی آپ کی آنکھیں برس رہی ہوتی ہیں پر آپ کو پتا نہیں چلتا۔ کھلی آنکھوں سے کچھ نظر نہیں آرہا ہوتا، آوازیں آپ کی سماعت سے ٹکراتی ہیں پر آپ انہیں سمجھ نہیں پا رہے ہوتے، سب کو جانتے ہوئے بھی کسی کو پہچان نہیں پاتے… کچھ ہو گیا تھا میرے دل کو… لگتا تھا کہ پتھر بھی آخر ٹوٹ رہا تھا۔
    ”اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی ٹپکنے لگتا ہے اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔”
    دل میں ایک کسک سی جاگ اُٹھی تھی، شاید آگہی کی یا اپنے ماضی پہ ماتم کی!!! میں فرق کرنے سے قاصر تھا۔
    ”میرے بچے! کیا ہوا؟؟” ڈاکٹر صاحب کی مدھم سی آواز سنائی دی، اُن کے پُر نور چہرے پر میری نظر ٹھہر نہ پائی… میرے آنسو گرتے جا رہے تھے اور جسم پسینے سے شرابور… میں نے ٹوٹتی آواز سے کہا:
    ”سر!!! اب تو موت بھی نصیحت نہیں کرتی”




  • اُوپر حلوائی کی دکان — علینہ معین

    ”اماں! کدھر ہو؟” ”اماں جلدی آئو”۔ شبانہ بلند آواز میں پکار رہی تھی۔ ایک تو صبح سویرے خالہ شیداں کا فون اس کی سپنوں بھری نیند میں خلل ڈال گیا اوپر سے شادی کا بلاوا۔ مطلب جانا لازمی۔ پارہ کیسے نہ ہائی ہوتا… ”اماں” اس نے پھر ہانک لگائی۔ بالآخراماں اسے اندر آتی نظر آہی گئیں۔ ”کیا ہے شبانہ؟ کیوں صبح صبح گلا پھاڑ رہی ہے؟” اماں نے چھوٹتے ہی کہا۔ ”اماں تیری بہن کا فون آیا تھا۔ کنیز باجی کا ویاہ ہے اگلے مہینے۔” شبانہ عرف شبو نے وہیں پڑے پڑے پیغام پہنچایا۔
    ”ہائے ہائے اینی گرمی دے وچ ویاہ؟ شیداں دا دماغ خراب ہو گیا ہے اور اس موٹی نوں کنے پسند کر لیا اتنی گرمی وچ۔” اماں کو اپنی پڑ گئی۔ ”اماں کیا مطلب ہے تیرا گرمی کے موسم میں لوگ شادی نہیں کرتے یا کڑی نہیں پسند کر سکتے؟ کیا پتا کوئی مجھے بھی گرمی میں ہی پسند کر لے۔” شبانہ عرف شبو نے خواب دیکھنا شروع کیا۔





    ”رہن دے شبو گرمی وچ تے ہر بندہ ویسے ہی بھینگا لگدا اے تو تو ہے ہی پیدائشی بھینگی تجھے کون پسند کرے گا۔” اماں نے اس کی خوش فہمی پر تیل ڈال کر آگ ہی لگا دی ۔ ”اُٹھ اماں باہر نکل مجھے سونا ہے۔ آنکھوں میں ذرا سا فرق کیا ہوا تو نے مجھے بھینگی ہی بنا دیا۔ کوئی اپنی بیٹیوں کو یوں بھی کہتا ہے؟” شبانہ نے صبح صبح رونا شروع کر دیا۔ ”چلو جی اِس منحوس نے تو سویرے ہی تماشا لگا لیا اے” اماں نے جاتے جاتے ایک جان دار دھموکا اس کے کاندھے پر رسید کر ہی ڈالا۔
    لو جی شبانہ چک جھمری جانے کے لئے تیار ہو رہی تھیں صبح۔ ابا بے چارے مستری تھے اور وسائل اتنے نہیں تھے کہ سب جاتے کیوں کہ اس طرح ابا کے کام کا حرج جو ہوتا اور پھر سال پیچھے اماں خود ہی بہن کے گھر چکر لگا آئیں یا پھر خالہ خود ہی آجاتی اپنی موٹی سی بیٹی کنیز کو لے کر جو تھوڑا اونچا بھی سنتی تھی۔ شبانہ کے بے حد اصرار اور جذباتی دھمکیوں کے نتیجے میں اماں نے دوچھتی پر پڑے بڑے سے ٹرنک سے اس کے لئے بھی چمک دمک والے دو جوڑے نکال دیے۔ گھنگھرو والا پراندہ اور ایڑی والے جوتے وہ خود خرید لائی تاکہ اس کے شہری ہونے کا تاثر تو پڑے اُن سب پر۔ ہاں بس میں بیٹھتے ہی کالا چشمہ لگانا نہ بھولی آخر کو تھوڑی ہی سہی، بھینگی تو تھی نا۔ اماں نے خوب لتے لیے مگر اثر کس پر ہوتا۔ چک جھمری آتے آتے ماں بیٹیاں گرمی سے گھوم ضرور گئی تھیں مگر اماں کی زبان فراٹے بھر رہی تھی۔ ”نی شیداں ٹٹ مریں اتنی گرمی وچ بلا کے ناس مار دیتا ای۔”
    سیون اپ کی ٹھنڈی ٹھار بوتلیں پی کر بھی گرمی کا اثر کم نہیں ہو رہا تھا۔ بس کے مسافر بے چارے زیر لب مسکرائے جا رہے تھے۔ خدا خدا کر کے سٹاپ آیا تو دونوں اتریں۔ جہاں گرمی نے مت مار رکھی تھی، ساتھ ہی حلیے بھی بگاڑ کے رکھ دیئے تھے۔ اتنی محنت سے کیا گیا میک اپ بہ کر شبو کو ڈرائونا بنا رہا تھا۔ نیلا آئی شیڈ غازے کی جگہ اور غازہ بہ کر گردن پہ۔ ”ہائے نی شبو جا اُس نلکے توں منہ دھو جا کے لگ رہا ہے چڑیل نوں نیل پے گئے نیں۔” اماںرکنے والی نہیں تھی لہٰذا فوراًً بات مان لی۔منہ دھو رہی تھی کہ خالہ شیداں کا بیٹا آگیا انہیں لینے۔ ”ارے یہ پا صدیق اتنا بڑا ہو گیا؟” اس نے فٹ کالا چشمہ آنکھوں پہ چڑھایا اور آگے بڑھی۔ خالہ کا گھر آتے آتے پسلیاں ہل گئیں۔ تانگے کی سواری کے نتیجے میں جوڑ دکھنے لگے تھے۔ دو تین بار صدیق کی طرف نگاہ اُٹھی تو وہ مسکرا مسکرا کر اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شبانہ نے فوراً منہ پھیر لیا۔ ”ہنہ لگ رہا ہے گنے کو مونچھیں لگائی ہیں۔”
    جونہی ماں بیٹی اندر داخل ہوئیں گھر میں شور مچ گیا ”میداں آگئی۔ نی شیداں تیری بہن آگئی۔” دونوں بہنیں جھپیاں ڈال ڈال کر ملنے لگیں۔ ”ارے میداں یہ شبو ہے نا! کتنی بڑی ہو گئی ” ”شکر ہے میرا بھی دھیان آیا۔” شبانہ دن میں سوچتے ہوئے بڑے انداز سے مسکرائی ”پتر یہ کالی عینک اتار تے آرام نال بیٹھ”۔ اس نے بڑے سے صحن میں نظر گھمائی مگر چارپائیوں کے انبار پر موٹی موٹی عورتوں کے ڈھیر پڑے تھے کوئی بیٹھی اور کوئی لیٹی ہوئی تھی۔ خالہ کو بھی احساس ہوا تو خود ہی اندر لے گئیں۔ کھانا کھا کے جان میں جان آئی تو کنیز کا خیال آیا۔ ”خالہ شیداں کنیز باجی کدھر ہے؟” ”پتر صبح ناشتے میں پائے نہاری کیا کھا لیے تب کی پڑی سو رہی ہے۔ میں نے بھی نہیں اٹھایا ایک دن کی تو پروہنی ہے وچاری۔” شبانہ کو اچھو لگ گیا ”بارہ من کی دھوبن اور و چاری”۔ اماں نے پوچھا ”آپا منڈا کرتا کیا ہے؟” ”میداں نال دے پنڈ میں دو چنگ چیاں چلاتا ہے۔ چنگا کمائو ہے۔ مال ڈنگر بھی ہے گھر میں۔ خوش حال لوگ نیں۔” لڑکے کی اتنی خوبیاں سن کر اماں کو اپنی بیٹی کی پڑ گئی۔ ”ہائے میری شبانہ کا وی رشتہ ہو جائے تے میں بھی سکون لواں”۔





    ”رہن دے اماں! میرے لئے کوئی چنگ چی ڈرائیور ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔” شبانہ نے دانت پیس کر اماں کو گھرکا۔ ”کیوں؟ تو کوئی حور پری ہے یا ابا وزیر ہے ملک کا جو اتنے اونچے خواب نیں تیرے۔”
    ”اماں لحاظ کر لو کچھ میرا ہم مہمان آئے ہیں ادھر۔” شبو دروازے میں پا صدق کو دیکھ کر ہڑبڑا اٹھی۔ مگر اماں کہاں رکنے والی تھیں۔ شبو کی مدح سرائی جاری رکھی ”نا تو ہے تو میری دھی ایک تے بھینگی اوپر سے رنگت بھی کوئی خاص نہیں۔ اپنے ابے دی کاربن کاپی، تورشتہ آئے شاہد آفریدی دا۔ بلے وی بلے” اماں کی زبان کون روکتا۔ خالہ شیداں اور پا صدیق کے چہروں پر مسکراہٹ تھی، جب کہ شبانہ عرف شبو آنسو بہا رہی تھی اور کوس رہی تھی اس لمحے کو جب اس نے اماں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ شام کو مہندی کی رسم تھی۔ خالہ شیداں نے باقاعدہ جھٹکے دے دے کر کنیز کو اٹھایا۔ مندی آنکھوں کے ساتھ وہ منہ ہاتھ دھوتی اندر آئی خالہ کو سلام کرنے۔ شبانہ سے بھی ملی کہ پہلے بھی کوئی خْاص لگائو تو تھا نہیں پھر بھی لحاظ مروت میں آگئی کہ کل رخصت ہو جانا ہے۔ اماں حسب عادت نہ رہ سکیںا ور چھوٹتے ہی بولیں: ”ہائے کنیز کچھ پتلی ہی ہو جاتی۔ ارے وہ ڈائٹنگ ہی کر لیتی دھیے۔” مگر افسوس کنیز سنتی بھی کم ہی تھی نجانے کیا سمجھ آئی۔ ”فائٹنگ؟ خالہ نہیں میں تو سو رہی تھی اور تو تو جانتی ہے خالہ میں ہوں بھی بڑی شریف سی۔” اس نے شبانہ کو گھوری ڈالتے معصومیت سے کہا۔ ”شبانہ! تو نے ابھی تک عینک نہیں اتاری؟ ادھر کمرے میں بھی تجھے کیا دھوپ پڑ رہی ہے ادھر تو تجھے کوئی دیکھنے والا بھی نہیں آتا”۔ کنیز نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ مجبوراً خاموش رہی کہ اماں پھر نہ اسٹارٹ ہو جائیں۔ شبانہ نے بھی دل میں بدلہ لینے کی ٹھان لی کہ چھوڑوں گی نہیں تجھے کنیز باجی۔
    شدید گرمی نے مت مار رکھی تھی مگر عورتوں اور لڑکیوں کے چمکیلے بھڑکیلے لباس تو ایک دوسرے کو مات دے رہے تھی اور کسر تو شبانہ نے بھی نہیں چھوڑی تھی۔ پیلا سوٹ جس پہ اس نے خود گوٹا لگایا تھا بڑے ارمانوں سے، کانوں میں بڑے بڑے جھمکے پراندہ اور اونچی ایڑی کے سینڈل کے ساتھ لشکتے میک اپ میں خود کودوسری مونا لیزا سمجھ رہی تھی۔
    ”باجی، راستہ دے دیں۔” وہ جو جلدی تیار ہو کر صحن میں کھڑی انتظام دیکھ رہی تھی اور کڑھ رہی تھی کہ کیا تھا جو میرا بھی بیاہ ہو جاتا۔ چونک کر پلٹی تو دیکھا صدیق کسی لڑکے کے ساتھ دیگ اٹھائے کھڑا راستہ مانگ رہا تھا۔ ”ہٹ کر کھڑی ہو شبانہ، راہ دے۔ گرمی نال جان نکل رہی ہے۔” پسینے میں نہایا صدیق اب باقاعدہ گھور رہا تھا۔ ”ہائے ہائے جان دیکھو اس گنے کی اور غصہ دیکھو۔” دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتی ایک طرف ہو گئی۔ صحن سے پیچھے کھلے برآمدے میں کام والی اماں ابٹن مہندی کے تھال سجا رہی تھی۔ شبانہ بھی ادھر ہی چل دی۔ مہندی کی دھانسو تیاری میں شبانہ کا کالا چشمہ بھی شامل تھا، جسے دیکھ کر گائوں کے شریر لڑکے اور شریر ہو رہے تھے۔ ”گورے گورے مکھڑے پہ کالا کالا چشمہ” ہائے ہائے چال اور مستانی ہو رہی تھی شبو کی۔ مگر ہائے ری قسمت اس کی صاف گو اماں یہاں بھی آگئی سلطان راہی بن کے۔ ”وے اندھیو! اے میری دھی کدھروں گوری لگدی اے۔ تو اڈی بہن ہے کج تے خیال کرو بے غیرتو۔بھینگی ہے اس لئے عینک لائی اے تسی گانے گان لگ گئے او۔” اماں نے لاج کیا رکھنی تھی الٹا پول کھول کر سب کے سامنے رکھ دیا۔ منہ چھپانے کو جگہ نہ ملی۔ آئندہ کہیں بھی اماں کے ساتھ نہیں جانا۔ اس نے دل میں عہد کیا۔ لڑکے بغلوں میں منہ دے دے کر ہنس رہے تھے۔ شبو نے بسورنا شروع کیا ہی تھا کہ سٹیج سے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگی۔ کنیز باجی سٹیج پر لڈیاں ڈال رہی تھی۔ ”ہائے اماں۔ ہائے اماں” کی گردان کے ساتھ اچھل کود ہو رہی تھی۔ مگر ایسا کچھ نہ تھا، بس کنیز کا واویلا تھا اور حیران پریشان مہمان۔ ابھی تو اسے ابٹن لگانا شروع ہی کیا تھا۔ آخر دو سیون اپ ڈکار کر اور 4 رس گلے کھا کر بولی ابٹن میں مرچیں ہیں۔ بس پھر اماں جو شروع ہوئیں گرمی سے پہلے ہی برا حال ہو رہا تھا ”نی دھی کنیز، دو گھنٹے لا کے منہ تے توں کریماں مل مل کر آئی ہے چھلے آلو جیسا منہ ہو گیا اے تیرا۔ ایس لئی مرچاں لگ رہیاں نیں۔ ”




