Author: misbah116@hotmail.com

  • دادی جان نے دال پکائی

    دادی جان نے دال پکائی

    نویں انعام یافتہ نظم
    دادی جان نے دال پکائی
    سارہ قیوم

    دادی جان نے دال پکائی
    امی، ابو، آپا، بھائی
    ناک بھوں سب نے چڑھائی
    دادی جان نے دال پکائی

    کاش بنائی ہوتی چُوری
    کُنا، بھاجی، حلوہ، پوری
    گھر میں ہوتا کوئی حلوائی
    دادی جان نے دال پکائی

    نہ کوئی زردہ نہ کوئی کھیر
    نہ فالودہ اور پنیر
    نہ کوئی پائے، نہ کوئی پائی
    دادی جان نے دال پکائی

    مزے کی ہوگئی ایسی دال
    ٹپکی سب کی اس پر رال
    اتنے میں موٹی ہمسائی
    بھاگی دوڑی اندر آئی

    ساری دال ہماری کھائی
    میرے اللہ تیری دہائی

  • عکس — قسط نمبر ۱۴

    اس آئینے نے کئی سال پہلے کی طرح آج بھی شہربانو کی نظر کو خود سے ہٹنے نہیں دیا… گزر جانے نہیں دیا۔ وہ آئینے کے سامنے رک گئی، وقت نے اس آئینے پر اپنے نشانات بڑھا دیے تھے… ہلکی سی بوسیدگی، چند داغ، کئی نئی لکیریں، آب و تاب کھوئی ہوئی چمک، بجھی ہوئی رنگت… وقت نے ایسے ہی بہت سے نشانات اس کے اپنے وجود اور اس چہرے پربھی چھوڑے تھے جس کا عکس آئینے میں دیکھنے پر شناخت کرتے ہوئے اسے چند لمحے لگے تھے۔
    وہ آئینے میں خود کو دن میں کئی بار دیکھتی تھی… لیکن اس آئینے میں نظر آنے والا عکس اس نے کئی سال بعد دیکھا تھا… ایک نظر اس نے خود کو دیکھا پھر اپنے عقب میں نمودار ہونے والے مرد کو… شیردل کو… آئینے میں دونوں کی نظریں لمحے بھر کے لیے ایک دوسرے سے ملی تھیں پھر دونوں نے ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا لیں۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے ایک دوسرے سے اسی طرح نظریں چراتے ہوئے ہی پھر رہے تھے۔ آئینے میں ایک لمحے کے لیے جیسے ان کی زندگی جھلکی تھی… وہ زندگی جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزار رہے تھے… کئی سال سے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ… اور ایک دوسرے سے کئی صدیوں کے فاصلے پر… ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار… اور اس محبت کو کائی کی طرح اپنے وجود سے نوچتے ہوئے۔
    شیردل اس کے پاس سے گزر کر کھلے ہوئے اندرونی دروازے سے اندر چلا گیا تھا۔ شہربانو نے سر اٹھا کر ایک گہرا سانس لیتے ہوئے ایک بار پھر اس آئینے کو اور اس گھر کو دیکھا۔
    زندگی میں اس گھر سے زیادہ نفرت اسے کبھی کسی دوسری جگہ سے نہیں ہوئی تھی… نفرت شاید ایک بہت معمولی لفظ تھا اپنے ان احساسات کو بیان کرنے کے لیے جو وہ اس گھر کے لیے رکھتی تھی… وہاں کی ایک ایک چیز کے لیے رکھتی تھی… اگر کوئی اسے کبھی کہتا کہ دنیا میں وہ کون سی ایک جگہ تھی جسے وہ آگ لگا کر بھسم کر دینا چاہتی تھی تو شہربانو اس گھر کا نام لیتی… اور اس تمام نفرت کے باوجود شہربانو وہاں آنے اور وہاں رہنے پر مجبور تھی۔ کیونکہ وہ اس گھر کی ملکہ تھی۔
    ……٭……




    بختیار شیردل نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک لفافہ نکالا اور اسے خیردین کے سامنے پڑی سینٹر ٹیبل پر رکھ دیا۔ چند لمحوں کے لیے بات کا آغاز کرنے کے لیے لفظ ڈھونڈتے ہوئے انہیں بھی دانتوں پسینے آگئے تھے۔ زندگی میں پہلی بار وہ کسی کے پاس معذرت کرنے کے لیے پہنچے تھے اور جس چیز کی معذرت وہ کرنا چاہتے تھے اس کا ذکر بھی زبان پر لاتے ہوئے وہ منوں بوجھ کے نیچے دب رہے تھے۔ وہ طبقاتی فرق پر یقین رکھتے تھے لیکن بے ضمیری پر نہیں۔ ان کے برابرمیں بیٹھی ہوئی منزہ نے ایک بار بھی خیردین کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ بس بے تاثر چہرے کے ساتھ نظریں جھکائے اپنی کلائی میں موجود رولیکس گھڑی پر انگلیاں پھیرتی رہی۔ بختیارشیردل کو اسے خیردین کے پاس معذرت کے لیے چلنے پر تیار کرنے کے لیے زندگی میں پہلی بار بہت سخت لفظوں کا استعمال کرنا پڑا تھا اور ان لفظوں نے منزہ کی خفگی کو جیسے بڑھا دیا تھا۔ شوہر کے غصے نے انہیں ہتھیار ڈالنے اور ان کی بات ماننے پر مجبور کر دیا تھا لیکن وہ دل میں موجود کدورت کو ختم نہیں کر سکی تھی۔ بختیارشیردل جیسے ایک چور کو اس گھر میں اس مالک کے سامنے لے آئے تھے جس کے گھر میں ڈاکا ڈالا گیا تھا۔
    ”آپ کچھ لیں گے؟” غیر متوقع طور پر گفتگو کا آغاز خیردین نے کیا تھا۔ وہ شاید ان کی مشکل بھانپ گیا تھا۔
    ”نہیں کچھ نہیں… thank you۔” بختیار نے بڑی شائستگی کے ساتھ انکار کیا۔ خیردین نے ان کے انکار کے باوجود کارنر ٹیبل پر پڑا انٹرکام کا ریسیور اٹھا کر ملازم سے چائے کے لیے کہا اور پھر ریسیور رکھ دیا۔ ہتک کی کوئی انتہا تھی جو منزہ اس وقت وہاں خیردین کے سامنے بیٹھے ہوئے محسوس کررہی تھی۔ وہ اسی گھر میں ایک مہینہ اس کی اور اس کے بچوں کی خدمت کرتا رہا تھا۔ اس کے کپڑوں کو استری کرنے سے لے کر اس کے جوتے صاف کرنے تک… صبح اس کو بیڈ ٹی پہنچانے سے لے کر آدھی رات کو کسی بھی وقت طلب کیے جانے پر حاضر ہو جانے تک… اور اس کی کبھی جرأت نہیں ہوئی تھی کہ وہ اس کے سامنے بیٹھ سکے… وہ ہاتھ باندھ کر آتا تھا، ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا تھا اور اسی طرح ہاتھ باندھے سر جھکائے چلا جایا کرتا تھا اور اب وہ ان کے لیے اس گھر کے اس صوفے پر بیٹھ کر چائے آرڈر کر رہا تھا جہاں پر میزبان بیٹھا کرتا تھا اور اب وہ ان کے ساتھ انہی برتنوں میں چائے پیے گا جن برتنوں میں وہ پئیں گے اور یہ سب اس کے اس احمق شوہر کی وجہ سے ہورہا تھا جو 21 گریڈ کا ایک سیکریٹری ہوتے ہوئے 18 گریڈ کی ایک ڈپٹی کمشنر کے گھر اپنے ضمیر کی چبھن مٹانے آیا تھا۔
    ”idiot۔” اس نے دل ہی دل میں اپنے شوہر کو کوسا۔ وہاں خیردین کے برابر بیٹھنا منزہ کے لیے جیسے کوئلوں کی انگیٹھی پر بیٹھنے کے برابر تھا۔ اتنے سال اپنے بھائی کی جس عزت کو بچانے کے لیے وہ کامیاب جدوجہد کرتی آرہی تھی وہ آج بیچ چوراہے نیلام ہونے چلی تھی اور اس کا سارا کریڈٹ اس کے ”باضمیر” شوہر اور الو کے پٹھے بیٹے کو جاتا تھا۔
    ”میں اپنی فیملی کی طرف سے شہباز حسین سے ہونے والی ساری غلطیوں کے لیے معذرت کرنے آیا ہوں۔” بختیار نے بالآخر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔ ”شہباز اب اس دنیا میں نہیں ہے ورنہ میں اسے ساتھ لے کر آپ کے پاس آتا۔ اس نے جو کچھ بھی آپ کے اور آپ کی نواسی کے ساتھ کیا وہ کسی بھی لحاظ سے کسی اچھے انسان کا رویہ نہیں ہو سکتا۔ میں اس کے طرزعمل کے لیے آپ سے کتنا شرمندہ ہوں آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے۔” آنسو خیردین کی آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح ایک لمحہ میں امڈ آئے تھے۔ اسے بختیار شیردل سے اتنے کھلے لفظوں میں اس گفتگو کی امید نہیں تھی۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ آج کی ملاقات کس لیے ہورہی تھی۔ ایبک شیردل کے والدین اگر اس سے ملنے آرہے تھے تو کس لیے آرہے تھے… اس نے بہت سے اندازے لگانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے کسی اندازے میں شہباز حسین نہیں آیا تھا اور اب اتنے سالوں بعد منزہ کو دیکھنے پر اور بختیار کے منہ سے اسی قصے کا ذکر سننے پر وہ جیسے بری طرح دل گرفتہ ہوا تھا۔ وہ بختیار شیردل سے اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب کے بعد بھی دو تین سرکاری فنکشنز میں ایبک شیردل کے ساتھ مل چکا تھا لیکن وہ منزہ سے پہلی بار مل رہا تھا۔ بختیار کی گفتگو سنتے ہوئے اس کا ذہن ابھی بھی یہ ماننے پر تیار نہیں ہورہا تھا کہ چڑیا اس سے ایبک شیردل کے بارے میں اتنا بڑا راز چھپا سکتی تھی… کیا وہ بھی اسی کی طرح اس خاندان کی شناخت سے بے خبر تھی؟ اس نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور تبھی بختیار نے اس کیس کا ذکر شروع کر دیا۔ خیردین کو کرنٹ لگا تھا تو اس کا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا تھا وہ جانتی تھی ایبک شیردل کون تھا اور اس نے پھر بھی خیردین کو کبھی اس کے بارے میں نہیں بتایا… کیوں؟ خیردین کو زندگی میں پہلی بار اپنی چڑیا سے گلہ ہوا تھا۔
    ……٭……
    شیردل اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔ وہ شہربانو سے ان دو سوالوں کی ان الفاظ میں توقع نہیں کررہا تھا۔ نہ وہ عکس کا ذکر اس انداز میں سننے کی امید رکھے ہوئے تھا۔
    شہربانو کو اس کی اس خاموشی سے خنجر کی کاٹ جیسی تکلیف ہوئی جو ان دو سوالوں کے جواب میں اسے شیردل سے ملی تھی۔ سارے خدشات، ساری بدگمانیوں، سارے گلے شکووں کے باوجود بھی کہیں نہ کہیں اسے بھی جیسے ایک عجیب سی امید تھی کہ وہ بے ساختہ انکار کرے گا، تردید کرے گا… اس نے ایسا تو کچھ نہیں پوچھا تھا اس سے کہ اس کے سامنے کھائی آجاتی۔ شیردل کی خاموشی نے اس کے اندر کے شور کو یک دم اور بڑھا دیا تھا۔
    ”مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جواب اتنا مشکل ہے تمہارے لیے۔” شہربانو نے عجیب شکست خوردگی کے ساتھ اس کے چہرے سے نظریں ہٹائیں۔ شکست اس کے غصے کو عجیب طرح سے بھڑکانے لگی تھی۔
    ”احمقانہ باتوں اورسوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے میرے پاس۔” شیردل نے بالآخر جیسے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”احمقانہ؟” وہ تلخی سے ہنس پڑی۔ ”شیردل تم اپنے دل سے پوچھو کہ تمہیں یہ سوال احمقانہ لگا ہے؟” اس نے عجیب چیلنج کرنے والے انداز میں اس سے کہا۔
    ”ہاں مجھے لگا ہے۔ اسی لیے کہا ہے تم سے…” شیردل نے بڑی خفگی کے ساتھ اس سے کہا۔ ”ہم کیس کو ڈسکس کررہے تھے… میرے اور عکس کے حوالے سے کوئی ڈسکشن نہیں ہورہی تھی۔”
    ”یہ کیس تمہاری وجہ سے شروع ہوا ہے۔ تمہارے اورعکس کے اس تعلق کی وجہ سے شروع ہوا ہے جس پر تم بات نہیں کرنا چاہتے۔ اس ساری کہانی میں یہ تیسرا اینگل نہ ہوتا تو یہ کیس بھی کورٹ میں نہ ہوتا۔” شہربانو نے بے حد تلخی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔




  • عکس — قسط نمبر ۱۳

    چند لمحے پہلے آئینے میں نظر آنے والے اپنے عکس کو اس بار اس نے خیردین کی آنکھوں میں منعکس ہوتے دیکھا تھا۔
    ایک سرخ اور سنہرے کامدار دوپٹے کے ہالے میں دلہن کا روپ لیے چمکتا ہوا اس کا چہرہ… ماتھے کے بیچوں بیچ تاج کی طرح ٹکا اس کے لباس کے ہم رنگ سرخ پتھروں سے مرصع بیضوی شکل کا ایک ٹیکا… اس کے کانوں میں ہلکورے لیتے لمبے لمبے جھمکے جن کے نچلے حصے پر لٹکتے سرخ باریک موتی اس کی قمیص کے گہرے گول گلے سے ہمیشہ کی طرح نمایاں کالر بون کو گردن کے ذرا سے خم پر چومنے لگتے تھے اور اس کی باریک صراحی دار گردن کے گرد موجود سرخ پتھروں کا وہ نیکلس جس کا نیچے کو نکلا ہوا سنہری بیضوی حصہ اس کی سرخ قمیص کے سرے کو چھو رہا تھا۔ وہ آئینے میں اپنے شفاف اور واضح اس عکس کو دیکھ کر مبہوت نہیں ہوئی تھی۔ خیردین کی آنکھوں میں اپنے دھند لائے ہوئے عکس کو دیکھ کر ہوگئی تھی۔ وہ اپنے نانا کی آنکھوں کی نمی میں ہلکورے لے رہی تھی یا شاید وہ اس کی اپنی آنکھوں کی نمی تھی جس نے خیردین کی آنکھوں کی نمی میں دھند لاتے اس کے عکس کو کچھ اور دھند لا کر دیا تھا۔




