گھر اور گھاٹا — عمیرہ احمد

جس جگہ اماں کی چارپائی ہوتی تھی اب ایک دری تھی اور اس دری پر چند سلائی مشینیں اور کچھ کپڑے پڑے تھے رضیہ کے سلائی اسکول میں اس وقت دس لڑکیاں سلائی سیکھنے آتی تھیں اور یہ تعداد بڑھتی گھٹتی رہتی تھی۔ رضیہ نے وہ اسکول پانچ سال پہلے شروع کیا تھا … اور اس کے آغاز کے ساتھ ہی صحن میں اماں بختے کی چارپائی والی جگہ کی شدید ضرورت آن پڑی تھی … اور چونکہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے اس لیے کئی سالوں سے اپنا پورا دن صحن کے اس کونے میں پڑی اس چارپائی پر گزرنے والی اماں بختے کو گھر کی دہلیز کے باہر یہ دکان کھولنی پڑی تھی۔ پہلے اماں کو رضیہ نے 20,25 چیزیں بیچنے کے لئے دی تھیں۔پھر بہت جلد اسے احساس ہو گیا کہ اس چھوٹی سی گلی میں اتنی بہت سی چیزوں کا کوئی خریدار نہیں تھا … اس گلی کے دونوں سروں پر بڑی گلیاں تھی اور ان گلیوں میں چھوٹی چھوٹی دکانوں کے ساتھ چند جنرل سٹور بھی تھے… اماں بختے کے پاس اس گلی کا ہی کوئی خریدار آ سکتا تھا … اماں بختے کی دکان کے سامان کے لئے کہیں اور سے کوئی خریدار آنے والا نہیں تھا۔
چند مہینوں میں ہی بیچی جانے والی اشیاء کی ورائٹی کم ہونے لگی تھی۔ شروع میں اماں بختے روز دس پندرہ روپے کما ہی لیتی تھی۔ ان دس پندرہ روپے سے اس کے مہینے کے چھوٹے موٹے اخراجات پورے ہونے کے ساتھ کئی بار گھر کی سبزی اور آٹا بھی آ جاتے۔ عبدل کو ماں کو اب ہر مہینے کچھ نہیں دینا پڑتا تھا۔ دوسری طرف رضیہ اس لئے خوش تھی کہ وہ چارپائی والی جگہ کو استعما ل کر رہی تھی … سلائی سکول میں وہ دو اور لڑکیاں لے سکتی تھی کیونکہ گنجائش نکل آئی تھی۔
پھرآہستہ آہستہ اماں کا منافع کم ہونے لگا… پہلے منافع کم ہوا پھر ختم ہو گیا … کچھ عرصے تک دکان بغیر منافع کے چلتی رہی … پھر گھاٹا ہونے لگا تھا … دو روپے … چار روپے … اور اب یہ گھاٹا بڑھ کر کبھی کبھار 50 روپے تک بھی چلا جاتا تھا … عبدل کو ہر مہینے ایک بار پھر اماں بختے کی دکان میں پیسے ڈالنے پڑتے تھے … گھر میں جو ہنگامہ ہوتا وہ الگ … رضیہ ہر روز آسمان سر پر ضرور اٹھاتی لیکن وہ اماں کی دکان ختم کرنے پر تیار نہیں تھی۔ دکان ختم کرنے کا مطلب اماں کی گھر کے اندر چارپائی کے ساتھ واپسی تھی اور اس چارپائی کے دوبارہ بچھنے کی صورت میں اسے کم از کم دو لڑکیاں سکول سے کم کرنی پڑتیں۔ دو لڑکیاں کم کرنے کا مطلب ماہانہ دو تین ہزار روپے کا گھاٹا تھا … اماں کی دکان سے ماہانہ ہونے والا گھاٹا چھ سات سو تھا۔ دکان کے گھاٹے کے ساتھ بھی اماں کا گھر سے باہررہنا رضیہ کے لیے گھاٹے کا سودا نہیں تھا۔
”اماں چائے لے لو۔” سونو ایک کپ پکڑے بڑے احتیاط سے دہلیز پار کرتا باہر آیا۔ ”ٹھہر میں پکڑتی ہوں۔ ” اماں نے بڑی احتیاط کے ساتھ اس سے کپ پکڑا۔ سو نو اماں کے پاس دہلیز پر بیٹھ گیا۔ وہ نہا کر آیا تھا اور رضیہ نے تیل لگا کر اس کے بالوں کی مانگ نکالی تھی۔ اس کی آنکھوں میں سرمہ لگایا تھا پھر سرمے سے ہی نظر کا ایک ٹیکا اس کے ماتھے پر بھی لگا دیا تھا۔
