Author: misbah116@hotmail.com

  • کہاوت کہانی | مسور کی دال | ضیاء اللہ محسن

    کہاوت کہانی | مسور کی دال | ضیاء اللہ محسن

    کہاوت کہانی
    مسور کی دال
    ضیاء اللہ محسن

    پرانے زمانے میں ہندوستان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ کھانے پینے کا بہت شوقین تھا اسی لیے اُس نے اپنے محل میں بہت وسیع باورچی خانہ بنارکھا تھا۔ اس باورچی خانے میں بہت سے باورچی نت نئے پکوان بنا کر بادشاہ کو خوش کرتے اور اس سے انعام لیتے۔ مسور کی دال اُن دنوں بہت قیمتی ڈش سمجھی جاتی تھی۔ جیسے آج کل گوشت یا مچھلی پسند کی جاتی ہے۔ بادشاہ کو بھی مسور کی دال بہت پسند تھی۔
    ایک دن بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو باورچی مسور کی دال سب سے اچھی بنائے گا اُسے خاص انعام و کرام سے نوازا جائے گا۔ چناں چہ تمام شاہی باورچیوں نے اچھی سے اچھی دال بنانے کے لیے محنت کی لیکن بادشاہ کو کسی کا ذائقہ پسند نہ آیا۔ انہی دنوں ایران سے ایک باورچی ہندوستان آیا ہوا تھا۔ وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھا۔ چناں چہ اُسے بھی محل میں دعوت دی گئی تاکہ وہ اپنی قسمت آزمائے۔
    خدا کا کرنا یہ ہوا کہ بادشاہ کو حاذق نامی اس باورچی کی بنائی گئی دال پسند آگئی۔ چناں چہ اُسے انعام و اکرام دے کر شاہی باورچیوں میں شامل کر لیا گیا۔ رفتہ رفتہ یہ باورچی بادشاہ کا خاص اور لاڈلا بن گیا۔ بادشاہ کو جب بھی مسور کی دال کھانا ہوتی تو حاذق ہی کو کہا جاتا۔
    دن یونہی گزرتے گئے۔ ایک دن بادشاہ بیمار پڑگیا۔ اُسے لگا کہ اُس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ چناں چہ بادشاہ نے شاہی خاندان کے تمام افراد کو ایک دعوت پر مدعو کیا تاکہ نئے بادشاہ کے نام کے لیے سوچ بچار کی جاسکے۔ چوں کہ بادشاہ کی کوئی اولاد نہ تھی چناں چہ نئے بادشاہ کے لیے کسی قریبی عزیز کا نام دے دیا گیا۔ اِس اعلان کے چند روز بعد بادشاہ کا انتقال ہوگیا۔ اب تختِ شاہی پر نیا بادشاہ بیٹھ چکا تھا لیکن اپنی فطرت میں یہ کچھ تنگ دل اور کنجوس تھا۔
    کچھ روز بعد نئے بادشاہ نے مسور کی دال کھانے کی فرمائش کی۔ چناں چہ حاذق باورچی نے دال تیار کرکے بادشاہ کے دسترخوان پر پیش کی، جسے کھاتے ہی بادشاہ کا منہ بن گیا۔ اُسے دال پسند نہ آئی۔ بادشاہ حاذق پر بگڑتے ہوئے بولا:
    ”اے پردیسی باورچی! کیا تمہیں کھانا پکانا نہیں آتا؟ ہونہہ… کیا ہی بد ذائقہ چیز بنائی ہے۔”
    یہ بات سنتے ہی ایرانی باورچی حاذق نے جواب دیا: ”بادشاہ سلامت! دال تو وہی ہے جو میں پہلے بنایا کرتا تھا البتہ اب کھانے والا منہ بدل گیا ہے۔ ہونہہ… یہ منہ اور مسور کی دال…” یہ کہتے ہوئے حاذق نے محل سے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور ایران جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اُسے معلوم ہوگیا کہ اب یہاں اِس کی قدر نہیں ہوگی۔
    پیارے بچو! حاذق تو واپس ایران چلا گیا لیکن اُس کا بولا گیا جملہ اتنا مشہور ہوا کہ رفتہ رفتہ وہ کہاوت بن گئی جو آج بھی مشہور ہے۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔ آج بھی اگر کوئی آدمی کسی کام یا کسی خدمت کے لائق نہ ہو تو اس کے لیے یہی کہاوت بولی جاتی ہے۔
    ٭…٭…٭

  • مالی کا گدھا | طاہرہ احمد

    مالی کا گدھا | طاہرہ احمد

    مالی کا گدھا
    طاہرہ احمد

    پرانے زمانے کی بات ہے شہر بغداد میں رستم نامی ایک مالی رہتا تھا۔ ایک دن رستم اپنے گدھے کو لے کر بازار سے گزر رہا تھا۔
    بازار میں اُسے ایک ٹھگ ملا، ٹھگ نے رستم سے پوچھا: ”میاں! گدھے کو کہاں لے جارہے ہو؟” رستم بولا: ”یہ بہت تنگ کرتا ہے۔ میں اسے بیچنے جارہا ہوں۔” ٹھگ نے کہا:
    ”ارے بھئی کیوں نقصان کرتے ہو اپنا؟ میں اسے انسان بنا سکتا ہوں لیکن اس کے بدلے پانچ سونے کے سِکّے لوں گا۔” رستم یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ اس نے گدھا ٹھگ کے حوالے کیا اور چھے ماہ بعد آنے کا وعدہ کرکے چلا گیا۔
    دن گزرتے گئے۔ اُدھر ٹھگ نے رُستم کا گدھا بیچ ڈالا۔ چھے ماہ بعد رستم ٹھگ کے پاس گیا۔ اس نے جاتے ہی ٹھگ سے گدھے کے متعلق پوچھا: ”بھائی میرا گدھا انسان بن گیا؟”
    یہ سن کر ٹھگ پہلے تو گھبرایا پھر اُس نے سوچا کہ یہ تو بے وقوف ہے۔ کیوں نا اس کی بے وقوفی کا فائدہ اٹھایا جائے؟
    اُس نے مالی سے کہا: ”دیکھو بھائی! میں نے تمہارے گدھے کو انسان بنادیا تھا اور اب وہ شہر جاکر گورنر لگ گیا ہے۔ تم گورنر کے محل چلے جاؤ لیکن یاد رکھنا وہ خود کو گدھا نہیں مانے گا۔ اس لیے تم اُس کی کسی بات پر یقین نہ کرنا۔ بس اس کے سامنے چارہ لہرا دینا، ہوسکتا ہے وہ تمہیں پہچان لے۔”
    ٹھگ کی بات سن کر رُستم نے اپنے ہاتھ میں چارہ لیا اور گورنر کے محل میں چلا گیا۔ وہاں جاکر مالی نے گورنر کے سامنے چارہ لہرایا اور بولا: ”چل بھئی میرے گدھے! تُو انسان بن گیا ہے۔ چل میرے ساتھ میں تجھے لینے آیا ہوں۔”
    گورنر نے یہ بات سنی تو اسے بہت غصّہ آیا وہ چیخ کر بولا: ”کون ہو تم؟ کہاں سے آئے ہو؟ کون سا گدھا؟ چلو بھاگو یہاں سے…” رُستم نے گورنر کو پچکارنا شروع کردیا۔
    ”ارے میرے پیارے گدھے! اتنا غصہ کیوں کرتا ہے۔ تُو اپنے مالک کو ہی بھول بیٹھا۔ دیکھ یاد کر جب تو میرے ڈنڈے کھایا کرتا تھا میں ہی تیرا مالک ہوں۔” یہ کہہ کر رستم نے اُچھل کر گورنر کو دبوچ لیا۔ گورنر نے اپنے سپاہی بلالیے جنہوں نے مالی کو گرفتار کرلیا۔ رستم کے رونے دھونے پر گورنر نے اُس سے سارا واقعہ سنا تو اس کی ہنسی چُھوٹ گئی۔ اس نے سپاہی بھیج کر اس ٹھگ کو گرفتار کروایا اور رُستم کو آزاد کر دیا۔

  • خالہ بلی اور ننھے چوہے | افشاں شاہد

    خالہ بلی اور ننھے چوہے | افشاں شاہد

    خالہ بلی اور ننھے چوہے
    افشاں شاہد

    کسی جنگل میں ٹومی اور ٹمی دو ننھے چوہے رہتے تھے۔ ایک دن دونوں نے اپنے امی ابو سے میلے پر جانے کی اجازت لی اور قریبی گاؤں کی طرف چل پڑے۔ ابھی وہ کچھ قدم ہی چلے تھے کہ انہیں صُبح سے بھوکی خالہ بلی مل گئیں۔ ننھے چوہوں کو دیکھ کر ان کے منہ میں پانی آگیا۔
    ”آہا…!! آج تو شکار خود چل کر پاس آیا ہے۔ بہت مزہ آئے گا!” خالہ بلی خوش ہوکر بُڑبُڑائی۔ ٹومی اور ٹمی خوف زدہ ہوگئے اور ٹمی رونے لگی۔
    ”میں تم دونوں کو کھا جاؤں گی۔” خالہ بلی نے پنجے لہراتے ہوئے کہا۔
    ”خالہ بلی! خالہ بلی! ہم آتے ہوئے کیچڑ میں گرگئے تھے۔ یہ دیکھیں! ہمارے ہاتھ پاؤں بھی گندے ہوگئے ہیں۔ ہمیں ابھی کھائیں گی تو آپ کے پیٹ میں درد ہوگا۔ ہم تالاب سے نہا کر آتے ہیں۔ پھر آپ چاہیں تو بے شک ہمیں کھالیں۔” ٹومی ہمت کرکے بولا۔
    ”تم اتنے چالاک نہ بنو! مجھے پتا ہے تم دونوں موقع ملتے ہی بھاگ جاؤ گے۔” خالہ بلی نے کہا۔
    ”خالہ بلی! ہم ایک ایک کرکے جائیں گے اور نہا کر واپس آجائیں گے۔” ٹومی نے کہا تو خالہ بلی نے اجازت دے دی۔ ٹومی تالاب کی طرف چل پڑا۔ ٹومی کو جاتا دیکھ کر ٹمی پریشان ہوگئی۔ خالہ بلی کو تسلی تھی کہ ٹمی اُس کے پاس ہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد ٹومی بھاگتا ہوا واپس آیا۔ اُسے دیکھ کر خالہ بلی نے اپنی زبان ہونٹوں پر پھیرنا شروع کردی۔
    اچانک ڈبو انکل کی خوف ناک غرّاہٹ گونجی جو ٹومی کے پیچھے پیچھے چلا آرہا تھا۔ ڈبو انکل کو دیکھ کر خالہ بلی گھبرا گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے دُم دبا کر بھاگ نکلی۔ وہ سمجھ گئی کہ ٹومی ڈبو کو بلا کر لایا ہے۔ خالہ بلی کو بھاگتے دیکھ کر ٹومی نے آواز دی: ”خالہ بلی! خالہ بلی! رک جاؤ، بھاگ کیوں گئی۔ کیا ہمیں کھانا نہیں؟”
    خالہ بلی نے بھاگتے ہوئے جواب دیا: ”نہیں نہیں! تم لوگ بہت گندے ہو۔ میں تمہیں کھاؤں گی تو میرے پیٹ میں درد ہوگا۔” یہ سن کر ٹومی، ٹمی اور ڈبو انکل کی ہنسی چھوٹ گئی۔

  • داستانِ محبت — ندا ارشاد

    داستانِ محبت — ندا ارشاد

    پہلا باب
    ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے اس کی روح کھینچ لی ہو۔ اس کے تاثرات خطرناک حد تک عجیب تھے۔ آنکھوں میں ایک انجانا سا خوف اور دل تو جیسے دھڑکنا ہی بھول گیا تھا۔
    ”یہ… یہ جھوٹ ہے یہ سب۔ دھوکا ہے، فریب ہے ایسا نہیں ہوسکتا۔ بھلا میرے ساتھ ایسا کیسے ہوسکتا ہے!!” یک دم اُسے ہوش آیا تھا۔ ”میں… میں… نہیں… ہرگز نہیں… آخر کیوں… میں ہی کیوں… ایسا سخت امتحان… میں نے تو… تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا، پھر ایسی بدعا…” الفاظ ٹوٹ رہے تھے اور شاید وہ خود بھی۔ اچانک ہی اس کا سر چکرایا اور کاغذ کا ٹکڑا جانے کب کااس کے ہاتھوں سے پھسل کر گر چکا تھا۔ آخری منظر جو اس نے دیکھا وہ کوئی شخص تھا جو اندر داخل ہوا تھا کون تھا وہ؟؟وہ وی سی صاحب کے شان دار دفتر میں بیٹھا تھا۔ وہ کسی میٹنگ کی وجہ سے لیٹ ہوگئے تھے اور اسے انتظار کرنے کو کہا گیا تھا۔
    ”خوش ہو؟” اچانک اندر سے آواز اُبھری تھی۔
    ”خوش… ہاں شاید تھوڑا سا… مگر تمہیں کیا تم چپ رہو۔” اس نے جیسے خود کو ڈانٹا۔
    ”کیوں؟ میں کیوں چپ رہوں۔ تم خوش ہو’ تو میں کیوں نہ جھوموں ناچوں خوشیاں منائوں؟”
    ایسا ہرگز مت کرنا۔
    ”مگر کیوں؟ مہر داد عالم۔”