  • لاکھ — عنیقہ محمد بیگ

    لاکھ — عنیقہ محمد بیگ

    وہ ایک ایسا ٹی وی شو دیکھ رہا تھا جس میں ایک غریب آدمی کی گاڑی نکل آئی۔ وہ آدمی خوشی سے رونے لگا… اینکر نے محبت کے ساتھ اُسے گلے سے لگایا… اُس نے غریب آدمی سے کہا:” یار سات آٹھ لاکھ کی گاڑی نکلی ہے… اس میں رونا کیسا؟ گاڑی کو فروخت کرو… اور پیسہ جیب میں رکھو۔ پھر اس کے ذریعے اپنی ساری خواہشات پوری کرلو۔” وہ اُس آدمی کی قسمت پر خوش نظر آرہا تھا… مگر وہ یہ نہیںجانتا کہ دور سلائی مشین پر کام کرتی ہوئی افشی کو اس کے تبصرے پر اختلاف ہو سکتا ہے…!!
    وہ خفگی سے بولی: ”یہ کیا بات ہوئی کہ گاڑی فروخت کر دی جائے؟ اب گاڑی ملی ہے تو بیوی بچوں کو سیر کروائے… کیا پتا یہ گاڑی اُن کا نصیب ہو…۔”
    اس غریب آدمی کی بیوی بچے گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔
    اینکر نے پرُ جوش انداز میں آواز بلند کی: ”قسمت ہو تو ایسی … جو چند سیکنڈ میں انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دے۔”مگر وہ اینکر سے لاپرواہ سا ہو گیا اور اُس نے افشی کو جواب دینا بہتر سمجھا… جو پچھلے دو گھنٹے سے کسی ایسی بات پر اس سے خفا بیٹھی تھی، جس سے وہ بھی واقف نہ تھا۔ وہ شائستگی سے بولا: ”افشی جوشخص کہہ رہا ہے کہ وہ کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر ہے، وہ اتنی بڑی گاڑی کہاں رکھ سکے گا؟ اور جس جگہ وہ رہتا ہے۔ بھلا وہاں گاڑی جا سکتی ہے؟” وہ شخص اپنے بارے میں ٹی وی پر کیا کچھ بتا رہا تھا۔
    وہ حیرانی سے بولی: ”ایسا کیوں؟؟”





    ”ارے اس کی تنگ گلی جس محلے سے وابستہ ہے… میں نے وہ محلہ خود دیکھا ہوا ہے۔ عجیب و غریب تنگ سی گلیاں ہیں… جو بھی اس محلے میں چلا جاتا ہے… اس کے گھر کا راستہ بھول جاتا ہے۔”
    افشی خفگی سے بولی:” گاڑی روڈ پر بھی تو کھڑی کی جا سکتی ہے۔” گویا اُس نے بحث ہی شروع کر دی۔ اظہر اُس کی بات پر خفا سا ہوا اور سنجیدگی سے بولا: ”افشی تمہیں کیا پتا؟؟… جو گاڑیاں روڈ پر کھڑی کی جاتی ہیں وہ اکثر چوری ہو جاتی ہیں یا پھر اُن کے ٹائر چرا لیے جاتے ہیں اور کبھی کبھی تو گاڑی کیشیشے بھی ٹوٹے ملتے ہیں۔”
    وہ خفگی سے بولی: ”میرے خیال میں اُس غریب شخض کو اپنی گاڑی فروخت نہیں کرنی چاہیے۔” وہ اپنی بات پر اٹل رہی اور سلائی مشین مزید تیزی سے چلانے لگی۔
    ”بی بی جی… گاڑی کے بہت نخرے ہوتے ہیں…” اُس نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا۔ وہ افشی کی بات پر چڑ سا گیا۔
    وہ محبت سے بولی:” گاڑی کے نخروں کے بارے میں آپ مرد ذات بہ خوبی واقف ہوتے ہیں… اور کیا بیوی کے نخرے شوہر کے علم میں نہیں ہونے چاہئیں؟ گاڑی تو بے جان چیز ہوتی ہے، اُس کے نخرے نہ بھی اُٹھائے جائیں تو اُسے کیا فرق پڑتا ہے؟ مگر عورت تو نرم دل رکھتی ہے اور وہ بھی حساس دل …!! مگر مرد کو وہ دل نہ جانے کیوں نظر نہیں آتا… خاص طور پر بیوی کا دل!!” اُس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا اور اس نے سلائی مشین روک دی۔
    اظہر نے خاموشی اختیار کر لی کیوںکہ وہ پوسٹ آفس سے تھکا ہارا گھر آیا تھا اور اُس میں بحث کرنے کی ہمت نہ تھی۔ وہ افشی کی فطرت سے واقف تھا کہ جب کبھی اُس کی آنکھیں بھر آئیں تو اُس دن جھگڑا لازمی ہوتا ہے… اُس نے ٹی وی بند کر دیا اور آنکھیں موند لیں۔
    وہ غصے سے اُٹھی اور ٹی وی دوبارہ آن کر دیا۔ ”اک ٹی وی ہی ہے جو میری انٹرٹینمنٹ ہے۔” اُس نے غصے سے ریموٹ بیڈ پر پٹخ دیا۔ مگر افشی کی اس بدتمیزی پر اس نے کوئی ردِ عمل ظاہر نہ کیا اور خاموشی سے بیڈ کے دوسری جانب کروٹ لے لی۔
    ”انعام میں میری گاڑی نکلے تو میں کبھی فروخت نہ کروں۔” اُس نے غصے سے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا!! دوسری طرف خاموشی رہی، اُس نے ٹی وی کی آواز اونچی کر دی۔
    ”مجھے سونے دو افشی…!!میرا سر درد کر رہا ہے۔” وہ والیم کے بلند ہونے پر چیخا۔
    وہ غصے سے بولی:” نہیں۔”
    ”مجھے نیند نہیں آرہی” افشی نے اس کی بات کی پرواہ تک نہ کی اور اپنی ضد قائم رکھی۔ وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور اُس نے بری طرح سے ریموٹ اُس سے کھینچا اور ٹی وی بند کر دیا۔
    وہ چیخی ”ریموٹ مجھے دیں۔” اُس نے ریموٹ چھیننے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکی کیوںکہ ریموٹ پر اُس کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ وہ دوسری طرف کروٹ لے کر منہ میں بُڑبُڑایا ”گاڑی نکلی نہیںاور گاڑی فروخت نہ کرنے کی باتیںپاگل عورت۔” اُس نے بھی تمیز کا دامن چھوڑ دیا…مگر پھر اپنے غصے پر قابو پانے لگا۔
    وہ دوبارہ سلائی مشین پر آبیٹھی ہے… اور غصے سے مشین چلاتے ہوئے چیخی۔ ”آپ کے لیے تو میں صرف اک پاگل عورت ہی رہ گئی ہوں… سچ! جو سارا دن آپ کا گھراور آپ کا بچہ سنبھال رہی ہوں۔” اُس نے مشین روک دی اور رونے لگی۔





