Author: misbah116@hotmail.com

  • غرورِ عشق کا بانکپن — سارہ قیوم (پہلا حصّہ)

    ۱۔اسمارہ

    بھاگ کر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کا سانس پھول گیا لیکن بارات دیکھنے کا اشتیاق اتنا تھا کہ پھولے سانس کو قابو کرنے کی کوشش کرتی، اندھیرے کمرے میں کاٹھ کباڑ سے الجھتی وہ کھڑکی تک پہنچ ہی گئی۔ کھڑکی ذرا سی کھول کر اس نے نیچے گلی میں جھانکا۔ عین اس کی کھڑکی کے نیچے سے بارات گزر رہی تھی۔ آگے آگے باراتی تھے، ان کے ہاتھوں میں ہار پھول اور مٹھائی کے ٹوکرے تھے۔ ان سے پیچھے اس جلوس کے درمیانی حصّے میں دلہا دلہن قریبی رشتے داروں کے گھیرے میں چل رہے تھے۔ اسمارہ کو دلہن دیکھنے کا موقع مل گیا۔
    ”شکر ہے عین وقت پر پہنچی!” اس نے خوش ہوکر سوچا۔
    دلہا نے سہرا باندھ رکھا تھا اور وقتاً فوقتاً اس کی لڑیاں ہٹا کر لوگوں کو درشن کروادیتا تھا۔ خوشی سے اس کے دانت نکلے پڑتے تھے۔ دلہن البتہ بڑی مغموم تھی۔ اس نے سر ایک طرف کو پھینک رکھا تھا، جیسے اپنی تقدیر کے آگے ہتھیار ڈال چکی ہو۔ بے اختیار اسمارہ کا دل چاہا کہ وہ ایک نظر اٹھا کر اوپر اسے دیکھے۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ سرخ زرتار گھونگھٹ کے نیچے اس کی آنکھوں میں کیا کیفیت تھی۔ اس کے چہرے پر خوشی کی دمک تھی یا اداسی کا سایہ؟ لیکن دلہن اس طرح سر نیہوڑے اس کی کھڑکی کے نیچے سے گزر گئی۔ بارات کا آخری حصہ جونفیری بجانے والوں اور وارے ہوئے پیسے لوٹنے والے بچوں پر مشتمل تھا۔ وہ بھی گزر گیا۔ موڑ مڑ کر پوری کی پوری بارات گلیوں کی بھول بھلیوں میں نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
    اسمارہ وہیں کھڑکی کے پاس رکھے سٹول پر بیٹھ گئی اور ایک خوابناک کیفیت میں سرکھڑکی سے ٹکا دیا۔ اس کی نظروں کے سامنے سُرخ سنہری گھونگھٹ، موتیوں کی نتھ، چوڑیوں کی کھنک ایک کے بعد ایک جلوہ دکھانے لگے۔ اندھیرے کمرے میں کوئی چوہا بھاگا، کھٹاک کی آواز ہوئی اور وہ چونک گئی۔ اچانک اسے خیال آیا کہ اس کا سرعین اسی زاویے پر ڈھلکا ہوا تھا جس پر دلہن نے سرنیہوڑا رکھا تھا۔ اسمارہ نے اس کے انداز میں نظریں جھکا کر غمگین نظر آنے کی کوشش کی، اسے ہنسی آگئی۔
    ”اف توبہ! میں تو کبھی نابنوں 1940 کی ہیروئن۔” اس نے اطمینان سے عزم کیا۔
    ”میں تو بڑی ہنسی خوشی کرواؤں گی شادی۔ ہنستی گاتی جاؤں گی دلہا کے ساتھ۔”
    وہیں بیٹھے بیٹھے اس نے خود کو دلہن بنے، ایک سہرے والے دلہا کے ساتھ بارتیوں کے جلو میں چلتے دیکھا۔ چشمِ تصور نے اسے دکھایا کہ وہ سرخ زرتار جوڑا پہنے، ہلکا سا گھونگھٹ نکالے چلی جارہی ہے۔چلتے چلتے وہ نگاہ اٹھاتی ہے۔ اوپر ایک کھلی کھڑکی میں ایک لڑکی کھڑی اشتیاق سے نیچے جھانک رہی ہے۔ اسمارہ گھونگھٹ کی اوٹ میں سے اسے آنکھ مارتی ہے۔ لڑکی ہکا بکا رہ جاتی ہے۔ تصور میں اس لڑکی کے بھونچکا تاثرات دیکھ کر اسمارہ کو پھر سے ہنسی آگئی۔ اس نے کھڑے ہوکر فرضی گھونگھٹ نکالا، گھما کر اپنا تصوراتی گھیردار فرشی غرارہ سمیٹا اور کاٹھ کباڑ سے بچتی لہراتی ہوئی باہر نکل گئی۔
    یہ شادی کا شوق بھی ایک تو دریافت شدہ لگن تھی۔ یہ چوڑیوں کا شوق، یہ گوٹے کناری سجے گھونگھٹ کی آرزو، سنہری پائل کی تمنا اور شہنائی کی دھن، یہ سب شوق اسے اب ہونا شروع ہوئے تھے۔ ورنہ اس سے پہلے تو تین بھائیوں کے ساتھ پلتے بڑھتے وہ ان کا چوتھا بھائی بن کررہ گئی تھی۔ بچپن میں کبھی اسے شبرات پر غرارہ پہنا دیا جاتا تو وہ روتے روتے آسمان سر پر اٹھالیتی۔ چوڑیاں توڑ کر پھینک دیتی، قمیض غرارے میں ٹھونس لیتی اور سنہری سینڈلیں اتار جاگرز چڑھا لیتی۔ زرینہ بیٹی کی ان حرکتوں پر خفا ہوتیں مگر بی بی جان ہنستیں ۔”سات نسلوں کا اثر ہے، جاتے جاتے ہی جائے گا”۔ وہ ہنس کر کچھ فخر سے کہتیں۔ محی الدین کے خاندان میں سات نسلوں تک کوئی لڑکی پیدا نہ ہوئی تھی۔ بی بی جان کو بیٹی کا اتنا شوق تھا کہ وہ دادا سے چھپ کر اپنے بیٹوں کو فراک اور پونیاں پہنا کر اپنا شوق پورا کیا کرتی تھیں۔ دادا خود آٹھ بھائی تھے۔ خود ان کے بھی آگے سے بیٹے ہی بیٹے تھے۔ ان بیٹوں کے گھر بھی لڑکوں سے بھرے تھے۔ یوں اسمارہ پورے خاندان کی اکلوتی لڑکی تھی جو سات نسلوں بعد پیدا ہوئی تھی اور یہ سات نسلوں کا مردانہ پن تھا جس سے زرینہ ڈرتی تھیں۔ بی بی جان کے رعب کی وجہ سے کسی کی ہمت نہ تھی کہ اسمارہ کو کچھ کہہ سکے مگر ان سے چھپ کے زرینہ اسے دھموکے ضرور جڑدیتیں ۔ انہیں اس کا لڑکوں کی طرح رہنا بے حد ناپسند تھا۔ بی بی جان کی وہ ایسی لاڈلی تھی کہ اس کی آنکھ کے اشارے پر وہ جان نچھاور کرنے پر تیار ہوجاتیں۔ جس خاتون سے سارا خاندان دبتا تھا، وہ خود اپنی پوتی کے پیروں تلے ہاتھ رکھتی تھیں۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    پہلا فضیحتہ اس نے اس وقت کیا تھا جب اسے کانونٹ میں داخل کروایا گیا۔ وہ بھائیوں کی طرح پگڑی باندھے ایچی سن جانا چاہتی تھی اور یہ فصیحتہ پورے تین سال جاری رہا۔ ہر روز صبح سکول جاتے ہوئے ضدم ضدا ہوتی۔ زرینہ تھک جاتیں، محی الدین ناراض ہوتے مگر بی بی جان کے لحاظ کے مارے کوئی کچھ نہ کہہ سکتا۔ آخر بی بی جان نے اس کے لیے بھائیوں جیسی پگڑی منگوائی جو روز صبح اسے پہنا کر سکول بھیجا جاتا۔ سکول کے گیٹ پر منت کر کرکے پگڑی اتروائی جاتی اور روتی بسورتی اسمارہ بی بی کو بصد مشکل بغیر پگڑی کے سکول جانے پر رضا مند کیا جاتا۔ خدا خدا کرکے اسے عقل آئی اور اس نے پگڑی کا پیچھا چھوڑا۔ اب ایک نئی مصیبت آن پڑی۔ بھائی گھڑ سواری کرتے تھے، کرکٹ اور فٹ بال کھیلتے تھے تو یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ اسمارہ وہ سب نہ کرتی۔ بھائیوں کو پابند کیا گیا کہ روزانہ اس کے ساتھ کرکٹ اور فٹ بال کھیلیں۔ ہفتے میں ایک مرتبہ گھڑ سواری کے لیے لے جانے کی ڈیوٹی محی الدین کو سونپی گئی۔ اس نے ہر وہ کام کیا جو خاندان کے لڑکے کرتے تھے۔ گلی ڈنڈا کھیلا، پتنگیں لوٹیں، گرگرکے ہڈیاں تڑوائیں اور ہر وہ کھیل کھیلا جو اس کے بھائی اور کزنز کھیلتے تھے۔ نہ کھیلا تو گڑیوں سے نہ کھیلا۔ کبھی ہمسائیوں یا ملازموں کی بچیوں کے ساتھ گھر گھر کھیلا بھی تو خود ہمیشہ شوہر بنی اور کسی اور کو بیوی بنایا۔ بی بی جان ٹھیک کہتی تھیں، سات نسلوں کا مردانہ پن تھا، جاتے جاتے ہی جانا تھا۔
    کچھ عمر کے ساتھ، کچھ ماں کی روک ٹوک کا نتیجہ، وہ آہستہ آہستہ بدلنے لگی۔ گلی ڈنڈا چھوڑا، بھائیوں کے ساتھ کشتی لڑنا چھوڑا، چھت پر چڑھ کر پتنگیں لوٹتے ہوئے غل غپاڑہ کرنا چھوڑا۔ نہ چھوڑا تو لڑکوں کی طرح چلنا، کھڑے ہونا، اٹھنا بیٹھنا۔ نہ گیا تو طبیعت کا نڈرپن نہ گیا۔ وہ دلیری، وہ اپنی بات پر اڑ جانے والی فطرت جو مرد میں خوبی سمجھی جاتی ہے اور عورت میں خامی، وہ نہ گئی۔ لیکن اس کا قصور نہ تھا۔ جن کا خون تھی اور جن کی گود میں پلی تھی۔ وہ ایسے ہی تھے۔
    ”آخر کو میری پوتی ہے۔” بی بی جان فخر سے کہتیں۔
    صلح جو اور بھلی مانس زرینہ اپنی دبنگ فطرت ساس کو دیکھتیں، پھر اپنی جنگجو بیٹی کو اور ٹھنڈی آہ بھر کر رہ جاتیں۔ یہ ٹھنڈی آہیں وہ دن میں ہزار مرتبہ بھرتی تھیں۔ جب بیٹی کو دھپ دھپ کرتے چلتادیکھتیں، بھائیوں کے ساتھ دھول دھپا کرتے، آئے گئے پر رعب جھاڑتے دیکھتیں تو ٹھنڈی آہ بھرتیں۔
    ”لڑکی ذات۔” وہ افسردگی سے کہتیں۔محی الدین چونک جاتے۔ انہیں بھی اکثر بھول جاتا تھا کہ وہ لڑکی ہے۔
    ”کیسے ہوگا نباہ؟” زرینہ ٹھنڈی سانس بھر کر کہتیں۔
    محی الدین لاپروائی سے سر جھٹک کر اپنی کتاب میں گم ہوجاتے۔ کیسے ہوگا نباہ؟ ویسے ہی جیسے ان کی ماں کا ہواتھا۔ دلیری اپنی جگہ، محبت اپنی جگہ کون کہتا ہے عورت میں یہ دو اوصاف اکٹھے نہیں ہوسکتے؟
    ٭…٭…٭
    حضوری باغ کی گلیاں، نانک شاہی اینٹوں کی بھول بھلیاں، لکڑی کے چھجے، قدیم چوبارے اور ایک دوسرے سے جڑے کھڑے ان چھوٹے چھوٹے گھروں کی رعایا کے درمیان کسی شہنشاہ کی سی شان سے ایستادہ یہ تین سو سال پرانا گھر۔ پرکھوں کی شاندار حویلی جس کے صحن میں آباؤ اجداد کے وقتوں میں ایک ہزار لوگوں کو ایک وقت میں بٹھا کر کھانا کھلایا جاتا تھا۔ بھاری بھرکم دروازہ لمبی سے ڈیوڑھی میں کھلتا تھا۔ ڈیوڑھی جس میں کسی وقت میں بانگے گھڑ سوار آکر اترا کرتے تھے، اب وہاں چھوٹے بڑے درجنوں گملوں کے ساتھ ایک آٹھ سو سی سی کی ہیوی سپورٹس بائیک کھڑی ہے۔ ڈیوڑھی کے اردگرد مہمان خانے ہیں، گھر سے الگ تھلگ، زنانے اور مردانے کی حد بندی کے زمانے کی یادگار۔ ڈیوڑھی کا منقش دروازہ صحن میںکھلتا ہے جس کے بیچوں بیچ سنگِ مرمر کا فوارہ جس کے گرد موزیک کی ٹائلوں سے پھول بوٹے بنے ہیں۔ صحن کی دیواروں کے ساتھ سجے بے شمار پھولوں پودوں کی بہار سے بھرے گملے زرینہ کا شوق ہیں۔ مشرقی دیوار کے ساتھ رکھے جہازی سائز گملوں میں اگے درخت کے سامنے بی بی جان کا تحت بچھا ہے جس پر بیٹھ کر وہ اپنی راجدھانی کو فخر سے دیکھتی ہیں، پاس پڑوس کی عورتوں کے لیے نسخے بناتی ہیں اور اسمارہ کے ساتھ شطرنج کھیلتی ہیں۔
    بی بی جان اس حویلی کے منجھلے بیٹے کے ساتھ علی گڑھ سے بیاہ کرآئی تھیں۔ تقسیم سے قبل کے زمانے میں علاقہ تو اس قدر گنجان نہیں تھا مگر گھر کے اندر آبادی کی ریل پیل تھی۔ ساس سسر، بے شمار رشتے دار، نوکروں کی فوج ظفر موج اور آٹھ دیور جیٹھ، ان کی بیویاں، بچے، ان گنت مہمانوں کا لگاتار بندھا تانتا۔ گھر میں پیسے کی اس قدر ریل پیل تھی کہ نوٹوں کی بوریاں بھر کر تہہ خانے میں رکھ دی جاتی تھیں جنہیں چوہے کتر جاتے تھے۔ جدی پشتی دولت مند خاندان جہاں تعلیم اور تہذیب کے ساتھ وہ سارے گن بھی تھے جو عموماً بے تحاشہ دولت اپنے ساتھ لاتی ہے۔ ساس سسر گزرے، دادا کے بھائیوں نے حویلی پر ناک بھوں چڑھائی اور اپنا اپنا حصہ وصولنے کو پرتولے۔ دادا نے رائیونڈ کی زمینوں میں سے حصہ چھوڑا اور حویلی بھائیوں سے خریدلی۔ ان میں سے بہت سی زمینیں طوائفوں پر واری گئیں، کچھ جوئے میں ہاری گئیں اور کچھ قرضے میں اتاری گئیں۔ شاید دادا کے آٹھ بھائیوں میں سے کسی کی بیوی بی بی جان جیسی نہ تھیں۔ داداکی نہ صرف حویلی اسی شان سے برقرار رہی بلکہ رائیونڈ کی کچھ زمین بھی واپس خریدلی گئی، فارم ہاؤس بھی بن گیا، زرعی جاگیر سے سالانہ بھی آتا رہا اور دادا کوچوں کرنے کی جرأت نہ ہوئی اور جب دادا کو جرأت نہ ہوئی تو بیٹوں کی کیا مجال تھی۔ بی بی جان نے بیٹوں کی اپنے خاندان کے خطوط پر تربیت کی۔ خود علی گڑھ کی پڑھی تھیں، والد مجسٹریٹ تھے، والدہ شاعرہ، اپنے اوصاف بیٹوں میں منتقل کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ بی بی جان کے تینوں بیٹوں میں سے محی الدین نے حویلی کی وراثت سنبھالی۔ دادا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے کچھ دوسری جائیداد میں سے حصہ چھوڑا اور بھائیوں سے حویلی خریدلی۔ بڑے بھائی عماد الدین فوج میں چلے گئے، چھوٹے علیم الدین بیرسٹر بنے سو دونوں کا اندرون شہر میں نہ رہنا مجبوری ٹھہری بی بی جان حکمت میں بہت شغف رکھتی تھیں۔ محی الدین بچپن سے ان کے ساتھ جڑی بوٹیاں چھانتے، بیماریاں پڑھتے، لوگوں کی نبضیں دیکھتے تھے۔ ڈاکٹر کے سوا کیا بن سکتے تھے۔ اب دن میں میڈیکل کالج میں پڑھاتے تھے، شام میں مفت مریض دیکھتے تھے اور دنیا جہان کے نوادر اکٹھے کرتے تھے۔ یوں تو سارے گھر میں ان کی اکٹھی کی ہوئی پنٹینگز اور دوسری چیزیں سجی تھیں لیکن ان کا اصل خزانہ اس کمرے میں تھا جو تھا تو چوکور مگر گول کہلاتا تھا۔ چیزیں قدیم اور قیمتی گلدانوں، پیالوں اور ظروف سے سجی ، فرش پر ہاتھ سے بنا ایرانی قالین تھا اور دیواروں پر تلواروں، خنجروں اور بندوقوں کا خزانہ آویزاں تھا پنٹینگز اس پر سوا تھیں۔ استاد اللہ بخش کی ”ہیرکا خیال” صادقین کی ”وہ آج جو آئی ہے ملنے کو” اینا مولکا احمد کی "The breezy summer” اور بے شمار ایسی تصاویر جو کسی میوزیم میں ہوتیں تو مرجع خلائق ہوتیں۔ محی الدین اپنے اس خزانے کے معاملے میں بے حد حساس تھے۔ بہت کم لوگوں کو گول کمرے تک رسائی کی اجازت تھی۔ سنتے تھے کہ سالوں پہلے کسی مہمان کا بچہ صادقین کی پینٹنگ دیکھ کر ڈرگیا تھا اور اپنے باپ سے پوچھا تھا کہ کیا یہ بھوتوں کی تصویریں ہیں؟ محی الدین نے بہت پیج و تاب کھائے تھے۔ کیسے کیسے لوگ تھے اس دنیا میں جنہوں نے اپنے بچوں کو ہیر نہیں پڑھائی تھی، صادقین نہیں دکھایا تھا، اقبال نہیں سکھایا تھا۔ تب سے وہ اپنے بچوں کو تہذیب وتمدن کی اس دنیا سے روشناس کرنے پر بہت توجہ دینے لگے تھے۔ لیکن انہیں لگتا تھا کہ چاروں بچوں میں سے ان کا یہ شوق اور جذبہ کسی میں منتقل ہوا تھا تو وہ اسمارہ تھی۔ وہ برملا کہتے تھے کہ اپنا یہ سرمایہ وہ صرف اسمارہ کو دیں گے۔ وہی سنبھالے گی ان کی وراثت کو۔ بس ایک ذرا وہ چین سے بیٹھنا سیکھ لے۔
    ٭…٭…٭
    ”کیا عجیب گاڑی ہے یار!” اس نے اشارے کی سرخ بتی کو دیکھتے ہوئے سوچا، ابھی تک سمجھ نہیں پارہا تھا کہ اس گاڑی کی تعریف کرے یا اسے کوسے۔ ٹُوسیٹر BMW،1300 سی سی انجن، پاور سٹیرنگ، مگر اتنی نیچی کہ اُسے یوں لگ رہا تھا وہ بس سڑک پر ہی بیٹھا چلا جارہا ہے اور پھر پاکستان کی سڑکوں کے سپیڈ بریکر۔ نیچی گاڑیاں اس نے امریکہ میں بھی چلائی تھیں مگر یہ گاڑی ذرا زیادہ ہی نیچی تھی یا شاید یہاں کے سپیڈ بریکر زیادہ اونچے تھے۔ ہر مرتبہ وہ ان پر گاڑی گھما کر چڑھانا بھول جاتا۔ گاڑی ٹھک سے نیچے لگتی اور سر دھک کرکے چھت سے جالگتا۔ اس سے تو بہتر تھا بائیک ہی لے آتا۔ وہ دل مسوس کر سوچتا رہا۔ دوست کے گھر گیا تھا، وہاں ایک ہیوی سپورٹس بائیک اور یہ گاڑی کھڑی تھی۔ گاڑیوں کا شوقین وہ اسے چلانے کے چکر میں اٹھا لایا۔ اس عجیب و غریب (نہیں عجیب و امیر… غریب گاڑی تو نہیں) گاڑی سے بہتر تو بائیک تھی۔
    اور عین اس وقت جب وہ اس ہیوی سپورٹس بائیک کی یاد میں گم تھا، اس کی گاڑی کے پاس ایک بائیک آکر رکی۔ اس کے اگلے پہیے پر نظر پڑتے ہی وہ اچھل پڑا۔
    ”ارے واہ پاکستان میں بھی کیسے کیسے گوہر شناس لوگ موجود ہیں جو ایسی چیزوں کا شوق رکھتے ہیں۔” اس نے متاثر ہوکر سوچا۔ بائیک کے ہینڈل اور ٹینک سے اٹھ کر اس کی نظر اس پر بیٹھے لوگوں پر پڑی اور پھر ہٹنا بھول گئی۔ پندرہ سولہ سال کے لڑکے کے پیچھے ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ اس نے چہرے پر کالی چادر کا نقاب لے رکھا تھا۔ کالے نقاب کے اوپر دو کالی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ لڑکی نے ہاتھ اٹھا کر اپنی چادر درست کی۔ وہ دم بخود اسے دیکھتا رہا۔ ایک عجیب سی دلفریبی تھی اس کی ایک ایک جنبش میں۔ جیسے بے حد مضبوط ہاتھوں اور بازوؤں میں نزاکت کی غیر متوقع جھلک۔ جیسے کسی نے سنگ مرمر میں پارہ بھر کر اس سے مجسمہ تراش دیا ہو، جیسے کسی نے دھوپ کی سختی میں چاندنی کی نرمی گوندھ کر سکہ ڈھال دیا ہو، جیسے کسی نے ریشم کو پانی میں بُن کر سراپا بنادیا ہو۔
    وہ اسے دیکھتا رہا۔ اس کی گاڑی نیچی تھی ساتھ کھڑی بائیک اونچی۔ وہ سراٹھائے اسے دیکھتا رہا۔ وہاں وہ ایسی تھی کہ اسے سر اٹھا کر دیکھے جانا ہی زیب تھا۔ لڑکی کی نظر اس کی کار پر پڑی۔ اس کی آنکھیں مسکرائیں یوں جیسے وہ سڑک کے ساتھ لگی اس پستہ قامت گاڑی کو دیکھ کر محظوظ ہوئی ہو وہ دم بخود اسے دیکھتا رہا۔ لڑکی کی نظر کار سے ہوکر اس پر پڑی۔ نظریں ملتے ہی اس کی مسکراتی آنکھیں پہلے سنجیدہ ہوئیں، پھر ان میں خفگی کا تاثر ابھرا۔ اس نے ابرو اچکائے جیسے پوچھتی ہو کیا دیکھتے ہو؟”
    اس نے گڑ بڑا کر نظریں جھکائیں اور تب ہی اس نے دیکھا کہ لڑکی کی چادر کا کنارہ بائیک کے پہیے کے اوپر لہرارہا ہے۔ اس نے انگلی سے چادر کی طرف اشارہ کیا۔ لڑکی نے جھک کر چادر کی طرف دیکھا اور اسے پہیے کے اتنا قریب دیکھ کر نہایت متانت، مضبوطی اور نزاکت بھرے انداز میں اسے اٹھا کر گود میں رکھ لیا۔ اس کی آنکھیں ہلکا سا مسکرائیں اور اس نے سرذرا سا خم کرکے شکریہ ادا کیا۔ اس وقت اشارہ سبز ہوا اور بائیک آگے بڑھ گئی۔ وہ دم بخود وہیں کھڑا رہ گیا۔
    ٭…٭…٭
    وہ کمرہ پوری حویلی میں اس کا پسندیدہ تھا۔ اوپری منزل پر بنا بڑا ساکمرہ جہاں کاٹھ کباڑ بھرا رہتا تھا۔ اس کی کھڑکی پچھلی گلی میں کھلتی تھی جہاں کی دنیا بالکل الگ تھی۔ پتلی سی گلی میں کچھ گھر تھے، کچھ دکانیں۔ اس کمرے کو اس نے سلیپنگ بیوٹی روم کا نام دے رکھا تھا۔ بادشاہ کی اکلوتی شہزادی کو ظالم پری نے کانٹا چبھنے کی بددعا دی تھی اور وہ محل کی سب سے اوپری منزل کے کاٹھ کباڑ سے بھرے کمرے میں جانکلی تھی جہاں اسے ایک ٹوٹے چرخے کی سوئی چبھ گئی تھی اور وہ سوسال کے لیے سوگئی تھی (بچپن میں اس کی دلچسپی صرف چرخے کی نوک چبھنے اور سوسال کے لیے سونے کے ایڈونچر تک محدود تھی۔ بڑی ہوئی تو کہانی کا دوسرا حصّہ پسند آنے لگا۔ سوسال سے سوئی ہوئی شہزادی کو ایک خوبرو شہزادے کے جگانے والا حصہ)
    بچپن میں اس کی بھائیوں سے لڑائی ہوتی تو یا وہ بی بی جان کی گود میں جاچھپتی یا پھر اس کمرے میں پناہ لیتی جہاں اس کے سوا کوئی نہ آتا تھا۔ بڑے بھائی اس کے گلا پھاڑ پھاڑ کر رونے سے بہت تنگ تھے۔ وہ ذرا ذرا سی بات پر رو رو کر آسمان سر پراٹھا لیتی اور بھائیوں کی شامت آجاتی۔” ضرور تم ہی نے رلایا ہوگا۔” ہر کوئی ان سے کہتا۔ اس کا توڑ انہوں نے یہ نکالا کہ جونہی وہ رونے کی تیاری کرتی، وہ دبوچ کراس کا منہ بند کردیتے۔ ”خبردار جو روئی، جھانپڑ کھائے گی ایک اور۔” بڑے بھائی قاسم دھمکاتے۔
    ”بے بی ہے نا ابھی تک بے چاری، ماما کی بے بی۔ اس لیے تو یہ بڑی نہیں ہوتی۔ روتی جو رہتی ہے۔” منجھلے بھائی شجاع تمسخر سے کہتے۔
    اس ٹریننگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے رونے کو بڑے ہونے کی راہ میں رکاوٹ سمجھنا شروع کردیا۔ روتی تو بے بی کہلاتی، جھانپڑ کھاتی۔ نہ روتی تو شاباش کی مستحق ٹھہرتی اور انعام کے طور پر فٹ بال میچ میں سنٹر فاردرڈ کی پوزیشن پر کھلائی جاتی۔ روتے تو کمزور اور بے وقوف لوگ تھے، بہادر تھوڑا ہی روتے تھے۔ آہستہ آہستہ اس نے رونا چھوڑ دیا۔ کبھی دل دکھی ہوتا تو اس کمرے میں آچھپتی اور کھڑکی میں بیٹھ کر غم کھاتی اور غصہ پیتی۔ یہ واحد چیزیں تھیں جن کے کھانے پینے میں اس کا بھائیوں سے مقابلہ نہیں تھا۔ وہ ان کے ساتھ مقابلے میں دودھ کے بڑے بڑے گلاس چڑھا جاتی۔ سالن سے بوٹیاں نکال کر کھاجاتی۔ ہارتی یا جیتتی، اس کا بھائیوں سے مقابلہ کرنا لازمی تھا۔ ایک مرتبہ وہ ریسلنگ میں شجاع بھائی سے جیت گئی۔ وہ بہت خفا ہوئے۔ چھوٹی بہن سے ہار جانے سے بڑی بھلا کوئی ذلت ہوسکتی ہے۔ اور اس بہن کو ان کے اماں ابا ہر وقت ان کے سر پر سوار کیے رکھتے تھے۔ فٹ بال کھیل رہے ہیں تو”بہن کا خیال رکھنا ۔”رائیڈنگ کررہے ہوں تو ”بہن پر نظر رکھنا۔” ہر وقت کی چوکیداری کرکے چڑ گئے تھے بھائی تایا کے گھر سوئمنگ پول تھا جس میں سب بچے سوئمنگ کرتے تھے۔ اسمارہ ابھی چھوٹی تھی اور اسے سوئمنگ اچھی طرح نہ آتی تھی۔ لیکن یہ ہوکیسے سکتا تھا کہ بھائی سوئمنگ کریں اور اسمارہ نہ کرے۔ لہٰذا اسمارہ بی بی شجاع کے ساتھ نتھی کردی گئیں اور حکم ہوا کہ بہن کا دھیان رکھنا۔ کہیں ڈوب نہ جائے۔ شجاع کو کچھ ریسلنگ ہارنے کا غصہ تھا، کچھ وہ اس کی ہروقت کی چوکیداری سے تنگ تھا، اس نے اسمارہ کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ پول کی شیلو سائیڈ پر سوئمنگ پول کرتے کرتے اس نے اسمارہ کو سانس بند کر ڈائیو لگانا سکھایا۔ جب دس پندرہ دفعہ دائیو کرنے سے اسمارہ کو پریکٹس ہوگئی تو شجاع نے اپنے گاگلز سوئمنگ پول کے فرش پر پھینک دیئے اور اسمارہ کو ڈائیو لگا کر نکال لانے کا حکم دیا۔ ادھر اسمارہ نے ڈبکی لگائی، ادھر شجاع اس کی طرف لپکا۔ جونہی وہ پول کے فرش کے قریب پہنچی، شجاع اس پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوگیا۔ اب اسمارہ پول کے فرش پر مچل رہی ہے اور شجاع اس پر پاؤں رکھے کھڑا ہے۔ اچھا ہے ذرا رہے بی مینڈکی پانی کے اندر۔ ایک مرتبہ ذرا اچھا سا غوطہ کھالے، آئندہ ضد نہیں کرے گی سوئمنگ کی۔ تیس چالیس سیکنڈ اسے پانی میں دبائے رکھنے کے بعد شجاع نے بیرہٹا کر اسے اوپر کھینچا تو اس کا خیال تھا کہ وہ بے حال ہوچکی ہوگی۔ روئے گی، چلائے گی اور آئندہ سوئمنگ پر نہ آنے کا اعلان کرے گی۔ وہ واقعی بے حال تھی، مگر خوشی کے مارے۔
    ”دیکھا میں نے کتنی اچھی سانس روکی؟” اس نے خوشی اور ایکسائنمنٹ سے چلا کر کہا ”پھر سے کھیلیں یہی گیم؟”
    آدھے گھنٹے بعد وہ سانس رد کے ،ڈیپ سائیڈ پر شجاع سے ریس لگا رہی تھی۔
    وہ ہر کھیل، ہر مقابلے، ہر جھگڑے میں ان کی ساتھی تھی مگر یہ کباڑ والا کمرہ اس کا اپنا تھا۔ یہ کھڑکی اس کی سہیلی تھی۔ کھڑکی سے نظر آتی گلی اس کی دنیا کا وہ حصہ تھی جو صرف اس کا تھا۔
    اس گلی میں اس کی کھڑکی کے عین سامنے دو دکانیں تھیں۔ ایک خرادیئے کی اور دوسری چاندی کے ورق بنانے والوں کی۔ وہ کتنی ہی دیر کھڑکی میں بیٹھی انہیں چاندی کوٹ کوٹ کر پتلے پتلے ورق بناتے دیکھا کرتی تھی۔ ٹھکا ٹھک ٹھکا ٹھک۔ اس گلی میں بڑے مزے کی رونق رہتی تھی۔ گرمیوں میں گولے گنڈے اور قلفی بیچنے والے آتے تھے۔ سردیوں میں پستہ بادام بیچنے والا بابا دتّو گزرتا تھا۔ ”چینا بادام گرم” وہ آواز لگاتا۔ محی الدین پیار سے اسمارہ کو چینا بادام گرم کہتے تھے۔ اس کے بھائی چڑ جاتے۔ ایک دن اس سے جھگڑے کے بعد شجاع نے کہا۔ ”یہ چینا بادام گرم تھوڑی ہے؟ یہ تو جینا حرام کرن ہے۔” بس تب سے اس کا نام جینا حرام کرن پڑگیا۔
    زرینہ اس کی جینا حرام کرن عادتوں سے بڑی تنگ تھیں۔ شروع شروع میں ان کا خیال تھا کہ لڑکوں والے گھر میں ایک لڑکی آگئی ہے تو ماحول میں ایک نرمی، ایک نفاست آئے گی۔ ان کا خیال غلط نکلا۔ وہ بھائیوں میں نرمی کیا پیدا کرتی، الٹا خودان کے جیسی ماردھاڑ کی شوقین اور سخت مزاج ہوگئی۔ نہ گڑیاں، نہ رنگ، نہ کپڑے، نہ سجاوٹ۔ دلچسپی تھی تو ریسلنگ میں، فٹ بال میں، گھڑ سواری میں۔ ارے وہ تو روتی تک نہیں تھی۔ کتنی ہی چوٹ لگ جاتی، وہ منہ سختی سے بھینچے کھڑی رہتی۔ ایک مرتبہ سیڑھیوں سے گری۔ سر پھٹ گیا، پورا چہرہ خونم خون ہوگیا۔ زرینہ اسے دیکھ کر رونے لگی، مگر وہ نہ روئی۔ عجیب بات تھی، روتی نہیں تھی، الٹیاں کرنے لگتی تھی۔
    زرینہ کی دوست نزہت لندن سے آئیں تو زرینہ نے انہیں اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔ وہ وہاں سائیکولوجسٹ تھیں۔ زرینہ کو امید تھی کہ وہ ان کی بیٹی میں لڑکیوں والی صفات پیدا کرنے میں ان کی مدد کرسکیں گی۔
    نزہت ساری باتیں سن کر سوچ میں پڑگئیں۔
    ”مزاج تو خیر کچھ inherited ہے اور کچھ بھائیوں کے ساتھ رہنے سے ایسا بنا ہے مگر یہ نہ رونے والی بات کچھ ٹھیک نہیں۔” انہوں نے کسی قدر تشویش سے کہا۔
    ”عمر کیا ہے اس کی؟” انہوں نے پوچھا۔
    ”بارہ سال کی ہوئی ہے پچھلے مہینے۔” زرینہ نے جواب دیا۔
    ”کوئی تو چیز ایسی ہوگی جس سے اس کی نسوانی فطرت کا اندازہ ہوتا ہوگا؟” انہوں نے پوچھا ۔
    ”گڑیاں؟” زرینہ نے نفی میں سر ہلایا ”نہ گڑیاں نہ ڈول ہاؤس۔ ہاں البتہ بچوں اور جانوروں سے بہت پیار کرتی ہے۔”
    نزہت مسکرائیں ”تو بس پھر اسے بلی کا بچہ لادو۔ ہر لڑکی میں ممتا کا جذبہ فطری ہوتا ہے۔ اس سے پیار کرے گی تو مزاج میں بھی نرمی آئے گی۔”
    ”اور اُلٹیوں کا کیا کروں؟” زرینہ نے پوچھا۔
    ”اسے بتاؤ کہ رونا نارمل بات ہے۔ جب اس کا سٹریس کسی بھی طرح نکلنے کی راہ نہیں پاتا تو جسم اس طرح ری ایکٹ کرتا ہے۔” نزہت نے کہا۔
    زرینہ اس کے لیے بلی کا بچہ لے آئیں۔ نزہت کی کہی بات درست ثابت ہوئی۔ اسمارہ دل و جان سے اس کا خیال رکھنے لگی۔ اس کی ماں بن گئی۔ زرینہ اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی تھیں۔ ایک دن وہ بلی کا بچہ کسی طرح سڑک پر نکل گیا۔ سڑک سے اس کی کچلی ہوئی لاش اندر آئی تو اسمارہ نے ایک آنسو نہ بہایا۔ متانت سے اسے اٹھایا، کپڑے میں لپیٹا، صحن کی پچھلی کیاری میں اپنے ہاتھوں سے گڑھا کھودا اور اس میں اسے الٹا کر اپنے ہاتھوں سے مٹی ڈالی۔ اس کے بعد وہ تین دن تک الٹیاں کرتی رہی۔اس کا ذہن سو ناپن کی مچان سے نیچے نہ اترنے پر بضد تھا اور اس کا دل نسوانی سرشت کے ہاتھوں مجبور۔ وہ ان دونوں کے بیچ گھن چکر بن گئی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ڈئیرایمن آپا!
    آپ کو وہ بیدکا درخت یاد ہے جو ہمارے سکاٹ لینڈ والے گھر کے باغ میں لگا تھا؟ اس کے نیچے بیٹھ کر آپ نے مجھے لفظ delicate کا مطلب سمجھایا تھا اور اس کے لیے اس درخت کی مثال دی تھی۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ اکثر جب ہم کھڑکی میں بیٹھے کارڈز سکریبل کھیل رہے ہوتے تھے تو کتنی مرتبہ کھیل روک کر اس درخت کو ہوا میں جھومتے دیکھا کرتے تھے۔ آپ کہتی تھیں کہ اس درخت میں لچک، مضبوطی اور نزاکت کا ایک مثالی امتزاج ہے۔ یاد ہے اسی درخت کے نیچے بیٹھ کر میں نے اپنی زندگی کی پہلی نظم لکھی تھی۔ "The grace of the willow tree” آج میں نے اس نظم کو مجسم دیکھا۔ اس لڑکی نے چہرہ نقاب سے چھپا رکھا تھا مگر اس کی موومنٹ میں ہی شاہانہ وقار، مضبوطی اور نزاکت تھی جو ہمارے willow tree میں ہوتی تھی۔ اسے دیکھ کر مجھے وہ لسٹ یاد آئی جو ہم دونوں سجایا کرتے تھے۔ دنیا کی ان خوبصورت ترین چیزوں کی لسٹ جن پر شاعری کی جاسکتی ہے۔ جھرنے، پھول، تاروں بھرا آسمان اور مورناچ۔ تشکر، جابجا بکھرے حسن کے لیے اور تشکر حسن کو دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والے دل کے لیے۔
    آپ کا بھائی
    بدر الدجا
    ٭…٭…٭

