Author: misbah116@hotmail.com

  • عکس — قسط نمبر ۴

    اس نے اسٹینڈنگ مرر میں اپنے آپ کو دیکھا، اپنے خوبصورت بالوں کو دیکھا، اپنے بے حد نازک گولائی میں پھولے ہوئے پنک فراک کو ذرا گھوم کر دیکھا پھر اس نے بے حد فخریہ انداز میں چند قدم پیچھے کھڑی چڑیا کو دیکھا جو بے حد ستائشی نظروں سے اس ساڑھے تین سالہ باربی ڈول کو دیکھ رہی تھی۔یہ وہ نام تھا جس سے وہ اس کو پکارتی تھی اور یہی وہ نام تھا جو اس نے پہلی بار اسے دیکھتے ہی دے دیا تھا۔ اس کے تمام ساتھی بونوں کو بھی باربی ڈول سے اتنا ہی عشق تھا جتنا چڑیا کو اور وہ بھی اس کو پہلی بار دیکھتے ہی اس پر اسی طرح فریفتہ ہوئے تھے جس طرح چڑیا کو دیکھ کر ہوئی تھی۔
    ”میں اچھی لگ رہی ہوں؟” اب باربی ڈول چڑیا سے پوچھ رہی تھی۔




    ”بہت، بہت، بہت، بہت اچھی اور پیاری۔” چڑیا نے دونوں ہاتھ پھیلا کر اس کی خوبصور تی اور ستائش کی جیسے پیمائش پیش کی۔ باربی ڈول کا رنگ سرخ ہوا، اس نے ناک کو ہلکا سا دائیں طرف سکیڑ کر اپنے ہونٹوں کو بھینچ کر جیسے اپنی خوشی اور مسکراہٹ کو ایک ساتھ چھپانے کی کوشش کی۔
    ”میں تمہاری پونی کر دوں؟” چڑیا نے باربی ڈول کے بکھرے ہوئے سیاہ ریشمی بالوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے پوچھا۔ باربی ڈول سر ہلاتی فوراً پونی بنوانے پر تیار ہو گئی تھی۔ چڑیا نے اپنے بالوں سے ربڑ بینڈ اتارا اور آئینے کے سامنے باربی ڈول کے عقب میں جا کر بڑے انہماک سے اس کی پونی بنانے لگی۔ ان دونوں کے اس تعلق کا آغاز باربی ڈول کے اس کے اسکول میں ایڈمیشن کے ساتھ ہوا تھا۔
    چڑیا کلاس مانیٹر تھی اور وہ اس دن اپنی کلاس سے کسی کام سے باہر نکلی تھی جب اس نے مانیٹسوری کے لنچ بریک کے دوران پلے ایریا کے سامنے سے گزرتے ہوئے باربی ڈول کو وہاں لنچ باکس ہاتھ میں پکڑے see saw پر جھولتے دو بچوں کے پاس کھڑے دیکھا۔ چند لمحوں کے لیے چڑیا کو جیسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا۔ وہ باربی ڈول جس کے بالوں کو چھونے اور جس کے ساتھ بات کرنے اور کھیلنے کی خواہش میں وہ کئی بار ڈی سی ہاؤس میں لان کے اس حصے میں منع کرنے کے باوجود جاتی رہتی تھی جہاں وہ اپنی ماں اور کبھی کبھار باپ کے ساتھ بھی شام کو کھیلنے کے لیے نکلتی تھی۔ باربی ڈول کے قریب جا کر اس سے کچھ کہنے کی ہمت اسے کبھی نہیں ہوئی تھی لیکن دور سے بہت باران دونوں کے درمیان خاموش نظروں اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ وہ اس گھر کے مستقل رہائشی دو واحد بچے تھے۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں تجسس کا شکار نہ ہوتے اور ایک دوسرے کو مستقل طور پر اگنور کر پاتے۔ چڑیا فرینڈلی تھی، باربی ڈول نہیں تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی طرح بہت مہذب اور سلجھی ہوئی ہونے کے باوجود بے حد ریزورڈ تھی۔ پتا نہیں یہ طبعاً تھا یا اس کے ماں باپ نے اسے بھی کچھ ہدایات دی تھیں۔ چڑیا سوچتی رہتی تھی لیکن کچھ اندازہ نہیں کر سکی تھی اور اب وہی باربی ڈول اس سے چند گز کے فاصلے پر کھڑی تھی۔ چڑیا کے لیے کیسے یہ ممکن تھا کہ وہ اسے اگنور کر کے گزر جاتی۔ اگر اس کا بس چلتا تو وہ شاید باربی ڈول کو بھی اپنے ہی اسکول میں دیکھ کر خوشی سے چھلانگیں لگاتی۔
    ”ہیلو۔” وہ ایکسائٹمنٹ کے باوجود کچھ ڈرتی جھجکتی باربی ڈول کے پاس پہنچ گئی تھی اور ہیلو کا چھوٹا سا لفظ کہنے کے لیے اسے پتا نہیں کتنی ہمت کرنی پڑی تھی۔ باربی ڈول نے چونک کر گردن گھما کر اسے دیکھا اور پھر اس نے بھی اسی برق رفتاری سے چڑیا کا چہرہ پہچانا تھا جس طرح چڑیا نے اس کا… وہ چڑیا کو فراموش کر بھی کیسے سکتی تھی۔ وہ گھر میں اس کے لیے دلچسپ چیزوں میں سے ایک تھی۔ لان میں کھیلتے اچانک کسی پھولدار جھاڑی یا پودے کی شاخ کے درمیان سے جھانکتا ہوا پرتجسس آنکھوں والا ایک معصوم چہرہ، کبھی راہداری کی کھڑکیوں میں یک دم نمودار ہونے والی وہ روشن شرارتی آنکھیں جو باربی ڈول کے ساتھ اس کی ماں یا باپ کو دیکھ کر اسی طرح جھپاکے سے غائب ہو جاتی تھیں۔ بہت دفعہ پودوں سے جھانکتی چڑیا کو دیکھ کر وہ ٹھٹکی تھی… اپنے کھلونوں کے ساتھ لان میں کھیلتے یا سائیکل چلاتے ہوئے اور شروع شروع میں وہ اپنی ممی کو چڑیا کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش بھی کرتی تھی لیکن وہ اس کوشش میں ہمیشہ ناکام رہی۔ وہ جب تک اپنی ممی کو اس پودے یا جھاڑی کی طرف متوجہ کر پاتی جہاں اس نے چڑیا کو دیکھا تھا چڑیا وہاں سے غائب ہو چکی ہوتی۔
    ”ممی وہاں ایک Girl ہے۔” اس نے پہلی بار چڑیا کو دیکھنے پر فٹ بال کو کک لگاتے لگاتے رک کر اپنی ماں کو اشارے سے بتایا تھا لیکن جب تک وہ اس پودے کی ان شاخوں کو دوبارہ فوکس کر پاتی جن میں سے اسے چڑیا کا چہرہ نظر آیا تھا، چڑیا غائب ہو چکی تھی۔ اس کی ماں نے چند لمحوں کے لیے چونک کر اس پودے کو دیکھا پھر پوچھا۔
    ”کہاں؟”