    وہ بھی غصے سے بولا:” ہر عورت کا یہی فرض ہے کہ وہ اپنا گھر سنبھالے۔ مجھ پر احسان نہیں کر رہی ہو اور اگر احسان سمجھ رہی ہو… تو رہو اپنے والدین کے گھر” اُس نے بات اُدھوری چھوڑ دی… اب وہ بحث کے موڈ میں آچکا تھا شاید اب بحث کے بعد ہی وہ پُرسکون نیند سو سکتا تھا۔
    ”آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ میں اپنے والدین کے گھر نہیں جا سکتی۔ اس لیے… آپ ہمیشہ میرا دل دُکھا تے ہیں… اور میں کیوں جائوں گھر چھوڑ کر؟ یہ گھر میرا ہے… اگر دوسری شادی کا شوق ہے تو پہلے مجھے طلاق دیں… اور پھر اس گھر سے نکالیں۔” اُس نے بات کو دوسرا رخ دیا۔ وہ پریشان سا ہو گیا کہ وہ بات کو کہاں سے کہاں جوڑ کر نیا مسئلہ کھڑا کر رہی ہے۔ کہیں اُس کے بیٹے جواد نے دوسری شادی کا سُن لیا تو ؟؟ وہ سنجیدگی سے بولا: ”اچھا… گھر تمہارا ہے اور تمہیں ہی مبارک ہو۔ نہ تو میں گاڑی افورڈ کر سکتا ہوں اور نہ ہی دوسری بیوی! پوسٹ آفس میں معمولی کلرک ہوں۔ اک بیوی سنبھال نہیں سکتا تو دوسری بیوی کی بات کرکے دل کو جلائو مت۔” ہر دفعہ جب وہ اُسے گھر چھوڑنے کی دھمکی دیتا تو وہ اُس پر دوسری شادی کا الزام لگا دیتی تھی۔ مجبوراً اُسے ہی ہار ماننی پڑتی تھی کیوں کہ وہ افشی سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ اُس کے جواب سے مطمئن سی ہو گئی کہ وہ صرف اُس کا ہے۔ مگر پھر بھی وہ منہ بسور کر بولی: ”کاش کہ میں نے اپنے والدین سے شادی کے بعد رشتہ جوڑ رکھا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ جس عورت کا میکا نہیں ہوتا، اسی کا خاوند اسے دبا سکتا ہے۔” وہ اُس کی بات پر ہنسا اور ہنستا ہی چلتا گیا… کہ کیا وہ واقعی دب کر رہ رہی ہے یا پھر اُس نے اُسے دبا کر رکھا ہوا ہے۔
    ”آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟” اُس نے منہ پھلا کر پوچھا۔ مگر اب غصے کا تاثر اُس کے چہرے سے تقریباً چھٹ چکا تھا۔
    اُس نے بات پلٹی اور مُسکرا کر بولا: ”اس لیے ہنس رہا ہوں … کہ میری معصوم بیوی کے پاس گاڑی نہیں ہے۔”
    وہ دھیمے لہجے میں بولی:” تو اس بات پر افسوس کرنا چاہیے ناکہ آپ ہنس کر زخم پر نمک چھڑک رہے ہیں۔” وہ بستر پر آکر اُس کے پاس لیٹ گئی۔
    ”افشی… اللہ کے لیے مجھے سونے دو… میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے۔” وہ معصومیت سے بولی ”مجھے نیند نہیں آرہی… مجھ سے باتیں کریں اور یہ بتائیںکہ آپ مجھے شاپنگ پر کب لے کر جائیں گے۔” اُس نے اصل ناراضی کی وجہ بتا دی… پچھلے کئی دنوں سے وہ شاپنگ کا کہہ رہی تھی اور وہ اُسے اِگنور کر رہا تھا… مگر آج تو وہ پھٹ ہی پڑی۔ ایسا ہر دو ماہ کے بعد ضرور ہوتا تھا۔
    وہ سنجیدگی سے بولا: ”شاپنگ بھی ہو جائے گی… مجھے سونے دو۔” اس نے آنکھیں بند کر لیں اور پھر سوچنے لگاکہ اس ماہ کی تنخواہ ملنے پر اُسے پانچ ہزار روپے اپنے دوست رحیم کو دینے ہیں جس نے دو ماہ سے اپنا اُدھار واپس نہیں مانگا ۔مگر ہر بار تنخواہ ملنے پر وہ مشکوک نظروں سے اُسے دیکھتا اور بس دیکھتا ہی رہ جاتا۔ وہ اپنے دوست سے نظریں ملا کر بات نہیںکر پا رہا تھا کیوں کہ وہ دونوں ایک ہی کے پوسٹ آفس میں ملازم تھے اور دونوں ہم عمر تھے مگر فرق صرف یہ تھا… کہ وہ بہت خوش نظر آتا تھا کیوںکہ وہ کنوارا تھا۔
    وہ پھر خفگی سے بولی: ”اظہر آپ کب شاپنگ پر لے کر جائیں گے۔” اُس نے پھر اُسی موضوع پر بحث شروع کر دی۔
    ”افشی تم بھی ایک بات کے پیچھے پڑ جاتی ہو… تمہیں بتا چکا ہوں میرے سر میں درد ہے… سونے دو… مگر تم کہ شاپنگ کے لیے روئے جا رہی ہو۔ پوسٹ آفس میں مہر کی ٹپ ٹپ، رات کو تمہاری بک بک اور زندگی کی پریشانیاں گھڑی کی سوئیوں کی طرح ٹِک ٹِک کر کے میرا وجود کھا رہی ہیں۔ یقین جانو، ایک دن تمہیں بس یہ اطلاع ملے گی کہ اظہر ہاشم اب اس دنیا میں نہیں رہا… اور شاید وہی دن ہو گاجب تم سو نہیں پائو گی اور میں زمین کے اندر آرام کی نیند سو رہا ہوں گا۔” اُس کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ اُبھر آئی۔ ”خبردار جو ایسی فضول بات آپ نے دوبارہ کی۔” اُس نے اپنا ہاتھ اظہر کے منہ پر رکھ دیا اور محبت سے اُسے دیکھنے لگی۔ ”واہ شوہر کے مرنے کی بات پر یہ عورتیں ڈر جاتی ہیںمگر روزانہ اپنی تلخ باتوں کا تھوڑا تھوڑا زہر وہ شوہروں کو دیتی ہیں… اُس سے انہیں ڈر نہیں لگتا…؟” اس نے دکھ سے کہا۔
    ”اچھا… بس بھی کر دیں۔ مجھے نہ تو گاڑی چاہیے اور نہ ہی شاپنگ کرنی ہے… ہم لوگ فضول باتوں پر جھگڑ رہے ہیں۔” وہ نرم پڑی، شاید ایک گھنٹے کی بحث نے اسے تھکا دیا تھا۔ اُس کی آنکھیں نیند سے بند ہو رہی تھیں۔
    وہ مُسکراکر بولا: ”ایک دن ضرور گاڑی لے دوں گا اور روز شاپنگ پر بھی لے جائوں گا بس تم دعا کیا کروکہ اللہ ہمیں بھی گاڑی سے نوازے۔”




  • دیو اور پری — سارہ عمر

    بہت پرانی بات ہے ایک دیو کا ایک بستی پر سے گزر ہوا۔ اس کی نظر اک گھر کے باغ میں کھڑی خوب صورت لڑکی پر پڑی۔
    لڑکی کیا تھی پری تھی۔ شہزادیوں کی سی آن بان والی۔ دیو نے خوب صورت لڑکی کو پانے کا فیصلہ کر لیا۔ دیو ایک خوبصورت شہزادے کا روپ دھار کر گھوڑے پر سوار اس گھر کے آگے جا پہنچا۔
    دروازے پر دستک دی اور کہا کہ شہزادہ راستہ بھول بیٹھا ہے مسافر ہے کیا پناہ مل سکتی ہے؟
    شہزادی جیسی لڑکی اور اس کے ماں باپ تو اس شہزادے کا رنگ روپ، آن بان اور شان و شوکت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے اسے گھر آنے کی اجازت دے دی۔ وہ ان کے گھر آیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ کچھ ہی عرصے میں لڑکی کے گھر والوں کو سبز باغ دکھا کر اپنی دولت کے قصے سنا کر اور اپنی باتوں میں الجھا کر ایسا ہوش سے بے گانہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی دینے پر راضی ہو گئے۔
    اس لڑکی کا نام پری تھا، لگتی بھی پریوں جیسی تھی۔ وہ تو خود شہزادے پر دل و جان سے گرویدہ ہو گئی لیکن مشرقی شرم و حیا کے باعث بول نہ سکی۔ دل ہی دل میں مستقبل کے خواب سجائے، وہ خاموشی سے اپنے سپنوں کے راجا کے سنگ رخصت ہو گئی۔
    اس کے ماں باپ بہت خوش تھے کہ دور دیس کا راجا صرف ان کی بیٹی کو لینے اتنی دور کا سفر کر کے آیا۔
    دیو شہزادے نے پری کو گھوڑے پر بٹھایا اور گھوڑا ہوا سے باتیں کرتا دوڑتا چلا گیا۔
    پری اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی اچانک اسے لگا گھوڑا سچ میں آسمان سے باتیں کرتا اوپر کی طرف جا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ گھوڑا بادلوں میں گم ہوتا گیا۔ دیو کا محل بادلوں کے اوپر تھا۔





    دیو کا محل آگیا تھا۔ دیو جو ابھی شہزادے کے ہی روپ میں تھا اپنی دلہن کا ہاتھ پکڑ ے اپنے محل لے گیا۔ وہ حیران و پریشان تھی کہ یہ کہاں آگئی؟………
    شہزادے نے کہا: ”پری میں زمین پر سیر کرنے گیا تھا جب تم پر نظر پڑی۔ مجھے لگا کہ تمہارے بغیر میری زندگی ادھوری ہے تمہارے آنے سے میرا گھر مکمل ہو گیا۔ اب یہ تمہارا گھر ہے ہمیشہ کے لئے۔”
    پری کچھ گھبرائی اور بولی: ”لیکن میر ے ماں باپ؟ کیا میں ان سے کبھی مل نہ سکوں گی۔”
    ”نہیں نہیں اب ایسا بھی نہیں کچھ سال تو انتظار کرنا پڑے گا نا… کیوںکہ بار بار زمین پر جانے کی اجازت نہیں ملتی۔”
    پری اب کیا کرتی شادی تو ہو گئی تھی۔ شہزادہ اسے لے کر بادلوں کی سیر کرتا، محل کا ایک ایک گوشہ گھماتا پھراتا رہا۔
    کئی ہفتے اسی طرح گزر گئے۔ دیو اپنی اصلیت چھپاتے چھپاتے تنگ آگیا تھا۔ دیو نے ایک دن پری سے کہا: ”بہت دن گزر گئے اب تم اپنے گھر کو سنبھالو۔ مثلاً کھانا پکانا صفائی ستھرائی وغیرہ۔ پری پریشان ہوئی اور بولی:” تم مجھے ماسی بنا کر لائے ہو کیا؟”
    دیو شہزادہ بولا: ”نہیں مجھے باورچی کے ہاتھ کے کھانے نہیں پسند۔ تم دل سے میرے لئے پکائو گی تو مجھے اچھا لگے گا۔”
    پری بولی: ”لیکن میرے ماں باپ نے مجھے کھانا بنانا نہیں سِکھایا۔ شادی بھی اتنی جلدی میں ہوئی کہ کچھ سیکھنے کا موقع ہی نہ ملا۔”
    شہزادہ بولا: ”باورچی سے سیکھ لو آہستہ آہستہ سب آجائے گا۔”
    پری شہزادے کی محبت میں راضی ہو گئی۔ باورچی محل کا ایک ہی ملازم تھا۔ وہ ایک جن تھا مگر اس نے اپنی اصلیت نہیں بتائی۔ وہ ایک عام انسان کے روپ میں تھا۔ باورچی نے اسے بتایا: ”پری بی بی! شہزادے صاحب کا کھانا بنانا آسان بات نہیں۔ دراصل ان کے نخرے بہت زیادہ ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی بات کا برا مان جاتے ہیں۔ شہزادے کی پسندیدہ چیز تیار کرنا جان جوکھم کا کام ہے۔”
    پری کو لگا کہ باورچی خواہ مخواہ اپنی اہمیت جتا رہاہے۔ کچھ شادی کا نشہ تھا اور کچھ اپنے حسن کا غرور جن کا شکار تو شہزادہ ایک ہی وار میں ہو گیا تھا۔ پری دل لگا کر سیکھنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس نے باورچی کے ساتھ مل کر بہت محنت سے کھانا بنایا۔ مصالحے وغیرہ اپنے ہاتھ سے ڈالے تا کہ اس کا شوہر اس کی محنت و محبت کا حترام کرے ۔
    کھانا میز پر لگایا گیا۔ شہزادے نے جیسے ہی کھانا چکھا اس کے غیظ و غضب کی انتہا نہ رہی۔ وہ غصے سے چلایا: ”اتنا نمک اور اتنی مرچ کتنا بد مزہ کھانا بنا کر رکھا ہے میرے آگے۔ ”
    وہ ایک شیر کی طرح دھاڑا اور اسی وقت اس کا شہزادے والا روپ ختم ہوا اور لبادہ اُتر گیا۔ اس کی جگہ ایک دیو نے لی۔ معصوم پری اس صورتِ حال سے گھبرا کر چلاتی ہوئی سیڑھوں سے اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے کمرے میں کنڈی لگا کر بے تحاشا روئی۔ روتے روتے وہ کمرے کی واحد کھڑکی کے پاس آگئی اور باہر دیکھتے ہوئے رونے لگی اور اس کے آنسو قطار در قطار بادلوں پر گرنے لگے۔ ننھے ننھے موتیوں نے پانی کے ڈھیر سارے قطروں کی شکل اختیار کر لی اور بادل بہت زور سے کڑکے اور برش برسنے لگے گئی۔ پری روتی جاتی تھی اور بارش کی جھڑی رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔
    پری کا دل بہت بری طرح ٹوٹا تھا۔ کہاں وہ نازک پری شیشے جیسی کانچ جیسی آبگینے کی طرح اور کہاں وہ ظالم دھاڑتا ہوا دیو۔ اوپر سے اس کے سامنے اس کی بنائی ہوئی چیز کی برائی۔ بھلا گھر میں اس کے ساتھ کبھی ایسا سلوک ہوا تھا۔ اب ماں باپ کی یاد نے اس کا دل اپنی مٹھی میں لے لیا۔ دھیان دیو سے ہٹ کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا تھا۔ اپنے ماں باپ کے پاس۔ ناجانے کس حال میں ہوں گے۔
    موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ کتنے عرصے بعد بارش ہوئی تھی۔ پری کی ماں نے ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالا تاکہ بارش کے کچھ قطرے سمیٹ لے۔ لیکن پانی کے یہ قطرے جیسے ہی اس کے ہاتھ پر پڑے۔ اسے لگا یہ قطر ے نہیں پری کے آنسو ہیں۔
    اس کا دل بہت بری طرح بے قرار تھا۔ وہ پریشانی سے پری کے باپ سے بولی: ”کتنے دن ہو گئے پری کی کوئی خیر خبر نہیں۔ کیا تمہارے پاس اس کا پتا تک نہیں؟” پری کا باپ بھی اداس تھا۔ وہ اپنی کم عقلی پر حیران ہوا کہ واقعی مجھے اس کا پتا پوچھنے کی فرصت نہ ملی اور یوں انجان شخص کے ساتھ اپنی پھول سی بیٹی بھیج دی۔ نہ جانے کس حال میں ہو گی۔ دونوں ماں باپ اب پری کے لئے بے چین اور مضطرب سے ہو گئے۔
    پری نے آہستہ آہستہ حالات کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا۔ کیا کرتی شادی جو ہو گئی تھی۔ اس نے کھانا پکانا بھی سیکھ لیا تھا۔ وہ سارا سارا دن محل کی صفائی کرتی، کھانا پکاتی ،برتن دھوتی اور کپڑے دھوتی۔ حالاںکہ دیو چاہتا تو اسے کچھ نہ کرنا پڑتا۔ لیکن وہ چاہتا تھا کہ وہ اتنا تھک جائے کہ اسے اپنے گھر کی یاد نہ ستائے۔ اپنے ماں باپ سے ملنے کی خواہش نہ ہو کیوںکہ اگر وہ زمین پر چلی گئی اور میری اصلیت بتا دی تو بھلا اس کے ماں باپ اسے دوبارہ کب آنے دیں گے۔ اس سوچ نے دیو کو خود غرض بنا دیا۔
    پری کو ہر وقت غم رہتا کہ اس کے ماں باپ نے اس کی شادی جس انسان سے کی وہ کیا نکلا؟ سب پیار، محبت، عزت واحترام کے وعدے ہوا ہو گئے اور بس کچھ ہی مہینوں میں اس کی اہمیت ختم ہو گئی۔
    پری دن رات وہاں سے نکلنے کے منصوبے بناتی۔ لیکن کیسے؟ کیا کرے؟ کھڑکی سے چھلانگ لگا دے؟ بادلوں پر گرے گی تو کہاں جائے گی؟ اسے لگتا کہ دیو اس کو قید میں ڈال کر بھول گیا ہے۔




