عشق”لا“ – فریال سید -داستانِ محبت

فجرکی اذان ہونے والی تھی ۔ سمندر کے نزدیک اور شہر کی رونقوں سے تھوڑا دور واقع، ا س چھوٹی سی جھونپڑی میں ، شاہ آغا فجر کے لیے اُٹھے تھے ۔ پیلا بلب جلاتے ہی وہ ننھی سی جھونپڑی ، زرد روشنی میں نہا گئی۔ ایک چارپائی ، ایک صندوق، زمین پر بچھی بوسیدہ سی چٹائی اور پانی کا ایک مٹکا۔ اتنے تھوڑے سے سامان کے باوجود ا س جھونپڑی کا مکین بہت امیر تھا۔

خدا کے قرب کی امارت جو ہر قسم کی امیری ، نام و رتبے اور شہرت سے بڑھ کر ہے۔ اُنہیں وہ حاصل تھی ۔بھلا جسے اللہ مل جائے ا سے اور کسی چیز کی چاہ رہتی ہے ؟

شاہ آغا نے مسجد جانے کی تیاری کی ۔ قریب ہی واقع عالی شان سی مسجد تک پہنچنے میں روز تقریباً پندرہ منٹ تو لگ ہی جاتے تھے ، تبھی وہ فجر سے پہلے ہی مسجد کی طرف قدم بڑھا دیا کرتے تھے ۔اذان رستے میں ہو جایا کرتی اور شاہ آغا جب تک پہنچتے جماعت تیار ہو تی ۔



اپنی ننھی سی جھونپڑی کا ٹوٹا پھوٹا لکڑی کا دروازہ ، جبراً بند کرتے ، زنجیر چڑھاتے ، وہ مسجد کی طرف چل دیے۔ ان کی چھوٹی سی کٹیا سے کچھ ہی دور شہر کا ایلیٹ علاقہ شروع ہو جاتا ۔ جہاں سے سمندر کی طرف انتہائی تیز روشنیوں والے قمقمے نسب تھے جن کی بدولت دور دور تک سمندر اور ساحلِ سمندر دیکھا جا سکتا تھا ۔

شاہ آغا نے بھی یونہی چلتے چلتے ، اچٹتی سی نظر سمندر پہ ڈالی ہی تھی کہ اُنہیں سمندر کے قریب کسی انسانی جسم کا ہیولا سا ، پڑا دکھا ئی دیا ۔ 

یا اللہ خیر۔کہتے ، وہ تیزی سے سمندر کی جانب بڑھ گئے ۔ ضعیف قدم کسی کی مدد کے خیال سے تیز تر ہو گئے ۔



اس علاقے میں رہتے ہوئے اُنہیں کوئی پینتیس سال ہوچکے تھے ۔ اس ساحل اور شاہ آغا کی آنکھوں نے بہت سے ہولناک منظر دیکھے تھے ۔ جواں سال خودکشیاں ، اغوا کے بعد قتل کر کے ساحل سمندر پہ لاش پھینکے جانے والے حادثات ، لاوارث گلی سڑی لاشیں، جنہیں سمندر دور دراز علاقوں سے بہا لے آتا تھا اور پھر جن کی کوئی شناخت نہ ہو پاتی تھی۔ غرض جتنی لکیر یں ان کی آنکھوں کے گرد تھیں ، اتنے ہی فسانے اور راز ان کی آنکھوں میں پوشیدہ تھے۔

کسی ان ہونی کا خوف ان کے دل کی دھڑکن بڑھائے جا رہا تھا۔ نزدیک پہنچنے پہ انہیں اندازہ ہوا کہ وہ کوئی ابنِ آدم تھا ۔ تقریباً ہانپتے ہوئے وہ اس کے قریب پہنچے۔

وہ کوئی نوجوان تھا جس کی ہلکی آسمانی شرٹ پہ جا بجا خون کے دھبے تھے ۔

سمندر کی لہریں اس کے پیروں تک آتیں اور پھر سے لوٹ جاتیں ۔اوندھا پڑا ہونے کی وجہ سے ، شاہ آغا کے لیے اندازہ لگا نا مشکل تھا کہ مقابل میں زندگی باقی بھی تھی کہ نہیں ۔

کپکپاتے ہاتھوں سے بہ مشکل انہوں نے اس کا چہرہ ایک طرف کیا تھا ۔ 

 وہ ایک اچھا خاصا خوش شکل نوجوان تھا۔ شاہ آغا نے دل ہی دل میں اپنے خدشات غلط ہونے کی دعا کی تھی ۔ اپنی انگلیاں اس کی ٹھنڈی ناک پہ رکھتے ہوئے ، انہوں نے محسوس کیا کہ ابھی اس کی سانسیں جاری تھیں ۔ انہوں نے نبض دیکھی ۔ وہ بھی سست روی سے چل رہی تھی۔

شاہ آغا نے اِدھر اُدھر مدد کے غرض سے کسی ذی روح کو تلاشا کہ ا س چھے فٹ سے نکلتے ہوئے، اچھی قامت والے نوجوان کو اٹھا کے روڈ تک لے جاسکیں کیوں کہ یہ اکیلے ا ن کے بس کی بات نہ تھی۔



سامنے ہی انہیں، قریب واقعہ کیفے اور ریستوران کے گارڈز، ٹولی کی شکل میں مسجد کی طرف جاتے دکھائی دیے ۔ شاہ آغا نے اپنے وجود میں موجود ساری طاقت جمع کرتے ہوئے اُنہیں مدد کے لیے پکارا ۔ 

فجرکاوقت ہونے کے باعث شور شرابا نہ تھا تبھی ان پانچ گارڈز کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں شاہ آغا کو زیادہ دقت نہ ہوئی ۔ وہ تیزی سے ا ن ہی کی جانب آرہے تھے ۔

شاہ آغا نے اس کی شناخت کے غرض سے ا س کے جیبوں کو ٹٹولا ، تو ان کے ہاتھ میں موبائل آگیا جو سمندر کے پانی میں بھیگنے سے بندہو چکا تھا۔

انہوں نے دوسری جیب میں ہاتھ ڈالا، تو ا س کا بٹوہ ہاتھ آیا۔ انہوں نے عجلت میں شناختی کارڈ نکالا ۔ 

یہی خوش شکل ، مُسکراتا چہرہ ، کارڈ پہ جگمگا رہا تھا ۔ 

نام….عبداللہ سکندر۔

وہ اتنا ہی دیکھ پائے تھے کہ گارڈز مدد کو آپہنچے ۔ ان کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے ، انہوں نے اس کا بٹوہ اور فون اپنی جیب میں رکھ لیا۔

تیز روشنی نے اس کی ادھ کھلی آنکھوں کو چندھیا دیا تھا ۔

درد کی ٹیسیں تھیں کہ اس کے جسم کو کاٹ رہی تھیں ۔ 

خالی خالی آنکھوں سے چھت کو گھورتا ، وہ کافی دیر یونہی لیٹا رہا ۔

آخر کہاں ہوں میں ؟

اوریہاں کیسے آیا ؟

اس کے ذہن میں سوالات ابھرتے ہی ، ا س نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی ۔ 

وہ یقینا کسی اسپتال کے وارڈ میں تھا۔ اس کے بستر کے گرد پردہ آویزاں تھا ۔

بستر کے قریب ہی ایک شفقت سے بھرپور ، سفید با ریش ، گلابی ر نگت والے بزرگ ، تسبیح کے دانوں پہ منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ رہے تھے ۔



وہ اس کے چہرے پہ نظر پڑتے ہی مُسکرائے تھے ۔ 

عبداللہ اُنہیں اجنبی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ 

وہ ان بزرگ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ میں ادھر کیسے پہنچا ۔

ان کو بتانا چاہتا تھا کہ ا سے تکلیف ہے ۔ ا سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کوئی کسی تیز دھار آلے سے اس کے بدن کے ٹکڑے کر رہا ہو۔

بابا نے اپنی تسبیح مکمل کرتے ہوئے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتے، اس کے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے چہرے پہ پھونکا تھا۔

پھر مُسکراتے ہوئے اس سے مخا طب ہوئے :

اب کیسے ہو بیٹے ؟ کیسا محسوس کر رہے ہو ؟

عبداللہ نے جواب دینے کی کوشش کی، لیکن پیاسے خشک ہونٹ ہلنے سے قاصر تھے ۔ اس نے اپنی تمام تر ہمت مجتمع کرتے ہوئے کہا :

پانی۔

شاہ آغا نے قریب ہی رکھا پانی کا گلاس اٹھا کہ ا سے سہارا دیتے ہوئے اس کے ہونٹوں سے لگا دیا۔

چھوٹے چھوٹے گھونٹ لیتا عبداللہ پانی پی چکا تو بہ مشکل کہہ پایا :

مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے بابا۔

شاہ آغا ایک دم شرمندہ سے ہوئے تھے ۔

مجھے معاف کرنا بچے ! مجھے ڈاکٹر صاحب نے بتایا بھی تھا کہ تمہیں ہوش آئے تو اُنہیں مطلع کردوں ۔ کیوں کہ تمہیں درد کی کوئی دوا نہیں دی گئی تا کہ یہی درد تمہیں ہوش میں لا سکے۔ بس ابھی بلاتا ہوں اُنہیں۔



دھیرے سے اس کے چہرے کو چھوتے ہوئے وہ پردہ ہٹا کہ چلے گئے۔

عبداللہ پھر سے چھت کو گھورنے لگا ۔ اس کے ساتھ ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ یہاں اس طرح سے پڑا ہے؟

تجسس نے چٹکی کاٹی تو وہ اپنا جائزہ لینے لگا ۔ 

دایاں بازو پلاستر کی موٹی تہ کے اندر چھپا ہوا تھا ۔ بائیں بازو کی مرہم پٹی کی گئی تھی اور ایک ڈرپ ا س سے منسلک تھا ۔

سر پٹی کی کئی تہوں کے باوجود درد سے پھٹا جا رہا تھا ۔ 

دونوں ٹا نگیں جگہ جگہ سے پٹیوں میں جکڑی سن سی محسوس ہوتیں تھیں ۔ 



ان سب کے علاوہ ، اس کا جوڑ جوڑ د کھ رہا تھا۔

 دو کرخت و بے رحم چہرے اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئے ۔ ا سے سب یاد آگیا تھا ۔

عائلہ سید کی دو الوداع کہتی ، مایوس آنکھیں ۔

اپنا درد سے بلبلانا ۔

ان مکروہ چہروں سے رحم کی التجا کرنا ۔

اور پھر ان کا بے رحمی سے اسے زدوکوب کرنا اور سمندر کنارے پھینک جانا۔

وہ بڑی مشکل سے ا ٹھ کے بیٹھا تھا ۔

آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا یا تھا ، مگر ا سے اپنی پروا کہاں تھی ۔

وہ تو کچھ بھی کر کے کسی طرح بھی عائلہ تک پہنچنا چاہتا تھا ۔ اس کی خیریت معلوم کر نا چاہتا تھا ۔