    ”تمہیں پتا ہے نہ کہ میری خوشیوں کی عمر بڑی مختصر ہوتی ہے۔ تم کیوں چاہتی ہو کہ میرا سکون برباد ہو۔”
    ”سکون… میں ایسا کیوں چاہوں گی… تمہارے سکون سے میرا چین بھی مشروط ہے۔ مان لو کہ تم ڈرپوک ہو۔”
    ”ہاں ہاں میں ڈرپوک ہوں… ڈرتا ہوں میں ا ور مجھے اس بات پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ یہ میری زیست کا حصہ ہے سمجھی تم؟ جائو اب۔”
    ”السلام علیکم ینگ مین! سوری تمہیں بہت انتظار کرنا پڑا۔” وی سی صاحب اپنے دفتر میں داخل ہوئے تھے۔
    ”وعلیکم السلام سر! اور معافی کس بات کی۔ میرے پاس کافی وقت ہے آج کل۔”
    ”تمہارے آغا جان کیسے ہیں مہر؟”
    ”اللہ کا شکر ہے سر! بس تھوڑے سے ضدی ہیں، باقی سب سیٹ ہے۔” اس کی بات پر وہ ہنس پڑے۔
    ”ارے اب عمر ہی ایسی ہے ہم بڈھوں کی۔ اس عمر میں ضد نہیں کریں گے تو کب کریں گے؟ وہ بھی کیا دن تھے جب ہم جوان تھے۔” وہ ماضی کی حسین یادوں میں کھو گئے۔ جب وہ صرف شجاع بخاری تھے۔ کوئی وی سی نہیں، وہ اور مہر داد کے آغا جان آغا حسین عالم اکٹھے پڑھا کرتے تھے۔ آغا صاحب جیسے خوب رو اور ذہین شخص سے دوستی کا ہر کوئی خواہاں تھا۔ شجاع حسین ان چند خوش نصیبوں میں سے تھے جنہیں ان کی گہری دوستی میسر تھی۔ آغا حسین عالم ملک کے نامور رئیسوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ درحقیقت سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے تھے’ مگر اتنی دولت کے باوجود عاجزی ان کی طبیعت کا خاصا تھی۔ بہت سے گھرانوں کے پیٹ ان کے دم سے بھرتے تھے اور آج پچاس سال بعد ان ہی کا وارث شجاع صاحب کے سامنے تھا۔ چھے فٹ سے نکلتا قد، چوڑا سینہ، کشادہ پیشانی، سرخ و سفید رنگت اور بہت گہری سیاہ آنکھیں جو بہت کچھ کہتی تھیں۔ اس کی شخصیت کا سحر دیکھنے والوں کو جکڑ لیا کرتا تھا’ مگر اس کی مغرور ناک جو صرف مغرور نظر آتی تھی اور آنکھوں کی سرد مہری کسی کو اس کے قریب نہیں جانے دیتی تھی۔ وہ سیاہ آنکھیں چیخ چیخ کر کہتی تھیں ہمارے پاس مت آئو یہاں تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔
    شجاع صاحب اچانک چونک پڑے۔ وہ ان سے کچھ کہہ رہا تھا۔
    ”سر کہاں کھو گئے’ آپ نے بتایا نہیں کیوں بلوایا ہے مجھے۔”
    ”مہرداد میں چاہتا ہوں کہ تم کچھ عرصہ یونیورسٹی میں بہ طور معلم خدمات سرانجام دو جب تک تم آگے کا کچھ سوچ نہیں لیتے تقریباً تب تک۔” انہوں نے سنجیدگی سے کہا تھا’ مگر مہرداد سمجھ گیا کہ یہ کوئی درخواست نہیں بلکہ حکم ہے۔
    ”دیکھو بیٹا! تم بہت ذہین ہو۔ اپنا گولڈ میڈل یوں ضائع مت کرنا یہ اس بات کی نشانی ہے کہ تم یہاں کے قابل ترین اسٹوڈنٹ ہو’ تو اپنے علم سے دوسروں کو بھی فیض یاب ہونے دو یہ تمہارا فرض ہے میرے بچے۔ یہ صرف میری ہی نہیں تمہارے آغا جان کی بھی خواہش ہے۔”
    مہرداد نے ناراض ہونے کی اداکاری کی’ مگر مدمقابل شجاع صاحب تھے۔ اس نے فوراً ہی اپنے تاثرات تبدیل کیے تھے۔
    ”سر یہاں مجھے سب جانتے ہیں اسی سال تو ایم بی اے کیا ہے میں نے۔ میں یہاں استاد کی حیثیت سے نہیں پڑھا پائوں گا۔ اپنی طرف سے اس نے بات ختم کی تھی’ مگر شجاع صاحب کے الفاظ نے اسے دوبارہ وہیں لاکھڑا کیا تھا۔
    تم اس کی فکر مت کرو، تمہیں یہاں نہیں پڑھانا نہ ہی قائداعظم یونیورسٹی کے کسی اور کیمپس میں۔ تم لاہور جارہے ہو، تمہیں وہاں ایجوکیشن یونیورسٹی کے طالبات کو سٹیٹس پڑھانی ہے۔”
    اسے آغا جان کا سارا پلان سمجھ آگیا تھا۔ وہ اسے تنہا رہ کر گھٹنے نہیں دینا چاہتے تھے۔ وہ بچپن ہی سے ایسا کیا کرتے تھے۔ اسے ہمیشہ مصروف رکھتے تھے اور اب پڑھائی ختم ہونے کے بعد جب اس نے کچھ عرصہ کے لیے تنہائی چاہی’ تو اسے وہ بھی نہیں دی گئی تھی’ مگر وہ اس تنہائی کا کیا کرتا جو اس کے دل میں تھی۔ کاش وہ آغا جان کو سمجھا سکتا۔
    ٭…٭…٭




    وہ ساری رات بے چین رہا اور ٹھیک سے سو بھی نہیں سکا تھا۔ صبح پانچ بجے وہ اپنی روٹین کے مطابق جاگنگ ٹریک پر تھا۔ راستے میں اسے آغا جان مل گئے۔ وہ جوانی سے جاگنگ کے عادی تھے۔ یہ عادت اس نے انہی سے لی تھی۔ بچپن میں جب وہ اٹھنے میں سستی کرتا’ تو آغا جان کہتے:
    ”صحت کی بنیاد قائم کرنے اور تندرستی برقرار رکھنے کے لیے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ان عادات سے گریز کیا جائے جو طاقت اور قوت کو ضائع کرتی ہیں۔”
    ”وہ کون سی عادات میں آغا جان؟” وہ معصومیت سے پوچھا کرتا۔
    ”سستی اور کاہلی۔ میرے بچے عام انسان کے لیے سات گھنٹے، کاہل کے لیے نو گھنٹے اور آوارہ انسان کے لیے گیارہ گھنٹے نیند درکار ہے۔ میں نہیں چاہتا تم سست اور کاہل بنو۔”
    دس میں نو حصے برائیاں اور تکالیف صرف سستی سے پیدا ہوتی ہیں۔
    تو کیا تم سست بن کر وہ تکالیف جھیل سکو گے۔ آغا جان اسے سمجھایا کرتے۔
    ”السلام علیکم! صبح بہ خیر آغا جان۔”
    ”وعلیکم السلام! صبح بہ خیر میرے بچے۔ جیتے رہو، خوش رہو، مسرتیںتمہارا مقدر بنیں۔” وہ اسے ہمیشہ ہی ڈھیر ساری دعائوں سے نوازا کرتے تھے اور وہ سوچتا رہ جاتا کہ کیا خوشیاں واقعی اس کا مقدر بن سکتی ہیں… آج کل یونیورسٹی سے فارغ ہوکر وہ تھوڑا بہت خوش تھا’ مگر اس کی آنکھیں پھر بھی اس کا ساتھ نہ دیتی تھیں۔
    ”مہر داد چلو بیٹا گھر چلیں۔” آغا جان اس سے مخاطب تھے۔
    جی چلیں! وہ گھر کے راستے کی طرف گامزن تھے۔
    ”بیٹا تم نے اپنا سامان پیک کرلیا۔”
    ”جی آغا جان۔ مہر داد میرے بچے تم قسمت کے بارے میں اتنا مت سوچا کرو۔” آغا جان نے جیسے اس کے دل کی بات پڑھ لی ہو۔ وہ ہمیشہ سے ایسے ہی تھے۔ اس کی ہر تکلیف کو فوراً سمجھ لینے والے۔
    ”قسمت کے متعلق ایک بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ انسان ہر اچھے کام کا سہرا اپنے سر باندھتا ہے اور ہر غلط کام کے لیے قسمت کا رونا روتا ہے۔”
    ”اور اگر قسمت نہ بدلے تو آغا جان۔”
    ”خود کو بدل دو، قسمت خود بہ خود بدل جائے گی۔” ایک دم ہی جیسے وہ تپتی ریت سے ٹھنڈے سمندر میں آگیا تھا۔ اس نے خود کو بدلنے کا کبھی نہ سوچا تھا۔ وہ خود کو بدلے گا اگر قسمت کو بدلنے کا یہی راستہ ہے تو وہ ضرور کوشش کرے گا۔ آغا ولاز کے باہر آج اس نے خود سے عہد کیا تھا اب اسے وہ عہد نبھانا تھا۔
    ”محبت اگر خود ساختہ اصول کی پابند ہوتی’ تو اس کا وجود مٹ چکا ہوتا۔ یہ تو وہ جبلی جذبہ ہے جو ازل سے ابد تک قائم رہے گا۔ زمانے کی اقدار کے ساتھ اس کے روپ اور انداز بے شک بدلتے رہتے ہیں’ لیکن اس کے جذبے کے حسیاتی پہلو کا جہاں تک تعلق ہے، یہ وہی ہے جو دنیا کے پہلے انسان کا تھا اور دنیا کے آخری انسان کا ہوگا۔”
    ارے واہ محترمہ غرنیق شاہ صاحبہ آپ کا فلسفہِ محبت تو کمال ہے۔ ردا نے اسے داد دیتے ہوئے کہا تھا۔
    وہ مسکرا کر بولی:
    ”ڈئیر یہ کوئی فلسفہ نہیں یہ حقیقت ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ہم سب محبت کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور یہ ہمارے وجود کا بنیادی اصول ہے۔”
    ردا نے یہ بات سنتے ہوئے گھڑی دیکھی’ تو فوراً کھڑی ہوگئی۔ ”ہم محبت کی یہ کلاس بعد میں جاری رکھیں گے۔ فی الحال مجھے شاپنگ کے لیے جانا ہے۔ پہلے ہی دیر ہوگئی ہے سوگڈ بائے۔”
    ”اللہ حافظ ردا۔” اسے چھوڑ کر جب وہ اوپر واپس آئی اور حسبِ عادت لالہ صاحب کے کمرے میں جھانکا’ تو وہ سو رہے تھے۔ اس نے اے سی آن کیا اور ان پر کمبل ڈال کر باہر نکل آئی تھی۔
    ٭…٭…٭