    ”وہاں… پر وہ اب نہیں ہے۔” وہ اب فٹ بال کھیلنا بھول گئی تھی۔
    ”ہاں وہی بچی ہو گی جو اس دن ملنے آئی تھی… وہی بچی تھی کیا؟” اس کی ممی نے کسی خاص حیرت اور تعجب کے اظہار کے بغیر کہا۔ ”وہ جو ہمارے کک کے ساتھ آئی تھی۔” باربی ڈول نے ماں کے سوال پر اتنا غور نہیں کیا تھا نہ ہی اس نے اس بچی کے خدوخال کو ذہن میں لانے کی کوشش کی جسے اس نے کک کے ساتھ ملاقات میں دیکھا تھا۔ اسے زیادہ تجسس اس بات پر تھا کہ وہ اس پودے کے پیچھے سے اچانک کیسے غائب ہو گئی تھی اور کہاں غائب ہو گئی تھی۔ یہ چڑیا سے اس کے تعارف کا آغاز تھا اور پھر جیسے یہ ایک معمول ہو گیا تھا۔ اس نے کئی بار چڑیا کو پودوں کے پیچھے چھپے ہوئے دیکھا تھا۔ شروع شروع میں وہ ایکسائٹڈ ہو کر اپنی ممی کو بتانے کی کوشش کرتی تھی لیکن آہستہ آہستہ اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کی ایسی ہر کوشش کے دوران چڑیا غائب ہو جاتی تھی اور اس کی ممی کو بھی لان کی جھاڑیوں اور پودوں میں چھپی ہوئی کسی بچی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر اس نے اپنا یہ معمول بہت جلد بدل لیا تھا اب وہ لان میں کھیلنے کے لیے داخل ہوتے ہی دور تک پھیلے ہوئے پودوں اور جھاڑیوں میں چڑیا کی تلاش شروع کر دیتی تھی اور اکثر بڑی آسانی سے اسے ڈھونڈ لیتی تھی پھر وہ اپنی ماں کو کچھ بھی کہے بغیر اس طرح کھیل میں مصروف رہتی اور وقتاً فوقتاً کھیل سے دھیان ہٹا کر چڑیا کو بھی دیکھتی رہتی۔
    چڑیا نے اب پہلے کی طرح غائب ہونا بند کر دیا تھا۔ خاموش نظروں کا تبادلہ آہستہ آہستہ مسکراہٹوں کے تبادلے میں بدلنے لگا تھا۔ اگر کچھ نہیں ٹوٹا تھا تو ان دونوں کے بیچ خاموشی نہیں ٹوٹی تھی۔ ڈی سی کی بیوی لان میں کرسی پر بیٹھی یا تو کوئی کتاب پڑھتی رہتی یا پھر پینٹنگ کرتی رہتی اوروہ لان میں سائیکل چلاتے یا فٹ بال کھیلتے ہوئے دور پودوں میں چھپی چڑیا کو دیکھ کر مسکراتی رہتی۔ کبھی کبھار وہ سائیکل چلاتے چلاتے جان بوجھ کر چڑیا کے بہت قریب سے ہو کر گزرتی اور کبھی وہ کھیلتے ہوئے جان بوجھ کر پودے کے قریب بال پھینک دیتی جہاں چڑیا چھپی ہوتی، یہ جیسے چڑیا کو کھیل کی دعوت دینے کی ایک غیر ارادی کوشش تھی جسے چڑیا نے کبھی قبول نہیں کیا تھا، وہ یہ جرأت کر ہی نہیں سکتی تھی کہ لان میں صاحب یا ان کی بیوی کی موجودگی میں وہ باہر نکل آتی۔ خیر دین نے اسے سختی سے منع کیا تھا، وہ ایک بچگانہ تجسس کی وجہ سے وہاں آ تو جاتی تھی لیکن وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے کبھی اس کے نانا کو ڈانٹ پڑے۔ اس نے بہت بار مختلف آفیسرز کے ہاتھوں اپنے نانا کو ڈانٹ کھاتے دیکھا تھا اور یہ اسے کبھی بھی اچھا نہیں لگا تھا اگرچہ خیر دین ہر بار ایسے کسی موقع پر ا سکی موجودگی پر بعد میں اسے بٹھا کر اپنے صاحب کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
    ”دیکھو چڑیا جب غلطی ہوتی ہے تو ڈانٹ پڑتی ہے اور نہ ہر ڈانٹنے والا برا ہوتا ہے نہ ہی ہر ڈانٹ۔”
    ”پر نانا… آپ کی زیادہ غلطی تو نہیں تھی۔” وہ اپنا نانا کا دفاع کرتی۔
    ”تھوڑی تھی پر تھی تو سہی نا… اب اگر صاحب غلطی پر کسی کو بھی نہ ڈانٹا کرے تو ہر ایک کام خراب کرنا شروع کر دے گا۔” چڑیا خیر دین کی بات پر سر ہلا دیتی لیکن اس کے باوجود خیر دین جانتا تھا کہ وہ خیر دین کو پڑنے والی کسی ڈانٹ پر بہت ناخوش ہوتی تھی۔
    ”ہیلو۔” باربی ڈول نے جواباً مسکرا کر کہا تھا۔ اسکول میں پہلے دن وہ پہلا شناسا چہرہ تھا جو اسے نظر آیا تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ چڑیا سے لپٹ ہی جاتی۔
    ”تم یہاں اسٹڈی کے لیے آئی ہو؟” چڑیا اس کے ہیلو پر مسکرائی تھی، باربی ڈول نے سر ہلایا۔
    ”ممی پاپا کے ساتھ آئی ہو؟” باربی ڈول کا سر ایک بار پھر ہلا لیکن ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آئے تھے۔ اسے یک دم یاد آ گیا تھا کہ اس کے ممی پاپا اسے صبح وہاں چھوڑ گئے تھے اور وہ وہاں اکیلی تھی۔ چڑیا اس کے آنسو دیکھ کر جیسے تڑپ اٹھی تھی۔
    ”رونا نہیں باربی ڈول۔ اچھے بچے تو نہیں روتے نا۔” اس نے آگے بڑھ کر باربی ڈول کے گالوں پر لڑھکتے آنسو پہلے اپنے ہاتھوں سے پونچھے پھر اپنے فراک کی جیب سے رومال نکال کر اس سے باربی ڈول کا چہرہ صاف کیا۔




  • عکس — قسط نمبر ۳

    ایبک اس شیول مرر کے سامنے کھڑا اپنا ریکٹ گھماتے گھماتے رک گیا تھا۔ یہ آئینے میں ابھرنے والا ایک عکس تھا جس نے اسے روکا تھا اور وہ یہ نہیں جانتا تھاوہ چہرہ ساری عمر ہر بار سامنے آنے پر اسی طرح اسے فریز کر دیا کرے گا۔ اس نے چڑیا کو پہلی بار اسی آئینے میں دیکھا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ چڑیا پچھلے کئی دنوں سے اسے کئی بار دیکھ چکی تھی… ٹینس کورٹ پر صاحب کے ساتھ ٹینس کھیلتے… لان میں صاحب کی بیٹی اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلتے… Frisbeeپکڑنے میں ناکامی پر اپنے چھوٹے بہن بھائی پر چلاتے اور خفا ہوتے ہوئے… وہ صاحب کے گھرآئے ہوئے مہمان تھے اور صاحب کے گھر ویک اینڈ پر مہمانوں اور ان کے ساتھ ان کے بچوں کا آنا کوئی انوکھی بات نہیں تھی مگر یہ صاحب کے ہاں لمبی چھٹیاں گزارنے کے لیے آئے ہوئے مہمان تھے۔