گھومتے سر کو ایک ہاتھ سے دباتا، وہ درد کی شدت سے آنکھیں میچ گیا ۔

کچھ چکر آنا کم ہوئے تو ا س نے اپنے ہاتھ کو جھٹک کے ڈرپ کی سوئی نکالی۔ خون کی پتلی سی لکیر تیزی سے اس کے ہاتھ سے بہنے لگی ۔ اپنی ہمت مجتمع کرتے ہوئے ، ا س نے اپنے پیروں کو ہلایا ۔



دردنے سسکی کی مانند ا س کے ہونٹوں کو چھوا۔ 

مگرایک بار پھر عائلہ کے ریت پہ گھسٹتے وجود کی تلخ یاد ، اس کے ٹوٹتے ارادے مضبوط کر گئی۔

پہلا پیر زمین پہ رکھتے ا سے لگا جیسے اس کے پیروں تلے زمین نہیں ۔ ڈانواں ڈول سا ، ا س نے دوسرا پاں بھی زمین پہ رکھا۔ کچھ دیر وہیں بیٹھے ، خود ہی اپنی ہمت بندھانے کے بعد ، ا س نے اپنے قدموں پہ کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ اپنے واحد تندرست ہاتھ سے بستر کا سہارا لیتے، وہ کھڑا ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ تھر تھر کانپتے پیرا سے قدم ا ٹھانے سے روک رہے تھے اور فکرِ جاناں تھا کہ چلنے پہ مجبور کر رہا تھا ۔

اپنا پورا زور لگاتے ہوئے اس نے کانپتے وجود کے ساتھ پہلا قدم اٹھایا ہی تھا کہ ڈاکٹر سمیت شاہ آغا واپس آچکے تھے اور اب شدید حیرت کے عالم میں ا سے اپنے سامنے کھڑا دیکھ رہے تھے ۔

ڈاکٹر تیزی سے عبداللہ کی جانب بڑھا:

یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟

 عبداللہ نے پلاسٹر شدہ ہاتھ سے اپنے نزدیک آتے ڈاکٹر کو پیچھے دھکیلا ۔ 



ڈاکٹر جو اس اچانک افتاد کے لیے تیار نہ تھا ، لڑکھڑایا ۔ پھر جب تک سنبھلا ، عبداللہ بستر کا سہارا چھوڑ تیزی سے قدم بڑھانے کی کوشش میں، بری طرح زمین بوس ہو چکا تھا ۔

 شاہ آغا، ڈاکٹر اور نرس اس کی جانب لپکے۔

عبداللہ جانا چاہتا تھا اور وہ کوشش بھی کر رہا تھا۔ 

مگر ڈاکٹر اور شاہ آغا مسلسل ا سے قابو میں کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ا ن کے ہاتھ جھٹکتا عبداللہ لگاتار جانے کی ضد کر رہا تھا ۔

وہ اسے مار دیں گے ۔

آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیں ؟

جانے دیں مجھے ، میں نے اس کی بے گناہی کی گواہی دینی ہے ۔



میری عائلہ پتا نہیں کیسی ہو گی۔

درد ، وحشت ، فکر ۔ عبداللہ سکندر کے لہجے میں چیخ چیخ کر بولتے یہ تینوں عنصر ، عشق کی نشاندہی کر رہے تھے ۔ وہ کیا خوب کہتے ہیں ، عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتا ۔

شاہ آغا کی سمجھ میں بھی ساری بات آنے لگی تھی ۔ وحشت سے چیختے ، ا س شاندار نوجوان کو گہری نظروں سے تکتے ، وہ پیچھے ہٹ گئے ۔

عبداللہ جو پہلے ہی قابو میں نہیں آ رہا تھا اب تو ا سے کنٹرول کرنا ڈاکٹر کو نا ممکن سا لگا۔

نرس ! انجکشن تیار کرو ۔ جلدی۔

نرس کو ہدایات دیتا ڈاکٹر بہ مشکل عبداللہ کو قابو کیے ہوئے تھا جس کی برداشت اب آخری حد کو چھو رہی تھی اور وہ زور زور سے چلانے لگا۔

اس کا سارا وجود وحشت میں ڈوبا ہوا تھا۔ اپنے درد کا احساس ا سے جیسے تھا ہی نہیں ۔ کئی زخموں کے ٹانکے ادھڑ چکے اور ا ن سے خون ر س رہا تھا اور وہ تھا کہ جانے کی ر ٹ لگائے ، بے دردی سے اپنا سر پیچھے فرش پہ پٹخ رہا تھا۔



نرس نے عجلت میں ڈاکٹر کو سرنج تھماتے ہوئے ، مضبوطی سے عبداللہ کے بازو کو پکڑا۔

انجکشن لگتے ہی اس کی مزاحمت مدھم پڑتے پڑتے ، ختم ہوئی تھی۔

شاہ آغا نے سراسیمہ نظروں سے بے ہوش عبداللہ کو دیکھا۔

اب کیا کہہ کے اس کی ماں کو تسلی دلائیں گے وہ ۔ یہ خیال انہیں پریشان کیے جا رہا تھا۔

وہ تو ماں تھیں ، اُنہیں کیسے یقین دلائے کوئی ۔ 

جب سے شاہ آغا نے اس کی سِم دوسرے فون میں ڈال کے اُنہیں مطلع کیا تھا اور بات کرانے کا وعدہ کیا تھا ۔ تب سے اب تک ان کی بے حساب کالز آچکیں تھیں۔ 

اُنہیں بارہا اس کی خیریت کی یقین دہانی کرانے کے باوجود، وہ صرف ایک دفعہ عبداللہ کی آواز سننے پہ بضد تھیں ۔



ماں کا وجود تو ا س دن ہی وہم و وسوسوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے جب اس کی کوکھ میں پنپتی اولاد پہلی دفعہ اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے ۔ پھر دنیا کچھ بھی کہے ، چاہے کچھ بھی ہو جائے ، پر اگر ماں کا دل مطمئن نہیں ا سے چین نہیں آئے گا ۔

شاہ آغا ا نہی کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ دوبارہ سے فون بجا اور اسکرین پہ جلی حروف میں لفظامیجگمگانے لگا ۔

آج صبح سے صغریٰ بیگم تخت پہ بیٹھیں، بیرونی دروازے پر نظریں جمائے ہوئے تھیں ۔ 

بیٹے کے آنے کی خبر نے تو جیسے ا ن کے وجود میں خوشی کی لہر دوڑا دی تھی ۔ چلچلاتی دھوپ بھی اُنہیں ، رحمت کی پھوار کے مصداق لگ رہی تھی ۔

عبداللہ ایک ہفتے اسپتال میں رہ کے آج گھر واپس آ رہا تھا ۔ اِ س دوران، ماہا اور ثنا ا س سے ملنے بھی گئیں تھیں ، مگر وہاں ر ک نہیں سکتی تھیں ۔ 

دو جوان بیٹیوں کے ساتھ اکیلے تو صغریٰ بیگم کو گھر پہ نیند نہیں آتی تھی کہاں اُنہیں اکیلا گھر پہ چھوڑکے اسپتال جاتیں۔

ماہا !ماہا ….“



ماں کے پکارنے پہ ، کچن میں کھانا بناتی ماہا نے وہیں سے صدا لگائی ۔

جی امی۔

بریانی کو دم لگ گیا ؟ بھائی آتا ہوگا۔

ان کے سوال پہ ماہا کی مُسکراہٹ بے ساختہ تھی ۔

کب کا لگا دیا تھا امی ، آپ کہیں تو پلیٹ میں نکال کر دروازے پہ کھڑی ہوجاں ؟

بیٹی کی شرارت سمجھتے ہوئے بھی ، انہوں نے معصوم بنتے جواب دیا ۔

نہیں رہنے دو ۔ وہ آئے تو میں اپنے ہاتھوں سے کھلاں گی ۔

اب کے ماہا کی کھلکھلاہٹ ا ن کی سماعت سے مخفی نہ رہ سکی ۔ 

وہ مطمئن سی دوبارہ دروازے کی جانب دیکھنے لگیں کہ اچانک ہوتی دستک نے اُنہیں چونکایا۔

بے ساختہ خوشی سے نہال ہوتیں ، وہ ننگے پیر بیرونی دروازے کی اور دوڑیں۔

دروازے کی اوٹ سے بیٹے کا کمزور ، زردی میں ڈوبا چہرہ دیکھ ، ان کی آنکھیں ٹمٹمائی تھیں۔

بیٹے کو گلے سے لگاتے ، اس کے پٹیوں میں جکڑے نحیف وجود کو سہارا دیتے اندر کمرے تک لے آئیں۔ ا ن کے پیچھے ہی ٹیکسی و الے کو کرایہ دیتے شاہ آغا بھی اندر آ گئے تھے ۔



بھائی کے آنے کی خبر سنتی ماہا، کچن سے تقریباً بھاگتے ہوئے آئی۔

کمرے میں شاہ آغا کی موجودگی نے ا سے تھوڑا سا سمٹنے پہ مجبور کیا تھا ۔ 

شاہ آغا سے تو وہ سب بخوبی واقف ہو چکے تھے ، مگر پھر بھی وہ دھان پان سی دبتے قد والی لڑکی لوگوں میں گھلنے ملنے سے کتراتی تھی۔

دھیرے سےالسلام علیکمکہتی ماہا نے نم آنکھوں سے بھائی کے چہرے کو دیکھا۔

بہن کی آنکھوں میں چھپے اندیشے دیکھ وہ زبردستی مُسکرایا ۔ 

شاہ آغا نے ماہا کو دوائیں تھما کے، ڈاکٹر کی ہدایات سمجھائیں اور جانے کی اجازت مانگی ۔

بابا !کھانا تو کھا کے جائیں ، آپ کے اتنے احسانات ہیں مجھ پہ میں ایسے آپ کو جانے نہیں دوں گا۔

عبداللہ کی نحیف آواز کمرے میں گونجی تھی ۔

نہیں بیٹے آج نہیں ، آج میرے نصیب کا رزق کہیں اور پکا ہے ۔ مجھے اجازت دو میں جلد ہی دوبارہ آں گا۔

وہ معذرت کرتے ہوئے ا ٹھ گئے ۔ عبداللہ اُنہیں روکنا چاہتا تھا ۔ 

مگر ا سے احساس تھا کہ اتنا تو کوئی اپنا بھی نہیں کرتا جتنا پچھلے دنوں شاہ آغا نے اس کے لیے کیا تھا۔ اب اگر وہ جانا چاہتے تھے تو یقینا ان کی کوئی مجبوری تھی ۔

آپ وعدہ کریں کہ مجھ سے ملنے جلد آئیں گے۔

عبداللہ ناک چڑھائے کسی بچے کی طرح ا ن سے ضد کر رہا تھا ۔ 



ایک شفیق مُسکراہٹ کے ساتھ وہ بولے :