    نیو ڈیفنس لاہور کے اس علاقے میں سب سے شان دار بنگلے کے باہر شاہ ہائوس کی تختی لٹک رہی تھی۔ شام کے نیلگوں سائے چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے۔ اس شان دار سے بنگلے میں سیڑھیوں سے اوپر دائیں جانب، پہلے کمرے میں وہ اپنے بستر پر نیم داز تھی۔ اس نے کسل مندی سے کروٹ لی’ تو اچانک وال کلاک پر نگاہ پڑی وہ فوراً اُٹھ بیٹھی۔ یہ لالہ صاحب کی دوائی کا وقت تھا۔ وہ فریش ہوکر جلدی سے نیچے آئی۔ لالہ صاحب باہر لان میں بیٹھے تھے۔ چھٹی کے دن وہ سرشام ہی لان میں بیٹھ کر اخبار پڑھا کرتے تھے۔
    ”السلام علیکم لالہ صاحب!”
    ”وعلیکم السلام! اُٹھ گئی میری بچی۔”
    ”جی لالہ صاحب! آپ نے مجھے اُٹھا دیا ہوتا جانے کب تک سوتی رہی میں۔ آپ کی دوا کا وقت ہوگیا تھا۔ وہ تو شکر ہے میری آنکھ کھل گئی۔” ”کوئی بات نہیں بیٹا۔ تھوڑا بہت آگے پیچھے تو چلتا ہے۔ یہ دوائیاں تو ویسے بھی میری دشمن ہیں۔ لالہ صاحب نے مُسکراتے ہوئے کہا ا ور اپنی پیاری بھانجی کو غور سے دیکھنے لگے۔
    کتنی بڑی ہوگئی تھی غرنیق۔ انہیں وہ چار سال کی بچی یاد آئی جب وہ پہلی بار ان کی عزیز از جان بہن فاطمہ شاہ اور ان کے پیارے دوست اور بہنوئی فیاض شاہ کے انتقال کے بعد ان کے گھر ہمیشہ کے لیے رہنے آئی تھی۔ شروع میں بہت ڈرا کرتی تھی’ مگر آہستہ آہستہ سنبھل گئی جس کی دار اِن کی شریک حیات رابعہ شاہ تھیں۔ ملک کے نامور صنعت کار ہونے کے باوجود وہ ایک نعمت سے محروم تھے۔ وہ نعمت اولاد تھی۔ غرنیق کی صورت میں اکرام شاہ اور رابعہ شاہ کو بیٹی مل گئی تھی۔ آہستہ آہستہ غرنیق بھی انہیں اپنا ماں باپ ماننے لگی تھی۔ دوسال پہلے رابعہ بیگم کے انتقال کے بعد غرنیق ہی ان کا واحد سہارا تھی۔ وہ کبھی باپ بیٹی بن جاتے، کبھی دوست تو کبھی بہن بھائی۔ غرنیق میں انہیں اپنی بہن فاطمہ کا عکس نظر آتا تھا۔ غرنیق شاہ جو خوب صورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔ کھلتی گلابی رنگت بڑی بڑی بادامی آنکھیں، لمبی دراز پلکیں، بھر بھرے گلابی ہونٹ، ستواں ناک اور ہونٹوں کے اوپر تل وہ بالکل ان کی فاطمہ ہی تھی۔
    ”لالہ صاحب آپ نے دوا نہیں لی ناں۔” غرنیق کی بات پر وہ گڑ بڑا گئے۔ انہیں اپنے کاموں میں دوا یاد ہی کہاں رہتی تھی۔ وہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض تھے’ مگر دوا سے ہمیشہ جان چھڑاتے تھے۔ غرنیق ہی ان کے پیچھے پڑی رہتی اور انہیں تمام دوائیاں وقت پر کھلاتی تھی۔
    ”او بیٹا بس میں لینے ہی والا تھا۔” لالہ صاحب نے فوراً بہانہ تراشا۔
    ” اچھی طرح جانتی ہوں میں سب، آپ پھر سے دوائی سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آپ اپنی صحت کا بالکل خیال نہیں رکھتے۔ جائیں، مجھے آپ سے بات نہیں کرنی۔” اس نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
    ”ارے میرے بچے! آپ ناراض کیوں ہو رہی ہیں۔ آئی پرامس میں آیندہ اپنی ساری دوائیاں ٹائم سے لوں گا۔” غرنیق کا منہ ہنوز پھولا ہوا تھا اور اکرام صاحب جانتے تھے کہ اسے کیسے منانا ہے۔
    ”ٹھیک ہے۔ اگر آپ ناراض ہیں’ تو وہ قلفہ فلیور آئس کریم میں جو میں لایا ہوں۔ مجھے ہی کھانی پڑے گی اب۔” انہوں نے مصنوعی اداکاری کرتے ہوئے کہا ۔
    ”واؤ آئس کریم… او آئی لو یو لالہ صاحب…” وہ کہہ کر اندر بھاگ گئی اور لالہ صاحب مسکرا دیے۔ وہ ایسی ہی تھی معصوم بالکل بچوں جیسی۔
    ٭…٭…٭
    ”رون… رون… سنو تو رک جائو پلیز… ”وہ مسلسل اسے پکار رہی تھی’ مگر وہ تو جیسے سن ہی نہیں رہا تھا۔
    مسٹر رونلڈ ویلبر آئی سیڈ سٹاپ "Mr. Ronald Wilbar I said stop” لنڈ ا نے غصے سے کہا’ تو وہ چلتے چلتے رک گیا۔
    ”ِلِنڈا پلیز اب تم سینڈی کی حمایت مت شروع کردینا۔”
    ”میں اس کی حمایت نہیں کروں گی۔ میں بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ جو کچھ ہوا بہت غلط ہوا۔ تمہیں اسے تھپڑ نہیں مارنا چاہیے تھا۔” رونلڈ نے غصیلے تاثرات کے ساتھ اس کی بات سنی اور ساتھ ہی اپنے کیبن کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔ لِنڈا بھی اس کے پیچھے اندر آ گئی ۔
    ”تھپڑ نہ مارتا’ تو اور کیا کرتا۔ اس کی حرکت ہی ایسی تھی جب وہ جانتی ہے کہ مجھے اُس میں کوئی دل چسپی نہیں پھر کیوں آتی ہے وہ بار بار میرے پیچھے۔” وہ اپنی راکنگ چیئر پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔
    ”کیوں کہ وہ تمہیں بہت پسند کرتی ہے رون۔ بس اس کا اظہار کرنے کا طریقہ تھوڑا غلط ہے۔”
    ”پسند… پسند اور زبردستی میں فرق ہوتا ہے۔ وہ انتہا درجے کی گِری ہوئی لڑکی ہے۔ کس حق سے وہ ہر جگہ میرا پیچھا کرتی پھرتی ہے۔ میں نے اسے بہت اگنور کیا، غصے سے اور ٹھنڈے دماغ سے سمجھانے کی کوشش بھی کی’ مگر وہ اس قدر ضدی ہے۔”
    لِنڈا جانتی تھی رون اپنی جگہ سہی ہے۔ سینڈی ان کے باس کی لاڈلی بیٹی تھی۔ وہ چیزوں کو حاصل کرنا اپنا حق سمجھتی تھی جو چیز اسے پسند آجاتی وہ اس کی ہوکر رہتی تھی’ مگر رون کوئی کھلونا نہیں تھا جسے وہ حاصل کرسکتی۔ سینڈی نے اپنی تمام تر کوششیں کرکے دیکھ لیں تھیں’ مگر رون ٹس سے مس نہیں ہوا۔ وہ جوپورے آفس میں ”روڈ ڈوڈ” Rude dude کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ بلاشبہ بے حد وجیہہ تھا۔ خوب صورت تو بہت سے مرد ہوتے ہیں’ مگر وہ شان دار تھا اور مغرور بھی۔ جنہیں وہ روڈ ڈوڈ لگتا تھا ان کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔ اپنی ذات میں گم رہنے والے رونلڈ ویلبر کی واحد دوست لِنڈا جیمز تھی۔ وہ امریکی سیاہ فام تھی اور رونلڈ کو بچپن سے جانتی تھی۔ ان کی دوستی کی ابتدا تب ہوئی جب لِنڈا کے پڑوس میں وہ چھوٹا سا رون آبسا تھا جو خوب صورت لڑکیوں سے دور بھاگتا تھا۔ بالکل ہر خوب صورت شخص سے۔ سیاہ فام ہونے کی وجہ سے لِنڈا سے اس کی دوستی ہوگئی۔ اس دوستی میں بنیادی کردار آٹھ سالہ لِنڈا ہی کا تھا جو بیس سال گزرنے کے باوجود قائم تھی۔
    رونلڈ کے لیے سینڈی کے اس قدر پاگل پن کی وجہ اس کی چڑ تھی۔ جی ہاں وہی چڑ جو رونلڈ کو ہر خوب صورت آدمی سے تھی۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کا باشندہ ہونے کے باوجود وہ صنفِ نازک کی خوب صورتی سے کوسوں دور تھا اور اندر ہی اندر وہ خوب صورتی سے نفرت کرتا تھا۔ کم از کم اس کا یہی خیال تھا۔ اس کا یہ خیال بہت جلد غلط ثابت ہونے والا تھا۔
    ٭…٭…٭
    شاہ ہائوس میں غیرمعمولی چہل پہل تھی۔ لالہ صاحب نوکروں کو مختلف ہدایات دے رہے تھے۔ پورے گھر میں خوب گہماگہمی تھی۔ اس نے بے چین ہوکر تیسری بار پوچھا تھا۔
    ”لالہ صاحب بتائیں نہ کون آرہا ہے، آپ میری بات کا جواب کیوں نہیں دے رہے۔” اس کی آواز میں اب کی بار ناراضی تھی۔
    ”غرنیق میرے سب سے پیارے اور مرحوم دوست کا بیٹا آرہا ہے۔ اسلام آباد سے” آخر وہ بول ہی پڑے تھے۔
    ”مگر لالہ صاحب ہم اسے یہاں کیوں ٹھہرا رہے ہیں۔ وہ کسی ہوٹل میں کیوں نہیں رہ رہا۔” غرنیق کا سوال درست تھا اس سے پہلے انہوں نے کبھی کسی دوست کے بیٹے کو یوں گھر پر نہیں ٹھہرایا تھا۔
    ”بیٹا جی میں آپ کی حیرانی سمجھ سکتا ہوں، مگر یہ کوئی عام مہمان نہیں ہے۔ مہرداد میرے مرحوم دوست جہاں زیب عالم کی اکلوتی اولاد ہے۔ وہ میرے لیے بالکل سگے بیٹے جیسا ہے۔ میں نے بچپن میں دیکھا تھا اسے صرف پانچ سال کا تھا جب اس کے والد کا انتقال ہوا۔ آغا جان] اس کے دادا انتہائی رحم دل اور شریف انسان ہیں۔ ایک وقت وہ تھا جب میرے اپنوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا’ مگر آغا جان نے میری ہر طرح سے مدد کی تھی۔ مجھے آج بھی وہ الفاظ یاد ہیں جو آغا جان نے مجھ سے کہے تھے۔
    ”اکرام بیٹا! کامیاب ترین افراد کو بھی ناکامیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے’ مگر وہ اپنی مضبوط قوت ارادی سے کام لے کر بالآخر کامیابی سے ہم کنار ہو جاتے ہیں۔ ”تمہیں اُٹھ کر گرنے اور گر کر اُٹھنے کا اصول سیکھنا ہوگا۔ بڑی بڑی کامیابیوں کے لیے چھوٹی چھوٹی ناکامیاں بہت ضروری ہوتی ہیں۔ یہی چھوٹی ناکامیاں بڑی کامیابیوں کے لیے راستے ہموار کرتی ہیں۔” ”ہر ناکامی اپنے دامن میں کامرانی کے پھول لیے ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم کانٹوں میں اُلجھ کر نہ رہ جائیں۔” لالہ صاحب کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔ میں بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گیا۔ لالہ صاحب اُٹھ کر مہر داد کا کمرا دیکھنے چل دیے ۔ اسے مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہی تھی۔ اسے بھی اب اس اجنبی کا انتظار تھا۔
    ٭…٭…٭




  • جِن کے تین سنہری بال | سارہ قیوم

    جِن کے تین سنہری بال | سارہ قیوم

    جِن کے تین سنہری بال
    سارہ قیوم

    کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ ایسا بیمار ہوا کہ کسی دوا سے ٹھیک نہ ہوا۔ حکیموں نے کہا: ”اگر بادشاہ کو جن کے تین سونے کے بال پیس کر کھلائے جائیں تو ہ ٹھیک ہو جائے گا۔” لیکن جن کے بال لائے کون؟ آخر دوردیس سے ایک شہزادہ آیا اور اس نے جن کے تین سونے کے بال لانے کا وعدہ کیا۔ جن بہت دور ایک پہاڑ پر اپنی نانی کے ساتھ رہتا۔ شہزادہ پہاڑ کی طرف چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ ایک شہر میں پہنچا۔ اس شہر کے لوگ بہت اداس تھے۔ شہزادے نے پوچھا: ”تم لوگ اتنے اداس کیوں ہو؟
    انہوں نے جواب دیا: ”ہمارے شہر میں ایک بہت بڑا فوارہ ہے جس کا پانی شہد کی طرح میٹھا ہے۔ سارا شہر اسی فوارے سے پانی لیتا ہے۔ اب کچھ دنوں سے فوارے میں پانی آنا بند ہو گیا ہے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟”
    شہزادے نے کہا: ”میں جن کے تین سنہری بال لانے جا رہا ہوں۔ اگر ہو سکا تو تمہارے اس مسئلے کا حل بھی تلاش کر لائوں گا۔”
    شہر کے لوگوں نے شہزادے کو ایک خوب صورت ہیروں کا ہار تحفے میں دیا۔ شہزادہ دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ سفر کے دوران وہ ایک اور شہر میں پہنچا جہاں کے لوگ بہت پریشان تھے۔ شہزادے نے پوچھا ”تم لوگ پریشان کیوں ہو؟” انہوں نے جواب دیا: ”ہمارے شہر میں ایک بہت بڑا انار کا درخت ہے جس پر بے حد میٹھے اور رس دار انار لگتے ہیں۔ اب وہ درخت مرجھا رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتی اس کو کیا ہو گیا ہے اور ہم اس کو کیسے ٹھیک کریں۔”
    شہزادے نے کہا: ”میں جن کے تین سنہری بال لانے جا رہا ہوں۔ ہو سکا تو تمہارے مسئلے کا حل بھی ڈھونڈ لائوں گا۔”
    شہر والوں نے شہزادے کو ایک خوب صورت سرخ ریشمی دوپٹہ تحفے میں دیا جس پر سونے چاندی کی تاروں سے کڑھائی بنی تھی۔ شہزادہ آگے چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ ایک دریا کے کنارے پہنچا جہاں ایک ملاح اپنی کشتی میں بیٹھا تھا۔ شہزادہ دریا کرنے کے لیے اس کی کشتی میں بیٹھ گیا اور ملاح چپو چلانے لگا۔ جب دوسرے کنارے پر پہنچے تو ملاّح نے کہا: ”لگتا ہے آپ کسی خاص سفر پر جا رہے ہیں۔ کیا آپ میرے ایک سوال کا جواب تلاش کر لائیں گے؟”
    شہزادے نے کہا ”ضرور کیا سوال ہے؟”
    ملاح نے کہا: ”میں اس کشتی کا قیدی ہوں۔ اس سے نکل نہیں سکتا۔ دن رات اسی میں بیٹھے رہنے پر مجبور ہوں۔ کیا کوئی ایسا طریقہ ہو سکتا ہے کہ میری اس سے جان چھوٹ جائے؟”
    شہزادے نے جواب ڈھونڈنے کا وعدہ کیا۔ ملاح نے شہزادے کو سونے کی ایک انگوٹھی تحفے میں دی۔ شہزادہ کئی دن سفر کرتا رہا۔ آخر اُس پہاڑ تک پہنچا جہاں جن کا گھر تھا۔ شہزادہ پہاڑ پر چڑھا اور اس نے جن کے دروازے پر دستک دی۔ جن کی نانی نے دروازہ کھولا۔
    شہزادے نے کہا: ”السلام علیکم نانی جان۔”
    بے چاری بوڑھی نانی سارا دن اکیلی رہتی تھی۔ شہزادے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور بولی: ”ارے کتنے اچھے لڑکے ہوتم کتنی تمیز سے سلام تم کون کرتے ہو بیٹا؟ کہاں آئے ہو؟ کیا کام ہے؟”
    شہزادے نے کہا ”نانی جان میں ایک شہزادہ ہوں۔ آپ کے پاس جو جن رہتا ہے اس کے سر میں سونے کے تین بال ہیں۔ میں وہ بال لینے آیا ہوں۔ اگر آپ وہ بال مجھے دے دیں تو میں آپ کو تین تحفے دوں گا۔”
    نانی یہ سن کر بہت خوش ہوئی اور بولی: ”آج تک کوئی میرے لیے تحفہ نہیں لایا۔ جلدی سے دکھاؤ کیا تحفے ہیں؟”
    شہزادے نے کہا: ”ہر تحفے کے ساتھ ایک سوال بھی ہے جس کا جواب آپ کو دینا ہو گا۔”
    نانی خوشی سے تالیاں بجا کر بولی ”ارے واہ! یہ تو بہت مزے کا کھیل ہے۔ تحفے کے ساتھ سوال کا جواب۔ بتاؤ کیا سوال ہیں؟”
    شہزادے نے کہا: ”پہلا سوال یہ ہے کہ ایک شہر میں ایک فوارہ ہے جس کا پانی شہد کی طرح میٹھا ہے۔ اس فوارے کا پانی بند کیوں ہو گیا ہے؟”
    یہ کہہ کر اس نے ہیروں کا ہار نکال کر نانی کی خدمت میں پیش کیا۔ نانی خوشی سے اچھل پڑی۔ جلدی سے ہار لے کر گلے میں ڈال لیا اور کہنے لگی: ”اتنا خوب صورت ہار تو میں نے زندگی میں نہیں دیکھا۔ بیٹا جلدی سے بتاؤ دوسرا سوال کیا ہے؟”
    شہزادے نے دوسرا سوال بتایا: ”ایک شہر ہے، جہاں انار کے درخت پر میٹھے انار لگتے ہیں، وہ درخت کیوں سوکھتا جا رہا ہے؟”
    یہ کہہ کر سرخ ریشمی دوپٹہ نکال کر نانی کے حوالے کیا۔ نانی نے جلدی سے دوپٹہ اوڑھ لیا اور خوشی سے بولی: ”ارے واہ کس قدر خوب صورت دوپٹہ ہے۔”
    تیسرا سوال شہزادے نے کہا: ”وہ جو دریا میں ملاح ہے، وہ اپنی کشتی کی قید سے کیسے نکل سکتا ہے؟” یہ کہہ کر سونے کی انگوٹھی نانی کو دی۔ نانی نے انگوٹھی پہن لی اور بولی: ”ان تین سوالوں کے جواب میں تمہیں تین سنہری بالوں کے ساتھ دوںگی۔ اب تم جلدی سے چھپ جاؤ جن کے آنے کا وقت ہو گیا ہے۔”
    نانی نے شہزادے کو ایک الماری میں چھپا دیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ جن آگیا۔