سونو بڑی منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہوا تھا … چار بیٹیوں کے بعد … وہ عبدل اور رضیہ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ یہ سلائی اسکول سونو اور بچیوں کو انگلش میڈیم اسکول میں پڑھانے کی خواہش کے لئے معرض وجود میں آیا تھا۔
”یہ والی ٹافی دو ناں اماں۔” سونو نے پاس بیٹھتے ہی ٹافیوں کے ڈبے میں جھانکتے ہوئے ایک ٹافی پر انگلی رکھی۔ ”ٹھہر بے صبرے میں خود دیتی ہوں تجھے۔ ” اماں نے پوپلے منہ کے ساتھ ہنس کر اس سے کہا۔ پھر چائے کا کپ رکھ کر اس نے ٹافی نکالی اور سونو کو تھما دی۔ ”نہا کر کتنا بیبا لگ رہا ہے میرا بچہ۔ ”
چائے کا کپ دوبارہ اٹھاتے اٹھاتے اماں کو سونو پر پیارآیا۔ سونو ٹافی کا ریپر کھولنے میں مصروف تھا اس نے اماں کی محبت پر غور نہیں کیا۔ اماں کپ اٹھا کر سڑک سڑک کر گرم چائے پینے لگی۔ بس رضیہ اس معاملے میں اچھی تھی۔ گھر میں چائے بنتی تو اماں کو بغیر پوچھے ایک کپ مل جاتا تھا۔ چائے کا وہ کپ اماں کو اگلے آدھے گھنٹے کے لئے مصروف رکھتا تھا۔
”سلام اماں۔” اماں کے پاس سے سلائی سکول کی دو اور بچیاں گزر رہی تھیں۔ پھر سونو بھی یک دم کھڑا ہو گیا۔ ”تو کہاں جا رہا ہے ؟” اماں نے چائے پیتے پیتے اسے ٹوکا۔ ”میں گھر جا رہا ہوں۔” دہلیز پر کھڑے ہو کر ٹافی چوستے ہوئے اس نے اعلان کیا اور گھر کی دہلیز عبور کر لی۔ اماں اس دہلیز کو دیکھتی رہی جسے چند لمحوں پہلے اس کے پیروں نے عبور کیا تھا۔
٭





”اندر چل … یہاں کیوں کھڑی ہو گئی ہے ؟ ” شریف نے اسے ٹہوکا دیا۔ ”مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا شریف کہ میں اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی ہوں … سچ سچ بتا یہ کوئی خواب تو نہیں ہے۔” بختاور کی آنکھیں اب پانی سے بھرنے لگی تھیں۔ وہ خوشی سے جیسے بے قابو ہو رہی تھی۔ ”کوئی خواب نہیں ہے یہ بختے اپنا ہی گھر ہے … چل اندر چل۔” شریف اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دروازے سے اندر لے آیا تھا۔
دو کمرے ، برآمدے ایک غسل خانے اور ایک چھوٹے سے صحن کا وہ ساڑھے تین مرلہ گھر اس وقت بختاور کو تاج محل سے کم خوبصورت نہیں لگ رہا تھا … کیونکہ وہ اس کا گھر تھا … اپنا گھر …
صحن کے وسط میں کھڑی وہ جیسے خوشی سے بے قابو اپنے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے سامنے برآمدے اور اس کے پار دونوں کمروں کے بند دروازوں کو بے یقینی سے دیکھتی رہی۔