ہاں ! کیوں نہیں کل ہی ملنے آں گا وعدہ رہا ۔ بس اب تم نے پریشان نہیں ہونا اور زیادہ سوچنا نہیں ۔ جلدی سے ٹھیک ہو جااچھا ؟

اثبات میں سر ہلاتے عبد اللہ نے دھیرے سے کہا

اللہ حافظ!“

مُسکراتے شاہ آغا نے ماہا کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے باآوازِ بلند اللہ حافظ کہا اور کمرے سے باہر نکل گئے ۔

امی پہلے ہی عبداللہ کے لیے کھا نا لانے جا چکیں تھیں ۔

اب ماہااور عبداللہ کمرے میں اکیلے تھے ۔

چھوٹی بہنوں کا بڑے بھائیوں سے انوکھا ہی رشتہ ہوتا ہے ۔ بچپن میں بھائیوں کی ہر شرارت میں ان کا ساتھ دیتی ہیں۔ اکثر ا ن کے حصے کی ڈانٹ بھی بخوشی سن لیتی ہیں اور جب بڑی ہو جاتی ہیں، تو بھائی کے لاکھ چھپانے پر بھی ا ن کے سب کرتوتوں کی خبر رکھتی ہیں ۔ اکثر تو بھائی خود ہی بتا دیتے ہیں ، نہیں تو ان کے کمرے کی صفائی کے دوران کچھ نہ کچھ ایسا ضرور مل جاتا ہے جس سے بہنیں سب خبر لگا لیتی ہیں۔

بابا کے نکلتے ہی ماہا نے مشکوک نگاہوں سے بھائی کو تکا۔

عبداللہ نے بے ساختہ رُخ موڑا ۔ 

بھائی !“

ماہا چلتے ہوئے ان کے سامنے جا کے کھڑی ہوگئی ۔



میں سب جانتی ہوں ۔ اب سچ سچ بتائیں ا س دن کیا ہوا تھا ؟

کم از کم آپ کا ایکسیڈنٹ نہیں ہوا تھا ۔

عبداللہ نے جھکی ہوئی لال آنکھیں اٹھا کہ چھوٹی بہن کے خفا خفا سے چہرے کو دیکھا۔

سب ختم ہوگیا ماہا ۔ وہ ….

وہ پہلی دفعہ مجھ سے بات کرنے آئی تھی ۔ اس کے بابا….

پتا نہیں کہاں سے….



وہ بے گناہ تھی ماہاا س کا کوئی قصور نہ تھا ۔ پتا نہیں اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا ہوگا۔ وہ بالکل معصوم ہے ۔ میں کیا کروں ، کہیں سے اس کی خبر آتی ہی نہیں۔ کہاں سے اس کی خبر لاں ؟

کس سے پوچھوں ؟ 

بتا ماہا….

کیا قصور تھا ہمارا ؟

ماہا جو نم آنکھوں سے اپنے بڑے بھائی کوبے ربط جملوں میں اپنا درد بیان کرتے سسکتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ دل ہی دل میں بھائی سے مخاطب تھی ۔ 

عشق!“ہے آپ دونوں کا قصور بھائی….

ہمارا معاشرہ کہاں دل دیکھتا ہے ؟ کہاں پاکیزگی دیکھتا ہے ؟

معاشرہ توعشقکے عین کوعصمتنہیںعریانیسمجھتا ہے۔

عشقکے شین سے انہیںشرافتکی نہیں ، شراب کی بو آتی ہے ۔

اورعشقکا قاف انہیں کوئیقرینہسکھانے کی بجائے قہر برسانا یاد دلاتا ہے۔

یہعشقسے نفرت کرنے والوں کا معاشرہ ہے بھائی۔ یہاں ہر گناہ کے لیے عدالت ہے، کورٹ کچہری کے چکر ہیں جب کہ عشق کی سزا موت ہے ۔ غیرت کے نام پہ قتل ہے ۔ 

یہاں عشق کے قاتل کے لیے کوئی سزا نہیں اور وہ اپنا سینہ پھلا کے دندناتا ، اسی معاشرے میں گم ہو جاتا ہے۔

٭….٭….٭

شادی والے گھر کی رونق ہی نرالی تھی ۔ میر ابراہیم سید کے اکلوتے بیٹے کی شادی تھی۔ وہ اپنے سارے ارمان پورے کرنا چاہتے تھے ۔ 

اس پوش علاقے میں واقع ا ن کا شاندار بنگلہ ، ننھے منے ڈھیروں برقی قمقموں سے سجا ہوا تھا ۔

چچا افراہیم سید کے گھر بھی کم رونق نہ تھی ۔ دو گلیاں دور تو ا ن کا گھر تھا۔ کوئٹہ شہر کے حالات ا ن دنوں کافی خراب تھے ۔تبھی شادی کراچی میں ہونا قرار پائی تھی ۔

ہر سو رنگ و بو کا راج تھا ۔ سکینہ سید صاحبہ کو سر کھجانے کی بھی فرصت نہ تھی ۔ ساری ذمہ داریاں ا ن کے کندھوں پہ آ پڑی تھیں ۔ ا ن سب کا خیال تھا کہ عائلہ آئے گی تو ساری ذمہ داریاں سنبھال لے گی ۔ مگر عائلہ تو جس دن سے آ کے اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی پھر نکلی ہی نہیں ۔ شادی کا گھر ، اتنی مصروفیت، کسی کا دھیان بھی اس کی طرف نہ گیا ۔ ایک ذاکرہ تھی جو ا س کا ناشتا اور کھانا وقت پہ پہنچا دیا کرتی تھی ۔



معید سید بھی گاں گیا ہوا تھا ۔ وہ ہوتا، تو بہن کو ضرور اپنی خوشیوں میں شامل کرتا ۔ گاں کا سارا انتظام ا سے خود دیکھنا تھا اکلوتا جو تھا ۔کوئی بھا ئی ہوتا تو اور بات تھی ۔

ویران حویلی کو برقی قمقموں سے سجا دیا گیا تھا ۔ اپنے مریدوں اور جدی پشتی خدمت گزاروں کے لیے اُنہیں یہیں کرنا تھا ، جو بھی کرنا تھا ۔ کیوں کہ ان لوگوں کا کراچی آ کے شادی میں شرکت کرنا تقریباً نا ممکن تھا ۔ 

ماہ پری نے ڈھولک کا اہتمام کیا ۔ حویلی کے صحن میں خواتین کے لیے جب کہ باہر ڈیرے پہ مردوں کے لیے انتظام کیا گیا تھا۔

معید کو دولہا بننے سے پہلے ہی دولہا بنا دیا گیا ۔ مریدوں نے مہندی کی رسم کا اہتمام بھی کیا ہوا تھا۔ بہر حال یہ ان کی روایت تھی ۔ 



مہندی کی رسم ادا کی گئی ۔ بلوچی ، براہوی لوک گیتوں پہ عطن نے سما ہی باندھ دیا ۔ پھر کھاناکھلا تو معید سید کو اندر جانے کا موقع ملا ۔ 

حویلی کا صحن خواتین سے کھچاکھچ بھرا پڑا تھا ۔ معید کی جھلک دیکھتے ہی ماہ پری اور کچھ خواتین اس کی طرف لپکیں۔

براہوی لوک گانا حویلی کی خاموشی کو چیر رہا تھا ۔

پیٹی نا چادر مبارکباد مرے نے 

مبارک باد مرے نے لاڈی لکھ وار مرے نے ….“

معید شرماتا ہوا خواتین کے جھرمٹ میں صحن میں رکھے صوفے پہ آکے بیٹھا ۔ 

ماہ پری عجلت میں گئی اوراسپندانکی دھونی سلگا کے لے آئی ۔ اسپندان بلوچستان میں ہی پائی جانے والی ایک جڑی بوٹی ہے جس کی دھونی قدیم وقتوں سے نظر ِ بد ، جادو اور ٹونے سے نجات کے لیے مشہور ہے ۔

معید کے لیے یہ سب کافی تھکا دینے والا تھا، مگر کیوں کہ یہی روایت تھی ، وہ وہیں بیٹھا رہا جب تک اسے دولہا بنا دیکھنے کے ا ن کے سارے ارمان پورے نہ ہوگئے ۔

اسی ویران حویلی کے ایک تنہا کمرے میں، جائے نماز پہ بیٹھی آبگینے جو حویلی میں آنے والی خوشیوں کی سلامتی کی دعا مانگ رہی تھی ۔ا س کا خیال تو معید کو بھی نہ آیا تھا ۔

ا سے احساس تھا کہ اس کے ہونے نہ ہونے سے کسی کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ۔ وہ تو زندہ ہو کہ بھی زندوں میں نہ تھی ۔ 

اِ س کمرے میں اس کی نوجوانی نے جوانی اور پھر بڑھاپہ کے لبادے اوڑھے تھے ، لیکن کبھی کسی نے یہ خیال نہ کیا تھا کے اتنے برسوں سے وہی دو تین سفید و سیاہ جوڑے پہنتے اور دھوتے ا ن کاکیا حشر ہوگیا ہوگا ۔ 

اسی شاندار حویلی میں ایک ویران مکین برسوں سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے ۔ کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ وہ مکین کروڑوں کی جائیداد کی مالک تھی جسے اس کے بھتیجے کی خوشی میں شامل تک نہ کیا گیا تھا بلکہ آج تو ا سے بھوکا سونا تھا کہ ماہ پری ا سے کھانا دینا بھی بھول گئی تھی ۔



اکثر اونچی شاندار عمارتوں کی بنیادیں کچی اور کمزور ہوتی ہیں ۔ باہر سے دیکھنے والے ان کی حسرت ، اصلیت جانے بغیر کرتے ہیں ۔ اگر حویلیوں کی مضبوط دیواروں پر ، ا ن میں رہتے سسکتے لوگوں کے قصے لکھ دیے جائیں تو کوئی اِن کو حسرت سے نہ تکے ۔ 

سجدے میں سر جھکائے آبگینے دیر تک سوچتی رہی ۔ 

باہر صحن میں پنڈال سج چکا تھا ۔ آتشی گلابی اور نارنجی پھولوں کی سجاوٹ نے صحن کا نقشہ ہی بدل ڈالا تھا ۔ ہر سو دیے ، پھول ، خوشبو اور روشنیوں کا راج تھا ۔ عائلہ اپنے کمرے کی ٹیرس سے صحن کا جائزہ لے رہی تھی ۔ جہاں سے پیچھے والے خالی پلاٹ کی کایا پلٹ کا بھی جائزہ لیا جا سکتا تھا ۔ صحن میں خواتین کا انتظام جب کہ پلاٹ میں مردوںکے لیے انتظام کیا گیا تھا ۔



کچھ دیر کو ہی سہی عائلہ کو یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا ۔ بھائی کی خوشی کے خیال نے ا سے اور بھی مطمئن کیا تھا ۔ 