    لیکن خیردین اور وہ پھر بھی ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ساتھ… بے یقینی کے ایک عجیب سے جہاں میں پہنچے ہوئے۔
    اس کے چہرے سے بالا خر نظریں پہلے خیردین نے ہی ہٹائی تھیں۔ وہ اپنی چڑیا کو اپنی نظر لگنے سے بھی بچانا چاہتا تھا۔ یہ اس کا وہ روپ تھا جس کو دیکھنے کے لیے وہ کئی سالوں سے متمنی تھا اور آج اس روپ میں چڑیا کو دیکھتے ہوئے اس کا دل عجیب سی خوشی اور طمانیت کے ساتھ ساتھ بڑی عجیب سی کسک محسوس کرنے لگا تھا۔ اس کی چڑیا کو اپنا جیون ساتھی مل گیا تھا وہ اس کے ساتھ اب ایک نئے سفر پر اڑجانے والی تھی۔
    عکس نے خیردین کو خود سے نظریں چراتے ہوئے آگے بڑھتے اور اسے اپنے ساتھ لپٹاتے دیکھا۔ وہ جذباتی نہیں تھی لیکن وہ اس لمحے رودی تھی۔
    وہ چند منٹ پہلے بیوٹی پارلر سے نکاح کی اس سادہ تقریب میں شرکت کے لیے پہنچی تھی جو اسی گھر کے لان میں منعقد کی گئی تھی اور دروازے پر اس کا استقبال خیردین نے ہی کیا تھا۔ وہ چڑیا کے چند گھنٹے پہلے پارلر جانے کے بعد سے وہاں مہمانوں کا استقبال کرتا وہاں سے ہلا نہیں تھا۔ اسے اپنی چڑیا کی واپسی کا انتظار تھا۔ دلہن کے روپ میں اس پر پہلی نظر ڈالنے کی بے قراری… خیردین کی نظریں مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اور انہیں پائیں باغ کی طرف بھیجتے ہوئے بھی گیٹ پر جمی رہی تھیں۔
    اور اب جب وہ گھر کے اندرونی دروازے کے سامنے گھر کے اندر جانے کے لیے اپنی چند دوستوں کے ساتھ کھڑی تھی تو خیردین کا دل عجیب طرح سے بوجھل تھا۔ وہ عام لڑکی نہیں تھی نہ خیردین نے اسے عام طرح سے پالا تھا پھر بھی وہ ایک لڑکی تھی اور خیردین کا دل ویسے ہی اندیشوں اور خدشات سے دوچار تھا جیسے اندیشے کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کو ایک انجان آدمی کے ساتھ ایک انجان سفر پر رخصت کرتے ہوئے رکھتا…چاہے وہ انجان آدمی جیون ساتھی ہی کیوں نہ ہوتا۔ چاہے وہ انجان سفر زندگی کا سفر ہی کیوں نہیں ہوتا۔
    خیردین نے اسے کندھوں سے تھامے ہوئے اس کے جھکے ہوئے سر کو پھر ماتھے کو چوما ،عکس نے ایک بار پھر سر اٹھا کر اپنے نانا کو دیکھا وہ کتنی خوب صورت لگ رہی تھی اس نے خیردین کی آنکھوں میں دیکھ لیا تھا۔ وہ اس کے لیے کیا دعائیں کررہا تھا وہ اس کے ساکت ہونٹ سے بھی سن سکتی تھی۔ عکس مراد علی نے اپنی ساری زندگی میں ایسا مرد کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ شفیق تھا، رہبر تھا، دوست تھا، غم خوار تھا، اس پر جان چھڑکنے والا تھا اوروہ اس کے لیے اپنی انا اور عزت کو ہر بار کی طرح اس بار بھی کہیں بہت پیچھے رکھ آیا تھا۔ ایسا کون ملے گا اسے جو اسے خیردین کی طرح چاہے گا… کبھی کوئی نہیں مل سکتا، کوئی اس جیسا ہو ہی نہیں سکتا ،کوئی اس کے لیے اپنے دل میں ویسی غیر مشروط محبت رکھ ہی نہیں سکتا۔ چڑیا نے اپنے نانا کی آنکھوں میںیہ سب پڑھا تھا۔ کھلی کتاب کی طرح جس کا ایک ایک لفظ خود بول رہا تھا۔
    بنا کچھ کہے اس نے خیردین کا ہاتھ تھام لیاتھا۔ اس ہاتھ کے لمس میں وہ تشکر جھلک رہا تھاجو عکس کے دل میں تھا اور جو اس کے نرم ہاتھ کی سخت گرفت میں تھا۔
    ”میں تمہارے بغیر بہت اداس ہوجاؤں گا چڑیا۔”خیردین نے اپنی نم آنکھیں صاف کرتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”نانا میں آپ کی زندگی سے کہیں جاؤں گی تو اداس ہوں گے نا آپ۔ میں کہیں نہیں جارہی ، میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہی رہوں گی۔” خیردین رنجیدگی سے اس کی تسلی سنتے ہوئے مسکرادیا تھا۔ وہ اسے بچوں کی طرح بہلا رہی تھی۔
    ”رک کیوں گئیں؟” خیردین نے اسے گھر کے اندرونی دروازے میں رکتے دیکھ کر کہا۔
    ”نہیں… ایسے ہی۔” وہ چونکی تھی اور اس نے اپنے ان سات ساتھیوں سے نظریں ہٹا لی تھیں جو ایک بار پھر اس کا استقبال کرنے کے لیے وہاں موجود تھے اور جنہیں وہ ہمیشہ اس گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہیں نہ کہیں دیکھتی رہی تھی۔ وہ سات اس کی زندگی کے اس نئے سفر پر اسے رخصت کرنے کے لیے ایک بار پھر وہاں موجود تھے۔
    ٹوفو اس کے رو پہلی چوڑی دار پاجامے کی چوڑیوں کے ساتھ لٹکا اپنا توازن برقرار رکھنے کی جدو جہد میں مصروف تھا۔ کنٹا اس کی پینسل ہیل والے جوتے کے اسٹرپ سے چپکا اس کے پیروں پر بنے مہندی کے نقش ونگار پر غور فرمانے میں مصروف تھا۔ منٹا ایک باجا پکڑے گھر کی دہلیز پر ادھر سے ادھر جاتے ہوئے اسے بجانے میں لگا تھا۔ ڈیڈو اچھل اچھل کر اس کے ٹخنوں تک پہنچتی سرخ قمیص کے سنہری کامدار دامن کو پکڑنے کی کوشش میں لگا تھا۔ ٹوکو اس کے زمین تک لٹکنے والے دوپٹے کے پلو سے لٹکا ہوا تھا اور کٹو اور ٹنٹو خوشی سے بے قابو سر پر سالگرہ والی نوکدار لمبی ٹوپیاں پہنے پھر کی کی طرح گول گول گھومتے چکراتے پھر رہے تھے۔ وہ سب اس کی خوشیوں کو سیلیبریٹ کررہے تھے۔ چڑیا نے اس غیر مرئی دنیا کو مسکراتے ہوئے دیکھا جو صرف اسے نظر آتی تھی اور جہاں کی ملکہ وہ تھی۔
    ایلس آج اپنے اس ونڈر لینڈ کو چھوڑ کر اپنے جیون ساتھی کے ساتھ ایک نئے ونڈر لینڈ کو آباد کرنے جارہی تھی۔
    ……٭……
    ان دونوں نے بہت دور سے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تھا۔ شیردل چند لمحے پہلے ہی ہاسپٹل کے اس کوریڈور میں داخل ہوا تھا جہاں خیردین کا کمرا تھا اور عکس ابھی ابھی ہاسپٹل سے کسی کام کے لیے باہر نکل رہی تھی۔ شیردل کو آتے دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی تھی۔ بہت دور سے بھی دونوں نے ایک دوسرے کو ایک خیرمقدمی مسکراہٹ دی تھی۔
    ”کب آئے؟” عکس نے اس کے قریب آنے پر علیک سلیک کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”ابھی، ابھی۔” شیردل نے جواب دیتے ہوئے اس کے چہرے کو جیسے کھوجنے کی کوشش کی، وہ ہمیشہ کی طرح ناکام رہا تھا۔ وہاں ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے علاوہ اسے کچھ نہیں ملا تھا۔ ایک انتہائی اطمینان بھری مسکراہٹ جس میں کسی قسم کا کوئی اضطراب نہیں تھا۔
    ”کیا ضرورت تھی اتنی جلدی یہاں آنے کی؟ ریسٹ کرتے… کل پرسوں آجاتے یا فون پر حال پوچھ لیتے۔” عکس نے اسے کہا۔
    ”انکل کیسے ہیں؟” شیردل نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس سے پوچھا۔
    ”اللہ کا شکر ہے پہلے سے بہت بہتر ہیں۔” عکس نے جواباً کہا۔ ”تمہاری فلائٹ کیسی رہی؟”
    ”ٹھیک تھی، تم نے مجھے اپنی suspensionکے بارے میں نہیں بتایا۔” شیردل نے چھوٹتے ہی وہ سوال کیا جو ہاسپٹل تک آنے کے پورے راستے میں اسے پریشان کرتا رہا تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹکی پھر اس نے اسی اطمینان سے کہا۔
    ”کیا بتاتی؟”ایک لمحے کے لیے اس کے سوال نے شیردل کو لاجواب کیا۔
    ”انفارم کرتیں مجھے، کل میری اور تمہاری بات ہوئی ہے تم نے ذکر تک نہیں کیا۔” وہ بات کرتے کرتے شکایت کرگیا۔
    ”فائدہ کیا ہوتا؟” اس کا اطمینان برقرار تھا۔
    نقصان بھی کوئی نہیں تھا۔” شیردل نے جتایا۔
    ”میں نے نہیں بتایا تو بھی پتا تو چل ہی گیا نا تمہیں… ایسا کوئی راز تو نہیں تھا کہ پتا نہ چلتا۔ نانا سے ملوگے؟” اس نے اس کی شکایت کو بے پروائی سے نظر انداز کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” شیردل نے مختصراً کہا اور قدم آگے بڑھادیے۔ عکس بھی اس کے ساتھ واپس پلٹ گئی تھی۔
    ”suspensionکیوں ہوئی؟” شیردل نے ساتھ چلتے ہوئے اس سے پوچھا، وہ گردن موڑ کر اس کو دیکھتے ہوئے مسکرائی۔
    ”پوری چارج شیٹ سناؤں یا صرف بنیادی وجہ بتاؤں؟” اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جس سے شیردل پر گھڑوں پانی پڑا تھا۔
    ”میں نے تمہیں منع کیا تھا۔” شیردل نے اس سے نظریں چراتے ہوئے خفگی سے کہا۔ ”اسی سب سے بچانا چاہتا تھا تمہیں، اسی سب سے بچانے کے لیے وارن کررہا تھا تمہیں۔”
    ”میں نے تم سے کوئی شکایت کی ہے؟” اس نے شیردل کی بات بڑے تحمل سے کاٹ دی تھی۔ ”اب تمہیں پتا چلا میں نے تمہیں کیوں نہیں بتایا تھا اپنی سسپینشن کے بارے میں۔”
    ”تم اپنا سروس ریکارڈ خراب کررہی ہو عکس۔” شیردل چلتے چلتے رک گیا تھا۔
    ”شیردل وہ میرا مسئلہ ہے تم اس کے بارے میں پریشان نہ ہو۔ مجھے چارج کیا گیا ہے میں انہیں explanation دے لوں گی۔ اور میرے لیے یہ سب غیر متوقع نہیں ہے۔ جس دن میں نے کیس فائل کیا تھا مجھے اندازہ تھا کہ میں کون سا پینڈورہ باکس کھولنے جارہی ہوں۔ اس لیے تم پریشان مت ہو۔ تم اپنی فیملی اور اپنے انکل کو defend کرو… مجھے کیس لڑنے کے لیے جو کرنا پڑا میں وہ کروں گی لیکن ہم پھر بھی دوست رہیں گے۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔ زندگی میں پہلی بار اسے عکس مراد علی بے وقوف لگی تھی۔
    ”تم عقل سے پیدل ہو۔” وہ کہے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔
    ”اچھا؟”وہ بے اختیار ہنس دی تھی۔
    ”تم اتنا آسان سمجھ رہی ہو یہ سب کچھ… تمہارا خیال ہے کہ تمہیں اگر suspend کیا گیا ہے تو پھر تمہاری explanationلے کرتم سے معذرت کرتے ہوئے تمہیں بحال کردیا جائے گا۔” وہ طنزیہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    ”شیردل میں کیس واپس نہیں لوں گی اور اب تو بالکل بھی نہیں۔ تم نانا کی عیادت کرنا چاہتے ہو یا ویسے ہی واپس جانا چاہتے ہو؟” اس نے شیردل کی بات کاٹ کر اسے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”جہنم میں جاؤ تم۔” شیردل اس کے جملے پر بری طرح جھنجلایا… وہ دوبارہ قدم اٹھاتے ہوئے مسکرائی۔
    ”میں وہاں سے گزر کر آئی ہوں۔ دوبارہ بھی جانا پڑا تو باہر نکلنے کا راستہ جانتی ہوں۔” اس کا اطمینان قا بل داد تھا اوروہ داد دیتا اگر کیس اس کے اپنے خلاف نہ ہوا ہوتا۔
    ”اور اب نانا سے میری suspension کا قصہ لے کر مت بیٹھنا۔” اس نے ساتھ چلتے ہوئے اسے ہدایت کی۔
    ”انہیں کچھ بتانا ہوتا تو سب سے پہلے اس کیس کے بارے میں بتاتا۔” وہ ساتھ چلتے ہوئے خفگی سے بولا۔
    ”عقل مند ہوگئے ہو۔” وہ داد نہیں تھی راز کو راز رکھے رکھنے کی ترغیب تھی اور شیردل یہ بات جانتا تھا۔
    خیردین بستر پہ لیٹے ہوئے دروازے میں داخل ہوتے شیردل کو دیکھ کر مدھم انداز میں ہلکا سا مسکرایا تھا۔ شیردل بھی جواباً مسکرایا۔ وہ عکس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوا تھا اور اس سے کچھ بات کرتے کرتے وہ خیردین کے بستر کے قریب آگیا۔ خیردین پر ذرا سا جھکتے ہوئے اس نے خیردین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بڑی نرم آواز میں آس سے پوچھا۔
    ”آپ کی طبیعت اب کیسی ہے انکل؟” خیردین مسکرایا تھا۔




