Author: misbah116@hotmail.com

  • حوّا کی بیٹی — سارہ عمر

    ”بس یہیں روک دیں۔” وہ ڈرائیور کے پیچھے سے بولی تھی۔ پرس سنبھالتی وہ اپنے اسٹاپ پر اتر گئی۔
    ایک لمحے کے لیے نظر سڑک کے پار اُٹھی اور پلٹ کر واپس آنا بھول گئی۔
    ”یہ تو…” وہ زیر لب بَڑبَڑائی۔
    ”یہ یہاں کیسے؟یہ تو گوجرانوالہ ہے …” اس نے اپنی چادر کا پلو کھینچ کر منہ کے آگے کیا۔ سوائے ایک آنکھ کے اس کا سارا چہرا چادر میں چھپ گیا تھا۔
    ”یااللہ! بس گھر کا راستہ نظر آجائے جلدی سے۔” اس نے گھر کی طرف دوڑ لگا دی تھی جیسے کوئی بھوت نظر آگیا ہو۔
    گھر پہنچتے پہنچتے سارا جسم پسینے میں بھیگ چکا تھااور سانس بری طرح اُکھڑ رہی تھی۔
    ”آ گئی نگہت؟ جلدی سے روٹی ڈال دے۔ بچے بھی بھوکے ہیں۔” اسے ہاتھ دھوتا دیکھ کر ساس نے کہا تو وہ کچن میں چلی آئی۔
    اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور ہونٹ خشک تھے،اس سے روٹیاں ٹیڑھی پک رہی تھیں۔ کچھ کچی اور کچھ جل رہی تھیں۔ چولہے کے آگے پسینہ تو آتا ہی ہے مگر اس کو ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔
    ”اگر وہ واقعی ولید ہوا اور اس نے مجھے پہچان لیا تو کیا ہوگا؟ میں تو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گی۔”
    ٭…٭…٭




    سمندر کی لہریں بار بار اس کے پاؤں کو چھو کر جارہی تھیں۔ جب ریت پاؤں کے نیچے سے نکلتی تو ندا کھلکھلا کر ہنس پڑتی اور فرقان اسے دیکھ کر ہنس پڑتا۔
    ”ایسے پاگل ہورہی ہو جیسے پہلی بار پانی دیکھا ہے۔” اس نے ندا کا ہاتھ تھاما اور ساحل پر چلنے لگا۔
    ”ایسی بات نہیں! ہر مہینے آتے تھے ہم سمندر پہ، بس شادی کے بعد پہلی بار آئی ہوں۔”
    وہ مُسکرا کر روٹھے انداز سے بال سلجھانے لگی جو ہوا سے اڑے جارہے تھے۔
    ”تبھی اتنا مزہ آرہا ہے؟” اس نے شوخی سے کہا تو وہ پھر ہنس دی۔
    ”سچی اسی لیے اتنا مزہ آرہا ہے۔” اس نے ہاں میں ہاں ملائی تو وہ اس کا ہاتھ گرم جوشی سے دباتا مُسکرا دیا۔
    ندا نے فرقان کے کندھے پر سر رکھا اور آنکھیں بند کردیں۔
    ”کاش یہ پل اسی طرح رہیں اور فرقان ایسے ہی مجھے پیار کرتے رہیں۔” وہ دل ہی دل میں مُسکرا دی۔
    ٭…٭…٭
    ”راجو ایک اور پلیٹ لا۔” شبیر نے راجو کو آرڈر کیا اور آج کا اخبار نکال کر صفحے پلٹنے لگا۔
    ”لو یہ دیکھو۔” اسلم نے پانی کا گلاس رکھ کر اسے دیکھا۔
    ”ڈیرہ غازی خان: چار بچوں کی ماں نے زہر کھا کر خودکشی کرلی۔ وجۂ تنازع معلوم نہ ہوسکی۔” وہ خبر پڑھ کر سنا رہا تھا۔
    ”یہ اتنے چھوٹے چھوٹے شہر کی عورتیں اتنا بڑا کام کیسے کرلیتی ہیں۔ چار بچوں کا بھی خیال نہ آیا حد ہوگئی۔” اسلم بری طرح نالاں ہوا۔
    ”بھلا چار بچوں کے ساتھ ایسا کیا مسئلہ کھڑا ہوگیا جو خودکشی جیسا حرام کام کر بیٹھی؟” شبیر نے بھی لقمہ دیا۔
    ”صاحب یہ تیسری پلیٹ ہے۔” راجو نے چھولوں کی پلیٹ رکھی تھی۔
    ”ہاں ہاں آئے ہیں تو صحیح سے کھا کر جائیں گے۔ برنس روڈ کے چھولے۔ ایویں تو مشہور نہیں کیا ذائقہ ہے بھئی۔”
    شبیر پھر سے کھانے میں جت گیا تھا۔ اسلم بھی ساتھ دینے کو موجود تھا۔
    ”کیا بنا تیری والی کا؟” شبیر نے پاس آکر آنکھ مار کے سرگوشی کی۔
    ”کہتی ہے مل نہیں سکتی۔ بس فون پہ بات کرو۔ بھائی ناراض ہو جائے گا۔” اسلم نے فکر مندی سے کہا۔
    ”چل تو لگا رہ کبھی تو آئے گا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔” وہ پانی کا گھونٹ بھر کر بولا۔
    ”سیما کو دوبارہ اس ایزی لوڈ والے نے تنگ تو نہیں کیا۔” شبیر کی بات پہ اسلم کی تیوریاں غصے سے چڑھ گئی تھیں۔
    ”آنکھ تو اٹھا کر دیکھے میری بہن کی طرف ہاتھ پاؤں توڑ کے چیل کوؤں کو ڈال دوں گا۔” وہ بھنا کر بولا۔
    ”ہاں ٹھیک ہے کھانا کھا کچھ بھی مدد چاہیے ہو یار کی تو بتانا۔”شبیر نے ٹھنڈا کیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”اُف اسے بھی ابھی خراب ہونا تھا۔” گاڑی چلتے چلتے گرم ہوگئی تھی اور اب رک گئی۔ نئی نئی گاڑی چلانی سیکھی تھی نیلم نے۔کتنا منع کیا تھا ماما بابا نے اکیلے مت نکلنا مگر نیلم بھی ضد کی پکی تھی۔
    ”اب کیا کروں؟” وہ پریشان ہوئی۔ بونٹ کھول کر ساتھ خود کھڑی ہوگئی۔
    پہلا بائیک والا ہی اسے دیکھ کر رک گیا۔
    پینٹ شرٹ پہ گلاسز لگائے۔ وہ فوراً اس کی طرف آیا۔
    ”کیا ہوگیا آپ کی گاڑی کو؟”
    ”پتا نہیں مجھے سمجھ نہیں آرہی۔”
    ”جی میں دیکھتا ہوں۔”
    سمجھ تو اسے بھی نہیں آنی تھی مگر تھوڑا ہاتھ مار کر ایکٹنگ کرنے میں کیا حرج تھا۔
    نیا شکار پھنسنے والا تھا۔
    نیلم بار بار کئی بار پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”بابا کو فون کرے گی تو ڈانٹ ہی پڑے گی۔” وہ خود سے سوچنے لگی۔
    ”موبائل ہے آپ کے پاس میں گھر بھول آیا ہوں یہاں میرے دوست کی ورک شاپ ہے وہ بندہ بھیج دے گا۔”
    اندھا کیا چاہے دو آنکھیں اور انہی دو آنکھوں نے اسے دوبارہ اندھا کردینا تھا۔
    اس نے فوراً غائب دماغی سے موبائل پکڑایا۔
    ”بس ابھی آجاتا ہے۔”
    دس منٹ بعد ہی بندہ آگیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی سٹارٹ ہوگئی۔ قصہ ختم، مگر نہیں ابھی تو قصہ شروع ہوا تھا۔
    اگلے کئی دنوں میں نیلم کے موبائل پہ نامعلوم نمبر سے میسج آئے اور پھر اس محسن کا پتا لگا تو شناسائی دوستی اور دوستی محبت میں بدل گئی تھی اور یہ محبت جو دل لگی تھی دل کی لگی بننے والی تھی۔
    ٭…٭…٭




    ”نگہت یہ پہن کر دکھاؤ۔” اس نے کانچ کی نازک سی چوڑیاں اس کے ہاتھ پر رکھ دیں۔ نگہت کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ جگمگ جگمگ کرتی چوڑیاں اس نے اپنے نازک ہاتھوں میں پہن لیں۔
    کانچ سے دل والی لڑکیوں کو کانچ کی چوڑیاں پہنتے تو کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جب وہ ٹوٹتی ہیں تو اس کے زخم ایک عرصے درد کرتے ہیں۔
    ”ولید بہت خوب صورت ہیں۔”
    ”تم سے زیادہ نہیں۔” وہ مُسکرایا۔
    ”کب بھیجو گے میرے گھر رشتہ؟” پھر وہی سوال لبوں پر مچل گیا۔
    ”پہلے کچھ بن تو جاؤں، کنگلے کو رشتہ کون دے گا۔” وہ اُداسی سے بولا۔
    ”تم بھیجو تو۔”
    ”گھر بھی تو گوجرانوالہ میں ہے تمہارا۔ پڑھائی ختم کرکے گھر جاؤ۔ امی کی بھی طبیعت بہتر ہوگی تو سفر کریں گی ناں۔” وہ پیروں میں پانی نہیں پڑنے دیتا تھا۔
    وہ چوڑیوں سے کھیلنے لگی۔
    ”گھر والوں کو کیا کہو گی؟ چوڑیاں کس نے دیں؟”
    ”کہہ دوں گی دوست نے۔” وہ جواب دیتے ہنس پڑی تو وہ بھی ہنس پڑا۔
    ان لڑکیوں کو بہلانا کتنا آسان ہے ناں۔” سو پچاس کا گفٹ دے کر سو سال ان کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ وہ سوچ کر رہ گیا۔
    ٭…٭…٭
    ندا کیا کررہی ہو؟” فرقان کی آواز پہ وہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔ ہاتھ میں پکڑا موبائل فرقان نے جھپٹ لیا تھا۔
    ”کیا دیکھ رہی تھی۔ موبائل چیک کررہی ہو؟”
    ”کال لوگ کیوں کھلی ہوئی ہے؟” وہ بری طرح دھاڑا تھا۔
    ”میں تو…” اس کی دھاڑ نے اس کے ہواس معطل کردیئے تھے۔
    ”مجھ پر شک کررہی ہو، اپنے شوہر پر ؟”وہ سخت ناراض تھا۔
    ”فرقان یقین کریں کال آرہی تھی میں نے۔”
    ”ضرورت کیا ہے تمہیں کال دیکھنے یا اٹھانے کی۔ میں تمہارا موبائل چیک کرتا ہوں۔ آئندہ اس کو ہاتھ مت لگانا سنا تم نے۔” وہ ڈر گئی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”ثوبیہ بہت بہت مبارک ہو۔” تانیہ نے بھی مبارک باد دی تھی۔
    وہ بھی سب کو اترا اترا کر اپنی منگنی کی انگوٹھی دکھا رہی تھی۔
    ”کون ہے کیا کرتا ہے وہ؟” سب فرداً فرداً پوچھ رہی تھیں۔
    ”اور تمہارے پرانے عاشق کا کیا ہوا ثوبیہ جو جینے مرنے کی قسمیں کھا رہا تھا۔”
    سمعینہ نے سب کے سامنے اس سے پوچھا تو اسے لگا بیچ چوراہے میں اس کا راز کھل گیا۔ حالاں کہ یہ راز تھا ہی کب۔ ہر روز کا قصہ تھا ڈیپارٹمنٹ والوں کے لیے۔
    سینئر کے ذوالفقار کے ساتھ ثوبیہ کا افیئر زد عام تھا مگر دونوں کے گھر والوں کو کچھ معلوم نہ تھا کہ یونیورسٹی میں کیا ہورہا ہے۔
    ذوالفقار گیا تو بات بھی دب گئی۔ سب کے سامنے یہ بھانڈا پھوٹے گا۔ اسے امید نہ تھی۔
    ”بھلا اس کنگلے ذوالفقار کے پاس سوائے ڈگری کے تھا ہی کیا؟ اچھے وقت پہ جان چھوٹ گئی تھی۔ ”ابو نے اپنے کزن کے بیٹے سے منگنی کیا کی کہ اب ثوبیہ ہواؤں میں تھی۔
    ”یار چھوڑ۔” تانیہ نے ثوبیہ کا منہ دیکھ کر کہا جہاں ایک رنگ آرہا تھا ایک جارہا تھا۔
    چھوڑ تو ثوبیہ نے اسے دیا تھا مگر اب ذوالفقار نے اسے نہیں چھوڑنا تھا یہ اسے نہیں پتا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”نگہت تم اتنی ڈری ڈری کیوں رہتی ہو؟” تیمور سے اب نہ رہا گیا۔ نگہت کا یہ حال دیکھ کر انہیں کچھ عجیب لگا۔
    شادی کے بعد اتنے سالوں میں کبھی وہ اتنی بدحواس نہ ہوئی۔ اب تو وہ باہر جانے سے ڈرتی، فون کی گھنٹی سے ڈرتی، دروازہ بجنے سے ڈرتی۔
    اس کی دماغی حالت کافی سنجیدہ ہوگئی تھی۔
    ”مجھے کسی ڈاکٹر سے ہی بات کرنی پڑے گی۔”
    وہ اسے سائیکاٹرسٹ کو دکھانا چاہ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • بارش کب ہوگی — مریم جہانگیر