میں نہ سہی لالا اور شانزے ہی سہی ۔ کسی کو تو مکمل خوشیاں نصیب ہوں ۔

ا س نے دل ہی دل میں سوچا۔

عبداللہ اب بھی روز انہ اذانِ مغرب ادا کرتا تھا ۔ شروع شروع میں یہ اذان ا س کے درد میں اضافے کا با عث بنتی تھی، مگر اب تو جیسے عبداللہ کی آواز اس کے ہر درد کا درماں تھی ۔ 

اب بھی وہ مغرب کی اذان کا خاص طور پہ انتظار کرتی تھی ۔ خضوع وخشوعسے نماز ادا کرتی تھی۔ بس اب فرق صرف اتنا تھا کہ ا سے سکون ملنے لگا تھا ، اب درد بھی سکون دینے لگا تھا ۔ 

وہ اپنی سوچوں میں گم ٹیرس میں کھڑی تھی۔ ا سے پتا بھی نہ چلا کب، میر صاحب کی گاڑی گیٹ سے اندر آئی تھی۔ گاڑی سے ا ترتے میر صاحب کی نظر بے خیالی میں، ٹیرس میں کھڑی کھوئی کھوئی سی عائلہ پہ گئی تھی گو کہ ٹیرس کا رخ ویرانے کی جانب تھا، مگر پھر بھی میر صاحب کو کئی واہموں نے گھیر لیا۔ تبھی وہ وہیں کھڑے رہ کے دیکھنا چاہتے تھے کہ عائلہ وہاں کیوں استادہ ہے ۔

شک کا بیج ہی کچھ ایسا ہے ایک دفعہ جس رشتے کے بیچ ا گ آئے ، پھر چاہے ہزار بار اس کا سر کچلا جائے ، کسی جنگلی جھاڑی کی طرح وہ اور تیزی سے بڑھتی ہے ۔ میر صاحب کے دل میں بھی شک تھا جو اُنہیں وہیں کھڑے رہ کہ عائلہ سید کی ٹوہ لینے پہ مجبور کر رہا تھا ۔ وہ وہیں کھڑے رہتے کے مغرب کی اذان پہ عائلہ کی جنبش اور چہرے کے سکون نے انہیں حیران کر دیا ۔ 

 پر سکون چہرے کے ساتھ سراپا سماعت بنتی عائلہ مغرب کی اذان کو کسی جذب کی سی کیفیت میں سنے جا رہی تھی ۔ جیسے ہی اذان اختتام کے قریب ہوئی ، اپنا دوپٹا نماز کے انداز میں لپیٹتی وہ میر صاحب کو شرمندہ کر گئی ۔

تو کیا عائلہ اذانِ مغرب سننے وہاں کھڑی تھی ؟

کہیں میں ا س پہ شک کر کے زیادتی تو نہیں کر رہا ؟ 

میر ابراہیم سید کی پر سوچ نگاہیں خالی ٹیرس پہ ٹکی تھیں ، جب کہ عائلہ نماز ادا کرنے کمرے میں جا چکی تھی ۔

رنگ وبو ، روشنیاں اور پھول ، چچا افراہیم سید کے گھر بھی کوئی کم رونق نہ تھی ۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی شانزے کی مہندی لے کے وہ لوگ یہاں پہنچے تھے ۔



خوبصورت شوخ رنگوں کے امتزاج اور گوٹے کی نازک سی کڑھائی والے غرارے میں ملبوس ، شرمائی شرمائی سی شانزے بے حد پیاری لگ رہی تھی ۔ یوں تو ا ن کے ہاں رواج تھا کہ دلہن جب سے مایوں بیٹھتی، اپنا چہرہ گھونگھٹ میں چھپائے رکھتی ، مگر عائلہ نے ا س کا چہرہ دیکھ لیا تھا اور اب شرارت سے شانزے کو چھیڑ رہی تھی ۔

بالکل بھی روپ نہیں چڑھا تم پہ اور ایک لالا ہیں کے سونے کی طرح چمک رہے ہیں۔ کوئی جوڑ نہیں چڑیل ، تمہارا ا ن سے۔

عائلہ کی شرارت پہ شانزے کی دبی دبی سی ہنسی نے ا سے بھی مُسکرانے پہ مجبور کیا تھا۔

اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ جناب کا ؟ شکر جو آج کم از کم سیاہ رنگ کا پیچھا چھوڑ دیا تم نے ۔ کتنا جچ رہا ہے لال رنگ تم پہ۔

شانزے نے اس کی دل سے تعریف کی تھی ۔

بس کیا کرتی مجبوری تھی لالا کو لال رنگ پسند ہے اور یہ جوڑا ان کی طرف سے تحفہ ہے ، پہننا پڑا۔ لالا کو تو لال رنگ اتنا پسند ہے کہ تمہارے لیے بھی شادی کا جوڑا لال اور اپنے لیے بھی لال بنوایا ہے۔

عائلہ کے لفظوں نے پھر سے شرارت کا لبادہ اوڑھا ۔

اپنے ….لیے بھی ؟

شانزے کے حلق میں الفاظ پھنسے تھے ۔ 

ہاں تو اور کیا۔

شرارت سے کہتی عائلہ اس کے پاس سے ا ٹھی تھی ۔ 

مہندی کی رسم کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا ۔ تمام خواتین باری باری آتیں ، شانزے کی ہتھیلی پہ دھرے پتے پہ مہندی لگاتیں ، مٹھائی کھلاتیں اور دعائیں دیتیں ۔ 

اِس کے بعد مہندی لگانے کا با قاعدہ آغاز ہوتا ۔ ان کے ہاں رواج تھا کہ مہندی لگانے والیوں کو مدعو کیا جاتا ۔ جو پہلے دلہن کے ہاتھوں پہ مہندی لگانے کا آ غاز کرتیں اور جیسے ہی دلہن کو مہندی لگنا شروع ہو تی ، باقی لڑکیاں مہمان خواتین کے ہاتھوں پہ مہندی لگانے لگتیں ۔ 

اسے یہ سب بالکل نیا نیا سا لگ رہا تھا ۔ خا موشی سے دور کھڑے وہ سب رسومات اشتیاق سے دیکھ رہی تھی کہ چچی ایک دفع پھر سے اس کی بلائیں لیتیں ، ا سے خود سے لپٹا گئیں ۔ آج چچی نے یہ حرکت جانے کتنی دفعہ دہرائی تھی ۔عائلہ کو تھوڑا عجیب سا لگ رہا تھا ۔چچی کا ایسے بار بار محبت جتلانا ، ا سے کھٹک رہا تھا ۔

اسے خود سے لپٹائے ہی چچی نے علیزے کو آواز دی :

علیزے !سب سے اچھی مہندی لگانے والی سے کہو میری گودی کے ہاتھوں پہ سب سے پیاری مہندی لگائے ، اتنی پیاری جتنی یہ آج لگ رہی ہے ۔

ہزار ہزار کے کئی نوٹ ا س پر سے وارتی ، وہ شانزے کی طرف بڑھ گئیں اور علیزے سب سے اچھی مہندی لگانے والی کو اس کے پاس لے آئیں ۔ 

وہ کوئی ادھیڑ عمر خاتون تھیں جو اپنے فن میں یکتا تھیں ۔ خوبصورت مہندی کے لیے ان کا چرچہ دور دور تک تھا ۔

گہری نظروں سے عائلہ کا جائزہ لیتیں وہ بولیں:

آپ کس طرح کی مہندی چاہ رہی ہیں ؟

دل تو کیا کہ کہہ دےکسی طرح کی نہیں ۔

پر بھائی کا کھلا کھلا سا چہرہ نظروں کے سامنے گھوم گیا جوآج سفید قمیص شلوار پہ کالی واسکٹ پہنے کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔ 

عائلہ کچھ بھی ایسا نہیں کرنا چاہتی تھی کہ جس سے اُس کے بھائی کی خوشی کسی طرح بھی متاثر ہو۔



تبھی زبردستی مُسکراتے ہوئے عائلہ نے جواب دیا

جس طرح کی مہندی لگانے میں آپ کو آسانی ہو ۔ لگا دیں۔اور اپنی دودھیا ہتھیلی اس کے سامنے پھیلا دی جس کی کلائی میں لال گلابوں کا گجرا مہک رہا تھا ۔

خا تون ایک ہاتھ میں مہندی سنبھالے ، دوسرے ہاتھ میں اُس کی ہتھیلی تھامے کچھ دیر خالی نظروں سے اس کی ہتھیلی کو گھورتی رہیں۔ پھر خاموشی سے مہندی لگانے لگیں۔

ابھی انہوں نے آدھے ہاتھ پہ ہی مہندی لگائی تھی کہ عائلہ کا دل اکتا گیا ۔ ا س نے اکتاہٹ سے ہی بچنے کو مہندی والی خاتون سے بات چیت کا آغاز کیا ۔

آپ کو کتنے سال ہو گئے مہندی لگاتے ہوئے ؟

جواب سپاٹ لہجے میں ملا :

”25سال۔

پچیس سال؟

عائلہ اپنے لہجے کی حیرت نہ چھپاسکی۔

جی ہاں !پچیس سال ۔ میں بچپن میں اماں کے ساتھ گھر گھر چوڑیاں بیچنے جاتی تھی ۔ اماں کو ہاتھ دیکھنے کا فن بھی آتا تھا ۔ مجھے چوڑیوں کے بے حساب ڈبوں سے نفرت تھی، جنہیں کندھوں پہ لادے میری ماں میلوں کولہو کے بیل کی طرح چلتی تھیں۔ میں نے بچپن ہی میں طے کر لیا تھا ، چوڑیاں کبھی نہیں بیچوں گی ۔ تبھی مہندی لگانے کی طرف رجحان گیا ۔ مجھے اماں اپنا ہاتھ دیکھنے کا ہنر بھی دے گئی ۔ گزر بسر اچھے سے ہو جاتا ہے ۔

مہندی ادھوری چھوڑ وہ عائلہ کو اپنی مختصر سی روداد سنانے بیٹھ گئی ۔

سچ میں آپ کو ہاتھ دیکھنا آتا ہے ؟ میرا ہاتھ دیکھ کے بتائیں میرے نصیب میں کیا ہے ؟

عائلہ کے لہجے میں اشتیاق بولا تھا ۔

مہندی والی خاتون نے تھوڑی دیر عائلہ کے میک اپ سے عاری ، حسین چہرے کو دیکھا ۔ پھر بولی :

میں تمہارا ہاتھ پہلے ہی دیکھ چکی ہوں ۔عائلہ کا اشتیاق مزید بڑھا ۔ 

اچھا ؟ تو کیا ہے میرے ہاتھ میں ؟

خاتون نے مضبوط لہجے میں کہا :

