Author: misbah116@hotmail.com

  • امربیل — قسط نمبر ۵

    امربیل — قسط نمبر ۵

    ”موڈ ٹھیک ہوگیا تمہارے کزن کا؟” شہلا نے ساتھ چلتے چلتے اچانک علیزہ سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” وہ ہلکے سے مسکرائی۔
    ”چلو شکر ہے کم از کم تمہارے چہرے پر بارہ بجے والی مستقل کیفیت سے تو چھٹکارا ملا۔” علیزہ اس کی بات پر کچھ جھینپ گئی۔
    ”کیا مطلب؟”
    ”کچھ نہیں یار! میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ اب پہلے کی طرح تمہارے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کو مل جایا کرے گی جو کئی دن سے غائب تھی۔”
    ”ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”
    ”ایسی ہی بات ہے۔ عمر کا موڈ صحیح، تمہارا موڈ صحیح۔ عمر کا موڈ خراب تمہارا موڈ خراب۔”
    ”تم غلط کہہ رہی ہو شہلا۔” اس نے جیسے احتجاج کیا تھا۔
    ”کاش کہ یہ بات واقعی غلط ہوتی مگر ایسا نہیں ہے علیزہ سکندر! آپ مجھے دھوکہ نہیں دے سکتیں۔” اس نے ہینڈ بیگ میں سے کینو نکال کر ساتھ چلتے ہوئے چھیلنا شروع کردیا۔
    ”میں اس کی وجہ سے پریشان تھی مگر۔۔۔”
    شہلا نے اس کی بات کاٹ دی۔”تمہیں میرے سامنے کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
    I know you inside out”




    اس نے قاش منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔ علیزہ کچھ دیر خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی رہی پھر اس نے کچھ مدھم آواز میں کہا۔
    ”میری اس کے ساتھ بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے۔”
    ”صرف انڈراسٹینڈنگ ہونے سے کوئی کسی کیلئے اس طرح پریشان نہیں ہوتا۔”
    وہ صاف گوئی کا ہرا گلا پچھلا ریکارڈ توڑنے پر تلی ہوئی تھی۔
    ”وہ میرا دوست ہے۔”
    ”نہیں! معاملہ دوستی کی حدود سے کافی آگے بڑھ چکا ہے۔”
    ”شہلا! میں۔۔۔”
    شہلا نے کچھ تنک کر اس کی بات کاٹ دی۔ ”تم ڈرتی کیوں ہو، یہ مان لینے سے کہ تم اس سے محبت کرتی ہو۔”
    ”ایسا نہیں ہے۔”
    ”ایسا ہی ہے بلکہ سو فیصد ایسا ہی ہے۔”
    ”اچھا ٹھیک ہے پھر اس سے کیا ہوتا ہے؟”
    ”بہت کچھ ہوتا ہے… علیزہ بی بی! آپ کا پرابلم یہ ہے کہ آپ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ سمجھ لیتی ہیں کہ ساری دنیا اسی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ آپ کو اس سے محبت ہے تو آپ جاکر اس سے کہیں کہ آپ اس سے محبت فرما رہی ہیں۔ وہ بھی خاموش محبت۔”
    ”اس سے کیا ہوگا؟”
    ”اس سے یہ ہوگا کہ یا تو عمر صاحب بھی آپ سے اپنی محبت کا اقرار کرلیں گے یا پھر یہ ہوگا جس کا زیادہ امکان ہے کہ وہ آپ کا دماغ درست کردیں گے۔ کم از کم پھر آپ اس محبت کے چکر سے تو نکل آئیں گی۔”
    علیزہ نے کچھ رنجیدگی سے اسے دیکھا۔ ”مجھے اس سے کچھ بھی نہیں چاہیے۔”
    ”کیا مطلب! تم نہیں چاہتیں کہ وہ تم سے اپنی محبت کا اظہار کرے اور شادی کرے؟” شہلا نے کچھ حیران ہوتے ہوئے اسے دیکھا۔
    ”نہیں۔”
    ”تو پھر۔”
    ”میں بس یہ چاہتی ہوں کہ وہ ٹھیک رہے، پریشان نہ ہو، بس وہ خوش رہے۔”
    ”چاہے اس کی زندگی میں کوئی علیزہ سکندر نہ ہو۔”
    ”چاہے اس کی زندگی میں، میں نہ ہوں۔”
    ”میں تمہیں سمجھ نہیں پائی۔ تم آخر چاہتی کیا ہو۔ مجھے جو چیز اچھی لگے میں چاہتی ہوں وہ مجھے مل جائے۔ میرے Possession میں ہو اور تم… تم عمر سے محبت کرتی ہو تو اس کا اقرار نہیں کرتیں۔ اقرار کرتی ہو تو اسے حاصل کرنا نہیں چاہتیں اور میں سوچتی ہوں کہ اگر تم اس کو حاصل کرلو گی تو پھر تم اسے پاس رکھنا نہیں چاہو گی، ہے نا؟” شہلا کا لہجہ مذاق اڑانے والا تھا۔
    ”کسی چیز کو صرف میری محبت میرے پاس نہیں لاسکتی۔ میں اپنے پیرنٹس سے بھی بہت محبت کرتی ہوں۔ میری محبت انہیں اکٹھا نہیں رکھ سکی نہ انہیں میرے پاس رکھ سکی ہے۔ عمر سے محبت کروں گی تو کیا ہوگا۔ کیا وہ میرا ہوجائے گا؟”




  • برسات

    برسات

    برسات
    اسماعیل میرٹھی

    وہ دیکھو اُٹھی کالی کالی گھٹا

    ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا
    گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہُوئی

    ہوا میں بھی اِک سنسناہٹ ہُوئی
    گھٹا آن مِینہہ جو برسا گئی

    تو بے جان مِٹّی میں جان آگئی
    زمِیں سبزے سے لہلہانے لگی

    کِسانوں کی محنت ٹِھکانے لگی
    جڑی بُوٹِیاں، پیڑ آئے نِکل

    عجب بیل پتّے، عجب پُھول پھل
    ہر اک پیڑ کا اِک نیا ڈھنگ ہے

    ہر اِک پُھول کا اِک نیا رنگ ہے
    یہ دو دِن میں کیا ماجرا ہوگیا

    کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا
    جہاں کل تھا میدان چٹیَل پڑا

    وہاں آج ہے گھاس کا بَن گھڑا
    ہزاروں پُھدکنے لگے جانور
    نِکل آئے گویا کہ مِٹّی کے پَر