    بارش کب ہوگی — مریم جہانگیر

    بارش کب ہو گی؟ ” عمیر نے زبیر کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
    "اگر میں ہوا کی رتھ پہ سوار ہو سکتا تو اس پہ بیٹھ کر دور آسمانوں میں چلا جاتا اور آسمان پہ بکھرے ہوئے بادلوں سے پوچھتا کیوں اے میرے بادلو! تم ہم سے کیوں روٹھ گئے ہو؟ اب ہمارے گاؤں پہ آکر کیوں نہیں برستے ؟ کڑکتی ہوئی بجلی ساتھ لاتے ہو لیکن شور مچا کر کہیں دور غائب ہو جاتے ہو۔ ہمارے نصیب میں تو شور ہی رہ گیا ہے۔بارشیں تو تم جانے کس کو دان کر چکے ہو۔ لیکن تم جانتے ہو مجھے ہوا کی رتھ پہ سوار ہونا بھی نہیں آتا "زبیر نے حسرت سے آسمان پہ نظر ٹکا کر جوا ب دیا۔
    "بھیا آپ سے بات پوچھنا ایسا ہے جیسے کسی بے سرے قوال کو چھیڑ دیا جائے۔ویسے بھی یہاں ہوا ہے ہی کہاں جس کی رتھ پہ آپ سوار ہو سکیں۔ "عمیر نے جواباً اپنے سے پانچ سال بڑے بھائی کو اس کی لن ترانیوں پہ ٹوکا۔
    "تو نہ پوچھا کرو مجھ سے۔ میں تو نہیں کہتا کہ مجھ سے پوچھو۔” زبیر نے صاف دامن بچایا۔




    "مجھے لگتا ہے ماں کی آنکھیں بھی بنجر ہوگئی ہیں۔ ان سے بھی بارش نہیں ہوتی۔ بھیا تمہیں پتا ہے ماں سے کون سا بادل روٹھا ہے؟ "عمیر اپنے فطری تجسّس پہ قابو نہ پا سکا۔
    "ہزار سوال کرو لاکھ جواب دوں گا۔ مجھ سے کچھ اور پوچھ لو یہ نہ پوچھو۔” زبیر کو اب کی بار واقعی دامن بچانا تھا۔
    وہ دونوں گھر کی کچی دیوار پہ بیٹھے تھے۔شام کے سائے آہستہ آہستہ گہرے ہونے لگے ۔دور آسمان کے آخری کونے پہ سورج اپنی الوداعی روشنی کو بہ مشکل سمیٹے دوسرے دیس کوچ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ان کم عمر سے لڑکوں کا روپ یوں کملایا ہوا تھا، جیسے ان کے جسم پہ درختوں کی چھال جیسی کوئی چیز چپک گئی ہو اور کلہاڑی جیسی کسی سختی کی منتظر ہو کہ آئے اور چیر دے۔ ان کی آنکھوں سے ویرانی یوں ٹپک رہی تھی جیسے شکست خوردہ قدیم کھنڈر کی دیواریں چیخ چیخ کر اپنے ہونے کا ثبوت اپنی دراڑوں سے دیتی ہیں۔ان کی گھنی پلکوں پہ گرد کی اتنی دبیز تہ تھی کہ اس ڈر سے پلک جھپکانے سے گریز کرنے کو جی چاہتا کہ کہیں یہ واحد متاع بھی ہوا کی پرواز کے ساتھ بکھر نہ جائے۔ ان کی آواز پیاس سے لڑکھڑائی ہوئی اور ہونٹ پپڑی زدہ تھے۔ ان کی آوازیں سن کر یوں لگتا کہ کہیں ٹین کے کنستر بج رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان کی نو خیز زندگیاں اس بنجر پن سے شکست کھانے کے حق میں نہیں تھیں۔
    وہ دیوار پہ ٹکے ہوئے اپنی باتوں کی پٹاری سے کچھ نہ کچھ بانٹ رہے تھے۔زندہ رہنے کو بانٹنا کتنا ضروری ہے….. ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
    لبوں پہ پیاس پھڑپھڑا رہی تھی لیکن لفظ پر جَھٹک کر ہوا میں پرواز کرتے رہے اور پیاس وہیں پھڑپھڑاتی رہی۔
    روشنی نے اپنی چادر سمیٹی تو دور سے ایک ہیولا ڈگمگاتا ہوا چلتا آیا۔
    زبیر فورا آگے بڑھا: "ماں کتنا پانی لائی ہو؟”




    "بس یہ اتنا سا ملا۔” ماں نے کٹورا دکھایا جس کا صرف پیندا بھرا تھا۔ زبیر کا چہرہ مایوسی سے لٹک گیا۔ پیاس نے اسے بے حال کر رکھا تھا۔
    "تم لوگ یہاں بیٹھے کیا باتیں بگھار رہے ہو؟” ماں کو جیسے کسی نا خوش گوار بات کا احساس ہوا۔
    زبیر سٹپٹا کر نگاہیں جُھکا گیا۔ اس کی آنکھوں میں ماں کو دیکھ کر روشنی کی جوت جاگی تھی جیسے کھنڈرات کے اندر کوئی ہیرا جگمگا اٹھے لیکن پھر وہ یوں ماند پڑی کہ جیسے ابھی ساری دیواریں چٹخ جائیں گی۔
    اور اب یہ ماں کا سوال…. اس سوال کا سامنا کرنے کی ہمت زبیر میں نہ تھی۔ عمیر تھوڑا بے باک اور انجان تھا۔اپنی گرد آلود آنکھیں جما کر بولا: "بارش کب ہو گی؟”
    ماں نے حیرت سے اسے دیکھا۔آنکھوں میں اتنی حیرت تھی کہ ماتھے تک آئی اوڑھنی پیچھے کہیں لڑھک گئی اور بے چاری کو خبر بھی نہ ہوئی۔
    اس لمحے زبیر نے آنکھ اُٹھا کر دیکھا ماں کی آنکھوں میں بلا شبہ زیادہ گرد نظر آئی۔
    اس نے چھوٹے کو ٹہوکا دیا کہ چُپ رہ لیکن وہ بے خبر رہا اور اس نے اسی طرح اپنا سوال دہرایا۔
    "بارش کب ہوگی؟”
    "اللہ غارت کرے تجھے۔ منہ بند کر کے بیٹھ۔ بارش کی دعائیں نہ مانگ۔وہ آتی ہے تو سب بہا لے جاتی ہے۔ پیچھے ککھ نہیں چھوڑتی۔ ککھ سمجھتا ہے؟ ککھ؟ یہ تیلا؟ یہ بھی نہیں چھوڑتی۔” ماں نے زمین سے تنکا اٹھا کر دکھایا۔
    روٹھے روٹھے قدم اٹھائے وہ اپنی کچی کٹیا میں چلی گئی۔ابھی اس کے بلونگڑوں نے اس کے پیچھے ہی آجانا تھا۔
    عمیر نے گھر کے سامنے کا سپاٹ میدان دیکھا۔ اجڑے ہوئے درخت اور لُو زدہ ہوا، کچھ بھی ماں کے بیان سے میل کھاتا دکھائی نہ دیا۔یہاں تو اَبر کی ضرورت تھی۔ یہاں تو بارش کو برسنا چاہیے تھا۔ یہ مٹی پانی پانی چلاتی بھٹک رہی تھی۔ماں نے کیوں ایسی بہکی بات کی۔ماں تو سمجھ دار ہے۔اس کا ناتواں ذہن یہ بوجھ اٹھانے سے قاصر تھا۔ اس نے سوچوں کی گٹھڑی کندھے پہ ہی رکھی اور بڑے بھائی کی پیروی کرتا ہوا گھر میں داخل ہوگیا۔
    ماں نے اتنے میں پیاز توڑ کر دو حصّوں میں بانٹ دی آدھی بڑے کو تھمائی اور آدھی چھوٹے کو۔ ”اللہ غارت کرے” والی بات شاید کٹیا کے دروازے کے باہر ہی کہیں رہ گئی تھی۔وہ پیاز چبا چکے تو پچکا ہوا ایک ایک ٹماٹر بھی ملا۔ زبیر سمجھ گیا ضرور ساتھ والے گاؤں سے خیرات آئی ہوگی۔بھائیوں نے وہ بھی لے کر پیٹ کے ایندھن میں ڈالا۔




  • بس کا دروازہ — نوید اکبر

    جون کی گرمی۔۔۔ دوزخ کی گرمی۔۔۔لاہور شہر اور اُنتالیس نمبر بس۔یہ بس ائیر پورٹ سے شیرا کوٹ تک جاتی تھی، نہ جانے کتنی خاک، کتنے تنکے راستے میں بکھراتے ہوئے۔ اس کے راستے میں کینٹ بھی آتا تھا اور امراء کا گلبرگ بھی۔ یہ روڈ کلمہ چوک سے بھی گزرتا تھا اور اقبال ٹاون کی مون مارکیٹ سے بھی۔
    بس کے اندر سے باہر کی دنیا ہوا کی طرح یوں ہو کر گزرتی تھی جیسے کسی بہتی ندی کے کنارے بنے جوہڑ میں ندی کا کچھ پانی پھنس کر تھوڑی دیر کے لیے رک جائے لیکن پھر بے چین ہو کر تھوڑی ہی دیر میں ندی کے شور میں شامل ہو کر دوبارہ ندی ہو جائے۔