کچھ نہیں ۔ تمہارے ہاتھ کی لکیریں کہتی ہیں تمہارا ہاتھ اور نصیب دونوں خالی ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی اس قدر بنجر ہاتھ نہیں دیکھا ۔ تمہارے نصیب میں اکیلا رہنا ہے ۔ کسی کا ساتھ نہیں ، کسی اپنے کی جھلک نہیں دکھتی تمہاری لکیروں میں ۔ تم بد قسمتی کا پتھر ہو۔ سونے کو بھی چھوگی تو مٹی کر دو گی ۔

عائلہ نے پتھرائی ہوئی نظروں سے خاتون کا سپاٹ ، جذبات سے عاری چہرہ دیکھا ۔ 

اس کے سانولے چہرے کے عام سے نقوش مندمل ہوتے محسوس ہوئے ۔ اُسے اس کے چہرے میں کئی چہرے گڈ مڈ ہوتے نظر آئے ۔ 

بابا کا چہرہتم دھوکے باز ہو کہتا دِکھا۔تو کبھی اماں کاکیتم باغی ہوکہتی نظر آئی ۔ عائلہ نے اپنا ہاتھ جھٹکے سے کھینچا۔ خوف اور وحشت کی ڈھیروں دراڑیں اس کے خوب صورت نقوش بگاڑ رہی تھیں ۔

پیچھے کی طرف تیز تیز قدم اٹھاتے ، اس کی خوف زدہ نظریں اب بھی اس کے چہرے پہ تھیں۔ 

تیزی سے دوپٹا سر پہ اوڑھتی عائلہ کو یہ بھی دھیان نہ رہا کہ ہتھیلی پہ سجی ادھوری مہندی نے اس کا لال دوپٹا داغ دار کر دیا تھا ۔

لڑکیوں کے جھرمٹ میں بیٹھی ڈھولک بجاتی ، ذاکرہ کی نظریں اپنی گودی پر تھیں ۔ اُنہیں یوں پریشان دیکھ وہ ڈھولک چھوڑ چھاڑ اُن کی طرف بھاگی۔

کیا ہوا گودی ؟ سب خیر ہے ؟ آپ ٹھیک ہیں ؟

ذاکرہ کے تفکر سے پوچھنے پہ عائلہ بری طرح چونکی ۔ پھر خوف زدہ لہجے میں ذاکرہ سے مخاطب ہوئی ۔

ذا …. ذاکرہ ! مجھے گھر لے چلو نا ۔ مجھ …. مجھے یہاں بہت ڈر لگ رہا ہے ۔

عائلہ کی کپکپاہٹ پہ ذاکرہ نے اس کی چادر اس کے گرد لپیٹی اور گل محمد سے گاڑی گیٹ پہ لانے کا کہہ کر ا سے سہارا دیتے ہوئے گاڑی تک لائی ۔ 

 سکینہ صاحبہ کو خبر ہونے تک وہ گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں ۔لوگ کیا کہیں گےسے زیادہ اُنہیں اپنی بیٹی کی فکر ہو رہی تھی جو گھر پہنچنے تک بری طرح سے بخار میں پھنک رہی تھی ۔

ذاکرہ !گودی کیسی ہے ؟ ا ٹھ گئی ہے؟

عائلہ کے کمرے سے نکلتی ذاکرہ کو دیکھ سکینہ صاحبہ نے ا س سے پوچھا۔

ابھی ا ٹھی ہیں وہ ! ساری رات بخار میں تپتی رہیں ۔ ٹھنڈے پانی کی پٹیاں بھی کرتی رہی مگر بے سود۔ ابھی طبیعت کچھ سنبھلی ہے ان کی تبھی میںاُن کا ناشتا لینے جا رہی تھی۔

ان کو تفصیلاً جواب دیتی ذاکرہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی ۔

سنو !میری چائے بھی اندر ہی لے آ۔

پر سوچ انداز میں ا سے ہدایات دیتیں سکینہ صاحبہ عائلہ کے کمرے کی جانب بڑھ گئیں ۔

کمرے میں وسیع دریچے کی بدولت صبح کی میٹھی میٹھی دھوپ اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے رقصاں تھے ۔ صحن میں لگے بے حساب گلابوں کی خوشبو ا ن کے رقص کے لیے خوبصورت سی دھن چھیڑے ہوئے تھے ۔

سکینہ صاحبہ نے ایک بھر پور سانس لیتے ہوئے عائلہ کے کمرے کی تازہ سی صبح کو اپنے اندر اتارا۔ ان کی متلاشی نظروں نے ٹیرس میں کرسی پہ دونوں پیر سمیٹے بیٹھی عائلہ کو دیکھ لیا تھا ۔ 

وہ خاموشی سے اس کے پاس کرسی پہ آکے بیٹھ گئیں ۔ عائلہ کی روئی روئی لال آنکھیں نیلے صاف آسمان پہ معلق تھیں ۔ جانے کتنی دیر یونہی خا موشی کا پہرہ رہا کہ آخر سکینہ صاحبہ نے چپ توڑی :

کل کیا ہوا تھا عائلہ ؟

عائلہ بنا چونکے ان کے سنجیدہ چہرے کی طرف دیکھنے لگی ۔ ا سے پتا تھا اس کی اماں تب ہی ا سےعائلہکہہ کے پکارتیں جب کچھ بہت پریشان کن ہوتا ۔

کچھ نہیں اماں بس دل گھبرا گیا تھا ا دھر ۔ پتا تو ہے آپ کو نہیں پسند مجھے عجیب سی رسمیں ۔ خود کو اعلیٰ و ارفع دکھانے کی کوششیں ۔

بیٹی کے تاثرات پڑھتی سکینہ صاحبہ کو عائلہ آج بھی کئی سال پہلے کی وہ ننھی سی عائلہ لگی ، جو ا س شام حویلی کے صحن میں چائے پیتی سکینہ صاحبہ کو متفکر چھوڑ گئی تھی ۔

آپ نے ایلس ان دا ونڈر لینڈ دیکھی ہے اماں ؟

آپ کو پتا ہے ، اماں مجھے اپنا آپ ایلس جیسا لگتا ہے ، اس حویلی ، اس ماحول میں یکسر اجنبی ۔ کوئی کیوں نہیں سمجھتا مجھے اماں ؟ آپ تو سمجھیں کم از کم ، میں عام سی لڑکی ہوں۔ مجھے عام سی زندگی گزارنی ہے ۔

اپنی چھوٹی سی ناک چڑھائے وہ ناراضی سے کہہ رہی تھی ۔ جب کہ اس کی سادہ سی اماں اچنبھے سے ا سے دیکھتی ہوئے بولیں

عا ئلے میرا بچہ!کون ڈال رہا ہے یہ خناس تمہارے ننھے سے ذہن میں اور یہ کیا کہا کس کی طرح ہو تم؟

ننھی سی عائلہ کے تو مزاج ہی نہیں مل رہے تھے ، تنک کے بولی:

ایلس اما ں ! وہ میری طرح ایک عام سی لڑکی تھی ، جو اس حویلی کی ہی طرح عجیب و غریب جگہ میں جا کے پھنس جاتی ہے ، گم ہو جاتی ہے ۔ شروع میں تو اسے بھی بہت مزہ آتا ہے ، پھر آہستہ آہستہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک قید خانہ ہی ہے اور قید جتنی حسین ہی کیوں نہ ہو ہوتی تو قید ہے۔



اماں نے فکر مندی سے ا سے دیکھتے ہوئے ،سمجھانے کی کوشش کی :

دیکھو میری گودی ! یہ قید نہیں ، تمہارا خوبصورت محل ہے اور تم یہاں کی گودی ہو ۔پتا نہیں کتنی لڑکیاں تمہاری زندگی کو دیکھ کے رشک کرتی ہوں گی، ایسے نا شکری نہیں کرتے بچے ، اللہ پاک ناراض ہو جاتا ہے اور وہ ناراض ہو ئے تو بہت برا ہوتا ہے ۔ اور تم ؟تم تو ہو بھی….“

اماں کی بات ادھوری رہ گئی اور عائلہ بولنے لگی :

تم تو ہو بھی سید زادی ۔ تمہیں تو دوسروں کے لیے مثال بننا چاہیے، تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ تم عام لڑکی نہیں ہو ، نا بن سکتی ہو ۔ ہمارے گھروں کی لڑکیاں ایسے ہی کرتی ہیں ۔

یہی نا اماں ؟

ا س نے دانت بھینچتے ہوئے پوچھا ۔ 

اماں !میں کیا کروں میں عام سی ہی لڑکی ہوں۔ میرا دل بھی کرتا ہے ،کھیلنے کو، زور زور سے ہنسنے کو ، سہیلیاں بنانے کو، جو دل کرے جیسے دل کرے کھانے کو، بابا کے ساتھ کوئٹہ گھومنے کو ، کسی ٹھیلے سے گول گپہ کھانے کو ، اپنی سہیلیوں کے گھر جانے کو ، ان کی طرح آزاد زندگی گزارنے کو، کیا کروں میں امی؟

اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے کہ وہ مزید بولی :

اماں !کیا سید زادیوں کے دل نہیں ہوتے ؟ اگر نہیں ہوتے تو میرا دل کیوں ہے ؟

اس کی اماں نے ننھی سی عائلہ کو دکھ سے دیکھا تھا ، جو بنا کچھ سنے، اپنی بات مکمل کرتے تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی ۔

اس کی پریشان سی اماں کے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ ا س دن بھی ٹھنڈا ہو گیا تھا اور آج بھی۔

ذاکرہ جانے کب کی گم صم بیٹھی سکینہ صاحبہ کے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑا کے جا چکی تھی۔

بے دلی سے ناشتا کرتی عائلہ کا پھیکا چہرہ ، انہیں مزید فکرمند کر گیا ۔ وہ کیسے ا س سے وہ بات کہیں جو وہ کہنے آئی تھیں ۔ کچھ دیر دبیز خاموشی اُنہیں گھیرے رہی کہ بالآخر وہ ہمت کر ہی بیٹھیں :

عائلے !آج معید کی شادی ہے نا۔



عائلہ نے نا سمجھی سے اُن کی بلا وجہ کی تمہید پر انہیں تکا ۔ 

وہ اور شانزے بہت خوش ہیں ما شا اللہ ۔ میں نہیں چاہتی کہ ان کی خوشی میں کوئی رتی برابر بھی کمی آئے یا خدانخواستہ ان کی شادی ر ک جائے۔

ماں کی بے تکی بات پہ عائلہ نے دہل کے کہا :

اللہ نہ کرے اماں کون چاہے گا ایسا ، کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ ؟ 

تم ایسا نہیں چاہتی عائلہ؟

سکینہ صاحبہ کا سنجیدہ لہجہ ، عائلہ کی دھڑکن تیز کر گیا ۔ دھڑکتے دل کے ساتھ وہ بولی

ظاہر ہے اماں نہیں چاہتی ۔

اماں کی پر سوچ نظریں ، اس کے حیران چہرے پہ ٹکی تھیں ۔

تو شاہ زین سے شادی کر لو ۔

لفظ تھے کہ پگھلا ہوا سیسہ ؟ ششدر بیٹھی عائلہ حیرانگی اور صدمے کے ملے جلے تاثرات لیے اماں کے سنجیدہ تاثرات جانچ رہی تھی ۔ 