    صاحب کے گھر کا سناٹا ان تین بہن بھائیوں کی سرگرمیوں سے ٹوٹنے لگا تھا جن میں سے ایک ایبک سب سے بڑا تھا۔ آٹھ سالہ وہ بچہ اپنے قدوقامت سے دس سال کا لگتا تھا… وہ جب بھی گھر سے باہر نظر آتا اس کے ہاتھ میں زیادہ تر ٹینس ریکٹ ہی ہوتا جسے وہ بے مقصد گھماتا ، ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتا رہتا… کبھی کبھار اس کی چھ سالہ بہن اس کے ساتھ ٹینس کھیلتی لیکن وہ کسی اعتبار سے ایبک کا مقابلہ نہیں کر پاتی تھی۔ وہ جسمانی طور پر بہت مضبوط تھا… لڑکا تھا… بہن سے عمر میں دو سال بڑا تھا… اور تکنیک کے اعتبار سے بہت Soundتھا… اور پانچ سال کی عمر سے ٹینس ریکٹ اٹھائے ہوئے تھا۔ ٹینس جیسے ان کا خاندانی کھیل تھا، ان کی ننھیالی اور ددھیالی فیملی میں کوئی ایسا نہیں تھا جو ٹینس نہ کھیلتا ہو… مگر ان میں سے کسی میں بھی ٹینس کے لیے ایبک جیسا پیشن نہیں تھا… وہ سوئمنگ کرتا تھا یا پھر ٹینس کھیلتا تھا اور اس گھر میں آنے کے ایک ہفتے میں ہی چڑیا یہ جان چکی تھی۔
    ایبک کے آنے کے بعد صاحب باقاعدگی سے شام کے وقت اس کے ساتھ لان ٹینس کھیلا کرتے کبھی کبھار ایبک کی ممی، بہن بھائی اور صاحب کی بیوی اور بیٹی بھی وہاں موجود ہوتے لیکن عام طور پر صرف صاحب اور ایبک ہی کھیل رہے ہوتے اور صاحب مسلسل ایبک کو ہدایات دے رہے ہوتے۔ ایبک صاحب سے کبھی جیت نہیں پاتا تھا لیکن کبھی کبھار وہ کوئی اچھا شاٹ مار دیتا اور صاحب اس شاٹ کو Missکر دیتے اور تب کورٹ میں فاتحانہ انداز میں چلانے والا صرف ایبک نہیں ہوتا تھا کسی پودے یا درخت کے پیچھے چھپی ہوئی چڑیا بھی اتنی ہی مسرور ہوتی تھی اور اس کے سات بونے بھی… وہ آٹھوں اس کے اس اتفاقی شاٹ کو بھی اس طرح سلیبریٹ کرتے جیسے وہ ایک پوائنٹ نہیں میچ جیت گیا ہو۔ ایبک چڑیا کو کیوں اچھا لگا تھا؟ اس وقت اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ Aweمیں تھی۔ اس وقت تک وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس کا ہم عمر تھا… اس کے لیے متاثر ہونے کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ ٹینس کھیلتا تھا اور بہت اچھی کھیلتا تھا اور جب وہ فریز لی پھینکتا تھا تو کوئی نوکر بھی اس کو نہیں پکڑ پاتا تھا۔ وہ ان تین بچوں کا سردار تھا جو اس وقت اس گھر میں تھے اور وہ جس طرح ان تینوں بچوں کو کنٹرول کرتا تھا۔ وہ کہیں سے بھی ایک آٹھ سالہ بچہ نہیں لگتا تھا۔
    چڑیا ، صاحب کے ریکٹ کو دیکھ کر ہمیشہ فیسینیٹ ہوتی تھی لیکن وہ کبھی خواہش کے باوجود اس ریکٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکی تھی۔ اس کے ساتھ کھیلنا تو خیر بہت دور کی بات تھی۔ اس وقت تک اسے وہ ٹینس ریکٹ بہت ہلکی پھلکی کوئی چیز لگتا تھا کیونکہ اس نے صاحب کو اسے ایک ہلکی پھلکی چیز ہی کی طرح اٹھائے اور کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ اسے اندازہ تک نہیں تھا کہ وہ اس ریکٹ کو موقع مل جانے پر اٹھا کر گھما بھی نہیں سکے گی۔
    ایبک اپنا ریکٹ اکثر لان میں چھوڑ کر چلا جاتا تھا اور موقع ہونے کے باوجود چڑیا اس ریکٹ کے قریب جانے کی ہمت بھی نہیں کر پاتی تھی۔ اسے خوف ہوتا تھا کہ ایبک کسی بھی وقت نمودار ہو سکتا تھا اور چند بار واقعی ایسا ہوا تھا کہ وہ ہمت کر کے اس ٹیبل کے پاس جانے کی تیاری کر رہی ہوتی جہاں ایبک اپنا ریکٹ چھوڑ کر گیا تھا اور ایبک کھانے پینے کی کوئی چیز لیے یک دم دوبارہ لان میں آ جاتا۔ وہ ہمیشہ اتنے دبے قدموں میں آتا تھا کہ چڑیا اس سے خائف رہنے لگی تھی اسے لاشعوری طور پر یہ یقین ہو گیا تھا کہ وہ جب بھی اس کے ریکٹ کو پکڑنے کے لیے اس ٹیبل کے پاس جائے گی۔ ایبک وہاں آ جائے گا۔
    وہ اب پہلے کی طرح کیاریوں میں سے ٹینس بالز بھی نہیں نکال پاتی تھی کیونکہ ایبک کھیل ختم ہونے کے بعد تمام بالز خود ڈھونڈ کر ٹینس بالز کے ڈبے میں بالز پوری کر کے ہی لان سے روانہ ہوتا۔ اس نے چڑیا کی زندگی کی ایک سب سے پسندیدہ سرگرمی چھین لی تھی لیکن اس کے باوجود چڑیا کو ایبک اچھا لگتا تھا۔ وہ اکیلے ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتے ہوئے کورٹ پر خود ہی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا… چڑیا اور اس کے سات بونے اس کی ان خود کلامیوں سے محظوظ ہوتے رہتے۔ چڑیا نے پہلی بار اپنے علاوہ کسی دوسرے کو خود سے گفتگو کا شوقین پایا تھا اور ایبک کے لیے اس کی پسندیدگی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا۔ کبھی کبھار اس کی باتیں سنتے ہوئے اس کا دل چاہتا وہ ان کی باتوں کا جواب دے اور وہ دیتی بھی لیکن سرگوشی میں اپنے بونوں کو۔ لیکن ایبک کی وہ ساری باتیں، جھلاہٹیں، خود کلامیاں چڑیا کے لیے جیسے ایک شاندار تفریح تھی۔ وہ اس کی Vocabularyبڑھا رہا تھا… ایبک کے منہ سے سننے والا ہر نیا لفظ وہ خیر دین کے سامنے رکھ دیتی تھی اور ان میں سے زیادہ تر لفظ خیر دین کے لیے بھی نئے تھے۔ چڑیا خیر دین کو یہ نہیں بتاتی تھی کہ اس نے وہ لفظ کہاں سنا تھا لیکن وہ خیر دین کی لاعلمی اور کم علمی کو کسی اعتراض کے بغیر قبول کر لیتی تھی۔




    بعض دفعہ ایبک کو اپنے بہن بھائیوں یا اکیلے کھیلتے ہوئے دیکھ کر چڑیا کا بے تحاشا دل چاہتا تھا کہ وہ خود بھی اس کے ساتھ جا کر کھیلنے لگے۔ ایبک کی اچھالی ہوئی ہوا میں اڑتی ہوئی اس فریز بی کو جسے کوئی پکڑ نہیں پاتا وہ پکڑ لے۔ ایبک کی ٹینس Serve کو وہ دوسرے کورٹ سے اتنی ہی طاقت کے ساتھ Return کرے جس قوت سے وہ پھینکی گئی تھی اور اسے یقین تھا وہ ایسا کر سکتی تھی۔ ایک بچے کی معصومیت اور خوش فہمی اسے یہ بتا ہی نہیں پا رہے تھے کہ کھیل کھیلنے اور اچھا کھیلنے کے لیے صرف خواہش اور موقع نہیں Skillکی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹینس کا وہ ریکٹ جسے ایبک بڑی آسانی سے گھماتا اور ہلاتا نظر آتا تھا اس کے پیچھے Will نہیں Skill تھی۔ اس کے تین سالوں کا تجربہ تھا۔ فریز بی کی وہ ڈسک تھی جو ہوا میں تیرتی کسی کے ہاتھ نہیں آتی تھی۔ وہ اس کے ہاتھ سے بھی اسی طرح چھوٹ کر گرتی جس طرح دوسروں کے ہاتھوں سے… لیکن بچے آدھی زندگی اور آدھی خواہشات خوابوں اور فینٹسی میں پوری کرتے ہیں… نہ نپولین کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ تھا نہ اس کی زندگی میں ہوتا ہے… اور چڑیا کے ساتھ تو سات دوست بونے بھی تھے۔
    ”نانا جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو میں ٹینس کی پلیئر بنوں گی۔” ایبک کے آنے کے چند دنوں کے بعد ایک دن چڑیا نے خیر دین سے ریکٹ کی فرمائش کرتے ہوئے اسے اپنے کیئریئر میں تبدیلی کا عندیہ دیا۔
    ”نہیں بیٹا، لڑکیاں ٹینس نہیں کھیلتیں۔” خیر دین نے فوراً اسے ٹوکا۔
    ”ٹی وی پر تو کھیلتی ہیں… وہ جو ومبلڈن ہوتا ہے۔” چڑیا نے پی ٹی وی پر دیکھے جانے والے کسی میچ اور ٹورنامنٹ کی اسے یاد دلائی۔
    ”ہاں پر وہ تو انگریزوں کے ملک میں ہوتا ہے اور انگریز عورتیں کھیلتی ہیں۔” خیر دین جواب دیتے ہوئے صاحب کی بیوی اور اب ایبک کی ممی کو بھول گیا تھا چڑیا نہیں، اس نے خیر دین کو یاد دلانے میں دیر نہیں کی۔
    ”بیٹا وہ صاحب لوگ ہیں، وہ کھیل سکتے ہیں ہم نہیں کھیل سکتے۔” خیر دین نے بے اختیار گہری سانس لیتے ہوئے اس سے کہا۔ چڑیا کو اب بار بار صاحب اور اپنی کلاس کا فرق سمجھانا اور بتانا خیر دین کو بڑا مشکل لگتا تھا۔ خاص طور پر اس لیے کیونکہ ساری عمر وہ چڑیا کے سامنے ایک ”بڑا آدمی” بنا رہا تھا اور اب اس بڑے آدمی کو اس بچی کے سامنے یہ خول اتارنا پڑ رہا تھا اور یہ آسان نہیں تھا مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ وہ اسے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کھلا پلا رہا تھا۔ اسے انگلش میڈیم اسکول بھی بھیج رہا تھا۔ اس انگلش میڈیم اسکول میں جہاں اس جیسا آدمی اپنی اولاد کو بھیجنے کے صرف خواب دیکھ سکتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ چڑیا کے پاؤں زمین پر بھی رکھنا چاہتا تھا۔ اس کو پرواز سے روکنا چاہتا تھا۔
    ”بہت سارے کام صاحب لوگ کر سکتے ہیں لیکن ہم نہیں…” چڑیا کو اس فلاسفی کی سمجھ آئی تھی یا نہیں لیکن یہ ایک جملہ اس نے کسی طوطے کی طرح اپنے سسٹم میں بغیر بحث کے فیڈ کیا تھا۔




