پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۶

”کیوں؟ کیوں….؟ کیوں آتا تھا میں یہاں پر….؟ کیوں خریدتا تھا میں ان عورتوں کو….؟ کیوں گناہ کا احساس میرے اندر نہیں جاگتا تھا؟” وہ چبوترے پر بیٹھا دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے بلک رہا تھا۔
”اور اب…… اب جب میں یہ سب کچھ چھوڑ چکا ہوں تو اب …اب کیوں… یہ تکلیف… یہ چبھن ہورہی ہے مجھے۔ میں جانتا ہوں۔ جانتا ہوں مجھے اپنے ہر عمل کے لئے جواب دہ ہونا ہے، مگر یہ حساب یہاں… اس طرح نہ لے۔ جس عورت سے میں محبت کرتا ہوں اسے کبھی اس بازار میں نہ پھینک۔”
وہ روتے روتے رکا، کون سا انکشاف کہاں ہورہا تھا۔
”محبت؟” وہ گلی سے گزرتے لوگوں کو دیکھتے ہوئے بے یقینی سے بڑ بڑایا۔
”کیا میں… میں اس سے محبت کرتاہوں؟” کوئی لہر اس کے سر سے پیروں تک گزری تھی۔
”کیا یہ تکلیف صرف اس لئے ہورہی ہے مجھے کہ میں اس سے…” اس کے چہرے پر سائے لہرائے تھے۔ ”کیا وہ میرا پچھتاوا نہیں ہے۔ کچھ اور ہے…؟”
اسے لگا وہ وہاں سے کبھی اٹھ نہیں پائے گا۔
”تو یہ پچھتاوا نہیں محبت ہے، جس کے پیچھے میں بھاگتا پھر رہا ہوں۔”اسے اپنا جسم ریت کا بنا ہوا لگا۔
”امامہ پھانس نہیں ہے روگ ہے؟” آنسو اب بھی اس کے گالوں پر بہ رہے تھے۔”
”اور اس بازار میں اس عورت کی تلاش میں اٹھتے میرے قدموں میں لرزش اس لئے تھی کیونکہ میں نے اسے اپنے دل کے بہت اندر کہیں بہت اونچی جگہ پر رکھا تھا۔ وہاں، جہاں خود میں بھی اس کو محسوس نہیں کرپارہا تھا۔ چیک میٹ۔”
”150 آئی کیولیول کا وہ مرد منہ کے بل زمین پر گرایا گیا تھا۔ وہ ایک بارپھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ کون سا زخم تھا جو وہاں بیٹھا ہرا ہورہا تھا۔ کون سی تکلیف جو سانس لینے نہیں دے رہی تھی۔ آئینے نے اسے کہاں برہنہ کیا تھا۔ اسے کیا دیا تھا؟ کیا لیا تھا؟ وہ اٹھ کر وہاں سے چلنے لگا۔ اسی طرح بلک بلک کر روتے ہوئے۔ اسے خود پر قابو نہیں تھا۔ اسے پاس سے گزرنے والوں کی نظروں کی بھی پروا نہیں تھی۔ اسے اپنے وجود سے کبھی زندگی میں اتنی نفرت محسوس نہیں ہوئی تھی جتنی اس وقت ہورہی تھی۔ وہ ریڈلائٹ ایریا اس کی زندگی کا سب سے سیاہ باب تھا۔ ایسا سیاہ باب جیسے وہ کھرچ کر اپنی زندگی سے علیحدہ نہیں کرپایا تھا۔ وہ ایک بارپھر اس کی زندگی میں آکر کھڑا ہوگیا تھا۔ کئی سال پہلے وہاں گزاری گئی راتیں اب بلاؤں کی طرح اسے گھیرے ہوئے تھیں اور وہ ان سے فرار حاصل نہیں کرپارہا تھا اور اب جس خوف نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا وہ تو…
”اگر… اگر… امامہ اس بازار میں آگئی ہوتی تو…؟ صنوبر، امامہ ہاشم نہیں تھی مگر کوئی اور…” اس کے سر میں درد کی ایک اور لہر اٹھی۔ میگرین اب شدت اختیار کرتا جارہا تھا۔ اس کا ذہن ماؤف ہورہا تھا وہ راستے کو بھی ٹھیک سے دیکھ نہیں پارہا تھا۔ اب اس کا سردرد سے پھٹ رہا تھا پھر وہ کہیں بیٹھ گیا تھا۔ گاڑیوں کے ہارن اور لائٹس نے اس کے درد کو اور بڑھایا تھا پھر اس کا ذہن کسی تاریکی میں اترتا گیا تھا۔
٭…٭…٭