    ”آدم بو… آدم بو۔” اس نے آتے ہی شور مچا دیا ”مجھے کسی انسان کی بو آرہی ہے۔”
    نانی نے کہا: ”ارے یہ تو میں نے تمہارے لیے پراٹھے پکائے ہیں، یہ خوشبو ان پراٹھوں کی ہے۔ آجلدی سے کھانا کھا لے۔”
    جن نے ایک سو بیس پراٹھے کھائے اور بولا: ”واہ نانی! آج تو آپ نے بڑے مزے کا کھانا بنایا ہے۔ کھانے کھا کر تو اب نیند آنے لگی ہے۔”
    نانی پیار سے بولی: ”آجا میرا بچہ۔ یہاں میری گود میں سر رکھ کر سو جا۔”
    جن نانی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔ نانی آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ تھوڑی ہی دیر میں جن کے خراٹے گونجنے لگے۔ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پھیرتے نانی نے ایک سنہری بال تلاش کیا اور جھٹکے سے توڑ لیا۔ جن گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔
    ”کیا ہوا نانی؟” اس نے گھبرا کر کہا ”بال کیوں کھینچ رہی ہو میرے؟”
    نانی بولی: ”ارے معاف کرنا بیٹا! وہ دراصل میں کچھ سوچ رہی تھی۔ غلطی سے تمہارے بال کھینچ لیے۔”
    جن جمائی لے کر بولا: ”کیا سوچ رہی تھی نانی؟”
    ”میں سوچ رہی تھی کہ دور وہ جو ایک شہر ہے جس میں ایک میٹھے پانی کا فوارہ ہے، وہ فوارہ کیوں بند ہو گیا ہے؟”
    جن نے قہقہہ لگایا: ”ہا ہا ہا… اس سوال کا جواب صرف مجھے معلوم ہے۔ اس فوارے کے سوراخوں میں مٹی پھنس گئی ہے۔ اگر وہ بے وقوف لوگ فوارے کو کھول کر صاف کر لیں تو پانی پھر سے چل پڑے گا۔”
    نانی نے خوش ہو کر کہا: ”ارے تم کتنے عقل مند ہو میرے بچے۔ چلو اب تم سو جاؤ۔ سو جاؤ میرے بچے۔”
    جن دوبارہ نانی کی گود میں سر رکھ کر سو گیا اور خراٹے لینے لگا۔ نانی دوبارہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ انگلیاں پھیرتے پھیرتے اس نے دوسرا سنہری بال پکڑا اور جھٹکے سے توڑ لیا۔ جن اچھل پڑا۔
    ”نانی” اس نے غصے سے کہا: ”کیا ہو گیا آپ کو؟ پھر سے بال نوچ لیے میرے؟”
    نانی بولی: ”معاف کرنا بیٹا! اصل میں یہ سوچ رہی تھی کہ دور وہ جو ایک شہر ہے جس میں میٹھے اناروں کا درخت ہے، وہ درخت کیوں سوکھتا جا رہا ہے؟”
    جن نے کہا: ”اس سوال کا جواب صرف مجھے معلوم ہے۔ اس درخت کی جڑوں میں ایک بہت موٹا چوہا بیٹھا جڑوں کو کتر رہا ہے۔ شہر والوں کو چاہیے کہ وہاں سے کھود کر اس چوہے کو مار ڈالیں۔ درخت پھر سے ہرا بھرا ہو جائے گا۔”
    نانی خوش ہو کر بولی: ”واہ واہ! تم کتنے عقل مند ہو میرے بچے چلو اب تم پھر سے سوجاؤ۔”
    جن نے کہا: ”دیکھنا اب میرے بال نہ کھینچنا نانی ورنہ میں یہاں سے اٹھ کر چلا جائوں گا۔”
    نانی بولی: ”نہیں نہیں بیٹا! تم بے فکر ہو کر سوجاؤ… سو جاؤ میرے بچے۔”
    جن خراٹے لینے لگا۔ نانی نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے تیسرا سونے کا بال تلاش کیا اور جھٹکے سے توڑ لیا۔ جن تڑپ کر اٹھ بیٹھا۔
    ”کیا کرتی ہو نانی؟” اس نے تڑپ کر پوچھا۔
    نانی بولی: ”ارے معاف کرنا بیٹا۔ دراصل میں سوچ رہی تھی کہ بڑے دریا میں جو ملاح کشتی چلاتا ہے، وہ اپنی کشتی سے اترتا کیوں نہیں؟”
    جن بولا: ”کیا ہو گیا ہے نانی؟ آج ساری دنیا کے سوال آپ ہی کیوں سوچ رہی ہیں۔ وہ ملاح اصل میں ایک بادشاہ ہے جسے اس کے دشمن نے جادوکے زور سے ملاح بنا دیا تھا اور خود اس کے تخت پر قبضہ کر لیا تھا۔ اگر یہ ملاح اپنا چپو کسی کو پکڑا دے تو وہ آزاد ہو جائے گا اور چپو پکڑنے والا کشتی میں قید ہو جائے گا۔”
    نانی بولی: ”واہ واہ! بہت اچھی بات کی تم نے… چلو اب تم سو جاؤ میرے بچے۔”
    جن نے کہا: ”میری توبہ نانی! میں اپنے کمرے میں جا کر سوئوں گا۔ یہاں رہا تو آپ میرے سارے بال نوچ ڈالو گی۔”
    جن چلا گیا تو نانی نے شہزادے کو الماری سے نکالا اور کہا: ”یہ رہے جن کے تین سنہری بال اور سوالوں کے جواب تو تم نے سن ہی لیے ہوں گے۔”
    شہزادے نے نانی کا شکریہ ادا کیا اور واپسی کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ سب سے پہلے وہ دریا پر پہنچا۔ ملاح نے پوچھا: ”میرے سوال کا جواب لائے؟” شہزادے نے کہا: ”ہاں مگر دوسرے کنارے پر پہنچ کر بتائوں گا۔” ملاح نے اسے کشتی میں بٹھا کر دوسرے کنارے پر پہنچا دیا۔ شہزادہ کشتی سے اتر کر کنارے پر کھڑا ہوا اور ملاح کو وہ جواب بتایا جو اس نے جن سے سنا تھا۔ ملاح نے پوچھا: ”یہ بات تم نے مجھے کشتی ہی میں کیوں نہ بتائی؟” شہزادہ مسکرایا اور وہاں سے چلا گیا ۔
    شہزادہ کئی دن چلتا رہا۔ پھر وہ انار کے درخت والے شہر میں پہنچا۔ وہاں کے لوگ اس کا انتظار کر رہے تھے۔ شہزادے نے ایک بیلچہ منگوایا اور درخت کی جڑوں کو کھودنے لگا۔ وہاں ایک واقعی موٹا تازہ چوہا بیٹھا جڑیں کتر رہا تھا۔ شہزادے نے اسے مار ڈالا۔ درخت پھر سے ہرا بھرا ہو گیا۔ شہر کے لوگ خوشی سے جھوم اٹھے۔ انہوں نے ڈھیر سارے ہیرے جواہرات شہزادے کو تحفے میں دیئے۔
    شہزادہ اپنے سفر پر چل پڑا۔ کئی دن بعد وہ فوارے والے شہر میں پہنچا۔ لوگ بے چینی سے اس کی راہ تک رہے تھے۔ شہزادے نے فوارے کو کھول کر اس کے سوراخوں میں پھنسی مٹی صااف کر دی اور فوارہ پھر سے چل پڑا۔ لوگ بے حد خوش ہوئے۔ انہوں نے بہت سا مال و دولت تحفے میں شہزادے کو دیا۔
    کئی دن کے سفر کے بعد شہزادہ بیمار بادشاہ کے پاس پہنچا اور جن کے تین سنہری بال اس کے حوالے کیے۔ جونہی وہ بال پیس کر بادشاہ کو کھلائے گئے۔ وہ اسی وقت صحت یاب ہوگیا۔ بادشاہ نے شہزادے کے پاس اتنا مال و دولت دیکھا تو اس کے دل میں لالچ آگیا۔ وہ سمجھا کہ شاید شہزادہ یہ مال و دولت جن سے لے کر آیا۔
    اس نے اسی وقت سفر کی تیاری کی اور جن کے گھر جانے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ کئی دن چلتے رہنے کے بعد آخر وہ اس دریا پر پہنچا جہاں ملاح اپنی کشتی میں بیٹھا تھا۔ دریا پار کرنے کے لیے بادشاہ کشتی میں بیٹھا تو ملاح نے کہا: ”بھائی ذرا یہ چپو تو پکڑنا بادشاہ نے بے خیالی میں چپو پکڑ لیا۔ ملاح اسی وقت کشتی سے اتر کر دریا کے کنارے کھڑا ہو گیا۔ بادشاہ نے غصے سے کہا: ”کہاں جا رہے ہو ملاح؟ مجھے دریا پار کروائو۔” ملاح نے ہنس کرکہا ”اے دوست! ملاح اب میں نہیں تم ہو۔ مجھے غور سے دیکھو۔ میں وہی بادشاہ ہوں جسے تم نے جادو کے زور سے اسی کشتی میں قید کر دیا تھا اور خود میری جگہ بادشاہ بن بیٹھے تھے۔ اب تم اس کشتی کے قیدی ہو۔ میں اپنا تخت و تاج لینے واپس جا رہا ہوں۔”
    یوں اس ظالم شخص نے اپنے کیے کا پھل پایا اور تمام زندگی ملاح بن کر کشتی چلاتا رہا۔
    ٭…٭…٭