    بس کے دو خود کار دروازے آنے جانے والے پانی کو regulate کرنے کے لئے بنائے گئے تھے، بدلتے موسموں کو نہیں۔ سردیوں میں بس کی کھڑکیاں بند رہتی ہیں۔ اندر بھیڑ کی وجہ سے موسم گرم رہتا ہے۔ گرمیوں میں کھڑکیاں کھل جاتی ہیں پر اندر بھیڑ کی وجہ سے سب تنور ہو جاتا ہے۔ بسیں فطری طور پر گرمی پسند ہوتی ہیں لیکن انسان۔۔۔ انسان فطری طور پر اِختلاف چاہتا ہے۔ وہ گرمیوں میں سردی چاہتا ہے اور سردیوں میں گرمی۔ وہ ہر موسم میں بہار چاہتا ہے اور بہار میں بارش۔ اندر بھی ایک طرح کی بارش ہو رہی تھی۔ جلد کے پور کھل رہے تھے اور ہر طرف پسینہ بہ رہا تھا۔ قمیصیں جسم سے چپک گئیں تھیں۔ چہرے گیلے تھے اور دہشت عروج پر تھی۔ دوپہر کے تین بجے جتنے لوگ بس کی سیٹوں پر ہوتے ہیں اُس سے دُگنے سیٹوں کے بیچ چھت سے ٹنگی لوہے کی راڈوں سے لٹک رہے ہوتے ہیں۔ کچھ کے ہاتھ تو راڈ بھی نہیں آتی۔ پھر وہ ان راڈوں سے ٹنگے بھائیوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں جیسے سانسیں جسم میں اور جسم زندگی میں پھنس جاتے ہیں۔ جسمانی نفرت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ جذبوں کی طرح انسان بھی عروج و زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ بس میں موجود کچھ لوگ عروج کی طرف سفر کرنے والے ہوتے ہیں، کچھ زوال پہ آ چکے ہوتے ہیں اور کچھ عروج و زوال کے درمیان ڈائواں ڈول ہوتے ہیں۔۔۔
    فطرتاً سب مسافر اسی پانی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ دنیا کا ہر شخص ازل سے اس تلاش میں ہے۔ کسی کو یہ رزق علم سے ملتا ہے، کسی کو روحانیت سے، کسی کو محبت سے، کسی کو شہرت سے تو کسی کو پیسے سے۔ مختلف اقسام کے یہ رزق بانٹنے والے فرشتے بس میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے۔ کچھ مستقل طور پر یہاں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے تو کچھ مسافروں کے ساتھ چڑھتے اُترتے رہتے تھے۔ اس بس میں نوّے فیصد لوگ پیسہ ڈھونڈ رہے تھے۔ روٹی ڈھونڈ رہے تھے۔ ہر پیر کے نیچے گردش تھی اور نظریں آسمان کھوج رہی تھیں۔ روٹی ہر روح کو معلوم نا معلوم رستے کی طرف کھینچ رہی تھی اور کچھ کو کھینچتے کھینچتے اس بس میںلے آئی تھی۔ بہت سوں کو تو رزق اسی بس سے ملتا تھا۔
    ڈرائیور، کنڈیکٹر اور ٹکٹ چیکر کے علاوہ کئی ایسے دُکان دار تھے، جو اس بس میں دو گھڑی کے لیے چھابڑی لگاتے اور اگلے سٹاپ پہ اُتر جاتے۔
    صدر بازار کے پاس ایک سانولی سی جوان اوڈھ لڑکی مردوں کے حصے میں داخل ہوئی۔ ناک میں موٹی سی نتھ اور سر پر بڑا سا ڈوپٹہ اوڑھے۔ سارے مرد یکایک اُس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ بسوں میں مردوں کی توجہ کئی عورتوں کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے لیکن اُس کے لیے توجہ اک ہتھیار تھی۔ دو سیکنڈ سانس لے کر اُس نے ترنم چھیڑا۔۔۔
    شاہِ مدینہ۔۔۔ شاہِ مدینہ
    یثرب کے والی
    سارے نبی تیرے در کے سوالی
    شاہِ مدینہ۔۔۔ شاہِ مدینہ




    بس کا موسم بدلنے لگا۔ نگاہوں میں اک آواز لہرانے لگی۔ کسی کو اپنے گناہ یاد آئے تو کسی کو محرومیاں۔ اگلے سٹاپ سے پہلے پہلے نعت ختم ہو چکی تھی اور وہ گناہ گاروں اور نیکوکاروں سے اُن کی بخششں اور ثواب کے سکّے سمیٹ کر، اُنہیں اپنے حال پہ چھوڑتے ہوئے بس سے اُتر گئی۔ اُس کے اُترتے ساتھ ہی انسانیت کے اس مختصر ٹولے پر تاجروں، حکیموں اور علم فروشوں کی عنایت ہو گئی۔ خبر نامے کے مطابق آج ملک میں تجارتی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کی نعمتیں آ موجود ہوئیں۔ سب کچھ بکنے لگا۔
    "بہنوں اور بھائیو۔۔۔ جی میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حلال رزق عین عبادت ہے جو شخص جھوٹ بیچ کر مال بیچتا ہے وہ اللہ کا نہیں شیطان کا ساتھی ہے۔”
    بیان تو جاری ہو گیا لیکن منجن نہ بکا۔۔۔ حالاں کہ ڈبیا پہ منجن بنانے والے کی فوٹو بھی تھی۔ کتنی مشابہت تھی ان دونوں میں۔ ویسے بھی جب بنانے والے اور بیچنے والے کے نظریات ایک ہوں، جذبات ایک ہوں، مقاصد ایک ہوں تو صورتیں کیوں نہ ایک ہوں؟
    "دانت سے خون آئے تو نماز نہیں ہوتی۔” منجن نہ بکا۔
    "عزیز دوست پاس آنے سے کتراتا ہے۔” نہ جی نہ۔
    "معاشرے میںسبکی ہوتی ہے۔” کوئی چکر نہیں۔
    "محبوب سے راز و نیاز کی باتیں کم ہو جاتی ہیں۔” بک گیا۔
    ایک بوڑھے بابا جی کی عنایت ہو گئی۔ بارش کی اس پہلی بوند کے بعد بارش کے دو چارقطرے اور بھی ٹپکے لیکن پھوار نہ پڑ سکی۔ منجن فروش اگلے سٹاپ پہ اُتر گیا۔ آج صفائی ، صحت اور فارماسوٹیکل فرشتے کچھ سست سست سے تھے۔
    سفر جاری رہا اورسفر کرتے کرتے سڑک سورج کے قریب چلی گئی۔ زمین کی برف زوروں سے پگھلنے لگی۔ بس کی ساری سواریاں پگھلنے لگی۔پنجاب میں سیلاب کا موسم تھا۔ ہر طرف پانی آگیا۔۔۔ اور ہر زبان سوکھنے لگی۔
    ایک چودہ پندرہ سال کا لڑکا اس سیلاب میں دھڑا دھڑ پانی کے گلاس بیچنے لگا۔ پانی نیم گرم تھا۔ شائد یہ گرمی پانی نے تار کول کی اُس سڑک سے جذب کی تھی جس پر یہ لڑکا ننگے پیر دوڑ رہا تھا۔
    ٹھنڈی گنڈیری ، میٹھی گنڈیری۔ چند سکّوں کے عوض کچھ کڑوی زبانیں بھی میٹھی ہو گئیں۔
    بھیڑ میں پرانی قمیص اور سستی جینز پہنے شخص نے آواز لگائی۔۔۔ "چائنا آگیا، چائنا چھا گیا۔ بازار جا کر پوچھو تو اس بال پوائنٹ کی قیمت بیس روپے سے کم نہیں۔ کمپنی کی پروموشن واسطے اس وقت دو بال پوائنٹ اور ایک خالص جاپانی کاغذی پنکھے کے سیٹ کی قیمت ہے۔۔۔ دس روپے، دس روپے، دس روپے۔”
    اس نوجوان کے پیچھے سفید شلوار قمیص پہنے ایک عزت دار شہری کھڑا تھا۔ نوجوان کے چُپ ہوتے ساتھ ہی اس درمیانی عمر کے پاکستانی نے تقریر شروع کر دی جس کا لبّ لباب یہ تھا کہ پاکستانی معاشرہ تنزلی اور بے راہ روی کی طرف گامزن ہے۔ دین سے دوری نے زندگی میں برکت او ر روحانیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ رزق میں تنگی آ گئی ہے۔ پریشانیوں اور مسائل میں اِضافہ ہو رہاہے لیکن اس سب سے نجات ممکن ہے۔ طریقہ پانچ وقت کی نماز، اور نماز کے بعد چند دعائیں۔ ان دعاوں کا جاننا زیادہ مشکل نہ تھا کیوں کہ اس کے کاندھے سے لٹکے بیگ میںایک انمول کتاب بیسیوں کی تعداد میں موجود تھی۔ فلاحی اغراض کی بنا پر کمپنی بسوں میںاس کتاب کا ہدیہ صرف دس روپے وصول کر رہی تھی اور تو اور اس کتاب میں بس پر چڑھنے اور بس سے اترنے کی بھی دو سنہری دعائیں درج تھیں۔ یہ کتاب بس میں ہٹ ہو گئی اور اس دن کی بیسٹ سیلر قرار پائی۔ پوری سات کاپیاں فروخت ہوئیں۔ شائد سات زندگیاں بدل گئیں۔ کئی اور زندگیوں میں بھی برکتوں اور روحانیت کے چراغ روشن ہو جاتے اگر ملک خوش حال ہوتا اور جیبوں میں بس کا کرایہ چھوڑ کر اضافی دس روپے ہوتے۔۔۔ لیکن نہیں۔ ایسی صورت میں شائد اس عزت دار شہری کی ایک بھی کتاب نہ بکتی۔ بھوک مٹ جائے تو دسترخوان پہ کون بیٹھتا ہے۔ حسرتیں ختم ہو جائیں تو دعا کون کرے؟




  • پہلی محبت آخری بازی — شیما قاضی

    پہلی محبت آخری بازی
    پیش لفظ

    سخن میں دلکشی کچھ ہے تو عجب کیا اس میں؟
    خون سے ہر لفظ کو سینچیں تو کمال آتا ہے

    یہ کہانی تمہارے ذہن میں کیسے آئی؟ کیسے بھر دیتی ہو اتنے بڑے بڑے رجسٹرز؟ یہ اتنے سارے الفاظ کہاں سے آتے ہیں تمہارے ذہن میں؟ ایسے بہت سارے سوالات مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں لیکن مجھے تو شاید یاد بھی نہیں کہ لفظوں سے میرا ناطہ کب جڑا؟ لفظ تو رگوں میں یوں بہتے ہیں جیسے خون یا شاید اوپر سے مجھ پر اترتے ہیں لیکن مجھے اپنی صلاحیت کی پہچان عظمیٰ باجی کو چپکے چپکے ناول اور افسانے لکھتے دیکھ کر ہوئی اور پھر میں نے بھی کاغذ پر لفظوں کو بکھیرنا شروع کیا…
    اس سفر میں جن لوگوں نے مجھے سپورٹ کیا ہے ان میں میرے والدین (انوارالحق راہی اور نشاط بیگم) میرا بھائی اور میری پانچ بہنوں کے ساتھ ساتھ میرے اساتذہ اور تمام دوست شامل ہیں۔
    ”پہلی محبت آخری بازی” کی کہانی ایسے کرداروں پر مبنی ہے جس کے نظریات ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں۔ اس ناول کو لکھتے ہوئے میں نے اپنے معاشرے میں حسد جیسے منفی پہلو کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کیوں شدید محبت میں حسد بھی محبت کی ہی ایک قسم ہے۔ اس کہانی میں جہاں اپنے حسد کی آگ میں جل کر اپنی محبت کو جلا کر راکھ کرنے کا حوصلہ رکھنے والے کرداروں سے تعارف کروایا گیا ہے۔ وہاں محبت کی خاطر قربانیاں دینے والے کردار بھی نظر آتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انسان رحمانیت اور شیطانیت کا مجموعہ ہے اگر اس کی رحمانیت غالب آتی ہے تو وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اگر اس کی شیطانیت غالب آتی ہے تو وہ برائی کی طرف جاتا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اچھائی کی طرف جائیں یا پھر برائی کے پودے کو غذا دے کر اتنا پروان چڑھائیں کہ وہ برائی ہماری ذات کا حصّہ ہی بن جائے۔ الف کتاب کا پلیٹ فارم میرے لیے گولڈن چانس تھا جس کے لیے میں اپنی دوست ندا کی بہت شکر گذار ہوں جس نے مجھے میسج کرکے بتایا اور یوں دن رات ایک کرکے رمضان کے مہینے میں آدھی آدھی راتوں کو ٹارچ کی روشنی میں تقریباً پچیس دنوں کے اندر اندر میں نے یہ کہانی لکھی۔ مجھے اندازہ بھی نہ تھا کہ اتنی کم عمری اور کم علمی کے باوجود میں اس پاک سرزمین کے لکھاریوں کی صف میں شامل ہوجاؤں گی بہرحال میں تو الف کتاب کی پوری ٹیم کی تہ دل سے شکر گذار ہو جنہوں نے خاص میرٹ کی بنیاد پر میری کہانی کو سلیکٹ کیا اور میری تحریر دوسرے انعام کی حق دار ٹھہری۔
    شیما قاضی