    ٭…٭…٭

  • امربیل — قسط نمبر ۴

    امربیل — قسط نمبر ۴

    ”عمر کے بارے میں کیا بات کر رہے تھے؟”
    وہ بھی کچھ فکر مند ہو گئی تھی۔ نانو اب بہت الجھی ہو ئی لگ رہی تھیں۔
    ”پتا نہیں اب کیا پرابلم ہے؟”
    نانو بڑبڑائی تھیں۔
    ”انکل جہانگیر کل پاکستان آئیں گے؟”
    اس نے اس بار سوال بدل دیاتھا۔
    ”نہیں ! پاکستان تو وہ دو دن پہلے ہی آچکا ہے!”
    ”انہوں نے آپ کو پہلے انفارم کیوں نہیں کیا؟”
    ”پتہ نہیں !”
    ”ملنے بھی نہیں آئے؟”
    ”اب میں کیا کر سکتی ہوں۔ اس کی مرضی ہے۔”
    ”پہلے تو سیدھا یہیں آیا کرتے تھے۔”
    ”پہلے تو بات ہی اور تھی۔ پہلے تو تمہارے نانا کی وجہ سے وہ سیدھا یہیں آیا کرتا تھا۔ اب جب سے ان کی ڈیتھ ہوئی ہے جہانگیر بہت لاپرواہ ہو گیا ہے۔”
    ”انکل لاہور میں ہی ہیں؟”
    ”پتا نہیں۔ یہ میں نے نہیں پوچھا۔ ہو سکتا ہے، لاہور میں ہی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ابھی کراچی میں ہو۔”
    ”کل کس وقت آرہے ہیں؟”
    ”کہہ رہا تھا کہ شام کو آئے گا۔”
    ”آپ نے ان سے پوچھا کہ یہاں کتنے دن رہیں گے؟”
    ”تم بے وقوف ہو علیزہ ! بھلا میں یہ کیسے پوچھ سکتی تھی۔ وہ سوچتا ماں کو پہلے ہی اس کی واپسی کی فکر پڑ گئی ہے۔”
    علیزہ کا چہرہ خفت سے تھوڑا سرخ ہو گیاتھا۔
    ”نہیں ، میرا یہ مطلب نہیں تھا ، میں تو اس لئے پوچھنا چاہ رہی تھی تاکہ ان کا کمرہ اسی طرح سیٹ کر سکوں۔رہیں گے تو یہیں نا؟”
    ”ہاں، کہہ تو یہی رہا ہے کہ یہیں رہے گا مجھ سے کہہ رہا تھا کہ عمر کو اس کی آمد کے بارے میں کچھ نہ بتاؤں۔ میں نے کہا کہ عمر تو یہاں ہے ہی نہیں۔ کہنے لگا کہ پھر بھی اسے میرے آنے کی اطلاع نہیں ہونی چاہئے۔”
    ”انکل جہانگیر نے ایسا کیوں کہا؟”
    علیزہ کچھ حیران ہوئی تھی۔
    ”آخر عمر سے وہ اپنی آمد کیوں چھپانا چاہ رہے ہیں؟”
    ”یہ تو میری بھی سمجھ میں نہیں آیا۔”
    ”پتا نہیں انکل جہانگیر اور عمر کا اتنا جھگڑا کیوں ہوتا رہتا ہے؟”
    ”دونوں غصہ ور ہیں۔ دونوں ہی اپنی منوانے والے ہیں۔ پھر جھگڑا نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا۔ بہرحال تم جہانگیر کے لئے بھی کمرہ تیار کروا دو۔”
    ”نانو انکل اکیلے آرہے ہیں؟”
    ”ہاں ! اکیلا ہی آ رہا ہے۔”
    نانو اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی تھیں۔
    علیزہ کچھ دیر خاموشی سے وہاں بیٹھی کچھ سوچتی رہی پھر اٹھ کر عمر کے کمرے کی طرف آگئی تھی۔ کمرے میں عمر کے کلون کی مہک ابھی تک موجود تھی۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے اسٹڈی ٹیبل کی طرف گئی تھی، وہاں عمر کا وہ اسکیچ موجود نہیں تھاجو اس نے کل وہاں رکھا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عمر وہ اسکیچ دیکھ چکاتھا۔ اسے نامعلوم سی خوشی ہوئی تھی۔ وہ واپس مڑنے کو تھی جب اس کی نظر اسٹڈی ٹیبل کے پاس پڑی ویسٹ پیپر باسکٹ پر پڑی تھی۔ اس میں صرف ایک مڑا تڑا کاغذ پڑا ہوا تھا اور وہ اس کاغذ کو ہاتھ لگائے بغیر بھی جانتی تھی کہ وہ کونسا کاغذ تھا۔
    ٭٭٭




  • امربیل — قسط نمبر ۳

    امربیل — قسط نمبر ۳

    اگلے دن یونیورسٹی میں اس کا دل نہیں لگا تھا۔ گھر واپس آتے ہی وہ سیدھا کچن میں گئی۔
    ”نانو رات کے لئے کیا پکوا رہی ہیں!”
    ” کوئی خاص چیز کھا نے کو دل چاہ رہا ہے؟”
    نانو نے مسکراتے ہوئے پوچھاتھا۔
    ”نہیں ! میں اپنے لئے نہیں عمر کے لئے پوچھ رہی ہوں۔ اس کے لئے کیا بنوا رہی ہیں۔”
    نانو کرسی پر بیٹھی ملازم سے فریزر صاف کروا رہی تھیں۔ انہوں نے کچھ حیرانی سے دیکھاتھا۔




    ”عمر کے لئے تو کچھ بھی نہیں بنوارہی۔”
    ”کیوں نانو ؟”
    وہ کچھ حیران رہ گئی۔
    ”آپ کو یاد ہے نا کہ وہ رات کو آ رہا ہے؟”
    ”ہاں ، مجھے یاد ہے ، وہ دو بجے کی فلائٹ سے یہاں آئے گا۔ پہنچتے پہنچتے اسے تین بج جائیں گے ظاہر ہے کہ اس وقت تو وہ کھانا نہیں کھائے گا، سیدھا سونے کے لئے چلا جائے گا۔”
    ”پھر بھی نانو! فرض کریں اس نے کھانا نہ کھا یا ہوا تو؟”
    ”یہ فرض کرنے والی بات ہے ہی نہیں ، وہ رات کا کھانا یقیناً فلائیٹ میں ہی کھائے گا۔ تم جانتی ہو کہ کھانے کے معاملہ میں وہ کتنا باقاعدہ ہے۔”
    ”پھر بھی نانو! بھوک کا کیا ہے۔ وہ تو کسی بھی وقت لگ سکتی ہے، اگر اس نے کچھ کھا نے کے لئے مانگ لیا؟”
    ”بعض دفعہ تم حماقت کی حد کر دیتی ہوعلیزہ! اس طرح بات کر رہی ہو جیسے گھر میں کھانے کے لئے کچھ ہو ہی نا۔ تمہیں پتہ ہے ہر وقت فریج میں دو، تین ڈشز ضرور ہوتی ہیں۔ بھوکا نہیں سو ئے گاوہ۔”
    علیزہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی تھی۔
    ”البتہ کل کے لئے میں کافی ڈشز بنوا رہی ہوں، تم دیکھ لینا بلکہ خود بھی خانساماں سے کہہ دینا ، اگر کوئی خاص چیز وہ بھو ل جائے تو۔”
    وہ اب دوبارہ ملازم کی طرف متوجہ ہو چکی تھیں۔
    ”میں دیکھ لوں گی ، آپ فکر نہ کریں۔”
    وہ کچن سے باہر آگئی تھی، لاؤنج کی گھڑی تین بجا رہی تھی۔
    ”اور وہ رات کے تین بجے گھر پہنچے گا۔ ابھی پورے بارہ گھنٹے باقی ہیں اور مجھے ان بارہ گھنٹوں میں کیا کرنا چاہئے ؟”
    اس نے سوچنے کی کوشش کی تھی۔
    اپنے کمرے میں جاکر رات کو پہننے کے لئے کپڑے دیکھنے شروع کر دئیے تھے۔ پھر ایک لباس اس نے منتخب کر ہی لیاتھا ایک خیال آنے پر وہ واپس کچن میں آگئی تھی۔
    ”نانو ! عمر ڈرائیور کو پہچانے گاکیسے ؟ یہ ڈرائیور تو نیا ہے اور ڈرائیور بھی عمر کو نہیں پہچانتا!”
    ”میں نے ڈرائیور کو عمر کی تصویر دکھا دی تھی۔ مزید احتیاط کے طور پر میں نے اسے کارڈ پر عمر کا نام لکھ دیا ہے۔ عمر کارڈ اس کے پاس دیکھ کر خود ہی آ جائے گا۔”
    ”ہاں ! یہ ٹھیک ہے۔”
    وہ مطمئن ہو کر واپس اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    رات کا کھانا اس نے نانو کے ساتھ آٹھ بجے کھالیا۔ پہلی بار کلاک کو بار بار دیکھتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وقت کو پر نہیں لگتے بلکہ بعض دفعہ وقت بالکل رک بھی جاتا ہے۔ اس کی تیز رفتاری ہی صبر آزما نہیں ہوتی ۔بعض دفعہ اس کی سست رفتاری بھی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
    ”نانو، آپ ڈرائیور کو کتنے بجے بھیجیں گی ؟”
    کھانے سے فارغ ہو کر علیزہ نے پوچھاتھا۔
    ”ایک بجے۔”
    ”آپ عمر کا انتظار کریں گی؟”
    ”ظاہر ہے ،مجھے تو ویسے بھی رات کو نیند نہیں آتی مگر تم چاہو تو جا کر سو جاؤ۔”
    ”نہیں نانو ! میں بھی انتظار کروں گی۔”
    ”تمہیں صبح یونیورسٹی جانا ہے۔”
    نانو نے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں ! مجھے پتہ ہے لیکن کچھ نہیں ہوگا۔”