  • آئینہ اور فضّہ — کومل ذیشان

    آئینہ اور فضّہ — کومل ذیشان

    اسائنمنٹ مکمل کرتے ہوئے اس نے پانچویں، چھٹی بار اضطراب میں سر اٹھا کر سامنے دیکھا، کھڑکی کے شیشے پر رنگ برنگی جلتی بجھتی روشنیوں کا عکس تھا۔ جلتی بجھتی روشنیاں جو اسے لمحہ بہ لمحہ اندھیرے میں دھکیل رہی تھیں، دل ڈوبتا تھا پھر ڈوبتا تھا پھر ابھرتا تھا۔ باہر شدید سردی تھی اندر چلتے ہیٹر کی حدت کے باعث شیشے پر پانی کے قطرے پھسلتے تھے وہ بے ارادہ ہی کتنی دیر ان قطروں کو اوپر سے نیچے پھسلتا دیکھتی رہی ساتھ والے گھر میں شادی تھی ہفتہ پہلے سے ہی ڈھولک شروع ہوگئی تھی اس کے گھر والے بھی مدعو تھے۔ اس وقت سب وہیں گئے ہوئے تھے امی، ابا، آئینہ مگر وہ نہیں گئی تھی، کیسے جاسکتی تھی کل بائیو کیمسٹری کی اتنی اہم اسائنمنٹ جمع کروانی تھی سو گہری سانس لے کر سر دوبارہ جھکایا مگر دھیان کہیں اور تھا اور دل بھی۔ وہاں سے آتی ڈھولک اور گانوں کی آوازیں، قہقہے اور باتیں اس نے سر سامنے پھیلے کاغذوں پر رکھ دیا جن پر لکھے نیلے حروف اس کے آنسوؤں سے پھیلتے چلے گئے۔





    دفعتاً اسے احساس ہوا کمرے میں کسی نے جھانکا ہے وہ تیزی سے چہرہ صاف کرکے واپس مصروف نظر آنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسائنمنٹ بنی نہیں ابھی تک اگلے پل آئینہ اس کے سر پر کھڑی پوچھ رہی تھی، نہیں ابھی تو کک… کافی کام رہتا ہے وہ قلم تیزی سے کاغذ پر چلاتے ہوئے بولی تھی۔ آئینہ نے غور سے اس کے جھکے سر اور کاغذ پر پھیلے گیلے حروف کو دیکھا۔ فنکشن ختم نہیں ہوا ابھی اب کی بار اس نے سر اُٹھا کر پوچھا تھا۔ ”نہیں ابھی تو ان کا کافی دیر جاگنے کا پروگرام ہے” آئینہ نے اس کی سوجی ہوئی آنکھوں سے بے اختیار نظریں چرائیں۔ ”تم کہتی ہو تو میں آجاتی ہوں امی، ابا تو آگئے ہیں واپس تمہاری مدد کروا دیتی ہوں۔ نہیں تم وہاں رہو خالہ کو برا لگے گا۔” آئینہ نے بے اختیار گہری سانس لی وہ جانتی تھی کہ وہ اس وقت اکیلے رہنا چاہتی ہے۔ ”چلو تم اسائنمنٹ مکمل کرلو میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں” وہ اس کے سر کو نرمی سے سہلاتے ہوئے بولی تھی۔ کمرے سے باہر جاتے ہوئے اس نے مُڑ کر دوبارہ فضہ کو دیکھا جو واپس اسائنمنٹ پر جُھک گئی تھی اور باہر نکل گئی کسی کے ہاتھوں رد ہونا یقینا ایک تکلیف دہ چیز ہے مگر اس کے ہاتھوں رد ہونا جس سے دل وابستہ ہو اس تکلیف کو ناپنے کا شاید کوئی پیمانہ نہیں بن سکتا، اس توہین کو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے بے حد مشکل۔
    آئینہ نے کپڑے تہ کرتے ہوئے پانچویں چھٹی بار اس کی طرف دیکھا تھا، جو پچھلے آدھے گھنٹے سے بے حس و حرکت ٹیرس میں کھڑی تھی نگاہیں بھی تب سے مسلسل ایک ہی جگہ پر ٹکی تھیں۔ ٹیرس سے خالا کے گھر کا برآمدہ اور لان نظر آتا تھا۔ سرمد کی شادی کو ایک ہفتہ گزر بھی گیا تھا آج کل ان کے گھر خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ بیٹیوں نے ابھی تک میکے میں ہی ڈیرہ ڈال رکھا تھا نئی نویلی بھابھی کے خوب چاؤ چونچلے کیے جارہے تھے۔ دو دن بعد دلہا، دلہن ہنی مون پر جانے والے تھے سو ان کے جانے کے بعد ہی دونوں بیٹیوں نے بھی سسرال سدھارنا تھا۔ ”فضّہ ذرا میری مدد کروا دو صبح سے میں اکیلے ہی لگی ہوئی ہوں” آئینہ نے ہمت کرکے بلآخر اسے پکارا وہ اس کی آواز پر یکدم چونک کر پلٹی۔ مجھے دھیان نہیں رہا پریشانی میں اس کی لکنت بڑھ جایا کرتی تھی۔ آئینہ نے اس کے خوبصورت چہرے پر بکھرے آزردگی کے رنگ کو دیکھا کچھ کہنے کے لیے لب کھولے مگر پھر خاموش ہوگئی۔
    وہ جہاں کھڑی ہوجاتی تھی کسی بیش قیمت ہیرے کی طرح سب میں الگ سے چمکتی ہوئی نظر آتی تھی، یہ خوبصورتی اور انفرادیت صرف اس کی صورت تک محدود نہیں تھی اخلاق، کردار، تعلیم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ بس جس ایک چیز نے اس چمکتے چاند پر گرہن لگایا تھا وہ اس کی پیدائشی کمزوری تھی اس کی زبان کی لکنت سرمد کی شادی طے ہونے سے پہلے تک آئینہ کو اس کے دل میں موجزن اس جذبے کی شدت کا احساس نہیں تھا۔ وہ اندر کہیں اس کی پسندیدگی کو جانتی اور سمجھتی تھی۔ وہ سب اکٹھے پلے بڑھے تھے اور جس طرح ان دونوں کی آپس میں دوستوں والی بے تکلفی تھی، جس طرح سے خواہ وہ پڑھائی کا معاملہ ہو یا کچھ اور وہ اس کی مدد کیا کرتا تھا ہر جھگڑے، ہر گیم میں اس کی طرف داری کیا کرتا تھا وہ بھی یہی اندازہ لگا پائی تھی کہ وہ فضہ کو پسند کرتا ہے۔ امی کو بھی سرمد کے جھکاؤ کے بارے میں اندازہ تھا وہ تو بلکہ خالہ کی طرف سے رشتہ مانگنے کے انتظار میں تھیں۔ ”ہاتھ چلانا بند کیوں کردیئے ہیں۔” فضہ نے اس کو ہلایا تو وہ سوچتے سوچتے ہوش میں آئی تھی۔ اس نے نرمی سے اس کے ہاتھ تھام لیے: ”زندگی میں نافضہ دل ٹوٹتے، جڑتے رہتے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ہر ایک کی زندگی میں کبھی نا کبھی ایسا مرحلہ آتا ہے مگر جو اس چھوٹے سے فیز میں اپنی پوری زندگی کو قید کردیتا ہے وہ ایک دن ضرور پچھتاتا ہے۔” اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا فضہ جو اس سے اس بات کی توقع نہیں کررہی تھی اس نے شرمندگی سے سر جُھکا لیا وہ یہ کیسے بھول گئی وہ آئینہ تھی اس کی سگی بہن اس کے کہے اور بن کہے لفظوں کو اس سے بہتر اور کون سمجھ سکتا تھا۔ بچپن سے اب تک اس کو سنبھالنے، اس کو سمجھنے کی ذمہ داری وہی تو اٹھاتی آئی تھی۔ اتنے سال اس نے مجھے غلط فہمی میں مبتلا رکھا اس نے سر اٹھایا تو اب کی بار آنکھوں میں آزردگی اور تکلیف نہیں غصہ تھا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے اسے اندازہ نہ ہو آئینہ کو اس پل اس کی جلتی آنکھوں سے خوف آیا تھا جن کے شعلے بار بار ان میں ابھرنے والے آنسو بُجھا دیتے تھے پھر تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ بھڑکنے لگتیں مجھے یقین نہیں آتا کہ اس نے خالا کے سامنے میرے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے۔ آئینہ اس کی بات پر چونکی تھی یکدم اسے اس کے اتنے شدید ردعمل کا سبب سمجھ میں آیا تھا اس کا دل ٹوٹا تھا اس لیے نہیں کہ سرمد نے اسے رد کیا تھا بلکہ اس کے دل ٹوٹنے کی وجہ وہ سبب تھا جس کی وجہ سے وہ ردکی گئی تھی۔ وہ آئینہ کو بتاتی چلی گئی تھی سارا کچھ امی کی طرح خالہ کو بھی یہی خیال گزرا تھا کہ اس کا انتخاب فضہ ہی ہوگی اسی سلسلے میں انہوں نے اس سے بات کی تھی۔ وہ جو اپنے دھیان میںمگن امی کا پیغام لیے کمرے میں داخل ہونے لگی تھی ان کی بات سن کر اس کے قدم دروازے پر تھمے تھے۔ خالہ کی بات پر اس کی سانس رک گئی تھی وہ دم سادھے سرمد کے جواب کی منتظر تھی وہ جواب میں ہنس پڑا تھا اس کے ہنسنے سے اسے توہین محسوس ہوئی تھی، شدید توہین، ٹانگیں لرزی تھیں۔ ”امی میں اس کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیسی باتیں کرتی ہیں آپ ترس کھا کر میں اس کی مدد کردیتا ہوں یا اس کا دل رکھنے کے لیے بات چیت کرلیتا ہوں انسان ہونے کے ناتے اس سے ہمدردی رکھتا ہوں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں اس کو ساری زندگی کے لیے اپنے سر منڈھ لوں۔ مجھے ایسی بیوی چاہئے جس کے ساتھ چلتے جسے لوگوں سے ملواتے میں فخر محسوس کروں جو میرے لیے سکون کا باعث ہو نہ کہ مصیبت بن جائے۔” ماں کو اس کے جواب پر یقین نہیں آیا تھا وہ تو اتنا عرصہ اسی غلط فہمی میں مبتلا رہی تھیں کہ فضہ کی طرف اس کا جھکاؤ ہے اسی لیے وہ اپنی بہن کو اشاروں کنایوں میں رشتے کا عندیہ بھی دے چکی تھیں۔ ”اس کی ایک بات سننے میں پتا ہے کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔” انہوں نے سرمد کی بات پر تاسف سے اس کی طرف دیکھا پھر ان کی نظر سامنے اٹھی تھی جہاں سفید پڑتے چہرے کے ساتھ فضہ کھڑی تھی وہ دروازے میں کسی مجسمے کی طرح ایستادہ تھی۔