  • جواز — امایہ خان

    ”میں بہت جلد واپس آئوں گی۔” نہایت گرم جوشی سے الوداع کہتے ہوئے اس نے بیپ سے رخصت لی۔ اپنے ریستوران کے مالک گرومیل کو اس نے پہلے ہی مطلع کردیا تھا۔ پیزیریا انٹیکا (pizzeria antica)، اٹلی کے شہر بریشیا کے شمال میں واقع تھا اور اسے وہاں ویٹر کی ملازمت کرتے تین ماہ ہوگئے تھے۔ اس مختصر سی مدت میں ہی اس نے اپنی خوش اخلاقی اور زندہ دلی سے سب گاہکوں کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ اسی لیے گرومیل ملتانی اس سے بے حد خوش تھا۔ وہ دوسری ایشیائی عورتوں کی طرح مردوں سے ہچکچاتی نہیں تھی بلکہ مسلمان ہونے کے باوجود مغربی لباس پہنتی اور ان ہی کے اطوار اپنائے ہوئے تھی۔ اطالوی زبان پر اُسے مکمل عبور تھا جس کی اہم ترین وجہ شاید بیپ تیمپینی سے دیرینہ تعلقات تھے۔




    گرومیل کئی بار کام ختم ہونے کے بعد اسے تیمپینی کے ساتھ جاتے دیکھ چکا تھا۔ وہ تیمپینی باشندہ تھا۔ پیشے کے لحاظ سے ترکھان اور اس کی عمر پینتیس برس تھی۔ اُس نے موقع دیکھ کر ایک دوبار سمجھانا چاہا۔
    ” تم ابھی کم عمر ہو، کسی بیس اکیس سال کے لڑکے سے دوستی کیوں نہیں کرتیں؟” جس پر وہ خوش دلی سے مسکرا کر بولی:
    ”میں نے اس کی عمر دیکھ کر محبت نہیں کی۔” گرومیل اس جواب پر محض کندھے اُچکا کر رہ جاتا۔ ظاہر ہے وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں آزادی تھی۔ جب اس کے ماں باپ نہیں روک سکے، تو وہ کیا کرسکتا تھا؟ اس کے بعد ملتانی نے کبھی ایسا کوئی سوال نہیں کیا، یہ جاننے کے بعد بھی کہ وہ مستقل طور پر تیمپینی کے گھر منتقل ہوگئی ہے، وہ کچھ نہیں بولا تھا۔
    اس شام تین دن کی رخصت لے کر وہ اس کے ریستوران سے نکلی اور پیدل چلتی ہوئی بیپ کے اپارٹمنٹ تک پہنچی تو وہ اسے دروازے پر ہی مل گیا۔ دو چار اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد وہ جلد واپسی کا وعدہ کرتی وہاں سے روانہ ہوگئی۔ بیپ کو اس نے بتایا تھا کہ فرانس سے کچھ رشتہ دار ملنے کے لیے آئے ہیں اور اس کا باپ چاہتا ہے وہ خود ان کے لائے ہوئے تحائف وصول کرے ، اس لیے وہ جارہی تھی۔ اپنے والدین اور رشتہ داروں سے مل کر اسے کل شام تک واپس آجانا تھا۔ اپنی چھٹی کا تیسرا دن وہ صرف بیپ کے ساتھ گزارتی مگر ایسا نہ ہوا۔
    دوسرا اور پھر تیسرا دن بھی یونہی گزر گیا، اس کی کوئی خیر خبر نہ آئی۔ عموماً بیپ اس سے ان دنوں میں خود سے رابطہ نہیں کرتا تھا جب وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوتی تھی، لیکن اب مجبوری تھی۔ وہ اس کے لیے مزید فکر مند تب ہوا جب لاکھ کوشش کے باوجود بھی موبائل پر اس سے رابطہ نہ ہوسکا۔ اس کا فون مسلسل آف تھا۔
    چوتھے دن کا سورج غروب ہوتے ساتھ ہی بیپ کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے پولیزیا میں شکایت درج کی جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے بعد carbeneria کو حنا کی گمشدگی کی اطلاع کردی۔ انہیں شک تھا کہ بیپ کی لِٹل ڈول کو اس کے باپ نے کہیں غائب کردیا ہے۔
    ٭…٭…٭




    ”باجی مجھے بس دو منٹ بات کرنی ہے صفیہ سے، مجھے گوجرانوالہ کا یہ نمبرملادیں۔”
    اس کی منت بھرے انداز میں کی گئی درخواست کو رد کرنا رباب کے لیے آسان نہیں تھا، مگر پھر بھی اس نے کہا۔
    ”تمہارا شوہر پھر چلائے گا یہاں آکر، اسی لیے دلاور نے منع کیا ہے کہ میں تمہاری کوئی مدد نہ کروں۔”
    ”اچھا! تو پھر یہ بیلنس ڈلوادیں فون میں۔” اس نے ڈوپٹے کے پلّو میں بندھے چند مڑے تڑے نوٹ اور سِکے نکال کر اس کے سامنے میز پر رکھ دیے۔ رباب کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ بشریٰ نے یہ معمولی رقم بھی کس مشکل سے جمع کی ہوگی، اس کا دل پسیج گیا۔
    ”رہنے دو، آئو بات کروادیتی ہوں۔”
    ”شکریہ جی! لیکن بتایئے گا نہیں آپ دلاور بھائی کو، سلیم کو پتا لگا، تو میری ہڈی پسلی ایک کر دے گا۔”
    ”ٹھیک ہے! نہیں بتائوں گی لیکن جلدی بات ختم کرنا۔” رباب نے ریسیور کان سے لگا کر اس کے ہاتھ سے پرچہ لیا اور نمبر ملانے لگی۔ کال ملا کر دینے کے بعد وہ خود وہاں سے ہٹ گئی۔ دس منٹ بعد جب وہ واپس آئی تو منظر حسبِ توقع ہی تھا۔ بشریٰ ہمیشہ کی طرح دوپٹے میں منہ چھپا کر رو رہی تھی۔
    ”مجھے بھی لے جا اماں، یہاں نئیں رہنا… مینوں لے جا۔” اپنی بیٹی کی وہی پرانی گردان سن کر بشریٰ کے آنسو بہے چلے جارہے تھے۔ رباب کو بہ یک وقت دونوں ماں بیٹی پر غصہ بھی آیا اور ترس بھی۔
    ”بس فون ملانے کا شوق ہے، بات تو کرتی نہیں ہے بیٹی سے۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی بشریٰ کے نزدیک آئی جو آہستگی سے ریسیور واپس رکھ رہی تھی۔
    ”کیا ہوا؟ بات کیوں نہیں کی؟”
    ”کرلی جی!” بشریٰ نے ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھے اور جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”بہت مہربانی جی! اللہ آپ کو جزا دے۔” اُس نے جاتے ہوئے کہا اور رباب اُس کی دعا پر محض سرہلا کر رہ گئی۔
    ٭…٭…٭
    ”وائی ال انفرنو” (go to hell)” فلورا نے حقارت سے گھورتے ہوئے اسے جہنم میں جانے کا مشورہ دیا اور وہ ڈھٹائی سے مسکراتا اپنی میز کی جانب بڑھ گیا، جیسے بس یہی سننے کے لیے کھڑا ہو۔ چار سال میں اسے اب اتنی اطالوی زبان تو سمجھ آنے لگی تھی مگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تھا۔ کچھ دن پہلے ہی اس نے پرانے ریستوران سے دھکے دے کر نکالے جانے کے بعد یہاں آنا شروع کردیا تھا۔ تب سے اس کا معمول تھا کہ ریستوران میں داخل ہوتے ہی فلورا کے پاس کائونٹر پر جاکر اسے چھیڑتا۔
    ”میں تمہارے ساتھ رات گزارنا پسند کروں گا…”vogho dormise con teاس فقرے کو بھی وہ کئی دنوں کی لگاتار محنت کے بعد یاد کرپایا تھا۔ وہ اسکول کے زمانے سے ہی سبق یاد کرنے میں بڑا ”ماٹھا تھا۔” تب ہی تنگ آکر چوتھی کے بعد ماسٹر صاحب اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر چھوڑ آئے تھے۔ جس کے بعد اس نے ابا کے ساتھ باڑے پر وقت دینا شروع کردیا۔ ابا کے پاس چھے بھینسیں تھیں۔ ان کا دودھ گائوں کے گھر گھر پہنچایا جاتا، وہ بھی ابا کے ساتھ لگ گیا۔ ابا تو ویسے بھی اس کی پڑھائی کے حق میں نہ تھا۔ یہ تو بے چارے اسکول ماسٹر صاحب کا شوق تھا جو زبردستی بچوں کو پکڑ پکڑ کر پڑھنے بٹھاتے۔ انہوں نے کتنے ہی بچوں کو پڑھا یا لیکن سلیم نے ایسا زچ کیا کہ خود ہی تنگ آکر گھر چھوڑ آئے۔
    میلان پہنچ کر کئی مواقع پر اسے اپنی تعلیم سے عدم توجہی پر پچھتاوا ہوا۔ اگر وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی ہی بول پاتا تو شاید اسے ایسی مشکل پیش نہ آتی۔ اَسّی نوے کی دہائی سے اٹلی کی حکومت کی آسان پالیسیوں کی بہ دولت سینکڑوں پاکستانی روزگار کے حصول کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر آتے رہے تھے۔ سلیم بھی اپنی تمام تر نالائقیوں کے باوجود کام حاصل کرنے میں کام یاب ہوگیا۔ فیکٹریوں میں زیادہ تر سِکھ سپروائزر تھے جن سے مشینوں کا کام سمجھنا مشکل نہ تھا۔ تکلیف تو رہائش، کھانے پینے اور ملنے جلنے میں تھی۔
    میلان میں کچھ عرصہ گزار کر اب وہ بھی دیگر پاکستانیوں کی دیکھا دیکھی بریشیا شفٹ ہوگیا تھا۔ یہاں جنوبی ایشیا سے آئے مسلمانوں کی تعداد روز بہ روز بڑھ رہی تھی۔ زیادہ تر کا تعلق غریب اور ان پڑھ طبقے سے تھا اور غیر قانونی طریقے سے آئے پاکستانیوں کو بھی قدرے کم معاوضے پر کام مل جاتا تھا۔ ملازمت دینے میں بہت فیاض مگر عزت دار شہری کی حیثیت سے انہیں تسلیم کرنے میں اطالوی معاشرہ نہایت تنگ دل ثابت ہوا۔
    دن رات گدھوں کی طرح کام میں مصروف رہنے کے بعد بدبودار پسینے میں شرابور، گندے کپڑوں میں ملبوس مزدوروں کا ریستوران میں گھس آنا میلان کے نازک طبع شہریوں کو بے حد گراں گزرتا تھا۔ حال تو بریشیا میں بھی کم و بیش یہی تھا۔ مقامی لوگ ان سے کراہت محسوس کرتے لیکن زیادہ تر خوف کھاتے تھے، اسی لیے میل جو ل بڑھانے سے گریز کرتے تھے۔ ویسے ہی ان کے پاس تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ نائٹ لائف انجوائے کرنے کے لیے زیادہ تر کے پاس فاضل رقم نہ ہوتی اور جن کے پاس ہوتی ان کے انداز و اطوار دیکھ کر کوئی گھاس بھی نہیں ڈالتا تھا۔
    سلیم یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ فلورا کبھی اثبات میں جواب نہیں دے گی۔ اس کے باوجود وہ محض تنگ کرنے کے لیے یہ فقرہ اسے بلاناغہ سنایا کرتا۔ پہلے پہل تو اس کے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں بولے گئے اطالوی فقرے کو فلورا سمجھ ہی نہ پائی اور اسے نظر انداز کردیا، مگر جب ہر روز ریستوران کا چکر لگانا اور خاص طور پر فلورا کے نزدیک آکر یہ جملہ کہنا اس کا معمول بن گیا تب اسے توجہ دینا پڑی اور جب اُسے سمجھ آیا کہ سلیم اُسے رات گزارنے کی پیشکش کررہا ہے تو وہ غصے میں آگ بگولا ہوگئی۔ مجبوری یہ تھی کہ ویٹرس کی حیثیت سے اسے ریستوران میں آئے گاہکوں سے بدلحاظی کی اجازت نہ تھی۔ تنگ آکر اس نے ریستوران کے مالک سے شکایت کردی جس نے اسے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ یعقوب، جو کچن میں صفائی ستھرائی پر مامور تھا، کو بلوا کر سلیم کو دھمکی دی گئی کہ اگلی بار معمولی سی شکایت پر اسے فی الفور ہراساں کرنے کے الزام میں پولیزیا کے حوالے کردیا جائے گا۔ یعقوب نے نہایت واضح الفاظ میں اسے وہاں آنے سے ہی منع کردیا جس کے بعد سلیم نے دوبارہ اس ریستوران کا رُخ نہیں کیا، وہ کہیں اور جانے لگا۔
    ٭…٭…٭




  • عکس — قسط نمبر ۱۲

    عکس نے گاڑی سے اترتے ہوئے سر اٹھا کر اس آئینے کو دیکھا جو اس گھر کے برآمدے میں دروازے کے پاس رکھا تھا اور جس میں اس وقت شیر دل اور شہر بانو کی پشت نظر آرہی تھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ کمشنر اوراس کی بیوی کا استقبال کررہے تھے جن کی گاڑی اس وقت پورچ میں داخلی برآمدے کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔ خود اس کی گاڑی پورچ کی چھت سے باہر تھی۔وہ وہاں سے اس آئینے کو دیکھ سکتی تھی اور وہ وہاں سے بھی شیر دل اور شہر بانو کو بھی دیکھ سکتی تھی۔ ایک گہری سانس لے کر اس نے دل کی دھڑکن پر قابو پایا تھا۔ دوسری گہری سانس میں اس نے اپنے دماغ سے وہ سب غائب کرنے کی کوشش کی تھی جس کی کرچیاں اس گھرکے سامنے بیرونی سڑک پر سامان کے ایک ڈھیر پر اپنی ماں کے ساتھ گزاری ہوئی ایک رات سے یہاں اندر تک چپے چپے پر بکھری ہوئی تھیں۔