  • چائے والا — ایم رضوان ملغانی

    چائے والا — ایم رضوان ملغانی

    دِن بھر کی تھکن اور مشقت نے اس کے پورے وجود کو ڈھانپا ہوا تھا۔ اسے ہلکا ہلکا بخار بھی تھا، اس کے باوجود بھی اس نے آج ناغہ نہیں کیا تھا۔ وہ سارا دن چائے بناتا اور پیالیاں بھرتا رہتا۔ ابھی تھوڑی دیر قبل ہی وہ فارغ ہوا تھا اور بادامی رنگ کی پیوند لگی، جگہ جگہ سے جلی ہوئی، میلی سی چادر پہنے سکڑا ہوا بیٹھا تھا۔ سردی کی شدت اتنی تھی کہ اس کے دانت بج رہے تھے اور مالک اتنا سخت تھا کہ جب وہ دیکھتا کہ گاہک کم آرہے ہیں تو انگیٹھی کی آگ بجھوا دیا کرتا۔ مری کا مال روڈ تھا اور دسمبر کی سردی اپنے جوبن پر تھی۔
    مالک نے ہوٹل میں نیا نیا اکیس انچ کاٹی وی لگوایا تھا، ساتھ ہی ڈش بھی… ہر اتوار کو ایک چینل پر پرانی پاکستانی فلم لگا کرتی جس کا مالک کو بڑی بے صبری سے انتظار رہتا۔ اتوار آتا تو مالک کے تو وارے نیارے ہو جاتے، لیکن اس کی شامت آجاتی… عام، دنوں میں بھی اگر کوئی اچھا شو چلتا تو مالک دیکھنے بیٹھ جاتا اور ساتھ ہی اسے بھی بٹھائے رکھتا، یہ جاننے کے باوجود بھی کہ اس کی ان چیزوں میں کوئی دل چسپی نہیں۔ سامنے والی دیوار پر لگی گھڑی نے ابھی ابھی گیارہ بجائے تھے لیکن اس کے منہ پر بارہ بج رہے تھے… ٹی وی کی آواز خطر ناک حد تک تیز تھی اور سلطان راہی کے بڑھکیں پورے ہوٹل میں گونج رہی تھیں۔
    ”مالک! فلم ختم ہونے میں کتنا دیر ہے؟ مجھے گھر جانا ہے۔” اس نے سہمی ہوئی کپکپاتی آواز نکالی، جو اتنے شور میں مالک کے کانوں تک نہ پہنچ پائی۔ اس نے دوسری بار یہی جملہ دہرایا تو مالک نے سن لیا اور کُن اکھیوں سے اسے گھورا۔ وہ اس گھوری سے مزید سکڑ کر بیٹھ گیا۔ دوسری جانب ٹی وی پر صائمہ ناچ ناچ کر کھڑی فصلیں تباہ کررہی تھی… اور مالک ”اوتیری خیر” کرتے کرتے نہ تھکتا تھا۔
    اس نے اپنا سر دیوار سے ٹکا لیا اور آنکھیں موند لیں۔ اس کی آج کی رات پھر برباد ہوگئی تھی۔
    ٭…٭…٭





    فلم پورے بارہ بجے ختم ہوئی تھی۔ ہوٹل کا سامان سمیٹتے اور ہوٹل کے باہر پڑی کرسیاں اور میزیں اندر منتقل کرتے کرتے اسے ساڑھے بارہ ہوگئے تھے۔ مالک نے شٹر نیچے گرایا اور اس نے دل ہی دل میں شکر کا کلمہ پڑھا۔ مالک اپنی سر مستی میں جھومتا گاتا، فلم کے قصیدے پڑھتا چلا گیا اور اس نے اپنے گھر کی راہ لی تھی۔
    ہلکی ہلکی سی دھند نے درختوں اور پہاڑوں کو لپیٹا ہوا تھا۔ ٹھنڈی یخ ہوائیں چل رہی تھیں جو اسے مزید کپکپارہی تھیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم بھرتا، اپنے ہاتھ مسلتا ہوا گھر کی طرف چلا جارہا تھا اور ذہنی طور پر خود کو روز پوچھے جانے والے سوالوں کے لیے تیار کررہا تھا۔ سوال اس کا باپ کرتا… لالہ رخ کرتی… اور اس کی ماں کیا کرتی۔ سوالوں کی نوعیت، لہجہ سب کا مختلف ہوا کرتا۔ ابا کے سوالوں میں سختی اور ڈانٹ کا عنصر غالب رہتا، لالہ رخ کے سوالوں میں لاڈ، پیار، معصومیت، شرارت، شوخی سب کچھ جھلکتا تھا اور ماں کے سوالوں میں ڈھیر ساری فکریں، اندیشے اور وسوسے ہوتے۔ وہ ان سوالوں کے جواب آرام سے سبھاؤ کے ساتھ دیا کرتا اور خود اپنے آنسو تکیے کے لیے محفوظ کئے اپنے بستر کی راہ لیتا۔ وہ جاکر لیٹتا تو ہر رات اس کے اپنے سوال اس کے ذہن میں گونجتے رہتے ایک طلاطم بپا کئے رکھتے اس کے اندر۔ لیکن وہ یہ سوال کبھی اپنوں سے نہیں پوچھ پایا تھا۔ اس نے اپنے سوال اپنے اندر دبا لئے تھے، لیکن باقیوں کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے وہ ہر وقت تیار رہتا۔ وہ ایمل خان تھا اور ایمل خان نے کبھی ہار نہیں مانی تھی۔
    ٭…٭…٭
    رنگوں، رعنائیوں، روشنیوں اور خوب صورتیوں سے سجی رات اپنے عروج پر تھی۔ ایک طرف ریمپ پر واک کرتے ماڈلز جلوے بکھیر رہے تھے تو دوسری جانب شو سے محظوظ ہونے والوں کا جوش دیدنی تھا۔ آگے کی قطاروں میں بیٹھے ہوئے فوٹو گرافرز کے کیمروں کے فلش ماڈلز کے ملبوسات کو اور نمایاں کررہا تھا۔ پیچھے بیٹھے لوگ ستائش بھری نگاہوں سے ماڈلز اور ان کے آؤٹ فٹس کو دیکھ رہے تھے۔ ہر لب سے "wow” کی صدا ہی گونج رہی تھی۔ روحیل وحید نے اپنی جھلک دکھلائی اور حاضرینِ محفل کے دلوں کی دھڑکنیں تھمنے لگیں۔تالیوں، سیٹیوں اور چیخوں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی دیتی تھی۔ وہ مسحور کرکے رکھ دینے والے انداز میں خوب صورت سی مخملیں شیروانی پہنے ہوئے ریمپ پر چلتا ہوا آرہا تھا۔ دادوتحسین کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ ایسے میں وہاں حاضرینِ محفل میں موجود واحد لڑکی نیہا تھی جس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے تھے اور وہ اٹھ کر چلی گئی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”نیہا آخر تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے اتنی سی بات کو لے کر تم اتنی Hyper کیسے ہوسکتی ہو۔” وہ میک اپ روم میں تھی اور وہ بھی اس کے پیچھے وہیں آیا تھا اور آتے ہی اس نے چیخنا شروع کردیا۔
    ”میں تمہارے کسی سوال کی جواب دہ نہیں ہوں اور بہتر ہو گا کہ تم یہ سوال مجھ سے پوچھنے کے بجائے خود سے پوچھو۔” نیہا نے اپنا کیمرہ اٹھاتے ہوئے عجیب سے انداز میں کہتے ہوئے وہاں سے جانے لگی تو روحیل نے اس کا بازو پکڑ لیا۔
    ”خود سے پوچھا ہے۔ کئی بار پوچھا ہے اور جب جب پوچھا ہے تمہاری اتنی سطحی سوچ پر سوائے ہنسی کے اور کچھ نہیں آیا” وہ وحشت زدہ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
    ”مرد ہوتا ہی بے وفا ہے۔” وہ اپنا بازو چھڑاتے ہوئے بولی۔
    ”عورت ہوتی ہی بے وقوف ہے۔” وہ اس کے بازو کے گرد اپنے ہاتھ کی گرفت مضبوط کرتے ہوئے بولا۔
    ”میں نے کہا مجھے جانے دو، میں تم سے مزید بحث نہیں کرنا چاہتی۔” وہ چلا کر بولی تھی۔
    ”اور تم میرے ساتھ بحث کر بھی نہیں سکتیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہاری سوچ بھی Typical middle class لڑکیوں جیسی ہوگی۔” اس دفعہ وہ قدرے آرام سے بولا تھا۔
    ”رونا تو اسی بات کا ہے تم سارے مرد عورت کو مڈل کلاس یا اپرکلاس کے طعنے دیتے دیتے زندگی گزار دیتے ہو۔ لیکن کبھی عورت کے دل کو نہیں پرکھتے۔” وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اور روحیل وحید نے سگریٹ سلگا لیا۔
    ٭…٭…٭