  • نجات دہندہ — ردا کنول (تیسرا اور آخری حصّہ)

    نجات دہندہ — ردا کنول (تیسرا اور آخری حصّہ)

    کا وش کو انتظار کی کو فت سے نہیں گزرنا پڑا ۔حا لا نکہ اُسے کو ئی خو ش فہمی نہیں تھی ، کم از کم کل کی باتوں کے بعد سے تو نہیں۔مگر اُس کی تو قع کے بر عکس اُسے ضو فشاں کچن کا دروازہ دھکیل کر اندر آتی ہو ئی نظر آئی تھی۔
    جب دل میں خو شی کی لہر دو ڑتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہو گا؟ یہ کاوش نے اُس ایک لمحے میں جان لیا۔
    ضو فشاں نے اُسے دیکھا اور اُس کے پاس اندر جانے کی بجا ئے وہیں کھڑی رہی۔کا وش نے کچھ جلدی میں چیزیں سمیٹیں اور باہر نکل کر اپنے چہرے پر ایک مسکرا ہٹ سجا ئے صرف شکر یہ ہی کہہ سکا جسے ضو فشاں نے سر جھکا کر قبول کیا ۔باہر نکلنے سے پہلے ہمیشہ کی طر ح کا وش نے اُسے پہلے جانے دیا۔کا وش نہیں جانتا تھا اُس کا یہ عمل ضو فشاں کے دل میں اُس کے لیے کتنا احترام پیدا کر تا تھا،بہت سے دوسرے مر دوں سے بر عکس ضو فشاں کے لیے وہ ایک تمیز اور لحا ظ رکھنے والا مرد تھااور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اُس کے قریب آتی جا رہی تھی۔
    ” آپ کو کیسا پتہ چلا کہ میں اس وقت ما رکیٹ جا تا ہوں؟” سوال بے تکا تھا مگر بات کے آغا ز کے لیے مو زوں تھا۔” عمدہ اور تا زہ پھل سبزیاں لینے کے لیے شاید اسی وقت ما رکیٹ جا یا جا تا ہے۔” وہ اپنے آپ کو یہ کہنے سے رو ک نا پا ئی۔کاوش کے لبوں پر ایک مسکرا ہٹ رینگ گئی۔گا ڑی میں اُس کے برابر بیٹھتے ہوئے ضو فی نے کچھ ہچکچا ہٹ محسوس کی مگر کمال مہا رت کے ساتھ اپنے اُس احساس کو چھپا گئی۔
    ” اپنی کمزو ریوں کا کبھی دوسروں کو پتہ نہیں لگنے دینا چا ہیے۔”
    ”مارکیٹ بس یہاں سے کچھ ہی دور ہے۔’ ‘ ضو فی نے چو نک کر اُسے دیکھا ۔وہ بھول گئی تھی کہ اُس کے مد مقا بل وہ انسان ہے جو کمال مہارت سے آنکھیں پڑھ لیتا تھا۔” ہو ں۔۔ٹھیک ہے۔” گردن مو ڑے وہ بس اتنا ہی کہہ سکی۔
    اُن دونوں میں سے ایک چھپا جانے کا فن جانتا تھا اور دوسرا بھید جان جانے میں ما ہر تھا۔
    خا مو شی سے گھبرا کر بات کرنے کی غرض سے ضو فشاں نے اُس سے پو چھا۔” کو کنگ کا شوق کیسے پیدا ہو اآ پ میں؟” وہ دھیان سے ڈرا ئیو کر رہا تھا اور ہمیشہ کی طرح کچھ نر وس تھا۔” پتہ نہیں یاد نہیں ۔۔سوچتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا، بچپن سے ہی بہنو ں کو دیکھا تو خو د بھی دل چاہا کہ کچھ بناؤں۔”
    ” اچھا ۔۔ایسا کیا بنا تی تھیں آپ کی بہنیں کہ صرف دیکھنے سے ہی شو ق ہو گیا۔” ضو فشاں نے کچھ تو صیفی مسکرا ہٹ کے ساتھ اُس سے پوچھا۔” آپ کو دیکھنے میں عجیب لگا ہو گا کہ ایک مرد کو کنگ رینج پہ جھکا فرا ئنگ پینز میں چمچے ہلا رہا ہے۔” ضو فشاں کو لگا وہ بات گول کر گیا ہے۔تبھی اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اُس نے جیسے کچھ کھو جنے کی کو شش کی،مگر وہ نا کام رہی ۔”نہیں عجیب نہیں لگا بہت سالوں سے دیکھ رہی ہوں اب تو۔” اُس کی آنکھیں جو ہمہ وقت اُدا سی سے بھری رہتی تھیں کچھ مزید اُداسی سے بھر گئیں۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    کا وش اُس کا پچھلا ریکا رڈ جا نتا تھا تبھی اُسے کو ئی پریشا نی نہیں ہو ئی اُس کی بات سمجھنے میں۔مارکیٹ آ گئی تھی وہ دونوں گا ڑی میں سے اُتر گئے۔”یہ سب اس ہی کی طر ح شیفس ہوں گے، جو اتنی صبح یہاں آئے ہیں ۔” ضو فشاں نے اکا دُکا چلتے لوگوں پر ڈالی جو خریدا ری کرنے میں مصروف تھے۔چلتے ہوئے کا وش تا زہ انگو روں کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔” یہ انگور چترال سے آتے ہیں۔” ضو فشاں نے غور سے اُس کا چہرہ دیکھا۔ایک گھچا ہاتھ میں پکڑے وہ مسکرا رہا تھا اور یقینا کہیں اور تھا۔” چترال بہت خو بصورت ہو گا نا؟” ضو فشاں نے یو نہی اُس سے پو چھ لیا۔” ہاں۔۔ مگر کا لا ش سے زیادہ نہیں۔” وہ اب انگور وں کے گچھے اُٹھا اُٹھا کر با سکٹ میں رکھ رہا تھا۔” کا لاش؟ مطلب کافرستان۔۔وہاں عورتیں کالے لباس پہنتی ہیں نا اور اُن کا رقص۔۔وہ کتنا زبر دست ہوتا ہے نا؟” ضو فشاں یکدم پُر جوش سی نظر آنے لگی۔” ہاں وہ تو ہوتا ہے؟” کاوش کے ذہن میں بہت ساری یادیں جھلملا ئیں۔” میں نے بہت سی جگہوں پر اُن کی تصویریں دیکھی ہیں۔کاش میں بھی وہاں جا سکتی۔”
    ” تو چلی جا ئیں کس نے رو کا ہے۔” اُس کی کچھ ایسی پر یشا نیوں سے با لکل انجان اُس نے مسکرا تے ہوئے کہا۔” مگر میں نے سُنا ہے وہاں کہ لوگ نہا تے نہیں ہیں ،کا وش نے اُسے دیکھا مگر وہ بولتی رہی،کتنے کتنے مہینوں تک،اس بار آنکھیں باہر نکالے اُس نے جیسے اُس کی معلو مات میں اضا فہ کیا، اور اُن سے بہت بو آتی ہے،میں نے بہت سے لو گوں سے سُنا ہے۔کا وش ابھی بھی اُسے دیکھ رہا تھا گردن مو ڑے،اُس کی بات کے اختتام پر وہ سیدھا ہو کر اُس کے عین سامنے کھڑا ہو گیا۔” تو کیا مجھ سے بھی بُو آ رہی ہے آپ کو؟ آئی مین میں آپ سے کچھ ہٹ کر کھڑا ہو جا تا ہوں،وہ اُلٹے قدموں تھو ڑا پیچھے ہوا اور پھر سے کہنے لگا، اب ٹھیک ہے؟ ” ضو فشاں نے شدید حیرا نی کے عالم میں اُسے دیکھا اور اُس کی غلط فہمی دُور کرنا چا ہی۔” نہیں چترال والوں سے تو نہیں آتی وہ تو کا لاش کے لوگوں کے بارے میں سُنا تھا کہ وہ۔۔۔” کا وش نے بیچ میں ہی اُس کی بات کا ٹی ۔” میں کالاش سے ہی ہوں۔” ضو فشاں کی تو جیسے سیٹی گم ہو گئی،کا وش وہاں سے ہٹا اور کچھ اور پھل دیکھنے لگا۔وہ جب مڑا ضو فشاں کی طرف سے تو ایک دبی دبی مسکرا ہٹ اُس کے لبوں پر تھی۔وہ لطف اندو ز ہوتا رہا اُس کے اس ہکا بکا انداز کو دیکھ کر۔
    ” آ ئی ایم سوری۔مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ کا لاش سے ہیں۔” وہ اُس کے پیچھے آ گئی تھی اور اب کچھ پریشانی سے اُس سے کہہ رہی تھی۔” کو ئی بات نہیں ، با تیں ہی کچھ ایسی مشہو ر ہیں وہاں کے لوگوں بارے میں۔” اُس کی طرف د یکھ کر مسکرا کر کہا۔” و اقعی لو گ اگر کسی ایسی جگہ کو دریافت کر لیں جہاں زیادہ لوگ نہیں جاتے تو وہ یو نہی وہاں کے بارے میں باتیں مشہور کرنے میں کو ئی عار محسوس نہیں کرتے۔” کا وش کو اچھا لگا اُس کی یہ بات سن کر۔
    ” آپ کہہ رہی تھیں آپ کا لاش دیکھنا چا ہتی ہیں؟” واپس گا ڑ ی میں آ کر بیٹھتے ہو ئے کا وش نے اُس سے پوچھا۔” ہاں بہت خوبصورت ہے کیا وہ؟” بہت سے دوسروں لوگوں کی طر ح ضو فی کو بھی خو ب صورتی اپنی طرف ما ئل کرتی تھی۔” بے انتہا۔” کاوش نے کہا۔
    ” مگر مجھے وہاں کی عورتوں سے ملنے کی زیادہ خواہش ہے۔” اُس کے لہجے میں اشتیا ق تھا۔کا وش کو لگا وہ وہاں کی عورتوں کے لباس اور زیور وغیرہ سے متا ثر ہو گی مگر وہ نہیں جان پا یا ضو فی نے کا لاش کے بارے میں اور بہت سی باتوں کی طر ح یہ بھی سُن رکھا تھا کہ وہاں پر women empowerment بہت زیادہ تھی اور یہی وہ وجہ تھی جو اُسے سب سے زیادہ اپنی طرف کھینچتی تھی۔
    ہو ٹل کے عقب میں جہاں کچن کا دروازہ کھلتا تھا کا وش نے اپنی گا ڑی رُوکی ،ضوفشاں ابھی تک کالاش کو ہی سوچے چلے جا رہی تھی وہ چو نکی جب کا وش نے اُس سے کہا۔” کا لاش دکھانا چاہتا ہوں تمہیں ،دیکھو گی؟” ضو فشاں نے اُس سے کچھ نہیں کہا کل کی ہی طر ح وہ خا موشی سے باہر نکل گئی اپنے ساتھ ایک اُلجھن کو لیے ہوئے ،وہ سوال اپنے اندر ہی لیے ہوئے وہ دروازہ کھولے باہر نکل گئی ،جو تب سے اُس کے ذہن میں کلبلا رہا تھا جب اُس نے کا وش کا کالاش سے ہونے کے متعلق سُنا تھا۔
    کا وش نے اُسے خا مو شی کے ساتھ کچن کا دروازہ دھکیل کر اندر بڑھتے دیکھا ،پریشانی نے کہیں اُس کے اندر سر اُٹھا یا لیکن پھر ایک گہر ی سانس بھرتے ہوئے وہ گاڑی میں سے چیزیں نکالنے لگا۔
    ()٭٭٭()
    Chitral Cuisine میں خوب دوپہر چڑھنے سے پہلے رش کچھ کم ہوتا تھا اور ویٹرز کچھ سکون محسوس کرتے ہوئے اپنے ہلکے پھلکے انداز میں کھڑے رہتے تھے، مگر وہیں تمام شیفس دوپہر کے کھانے کی تیاری میں لگے رہتے۔ضوفی وقت بتانے کی غرض سے کہیں زیادہ اپنے اندر جواب جاننے کی خواہش میں اپنی دوست شیف کے پاس کھڑی سبزیاں کا ٹنے لگی۔” ضو فشاں یہ تمہارا کام نہیں ہے میں کر لوں گی۔” تیزی سے چلتے ہاتھوں کے ساتھ شیف نے اُس سے کہا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ فا رغ کھڑے رہنے والے لو گوں میں سے نہیں ہے اور اُس کی ایک نہیں سُنے گی، اُس نے کہا۔
    ” یہاں کالاش کی ڈشز بھی بنتی ہیں کیا؟” سرسری لہجے میں اُس نے بات کا آغاز کیا۔” ہاں بالکل بنتی ہیں ۔باس کالاش کے ہیں نا ،تمہیں نہیں پتہ کیا؟” وہ ابھی جلدی جلدی اپنا کام کر رہی تھی مگر اُتنی ہی تیزی سے بول بھی رہی تھی۔” پہلے نہیں پتہ تھا۔” پالک کے پتے کاٹتے ہوئے اُس نے اپنے آپ کو بمشکل کہنے سے روکا کے کل تک نہیں پتہ تھا۔
    ” عجیب ہو تم بھی دو ماہ ہو گئے ہیں تمہیں یہاں کام کرتے ہوئے اور ابھی تک یہ بھی نہیں پتہ تھا۔” شیف افسوس سے اُس سے کہہ رہی تھی۔ضوفشاں بس اُسے سُنتی رہی۔” ہر اُس جگہ کے بارے میں پہلے بہت اچھی طرح نہیں تو تھو ڑی بہت چھان بین ضرور کر لو جہاں تم کچھ عرصہ کام کرنے والی ہو۔” شیف اُسے ایک اچھی نصیحت کر گئی یقینا اپنے تجربے کی روشنی میں۔
    ” کالا ش میں تو کا فر لوگ نہیں رہتے؟” کل سے جوبات اُسے تنگ کر رہی تھی وہ سوال بن کر بلا آخر اُس کی زبان پر آ گئی۔” ہاں رہتے تو ہیں۔” شیف نے بغیر گہرا ئی میں جائے اُسے جواب دیا وہ اس وقت بے انتہا مصروف تھی۔تبھی ضو فی کی نظر بالکل غیر ارادی طور پر وہاں اُٹھی جہاں کاوش کھڑا تھا کچھ بناتے ہوئے وہ اُس کی طرف متو جہ نہیں تھا۔
    ” شیف کاوش بھی کا فر ہیں کیا ؟ مطلب وہ بھی تو کالاش سے ہیں۔” ہاتھ روکے وہ اپنے ساتھ کھڑی شیف کی طرف گھوم گئی تھی اور اُس کے چہرے سے سرا سیمگی چھلکتی تھی۔وہ جواب سننے کو بے تاب تھی۔ہاں یا ناں اُس نے دونوں جواب سننے کے لیے خود کو تیار کر لیا۔
    ” نہیں ۔” شیف اُس کی بے چینی کو نا سمجھ سکی اور مختصر جواب دے کر پھر سے کام میں غرق ہو گئی۔” کیا نہیں؟” جواب اُسے مطمئن نہ کر سکا اور وہ پھر پو چھ بیٹھی۔” نہیں شیف کاوش کا فر نہیں ہیں ، مسلمان ہیں۔” ضو فشاں نے بے اختیار کھل کر سانس لیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس چیز کا کوئی فا ئدہ نہیں تھا۔اُس کی نظریں ایک بار پھر سے کا وش کی طر ف اُٹھیں ،شاید یہ اُس کی نظروں کا ارتکاز تھا کہ کاوش نے بے اختیار نظریں اُٹھا کر ضو فشاں کی جانب دیکھا ،بالکل غیر ارادی طور پر۔۔اور اُسے اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ مسکرا دیا ،ضو فی کچھ شرمندگی یا شا ید کچھ اور جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پاتی تھی ،کو محسوس کرتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔” کا وش کچھ بھی ہو اس چیز سے اُسے کیا فرق پڑتا تھا ۔” ضو فی نے سوچابالکل اُسی لمحے کاوش کے پاس ایک ویٹر آ کر کھڑا ہوااور اُس کے کان میں کچھ کہنے لگا جسے سن کر وہ کچن کے دروازے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور دروازے کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ضوفشاں نے اُسے دیکھا لمبے گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے اور پھر وہ باہر نکل گیا۔ضوفشاں کو وہ کچھ پریشان لگا اور اس خیال کے ساتھ کہ باہر رش بڑھنے لگا ہو گا وہ بھی کچن سے باہر نکل آئی۔
    ()٭٭٭()
    وہ جو آدمی دیوار پر ٹنگی تصویر کے سا منے کھڑا تھا کاوش بس اُس کی پشت ہی دیکھ پایا تھا۔مگر کاوش کو جاننے کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ انسان تھا کون؟ وہ اُس کا چہرہ دیکھے بغیر بھی جان گیا ،صرف ایک انسان ہی وہاں آ کر یوں تصویر کے سامنے جم سکتا تھا۔” تو وہ لمحہ آ گیا جس کا میں نے بے صبری سے انتظار کیا تھا۔” کاوش رواں قدموں سے چلتا ہوا اُس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔قدموں کی آہٹ سن کر وہ آدمی مڑا۔” کاوش؟”پرا نی شنا سائی آنکھوں سے چھلکی۔” کاوش تم کیسے ہو بیٹے؟اور کتنے بڑے ہو گئے تھے۔” کاوش کے سامنے کھڑا وہ انسا ن جو اب قدرے بوڑھا ہو چکا تھا مگر اُس کی شاندار شخصیت جیسے مزید نکھر آ ئی تھی اور بالکل اُسی انداز میں جیسے وہ پہلے کاوش کو مخاطب کیا کر تا تھا اُس نے کہا۔” جی میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔” کاوش کے انداز نے اُسے باور کروا دیا کہ وہ اُ س کے ساتھ زیادہ بے تکلف ہونے کی کوشش نہ کرے اور اس کے ساتھ ہی اُسے پچھلا بہت کچھ یاد آ یا حتی کہ اپنے الفاظ بھی جو اُس نے خط میں لکھے تھے۔وہ ایک ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیا ۔
    وہ دونوں ایک قسم کی راہداری میں کھڑے تھے جہاں ستار ،بانسری ،ڈھول جیسے موسیقی کے آلات چترالی ٹوپیوں میں ملبوس پٹھان ہوٹل کی میزوں سے کچھ فاصلے پر دھیمے سروں میں بجانے میں مصروف تھے۔مینیجر کے لیے یہ بڑا حیران کن تھا۔یہ ایسا ہوٹل جہاں چترالی ثقافت دکھائی دیتی تھی اور وہ کھانے بکتے تھے جن کے بارے میں وہ کبھی بڑی تضحیک سے بات کر گیا تھا۔وہ تو ایک تجسس کے ساتھ یہاں آیا تھا کہ دیکھے یہاں ایسا کیا تھا جو لوگوں میں اتنا مقبول تھا اور وہ دیکھ رہا تھا یہاں سب برعکس تھا باقی سب ہوٹلوں سے مگر اُسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کے وہاں اُسے کیسا دھچکا لگنے والا تھا۔بہت سال پہلے ایک بچے کے ساتھ کھنچوائی ہوئی تصویر اُسے یہاں نظر آ گئی تھی اور وہ بے اختیار اپنی ٹیبل سے اُٹھ کر اُس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔اور اب وہ بچہ اُس کے سامنے کھڑا تھا مگر اب وہ بچہ نہیں رہا تھا وہ اچھا خاصا بڑا ہو گیا تھا ۔وہ جو بچپن میں شرمیلا جھجکا ہوا رہتا تھا اب اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اُس سے بات کر رہا تھا۔” آپ چترالی یا کالاش کے کھانوں میں سے تو کچھ کھانا پسند نہیں کریں گے ۔۔اس لیے کیا آرڈر کریں گے آپ؟” کاوش کو خود اپنے الفاظ پر حیرت ہوئی وہ کیسے اُس پر طنز کر رہا تھا۔مینیجر نے بے ساختہ اُس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر اپنے ارد گرد نظریں دوڑائیں۔” میں شرمندہ ہو کاوش مگر میری مجبوری تھی وہ سب کہنا۔” ” ہماری تضحیک کرنا مجبوری تھی آپ کی؟” کاوش جتنا حیران ہوتا کم تھا۔مینیجر سر جھکا گیا۔کاوش کو لگا مزید بات کرنا بیکار تھا ۔
    ”کچھ لوگ ساری زندگی اپنے آپ کو قصور وار نہیں گردانتے چاہے وہ کتنی ہی غلطیاں کیوں نا کر چکے ہو ں مگر وہ ہمیشہ یہی کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ایسا کرنا مجبوری تھی اُن کی۔۔اور ایسے لوگ بڑے خود غرض ہوتے ہیں۔” کاوش نے اُس سے رُخ موڑا اور واپس اندر چلا گیا مینیجر کچھ دیر مزید وہیں تصویر کو گھورتے ہوئے کھڑا رہا مگر پھر وہ وہاں سے چلا گیا ۔اُس کا چلے جانا ہی بنتا تھا کیونکہ وہ شرمسار ہوتے ہوئے بھی معافی مانگ لینے کی ہمت اپنے اندر نہیں رکھتا تھا اور مزید دکھ دینے کا موجب بن رہا تھا۔
    ()٭٭٭()
    وہ شامChitral Cuisine میں ہلکے سے جشن کے سے سماں کے ساتھ اُتری۔بڑا سا سٹرابری چیز کیک اپنے کا ٹے جانے کا منتظر تھا، اور اُس کے ارد گرد کھڑے وہ تما م باورچی اور ویٹرزجو خوشی سے تالیاں پیٹتے تھے۔
    Chitral Cuisine میں ہر ایک کی سالگرہ اسی طرح منا ئی جاتی تھی۔معمول کے آرڈرز کے علا وہ ہر اُس دن ایک خو بصورت کیک بیک ہوتا جب کسی کی سالگرہ ہوتی۔وہ سب خو شی سے چلا تے ہوئے برتھ ڈے گرل یا بوائے کو پکڑ لیتے اور اُس کے کانوں میں خو ف ناک آوازیں نکالتے ہوئے کیک تک لے آتے۔کیک کٹتا وہ اپنے منہ بھرتے اور پھر سے اپنے اپنے کا موں میں مگن ہو جاتے۔
    اُس شام ضو فشاں کی سالگرہ تھی، سب کے گھیرے میں وہ کچھ گھبرائی ہوئی سی کیک تک آ گئی حا لانکہ اپنے اندر کہیں وہ خو شی محسوس کر رہی تھی۔سالگرہ کے مخصوص گیت کے سا تھ اُس نے کیک کا ٹا اور پھر وہ سب اپنے اپنے کا موں میں بری طرح غرق ہو گئے۔ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے وہ وہاں کچن میں سے باہر نکلنے والی تھی ، کا وش ابھی تک وہیں مو جود تھا بظاہر ہاتھ پیچھے باندھے چیزوں کا جائزہ لیتے ہو ئے مگر اُ س کا سارا دھیان ضوفشاں کی طرف تھا ، ضو فی یہ بات جان گئی۔اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کا و ش نے اُس سے کچھ کہنا چاہا مگر وہ کچھ دیکھنا اور سننا نہیں چا ہتی تھی تبھی تیزی سے باہر نکل گئی۔
    پریشانی۔۔جس کا شکار وہ کل سے تھا کچھ مزید بڑھ گئی۔” آخر ایسا رویہ کیوں اختیار کیے ہوئے ہے یہ۔” گھبرا ہٹ سے اُس کا دم گھٹنے لگا۔”مزید کسی اُلجھن کا شکار ہونے سے بہتر ہے کہ صاف صاف بات کی جائے۔”بے دھیانی میں چکر کاٹتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا۔
    ()٭٭٭()