”میری ماں کو پچاس سال کی عمر میں اپنا گھر نصیب ہوا اور دیکھ شریف میں توابھی 25 سال کی بھی نہیں ہوئی اور اپنے گھر میں کھڑی ہوں۔” اس نے شریف سے کہا۔ شریف جواباً کچھ اداسی سے مسکرایا۔ ”اور میری ماں کو تو ساری عمر اپنا گھر نصیب نہیں ہوا … کرائے کے گھر میں ہی ساری عمر گزر گئی اس کی … اپنی قسمت ہے بختے۔ ”
بختاور اس کی بات سنے بغیر اب گھر کے کمروں میں دیوانہ وار جا جا کر دیکھ رہی تھی۔ شریف کو اس کی خوشی دیکھ کر ہنسی آ رہی تھی۔ وہ تو بالکل ہی دیوانی ہو گئی تھی۔ ”دو کمرے … برآمدہ، باورچی خانہ ، غسل خانہ ، صحن ، چھت … میرے مولا کیسے بھاگ لگا دیئے تو نے … ” وہ خوشی سے بے قابو ایک ایک چیز کو گننے میں مصروف تھی اس کا بس چلتا تو گھر کی اینٹیں تک گن ڈالتی۔
”ہاں بس اللہ کا کرم ہے … کچھ مرمت ہونے والی ہے۔ پہلا مالک مکان بتا رہا تھاکہ برسات میں چھتیں ٹپکتی ہیں … برآمدے کا فرش کچا ہے …اور کچھ سیڑھیاں ٹوٹی ہوئی ہیں پر باقی سب ٹھیک ہے۔’ ‘شریف نے اسے جیسے آگا ہ کیا۔
”میں اپنی یہ چوڑی دوں گی تجھے اسے بیچ کر مرمت کرا لینا۔ ” بختاورنے بے اختیار پیش کش کی۔ شریف نے اسے ٹوکا۔ ”ایک ہی تو چوڑی ہے تیرے پاس … وہ بھی بیچ دے گی؟”
”تو کیا ہوا ؟” بختاور نے لا پرواہی سے کہا۔ ”تو پہنے گی کیا ؟” شریف کو اب بھی تشویش تھی۔ ”کانچ کی چوڑیاں … ایک نہیں ڈھیر ساری۔” بختاور نے ہنستے ہوئے چوڑی اتاری اور شریف کے ہاتھ پر رکھ دی۔ ”پر سونا بیچ کر ہمیشہ گھاٹا ہوتا ہے۔ ” شریف نے چوڑی کو دیکھ کر کہا۔ ”کتنا گھاٹا ہو جائے گا ؟ ” بختاور نے کچھ تشویش سے پوچھا۔ شریف چوڑی کو دیکھنے لگا اور چوڑی بے اختیار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔
٭
تڑاک کی آواز کے ساتھ کپ اماں کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرا اور دو ٹکڑے ہو گیا۔ اماں بختے بے اختیار جیسے چونک کر حال میں آئی تھی۔
تبھی سونو گھر سے نکل آیا۔ اس نے بے حد تشویش سے جھک کر اماں کے قدموں میں پڑے کپ کے ٹکڑے اٹھائے اور کہا۔”کپ ٹوٹ گیا اماں؟”
”ہاتھ سے چھوٹ گیا سونو۔” اماں نے فق چہرے کے ساتھ کہا۔ ”پر اماں نے تو کپ لینے بھیجا ہے مجھے … ” سونو اب پریشان ہو رہا تھا۔ ”یہ نمکو کا پیکٹ لے لے اور تو اماں سے کہہ دینا کہ تجھ سے ٹوٹ گیا ہے۔ ” اماں نے میز پر پڑا نمکو کا ایک پیکٹ اٹھا کر اسے تھماتے ہوئے بڑی لجاجت کے عالم میں کہا۔ ”اچھا میں کہہ دوں گا۔ ” سونو نے خوشی خوشی وہ پیکٹ لے لیااور کپ کے ٹکڑے ہاتھ میں لئے اندر چل دیا۔
صحن میں لڑکیوں کو سلائی سکھاتی رضیہ نے کپ کے ٹکڑوں کے ساتھ سونو کو اندر آتے دیکھا اور وہ وہیں بیٹھے بیٹھے چلائی۔ ”اس بڑھیا نے کپ توڑ دیا … ؟”
”نہیں اماں یہ تو میرے ہاتھ سے ٹوٹا ہے۔ ”سونو نے نمکو کا پیکٹ دانت سے کھولتے ہوئے بڑی صفائی سے جھوٹ بولا۔ ٍرضیہ کا پارہ جتنی تیزی سے اوپر گیا تھا اس سے زیادہ تیزی سے نیچے آ یا۔ ”تو بھی بس … چل اس کوڑے کی ٹوکری میں پھینک اس کپ کو … ذرا سا بچہ ہے اب روز روز چائے ڈھوتا ہے تو کپ تو ٹوٹے گا ہی ا س سے … ” رضیہ نے پاس بیٹھی لڑکیوں سے کہا پھر ساتھ ہی دور بیٹھی ایک قمیص کاٹتی لڑکی کو ڈانٹا۔ ”یہ کیسے کاٹ رہی ہے تو … قمیص بنانی ہے یا رضائی بنانی ہے تو نے۔”