    ”بعض اوقات ہمیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن کا سامنا ہم نہیں کرنا چاہتے، ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو ہماری ذات میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں مگر ایک بات بتاؤں میں تمہیں۔” آئینہ نے اسے دھیرے سے تھام کر بیڈ پر بٹھا دیا اور خود بھی تکیے اور کپڑوں کو آگے دھکیل کر بیٹھ گئی ”لوگ، حالات، دنیا بعض اوقات قابل مذمت ضرور ہوتے ہیں قابل نفرت نہیں، سو دلیلیں ہوتی ہیں ان کے پاس کہ وہ حق پر ہیں سو ان کو ان کے برے رویوں سمیت ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ تم بھول جاؤ اس کو اور اس منظر کو۔” آئینہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ آئینہ کے مطابق مذمت کا بہترین طریقہ یہی تھا معاف کرو دو اور آگے بڑھ جاؤ۔ پتا نہیں فضہ نے اس کی بات کو کتنا سنا اور کتنا مانا تھا مگر اس کے بعد اس نے کبھی ٹیرس میں کھڑے ہوکر ان کے گھر کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ دن بہ بدن مصروف ہوتی چلی گئی اور بدلتی چلی گئی۔ آج کل وہ ایک بڑی نامور فرماسوٹیکل کمپنی کے ساتھ کام کررہی تھی۔ وہاں اس کے کولیگز اس کی ذہانت اور قابلیت کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے اور یہاں گھر میں رشتے کے لیے آنے والوں کے ہاتھوں جانے کتنی بار اس نے ذلت کی گہرائیاں دیکھی تھیں، اندھی اندھیری گہرائیاں وہ جیسے سم سم کے بال کی طرح ہوگئی تھی جس کا دل چاہتا آسمان کی طرف اچھال دیتا اور جس کا دل چاہتا زمین پر مار کر لطف اندوز ہوتا۔ سم سم کی بال جو زمین پر جتنی زور سے ٹکراتی ہے آسمان کی طرف بھی اسی زور اور شدت سے اٹھتی ہے۔ اسی مدوجذر میں ڈوبتے ابھرتے اس کی زندگی بھی گزر رہی تھی۔ اب اس سے جو بھی پہلی بار ملتا وہ اس کے بارے میں بہت سنجیدہ، لیے دیئے رہنے والی، کم گو اور اردگرد کی ہر چیز سے بے نیاز کڑوی سی لڑکی کا تاثر لے کر اٹھتا رفتہ رفتہ یہ شکایت اس کے رشتے داروں اور دوستوں کو بھی ہونے لگی اور دوسری طرف آئینہ کے سبھی دیوانے تھے فضہ کے پس منظر میں چلے جانے کے بعد وہ اور نمایاں ہوگئی تھی۔ اب تو یہ صورت حال تھی فضہ جلتا ہوا مشرق تھی تو آئینہ ٹھنڈا ٹھار مغرب کا حساس، مٹھاس سے بھری، زندہ دل فضہ کہیں کھو گئی تھی اور آئینہ اس کھوئی ہوئی فضہ کو واپس لانا چاہتی تھی، جو سورج کی دھوپ اور بارشوں کو پہلے کی طرح محسوس کرے، جسے پھولوں پر منڈلاتی تتلیاں اچھی لگیں، جو ہمسایوں کی بہو پر ظلم ہونے پر تلملائے، بجلی جانے پر حکومت کو کوسے، اپنے جذبوں کا اظہار کرتے ہوئے خوفزدہ نہ ہو، گھبرائے نہیں تلخی سے ایک لفظ پر بات ختم نہ کردے، اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے والی فضہ، اپنے خوابوں کے پیچھے دوڑنے والی فضہ، اور نچی آواز میں قہقہہ لگانے والی فضہ آئینہ کو وہی فضہ چاہیے تھی یہ والی نہیں جو لوگ اب اسے جانے کن کن القابات سے نوازتے تھے انہی لوگوں کے رویوں نے چھوٹی سی جسمانی کمزوری کے باعث اسے ایسا کردیا تھا بار بار ٹھکرائے جانے کے احساس اور اپنے خوابوں کے مسمار ہوجانے نے اس کی شخصیت کو بدل ڈالا تھا۔
    ”تمہیں پتا ہے خالہ کل امی کے پاس کافی دیر بیٹھ کر گئی ہیں بہت رو رہی تھی۔ ”آئینہ ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھی فضہ جو تکیہ گود میں دھرے بیٹھی تھی اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی کچھ تھا اس کی بات کرنے کے انداز میں جسے آئینہ نے محسوس کیا تھا ”اچھا کیوں رو رہی تھیں خالہ” آئینہ نے سامنے اپنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا اس کے باوجود کہ امی اسے سب کچھ بتا چکی تھیں۔ سرمد نے بغیر کسی کو بتائے نیشنیلٹی حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ میں پیپر میرج کی تھی وہ لڑکی نیشنیلٹی ملنے سے عین پہلے اس سے طلاق لے کر چلی گئی۔ زرقا کے گھر والوں کو پتا نہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ وہاں کیا گل کھلا رہا ہے انہوں نے خالا سے بہت جھگڑا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں یا تو وہ زرقا کو فوراً اپنے پاس بلائے نہیں تو طلاق دے۔ جب کہ اس نے خالہ کو کہا ہے کہ وہ نیشنلٹی حاصل کیے بغیر اس کو ہر گز نہیں بلائے گا میرا تو خیال ہے وہ پھر سے پیپر میرج کے لیے پرتول رہا ہے۔ آئینہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی کتنے عرصے بعد وہ یوں بغیر رکے لگاتار بول رہی تھی۔ تمہیں خوشی ہوئی ہے اس بات سے فضہ کو بولتے بولتے بریک لگا تھا وہ اس جملے کی توقع نہیں کرسکتی تھی وہ بھی آئینہ کے منہ سے وہ ہکّا بکّا اسے دیکھ کررہ گئی۔ ”تمہیں میں ایسی لگتی ہوں۔” ”نہیں تم ایسی نہیں ہو۔” وہ تکیے سے ٹیک لگاتے اپنا جوڑا کھولتے ہوئے نرم لہجے میں بولی تھی اصل میں اتنے سالوں میں مجھے عادت نہیں رہی تمہارے منہ سے کسی کے بھی بارے میں کوئی بات، کوئی رائے، کوئی تبصرہ سنوں اس لیے سوچا اس میں کچھ تو غیر معمولی ہے۔ فضہ نے شرمندگی سے سرجُھکا لیا چہرہ سرخ ہوا تھا کیا پتا میرے نفس کو اس سے کچھ اطمینان ملا ہو اب کی بار لکنت زدہ جملے میں لرزش شامل تھی وہ شرمسار لگ رہی تھی اسے آئینہ نے جیسے اس کے نفس کا چہرہ دکھایا تھا اسے گھن آئی تھی۔ تو تم پھر ایسا کرو کہ اپنے اس نفس کو سزا دو فضہ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا، آج واقعی اس کے لیے دل میں موجود ہر جذبے کو نکال باہر کرو محبت، نفرت اور مذمت سب کچھ اس گندے پانی کو بہ جانے دو جو تمہارے اندر تعفن پھیلا رہا ہے فضہ یک ٹک اسے دیکھے گئی تھی۔
    ان دنوں آئینہ کے لیے ڈھڑا ڈھڑ رشتے آرہے تھے ساتھ امی ابا اس کے لیے بھی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ عرصے بعد آئینہ کی شادی طے ہوگئی تھی وہ اس کے لیے بے حد خوش تھی مگر اس کے بچھڑنے کے احساس سے شدید اداس مہندی کے فنکشن پر سب مگن تھے ڈھولک، گانے، مذاق، رنگ برنگے قمقوں میں مُسکراتے کھلکھلاتے چہرے وہ کونے میں موجود ہاتھ کے آخری ٹیبل پر آبیٹھی سب کھانا کھانے میں مصروف تھے وہ آئینہ کو سٹیج پر کھانا کھلا کر ابھی یہاں آکر بیٹھی تھی۔ کھانے کے بعد ساری کزنوں نے آئینہ کا محاصرہ کرلیا تھا وہاں بجتی ڈھولک کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی اس نے زرقا کو دیکھا جو سُرخ لباس زیب تن کیے، ڈھیر سارا سونے کا زیور پہنے، گہرے سرخ رنگ کی لپ اسٹک لگائے مگر چہرے پر گزرے تین سالوں کی خزاں کا عکس اور گرد لیے گود میں منا سا گل گوتھنا ارقم تھا۔




  • چپ — عزہ خالد

    برتنوں کا ڈھیر دھو کر فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    کمرے اور کچن کے بیچ اتنا فاصلہ تو نہ تھا مگر پھر بھی اس کی سانس پھول گئی تھی۔
    سامنے دیوار پر لگے کیلنڈر پر نظر پڑتے ہی اسے کچھ یاد آیا تھا۔ ”بارہ جون…”
    یہ جون کی بارہ تاریخ توکچھ جانی پہچانی لگتی ہے۔ کوئی نہ کوئی خوش گوار یاد تو وابستہ ہو گی اس دن سے…
    کچھ نہ کچھ تو ہے اس دن… مگر کیا…؟؟
    دماغ کے کسی کونے کھدرے سے ایک یاد برآمد ہوئی تھی۔ ایک چھوٹی سی گڑیا… خوب صورت فراک پہنے… بالوں میں رنگ برنگی پنیں لگائے… سامنے میز پر رکھا کیک کاٹ رہی تھی…





    ”ہیپی برتھ ڈے…” کا شور… ہنستے مسکراتے چہرے… (جو جانے کہاں کھو گئے تھے…)
    اوہ… آج تو مرحومہ ہادیہ عبدالباسط کی سالگرہ ہے… جو کبھی بڑے اہتمام سے منائی جاتی تھی۔ دونوں بھائی پورے گھر میں غبارے لگاتے تھے۔
    اب معلوم نہیں وقت بدل گیا تھا یا بھائی…
    کمرے میں داخل ہونے سے بستر پر بیٹھنے تک اس کی نظریں کیلنڈر سے نہ ہٹی تھیں۔
    اس کی عمر کتنی ہے…؟؟
    بہت سوچنے اور دماغ پر زور دینے کے بعد وہ حساب لگا پائی تھی۔
    آج وہ بتیس سال کی ہو گئی ہے۔
    بتیس سال…
    آج اس کے اس دنیا میں بتیس سال پورے ہو گئے ہیں۔
    عمر بتیس سال
    ہاتھ… خالی
    دل… خالی
    دامن … خالی
    جانے اس دنیا میں آنے والوں کو عمر، خوشی غم کس حساب سے تقسیم کیے جاتے …
    کسے کتنے سال جینا ہے…؟
    کس کے حصے میں کتنی خوشیاں ہیں…
    کتنے غم ہیں…
    کتنے گھنٹے مسکرانا ہے…
    کتنے گھنٹے آنسو بہانا ہے…
    کس کے لیے زندگی ”گلزار” ہے اور کس کے لیے زندگی ”بوجھ” ہے۔ کچھ زندگی کے اس سفر پر ہنستے مسکراتے بے فکری سے چلے جا رہے ہیں اور کچھ اسے بوجھ کی طرح گھسیٹے جا رہے ہیں۔
    اور اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ اس بوجھ سے آزاد ہو جائیں۔
    وہ ”ہادیہ عبدالباسط” خود کو زندوں میں شمار نہیں کرتی تھی۔
    وہ مر چکی ہے…
    زندہ لوگ ہنستے ہیں مسکراتے ہیں… خوش ہوتے ہیں…
    اسے ہنسے مسکرائے اتنا عرصہ ہو گیا کہ اسے خود بھی یاد نہیں وہ آخری مرتبہ کب ہنسی تھی؟
    زندہ انسانوں کو جب کوئی برا بھلا کہے تو وہ پلٹ کر جواب دیتے ہیں۔ پلٹ کر جواب دینے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں تو بھی انہیں تکلیف محسوس ہوتی ہے… پر اسے صبح سے شام کوئی کچھ بھی کہے … جتنا چاہے ذلیل کرے … اسے ذرا فرق نہیں پڑتا…
    زندہ انسان خواب دیکھتے ہیں…
    اس کا خوابوں سے کوئی لینا دینا نہیں…
    (ماضی میں رہا ہو تو یاد نہیں…)