  • جادوئی جنگل | سمیعہ علی

    جادوئی جنگل | سمیعہ علی

    جادوئی جنگل
    سمیعہ علی

    کسی پہاڑی علاقے میں پانچ دوست رہتے تھے۔ وہ مل جل کر پڑھتے اور ایک ساتھ ہی کھیلتے تھے۔ حمزہ اور عادل بہت شرارتی اور چالاک تھے۔ پنکی اپنے نام کی طرح گلابی سی اور بھولی بھالی لڑکی تھی۔ قاسم ذراسُست مزاج اور دانیال گول مٹول سابچہ تھا۔ ان پانچوں کی دوستی بڑی مثالی تھی۔ ایک دن وہ سب پہاڑی علاقے کی سیر کو نکلے اور گھومتے پھرتے ایک خوب صورت وادی میں داخل ہوگئے۔ اس نئے علاقے کا حُسن دیکھ کر اُن کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
    ”کیاخیال ہے دوستو! اگر ہم اسی جگہ اپنے خیمے لگا لیں۔” عادل نے ایک جگہ رک کر پوچھا۔ پھر سب نے اپنے اپنے خیمے اسی جگہ لگالیے۔ اچانک ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہوا نے تیز طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ آخر کچھ دیر بعد طوفان کی شدت کم ہوئی۔ اب وہ ایک ہرے بھرے علاقے میں تھے۔ ہر طرف خوش نما پھول اورمہکتی فضا، ایسا دل کَش منظر انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اچانک عادل نے زور سے ہنسنا شروع کر دیا:
    ”ہاہاہا…ہاہاہا… ارے دیکھو! دانیال بھالو بنا ہوا ہے۔” سب نے حیران ہوکر دیکھا۔ واقعی ایسا ہی تھا۔ سب ہنسنے لگے۔
    ”اوہ… وہ دیکھو! پنکی کتنی پیاری خرگوشنی بن چکی ہے۔” حمزہ چلا ّیا۔ دانیال اب ہنستے ہوئے بولا: ”ہاہاہا!!! عادل! تم ذرا اپنی شکل تو دیکھو… بندر بن چکے ہو تم۔”
    اِدھر حمزہ ایک شاطر لومڑ کا روپ دھار چکا تھا۔ سب حیرانی سے اپنے جسم پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔ اچانک انہیں قاسم کا خیال آیا تو وہ چونک گئے۔
    ”ارے! میں یہاں ہوں، نیچے دیکھو!” سب نے نیچے دیکھا تو زمین پر ایک پیارا سا کچھوا رینگ رہا تھا۔
    ”دوستو!لگتا ہے ہم کسی جادوئی دنیا میں آ گئے ہیں۔” دانیال بھالو نے کہا۔ ”ہاں شاید… لیکن جلد ہی باہر نکل جائیں گے فکر مت کرو… ہمیں کوئی نہ کوئی راستہ مل ہی جائے گا۔” پنکی نے کہا تو سب کو حوصلہ ہوا۔
    پھر وہ سب ذرا آگے بڑھے تو وہاں ایک خوب صورت جھیل نظر آئی۔ وہ سبھی جھیل میں موجود کشتی میں سوار ہو گئے۔ کشتی خود بہ خود چلنے لگی۔ پانی میں پیاری پیاری مختلف رنگوں والی مچھلیاں تیر رہی تھیں، جو خوشی سے دائرہ بناتی ہوئی ان کی کشتی کے پاس آتیں اور پھر تیزی سے دور چلی جاتیں۔ جھیل کے پاراُترتے ہی بندر یعنی عادل سیب کے درخت پر چڑھ گیا۔
    ”ارے بھائی! ہمیں بھی کھانے ہیںسیب ۔”خرگوشنی،کچھوا اور بھالو نے آواز لگائی۔ بندر نے یہ سن کر درخت کو زور زور سے ہلانا شروع کر دیا۔ اِس طرح بہت سارے سیب نیچے گرگئے۔ اچانک ایک تیز آواز اُن کے کانوں میں پڑی۔ ”رک جاؤ… کون ہو تم؟ پھل ضائع کرنے پر تمہیں سزا ملے گی۔” کرخت آواز سنتے ہی اُن سب نے دوڑ لگا دی۔ اتنے میں آسمان پر موجود بادل کا ایک ٹکڑا اُن کے سروں پر منڈلانے لگا۔ اسے دیکھ کر لومڑ کو خیال آیا: ”دوستو! یہ بادل ہمیں کہیں لے کر جانا چاہتا ہے۔ دیکھو! یہ نیچے آرہاہے ہماری طرف…” لومڑ کی بات سُن کر سب چوکنا ہوگئے۔
    ”چلوبھئی! بادل آہستہ آہستہ سوار ہوجاؤ۔” بادل کے نیچے آنے پر خرگوشنی نے کہا تو سب سوار ہوگئے۔ بادل نے انہیںایک خوف ناک باغ کے باہر لا کر اُتار دیا۔ اِس باغ میں بے ہنگم پتھر تھے جِن پر پاؤں رکھ کرانہیں آگے بڑھنا تھا۔ اِن پتھروں کے درمیان کہیں آگ تھی تو کہیں پانی اور کہیں رینگتے جانور۔ سب نے اللہ کا نام لے کر پتھر پر پاؤں رکھا اور احتیاط سے آگے بڑھے۔
    سامنے ایک بڑی کھائی آگئی۔ بندر نے ایک درخت کے ساتھ لٹک کر اپنی دم سے انہیں وہ کھائی پار کروائی۔ پھر کچھوا اپنے خول میں سمٹا تو سب نے اُس کے سخت خول پر پاؤں رکھ کر وہ ندی پار کی۔ سامنے دور استے تھے۔ ایک راستے پر خاردار جھاڑیاں اور دوسرے پرسُلگتی ہوئی آگ تھی۔ لومڑ نے سمجھ داری سے کام لیا۔ وہ سب کو لے کر جھاڑیوں والے راستے کی طر ف چل پڑا۔ اچانک بندر کو ایک جادوئی چراغ نظر آیا۔ اس نے بھاگ کر چراغ اُٹھا لیا۔ جیسے ہی اس نے چراغ رگڑا اُس میں سے ایک جن نکلا۔ ”ہوہوہو… ہاہاہا… کیا حکم ہے میرے آقا؟”
    ”اوہ…ج… ج… جن بھائی! ہمارا ایک کام تو کردیں۔” خرگوشنی ذرا ڈر تے بولی۔ ”آقا! میں آپ کا ہر حکم مانوں گا۔”
    بھالو بولا: ”مجھے ایک ایسا گھڑا چاہئے جس میں بہت سارا شہد بھرا ہو۔” خرگوشنی بولی: ”مجھے ایک نیک پری بنا دو۔” کچھوا بولا: ”میں تیز تیراک بننا چاہتا ہوں۔” ”خاموش…” بندر چلّایااور بولا: ”ہمیں اس جادوئی دنیا سے باہر جانا ہے جن بھائی! آپ ہمیں باہر جانے کا راستہ دکھادو بس۔”
    ”جو حکم میرے آقا! تعمیل ہوگی۔” اتنا کہہ کر جن نے کوئی منتر پڑھا تو اطراف سے دھواں اُٹھنے لگا۔ ایک دم کسی چیز نے ان سب کو ہوا میں اُچھالا تو ان کی چیخیں نکل گئیں۔ کچھ دیر بعد پائوں زمین پر لگے تو انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔ آس پاس کا منظر دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہ جادوئی دنیا سے باہر آچکے تھے۔ انہوں نے مل کر ایک عزم کیا کہ وہ آئندہ کبھی گھر والوں کے بغیر اتنی دور کا سفر نہیں کریں گے۔
    ٭…٭…٭

  • مصطفیٰ — اُمِّ زینب

    مصطفیٰ — اُمِّ زینب

    مجھے اپنی ایک بات جو سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے و ہ یہ کہ میں اپنی لاکھ مصروفیات کے باوجود اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے ضرور جوڑے رکھتی ہوں بلکہ یہاں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔ اس کی دو خاص وجوہات ہیں، ایک مصطفی اور دوسری کہ یا اللہ! میرے پاس بہت سارا پیسا آجائے۔ اب آپ ہی بتائیں یہ دونوں چیزیں تو مجھے اکٹھی اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔
    جب سے مصطفی میری زندگی میں آیا ہے نجانے کیوں آنکھ کھلتے ہی میرے ذہن میں آدھمکتا ہے اور جب تک میں سو نہیں جاتی کوئی لمحہ ایسا نہیں ہو تاکہ اس کی یاد میرے ساتھ نہ ہو، مگر پھر بھی صبح صبح میں ایک اچھی مسلمان بننے کی کوشش کرتی ہوں۔ کلمہ پڑھ کر اٹھتی ہوں کہ کہیں اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض نہ ہو جائے اور آج میری اور مصطفی کی کوئی لڑائی نہ ہو جائے یا ہمیں کوئی اور پریشانی نہ آجائے۔




    مصطفی… مصطفی… مصطفی! آخر یہ مصطفی میری زندگی میں اتنا اہم کیوں ہے؟ کون ہے یہمصطفی؟
    جی ہاں ٹھیک سمجھے آپ میری زندگی مصطفی سے شروع ہو کر مصطفی پر ہی ختم ہوتیہے۔
    دو سال پہلے میری ملاقات مصطفی سے اس کے گھر پر ہوئی۔ میری سہیلی انیتا جس بلڈنگ میں رہتی تھی، مصطفی کا فلیٹ بھی اسی بلڈنگ میں تھا۔ میں اور انیتا اس کے گھر گئیں کہ انیتا کو اپنا لیپ ٹاپ ٹھیک کروانا تھا۔ مصطفی کمپیوٹر سے متعلق ہر طرح کا کام جانتا تھا مجھے وہ بہت ہی سلجھا ہوا انسان لگا پھر میری دوسری ملاقات اس سے تب ہوئی جب اس کے ابو کا انتقال ہوا۔ اس وقت مجھے وہ اپنے جیسا لگا، بہت ہی بے بس اور اکیلا۔ میں آٹھ سال کی تھی اور میری چھوٹی بہن ایک سال کی جب میرے ابو فوت ہو ئے تھے۔ مجھے آج بھی وہ تکلیف یاد آتی ہے، جو مجھے اپنے ابو کے فوت ہونے پر ہوئی تھی تو میرا دم گُھٹنے لگتا ہے۔
    میں اپنی بہن کے ساتھ مصطفی کے گھر کھانا لے کر گئی۔ آج تیسرا دن تھا۔ میں اس کے گھر روز کھانا لے کر جاتی تھی۔ اس کے سب رشتے دار جا چکے تھے۔ ویسے تو اس کی امی روز کھانا لیتی تھیںلیکن آج اس کی امی سو چکی تھیں۔
    ”آپ تکلیف نہ کیا کریں ہم کل سے خود ہی پکا لیا کریں گے، دو لوگ ہی تو ہیں ہم۔” مصطفی نے شکر گزار سا ہوکر کہا۔
    ” کوئی بات نہیں! کچھ دن ہم کام آجائیں گے تو کیا فرق پڑے گا۔ بعد میں ساری زندگی آپ نے خود ہی کرنا ہے اور ہمسائے کس لیے ہوتے ہیں۔” میں نے اسے ٹرے پکڑاتے ہوئے کہا۔
    اس نے مجھے بیٹھنے کو کہا۔ میں بیٹھ تو گئی لیکن بات کرنے کے لیے میرے پاس کوئی اور موضوع نہ تھا۔ پھر میں نے اسے اپنے ابو کے فوت ہونے کی تھوڑی بہت تفصیل بتائی اور اس کا دل ہلکا کرنے کے لیے اس کے ابو کے بارے میں بہت ساری باتیں پوچھیں۔ میں اس کے درد کو اپنے دل سے محسوس کر سکتی تھی اور جانتی تھی کہ اس کڑے وقت میں اسے ایک دل کی بات سُننے والے کی اشدضرورت ہے۔
    اس رات گھرآکر میں بہت دیر تک اس کے بارے میں سوچتی رہی ۔وہ مجھے بہت اپنا اپنا سا لگا۔ یہ بڑھتی عمر کا تقاضا تھا یا شاید اس لیے کہ اس کا اور میرا دکھ ایک جیسا تھا بلکہ شاید نہیں یقینا ایسا ہی تھا۔ وہ مجھے اچھا بھی لگنے لگا۔ مجھے لگا بغیر اجازت ہی وہ میرے دل میں گھر کرتا چلا جا رہا تھا جب کہ میں نے ہمیشہ یہی سوچا تھا کہ میں کسی امیر کبیر آدمی سے محبت کروں گی۔ اکثر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی لڑکیاں سوچتی ایسا ہی ہیں۔ مگر یہ بات آج حقیقت بن کر میرے سامنے آگئی کہ محبت کی نہیں جاتی بلکہ محبت ہو جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو گئے۔ میں جس ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں کام کرتی تھی وہاں اکائونٹس میں مصطفی کو بھی میرے کہنے پر جاب مل گئی۔ ہم روز بس پر اکٹھے ہی جاتے اور شام کو اکٹھے واپس آتے۔
    یہ اسٹور کراچی ڈیفنس میں واقع تھا۔ اس سپر سٹور میں ہماری ڈیوٹی صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک تھی۔ ہر پندرہ دن بعد ہمیں ایک چھٹی ملتی تھی۔ روز شام کو میں اور مصطفی کچھ دیر ایک کیفے میں بیٹھ کر کافی پیتے۔ کبھی کبھی میں سوچتی تھی کہ ہم ہر روز ساتھ ہوتے، ساتھ آتے جاتے اور رات کو دیر تک فون پر بات بھی کرتے ہیں، مگر پھر بھی ہماری باتیں ختم کیوں نہیں ہوتیں؟لیکن شاید اسی کو انڈرسٹینڈنگ کہتے ہیں۔




    میرے ابو کی وفات سے پہلے ہمارے حالات بہت اچھے تھے پھر اچانک پتا چلا کہ انہیں کینسر ہو گیا ہے۔ شروع میں انہوں نے میری امی سے یہ بات چھپائی، مگر جب تکلیف حد سے بڑھنے لگی تو انہوں نے امی کو بتا دیا۔ انہی دنوں میری چھوٹی بہن پیدا ہوئی تھی۔ اسی ایک ڈیڑھ سال کے اندر ابو کی جاب تو گئی ساتھ ہی ان کے علاج پر بہت سا پیسا بھی لگ گیا۔ میرے ابو ہمیشہ امی کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے مگر ان حالات میں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگے۔ کچھ پیسے انہوں نے بینک میں جمع کروا دیے کہ اس کا منافع آئے گا، تو گھر کا کچن چلتا رہے گا۔ مجھے یاد ہے ابو سو بھی جاتے تو امی ان کے پاس بیٹھ کر قرآنی آیات پڑھتی رہتیں خیر اللہ کو جو منظور تھا ہونا تو وہی تھا۔ ابو ہمیں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے اور ایک سال کے اندر ہی ہمارا شمار مڈل کلاس سے سفید پوش افراد میں ہونے لگا۔ وہی رشتہ دار جو ہمارے ساتھ خوشی سے ملتے اب ہمارے رابطہ کرنے پر بھی بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے گو کہ میں تب صرف آٹھ سال کی تھی مگر اس سال نے مجھے یہ بات بہت اچھی طرح سمجھا دی کہ ہماری زندگی میں پیسے کی بہت اہمیت ہے۔
    امی کو اپنے دکھ شیئر کرنے کے لیے کوئی نہیں ملتا تھا۔ ابو نے تو انہیں شہزادیوں کی طرح رکھا ہوا تھا۔ ایک دن میں اسکول سے واپس آئی تو امی کمرے میں فرش پر گری ہوئی تھیں۔ میں پڑوسیوں کے ساتھ مل کر انہیں ہاسپٹل لے کر گئی۔ وہاں جا کر پتا چلا کہ ان پر فالج کا شدید اٹیک ہوا ہے۔ امی گھر تو آگئیں، مگر اب وہ صرف بیڈ پر ہی تھیں۔ شروع شروع میں مجھے اپنی ہی ماں کی ماں بن کر تیمار داری کرنابہت مشکل لگا ۔ وہ بس زندہ تھیں اور اس وقت کی صورت حال میں میرے لیے یہ بھی غنیمت تھا۔
    میں وقت کی اس خوبی کو سراہے بغیر نہ رہ سکی کہ مشکلضرور تھا، مگر گزرتا جا رہا تھا۔ امی کا خیال رکھ کر اور گھر کے اخراجات کا حساب رکھتے میں اپنی عمر کے لوگوں سے زیادہ سمجھدار ہو چکی تھی۔
    اتنی مشکلا ت سے گزر کر جب مصطفی میری زندگی میں آیا تو مجھے ہر وقت ایک خوش گوار سا احساس گھیرے رکھتا۔ اپنے اور اس کے روشن مستقبل کی امید نے مجھے نئی زندگی دی۔ مصطفی نے مجھ سے کئی بار شادی کا کہا، مگر میں نے ہر بار اسے یہی کہا کہ جب ہم دونوں کے پاس بہت ساری بچت ہو گی تب ہم شادی کریں گے تاکہ ہمیں کسی قسم کی کوئی بھی پریشانی نہ ہو۔ مصطفی ہر بار مُسکرا کر خاموش ہو جاتا۔
    اس کا نظریہ ہمیشہ سے یہ تھا کہ زندگی کو ہر لمحے بھرپور طریقے سے جینا چاہیے، آنے والی بڑی بڑی خوشیوں کے انتظار میں اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جب کہ میرا نظریہ اس کے برعکس تھا۔ وہ ہر لمحے کو جینا چاہتا تھا اور میں ہر لمحے اچھے لمحات کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔ ان سب باتوں کے باوجود جس طرح دولت میرا مقصد اور جنون تھی اسی طرح مصطفی بھی میرا مقصد اور جنون تھا۔
    پھر اچانک ہماری زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا کہ میں نے اپنے جنون اور مقصد کو پانے کے لیے اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیا۔ جی ہاں! میں نے مصطفی کو ہی کھو دیا اپنے ہاتھوں، کسی اور کے حوالے کر دیا، مگر یہ کیا اس کے بعد… کوئی چیز اور کوئی بات بھی مجھے خوش نہ کر سکی۔ مجھے سمجھ نہ آتا کہ مصطفی غلط تھا یا میں غلط تھی؟ نہیں! میں غلط نہ تھی، مصطفی ہی بے وفا تھا۔ کیا یہ سب مصطفی کے لیے اتنا ہی آسان تھا؟ وہ تو کہتا تھا کہ مجھے دولت کی ہوس نہیں۔ وہ تو کہتا تھا میرے لیے تم ہی سب کچھ ہو۔ پھر یہ سب کیسے ہو گیا؟