    سب کچھ غائب ہونا شروع ہوگیا تھا۔ وہ ایک عام سرکاری رہائش گاہ تھی اب اس کے لیے۔ ایسی درجنوں عمارتوں میں وہ جاچکی تھی رہ چکی تھی۔ اس گھر میں بھی اس کے لیے کچھ غیر معمولی نہیں تھا… ایک عام پرانی لیکن شاندار عمارت۔ ویسی ہی ایک تقریب جو وہ کئی دفعہ اٹینڈ کرتی آئی تھی۔ ایک پرانی طرز کا پورچ اور داخلی دروازے کے پاس ایک پرانا آئینہ… ایک سرسری نگاہ میں اس مینٹل بلاک کے ساتھ اس نے صرف یہ دیکھا تھا… کسی بھی چیز پر نظر جمائے بغیر ہر چیز سے نظریں چراتے ہوئے۔ لوگ… جگہ نہیں… باتیں… چیزیں نہیں…میں کوئی تکلیف دہ یاد ذہن میں نہیں لاؤں گی۔ میں ماضی کی کسی چیز کے بارے میں سوچ ہی نہیں رہی۔ میرا کل کا ورک شیڈول کیا ہے؟ یہاں سے ڈنر کے بعد کیا کیا کام کرنے ہیں میں نے؟ وہ اپنے ذہن کو مسلسل بھٹکارہی تھی ،بڑی کامیابی کے ساتھ۔ ایک کے بعد ایک رکاوٹ کو عبور کررہی تھی، جب تک اس نے شہر بانو اور شیر دل کو اکٹھا نہیں دیکھ لیا تھا۔ وہ شہر بانو کو تصویروں میں دیکھ چکی تھی ۔وہ اسے چند فنگشنز میں شیر دل کے ساتھ دور سے دیکھ چکی تھی لیکن وہ آج پہلی بار اسے اتنے قریب سے دیکھنے والی تھی، اس سے ملنے والی تھی…اس بار بی ڈول سے جو اس کے بچپن کی چندcinations faمیں سے ایک تھی اور جو اس کی زندگی میں سیاہ ترین باب کا اضافہ کرنے والے شخص سے منسلک تھی… اورجو اس شخص کی زندگی کا حصہ تھی جس سے اس نے شدید محبت کی تھی ۔
    آئینے میں نظرآتے اس عکس سے نظریں ہٹاتے ہوئے عکس مراد علی نے جیسے خود کو سنبھالنے کی ایک اور کوشش کرتے ہوئے لمحے بھر کے لیے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں سے ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی… وہ برسات جو اس کی آنکھوں سے نہیں برس پارہی تھی وہ کہیں اور سے برسنا شروع ہوگئی تھی اس نے ڈرائیور سے کچھ بات کرنے کی کوشش کی تھی جو اس کے لیے دروازہ کھولنے کے لیے باہر آیا تھا۔ خود کو سنبھالنے کے لیے وہ ہر چیز کا سہارا لے رہی تھی۔
    پانی کی ہلکی سی پھوار نے اس کے چہرے، بالوں اور لباس کو ذرا سا نم کیا اور برآمدے میں کمشنر اور اس کی بیوی کا استقبال کرتے ہوئے شیر دل نے بالکل اس لمحے گردن موڑ کر اس کو دیکھا تھا۔ وہ سیاہ موتیوں سے ایمبرائیڈڈز ایک فٹنگ والا سیاہ شیفون کا لباس پہنے ہوئے تھی جو اس کے متناسب جسم کو کچھ اور بھی متناسب کررہا تھا۔ عام طور پر کھلے رہنے والے گھنے سیاہ بال اس وقت ایک سیاہ نیٹ میں ڈھیلے جوڑے کی شکل میں اس کی گردن کے پیچھے سمٹے اس کی پتلی اور لمبی گردن کو نمایاں کیے ہوئے تھے۔ دائیں کندھے پر اسٹول کی شکل میں تہ شدہ دوپٹاڈالے وہ بائیں ہاتھ میں ایک بہت چھوٹا اور خوب صورت سیاہ پرس پکڑے ہوئے تھی۔ شیر دل نے اس سے نظریں ہٹائیں۔ مشکل کام تھا یہ اور اس نے مشکل سے ہی کیا تھا۔ وہ کمشنر اور ان کی فیملی کے ساتھ آئی تھی۔ کمشنر اور ان کی بیوی گاڑی سے اتر کر اندر جانے کے بجائے چند لمحوں کے لیے وہیں برآمدے میں رک گئے تھے۔ کمشنر کا استقبال کرنے کے بعد شیر دل برآمدے سے نکل کر اس کی گاڑی کی طرف بڑھ آیا تھا۔ عکس کی طرف جاتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اس نے اپنی جیب میں پڑا ٹشو پیپر ٹٹولا تھا۔ اس کی یہ بے اختیاری شہر بانو نے نوٹس کی تھی جس کے برابر سے وہ یک دم ہٹا تھا۔ اس نے کمشنر کی گاڑی کے پورچ سے ہٹ جانے اور عکس کی گاڑی کے آگے آنے کا بھی انتظار نہیں کیا تھا۔ وہ یہ نہیں دیکھ پائی تھی کہ عکس کے گاڑی سے نکل آنے پر وہ اس کا استقبال کرنے چلا گیا تھا۔ وہ دور جاتے شیر دل سے نظریں ہٹانا چاہتی تھی لیکن وہ ہٹا نہیں پائی تھی۔ کمشنر کی بیوی سے بات کرتے ہوئے بھی وہ عجیب بے چین انداز میں شیر دل کو لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے اس گاڑی کی طرف بڑھتے دیکھتی رہی تھی جہاں اس کی طرف پشت کیے ڈرائیور سے بات کرتے ہوئے عکس مراد علی کو اس نے ایک عجیب سے اضطراب کے ساتھ دیکھا تھا۔
    ڈرائیور سے بات کرتے ہوئے عکس جب تک پلٹی شیر دل اس کے سامنے کھڑا تھا۔ دونوں بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے ۔عکس نے اس سے نظر چرائی… خود کو سنبھالا… پھر اسے دیکھا… وہ بہت بارایک دوسرے کے اتنے ہی قریب آکر کھڑے ہوچکے تھے… بہت بارایک دوسرے کے بالمقابل اتنے ہی فاصلے پر کھڑے ایک دوسرے کی آنکھوں میں یونہی جھانکتے بھی رہے تھے… اور عکس مراد علی نے کبھی ان آنکھوں میں پہچان کی کوئی جھلک نہیں دیکھی تھی… نہ چڑیا کے لیے… نہ اس سترہ سالہ عکس مراد علی کے لیے جو ایک انٹر کالجیٹ کے مقابلے میں ایبک شیر دل کا نام ہی سن کر بدک گئی تھی۔ جس نے اپنے کیرئیر کے بد ترین تقریری مقابلے میں اسٹیج پر روسٹرم کے پیچھے کھڑے ایک ایک لمحہ اس خوف میں گزارہ تھا کہ وہ ابھی…ابھی چڑیا کو پہچان لے گا… اور وہ یہ کیوں نہ سوچتی کہ وہ اسے پہچان لے گا۔ چڑیا کی زندگی کے آٹھ سال ایبک شیر دل کے بارے میں سوچتے گزرے تھے۔ آٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی اگر کوئی اس سے ایبک کا حلیہ پوچھتا تو وہ سیکنڈز میں اس کے حلیے کی ڈیٹیل بتادیتی۔ اس کے نین نقش سے لے کر اس کے زیر استعمال ا سنیکرز اورا سپورٹس وئیر کے لیبلز اور برانڈز تک اسے یاد تھے۔ وہ ایبک کے ساتھ گزارے ہوئے ان چند ہفتوں کو اپنے ذہن کی ڈائری کی انٹریز کی طرح پڑھ سکتی تھی… ایبک کا ایک ایک جملہ… ایک ایک بات… پھر اگر وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ بھی ایبک کو اسی طرح یاد ہوگی تو یہ زیادہ بڑی خوش فہمی نہیں تھی۔ آٹھ سال اتنا طویل عرصہ نہیں ہوتا کہ ایبک اس کے چہرے کے نقوش میں کوئی یاد کھوج نہیں پاتا… لیکن ایبک شیر دل اسے نہیں پہچانتا تھا۔ وہ نام سے اسے نہیں پہچان سکتا تھا کیونکہ خیر دین اسے چڑیا کہتا تھا یا پھر فاطمہ… اس کے نام کا دوسرا حصہ جس سے وہ چڑیا کے بعد جانی اور پہچانی جاتی تھی… عکس کے نام سے وہ اسکول کے علاوہ اور کہیں نہیں پکاری جاتی تھی۔ نہ گھر میں نہ خاندان میں… فاطمہ اس کے نام کا وہ حصہ تھا جس کا اضافہ اس کی پیدائش کے بعد اس کے خاندان کے افراد کے عکس نام سے اسے پکارنے میں دقت کے بعد کیا گیا تھا۔ خیر دین نے اس کا نام بڑے شوق سے رکھا تھا لیکن چند ہفتوں میں ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس نام کو اس کے خاندان اور گاؤں والے کبھی بھی صحیح تلفظ سے ادا نہیں کرسکتے تھے۔ خیر دین نے چڑیا کا نام نہیں بدلا صرف اس میں فاطمہ کا اضافہ کردیا لیکن وہ اسکول ،کالج میں عکس مراد علی کے طور پر ہی جانی جاتی رہی۔ ایبک بھی خیر دین کی طرح اسے عکس یا فاطمہ کے بجائے چڑیا ہی کہتا رہا تھا۔ چڑیا کو پھر بھی خوش فہمی تھی وہ عکس کا لفظ سنتے ہی چڑیا تک پہنچ جائے گا، وہ اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالتے ہی اسے پہچاننے لگے گا۔ یہ پہچا ن چڑیا کو کبھی خوف زدہ نہ کرتی اگر اس رات اس نے ایبک کو وہاںریلنگ کے پاس کھڑے چلاتے نہ دیکھ لیا ہوتا۔خوف اور دہشت کے عالم میں بھی ایبک کے سامنے بے لباسی کا احساس چڑیا کو گاڑ دینے کے لیے کافی تھا۔ اس کی چیخوں نے چڑیا کی جان بچائی تھی مگر ان آٹھ سالوں میں بہت بار چڑیا اس ایک نظر سے نادم رہی جو اس نے ایبک کو خود پر ڈالتے دیکھی تھی… وہ جس حالت میں ایبک کے سامنے آئی تھی وہ اس حالت میں کبھی بھی اس کے سامنے آنا نہیں چاہتی تھی۔ اور اسے جیسے خوف بھی یہی تھا کہ وہ اسے پہچانے گا تو اس بے لباسی کے حوالے سے اس ایک رات کے حوالے سے پہچانے گا… ان چند شاندار ہفتوں میں اکٹھے گزارے ہوئے یادگار وقت کے حوالے سے نہیں۔
    اس تقریری مقابلے کے بعد بھی اسے یقین تھاایبک کو اگر فوری طور پر وہ یاد نہیں آئی ہوگی تو گھر جا کر یاد آجاتی… چند دنوں کے بعد یاد آجاتی… اور کچھ نہیں تو کم از کم چڑیا کا چہرہ اس کے نظروں میں بھی اٹک جاتا۔
    اس کی یہ خوش فہمی اکیڈمی میں دو ر ہوگئی تھی۔ عکس مراد علی کے حوالے سے ایبک شیر دل کی کسی قسم کی کوئی یادداشت نہیں تھی… اسے شروع میں یقین نہیں آیا کہ وہ واقعی اسے یاد نہیں تھی۔ کئی ہفتے وہ اسے اگنور کرتی رہی صرف اسی ایک خدشے کے تحت کہ وہ اب اسے ضرور پہچان لے گا… اگر چڑیا کا چہرہ نہ پہچان سکا تو کم از کم سات آٹھ سال پہلے ہونے والے اس تقریری مقابلے کی تو کوئی میموری ہوگئی اس کے پاس…
    اورجب عکس مراد علی کو با لا خر یہ یقین آیا کہ ایبک شیر دل کو اس کے حوالے سے” کچھ بھی” یاد نہیں تھا تو وہ ہل کر رہ گئی تھی… شاک کی ایک عجیب سی کیفیت تھی جس سے وہ دوچار ہوئی تھی۔ ایبک شیر دل کمزور یاد داشت کا مالک نہیں تھا کم از کم عکس کو اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا اس کے باوجود اس کا یاد نہ رہنا صرف ایک چیز کا اظہار تھا… چڑیا ایبک کے لیے ٹائم پا س تھی… وہ اس کے لیے وہ اہمیت نہیں رکھتی تھی جو ایبک اس کے لیے رکھتا تھا…اور کیوں اہمیت رکھتی آخر وہ ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے ایک کم عمر بچے کے لیے جس کے پاس کزنز اور دوستوں کا ایک جم غفیر تھا جو اسی کی طرح کے سوشل سیٹ اپ سے تعلق رکھتے تھے۔ چڑیا ایک چھوٹے شہر میں آکر بوریت سے بچنے کے لیے ڈھونڈی جانے والی ایک ساتھی ہوسکتی تھی لیکن وہ اس کی وہ دوست نہیں ہوسکتی تھی جسے اس نے واپس ایجی سن اپنے جیسے دوستوں میں جا کر مس کیا ہو… وہ چڑیا کے بچپن کی بہترین چیزوں میں سے ایک تھا لیکن چڑیا ایبک کے لیے ایک بہترین یاد کیسے ہوسکتی تھی۔ بڑے سالوں بعد عکس مراد علی نے بیٹھ کر جذباتیت کی گرد جھاڑ کر اپنے اور ایبک کے تعلق کو دیکھا تھا اور عجیب سی ندامت اور رنجیدگی ہوئی تھی اسے۔
    ایبک شیردل ،عکس مراد علی کو اس تقریری مقابلے کے حوالے سے بھی یاد نہیں رکھ پایا تھا… اسے اپنی شکل و صورت کے حوالے سے کوئی خوش فہمی کبھی نہیں رہی تھی لیکن وہ یہ ضرور جانتی تھی کہ مرد اسے اگنور نہیں کرسکتے، وہ کم از کم اتنے معمولی خدوخال کی مالک نہیں تھی کہ ایبک اسے یاد بھی نہ رکھتا… اور یہاں اسے اہم سمجھنے کا سوال بھی نہیں تھا یہاں بات صرف یاد رکھنے کی تھی… صرف اور صرف یادداشت کا حصہ رکھنے کی… عکس مراد علی وہ بھی نہیں تھی۔
    ”زندگی میں ہارنے والوں کو بہت کم لوگ یاد رکھتے ہیں… ہار انسان کے غیر معمولی چہرے کو بھی معمولی بنادیتی ہے اور جیت معمولی شکل کو غیر معمولی ۔”عکس مرادعلی نے اس گتھی کو خیر دین سے حل کروانے کی کوشش کی تھی۔
    ”میرے ساتھ اکیڈمی میں ایک لڑکا ہے نانا… سات آٹھ سال پہلے ایک انٹر کالجیٹ مقابلے میں اس نے مجھے ہر ا کر وہ مقابلہ جیتا تھا لیکن میں حیران ہوں کہ اسے میں یاد تک نہیں حالانکہ وہ مجھے یاد ہے۔” اس نے خیر دین کو ایبک شیر دل کانام لیے بغیر اپنا مسئلہ بتایا۔ مجھے لگتا ہے وہ دکھاوا کررہا ہے مجھے نہ پہچاننے کا ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسے میں یاد ہی نہ ہوں۔” عکس نے اپنا اندازہ بھی اس کے ساتھ شیئر کیا۔
    ”لوگ ہارنے والوں کے چہروں اور ناموں پر غور نہیں کرتے چڑیا۔ تم نے تو دوسری ،تیسری پوزیشن بھی نہیں لی اس مقابلے میں… پھر تمہیں وہ کس حوالے سے یاد رکھتا… ہارنے والے تو بہت سے ہوتے ہیں۔ ” کیا تلخ حقیقت تھی جو خیر دین نے مصری کی ڈلی کی طرح توڑ کر چڑیا کے سامنے رکھ دی تھی۔ ایبک شیر دل عام شخص تھا اس کی نفسیات بھی عام شخص جیسی ہی تھی… جیت اور جیتنے والوں کو یاد رکھنے کی کوشش …ہار اور ہارنے والوں کو بھول جانے کی… وہ اوپر دیکھنے کا عادی تھا نیچے نہیں۔
    زندگی میں ایک اور سبق عکس مراد علی نے اس دن حاصل کیا تھا۔ وہ زندگی میں ان تمام لوگوں کے چہروں اور ناموں پر بھی غور کرے گی جنہیں وہ زندگی میں ہرائے گی۔ وہ زندگی میں خود کبھی عکس مراد علی جیسے حریف کا سامنا نہیں چاہتی تھی جو یک دم کسی dark horse کی طرح ایک دن اس کے سامنے آکر کھڑا ہوجائے اور اسے اس کے بارے میں کچھ بھی پتا نہ ہوتا۔
    بلیک ڈنر سوٹ کے ساتھ ایک سرخ striped ٹائی لگائے، سلور کف لنکس اور ٹائی پر ایک کرسٹل کی ٹائی پن لگائے وہ اپنے اس حلیے میں اس کے سامنے کھڑا تھا جو اس کی ایک وجہ شہرت تھی۔ اکیڈمی میں کوئی اور کامنراپنی ڈریسنگ سینس میں شیر دل کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ عکس مراد علی نے اتنے سالوں کی سروس میں بھی شیر دل سے زیادہ خوش لباس مرد نہیں دیکھا۔
    عکس نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ ستائشی نظروں سے شیر دل کو دیکھا ہوا کے ایک جھونکے نے شیر دل کی ٹائی کو اڑایا۔ عکس کی نظر بھٹکی، اس کی ٹائی کو اڑنے سے روک دینے کی خواہش کو اس نے اتنی ہی بے اختیاری کے ساتھ دبایا جس طرح وہ ابھری تھی۔
    دونوں کے درمیان اب خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ ہورہا تھا۔ وہی رسمی جملے… اور وہی ان کہے مفہوم… وہ ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے بات کررہا تھا اور وہ کبھی بھی اس کے چہرے سے اس کے دل تک نہیں پہنچ پایا تھا۔ وہ اسے راستے میں ہی بھٹکا دیتی تھی… ہمیشہ بڑی کامیابی کے ساتھ… عکس نے سوچا اس کے چہرے پر نظریں جمائے شیر دل کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پر موجود کون سی شے کس کو ماند کررہی تھی۔ اس کے کانوں کی لوؤں میں دمکتے سفید موتیوں کے studs اس کی شفاف چمکدار سیاہ آئی لائنر سے سجی آنکھوں کو یا سرخ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں سے جھلکتی دودھیا دانتوں کی قطار کو جو اس کی مسکراہٹ کو اور بھی دلکش کررہی تھی۔ بارش کی پھوار کے ننھے ننھے قطرے اوس کے قطروں کی طرح اس کے بالوں اور چہرے پر چمک رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل کا دل چاہا وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کردے… صرف ایک لمحے کے لیے… پھر اس نے نظر چرائی تھی… جیب سے ایک ٹشو نکال کر غیر محسوس انداز میں عکس کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا۔
    ”تم نے بڑا رسک لیا۔” عکس نے وہ ٹشو تھام کر اسی غیر محسوس انداز میں اپنا چہرہ اور سر تھپتھپاتے ہوئے کچھ حیرانی سے اس سے پوچھا۔
    ”کیا؟” وہ دونوں اب ساتھ چل رہے تھے۔
    ”بارش میں گاڑی سے نکل آئیں۔” قدم بڑھاتے ہوئے شیر دل نے اس سے کچھ سنجیدگی سے کہا۔
    ”تو؟” وہ الجھی۔
    ”اگر میک اپ بہہ جاتا تو؟” اس بار شیر دل کے ہونٹوں اور آنکھوں میں شرارت لہرائی تھی۔ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایک سیاہ آئی لائنر اور لپ اسٹک کے علاوہ شاید ہی کچھ اور لگائے ہوئے تھی۔
    ”ہاں رسک تو تھا۔ میک اپ صاف ہوجاتا تو تم اس سے زیادہ گھورتے مجھے… جتنا ابھی گھوررہے تھے۔” عکس نے ہاتھ میں پکڑے ٹشو کو بڑی نفاست سے لپیٹ کر پرس میں بے نیاز ی سے رکھتے ہوئے کہا۔جواب بھی ویسا ہی آیا تھا جیسا سوال کیا گیا تھا۔ اسے دیکھے بغیر شیر دل نے بے اختیار سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی۔ وہ اس کی اس حس مزاح کی عادی تھی۔ اسے دیکھ کر شیر دل کے لیے خاموش رہنا اور کسی نہ کسی بات پر کوئی کوئی نہ کوئی پھڑکتا ہوا تبصرہ نہ کرنا ناممکن تھا۔ وہ بچپن سے اس کی عادی تھی۔ ایبک شیر دل کے پاس بچپن میں بھی احمقانہ باتوں کا ڈھیر ہوتا تھا اور ڈھیر کا مطلب ڈھیر ہی ہوتا تھا اور وہ ہر احمقانہ بات بے حد سنجیدگی سے کرتا تھا۔ چڑیا اس کے ان چند قریبی ساتھیوں میں سے ایک ثابت ہوئی تھی جو بہت جلد ہی یہ سمجھ گئی تھی کہ وہ ساری باتیں کم از کم ایبک کے لیے احمقانہ نہیں تھیں۔ وہ انہیں بڑی سنجیدگی سے کرتا تھا… اور چڑیا دوسرے بچوں کے بر عکس بڑی سنجیدگی سے انہیں سن لیا کرتی تھی… اس کی یہ عادت اب بھی قائم تھی۔
    وہ اب باقی لوگوں کے قریب پہنچ چکے تھے۔ شیر دل اسے جواباً کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ کمشنر کی بیوی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے شہر بانو عکس کے استقبال کے لیے کچھ آگے بڑھ آئی تھی۔ دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
    ”شہر بانو …عکس مراد علی۔” چند لفظوں میں شیر دل نے باری باری دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا۔ دونوں ناموں کے ساتھ کوئی سیاق وسباق نہیں تھا پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو اس سے کہیں زیادہ جانتی تھیں جتنا شیر دل نے ان کا تعارف کروایا تھا۔سفید شیفون کے کلیوں والے کرتے اور چوڑی دار پاجامے میں شہر بانو ایک باربی ڈول لگ رہی تھی۔ عکس اس کے لیے کوئی اور تشبیہ نہیں ڈھونڈ سکی تھی۔ وہ آج بھی اس کی بار بی ڈول تھی۔ ڈاکٹر فرح کی بیٹی کے پاس موجود وہ گڑیا جو اسے ہمیشہ للچایا کرتی تھی اور اس جیسی گڑیا خرید نے کے لیے اس نے خیر دین سے بہت اصرار کیا تھا۔
    خیر دین اسے لے لے کر بازاروں میں کھلونوں کی دکانوں پر باربی ڈول کی تلاش میں پھرتا رہا تھا۔ جو سستی نقل دکانوں پر مل رہی تھی وہ چڑیا کو پسند نہیں آرہی تھی وہ اصل اور نقل کا فرق بتا نہیں سکتی تھی لیکن سمجھتی ضرور تھی اور جو اصلی باربی ڈول اسے چند دکانوں میں نظر آئی تھی اس کی قیمت اتنی تھی کہ خیر دین اسے چڑیا کو دکھا سکتا تھا دلوا نہیں سکتا تھا ۔کئی دن بازاروں کی خاک چھاننے کے بعد با لآخر چڑیا کو پتا چل گیا تھا کہ باربی ڈول اس کی استطاعت اور اوقات سے باہر کی چیز تھی اور اس کے لیے ضد یا اصرار کرنا خیر دین کو تکلیف اور شرمندگی کے علاوہ کچھ نہ دیتا۔ اس نے باربی ڈول کی فرمائش ختم کردی تھی مگر وہ اس کے حواس پر سوار رہی تھی۔ تین سالہ شہر بانو پر پہلی نظر میں بھی اسے خوب صورت ایوننگ گاؤن والی وہ باربی ڈول ہی یاد آئی تھی۔ اس کے صرف بال سنہری نہیں تھے مگرا س کی خوب صورتی ،ناز نخرہ ،لباس سب اسی باربی ڈول جیسا تھا جو اس کے لیے untouchable تھی۔
    اتنے سالوں بعد شہر بانو کو دیکھتے ہوئے عکس مراد علی کو آج بھی بار بی ڈول ہی یاد آئی تھی۔ دودھیا رنگت، سیاہ لمبی خمدار آنکھیں، ننھی سی نوک والی تیکھی ناک اور بے حد باریک مسکراتے ہونٹ… عکس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی اس کو دیکھ کر… اسے آج بھی اس پر ویسا ہی پیار آیا تھا جیسا اس کو پہلی بار دیکھ کر آیا تھا۔ اس کا دل آج بھی اس کی طرف سے اسی طرح ہمکا تھا جس طرح پہلی بار اسے دیکھ کر ہمک کر اس کی طرف گیا تھا۔ شیر دل کو اس سے زیادہ پرفیکٹ لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔ وہ واقعی صرف شیر دل کے ساتھ سجتی تھی۔ اس کی طرف بڑھتے ہوئے عکس نے سوچا تھا۔ شیر دل کے ذہن میں سب سے پہلے شہر بانو کے حوالے سے اس طرح کا خیال ڈالنے والی بھی وہی تھی۔
    ”میرا خیال ہے وہ تم سے محبت کرتی ہے۔” اس نے فون پر شیر دل سے شہر بانو کے حوالے سے کوئی قصہ سننے کے بعد کہا تھا۔ وہ جواباً ہنسا تھا۔
    ”یہ کون سی نئی بات ہے جو تم مجھے بتارہی ہو، میں جانتا ہوں وہ مجھ سے محبت کرتی ہے… مجھ پر مرتی ہے۔” اس نے آخری جملہ بڑے اعتماد سے بڑے جتانے والے انداز میں کہا تھا۔”کوئی پہلی لڑکی تو نہیں ہے وہ جسے مجھ سے محبت ہوگئی ہو…”
    مسٹر شیخ چلی تم اگر شیخیاں بگھارنا بند کرو تو میں کچھ کہوں۔” عکس نے اس کی بات کاٹتے ہوئے اسے ٹوکا۔”تم سے زندگی میں پہلی بار کوئی اچھی لڑکی محبت کررہی ہے۔”
    ” now that’s not fair ” شیر دل نے اس کی بات کاٹ کر احتجاج کیا۔”تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو… تمہیں کیا پتا مجھ پر کون کون مرتا…” عکس نے اس کی بات کاٹی۔
    ”تم تقریر کرنے کے بجائے ان لڑکیوں کے ناموں کی ایک لسٹ بنالو جو تم پر مرنے کا شرف حاصل کرچکی ہیں… ہوسکے تو تصویریں بھی لگالینا ساتھ… تصویریں تو ہوں گی نا ہر لڑکی کی تمہارے پاس؟ عکس نے اسے بظاہر بڑی سنجیدگی سے مشورہ دیتے ہوئے کہا یوں جیسے دونوں اکیڈمی میں کوئی سینڈ پکیٹ رپورٹ تیار کرنے کے بارے میں suggestion پر تبادلہ خیال کررہے تھے۔