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • عکس —عمیرہ احمد (قسط نمبر ۱)

    وہ کھلے داخلی دروازے سے اندر جانے کے بجائے وہیں برآمدے میں ہی رک گئی تھی۔ داخلی دروازے کے دائیں طرف یہ ایک Cheval Standing Floor Mirror تھا جس نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی تھی۔ Oak Tree سے بنا ہوا لیکن آبنوسی رنگت کا وکٹورین اسٹائل کا ایک بہت پرانا Mirror Cheval جس کے ساتھ دونوں اطراف ہک تھے۔ اچھی پالش نہ ہونے کے باوجود بے حد اچھی حالت میں تھا۔ فرنیچر میں تھوڑی سی دلچسپی اور پہچان رکھنے والا بھی ایک نظر میں ہی لکڑی کی عمدگی اور اس پر بنے ہوئے ڈیزائن کی نفاست کو جانچ لیتا۔ وہ ایک اینٹک پیس تھا اور کم از کم شہر بانو کی نظر سے چوک نہیں سکتا تھا۔ وہ کچھ تجسس اور دلچسپی کے عالم میں فریم کے پاس آئی تھی۔ اپنی انگلیوں کی پوروں سے اس نے لکڑی پر بنے ہوئے ڈیزائن کے نشیب و فراز کو جیسے محسوس کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کی پوریں گرد آلود ہوئی تھیں۔ فریم کو یقیناً باقاعدگی سے صرف سرسری انداز میں جھاڑا جاتا تھا۔ اوول شکل کا آئینہ شفاف نہیں رہا تھا اس میں ہلکے ہلکے نشان نظر آ رہے تھے۔ یقیناً دوسری طرف موجود کروم اب اپنی مدت پوری کرنے کے بعد فنا پزیر تھا لیکن اپنے وجود پر زمانے کے تغیر و تبدل کے تمام نشانات رکھنے کے باوجود Mirror Cheval کسی بھی آرٹ لور کو سحر زدہ کر سکتا تھا جیسے اس وقت وہ ہو رہی تھی۔




    اس نے Mirror Cheval میں اپنے عکس کو دیکھا۔ غیر محسوس طور پر سر پر ٹکائے گلاسز کو ٹھیک کرتے ہوئے اس نے ماتھے پر آئے ہوئے اپنے کچھ بالوں کو دوبارہ سن گلاسز کی مدد سے قابو کرنے کی کوشش کی تھی اور مرر کے سامنے سے ذرا ہٹتے ہی اس نے آئینے میں اپنے عقب میں ابھی تک ڈرائیو وے میں کھڑے اپنے عملے کے افراد سے باتیں کرتے شیر دل کو دیکھا تھا۔ وہ رہائش گاہ کے سامنے موجود لان کے حوالے سے ہاتھ کے اشارے سے اپنے پی اے سے کچھ کہہ ہا تھا۔ شہر بانو کے بر عکس اس کے گلاسز کی آنکھوں پر تھے۔ سیاہ ٹراؤزر کے اوپر سفید شرٹ اور سیاہ جیکٹ پہنے وہ casualڈریس میں ہونے کے باوجود بے حد نارمل حلیئے میں لگ رہا تھا۔ چھ فٹ سے نکلتے قد کے ساتھ اپنے تیکھے نقوش اور کسرتی جسم کے ساتھ وہ اب بھی ہمیشہ کی طرح picture perfectلگ رہا تھا ڈرائیووے کی آرچ میں سامنے لان کے داخلی راستے میں کھڑے اس کے چہرے پر دھوپ پڑ رہی تھی۔ شہر بانو کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔ ایک عجیب سے استحقاق نے اسے سرشار کیا تھا۔ آئینے میں نظر آنے والا قابل رشک مرد اس کا تھا یا شاید وہ اس کی تھی۔ نہیں… وہ دونوں ایک دوسرے کے تھے۔ ایک دوسرے کے لیے تھے۔ وہ عکس جو کسی بھی عورت کی نظر کو بھٹکانے کا باعث بن سکتا تھا صرف اس کا تھا… شہر بانو کا شیر دل۔
    اسے یاد نہیں، وہ زندگی میں کتنی بار اسے دیکھ کر فریز ہوئی تھی۔ کتنی بار اس پر فدا ہوئی تھی۔ کتنی بار اسے اپنے آپ پر رشک آیا تھا کہ شیر دل کا نام اس کے نام کا حصہ تھا۔ آئینے میں نظر آنے والا مرد اس کے وجود کو اتنے سالوں سے اسی طرح اپنی انگلیوں کے گرد لپیٹے ہوئے تھا۔
    شیر دل بالآخر مرکزی لان اور وہاں موجود flag poleکے بارے میں ہدایات سے فارغ ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ کھڑی تین سالہ مثال نے اس کی انگلی دوبارہ پکڑ لی تھی۔ شیر دل نے ذرا سا جھک کر بڑی سہولت کے ساتھ مثال کو اٹھا لیا پھر اپنے عملے کے افراد کے ساتھ برآمدے کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے اس Mirror Cheval کے سامنے کھڑی شہر بانو کو دیکھا۔ شہر باتو تب آئینے میں نظر آنے والے اس عکس سے نظریں ہٹا چکی تھی۔ اس نے آئینے میں شیر دل کو اندرونی دروازے کی طرف آتے دیکھ لیا تھا۔ ذرا سا پلٹ کر وہ شیر دل کے انتظار میں رکی، ایک لمحے کے لیے دونوں کی نظریں ملیں۔ شیر دل اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔ ہ اس گھر میں پہلے آ چکا تھا اور وہ جانتا تھا داخلی دروازے کے قریب رکھا یہ آئینہ اس کی بیوی کے قدموں کی زنجیر بننے والا تھا۔ شہر بانو وہاں نہ رکتی تو وہ حیرت سے مر جاتا۔ وہ اپنی بیوی کی پسند نا پسند سے کسی psychicکی طرح واقف تھا۔ اس حد تک کہ وہ اس گھر میں موجود ان تمام چیزوں کی لسٹ بنا کر دے سکتا تھا جن کے سامنے شہر بانو آج رکنے والی تھی اور قیام لمبا ہوتا یا چھوٹا وہ یہ بھی بتا سکتا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ یہ بھی بتا سکتا تھا کہ اس گھر کی کون کون سی چیز اسے پسند نہیں آنے والی تھی اور وہ ان تمام چیزوں کی تبدیلی کے انتظاما ت کر کے آیا تھا۔
    ”Isn’t it beautiful” اس نے شیر دل کے قریب آتے ہی اس کے بازو پر غیر محسوس انداز میں ہاتھ رکھتے ہوئے اس تک اپنی ستائش پہنچائی تھی۔
    ”It is” شیر دل نے تائید کی۔ اس نے بھی اپنے سن گلاسز اب سر پر ٹکا لیے۔ وہ دونوں اب اس اسٹینڈنگ مرر کے بالکل سامنے ایک دوسرے کے برابر کھڑے تھے۔ مثال کو گود میں لیے وہ ایک خوش و خرم خاندان کا عکس تھا۔ اوول مرر میں ان کا عکس گل میں پہنے جانے والے کسی لاکٹ میں لگی تصویر کی طرح دکھ رہا تھا۔ مثال نے شیر دل کی گود سے اترنے کے لیے جدوجہد کی۔ شیر دل نے اسے جھک کر نیچے اتار دیا۔ وہ ہاتھ میں پکڑے ٹیڈی بیئر کے ساتھ داخلی دروازے سے اندر بھاگ گئی تھی۔
    ”بہت پرانا لگتا ہے؟” شہر بانو اب اس مرر پر تبصرہ کر رہی تھی۔
    150”سال پراناتو یہ گھر ہے اور یہاں موجود بہت سا فرنیچر انگریزوں کے زمانے کا ہی ہے۔ استعمال سے زیادہ ڈیکوریشن اور maintenance budget خراب کرنے کے لیے سنبھال کر رکھا ہوا ہے تب سے شاید…” شیر دل اب اندر چلا گیا تھا۔ شہر بانو بھی اندر داخل ہو گئی۔ داخلی دروازے کو ان کے لیے کھول کر پکڑے ہوئے ملازم نے جیسے سکون کی سانس لی تھی۔ وہ دروازہ پکڑے پندرہ منٹ میں وہاں اکڑ گیا تھا۔
    وہ ایک راہداری نما کمان کی شکل کا برآمدہ تھا جس میں وہ داخل ہوئے تھے۔ وہ راہداری دونوں اطراف سے آگے گھر کے ان کمروں تک جاتی تھی جن کے دروازے فی الحال ان کی نظروں سے اوجھل تھے۔ پوری راہداری میں قد آدم کھڑکیاں تھیں جن کے اوپر پڑی ہوئی آرائشی چقیں اس وقت اٹھی ہوئی تھیں۔ دونوں اطراف میں مختلف جگہوں پر کرسیاں، تپائیاں اور دیوان پڑے ہوئے تھے۔ وہ راہداری اس آپٹیکل انگلش آرکیٹکچر کی ایک شاندار مثال تھی جو انگریزوں نے برصغیر میں یہاں کے موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا تھا۔ اس راہداری کی قد آدم کھڑکیوں سے برصغیر کی مون سون اور یورپ کے سن باتھ دونوں سے لطف اندوز ہوا جا سکتا تھا۔
    دیواروں پر اب اکثر جگہوں پر سیلن نظر آ رہی تھی۔ باہر کھڑکیوں اور دیواروں پر چڑھی بیلیں اس کی بنیادی وجہ تھی شاید۔
    شہر بانو نے وہاں کھڑے کھڑے ایک ہی نظر میں اس پوری راہداری کا جائزہ لے لیا تھا۔ شیر دل اب داخلی دروازے کے بالکل سامنے اندر ہال میں کھلنے والے دروازے کی طرف جا رہا تھا جس کے دونوں پٹ پہلے ہی کھلے ہوئے تھے اور اس میں دور مثال مٹر گشت کرتی نظر آ رہی تھی۔ اس ہال نما کمرے کے آدھے حصے میں ڈائننگ ایریا تھا اور باقی کا آدھا حصہ سٹنگ ایریا کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔
    شیر دل نے ٹھیک کہا تھا وہاں اندر واقعی بہت سے ایسے فرنیچر آئٹمز تھے جو استعمال کرنے سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔ شہر بانو اب مکمل طور پر aweمیں تھی۔ وہ جیسے کسی اینٹیک گیلری میں آ گئی تھی۔
    ”کیا فرنیچر ہے!” وہ داد دئیے بغیر نہیں رہ سکی۔ وہ اب ایک ایک چیز کے پاس جا کر جیسے اسے چھو کر اسے اپنا خراج پیش کر رہی تھی۔




  • نجات دہندہ — ردا کنول (دوسرا حصّہ)

    نجات دہندہ — ردا کنول (دوسرا حصّہ)

    کیا کیا تھا جو ما ضی نہیں ہو گیا تھا۔گھر،کاروبار،رہن سہن،تہوار،حسین وادیاں،لباس،اپنے لوگ اور بہت سارا پیار جو اپنی وادی میں تھا اور جو یہاں نہیں تھا۔اس جگہ پر جس کو وہ اور اُن جیسے بے شمار چترالی اور کالاشا لوگ نا پسند کرتے تھے۔وہ یہاں کیوں تھے؟وہ روٹھ کے آئے تھے اپنی وادی سے۔۔؟ اُن کا دل چاہا دو ہتھڑ اپنے سر پر ماریں اور دھاڑیں مار مار کر روئیں۔وادی کے لوگوں کو وادی سے نکال دیا گیا۔اُن کا دل دو ٹکڑے ہوا تھا۔آنسو آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔ایسا ظلم۔۔۔
    اپنے نئے گھر ،جو کہ اُنہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی وہ ایسا کریں گے،میں قدم رکھا تھا۔اُن کے قدم لڑکھڑائے تھے اور اس سے پہلے کہ وہ گر جاتے کاوش نے اُن کا بوڑھا اور نخیف ہاتھ تھا ما ۔برآمدہ جو کھلا نہیں تھا مگر اُس کے دائیں کونے میں ایک اخروٹ کا درخت تھا اور لکڑی سے بنے چو ڑے ستون جو تاریکی میں ڈوبے تھے اور بخاری ۔۔ہاں بخاری جو ایک نیم تاریک کمرے میں تھا اور جس کی چمنی سیاہ رنگ تھی۔باباخان نے اپنی آنکھیں مسلیں۔وہ کھلی آنکھوں سے اپنے پچھلے گھر کو اپنے نئے گھر میں دیکھ رہے تھے اور شاید اب وہ ساری زندگی اُس نظر سے ہی اپنے نئے گھر کو دیکھتے۔جو قدرے مختلف تھا اُن کے اُس گھر سے جو رنمبور میں ایک اُونچے پہاڑ پر تھا اور جو پام کی لکڑی سے بنا تھا باوجود اس کہ پام کی لکڑی مہنگی ہوتی ہے لیکن اُن کے لیے جو وادی کے نہیں تھے ،اور جو وادی کے تھے وہ وادی سے نکال دئیے گئے تھے۔آہ۔۔ بڑا تکلیف دہ تھا یہ سوچنا بھی ۔نم آنکھیں کاوش نے اپنی انگلیوں سے صاف کی تھیں۔اُس کے اپنے ہاتھ کا نپتے تھے مگر وہ حو صلے میں تھا اپنے پچھلے بہت سے دنوں کی نسبت۔۔جب اُس نے سنا تھا کہ اُس کا گھر گر رہا ہے اور تب بھی جب ھو سئی ماں اُنہیں چھو ڑ کر چلی گئی تھیں۔
    زرمستہ اندر سے پورا گھر دیکھ آ ئی تھی تبھی وہ خامو شی سے آ کر خامو ش با با خان اور کاوش کے پاس بیٹھ گئی تھی۔” ھوسئی ماں ہوتی تو سب سے پہلے بخاری دیکھتی۔” بلا آخر زرمستہ بولی تھی۔بابا خان نے ایک گہری سا نس لی تھی۔” اپنی وادی میں دخن(دفن) ہونا تھا اُس کو۔”
    ” یاں کیوں آ گئے ہم بابا خان ؟ کالاش میں نہیں رہنا تھا تو چترار( چترال) میں ای رہ جا تا۔” زرمستہ ایک بار پھر شکوہ کر رہی تھی وہ بابا خان کے گلگت آنے کے فیصلے پر خوش نہیں تھی۔اور سچ تو یہ ہے خود باباخان اور کا وش بھی نہیں اور نا ہی گُل مکئی، پشمینہ اور دیوہ جو پیچھے وہیں بریر اور بمبوریت میں رہ گئی تھیں اپنے نئے خاندان کے ساتھ۔
    ” کاوش یاں کارو بار کرے گا واں چترار ( چترال )میں اب کو ئی سیاح نہیں آ ئے گا جب تک کہ وہ منحوس ڈیم نا جا ئے،اور لوگوںکے اس سارے مسئلے سے اپنے کام بند او جائیں گے ،فصلیں تباہ، لکڑ ی کا کاروبار تباہ کچھ نہیں بچے گا،اس لیے ام یاں آیا اے۔جو پیسہ ملا اے اُس سے یہ دُر( گھر) آ یا اے اور ام تماری شادی بی کر ے گا پھر کاوش یاں کو ئی کام کرے گا۔” بہت بار کی سنی بابا خان کی پلاننگ اُن دونوں نے ایک بار پھر سُنی تھی کاوش خاموش رہا تھا لیکن پھر اُس نے باباخان سے پوچھا۔” اور کارو بار باباخان؟ جو اچار اور مربعے ام بنا کے دیتا اے اُس کا کیا؟” بہت دنوں سے جو چیز وہ باباخان کو پریشان کر رہی تھی وہ یہی تھی کہ کہیں کاوش کو مینیجر کے پیغام کا نہ پتہ چل جائے۔وہ ابھی تک اُسے کاوش سے چھپا ئے ہوئے تھے۔وہ جانتے تھے کاوش جو پہلے ہی بپھراپڑا تھا اور دُکھی تھا مزید کو ئی دُکھ اُسے نا پہنچے اسی لیے اُنہوں نے زرمستہ کو بھی منع کر دیا تھا کہ وہ کاوش کو کچھ نہ بتا ئے ،مگر اب وہ خود اپنے منہ سے پو چھ رہا تھا۔
    ” کاوش تم یاں گلگت میں ای ہو ٹل کھول لو ۔ام وہ والا کارو بار نہیں کرے گا اب۔” باباخان نے ڈھکا چھپا جواب دیا ۔” لیکن کیوں باباخان۔۔” اُنہوں نے ہاتھ اُٹھا کر اُسے مزید بولنے سے رُوکا۔” ام آرام کرے گا اب ۔” اور اُٹھ کر اندر کمرے میں چلے گئے۔اُنہیں جاتا دیکھ کر کاوش نے زرمستہ کی جانب دیکھا ،وہ بھی منہ پھیر کر اندر چلی گئی ،کاوش کو پھر کسی انہونی کا احساس ہوا مگر زرمستہ اور باباخان سے پوچھنا بیکار تھا وہ اُسے کچھ نہ بتاتے اس لیے وہ بھی اُٹھ کر باہر نکل گیا اور ہو ٹل کے لیے کسی منا سب جگہ کی تلاش میں لگ گیا۔
    ()٭٭٭()