  • امربیل — قسط نمبر ۱

    امربیل — قسط نمبر ۱

    مجھے یہ کہنا ہے

    بعض کہانیاں لکھتے ہوئے آپ کو ایک مستقل خلش کا احساس ہوتا رہتا ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں، یہ کہانی کہیں کوئی تبدیلی نہیں لائے گی۔ امربیل بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے جسے لکھتے ہوئے میں اسی احساس سے دوچار ہوں پھر بھی میں اس کہانی کو اس لئے لکھ رہی ہوں تاکہ آپ لوگ زندگی کے ایک اور پہلو کو جان سکیں۔ ان لوگوں کے دلوں اور ذہنوں پرایک نظر ڈال سکیں۔ جو پاکستان کے قیام کے بعد سے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔ اچھے طریقے سے یا برے طریقے سے۔ بہرحال وہ اس ملک کو چلا رہے ہیں اور خود وہ اپنی زندگیوں میں کس ابنارمیلٹی کا شکار ہیں۔ امربیل میں آپ یہی دیکھ پائیں گے۔
    اس ناول کو پڑھتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ کوئی سیاسی ناول نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی تاریخی اور معاشرتی ناول ہے۔ یہ خواہش اور چاہ کا ناول ہے یا پھر سو دو زیاں کا۔ بعض دفعہ ساری زندگی گزارنے کے بعد بھی ہم یہ جان نہیں پاتے کہ ہمیں آخر زندگی میں کس چیز کی ضرورت تھی… کسی چیز کی ضرورت تھی بھی یا نہیں اور بعض دفعہ زندگی کے آخری لمحات میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کو ہم نے زندگی کا حاصل بنا رکھا تھا، اس چیز کے بغیر زندگی زیادہ اچھی گزر سکتی تھی۔ امربیل کے کردار بھی آپ کو آگہی کے اسی عذاب سے گزرتے نظر آئیں گے۔
    میں نے اس ناول میں کرداروں کی بھیڑ اکٹھی نہیں کی۔ صرف چند لوگ ہیں جو پہلے اپنے ارد گرد انسانی رشتوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور بعد میں صرف انسانوں کی … جو کوشش انہوں نے کبھی نہیں کی، وہ اپنے آپ کو تلاش کرنے کی ہے۔
    بنیادی طور پر امربیل ان ناولوں میں سے ایک ہے جو صرف ایک کردار کے لئے لکھا گیا اور یہ ایک ہی کردار کا ناول ہے۔ اب وہ کردار کس کا ہے… یہ آپ کو خود معلوم کرنا ہو گا۔ ہاں میں یہ دعویٰ کر سکتی ہوں کہ آپ اس کردار سے چاہنے کے باوجود بھی نفرت نہیں کر پائیں گے۔ حقیقت میں بھی آپ ایسے کرداروں کے ساتھ ایسی ہی محبت میں گرفتار رہتے ہیں اور … اور… یہی آپ کی غلطی ہے۔
    آئیے غلطی دہرائیں۔




    کوئی چھاؤں ہو
    جسے چھاؤں کہنے میں
    دوپہر کا گمان نہ ہو
    کوئی شام ہو
    جسے شام کہنے میں شب کا کوئی نشان نہ ہو
    کوئی وصل ہو
    جسے وصل کہنے میں ہجر رت کا دھواں نہ ہو
    کوئی لفظ ہو
    جسے لکھنے پڑھنے کی چاہ میں
    کبھی اک لمحہ گراں نہ ہو
    یہ کہاں ہوا ہے کہ ہم تمہیں
    کبھی اپنے دل سے پکارنے کی سعی کریں
    وہیں آرزو بے اماں نہ ہو۔
    وہیں موسمِ غمِ جاں نہ ہو

    عمیرہ احمد




  • عکس — قسط نمبر ۱۶ (آخری قسط)

    ”کیا دیکھ رہی ہیں آپ اس آئینے میں؟” مثال نے کچھ تجسس آمیز انداز میں عکس سے پوچھا جو اس Cheval mirror کے سامنے کھڑی اس آئینے کے فریم کو اپنی انگلیوں سے غیر محسوس انداز میں یوں چھو رہی تھی جیسے اس کے ہونے کا احساس چاہتی ہو… فریم پر موجود بار بار کی جانے والی پالش بھی اب اس کی بوسیدگی اور خستگی کو چھپانے میں ناکام ہورہی تھی۔
    فریم کو چھوتے ہوئے اس پر موجود گرد کو اپنی پوروں کو آپس میں رگڑ کر محسوس کرتے ہوئے وہ مثال کی بات پر مسکرائی تھی۔
    ”میں اس آئینے میں تاریخ دیکھ رہی ہوں۔”
    ”کیسی تاریخ؟” مثال کا تجسس کچھ اور بڑھا۔
    ”اپنی زندگی کی تاریخ… اپنا ماضی… اس ماضی سے جڑے چہرے…” اس نے فریم سے اپنا ہاتھ ہٹاتے ہوئے آئینے میں جھلکتے اپنے عکس کو ایک بار پھر دیکھا پھر اپنے برابر میں کھڑی مثال پر ایک مسکراتی ہوئی نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا… ممی بھی اس آئینے کے سامنے اسی طرح فریز ہو گئی تھیں جس طرح آپ ہوئی ہیں… میں نے ان سے بھی پوچھا تھا کہ وہ اس میں کیا دیکھ رہی ہیں؟” مثال نے اسی دلچسپی سے اس آئینے پر نظر دوڑاتے ہوئے آئینے میں نظر آتی ہوئی عکس سے نظریں ملاتے ہوئے کہا۔
    ”کیا کہا انہوں نے؟” عکس نے اس بار پلٹ کر مثال کو دیکھا۔