  • موسمِ گُل — عاصمہ عزیز

    خوب صورت شاہ ولا جس کی پیشانی پر ماشا اﷲ کی تختی سجی تھی، میں اس وقت گہرا سکوت چھایا ہوا تھا۔
    شان دار فرنیچر سے مزّین شاہ ولا کے ڈائننگ روم میں اس وقت دو لوگ دوپہر کے کھانے کے لیے غیر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک کے چہرے پر سوچ اور تفکر کا گہرا جال بچھا تھا جب کہ دوسرے کے دلکش نقوش سے غصہ اور جھنجھلاہٹ واضح تھی۔
    ”با باپلیز ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ ….میں نہیں کرسکتی ابھی شادی وادی۔” عنایہ شاہ نے پچھلے دوتین دنوں سے بار بار دہرایا جانے والا جملہ ایک دفعہ پھر دہرایا۔ بیٹی کی بات سن کر حیدر شاہ کا نوالہ پکڑے منہ کی طرف جاتا ہاتھ لمحہ بھر کے لیے ہوا میں معلق ہوا، لیکن اگلے ہی لمحے انہوں نے پلیٹ پر جھکی اپنی نظریں اٹھائیں اور سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹی کو گھورتے ہوئے کہا۔
    ”میں نے آپ سے آپ کی رائے نہیں پوچھی… اور نہ ہی آئندہ اس بارے میں میرا ایسا کوئی ارادہ ہے۔”




    ”لیکن بابا”….. عنایہ نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا، لیکن حیرت اور دکھ کی شدت سے اس کی آواز حلق کے اندر ہی گھٹ کررہ گئی۔
    ”مم… میں پڑھنا چاہتی ہوں ابھی۔” کچھ دیر خود پرقابو پانے کے بعد اس نے بہ مشکل یہ الفاظ ادا کیے تھے۔ آج سے پہلے اسے اپنے باباسے بات کرنے کے لئے کبھی الفاظ نہیں سوچنا پڑے تھے۔تین سال کی عمر میں ماں کی وفات کے بعد سے انہوں نے اس کی ہر خواہش کو الفاظ میں ڈھلنے سے پہلے پورا کیا تھا۔ عنایہ شاہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتاتھا جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر اس دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور جنہیں ”انکار” اور ”نہیں” جیسے لفظوں سے بہت کم واسطہ پڑتا ہے۔
    ”جسٹ سٹاپ اٹ! کوئی لیکن ویکن نہیں چلے گا۔” انہوں نے سخت لہجے میں اسے ٹوکتے ہوئے اپنے بٹوے سے چند بڑے نوٹ نکال کر ٹیبل کی سطح پراس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا:
    ”یہ کچھ رقم رکھیں اور اپنی پسند سے شاپنگ کیجیے۔ اس جمعہ کو آپ کا نکاح ہے۔” انہوں نے یہ کہتے ہوئے اس کے حیرت سے گنگ چہرے سے نظریں چرالیں۔ عنایہ باپ کے اس رویے کی وجہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ اس نے سامنے پڑے لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک جھٹکے سے کرسی کھسکائی اور منہ بنائے اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
    ”تم؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟” کمرے میں ملازمہ کی موجودگی نے اس کے غصے کی شدت سے بڑھتے پارے کو آسمان سے مزید باتیں کرنے پر مجبور کردیاتھا۔عنایہ شاہ باپ کے برعکس اپنے ملازموں کو عام انسان کے بجائے احساسات وجذبات سے عاری غلاموں کا درجہ دینا زیادہ پسند کرتی تھی۔
    ”وہ… وہ بی بی جی!” ملگجے سے کپڑے زیب تن کیے پکی عمر کی ملازمہ کے ہاتھ میں کانچ کا نفیس گل دان لرز رہا تھا۔
    ”شٹ اپ نان سنس! نکل جائو میرے کمرے سے اپنا گندہ وجود لے کر۔” وہ غراتے ہوئے جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی تھی۔ پرُ غرور لہجے میں اپنے سے کم حیثیت ملازمہ کو برا بھلا کہتے ہوئے شاید وہ یہ بھول گئی تھی کہ انسان کو اس دنیا میںمحض اپنے برے اعمال کا ہی نہیں بلکہ اپنی زبان سے ادا کیے سخت الفاظ کابھی خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
    ٭…٭…٭




    حیدر شاہ اور شاہ نواز شاہ دو ہی بھائی تھے۔حیدر شاہ فطرتاًملنسار اور نرم مزاج کے حامل تھے جب کہ شاہ نواز شاہ کی طبیعت میں غروروتکبر اور دولت کی لالچ وہوس کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اسی لئے شاہ نواز شاہ نے ماں باپ کی وفات کے بعد جائیداد اور کاروبار میں سے اپنا حصہ بانٹتے ہوئے شاہ ولا سے نکل کر الگ گھر میں رہنا پسند کیا تھا۔
    گھر اور کاروبار کی علیحدگی کے بعد شاہ نواز شاہ کو اگر کوئی چیز اپنے بھائی سے جوڑے ہوئے تھی تو وہ بھائی نہیں بلکہ پیسے کی محبت تھی جس کی انہیں اپنے نئے کاروبار کو جمانے کے لئے اکثروبیشتر ضرورت پڑتی رہتی تھی۔
    حیدر شاہ ان کے لالچی پن سے آگاہ ہونے کے باوجود اپنی فطرت اور بھائی کی محبت سے مجبور ہو کر ہمیشہ ان کی مدد کے لئے تیار کھڑے رہتے تھے۔
    وقت اسی طرح سرکتا رہا۔ کئی سال کسی سمندر کی منہ زور موجوں کی طرح تندی وتیزی سے بیت گئے۔
    انسان کی فطرت کا بدلائو کبھی بھی وقت کا محتاج نہیں رہتا۔ہزار وں قیمتی لمحے اور گھڑیاں بیت جانے کے باوجود انسان اپنی فطرت کو نہیں بدل سکتا۔ اسی طرح کئی سال بیت جانے کے باوجود شاہ نواز شاہ کی فطرت میں دولت کے لیے چُھپی حرص و ہوس میں کوئی فرق نہیں آیا۔
    ورثے میں ملی جائیداد کو عیش وعشرت میں اڑانے کے بعد اب شاہ نواز شاہ کی نظر اپنے بھائی کی جائیداد پر تھی، جسے وہ ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے واحد ہتھیار عنایہ شاہ تھی، جسے بہو بنا کر وہ بآسانی اپنا مقصد حاصل کرسکتے تھے۔
    لیکن حیدرشاہ کے واضح اور دوٹوک انکار کے بعد وہ دل مسوس کررہ گئے تھے۔ پھر بھی وہ ہار ماننے والوں میں سے نہ تھے کیوں کہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے انہوں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے عنایہ شاہ کے سامنے محبت کا جال بچھا دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    کمرا نیم تاریک تھا۔ وہ اس وقت بیڈ سے ٹیک لگائے اپنے بستر پر نیم دراز تھے۔اپنی بیٹی عنایہ شاہ کے مستقبل کا خوف انہیں کسی زہریلے ناگ کی طرح ڈس رہا تھا۔جس دولت اور جائیداد کو انسان اپنی خوشیوں کی ضمانت سمجھتا ہے، اس وقت وہی دولت انہیں اپنی دشمن دکھائی دے رہی تھی۔
    کاش! وہ اس دولت اور جائیداد کے عوض اپنی بیٹی کے خوش گوار مستقبل کویقینی بناسکتے ۔انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے کنپٹیاں سہلاتے ہوئے سوچاتھا۔ آج سے ایک سال پہلے ہی وہ برین ٹیومر جیسی موذی بیماری کا شکار ہونے کا اور اس بات کا علم ان کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مرحوم دوست کے بیٹے عرشما ن کے علاوہ کسی کو نہیں تھا۔ جسے انہوں نے حال ہی میں اس کی ذہانت اور قابلیت کی بنا پر اپنے آفس میں اعلیٰ عہدے پر فائز کیا تھا۔ وہ حیدرشاہ کی بیماری کا راز اپنے سینے میں دبائے سگے بیٹوں کی طرح ڈاکٹر سے ان کا چیک اپ کرواتا اور ان کا خیال رکھتاتھا۔ حیدر شاہ کے لیے بھی وہ محض ایک تنخوار دار ملازم نہیں تھا بلکہ وہ اسے سگے بیٹے کا درجہ دیتے تھے۔ رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے بلکہ احساس کے بھی ہوتے ہیں۔بعض دفعہ جب خونی رشتے ہمیں راستے میں پڑے بے جان پتھر کی طرح ٹھوکر مار کرچلے جاتے ہیں، تو احساس کے رشتے ہی ہماری اندھیری دنیا میں روشنی لاتے ہیں۔”
    پچھلے کئی ماہ سے ڈاکٹر انہیں سرجری کرانے کی پُر زور تاکید کر رہا تھا جسے وہ ہر بار ٹالتے رہے، لیکن اب آپریشن ان کے لئے ضروری ہوگیاتھاکیوںکہ بیماری ان کی بے پرواہی کی بنا پر اپنے پنجے گاڑ چکی تھی۔ اس لئے وہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنی بیٹی کو لالچی و خودعرض رشتے داروں سے بچاتے ہوئے اس کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے تھے۔
    وہ سوچوں کی وادی میں ڈوبے ہوئے تھے کہ دروازے پر ہونے والی دستک اور اس کے بعد عنایہ کے نمودار ہونے نے انہیں چونکادیا تھا۔
    ”آئو بیٹا بیٹھو!” رسمی علیک سلیک کرتے ہوئے بیڈ سے کچھ فاصلے پر پڑے صوفے پر وہ ٹک گئی۔
    ”اور بیٹا شاپنگ کرلی آپ نے؟” حیدر شاہ نے بیٹی کے متذبذب چہرے پر نگاہیں ٹکائے بات کا آغاز کرتے ہوئے اسے بولنے کا موقع دیا۔
    ”جب مجھے شادی ہی نہیں کرنی تو شاپنگ کیسی؟” عنایہ شاہ نے منہ بنا کے اپنی ازلی ہٹ دھرمی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا۔ کوئی اور موقع ہوتا، تو وہ شاپنگ کرنے سے کیسے منع کرسکتی تھی۔
    ”عرشمان میری پسند ہے اور آپ کو اپنے….” حیدر شاہ نے کچھ بولنا چاہا، لیکن عنایہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولی:
    ”بابا جان آپ اپنے اس تنخواہ دار ملازم کو میرے لئے کیسے پسند کرسکتے ہیں؟ میں نے زندگی میں ہمیشہ بہترین اورقیمتی چیزوں کا انتخاب کیا جب کہ اب آپ…”
    ”اسٹاپ اٹ!” انہوں نے اس کی پٹرپٹر چلتی زبان کو روکنے کے لیے درشتی سے ٹوکتے ہوئے کہا۔
    ”چیزوں کو تو دولت کے ترازو میں تولا جا سکتا ہے، لیکن انسانوں کو نہیں، انسان کو اخلاق وکردار کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔”
    ”اوکے! آپ قائم رہیں اپنے فیصلے پر، تب تک میں جا رہی ہوں، چچا جان کے پاس۔ چچا جان ٹھیک کہتے ہیں آپ ہم دردی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔” وہ اٹھی اور دھپ دھپ کرتی کمرے سے نکل گئی۔
    حیدر شاہ اس کے باغیانہ لہجے کو محسوس کرتے اپنی خوش فہمی پر سوچتے رہ گئے کہ عرشمان کی ہم درد اور پُرخلوص شخصیت کی ضرورت ان سے زیادہ عنایہ کو ہے۔
    ٭…٭…٭