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    اُس دن کے بعد شریف کے گھرانے میں کچھ بہت روشن اور خوش گوار دن طلوع ہو ئے ،اور پھر اُسی ایک روشن دن میں ہاجرہ کو یہ خیال چرایا کہ وہ عالم کو چھو ڑ کر جو گھر کا بڑا تھا عادل کی شادی کر دیں۔صاف ظاہر تھا خیال خود چُرا یا نہیں گیا تھا بلکہ مجبور کیا گیا تھا۔پیار ، محبت ، خیال اور لگاوٹ کی جھو ٹی پٹی آنکھوں پر چڑھا کر منا یا گیا تھا۔چناچہ یہ اُسی سلسلے کی کڑی تھی جو عادل نے شروع کی اور جس کا ایک سرا اُس کی کلاس فیلو سے جا ملتا تھا۔گھر۔۔بلکہ گھر نہیں کو ٹھی جسے عالم اور علیم جو جاہل تھے عادل کی نظر میں، کو ٹھی کہتے تھے،وہ سجی تھی روشنیوں کے سیلاب سے۔ چوڑا ماتھا جگ مگ کرتی لا ئیٹوں سے دمک رہا تھا اور امارت ایسی کے چھپائے نا چھپے۔علیم نے ٹھیک کہا تھا وہ گھر باجی جی کے گھر سے کہیں بڑا تھا اور نیا بھی۔
    آج عادل کی مہندی تھی اور فنکشن کا ا ہتمام وسیع و عریض لان میں کیا گیا تھا۔پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا اور پیسہ کو نسا تھا۔۔سب جانتے تھے۔دُور پرے کے رشتہ دار بھی مدعو تھے مگر عادل کو رشتے داروں سے مطلب نہیں تھا اُسے مطلب تھا تو بس اس چیز سے کے ہال اچھے سے اچھا بُک کروایا جائے،اُس کے اپنے اور خاص کر کے دُلہن کے کپڑے اعلا سے اعلا معیار کے ہوں،کھا نا وہ جو بے شمار ڈشز پر مشتمل ہو۔
    ” امی سارہ کے گھر والوں سے مل چکی ہیں نا آپ ،دیکھا ہے نا آپ نے کتنا امیر خاندان ہے وہ۔ہماری طرف سے بھی کو ئی کمی نہیںہو نی چاہیے ورنہ پھر بعد میں آپ ہی دب دب کر رہیے گا جب وہ اپنی امیری جھاڑے گی آپ کے سامنے۔” یہ ہونے والی دُلہن کی کی طرف سے پہلا وار تھا جو عادل نے خود اپنی زبان سے کیا تھا ۔” ہاں ہاں تم فکر ہی نہ کرو دھوم دھام سے شادی کریں گے ہم تمہاری ۔” جواب ہاجرہ کی طرف سے نہیں بلکہ عالم کی طرف سے آیا تھا۔
    عادل جتنی دھو م دھام سے شادی چاہتا تھا اُس سے کہیں زیادہ اُس کی شادی میں کیا گیا تھا۔یہ اُس کے باقی دونوں بھائیوں کی محبت تھی یابے وقو فی۔۔فیصلہ کرنا مشکل تھا۔
    سارہ امیر کبیر ماں باپ کی بیٹی دُلہن بن کر شریفے مکھن ملا ئی والے کے گھر آ گئی۔اور اُنہی پیسوں سے جو اُنہیں compensation ملی تھی عادل اُسے لیے بیرون ملک ہنی منانے چلا گیا واپس آنے پر اُسے علم ہوا تھا عالم اور علیم تو دراصل کاروبار کرنے کا سوچ رہے ہیں اور عادل ایک بار پھر سے اُن کی راہ میں آ گیا۔ درا صل اُن کی راہ کا روڑا بن گیا۔لیکن اس بار وہ خود بھی شاید اُس آرام کے اس قدر عادی ہو گئے تھے کہ اُنہیں مشکل لگنے لگا ،وہ باہر نکلیں اور خود کچھ کما کر لا ئیں یہ زندگی کچھ زیادہ اچھی تھی لیٹے لیٹے کھانے کو ملتا تھا آرام اور عیاشی الگ،چنا نچہ وہ تھوڑی سی شش و پنج کے بعد راضی ہو گئے گھر بیٹھنے کو۔
    ہاجرہ بھی خوش تھی دن بھر ٹی وی دیکھنا بڑے سے صاف ستھرے کشادہ کچن میں مزے سے من پسند کھانے بنا نا اور بہو۔۔وہ تو بیٹے کی طرح اُن کی لاج دلاری تھی اُس کی لاکھ ناک بو چڑ ھانے کے باوجود بھی وہ اُس کے آگے پیچھے پھرتی تھی۔اور رہ گئی کوکو۔۔تو وہ بھی خوش تھی اتنے وسیع لان میں جو ہرا بھرا تھا اور پھولوں سے مہکتا تھا وہ ننگے پاؤں اوس گری گیلی گھاس پر چلتی اور مزے سے پینگ جھولتی۔
    بھونچال تو تب آیا جب عادل کے بنک میں موجود پیسے ختم ہونے لگے۔اور اُس نے گھر میں اپنے حصے کی بات چھیڑ دی۔” امی اب مجھے لگتا ہے کہ پیسوں کو آپس میں تقسیم کر لینا چاہیے۔” ٹانگ پہ ٹانگ جمائے عادل شان سے اپنے نکمے بھا ئیوں کے سامنے بیٹھا تھا۔” ہیں۔۔پیسے بانٹ لیں۔” ہاجرہ تو ہاجرہ عالم ،علیم بھی چونک گئے تھے۔اُنہیں لگا کچھ غلط ہونے والا ہے وہ نکمے کہاں جانتے تھے غلط ہو چکا تھا۔” بنک میں کتنے پیسے رہ گئے ہیں۔” عالم کے دماغ میں کچھ کھٹکا تھا۔” چند لاکھ ،اور بٹوارہ کرنے کے بعد سب کے حصے میں دو دو لاکھ آئے گا۔میں نے حساب کر لیا ہے۔” بڑے آرام سے مطمین انداز میں عادل نے کہا تھا۔لیکن باقی سب پر برف گری تھی۔” اور تمہارے اپنے حصے میں؟” عالم بھی اب اُس کے مد مقابل تھا۔اُس کے عین سامنے صوفے پر آگے کو ہو کر بیٹھا تھا اور کہنیا ں اپنے گھٹنے پر جما رکھی تھیں۔” ظاہر ہے میرے حصے میں بھی اتنے ہی،ابھی گھر کا حساب کتاب با قی ہے۔” ” اور وہ جو تمہاری شادی پر خرچ اُٹھا اُس کا کیا؟” عالم اب صاف صاف بات کرنا چاہتا تھا۔” وہ میں نے اپنے پیسے لگا ئے تھے جو اپنی جاب کے دوران جمع کرتا رہا تھا اور اگر کچھ پیسے لگ بھی گئے compensation کے پیسوں میں سے تو کو نسی قیامت آ گئی۔وہ پیسے ابا کے پیسے تھے جو وہ میری شادی پر خرچ کرتے۔” ڈھٹا ئی کی اتنہا تھی یا جھو ٹ کی ،فرق کرنا مشکل تھا۔
    تم جھوٹے انسان ہمارے سارے پیسے ہڑپ کر گئے اورہمیں مزید کاروبار کرنے سے بھی روک دیا تا کہ تم مزید عیا شیاں کر سکو۔تجھے تو میں چھو ڑو گا نہیں ۔کمینے۔” عالم بپھرا تھا اور غصے سے پھولے ہوئے سانس کے ساتھ وہ تیزی سے اُٹھ کر اُس کا گریبان پکڑ لیا۔ہاجرہ چیختی ہوئی اُٹھی تھی۔اور اُنہیں چھڑوانے لگی تھی۔علیم نے بھی یہی کیا تھا مگر وہ ایک دوسرے کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔” میں نے روکا کاروبار کرنے سے اور تم چھُونے کاکے رُک گئے۔اصل میں تم دونوں خود کچھ کرنا نہیں چاہتے تھے۔بیٹھ کے کھانے کی عادت جو پڑ گئی تھی۔” ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ کھڑے تھے۔اس بار علیم کو بھی غصہ آیا اور وہ جو اُنہیں آپس میں مارنے سے چھڑوا رہا تھا اُس نے اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔کو کو خوف کے مارے آنسو بہاتی اپنے چہیتے بھائیوں کو لڑتے دیکھتی رہی۔” بعض چیزیں اپنے آغاز سے ہی بڑی جان لیوا ہوتی ہیں اور پھر جیسے جیسے وہ جڑ پکڑتی ہیں وہ مزید تکلیف دہ ہوتی چلی جاتی ہیں اُن کی عادت ہوتے ہوئے بھی ہر بار اُن کی تکلیف نئی ہوتی ہے۔” یہ آغاز تھا جو کوکو دیکھ رہی تھی۔
    ”ان پیسوں سے تو تجھے اب ایک پیسہ نہیں ملے گا۔”عالم نے اُسے دھمکی دی تھی۔جوابا ً عادل استہزا یہ ہنسا تھا۔” ہنہ ایک پیسہ۔۔ میں بھی دیکھتا ہوں اب تم بنک سے اپنے باقی پیسے کیسے نکلواتے ہو۔” عالم ،علیم ایک نئے غصے کے ساتھ اُس پر جھپٹے تھے اور ہاجرہ کی چیخیں زور پکڑتی گئی تھیں۔
    ()٭٭٭()
    اُس دن شدید قسم کے جھگڑے کے بعد عادل گھر چھو ڑ کر چلا گیا تھا اور رقم جو بنک میں موجود تھی عالم ،علیم اُس سے حاصل کر کے رہے تھے۔ اُس کے لیے وہ اُسے ہر طرح سے پریشر ائز کرتے رہے تھے اور یہاں تک کہ ہاجرہ نے اُس کے سامنے ہاتھ جو ڑ دئیے تھے اور اُسے مکان سے دست بردار ہونے کو کہا تھا مگر عادل بھی اپنے نا م کا ایک ہی تھا اُس نے اُس رقم میں سے بڑا حصہ اپنے پاس رکھ کر باقی اُنہیں بھجوا دیا اور اپنی بیوی کے ساتھ بیرون ملک چلا گیا۔عالم، علیم جتنا سر پٹخ سکتے تھے جتنا شور مچا سکتے تھے اُنہوں نے مچا یا مگریہ سب اُن کے کسی کام نا آ یا تھا اُلٹا جو رقم ہاتھ لگی تھی اُس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ۔کچھ ہی دنوں میں وہ کنگال ہو گئے۔ایک گھر تھا اور جس کو بیچنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا اور اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔کیونکہ گھر جتنا بڑا تھا اور اُس کے اخراجات بھی اُتنے ہی زیادہ تھے چنا نچہ اُنہوں نے گھر بکنے لگا دیا ۔
    اورگھر بکنے کے بعد جو رقم حاصل ہوئی اُس سے ایک چھو ٹا موٹا گھر خریدا گیا اور ایک دوکان ۔دودھ دہی کی دکان۔۔واحد چیز جو وہ کرنا جانتے تھے اور ان سب کے بعد اُن کے پاس جو آخری چند پیسے اُن کے ہاتھوں میں بچے اُس سے اُنہوں نے ایک بھینس خرید لی۔
    مگراُن کی وہ دکان اور بھینس زیادہ دیر نہ چل سکیں جو اپنے محدود علم کے ساتھ خرید کر لائے تھے۔بھینس بیمار تھی اور اُنہیں اس بات کا علم اپنے گھر لانے کے بعد ہوا۔علیم نے اُس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیراتو وہ مغموم آنکھوں سے ساتھ اُسے تکنے لگی۔علیم کا دل پسیج گیا،اُسے وہ سب بھینسیں یاد آ ئیں جو اُن کی کبھی ہوا کرتی تھیں۔اور یہ وہ دن تھا جب اُن سب کو اپنا وہ گھر اور پچھلا بہت سارا کچھ جو اُنکے پاس تھا ٹوٹ کے یاد آیا اپنے گھر چھوڑ دینے کے بعدپہلی بار۔۔۔
    اور یوں اُن کے پاس جو باقی پیسے بچے تھے وہ بھینس کے علاج معالجے میں خرچ ہوگئے۔لیکن اس سب کا کو ئی فا ئدہ نہ ہو ا بھینس چند دنوں میں چل بسی۔اب ایک دکان تھی اور وہ خود۔۔۔بے بس خالی ہاتھ۔خالی جیب۔
    بازار سے دودھ خرید کر دکان کی شر وعات کی گئی۔پتلا پانی سا دودھ جس کی سفیدی چغلی کھاتی تھی ،وہ اُنہیں منا فع تو کیا دیتا اُلٹا مزید نقصان ہو گیا۔چند دن دود ھ دہی بیچنے کے بعد مگر در حقیقت خالی دکان میں مکھیاں مارنے کے بعد اُنہوں نے دکان کا شٹر گرا دیا۔اور دکان بیچ دی۔دودھ دہی بیچنے کے سوا وہ اور کچھ نہیں جانتے تھے بلکہ شاید وہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔وہ بھینسوں کی دیکھ بھال کرنا جا نتے تھے،بھینسوں کے آگے چارہ ڈالنا دودھ دھونا اور اُن کی پیٹھ تھپک کہ اُنہی سے باتیں کرنا۔وہ جانتے تھے برفی بنا نا،لسی کے پیڑے بنا نا اور کنالیوں سے دہی نکال نکال کر شاپروں میں ڈالنا،یہ وہ کام تھے جو وہ کر سکتے تھے۔مگر اب وہ بھینسیں تھیں نا دودھ دہی۔۔۔سو وہ بیکار تھے۔وہ محنتی نہیں تھے وہ شوقین تھے اُس کام کے جو اُنہوں نے بچپن سے اب تک اپنے گھر میں ہوتا دیکھا تھا۔اس بُرے وقت میں اُن کے پاس اگر کچھ تھا تو وہ ایک مو ٹر سائیکل تھی جس پر کبھی وہ دودھ سے بھرے مٹکے رکھ کر بیچا کرتے تھے۔
    جب اُن کی جیبوں سے اور ہاجرہ کے دوپٹے کے پلو سے ایک ایک روپیہ ختم ہو گیا تو وہ باہر نکلے ۔۔اس بار کام کرنے کی غرض سے۔ایک جنرل سٹور پر علیم کو سیلز مین رکھ لیا گیا مگر عالم ابھی بھی فی الحال کو ئی کام ڈھونڈنے میں ناکام رہا تھا۔
    چند دنوں کی وہ امارت اب خواب و خیال سی لگتی تھی ۔وہ دولت جو کبھی آ ئی تھی مگر غلط استعمال کے باعث جیسے کہیں غائب ہو گئی تھی۔کوکو سوچتی،اچھا وقت جو زندگی میں ایک بار ہر انسان کی زندگی میں آتا ہے کیا ہمارا وہ اچھا وقت ہو کر گزر گیااب کبھی اچھے دن لوٹ کر نہیں آئیںگے۔۔۔؟ بے خیالی میں وہ اپنے لمبے بالوں کی ایک لٹ کو اپنی انگلی کے گرد لپیٹے جاتی۔” ابا کتنے اچھے وقت میں چلے گئے،اپنی اولاد سے خوش،مطمئن،اپنے گھر میں ۔” وہ گم صم رہنے لگی تھی اور وہ کیا سبھی عالم، علیم اور ہاجرہ۔آپس میں کو ئی بات نہ کرتے ۔مسکراہٹیں صرف خوش حالی کے دنوں میں ہی کیوں ساتھ دیا کرتی ہیں۔۔؟
    ہاجرہ کی آواز ضوفی کو سوچوں کے گرداب سے باہر کھینچ لائی تھی۔” عالم تیرے کام کا کچھ کب ہو گا۔اتنے خرچے ہیں کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کروں۔” اپنے ماتھے پر دوپٹہ با ندھے ہاجرہ پریشانی سے استفسار کر رہی تھی۔عالم خاموش سا صوفے پر لیٹا تھا۔”اماں تمہارے سامنے روز ہی تو نکلتا ہوں ڈھونڈنے اب کیا کروں ،نہیں ملتا کو ئی کام۔” ” کام نہیں ملتا یا تیری مرضی کا نہیں ملتا؟” ہاجرہ بھری بیٹھی تھی۔اندر ہی اندر غم اُسے دیمک کی طرح چاٹ رہے تھے۔وہ عادل سے بھی شدید مایوس ہو ئی تھی،لا ئق فائق بیٹا کیسے دھوکا دے کہ نکل گیا مگر پھر سوچتی ضرور اُس کی چڑیل بیوی کا کمال تھا ورنہ میرا عادل تو ایسا نہیں تھا۔ہزار تاویلیں خود کو دیتی مگر دل کے کسی کونے میں اصل بات بھی چھپی بیٹھی تھی۔بیویاں تو بھڑکا تی ہی ہیں بیٹے اتنے بے دید ہوتے ہیں کہ فوراً ماں بہن بھا ئیوں کو چھوڑا اور نکل گئے اپنی دنیا بسانے۔
    وہ ایک ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئی۔اب ساری اُمیدیں عالم، علیم سے تھیں،اپنے لیے نہیں ضوفی کے لیے۔کچھ ہاتھ سیدھا ہو تو ضو فی کی شادی کر دوں گی فوراً،وہ خامو ش گم صم بیٹھی ضوفی پر ایک نظر ڈالتی اور سوچ کے تانے بانے بنتی۔
    ”اماں کام کرنا چا ہتا ہوں میں خود بھی ،مجھے بھی فکر ہے گھر کی،تم ہر وقت مجھے طعنے دیتی رہتی ہو۔” ضوفی نے دونوں کو دیکھا اب ہا جرہ بھی آگے سے اُسے کچھ کہہ رہی تھی،یہ روز کا معمول ہو گیا تھا چھوٹی مو ٹی کتنی ہی لڑ ائیاں اب گھر میں دیکھنے کو ملتیں وہ سب ا یک دوسرے سے روٹھے روٹھے رہنے لگے تھے۔عالم زور سے دروازہ مارتا باہر نکل گیا ۔
    ()٭٭٭()
    عالم تو پہلے ہی فارغ بیٹھا تھا علیم بھی بیٹھ گیا۔دکان دار سے ایک شدید قسم کی لڑا ئی کے بعد وہ ٹوٹے دانت اور خون بہتے نا ک کے ساتھ گھر میں داخل ہو ا تھا۔ہاجرہ نے اُسے اس حالت میں دیکھ کر اپنا سینہ پیٹ لیا تھا۔” دکاندار نے مجھ پر چوری کا الزام لگا یا تھا میں نے انکار کیا تو لگا ہاتھا پائی کرنے۔” پوچھنے پر علیم نے شدید غصے کے ساتھ کہا تھا۔” کمینہ۔۔۔۔” اب وہ مغلظات بکنے میں مصروف تھا۔اور ہاجرہ کو نئی فکر لاحق ہو گئی۔”اب کیا ہو گا؟” اُس کے ذہن میں کچن گھوم گیا جو خالی تھا سوائے چند دنوں کے راشن کے اُس میں کچھ نہ تھا۔اور وہ بل بھی تو۔۔وہ چارپائی پر ڈھے گئی۔” ہونا کیا ہے کو ئی نیا کام ڈھونڈوںگا اب۔” علیم اپنے زخم سہلاتا اُٹھ کر اندر چلا گیا۔ضوفی جو پانی کا گلاس لیے اُس کے سر پر کھڑی تھی ،اُس کے سائیڈ سے نکل کر وہ چلا گیا۔ضوفی کو یاد نہیں پڑتا تھا آخری بار اُس کے بھا ئیوں نے کب اُس سے ہنس کر بات کر کے گئے تھے۔شاید بہت عرصہ پہلے۔۔۔مایوس چہرہ لیے وہ بھی گلاس تھامے اندر بڑھ گئی ۔ہاجر ہ ابھی تک اپنا سر تھامے بیٹھی تھی۔
    ()٭٭٭()
    علیم کی نوکری ہٹی تو عالم ایک ورکشاپ پرکام کرنے جانے لگا مگر جس طرح اچانک اُسے کام ملا تھا اچانک ہی ختم بھی ہو گیا۔گھر میں ایک مرد کمانے نکلتا تو دوسرا فارغ ہو جاتالیکن پھر ایک ایسا وقت آیا جب دونوں اپنے اپنے کام سے نکال دئیے گئے۔اور گھر میں فاقے ہونے لگے تبھی وہ واحد مو ٹر سائیکل اُن کے پاس موجود تھی وہ بھی بیچ دی گئی اور چند دن مزید گزارے گئے مگر کب تک ۔۔ایک بار پھر سے بھوک نے اُن کے گھر پر پنجے گاڑ دیے اور یہی وہ وقت تھا جب عالم کی دوستی کاشف سے ہو گئی۔
    کاشف پہلے بھی بہت بار اُس کے حالات دیکھتے ہوئے اُسے اپنے ساتھ پارٹنر شپ کرنے کا کہہ چکا تھا مگر تب حالات اتنے خراب نہیں تھے کہ وہ اُس کا ساتھ دینے لگتا مگر اب جب وہ مکمل ما یوس تھا تو اس بارے میں سوچنے لگا تھا۔
    کاشف نے اُس کی سوچ پڑھ لی تھی تبھی وہ اُسے ” پستول ” کا استعمال سمجھانے لگا تھا۔” اب بس پریشانی کے دن ختم۔۔میرے بھا ئی خوش ہو جا۔۔” پان کی پیک تھو کتے ہوئے کاشف نے اُس سے کہا تھا اور ایک سگریٹ کی ڈبی نکال کر ایک سگریٹ اُس کے ہاتھوں میں بھی زبردستی ٹھو نس دیا ۔
    ()٭٭٭()
    کسی ہجرت کر جانے والے پرندے کی طرح وہ تینوں وہاں گلگت میں رہنے لگے۔مگرایک دن کاوش نے گلگت میں ہوٹل کھولنے سے انکار کر دیاجب اُس کے ہاتھ وہ پیغام لگ گیا۔مینیجر کا پیغام۔۔جو اُس کے بچپن میں اور پھر جوانی تک اُن کے گھر آتا رہا اور کا وش کے ہاتھ کے بنے لذیذ کھانے بے شمار تعریفوں کے ساتھ کھا تا رہا مگر اب وہ اس پیغام میں کیا پیغام دینا چاہ رہا تھا۔کاوش کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔اُس نے بابا خان کو پہلی بار انکار کر دیا۔گلگت میں ہو ٹل کھولنے کی بجائے وہ شہر میں ہو ٹل کھولنے کے پیچھے پڑ گیا۔جہاں وہ چترالی کھا نوں کی دھو م مچا دیتا۔مگر بابا خان نہیں مانے وہ سخت برا فروختہ نظر آتے تھے۔
    ” تم واں نہیں جا ئے گا ۔بس۔۔” ہاتھ اُٹھا کر اُنہوں نے منع کر دیا ۔” بابا خان ام وہاں جانا چاہتا ہے۔” کاوش نے ضدی لہجے میں کہا۔” کاوش جب تم یہاں پہ ہو ٹل کا جگہ دیکھ آ یا ہے کچھ دنوں میں کام شروع کرنے والا اے پھر تم کیوں ایسی ضد لگا تا ہے بچے۔۔؟” باباخان بے بس نظر آنے لگے۔
    ” بابا خان میں دکھانا چاہتا ہوں اُنہیں کہ ۔۔امارے کھانے کسی سے کم نہیں ہیں ۔ام اُن کو۔۔” باباخان نے اُسے مزید بولنے سے رُوک دیا۔” تم نہیں سمجھتا کاوش یہ اتنا آسان نہیں ہوتا ہے جتنا تم سمجھ رہا ہے ۔تم۔۔تم بس نہیں جائے گا۔” باباخان نے ایک آخری بار اُسے تنبیہہ کی اور چوکھٹ میں کھڑی زرمستہ کے پاس سے گزر گئے۔ زرمستہ جو یہاں آ کر اب اپنا کا لا شالباس نہیں پہنتی تھی مگر اپنے سر پر وہ پا کول(ٹوپی) اب بھی پہنے رکھتی تھی گویا اپنے لباس کے ساتھ رشتہ جو ڑے ہوئے تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • نجات دہندہ — ردا کنول (پہلا حصّہ)

    نجات دہندہ — ردا کنول (پہلا حصّہ)