  • عکس — قسط نمبر ۲

    وہ اس اسٹینڈنگ مرر کے سامنے کھڑی چند لمحوں کے لیے جیسے فریز ہو گئی تھی۔ خیر دین ہمیشہ اسے نصیحت کیا کرتا تھا۔
    ”بیٹا۔ شام کے بعد کبھی گھر میں لگے آئینوں کے سامنے مت جانا اور خاص طور پر برآمدے میں پڑے اس بڑے آئینے کے سامنے۔” چڑیا، خیر دین کی نصیحت پر کچھ حیران ہو گئی تھی۔
    ”پر کیوں نانا؟”
    ”کہتے ہیں شام کے بعد وہ آئینے دیکھنے آتے ہیں۔” خیر دین نے کچھ اٹک کر اسے بتایا۔ چڑیا نے وہ کا حدوداربہ نہیں پوچھا تھا۔ وہ جانتی تھی، وہ کون تھے؟ اس کا چہرہ خوشی اور جوش سے سرخ پڑ گیا تھا۔ خیر دین کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اپنی احتیاطوں میں اس نے چڑیا کو جیسے خزانے کی کنجی دے دی تھی۔ تو بالآخر اب سارے گھر میں ماری، ماری پھرنے کے بجائے اسے صرف شام کے بعد گھر میں لگے ہوئے آئینوں کے آس پاس رہنا تھا۔ چڑیا نے دل ہی دل میں اپنی نئی حکمت عملی طے کی۔
    نانا آپ نے کبھی ان آئینوں میں ان کو دیکھا؟” چڑیا نے جیسے بڑی احتیاط کے عالم میں سرگوشی کی۔ خیر دین نے اسے سمجھا دیا تھا کہ بار بار ان کا نام نہیں لینا چاہیے ورنہ وہ ناراض ہو سکتے ہیں تو چڑیا اب اکیلے میں بھی ان کو بونا نہیں کہتی تھی البتہ ان بونوں کے نام لینے میں اسے تامل نہیں ہوتا تھا۔