    وہ گونگی نہیں پر دو چار دن میں ایک آدھ جملہ ہی بولتی ہے…
    چند گنے چنے جملوں کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں کرتی …
    خواہشیں… وہ کیا بلا ہیں…؟ اسے نہیں معلوم …
    خوشی، غم، خواب، خواہش، دکھ، تکلیف… یہ سب اس کے لیے ایسی زبان کے لفظ ہیں جن کی وہ حروف تہجی سے بھی واقف نہیں… تو وہ کیسے خود کو زندہ لوگوں میں شمار کرے۔
    ماضی میں شاید اس زبان سے شناسائی رہی ہو… تھوڑی بہت جان پہچان رہی ہو… مگر اب… اب تو جیسے یادداشت پر گرد کی موٹی تہ جم گئی ہو…
    آج سے پہلے اسے کبھی اتنا وقت ہی نہ ملا تھا کہ فرصت سے بیٹھ کر ماضی کو یاد کر سکے… اس گرد کی موٹی تہ کو صاف کرے… زندگی کی جمع تفریق کرے… کیا کھویا… کیا پایا… ”پایا” والا خانہ خالی تھا۔
    ”کھوئے” والے خانے میں ایک لمبی فہرست تھی…
    بھائی بھابھی بچوں کے ساتھ کسی عزیز کے ہاں شادی پر گئے تھے۔
    وہ طویل سانس لیتے ہوئے بستر پر لیٹ گئی تھی۔
    ایک گڑیا تھی گھر بھر کی لاڈلی… بابا کی جان…
    بابا اس کی فرمائشیں پوری کیے جاتے… بھائی لاڈ اٹھاتے نہ تھکتے تھے… اور امی بس اس کی باتوں پر مسکرائے جائیں۔
    پھر وقت بدلا، منظر بدلا، گھر کے باہر ایمبولینس آکر رکی…
    آفس جاتے ہوئے ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور وہ ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گئے…
    ان کی زندگی کا دیا بجھ گیا وہ بس یاد کی صورت میں رہ گئے…
    معاشی حالات بگڑے … وقاص بھائی نے تعلیم کے ساتھ ساتھ جاب بھی شروع کی… وقار بھائی شام کے وقت اکیڈمی میں پڑھانے لگے…
    حالات بہت اچھے تو نہ ہوئے پر گزارا اچھا ہونے لگا۔
    وہ کالج جانے لگی… راستے میں کھڑا آوارہ چھچھورے لڑکوں کا گروپ … اسے دیکھ کر گانے گاتا… جملے کستا…
    گھر آکر امی سے کہا… تو انہوں نے اسے ”چپ” رہنے کو کہا…
    ارادہ تھا کہ بھائیوں کو بتا کر ان کی طبیعت صاف کروائے گی۔ مگر امی نے سختی سے منع کر دیا۔
    ”کوئی ضرورت نہیں ہے… وہ جھگڑ پڑیں گے… بات بڑھ جائے گی… تم بس خاموش رہا کرو… گھر سے کالج اور کالج سے گھر… کسی کی باتوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں…” امی نصیحتیں سن کر وہ بس انہیں دیکھتی رہ جاتی۔
    اس آوارہ گروپ کی ہمت اس کی خاموشی سے مزید بڑھی اور وہ اسے کالج تک چھوڑ کر آنا انہوں نے اپنی ڈیوٹی سمجھ لیا تھا۔
    ادھر اس کا گریجویشن ہوا ادھر ساتھ والے محلے کی خاتون مٹھائی کا ڈبہ لیے رشتہ لے کر پہنچ گئی…
    ”میں اپنے بیٹے اکمل کا رشتہ لے کر آئی ہوں… مین روڈ پر جو ورکشاپ ہے اس میں کام کرتا ہے…”
    فضیلہ بیگم حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھیں جو اپنے نکمے بیٹے کا رشتہ لے کر آئیں اور انہیں پورا یقین تھا کہ ”ہاں” ہو گی تبھی مٹھائی کا ڈبہ ساتھ لے کر آئی تھیں۔
    ”مجھے اکمل نے ہی بھیجا ہے آپ کو آپ کی بیٹی نے بتایا ہو گا…” انہوں نے فضیلہ بیگم کی حیرت دور کرنا چاہی تھی۔
    فضیلہ بیگم نے کچن کی کھڑکی میں کھڑی ہادیہ کودیکھا تھا جسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان چھچھوروں میں سے اکمل تھا کون سا …
    ”بہن میں معافی چاہتی ہوں… آپ کے بیٹے اور میری بیٹی کا کوئی جوڑ نہیں ہے… میری طرف سے انکار…” ابھی فضیلہ بیگم کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ خاتون بول پڑیں۔
    ”یہ بات تو اپنی بیٹی کو سمجھانی تھی نا… کیوں سج دھج کر باہر نکلتی تھی… میرے بیٹے کو اپنے جال میں پھنسایا… میں تو آنا بھی نہیں چاہ رہی تھی… اکمل کی ضد کی وجہ سے آگئی…” وہ خاتون سو باتیں سنانے کے بعد مٹھائی کا ڈبہ اٹھا ئے واپس چلی گئی۔
    امی کو اپنی جانب عجیب نظروں سے دیکھتا پا کر اس نے انہیں بتایا کہ یہ اس کی خاموشی کا نتیجہ ہے۔ اس نے ان کی ہدایت کے مطابق کسی کو ایک لفظ نہیں کہا تھا۔
    ”چھوڑو… دفع کرو…”
    ”بھائیوں کو نہ بتانا…” امی کی ہدایت پر وہ صرف حیران ہوئی تھی وہ بھلا انہیں بتاتی بھی کیا…
    امی کے نزدیک ہر مسئلے کا حل ”چپ” تھا۔
    پھر منظر بدلا۔
    دونوں بھائیوں کی شادی ہو گئی… کچھ دن اچھے گزرے پھر بھابھی کے رویے میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔




  • ایک رات کی بات — محمد جمیل اختر

    ایک رات کی بات — محمد جمیل اختر

    انہیں ضرور خاموش ہوجاناچائیے کہ میرے سر میں درد ہے اور میں سونا چاہتاہوں ۔
    آخر یہ خاموش کیوں نہیں ہوتے۔۔۔
    ” میں تو اُس دن سے ہی پریشان ہوں جس دن سے میری تم سے شادی ہوئی ہے ”
    ” ہاں ہاں سارے مسائل کی جڑ تو میں ہی ہوں ، مجھے کون سی خوشی دی تم نے بتاو”
    آخر ان میاں بیوی کا مسئلہ کیا ہے ، کیا انہیں معلوم نہیں کہ رات کے بارہ بج چکے ہیں اور کوئی سونا چاہتاہے ، اگر لڑنا بھی ہے تو باہر سڑک پر جاکر لڑیں اس طرح پڑوسیوں کی نیندیں کیوں حرام کرتے ہیں ۔
    ”مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ تم جیسا شوہر ملے گا تو میں کبھی بھی شادی نہ کرتی ”
    ” کاش یہ بات مجھے بھی معلوم ہوتی”





    میں ایک نیا نیا وکیل ہوں اور ایک پرانے وکیل کے چیمبر میں کام کرتا ہوں ، یہ پرانا وکیل انتہاکا کھڑوس آدمی ہے اُس کے ساتھ سارا دن کام کرنے کے بعد آپ کو نیندکی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ تمام دن کی فضول بکواس بھول کراگلے دن نئی بکواس سنی جائے ، لیکن یہ میاں بیوی مجھے کچھ نہیں بھولنے دیں گے۔۔
    ”میرا بھائی صُبح کام پر جاتا ہے تو میری بھابی کے ہاتھ پر پورے دو سو روپے رکھ کر جاتا ہے کہ دن میں کچھ ضرورت بھی پڑ سکتی ہے اورایک تم ہوکہ بھول کر بھی پیسے نہیں دیتے سارا دن بچے مجھ سے پیسے مانگتے ہیں بتائو کیا جواب دوں میں اِن کوکہ تمہارا باپ ایک روپیہ دے کر نہیں جاتا مجھے۔ شادی سے پہلے تم نے کتنے وعدے کیے تھے کہ میں یہ کروں گا میں وہ کروں گا یاد کرو جب تم لاہور سے ملتان صرف مجھ سے ملنے آئے تھے اُس وقت تم کہتے تھے اخبار میں کام بھی کرتا ہوں اور بزنس بھی شروع کرنے لگا ہوں مجھے کیا پتا تھا کہ یہ اخبار میں ٹکے ٹکے کے کالم لکھنے والے کو کون پیسے دے گا؟”
    ”بس بس اب ایسی بھی بات نہیں کل کو میرا بھی نام بن جائے گا پھر دیکھنا کیسے دن پھرتے ہیں”
    افف یہ کیسے لوگ ہیں اتنا اونچا بولتے ہیں حالاں کہ اس جاڑے کی سرد راتوں میں تو سانس کی آواز بھی سنائی دیتی ہے ، پھر صبح اُس بوڑھے وکیل کی فضول باتیں سُننا پڑیں گی، آج صُبح ہی کی بات سنیں مجھے اُس نے کہا فلاں کیس کی فائل لے آو میں آدھا گھنٹہ سٹور میں وہ فائل تلاش کرتا رہا اور جب میں ڈھونڈھ کے لایا تو صاحب کہتے ہیں کہ میں نے تمہیں یہ فائل لانے کا کہاہی نہیں تھا، یہ کیس تو کب کا بند ہوچکا ہے میں نے بہت کہا کہ سر آپ نے ابھی آدھا گھنٹہ قبل مجھے سرفراز ملک کے کیس کی فائل لانے کا کہاتھا، تو وہ کہنے لگے کہ اچھا اب میں اتنا بچہ ہوں کہ بندکیسوں کی فائلیں منگواوں ، میں نے تم سے بشیرصاحب کی فائل لانے کا کہا تھا، اور آپ یقین کریں بشیر صاحب کی فائل ان کی میز پرہی پڑی تھی ، میں نے کہاسر وہ تو یہ پڑی ہے آپ کی میز پر ، تو وہ ایک نظر فائل کو دیکھنے کے بعد کہتے ہیں کہ ہاں مجھے معلوم ہے وہ یہاں پڑی ہے اور یہ میں خود ڈھونڈھ کر لایا ہوں ، مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ تم یہ نہیں ڈھونڈھ سکتے ،اب آپ بتائیں ایسے شخص کے ساتھ بھلا کہاں تک بحث کی جاسکتی ہے ، میں تو ایک دن نہ ٹھہروں پر میرے ماموں ان کے دوست ہیں وہ مجھے ان کے پاس چھوڑ گئے ہیں کہتے ہیں کہ یہ اِس شہر کے سب سے مشہور اور قابل وکیل ہیں سوچتا ہوں اگر یہی قابلیت ہے تو اِس شہر میں کوئی قابل وکیل نہیں ہے ۔





    ” تم نے بچوں کے لیے کیا کیاہے، کل کو میری بچی جوان ہوگی تو کیا دو گے جہیز”
    ”خدا کا خوف کرو ابھی وہ تین سال کی ہے اور تمہیں جہیز کی فکر پڑگئی ”
    آخریہ میاں بیوی کب خاموش ہوں گے، مجھے جاکر انہیں سمجھانا چاہیے لیکن وہ کہیں گے میں کون ہوتا ہوں جو ابھی چار دن پہلے یہاں آیا ہے اور ان کی ذاتی زندگی میں دخل دیتا ہے ،
    ” یہ سامان کیوں توڑنے لگے ہو”
    ”بس میری کمائی سے آیا ہے سو میں توڑ رہا ہوں۔۔۔۔”
    چٹاخ، چٹاخ۔۔۔۔برتن ٹوٹنے لگے۔
    ”یہ تو میرے جہیزکی پلیٹیں تھیں، یہ میں تمہیں نہیں توڑنے دوں گی”
    مجھے جانا چاہیئے، ہاں مجھے ضرور جانا چاہیے ۔
    میں نے ہمت کرکے گھنٹی بجائی ۔
    ”اور شور کرو تم اب دیکھو محلے والے بھی آگئے ہیں، میں تو نہیں جاتی خود ہی جاؤ دیکھو کون ہے باہر۔”
    ”جی آپ کون؟”
    ”جی میں آپ کا نیا پڑوسی ہوں ملتان سے آیا ہوں وکیل ہوں آپ کے گھر شور تھا میں نے سوچا خیریت پوچھ لوں”
    ”لو وکیل صاحب بھی آگئے عمارہ بیگم ، آئیے آئیے صاب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ ہم میں کون حق پر ہے”۔
    ”جی میں وکیل ہوں جج نہیں”
    ”کوئی نہیں یار عدالتوں میں چکر لگا لگا کروکیل بھی جج ہی بن جاتے ہیں اور ویسے بھی ہمارا کیس کوئی زیادہ پیچیدہ نہیں میں ایک اخبار میں کام کرتا ہوں آمدن بہت معمولی ہے سو اِسی وجہ سے آئے روز ہمارا جھگڑاہوتا ہے کل بچوں کی فیس دینی ہے اور پیسے نہیں ہیں ۔
    معاف کیجئے کیا آپ ہمیں کچھ قرض دے سکتے ہیں ویسے پڑوسی ہونے کے ناطے آپ ضرور ہماری مدد کریں گے ”
    ”جی وہ میں تو۔۔۔۔۔”
    ”عمارہ بیگم وکیل صاحب کے لیے چائے بناو”
    ”لیکن وہ میں تو۔”
    ”بیٹھیے بیٹھیے اپنا ہی گھر سمجھیے آپ جیسے اچھے لوگ اب کہاں ملتے ہیں آپ اگر ہماری مدد نہ کرتے توکل سکول والے ہمارے بچوں کانام سکول سے خارج کردیتے سمجھ نہیں آرہا آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں۔”
    ”وہ میں کہہ رہا تھا کہ…”
    ”آپ ضرور کہیں گے کہ پڑوسی ہونے کے ناطے یہ تو آپ کا فرض تھا لیکن آج کل کے دور میں بھلاایساممکن ہے کہ ایک ساتھ پانچ ہزار کا قرض دے دیا جائے”
    ”پانچ ہزار؟؟؟”
    ”جی صرف پانچ ہزار۔”
    ”سچ پوچھیں تو آپ کے ایک ہی کیس کی مار ہیں پانچ ہزار”
    ”مگر میں تو۔”
    ا”چھا تو آپ سمجھ رہے تھے کہ میں بہت زیادہ رقم کا مطالبہ کروں گا نہیں نہیں بھائی ہمیں بھی آپ کی مجبوریوں کا اندازہ ہے آپ بھی ہماری طرح یہاں کرائے کے مکان میں ہی رہتے ہیں۔”