بھائی کی خوشی اب تمہارے ہاتھ میں ہے بیٹا ۔ تمہاری چچی نے شرط رکھی ہے کہ پہلے شاہ زین اور عائلہ کی منگنی ہو گی ، پھر ہی شانزے اور معید کا نکاح ہو سکے گا ورنہ نہیں ۔ تم تو جانتی ہونا، ہمارے رسم و رواج کیسے ہیں ۔ اس طرح جائیداد خاندان میں ہی رہے گی اور ہمیں بھی ڈھارس رہے گی کہ ہماری گودی اپنوں میں ہی ہے ۔ آخری فیصلہ بہر حال تمہارا ہی ہے کیوں کہ تم جانتی ہو ہمارا قبیلہ سب کچھ بیٹیوں کی مرضی ہی سے کرتا ہے ۔

اماں چپ ہو ئیں تو پتھر کا مجسمہ بنی بیٹھی عائلہ نے تھوڑی جنبش کی اور اپنا چہرہ جھکا دیا ۔ 

بے شک قبیلہ اپنی بیٹیوں کی مرضی ہی سے فیصلے کرتا ہے، مگر ایسے کے ا ن کے لیے ہر در بند کر کے ، ہر ممکنہ امید کا دیا بجھا کے ، اپنی مرضی کے رستے پہ مشعل روشن کر کے، پوچھا جاتا ہے اب تمہاری مرضی کیا ہے اور سیدزادیاں جنہیں ہمیشہ بغاوت کی عبرت ناک انجام ہی دکھائے جاتے ہیں ، خاموشی سے قبیلے کے سجھائے رستے پر ہی چل پڑتی ہیں ۔

تو ہمہاںسمجھیں ؟

ماں کا یخ بستہ لہجہ ، اسے باور کرا گیا کہ اس کا جواب کیا ہونا چاہیے۔ اس کے لبوں نے خود ہی اس کے عمر قید کی سزا ، ا س مختصر سےجیمیں سنا دی ۔

کچھ ہی دیر قبل ، لال جوڑے میں ، شرماتی شانزے کو رخصت کرا کے لایا گیا تھا ۔ گو کہ طے یہی ہوا تھا کہ پہلے عائلہ کی منگنی ہو گی پھر ہی شانزے کا نکاح، لیکن یہ بھی قبیلے کی روایت تھی کہ جس گھر میں ان کی بیٹی کی بات طے ہو جاتی ہے وہاں شادی کے بعد ہی وہ قدم رکھ سکتی ہیں ۔ تبھی عائلہ بھائی کی شادی پہ بھی نہ جاسکی تھی۔ 

بلوچی پگڑی اور آف وائٹ بوسکی کی شلوار قمیص میں ، شانزے کے قدم سے قدم ملا کے چلتا معید سید کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔ برات پوری دھوم دھام سے دلہن لے کے لوٹی تھی ۔

پھولوں کی بارش سے ان کا استقبال کیا گیا۔

شانزے کا پہلا قدم عرق ِ گلاب سے بھرے برتن میں دھلا کے گھر کی دہلیز پہ رکھوایا گیا ۔ پھر رسموں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ۔ 

دور خاموش کھڑی عائلہ ، خالی خالی نظروں سے تمام رسومات دیکھ رہی تھی ۔ سیاہ شیفون کے جوڑے پہ خوب صورت سا نازک چاندی کاکام بنا ہوا تھا ۔ شہر کے معروف ڈیزاینر شوروم سے یہ جوڑا معید نے بے حد پیار سے اپنی شادی کے لیے عائلہ کو تحفتاًدیا تھا ۔

میک اپ سے مبرا چہرہ کئی اندیشوں میں گھرا ہوا تھا ۔ گزشتہ رات کی تکلیف ، اس کے چہرے پہ زردی کی صورت بکھری ہوئی تھی ۔

ایک چچی تھیں جو بار بار اس کے صدقے واری جا رہی تھیں اور علیزے، جو اس کے پاس سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔

عائلہ اتنی ناسمجھ نہ تھی کہ اس منگنی کے پیچھے چھپی شاہ زین کی بھوری آنکھوں میں امڈتے ستائش کا وہ منظر بھول جائے ۔ ا سے اندازہ تھا کہ چچی کی ضد دراصل شاہ زین کی ضد ہے ۔ ا س کا بس چلتا تو شاہ زین کے منہ پہ جا کے انکار کرتی ، پر سامنے اسٹیج پر بیٹھے معید اور شانزے کی نو بیاہتا جوڑی اور ان کی خوشیوں کا ہی خیال تھا جو عائلہ کو روکے ہوئے تھا ۔

عائلے آپی …. عائلے آپی !“



علیزے نے اس کا بازو جھنجھوڑ کے ا سے خیالات کی دنیا سے باہر نکالا ۔ 

ہمم !کیا ہوا ؟حواس بحال کرتی عائلہ نے جواب دیا۔

وہ آپ کو منگنی کی رسم کے لیے بلا رہے ہیں سب۔

علیزے نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا ۔ 

عائلہ پتھرائی ہوئی نظروں سے ا سے اور اس کے پیچھے کھڑی لڑکیوں کو تک رہی تھی ۔ 

گودی !“

اپنے پیچھے ذاکرہ کی آواز سنتی وہ پلٹی تھی ۔ 

ذاکرہ ا س سے نظریں ملائے بغیر، اس کا دوپٹا سر پہ اوڑھانے لگی۔ عائلہ کسی بت کے مانند کھڑی رہی ۔

 بلا وجہ ہنستی ، کھلکھلاتی لڑکیوں نے ا سے گھیرا اور اس کے ہاتھ پکڑ کے اسٹیج کی طرف لے جانے لگیں۔ عائلہ نے مڑ کے پیچھے کھڑی ذاکرہ کو دیکھا جو اپنے آنسو پونچھ رہی تھی ۔ 

انگوٹھی پہنانے کی رسم کا آغاز ہونا تھا ۔ سادہ سیاہ دوپٹا کس کے سر پہ اوڑھے ، فق چہرہ لیے سوگوار سی دلہن کو ، چچی نے منگنی کی انگوٹھی پہنائی ۔ بلائیں لیتی ا س پر سے پیسے وارتی چچی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی اسے رخصت کرا کے اپنے ساتھ لے چلیں ۔ 

اب کے علیزے اس کے پاس آئی تھی ۔ خوبصورت لال دوپٹا جس پہ بھاری بھرکم کشیدہ کاری نہایت نفاست سے کی گئی تھی،ا سے اوڑھائی تھی ۔ بت بنی عائلہ کے جذبات اور احساسات بھی شاید پتھر کے ہی ہو گئے تھے ۔ تبھی ا سے کچھ محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا ۔ 

مبارک ہو سلیمہ بہن ، اتنی پیاری سی دلہن آج سے آپ کے شاہ زین کی ہوئی ۔

یہ کس کی آواز تھی عائلہ نہیں جانتی تھی ، مگر الفاظ کتنے زہریلے تھے یہ ضرور پہچانتی تھی ۔ وہ ان الفاظ کا زہریلا ڈنک اپنے دل میں پیوست ہوتا محسوس کر سکتی تھی ۔

کیا لڑکیاں اتنی ارزاں ہوتی ہیں کہ کوئی بھی آکے ایک انگوٹھی ان کی انگلی میں پہنا کے اپنا بنا لے ؟ لڑکیوں سے تو اچھی قسمت ریوڑھیوں کی ہے ۔ان کا مالک ، گاہک کو اُن کی قیمت کم کرنے نہیں دیتا اور گاہک اُنہیں خریدنے کے بعد کسی رنگین شیشے میں ڈال کے سجا لیتا ہے ۔ اُنہیں پھپھوندی لگنے نہیں دیتا ۔ پھپھوندی تو ا ن لڑکیوں کو اکثر لگ جاتی ہے جنہیں ایک انگوٹھی کے عوض کسی کا بھی بنا دیا جاتا ہے۔

پھپھوندی ؟

ہاں !

یہ پھپھوندی ہی تو تھی جو اس کی ادھوری مہندی لگی انگلی سے لپٹ چکی تھی یا شاید کوئی کیڑا جو اس کی انگلی سے لپٹ کر ا س کا خون چوس رہا تھا۔ عائلہ کی طرف کسی نے مٹھائی بڑھائی تھی ۔ بہت کوشش کے باوجود وہ بالکل چھوٹا سا مٹھائی کا ٹکڑا ہی لے سکی، مگر وہ پورے وثوق سے یہ بات کہہ سکتی تھی کہ ا س نے اپنی پوری زندگی میں اِ س سے زیادہ کڑوا کچھ نہیں چکھا تھا ۔ ا سے ایسا لگا جیسا کوئی سلگتا ہوا انگارہ زبان پہ رکھ دیا ہو ۔ وہ ا سے تھوکنا چاہتی تھی ۔ 

وہ اپنے سر پہ سجے بھاری بھرکم بوجھ کو اتار کے دور پھینک دینا چاہتی تھی ۔

رگڑ رگڑ کے اپنی انگلی دھونا چاہتی تھی جس میں کسی اور کے نام کی ہتھکڑی لگ چکی تھی ۔ 

لیکن اِ س عالمِ وحشت میں بھی کچھ تھا جو ا سے روک رہا تھا یہ سب کرنے سے ۔ 

شاید اس کے حواس تھے جو اب بھی بجا تھے ا س نے بہ مشکل خود پہ قابو پایا تھا کہ اماں اس کے پاس آکے بیٹھیں۔

سکینہ بہن اب تو آپ میرے گھر کی رونق بھی اپنے گھر لے آئیں ہیں اب تو ہم سے انتظار نہیں ہوتا ۔ اب آپ بھی ہماری بیٹی جلد ہی ہمیں دے دیں ۔ میرا شاہ زین تو بچپن سے ، جب سے اِن کی بات طے ہوئی ہے تب سے صرف عائلہ ہی کے سپنے سجائے بیٹھا ہے ۔ اب تو ما شااللہ عائلہ کی پڑھائی بھی ختم ہو گئی ہے ۔ ہم اب کوئی بہانہ نہیں سنیں گے بس ۔

تیز تیز بولتی چچی جیسے ہی خا موش ہوئی تھیں ۔ عائلہ کی تو جیسے دنیا ہی خاموش ہو گئی تھی ۔ 

اتنا بڑا دھوکا ؟

او میرے خدایا ….

بچپن سے بات طے تھی؟

تو اماں نے مجھ سے جھوٹ ۔

کیوں میرا کیا قصور تھا؟

کیا ہوتا اگر مجھ سے یہ بات نہ چھپائی جاتی ؟



کم از کم شاید آج میری آنکھوں میں عبداللہ کے سپنے اور انگلی میں شاہ زین کے نام کی انگوٹھی نہ ہوتی ۔

کچی عمر کے رشتوں کے رنگ ویسے بھی بہت پکے ہوتے ہیں ۔ میں بھی شاہ زین کی طرح اس رشتے کے رنگ میں رنگ جاتی مگر….