    ”نہیں، میں نے تو نہیں دیکھا لیکن گھر میں رہنے والے دوسرے نوکروں نے دیکھا ہے… خاص طور پر وہ باہر والے بڑے آئینے میں۔” خیر دین روانی میں بتاتا گیا۔ چڑیا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسی وقت چڑیا کی طرح اڑتے ہوئے ان آئینوں کے اردگرد منڈلانے لگے۔
    اگلے دن ڈی سی ہاؤس میں آتے ہی چڑیا نے سب سے پہلے گھر کے آئینے گننے شروع کر دئیے تھے۔ بیرونی آئینے کے علاوہ گھر کے مرکزی ہال، اندرونی برآمدے اور چند دوسرے کمروں میں ملا کر پانچ چھوٹے بڑے آئینے تھے۔ کچھ کمرے جو بند تھے وہ وہاں کے آئینے نہیں گن سکتی تھی اور ان میں سے صرف ایک آئینہ تھا جو چڑیا شام کے بعد آسانی سے دیکھ سکتی تھی اور وہ مرکزی دروازے کے باہر برآمدے میں لگا… شیول اسٹینڈنگ مرر تھا۔ اس آئینے نے سات آٹھ سال کی اس بچی کو پہلے کبھی اس طرح فیسینیٹ نہیں کیا تھا جس طرح اب کرنے لگا تھا۔ وہ دن میں بھی کئی بار اب اس آئینے کے پاس جانے لگی تھی۔ کئی بار آئینے کے سامنے کھڑی وہ اس کے اکھڑے ہوئے پینٹ بیکنگ میں کنٹا، منٹا، شنٹو، ڈیڈو، ٹوفو، ٹوکو، کیٹو کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی رہتی… بعض دفعہ گلیکسی کے ستاروں کی شکل کی طرح وہ بھی اس پینٹ میں ان سات بونوں کو کسی نہ کسی حد تک ڈھونڈ ہی لیتی… اور بعض دفعہ وہ اسے حرکت کرتے بھی نظر آتے صرف اسٹیٹک نہیں… لیکن پھر بھی اس کا لاشعور کہیں نہ کہیں اس سے کہہ رہا تھا کہ جو وہ آئینے میں پہچان رہی ہے وہ غیر مرئی نہیں ہے… وہ ویسا پراسرار اور مافوق الفطرت نہیں تھا جتنا گھر میں خودبخود حرکت کرنے والی چیزیں جو اب اس کے لیے para normal چیز نہیں رہی تھی۔ وہ ان حرکت کرنے والی چیزوں کے تعاقب میں جاتی تھی، تجسس اور اشتیاق کے عالم میں… خیر دین کی طرح آیات نہیں پھونکتی تھی… بلکہ کئی دفعہ اس حرکت کرنے والی چیز کو بعد میں بھی الٹ پلٹ کر دیکھتی رہتی یوں جیسے وہ اس نظر نہ آنے والے بونے کی کوئی نشانی اس چیز پر دیکھنا چاہتی تھی جو اسے حرکت دیتا رہا تھا۔ اسے کبھی کچھ نظر نہیں آیا تھا… کیونکہ وہ یہ طے نہیں کر پائی تھی کہ آخر وہ ان گلاسوں، پلیٹوں اور دوسری چیزوں پر دیکھنا چاہتی تھی… کوئی بڑا شاید ان چیزوں پر فنگر پرنٹس تلاش کرتا کوئی دوسرا نشان یا پھر کوئی بالوں کا ٹکڑا… چڑیا ان بونوں کے کپڑوں، جوتوں اور پہنی ہوئی دوسری چیزوں کا کوئی حصہ دیکھنا چاہتی تھی… ان کی رنگین پُھندنے والی ٹوپی کے کوئی دھاگے، ان کے رنگین رومال ، کوئی سونے یا چاندی کا سکہ… کوئی بٹن… یا کوئی ایسی چیز جسے وہ اپنے پاس فخریہ طور پر رکھ سکے اور پھر سب کو دکھا سکے۔
    لیکن دن گزرتے گئے اور اسے وہاں کوئی بونا نظر نہیں آیا اور جب وہ انتظار اور امید ختم کر بیٹھی تب یک دم اس شام اسے باہر برآمدے میں لگے آئینے میں پہلی بار کچھ نظر آیا تھا۔ وہ اس شام خیر دین اور گھر کے دوسرے ملازمین کے ساتھ نئے ڈپٹی کمشنر کے انتظار میں گھر کے باہر کھڑی تھی۔ نیا ڈپٹی کمشنر اس گھر میں منتقل ہونے سے پہلے اس گھر کا جائزہ لینے کے لیے اس شام وہاں آنے والا تھا اور خیر دین اس کے اصرار پر اسے بھی وہاں ساتھ لے آیا تھا۔ وہ خود دوسرے ملازمین کے ساتھ گپ شپ لگانے لگا اور چڑیا ہمیشہ کی طرح سامنے والے لان میں بیٹھی ہوئی بلیوں کے ساتھ کھیلنے لگی۔ ان بلیوں کے ساتھ دوڑتے بھاگتے وہ پسینے سے شرابور ہو گئی تھی اور کسی بلی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہی وہ لان سے ڈرائیو وے اور وہاں سے برآمدے میں آئی تھی اور برآمدے میں آتے ہی بلی کو بھول کر وہ اس آئینے کی طرف آئی تھی۔ شام ہو رہی تھی، پھولی ہوئی سانس اور پسینے سے شرابور وہ آ کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ وہ اس وقت آئینے میں اپنے بال اور چہرہ صاف کرنا چاہتی تھی لیکن اس نے آئنے میں کچھ دیکھا تھا۔ ایک نظر میں وہ اسے اپنا وہم لگا تھا لیکن وہاں آئینے میں کچھ تھا… کوئی کھڑا تھا… وہاں کسی کا عکس تھا… بہت چھوٹے سے قد کا کوئی…
    اس سے پہلے کہ وہ غور کر پاتی خیر دین نے اسے آواز دی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کی گاڑی گھر کے اندر داخل ہو رہی تھی۔ تمام ملازمین مستعد ہو گئے تھے۔ چڑیا نے خیر دین کی آواز پر لاشعوری طور پر ایک لمحے کے لیے پلٹ کر دیکھا پھر وہ دوبارہ گردن موڑ کر اس آئینے کو دیکھا… وہاں اب وہ نہیں تھا… جو اسے نظر آیا تھا… سیاہ رنگت والا ایک بے حد چھوٹے قد اور بڑی بڑی موٹی آنکھوں اور سرخ موٹے ہونٹوں والا ایک آدمی… جو اسے دیکھ رہا تھا… نظریں جمائے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے… وہ بے حد بدصورت تھا… اور ایک لمحے کے لیے چڑیا کا جسم پتے کی طرح کانپا تھا۔ اس نے زندگی میں اس جسامت کا کوئی انسان پہلی بار دیکھا تھا… لیکن اس کا تجسس غائب نہیں ہوا تھا… خوف اور تجسس… لیکن اس کے نظر ہٹاتے ہی وہ آئینے سے غائب ہو گیا تھا… اور اب جب وہ دوبارہ آئینے کو دیکھ رہی تھی تو وہ وہاں نہیں تھا… آئینے پر برآمدے میں جلنے والی روشنیوں کا عکس پڑ رہا تھا۔ چڑیا چند قدم اور آگے بڑھ آئی یوں جیسے وہ آئینہ کوئی دیوار تھا جس کے پار و ہ دیکھنا چاہتی تھی… وہاں اس آئینے میں اب اس کا اپنا عکس تھا… اپنے چہرے اور آنکھوں کی حیرانی کے ساتھ… اس کے ذہن نے اس آدمی کو بونا نہیں سمجھا تھا… بونے ایسے نہیں ہو سکتے تھے… وہ کیوٹ، شرارتی ، رنگین کپڑوں اور معصوم چہروں والی مخلوق تھی چڑیا کے ذہن میں… اور آئینے میں نظر آنے والے آدمی کا سیاہ جسم کسی ریچھ کے جسم کی طرح بالوں سے ڈھکا ہوا تھا صرف اس کا چہرہ تھا جو نسبتاً صاف تھا۔
    ایک لمحے کے لیے اس نے آنکھیں بند کیں پھر آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے دوبارہ آئینے کو دیکھا اور اس بار اس کی آنکھیں ایک بار پھر حیرانی کے عالم میں کھلی تھیں۔
    آئینے میں اب ایک بے حد خوبرو، دراز قد آدمی کا عکس تھا جو برآمدے میں داخل ہو رہا تھا۔ چڑیا نے حیرانی سے آئینے کو دیکھا۔ وہ ٹھگنا، بدصورت آدمی اتنا خوبصورت اور لمبا کیسے ہو گیا تھا…؟ وہ ایک لمحے کے لیے حیران ہوئی… پھر اس نے اس آدمی کے پیچھے خیر دین اور دوسرے لوگوں کا عکس دیکھا اور وہ جیسے کرنٹ کھا کر حال میں واپس آئی تھی۔ وہ نیا ڈپٹی کمشنر تھا۔
    ”سر یہ میری نواسی ہے۔” چڑیا نے پلٹ کر دیکھا۔ نیا ڈپٹی کمشنر اور باقی تمام لوگ اب اس کے سامنے تھے اور خیر دین بڑے عاجزانہ انداز میں ڈپٹی کمشنر سے اس کا تعارف کروا رہا تھا جو پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا۔ چڑیا نے خیر دین کے تعارف پر سلام کرتے ہوئے پُراعتماد انداز میں آپنا ہاتھ اس ڈپٹی کمشنر کی طرف بڑھایا تھا جس نے کچھ دلچسپی سے اسے دیکھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے ہاتھ ملایا پھر خیر دین سے کہا۔
    ”ہاں۔ عابد نے بتایا تھا مجھے۔” وہ کہتے ہوئے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ چڑیا نے ایک لمحے کے لیے ان تمام لوگوں کو اندر جاتے ہوئے دیکھا پھر وہ دوبارہ پلٹ کر اس آئینے کو دیکھنے لگی جس میں اس نے آج ایک بونا دیکھا تھا لیکن وہ اسے پہچان نہیں پائی تھی۔
    …٭٭…