    بڑے سے کشادہ اور روشن کچن میں اُسے ایک ٹانگ پر کھڑے چار گھنٹے بیت گئے تھے۔کچن اس وقت تمام باورچیوں اور اُن کے معا ونین سے خالی تھا اور باقی معمول کے دنوں جیسی ہڑ بونگ اور افراتفری نظر نہیں آتی تھی حتی کہ فرائنگ پینز میں تیزی سے چلتے چمچ، کٹنگ بورڈ پر روانی سے چلتی چھری کی آواز ، تیزی اور کچھ عجلت میں اندر آتے ویٹرز کی آوازیں جو آرڈرز اپنی تیز آواز میں دہراتے اور کھانے کی پلیٹس تھامے اُسی طرح باہر نکل جاتے، سب کچھ جیسے کسی طلسمی طاقت کے زیر اثر غائب تھا، اور صرف ایک اکیلا وہ تھا اُس کچن میں موجود جو ہمہ وقت باورچیوں سے بھرا رہتا تھا اور جہاں کھانے بڑی تعداد میں چو لہوں پر چڑھے رہتے تھے مگر اس وقت وہ اپنے تمام باورچیوں کو چھٹی دئیے ہوئے تھا حا لا نکہ وہ جانتا تھا عالمی چھٹی والے دن شہر کے تمام ہر قسم کے ہوٹلوں میں معمول سے کہیں زیادہ رش ہو تا تھا اور یہ بات نہ صرف ہوٹل کے مالکوں کے لیے جہاں ایک خوشی کا عجیب سا احساس لیے ہوئے ہوتی تھی بلکہ وہ مصروفیت اور ہیجان کے ملے جلے تاثرات بھی اپنے اندر رکھتی تھی۔لیکن اُس نے ان تمام باتوں کو جانتے ہوئے بھی جیسے انجان بنتے ہوئے اپنے ہوٹل کے باہر ”کلو زڈ” کا بورڈ لگا رکھا تھا اور خود وہ جیسے ایک دعوت کا انتظام کرنے میں مصروف تھا۔لیکن ایسا صرف اُس کو بے انتہا مصروف اور ہیجان سے بھرپور ادھر اُدھر بھاگتے ہوئے کام کرتے ہوئے دیکھ کر لگتا تھا ایسا ہے نہیں تھا ۔وہ کو ئی بڑی دعوت نہیں تھی جو اب سے کچھ دیر بعد ہوٹل کے سب سے خوبصورت ٹیبل پر لگنے والی تھی۔
    وہ ایک بڑے کوکنگ رینج کے سامنے کھڑا تھا جس پر رکھی مٹی کی کڑاہی میں گا ڑھا شوربا اُبل رہا تھا۔” کیا وہ اس کو پسند کرے گی؟” اُس نے اپنے دل سے پوچھا تھا، کو ئی خاطر خواہ جواب نہ آنے پر وہ تند دہی سے دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا ۔
    ” ہر اچھی پکی ہوئی چیز چکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔” شاید دل ہی دل میں اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے اُس نے جیسے ایک تو جیہہ اپنے آپ کو دی تھی۔لکڑی کے چمچے کو وہ آہستگی سے شوربے میں چلانے لگا تھا۔
    جب وہ یہاں آیا تو یہ بات وہ جان گیا کہ کھانے اور رسومات بھی سفر کرتی ہیں۔اُس سے پہلے تک وہ انجان تھا ،میدے کی بنی وہ لمبی لڑیاں جسے وہ اپنی خاص ڈش ”کالی (kalli)” میں استعمال کرتے تھے کبھی اُسے اس طرح بھی ملیں گی۔پیکٹس میں ترتیب سے ڈالی ہوئی ،لیکن بہت جلد اُس نے اس بات کو تسلیم کر لیا کہ تا زگی اور عمدگی ہمیشہ اُسی چیز میں موجود ہوتی ہے جو اپنے ہاتھ سے پکانے سے کچھ دیر پہلے تک بنا ئی جانے والی چیزوں میں مو جود ہو تی ہے ۔
    جب اُس نے چیزوں کو جان لیا اور تازگی اور بو سیدہ چیزوں میں سے کسی ایک چیز کے انتخاب کرنے کا مو قع اُس کے پاس آیا تب اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ تازگی کو اپنائے گا۔یہ جیسے اپنی تہذیب و ثقافت سے جڑے رہنے کی ایک کوشش تھی۔مٹی کے برتن جو اُن کی اپنی وادی میں اب بہت کم استعمال کیے جاتے تھے وہ اُنہیں اب بھی بروئے کار لا رہا تھا وہ کھانا پکانے کے لیے مٹی کے برتن جبکہ اُن کو پیش کرنے کے لیے لکڑی کے برتن استعمال کرتا تھا۔وہ نہیں جانتا تھا وہ کیوں ایسا کر رہا تھا شاید اُس بیان کی وجہ سے جو بہت پہلے بابا خان نے کبھی اُنہیں دیا تھا یا پھر یہ وہ محبت تھی جو اُس کے خون میں رچی بسی ہو ئی تھی اور اُسے ایسا کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔
    اُس کے ہاتھ برق رفتاری سے کام کر رہے تھے اور اپنی دوسری ڈش کو بنانے سے پہلے بھی ایک بار پھر سے وہ اپنے آپ کو وہی سوال دہرانے سے روک نا پایا تھا۔یہی کہ وہ اس کو پسند کرے گی یا نہیں؟؟
    حُمس ساس کے تما م ا جزا ء کو تیز چنگھا ڑتی آواز کے ساتھ اُس نے بلینڈ کیا تھا اور لکڑی کی سادہ مگر خو بصورت پیالی میں نکالنے کے بعد بلآخر اپنے ہاتھ پو نچھتے ہوئے وہ ر یفر یجر یٹر کی طرف بڑھا تھا ۔اپنے ہاتھوں میں ٹراؤ ٹ فش کی ٹرے پکڑے وہ واپس شیلف تک آیا تھا۔وہ مچھلی جو اُس کی یادوں سے جڑی تھی۔وہ اُسے یاد دلاتی تھی اُن بہت سی باتوں کی جو کبھی اُس کی زندگی کا ایک اہم جز رہی تھیں۔
    ٹراؤٹ کی چمکدار سطح پر تیز چھری سے بڑی مہارت کے ساتھ اُس نے ایک دوسرے سے تھوڑے فا صلے پر کٹس لگانے شروع کیے تھے۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے جب وہ مچھلی کو دیکھتا تو ایک ہی چہرہ اُس کے ذہن میں گردش کرنے لگتا اُس کے لبوں پر ایک مسکرا ہٹ بکھر جاتی۔ایک دکھ بھری مسکراہٹ۔۔
    ”مر چیں تمہیں اتنی پسند کیوں ہیں تیکھی مرچ؟”کچھ اسی قسم کے مذاق جو وہ ایک دوسرے سے کیا کرتے لیکن ایسا صرف تب ہوتا جب وہ مصروف سے کام کر رہے ہوتے اور جب اُنہیں اس بات کا ادراک ہوتا کہ دونوں اکٹھے ہی کسی بات پر ہنس پڑے ہیں ،تو وہ فورا سنبھل جاتے اور یوں اپنے کا م میں مگن ہو جاتے جیسے کو ئی بات نا ہوئی ہو۔اُن کے دل زور زور سے دھڑکتے اُس وقت تک جب تک کہ کو ئی دوسری بات نہ شروع ہو جاتی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اب بھی اُس نے غیر ارادی طور پر مرچوں کی مقدار زیادہ رکھی تھی۔ جبکہ خود اُس کے اپنے اندر اب بھی وہ بچہ موجود تھا جو کھانا کھاتے ہوئے ذرا سی مرچیں لگ جانے پر سی سی کرتا تھا اور اُس کے سفید گال دہک اُٹھتے تھے اور آنکھیں پانی سے بھر جا تی تھیں مگر اس باراُس نے کوئی اختیاط نہیں کی تھی۔بے تحا شہ لمبی تا زگی سے بھر پور موٹی اور کچھ تر چھی کٹی سبز مر چوں کو چا قو کی مدد سے کسی قدر مہارت اور بر ق رفتاری سے کٹنگ بورڈ سے ٹراؤٹ کے مسالہ لگے ٹکڑوں میں پھیلا یا اور اُسی مہارت اور تیزی کے ساتھ ٹکڑوں کو سلور پیپر میں لپیٹا اور اوون میں رکھ دیا تھا لیکن رکھنے سے پہلے اُس نے اُس گول اور سبز چیز کے چند ٹکڑے کیے تھے اور اُنہیں مچھلی پر پھیلا دیا تھا ،یہ یقینا اس کو مزید مزیدار بنا ئے گی،اُس نے دل میں سوچا تھا۔
    یہ اُس کی آج کے دن کی آخری ڈش تھی اور جس کے بے حد لذیذ ہونے کا وہ گا رنٹی سے کہہ سکتا تھا۔حا لانکہ آج کے دن وہ اس ڈش کو تیار کرتے ہوئے اپنے اب تک کے کیر یئرمیں سب سے زیادہ کنفیو ژ تھا ۔
    اپنے ہاتھوں کو صاف رومال سے پو نچھنے کے بعد وہ ایک بار پھر اُس بڑے ریفریجر یٹر کی طر ف بڑھا تھا۔اس بار وہ کسی قسم کی عجلت میں نہیں تھا اور کسی قدر سر شاری اُس کے قدموں میں محسوس کی جاسکتی تھی۔اپنے پیروں میں جھومتے ہوئے اُس نے اپنا مخصوص رقص کیا تھا اور گول گھوم گیا تھا،اور وہ خود ہی جیسے کچھ کچھ حیران سا اور خوشی سے بھر پور گنگناتے لبوں کے ساتھ مسکرا دیا تھا۔
    آج جیسے سب نیا اور حیران کن تھا خود اُس کے لیے۔۔۔وہ جو پچھلے کئی سالوں سے اپنے روایتی گیتوں اور رقص سے انجان تھا اور جیسے اُنہیں اپنی زندگی سے الوادع کہہ چکا تھا ۔۔لیکن آج بھی وہ اُ س کے ساتھ تھے بالکل روز اول کی طر ح ،وہ خوش تھا اپنی ان پُرانی یادوں کو تازہ کرکے اور اس ۔۔۔نئی یاد کے ساتھ جو اُسے زندگی کے رنگ دوبارہ لُٹا رہی تھی۔اُس نے ایک نظر اپنی کلائی میں بندھی گھڑی پر ڈالی تھی۔وہ وقت کی پابند تھی اور یہ بات وہ بخوبی جانتا تھا۔
    ریفر یجر یٹر کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھے وہ مختلف سوچوں میں غرق تھا۔Kalli،ٹراؤٹ فش ،حُمس ساس اورMantu تو ہوتے ہی ،اپنے ذہن میں مینیو ترتیب دیتے ہوئے اُس نے سوچا تھا مگر واحد مسئلہ جو اُسے پیش آیا تھا۔وہ یقینا میٹھے کا تھا۔کچھ ایسا جسے وہ پسند کرتی۔کیا مکھن اور سوکھی خوبانیوں سے بنی مزیدار بریڈ، چیریز سے بھری ہوئی کھویا پڈنگ یا پھر کھو پرا ٹافی،لیکن وہ ان سب کو رد کرتا رہا اورکچھ ایسا بنانے کا سوچنے لگا جس کی پریزنٹیشن ہی اُسے حیرانی میں مبتلا کر دے اور بے اختیار کھانے پر مجبور۔۔۔
    بلا آخر اُس کی نظر انتخاب رشین میٹھے بر ڈز ملک کیک(Bird’s Milk Cake) پر جا رُکی تھی۔تین خوب صورت گلابی غلاب چڑھے چاکلیٹ بالز جو اب تک خاصے ٹھنڈے ہو چکے تھے اور جنہیں وہ اب ترتیب سے سو فلے پر رکھی کریم اور چا کلیٹ گلیز(glaze) لگانے والا تھا۔یہ ایک محنت طلب اور کہیں زیادہ یکسوئی سے کرنے والا کام تھا۔وہ جتنی احتیاط برت سکتا تھا اُس نے برتی اور باری باری تینوں بالز کو ٹرے میں سے اُٹھا یا اور ترتیب سے رکھنے لگا۔جب اُس نے تینوں بالز کوگلیز پر جما دیا تو اُس نے ایک اور پتلی کسی سٹک کی مانند جمی ہوئی گلیز کو اُن تینوں پر احتیاط سے رکھ دیا۔یوں جیسے کسی بھورے پرندے کا پر آہستگی سے زمین پر گر گیا ہو۔پلیٹ کے بالکل بیچ تھوڑا تر چھا کر کے رکھے اُس خوبصورت کیک کے دائیں جانب اُس نے چیریز کا وہ گا ڑھا مربع رکھا اور اسی طرح بائیں جانب۔تازہ پو دینہ وہ اُس کو پیش کرنے سے پہلے رکھتا،پلیٹ پر ایک آخری تو صیفی نگاہ ڈالتے ہوئے اُس نے سوچا تھا اور احتیاط سے اپنے ہاتھوں میں اُٹھا ئے وہ اُسے واپس ریفریجر یٹر میں رکھنے والا تھا جب وہ چونکا تھا اُسے اپنے ایپرن کے نیچے سینے کے پاس تھر تھرا ہٹ محسوس ہو ئی تھی۔ایک ہاتھ سے فون کان سے لگا ئے دوسرے سے پلیٹ تھامے،وہ چلتا رہا تھا اُس جانب جہاں ریفر یجر یٹر تھا۔
    اُس کے لبوں سے اب تک سوائے ہیلو کے اور کو ئی الفاظ نہیں نکلے تھے لیکن یکدم جیسے اُس کے چہرے پر تا ریکی سی پھیل گئی تھی اور وہ وہیں کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔اُس کی سرخ و سپید پیشانی عرق آلود ہو ئی تھی اور ہاتھ میں موجود پلیٹ بے اختیار اُس کے ہاتھوں سے اُلٹ گئی۔
    وہ سن سا کھڑا تھا تبھی اُس کا فون والا ہاتھ دھپ سے نیچے گرا ۔اُس کے پیروں سے ننھی ننھی چیریز ٹکر کھاتے ہوئے دور تک لڑھک گئی تھیں اور چاکلیٹ کی نرم بالز اپنے گلابی غلاف کے ساتھ زمین پر لکیر کا نشان چھوڑتے ہوئے مختلف چیزوں سے ٹکرائے تھے اور بلآ خر بدشکل اور بھدی صورت میں تبدیل ہو گئے ۔وہ دیر تک یونہی کھڑا رہا حتی کہ کچن میں ہر طرف سڑن کی بو پھیلی تھی اور اوون سے دھواں نکل کر چہار سو پھیلنے لگا ۔ ناک میں گھستے ہوئے دھواں کی بو سے بلآخر اُسے ہوش آیا تھا اور وہ کھا نستے ہوئے تقریبا بھا گا تھا لیکن پیروں میں موجود بہت ساری چا کلیٹ اور جیلی جیسے اُسے چپک گئی تھی اور وہ گرتے گرتے بچا تھا،بمشکل اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے وہ اوون تک گیا اور بے تحاشہ کھانستے ہوئے اوون کھول کر بد حواسی کے عالم میں بغیر گلوز کے ٹرے باہر نکالنے کی کو شش میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ پاؤں بھی جلا بیٹھا تھا ۔
    ٹرے اُس کے پاؤں کے اُوپر گری تھی اور ٹراؤٹ سیاہ لکڑ کی صورت زمین پر بکھری پڑی تھی۔
    یہ اُس کے سارے دن کی محنت تھی اور جسے وہ اب ما یوسی بھری آنکھوں کے ساتھ زمین پر بکھرا ہوا دیکھ رہا تھا۔اُس معروف ہوٹل کے کچن میں جیسے ایک طوفان آ کر گزر گیا تھا۔اور اُس کا مالک اپنا سر پکڑے کاؤنٹر کے ساتھ ٹیک لگا ئے بیٹھا تھا۔
    ()٭٭٭()
    اے دق ( لڑکے)۔۔کیا کرتا اے تم؟ھو سئی ماں اس قدر زور سے دھا ڑیں کہ اُن کے اپنے گلے میں خراشیں سی پڑ گئیں مگر جلدی سے تھوک نگلتے ہوئے اپنے خشک گلے کو تر کرتے ہوئے اُنہوں نے ہاتھ چلا کر اپنے سامنے پڑے پھل کو بچانے کی سعی تھی۔
    دیوہ ، پشمینہ،گل مکئی اور زرمستہ وہ سب اس وقت بوڑھے گھنے اخروٹ کے درخت کے نیچے مو جود تھیں ،کھلکھلا اُٹھیں۔اور یہ چیز جیسے اُس گول مٹول سرخ و سپید لڑکے کو مزید شہہ دے گئی۔ اُس کے گال شرارت اور خوشی، کہ وہ نظروں میں رہتا ہے اور جانتا ہے کہ بے انتہا لاڈلا ہے ، کے احساس کے ساتھ مزید پھولتے اور وہ اُن سب کے درمیان میں سے بھاگتا اور آوازیں نکالتا رہا۔وہ ہانپ رہا تھا مگر اُس کے چہرے کی مسکراہٹ کسی صورت کم ہونے میں نہیں آ رہی تھی اور لال ٹما ٹر ہوتا چہرہ مسلسل ہنسی بکھیررہا تھا ۔
    صحن بہت بڑا نہیں تھا مگر جتنا تھا وہاں بہت ساری چادریں قطار در قطار بچھی تھیں اور طرح طرح کے پھل اپنی تقریبا ختم ہوتی رنگت کے ساتھ زمین پر بچھے تھے۔سرخ چیریز،پیلی اور کچھ کچھ نا رنجی خو بانیاں،گلابی کی چھب دکھلاتے کالے شہتوت ،رس سے پُر سیب اور اُن سب کو اپنے سا منے پھیلائے وہ چار وں بہنیں اور ھو سئی ماں۔ گل مکئی اور دیوہ سوکھی خوبانیوں جبکہ پشمینہ شہتوتوں میں سے خراب کو علیحدہ کرتی جا رہی تھیں۔
    زر مستہ نے ایک نظر اُٹھا کر اخروٹ سے بھرے درخت کی طرف دیکھا ،اُس کے ہاتھ برابر چل رہے تھے۔” بر مو گھ(اخروٹ) اس بار بو(بہت) ہوا ھو سئی ماں۔” اُس نے سرخ رس بھرے سیب کے چار ٹکڑے کیے اور اُنہیں اپنے سامنے پڑے لکڑی کے معمول سے کچھ بڑے پیالے میں اُچھال دیا۔” آں۔۔۔ام بی یہی سوچتا اے ۔جب یاں آیا تھا تو امارے گھُل(وادی) میں اتنا برموگھ نہیں تھا ،گل مکئی اور دیوہ نے ایک دوسرے کو دیکھ کر دانت نکوسے کچھ ایسا ہی لڑکے نے بھی کیا مگر ھو سئی ماں مگن سی اپنے کام میں مصروف بولتی چلی جا رہی تھیں،ام اس درخت کے نیچے کھڑا بوکھت (پتھر) مارتا رہتا اور بر موگھ توڑتا رہتا پھر ایک دن۔۔لڑکے نے بات کاٹ دی ،پھر ایک دن دُن(دانت) ای ٹوٹ گیا۔بے تحاشہ ہنستے ہوئے اُس نے بات مکمل کی۔ھو سئی ماں نے غصے سے اُسے کچھ مارنے کے لیے ادھر اُدھر دیکھا مگر کچھ نا ملنے پر ایک خراب چیری اُٹھا ئی اور اُسے لڑکے کی جانب اُچھال دیا۔لڑکا برابر ہنستا رہا اور چاروں لڑکیاں بھی۔
    ھو سئی ماں خود بھی اُن دنوں کو یاد کر کے مسکرا دیں جب وہ دُلہن بن کر اس گھر میں آئیں اور کیسے یہاں اُنہوں نے اپنی جوانی،کیونکہ جب اُن کی شادی ہوئی وہ صرف تیرہ سال کی تھیں،گزاری یہاں اُنہوں نے اپنا بیٹا پیدا کیا،ایک کڑیل جوان لڑکا جس کے گال سرخ رہتے اور پیشانی پر ایک بھورا تل جسے یاد کر کے اُن کی آنکھیں بھیگ گئیں۔زر مستہ نے ھو سئی ماں کی جانب دیکھا اوربا قی سب نے بھی۔یکدم وہ سب رنجیدہ نظر آنے لگے لیکن پھرزرمستہ نے اُنہیں مزید کسی یاد کے بھنور میں پھنسنے سے روکنے کے لیے ایک آزمودہ کو شش کی۔” اچھا تو برموگھ کیسے تم اپنے دُن (دانت) سے توڑ رہیں تھیں؟” ھو سئی ماں نے اپنے آنسو پو نچھے اور اشارے سے بتانے لگیں۔”بر موگھ( اخروٹ) بالکل بوکھت (پتھر) تھا یہ اپنے منہ میں رکھا اور دُن( دانت) باہر۔” ھو سئی ماں خود بھی ہنس پڑیں۔” یاں گھُل (وادی)میں سف (سب)کہتا تھا تمارے بابا خان کو۔۔ دُن ٹوٹی بوق(بیوی) والا۔ہزار بار کا سنا ہوا قصہ سن کر وہ سب ایک بار پھر سے ہنس پڑے۔پورے دل کے ساتھ کہ بعض سنے ہوئے قصے بار بار مزہ دیتے ہیں۔
    زمین پر رنگ ہی رنگ بکھرے تھے کچھ مرجھاتے ہوئے اور کچھ تا زگی سے بھرپور۔۔
    اپنے مخصوص کالے لبا س کو رنگ برنگے لال، سبز، نیلے ، پیلے گل بو ٹوں سے سجائے وہ سر پر تکونی ٹوپیاں رکھے بیٹھی تھیں جن پر جنگلی پرندوں کے پر شان سے لگے تھے اور وہ خود سرخ رخساروں کے ساتھ مہارت سے ہاتھ چلاتے ہوئے گلے سڑے اور ناکارہ پھلوں کو علیحدہ کرتی جا رہی تھیں۔اپنے ارد گرد بھا گتے دوڑتے بچے کی شرارتوں سے وہ کھلکھلا کر ہنس پڑ تیں اور ہو ۔۔ہو ۔۔ہے ۔۔ہے کی آواز ایک کورس میں نکالتیں۔
    یکدم لڑکے نے جست بھری اور اپنے لمبے لٹکتے سویٹر کے کونے کو پکڑ کر ہوا میں اچھلا اور کسی پرندے کی طرح جھپٹتے ہوئے سامنے رکھی سوکھی خوبا نیوں کے ڈھیر میں سے مٹھی بھر خوبا نیاں ضبط کیں اور ایک بار پھر سے بھا گتے دوڑتے ہوئے کچر کچر چبانے لگا ۔
    ”ام آخری بار تم کو کہہ رہا ہے شرافت سے نیچے بیٹھ جا اور ڈنڈی مارنا بند کر ورنہ ام خود اُٹھے گا۔” پیچھے ساؤنڈ میوزک کی طرح بہت ساری دبی دبی ہنسی کی آواز گو نجی تھی۔لڑکے پہ جیسے کو ئی اثر نہیں ہوا تھا اور اُس کی رفتار کچھ مزید تیز ہو گئی تھی۔
    ”کا وش خان ۔۔۔ او کاوش خان۔۔جلدی کرو ادر آؤ دیکھو ام کیسی عمدہ چیز لایا اے۔”
    بہت ساری خوبا نیا ں اُس کے ہاتھ سے چھو ٹی تھیں اور زمین پر بکھرتی چلی گئیں تھیں۔کاوش خان منہ کھولے ساکت کھڑا تھا اور بھاگنا چھوڑکر یک ٹک اپنے سامنے کھڑے بابا خان کو دیکھ رہا تھا جو دھاڑ سے دروازہ کھولتے ہوئے ٹوکری والا ہاتھ فضا میں بلند کیے خوشی اور جوش سے بھرپور چہرے کے ساتھ کندھے اکڑا ئے کھڑے تھے۔
    چاروں لڑکیوں نے بھی نظریں اونچی کر کے دروازے کی سمت دیکھا تھا اُن کی بڑی بڑی نیلی اور کچھ کی سرمئی رنگت لیے ہوئے آنکھیں جیسے حیرانی سے پھیل گئی تھیں۔
    کاوش خان اُڑتا ہوا باباخان کے سر پر پہنچا تھا۔”بابا خان اتنی جلدی لے آیا تم؟؟ابی تو یہ پھول پوری وادی میں کھلا بھی نہیں تم کہاں سے لے آیا۔” کاوش خان نے تیزی سے اُن کے ہاتھ سے ٹوکری جھپٹی تھی اور نرم ہاتھوں سے پھولوں کو چھو کر دیکھنے لگا تھا۔اُس کی آنکھوں کا اشتیاق دیدنی تھا۔
    ”ام تمارے واسطے اُوپر جنگل میں چلا گیا تھا۔” باباخان نے اُس کے خوشی سے بھر پور پھولے پھولے گالوں پر پیار سے ایک چپت رسید کی تھی اور سفید پنکھ سے سجی چترالی ٹوپی اُتار کر اپنے ہاتھ میں پکڑ ے اندر کی طرف قدم بڑھا دئیے تھے۔
    ” اس کے واسطے تم کو اتنی اُوپر جانے کا کیا ضرورت تھا۔اس کا تو ویسے ای دماگ کھراب اے۔” ھو سئی ماں نے آخر میں اپنا تڑکا لگا نا ضروری سمجھا تھا۔
    ”آں۔۔۔ابی تم باتیں بنا تا اے جب یہ بنائے گا تو سب سے زیادہ چسکا تم ای لگا ئے گا۔” وہاں موجود سب لڑکیوں کے منہ سے جیسے ہنسی کا فوارہ پھو ٹ پڑا تھا حتی کہ خود ھو سئی ماں قدرے منہ موڑے اپنی ہنسی ضبط کرنے لگی تھیں۔مگر جواب دینا بھی لازم تھا سو پھر سے منہ موڑے بظاہر سوکھی چیریز کے ڈنٹھل علیحدہ کرتے ہوئے کہنے لگی تھیں۔
    ”ام کو تو لگتا اے تمارا بھی اُوپر جانے کا سوچ اے جو تم باگ باگ جاتا اے اُوپر والی وادی کو۔” ھو سئی ماں کے سو کھے جھر یوں زدہ چہرے پہ مسکراہٹ بکھری تھی اور ہاتھ میں پکڑی سوکھی چیری کو ڈنٹھل سے الگ کرتے ہوئے چیریز کے ڈھیر میں پھینک دیا تھا جو بالکل اُس ہی کی طرح اپنی اصل رنگت کھو چکی تھیں اور جن میں مو جود رس اب پہلے سے قدرے کم ہو چکا تھا لیکن ابھی بھی وہ کسی قدر اُن میں مو جود تھا،وہ خوش نما اور لذت سے بھر پور ابھی بھی تھیں۔
    ” تما را یہ خوشی ام اتنی جلدی پورا نہ ہونے دے گا ،ابی تو تمارے جانے کا وقت اے ،ابی اُوپر ام تماری ام جو لیوں (ہم جولیوں) کو دیکھ کے آیا اے۔۔ کیسے مزے میں وہ خلاؤں کو گھور را تھا تم بی جاؤ نا اور خلاؤں میں گھو رو ایسے ای تم یاں پہ اما را سر کھا تا اے۔”
    گل مکئی دھیمے سے چلتی ہوئی آئی اور پانی کاکٹورہ بابا خان کے ہاتھوں میں تھما دیا۔پانی ٹھنڈا اورمزیدار تھا اس قدر کے اس علاقے سے بہت دور بسنے والے لوگ شاید یہ بات ساری زندگی نا جان سکیں کہ پانی بھی کبھی اتنا لذیذ اور شفا سے بھرپور ہو سکتا ہے جتنا کہ وہ یہاں پر موجود تھا۔ ”اپنی وادی کا پانی بھی نعمت ہے۔” باباخان نے اپنے د ل میں سو چا،مگر اس دوران بھی وہ ھو سئی ماں کی بات کا جواب دینا نہ بھولے۔
    کالاش میں یہ رواج تھا بوڑھے جب شدید بوڑھے ہو جاتے تو وہ اُوپر چلے جاتے پھر وہ پہاڑوں کے دیو قامت پتھروں پر بیٹھے خلا میں گھورتے رہتے جیسے اپنی موت کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہوں اور وہ تب تک اُسی طرح بیٹھے رہتے جب تک کہ موت اُنہیں اپنی آغوش میں نا لے لیتی۔اس دوران وہ اتنے اجنبی اور کچھ اس قدر ڈراؤنے لگتے کہ سیاح اُن سے کنی کتراتے اور دور سے ایک نظر ڈالنے کے بعد وہ پھر اُن کے پا س بھی نہ پھٹکتے۔
    ھو سئی ماں نے میدان جنگ چھوڑا اور ہنہ کہہ کر دوبارہ سے چن چن کر خراب چیریز الگ کرنے لگیں۔
    با باخا ن کاوش کی جانب متو جہ ہوئے جو اب ٹوکری میں سے رنگین اور تازہ پھول نکال کر اُن پہ سے ہلکا سا پانی نتھارنے کے بعدٹوکری میں موجود سلاد کے پتوں اور کچھ جڑی بو ٹیوں کو اچھی طرح دھونے لگا تھا جن پر مٹی کی تہیں جمی تھیں۔
    ”آں تم نے تیار ی شروع کر دیا چلو پھر ام بی ہاتھ شاتھ دھو کے آتا اے تم تو پانچ منٹ میں بنا لے گا۔”پشمینہ نے اُنہیں دیکھا تو کہنے لگی۔” کھانا لگا دو ں پھر باباخان؟” ” ہاں ہاں لگا دو۔” باباخان نے اُٹھتے ہوئے ہاتھ فضا میں بلند کر کے کہا اور اندر تاریک کمرے میں غائب ہوگئے۔
    اپنے ہاتھوں سے چھری کو مہارت سے پکڑے وہ سلاد کے پتے کاٹتا جا رہا تھا اور بابا خان کی بات پر مسکرا کر پھر سے اپنے کام میں جت گیا تھا۔سارے پھولوں اور جڑی بو ٹیوں کے بعد بلا آخر ٹوکری میں سے کا ویرکی کلیوں کو برآمد کیا تھا اور تیز چھری سے اُنہیں کاٹنے لگا تھا۔
    ()٭٭٭()