  • عکس — قسط نمبر ۱۰

    آئینے میں ابھرنے والے عکس نے چڑیا کو روک لیا تھا۔ کسی پرانے ،مہربان واقف حال، غمگسار دوست کی طرح اس کے دل اور قدموں دونوں پر بیک وقت کمند ڈالی تھی… ایسا دوست جس نے اس گھر میں اس کی زندگی کے بہترین دن اور بد ترین رات دیکھی تھی۔
    چڑیا بہت دیر تک نم آنکھوں کے ساتھ اس آئینے میں عکس کو دیکھتی رہی۔ آخری بار اس نے یہاں کھڑے ہو کر اس آئینے میں ایک پنک فراک والی ایک ریشمی سیاہ بالوں والی سانولی چمکدار آنکھوں والی ایک پری کو دیکھا تھا وہ اس حادثے سے ایک شام پہلے کی بات تھی۔ اس دن اس نے اپنا دودھ کا تیسرا دانت گنوایا تھا اور اس آئینے میں وہ اور ایبک ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے ہنس ہنس کر بے حال ہوگئے تھے۔ وہ جانتی تھی ایبک اس کے دانت کا خلا دیکھ دیکھ کر ہنس رہا تھا لیکن وہ ایبک کو اس طرح ہنستا دیکھ کر اپنے دانتوں کی مضحکہ خیز حالت بھول گئی تھی۔