  • ذوالفقار — اقراء اعجاز

    ذوالفقار — اقراء اعجاز

    ”مبارک ہو اماں! اللہ نے لڑکا دیا ہے۔”
    میں نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں مجھے ایک اجنبی آواز سنائی دی ۔میں اپنی ماں کو دیکھنا چاہتا تھا مگر یہ کیا؟ مجھ سے اپنی آنکھیں نہیں کھولی جا رہی تھیں ۔کیا میں اتنا کمزور تھا ؟ اس لمحے میں نے اپنے آپ کو بہت لاچار محسوس کیا ۔
    اچانک مجھے اپنے گالوں پہ کسی کا لمس محسوس ہوا۔ کوئی مجھیپیار بھرا بوسہ دے رہا تھا۔ میرے اندر محبت بھری تپش اُبھر آئی اور میں اس نرماہٹ اور خوشبو سے جان گیا تھا کہ یہ میری اماں تھیں۔ پھر میری ماں نے مجھے اپنی آغوش میں بھر لیا۔ میں اپنے ابا اور باقی بہن بھائیوں سے بھی ملنا چاہتا تھا مگر میرا دماغ سو رہا تھا شائد مجھے نیند آرہی تھی۔ میری ماں نے مجھے دودھ پلایا اور میں سو گیا۔ کچھ دیر بعد میں جاگا، اب میرے حواس کچھ بحال تھے میں نے اپنے اردگرد کا جائزہ لیا۔ یہ ایک خستہ حال جھگی تھی۔ مجھے شدید گرمی کا احساس ہوا مگر وہاں کوئی پنکھا نہیں تھا لہٰذا میں اسی طرح گرمی میں پڑا رہا۔ میں نے منہ پھاڑ کر رونا شروع کر دیا کیوںکہ اپنی ماں کو متوجہ کرنے کا یہی طریقہ مجھے سمجھ میں آیا ۔اماں دوڑی آئیں اور مجھے سینے سے لگا لیا۔ اب مجھے قدرے سکون محسوس ہوا تھا۔ اس بار میرے اردگرد کافی لوگ جمع تھے۔ کچھ چھوٹے بچے بھی تھے۔ میں نے استفہامیہ نظروں سے اماں کو دیکھا اور پوچھا کہ یہ سب کون ہیں؟ میری ماں نے سب سے یہ کہہ کر میرا تعارف کروایا کہ میں ان کا چھوٹا بھائی ہوں۔





    ان میں ایک میرے ابا بھی تھے۔ انہوں نے مجھے خوب بھینچ کر پیار کیا ۔بچے تعداد میں کل چار تھے، تین لڑکے اور ایک لڑکی۔ میری صورت میں ان کا پانچواں بھائی دنیا میں آیا تھا۔ ان سب سے مل کر میں بہت خوش تھا۔ سب نے مجھے باری باری گود میں لیا اور بہت پیار کیا۔
    ان سب نے میرا نام ذوالفقار رکھا۔ میری اماں کو یہ نام بہت پسند تھا وہ بہت پیار سے مجھے اس نام سے پکارتی تھیں۔ ایسے ہی دن گزرتے گئے اب میں کچھ بڑا ہو رہا تھا، بہت سی چیزوں کو سمجھنے لگا تھا۔ میں غوں غاں کر کے اپنے ہونے کا احساس دلاتا۔ مجھے یہ علم ہوگیا تھا کہ میں تھر کے علاقے میں پیدا ہوا ہوں یہاں تاحدِ نگاہ صحرا ہی صحرا تھا۔ سونے کی رنگت والی ریت تھی اور کھجور کے درخت تھے۔ اب میری عمر چھے ماہ دس دن ہو چکی تھی۔ میں جان گیا تھا کہ میں ایک نہایت غریب گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ ہم سب کی خوراک کا انتظام کرنا میرے ماں باپ کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ گو کہ ابا کھیتی باڑی کرتے تھے مگر یہاں کا موسم اور حالات موافق نہ تھے کہ فصل اچھی اُگ سکے۔
    میری بہن گڑیا فقط تین سال کی تھی، سارا سارا دن جب بھوک سے روتی تو میں بھی تڑپ جاتا۔ یوں تو سب ہی مجھے عزیز تھے مگر گڑیا سے کچھ خاص ہی انسیت تھی۔ اماں کو دن بھر مشقت کرتے دیکھتا۔ یہاں پانی کا انتظام بھی نہ تھا۔ میری منحنی سی اماں سر پہ گاگر اٹھائے ہمارے لئے پانی بھر کے لاتی تھیں۔ زندگی بہت دشوار تھی۔ سارا دن دھوپ میں لکڑیاں جلاتی میری اماں سِنک کر تانبے کی طرح دکھنے لگی۔ میں چوںکہ بڑا ہو رہا تھا، میری عمر اب ایک سال ہو چلی تھی مجھے زیادہ خوراک کی ضرورت تھی جو کہ پوری کرنا میرے ماں باپ کے بس کا کام نہیں تھا۔ اس لئے ہمہ وقت بھوک سے بلکتا رہتا مگر کسی کے کان پہ جوں نہ رینگتی۔ صرف میری اماں تھیں جو میری تکلیف محسوس کرتی تھیں ۔دراصل مجھے صرف اماں ہی جانتی تھیں ابھی بول نہیں سکتا تھا مگر پھر بھی ہر بات اماں سے کرتا تھا۔ وہ کبھی فارغ ہوتیں تو توجہ سے سن لیتیں ورنہ اپنے کاموں میں لگی رہتیں۔ اماں بعض دفعہ بہلانے کی کوشش کرتیں پر پیٹ کا دوزخ اور کوئی خیال آنے ہی نہ دیتا تھا۔ کبھی کبھار ہمارے علاقے میں جب خوراک سے بھرا ہوا ٹرک آتا تو ہمارے گھر میں عید جیسا سماں ہوتا۔ اماں اور ابا صبح سے ہی لائن میں لگ جاتے۔ چھینا چھپٹی میں کچھ نہ کچھ ہاتھ لگ ہی جاتا۔ اس دن میں اپنے بہن بھائیوں کو بہت خوش دیکھتا ۔ اماں اس دن مجھے بہت پیار سے چومتیں مجھے لوریاں سناتیں۔ ہم سب بہن بھائیوں کو اُس دن ماں باپ کی شفقت اور پیار میسر آتا۔ آہستہ آہستہ میں بیمار رہنے لگا میری ٹانگیں اتنی کمزور تھیں کہ میرا وزن اٹھانے کے قابل بھی نہ تھیں ۔ ہمارے اردگرد رہنے والوں کا حال بھی ہم سے مختلف نہ تھا۔
    میرے کئی ہم عمر بھی ایسے ہی بھوک سے بلبلاتے۔ ان کی آواز سن کے مجھے اپنی تکلیف یاد آنے لگتی تھی۔ ایک رات میں رو رو کر بھوکا ہی سو گیا آدھی رات کو اچانک پیٹ شدید درد ہوا تکلیف کی شدت اس قدر تھی کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں رونا چاہتا تھا مگر اتنی ہمت بھی نہ تھی۔ پورے بدن میں نقاہت تھی جب کافی دیر تک کچھ نہ کر سکا تو دل میں دعا مانگنے لگا:
    ”اے میرے مولا !





    میں تجھ سے دعا کرتا ہوں۔ بے شک ابھی بہت چھوٹا ہوں، مجھے مانگنے کا سلیقہ بھی نہیں آیا مگر تو تو سلیقے کے بغیر مانگنے سے بھی دیتا ہے۔ تو رحیم ہے،کریم ہے،طحٰہ ہے۔ اے میرے مالک! میرے آقا!! میری دعا سن لے میرے بہن بھائیوں اور ماں باپ پہ رحم فرما۔ میں باقی سب کا نہیں جانتا مگر اماں تیرا نام لیتی ہیں، انہیں میں نماز پڑھتے بھی دیکھتا ہوں وہ تجھے پکارتی ہیں اور تو خود فرماتا ہے کہ میں ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں۔ تو تو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ہم سب پہ رحم فرما۔ میں اپنی معصومیت کا واسطہ دے کر تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔میں تجھ سے تیرا پاک اور حلال رزق مانگتا ہوں۔ ہماری خوراک کی قلت کو دور فرما۔آمین ثم آمین۔”
    دعا کے بعد میرے دل کو قدرے سکون ہوا مگر میری بیماری بڑھتی جا رہی تھی، اگلی صبح میں بہت تکلیف میں تھا نیم بے ہوش تھا ۔ وقفے وقفے سے میری ماں کبھی میری ہتھیلیاں سہلاتی کبھی ماتھے پہ ہاتھ پھیرتی۔ مجھے مقامی ہسپتال لایا گیا لیکن یہاں صحت عامہ سے متعلق سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔ بے ہوشی میں بھی مجھے اماں کی بے چینی محسوس ہو رہی تھی۔ میری طبیعت سنبھل نہیں پا رہی تھی۔ شائد مجھ میں خوراک کی بہت کمی ہو گئی تھی۔ اچانک میرا سانس اکھڑنے لگا میری ماں نے چلانا شروع کر دیا۔ ابا ڈاکٹر کو بلانے دوڑے۔ میں نے ہمت کر کے آنکھیں کھولیں اور اماں کی طرف دیکھا کیوںکہ مجھے لگ رہا تھا کہ میں یہ دنیا چھوڑ کے جا رہا ہوں۔ میں آخری بار اپنے گھر والوں کو دیکھنا چاہتا تھا۔ میری ماں مجھ پر کچھ پڑھ کے پھونک رہی تھیں۔ مگر جب دن پورے ہو جائیں تو کوئی بھی دعا یا دوا کام نہیں آتی۔ میں ابھی جینا چاہتا تھا، اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلنا چاہتا اور اپنی اماں کے پاس رہنا چاہتا تھا پر میں بے بس تھا۔ میں اماں کی طرف حسرت بھری نظروں سے دیکھے جا رہا تھا۔ ان کاچہرہ اپنے اندر سمو لینا چاہتاتھا تاکہ جب بھی مجھے ان کی یاد آتی، میں انہیں محسوس کر پاتا۔ اچانک میرے منہ سے ہچکی نکلی اور میری روح کا جسم سے ناطہ ٹوٹ گیا۔ ڈاکٹر نے آکر میرے مرنے کی تصدیق کر دی۔
    میرے سامنے بہت وسیع و عریض باغات تھے جہاں انواع و اقسام کے کھانے تھے۔ یقینا اللہ یہ تیری جنت ہو گی۔ مجھے بہت ساری چیخیں اورآہیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں اماں کو بھی محسوس کر رہا تھا۔ میں جانتا تھا کہ اماں آپ بہت دکھی ہیں مگر میں کیا کر سکتا تھا آپ کو تسلی بھی نہیں دے سکتا۔ میری موت سب کے لئے ایک اور سوال اٹھا گئی کہ تھر کے علاقے میں کب تک موت کا رقص جاری رہے گا۔ کب تک مجھ جیسے معصوم ذوالفقار اپنی مائوں سے بچھڑتے رہیں گے؟کب تک بھوک کا عفریت ہم بچوں کو نگلتا رہے گا؟
    کتنی مائیں بین کر کرکے اپنے ذوالفقار کو روتی رہیں گی۔ اے پیٹ بھر کے کھانے والو تمہیں کیا پتا بھوک کیا ہوتی ہے ؟بھوک سے تڑپنا کیسا ہے اور بھوکے مر جانا کیسا ہے؟
    کیا یہ ہی دنیا ہے؟ احساس سے عاری لوگ؟ اگر ایسا ہی ہے تو میں اس دنیا سے جانے پہ خوش ہوں۔
    الوداع