    صبح کا سورج طلوع ہوا تو ہر طرف چاندنی سی پھیل گئی تھی… اُجالا ہی اجالا۔ لالہ رخ کتنی دیر سے ایمل خان کے پاس کھڑی اسے جگا رہی تھی لیکن وہ ٹس سے مس بھی نہیں ہوا تھا۔
    ”اٹھ جاؤ لالا دیر ہورہی ہے آج کام پر نہیں جانا کیا۔” آخر لالہ رخ زچ ہوکر بولی۔
    ”صبر کرو ابھی بابا کو جاکے بتاتی ہوں وہ تمہارا کام تمام کرے گا۔”
    لالہ رخ کا اتنا ہی کہنا تھا کہ ایمل خان فوراً سے پیش تر کمبل پھینک کر اٹھ بیٹھا اور آنکھیں ملتے ہوئے بولا:
    ”تم نے بھی اچھا دھمکی دینا سیکھا ہوا ہے ہم کو ڈرانے کے لیے۔”
    ”یہ ہوئی نا بات۔ اب جلدی سے منہ ہاتھ دھو لو پھر ناشتہ کرنا۔” لالہ رخ پیار سے اس کا ناک پکڑ کر بولی۔
    ”اُٹھ گیا تمہارا لاڈلا بھائی؟ جلدی کیوں نہیں اٹھتا تم، کام پہ جائے گا یا نہیں؟” ابھی وہ وہاں سے جانے کو تھی کہ اس کا باپ اکبر خان آکر طنزیہ انداز میں بولا۔
    ”جائے گا! بابا جائے گا کیوں نہیں، وہ رات مالک نے دیر سے چھوڑا ناں اس لیے دیر تک سوتا رہا آج لالا۔” لالہ رخ بھائی کی طرف داری کرتے ہوئے بولی۔
    ”سارے بہانے ہیں اس کے، چلا گیا ہوگا اپنے آوارہ دوستوں کے پاس ہوٹل سے۔” اکبر خان اونچی آواز میں بولا۔
    ”نہیں بابا! ہم کو رات بخار تھا اور مالک فلم دیکھتا رہا، بارہ بجے اٹھا اس لیے ہم بھی رات گھر دیر سے آیا۔” ایمل خان آہستہ سے بوالا۔
    ”اچھا اچھا بس بس زیادہ صفائی دینے کا ضرورت نہیں ہم کو، جلدی سے اٹھو ناشتہ کرو اور ہوٹل جاؤ، تمہارا مالک کا فون آیا تھا، پوچھ رہا تھا کہ ابھی تک ایمل خان کیوں نہیں آیا۔” اکبر خان یہ کہتا ہوا چلا گیا۔ ایمل خان جلدی سے اٹھا اور منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کرنے بیٹھ گیا۔
    ٭…٭…٭
    رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے وہ ابھی تک سو رہی تھی اور بہت گہری نیند میں تھی کہ سائیڈ ٹیبل پر پڑا اس کا موبائل بجنے لگا۔ وہ کسل مندی سے آنکھیں رگڑتے ہوئے موبائل کو اٹھانے لگی تھی کہ موبائل سکرین پر جگمگاتے نام اور نمبر کو دیکھ کر اسے شاک لگا کیوں کہ وہ بالکل توقع نہیں کررہی تھی کہ رات کو ہونے والی گفتگو کے بعد بھی روحیل اسے کال کرے گا۔ اس نے کال کاٹ دی اور پھر سے سوگئی۔ کچھ ہی دیر بعد موبائل پھر بجنا شروع ہوگیا تھا۔ اب کی بار اس نے موبائل اٹھا کر سوئچ آف کردیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    پلوشے کی لش پش دیکھنے لائق تھی۔ حسین بھی تو بہت تھی وہ، خوب صورت گول چہرہ، بڑی بڑی آنکھیں، گھنی گھنی پلکیں کہ پلک جھپکتے چینی گڑیا کا گمان ہوتا… ہر وقت بنی سنوری رہتی… گہرے رنگ کے کپڑے پہنتی اور گہرے رنگ کی سرخی سے ہونٹوں کو گلابی تو ضرور کرتی۔ ابھی دو دن پہلے کی تو بات ہے خانم جان نے خوب دل لگا کر اس کے لیے پشتو فراک تیار کیا تھا۔ اور اس سدا کی بے صبری سے صبر نہ ہوا، آج ٹرنک سے فراک نکالا اور لگی اپنا بناؤ سنگھار کرنے۔ پشتو گیت گائے جاتی اور چہرے کی کھلی کھلی گلاب جیسی رنگت مزید گلابی ہوئے جاتی۔ ابھی سر پر دوپٹہ نکانے کو تھی کہ اماں آگئی۔ اُدھر مورے نے کمرے میں قدم رکھا، ادھر اس نے دوپٹہ پرے پھینک دیا۔




  • درخت اور آدمی — محمد جمیل اختر

    درخت کے سائے میں بیٹھے بیٹھے ایک دن وہ اُکتا گیا، یہ دنیا اتنی بڑی ہے میں کب تک یہاں پڑا رہوں گامجھے ضرور یہاں سے جانا ہوگا۔
    ”میں یہاں سے جارہاہوں ” ایک دن اُس نے درخت کو اپنا فیصلہ سُنا یا۔
    درخت جو اُسے سایہ دینے میں ایسا مگن تھا کہ اُسے یقین نہ آیا۔
    اُس نے اپنی شاخیں پھیلائیں اورکہا: ”دیکھو یہاں سے مت جائو تمہارے بغیر میرا کیا ہوگامیں اپنی شاخوں کو اور گھناکر دوں گابس تم یہیں رہو میرے پاس۔”
    ” میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں وہاں سے تمہارے لیے کھاد اور پانی بھیجوں گا”
    ”تم پھر سوچوشاید کوئی اور حل نکلتاہو دیکھومیں تمہارے بغیرنہیں رہ سکتاتمہارے سوایہاں میرا کون ہے ؟”
    ”کئی اور مسافر آئیں گے تمہارے سائے میں بیٹھیں گے تم سے باتیں کریں گے تم پریشان نہ ہو میں لوٹ آئوں گا۔” اور وہ وہاں سے دور بہت دور جا کر آباد ہوگیادرخت ساری رات روتا رہااور بہت سی شاخیں اُسی رات ٹوٹ کے گرگئیں ۔
    مدتیں گُزریں وہ پلٹ کر نہیں آیانئے شہر کے نئے ر نگ تھے نئی مصروفیات تھیں ،ہاں لیکن شہر میں جب کبھی اُسے گائوں کا کوئی آدمی ملتا تو وہ اُس سے درخت کے بارے ضرور پوچھتا۔




    شروع شروع میں لوگوں نے اُسے بتایا کہ درخت کے پتے گر گئے ہیں اور وہ ساری رات روتا ہے شاید دیمک لگ گئی ہے اُسے۔ ”
    ”لیکن میں تو کھاد اور پانی ہر ماہ بھیجتا ہوں کیا یہ محکمے کے لوگ میرا سامان وہاں نہیں پہنچاتے؟”
    ”کھاد اور پانی پہنچ رہا ہے لیکن درخت پہ بہار نہیں آرہی ایک بار دیمک لگ جائے تو کہاں بہار آتی ہے۔”
    وہ فکر مند ہوا درخت کو دیمک لگنے کا خیال اُسے بار بار ستاتا لیکن شہرکی مصروفیات نے اُسے یہ سب آخر بھلا دیا، کچھ اور عرصہ بیت گیا اُسے لوگوں نے بتایا کہ درخت کی سب شاخیں ٹوٹ چکی ہیں اور وہ نیچے بیٹھے مسافروں میں سے کسی کو نہیں پہچانتا۔
    اُس نے درخت کو پیغام بھیجا کہ وہ شہر آجا ئے کہ یہاں پرانے درختوں کی دیکھ بھال کے لیے الگ نرسریاں آبادہیں۔
    ”میں کیسے آسکتا ہوں ، میں تو درخت ہوں زمین سے جڑا ہوادرخت۔”
    پھر وہ ایک مدت بعددرخت کے پاس لوٹ آیا ۔
    ”میں آگیا ہوں، تم خاموش ہو، مجھے پہچانو میں آگیا ہوں تمہاری شاخیں تمہارے پتے کہاں ہیں ، بولوتم بولتے کیوں نہیں۔”
    ٹنڈ مُنڈ سے درخت نے سر اُٹھا کر اُسے ایک نظر دیکھا (ایسی نظر سے کہ جس کو سمجھنے کے لیے آدمی کو کم ازکم درخت ہونا پڑے گا)۔

  • لال کتاب — حنا یاسمین

    اس کچے سے صحن میں شام اُتر رہی تھی۔ ہوا نے چلنے سے انکار کر دیا اور بڑھتی حبس نے سینوں کے اندر دھڑکتے دل پژمردہ کر دیئے تھے۔ وہ خاندانی گویئے تھے۔ سال ہا سال سے گیت سنگیت کا کام کیا جاتا۔ سارنگی… باجے… ہیلا… بگل سنگھا… ترئی… دف… ڈھول… …ستار… سنکھیا… بینجو… پیالو… جھانجر … ڈگڈگی… ڈھولک… سرود… سیٹی اور سرمہ تقریباً سبھی سے واقف تھے۔ یہ سارے موسیقی کے آلات اُن کے لیے روحانی پیشوائوں کی طرف سے عبادت کا ایک ذریعہ تھے۔ ان کو بجانے۔ دھنیں بنانے اور نت نئی اختراع، موسیقی کی دنیا میں متعارف کروانے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ صبح جب سورج اپنے نور کی پہلی کرن کو دھرتی کا دکھ سمیٹنے کیلئے بھیجتا تو اس گھر میں مرغ کی بانگ کے ساتھ ہی ریاض کا کام شروع کر دیا جاتا۔ پائل… چمپا… سسی اور ان کا باپ مورکھ راج اپنے کام کا آغاز کر دیتے۔ تینوں بیٹیاں، باپ کے ہم راہ ریاضت سمجھ کر موسیقی کے آلات سے آشنائی حاصل کرتیں۔ سمن لال ان سے نئی نئی دھنیں تیار کرواتا اور بڑے بڑے پروڈیوسروں کے ہاتھوں بڑی بڑی قیمتوں میں بیچ آتا، چار پیسے مورکھ راج کے ہاتھ پر بھی رکھ دیتا۔ یہ غریب تین بیٹیوں کا بوجھ کندھوں پر اٹھائے ہنسی خوشی قبول کرتا۔





    بس بھگوان کی کرپا ہے… کبھی وہ وقت بھی تھا… جب دو نوالے روٹی کے نصیب نہ تھے۔ وہ جب بھی سمن لال سے پیسے وصول کرتا تو کتنی ہی دیر پیسے آنکھوں پر لگائے۔ بھگوان کا شکر ادا کرنے لگ جاتا۔
    احمدپور شرقیہ کی اس پرانی حویلی میں پچھواڑے کا حصہ بیچ کر باقی والا صحن اور برآمدے کے ساتھ والے دو کمرے مورکھ راج کے تھے۔ جن لوگوں کو اس نے پچھواڑے کا حصہ بیچا تھا ان لوگوں نے اس پر چار دیواری ڈال کے صرف جگہ گھیری تھی۔ خرید کر کوئی تعمیراتی کام اس پر شروع نہیں کیا تھا۔ چمپا کتنا روئی تھی جب اس کی ماتا کے مرنے کے بعد اس کے پتا نے پیچھے کا حصّہ بیچ ڈالا۔ وہاں موتیا کی کلیاں اور گلاب کی کیاریوں کو اس نے اور پائل نے کتنی محبت سے اُگایا تھا۔ پھر پھول کھلتے اور وہ خوب صورت گجرے بنا کر سسی کو دیتیں۔ سسی کو الٹی چٹیا گندھوا کر ان پر پھول سجانے کا بڑا شوق ہوتا۔ وہ سب سے چھوٹی اور مورکھ راج کی لاڈلی تھی۔ پائل چٹیا بنا دیتی اور چمپا اس کے بالوں میں موتیے اور گلاب کی کلیاں ٹانک دیتی پھر وہ احمد پور شرقیہ کی گلی گلی… محلہ … محلہ پھرتی… بیس بیس روپے اور پندرہ پندرہ روپے میں گجرے فروخت کر آتی۔ چمپا شادیوں میں ڈگڈگی… ڈھولک… جھانجر بجا آتی۔ پائل کو کتھک ڈانس کی اچھی مشق تھی۔ بھلا ہو صلہ دیدی کا… چندی گڑھ سے انہیں پاکستان ملنے آئی اور یہ فن پائل میں منتقل کر گئی۔ ہنر کوئی بھی بے کار تھوڑی جاتا ہے۔ جب گندم پکنے کے دن آتے یا چاولوں کی فصل کھڑی ہوتی تو سانول گائوں سے تانگہ لے آتا۔ چودھریوں کے ہاں محفل موسیقی رکھی جاتی… یا بچے کی ولادت کی خوشی میں جشن… چمپا گانا بجانا کرتی اور پائل ناچ ناچ کر اُن کے بڑے دالانوں میں مورنی بنے پھرتی۔ گندم کے دانے اور چاولوں کی بوریوں سے کچھ مہینے آرام سے گزر جاتے۔ چودھرائن کبھی میٹھا گُڑ اور کٹے کا گوشت بھی عنایت کر دیتی۔ البتہ وہاں سے وہ کچھ کھا نہ سکتی تھیں۔ اگر کھانا آتا بھی تو علیحدہ برتنوں میں۔ وہ لوگ خاندانی مسلمان تھے اور وہ ہندومذہب کی تھیں بھلا ان کے ساتھ کچھ کھایا پیا جا سکتا تھا؟
    پائل کی آنکھیں بہت پیاری تھیں پھر امّاں نے جنہیں وہ بی بی جان کہتی تھی چاندی کی نتھلی اُسے تحفتاً دی۔ وہ پہن کر تو اس کی سنہری رنگت اور دمک گئی تھی۔ نور باجی تو سچ مچ کسی دیوتا کی دیوی لگتی۔ پائل کی اس کے ساتھ اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ ہر وقت سفید دوپٹہ اور سفید شلوار کے ساتھ کسی بھی رنگ کی قمیص زیب تن کئے رکھتی۔ بس دوپٹہ اور شلوار لازماً سفید رنگ کے ہوتے۔ بی بی جان کہتی تھیں کہ اُن کا خاوند شہید ہو گیا ہے۔ اسی لیے وہ ان کے ہاں رہتی تھیں۔ پائل کیا جانے شہید کیا ہوتا ہے۔ چمپا بتاتی تھی کہ جو ان کے بھگوان کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کر دے وہ شہید ہوتا ہے۔ چمپا نے مسلمانوں کے سکول سے کچھ جماعتیں پڑھی ہوئی تھیں۔ نور باجی کی آنکھیں ہر وقت متورم سی رہتیں اور ان کی نازُک سی ناک پر چمکتی ہیرے کی لونگ میں بھی اداسیاں گھُلی رہتیں۔ وہ اداس شام میں کھڑی سفید مورتی لگتی۔
    بی بی جان کبھی کبھی پائل کو بلوا بھیجتی تاکہ نور باجی کا دل لگا رہے۔ اس بڑے سے گھر میں نوکر… چاکر… ڈھور ڈنگروں کے علاوہ وہ دونوں خواتین رہتی تھیں۔
    یہ لوگ گدی نشین تھے۔ ان کے بڑے ابا کی وفات کے بعد ماحول قدرے بدل گیا۔ اب گانے بجانے… ساز و آلات… سب کچھ جائز تھا۔ بدلتی رتوں اور گزرتے وقت نے بہت کچھ نیا اور انوکھا کر دیا تھا۔