  • تالاب کا مینڈک

    تالاب کا مینڈک

    تالاب کا مینڈک

    ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ ایک شہزادی تالاب کے کنارے سونے کی گیند سے کھیل رہی تھی۔ کہ اچانک اس کی گیند پانی میں گر گئی۔
    شہزادی روتے ہوئے کہنے لگی: ”کوئی ہے جو تالاب سے ہماری گیند نکال دے؟ کوئی ہے؟” یہ سُن کر ایک مینڈک تالاب سے باہر آیا اور کہنے لگا:
    ”اے شہزادی! اگر آپ مجھے اپنے ساتھ شاہی محل میں رہنے دیں اور اپنی پلیٹ میں کھانے کی اجازت دیں تو میں گیند تالاب سے نکال کر لاسکتا ہوں۔”
    شہزادی نے فوراً مینڈک کی شرط قبول کرلی۔ مینڈک تالاب میں کود کر گیند باہر لے آیا۔ شہزادی نے گیندلی اور خوشی خوشی محل واپس جانے لگی۔ مینڈک نے پیچھے سے آواز دی:
    ”اے پیاری شہزادی! اپنا وعدہ پورا کریں اور مجھے بھی ساتھ محل میں لے جائیں۔” مگر شہزادی نے اس کی ایک نہ سنی۔ اگلے روز محل کے دروازے پر دستک ہوئی اور مینڈک کی کمزور سی آواز آئی:
    ”دروازہ کھولیے، پیاری شہزادی! یاد کیجیے اپنا وعدہ جو آپ نے تالاب کے کنارے کیا تھا۔”
    یہ سن کہ شہزادی نے دربانوں کو دروازہ بند رکھنے کا حُکم دیا۔ بادشاہ سلامت نے شہزادی کو سہماہوا دیکھا تو پوچھا:
    ”کیا بات ہے شہزادی! آپ گھبرائی ہوئی لگ رہی ہیں؟” شہزادی نے پورا واقعہ سنایا۔
    بادشاہ نے شہزادی سے کہا: ”شہزادی آپ کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔”
    چناں چہ شہزادی نے بادشاہ سلامت کی بات مان کر مینڈک کے لیے دروازہ کھلوا دیا۔ دروازہ کھلتے ہی مینڈک پھدکتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور میز کے قریب پہنچ گیا جہاں شہزادی کھانا کھا رہی تھی۔ اس نے شہزادی سے کہا: ”براہِ کرم مجھے اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھائیں اور اپنی پلیٹ سے کھانے دیں۔”
    مجبوراً شہزادی نے اسے کرسی پر بٹھایا اور اپنی پلیٹ اس کے سامنے رکھ دی۔ جب وہ پیٹ بھر کر کھا چکا تو محل میں ہی غائب ہوگیا۔ جب صبح ہوئی تو شہزادی حیران رہ گئی۔ اس نے دیکھا کہ ایک خوب صورت شہزادہ محل میں موجود ہے۔
    شہزادے نے شہزادی کو بتایا کہ ایک ظالم جادوگرنی نے اُس پر جادو کرکے اسے مینڈک بنا دیا تھا۔ اس جادوگرنی نے یہ شرط رکھی تھی کہ جب تک وہ ایک شہزادی کے ساتھ اس کی پلیٹ میں کھانا نہیں کھائے گا تب تک مینڈک ہی رہے گا۔
    تو بچو! آپ نے دیکھا کس طرح شہزادی نے وعدہ نبھا کر شہزادے کو ظالم جادوگرنی کے جادو سے نجات دلائی۔ ہمیں بھی ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتے رہنا چاہیے۔
    ٭…٭…٭

  • اسپیس شپ کا فرار | علینا ملک

    اسپیس شپ کا فرار | علینا ملک

    اسپیس شپ کا فرار

    علینا ملک

    بازل، وہاج اور فاتح بلا کے شرارتی اور بے حد ذہین بچے تھے۔ پورا محلہ ان کی شرارتوں سے واقف تھا۔ ایک دن وہاج نے فاتح اور بازل کو ساتھ لیا اور دادا جان کی لائبریری کی طرف چل پڑے۔
    ”داداجان! ہمیں ضروری بات کرنی ہے۔” تینوں نے لائبریری میں داخل ہوتے ہی کہا۔ ”ہاں بولو! ” دادا جان اپناچشمہ درست کرتے ہوئے بچوں کے چہروں کا جائزہ لینے لگے۔
    ”دادا جان! اِس بار ہم آپ کے ساتھ شکار پر جائیں گے۔” بازل نے کہا۔
    ”ارے! کیوں بھئی؟ تم لوگ تو بہت شرارتی ہو۔ تمہارے والدین نہیں مانیں گے۔ انہوں نے صاف انکار کردیا۔ ”دادا جان! پلیز ، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ وہاں کوئی شرارت نہیں کریں گے۔” تینوں کے اصرار پر دادا جان خاموش ہوگئے۔ دادا جان کے دوست قریشی صاحب کا شہر سے دورایک بہت بڑا فارم ہائوس تھا۔ اِس کے تین اطراف گھنا جنگل تھا۔
    قریشی صاحب اور اُن کے دوست مہینے میں ایک بار شکار کے لیے وہاں جاتے تھے۔ ”بچو! ایک بات یاد رکھنا۔ فارم ہائوس کے اطراف میں خوف ناک جنگل ہے۔ وعدہ کرو کہ تم اُس کے کاٹیج سے باہر نہیں نکلو گے۔” دادا جان نے مقررہ دن فارم ہاؤس پہنچ کر بچوں کو نصیحت کی۔ ”جی دادا جان! ہم ایسا ہی کریں گے۔ آپ بے فکر رہیں۔”
    فارم ہائوس واقعی کسی جادوئی محل یا پرستان سے کم نہ تھا۔ چاروں طرف سبزہ، خوب صورت باغات، بے شمار پھل دار درخت اور خوش نما پھول، پودے اِس پیارے منظر کو چار چاند لگا رہے تھے۔ دادا جان بچوں کو سمجھا کر دوستوں کے ہمراہ شکار کے لیے چل دیے۔
    ُہرّرے… اب آئے گا مزہ! تینوں نے جیپ کونظروں سے اوجھل ہوتے ہی نعرہ لگایا اور باغ کے پچھلے حصّے میں نکل آئے۔ ”اوہ… تم دونوں ادھر آئو، دیکھو یہ کیا چیزہے؟” بازل نے فاتح اور وہاج کو پکارا۔ ”ہائیں! یہ کوئی خفیہ دروازہ لگتا ہے۔” تینوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
    ”اس کے پیچھے شایدجنگل ہے جس کا ذکر دادا جان کر رہے تھے ۔” فاتح نے کہا۔ دروازے کو تالا لگا دیکھ کر وہ تینوں رسی کے ذریعے دوسری طرف کود گئے اور کسی ماہر جاسوس کی طرح وہ جنگل میں آگے بڑھنے لگے۔ اچانک انہیں عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں۔ وہ تینوں سہم گئے۔ پھر ایک طرف سے آہنی ہاتھ ان کی طرف بڑھے۔ انہوں نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلیں اور آہنی ہاتھ انہیں گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔ ”اوہ …اوہ … ہم اس وقت کہاں ہیں؟” ہوش میں آتے ہی بازل کی آواز گونجی۔ چاروں طرف شیشے اور اسٹیل کی دیواریں تھیں۔ چھت کے ساتھ ایک بڑی اسکرین نصب تھی۔ یہ کوئی اسپیس شپ تھی جس کے آہنی پنجے اِنہیں پکڑ کر شپ میں لے آئے تھے۔وہ تینوں خوف زدہ تھے۔
    اچانک دیوار ذرا آگے کو سرکی اور ایک لمبا روشن راستہ دکھائی دیا۔ اس راہ داری کی دوسری طرف کچھ فولادی مشینیں نصب تھیں۔ چند عجیب و غریب روبوٹ نما بلائیں کمرے میں داخل ہوئیں۔ ”مجھے لگتا ہے یہ ہماری زمین پر کوئی خطرناک منصوبہ لے کر آئے ہیں ۔”وہاج نے کہا۔
    ”ہاں! تم ٹھیک کہہ رہے ہووہاج! ہمیں کچھ کر نا ہوگا، لیکن پہلے یہاں سے فرار ہونے کاراستہ تلاش کرناچاہیے ۔” بازل نے کہا۔ ”دیکھو! نیچے فرش پر کچھ ہندسے لکھے ہو ئے ہیں۔ یہ ہندسے راستہ کھلنے کا کوڈ ہوگا۔” فاتح نے ذہن لڑایا۔ ابھی وہ باتیں کررہے تھے کہ جادوئی دروازہ ایک بار پھر کھلا کوئی روبوٹ نما مخلوق اندر داخل ہوئی۔ اُن کے ہاتھوں میں فائلیں اور الیکٹرک پیڈ زتھے۔
    اندر آنے والے یہ عجیب و غریب روبوٹ ایک اسکرین کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ بازل اُن کی حرکات کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اُن کے واپس جاتے ہی بازل نے فرش پر لکھا کوڈ ملایا تو دروازہ خود بہ خود کھل گیا۔ انہیں سامنے ایک سیڑھی نظر آئی۔ وہ جلدی سے سیڑھی کے ذریعے نیچے اُتر گئے۔ کچھ دیر رینگنے کے بعد انہوں نے دوڑ لگادی اور اسپیس شپ سے کافی دُور نکل آئے۔
    ابھی وہ اپنی سانسیں بحال کر رہے تھے کہ ایک دم سے ان کے قدم زمین کے ساتھ چپک کررہ گئے۔ سامنے دادا جان کی جیپ کھڑی تھی۔ ”اُف! دادا جان تو آگئے۔ اب کیا ہوگا!” فاتح نے گھبرا کر پوچھا۔ ابھی وہ پریشانی کے عالم میں تھے کہ اچانک ایک آواز نے انہیں چونکا دیا۔ ”تم لوگوںنے تو وعدہ کیا تھا مجھ سے؟ تم واقعی اعتبار کے قابل نہیں ہو۔” دادا جان کی آنکھیں غصّے سے سرخ تھیں۔
    ”دادا جان! ہمیںمعاف کر دیں۔ ہم سے واقعی غلطی ہوگئی۔” فاتح نے سر جھکاتے ہوئے کہا پھر بازل نے سارا واقعہ سنا یا تو دادا جان حیران رہ گئے۔ ”دادا جان! ہمیں اس مخلوق کو یہاں سے بھگانا ہوگا۔” یہ کہہ کر تینوں نے اپنا منصوبہ دادا جان کو بتا دیا۔ پھر سب نے مل کر بہت سی لکڑیاں جمع کیں اور اُنہیں اسپیس شپ کے چاروں طرف پھیلا کر آگ لگا دی۔
    جیسے ہی آگ بھڑکی، اسپیس شپ میں ہل چل مچ گئی۔ ہر طرف دھواں اُٹھنے لگا۔ کچھ دیر بعد دھویں کے بادل چھٹنا شروع ہوئے تو بچوں کو اسپیس شپ آسمان کی طرف جاتی دکھائی دی۔ سب نے زور دار نعرے لگانا شروع کردیے۔ دادا جان نے تینوں کو پیار سے گلے لگا لیا۔
    ”داداجان! آپ ہم سے ناراض تو نہیں ہیں نا۔” واپسی پر بچوں نے دادا جان سے سوال کیا ۔
    ”دیکھو بچو! تم لوگوںنے وعدہ خلافی کی جس کا مجھے افسوس ہے۔ میں تم سب سے خفا ہوں۔ ہاں! البتہ مجھے خوشی ہے کہ تم نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے ایک بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اس پر میں تم سب کو شاباش دیتا ہوں لیکن یاد رکھنا کہ قسمت ہمیشہ مہربان نہیں ہوتی اس لیے بڑوں کا کہنا ماننا سیکھو۔ اسی میںتمہاری کامیابی ہے۔”
    ”جی دادا جان! ہم آیندہ کہنا مانیں گے۔” تینوں نے یک زبان ہوکر کہا اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
    ٭…٭…٭