سونو کپ پھینک کر نمکو کھاتا رضیہ کی گود میں آ کر بیٹھ گیااور زبردستی اس کے منہ میں نمکو ڈالنے لگا۔ رضیہ نے نمکو کے چند دانے چباتے ہوئے بڑے پیار سے اکلوتے بیٹے کا منہ چوما۔ سونو نے جواباً اس کا منہ چوما۔
عبدل اسی وقت کام پر جانے کے لئے اندر سے نکلا۔ رضیہ کی گود میں بیٹھے سونو کو اٹھا کر اس نے اس کا منہ چوما پھر چلتے ہوئے دہلیز کے پاس اسے اتار کر وہ دہلیز پر بیٹھی اماں بختے کو سلام کیے بغیر تیز قدموں سے گھر سے باہر نکل گیا۔ اماں بختے نے خود اسے سلام کر کے دعا دی تھی۔ ”اللہ حافظ … خیر سے جا اور خیر سے آ۔” عبدل نے پیچھے پلٹ کر جواب دینے یا دیکھنے تک کی زحمت نہ کی تھی۔ اماں بختے تب تک عبدل کو دیکھتی رہی جب تک اس کا دھندلا وجود گلی کا موڑ نہ مڑ گیا۔
٭
شریف نے چونک کر کھانا کھاتے اس کاغذ کو دیکھا۔ جو بختاور نے پنکھا جھلتے جھلتے اچانک اس کے سامنے رکھ دیا تھا۔ ”یہ کیا ہے؟”
”میں نے آج گھر کی مر مت اور دوسری چیزیں کا حساب لگایا ہے … وہ ساری چیزیں جو گھر میں ہونے والی ہیں۔ ” بختاور نے اسے بتایا۔ کھانا کھاتے کھاتے اپنی انگلیاں چوس کر صاف کرتے ہوئے شریف نے وہ کاغذ اٹھا کر کچھ تجسس کے عالم میں پڑھا۔ اس کے ماتھے پر کچھ بل آ گئے تھے۔ ”یہ تو بڑے پیسے لگ جائیں گے بختے … چوڑی بیچ کر اتنے پیسے تو نہیں ملیں گے ” ا س نے کچھ تشویش سے کہا۔ ”پتہ ہے مجھے۔ اس لئے میں نے سوچا ہے اپنی بالیاں اور شادی کی انگوٹھی بھی بیچ دوں… زیور کا کیا ہے زیور تو آ ہی جاتا ہے۔ ” اس نے بے حد اطمینان کے ساتھ کہا۔ ”پر بختے ابھی مکان کی قسطیں جانی ہیں۔ مرمت پر سارا پیسہ لگا دیں گے تو قسطیں کہاں سے دیں گے … اگر زیور بیچنا ہی ہے تو قسطوں کے پیسے دے دیتے ہیں … مرمت تو میں اور تم مل کر تھوڑی تھوڑی کرتے رہیں گے۔ ” بختاور یک دم مایوس ہو گئی۔ ”خود کیسے کریں گے مرمت ؟ ”
”چل تو نہ کرنا میں کر لوں گا … چھٹی والے دن شروع کرتا ہوں کام” شریف نے فوراًکہا۔ ”ایک چھٹی کا دن ہی ہوتا ہے تیرے پاس آرام کرنے کے لئے … وہ بھی کام میں ضائع کرے گا … چھوڑ شریف مجھے بتا … تھوڑا تھوڑا کر کے میں کر لوں گی… رنگ کر لوں گی … پلستر بھی تھوڑا بہت کر سکتی ہوں۔ ” بختاور نے سوچتے ہوئے کہا۔ ”تو بچہ سنبھالے گی یا یہ کام کرے گی … میں جب کام کروں گا نا تو تُو ساتھ ہاتھ بٹا دینا میرا … پر اس طرح بچے کو چھوڑ کر گھر کی مرمت پر دھیان نہ دے … دیکھ وہ شاید جاگ گیا ہے … ذرا لے کر آ اسے میرے پاس۔” بات کرتے کرتے شریف نے دور پنگھوڑے میں حرکت دیکھی۔
٭