    نور باجی کا بھائی وجاہت حسین ولایت پڑھنے گیاتھا۔ بی بی جان بتاتی ہیں کہ وہ ہر سال آجاتا جب آموں پر بور آنے لگتی اور موسم اپنی کروٹ بدلنے لگتا۔ کوئی وقت مقرر نہ تھا۔ ہر سال بعد اُس کا چکر ضرور لگتا۔ گائوں کی زمین کو نور باجی کے چاچے سنبھالتے… لوگ چودھریوں کی عزت بہت کرتے تھے، نور باجی لال رنگ کی کتاب بہت شوق سے پڑھتیں۔ پائل حیران ہوتی اُس کتاب کو پڑھنے سے پہلے وہ ہاتھ دھوتیں۔ منہ دھوتیں… پائوں دھوتیں… اس کو چومتیں، سینے سے لگاتیں اور پھر پڑھنے بیٹھ جاتیں۔ پائل کو اس وقت وہ درشن دیوی کی طرح پوتر اور دودھ سے دُھلی لگتیں۔ ان کے چہرے پر ایسا حزن ہوتا۔ ایسی سرمستی ہوتی جیسے گرما میں اترتے ٹھنڈے بادلوں کی اوٹ میں بیٹھا مدھم چاند… یا سورج کی کرنوں کو اپنے پروں میں سمیٹ کر زمین پر پھیلی پیلی دھوپ سمیٹے پچھم سے پورب کی طرف بہتی ہوائیں…
    ”وقت کا بھی نشہ ہوتا ہے پائل!… جب شام ہمارے چوباروں پر ڈیرہ جمانے آتی ہے اور دن بھر کی تھکی کرنوں کو واپس بھیجنے کیلئے کمربستہ ہوتی ہے تو دل پر یادوں کے دریچے کھل جاتے ہیں، روح پر اداسیاں اترنے لگتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ وجود گھائل ہو اور نمک کی طرح پگھل کر اپنا آپ کھو دے، تب یہ لال کتاب مجھے بہت سنبھالتی ہے…”
    ایک دن پائل کے استفسار پر کہ وہ اس مخصوص وقت میں ہی کیوں لال کتاب پڑھتی ہیں پر انہوں نے مفصل جواب دیا۔
    ”نور باجی! یہ کتاب ساری اداسی دور کر دیتی ہے…؟ وہ حیران ہوتی۔
    ”یہ کتاب اداسی بھی دور کرتی ہے… بیماری بھی… دکھ درد بھی…” وہ پیار سے اس بھولی بھالی لڑکی سے بولیں۔ ”ہر دکھ تکلیف…؟” وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں مزید پھیلا کر پوچھتی۔
    ”ہاں ہر دکھ ہر تکلیف…” اُس کی آنکھوں میں اشتیاق ہی نہیں بلکہ ایک شوق کا جہان آباد تھا۔ پائل کو لگا اس کتاب سے اچھا کوئی ہم درد نہیں۔ وہ نور باجی سے کتاب سننے کی فرمائش کرتی۔ وہ اس کی بات مان جاتیں اور اُسے کتاب پڑھ کر سنانے لگتیں۔ الفاظ موتی بن جاتے جو اس کے دل پر اِترا اِترا کر شوق اور دل چسپی کا محل تعمیر کرنے لگتے۔ وہ بھاگی بھاگی نور باجی سے ملنے سانول کے پیغام پر جاتی۔
    پچھلے کچھ دنوں سے ابّا کی کھانسی زور پکڑنے لگی تھی… ریاض ٹھیک نہ ہو پاتا۔ سوہنی خالہ کے کہنے پر ابّا کو دارچینی اور الائچی کی چائے بھی دی۔ موڑ پر موجود حکیم جان محمد سے نیلی شیشی والا شربت بھی لے کر پلایا پر ابّا ساری رات کھانستا رہا۔ سسی کی آنکھیں بھرنے لگی۔ پائل اور چمپا کتنی ہی دفعہ سسی سے چھُپ کر رو چکی تھیں۔ اسی طرح ان کی ماتا کی کھانسی نہیں رکتی تھی اور پھر ایک دن وہ چپکے سے بھگوان کے پاس چلی گئی۔ اب پِتا جی…؟ سو ہنی خالہ نے انہیں ابا کہنا سکھایا تھا۔ مُسلوں کے محلے میں پِتا ماتا عجیب سا لگتا۔ مسلمانوںکو ابّا مُسلے کہتا تھا۔
    سنکھیا… ستار، سارنگی… جھانجر… بینجو بھی انہی کی طرح اُداس تھیں۔ مورکھ راج کے سُر بکھرنا بند ہو گئے… شدید طوفان میں لٹکتی کچی اینٹوں کی طرح ٹوٹتی دیوار جیسی زندگی رہ گئی۔
    اور لالی… کوّے اور چڑیا کی آواز پر اُٹھتی چمپا نے صحن کے کچے حصے سے پودینہ کی پتیاں اُتار کر ابّا کے لیے قہوہ بنانے کا انتظام کیا۔ ابّا کھانس کھانس کر پرانی جھلنگا چارپائی کی رسی کے ساتھ جھول رہا تھا۔ کھانسی اُسے ٹِک کر کسی ایک جگہ پر قائم رکھنے میں ناکام ثابت کر رہی تھی اور قہوہ سمیت ابّا کے پاس پہنچی چمپا کی چیخوں نے صحن کے دوسری طرف پڑی چارپائی پر موجود دو نفوس کو ہڑبڑا کر اُٹھنے پر مجبور کیا تھا۔ ”ابّا مر گیا…؟” سسی نے بے ساختہ پائل کی کلائی پر اپنے پنجے گاڑے شیر کو دیکھ معصوم ہرنی کی آنکھوں میں اُتر جانے والی اداسی کے سارے رنگ اُس کی نگاہوں میں نظرآرہے تھے۔ ”بھگوان کی کرپا… ایسے نہ کہو…” پائل اُس کی بات دہل کر بولی۔
    ”چمپا کیوں چیخی…؟” پائل کی آواز گونج بن کر اُس کے کچے صحن میں پھریریاں لے کر عقبی دیواروں سے ٹکرائی… پھر آناً فاناً کھیس پیچھے پھینکے گئے۔ ٹوٹی نائلون کی جوتیوں میں پیر پھنسائے، خاکستری گلابی اوڑھنیاں گردن کے گرد جھلاتی دو لڑکیاں ایک گُندھے بالوں والی اور ایک چھوٹی لٹوں کو سر کے دائیں بائیں گھماتے ابّا کی چارپائی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئیں۔ ابّا کا استخوانی ہاتھ لال نشانوں اور نیلی ٹکیوں سے بھر گیا تھا۔ پھر ایسے ہی نشان کمر سے لے کر پیٹ تک بنے ہوئے تھے۔ چمپا جیسی چیخ پائل اور سسی نے بھی ماری۔ چیخوں نے آپس میں مقابلہ کیا اور دوڑ میں سسی کی چیخ کو پیچھے چھوڑتی، پائل کی چیخ خالہ سو ہنی کے مکان تک پہنچی۔ وہ دوڑی چلی آئیں۔ تینوں لڑکیوں کے آنسو پونچھے اور نیلی شیشوں کی دکان سجائے حکیم جان محمد کے پاس پہنچ گئی، انگوری رنگ کا پھٹا ہوا تنبو پہنے۔ چمپا مُسلوں کے برقعہ والی خواتین کو تنبو پہننے والی خواتین کہتی تھی، جو شادی بیاہ میں لگائے جاتے۔ حکیم صاحب سکّہ رائج الوقت کے مطابق پندرہ روپے اور پچیس پیسہ پر راضی ہو کر گھر مورکھ راج کو چیک کرنے آگئے نیلے سرخ نشانوں کو اس نے کسی ماہر ڈاکٹر کی طرح چیک کیا۔ ”اس کا تو خون خراب ہے۔ بڑے ہسپتال لے جانا پڑے گا۔ پھر ڈاکٹر اِس کے ٹیسٹ کرے گا اور بیماری کے بارے میں بتائے گا۔ بیٹا یہ تو بہت لمبا چوڑا کام ہے۔ اس پر بہت پیسہ لگے گا۔” حکیم جان محمد نے تینوں بہنوں کے پیروں سے جان نکال دی۔ ابّا کو بچانا بھی ضروری تھا۔ ان کے علاوہ اس جہاں میں ان کا تھا ہی کون…؟ پر پیسہ وہ بھی اتنا سارا اکٹھا کہاں سے لے کر آتیں۔ سمن لال نے دو ہزار روپے نئی دھن بنانے کے دیئے۔ حالاں کہ پیچھے سے وہ پتا نہیں کتنے لاکھوں کما کر لایا تھا۔ دو ہزار لے کر پائل خوشی خوشی حکیم جان محمد کی دکان پر گئی۔