    ”انہوں نے کہا وہ اس آئینے میں مستقبل کو دیکھ رہی ہیں۔ آنے والے دنوں کا عکس جو اس میں کہیں چھپا ہے… عجیب بات ہے ناں… آپ اس میں ماضی دیکھ رہی ہیں… ممی مستقبل… مجھے کیا دیکھنا چاہیے… حال؟” مثال نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا۔ عکس اس کی بات پر مسکرا دی پھر اس نے پلٹ کر دوبارہ آئینے کو دیکھا۔
    ”میرا بچپن اس آئینے کے ساتھ گزرا ہے… میرا، شہربانو اور شیردل تینوں کا بچپن دیکھا ہے اس نے۔”
    ”ممی آپ بھول رہی ہیں۔ میرا، طغرل اور باذل کا بچپن بھی تو دیکھا ہے اس نے۔” مثال نے اسے ٹوکا۔
    ”ہاں اورتم بھول رہی ہو کہ توران کا بچپن بھی تو دیکھ رہا ہے یہ۔” اس نے مثال کو جیسے یاد دلایا۔
    ”اوہ ہاں… یہ آئینہ تو واقعی ہماری فیملی heritage کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے اسے یہاں نہیں ہمارے خاندانی گھر میں ہونا چاہیے۔”
    ”آئیڈیا برا نہیں ہے لیکن سرکاری ملکیت ہے یہ۔” عکس نے کہا۔
    ”ممی میں اور ابراہیم گھر کو renovate کرنے والے ہیں… فرنیچر بھی بدلا جائے گا اور کاٹھ کباڑ میں یہ آئینہ بھی نکالنے والے ہیں ہم… بہت زیادہ پرانا اور outdated ہو گیا ہے یہ۔” مثال نے اس کے ساتھ جیسے اپنا پلان شیئر کیا۔
    ”کیوں… ابھی تو ٹھیک ہے یہ۔” عکس نے اعتراض کیا۔
    ”ممی ٹھیک نہیں ہے… کم از کم سو سال پرانا ہو گیا ہے یہ… میں اور ابراہیم تو حیران تھے اس بات پر کہ آخر اب تک ٹکا کیسے ہوا ہے یہ… کسی آفیسر یا اس کی وائف نے ہٹایا کیوں نہیں اسے یہاں سے… نانا، نانی سے لے کر آپ اور پاپا تک کسی کو بھی اسے یہاں سے ہٹانے کا خیال نہیں آیا۔” وہ کچھ حیرانی سے کہہ رہی تھی۔ عکس نے ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ”میں نے تمہیں بتایا ہے ناں یہ ہماری زندگیوں کا حصہ رہا ہے… اس میں ہم لوگ اپنا، اپنا عکس دیکھتے رہے ہیں… اپنی اپنی زندگیاں بنانے یا بگاڑنے والے چہروں کا عکس۔” مثال کو لگا عکس بات کرتے کرتے جیسے کچھ سنجیدہ ہوئی تھی۔
    ”آپ نے اس میں کوئی ایسا چہرہ دیکھا جس نے آپ کی زندگی بگاڑی ہو؟” مثال نے دلچسپی سے کچھ سوچے سمجھے بغیر اپنی طرف سے ایک معمول کا سوال کیا تھا۔ اس سوال نے عکس کو کچھ دیر کے لیے ہلنے نہیں دیا۔ اس کے لیے اس سوال کا جواب بہت مشکل تھا۔ وہ ہاں کہتی اور مثال اس سے اس شخص کا نام پوچھتی… وہ جھوٹ جو اسے بعد میں بولنا تھا وہ شاید پہلے ہی بول دینا چاہیے تھا۔
    ”آپ کیا سوچ رہی ہیں؟” مثال نے اسے دوبارہ مخاطب کیا۔ عکس نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ”میں نے اس چہرے کو اپنی زندگی بگاڑنے نہیں دی۔” وہ عکس کی بات پر تجسس آمیز انداز میں مسکرائی۔
    ”یعنی آپ نے بھی اس آئینے میں کوئی ایسا چہرہ دیکھا تھا؟” وہ اب جیسے زور دینے والے انداز میں بولی تھی۔ ”آپ کو پتا ہے ہم لوگوں نے اس گھر کے بارے میں بھی ملازموں سے بہت عجیب و غریب باتیں سنی ہیں۔ پاپا اور آپ یہاں نہ رہ چکے ہوتے تو میں اور ابراہیم تو کبھی یہاں نہ رہتے۔” وہ اب عکس کو بتا رہی تھی وہ دلچسپی سے سننے لگی۔ ”آپ نے کبھی اس گھر کے بارے میں کچھ سنا تھا؟” مثال نے اب عکس سے ڈائریکٹ پوچھا۔
    ”مثلاً کیا؟” عکس نے دھیمی آواز میں اس سے نظر ملائے بغیر کہا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ مثال نے اس گھر کے بارے میں کیا سنا ہو گا۔
    ”بہت ساری باتیں کہہ رہے ہیں ملازم لیکن سب سے عجیب و غریب بات یہ ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اس گھر میں جو کپل بھی رہتا ہے ان کا break up ہو جاتا ہے… کتنی خوفناک بات ہے ناں ممی… میں تو ڈر ہی گئی یہ سن کے لیکن ابراہیم کو بالکل یقین نہیں ہے ایسی باتوں پہ… آپ یقین کرتی ہیں ایسی باتوں پہ؟” اس نے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں۔” عکس نے بلاتوقف کہا۔ مثال نے ایک کھسیانی مسکراہٹ کے ساتھ عکس کو دیکھا۔
    ”مجھے پتا تھا، آپ کہاں یقین کرنے والی ہیں ایسی باتوں پہ۔ ابراہیم بھی آپ ہی کی مثال دیتا ہے کہ ممی کو دیکھو وہ کتنی بار Serve کر چکی ہیں اس شہر میں۔ اگر ایسا کچھ ہوتا تو ان پر بھی کوئی effect ہوتا… لیکن وہ تو ہمیشہ گھر جوڑنے والی رہی ہیں۔ ان کو تو ہمیشہ فائدہ ہی ہوا ہے اس گھر میں… ہے ناں ممی؟” اس نے بات کے آخر میں استفہامی انداز میں عکس سے پوچھا۔ وہ مسکرا دی۔ پھر وہ آہستہ قدموں کے ساتھ برآمدے سے باہر نکل آئی۔ مثال بھی اس کے ساتھ باہر آگئی تھی۔ وہ دونوں اب ساتھ چلتے ہوئے گھر کے بالکل سامنے موجود لان میں آگئی تھیں۔ عکس نے لان میں پہنچ کر پلٹ کر روپہلی دھوپ میں روشن اس قدیم گھر کو دیکھا۔ مثال بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں اس گھر کو دیکھنے لگی۔ عکس نے چند لمحے اس گھر کو دیکھتے رہنے کے بعد کہنا شروع کیا۔
    ”اس گھر میں اور زندگی میں کوئی فرق نہیں ہے… کم از کم میرے نزدیک… اس گھر میں داخل ہونا جیسے دنیا میں آنے کے برابر ہے… دنیا میں کچھ اچھے لوگ ملتے ہیں، کچھ برے لوگ… اچھوں کی اچھائی بھی زندگی بدل سکتی ہے، بروں کی برائی بھی… پر جگہوں میں کچھ نہیں ہوتا۔ جو بھی کچھ ہوتا ہے وہاں بسنے والے انسانوں کی وجہ سے ہوتا ہے… تمہیں سمجھ آرہی ہے میری بات؟” عکس نے گردن موڑ کے برابر کھڑی مثال کو دیکھا۔ وہ جواباً مسکرا دی۔
    ”سمجھنے کی کوشش کررہی ہوں۔” عکس بھی اس کی بات پر مسکرائی۔ پھر وہ دوبارہ گھر کو دیکھنے لگی۔
    ”گھروں میں کچھ نہیں ہوتا، وہ انسانوں کو جوڑنے یا توڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ بس اینٹوں، سیمنٹ، سریے اور لکڑی کی ایک عمارت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتے… ان کے اندر آکر رہنے والے انسان اپنی سوچ، عمل اور رویوں سے اپنی زندگی بناتے یا بگاڑتے ہیں۔” مثال بہت سنجیدگی سے عکس کی بات سن رہی تھی وہ ہمیشہ اس کی بات اسی سنجیدگی اور انہماک سے سنا کرتی تھی، عکس مراد علی اس کا آئیڈیل تھی۔ وہ ہمیشہ اس جیسا بننا چاہتی تھی۔ لیکن ہر بار وہ یہ اعتراف کرتی تھی کہ ان جیسا بننا بہت مشکل کام تھا۔ کم از کم مثال شیردل کے لیے… یا کسی کے لیے بھی۔ مثال نے زندگی میں عکس مراد علی جیسی کوئی شخصیت نہیں دیکھی تھی اوراسے فخر تھا وہ ”شخصیت” اس کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی ماں تھی۔
    ”میں اس گھر کے ایک کوارٹر میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ کوارٹر اب وہاں ہے بھی نہیں۔” عکس نے دوبارہ کہنا شروع کیا۔ ”میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کوارٹر سے باہر نکل کے میں کبھی اس گھر میں آکے رہوں گی… اس گھر میں اپنی ماں اور نانا کے ساتھ آیا کرتی تھی۔ وہ دونوں کام کرتے تھے یہاں… یہاں پوسٹ ہونے والے آفیسرز اور ان کی فیملیز کی خدمت کیا کرتے تھے… میں اس back ground کے ساتھ اس گھر میں آئی تھی پھر اس گھر میں رہنے والے ایک کپل نے مجھے اچھی تعلیم دلوانے کے میرے نانا کے خواب کو پورا کرنے میں ان کی مدد کی۔ اس گھر میں میری زندگی کی بنیادیں ہیں۔ وہ بنیادیں جن پر آج میری زندگی کی عمارت کھڑی ہے… یہاں پر میں اپنے بہترین دوست اور جیون ساتھی سے ملی۔ یہاں میری پہلی اولاد ہوئی… میری زندگی کے بہت سارے Milestones اس گھر سے وابستہ ہیں۔”
    ”آپ کے لیے تو یہ گھر بڑا Lucky رہا ہے پھر۔” مثال نے مرعوب انداز میں کہا۔ عکس اس کی بات پہ ہنس پڑی اور اس نے اس طرح مسکراتے ہوئے اس گھر کو دوبارہ دیکھا پھر کہا۔
    ”اس گھر میں، میں نے اپنے باپ کو کھویا، اپنی زندگی کے سب سے قیمتی اثاثے، اپنے نانا کو کھویا… یہاں میں اپنے بچپن میں Child abuse کا شکار ہوئی… بہت ذلت اور بے عزتی کی حالت میں اپنی فیملی کے ساتھ دھکے دے کے نکالی گئی۔ میرے کیریئر میں واحد معطلی بھی اسی گھر میں ہوئی۔” عکس نے مسکراتے ہوئے مثال کو دیکھا۔ وہ اب الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ”اب تم سوچ رہی ہو گی کہ نہیں، یہ گھر تو میرے لیے بہت Unlucky ثابت ہوا۔” مثال کچھ بے بسی سے مسکرائی تھی۔ ”میں نے تم سے کہا ناں، گھروں میں کچھ نہیں ہوتا۔ انسان نے چوٹ کھا کے گرنا ہے یا تکلیف سہتے ہوئے بھی کھڑے رہنا ہے؟ یہ فیصلہ اس کی ہمت کرتی ہے، گھر نہیں۔” عکس نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”لیکن ممی اس گھر کے ملازم کہتے ہیں کہ یہاں انہوں نے بونے دیکھے ہیں، اور ہم نے بھی کچھ عجیب عجیب آوازیں اور چیزیں experience کی ہیں۔” مثال کی بات پہ عکس مسکرائی اور اس نے کہا۔
    ”میں بھی بچپن میں یہاں بہت عجیب چیزیں دیکھتی تھی۔” مثال اس کے اس غیر متوقع جملے پر کچھ حیران ہوئی پھر اسی حیرانی سے کہا۔
    ”اوہ، رئیلی ممی۔” عکس مثال کو دیکھنے لگی۔
    ”ہاں۔”پھر اس نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”آپ نے کبھی یہاں بونے دیکھے؟” مثال نے بڑے تجسس سے پوچھا۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے عکس کی آنکھوں کے سامنے پتا نہیں کیا کچھ گزر کرچلا گیا تھا۔ وہ سارے Mental Block چند لمحوں کے لیے جیسے بالکل بیکار ہو کے رہ گئے تھے، جس سے اس نے اپنی زندگی کی اس سیاہ ترین رات کو چھپایا ہوا تھا۔
    ”آپ خاموش کیوں ہیں ممی؟” مثال نے اسے خاموش دیکھ کے جیسے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی، عکس نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ”بتائیں ناں، آپ نے کبھی اس گھر میں بونے دیکھے؟”
    ”ہاں۔” عکس نے مدھم آواز میں کہا۔ مثال یکدم excited ہوئی۔
    ”Oh my God… آپ نے واقعی بونے دیکھے؟” عکس نے سرہلایا۔ اس نے اسی انداز میں عکس سے پوچھا۔ کتنے بونے دیکھے؟”
    ”ایک۔” عکس نے مدھم آواز میں کہا۔ مثال نے ایک بار پھر excited انداز میں کہا۔ ”wow! وہ بونا دیکھنے میں کیسا تھا؟ آپ کو ڈر لگا اس سے؟ اس نے آپ سے کچھ کہا…؟ کچھ کیا؟” مثال نے جیسے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔
    عکس نے ایک گہری سانس لی۔
    اتنے بہت سارے سوالوں کا جواب اور وہ بھی اس کے بچپن کے اس تکلیف دہ واقعے کے بارے میں جس کو سوچنا زخموں پر پاؤں رکھ کر گزرنے جیسا تھا۔
    ”آپ کو اس کی شکل یاد نہیں آرہی؟” مثال نے اسے خاموش دیکھ کر کریدا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر مسکرا دی۔ وہ جیسے اسے سوال کا جواب نہ دینے کا موقع دے رہی تھی۔
    ”بعض چہرے انسان چاہے تو بھی نہیں بھول سکتا۔” اس نے مدھم آواز میں کہنا شروع کیا۔”وہ بونا بہت خوب صورت تھا… اچھی شکل صورت کا …انسانی شکل صورت اور وجود … بہت دراز قد…”