”ایک غبارہ لے لوں اماں۔” سونو نے اسے چونکا دیا۔ وہ ایک غبارہ ہاتھ میں لیے کھڑا تھا۔ ”چل لے لے … ہوا بھر کے دکھا مجھے۔ ” اماں نے بڑے شوق سے اپنی عینک ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔ سونو بڑی پھرتی سے غبارے میں ہوا بھرنے لگا۔ غبارے میں آدھی ہوا بھر کر اس نے اماں کے سامنے کیا۔اماں نے بڑے اشتیاق کے ساتھ غبارے کو ہاتھ لگا کر دیکھا۔ ”پوری ہوا نہیں بھری۔” اماں نے اعتراض کیا۔ ”پھٹ جائے گا اماں۔ ” سونو نے فوراً کہا۔ ”پھٹ جائے گا تو کیا ہوا ؟ … دوسرا دے دوں گی تجھے۔ ” اماں نے کہا۔ ”دوسرا دو گی تو گھاٹا ہو جائے گا۔” اماں ساکت ہو گئی۔
٭
”مجھے تجھ سے ایک بات کرنی ہے شریف۔ ” بختاور رات کے وقت شریف کی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔ ”ہاں بول ”شریف نے کچھ چونک کر اسے دیکھا۔ ‘ تو درزی کے کام کے ساتھ ساتھ کوئی اور کام بھی ڈھونڈ۔” شریف اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ”کیوں ؟ … کیا ہوا ؟” اب گزارہ نہیں ہوتا شریف … گھر کی اگلی قسط قریب ہے … اس بار پھر کسی سے قرضہ لینا پڑے گا۔ ” بختاور پریشان تھی۔ ”میں خود بھی یہی سوچ سوچ کر پریشان ہو رہاہو ں۔ ” شریف نے بے حد تھکے ہوئے انداز میں کہا۔ ”اب تو بیچنے کے لئے بھی کچھ نہیں رہا۔ ” بختاور نے ایک گہرا سانس لیا۔ ”گھر کے اخراجات کچھ کم ہو جائیں تو … ” بختاورنے شریف کی بات کاٹ دی۔ ”اور کتنے کم ہوں گے۔ پہلے ہی ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں ہم لوگ۔ دوپہر کو تو چٹنی یا پیاز کے ساتھ روٹی کھاتی ہوں میں … بچے کے دودھ کے علاوہ دودھ بھی نہیں لیتی … چائے تک دودھ کے بغیر پیتی ہوں میں … کتنے مہینوں سے کوئی نیا کپڑا نیا جوتا نہیں لیا میں نے اپنے لیے … بچے کے بھی کپڑے ان کترنوں سے بناتی ہوں جو تم دکان سے لے کر آتے ہو … اب اور کون سے اخراجات کم کروں میں شریف۔” وہ شریف ہی کی طرح تھکی ہوئی تھی۔ گھر تو خرید لیا تھا ان دونوں نے لیکن سہ ماہی اقساط اب ان دونوں کو بے حال کر رہی تھیں۔
”اچھا میں بات کروں گا کل کسی سے … رات کا کوئی کام مل جائے چار پانچ گھنٹوں کا تو … کچھ پیسے مل جائیں گے۔ ” شریف نے کچھ سوچ کرکہا۔ ”میں نے بھی حمیدہ سے کہا ہے کہ مجھے بھی لفافے بنانے کے لئے لا دیا کرے … سارا دن فارغ رہتی ہوں … مہینے کے کچھ روپے تو آ ہی جائیں گے اور کچھ نہیں بچے کے بسکٹ اور دوا دارو کے پیسے تو نکل ہی آ یا کریں گے۔” بختاور ہر رات کی طرح اس وقت بھی بیٹھی حساب کر رہی تھی۔ شریف کچھ کہے بغیر چارپائی پر لیٹ گیا۔ بختاور نے چونک کر اسے دیکھا۔
٭
غبارہ ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ اماں بختے ہڑبڑا گئی۔ اس کی ناک پر ٹکی عینک گرتے گرتے بچی۔ پہلے بھی وہ عینک دو تین دفعہ گری تھی اور اس کے موٹے شیشے ایک دو جگہ سے تڑخ گئے تھے۔ اس کے فریم کا ایک کنارہ بھی ٹوٹ گیا تھا جسے رضیہ نے ٹیپ اور دھاگہ لپیٹ کر جوڑا تھا۔ نظر تو اماں کو پہلے بھی بمشکل آتا تھا … اب عینک کے شیشوں میں چند لکیریںاور بڑھ گئی تھیں تو کیا … نیا شیشہ بھی ڈال دیا جاتا تب بھی اماں کی آنکھوں کی لکیریں اور دھندلاہٹ کہاں ختم ہونی تھیں۔