  • انہیں ہم یاد کرتے ہیں — اشتیاق احمد

    انہیں ہم یاد کرتے ہیں — اشتیاق احمد

    اشتیاق احمد کا نام آتے ہی ذہن میں انسپکٹر جمشید،ایک مستعد ،ایمان دار اور محب وطن پولیس آفیسر کا خاکہ بننے لگتا…محمود، فاروق اور فرزانہ کی نوک جھونک، شرارتیں،غیر معمولی ذہانت اور بر وقت سمجھ داری، بچپن کی یادیں تازہ کرنے لگتی ہے۔
    اشتیاق احمد ہمارے ہیرو تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے ہمیں اپنی تحریروں کے ذریعے وطن سے محبت اور وفاداری کا سبق دیا… اشتیاق احمد 1944ء کو پانی پت، ضلع کرنال میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے زمانے میں پاکستان ہجرت کی اور ان کا گھرانہ جنگ میں آبسا… انہوں نے ستر کی دہائی کے آغاز میں لکھنے کی ابتدا کی… شروع میں انہوں نے بچوں کی کہانیاں لکھیں اور پھر 1973ء میں باقاعدہ ناول لکھنے کا آغاز کیا جو بنیادی طور تو جاسوسی تھے مگر ان میں بچوں کے لیے دینی تعلیمات اور اصلاحی مواد بدرجہ اتم موجود ہوتا… ان کی یاد گار تحاریر میں انسپکٹر جمشید سیریز، انسپکٹر کامران مرزا سیریز اور شوکی سیریز شامل ہیں… اشتیاق احمد صاحب نے آٹھ سو سے زائد ناول تحریر کیے… انہوں نے تمام عمر اپنی توجہ بچوں کے ادب پر ہی مرکوز رکھی … ہر کتاب کا موضوع الگ ہونے کے باوجود اس سے دل چسپی کا عنصر کم نہ ہوتا… اشتیاق احمد اپنے دور کے مقبول و معروف ترین مصنف رہے اور انہوں نے لاکھوں کروڑوں دلوں پہ راج کیا… بچوں کے ادب پہ شائد ہی کسی نے اتنی محنت اور جانفشانی سے کام کیا ہو جتنا اشتیاق احمد نے اس فن کو اپنے خون جگر سے پالا …انہوں نے ایک ماہ میں چار چار ناول لکھنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا … ان کی تحریریں اُردو زبان کی بہترین شاہ کار ہوتیں، جس سے بچوں کی بول چال میں بھی نکھار آتا۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے پڑھنے والوں کے دلوں میں پاکستان کی شدید محبت انڈیلی… کتاب آپ کی دوست ہوتی ہے کے مقولے کو اشتیاق احمد صاحب کی کتابوں نے ثابت کیا…





    میں جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو ہمیشہ ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے کہ ہمارا بچپن اور نوجوانی کا دور اشتیاق احمد کے اصلاحی ناول پڑھتے ہوئے گزرا… اَسی کی دہائی میں مجھ جیسے ہزاروں لاکھوں بچوں کے لیے اشتیاق احمد مشفق و مہربان استاد کی حیثیت رکھتے تھے… میرے والد اس وقت ہم بہن بھائیوں کو دو روپے روزانہ جیب خرچ دیتے جن کے مصرف میں ترجیح اشتیاق احمد کے ناولوں کو حاصل ہوتی تھی… ہم رنگ برنگی گولیاں ٹافیاں یا سموسہ وغیرہ کھائے بغیر تو رہ سکتے تھے مگر اشتیاق صاحب کی کتاب کے بغیر ہمارا گزارا نہ تھا… اور پھر ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب کے لیے پیسے جمع کرنا شروع کر دیتے… ان کتب کا نشہ ایسا تھا کہ جب بھی نئی کتاب لاتے تو دل میں کھلبلی مچنے لگتی کہ کب سکول کا کام ختم ہو اور ہم انسپکٹر جمشید، محمود، فاروق اور فرزانہ سے مل سکیں… کتابوں کے آغاز میں بچوں کے لیے دئے گئے رہنما اصول اپنی مثال آپ تھے :
    (1)کیا یہ کسی نماز کا وقت تو نہیں؟
    (2)کیا آپ نے اسکول کا کام ختم کر لیا ؟
    (3)کیا آپ کے والدین نے آپ کو کوئی کام تو نہیں کہا؟
    (4)کیا یہ سونے کا وقت تو نہیں ؟
    (5) آپ کے گھر میں مہمان تو نہیں آئے ؟
    اگر ان میں سے ایک بھی کام ہے تو پہلے اسے مکمل کریں پھر کتاب پڑھیں …
    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اشتیاق احمد صرف کتاب ہی نہ لکھتے تھے بلکہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں بھی اُن کا کردار اہم تھا۔
    کتاب شروع کرنے سے ختم کرنے تک سیکھنے کا عمل مسلسل جاری رہتا…





    اشتیاق احمد صاحب کے ناولوں میں دلچسپی کا عنصر بھر پور ہونے کے باعث پڑھتے ہوئے محویت کا عالم یہ ہوتا کہ ارد گرد کا کوئی ہوش نہ رہتا … ناول میں مزاح ،سنجیدگی اور اصلاح ساتھ ساتھ چلتی … اشتیاق صاحب مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے لیے استاد کی حیثیت بھی رکھتے تھے … بڑوں کا ادب، اللہ سے محبت، اچھائی اور برائی میں فرق کا سبق ان کی کتابوں میں ہمیشہ موجود ہوتا … اُردو زبان سے محبت اور مشکل الفاظ سے واقفیت ان کی کتابوں کی وجہ سے ہی ہمیں حاصل ہوئی… ان کی کتابوں میں سائنس کی نت نئی ایجادات سے بھی آگاہی ملتی… مجھے یہ کہنے میں ہمیشہ فخر محسوس ہوا ہے کہ اشتیاق احمد ہمارے بچپن کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ ہیں… وہی قومی زبان سے ہماری محبت کا باعث ہیں … ہماری اور ہم سے پیچھے آنے والی نسلوں میں اُردو ادب کا بیج بونے والے اشتیاق احمد ہی ہیں…کتاب چند کاغذوں پہ مشتمل شے کا نام ہی نہیں بلکہ اس کے اندر ایک جہان بستا ہے اور اس جہان کو ہم تب ہی جان پاتے ہیں اور اس کا حصہ بھی ہم تب ہی بن پاتے ہیں جب اس کتاب کو اپنا لیتے اور اس کے اندر دئیے گئے اسباق اور اصلاح پر عمل کرتے ہیں… ایک قاری کے محسوسات کتاب کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں کیوںکہ وہ کتاب نہ صرف اس کی دوست ہوتی ہے بلکہ اس کتاب کے لمس میں اپنائیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے … اور ان تمام احساسات سے ہمارا تعارف اشتیاق احمد کی کتب کے ذریعے ہوا…ان کا ادبی سفر1970 ء سے 2015 ء تک جاری رہا اور اس تمام عرصے میں انہوں نے بچوں کے دلوں پہ راج کیا…
    آج کی نسل کو اُردو ادب سے وہ شغف حاصل نہیں جو تین یا چار دہائیاں پہلے کے بچوں کو تھا… دوسری زبانوں کا ادب پڑھنا بھی اچھی بات ہے مگر اپنی زبان کا ساتھ چھوڑ دینا دانش مندی نہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو اردو کی کہانیوں اور کتابوں کی جانب راغب کریں ..
    17 نومبر 2015ء کو وہ اس فانی دنیا کو چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے اور اپنے پیچھے لاکھوں مداحوں کو چھوڑ گئے… مرحوم ایک ایسا سرمایہ تھے جن کی کمی پوری ہونا ناممکن ہے… انہوں نے لاکھوں بچوں کے دلوں میں مطالعہ کی شمع روشن کی اور انہیں اپنی زبان سے روشناس کرایا … حاضر دماغی کا ہنر ان کی کتابوں سے بچوں نے حاصل کیا کہ مشکل وقت میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے… اشتیاق احمد کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ہماری اصلاح اور تربیت اتنے لطیف طریقے سے کرتے کہ ہمیں وہ ذہنی بوجھ نہ لگتا بلکہ ہم اس میں ایسے ڈوب جاتے کہ غیر محسوس طریقے سے علم ہمارے اندر سرایت کر جاتا … والدین کی تربیت کے ساتھ ساتھ ایک اور انسان نے بچوں کی تربیت کا بیڑا اٹھا رکھا تھا اور وہ تھے مرحوم اشتیاق احمد…
    …اس سب کو دیکھتے ہوئے ایک خواہش دل میں پنپتی ہے کہ کاش ایک اشتیاق احمد آج کی نسل کے لیے بھی پیدا ہو جو اپنے لفظوں کی جادوگری سے اس زمانے کو شیدا کر دے… ہم اشتیاق احمد صاحب کی خدمات سے نظر نہیں چرا سکتے اور نہ ہی انہیں فراموش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی کئی نسلوں پر احسان کیا اور ہم احسان فراموش بالکل نہیں ہیں۔ ہمارے دلوں میں مطالعے کی جو لگن وہ لگا گئے ہیں ہم اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھیں گے اِن شاء اللہ… اللہ پاک اشتیاق احمد مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین ثم آمین ۔




  • سوزِ دروں — سندس جبین

    داستان محبت مقابلے میں شامل ”سوزِ دروں” ایک ایسی کہانی ہے جس کو لکھنے سے پہلے کئی بار میرا قلم دماغی اور ارادی طور پر ٹوٹا پھر ہمت کرکے لکھنا شروع کردیا۔ مگر ذہن میں ہر وقت ہار جیت چلتی رہی تھی۔ شاید وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے کبھی نہ تو رائٹنگ کمپٹیشن ہوا تھا نہ میں نے حصّہ لیا تھا۔ مگر میں اپنے بابا کی بہت شکر گذار ہوں جنہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا اور بار بار حوصلہ افزائی کی کہ ہار جیت چھوڑو اور کہانی لکھوں… اس لیے میں نے پھر واقعی ہار جیت کا خیال ذہن سے نکال کے اسے لکھا اور میں سمجھتی ہوں کہ اسی وجہ سے میں نے اسے مکمل بھی کر لیا۔ اللہ پاک کا کرم ہے کہ اس نے مجھے بہت سے اچھے لوگوں میں سربلند کیا۔
    الف کتاب کی ساری ٹیم اور جیوری کا شکریہ جنہوں نے اس قابل سمجھا اور سو سے زیادہ رائٹرز میں سے مجھے چنا گیا۔ محبت کا جو نظریہ میں نے اپنی داستان محبت میں چنا مجھے یقین ہے کہ آپ اس سے اتفاق کریں گے کیوں کہ محبت تب ہی خوبصورت ہے جب اس کے سوزِدروں میں پاکیزگی کا ساز ہو۔

    سندس جبیں




  • مدیر سے پوچھیں — انجم انصار سے گپ شپ

    انجم انصار گزشتہ اٹھائیس برسوں سے پاکیزہ ڈائجسٹ کی مدیرہ کی حیثیت سے کام کررہی ہیں۔ پاکیزہ کی ادارت کے علاوہ انجم انصار ایک مصنفہ بھی ہیں اور ان کی کئی تحریریں رسائل اور کتابی صورت میں شائع ہوچکی ہیں۔ مدیر سے پوچھیں میں، اس بار انجم انصار ہماری مہمان ہیں۔