    اس آئینے میں وہ بونوں کو ڈھونڈا کرتی تھی۔ آج اس نے اس آئینے میں اپنے بچپن کو کھوجنے کی کوشش کی تھی۔ آئینہ اب اسے ایک سفید کوٹ کالر ڈ اے لائن لانگ شرٹ، سیاہ چوڑی دار پاجامہ اور سیاہ جیکٹ میں ملبوس بے حد اسمارٹ اور ویل ڈریسڈ لڑکی دکھا رہا تھا جس کے کانوں کے ڈائمنڈاسٹٹذاو ر سفید شرٹ کے کھلے کالرز سے بہت نمایاں طور پر ابھری ہوئی کالر بون کے درمیان سنہری زنجیر میں چمکتا ایک ڈائمنڈ پینڈنٹ کسی بھی پرائس ٹیگ کے بغیربھی اس کے متمول ہونے کا اعلان کررہا تھا۔ اس عکس میں اس سستے پنک فراک اور کسی ریڑھی سے دو روپے میں ملنے والے ایک اتنے ہی سستے تتلیوں والے پنک ہیر بینڈ والی اس آٹھ سالہ بچی کو ڈھونڈنا مشکل تھا۔ صرف وہ تھی جو اس ” عکس”میں ”چڑیا” کو کھوج رہی تھی اور کھوج پارہی تھی ۔ صرف وہ تھی جو اس آئینے میں وہ دیکھ رہی تھی جو دوسرا کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔
    اس آئینے میں اس نے وہ بونا دیکھا تھا جسے دیکھنے کی تمنا میں وہ گھنٹوں اس میں جھانکتی رہتی تھی اور پہلی بار وہ بونا نظر آجانے پر وہ خوف سے فریز ہوگئی تھی۔ وہ اس کی بد صورتی سے ڈر گئی تھی۔ زندگی نے اسے سکھایا تھا کہ ظاہری بد صورتی خوف کھانے والی شے نہیں ہوتی ۔یہ انسان کے اندر کی بد صورتی ہوتی ہے جس سے ڈرنا چاہیے۔ اس آئینے میں اسی دن اس نے انسان نام کا ایک بے حد خوب صورت بونا بھی دیکھا تھا جس سے خوف اور گھن نام کی کوئی شے اسے محسوس نہیں ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود اس بونے نے اس کی زندگی تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ زندگی میں بعض ولن ہیرو کی شکل میں اور بعض ہیرو ولن کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں لیکن ہم ان کی شناخت بہت دیر سے کر پاتے ہیں۔
    چڑیا نے اس آئینے میں نظر آنے والے اس بد صورت بونے کو اس گھر میں دوبار دیکھا تھا۔ ایک بار اس آئینے میں جب وہ اسے دیکھ کر خوف کے عالم میں ہل بھی نہیں سکی تھی اور دوسری بار اس بونے نے کسی اور کو فریز کر کے…
    چڑیا نے یک دم آئینے سے نظر ہٹائی تھی۔ وہ سات بونے یک دم اتنے سالوں کے بعد اسے اپنے پاس اپنے گھر میں دیکھ کر خوشی سے جیسے پاگل ہوگئے تھے کنٹا اس ہیل والے بند جوتے پر چھلانگ مار کر چڑھا تھا اور اس کی پنڈلی سے لپٹ گیا تھا۔ وہ اپنی خوشی کا اظہار ہمیشہ ایسے ہی کرتا تھا۔ منٹا اچھل کر اس کی جیکٹ کی آستین سے لٹک گیا تھا۔ اسے ہمیشہ اس طرح جھولنے میں مزہ آتا تھا۔ سب سے موٹا بونا ٹوکو اپنے تھر تھراتے ہوئے پیٹ کے ساتھ اور پھولے سانس کے ساتھ اس کے ارد گرد ناچتا پھر رہا تھا۔ آنکھیں گھمانے والا کٹو خوشی سے بے حال اپنی ہی جگہ دروازے کی دہلیز پر پھرکی کی طرح ایک ہی جگہ گھومتا جارہا تھا۔ ٹنٹو نے اس کے دوسرے جوتے پر چڑھنے کی کوشش میں چھینک چھینک کر خود کو بے حال کرلیا تھا۔ ٹوفو بھاگتے ہوئے اپنی عینک کہیں گرا بیٹھا تھا اور اپنے بازو پھیلائے چڑیا کو ڈھونڈنے کی کوشش میں ادھر ادھر چیزوں سے ٹکراتا پھررہا تھا… اور چڑیا کا فیورٹ ڈیڈو وہ بس اس کے پیروں میں کھڑا بچوں کی طرح بلک بلک کر روتا ہی جارہا تھا… سب کچھ وہیں تھا جہاں وہ چھوڑ کر گئی تھی یا اسے جانا پڑا تھا… ایلس اپنے ونڈرلینڈ میں لوٹ آئی تھی۔
    ……٭……




    وہ ایبک کی بات پر اس کے قریب سے گزرتے گزرتے جیسے واپس لوٹ آئی تھی۔ اس کی اطلاع نے فاطمہ کو جیسے اسی طرح حیران کیا تھا۔
    ”آنٹی مجھ سے کیوں ملنا چاہتی ہیں؟” اس نے کالج کے کاریڈور کی دیوار سے ٹکے ایبک کو دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ خلاف توقع بہت سنجیدہ تھا۔
    ”یہ تو تمہیں ممی ہی بتاسکتی ہیں، مجھے تو انہوں نے صرف تمہیں یہ میسج دینے کے لیے کہا تھا۔” فاطمہ کچھ دیر الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔ اس کے اور ایبک کے درمیان اتنی سی بات بھی کئی دنوں کے بعد ہورہی تھی۔ وہ کالج میں ایبک کو مکمل طور پرنظر انداز کیے ہوئے تھی اور اس کی اس کوشش نے ایبک کو جیسے بری طرح زچ کردیا تھا اور اب یک دم وہ اس کے سامنے یہ مطالبہ لے کر آگیا تھا کہ مسز سلطان اس سے ملنا چاہتی تھیں۔
    الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ وہ اگلے دن مسز سلطان کے آفس میں آئی تھی ۔وہ ہمیشہ کی طرح اس سے انتہائی گرم جوشی اور شفقت کے ساتھ ملی تھیں۔
    ”کتنے دن ہوگئے تم سے ملاقات ہوئے… میں نے کئی بار ایبک سے تمہارے بارے میں پوچھا لیکن اس نے کہا تم اس سے کچھ خفا ہو۔” وہ اپنے آفس میں اپنے ٹیبل سے اپنی فائلز سمیٹتے ہوئے بولیں۔ چند لمحوں کے لیے فاطمہ کو عجیب سی شرمندگی ہوئی۔ اسے بالکل توقع نہیں تھی کہ ایبک اپنی ماں سے اس کی خفگی کو اتنے کھلے طریقے سے شیئر کرے گا۔
    ”نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔” وہ گڑ بڑا کر صفائی دینے والے انداز میں بولی۔
    ”تو پھر تم دونوں نے کمبائنڈ اسٹڈی کیوں بند کردی… آپس میں ملنا جلنا کیوں چھوڑ دیا؟ ایبک تمہارے اس رویے کی وجہ سے بے حد اپ سیٹ ہے اور اسی وجہ سے میں نے سوچا کہ میں تم سے خود بات کروں۔” فاطمہ کو بڑی مشکل ہوئی مسز سلطان کے سوالوں کا جواب ڈھونڈنے میں ۔وہ کبھی مسز سلطان سے اپنے اور ایبک کے تعلق کا اعتراف نہیں کرسکتی تھی۔ خاص طور پر اب جب ایبک کی زندگی میں اس کی فیملی کی منتخب کردہ ایک اور لڑکی آچکی تھی لیکن اس کی مشکل کو مسز سلطان نے خود ہی حل کردیا تھا۔
    ”ایبک تمہیں بہت پسند کرتا ہے اور یہ پسندیدگی ایک کلاس فیلو اور دوست کی حیثیت سے نہیں ہے۔” فاطمہ نے چونک کر انہیں دیکھا۔ جو آخری شے وہ مسز سلطان سے توقع کرسکتی تھی وہ بات تھی جو انہوں نے ابھی کی تھی۔




    ”ایبک نے مجھ سے اس پسندیدگی کو کبھی نہیں چھپایا لیکن کچھ فیملی پرابلمزایسی ہوگئیں کہ ایبک کی بات طے کرنی پڑی مجھے… لیکن بیٹا ہم لوگ کوشش کررہے ہیں کہ خوش اسلوبی کے ساتھ یہ معاملہ ختم ہوجائے۔ ایبک اور میری بھتیجی میں کسی قسم کی کوئی compatability نہیں ہے اگر فیملی کا معاملہ نہیں ہوتا تو یہ رشتہ بہت پہلے ختم کردیتی میں کیونکہ مجھے اپنے بچوں کی خوشی سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ہے لیکن بس فیملی کی کچھ مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے یہ رشتہ لٹک ہی گیا ہے۔” فاطمہ بے یقینی کے عالم میں مسز سلطان کی باتیں سن رہی تھی۔ آسمان اس کے سر پر گر جاتا تو اسے اس قدر شاک نہیں پہنچتا جتنا ابھی پہنچ رہا تھا۔ مسز سلطان اس کے اور ایبک کے بارے میں پہلے ہی سارے اندازے اور قیاس لگائے بیٹھی تھیں جو سو فی صد ٹھیک تھے اور اب وہ اسے اس پچھتاوے سے آگاہ کررہی تھیں جو اس رشتے کی صورت میں انہیں ہوا تھا۔
    ”بیٹا میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ تم اور ایبک اپنی دوستی پہلے کی طرح رکھو، اکٹھے پڑھو… ساتھ گھومو پھرو جیسے پہلے تھے۔ میں تمہیں یقین دلارہی ہوں کہ ہاؤس جاب ختم ہونے تک یہ معاملہ ختم ہوجائے گا۔ میں ایبک کی شادی وہیں کروں گی جہاں وہ چاہتا ہے اور میں جانتی ہوں کہ وہ کہاں شادی کرنا چاہتا ہے۔” انہوں نے آخری جملہ بے حد معنی خیز انداز میں کہا۔ ایک عجیب اچنبھے کے عالم میں فاطمہ اس دن ان کے آفس سے اٹھ کر آئی تھی۔ مسز سلطان نے اسے صرف یہی نہیں کہا تھا۔ انہوں نے اس سے اور بھی بہت سی باتیں کی تھیں۔ بہت ساری یقین دہانیاں ،خوش گمانیاں، بہت ساری تسلیاں اور آخر میں بار بار ایک ہی ریکویسٹ کہ وہ ایبک کے ساتھ کمبائنڈ اسٹڈیز جاری رکھے۔ وہ اس کی عدم توجہی کی وجہ سے اپنی اسٹڈیز پر فوکس نہیں کرپارہا تھا اور مسز سلطان کے لیے یہ بہت تکلیف دہ اور ناقابل برداشت بات تھی خاص طور پر اس صورت میں جب وہ ایبک کو آگے اسپیشلائزیشن کے لیے باہر بجھوانے کا ارادہ رکھتی تھیں۔




  • عکس — قسط نمبر ۹

    اس آئینے نے کئی سال پہلے کی طرح آج بھی اس کی نظر کو خود سے ہٹنے نہیں دیا… گزر جانے نہیں دیا۔ وہ آئینے کے سامنے رک گئی۔ وقت نے اس آئینے پر اپنے نشانات بڑھا دیے تھے۔ ہلکی سی بوسیدگی، چند داغ، کئی نئی لکیریں، آب و تاب کھوتی چمک، بجھی ہوئی رنگت۔ وقت نے ایسے ہی بہت سارے نشان اس کے اپنے وجود اور اس کے چہرے پر چھوڑے تھے جس کا عکس آئینے میں دیکھنے پر شناخت کرتے ہوئے اسے چند لمحے لگے تھے۔
    وہ آئینے میں خود کو دن میں کئی بار دیکھتی تھی… لیکن اس آئینے میں نظر آنے والا عکس اس نے کئی سال بعد دیکھا تھا۔ ایک نظر اس نے خود کو دیکھا پھر اپنے عقب میں نمودار ہونے والے مرد کو۔ آئینے میں دونوں کی نظریں لمحے بھر کے لیے ایک دوسرے سے ملی تھیں پھر دونوں ہی نے ایک دوسرے سے آنکھیں چرا لی تھیں۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے ایک دوسرے سے اسی طرح آنکھیں چراتے ہوئے ہی پھر رہے تھے۔ آئینے میں ایک لمحے کے لیے جیسے ان کی زندگی جھلکی تھی۔وہ زندگی جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزار رہے تھے… کئی سال سے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ… اور ایک دوسرے سے کئی صدیوں کے فاصلے پر… ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار… اور اس محبت کو کائی کی طرح اپنے وجود سے نوچتے ہوئے۔
    وہ اس کے پاس سے گزر کر کھلے ہوئے اندرونی دروازے سے اندرچلا گیا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر ایک گہری سانس لیتے ہوئے ایک بار پھر اس آئینے کو اور اس گھر کو دیکھا… زندگی میں اس گھر سے زیادہ نفرت اسے کبھی کسی دوسری جگہ سے نہیں ہوئی تھی۔ نفرت شاید ایک بہت معمولی لفظ تھا اپنے ان احساسات کو بیان کرنے کے لیے جو وہ اس گھر کے لیے رکھتی تھی، وہاں کی ایک ایک چیز کے لیے رکھتی تھی، اگر کوئی اسے کبھی کہتا کہ دنیا میں وہ کون سی ایک جگہ ہے جسے وہ آگ لگا کر بھسم کر دینا چاہتی تھی تو وہ اس گھر کا نام دیتی… اور اس تمام نفرت کے باوجود وہ وہاں آنے اور وہاں رہنے پر مجبور تھی کیونکہ وہ اس گھر کی ”ملکہ” تھی۔
    ……٭……