  • چلتا جا تُو الف نگر میں!

    چلتا جا تُو الف نگر میں!

    چلتا جا تُو الف نگر میں!
    ضیاء اللہ محسن

    چاند چکوری ہوتا بھیّا

    تارے ہوتے گول
    سورج چاچو لمبے ہوتے

    کھمبے گول مٹول
    چُوں چُوں چڑیا چارہ کھاتی

    ٹھک ٹھک بجتا ڈھول
    کہاں ہے ممکن؟ کیسے ممکن؟

    پیارے بھیّا بول
    چلتا جا تُو الف نگر کے بند دروازے کھول
    بول بول تُو من کی باتیں بول
    ہر ایک چیز سہانی ہے

    کیا دلچسپ کہانی ہے
    شانی، مانی بچے ہیں

    اور بچوں کی نانی ہے
    عینک والا اُلّو ہے

    توتلا تیتر تانی ہے
    جگ مگ جَو جَو جگنو بھیّا

    ثمر کی گڑیا ثانی ہے
    بی بی بطخو بڑی سیانی، بات کرے انمول
    بول بول تُو من کی باتیں بول

  • میں نے پالے طوطے چار

    میں نے پالے طوطے چار

    میں نے پالے طوطے چار
    ارسلان اللہ خان

    میں نے پالے طوطے چار
    جن سے کرتا ہوں میں پیار

    پانی پیتے ہیں یہ خوب
    کھانا کھاتے ہیں بسیار

    بلّی سے اور چوہے سے
    ہر دَم رہتے ہیں ہوشیار

    اِن سے گھر میں رونق ہے
    یہ ہیں گھر کے پہرے دار

    جو کچھ اِن کو سکھلادو
    اُس کی کرتے ہیں تکرار

    مُرغا جب دیتا ہے بانگ
    ہوجاتے ہیں یہ بیدار

    پنجرے کو جب کھولوں میں
    جتلاتے ہیں مُجھ سے پیار
    ٭…٭…٭

    مشکل الفاظ:
    بسیار بہت زیادہ
    جتلانا اظہار کرنا

  • رنگ ریز — قرۃ العین خرم ہاشمی

    ”دنیا میں ایسا کوئی رنگ نہیں بنا ، جو شالارنگ والا کے ہاتھوں میں آکر کھلا نہ ہو ! بابو جمیل میں ایسا رنگ رنگتا ہوں کہ کپڑا خود بھی اپنی قسمت پہ نازاں ہوتا ہے ! اس شہر میں ، مجھ سے زیادہ رنگوں کی صحیح پہچان کسی کو بھی نہیں ہے !”




    شالا رنگ والے نے ہمیشہ کی طرح بہت مان اور فخر سے دعوی کیا ۔جمیل احمد نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور اسے کام سمجھانے لگا ۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے اپنی ذاتی اور چھوٹی سی بوتیک کا کام لے کر اس کے پاس آ رہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ شالا رنگ والے کی بات اتنی غلط بھی نہیں ہے ۔ اس پرانی گلی میں کوئی بھی ایسا رنگ ریز نہیں تھا جو اس کی طرح کا کپڑا رنگتا ہو ۔شالا رنگ والے کے رنگ بہت پکے اور منفرد ہوتے تھے ۔ جمیل احمد نے جب نیا نیا بوتیک کا کام شروع کیا تھا تو اس وقت اس کے پاس بہت محدود بجٹ تھا اور اسی محدود بجٹ میں اس نے گاہک کو بہتر سے بہتر کام مہیا کرنا تھا تاکہ وہ مارکیٹ میں اپنی اچھی ساکھ بنا سکے ۔ اسی لئے ،اس نے دریا کے پل کے پاس آباد ، شہر کے سب سے پرانے بازار کا انتخاب کیا اور بہت تلاش کے بعد بالاخر اسے شالا رنگ والا مل ہی گیا۔پرانی گلی کے سب سے آخر والے کونے میں ٹین کی چھت کے نیچے ،چائے والے کھوکھے کے سامنے وہ بیٹھتا تھا۔ آج سے چھ ، سات سال پہلے وہ تیس کے لگ بھگ تھا۔ سانولا رنگ ،دراز قد، متناسب جسم کے ساتھ وہ اچھی شخصیت کا مالک تھا ۔ نخرہ اس میں بہت تھا ، اپنے ہنر پہ نازاں ، اپنی مرضی کا دام لینے والا اور اپنی مرضی سے کام کرنے والا ۔۔۔۔!
    مگر یہ بھی ضرور تھا کہ اپنا کام بہت دل لگا کر اور ایمانداری سے کرتا تھا ۔خواتین کی عادت ہوتی ہے ، ہر بات میں اعتراض کرنے اور نقص نکالنے کی ، مگر شالا رنگ والا کسی کی نہیں سنتا تھا ۔اگر کوئی نئی آنے والی عورت اس کے زیادہ دام پہ اعتراض کرتے ہوئے کہتی کہ
    ” پورے بازار میں ایک ہی دام مقر ر ہے مگر تمہارے دام سب سے الگ اور زیادہ ہیں !”
    ” پھر آپ کہیں اور سے کام کروا لیں ۔۔! میں اپنے دام کم نہیں کرتا ہوں ۔۔۔!”
    وہ لاپروائی سے کہہ کر اپنے کام میں لگ جاتا ۔کچھ عورتیں تو یہ سن کر چلی جاتیں مگر زیادہ تر اس کی مستقل گاہک تھیں ۔ جو اسکے مزاج سے بہت اچھی طرح واقف تھیں ۔اس لئے سر کھپائی کرنے کے بجائے ، اپنے کام سے کام رکھتی تھیں ۔ شالا رنگ والا ایک بار جس بات پہ بگڑ جاتا ، پھر اسے سمجھانا یا منانا بہت مشکل ہوتا تھا ۔ اس کے رنگوں کی طرح ، اس کی ضد بھی بہت پکی تھی !اپنے بہت پرانے گاہکوں کے ساتھ اس کا مزاج زیادہ تر خوشگوار ہی رہتا تھا ۔ کیونکہ وہ اسے اور اس کے مزاج کو سمجھ کر بات کرتے تھے ۔ اگر شالا رنگ والا کسی سے بہت ہنس ہنس کر بات کر رہا ہو تا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ آج اس کا موڈ بہت خوشگوار ہے پھر وہ بات بہ بات قہقہ لگاتا تھا ، ہنستے ہوئے اس کے سفید دانت بہت واضح نظر آنے لگتے تھے ۔ مگر اس کے بہت سے ہم عصر اس بات کو غلط رنگ دے کر بیان کرتے کیونکہ وہ اس کے کام اور تھڑے کے سامنے لگے رش سے بہت جلتے تھے اور اسی حسد میں کہتے ؛