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • معطّر فضاؤں کے راہی — فرزانہ روحی اسلم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    معطّر فضاؤں کے راہی — فرزانہ روحی اسلم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    سنو! میں شکاگو جاکر اپنی اسٹڈیز پر توجہ دوں گا۔ اچھا ہے وہاں رہتے ہوئے کچھ حاصل ہوجائے۔”
    ”ہاں… میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ وہاں بڑھانے کے ساتھ ساتھ آپ خود بھی پڑھیں۔” نورین نے مشورہ دیا۔
    ”سارے پروسسز میں تین ماہ تو چاہیے ہے۔ تبھی ہم وہاں جاسکتے ہیں۔ چند اور دوستوں سے رابطہ کیا ہے۔ جو وہاں ایجوکیشن سے وابستہ ہیں۔ انشاء اللہ اچھے مشورے سے نوازیں گے۔”
    ”جانے سے پہلے سب سے ملاقات ضروری ہے۔ یعنی تمہاری امی اور بہنیں اور جاوید کے بھائی وغیرہ۔” شہزاد نے کہا۔ اور ایک دن ان سب کو اپنے گھر مدعو کیا۔ بہت عرصے بعد ان سب کی روبرو ملاقات ہورہی تھی ورنہ اپنا آپ سنبھالنے پر ہی زیادہ وقت لگ گیا تھا۔ اس کی ممی نواسی ہنی کو سینے سے چمٹائے بیٹھیں تھیں۔ دونوں بہنیں گھر میں اڑتی پھر رہی تھیں۔ ان کی خوشی تو دیدنی تھی۔ طرح طرح کے مشوروں سے نورین کو نواز ے جارہی تھیں۔
    اسی وقت طاہرہ لیپ ٹاپ پر آن لائن ہوگئی۔ ورنہ تو یہ سب کب سے اس کا انتظار کررہے تھے۔ سب جھمگٹا بنا کر وہیں گھس گئے۔ بے بی کو اٹھا اٹھا کر دکھانے لگیں۔ دوسری طرف طاہرہ کے عقب میں جاوید اور مہران بیٹھے تھے۔ بہت دنوں بعد سب اکٹھے ہوئے تھے بلکہ بہت دنوں کیا شادی کے بعد ہی یہ اتنی بڑی تقریب ہوئی تھی جس میں قریبی لوگ موجود تھے۔ فرق اتنا ضرور تھا کہ وہ شادی خانہ آبادی تھی۔ یہ الوداعی تقریب۔ وہ بھی ایسی جس میں سبھی مسرور تھے۔
    اسکرین کے اس بار امریکا اور اس پار پاکستان تھا۔ خوب گفتگو جارہی تھی۔
    طاہرہ نے کہا۔ ”نورین سے پوچھو کتنی تیاری ہوئی؟”
    آپ فکر نہ کریں ہم سب کروادیں گے۔ نورین کی دونوں بہنوں نے اکٹھے جواب دیا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    جلد ہی وہ دن آگیا جب وہ کراچی سے شکاگو کی طرف پرواز کررہے تھے۔ دونوں ہی زیادہ تر چپ چپ تھے۔ اس شہر سے ایسی یادیں وابستہ تھیں جو حاصل زندگی تھیں۔
    کچھ تو خاص بات ہے اس شہر نا پرساں میں کہ اس کو چھوڑتے ہوئے دل کے آسمان پر دکھ کے بادل چھا جاتے ہیں۔ نورین تو ہنی میں لگی ہوئی تھی۔ شہزاد بھی بیوی اور بیٹی کی جانب متوجہ تھا مگر لبوں پر خاموشی کی مہر لگی ہوئی تھی۔
    ”تمہیں دکھ ہورہا ہے نا یہاں سے جاتے ہوئے۔” نورین نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    ”میں تو اس شہر کو کب کا الوداع کہہ چکا ہوتا اگر تمہارے شہزاد اس میں گم نہ ہوگیا ہوتا۔” اس نے دھیرے سے اس کے قریب جھکتے ہوئے کہا۔ نورین نے اس کی جانب محبت پاش نظروں سے دیکھا۔ تو اس کی توجہ ہٹ گئی۔ بے بی دورانِ پرواز نیند کی آغوش میں ہی رہی۔ وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن رہے۔ جب کبھی کوئی اعلان ہوتا تب چونکتے ورنہ تجدید محبت کے لئے انہیں یہ موقع خوب ملا تھا۔ ”تمہارے ساتھ میں یہی خاص بات ہے بندہ خود کو تو انا محسوس کرتا ہے۔ محبت توانائی ہی تو ہے جو مل جائے تو ٹوٹے پھوٹے چٹختے جسم و جاں میں بھی انرجی پیدا کردیتی ہے۔”
    ” میں تمہاری محبت میں اس قدر ڈوب چکی ہوں کہ مجھے احساس ہی نہیں ہوتا کہ میں کس قدر خوش ہوں۔” نورین نے سرشاری سے کہا تو اس نے اس کے گرم رخسار پر مہر محبت مثبت کردیئے۔
    ”نہہ… کوئی دیکھ لے گا…” نورین نے دائیں بائیں دیکھا۔
    ”یہاں کوئی نہیں دیکھتا… تاکاجھانکی، دوسروں کی کن سوئیاں لینا دیوار سے کان لگائے رکھنا ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔”
    ”تم بہت پیارے انسان ہو۔” اس نے دھیرے سے کہا۔
    ”تم سے کم۔” اس نے کسر نفسی سے کام لیا۔
    ”ہماری ہنی بالکل تمہاری طرح ہے۔” نورین نے کسمساتی ہوئی بچی کی طرف دیکھ کر کہا۔
    ”مجھے تو یہ تمہارا پر تو لگتی ہے ۔” شہزاد نے بچی کے گال سہلائے۔
    ”تم امریکا جاکر دوبارہ ایجوکیشن کی طرف توجہ دینا۔ ایسا کرنا بچی کے ساتھ پڑھنا شروع کردینا۔” وہ ہنسا۔
    ”نہیں بھئی پھر تمہارا اور بے بی کا خیال کون رکھے گا۔” نورین نے پوچھا۔
    مل جل کر سب ہوجائے گا۔ جہاں اتفاق ہو وہاں آدھے مسائل خود ہی حل ہوجاتے ہیں۔ کسی کتاب میں لکھا ہے شادی کے بعد عورت ہی کا کام ہے گھر بچے اور شوہر سنبھالے۔ میں تو یہ سب نہیں مانتا۔ گویا عورت نوکرانی کی طرح اور شوہر نواب کی طرح۔ عجیب زندگی ہوجاتی ہے۔ شوہر گلچڑے اڑا رہے ہوتے ہیں اور بیویاں پس رہی ہوتی ہیں۔ پھر شکایتیں الگ جنم لیتی ہیں۔ نااتفاقی الگ اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔”
    ”اچھا… جی جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا۔ سب کروں گی آپ کی محبت میں۔” نورین نے فرمانبرداری سے کہا۔ آپ میری رہنمائی کرتے رہا کیجئے گا۔۔”
    ”رہنمائی تو محبت خود ہی کیا کرتی ہے۔ محبت ہو تو راستے آسان اور منزل قریب آجاتی ہے۔ یہ دنیا آراستہ و پیراستہ ہی محبت کی بنیاد پر ہے۔”
    محبت اک کھلا در ہے
    کہ جس کی
    نیم وا آنکھوں میں
    ختم ہوتا کوئی منظر
    کبھی داخل نہیں ہوتا
    یہاں آغاز ہی آغاز ہوتا ہے
    محبت کرنے والے
    داستانِ عشق کے ایسے مسافر ہیں
    کہ جن کی زندگی میں
    روشنی ہی روشنی
    امید بن کر
    جھل سلاتی ہے
    یہیں جینا سکھاتی ہے
    ٭…٭…٭
    ”ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے محبت کا آغاز اب ہوا ہو۔ جب ایک فرشتہ ہمارے درمیان آئی ہے۔ محبت کا اصل مفہوم میں اب سمجھی ہوں جب یہ بچی میرے بازوؤں میں کسمسائی۔ محبت میرے اندر اتری ہی تب ہے جب میں نے بے بی کو پہلی بار اپنے سینے سے لگایا۔”
    ”محبت کے اپنے ادوار ہوتے ہیں۔ تمہیں یاد ہے جب ہم دونوں شرعی طور پر ایک تھے مگر الگ الگ رستوں کے مسافر تھے۔ اور بے آسرا بچوں سے ملاقاتوں میں اپنا اپنا وقت گزارتے تھے۔
    تمہیں وہ وقت یاد ہے جب ہم دوسرے ناموں سے ایک دوسرے کو پکارتے پکارتے اپنے اپنے ناموں کی طرف واپس پلٹے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہم ایک دوسرے سے گریز پا تھے۔ ایک لمحہ ایسا بھی تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ جو میرے پہلو میں سمائی ہوئی ہے وہی میری ہے اور میرے لئے ہے۔ ایک سماں ایسا بھی رہا کہ ہم ایک دوسرے میں گم ہوکر ضم ہورہے تھے۔ صبح سے شام اور شام سے صبح ہوتی گئی مگر ہماری محبت کا خمار ٹوٹا ہی نہیں۔ ایسا اس لئے ہوا کہ ہم دونوں اپنے اصل کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے رہے۔ ہماری کوئی بات ایک دوسرے سے مخفی نہیں ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کی ہے۔ لہٰذا ہمارے درمیان کوئی تنازعہ کھڑا نہیں ہوا۔ جب مجھے کسی سے محبت ہوسکتی ہے تو کسی بھی لڑکی کو کسی اور لڑکے سے عہد و پیمان کرنے سے کیوں روکا جائے ۔ یہ سماج چاہتا ہے کہ صرف مردوں کی محبت ہوا کرے کوئی عورت کسی کو پسند کرنے کا اختیار نہ رکھے۔ جبھی تو معاشرے تباہی کی انتہا پر ہے۔”
    نورین نے اس کی باتیں سننے کے بعد کہا۔ ”آپ کے جیسا تو کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔” اس نے اپنا سر اس کے بازو پر رکھ دیا۔ اس نے محبت کو چوم لیا۔ فضا میں تھمگی گھل گئی۔ ایک دلکش آواز نے جہاز کے لینڈ کرنے کا اعلان کیا تب وہ چونکے۔ پھر بھی ایک دوسرے کے ہاتھوں کو تھامے ہی رکھا۔
    ٭…٭…٭
    طاہرہ نے اپنے گھر کے قریب ہی بھائی بھابھی کے لئے بھی انیکسی سجا رکھی تھی۔ جاوید نے کہا بھئی ہمارا دوسرا کمرہ بھیا کو دے دو مگر طاہرہ متفق نہ تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ”نہوںکے جوڑے الگ الگ رہیں تو بہتر ہیں جوائنٹ فیملیز اومان پرور، لوگوں کے لئے ٹھیک نہیں رہتا۔ بہتر ہے کہ وہ اپنے اپنے گھونسلوں میں اپنی مرضی کے مطابق رہیں۔ اومانوی جوڑوں کی ایک اپنی الگ دنیا ہوتی ہے جس میں میں کہ وہ قدرت کے نہماں رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ وہ خود بھی ان ہی رستوں کی مسافرت میں تھی۔ لہٰذا اس سے بہتر کون یہ معاملات سمجھ سکتا تھا۔
    نورین سے مل کر وہ اپنا بزنس پلان ڈسکس کرتی۔ اسے تو فرصت نہیں تھی تمام معاملات وہی دیکھتی۔
    ”پورے ہفتے کا کھانا تیار کئے بیٹھی ہے۔” شہزاد نے فریج سے پانی نکالتے ہوئے کہا۔
    ”یہاں تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ وقت بچانا پڑتا ہے۔ تاکہ دوسرے کام ہوسکیں۔ پاکستان کی طرح تھوڑا ہی کہ بس عورت روزانہ صبح، دوپہر شام چولہا ہانڈی ہی کئے جارہی ہے… لاؤ ذرا ہنی کو مساج کردوں بولتے بولتے طاہرہ نے بے بی کو گود میں اٹھالیا۔
    ”نہیں ابھی رہنے دو…”
    آپ تو کرتی ہی رہتی ہیں۔ میں بھی ذرا اپنا شوق پورا کرلوں۔ طاہرہ بے بی کا مساج کرتی رہی۔ اس کا بیٹا قریب بیٹھا دیکھتا رہا ۔ پھر بولا کیا اب ہنی ریسلنگ کے لئے جائے گی۔ سب بے ساختہ ہنس پڑے۔
    ٭…٭…٭
    شہزاد جاتے ہی اپنی اسپیشلائزیشن میں مصروف ہوگئے۔ جاوید بھی ٹھیک جارہا تھا۔ اس کے ٹیلنٹ سے اس کی کمپنی فائدہ اٹھا رہی تھی۔ پاکستان میں اس کی صلاحیتیں برباد ہورہی تھیں۔ نورین اور طاہرہ اپنے بے بی ڈے کیئر سینٹر میں بزی رہتے ساتھ ہی ان کے بچے بھی ہوتے۔ شہزاد نے جاوید کے بڑے بھائی کو اس کے امریکا ایڈجسمنٹ کی خوش خبری سنادی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ تاکید بھی کی تھی کہ وہ اس خبر کو اپنے تک ہی محدود رکھیں تو بہتر ہے۔
    ٭…٭…٭
    اس دن طاہرہ خوشی خوشی شاپنگ کرکے واپس آئی۔ مارکیٹ میں اسے کوئی بچپن کی سہیلی مل گئی تھی جو وہاں ایک بار میں ملازم تھی۔ دونوں نے کارڈ کا تبادلہ کیا اور ایک دوسرے کو گھر آنے کاوعدہ کیا تاکہ ساتھ بیتھ کر پرانی یادوں کے گلاب چن سکیں۔
    اس ویک اینڈ پر اسے آنا تھا۔ صبا رازی کے لئے ا س نے پاکستانی کھانے بنائے۔ گھر کی صفائی جاوید کے ساتھ مل کر کی۔ صبا نے آنے میں تاخیر کردی معلوم ہوا کہ اس کے شوہر نے آتے وقت ہنگامہ کھڑا کردیا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر کسی سے ملنے جارہی ہے۔ طاہرہ نے کہا کہ اسے بھی لے آتی تو وہ بولی ایسا ممکن نہ تھا۔ ”میری دیرینہ دوست مجھے ملی ہے سمجھو کوئی آسرا ملا ہے۔
    ”کیا مطلب؟ طاہرہ نے چونک کر پوچھا۔
    ”بہت تنگ کرتا ہے۔” صبا نے کندھے اچکا کر جواب دیا۔
    ”کتنے سال ہوگئے؟ ”
    ”چار سال سے بھگت رہی ہوں۔”
    بچے وچے ؟ طاہرہ نے پوچھا۔
    ”یہ ویسا آدمی نہیں ہے ایسے تو صرف گزارے کے لئے عورت چاہیے۔ میری محبت کے سبز باغ کے سارے پھول مرجھاگئے ہیں۔”
    اوہ… ویری سیڈ۔
    ”تم نے کیا سوچا ہے پھر اپنے بارے میں۔” طاہرہ پوچھ بیٹھی۔
    ابھی تھینکس گاڈ تو کہنے دو۔ تم نے مجھے اپنے گھر بلایا ایسا لگا جیسے میرا کوئی سرپرست مل گیا ہو۔ صبا نے نہایت عنونیت سے کہا۔
    ”شہزاد بھیا بھی یہیں ہیں۔” اس نے بتایا۔
    ”یہ تو اور بھی اچھا ہے ورنہ میں تو تنہا سمجھتی تھی خود کو۔”
    ”میرے ہز بینڈ اور بیٹا ابھی آنے والے ہیں۔ تم سناوؑ۔ شوہر کیا کرتے ہیں تمہارے؟” طاہرہ نے ایک ساتھ کئی سوال کردیئے۔
    ”تمہاری شادی یہاں ہوئی ہے یا کراچی میں؟”
    ” سانس تو لینے دو پھر سب بتاتی ہوں۔” صبانے کہا۔
    ”مجھے جاننے کی جلدی اس لئے ہے کہ ابھی گھر خالی ہے۔ اپنے سارے دکھ سکھ میرے ساتھ شیئر کرسکتی ہو۔” طاہرہ نے جلدی جلدی کہا۔
    ”میری شادی کراچی میں نوید حسین سے ہوئی تھی۔ وہ بہت اچھے آدمی تھے۔ اچھی گزر بسر ہورہی تھی۔ نوید کا اپنا بزنس تھا۔ سلمان اس کا دوست تھا۔ اس نے پہلے نوید کو مجھ سے متنفر کیا پھرمجھے ورغلایا۔ میاں بیوی کے درمیان بالکل شیطان کا رول ادا کیا سلمان نے۔ مجھے تو بعد میں معلوم ہوا کہ اصل بات کیا تھی۔ بس نوید کان کے کچے نکلے۔ انہوں نے معمولی بات پر مجھے طلاق دے دی۔ بھائیوں نے اکیلا چھوڑ دیا۔ بھابیوں نے جی بھر کے الزام تراشی کی۔ والدین کا تو بہت پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا۔ تب میں بے آسرا ہوگئی تو اس نے مجھے شادی کے سبز باغ دکھائے اور کبھی لاہور، کبھی اسلام آبادلئے لئے پھرتا رہا۔ کسی کو پرسنل اسسٹنٹ بتاتا کسی کو وائف بتاتا۔ پھر میرے دباوؑ ڈالنے بلکہ خودکشی کی دھمکی کے بعد نکاح کر ہی لیا اور یہاں شکاگو لے آیا۔ میں گھر میں بند بند تنگ آگئی تو جاب کرلی۔ یہ تو اکثر غائب رہتا ہے۔ کبھی سارا دن کبھی ساری رات ان تین برسوں میں اس نے ایک اور شادی یہاں ایک انگریز عورت سے کی تھی جو اسے چھوڑ کر بھاگ گئی۔ مجھے تو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تو پہلے سے شادی شدہ ہے اور کراچی میں اس کی بیوی اور بیٹے موجود ہیں۔ مگر یہ ان سے لاتعلق ہوچکا ہے۔ جب اس کی گرل فرینڈ چھوڑ جاتی ہیں تو پھر یہ میرے پاس آجاتا ہے۔ میری مجبوری یہ ہے کہ کاغذات میں کم از کم خاوند کے خانے میں اس کا نام ہے۔ کبھی تو میرے پیسے بھی چھین لیتا ہے اور کبھی لاکر دیتا ہے۔ کچھ ذاتی باتیں پوچھوں تو تشدد پر اتر آتا ہے جیسے رات بھر کہاں رہے۔ اتنا نشہ نہ کیا کرو وغیرہ۔ اس نے تو صاف منع کررکھا ہے۔ اولاد کے پیدا کرنے کی غلطی نہ کرنا۔”
    ”ساتھ رہنا چاہتی ہو یا چھٹکارہ چاہتی ہو۔” طاہرہ نے پوچھا۔
    ”اب تک تو اکیلی تھی گزارا کررہی تھی۔ مگر اب تھک گئی ہوں۔”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • معطّر فضاؤں کے راہی — فرزانہ  روحی اسلم (پہلا حصّہ)

    معطّر فضاؤں کے راہی — فرزانہ روحی اسلم (پہلا حصّہ)

    تمہاری نیم وَا آنکھیں
    مرے رخسار پر،
    جب بھی غزل لکھیں
    اموزِ عشق کے
    اسرار،
    مجھ پر منکشف ہوکر
    سرور و کیف کی،
    چاہت کی،
    ساری بند گرہیں
    کھولتی ہیں۔
    ایک پھیلا ہوا بازو ہے محبت ۔ جس میں اہلِ نصیب سمیٹتے ہیں۔ پرکیف چاندنی میں، غسل ماہتاب روح میں جس سرور کو جنم دیتی ہے کڑی دھوپ میں بھی آدمی چھاؤں محسوس کرتا ہے۔ یہ سارے احساسات وہاں ہوتے ہیں۔ جہاں دو ذی روح دنیا کی تصدیق کے بغیر اپنی ذات کی اندرونی و بیرونی سچائیوں کے ساتھ موجود ہوں۔
    ہم اکثر اپنے لمحہ موجود میں، پھولوں کی کنج میں بیٹھ کر اپنی روح کو سیراب کررہے ہوتے۔ ہمارے قدم کب اٹھ گئے۔ دل کی دنیا کب اور کیوں کہ اتھل پتھل ہوگئی یہ تب معلوم ہوا جب وہ میری زندگی میں رگوں میں خون کی طرح شامل ہوچکا تھا۔ محبت سے لبریز دل تو تھا ہی، آنکھیں، باتیں، ساعتیں بھی میری ہم راہ تھیں۔
    میں اُسے محسوس کررہی ہوتی تو مجھ پر محبت بھری نظموں، غزلوں کے ایک ایک شعر کا مفہوم کھل رہا ہوتا۔ وہ کہتا، ”کچھ بولو، کچھ تو کہو۔” میں ہنس پڑتی۔ ”میں تو سامع ہوں، بولتی تو محبت ہے۔”
    ہم دنیا جہان کی باتیں کرتے، پارکوں میں کھلے پھولوں، کلیوں کی ان کہی گفتگو سنتے۔ کبھی کسی کانفرنس میں کسی سیمینار میں چائے کا سپ(sip)لیتے لیتے ہم دونوں ہی کہیں کھو جاتے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    جب کوئی شگر لاکر دیتا کہ چائے میں ڈال لیں تو ہم دونوں کو تب ہی پتہ چلتا کہ چائے تو ہم نے پھیکی ہی پی لی ہے۔ پھر ہم خوب ہنستے۔
    کبھی دوستوں کے گروپ کے ساتھ شاپنگ کرنے نکلے تو ایک دوسرے کے لئے ہی خریداری کرتے۔
    یہ پین تمہارے لئے،
    یہ ٹائی لے لو،
    یہ کیچر ، یہ کلپ
    یہ سوٹ،
    کتابیں، پرفیوم ۔
    دوست ہنستے۔ ایک دوسرے کو کہنی مارتے ، سہیلیاں ٹہوکے دیتیں۔ کہتیں، یہی تو محبت ہے۔
    ”اب چلو بس بہت ہوگیا۔ ”میں لائبریری میں ”امجد اسلام امجد” کو پڑھتے پڑھتے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”ٹھہرو نا، اتنی جلدی۔ ابھی تو تمہیں جی بھر کے دیکھا بھی نہیں۔”
    اس دن بھی ہم انسٹیٹیوٹ سے نکل کر بس اسٹاپ پر جاکر کھڑے ہوئے۔ اس نے حسبِ سابق کہا۔ ”اللہ کرے تمہاری بس لیٹ آئے۔” دونوں ہم آواز ہوکر یہی ایک فقرہ کہتے۔ پھر ہنس پڑتے۔ ہمارے ہنستے ہی دونوں کی بس ایک ساتھ ہی آجاتی۔
    ہم ایک دوسرے سے جدا ہوکر کبھی اداس نہیں ہوتے۔ آئندہ کی امید اور خواب لئے جو روانہ ہورہے ہوتے۔ ہماری راتیں طویل اور دن مختصر ہوگئے تھے۔
    اس دن سر تجمل غیر حاضر تھے۔ شہر کراچی کی سڑکوں پر موت اپنا ہدف ڈھونڈ رہی تھی۔ وحشت گلیوں میں ناچ رہی تھی۔ اور پریشان حال مائیں کھڑکیوں سے جھانک رہی تھیں۔ جب ہڑتال مزدوروں کے گھروں میں فاقے ڈالتی تو اشیائے ضروریہ کی دکانوں پر لٹکے تالے چلانے لگتے۔ جن کی چیخوں کو ضرورت مندوں کی آنکھیں سنتیں۔ تب شام ڈھلے ویران سڑکوں پر بچے گیند بلّا لے کر زندگی کو بیدار کرنے لگتے۔ تب ہم جو ذرائع مواصلات کی بجائے آنکھوں اور ہونٹوں سے گفت و شنید کے عادی ہوچکے تھے۔ جانہتھیلی پہ لئے ساحل سمندر پر پہنچ کر اپنی ناختم ہونے والی گفتگو کا سلسلہ پھر سے جوڑلیتے۔
    ساحل پر بیٹھے بیٹھے تھک جاتے تو گھنٹوں گھنٹوں پانی میں اتر کر ایک دوسرے پر چھینٹے اڑاتے۔ جب واپسی ہوتی تو وہ بس ایک ہی بات کہتا۔
    ”لگتا ہے وقت تھم گیا۔”
    ”وقت بھلا کیسے تھم سکتا ہے؟” میں پوچھتی۔
    ”وہ ہماری محبت کی کہانی دیکھ رہا ہے۔” اس کے اس جواب پر میں کہتی ، عجیب فلسفہ ہے تمہارا۔” پھر دونوں اتنا ہنستے کہ ہمارے قہقہے بھی آپس میں گھل مل جاتے۔
    اس دن ویسا ہی ہوا جیسا اس نے کہا تھا یعنی وقت کی رفتار رک گئی۔ پھولوں کے کنج میں، میں بیٹھی شراب محبت گھونٹ گھونٹ پی رہی تھی۔ ہمارے اطراف میں طالب علموں کا گروپ بیٹھا اٹھکھیلیاں کررہا تھا۔ گویا ہر طرف خوب رونق تھی کہ یکا یک اُدھم مچ گیا۔
    سازِ محبت ٹوٹ گیا۔
    نغمہ ٔ عشق اہم انگیز ہوگیا۔
    پھر کیا ہوا… میں کچھ سمجھ نہیں سکی ۔ آنکھوں کی پتلیوں میں اس کا چہرہ تھم گیا۔ اس کی آواز کی نغمگی کہیں فضاؤں میں ڈولنے لگی۔ میرے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ چھوٹ گیا۔
    کب صبح ہوئی، کب شام گئی، معلوم نہیں، امی ، نرس، بہنوں ، ڈاکٹرز اور جانے کس کس کی آوازیں سنائی دے جاتیں۔ ممی کی آواز پر آنکھ کھلی تو وہ مجھ پر جھکی ہوئی تھیں۔
    ”شکر ہے سب ٹھیک ہے بیٹا۔”
    ”شاکر۔” میں نے پکارا۔
    ”وہ بھی ٹھیک ہے چار گولیاں اس کے جسم سے نکال لی گئی ہیں۔”
    میرے دل میں آٹھ بار ٹیسیں اٹھیں۔
    ”بہت اسٹوڈنٹس زخمی ہوئے ہیں اس دھماکے میں۔شکر ہے تم ٹھیک ہو۔” امی کے ہاتھ دعاکے لئے دراز تھے۔
    ٭…٭…٭
    نرس بتارہی تھی کچھ زخمی بہت سیریس کنڈیشن میں تھے انہیں بیرون ملک روانہ کردیا گیا ہے۔
    ”اور شاکر؟” میں نے کراہتے ہوئے پوچھا تو نرس بولی۔
    ”شاکر نامی نوجوان کا نام تو مرنے والے کی لسٹ میں ہے۔”
    میرے دل نے کئی بار سسکی بھری۔
    پندرہ دن آئی سی یو میں رہنے کے بعد زندگی نے مجھے دعا دی۔ جو قبول بھی ہوگئی۔ اب میں تہی داماں تھی۔ کچھ بھی نہیں رہا میرا۔ سب کچھ ایک دھماکے میں اڑ چکا تھا۔ جو کچھ میرے پاس تھا وہ بے مقصد زندگی اور بس۔
    میں بیٹھے بٹھائے چیخ پڑتی۔ کبھی اُسے آواز دینے لگتی۔ کبھی بالکل نارمل ہوجاتی اور گھر کے کام کاج میں امی کا ہاتھ بٹانے لگتی۔ مگر اس کا کیا کیا جاتا کہ شاکر، چائے کی پیالی، سے لے کر پانی کے گلاس تک میں اپنی یادیں پیوست کرگیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ ایک کی کمی دوسرا پوری کرہی دیتا ہے۔ ہنہ… لڑکیاں کوئی کاٹھ کا الّو ہوتی ہیں نا کہ کسی کے بھی ساتھ کردو۔ خوشی خوشی چلی جائیں۔ جو دل میں گھس جائیں نا وہ سانسوں میں بھی اٹک جاتے ہیں۔ آنکھوں میں بس جائیں وہ رگوں میں دوڑنے لگتے ہیں۔ مشامِ جاں میں خوشبو بن کر اتر جاتے ہیں۔ کبھی نہ نکلنے کے لئے۔ سایہ بن کر ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ یہی تو محبت ہوتی ہے۔
    اب شاکر بھی سایہ بن کر میرے ساتھ رہنے لگا تھا۔ روز و شب، شام ڈھلے، رات گئے۔ میں سوتی ۔ وہ بھی سوجاتا۔ میں جاگتی، وہ بھی بیدار ہوجاتا۔ میں روتی ، وہ بھی آنکھیں جلاتا۔ میں چلتی ، وہ بھی میرے ہم قدم ہوتا۔ میں رکتی، وہ بھی اپنے بڑھتے قدم روک لیتا۔
    بقول ممی کے ان دنوں مجھے سہارے کی اشد ضرور ت ہے۔ ممی اور ان کی ایک دیرینہ سہیلی آئے دن گھر میں سرگوشیاں کرتی دکھائی دیتیں۔بالا آخر وہ کامیاب ہو ہی گئیں کسی مرحومہ خالہ بی کے فرزند کو ڈھونڈ نکالا گیا۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق ممی ان پر صدقے واری گئیں۔ اور دھیرے دھیرے اپنے متوقع داماد کے لئے میرا برین واش کرنا شروع کردیا۔ مجھ پر پڑھ پڑھ کر پھونکا جاتا۔ پانی میں گھول گھول کر پلایا جاتا۔ بات کہیں کی ہو آکر ان ہی لیکچرر صاحب پر ختم ہوتی جن کا نام نامی شہزاد تھا۔ کھانے کی میز پر جب امی اس کی خوبیاں بیان کرتیں۔ تو میں ہنستی کیونکہ میرے برابر میں پہلے ہی شاکر بیٹھا ماحضرتناول کررہا ہوتا۔ وہ سوتے وقت اس کی بات کر تیں تو شاکر کا ہیولا کمرے کے باہر ٹہلتا ہوا مجھے صاف دکھائی دیتا۔ جیسے وہ ممی کا کمرے سے باہر جانے کا منتظر ہو۔ وہ لان میں شام کے وقت اس کی گفتگو کرتیں۔ شاکر وہاں پہلے ہی چمبیلی کے پھول میرے بالوں میں اٹکا رہا ہوتا۔
    آخر میں نے تنگ آکر کہہ دیا۔ ”ممی… میں اب کسی کے ساتھ انصاف نہیں کرسکوں گی۔”
    ”یہ تو تمہیں کرنا ہوگا۔ خیالی دنیا سے نکل آؤ بیٹا… خود کو سنبھالو۔”
    تمہیں اپنے مزاجی خدا کا ساتھ دینا ہوگا۔” وہ بڑے پیار سے بولیں۔
    ”کوئی نہیں ممی… نہ مزاجی نہ خدا۔ میں نہیں جانتی کچھ۔” میں نے بے زاری سے کہا۔
    ”وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا بیٹا۔ میں تمہارے لئے دعا کروں گی۔ تم ہمیشہ سکھی اور آباد رہو۔” ممی کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔
    ”ممی اتنی جلدی نہ کریں۔کیا دنیا میں شادی کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے۔ مجھے سنبھلنے تو دیں امی۔ میرے زخم ابھی تازہ ہیں۔”
    ”ان ہی زخموں کا مرہم تو تلاش کیا ہے میں نے تمہارے لئے۔کسی کا ساتھ ہوگا تو ماضی بھول جاؤگی۔”
    ”اور میرے ہونٹوں سے اس کے نام کے بجائے شاکر نکلے گا تب…؟”
    ”ہوش کے ناخن لو… تمہیں بہت سمجھ دلری سے کام لینا ہوگا۔ ایسی احمقانہ باتیں نہ کرو… کوئی شخص آخری نہیں ہوتا… ممی نے اس قدر ڈوب کر کہا کہ جی چاہا ان کی تمام باتوں پر ایمان لے آؤں۔”
    ”میں منافقت نہیں کرسکتی ممی… جھوٹی زندگی کب تک گزاروں گی۔” میری آنکھیں برسنے لگیں۔
    ”جھوٹی زندگی کیوں بیٹا… اپنے شوہر کی خوبیاں تلاش کرنا۔ سب کچھ تمہارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ میری زندگی بڑھ جائے گی اگر تم سنبھل جاؤگی۔
    ”مجھ میں آپ جیسا حوسلہ ہے نہ ہمت۔”
    ”کوئی مشکل تمہیں پیش نہیں آئے گی۔ میری دعائیں تمہیں اپنے حصار میں رکھیں گی۔ میں ہر دم تمہارے ساتھ ہوں۔” ممی نے میری زلفیں سنواریں۔
    ”پل پل ہم رکاب تو شاکر رہتا ہے۔”
    ”اب اپنی زبان پر شہزا د کا نام سجا لو۔ شہزاد کا۔”
    ”اور شاکر کا کیا ہوگا۔”
    ممی تلملاگئیں۔ جانے کیسے مجھے برداشت کررہی تھیں بولیں۔ ”لگتا ہے تمہارا مینٹل ٹریٹ منٹ کروانا پڑے گا۔”
    ”میں بے سدھ ہوکر صوفے پر گر گئی۔”
    طبیعت سنبھلی تو دونوں بہنیں آس پاس بیٹھی تھی۔ وہ مجھے سدا کی بیمار سمجھ رہی تھیں۔ مجھ سے ہمدردی کررہی تھیں۔ مگرمجھے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا۔ میں تو بس ڈوبی ہوئی تھی۔ پانی میں ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کررہی تھی۔
    ”آپی آپ کس کلر کا شرارہ پہنیں گی؟
    اور جیولری۔ میک اپ کس پارلرسے ہوگا؟
    کوئی آپ کا پسندیدہ ڈیزائنر ہے تو بتادیں۔”
    وہ دونوں بیٹھی یہی باتیں کررہی تھیں۔ ”اس نے دوبارہ پوچھا۔ شرارے کا کلر بتادیں ہمیں۔”
    ”وہی جو شاکر کو پسند تھا۔”
    ”شاکر بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ جنت میں چلے گئے ہیں۔ آپ انہیں یاد کرکرکے بے سکون نہ کریں۔ بلکہ اپنی جنت دنیا میں بنائیں… آپ زندہ ہیں آپی۔” یہ نرمین تھی جس نے مجھے جھنجھوڑ کر کہا۔
    ”اوں… ہاں… اچھا۔” میں کیا جواب دیتی۔
    ”وہ بہت اچھی جگہ چلے گئے ہیں۔ اب آپ اپنا سوچیں۔ خوش رہیں تاکہ شاکر بھائی کو خوشی ہو۔ آپ دکھی رہیں گی تو وہ بھی … یعنی ان کی روح بھی بے تاب و بے چین رہے گی۔” نرمین مجھ سے پانچ چھوٹی تھی مگر بڑی بڑی باتیں کررہی تھی۔
    ”آپی شہزاد بھائی بہت اچھے ہیں۔ پڑھنے لکھنے والے آدمی ہیں۔ شاعر بھی ہیں۔ آپ بہت خوش رہیں گی۔ وہ یقینا آپ کے احساسات کا جذبات کا خیال رکھیں گے۔” دونوں ایک ساتھ مجھے سمجھا رہی تھیں۔
    میں نے اس شام ممی کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے۔مگر انہوں نے میری ایک نہ سنی اور مجھے گلابی سوٹ پہناکر بٹھا دیا گیا۔ گلاب کی خوشبو جیسے مجھ پر انڈیل دی گئی ہو۔ پھولوں سے لدی گردن دکھنے لگی تھی۔ نکاح اور رخصتی کے وقت بھی میں سکون آور دواوؑں کے زیر اثر رہی۔
    اٹھایا گیا تو میں اٹھ گئی۔ چلایا گیا تو چل پڑی۔ ویسے ہی کون سا مجھے ہی چلنا تھا۔ دلہن کو تو اس کا بازو پکڑنے والے چلاتے رہتے ہیں۔ جہاں بٹھایا وہاں گر گئی۔ ایک گھر سے نکل کر ایک دوسرے سجے ہوئے گھر میں پہنچادی گئی ۔ تیرے ہی دن ہم کسی سفر پر بھی روانہ ہوگئے۔ ایک نسبتاً مہذب شخص مسلسل میرے ساتھ رہا۔ کبھی وہ مجھے شاکر لگتا کبھی شہزاد۔ اس نے زیادہ بات بھی نہیں کی۔ ائیر پورٹ سے باہر نکل کر اس نے کہا۔
    ”مجھے نہیں معلوم تمہیں کون سی جگہ پسند ہے۔لیکن لوگ یہاں آنا پسند کرتے ہیں۔ جبھی میں تمہیں یہاں لے آیا۔ یہ اٹلی ہے۔” میں نے اور مریم نے کئی بار یہاں آنے کا پلان بنایا تھا… تم سن رہی ہونا… مریم… میری سابقہ منگیتر… اس کی کہیں اور شادی کردی گئی۔”
    ”مریم۔” میری آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔
    ”تم برا مت ماننا… ابھی میرا درد نیا نیا ہے۔ تمہارے ساتھ کی خوشی میں مٹ جائے گا۔ آہستہ آہستہ سب ذہن سے محو ہوجائے گا۔” اس کی آواز کی نرماہٹ و دلکشی نے میری سماعتوں کوبھی بیدار کردیا۔
    ”نہیں… ایسا نہیں ہوتا… دل میں بسنے والوں کو بھولنا آسان نہیں ہوتا۔”… تمہیں شاکر کا معلوم ہے نا۔”
    میں نے پوچھا تو اس نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ”وہ تو سارے زمانے کو پتہ ہے۔”
    ”پھر۔”
    ”پھر کیا… کیا فائدہ اجنبی مرد یا اجنبی عورت کو دل میں رکھنے کا۔”
    ”اگر میری زبان پر شاکر کا نام آجائے تو…؟”
    ”اور اگر میں تمہیں مریم کہہ دوں تو…؟” ہم دونوں ہی شاید اپنے اپنے دکھوں سے ایک دوسرے کو واقفیت دے رہے تھے۔ یا اپنا درد بانٹنے کی کوشش کررہے تھے۔
    ”تم شاکر ہوسکتے ہو نہ میں… مریم۔” مگر ہم دونوں ایک دوسرے کو اسی تناظر میں دیکھ سکتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ دل میں اٹھنے والی ٹیسوں کو دباتے رہیں؟ اور ہمیشہ کے لئے مریض بن جائیں۔”
    ”مریم کے بعد میں نے کتابوں میں پانہ ڈھونڈی ہے۔”
    ”اور مجھے تو کوئی پناہ گاہ ملی ہی نہیں۔” دل کہاں کہاں اور کیسے کیسے کٹتا ہے۔”
    ”تم اس رشتے کی پناہ میں آجاؤ جو میرا اور تمہارا جڑا ہے۔”
    ”اپنے لئے نہ سہی ان کے لئے جینے کا سوچو جن کا کوئی نہیں ہوتا۔ جن سے کوئی پیار نہیں کرتا۔” اس نے ٹھہر ٹھہر کر کہا تو میری پلکیں بھیگنے لگیں۔ مجھے لگا جیسے میں دنیا میں اکیلی ہوں۔ بالکل تنہا۔
    ہم روز خوب گھومتے، ہم میں متوفی تھی نہ شرارت۔ سڑکوں ، بازاروں، پارکوں میں پھرتے پھرتے تھک گئے تو وہاں کے ”اولڈ ہاؤسز” اور ”اورفن ہاؤسز” میں جانے لگے۔ واقعی شہزاد کا آئیڈیا اچھا تھا۔ ان بے آسرا لوگوں کو دیکھ کر مجھ میں جینے کی امنگ پیدا ہوئی۔ اپنے ہونے کا احساس ہوا۔کچھ کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ دنیا میں واقعی کرنے کو بہت کچھ ہے۔
    ”لوگوں کتنے بے حال ہیں۔ ہمارے وطن میں تو اور برا حال ہے۔ چلو وہاں چل کے کچھ کام کرتے ہیں۔” ایک دن جب میں نے شہزاد کو یہ کہا تو اس کے ہونٹوں پر تبسم کھیلتی نظر آئی۔ اس نے پوچھا۔
    ”لوگ تو یہاں آکر یہیں بس جانے کی آرزو کرتے ہیں اور تم واپس جانے کی بات کررہی ہو؟”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • تائی ایسری — کرشن چندر