مجھے دھوکے باز کہنے والے میرے بابا نے مجھے دھوکے میں رکھا اور اماں نے تو جھوٹ بول کے منگنی کرا دی ؟

اس کی اب تک کی ساری زندگی کسی فلم کی طرح اس کی نظروں کے سامنے گھوم گئی ۔ آج تک بِتایا اپنا ایک ایک دن ا سے جھوٹ لگا ، ڈھونگ لگا ۔ 

ایک زندگی سے اکتائے ہوئے انسان کے ساتھ جب دھوکا ہو تو سب ڈھونگ سب جھوٹ ہی لگتا ہے ۔

عائلہ کی بھی حالت غیر ہونے لگی تھی ۔وحشت پہ قابو پانا مشکل تھا ۔ بالآخرحواس نے ہار مانی اور وحشت کی جیت ہوئی ۔ 

 ایک جھٹکے سے عائلہ نے اپنے سر پہ سجا لال دوپٹا دور پھینکا۔ نوچ کے انگوٹھی اتاری اور مٹھائی کا ٹکڑا تھوکتے ہوئے ، ہتھیلی کی پشت سے اپنا منہ صاف کیا ۔ 

وہ وہیں کھڑے ہو کے زور زور سے ہنسنے لگی ۔ لال آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور ہونٹوں کو قہقہوں سے فرصت نہ تھی ۔

جو جہاں تھا وہیں انگشت بدنداں رہ گیا اور قہقہے لگاتی عائلہ ، اب ایک اجنبی قدرے موٹی آواز میں قہقہوں سمیت کہہ رہی تھی ۔ 

تماشا تمام شد ، تماشا تمام شد۔

صوفے پہ بیٹھی سکینہ صاحبہ اس کے اچانک جھٹکے سے تھوڑا سنبھلیں ، تو اس کی طرف لپکیں ۔ ا ن کی دیکھا دیکھی ذاکرہ بھی آ گئی ۔

عائلہ…. گودی ….“

ہر نام ، ہر چہرہ ا س وقت عائلہ کے لیے بیگانہ تھا۔ وہ کسی صورت قابو میں نہیں آرہی تھی ۔

تماشا تمام شد۔کا نعرہ بلند کیے، وحشت اس کے سر چڑھ کے ناچ رہی تھی۔ چار زانو بیٹھےحواس۔اپنی ہار پہ ٹسوے بہا رہے تھے کہ بے حواسی آگے بڑھی اور عائلہ کوگلے لگا لیا۔ 

تماشا تمام ہوا کے نہیں ، عائلہ کی بے ہوشی نے اس کی وحشت ضرور تمام کر دی تھی ۔ 

اسے ذاکرہ کے سہارے کمرے کی طرف لے جاتے سکینہ صاحبہ ،کی سماعت سے ارد گرد ہونے والی چہ میگوئیاں مخفی نہ رہ سکیں ۔

ائے ہئے لڑکی پہ جن عاشق ہے۔

ارے ہاں ! یہ تو آسیب زدہ دِکھتی تھی پہلے دن سے۔

مہندی کی رات بھی دیکھا تھا کیسے سب چھوڑ چھا ڑ کے چلی گئی تھی۔

نہیں ! دیکھ لینا یہ ذ ہنی مریضہ ہے۔

ارے کوئی اِ سے شاہ آغا کا پتا دو ۔

کون ؟ وہعبداللہ شاہ غازیکے مزار کے متولی شاہ آغا؟ بڑے پہنچے ہوئے بزرگ ہیں۔ بڑا علم ہے ان کے پاس ۔ کوئی بتائے اُنہیں ۔

وہ عائلہ کے کمرے تک پہنچتے پہنچتے۔شاہ آغاسے ملنے کا فیصلہ کر چکی تھیں ۔

٭….٭….٭

عبداللہ ایک معمول کی طرح ہجوم کو چیرتا سیڑھیاں چڑھتا ، عبداللہ شاہ غازی کے مزار تک آیا تھا۔ یہ قدیم مزار شہر کی سطح سے کافی اونچائی پہ بنا ہوا تھا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ مزار میں کئی تبدیلیاں آئیں لیکن اس کی مشہور سو سیڑھیاں آج بھی اس کی پہچان تھے ۔

دن رات جاگتے رہنے والے شہرِ کراچی کے باسیوں کا مزار پہ تقریباً چوبیس گھنٹے ہی تانتا بندھا رہتا ۔ عبداللہ گزشتہ دو سال سے دوپہر کو یہاں آتا اور رات گئے گھر جاتا ۔ شاہ آغا کی سنگت نے اس کی شخصیت پہ کئی مثبت اثرات مرتب کیے تھے ۔ 

قطع دار ڈاڑھی ، سادہ سی قمیص شلوار اور کندھوں پہ ڈلا عمامہ ، عبداللہ کی شخصیت کو مزید نکھار بخش چکے تھے ۔ اِ سی مزار کے قریب واقع پوش علاقے کی مسجد میں وہ مغرب کی نماز کی امامت بھی کرانے لگا تھا۔ چہرے پہ پھیلی وحشت کی جگہ اب سکون کا ڈیرا نظر آتا تھا ۔البتہ آنکھوں میں پھیلی ویرانی اب بھی اپنی جگہ قائم تھی ۔ 

ان دو سالوں میں شاہ آغا نے اپنے علم کے وسیع سمندر سے چند قطرے ہی سہی عبداللہ کو بھی سونپہ تھے ۔ عبداللہ کو ان کے روحانی علم کا اندازہ تو تب ہی ہو گیا تھا جب وہ عبداللہ کے قلبی سکون کے لیے اسے پانی دم کر کے دیتے تھے ۔ وہ پانی پیتے ہی عبداللہ کو اپنے اندرسکون کے ٹھنڈے میٹھے چشمے بہتے محسوس ہوتے ۔ 



لیکن ا سے یہ خبر نہ تھی کہ شاہ آغا کے علم کا اتنا چرچہ ہو گا ۔ وہ تو جب مزار پہ باقاعدگی سے آنے لگا تب ا سے علم ہوا ۔

ان دو سالوں میں ا س نے شاہ آغا کو بہت سے لوگوں کے مشکلات کا حل قرآنی آیات اور سورتوں کے ذریعے نکالتے دیکھا تھا ۔ شاہ آغاکوئی پیشہ ور عالم یا عامل نہ تھے ۔ وہ تو ا س مزار کے متوالی اور خدا کے نیک بندے تھے جو اپنے علم کے مطابق لوگوں کو قرآنی آیات بتاتے جنہیں پڑھنے سے،اللہ پاک اپنا فضل فرماتے اور ا ن کی مشکلات آسان ہو جاتیں۔ 

اِ س مزار پہ اکثر آسیب زدہ لوگوں کو بھی لایا جاتا کہ شاہ آغا کو جن نکالنے میں خاص مہارت حاصل تھی ۔ عبداللہ کو شروعات میں تو شاہ آغا اس جگہ بیٹھنے تک کی اجازت نہ دیتے تھے جہاں وہ جن نکالتے تھے ، لیکن رفتہ رفتہ عبداللہ کا نڈر پن اور اُ س کا بڑھتا رجحان دیکھتے ہوئے انہوں نے ا سے بیٹھنے کی اجازت دے دی ۔ 

اب عبداللہ نہ صرف ان کے ساتھ بیٹھنے لگا تھا بلکہ اکثر ان کی مدد بھی کر دیا کرتا ۔ آج بھی اپنی ہی دھن میں گم سیڑھیاں چڑھتا عبداللہ شاہ آغا تک آیا تھا۔

لوگوں کے جھرمٹ میں گھرے شاہ آغا کی نظر عبداللہ پہ پڑی تو وہیں سے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا جواباً مُسکراتے ہوئے عبداللہ نے بھی ہاتھ اٹھا دیا۔

آج جمعرات کا دن اور عقیدت مندوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ آج بھی سیڑھیوں کے پاس نیچے کونے میں بیٹھا ملنگجمعرات بھری مرادکی سدائیں بلند کر رہا تھا ۔ مزار کے اندرونی جانب داخل ہونے کے دو دروازے تھے ۔ ایک خواتین کے لیے مختص تھا جب کہ دوسرا مردوں کے لیے ۔ دونوں دروازوں سے لوگ اندر جاتے ، فاتحہ پڑھتے ، دعا مانگتے اور نکل آتے ۔

وہیں کھڑے شاہ آغا، ہاتھ میں مور کے پنکھ اٹھائے اُ ن کے سر جھاڑتے ، بالکل ایسے جیسے ا ن پہ لگی گناہوں کی گرد جھاڑ کے ا ن کا اصل مسلمان دیکھنا چاہتے ہوں ۔ 

اکثر کسی کو زار وقطار روتے، استغفار کرتے یا دعا مانگتے دیکھ کر چپکے سے ان کے خالی ہاتھوں میں گلاب کا کوئی پھول تھما دیتے ۔

اور اس بابت دریافت کرنے پہ شاہ آغامُسکرا کے کہتے

یہ لوگ ان مزاروں پہ ان قبروں سے مانگنے نہیں آتے عبداللہ۔ وہ رب سوہنے سے مانگنے آتے ہیں بس ان مزاروں پہ آ کے اِس لیے مانگتے ہیں کہ انہیں یقین ہوتا ہے یہاںان کا رب انہیں مایوس نہیں کرے گا ۔ تمہیں پتا ہی بچے دعا کیا ہے ؟ دعا نام ہی کامل یقین کا ہے ۔ جیسے ہی اللہ کے بندے کا یقین پختہ ہوا ویسے ہی مالکِ دوجہاں نے کہہ دینا ہےکن فیکون۔“ ”ہو جااور پھر وہ ہو کے رہتا ہے، لیکن اکثر لوگوں کی دعائیں یہاں آ کے بھی شرفِ قبولیت نہیں پاتیں ، جس کی وجہ اُن کا متزلزل یقین ہوتا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ ایسے لوگ یہاں سے مایوسی لے کے نکلیں ۔ تبھی میں اکثر ان کے ہاتھوں میں پھول رکھ دیتا ہوں ۔ ایسے ایک ننھی سی ا مید ان کے دلوں میں جاگ جاتی ہے کہ شاید یہ ان کے رب کا اشارہ ہے کہ ان کی مراد ضرور پوری ہوگی اور وہ خالی ہاتھ نہ جائیں گے ۔ بچے مایوسی کفر ہے، اس نفرت بھرے زمانے میں کسی کو کفر سے بچا کے ننھی سی امید کی کونپل پکڑا دینا گناہ کہاں ہے ۔ بس یہ سب رب سوہنے کی مرضی ہے ، دیکھ اور سر دھن۔