    ” اس کے پاس زیادہ خواتین اسی لئے جاتی ہیں کہ وہ انھیں اپنی باتوں میں لگا لینے کا ماہر ہے ! پہلے پہل نخرے دکھاتا ہے اور پھر اپنے مرضی کے دام طے کرتے ہی ، اس کا مزاج بدل جاتا ہے ۔ اب ظاہر سی بات ہے اس طرح ہنس ہنس کر باتیں کرے گا تو سب شہید کی مکھیوں کی طرح اس کے گر د جمع ہی ہوں گی نا!”
    یہ باتیں وہ حریف کرتے تھے جن کے پاس دکان تو بہت بڑی تھی مگر کام بہت کم تھا ۔ جبکہ شالا رنگ والا ایک چھوٹے سے تھڑے پہ ،اپنا کاروبار چمکائے بیٹھا تھا ۔جمیل احمد کو بھی اس کا نخرہ اور غرور نہیں بھایا تھا مگر جمیل احمد کا ، شالارنگ والے کے مزاج سے زیادہ اپنے کام سے مطلب تھا ۔ وہ جس طرح کا کام چاہتا تھا ، وہ شالا رنگ والے سے بہتر کوئی اور نہیں کر سکتا تھا ۔ شالا رنگ والے کے دام اس کی مرضی کے مطابق ہی طے ہوتے تھے مگر جتنا اچھا وہ کام کرتا تھا ، جمیل احمد کو اس کے بتائے دام زیادہ نہیں لگتے تھے ۔ اسی لئے جمیل احمد بہت کچھ دیکھ کر نظرانداز کر دیتا تھا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جمیل احمد او راس میں ایک انجانا سا تعلق بن گیا تھا۔ جمیل احمد کو یاد ہے کہ آج سے پانچ سال پہلے اس کی شادی ہوئی تھی تو وہ کس طرح تیار ہو کر کام پر آتا تھا ۔ تیل لگا کر اچھی طرح کنگھی کئے ہوئے بال ، صاف ستھرے کپڑے پہنے ، ہر وقت ہلکی سی گنگناہٹ اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ رقصاں رہتی تھی جیسے ساون کے دنوں میں ہلکی سی کن من جاری رہتی ہے ۔ جمیل احمد اپنے کام کی وجہ سے زیادہ تر اس کے پاس آیا ہی رہتا تھا اور کافی وقت وہاں گزارتا تھا ۔ اس لئے اب وہ اکثر ادھر ، اُدھر کی باتیں بھی کر لیتے تھے ۔
    ” تم اتنا کماتے ہو ! کسی اچھی سے جگہ کیوں نہیں چلے جاتے ! ” جمیل احمد نے ایک بار عورتوں کے بے پناہ رش میں پڑنے والے دھکوں سے گھبرا کر کہا ۔
    ”بابو جمیل سوچا تو بہت بار مگر وہ کیا ہے کہ !” شالا رنگ والا اپنے کالے اور گھنے بالوں میںہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
    ”مجھے یاد ہے آج بھی ۔۔۔!!!” اس نے بڑی سی کڑاہی میں گرم پانی میں گھلا رنگ نالی میں الٹایا اور برتن کوپانی سے کھنگال کر ، اس میں صاف پانی ڈالا اور اس کے گرم ہونے کا انتظار کرتے ہوئے کہنے لگا ۔
    ”جب میں نے پہلی بار اپنے ابا کے ساتھ ضد کر کے اس پرانی گلی آیا تھا ۔ تب بھی یہ اسی طرح ہی گنجان و آباد علاقہ تھا۔ میں شاید تب سات یا آٹھ سال کا تھا ۔ ابا نے مجھے اپنے پاس رکھے ٹین کے پرانے ڈبے پہ بیٹھا یا اور گاہکوں کے ساتھ مصروف ہوگئے ۔میں دن بھر اپنے باپ کو مختلف قسم کے لوگوں کے ساتھ رنگوں کے صحیح انتخاب اور امتزاج کے لئے الجھتے دیکھتا رہا ۔ ابا کو اپنے پیسوں سے زیادہ ، لوگوں کے کام کی فکر ہوتی تھی کہ سب کچھ بہترین اور گاہک کی مرضی کے مطابق ہو ۔ ابا نے بھی اپنا کام اسی جگہ سے شروع کیا تھا ۔ وہ اکیلے کام کرتے تھے۔ دن بھر رنگوں کی ڈبیوں کو کھولتے اور بند کرتے رہتے ۔ رات گئے تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ۔ میں جو پہلے کچھ دن خاموشی سے سب دیکھتا رہا ۔ بعد میں چھوٹے چھوٹے کاموں میں ابا کی مدد کر وانے لگا ۔ اماں کہتی تھیں کہ ابھی میری عمر نہیں ہے ان رنگوں میں رنگنے کی ! مگر اباکا ماننا تھا کہ ” ہنر سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ! یہ ایک رنگ ساز کا بیٹا ہے ، اسے رنگوں کو برتنے کا سلیقہ آنا چائیے ۔”
    شالا رنگ والا ، بولنے پہ آتا تو رکتا ہی نہیں تھا ۔ وہ بہت باتونی تھا اس لئے کہ اس کی باتوں میں لفظ ” میں ” بار بار آتا تھا اور اسے اس لفظ سے بہت محبت تھی ، اس لئے کہ اسے اپنی ذات کے بت کو پوجنے کی عادت تھی ۔۔۔۔ ! اپنے ماضی کا ذکر تو خاموش ہونٹوں کو بھی خودکلامی کے رس میں بھگو دیتا ہے ، وہ تو پھر رنگوں میں سانس لینے والا ، زندہ دل آدمی تھا ۔
    ” بس بابو جمیل! اباکی یہ بات دماغ میں ایسی بیٹھی کہ پھر سکول جا کر بھی دل نہیں لگا ۔ بمشکل آٹھ جماعتیں پاس کی اور ابا کے ساتھ کام سنبھال لیا پھر ابا تو گزر گیا مگر اپنی سب ذمہ داریاں اور فکریں میرے کندھے پہ ڈال گیا۔ بس شکر ہے بہت سا کڑا وقت تو گزر گیا ہے ، جو رہ گیا ہے وہ بھی گزر جائے گا !”