  • میں، محرم، مجرم — افراز جبین

    میں، محرم، مجرم — افراز جبین

    اس نے لرزتے ہاتھوں سے ICU کا دروازہ کھولا۔ اس کا اکلوتا بیٹا، اس کے بڑھاپے کا سہارا آکسیجن ماسک، نالیوں اور ڈرپس میں لپٹا ہوا تھا۔ اس کے لبوں پر شکوہ نہیں بلکہ آنکھوں میں شرمندگی اور چہرے پر پچھتاوے کے سائے منڈلا رہے تھے۔
    مدثر کو ہسپتال میں داخل ہوئے آج تیسرا دن تھا۔ اسے ہوش آگیا تھا۔ نیند کی گولیاں زیادہ مقدار میں کھانے کی وجہ سے اس کے معدے کو مکمل طور پر واش کیا گیا۔ اس کی طبیعت ذرا سنبھلی تو انعم کے بے قرار دل کو ذرا سا سکون ملا، مگر مدثر نے ہوش میں آتے ہی اپنے سیدھے ہاتھ کی رگ کاٹ لی۔ رات کا ناجانے کون سا پہر تھا۔ انعم کی آنکھ لگی اور مدثر… اس کا مدثر ایک بار پھر زندگی سے کھیل گیا تھا۔
    خون بہت زیادہ بہ گیا تھا مگر خدا نے پھر بھی اس کی جان بچالی۔ دل میں بہت سے سوال اور آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ انعم اسے دن رات صرف سگریٹ کے کش لگاتے دیکھتی۔ وہ کسی سے کیا کہتی؟ مدد کے لیے کس کو کیا پکارتی؟ اس کا اکلوتا بیٹا… وہ تو اپنے آپ کو آج تک معاف نہیں کر پائی تھی اور اب ایک نیا روگ۔
    ٭…٭…٭




    احمد علی سرکاری ملازم تھے، نہایت ایمان دار اور شریف النفس انسان۔ ان کی زندگی کا ایک اصول تھا کہ جو مرضی کرو بس حرام لو اور نہ ہی دو۔ اس قیمتی اصول کی سزا انہیں یہ ملتی کہ ان کی ماہانہ آمدنی مہینے کے درمیان میں ختم ہوجاتی اور باقی دن اگلے مہینے تنخواہ کی آس میں گزر جاتے۔ ان کی اہلیہبیگم فرخندہ بھی اپنے شوہر کی ہم مزاج تھیں اس لیے دونوں میاں بیوی کی خوب اچھی گزرتی، مگر پہ درپہ ہونے والی تین بیٹیوں اور تین بیٹوں نے گھر کا نقشہ ہی بدل دیا تھا۔ چھے بچے اور دو میاں بیوی۔ آٹھ لوگوں کا گزر، بسر بچوں کی تعلیم، کپڑا لتّا، زمانے کے ساتھ چلتے چلتے بیگم فرخندہ تو جیسے تھک سی گئی تھیں۔ اکثر سوچتیں اور نم آواز سے کہتیں:
    ”احمد علی! اپنی تو گزر گئی! بچوں کا کیا ہوگا؟ ان کی تعلیم، بچیوں کی شادیاں!”
    ”بیگم گھبراتی کیوں ہو؟ اللہ مالک ہے۔” وہ ہر بار ٹھنڈی سانس بھر کر یہی جواب دیتے۔
    احمد علی کے چھے بچے تھے، جو بالکل ماں باپ کی فطرت کے عکاس تھے۔ کوئی باپ کی طرح ایمان دار تو کوئی ماں کی طرح صابر۔ سب سے بڑے بیٹے عثمان نے میٹرک کرتے ہی پرائیویٹ ٹیوشنز پڑھانی شروع کردیں۔ فاخرہ، سلمیٰ اور علیشبہ بھی چھوٹی عمروں سے ہی گھر میں ٹیوشن پڑھانے لگیں۔ منجھلا بیٹا اکبر ایک کال سینٹر میں پارٹ ٹائم جاب کرتا، یوں گھر کا ہر فرد اپنے طور پر گھریلو اخراجات میں ایک اہم کردار ادا کرتا ماسوائے بلال کے۔ وہ گھر میں سب سے چھوٹا تھا۔ احمد علی نے کسی بچے کو خاص لاڈ پیار نہیں دیا تھا، لیکن بلال علی کی تو چال ہی نرالی تھی۔ وہ ہر وہ کام کرتا جس کی کسی کو توقع تک نہ ہوتی۔
    ”فرخندہ بیگم! یہ آخر کس مرض کی دوا ہے۔” احمد علی اکثر جھنجھلا کر پوچھتے۔
    ”بچہ ہے ابھی، رونق ہے گھر کی۔” وہ لاڈ سے کہتیں۔
    ”میں بتائے دیتا ہوں، تمہارا یہ بچہ کوئی گل ضرور کھلائے گا۔ دیکھ لینا۔” وہ ہر بار ٹھنڈی آہ بھر کر کہتے۔
    ٭…٭…٭
    ”احمد علی! احمد علی اٹھو۔” فرخندہ بیگم کی آواز نے احمد علی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
    ”کیا ہوگیا بھئی؟ کیوں چلا رہی ہو۔” نیند سے بھری آنکھیں مسلتے ہوئے احمد علی بڑُ بُڑائے۔
    ”وہ… وہ نا! وہ” فرخندہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے اور آواز اتنی بری طرح کپکپا رہی تھی کہ الفاظ بھی صحیح طرح منہ سے نہیں نکل رہے تھے۔
    ”وہ میرے امریکا والے کزن شجاع بھائی۔”
    ”شجاع! مرگئے کیا؟ بس جی موت ہے کسی کو کہیں بھی آجائے ولایت ہو یا دیس۔ یہ ظالم کہاں دیکھتی ہے کسی کو۔” احمد علی نے انتہائی سوگ وار لہجے میں کہا۔
    ”چُپ بھی کرو احمد علی! جو منہ میں آرہا ہے بولتے جارہے ہو۔ شجاع بھائی کا فون آیا تھا امریکا سے، وہ اگلے مہینے پاکستان آرہے ہیں۔”
    ”ہر سال ہی آتے ہیں تمہارے میکے والے…” احمد علی ابھی کچھ اور بھی بولتے مگر فرخندہ بیگم کی گھورتی نگاہوں نے انہیں یک دم خاموش کروا دیا۔
    ”شجاع بھائی اپنے دونوں بڑے بیٹوں کے لیے فاخرہ اور سلمیٰ کا رشتہ مانگ رہے تھے۔”
    وہ رات زیادہ خاموش تھی یا احمد علی، فرخندہ بیگم اسی کشمکش میں فجرکے لیے اٹھیں تو احمد علی کو مصلے پر سر رکھ کر گڑگڑاتے ہوئے بس اتنا سُنا:
    ”الٰہی! تیرا شکر ہے۔ الٰہی تیرا فضل ہے۔”
    ٭…٭…٭
    کرتا کوئی اور بھرتا کوئی ہے اور کتابوں میں پڑھا ہوا یہ محاورہ ہر کسی کو رٹا ہوا تھا۔ انعم سے اگر کوئی پوچھتا تو وہ بتاتی کہ اس کی زندہ مثال تو وہ خود تھی۔ آج سے اٹھارہ سال پہلے افضل کے نکاح میں آکر اس نے زندگی کا ہر میدان مار لیا تھا۔ افضل علی انتہائی خوب رُو، خوش مزاج اور ایک بڑی کمپنی کا مالک تھا۔ اس کی افضل علی سے پہلی ملاقات ایک بینک میں ہوئی تھی۔ وہ ٹیوشن فیس جو بچوں کے والدین بینک میں جمع کروا دیتے وہ ہر ماہ کی طرح اس مہینے بھی وہی لینے آئی تھی۔
    دروازہ کھولتے ہی سامنے منیجر کے کمرے سے نکلتے ہوئے افضل پر اس کی نظر پڑی تو وہ ایک لمحے کو رک سی گئی۔ براؤن لائنوں والی ٹی شرٹ، نیلی جینز، ہاتھ میں بہترین موبائل اور چہرے پر ہلکی سی ڈاڑھی، وہ تو جیسے نظر اٹھانا ہی بھول گئی تھی۔
    ”ایکسکیوزمی پلیز! ذرا راستہ دیجیے۔” پیچھے سے کسی بزرگ نے اسے دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا دیکھ کر راستہ مانگا۔
    ”اوہ سوری!” وہ راستے سے ہٹی۔
    کیا خوب صورت چیز ہے، اس نے سوچ کر دل مسوس کیا۔ پھر اپنے خیالوں کو جھٹک کر آگے بڑھ گئی۔ پیسے نکلوا کر باہر نکلی تو گلفام موبائل پر کسی سے انگریزی میں بات کررہا تھا۔ اس کی کالی چمکتی ہنڈا سوک ساتھ ہی کھڑی تھی۔ انعم ابھی اسے اور دیکھتی کہ دو نقاب پوش بائیک پر تیزی سے آئے اور اس کے ہاتھ میں موجود بیگ جھٹکے سے کھینچا۔ وہ زور سے چیخی۔ اس سے قبل کہ وہ کچھ کرتی نقاب پوش اس کا بیگ لے کر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے تیزی سے فرار ہوگئے۔
    ٭…٭…٭




    ”شجاع بھائی! میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ میں نہ تو آپ کے معیار کی شادی کرسکتا ہوں اور نہ ہی اتنا زیادہ جہیز دے سکتا ہوں۔” احمد علی نے انتہائی دھیمے لہجے میں کہا۔
    ”مجھے دولت اور حسن کی ہوس ہوتی تو بیٹوں کو امریکا میں بیاہ دیتا۔ مجھے اپنی نسل خاندانی خون سے بڑھانی ہے۔ اب اگر آپ نے ایسی کوئی ٹال مٹول کی تو میں انکار سمجھ کر چلا جاؤں گا۔” شجاع کی بات پر بیگم فرخندہ کا دل دہل گیا۔ ہر ماں کی طرح وہ بھی اپنے بچوں کی خوشی کے لیے لالچی ہوگئی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ فاخرہ اور سلمیٰ جاکر بھائیوں کو بھی امریکا بلوا لیں گی اور زندگی کے باقی دن آرام سے گزر جائیں گے، مگر احمد علی کی ایک ہی رٹ تھی کہ وہ اونچے لوگ ہیں۔
    ”نہیں شجاع بھائی، احمد علی کا یہ مطلب نہیں تھا۔ آپ بھی نہ بس۔” فرخندہ بیگم نے احمد علی کو ڈپٹا۔ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے۔
    ٭…٭…٭
    ”Are you ok?” افضل کی آواز نے اسے سکتے سے باہر نکالا۔
    ”جی ہاں… وہ میرا بیگ، ٹیوشن کے پیسے، وہ ہوسٹل کی فیس۔” اس وقت وہ اپنے حواس میں نہیں تھی۔ اس کی آواز رندھ گئی تھی۔ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ بھنگڑا ڈالتی۔ بالکل فلموں کی طرح ایک خوب صورت لڑکا اس کی مدد کر رہا تھا اور وہ کسی ہیروئن کی طرح مظلوم بن کر بیٹھی ہوئی تھی۔ مگر اس وقت اسے صرف یہ یاد تھا کہ اس کے پورے مہینے کی محنت، وہ پیسے چلے گئے اور ابو نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس مہینے بڑی مشکل سے بھیجے ہیں۔ اب کیا ہوگا؟
    ”Can I help you?” افضل نے پھر اسے پکارا تو اس نے زور زور سے رونا شروع کردیا۔
    ”Oh God! پلیز آپ روئیے مت۔ آپ گاڑی میں بیٹھیے۔” اس نے آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور بھاگ کر سامنے چھوٹے سے جنرل اسٹور سے اس کے لیے پانی کی بوتل لے آیا۔ کچھ دیر بعد اس نے اسے ہوسٹل کے باہر اتار دیا۔
    ”بہت شکریہ!” انعم نے اداس لہجے میں کہا۔
    It’s ok! آپ میرا یہ کارڈ رکھ لیجیے، کبھی بھی ضرورت ہو توdo contact me”
    اس کی چمکتی ہوئی گاڑی تیزی سے آگے بڑھ گئی اور وہ بوجھل دل اور خالی ہاتھ ہوسٹل میں داخل ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    ”میں اپنے سب دوستوں کو بلاؤں گا۔” بلال نے گھر میں شورمچا رکھا تھا۔ ہر طرف گہما گہمی تھی۔ کبھی بازار کا چکر، کبھی کوئی مہمان آجاتا اور کبھی خود جانا پڑتا۔ گھر کی پہلی خوشی میں ہر کوئی بوکھلا یا ہوا پھر رہا تھا۔ احمد علی تو بس پورا دن حساب کتاب ہی کرتے رہتے۔
    ”ذرا دھیان سے کرو سارے کام! ابھی باقی بچے بھی ہیں۔”
    ”میں نے کبھی آپ کو پریشان کیا ہے؟ پھر کیوں آپ پریشان ہوجاتے ہیں۔” فرخندہ بیگم احمد علی کی اس بات پر کبھی الجھتی، کبھی ڈپٹتی اور کبھی شکوہ کناں انداز میں کہتیں۔
    ”وہ تو میں بس یوں ہی کہہ رہا تھا۔”احمد علی ذرا کھسیانے ہوکر کہتے۔
    ذیشان اشرف اور رقیہ بانو کی ازدواجی زندگی مڈل کلاس لوگوں کی طرح سرد، گرم اور نرم ہر مرحلے سے گزرتی مگر بندھن ہر موسم کے بعد مضبوط ہوجاتا۔
    انعم ان کی پہلی اولاد تھی۔ اس کے معصوم چہرے پر اس کی آنکھوں میں ایک مقناطیسی کشش اور بے باکی تھی۔ اس معصوم چہرے کی بولتی آنکھیں رقیہ بیگم کو بے پناہ بھاتیں۔ انعم کے بعد دوبیٹیوں اور ایک بیٹے نے ان کے آنگن کو مکمل کردیا۔
    بچوں کی پرورش، گھر گرہستی، شوہر سے محبت اور اس کی اطاعت رقیہ بانو کی کل کائنات تھی اور رقیہ بانو نے اپنی کائنات کو جنت بنانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ یہ جنت اس دن ہمیشہ کے لیے ویران ہوگئی جب رقیہ بانو نے دنیا سے منہ موڑ لیا۔ نہ کوئی بیماری، نہ کوئی تکلیف۔ بس اک شام ذرا سا دل گھبرایا، ذیشان اشرف جب تک آفس سے گھر پہنچے رقیہ بانو جا چکی تھیں۔ نہ کسی سے کچھ کہا نہ سُنا۔ اپنے آنگن کو بلکتی سسکیوں میں چھوڑ کر وہ اپنے ہی ہاتھوں سے بنایا ہوا گلشن ویران کرگئیں۔
    ٭…٭…٭
    ”مدثر کیا تم دوبارہ پڑھائی شروع نہیں کرسکتے؟” انعم نے ایک روز اپنی ساری ہمت جمع کرکے اس سے دو ٹوک انداز میں پوچھا۔ مدثر نے اسے پلٹ کر یوں دیکھا کہ وہ خود ہی سے نظریں چرا گئی۔
    ”بیٹا زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ ہر شکست پر انسان کو ایسا لگتا ہے کہ زندگی اب رک گئی ہے، یہی آخر ہے۔ اس سے آگے کچھ نہیں، مگر پھر کچھ تگ و دو کے بعد زندگی دوبارہ شروع ہوجاتی ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں غم کو جلانے سے دکھ کم نہیں ہوتا۔ دکھ پر وقت اپنا مرہم رکھ جاتا ہے۔ تمہیں بھی کچھ وقت لگے گا، مگر اس طرح سے بند کمرے میں تنہائی اور لاحاصل کی تمنا سے تو وقت بھی نہیں گزرے گا۔”
    اس نے آگے بڑھ کر مدثر کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔ دونوں ماں بیٹے کی آنکھوں سے چھلکتی برسات نے دونوں کے دلوں کواور بوجھل کردیا۔
    غم نے تو جیسے انعم کے گھر کی راہ ہی دیکھ لی تھی۔ اداسی اس کے آنگن میں گرمیوں کی دھوپ کی طرح اس کے وجود کو جھلسا رہی تھی۔ مدثر کو بہت زیادہ سمجھاتے، قسمیں اور وعدے دینے کے بعد اس نے آفس جوائن کرلیا مگر یونیورسٹی وہ نہیں جاتا تھا۔ سارا کاروبار خسارے میں جارہا تھا۔ جب مالک سر پر نہ ہو تو ملازمین مالک بن جاتے ہیں اور اس کے حق دار بھی بدل جاتے ہیں۔
    ٭…٭…٭