  • سونے کا انڈا | احمد عدنان طارق

    سونے کا انڈا | احمد عدنان طارق

    سونے کا انڈا
    احمد عدنان طارق

    ایک کھیت کے کنارے ایک بھوری مرغی رہا کرتی تھی جو روز بھورے رنگ کا ایک انڈا دیتی۔ ایک دن مرغی نے سوچا: ”اے کاش! میں کبھی سونے کا انڈا دے سکوں تاکہ ساری زندگی سکون سے گزرے۔” دوسری مرغیوں نے اُس کی یہ خواہش سنی تو آپس میں سرگوشی کرنے لگیں۔
    ”ذرا اسے تو دیکھو! یہ سونے کا انڈا دینا چاہتی ہے! اتنے اچھے تو ہوتے ہیں بھورے انڈے!” رفتہ رفتہ یہ خبر سارے جانوروں نے سن لی۔
    آخر بھوری مرغی کی یہ خواہش کسان کی بیوی تک بھی پہنچ گئی۔ وہ مسکرائی۔ اُسے پتا تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے۔ موسم بہار تھا اور گائوں کا میلہ نزدیک آگیا تھا۔ میلے میں انڈوں کو رنگنے کا مقابلہ بھی ہوتا تھا۔ کسان کی بیوی نے ٹوکری میں بھورے انڈے اکٹھے کیے اور اُن پر بہت خوب صورت رنگ کرکے مقابلے کے لیے کسان کو دے دیئے۔
    صرف سب سے بڑا ایک بھورا انڈا اس نے اپنے پاس رکھ لیا اور اس پر انتہائی خوب صورت سنہری رنگ کر دیا۔ جب دوبارہ انڈے اکٹھے کرنے کے لیے کسان کی بیوی بھوری مرغی کے پاس آئی تو اس نے چپکے سے وہ سنہری انڈا بھوری مرغی کے نیچے رکھ دیا۔
    کچھ دیر کے بعد جب بھوری مرغی انڈوں سے نیچے اُتری تو اُس کی نظر چمکتے ہوئے سنہری انڈے پر پڑی۔ اس نے خوشی سے اُچھل اُچھل کر شور مچانا شروع کر دیا۔
    ”میری خواہش پوری ہو گئی۔ میں نے سونے کا انڈا دیا ہے۔ اب میں بہت خوش ہوں۔”
    بھوری مرغی نے کسان کی بیوی سے درخواست کی کہ اس چمکتے انڈے کو کھڑکی میں رکھ دے تاکہ وہ جب چاہے اُسے دیکھ سکے۔ تب سے آج تک انڈا کھڑکی میں ہی پڑا ہے۔

    ٭…٭…٭

  • شامو اور بابو | رِدا سلیم

    شامو اور بابو | رِدا سلیم

    شامو اور بابو
    رِدا سلیم

    علی پور کے گاؤں میں دو گھوڑے شامو اور بابو رہتے تھے۔ بابو صحت اور جسامت میں خوب تھا جب کہ شامو بے چارا دبلا پتلا۔ ان دونوں کی آپس میں بہت دوستی تھی۔ ایک دن بابو نے شامو سے کہا:
    ”شامو! تم تو ایک عام نسل کے گھوڑے ہو جب کہ میں خوب صورت اور طاقت ور ہوں۔ میرے چارے میں طرح طرح کے میوے ہوتے ہیں اور تمہاری خوراک صرف گھاس پھوس ہی ہوتی ہے۔ میری ٹانگیں مضبوط اور میرے کُھر مہارت سے کٹے ہوئے ہیں جب کہ تمہارے پاؤں تو مٹی گارے سے لتھڑے رہتے ہیں۔ تم نے میری گردن دیکھی ہے نا! خوب صورت اور ملائم، جب کہ تمہاری گردن بھدی اور کھردری ہے۔ میری کھال ریشم کی طرح چمکتی ہے اور تمہاری پسینے میں شرابور، اب بتاؤ ہم میں کون زیادہ خوب صورت ہے؟” اس بات پر شامو کو سخت غصہ آگیا۔ وہ کہنے لگا: ”بابو! اگر یہی بات ہے تو ہم دوڑ لگا لیتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کون آگے نکلتا ہے۔”
    چناں چہ وہ دونوں اُسی وقت مقابلے کے لیے تیار ہوگئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ دونوں میدان میں چکر لگائیں گے اور تب تک نہیں رکیں گے جب تک کوئی ایک اپنی ہار تسلیم نہیں کرلیتا۔”
    دونوں نے ایک ساتھ دوڑنا شروع کیا۔ بابو ذرا گردن اکڑا کر دوڑ رہا تھا۔ وہ پہلے تین چار چکر شامو سے آگے رہا لیکن جلد ہی اس کی ہمت جواب دینے لگی۔ شامو نے بابو سے پوچھا ”کیوں بھئی! تھک گئے؟”
    ”ارے! میں تھکا نہیں، بس میرے پاؤں میں ذرا موچ آگئی ہے۔” بابو نے جھوٹ بولا۔
    اگلے چکر کے دوران شامو دوڑتا ہوا بابو سے کافی آگے نکل گیا۔
    ”میرے دوست! کیا تم تھک گئے ہو؟” شامو نے پوچھا۔
    ”نہیں، مجھے کُچھ یاد آگیا۔” بابو کی سانس اُکھڑی ہوئی تھی لیکن وہ مسلسل جھوٹ بول رہا تھا پھر اچانک وہ رک گیا اور زمین پر لیٹ گیا۔
    اِدھر شامو دسواں چکر لگانے گیا تو اُدھر بابو چپکے سے لنگڑاتا ہوا قریبی جھاڑیوں کے پیچھے جاکر گھاس چرنے لگا۔ وہ شامو سے کترا رہا تھا۔ اچانک اس نے آواز لگائی: ”شامو! تم تھوڑی دیر کے لیے آرام کرلو۔”
    ”مجھے آرام کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں تو ابھی دوڑنے کے لیے صرف گرم ہوا ہوں۔ ابھی میں دس چکر مزید لگائوں گا۔” شامو نے جواب دیا۔ اس کی بات سن کر بابو اتنا شرمندہ ہوا کہ آئندہ کبھی اس کے سامنے اپنا سر نہ اٹھا سکا۔