  • عکس — قسط نمبر ۱۵

    طغرل نے اس آئینے میں پہلے اپنے آپ کو دیکھا پھر اپنے عقب میں آئے شیردل اور عکس کو دیکھا۔ اسے وہاں رکے دیکھ کر شیردل بھی وہاں چند لمحوں کے لیے رک گیا تھا۔ عکس نے پلٹ کر ایک بار پھر باذل کا ہاتھ پکڑ لیا جس نے بڑی مہارت سے گاڑی سے نکل کر یہاں برآمدے میں آنے تک چند قدموں کے فاصلے میں دو بار اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا۔ اس پر قابو پانا صرف اسی کا کمال تھا۔
    ”تمہیں پتا ہے میں نے تمہاری ممی کو پہلی بار کہاں دیکھا تھا؟” عکس نے آئینے کے سامنے کھڑے شیردل کو طغرل سے کہتے سنا۔
    ”کہاں پاپا؟” طغرل نے بڑی دلچسپی سے گردن موڑ کرباپ کو دیکھا۔
    ”اسی مرر میں۔” عکس کی نظریں آئینے میں شیردل سے ملی تھیں۔ ان آنکھوں میں شیردل کو حیرانی نظر آئی۔ وہ مسکرایا تھا اور وہ حیرانی پل بھر میں ایک کھلکھلاہٹ میں بدل گئی تھی۔ عکس ہنس پڑی تھی۔ اسے یاد آگیا تھا شیردل ٹھیک کہہ رہا تھا۔ اس نے پہلی بار اسے اسی آئینے میں دیکھا تھا جب وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتا تھا اور وہ برآمدے کے ایک ستون کے پیچھے چھپی اسے دیکھتی رہتی تھی… کسی میکانیکی انداز میں اس نے بے اختیار گردن موڑ کر اس ستون کو دیکھا تھا۔ ستون اب بھی وہیں تھا لیکن اس کے گرد وہ بیل نہیں تھی شاید نمی کے اثرات کو روکنے کے لیے ان تمام بیلوں کو ستونوں اور دیواروں سے کاٹ کر الگ کر دیا گیا تھا جو کئی سال پہلے اس گھر کی شناخت تھیں۔ عکس نے بے اختیار ایک گہری سانس لی۔ گھر بہت بدل گیا تھا۔ اس کے باوجود وہ اس کی ایک، ایک چیز کو آج بھی آنکھیں بند کیے چھو کر بھی پہچان سکتی تھی۔ وقت زندگی کو کس طرح بہا کر لے جاتا ہے کہ انسان خود بھی اسے روکنے بیٹھے تو روک نہ سکے… گزر جانے والے لمحوں کو گننے بیٹھے تو گنتی بھول جائے۔