کسی نے ہلکا سا قہقہہ لگایا پھر کچھ کہا… ایک دوسری آواز نے جواباً کچھ کہا۔ سالار سکندر کے حواس آہستہ آہستہ کام کرنے لگے تھے۔ مضمحل تھکن زدہ… مگر آوازوں کو شناخت کرتا ہوا ذہن۔
بہت آہستہ آہستہ اس نے آنکھیں کھولیں۔ اسے حیرانی نہیں ہوئی۔ اسے یہیں ہونا چاہئے تھا۔ وہ ہاسپٹل یا کسی کلینک کے ایک کمرے میں ایک بیڈ پر تھا۔ بے حد نرم اور آرام دہ بیڈ، اس سے کچھ فاصلے پر فرقان کسی دوسرے ڈاکٹر کے ساتھ کھڑا ہلکی آواز میں باتیں کررہا تھا۔ سالار نے ایک گہرا سانس لیا۔ فرقان اور دوسرے ڈاکٹر نے گردن موڑکر باتیں کرتے اسے دیکھا پھر وہ دونوں اس کی طرف چلے آئے سالار نے ایک بارپھر آنکھیں بندکرلیں۔ آنکھیں کھلا رکھنا اسے مشکل لگ رہا تھا۔ فرقان نے پاس آکر نرمی سے اس کے سینے کو تھپتھپایا۔
”کیسے ہو اب سالار؟”
سالار نے آنکھیں کھول دیں۔ اس نے مسکرانے کی کوشش نہیں کی۔ صرف چند لمحے خالی الذہنی کے عالم میں اسے دیکھتا رہا۔
”فائن…” اس نے کہا۔
دوسرا ڈاکٹر اس کی نبض دیکھنے میں مصروف تھا۔
سالار نے ایک بارپھر آنکھیں بند کرلیں۔ فرقان اور دوسرا ڈاکٹر آپس میں ایک بارپھر گفتگو میں مصروف تھے۔ اسے اس گفتگو میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسے کسی بھی چیز میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہورہی تھی۔ باقی سب کچھ ویسا ہی تھا۔ احساسِ جرم، پچھتاوا۔ عاکف، صنوبر… امامہ… ریڈلائٹ ایریا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔ اس کا دل چاہا کاش وہ ابھی ہوش میں نہ آتا۔
”تو سالار صاحب…! اب کچھ تفصیلاً گفتگو ہوجائے آپ کے ساتھ۔” اس نے فرقان کی آواز پر آنکھیں کھول دیں۔ وہ اس کے بیڈ کے بالکل قریب ایک اسٹول پر بیٹھا ہوا تھا۔ دوسرا ڈاکٹر باہر جاچکا تھا۔ سالار نے اپنی ٹانگوں کو سمیٹنے کی کوشش کی۔ اس کے منہ سے کراہ نکلی۔ اس کے ٹخنے اور گھٹنوں میں شدید درد ہورہا تھا۔ اس کی ٹانگوں پر کمبل تھا وہ انہیں دیکھ نہیں سکتا تھا مگر اس کو اندازہ تھا کہ اس کے ٹخنے اور گھٹنے پر کچھ لپٹا ہوا تھا۔ وہ اپنے کپڑوں میں بھی نہیں تھا بلکہ مریضوں کے لئے مخصوص لباس میں تھا۔
”کیا ہواہے؟” سالار نے بے اختیار کراہ کر ٹانگ سیدھی کرتے ہوئے کہا۔
Sprained ankle”دونوں گھٹنوں اورCalfپر کچھ خراشیں اور سوجن مگر خوش قسمتی سے کوئی فریکچر نہیں۔ بازوؤں اور کہنیوں پربھی کچھBruisesخوشی قسمتی سے پھر کوئی فریکچر نہیں۔ سرکے بائیں پچھلے حصے میں چھوٹا سا کٹ تھوڑی سی بلیڈنگ، مگر سی ٹی اسکین کے مطابق کوئی سیریس انجری نہیں۔ سینے پر بھی رگڑ کی وجہ سے معمولی خراشیں مگر جہاں تک تمہارے سوال کا تعلق ہے کہ کیا ہوا ہے؟ تو یہ تم بتاؤ کہ کیا ہوا ہے؟”
فرقان کسی ماہر ڈاکٹر کی طرح بات کرتے کرتے بولا۔ سالار چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔
”میں پہلے سمجھتا رہا کہ میگرین کا اٹیک اتنا شدید تھا کہ تم بے ہوش ہوگئے مگر بعد میں تمہارا چیک اپ کرنے پر مجھے اندازہ ہوا کہ ایسا نہیں تھا۔ کیا کسی نے حملہ کیا تھا تم پر؟” وہ اب سنجیدہ تھا۔ سالار نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے سرکو جھٹکا۔
”تم مجھ تک کیسے پہنچے بلکہ میں یہاں کیسے پہنچا؟”
”میں تمہارے موبائل پر تمہیں کال کررہا تھا اور تمہارے بجائے کسی آدمی نے وہ کال ریسیوکی، وہ اس وقت فٹ پاتھ پر تمہارے قریب تھا۔ تمہیں ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا۔ اس نے مجھے تمہاری حالت کے بارے میں بتایا۔ اچھا آدمی تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ تمہیں کسی ٹیکسی میں کسی قریبی ہاسپٹل لے جائے۔ وہ لے گیا پھر میں وہاں پہنچ گیا اور تمہیں یہاں لے آیا۔”
”ابھی کیا وقت ہے؟”
”صبح کے چھے بج رہے ہیں۔ سمیر نے تمہیں رات کو پین کلرز دئیے تھے اسی لئے تم ابھی تک سورہے تھے۔”
فرقان کو بات کرتے کرتے احساس ہواکہ وہ دلچسپی نہیں لے رہا۔ اس کی نظروں میں ایک عجیب سی سرد مہری فرقان کو محسوس ہوئی تھی۔ یوں جیسے فرقان اسے کسی تیسرے شخص کی حالت کے بارے میں بتارہا تھا۔
”تم مجھے… دوبارہ…” سالار نے اسے خاموش ہوتے ہوئے دیکھ کر کہنا شروع کیا۔ پھر قدرے الجھن آمیز انداز میں رکا۔ آنکھیں بند کیں جیسے ذہن پر زوردے رہا ہو۔
”ہاں… کوئی ٹرینکولائزر دے دو۔ میں بہت لمبی نیند سونا چاہتا ہوں۔”
”سوجانا… مگر یہ تو بتاؤ… ہوا کیا تھا؟”
”کچھ نہیں۔” سالار نے بیزاری سے کہا۔
”مگرین… اور میں فٹ پاتھ پر گرپڑا، گرنے سے چوٹیں لگ گئیں۔”
فرقان نے اسے غور سے دیکھا۔
”کچھ کھالو۔۔۔۔”
سالار نے اس کی بات کاٹی۔” نہیں… بھوک… نہیں ہے۔ تم بس مجھے کچھ دو… ٹیبلٹ، انجکشن، کچھ بھی، میں بہت تھکا ہواہوں۔”
”اسلام آباد تمہارے گھر والوں۔۔۔”
”انہیں اطلاع مت کرنا۔ میں جب سوکر اٹھوں گا تو اسلام آباد چلا جاؤں گا۔”
”اس حالت میں؟”
”تم نے کہا ہے میں ٹھیک ہوں۔”
”ٹھیک ہو مگر اتنے بھی ٹھیک نہیں ہو۔ دوچار دن آرام کرو۔ یہیں رہو لاہور میں، پھر چلے جانا۔”
”اچھا پھر تم پاپا کو یا ممی کو اطلاع مت دینا۔”
فرقان نے کچھ الجھے ہوئے انداز میں اسے دیکھا۔ اس کے ماتھے پر چند بل آگئے۔” اچھا… اور… کچھ…؟”
”ٹرینکولائزر…”
فرقان اسے سوچتے ہوئے دیکھنے لگا۔
”میں رہوں تمہارے پاس…؟”
”فائدہ…؟ میں تو ابھی سوجاؤں گا۔ تم جاؤ۔ جب میں اٹھوں گا تو تمہیں کال کروں گا۔”
اس نے بازو کے ساتھ اپنی آنکھیں ڈھانپ لیں۔ اس کے انداز میں موجود روکھے پن اور سرد مہری نے فرقان کو کچھ اور پریشان کیا۔ اس کا رویہ بہت ابنارمل تھا۔
”میں سمیر سے بات کرتا ہوں، مگر ٹرینکولائزر چاہئے تو پہلے تمہیں کچھ کھانا ہوگا۔” فرقان نے اٹھتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا۔ سالار نے آنکھوں سے بازو نہیں ہٹایا۔