    ٭…٭…٭

  • درزی اور راجا | انعم سجیل

    درزی اور راجا | انعم سجیل

    درزی اور راجا
    انعم سجیل

    کسی جنگل میں راجہ نام کا ایک ہاتھی رہتا تھا۔ وہ روز نہانے کے لیے ندی پر جایا کرتا۔ راستے میں درزی کی دکان تھی۔ راجہ روزانہ اُس درزی کی دکان پر کچھ دیر ٹھہر جاتا کیوں کہ درزی اُسے کھانے کے لیے ڈبل روٹی دیا کرتا تھا۔ راجہ مزے لے لے کر ڈبل روٹی کھاتا اور پھر نہانے چلا جاتا۔
    ایک دن راجہ درزی کی دکان پر آیا اور اپنی سُونڈ کھڑکی کے اندر کی تاکہ درزی سے روٹی لے سکے۔ اسی دوران درزی کو شرارت سُوجھی۔ اس نے ڈبل روٹی کی بجائے ایک باریک اور نوک دار سوئی راجہ کی سونڈ میں چبھودی۔ راجہ تو ایک دَم تڑپ ہی اٹھا۔ سوئی چبھنے سے اُسے بہت درد ہوا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن راجہ نے درزی کو کچھ نہ کہا اور حُپ چاپ ندی پر نہانے چلا گیا۔ درزی اپنی شرارت پر خوب ہنسا۔
    راجہ جب ندی پر پہنچا تو اُس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ وہ درزی سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ خوب اچھی طرح نہانے کے بعد راجہ نے ندی کے کنارے سے بہت سا کیچڑ اپنی لمبی سُونڈ میں بھر لیا اور تیز تیز چلتا ہوا درزی کی دُکان پر پہنچ گیا۔ درزی اپنی دُھن میں مگن رنگ برنگے پیارے پیارے کپڑے سی رہا تھا۔
    راجہ نے کھڑکی سے اپنی سُونڈ اندر کی اور سارا کیچڑ پھینک دیا۔ درزی کی دکان میں رکھے سارے کپڑے کیچڑ سے خراب ہوگئے۔ پہلے تو درزی کو بہت غصہ آیا لیکن جب اُسے اپنی شرارت یاد آئی تو وہ بہت شرمندہ ہوا۔ اُس نے راجہ سے معافی مانگی اور آئندہ شرارت سے توبہ کرلی۔
    ٭…٭…٭

  • پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

    پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

    پڑھاکو روبینہ

    لبنیٰ حمید

    کسی قصبے میں روبینہ نام کی ایک لڑکی رہتی تھی۔ اُس کے پاس ڈھیر ساری کتابیں تھیں لیکن اُسے اِن کتابوں سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ ایک دن روبینہ کا کتا اُس کی کتابوں والی الماری پرچڑھ گیا۔ روبینہ اُسے نیچے اتارنے لگی تو ساری کتابیں زمین پر گر گئیں اور اُن کے صفحات پھٹ گئے۔ کتابوں کے صفحوں سے جانور نکل کر باہر آنے لگے۔ روبینہ حیرانی سے سب کو دیکھ رہی تھی۔ ہاتھی میز پر ناچ رہا تھا۔ بندروں نے پردے پھاڑ کر پگڑیاں بنالی تھیں۔ خرگوش اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے جب کہ دُنبہ ایک طرف کھڑا رو رہا تھا۔
    ”رکو! تم سب واپس آجاؤ۔” روبینہ غصے سے چلّائی مگر اِس شور میں کسی نے اُس کی آواز نہ سنی۔
    اچانک روبینہ کو ایک خیال آیا۔ اُس نے ایک کتاب کھول کر کہانی پڑھنا شروع کی: ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں…” سب جانور قریب آکر روبینہ کی کہانی سننے لگے۔ اچانک روبینہ نے دوسرا صفحہ پلٹا تو بندر اُچھلنے لگے:
    ”یہ ہمارے بارے میں لکھا ہے۔” اِس کے بعد وہ چھلانگیں لگاتے ہوئے کتاب کے اندر غائب ہوگئے۔ روبینہ یہ دیکھ کر حیران ہوئی لیکن وہ کہانی پڑھتی رہی۔ یوں ایک ایک کرکے سب جانور دوبارہ کتابوں میں بند ہوگئے۔ اب پورے گھر میں خاموشی تھی۔ ”میں انہیں دوبارہ کیسے دیکھ پاؤں گی؟” روبینہ افسردگی سے بولی مگر پھر اچانک اُسے ایک خیال آیا اور وہ مُسکرانے لگی۔
    اب وہ روزانہ اپنے اسکول کی کتابیں اور کہانیاں بہت شوق سے پڑھنے لگی۔ اُسے کتابیں پڑھنے میں مزا آنے لگا۔ اب وہ روزانہ کتابوں میں سب جانورں سے ملاقات کرلیتی تھی۔

  • ننّھا زرّافہ | نور الہدٰی افضل

    ننّھا زرّافہ | نور الہدٰی افضل

    ننّھا زرّافہ
    نور الہدٰی افضل

    کسی جنگل میں ایک ننھا زرافہ ظرفی رہتا تھا۔ جنگل کے جانور اُس کی لمبی گردن کا خوب مذاق اُڑاتے ۔ ظرفی دُکھ سے سوچتا کہ کاش اُس کی گردن چھوٹی ہو سکتی۔ ایک دن وہ اسی سوچ میں اُداس بیٹھا تھا کہ اچانک ایک پری اُس کے پاس سے گزری۔ پری نے ظرفی سے پوچھا:
    ”تم اُداس کیوں ہو؟” وہ بولا: ”سب جانور میری لمبی گردن کا مذاق اُڑاتے ہیں۔”
    پری نے کہا ”لو! اس میں اُداسی کی کیا بات ہے۔ اگر تم چاہو تو میں ابھی تمہاری گردن چھوٹی کر دیتی ہوں لیکن… تمہاری گردن دوبارہ لمبی نہیں ہو پائے گی۔”
    ”سچ پیاری پری! کیا ایسا ہوسکتا ہے؟” ظرفی خوشی سے چلّایا۔
    پری نے جادو کی چھڑی گھمائی اور اُس کی گردن چھوٹی کردی۔ اگلے دن جب وہ گھر سے نکلا تو جنگل کے سب جانور بہت حیران ہوئے مگر وہ پھر سے اُس کا مذاق اڑانے لگے۔ انہیں نظرانداز کرکے ظرفی آگے چل پڑا۔
    پہلے جو جانور اُس کی لمبی گردن کا مذاق اڑاتے تھے، اب وہی اُس کی چھوٹی گردن پر بھی ہنس رہے تھے۔ وہ سوچ میں گُم آگے بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے بھوک ستانے لگی۔ وہ جلدی سے درخت کی طرف بڑھا تا کہ پھل کھا سکے مگر اُس کا منہ پھلوں تک نہ پہنچ سکا۔ پہلے لمبی گردن کی وجہ سے اُسے آسانی تھی۔ وہ اونچے درختوں سے مزے مزے کے پھل کھا سکتا تھا لیکن اب ایسا نہیں تھا۔ بھوک کی وجہ سے وہ رونے لگا۔ اچانک اُس کی آنکھ کھل گئی۔
    ”اوہ! تو یہ ایک خواب تھا!” اپنی لمبی گردن دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے عزّم کیا کہ اب وہ کبھی دوسروں کے مذاق اڑانے پر اُداس نہ ہو گا کیوں کہ اللہ نے اُسے بہت خوب صورت بنایا ہے۔
    ٭…٭…٭