”دیکھا اماں پھٹ گیا نا … میں نے پہلے ہی کہا تھا۔” وہ سونو تھا جس نے اماں کے کہنے پر غبارے میں مزید ہوا بھرنے کی کوشش کی تھی اور غبارہ پھٹ گیا تھا۔
اماں بختے نے کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ ایک غبارہ نکال کر اسے دیتے ہوئے پچکارا … ”میرا بچہ … فکر کیوں کرتا ہے … بڑے غبارے پڑے ہیں … یہ لے … ” سونو نے خوشی خوشی اماں سے غبارہ پکڑ لیا۔ ”کھانا لا کے دوں … ؟” اس نے ساتھ ہی پوچھا۔ اماں نے سر ہلا یا۔ سونو بھاگتے ہوئے اندر چلا گیا۔ اماں نے ایک بار پھر گلی میں آتے جاتے لوگوں کو دیکھنا شروع کر دیا۔ ابھی تک تیسرا گاہک نہیں آیا تھا۔ اس نے ایک نظر دوبارہ پیسوں والے ڈبے کے اندر ڈالی۔
٭
”سلام بختے۔” حمیدہ نے دروازہ کھول کر اندر آتے ہوئے کہا۔ بختاور صحن میں بیٹھی لفافے جوڑ رہی تھی اور ساتھ ساتھ جھولے میں پڑے بچے کو جھلا رہی تھی۔ ”وعلیکم السلام … آج صبح صبح کیسے آ گئی ہو حمیدہ ؟” بختاور نے جواباً پوچھا۔ ”محلے کی عورتیں مینا بازار چل رہی ہیں۔ میں نے سوچا تجھے بھی پوچھ لوں۔”
”نہیں حمیدہ مجھے تو بڑا کام ہے۔ ” بختاور نے فوراًکہا۔ ”وہ سب کو ہی ہوتا ہے … کون سا روز جانا ہے ہمیں … کبھی کبھار گھر سے نکلنا چاہیے بختے۔”
”پر مجھے ابھی منّے اور شریف کے کپڑے دھونے ہیں۔ لفافے رہنے بھی دوں تو بھی بہتیرے کام ہیں مجھے۔” بختاور نے صاف انکار کردیا۔ ”شوہر ، گھر بچے کسی کو کچھ نہیں ہوتا … سب یہیں رہتے ہیں … عورت کے پاس کچھ وقت اپنے لئے بھی ہونا چاہیے گھر کے اور بچوں کے لئے تو ساری عمر ہی جان مارنی ہوتی ہے۔ ” حمیدہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ اس کے لفظوں نے بختاور پر کوئی اثر نہیں کیا تھا۔
”ہاں مگر میرے پاس پیسے بھی نہیں ہیں۔ مینا بازار آنے جانے کا کرایہ۔ وہاں کھانا پینا … کچھ خریدنا … نہ حمیدہ میرے پاس پیسے نہیں۔ ” بختاور نے اپنی مشکل بتائی۔ ”ارے تو تو مجھ سے ادھار لے لے … بعد میں دے دینا … پہلے بھی تو گھر اور بچے کے لئے ادھار لیتی ہے … اس بار اپنے لیے لے لینا۔ ” حمیدہ نے فوراً پیش کش کی۔ لفافہ جوڑتے جوڑتے ایک لمحے کے لئے بختاور کے ہاتھ رکے پھر ا س نے یک دم کہا۔ ”نہیں حمیدہ اپنے لیے ادھار نہیں لے سکتی … یہ تو نرا گھاٹا ہے۔ ” حمیدہ نے کچھ حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھا۔
٭




Loading

Read Previous

تیری یاد خارِ گلاب ہے — عمیرہ احمد

Read Next

کوئی لمحہ خواب نہیں ہوتا — عمیرہ احمد

One Comment

  • ہر بار دل پر اثر چھوڑ جاتی ہیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!