    تائی ایسری — کرشن چندر

    میں گرانٹ میڈیکل کالج کلکتہ میں ڈاکٹری کا فائنل کورس کر رہا تھا اور اپنے بڑے بھائی کی شادی پر چند روز کے لئے لاہور آ گیا تھا۔ یہیں شاہی محلے کے قریب کوچہ ٹھاکر داس میں ہمارا جہاں آبائی گھر تھا، میری ملاقات پہلی بار تائی ایسری سے ہوئی۔
    تائی ایسری ہماری سگی تائی تو نہ تھی، لیکن ایسی تھیں کہ انہیں دیکھ کر ہر ایک کا جی انہیں تائی کہنے کے لئے بے قرار ہو جاتا تھا۔ محلے کے باہر جب ان کا تانگہ آ کے رکا اور کسی نے کہا، ’’لو تائی ایسری آ گئیں‘‘ تو بہت سے بوڑھے، جوان، مرد اور عورتیں انہیں لینے کے لئے دوڑے۔ دو تین نے سہارا دے کر تائی ایسری کو تانگے سے نیچے اتارا، کیونکہ تائی ایسری فربہ انداز تھیں اور چلنے سے یا باتیں کرنے سے یا محض کسی کو دیکھنے ہی سے ان کی سانس پھولنے لگتی تھی۔ دو تین رشتہ داروں نے یک بارگی اپنی جیب سے تانگہ کے کرائے کے پیسے نکالے۔ مگر تائی ایسری نے اپنی پھولی ہوئی سانسوں میں ہنس کر سب سے کہہ دیا کہ وہ تو پہلے ہی تانگہ والے کو کرایہ کے پیسے دے چکی ہیں اور جب وہ یوں اپنی پھولی سانسوں کے درمیان باتیں کرتی کرتی ہنسیں تو مجھے بہت اچھی معلوم ہوئیں۔ دو تین رشتہ داروں کا چہرہ اتر گیا اور انہوں نے پیسے جیب میں ڈالتے ہوئے کہا، ’’یہ تم نے کیا کیا تائی؟ ہمیں اتنی سی خدمت کا موقع بھی نہیں دیتی ہو!‘‘اس پر تائی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے اپنے قریب کھڑی ہوئی ایک نوجوان عورت سے پنکھی لے لی اور اسے جھلتے ہوئے مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئیں۔
    تائی ایسری کی عمر ساٹھ سال سے کم نہ ہو گی، ان کے سر کے بال کھچڑی ہو چکے تھے اور ان کے بھرے بھرے گول مٹول چہرے پر بہت اچھے لگتے تھے۔ ان کا پھولی پھولی سانسوں میں معصوم باتیں کرنا تو سب کو ہی اچھا لگتا تھا۔ لیکن مجھے ان کے چہرے میں ان کی آنکھیں بڑی غیر معمولی نظر آئیں۔ ان آنکھوں کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ دھرتی کا خیال آیا ہے۔ میلوں دور تک پھیلے ہوئے کھیتوں کا خیال آیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خیال بھی آیا ہے کہ ان آنکھوں کے اندر جو محبت ہے، اس کا کوئی کنارہ نہیں، جو معصومیت ہے اس کی کوئی ا تھاہ نہیں، جو درد ہے اس کا کوئی درماں نہیں۔
    میں نے آج تک ایسی آنکھیں کسی عورت کے چہرے پر نہیں دیکھیں جو اس قدر وسیع اور بے کنار ہوں کہ زندگی کا بڑے سے بڑا اور تلخ سے تلخ تجربہ بھی ان کے لئے ایک تنکے سے زیادہ حیثیت نہ رکھے۔ ایسی آنکھیں جو اپنی پنہائیوں میں سب کچھ بہا لے جائیں، ایسی انوکھی، معاف کر دینے والی، درگزر کر دینے والی آنکھیں میں نے آج تک نہیں دیکھیں۔ تائی ایسری نے کاسنی شاہی کا گھاگھرا پہن رکھا تھا۔ جس پر سنہری گوٹے کا لہریہ یا چمک رہا تھا۔ ان کی قمیض بسنتی ریشم کی تھی، جس پر زری کے پھول کڑھے ہوئے تھے۔ سر پر دوہرے ململ کا قرمزی دوپٹہ تھا۔ ہاتھوں میں سونے کے گوکھرو تھے۔ جب وہ گھر کے دالان میں داخل ہوئیں تو چاروں طرف شور مچ گیا۔ بہوئیں اور خالائیں اور نندیں اور بھاوجیں، موسیاں اور چچیاں سب تائی ایسری کے پاؤں چھونے کو دوڑیں۔ ایک عورت نے جلدی سے ایک رنگین پیڑھی کھینچ کر تائی ایسری کے لئے رکھ دی اور تائی ایسری ہنستے ہوئے اس پر بیٹھ گئیں اور باری باری سب کو گلے لگا کر سب کے سر پر ہاتھ پھیر کر سب کو دعا دینے لگیں۔
    اور ان کے قریب ہیرو مہری کی بیٹی سوتری خوشی سے اپنی باچھیں کھلائے زور زور سے پنکھا جھل رہی تھی۔ تائی ایسری گھر سے رنگین کھپچی کی ایک ٹوکری لے کر آئی تھیں جو ان کے قدموں میں ان کی پیڑھی کے پاس ہی پڑی تھی۔ وہ باری باری سے سب کو دعائیں دیتی جاتیں اور کھپچی والی ٹوکری کھول کر اس میں سے ایک چونی نکال کر دیتی جاتیں۔ کوئی ایک سو چونیاں انہوں نے اگلے بیس منٹ میں بانٹ دی ہوں گی، جب سب عورتیں اور مرد، لڑکے اور بچے بالے ان کے پاؤں چھو کر اپنی اپنی چونی لے چکے تو انہوں نے اپنی ٹھوڑی اونچی کر کے پنکھا جھلنے والی لڑکی کی طرف دیکھا اور اس سے پوچھا، ’’تو کون ہے؟‘‘
    ’’میں سوتری ہوں۔‘‘ بچی نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔
    ’’آئے ہائے، تو جے کشن کی لڑکی ہے؟ میں تو بھول ہی گئی تھی تجھے۔ آ جا گلے سے لگ جا۔‘‘
    تائی ایسری نے اس کو گلے سے لگا لیا، بلکہ اس کا منہ بھی چوم لیا اور جب انہوں نے اسے اپنی کھپچی والی ٹوکری سے نکال کر چونی دی تو گھر کی ساری عورتیں قہقہہ مار کر ہنس پڑیں اور موسی کرتارو اپنی نیلم کی انگوٹھی والی انگلی نچا کر بولی، ’’تائی، یہ تو جے کشن کی بیٹی سوتری نہیں ہے، یہ تو ہیرو مہری کی بیٹی ہے۔‘‘

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • اشکِ وفا — ماریہ نصیر (تیسرا اور آخری حصّہ)

    اشکِ وفا — ماریہ نصیر (تیسرا اور آخری حصّہ)

    وہ کافی دیر بے مقصدکاموں میں لگی رہی۔ باہر لاؤنج میں بیٹھی میگزین کو اُکٹ پُلٹ کرتی رہی۔ ڈنر کے بعد روحیل اپنے کمرے میں جا چکا تھا اور اُسے بھی جلدی کمرے میں آنے کا کہہ گیا تھا پھر بھی وہ گھنٹوں سے یہاں وہاں بے مقصد گھوم رہی تھی۔ کمرے میں جانے سے کترا رہی تھی۔اب تو سارے مُلازم بھی اپنے اپنے کام نمٹا کر سرونٹ کوارٹرز میں جاچکے تھے۔ روحیل وِلا پر خاموشی کا راج تھا۔ بے مقصد ٹی وی چینلز چینج کرتے کرتے بھی اب وہ اُکتا چکی تھی اسلئے وہ بھی بند کردیا۔دوبارہ میگزین کھول کر بیٹھ گئی تو اُسمیں بھی دل نہ لگا۔ آخرکار کب تک اسطرح باہر بیٹھی رہتی۔ دیر سے سہی پر کمرے میں تو جانا ہی تھا۔ اُسنے وال کلاک پر نظر ڈالی جہاں رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے اُسکا دل آج معمول سے تیز دھڑکنے لگا۔ ایک نامعلوم سا ڈر لگ رہا تھا۔ کمرے کے قریب پہنچ کر وہ ایک لمحے کیلئے رُکی اور اپنا اعتماد بحال کرنے لگی۔ پھربہت آہستگی سے دروازے کا ناب گُھمایا ااور دبے پاؤں اندر داخل ہوگئی۔ جہازی سائز بیڈ کے این وسط میں روحیل نیم دراز تھا۔ آنکھوں پر بازو رکھے شاید وہ سوگیا تھا۔ عرشیہ کی جان میں جان آئی۔وہ دبے پاؤں باتھروم میں گھس گئی۔ کچھ دیر بعد باہر آئی اور ٹاول سے منہ پوچھ رہی تھی جب روحیل کی کھنکدار آواز پر اُسکے ہاتھ رُک گئے۔
    ‘کافی دیر لگادی تم نے ؟ آج کچھ کام زیادہ تھا کیا؟’ وہ بیڈ پر کوہنیوں کے بل اُلٹا لیٹا عرشیہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔ عرشیہ نے اثبات میں سر ہلاکر ٹاول کو واپس باتھروم میں لٹکایا اور ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آکر بالوں میں برش پھیرنے لگی۔ اُسکی ہمیشہ سے عادت تھی وہ رات کو بال بناکر سوتی تھی۔وہ برش پھیر رہی تھی جب روحیل نے نرمی سے اُسکی کمر سے نیچے تک آتے گھنے دراز بالوں کو چھوا۔ عرشیہ بال باندھنے لگی جب روحیل نے ٹوک دیا۔
    ‘اوہو! اتنے خوبصورت بال باندھنے کیلئے نہیں ہیں۔ کُھلے رہنے دو ۔’
    ‘اُلجھن ہوتی ہے مجھے بال کھلے رکھنے سے۔’ عرشیہ نے کوفت زدہ لہجے میں کہا پر روحیل تو آج الگ ہی موڈ میںتھا
    ‘کچھ دیر تو کھلے رہنے دو۔ ابھی تو جی بھر کے دیکھا بھی نہیں میں نے!’ وہ اُسکے بالوں کو دوبارہ چھوتے ہوئے بولا تو عرشیہ نے ٹیبل پر برش رکھا اور ناگواری سے بولی۔
    ‘روحیل پلیز! ہر بات میں ضد مت کیا کرو۔ جب کہہ رہی ہوں کہ اُلجھن ہوتی ہے تو سمجھ لو نا۔’ وہ یہ کہہ کر چوٹی باندھنے لگی۔ آج روحیل بہت خوشگوار موڈ میں تھا اسلئے مسکراتے ہوئے ‘اوکے’ بولتا بیڈ پر جا بیٹھا۔ کچھ دیر یونہی ڈریسنگ ٹیبل کی چیزیں سیٹ کرتی وہ وہیں کھڑی رہی۔ وہ اُسکی ساری حرکات نوٹ کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد اُسنے آواز دی۔
    ‘عاشی۔۔!’ وہ آواز جذبوں اور محبت سے پُر تھی۔ عرشیہ کا دل اُچھل کر حلق میں آگیا۔ وہ اُسے اتنے فری انداز میں کب مخاطب کرتا تھا، ہمیشہ اُسکا پورا نام لیتا تھا۔ ابھی عرشیہ کچھ اور سوچتی جب روحیل نے دوبارہ آواز دی۔
    ‘عاشی۔۔!’
    ‘جی؟’ وہ پلٹی تھی۔ روحیل نے اِشارہ کرتے ہوئے اُسے اپنے پاس بُلایا
    ‘یہاں آؤ!’ عرشیہ مرے مرے قدم اُٹھاتی بیڈ کی طرف آئی ۔ روحیل نے اُسے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ چپ چاپ بیٹھ گئی اور سر بھی جُھکا لیا۔
    ‘ایک سوال پوچھوں؟’ وہ اُسکے نرم و نازک چہرے پر نظریں جمائے پوچھ رہا تھا۔ عرشیہ نے صرف سر ہلانے پر اِکتفا کیا
    ‘اِن تین دنوں میں مجھے مِس کیا تم نے؟’ یہ ایک غیر متوقع سوال تھا