  • جب زمین تنگ ہوجائے — حنا نرجس

    تقریباً تین ماہ گزر چکے تھے لیکن ابھی تک لاشعوری طور پر میری نگاہیں دائیں جانب ہل ہل کر قرآن پڑھتے بچوں میں سے قطار کے اختتام پر اس خوف زدہ چہرے کو تلاش کرنے لگتیں، جو ایک عرصہ تک میری نگاہوں کا مرکز رہا تھا۔ اب تک تو یقینا اس کے ماں باپ کو بھی صبر آ چکا ہو گا لیکن میرے اندر جلتا پچھتاوے کا بھانبڑ بجھنے میں نہیں آتا تھا۔ وہ خوب صورت چہرے، نرم طبیعت اور مہذب لب و لہجے کا مالک بچہ تھا جسے اس کے باپ نے اچانک ہی ساتویں جماعت سے انگریزی میڈیم سکول سے اٹھا کر قرآن مجید حفظ کروانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ خود بھی ان دنوں تازہ تازہ تبلیغی جماعت سے متاثر ہوئے تھے اور اکثر ان کے ساتھ اندرون و بیرونِ ملک جانے لگے تھے۔




    وہ بچہ شاید اس اچانک تبدیلی کو قبول نہیں کر پایا تھا کیوں کہ وہ مدرسے میں کسی سے بھی گھلتا ملتا نہیں تھا۔ اس کے طور طریقے سب سے الگ تھے۔ پتا نہیں کیوں میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ میں اسے بہ طور استاد پسند نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے یہ میرا وہم ہو لیکن یہ بات تو طے تھی کہ وہ دوسرے بچوں کی طرح مجھ سے ڈرتا نہیں تھا۔ بات کرتے وقت اس کا لہجہ مؤدب لیکن آواز مضبوط ہوتی اور یہی بات مجھ سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔ پھر تو مجھے جیسے ضد ہو گئی کہ اس کو ہر صورت اپنے رعب و دبدبے میں لا کر ہی رہنا ہے۔ ہر گزرتے دن اس پر میری سختی بڑھتی چلی گئی۔ کھڑا کر کے سبق یاد کروانا، مرغا بنانا، دھوپ میں بٹھانا، دیر سے چھٹی دینا، ڈنڈے سے پیٹنا غرض یہ کہ کون سی سزا تھی جو میں نے اسے نہ دی ہو۔ وہ سبق پر محنت کر کے سزا سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا لیکن میں بھی اپنے نام کا ایک تھا، تلفظ کی کوئی معمولی غلطی پکڑ کر پھینٹی لگا دیتا۔
    دروازے پر دستک سن کر سحرش بیگم نے سنک کا نل بند کیا اور گیلے ہاتھ دوپٹے سے پونچھنے لگیں جب ہی وحید بولے:
    "رہنے دیں بھابھی میں نکل ہی رہا ہوں، دیکھ لیتا ہوں۔”
    وہ ابھی ابھی دودھ لے کر آئے تھے اور ٹی وی پر کوئی دینی پروگرام چلتا دیکھ کر ذرا دیر لاؤئج میں رک گئے تھے۔ وہ جلد ہی پلٹے، ان کی آواز میں قدرے تشویش تھی۔
    "بھابھی! مغیث کہاں ہے؟ مسجد سے لڑکا اس کا پوچھنے آیا ہے۔ گیا نہیں آج مدرسہ؟”
    سحرش بیگم چند ثانیے تو خالی نظروں سے ولید کو دیکھتی رہیں جیسے بات سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں پھر دھیمے لہجے میں بولیں:
    "وہ تو وقت پر چلا گیا تھا، مسجد میں نہیں ہے کیا؟” ان کے لہجے میں فکر مندی کے آثار جھلک رہے تھے۔
    "آپ پریشان نہ ہوں میں پتا کرتا ہوں۔” ان کو تسلی دیتے ہوئے وحید باہر نکلے تو ان کے اپنے ذہن میں منفی خیالات گردش کر رہے تھے۔” لگتا ہے مدرسے میں دل نہیں لگتا صاحب زادے کا، پر پرزے نکالنے لگے ہیں۔” مغیث سب پوتے پوتیوں میں بڑا ہونے کی وجہ سے دادا ابا کا بہت لاڈلا رہا تھا، یہی وجہ تھی کہ وحید کو اس سے قدرے پرخاش تھی جس کے اظہار کا موقع کم کم ہی میسر آتا تھا۔
    اس دن سے تو مجھے مزید شہ مل گئی جب وقت پر مدرسے نہ پہنچنے پر ایک لڑکے کو اس کے گھر بھیجا۔ کچھ ہی دیر بعد گھر، محلے اور مسجد میں مغیث کی ڈھنڈیا پڑ گئی جو بالآخر مسجد کے پچھواڑے پرانے سٹور میں پڑے کاٹھ کباڑ کے پیچھے دبکا ہوا ملا۔ اس کے چچا، جو استاد اور گھر والوں کی نگاہوں میں دھول جھونکنے کے اس مظاہرے پر سیخ پا ہو رہے تھے، اس کے کان کھینچتے، تھپڑ لگاتے میرے سامنے پیش کرتے ہوئے بولے:
    "قاری صاحب! میرا فون نمبر نوٹ کر لیں، آئندہ یہ دو منٹ کی بھی تاخیر کرے تو فوراً مجھے اطلاع کریں۔ بڑے بھائی صاحب تو بیمار والد صاحب اور دونوں گھروں کی ذمہ داری مجھ پر ڈال کر روانہ ہو جاتے ہیں، کل کلاں لڑکا ہاتھ سے نکل گیا تو اسے میری ہی لاپروائی تصور کیا جائے گانا۔”




    اس دو طرفہ سختی سے اس کا سارا اعتماد ہوا ہو گیا۔ میری من چاہی تبدیلی آرہی تھی۔ اب تو مجھے دیکھتے ہی اس کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا۔ گھگھیا کر معافی مانگتا تو میرے من میں ٹھنڈ پڑ جاتی۔
    اگلی بار جب اس کے والد دورے سے لوٹے اور پڑھائی کے متعلق جاننے کے لیے میرے پاس تشریف لائے تو میں نے خود سے گھڑ کر اس کی خوب شکایتیں لگائیں۔ وہ سر جھکا کر دبی دبی آواز میں اکثر الزامات سے انکار کرتا رہا لیکن باپ کو تو استاد پر مکمل اعتماد تھا۔ خشمیگن نگاہوں سے اسے گھورتے وہ اٹھ کر چلے گئے اور میں مستقبل قریب میں اس کی درگت بننے کے خیال سے ہی محظوظ ہونے لگا۔ اس روز اس کی نگاہوں میں بے یقینی، شکوہ، رحم کی اپیل اور نہ جانے کیا کیا یک جا ہو گیا تھا لیکن میں انجان بنا رہا۔
    "قاری صاحب، قاری صاحب!”
    میری آنکھ ایک نسوانی آواز کے پکارنے پر کُھلی۔ رات کے دس بج رہے تھے۔ نیند سے ایک دم جاگنے پر پہلے تو میں کچھ سمجھ نہ پایا لیکن جب یادداشت بحال ہوئی تو یاد آیا کہ آج میں نے مغیث کی چھٹی بند کی ہوئی تھی اور تاخیر کچھ زیادہ ہی ہو گئی تھی۔ معلوم نہیں کب میری آنکھ لگ گئی اور وہ مجھے جگانے کی جرات نہیں کر پایا۔
    وہ برقع پوش ڈری ہوئی سی خاتون انتظار کا طویل دورانیہ گزار کر بالآخر ایک چھوٹے لڑکے کی انگلی تھامے اپنے لختِ جگر کی معافی کی درخواست لیے خود آن پہنچی تھی۔ ایک لمحے کو میرا دل کانپا لیکن جلد ہی میں نے خود کو پھر سے پتھر کر لیا۔ شکایات کی لمبی فہرست کے ساتھ احسان دھرتے ہوئے میں نے اسے چھٹی کا پروانہ عطا کیا۔
    میری سختیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔ بچہ ہار تو کب کا چکا تھا، اب تو ذہنی طور پر بھی غائب محسوس ہوتا۔ سبق سناتے ہوئے بار بار اٹکتا، لگتا تھا وہ اب بہتری کی کوششیں تک ترک کر چکا تھا۔ شاید اسے مجھ سے کسی خیر کی امید نہیں رہی تھی۔ رت جگوں سے اس کی آنکھیں لال رہنے لگیں لیکن میں شیطان کے شکنجے میں کسا ہوا اپنا دل اس کے لیے نرم نہ کر پایا۔
    پھر یہ آئے روز ہونے لگا۔ جب مدرسے پہنچنے میں تاخیر ہوتی تو کسی لڑکے کو گھر بھیجا جاتا یا چچا کو فون کیا جاتا اور جب مدرسے سے گھر پہنچنے میں تاخیر ہوتی تو وہ برقع پوش خاتون ڈری سہمی، خوف زدہ اور پریشانی کے عالم میں اسے لینے آتی اور مجھے اس کی آنکھوں میں التجا نظر آتی جیسے کہہ رہی ہو:
    "قاری صاحب، آپ ہی رحم کیجیے، میں ہر طرف سے دباؤ میں گھری کم زور مخلوق اپنے بیٹے کی حالت سے آگاہ ہونے کے باوجود بھی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔”
    لیکن میری رسی شاید کچھ زیادہ ہی دراز کر دی گئی تھی۔ سارا دن قرآن کے ساتھ رہ کر بھی قرآن میرے حلق سے نیچے نہیں اترا تھا۔ مجھے دل کی نرمی سے محروم کر دیا گیا تھا۔ میں ظلم کر کے لطف اندوز ہونے لگا تھا۔
    میری روش نہ بدلی حتیٰ کہ وہ دن بھی آگیا جب اس کے گھر پتا کرنے جانے والے لڑکے کو صفِ ماتم بچھی ہوئی ملی اور کچھ ہی دیر بعد اس کے چچا جھکے کندھوں اور گیلی آنکھوں کے ساتھ اعلان کرانے کی غرض سے مسجد آن پہنچے۔
    اس کے والد جنازے میں شریک نہ ہوسکے کیوں کہ وہ ملک سے باہر گئے ہوئے تھے اور زیادہ انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ نیلے پڑتے بدن اور پھولتے پیٹ کی وجہ سے مغیث کے جسدِ خاکی کو زیادہ دیر رکھنا ممکن نہ تھا۔
    یہ خود کشی تھی یا قتل، لوگوں کی آراء مختلف تھیں۔ پوسٹ مارٹم کروانے پر گھر والے رضامند نہ تھے۔ اگر قتل بھی تھا تو کیا قاتل کوئی ایک شخص تھا یا زیادہ افراد کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ کوئی آلۂ قتل بھی تو برآمد نہ ہوا۔ لیکن اس روز سے میں راتوں کو بار بار پسینے میں شرابور دہشت زدہ سا اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں اور دن میں میری نگاہیں مسجد میں دائیں جانب ہل ہل کر قرآن پڑھتے بچوں سے ہوتی ہوئی قطار کے اختتام پر اس خوف زدہ چہرے کو تلاش کرنے لگتی ہیں۔

    ٭…٭…٭