دوبارہ اس کی آنکھ جس وقت کھلی اس وقت شام ہورہی تھی۔ کمرہ خالی تھا۔ اس کے پاس کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ جسمانی طورپر صبح سے زیادہ تھکاوٹ محسوس کررہا تھا۔ اپنی ٹانگوں سے کمبل کو پرے پھینک کر اس نے لیٹے لیٹے بائیں ٹخنے اور گھٹنوں میں اٹھتی ہوئی ٹیسوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹانگوں کو سکیڑ لیا۔ اسے اپنے اندر ایک عجیب سی گھٹن محسوس ہورہی تھی۔ اتنی گھٹن جیسے کسی نے اس اس کے سینے کو جکڑ لیا ہو۔ وہ اسی طرح لیٹے لیٹے چھت کو گھورتا رہا پھر جیسے اسے کوئی خیال آیا۔
٭…٭…٭
وہ ہوٹل آکر اپنا سامان پیک کررہا تھا جب فرقان نے دروازے پر دستک دی۔ سالار نے دروازہ کھول دیا۔ فرقان کو دیکھ کر وہ حیران ہوا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی اس کے پیچھے آجائے گا۔
”عجیب انسان ہو تم سالار…” فرقان اسے دیکھتے ہی ناراضی سے بولنے لگا۔
“یوں کسی کو بتائے بغیر سمیر کے کلینک سے چلے آئے، مجھے پریشان کردیا۔ اوپر سے موبائل کو بھی آف کر رکھا ہے۔”
سالار نے کچھ نہیں کہا۔ وہ لنگڑاتا ہوا ایک بارپھر اپنے بیگ کے پاس آگیا۔ جس میں وہ اپنی چیزیں پیک کررہا تھا۔
”تم جارہے ہو؟” فرقان بیگ دیکھ کر چونکا۔
”ہاں…!” سالار نے یک لفظی جواب دیا۔
”کہاں…؟” سالار نے بیگ کی زپ بند کردی اور بیڈپر بیٹھ گیا۔
”اسلام آباد؟” فرقان اس کے سامنے صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔
”نہیں…” سالار نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
”پھر…؟”
”کراچی جارہا ہوں۔”
”کس لئے؟” فرقان نے حیرانی سے پوچھا۔
”فلائٹ ہے میری۔”
”پیرس کی؟”
”ہاں۔۔۔۔!”
”چاردن بعد ہے تمہاری فلائٹ، ابھی جاکر کیا کروگے؟” فرقان اسے دیکھنے لگا۔ سمیر کا اندازہ ٹھیک تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات بے حد عجیب تھے۔
”کام ہے مجھے وہاں۔”
”کیا کام ہے؟”
وہ جواب دینے کے بجائے بیڈ پر بیٹھا پلکیں جھپکائے بغیر چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔ فرقان سائیکالوجسٹ نہیں تھا۔ پھر بھی سامنے بیٹھے ہوئے شخص کی آنکھوں کو پڑھنے میں اسے کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ سالار کی آنکھوں میں کچھ بھی نہیں تھا۔ صرف سرد مہری تھی۔ یوں جیسے وہ کسی کو جانتا ہی نہ ہو۔ اسے اور اپنے آپ کو بھی۔ وہ ڈپریس تھا۔ فرقان کو کوئی شبہ نہیں تھا مگر اس کا ڈپریشن اسے کہاں لے جارہا تھا۔ فرقان یہ جاننے سے قاصر تھا۔
”تمہیں آخر کیا پریشانی ہے سالار؟” وہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکا۔
سالار نے توقف کیا۔ پھر کندھے جھٹکے۔




Loading

Read Previous

ساتواں سکّہ — فیصل سعید خان

Read Next

پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۷

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!