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    ‘نہیں۔’ اُسکے منہ سے بے ساختہ نکلا اور روحیل کی مسکراہٹ لمحے میں غائب ہوئی تھی۔ عرشیہ کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ جلدی سے بولی۔
    ‘مم۔۔میرا مطلب ہے کہ بہت مِس کیا تمھیں۔’ روحیل نے بے یقینی سے اُسے دیکھا اور پھر مسکرانے لگا۔ عرشیہ نے نگاہوں کا زاویہ بدلا ۔لیکن وہ یہ کہہ کر پھنس گئی تھی۔ روحیل نے اُسکے مر مریں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لئے اور اپنے لہجے میں بے پناہ محبت سمیٹے جذبوں سے پُر آواز میں بولا۔
    ‘میں جانتا تھا، تمھیں بھی عادت سی ہوگئی ہے میری۔ میں نے بھی بہت مِس کیا ! تمھیں پتا ہے پہلے بھی بہت سال صرف تمھارے اِنتظار میں، تمھیں یاد کرتے گُزارے ہیں میں نے لیکن جو بے چینی اِن تین دنوں میں تم سے دور رہ کر ہوئی ہے وہ لفظوں میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ دل چاہ رہا تھا اُڑھ کر تم تک پہنچ جاؤں لیکن میں صبر سے کام لیتا رہا کہ تمھیں کچھ دِن میں واپس میرے پاس آ ہی جانا ہے۔ اب یہ اطمینان ہے کہ تم میرے پاس ہو اور صرف میری ہو۔’ اُسکی باتوں سے عرشیہ عجیب سے احساسات سے گُزر رہی تھی۔ کسی بھی بیوی کیلئے اپنے شوہر کا اِس درجہ والہانہ پن یقیناً بہت بڑی خوشی قسمتی اور سکون کا باعث ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے دل کی کیفیات سمجھنے سے قاصر تھی۔اُسنے اپنا ہاتھ روحیل کی گرفت سے چُھڑانا چاہا لیکن گرفت اِتنی مضبوط تھی کہ اُسکی ہلکی سی کوشش بھی ناکام ہوگئی ۔ وہ شش و پنج میں گرفتار تھی جب روحیل نے ایک خوبصورت غزل پیش کی۔
    ‘اگر مل سکے تو وفا چاہئیے،
    ہمیں کچھ نہ اُسکے سوا چاہئیے،
    بہت بے سکوں ہیں ہم تیرے بِنا،
    ہمیں زندگی کی دوا چاہئیے،
    کہیں بھی میں جاؤں ، پلٹ آؤنگا،
    مجھے تیری بس اِک صدا چاہئیے،
    ہو تکمیل جس سے میری ذات کی،
    بہاروں کی ایسی ہوا چاہئیے،
    مجھے تیرے دل میں اے ہمنواں!
    اگر مل سکے تو جگہ چاہئیے،
    کہاں تک بھلا میں نبھاؤں وفا،
    کبھی تو مجھے بھی صلہ چاہئیے۔۔!’
    وہ خاموش ہوگیا تھا۔
    ‘تم کچھ نہیں کہوگی؟’ روحیل اُسکی طویل خاموشی سے جھنجھلا یا
    ‘کیا کہوں؟’ وہ انجان بنی اُس سے سوال کرنے لگی
    ‘ارے یار! سارے رومانٹک موڈ کا ستیاناس کر رہی ہو۔ اب یہ بھی میں بتاؤں تمھیں؟ چلو پھر آج اپنے طریقے سے بتاتا ہوں۔’ روحیل سارے فاصلے مِٹا تا اُسکے بے حد قریب آگیا، اِتنا کہ اُسکی سانسیں وہ اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ اُسکے کیا اِرادے ہیں اسلئے اپنے چہرے پر پہاڑوں جیسی سختی لاتے ہوئے بولی۔
    ‘پیچھے ہٹو اور ہاتھ چوڑو میرا فوراً!’
    ‘وہاٹ؟؟’ روحیل کو ہزار والٹ کا کرنٹ لگا تھا۔ وہ جو اُسکی طرف سے کوئی پیار بھرے اظہاراور پیار بھری نگاہ کا منتظر تھا ، یہ سُن کر بے حد حیران ہوا ۔ اُسے عرشیہ سے اسوقت یہ اُمید ہرگز بھی نہیں تھی۔وہ اُسی اُکھڑ انداز میں بات کر رہی تھی جیسے پہلے کیا کرتی تھی۔
    ‘میں نے کہا میرا ہاتھ چھوڑیں۔ آپکو سُنائی نہیں دیا؟’ وہ اُس بار پہلے سے زیادہ زور سے بولی
    ‘پر کیوں؟’ روحیل نے خفگی سے اُسے دیکھا
    ‘جب دیکھو تب یہی کرتے رہتے ہو تم۔ چھوڑو پلیز!! ‘ وہ جھٹکے سے اپنا ہاتھ چُھڑا کر بیڈ سے اُٹھ گئی اور کھڑکی کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی۔ روحیل اُسے جاتا دیکھ کر مسکرایا اور اُسکے پیچھے چل پڑا۔ وہ جیسے ہی اُسکے برابر آکر کھڑا ہوا عرشیہ ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔ روحیل نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی اور شرارت سے اُسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
    ‘اتنی کنفیوز کیوں ہورہی ہو تم؟’ وہ اُسکے چہرے کے اُتار چڑھاؤ بغور دیکھ رہا تھا جہاں ایک رنگ آرہا تھااور ایک رنگ جارہا تھا۔ وہ اُسکی بات کو نظر انداز کرتی رُخ موڑ گئی لیکن آج روحیل نے بھی تہّیا کر رکھا تھا کہ وہ اُس سے اپنی محبت کا اظہار کروا کر ہی دم لے گا۔وہ اُسکے مدِمُقابل ا کھڑا ہوا اور اُسکا راستہ روک دیا۔
    ‘اتنا کیوں کترا رہی ہو مجھ سے؟؟ کہیں پیار ویار تو نہیں ہوگیا مجھ سے؟’ وہ اُسکی ہونق بنی شکل سے خط اُٹھا رہا تھا ۔ یہ سچ تھا کہ عرشیہ اب پہلے کی طرح اُسکا سامنا نہیں کر پاتی تھی، وہ اُس سے حقیقتاً کترانے لگی تھی اور ایسا اکثر تبھی ہوتا ہے جب آپ کے دل میں کوئی جگہ بنانے لگتا ہے۔لیکن اِسوقت وہ خود بھی اپنے دل کی حالت سمجھ نہیں پارہی تھی۔وہ چور سی بنی اِدھر اُدھر جانے کا راستہ تلاش کرنے لگی جب وہ دوبارہ اُسکی راہ میں حائل ہوگیا۔
    ‘ایسی کوئی بات نہیں ہے، ہٹو نامیرے سامنے سے۔’
    ‘اچھا تو پھر یہی بات میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولو کہ تمھیں مجھ سے پیار نہیں ہے۔’
    ‘مجھے آپکی آنکھیں سخت زہر لگتی ہیں۔’ عرشیہ کو غصہ آنے لگا۔اُسے ایسی گفتگو کی اُمید نہیں تھی۔ روحیل شہادت کی اُنگلی سے اُسکا چہرہ اوپر اُٹھاتے ہوئے بولا۔
    ‘اچھا! پر مجھے تو تمھاری آنکھیں بہت پسند ہیں، دل چاہتا ہے کہ۔۔۔’
    ‘روحیل! جانے دو مجھے خدا کے لئے۔’ وہ بے بسی سے بولی (عجیب مصیبت میں پھنس گئی ہوں)
    ‘آج نہیں جان! آج تو کہیں نہیں جانے دونگا تمھیں۔’
    ‘روحیل! میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، میرے سر میں ویسے ہی درد ہے۔ میرا درد اور مت بڑھاؤ۔’
    ‘ میں دبادوں سر؟’ وہ فکرمندی سے پوچھتے ہوئے آگے آیا اور وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
    ‘سوئیٹ ہارٹ! تمھارے سارے درد آج میں سمیٹ لینا چاہتا ہوں۔ اِدھر آؤ!’ روحیل اُسے ہاتھ بڑھا کرتھامنا چاہتا تھا لیکن وہ اُسے روکتے ہوئے بولی۔
    ‘دیکھو روحیل! میرے صبر کا اِمتحان مت لو، ہٹ جاؤ پلیز سونے دو مجھے۔’ عرشیہ اپنی ایک ہی رٹ لگا ئی ہوئی تھی جس پر روحیل اب جھنجھلا گیا تھا۔ کتنی دیر سے وہ اُسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ تھی کہ کچھ سمجھ ہی نہیں رہی تھی۔
    ‘ عرشیہ پلیز! ختم کرو اب یہ گُریز۔ کیوں بھاگ رہی ہو سچ سے؟ مان کیوں نہیں لیتی کہ تم بھی پسند کرنے لگی ہو مجھے؟ خود کو بھی سزا دے رہی ہو اور مجھے بھی۔ ایک سال ہوگیا ہے ہمیں ساتھ رہتے رہتے ،میں تھک گیا ہوں تنہا اِس سفر میں چلتے چلتے۔ مجھے تمھارے ساتھ اور وفا کی ضرورت ہے۔ اور اب یہ گُریز بے معنی ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تمھیں اچھا لگنے لگا ہوں میں۔’ اپنی بات کہہ کر اُسنے عرشیہ کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو وہ ہتھّے سے اُکھڑ گئی۔
    ‘اوہ پلیز بند کرو اپنا یہ محبت نامہ! تنگ آگئی ہو ں میں تمھاری اِن باتوں سے۔ کیوں پیچھے پڑگئے ہو میرے۔ سکون برباد ہوگیا ہے میری زندگی کا۔ سکون سے جینے کیوں نہیں دیتے تم ؟ اور ہاں! ایک بات کان کھول کر سُن لو، میں کل بھی تم سے نفرت کرتی تھی اور آج بھی کرتی ہوں اسلئے کسی خوش فہمی میں مت رہنا۔’ اُسکا چہرہ غصے سے لال ہورہا تھا
    ‘تم۔۔۔ تم جھوٹ بول رہی ہو نا؟ کہہ دو کہ یہ جھوٹ ہے عاشی!’ روحیل سے ہاتھ چُھڑا کر وہ بیڈ کی طرف بڑھی ۔وہ پتھرائی ہوئی نظروں سے اُسے دیکھنے لگا (اب اتنی نفرت کیوں؟) اتنی حقارت کا تو اُسنے تصور بھی نہ کیا تھا۔ وہ کتنی سفّاکی سے یہ سب بول گئی تھی۔وہ آ ج بھی اُس سے اتنی ہی نفرت کرتی تھی، روحیل کو یقین نہ آیا۔
    ‘مجھے تم سے جھوٹ بولنے کا کوئی شوق نہیں ہے سمجھے تم!’
    ‘پلیز! کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ ایسا؟ میں نے تمھاری آنکھوں میں اپنے لئے چاہت اور اپنائیت دیکھی ہے پھر کیوں قبول نہیں کرلیتی تم سچائی کو؟ تم اِسوقت جھوٹ بول رہی ہو اور میں ایسا اب نہیں ہونے دونگا۔ تمھیں اعتراف کرنا ہوگا کہ تم بھی مجھے پسند کرنے لگی ہو ۔’ عرشیہ کو اُسکی بات پر گویا پتنگے لگ گئے تھے ۔ وہ غصے سے چٹخ کر بولی۔
    ‘نہیں تو کیا کرلوگے تم؟ مسٹر روحیل سکندر! یہ شادی میں نے صرف اور صرف اپنے شارق کی خوشی کیلئے مجبوری میں کی تھی۔اُسکی رُکتی سانسوں کو سُکون بخشنے کیلئے میں نے اپنا سکون برباد کرلیا۔ بولو کیا کروگے تم؟ آج بھی میرے وجود کا دام لگاؤگے، جیسے آج سے کچھ سال پہلے بھی تم نے میری محبت کو پیسوں سے خریدنا چاہا تھا۔’ روحیل تو کچھ بول ہی نہ پایا۔ عرشیہ کے الفاظ کی کاٹ تیر کی طرح اُسکے دل میں پیوست ہورہی تھی۔ کیسے کیسے اِلزام لگا رہی تھی وہ اُس پر۔ اُسکا دماغ چکرا کر رہ گیا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے عرشیہ کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جو غصے سے لال انگارہ بن گیا تھا۔ وہ لمحے بھر کو رُکی پھر بولی۔
    ‘یاد رکھو روحیل! پیسوں سے چیزیں تو خریدی جاسکتی ہیں لیکن زندہ وجود اور کسی کا دل نہیں۔ تمھیں جو کرنا ہے کرلو میرے ساتھ۔۔ میں تمھارے سامنے کھڑی ہوں۔ کل میں تمھارے آگے بے بس نہیں تھی لیکن آج میں مکمل بے بس اور مجبور ہوں۔ تمھاری دسترس میں ہوں کرلو اپنی طلب پوری اور بنالو مجھے بھی اپنی ہوس کا نشانہ۔ میں کچھ۔۔۔۔’
    آگے کا جملہ اُسکے منہ میں رہ گیا۔ روحیل کا بھاری ہاتھ فضا ء میں بُلند ہوا اور اُسکے نازک رُخصار پراُنگلیوں کے نشان چھوڑ گیا۔ تھپڑ اتنا شدید تھا کہ وہ اوندھے منہ بیڈ پر گری تھی۔
    ‘شٹ اپ! بہت فضول بول چُکی تم۔ آگے ایک لفظ بھی اور مت کہنا ورنہ میں کچھ کر بیٹھونگا۔’ وہ ہذیانی انداز میں چِلایا اور اُسے بے دردی سے دونوں کاندھوں سے پکڑ کر بیڈ سے اُٹھایا۔ وہ اِسوقت غصے سے پاگل ہورہا تھا۔ اُسکی اُنگلیاں اتنی بے دردی سے عرشیہ کے بازو میںپیوست ہوئی تھیں کہ اُسکی سِسکی نکل گئی۔ وہ اُسے اپنے سامنے کھڑا کرکے قہر آلود نِگاہیں اُسکے چہرے پر گاڑتے ہوئے پھنکارا۔
    ‘کیا کہا تم نے؟ تمھیں میری محبت ہوس نظر آتی ہے۔ شرم نہیں آئی تمھیں ایسے الفاظ اپنے منہ سے نکالتے ہوئے؟ بچپن سے لیکر آج تک تم ہر قدم پر میرے پاکیزہ اور سچے جذبوں کی تذلیل کرتی آئی ہو اور میں چپ چاپ برداشت کرتا رہا۔کونسی گھٹیا حرکت کرتے دیکھا ہے تم نے مجھے؟ کِن جرائم میں مُلوث رہا ہوں میں؟ کتنی لڑکیاں خرید لی میں نے اپنے پیسوں سے یا کہاں تم نے میرے کردار میں کوئی جھول دیکھا ہے؟ بولو۔۔ جواب دو۔۔’ وہ غصے سے چیخ رہا تھا اور عرشیہ سہم گئی تھی۔ اُسے کب عادت تھی اِتنی اونچی آواز سُننے کی۔ روحیل تو ہمیشہ ہی اُس سے بہت محبت سے بات کرتا آیا تھا۔اُسکا یہ روپ دیکھ کر عرشیہ دہل کر رہ گئی ۔روحیل کی سخت اُنگلیاں اُسکے نازک بازوؤں میں جم کر رہ گئیں ۔ تکلیف سے عرشیہ کے آنسو نکلنا شروع ہوگئے تھے۔
    ‘روحیل پلیز چھوڑو! بہت درد ہو رہا ہے۔’ تکلیف کی شدت سے بس وہ اِتنا ہی کہہ پائی لیکن روحیل پر کوئی اثر نہ ہوا۔وہ وحشی بن گیا تھا اِسوقت۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • اشکِ وفا — ماریہ نصیر (دوسرا حصّہ)

    اشکِ وفا — ماریہ نصیر (دوسرا حصّہ)

    وہ رات بارہ بجے کے قریب دوستوں سے فارغ ہوا تھا۔ شادی عرشیہ کی عدّت ختم ہونے کے دو ماہ بعد کافی سادگی سے طے پائی تھی لیکن روحیل کے قریبی عزیز و اقارب اور دوست احباب جمع تھے کیونکہ روحیل وِلا کی یہ پہلی خوشی تھی۔
    الّلہ کی عطا کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے اور بندے کا کام ہے اُس سے مانگنا۔ اور وہ کبھی اپنے بندے کو ماےّوس نہیں کرتا۔ اُس سے مانگتے رہو،وہ عطا کرتا ہے اور بے شُمار کرتا ہے۔۔ گُماں سے بڑھ کر، بیان سے باہر۔۔ کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ کس کیلئے کیا بہتر ہے اور کس کے دِل کو کیسے پھیرنا ہے، بس یقین رکھو اُس رب پر۔ اور یہ اُس خُدا پر یقین ہی تھا جس نے روحیل کو آج یہ خوشی دی تھی۔ آج اُسکی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوئی تھی۔۔
    اُسکے بکھرے جذبات اور ٹوٹے خوابوں کو آج حقیقی تعبیر ملی تھی۔۔
    عرشیہ کا مِل جانا۔۔۔ لیکن اِسطرح۔۔ اِن حالات میں۔۔
    اِسطرح تو اُس نے کبھی نہ چاہا تھا۔۔ پر کبھی کبھی قدرت ایسا کھیل کھیلتی ہے کہ انسان دیکھتا رہ جاتا ہے۔ کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جس پر انسان محض ایک کٹھ پُتلی بن کرقسمت کے اِشاروں پر رقص کرتا ہے۔روحیل خود بھی ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ یہ سب اُسکے لئے بھی بہت غیر متوقع اور اچانک تھا۔ لیکن! وہ اپنی محبت کے ہاتھوں اِتنا مجبور تھا کہ شارق کی اِس آخری خواہش کو رد نہ کرسکا۔ اُسے یاد تھا جب شارق نے اسپتال کے بیڈ پر اُسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر عرشیہ کی خوشیاں مانگی تھیں اور روحیل کو اُسکی محبت کی قسم دے کرمجبور کردیا تھا۔
    ‘میں جانتا ہوں تم عرشیہ سے مجھ سے بھی زیادہ محبت کرتے ہو اور اُسکو ساری عمر اِس تکلیف سے گزرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، اِسلئے میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں میری عرشیہ کو اپنا لو۔۔ میری عرشیہ کو سمیٹ لینا، میرے بعد صرف تم ہو جو اُسے خوش رکھ سکتے ہو، زندگی کی طرف دوبارہ واپس لاسکتے ہو۔ پلیز میری یہ آخری خواہش پوری کردو روحیل۔۔ پلیز!’ وہ اُس تکلیف میں بھی صرف عرشیہ کی خوشیاں مانگ رہا تھا۔ کتنی محبت کرتا تھا وہ اُس سے
    ‘یہ کیا کر رہے ہو شیری، ایسے مت کہو تم بالکل ٹھیک۔۔۔’ روحیل نے اُس کے جُڑے ہوئے ہاتھ کھول دئیے جس پر شارق اُسکی بات کاٹ کر بولا
    ‘میرے پاس چند سانسیں بچی ہیں روحیل جو کبھی بھی آخری سانس بن سکتی ہیں مجھ سے وعدہ کرو، پلیز میں بہت تکلیف میں ہوں!’
    ‘مگر عرشیہ مجھ سے نفرت کرتی ہے۔۔’ یہ احساس ہی کتنا جان لیوا ہوتا ہے کہ جس شخص سے آپ نے شدتوں سے عِشق کیا ہو، ہر دعا میںاُسے مانگا ہو ، آپکا ہر خواب اُس سے شروع ہوکر اُس پر ختم ہوتا ہو ، بدلے میں اُس سے صرف نفرت اور حقارت ملے۔
    ‘جب وہ تمھارے ساتھ ہوگی تو تم سے محبت بھی کرنے لگے گی میری عرشیہ کا دِل بہت نرم ہے۔بس مجھ سے وعدہ کرو۔ تمھیں تمھاری محبت کی قسم ہے!’
    اور اُس ایک قسم نے روحیل کو مجبور کردیا تھا۔ اُسکی محبت نے اُسے مجبور کردیا تھا۔وہ اپنی محبت کے آگے ہار گیا تھا۔اور شارق اپنی زندگی ہار گیا تھا۔ اِس واقعے کے چھ ماہ بعد اُن دونوں کی شادی طے پائی تھی۔ اور پھر اُنکی شادی کا دن بھی آگیا۔ وہ سارا وقت بہت ضبط سے بیٹھی رہی لیکن رُخصتی کے وقت سُمیر صاحب اور زُنیرہ بیگم سے مل کر اُسکا سارا ضبط ریزہ ریزہ ہوگیا تھا۔ وہ اپنے ماںباپ کی دعاؤں کے سائے میں رُخصت ہوکر روحیل کے ہمراہ روحیل وِلا چلی آئی تھی۔ وہاں پہنچتے ہی حرابیگم نے اُسے کمرے میں بھجوادیا ۔ وہ جانتی تھیں کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر بہت تھکی ہوئی ہے۔ اُسکی طبیعت بھی بہت بوجھل لگ رہی تھی۔انھوں نے رابیل کے ہاتھ گرم دودھ اور دو پین کلرز عرشیہ کے کمرے میں بھجوادی تھیں۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    روحیل نے بس ایک جھلک دلہن بنی عرشیہ کو دیکھا تھا۔ گو کہ اُسے سادگی سے تیار کیا گیا تھالیکن پھر بھی وہ سُرخ جوڑے میں خوبصورتی کا شاہکار لگ رہی تھی۔ روحیل چند لمحے اپنے کمرے کے پاس آکر رُکا جیسے اندر جانے کی ہمُت جمع کر رہا ہو۔پھر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا اور پیچھے دروازہ لاک کردیا۔ کمرہ سُرخ و سفید مُلائم گُلابوں سے سجا ہوا تھا۔ پورے کمرے میں گُلاب کی مہک رچی ہوئی تھی جو ماحول کو ایک بہترین احساس بخش رہی تھی اور کمرہ ایک خوابناک منظر پیش کر رہا تھا ۔کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے جیسے ہی اُسکی نظر بیڈ کے این وسط میں پڑی وہ چونک گیا۔ بیڈ خالی تھا۔اُس نے کمرے میں نظریں دوڑائیں، کمرہ خالی تھا (عرشیہ کہاں گئی؟) ابھی وہ آگے بڑھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ باتھروم کا دروازہ بند کرکے عرشیہ اندر آئی ۔
    دُھلا ہوا شفاف چہرہ۔۔ کہیں کہیں پانی کے ننھے قطرے جھلملا رہے تھے۔۔
    بالوں کا بڑا سا جوڑا بنا ہوا تھا۔۔
    وہ بیبی پِنک کلر کا سادہ سا کاٹن کا سوٹ پہنے ہوئے تھی۔۔
    نہ سُرخ جوڑا تھا۔۔ نہ کوئی زیور۔۔ نہ ہار سِنگھار۔۔
    وہ روحیل کے آنے سے پہلے ہی سب تبدیل کرکے آچُکی تھی۔ اور روحیل کو اِسی چیز کی اُمید تھی شایدوہ اُسکی ذہنی کیفیت سے واقف تھا۔۔
    عرشیہ اپنی دُھن میں باہر آئی تھی لیکن اب روحیل کو اپنی طرف دیکھتا پا کر وہ تھوڑی نروس ہوگئی تھی۔ جھٹ سے دوپٹہ سر پر ڈال لیا۔روحیل نے ہمیشہ کی طرح سلام میں پہل کی تھی ۔ اُس نے کافی سنجیدگی سے جواب دیا اور اِس سے پہلے کہ روحیل کچھ بولتا وہ بول پڑی۔
    ‘جانماز کہاں ہے؟ مجھے نماز پڑھنی ہے۔’ روحیل کچھ بولا نہیں بس وارڈروب کی طرف اِشارہ کردیا۔ جب تک وہ نماز پڑھ رہی تھی روحیل بھی کپڑے تبدیل کرکے آچُکا تھا۔وہ بیڈ پر ٹِک گیا اور اُسکی نماز ختم ہونے کا اِنتظارکرنے لگا۔وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی اورساتھ ہی روحیل کو متوجہ کیا۔
    ‘میں بہت تھک گئی ہوں۔سونا چاہتی ہوں۔’
    ‘کیا آپ جانتی ہیں آج ہی ہماری شادی ہوئی ہے، دو گھڑی بات تو کرسکتے ہیں؟ ‘ روحیل نے سنجیدگی سے دریافت کیا
    ‘پلیز! میں اِسوقت صرف سونا چاہتی ہوں۔’ وہ اسوقت کسی بحث کے موڈ میں نہیں تھی اِسلئے آنکھیں رگڑتے ہوئے بولی اور کمرے میں موجود ایک چھوٹے کمرے(اسٹڈی روم ) کی جانب بڑھنے لگی۔
    ‘کہاں جارہی ہو؟’ روحیل نے حیرانی سے سوال کیا اور عرشیہ کا ہینڈل کی طرف بڑھتا ہاتھ رُک گیا
    ‘ باہر جارہی ہوں۔’
    ‘کیوں؟’ روحیل نے سوال کیا اور چلتا ہوا اُس کے قریب آگیا
    ‘ابھی تو بتایا ہے کہ تھک گئی ہوں اور سونا چاہتی ہوں، اسلئے دوسرے کمرے میں جا رہی ہوں۔’ عرشیہ نے بے زاری سے جواب دیا اور روحیل کو نہ چاہتے ہوئے بھی غصہ آنے لگا۔ وہ مسلسل اُسے اِگنور کئے جارہی تھی۔پھر بھی وہ اُسکی ذہنی حالت کو سمجھتے ہوئے اپنا غصہ دباکر نارمل انداز میں بولا۔
    ‘کیا ہم کچھ دیر باتیں نہیں کرسکتے؟ میں تم سے۔۔۔۔’
    ‘روحیل پلیز! کیا ہم یہ باتیں کل نہیں کرسکتے؟ میں سچ میں بہت تھکی ہوئی ہوں۔ صرف آرام کرنا چاہتی ہوں!’ عرشیہ نے معصومیت سے کہا توکتنی ہی دیر روحیل اُسکے سادہ اور تھکے ہوئے چہرے کو تکتا رہا جہاں واقعی تھکن اُتری ہوئی تھی اورسُنہری آنکھوں میںنیند کا خُمار ہچکولے رہا تھا۔ روحیل کا سارا غصہ پل بھر میں غائب ہوگیا اور اُسے اِس معصوم سی لڑکی پر ٹوٹ کرپیار آنے لگا۔ لیکن وہ اپنے سر کش جذبوں کو دباتا ہوا دھیمے اور اپنائیت بھرے لہجے میں گویا ہوا۔
    ‘ٹھیک ہے سوجاؤ لیکن پلیز یہیںاِسی کمرے میں! اِس اسٹڈی روم کا دوسرا دروازہ لاؤنج کی طرف بھی کُھلتا ہے اور اسوقت گھر میں بہت مہمان ہیں۔ وہ کچھ نہیں جانتے، بہت باتیں بنیںگی اسلئے تمھیں سونا تو یہیں پڑیگا۔’ عرشیہ اُسے اُلجھن سے دیکھنے لگی جب روحیل نے مسکرا کر دوبارہ اپنی بات جاری کی۔
    ‘گھبراؤ نہیں! تم بیڈ پر سوجاؤ میں صوفے پر سوجاؤنگا۔۔ ۔ اور ہاں۔۔یہ تمھارا منہ دکھائی کا تحفہ ہے، تم پہنوگی تو مجھے اچھا لگے گا۔’ اُسنے ایک مہرون مخملی ڈبّہ اُسکی طرف بڑھایا ۔ وہ چند لمحے اُسکے جواب کا منتظر رہا پر وہ کچھ نہ بولی بلکہ خاموشی سے ڈبّہ اُسکے ہاتھ سے لے لیا اوربیڈ کی طرف بڑھ گئی ۔ وہ بھی ایک گہری سانس لیتا صوفے کی جانب بڑھ گیا۔ اُسے پھر بھی تسلّی نہ ہوئی تھی وہ کتنی ہی دیر اپنے آپ میں سِمٹی بیڈ پر بیٹھی رہی شاید روحیل کے سونے کا انتظار کرر ہی تھی۔روحیل نے کروٹ بدلتے ہوئے بیڈ پر نظر ڈالی ، اُسکے ایسے محتاط اور ڈرے سہمے سے انداز پر اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولا۔
    ‘ڈرو مت! یہ تمھارا اپنا ہی کمرہ ہے ، سکون سے سو۔ کچھ نہیں ہوگا۔’ اُسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اُسکی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا ہے۔ عرشیہ گھبرا کر اپنی خفت مِٹانے فوراً لیٹ گئی اور چادر اوپر تک تان لی۔
    ************************
    ایک بھرپور انگڑائی کے ساتھ اُسنے آنکھ کھولی۔ پین کلر کا اثر تھا کہ وہ رات بھر پُر سکون نیند سوئی تھی۔ گھڑی پر نظر پڑتے ہی وہ گھبرا کر اُٹھ بیٹھی۔ گھڑی صبح کے دس بجا رہی تھی۔وہ بہت دیر سوئی تھی ۔کچھ دوا کا اثر بھی تھا ، رات بھر کی تھکن اور اِتنے دنوں کی ذہنی ٹینشن نے اُسے واقعی تھکا ڈالا تھا۔
    منہ پر آئے بالوں کو سمیٹتی وہ بیڈ سے نیچے اُتر آئی اور سِلپرز پہن کر جیسے ہی صوفے پر نظر پڑی وہ غیر اِرادی طور پر چلتی ہوئی اُسکے قریب آگئی۔
    کچھ دیر وہ روحیل کے سوئے ہوئے وجود کو دیکھتی رہی۔ وہ بلاشبہ اِتنا ہی خوبصورت تھا کہ ہر کوئی اُسکے سحر میں گرفتار ہوجاتا تھا۔ عرشیہ بھی کچھ لمحوں کیلئے اُسکے سحر میں گرفتار ہوگئی تھی پر وہ جلد ہی اِس کیفیت سے نکل آئی ۔اپنی سوچوں کو رد کرتی وہ باتھروم کی جانب بڑھ گئی۔ اور یہ دیکھنے سے قاصر رہی کہ اُسکے جاتے ہی روحیل کے چہرے پر بڑی شریر مسکراہٹ رقص کرنے لگی تھی۔وہ اُسکی ساری حرکات نوٹ کرچُکا تھا۔ وہ نہا کر باہر آئی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کو سُلجھانے لگی جب دروازے پر دستک ہوئی۔ اُس نے پلٹ کر روحیل کو دیکھا پرروحیل کے وجود میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔وہ ایسے ہی بے خبر سو رہا تھا۔عرشیہ کو آگے بڑھ کر خود سے دروازہ کھولنا بہت عجیب لگا اور وہ بھی تب جب وہ صوفے پر دراز تھا۔وہ روحیل کو مُخاطب کرنا نہیں چاہتی تھی لیکن اُسکو اُٹھانے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا اِسلئے ناچار وہ آگے بڑھی اور اُسے آواز دی۔
    ‘روحیل!’
    ‘روحیل!’
    ‘روحیل!’
    دو چار آوازوں کے بعد بھی وہ ایسے ہی دُنیا و مافیہا سے بے خبر سورہا تھا۔ نا چاہتے ہوئے بھی عرشیہ کو اُسکے قریب جاکر اُسکا کندھا ہِلانا پڑا۔
    ‘اُٹھو پلیز! دیکھو دروازے پر کوئی ہے۔’ پریشانی اُسکے چہرے سے ایاں تھی لیکن وہ بے خبر پڑا تھا۔ایک بار دستک کے بعد آواز آنا بند ہوگئی تھی۔وہ سخت کوفت میں مُبتلا ہوکر بڑبڑائی۔
    ‘ارے اُٹھو بھی روحیل! اُف خدایا پتا نہیں کیسی نیند ہے۔ اب کیا کروں میں؟’ یہ کہہ کر وہ جیسے ہی پلٹی روحیل نے اُسکا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیا اور گنگنایا۔
    ‘روح پر نقشِ لازوال ہے تو،
    اب خیالوں میں ایک خیال ہے تو،
    تیرے جیسا کوئی نہ دیکھا،
    تو ہے انمول، بے مثال ہے تو،
    مجھ کو پاگل بنادیا تو نے،
    عشق کا کیسا یہ کمال ہے تو،
    تو محبت ہے ، آرزو ہے میری،
    میری اِس زندگی کی ڈھال ہے تو،
    تیرے دم سے ہی پیار زندہ ہے،
    میرے ماضی کی تلاش، میرا حال ہے تو!’
    وہ اِسوقت روحیل کے دل کی دنیا زیر و زبر کر رہی تھی۔ گیلے بال پُشت پر کھلے ہوئے تھے۔ اِس پر اُسکاکھلا ہوا گلاب چہرہ جو غصے اور گھبراہٹ کی آمیزش سے کچھ اور سُرخ پڑگیا تھا۔ وہ ایک لمحے میں تپا تپا چہرہ لئے پلٹی اور دھیمی لیکن گرجدار آواز میں بولی۔
    ‘یہ کیا بدتمیزی ہے؟ چھوڑو میرا ہاتھ!’ وہ اُسی اطمینان سے لیٹا اُسے دیکھتا رہا اور جب بولا تو اطمینان ہنوز قائم تھا
    ‘دل نہیں چاہ رہا نا چھوڑنے کا۔’ اُسکا اطمینان عرشیہ کو سر سے پاؤں تک جلا گیا
    ‘تمھارا دل تو مائی فُٹ! زیادہ فری ہونے کی کوشش مت کرو میرے ساتھ، اور ہاتھ چھوڑو۔’ اِس بات پر روحیل نے بے ساختہ قہقہہ لگایا لیکن اِس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا دروازہ دوبارہ بج اُٹھا اور اِس بار رابیل کی کھنکدار آواز سُنائی دی۔
    ‘تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ دروازے پر کوئی ہے؟’ روحیل اُسکا ہاتھ چھوڑتا ایک لمحے میں صوفے سے اُٹھااور اُسی تیزی سے اپنا تکیہ اُٹھا کر بیڈ پر پھینکا۔ عرشیہ کو اُسکے انجان بننے پر مزید غصہ آیا۔
    ‘کب سے تواُٹھا رہی تھی لیکن تمھیں تو بس اپنی فالتو حرکتوں سے فُرصت۔۔۔’
    ‘اوہ شٹ اپ(Oh Shut up)!’ روحیل نے اُسکی بات کاٹ دی۔ایسے فضول الفاظ استعمال کرنے پر روحیل کو بُرا لگا تھا
    ‘اب جاؤ کھولو دروازہ، اور کسی سے یہ مت کہہ دینا کہ میں صوفے پر تھا۔’
    ‘اِتنا ہی بے وقوف سمجھا ہے کیا مجھے؟’ عرشیہ نے ظنز کیا جسکا روحیل نے تُرکی بہ تُرکی جواب دیا
    ‘بے وقوف تو تم ہو اور وہ بھی بہت بڑی! کبھی فُرصت سے بتاؤنگا، ابھی جاؤ دروازہ کھولو۔’
    وہ تیزی سے باتھروم میں غائب ہوگیا اور عرشیہ پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔
    ************************

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});