    ٭ آپ اس فیلڈ میں کتنے عرصے سے ہیں؟ کس طرح اس فیلڈ میں آئیں؟
    انجم: لکھنے کا شوق تو مجھے سکول کے زمانے سے ہی تھا، جو کالج کے زمانے میں زیادہ ہوگیا تھا تب سے ہی میری تحریریں چھپ رہی ہیں۔ مجھے تحریری دنیا میں آئے چالیس پینتالیس سال تو ہوچکے ہیں۔مجھے چوں کہ ہمیشہ سے ہی لکھنے کا شوق تھا، یہی شوق مجھے پاکیزہ کے دفتر میں معراج رسول صاحب کے پاس لے گیا، ا نہوں نے مجھ سے پوچھا: ”پاکیزہ میں جاب کرسکتی ہیں؟” میں نے کہا: ”میں تو نہیں کرسکتی ، کیوں کہ میں ایک گھریلو عورت ہوں، آفس میں کبھی کام کیانہیں۔”انہوں نے کہا: ”اگر آپ یہ کام گھر پر بیٹھ کر کریں؟” میں نے جواب دیا کہ یہ میرے لئے ممکن ہے۔ سو وہ سلسلہ جو شروع ہوا تو اب تک چلتا رہا۔
    ٭ ایک مہینے میں آپ کو اوسطاً کتنی تحریریں موصول ہوجاتی ہیں؟
    انجم: تحریریں تو میرے خیال میں پچیس سے تیس کے قریب آجاتی ہیں۔ مجھے پڑھنے کی عادت ہے، پڑھے بغیر میں رہ نہیں سکتی۔اور خطوط تو بہت زیادہ آتے ہیں ، تقریباً ہزار کے قریب خطوط آجاتے ہیں، اُنہیں پڑھنا اور ان میں سے منتخب خطوط کو شائع کرنا سب میری ہی ذمہ داری ہے۔
    ٭ آپ کے انتخاب کا معیار کیا ہے؟
    انجم: بھئی میں یہ نہیں دیکھتی کہ کس نے لکھا ہے، میں یہ دیکھتی ہوں کہ کیا لکھا ہے۔اگر کوئی چیز ایسی ہے جس سے پڑھنے والا کچھ سیکھ سکتا ہے، تو میں یہ سوچے بغیر کہ وہ کہاں سے آئی ہے اور کس نے لکھی ہے، اُس تحریر کو منتخب کر لیتی ہوں۔ ہمارے یہاں آپ دیکھیں نئی لکھنے والوں کی تحریریں زیادہ ہیں۔
    ٭ ایسی کون سی چند چیزیں ہیں جن کا خیال ایک نئے لکھنے والے کو اپنی تحریر لکھتے وقت رکھنا چاہیے؟
    انجم: سب سے پہلے تو مسودے کو درست طریقے سے لکھنا، جس کا بہت سی سینئر رائٹرز کو بھی نہیں پتہ ہوتا۔ انہیں یہ نہیں پتہ کہ ایک سطر چھوڑ کر لکھنا چاہیے، انہیں یہ نہیں پتہ کہ صفحہ کی ایک سائیڈ پر لکھنا چاہیے، انہیں یہ نہیں پتہ کہ ایک فوٹوکاپی مصنف کو اپنے پاس بھی رکھنی چاہیے، انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ مسودے کو صحیح طریقے سے pin up کر کے بھیجنا چاہیے، صفحات پر نمبر ڈالنے چاہیے، اکثر نمبرنگ غلط کردیتی ہیں۔ بعض دفعہ صفحہ نمبر سترہ کے بعد چودہ چل رہا ہوتا ہے پھر اٹھارہ ۔بعض دفعہ لکھ تو لیتی ہیں لیکن پڑھ کر دوبارہ نہیں دیکھتی کہ لکھا کیا ہے۔آج کل تیزر فتاری زیادہ ہوگئی ہے، اس لئے لوگ زحمت نہیں کرتے۔ دوسری اہم بات ہے موضوع، ہم کیا لکھ رہے ہیں،اور پڑھنے والے اس سے کیا سیکھیں گے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ تحریر پڑھنے والوں پر منفی اثر چھوڑے۔ ہم پاکیزگی کا اس وجہ سے بھی زیادہ خیال رکھتے ہیں کہ ہمارے پرچے کا نام ہی ‘پاکیزہ ‘ ہے۔میں کبھی کوئی چیز ایسی نہیں جانے دیتی جسے پڑھ کر میں اور قاری دونوں شرم سار ہو جائیں۔ لیکن کبھی کبھار غیر ارادی طور پرایسا ہوجاتا ہے کہ کوئی تحریر ہماری نظروں کے سامنے سے گزرتی تو ہے لیکن ہم زیادہ غور نہیں کرپاتے، جس پر بعد میں بہت تنقید ہوتی ہے۔ ہم بھی انسان ہیں، انسان خطا کا پتلا ہے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہم عقلِ کُل ہیں۔
    ٭ کیا آپ riskier themes پر کام کرتی ہیں؟
    انجم: ہمارے پاس سیاست کے موضوع لکھی ہوئی تحریریں آتی ہیں، لیکن ہم اس سے تھوڑا پہلو بچا کر چلتے ہیں۔کیوں کہ سیاست کے لئے تو نیوز چینلز اور اخبار موجود ہیں تو پھر ہم بھی وہی چیزیں کیوں چھاپیں۔ ہم ان تحریروں سے agree بھی کرتے ہیں، لیکن پھر ہم یہی سوچتے ہیں کہ فائدہ اس کا کچھ ہونا نہیں، جب میڈیا اور اخبار والے چیخ چیخ کر اپنا حلق خشک کررہے ہیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑرہا تو ہم اپنے میگزین میں نہیں لگائیں گے تو بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔اس کے علاوہ اسلامی کہانیاں، جس میں فقہ کے حوالے سے بات ہو، میں ایسی تحریریں بھی نہیں چھاپتی۔ لوگ بہت زیادہ باریک بینی سے ہمارا رسالہ پڑھتے ہیں، اب مثال کے طور پر رسالے میں کوئی بات یا آیت کسی تحریر میں موجود ہے اور ایک اشتہار بھی ہے، تو وہ کہتے ہیں کہ آیت یا وہ بات اس طرف لکھی ہے جہاں پر اشتہار کی ماڈل گرل کے پیر آرہے تھے۔اب مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ اشتہار کدھر لگے گا اور پیر کدھر لگیں گے۔ اب جب پڑھنے والے اتنی باریک بینی سے ہر ایک چیز کو دیکھتے ہیں تو پھر ہم ایسی themes پر کام نہیں کرتے۔
    ٭ نئے آئیڈیاز کو دریافت کرنے اور ان پر اچھا کام کرنے کے لیے کون سے رائٹرز زیادہ موزوں ہیں ؟ نئے یا پرانے؟
    انجم: دیکھیں اگر آپ پرانے پرچے اٹھا کر دیکھ لیں ستر اور اسی کی دہائی کے جو افسانے تھے، وہ زیادہ تر شادی پر ختم ہوجاتے تھے۔اب آج کا افسانہ شادی سے شروع ہوتا ہے۔ جہاں پر وہ افسانے ختم ہوتے تھے، وہاں سے آج کا افسانہ شروع ہوتا ہے۔اس میں نئی خواتین لکھاری بھی اچھے موضوعات لے کر آرہی ہیں۔پہلے حور اورزیب النساء سٹائل کی تحریریں بہت چلتی تھیں، میں بھی پڑھتی تھی، پسند تھیں، مگر اب وہ منظر نگاریاں، دسترخوان بچھانے کا منظر یہ سب نہیں چلتا۔ اصل میں آ ج کل ہر چیز فاسٹ ہے، بے شک ان چیزوں میں لڑکیوں کی تربیت ہوتی تھی لیکن اگر ہم انہی نکات پر زور دیئے جائیں کہ دسترخوان کس طرح بچھانا ہے، کھانا کس طرح بنانا ہے تو قاری بور ہوجائے گا۔





    ٭ نئے آنے والے رائٹرز میں آپ کی رائے میں کون اچھا لکھ رہا ہے؟
    انجم: صائمہ اکرم، وہ تو اب سینئرز میں آگئی ہیں۔ انہوں نے ہمارے ہاں پاکیزہ سے ہی شروع کیا تھا،بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔ فائزہ افتخار، عمیرہ احمد تو خیر اب بہت سینئر ہوگئی ہیں۔نئے لکھنے والوں میں نایاب جیلانی، سحرش فاطمہ ، فاخرہ گل بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔ایک نئی لڑکی آئی ہے حاجرہ ریحان، جب اس کا افسانہ آیا پاکیزہ میں تو میں پڑھ کر بڑا حیران ہوئی۔ میں نے اسے فون کر کے پوچھا کہ تم کیا کرتی ہو تو اس نے کہا آنٹی میں تو گھر پر ہی ہوتی ہوں۔میں نے اسے بتایا کہ تم نے بہت اچھا لکھا ہے، اب ہمیں اور بھی چیزیں لکھ کر بھیجو۔ ایک اور رائٹر ہیں اُمِّ ایمان قاضی ، وہ بھی اچھا لکھتی ہیں ۔بہت ساری رائٹرز ہیں میں کس کس کا نام گنواؤں۔
    ٭ دنیا بھر کے ادیبوں میں آپ کا پسندیدہ ادیب؟
    انجم: عصمت چغتائی۔ مجھے ان کی تحریریں بہت پسند ہیں۔ حالاںکہ ان کے بارے میں لوگوں کی رائے مختلف ہے لیکن مجھے پھر بھی وہ پسند ہیں۔ غلام عباس، احمد ندیم قاسمی ،منٹو مجھے بہت سارے لوگ پسند ہیں لیکن سب سے زیادہ پسند مجھے عصمت ہیں ۔ ان کے جملوں میں برجستگی ہوتی ہے۔ان کے ایک ایک فقرے میں زندگی سانس لیتی نظر آتی ہے۔میں تو ان کی پرانی تحریریں ابھی بھی پڑھتی ہوں اور انجوائے کرتی ہوں۔
    ٭ اگر آپ کو کسی ایک رائٹر کے ساتھ ساری زندگی کام کرنا پڑے تو آپ کا چنائو کون ہو گا؟
    انجم: دیکھیں ایک ہی رائٹرکے ساتھ کام کرنا تو بالکل ناممکن ہے، کیوں کہ ہمیں تو پرچہ نکالنا ہوتا ہے، ایک رائٹر سے تو نہیں نکل پائے گا۔ ہمیں ایک گروپ چاہیے ہوتا ہے رائٹرز کا، جو آگے بڑھنے والا ہو، جس سے تحریروں میں ورائٹی آئے اور جنہیں لوگ پڑھنا پسند کریں۔
    ٭ سینئر ڈائجسٹ رائٹرز میں سے کس کی تحریر آپ کو اچھی لگتی تھی؟
    انجم: سینئرز میں مجھے بشریٰ رحمن کی تحریریں بہت اچھی لگتی ہیں۔ ان کی تحریریں پڑھ کر تو ہم نے لکھنا سیکھا، اس کے علاوہ ناہید سلطانہ اختر۔ وہ بہت اچھی رائٹر ہیں۔ اب بھی پاکیزہ میں لکھتی ہیں، اگرچہ اب کم لکھتی ہیں، لیکن بہترین لکھتی ہیں، پورا ہوم ورک کر کے لکھتی ہیں۔ نئی بچیاں ہوم ورک کر کے نہیں لکھتیں، ناہید ہمیشہ پورا ہوم ورک کر کے لکھتی ہیں۔ ان کی منظر نگاری اتنی غضب کی ہوتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔ان کا ایک ناول تھا ”بہتے پانی پر مکان” جو پاکیزہ میں شائع ہوا تھا، جس پر ڈرامہ بھی بنا تھا ”آنچ” وہ اس قدر مشہور ہوا تھا کہ لوگ تقریبات میں دیر سے جاتے تھے کہ ناہید کا ڈرامہ آرہا ہے۔
    ٭ آپ کا پسندیدہ writing genre کون سا ہے؟
    انجم: مجھے معاشرتی کہانیاں پسند ہیں۔ رومانس بھی زندگی کا حصہ ہے لہٰذا وہ بھی پسند ہیں۔
    ٭ کون سا genre آپ کو غیر دلچسپ لگتا ہے؟
    انجم: مجھے مسٹری اور ہارر کہانیاں غیر دلچسپ لگتی ہیں، یا وہ کہانیاں جو بے حد ڈارک ہوں۔
    ٭ اپنے کیے ہوئے کام میں اب تک آپ کا پسندیدہ پراجیکٹ؟
    انجم: پاکیزہ میں لکھنے والی کچھ ایسی خاتون رائٹرز تھیں جن کی تحریریں ایڈٹ کرنے کی مجھے کبھی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ عمیرہ کا کبھی ایڈٹ نہیں کرتی تھی، ناہید کا ایڈٹ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔شیریں حیدر بہت اچھا لکھنے والی ہیں، ان کے کیے ہوئے کام بہت پسند ہیں مجھے۔