    ”آپ مذاق کررہے ہیں۔” نو سالہ طغرل نے پہلے الجھ کر پھر ہنس کر اسی آئینے میں دیکھتے ہوئے شیردل سے کہا۔ اس کے تبصرے نے عکس کی توجہ ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ لی۔
    ”کیوں؟” شیردل نے طغرل سے پوچھا۔
    ”ممی اس مرر میں کیسے ہو سکتی ہیں؟” طغرل نے جیسے اپنی بے یقینی کی وضاحت کی۔
    ”دیکھو ابھی ہیں یا نہیں؟” شیردل نے اس کی وضاحت کے جواب میں آئینے میں نظر آتی عکس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اطمینان سے پوچھا۔ طغرل نے آئینے میں عکس کو دیکھا۔ باپ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ وہ واقعی آئینے میں تھی۔ طغرل الجھا پھر ہنس پڑا۔
    ”پاپا یہ تو ان کا reflection ہے۔” اس نے جیسے شیردل کی کم علمی بتائی۔
    ”یعنی عکس ہے۔” شیردل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    عکس تب تک ان کے قریب آچکی تھی۔ اس نے شیردل کے کندھے کو ہولے سے چھوتے ہوئے کہا۔ ”تم بس کر دو اب… کب تک اس بے چارے کو تنگ کرتے رہو گے۔ ذرا اسے سنبھالو تو پھر پتا چلے۔” اس نے باذل کا ہاتھ شیردل کے ہاتھ میں دے دیا۔
    شیردل نے ایک نظر سات سالہ باذل کو دیکھا پھر جیسے کچھ احتجاجی انداز میں عکس سے کہا۔ ”تم ہمیشہ مجھے مشکل چیلنج دیتی ہو۔”
    ”تم ہر آسان چیلنج کو بھی مشکل بنا لیتے ہو اپنے لیے۔” وہ اطمینان سے کہتے ہوئے آگے بڑھ آئی تھی۔ آج اس آئینے کے سامنے کھڑے اس نے اس آئینے میں اپنے شوہر اور بچوں کے علاوہ کسی اور چیز کو کھوجنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ تلاش کئی سال پہلے ہی ختم ہو گئی تھی۔
    ”پاپا! آپ کیا مجھے اٹھا سکتے ہیں؟” شیردل کے ساتھ اندرونی دروازے کی طرف جاتے ہوئے باذل کے قدم تھمے اور اس نے بڑی معصومیت سے شیردل سے پوچھا۔
    ”میں اٹھا سکتا ہوں لیکن اٹھاؤں گا نہیں۔” شیردل نے جواباً ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
    ”ممی اٹھا سکتی ہیں مجھے۔” باذل نے جیسے باپ کی مردانگی کو چیلنج دیا جسے شیردل نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ نظرانداز کیا۔ عکس بڑی خاموشی کے ساتھ باپ بیٹے کی گفتگو سنتے ہوئے اندر کی جانب بڑھتی رہی۔
    ”تمہاری ممی اس گھر میں dwarfs (بونے) دیکھا کرتی تھیں جب وہ چھوٹی تھیں۔” شیردل نے چلتے چلتے یک دم جیسے کچھ یاد آنے پر طغرل کو بتایا۔
    ”Really mummy?۔” طغرل چلتے چلتے بے یقینی کے عالم میں رک کر عکس کو دیکھنے لگا۔ وہ بھی ٹھٹک گئی تھی اس کے چہرے پر ایک رنگ سا آکر گزر گیا تھا۔
    ”dwarfs… بونے… آئینہ…” شیردل نے اسے کیا یاد دلا دیا تھا۔ اسے وہ سات ساتھی بونے بھی یاد آگئے تھے۔ اس کے تصوراتی دوست… لیکن جس برق رفتاری سے وہ یاد آئے تھے اسی برق رفتاری سے ان کے حلیے، حرکتیں اور نام یاد نہیں آئے تھے… اس میں وقت لگا تھا… اس میں اگلے دو دن لگ گئے تھے۔
    ”پاپا مذاق کر رہے تھے۔” عکس نے مدھم انداز میں طغرل کی حیران آنکھوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔ شیردل نے گردن پلٹ کر جیسے پرحیرت نظروں سے اسے دیکھا۔
    ”میں مذاق کررہا ہوں؟ تم نے خود ہی تو مجھے بتایا تھا ایک بار کہ تم نے یہاں…” عکس نے اس کی بات کاٹ دی۔
    ”بچپن کی بات تھی وہ اور بچپن میں انسان کو پتا نہیں کیا کیا وہم ہوتے رہتے ہیں۔” وہ بڑی سہولت سے کہہ کر آگے بڑھ گئی تھی۔ شیردل نے کچھ حیرانی سے اسے جاتے دیکھا۔
    ”پاپا، ممی نے really dwarfs دیکھے تھے یہاں؟” طغرل کا تجسس کم نہیں ہوا تھا۔
    ”اپنی ممی سے پوچھنا، وہ آپ کو بتائیں گی۔” شیردل بھی اسے ٹالتے ہوئے آگے بڑھ گیا تھا۔
    ……٭……
    اس گھر میں عکس مراد علی کی وہ دوسری پوسٹنگ تھی۔ پورے دس سال کے بعد… لیکن اس بار وہ وہاں کمشنر کی حیثیت سے آئی تھی۔ اس شہر کو ڈویژن کا درجہ حاصل ہو جانے کے بعد وہاں تعینات ہونے والی پہلی کمشنر… کمشنر کی رہائش گاہ زیرتعمیر تھی اور اس کے زیرتعمیر ہونے کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر کی سرکاری رہائش گاہ کو وقتی طورپر کمشنر ہاؤس کا سرکاری درجہ دے دیا گیا تھا۔ گھر میں سامان کی شفٹنگ کا کام پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا لیکن یہ کام شیردل کی نگرانی میں ہوا تھا۔ وہ آج پوسٹ ہونے کے بعد پہلی بار اس گھر میں آئی تھی اور عجیب بات یہ تھی کہ دس سال پہلے ہونے والی یہاں اپنی پہلی پوسٹنگ کی طرح وہ آج اس طرح جذباتی نہیں ہوئی تھی نہ ہی اتنی ایکسائیٹڈ تھی… شاید اس لیے کیونکہ اس کے نانا اس کے ساتھ نہیں تھے۔ اس بار وہ ایک قلعہ فتح کرنے وہاں نہیں آئی تھی۔
    اس گھر کے ہال کمرے میں داخل ہوتے ہوئے عکس مراد علی نے عجیب سی اداسی محسوس کی۔ نانا اسے ایک بار پھر بری طرح یاد آنے لگے تھے۔ وہ آج ایک بار پھر اسے اس گھر میں کمشنر کے طور پر آتے دیکھتے تو بے حد خوش ہوتے۔ بہت سارے خواب صرف ان کے تھے اس کے حوالے سے… جو صرف وہ دیکھتے تھے اور ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد عکس مراد علی کے نزدیک کامیابی کا مفہوم وہ نہیں رہا تھا جو نانا کی زندگی میں تھا۔
    ہال کمرے میں کھڑی ان در و دیوار کو اداسی سے دیکھتے ہوئے وہ یک دم چونکی تھی۔ شیردل نے اس کے کندھوں کے گرد اپنا بازو پھیلایا تھا۔ وہ اب اس کے بالکل قریب کھڑا تھا۔ اس لمس میں عجیب دلگیری تھی، کچھ کہے اور سنے بغیر بھی جیسے دنیا جہان کی گفتگوتھی… ہر مرہم بننے والا پھایا محسوس ہونے والا لفظ…
    ساری عمر وہ دونوں ایک دوسرے کی خاموشی کو اسی طرح پڑھتے رہے… لفظوں کے بغیر… اداسی کو بیرومیٹر کی طرح بھانپ لیتے تھے اور خفگی کو راڈار کی طرح… اب بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
    عکس مراد علی نے ایبک شیردل کے چہرے کو گردن موڑ کر دیکھا۔ اس نے اس کی نظریں محسوس کرتے ہی جیسے بڑی حیرانی سے اس سے کہا۔
    ”کیا ہوا؟”
    ”کچھ نہیں۔” وہ مسکرا دی۔ اس نے اس کے گال پر نظر آنے والے پلک کے ایک بال کو انگلیوں کی پوروں کی غیر محسوس حرکت سے ہٹایا تھا۔ زندگی میں ایسا جیون ساتھی بہت خوش قسمت عورتوں کے حصے میں آتا تھا۔ عکس مراد علی نے وہاں کھڑے چند لمحوں کے لیے جیسے عجیب تعجب سے سوچا۔ اس گھر میں اپنا بچپن گزارتے ہوئے اس نے جتنی بھی خواہشیں کبھی کی تھیں وہ تمام پوری ہوئی تھیں اور اس بات کا ادراک اسے عجیب وقت پر ہوا تھا۔ یہ گھر خوش قسمتی اور بدقسمتی کا عجیب امتزاج لیے ہوئے تھا اس کے لیے۔
    ……٭……
    شرمین اور فاروق نے شہربانو کو ائرپورٹ پر ریسیو کیا تھا لیکن دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ شہربانو نے بے حد تھکے ہوئے انداز میں مثال کو ماں کو پکڑا دیا تھا۔ وہ مثال کو بہلانے پھسلانے یا ڈرانے کسی بھی چیز میں پورا راستہ کامیاب نہیں ہوئی تھی اور اب شرمین کی صورت میں اسے جیسے کچھ دیر کے لیے اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے ایک اور کندھا مل گیا تھا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ مثال شرمین سے بھی بہلنے والی نہیں تھی۔ ایک بچے کے طور پر بھی وہ صورت حال کی سنگینی کو بھانپ گئی تھی۔ وہ چند ہفتے پہلے والی مثال نہیں تھی جو خوشی خوشی امریکا اپنی نانی اور نانا کے پاس چھٹیاں گزارنے آئی تھی اور ائرپورٹ سے لے کر گھر تک شرمین کو پتا نہیں کیا کیا قصے سناتی رہی تھی۔ اس بار مثال، شرمین کی بے تحاشا کوششوں کے باوجود صرف اس ایک جملے کے سوا کچھ بولنے پر تیار نہیں تھی کہ اسے پاپا کے پاس جانا ہے۔ وہ پاپ کو مس کررہی تھی۔ فاروق خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتے رہے تھے۔ شہربانو ان کے برابر والی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے اس خوفناک خواب کے بارے میں سوچتی رہی تھی جو اس نے حقیقت میں دیکھا تھا۔ عقبی نشست میں شرمین، مثال کو لیے بیٹھی کسی طرح اس کو بہلانے کی کوششوں میں مصروف تھیں اور ہر بار اس کے منہ سے نکلنے والے جملے شہربانو کے اعصاب پر جیسے ہتھوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔ وہ مثال کو اپنی ”ساری فیملی” سمجھ کر سمیٹ لائی تھی اور مثال کی ساری فیملی سمٹ کر جیسے شیردل کی ذات پر آکر ٹھہر گئی تھی… تو وہ… خود وہ شہربانو کہاں کھڑی تھی۔
    اگلے دو دن شہربانو اور شرمین کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی لیکن شرمین اسے یہ ضرور بتاتی رہی تھیں کہ پاکستان سے کس کس کا کتنی کتنی بار فون آیا تھا اور امریکا میں ان کے کس کس رشتے دار نے شیردل کی فیملی کے دباؤ پر ان سے رابطہ کیا تھا۔ شہربانو نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کا تھا۔ وہ جیسے عجیب گم صم سی حالت میں تھی۔ عجیب سوتی جاگتی کیفیت جس میں وہ اپنی زندگی کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو بار بار رکھ کر جوڑنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی جارہی تھی کہ شاید کسی طرح وہ اس سارے معمے کا کوئی حل، کوئی شکل نکال پاتی… ہر بار وہ ناکام رہی۔ مثال کی حالت اب بھی ویسی ہی تھی صرف اب اگر کوئی فرق پڑا تھا تو یہ کہ وہ ہر وقت روتی نہیں رہتی تھی لیکن وہ بھی شہربانو کی طرح کوئی کھلونا پکڑے کسی کونے میں بیٹھی رہتی پھر یک دم کسی بات پر ضد شروع کر دیتی اور پھر کتنی کتنی دیر بیٹھ کر روتی رہتی۔ شہربانو عجیب میکانیکی انداز میں اسے روتا دیکھتی رہتی۔ اسے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ مثال کے اس طرح رونے کو اتنی سردمہری کے ساتھ نظرانداز کر سکتی تھی، اس کی چیخ و پکار کے سامنے اس طرح بے حس ہو سکتی تھی لیکن وہ ہو گئی تھی۔ انسان بعض دفعہ اپنی ذات کے بہت سے پہلوؤں سے اس وقت آگاہ ہوتا ہے جب دوسرے اسے دیکھ لیتے ہیں۔ ان کا اس سے واسطہ پڑ جاتا ہے وہ اس پر بات کرنے لگتے ہیں اور تب انسان جیسے شاک کے عالم میں اپنی ذات کے اس پہلو کو دیکھتا ہے۔ حیران ہوتا ہے… میں یہ کیسے کر سکتا ہوں؟ میں ایسا کس طرح ہو سکتا ہوں؟ لیکن سارا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سوال بہت سارے ہوتے ہیں جواب نہیں… جواب بس ایک ہوتا ہے… اور وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا… شہربانو کو بھی نہیں مل پارہا تھا۔
    ”اب تم کیا کرنا چاہتی ہو؟” دو دن کے بعد بالآخر شرمین نے ایک رات اس سے اس موضوع پر بات کی۔ وہ کچن صاف کررہی تھیں اور وہ کچن کاؤنٹر کے سامنے پڑے اسٹول پر کافی کا مگ لیے بیٹھی تھی۔
    ”پتانہیں۔” شرمین کو پتا تھا وہ کیا کہے گی۔ وہ بھی اس کے قریب کاؤنٹر کے دوسری طرف اسٹول پر آکر بیٹھ گئیں۔
    ”تم شیردل کے ساتھ رہنا چاہتی ہو؟” انہوں نے بالآخر ایک لمبی خاموشی کے بعد کہا۔
    ”نہیں۔” جواب کسی توقف کے بغیر آیا تھا۔
    ”divorce چاہتی ہو؟” شرمین نے اگلا سوال کیا۔
    ”شاید۔” جواب اس بار بھی جلدی آیا تھا لیکن الجھن لیے ہوئے تھا اور الجھن کیوں تھی، شہربانو کے پاس اس بات کا بھی جواب نہیں تھا۔