  • چاند مہکتا ہے — غزالہ رشید

    اسلام آبادکے خوب صورت ائیر پورٹ پر ایک سال بعد بھی ویسی ہی رونق تھی۔ کچھ بھی تو نہ بدلا تھا، ہاں البتہ فریال اب پہلے جیسی نہ رہی تھی، نا صرف حلیے سے بلکہ مزاج سے بھی وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ میچور ہوگئی تھی۔ ہونا تو یہی چاہیے تھاکہ وہ دھا ڑیں مار مار کے رونا شروع کردیتی۔ دل میں درد کی لہر اٹھی تو تھی لیکن اس نے اپنی سائیکا ٹرسٹ دوست ڈاکٹر سبین مرتضیٰ کی بتائی ہوئی ترکیب پہ عمل کرتے ہوئے چند گہری سانسیں لینا شروع کیں اور پھر سے اس خوبصورت ما حول میں جینے کے لیے، خود کو تیا ر کیا۔
    وہ اتنی کم زور تو کبھی نہ تھی کہ اسے یہ وقت کاٹنا اتنا مشکل لگتا۔ امی ابو کی اچانک موت نے اسے زندگی کے رموزو اسرار تو سکھا ہی دیے تھے،لیکن شاید ابھی اس کا کندن بننے کا عمل جاری تھا۔ ”وہ کھلنڈری فری” اب پھر سے فریال سعداحمد تھی۔
    سفر پھر سے شروع تھا، اس وقت کو بھول جانے کے لیے ملازمت بے حد ضروری تھی۔ خود شناسی بھی تو بہت ہی لازم ہے ناں، کب تک شاگردی کرتی؟ استاد بھی تو بننا تھا۔ آنے والوں کے لیے مشعل راہ، زندگی شمع کی صورت تب ہی تو بنتی ہے جب شعلہ بنے اور روشنی پھیلا ئے۔
    شومئی قسمت! نوکری ملی بھی توملگجی شام کی یاد لیے،غروب آفتاب کی طرح، اس سر سبز شہر میں جہاں اس کی زندگی میںخزاں نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔





    کل رات جب اس نے اپنی مسیحا دوست کو الوداع کہتے ہوئے خوش بو کا تحفہ دیتے ہوئے کہا تھا:
    ”دعا کرنا”
    سبین کہ اب دوبارہ تم سے ملوںتو تمہاری دوست پھر سے زندہ ہو۔ زندہ لو گوں کی طرح سانس لینے کا ہنر سیکھ چکی ہو،اس کا اعتبار ،اس کا اعتماد پھر سے بحا ل ہوچکا ہو”
    وہ دوست تھی ناں،اس کے دونوں ہاتھ مضبو طی سے تھامتے ہوئے کہا:
    ”تم ہمیشہ بہادر تھیں،کالج میں بھی اور یونیورسٹی میں بھی ، جب میں تم سے پہلی بار ملی تھی یا د ہے ناں ،صومی کے گھر پہ،اور فیلڈ الگ ہونے کے باوجود میری تم سے دوستی کی وجہ تمہاری چاند جیسی صورت ہی نہیں، خوب صورت دل بھی تھا، اور تم نے مجھے کہا تھا کہ تمہارے ابو نہیں ہیں، تو کیا ہوا؟ میرے ابو کو اپنا (بابا سائیں سمجھ لو ناں، اور پھر تم نے یہ سچ کر دکھایا۔ ابھی بھی حسن جاوید کی بے وفائی نے تم کو افسردہ ضرور کردیا ہے، لیکن تنہا نہیں کیا۔ تمہاری خالہ نے تم کو ڈھونڈ ہی لیا ناں،والدین کی جدائی کو تم نے سہا، اس بے درد کی بے وفائی کو سارے شہر سے چھپایا۔ اب بھی اس کی شادی کی خبر کو تم نے سہا۔ ویسے بھی اس سے رشتہ ہی ٹوٹا ہے ناں، یقین کرو رب سائیں کسی کو بھی تنہا نہیں چھوڑتا،میری بھی شادی ابھی تک نہ ہونے کی وجہ شاید یہ ہی تھی کہ تم نے میرے پاس آنا تھا۔ویسے بھی رشتے تو سارے وقتی ہوتے ہیں، سائے کی طرح گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں، خاص طورپہ آزمائش کے وقت میں۔ رشتو ں کو سمجھنا ہے تو مو سموں کو دیکھو، کبھی گرم کبھی سرد۔۔۔۔ ویسے میں تمہاری خالہ جان سے ملنے ضرور آئوں گی،ان کو تو دعوتیں کرنے کا شوق ہے ناں، اور مجھے دعوت کھا نے کا” وہ ہنس دی۔
    ”پلیز پلیز ضرور آنا۔۔۔میرا بھی دل چاہے گاکہ اسلام آباد کی سڑکوں پہ تمہارے ساتھ قدرت کے کرشمے دیکھوں۔ بہت عرصے سے ٹھنڈے کمروں،اور ڈنر ز نے مجھ سے موسموں کا حسن، ان کو انجوائے کرنے کی صلاحیت چھین لی تھی۔ میں بھی جی لوں گی ان دنوں” فری پھر اداس ہونے لگی۔
    ”اب تم اس انداز کو سوچو بھی ناں،یہ جاب تمہاری مرضی کی ہے،تم یقینا اسے انجوائے کروگی یارا اس نے الوداع ہوتے ہوئے بہت پیار سے اسے کہا تھا۔”
    ٭…٭…٭
    ”مولا! تو ہی کا میابی اور کامرانی عطا کرنے والا ہے۔” اس نے گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگاتے ہوئے پھر سے خود کو اسلام آباد کی خو ب صورت اورطویل شاہراہوںکی طرف متوجہ کرتے ہوئے دعا کی۔
    ”شکر ہے آنیا جی نے اپنے ڈرائیور خان جی کو بھیج دیا۔” اس نے تیزی سے گزرتی اس پاک سر زمین کی شادابی کو دیکھتے ہوئے قدرت کی صناعی کو سراہا، اور پھر امانت علی خان کی آواز بھی اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔
    ”ابو کو بھی یہ قو می نغمہ اور یہ آوازکتنی پسند تھی۔”
    ”اے وطن پاک وطن۔۔۔پاک وطن
    اے میرے پیارے وطن”
    وہ اکثر سنتے اور اسے بھی خاص طور پہ سناتے۔
    ”اف! یہ ماضی، خواب کیوں نہیں بن جاتا؟ ہمارے اندر ہر لمحہ سانس کیوں لینے لگتا ہے؟” اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے سوچا۔
    گاڑی اب F.6/4 سے گزررہی تھی جہاں اس نے حسن جاوید کے ساتھ زندگی کے صرف دو سال ہی تو گزارے تھے، جو شاید اس کی زندگی پر نہ چاہتے ہوئے بھی حاوی ہوگئے تھے۔اور شاید روگ بھی بنتے جارہے تھے۔اس روڈ کی ایک شام کا ایک ایک لمحہ اسے یاد آنے لگا تھا۔
    وہ تو اس کے رنگ میں رنگ گئی تھی، اسے تو صرف اب یہ یاد تھا کہ اسے ابو کی وجہ سے فیض احمد فیض بہت پسند تھے اور حسن جاوید کو بھی، لیکن اس نے ٹینا ثانی کے بعد پہلی بار مونا احمد کو فیض کو گاتے سنا تو وہ مبہوت ہوکے رہ گئی تھی۔ اس نے جانا ہی نہیں کہ یہ کیفیت اس پہ گزری لیکن واردات کہیں اور بھی ہوگئی تھی۔ واپسی میں بھی اس نے ڈھونڈ کے ،موبائل پہ پھر سے سرچ کرکے مونا احمد کو لگایا۔ وہ دونوں سارے راستے پھر اسی کو سنتے رہے، اس کی آواز اور فیض کا کلام روح کو ایسے آسودہ کررہا تھا کہ گھر آکے اس رات دونوں نے ایک دوسرے سے بات بھی نہ کی،ایسی سرشاری رہی۔۔۔۔
    ستم سکھلائے گا رسمِ وفا ایسے نہیں ہو تا
    صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا
    جہاں دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
    یہاں پیمانِ تسلیم ورضا ایسے نہیں ہوتا
    ہر اک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوںتو ہوتا ہے
    مگر ہر صبح ہو روز جزا ایسے نہیں ہوتا
    مونا کی آواز کب فری کے دل میں اتری اور کب وہ ماہ نور ،حسن جاوید کے دل میں براجمان ہوئی ،وہ جان ہی نہ سکی۔ اس کو توآئینہ ہر بار یہ ہی پیغام دیتا کہ تم پری ہو، اور اس کے دل پہ حکومت کرنے ہی تو اس دنیا میں آئی ہو۔ کیوں کہ حسن جاوید نے ہی تو اس سے کہاتھا: تمہارا M.B.Aکا آخری سمسٹر ،جو ہماری شادی کی وجہ سے رہ گیا ہے اسے مکمل کرلو،پھر ہم اپنا بزنس جلد ہی شروع کریںگے۔”
    ٭…٭…٭
    وہ ماضی کا سفر کرتے ہوئے ”سعد ولا” کے آہنی گیٹ کے سامنے تھی۔ آنیاجی جو اس کی سگی خالہ تھیں اور اس کی اس حرکت پہ شدید ناراض بھی تھیں کہ اس نے اپنی عدت کا وقت ان کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی دوست کے گھر گزارا۔ وہ اپنے بینک بیلنس پہ عیش کرنے والے حسن کو اب کوئی بھی رعایت دینے کو تیار نہ تھی۔
    ڈاکٹرنے اس کے اسلام آباد آنے سے پہلے انہیں بھی اس کی ذہنی کیفیت بتا کر راضی کرلیا تھا۔
    ”وہ تمہارا گھر ہے ، تم سکون محسوس کروگی ،ان کی گود میں سر رکھ کے تمہاری تنہائی کم ہوگی ،وہ خود بھی تو ذیادہ تر اکیلی ہی رہتی ہیں۔” اس کے کانوں میں اپنی دوست کے الفاظ گونجے۔
    مسز تنویر احمداس کی سگی خالہ جو بے حد خوب صورت اور پریکٹیکل خا تون تھیں۔ وہ نہیں جانتی تھیںکہ حسن جاوید مہارت سے جھوٹ بولنے کا عادی ہے۔ اس کے لیے رشتوں میں جڑے رہنے کی اہمیت ہی نہیں کیوں کہ وہ خود ایک broken family کا بچہ تھا، اب بھلا اس عمر میں وہ اپنے ساتھ ساتھ آنیا جی کو بھی ان خبروں میںکیو ں لاتی، وہ جان چکی تھی کہ اب واپسی کے سارے راستے بند تھے۔
    وہ ایک سال تک ان سے دور رہی اور اس کی ہمت ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ ان سے سب حالات شیئرکرتی۔ معصومیت کی ہی بنا پہ تو، زندگی اس کے ساتھ یہ کھیل اتنی بے دردی سے کھیل گئی تھی۔ وہ ان کو کیا بتاتی کہ وہ جس حسن جاوید کو جانتی تھیں، اس کو ڈیڈی کی جائیداد نے کچھ اور ہی رنگوں میں رنگ دیا تھا۔ ایسے رنگ جس نے اسے تمام اخلاق اور اقدار سے عاری کردیا تھا۔ بے وفائی اس کی فطرت میں ہی ہوگی ورنہ ایسے ہی تو نہیں کوئی لمحوں میں فیصلہ کرتا۔ اولاد کی کمی نے تو اسے احساس تنہائی دیا ہی تھا، لیکن جس درد نے اس کے وجود کو ریزہ ریزہ کردیاتھا۔ اُسے سمیٹنا بھی تو تھا۔ خود کو جوڑنا بھی تو تھا۔ توڑنے والے کو بھلا کب یہ احساس تھاکہ کچھ رشتے کانچ سے بھی ذیادہ نازک ہوتے ہیں۔
    گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہوئی آج پہلی مرتبہ وہ خود اسے ریسیو کرنے گیٹ تک آئیں۔ اسے بے اختیار وہ شام بھی یاد آگئی جب اس نے ڈنر سے واپسی پر اپنی عادت کے مطابق کچھ تحریر کیا، اسے کیا خبرتھی کہ وہ رات ان دونوں کے درمیان جدائی کا لمحہ بھی ساتھ لائی تھی، دسمبر کی شام۔ اس روز بہت دھند تھی۔
    ”تم دونوں اس گھر میں کبھی بھی اور کسی بھی وقت آ سکتے ہو۔ آپی اب اس دنیا میں نہیں ہیںتو کیا ہوا میرا گھر تمہارے لیے میکہ ہی ہے۔ میں تو ویسے بھی دوستوں کی محفلیں سجاتی رہتی ہوں۔ ماں جیسی شفقت تو شاید نہ دے سکوں، لیکن میرا دل ہر وقت تمہارا منتظررہے گا۔ یہ بات ہمیشہ یادرکھنا۔” ان کی آواز میں نمی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • اچھے بچے

    اچھے بچے

    آئیں مل کر سارے بچے
    کام کریں اب اچھے اچھے

    مل جل کر تم رہنا سیکھو
    بن جاؤ تم سچے بچے

    لڑنا اچھی بات نہیں ہے
    لڑتے نہیں ہیں اچھے بچے

    کہنا بڑوں کا ہر دم مانو
    بن جاؤ گے اچھے بچے