    ”ایک گھر میں صرف ایک ملکہ ہوتی ہے۔ بادشاہ کے محل میں ایک سے زیادہ ہوتی ہوں گی اور تم بادشاہ نہیں ہو۔” شہربانو نے اطمینان سے شیردل سے کہا۔
    ”تم imagine کرو۔” شیردل اس کی بات پر مسکرایا لیکن اس نے پھر بھی اپنے سوال کے جواب کے لیے اصرار کیا تھا۔
    ”تم اپنے گھر میں میری جگہ ایک اور عورت لے آؤ گے؟ اپنی زندگی میں سے مجھے نکال کر کسی دوسری عورت کو شامل کر لو گے؟ یہimpossible ہے۔” شہربانو نے اسی انداز میں کہا۔ شیردل اسی انداز میں مسکرا دیا تھا۔ شہربانو اب بھی اس کے سینے پر بچوں کی طرح سر رکھے لیٹی ہوئی تھی۔ شیردل نے اس کے گرد اپنے بازوؤں کے حصار کو توڑتے ہوئے ایک ہاتھ سے بہت نرمی سے اس کے بالوں کو سمیٹنا شروع کر دیا۔
    ”ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔” شہربانو نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد یک دم اس سے کہا۔ شیردل ٹھٹکا۔
    ”کس بات کی؟” اس نے شہربانو کے بالوں کو سمیٹنا جاری رکھتے ہوئے کہا۔
    ”یہ مردوں کو بیویوں سے آخر یہ سوال کرنے کا شوق کیوں ہوتا ہے۔” شیردل بے اختیار ہنسا تھا۔
    ”اپنے آپشنز چیک کرتے رہنا کوئی غلط بات تو نہیں۔” اس نے برجستگی سے کہا۔
    ”مذاق نہیں کر رہی میں۔” شہربانو سنجیدہ تھی۔ ”ویسے اگر تم شادی کرتے دوسری… تو کس سے کرتے؟” شہربانو کو پتا نہیں کیا خیال آیا تھا۔
    ”Hmm…” شیردل نے بے اختیار گہری سانس لی۔
    ‘‘Interesting question”۔وہ ایک لمحے کے لیے سوچنے لگا تھا یا کم از کم شہربانو کو لگا۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ شیردل کو اس سوال کا جواب سوچنے کی ضرورت تک نہیں تھی۔
    ”عکس سے؟” شیردل کے ذہن کی اسکرین پر اس کا چہرہ آیا اور شہربانو کی زبان پر اس کا نام۔
    شیردل اس عجیب اور بے وقت کی غیر متوقع ٹیلی پیتھی پر جیسے دم بخود ہوا تھا اور اس کی خاموشی نے شہربانو کو عجیب انداز میں مضطرب کیا تھا۔ شیردل کے سینے پر سر ٹکائے اس نے یک دم چہرہ سیدھا کر لیا تھا۔ بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے نیم دراز شیردل جانتا تھا وہ کیا کرنے والی تھی۔
    ”That’s quite a silly statement” اس نے شہربانو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا تھا۔
    Statement”نہیں ہے it’s just a wild guess۔” شہربانو نے شیردل کی آنکھوں اور چہرے کو پھر کسی مائیکرو اسکوپ کی طرح پڑھنے کی کوشش کی۔
    ”تم کو سونا نہیں ہے؟” شیردل نے اسی طرح اس کو موضوع سے ہٹانے کی کوشش کی تھی جس طرح وہ ہمیشہ کرتا تھا لیکن آج وہ ہمیشہ کی طرح کامیاب نہیں ہوا تھا۔
    ”تم بتاؤنا۔” شہربانو نے اصرار کیا۔ وہ اب شیردل کے سینے پر اپنی کہنیاں ٹکائے ہوئے تھی۔
    ”دنیا کے سمجھدار مرد ایک شادی کرتے ہیں… بے وقوف دو کرتے ہیں… اور خوش قسمت ایک بھی نہیں۔” اس نے اطمینان سے کہا۔
    ”تم سمجھدار ہو لیکن خوش قسمت نہیں لیکن…” شیردل نے اس کو بات مکمل کرنے نہیں دی۔
    ”یار میں نے بہت غلط سوال کر لیا تم سے… چھوڑو اب اسے… ہر مرد کو بڑی fantasy ہوتی ہے دوسری شادی کی… اور کوئی بات نہیں۔” شیردل ایک بار پھر اسے الجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
    ”تم ویسے عکس کو بہت پسند کرتے ہو۔” شہربانو نے اس کی کوشش پر پانی ڈالا۔
    ”کوئی بھی کر سکتا ہے۔” شیردل نے نظر ملائے بغیر وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”کوئی بھی مرد۔” شہربانو نے جیسے اسے کچھ جتایا۔
    ”ہاں کوئی بھی مرد۔” شیردل نے اس کے اندازے اور مشاہدے کو جھٹلایا نہیں تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگی۔ شیردل نے جیسے اس کی سوچوں کو پڑھنے کی کوشش کی تھی۔ وہ کامیاب نہیں ہوا۔ وہ ایک عورت کی سوچ تھی۔ شہربانو نے مزید بحث کیے بغیر اس کے سینے پر دوبارہ سر ٹکا دیا۔ شیردل نے اس مائیکرو اسکوپ کے سامنے سے ہٹ جانے پر جیسے شکر ادا کیا تھا۔
    جہاز کی سیٹ پر بیٹھے ایک فلم دیکھتے ہوئے پتا نہیں شہربانو کو شیردل اور اپنی یہ گفتگو کیوں یاد آئی تھی۔ کوئی خدشہ… کوئی خوف… کوئی سائرن نہیں بجا تھا۔ شیردل پر اسے ایسا ہی اندھا اعتماد تھا۔ ان دونوں کو دور ہوئے صرف چندگھنٹے گزرے تھے۔ اور وہ ان تمام گھنٹوں میں شیردل کے علاوہ اور کسی چیز کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی۔ وہ اس وقت کیا کر رہا ہو گا؟ کہاں ہو گا؟ کچھ کھا رہا ہو گا۔ شیردل کی روٹین اس کی فنگر ٹپس پر تھی اور سیکڑوں میل دور اور ہزاروں فٹ کی بلندی پر بھی شیردل جیسے اس کے سامنے چل پھر رہا تھا۔ وہ شادی کے اتنے سالوں بعد بھی شیردل کے بارے میں جیسے جاگتے میں خواب دیکھنے کی عادی تھی بالکل اسی طرح جیسے وہ شیردل سے شادی سے پہلے اس کے بارے میں سوچتی تھی۔
    ”ممی، پاپا کہاں ہیں؟” اس کی سوچوں کاتسلسل مثال کے سوال پر ٹوٹا تھا۔ اس کے برابر کی سیٹ پر وہ ابھی ابھی نیند سے ہڑبڑا کر اٹھی تھی اور اس نے آنکھیں کھولتے ہی شیردل کو تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ شہربانو نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ یہ مثال کی پرانی عادت تھی، وہ نیند سے جاگتے ہی سب سے پہلے شیردل کو ڈھونڈتی تھی۔ یہ اس کی بھی عادت تھی، وہ بھی اپنے باپ کی زندگی میں اس کے ساتھ رہتے ہوئے آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلا سوال اپنے باپ کے بارے میں ہی کرتی تھی۔ مثال کو تھپکتے ہوئے اس نے پچھلے کئی گھنٹوں میں بلاشبہ کوئی دسویں بار مثال کو شیردل کا محل وقوع بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی اور یہ بھی کہ وہ ان کے ساتھ کیوں نہیں آسکا۔
    ”Can you tell him that Misal is missing her?” ۔مثال نے اس کی بات سننے کے بعد یک دم اس سے کہا۔
    ”I would definitely do that”شہربانو نے اسے مزید تھپکا۔
    ”Mummy is also missing him”۔ شہربانو نے بھی اس کے ساتھ شیئرنگ کی۔
    ”لیکن آپ میرے جتنا تو miss نہیں کرتیں انہیں۔” مثال نے فوراً اعتراض کیا۔ شہربانو مسکرا دی۔ وہ جانتی تھی مثال باپ کے بارے میں اسی طرح پوزیسو تھی جس طرح باپ اس کے بارے میں تھا۔
    ”ہاں تمہارے جتنا تو miss نہیں کرتی میں تمہارے پاپا کو۔” شہربانو نے جیسے اسے یقین دلایا۔ مثال بے اختیار کچھ مطمئن ہو گئی۔
    ”سو جاؤ۔” شہربانو نے اسے دوبارہ سلانے کے لیے سیٹ کی پشت سے ٹکایا۔ مثال نے مطمئن انداز میں اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔ شہربانو اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ وہ اب تک اس کی اور شیردل کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ تھا… واحد اثاثہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہوتا۔ چار سال سے وہ ان دونوں کی زندگی کو بانٹنے والا واحد ساتھی تھا… لیکن اس سال وہ اپنی فیملی میں مزید اضافہ کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ مثال کے بہن یا بھائی کے دنیا میں آنے کا اس سے زیادہ موزوں وقت کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔
    ……٭……




    عکس مراد علی کے لیے ٹی وی اسکرین پر بار بار گزرنے والے اس ticker کے چلنے کا اس سے زیادہ غیر موزوں، تکلیف دہ اور خطرناک وقت کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔ شیردل کو بیڈ روم میں صوفے پر بیٹھے برق رفتاری سے ایک کے بعد ایک کال ملاتے اور متعلقہ افراد سے بات کرتے ہوئے بھی اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ اور احساس تھا۔ رات کے پچھلے پہر بھی ٹی وی پر آنے والی ایک ایسی خبر کا حصہ ہونا ذاتی حیثیت میں جتنا تکلیف دہ تھا پروفیشنلی عکس کے لیے اس سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا تھا۔ پندرہ منٹ کے بعد ٹی وی اسکرین کے نیچے چلنے والے tickers میں سے صرف عکس مراد علی کے حوالے سے چلنے والی خبر غائب ہو گئی تھی… لیکن شیردل کو اندازہ تھا کہ تب تک بھی عکس کے لیے خفت اور رسوائی کا کافی سامان اکٹھا ہو چکا تھا۔
    ”Thank you۔” شیردل کی کال ریسیو کرتے ہی اس نے ہیلوکے بجائے اسے کہا۔
    ”جواد سے بات ہوئی ہے تمہاری؟” شیردل نے اس کے Thank you کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا۔
    ”نہیں… فون بند ہے اس کا۔” شیردل کواس کی آواز تھکی ہوئی اور بھاری محسوس ہوئی۔ وہ اگلا سوال کرتے کرتے ٹھٹک گیا۔ پتا نہیں اسے کیوں یہ احساس ہوا کہ وہ شاید روئی تھی… یا پھر رو رہی تھی۔
    ”تم تو ٹھیک ہو؟” شیردل بے اختیار ٹینس ہوا تھا۔
    ”ہاں۔” وہ کوئی سوال کرنا چاہتا تھا کہ مگر نہیں کر سکا۔
    ”تم اب سو جاؤ۔” اس نے بے اختیار عکس سے کہا۔




  • چچا غالب طلبا کی نظر سے — عائشہ تنویر

    چچا غالب کو کون نہیں جانتا؟ ادب کا ذوق تو ہر ایک کو نہیں ہوتا، لیکن اردو لازمی پڑھنے والوں کے لئے بھی غالب وہ چچا ہیں جو ہر وقت بھتیجے، بھتیجیوں کی جان کے درپے رہتے ہیں۔
    میٹرک میں ان کے خطوط، اسلوب، شاعری کی تشریح پر جان کھپائی تو، اور آگے جا کر ان کی شاعری کے حسنِ بیان و خواص کو بھی سراہا۔ یہ غالب ہی ہیں جنہوں نے کتنے فیل ہونے والوں کو بچایا ہے اور پاس ہونے والوں کو فیل کرایا ہے۔




    سچ تو یہ ہے کہ طلبا تو پھر طلبا ہی ہوتے ہیں، لیکن اردو ادب کے نقاد بھی غالب کے لئے متضاد آرار رکھتے ہیں۔ کوئی ان کی نثر کا قائل ہے، تو کوئی ان کی شاعری کا دلدادہ ہے۔ نیرنگ خیال کے تو کیا ہی کہنے مگر کوئی ہم سے پوچھے تو ہم تو غالب کی پسند کو پسند کرتے ہیں۔ جی ہاں! آم جن کے بارے میں غالب اور ہماری رائے یکساں ہے کہ "آم ہوں اور بے حد ہوں”
    عموماً سائنس کے طلبا جو محض کسی خاص پیشے میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، چچا غالب ان کے لئے کسی خوف سے کم نہیں، قصور اس میں چچا کا بھی نہیں کہ طلبا ہی دھیان سارا اپنے ان مضامین پر دیتے ہیں جن کا امتحان ہونا ہو اور لازمی مضامین میں دلچسپی نہیں رکھتے اور یہاں غالب کی انا کے کیا کہنے، بے توجہی تو انہیں گوارا نہیں۔ اپنی ذات کا غرور تو ان کا خاصہ ہے کہ خود فرماتے ہیں:
    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
    جب خود شناسی کا یہ عالم ہو تو طلبا پر وہ کیوں کر رحم کریں گے؟ سو نمبر کم کروا کر طلبا کا دل دکھاتے ہیں۔ اسی لئے طلبا غالب سے خائف ہی رہتے ہیں۔
    ویسے یہ بات تو ہمارے والدین اور اساتذہ کے سوچنے کی ہے کہ ایک طرف ہمیں عاجزی کا سبق دیتے ہیں، عشق معشوقی سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں تو دوسری جانب غالب پڑھاتے ہیں جو خود فرماتے ہیں:
    عشق نے غالب نکما کر دیا
    ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
    سو اگر ہماری نئی نسل کا پسندیدہ مشغلہ عشق و عاشقی ہو، تو ان سے کیا شکوہ؟ ابھی تو یہ شکر ہے کہ غالب کے اشعار طلبہ کو من و عن سمجھ ہی نہیں آتے اور بہت سے معنی و مفہوم کے مبہم رہ جانے کے سبب وہ محبوب کے پیچھے غالب کی طرح خوار نہیں ہوتے، بلکہ "ایک جائے گا تو دوسرا آئے گا” کے قائل ہیں۔
    کچھ دن پہلے ہمارا ایک محفل میں جانا ہوا۔ وہاں چند طلبا بیٹھے خدا جانے غالب کے اشعار کی گہرائی میں اترنا چاہتے تھے یا اس سے انتقام لینا چاہتے تھے، ہم جان نہ سکے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کی تشریحات اتنی "گہری” تھی کہ شعر خود اس میں ڈوب کر مر گیا۔
    چند تشریحات آپ کو بھی سناتے ہیں، کیا معلوم آپ کو امتحان میں ضرورت پڑ جائے۔
    شعر عرض کیا:
    کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہونا




    اب خوب صحت کے حامل ایک طالب علم کے، جن کی جسامت دیکھ کر قتل تو دور کی بات انہیں گھورتے بھی ڈر لگے، بولنا شروع ہوئے.
    ” دراصل شاعر اس شعر میں اس بلی جیسے قاتل کی حالتِ زار پر روشنی ڈال رہے ہیں، جو نو سو چوہے کھا کر حج کو چلی تھی۔ اب قاتل صاحب بھی جب ایک بندے کو قتل کرنے پہنچے تو وہ باتوں میں ماہر تھا۔ اس نے قاتل کو سیدھی راہ دکھانے کو یوں دل پذیر تقریر کی کہ قاتل کو بھی اپنی عاقبت سنوارنے کا خیال آیا لیکن اس نے اپنے آخری شکار کو کہا:
    "جناب باتیں آپ کی ساری درست ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں تو آپ کے قتل کا ایڈوانس لے کر رنگ والے کو دے بھی چکا، نیا گھر بس تیار ہے، تھوڑی بہت آرائش باقی ہے.اب ایڈوانس واپس تو کر نہیں سکتا تو آپ کو تو مرنا پڑے گا۔ آئندہ کے لئے میں توبہ کرتا ہوں۔ پکا وعدہ کہ آپ کی آخری خواہش کا احترام کیا جائے گا۔”
    اب مقتول میاں اپنی حالت زار پر خوب روئے کہ کیا ہوتا اگر قاتل نے ایڈوانس نہ کھایا ہوتا، یا ان کے محبوب نے ہی یہ کام اس قاتل کا گھر مکمل ہونے کے بعد اسے سونپا ہوتا۔ کچھ تو بچت کی راہ نکل آتی۔ اب تو مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ساری محنت اور تقریر رائیگاں گئی۔
    ہائے تیری پشیمانی میرے کسی کام کی نہیں۔
    ابھی ہم ان پہلوان کی تشریح کی تشریح ہی کر رہے تھے کہ ان کا دوسرا ساتھی بولا:
    "میں تو یہ کہتا ہوں کہ آخر لوگ اس طور تحقیق کیوں نہیں کرتے کہ غالب کی موت طبعی نہ تھی۔ دھمکیاں تو عرصے سے مل رہی تھیں۔ آخر ایک دن ایک با ذوق نے عقیدت رکھنے کے باوجود پاپی پیٹ کے لئے ان کی جان لے لی۔”
    ان صاحب کا تعلق یقینا کراچی سے تھا اور ارادہ بھی پولیس میں جانے کا تھا، تب ہی تو شعر سے تفتیش کا آغاز کیا۔
    ان کی بات سُن کر ہم غالب کے دور کے امن و امان کے مسائل کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ کسی ٹی وی پروگرام کے شوقین نے بروقت مداخلت کی۔
    "ارے چھوڑو یار، تم شبیر سے پوچھ لو، کوئی جانے نہ جانے شبیر تو جانتا ہو گا ناں، اس کی معلومات غضب کی ہیں، تم ذرا مجھے اس دوسرے شعر کے معنی سمجھاؤ۔
    آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
    کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
    "ہممم!!!”
    بہت دیر سوچ بچار کے بعد ایک عاشق گویا ہوئے:
    "دراصل تم اس بات کو یوں لو کہ اب دلی وِلّی کو تو ہم جانتے نہیں، لیکن سر نے کہا تھا غالب کی شاعری زمان ومکان سے آزاد ہے۔”




  • ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کہانی

    ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کہانی

    ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کہانی
    کہانی بڑی پرانی!
    سمیع اللہ حامد۔ بحرین

    اِدھر آؤ بچو! کہانی سنو!
    کہانی ہماری زبانی سنو!

    کہانی یہ ماضی کی سوغات ہے
    یہ صدیوں پرانی ملاقات ہے

    کنارے پہ راوی کے اِک ملک تھا
    اور آباد و خوش حال، اچھا بھلا

    بنے تھے ہر اِک سمت پکے مکاں
    سرِ شام اُٹھتا تھا جن سے دھواں

    وہاں منڈیاں اور بازار تھے
    کساں تھے، جولاہے تھے، کمہار تھے

    بنے تھے فِصیلوں پہ کچھ دَمدمے
    کہ جلتے تھے شب بھر وہاں قمقمے

    وہاں کا جو تھا بادشاہ دوستو!
    وہ رکھتا تھا سب پر نگاہ دوستو!

    ہری رُوپا تھا اُس کی بیٹی کا نام
    کِیا کرتی تھی سلطنت کے وہ کام

    وہ شہزادی قدرت کا اظہار تھی
    وہ حُسن و ذہانت کا شہکار تھی

    رعایا تھی خوش اُن سے بے انتہا
    وہ کرتے تھے جاں اپنی اُن پر فدا

    کہیں دُور بہتا تھا دریا ”سواں”
    وہاں کا تھا شہزادہ موہن جہاں
    تھا شہزادہ موہن بہت خُوبرو
    نہایت بہادر، بڑا جنگ جُو

    یونہی ایک دن اُس نے یہ ٹھان لی
    کروں کیوں نہ میں سیر ہر ملک کی

    اجازت جو گھر والوں سے مل گئی
    تو موہن کے دل کی کلی کِھل گئی

    کہا اُس کی امّی نے بیٹے مرے!
    سپاہی بھی کچھ ساتھ ہوں گے ترے

    کمر بستہ سب تھے سفر کے لیے
    پھر اِک دن سفر پر سبھی چل پڑے

    تھکن سے وہ گرتے سنبھلتے رہے
    مگر سب مسلسل ہی چلتے رہے

    اسی طرح سیّاحوں کے بھیس میں
    وہ پہنچے ہری روپا کے دیس میں

    وہیں اک سرائے میں رہنے لگے
    ہے اچھی جگہ، سب یہ کہنے لگے

    کبھی گھومنے جاتے گُل زار میں
    کبھی پھرتے دن بھر وہ بازار میں

    وہ دولت بھی لے آئے تھے ساتھ ہی
    سبھی نے خریداری جی بھر کے کی

    انھوں نے خریدے کچھ اوزار بھی
    لیے سیپیوں سے بنے ہار بھی

    سبھی نے خریدیں نئی کنگھیاں
    جو ہاتھی کے دانتوں سے بنتی تھیں واں
    ہر اِک نے پسندیدہ محفل چُنی
    کچھ اپنی سنائی، کچھ اُن کی سنی

    نہ جانے خبر کس طرح اُڑ گئی
    کہ موہن نہیں عام سا آدمی

    وہ جو دور بہتا ہے دریا ”سواں”
    وہاں کا ہے شہزادہ موہن جہاں

    خبر جب یہی بادشاہ کو ملی
    تو فوراً ہی دوڑائے دو ایلچی

    محل میں پھر اُس نے بلایا انھیں
    مزے دار کھانا کھلایا انھیں

    سبھی نے پھر اُن سے ملاقات کی
    انھی سب میں رُوپا بھی موجود تھی

    چلا اُن کی باتوں کا اِک سلسلہ
    تو رُوپا نے بھی اِس میں حصہ لیا

    جو موہن سے رُوپا نے کی بات چیت
    لگا اُس کو جیسے وہ گاتی ہو گیت

    کِیا دل میں موہن نے اِک فیصلہ
    قریب آکے پھر بادشاہ سے کہا

    اگر آپ کی ہو اجازت حضور!
    تو رُوپا کو دلہن بناؤں ضرور

    سبھی کو پسند آئی موہن کی ذات
    ہوئی پکی یوں اُن کے رشتے کی بات

    رہے اُس جگہ کچھ دن آرام سے
    تھی آزادی سب کو ہر اِک کام سے
    محل ہی میں سب نے گزارے وہ دن
    تھے سوچوں سے بھی بڑھ کے پیارے وہ دن

    جدائی جو گھر کی ستانے لگی
    وطن کی انھیں یاد آنے لگی

    پھر اِک دن وہ رختِ سفر باندھ کر
    چلے، کیونکہ لمبا تھا اُن کا سفر

    لیے سب نے جب خوب آنسو بہا
    تو موہن نے فوراً ہی اُن سے کہا

    میں واپس نہ آئوں، مری کیا مجال
    کریں گے یہ شادی ہم اگلے ہی سال

    مسافت تھی اُن کی بہت ہی طویل
    سفر اُن کو درپیش تھا چھے سو میل

    اکہتر دنوں میں وہ پہنچے وطن
    تھکاوٹ سے تھے چُور اُن کے بدن

    جو آئے ملاقات کرنے سبھی
    سنی پھر کہانی ہری رُوپا کی

    وہ موہن کی منگنی پہ خوش ہو گئے
    خیالوں میں شادی کے وہ کھو گئے

    مگر باپ نے یہ کِیا فیصلہ
    میں خود جائوں گا لے کے اِک قافلہ

    کِیا بادشاہ نے جو عزمِ سفر
    تو ہنستی تھی اُس پر قضا و قدر

    ہری رُوپا کے دیس پہنچا وہ جب
    وہاں اُس نے نظّارے دیکھے عجب

    کہ وہ سب تھے خوش حال بے انتہا
    ملا تھا انھیں مال بے انتہا
    بہت خوش ہوئے اُن کی آمد سے لوگ
    انہیں کیا پتا تھا کہ کل ہو گا سوگ

    رہے اُن کے مہمان خانے میں وہ
    معزز تھے کیونکہ زمانے میں وہ

    ہوئی بادشاہ کی جو نیّت خراب
    تو حملے کا اُس نے کیا اِرتکاب

    مکینوں کو تلواروں پر دھر لیا
    نہتوں کو بھی قتل اُس نے کِیا

    ہری رُوپا کے والد اور والدہ
    نہ تھی اُن کے بچنے کی کوئی جگہ

    غرض خون اُس نے بہایا بہت
    ڈرایا بہت اور ستایا بہت

    جو دریائے راوی نے دیکھا ستم
    تو غصے میں وہ آگیا ایک دم

    بہاؤ کا رُخ اُس نے موڑا اِدھر
    جہاں پر تھا واقع ہری کا نگر

    درختوں کو ٹیلوں کو ڈھاتا ہوا
    پرانی فصیلیں گِراتا ہوا

    وہ داخل ہوا اُس طرح شہر میں
    کہ طغیانی تھی اُس کی ہر لہر میں

    تھی رفتار اُس کی بہت تند و تیز
    درندہ ہو جیسے کوئی خون ریز

    وہ آبادیوں کو کچلتا گیا
    ہر اِک شے کو گویا نگلتا گیا
    جہاں تھے کبھی کچے پکے مکاں
    وہاں اب تھا ہر سمت پانی رواں

    جو موہن کو پہنچی یہی داستاں
    تو لُٹ ہی گیا اُس کے دل کا جہاں

    وہ گھبرا کے دریا ”سواں” پر گیا
    بالآخر وہیں ڈوب کر مر گیا

    خفا ہو گیا واں بھی دریا سواں
    تو دہرائی اُس نے وہی داستاں

    پھنسا ملک موہن کا گرداب میں
    ہوا غرق سارا ہی سیلاب میں

    یہ دونوں وطن مٹ گئے اِس طرح
    کہ موجود تھے ہی نہیں جس طرح

    سنو پیارے بچو! سناتا ہوں میں
    کہانی کا مقصد بتاتا ہوں میں

    ہڑپہ جسے آج کہتے ہیں سب
    ہری رُوپا لڑکی ہے اِس کا سبب

    وطن تھا جو موہن کا اے دوستو!
    اُسے کہتے ہیں اب موہنجو دڑو

    ہُوا ساتھیو! اب یہ قصّہ تمام
    کہ دنیا کو حاصل نہیں ہے دوام

    کوئی بھی ہمیشہ نہ رہ پائے گا
    کسی روز حامد بھی مر جائے گا

    یہ دنیا بھی کیا ہے، فقط خار و خس
    ہے اللہ بس اور باقی ہَوس
    ٭…٭…٭

    مشکل الفاظ
    1۔ فِصیلیں (دیواریں)
    2۔ دمدمے (مورچے)
    3۔ خوبرو (خوبصورت)
    4۔ رختِ سفر (سفر کا سامان)
    5۔ ارتکاب (غلط کام)
    6۔ طغیانی (سیلاب)
    7۔ خون ریز (خون بہانے والا)
    8۔ دوام (ہمیشہ)
    9۔ خاروخس (کانٹے اور گھاس)
    نوٹ
    پیارے دوستو! اس ”نظم کہانی” کو غور سے پڑھیں اور پوری کہانی کو اپنے ذہن میں دہرا کر اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیں۔

  • آؤ چلتے ہیں لاہور

    آؤ چلتے ہیں لاہور

    آؤ چلتے ہیں لاہور
    ارسلان اللہ خان

    کیوں ہوتے ہو اتنے بور
    آؤ چلتے ہیں لاہور

    دیکھو داتا کا دربار
    گھومو باغِ شالیمار

    ماڈل ٹاؤن، سبزہ زار
    چوبُرجی کے یہ مینار

    چڑیا گھر ہے جیسے بَن
    جانوروں کا ہے مسکن

    یہ مینارِ پاکستان
    میرے دیس کی ہے پہچان

    دیکھو مُغلوں کے آثار
    کیسے کیسے ہیں شہکار

    آؤ دیکھیں دہلی گیٹ
    جائیں گے پھر بھاٹی گیٹ

    شاہی مسجد جائیں ہم
    ربّ کی رحمت پائیں ہم

    زندہ دِل ہیں سارے لوگ
    کیسے پیارے پیارے لوگ
    سب ہیں کھانے کے شوقین
    پہنیں کپڑے بھی رنگین

    جس نے نا دیکھا لاہور
    وہ کیا دیکھے گا کچھ اور
    ٭…٭…٭