عبداللہ انہی کی باتیں یاد کرتا ہوا انہیں ایک زار وقطار روتے بزرگ کے خالی ہاتھوں میں ننھا سا پھول رکھتا دیکھ رہا تھا ۔ کیا سچ میں سچا یقین ہی دعا کی قبولیت کا اصل راز ہے ؟ اگر ہاں تو آج میں کیوں نہ ہر اندیشہ ہر وسواس بھلا کے اس کی ایک جھلک مانگ کے دیکھوں؟

آنکھیں بند کیے کھڑے عبداللہ نے اپنے ہاتھ دعا کے لیے بلند کیے تھے۔

اللہ تو بڑا رحیم اور کریم ہے پاک ہے ، عالی شان ہے ۔ میں تو تیرے سامنے کھڑے ہونے کے قابل بھی نہیں کجا کچھ مانگوں ۔ پر یا رب تیرے ہی نیک بندے نے مجھے امید دلائی ہے کہ یقین سے مانگوں تو تو رد نہیں کرتا ۔ یا رب میں بہت ہی نیچ انسان ہوں، تجھ سے مایوس بھی ہو گیا تھا ۔ یقین سے مانگا بھی نہ تھا، مگر آج جب مانگ رہا ہوں تو شرمندہ ہوں ۔ یا رب ِ کریم مجھے اس کی ایک جھلک دکھا دے بس۔ مجھے نہیں پتا کے کیسے مجھے صرف ایک بار اس کی جھلک دکھا دے یا اللہ ۔ مجھے علم ہے کہ میری دعا بھی میری طرح نیچ ہے ، میں مانگ رہا ہوں تو کیا ، ایک سید زادی کی جھلک ۔ پر میرا یقین اٹل ہے آج میری دعا رد نہ ہو گی۔

دعا مکمل کرتے ہوئے ا س نے اپنے ہاتھ آنسوں سے تر چہرے پہ پھیرے تو ا سے محسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ میں بھی گلاب کی ایک ننھی سی کلی مہک رہی تھی ۔ وہ مُسکرایا پہلی دفعہ ا س نے محسوس کیا کہ ا ن لوگوں کو کیسا لگتا ہو گا جن کے ہاتھوں میں شاہ آغا ہمیشہ ایسی کلیاں رکھ دیتے تھے۔ کلی ہاتھ میں لیے مُسکراتا ہوا وہ شاہ آغا کو متلاشی نظروں سے ڈھونڈنے لگا ۔ ا سے تھوڑے سے فاصلے پہ شاہ باآغا کسی کے ہاتھوں میں چپکے سے پھول رکھتے نظر آئے ۔ وہ بھرپور مُسکراہٹ کے ساتھ ا ن کی طرف بڑھا۔

بابا احتیاط سے دعا کے لیے پھیلائے،کسی خاتون کے ہاتھوں میں پھول رکھ رہے تھے ۔ کالی چادر میں آدھا چہرہ ڈھکے ، کسی جذب کی کیفیت میں دعا مانگتی خاتون کو خبر نہ ہوئی اور شاہ آغا پھول رکھ کے عبداللہ کی طرف متوجہ ہوئے ۔ 



اب بولو بچے کیسا لگتا ہے ؟

اُف بابا کیا بتاں کیسا لگتا ہے ۔ آج مجھے ایسے لگا جیسے سچ مچ میرے ہاتھ جس دعا کے لیے بلند تھے ، وہ اللہ پاک نے سن لی اور میرے خالی ہاتھ بھر دیے۔

عبداللہ بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے شاہ آغا کے سامنے اپنی کیفیت بیان کر رہا تھا ، کہ اس کی نظر ا ن کے عقب میں کھڑی ا سی خاتون پہ گئی ۔ دعا کے لیے ا ٹھائے ان کے ہاتھ بے دم سے گر چکے تھے ۔ ا ن میں رکھا شاہ بابا کا پھول ، چادر والی لڑکی کے پیروں کے پاس پڑا تھا ۔ عبداللہ کی نظر بے ساختہ اس کے پیروں پہ گئی ۔ 

وہی سنگِ مرمر سے تراشیدہ پیر جو ایک دفعہ اس کے دل کی دہلیز پہ پڑے تھے اور ایسے ثبت ہوئے تھے کہ پھر کبھی اس کے دل کی زمین پہ کسی کے قدموں کے نشان نہ پڑے۔

وہ حیران اس کے پیروں پر سے نظر ا ٹھاتا، اس کے چہرے کو تکنے لگا ۔ کالی چادر سے آدھا چہرہ ڈھکے، حیران جھانکتی شہد رنگ آنکھیں بے شک عائلہ سید کی تھیں ۔

عبداللہ کا وجود زلزلوں کے زیرِ اثر تھا۔ اس کا ذہن کسی کند ذہن بچے کی سلیٹ کی طرح خالی تھا۔ 

عبد اللہ اور ا س چادر والی لڑکی کو یوں پتھر کا مجسمہ بنے دیکھ شاہ آغا کو بات کچھ کچھ سمجھ آ نے لگی تھی۔ 

عبداللہ کچھ سنبھلا اور کچھ سوچنے سمجھنے کی کیفیت میں آیا، تو اپنے رب کے آگے سجدہ ِ شکر بجا لانے کے لیے خالی جگہ ڈھونڈنے لگا ۔ 

پتھر کا بت بنی کھڑی عائلہ بھی اب متحرک ہو گئی تھی ۔ عبد اللہ اِدھر اُدھر متلاشی نگاہوں سے دیکھ رہاتھا اور عائلہ ا سے ۔ وہ خوف سے پلکیں بھی نہیں جھپک رہی تھی کہ کہیں عبداللہ پھر سے اس کی نظروں کے سامنے سے دور نہ ہوجائے ۔ 

عبداللہ پھر سے اس کی طرف متوجہ ہوا ۔ اب کے اس کے چہرے پہ سکون کے آثار تھے۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے اس کی آنسو بہاتی شہد رنگ آنکھوں کو دیکھتا رہا ، پھر دھیرے سے جھکا اور اس کے قدموں کے پاس سے وہ ننھی گلاب کی لال کلی ا ٹھائی اور دھیرے سے اس کی طرف بڑھا دی جسے عائلہ نے خاموشی سے تھام لیا ۔

مزار کے اِ س اندرونی حصے میں ہر وقت ہجوم رہنے کی وجہ سے دھکم پیل مچی رہتی تھی ۔ عائلہ اور عبداللہ کو بھی کئی دھکے لگے تھے، مگر ا ن دونوں کے لیے تو وقت جیسے ر ک سا گیا تھا۔ عائلہ کو پیچھے ہجوم میں پھنسی ذاکرہ اور سکینہ بیگم کا بھی خیال نہ رہا تھا ۔ا س کا بس چلتا تو سانس بھی نہ لیتی ، بس صرف عبد اللہ کو دیکھتی اور وقت تھما رہتا ۔ 

اچانک عائلہ کو کسی نے پیچھے سے زور کا دھکا مارا تھا ۔ وہ بے ساختہ پیچھے مڑی، پر اپنے پیچھے کھڑے لوگوں کو خود سے بے نیاز پاکے واپس عبداللہ کی طرف مڑی، مگر وہاں عبد اللہ نہ تھا ۔ وہ دیوانہ وار ارد گرد عبداللہ کی تلاش میں ہجوم کو ٹٹول رہی تھی ۔ نقاب کب کا گر چکا تھا ۔ چادر سر سے سرک کے کندھوں پہ جھول رہی تھی ۔ پسینے میں شرابور عائلہ سید کے چہرے پہ بھورے بالوں کی کئی لٹیں چپکی ہوئی تھیں اور وہ ہر اساں سی صرف عبداللہ کو ڈھونڈ رہی تھی ۔ 

اپنے عبداللہ کو ….

عبداللہ ،جس کی ایک جھلک کی بھیک ا س نے آج بھی مانگی تھی۔ 

عبداللہ جس کی آواز آج ا س نے دعامانگتے وقت سنی اور اپنی دعا ادھوری چھوڑ ا سے دیکھنے لگی ۔ 

اس نے مزار کا سارا اندرونی حصہ چھان مارا تھا، مگر عبداللہ کو نہ ملنا تھا نہ ملا ۔ وہ تھک ہار کے بری طرح سے ہانپ رہی تھی ۔ ا سے اپنی حالت کا ہوش ہی نہ رہا تھا ۔ جب محبوب ہی کھو جائے تو اپنی خبر رہتی بھی کسے ہے۔ 

تھکاوٹ اور پیاس سے اس کی حالت غیر ہو رہی تھی کہ پیچھے سے اماں نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے ا سے مخاطب کیا ۔ 

عائلے کہاں چلی گئی تھی گودی ہم کب سے تمہیں ڈھونڈ رہے تھے ۔ پھر تمہیں یوں پریشان، خود کو ڈھونڈتے دیکھا تو آگئے ۔ ہمیں معاف کر دو بچے ہم تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے ۔

جواب میں عائلہ بنا کچھ کہے ان کے کندھے سے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رو دی جسے وہ عائلہ کے گم ہونے کا خوف سمجھ کے درگزر کر گئیں ۔ جب کہ عائلہ اِ س لیے رو رہی تھی کہ کہیں یہ اس کی وحشت ہی تو نہیں جو عبداللہ کا بہروپ دھارے یوں اس کے سامنے آکھڑی ہو گئی تھی۔

اماں ا سے خود سے لگائے سیڑھیاں ا ترنے لگیں۔ ذاکرہ بھی ان کے پیچھے سیڑھیاں ا ترنے لگی کہ اچانک عائلہ کے ذہن میں جھماکا سا ہوا ۔ ا س نے اپنے ہاتھ میں پکڑی وہ ننھی سی کلی آگے کی ۔ اگر عبداللہ اُس کا وہم تھا تو ، یہ پھول کیسے ؟

یہی پھول تو ا س نے عائلہ کے ہاتھوں میں تھمایا تھا ۔

اگر یہ اصلی ہے تو عبداللہ بھی اصلی تھا یقینا۔ وہ روتے روتے بے ساختہ مُسکرا دی ۔ 

وہ روتے روتے ہنسنے لگی اور دھوپ میں بارش ہونے لگی ۔



گھر آ کے عائلہ سیدھا اپنے کمرے میں گئی۔ پلنگ کے سرہانے رکھیہاشم ندیم خان کی عبداللہکھولی اور جہاں نظم تہ کر کے رکھی تھی، ا سی جگہ وہ ننھی سی کلی رکھ کے کتاب بند کر دی ۔

وہ جب سے مزار سے واپس آئی تھی کافی تروتازہ اور ہشاش بشاش نظر آ رہی تھی ۔ سب اس مثبت تبدیلی سے بے حد خوش تھے ۔ اماں جو شاہ بابا سے ملے بنا ہی واپس آ گئی تھیں ، اب ا ن سے ملنا اور لازم سمجھنے لگی تھیں ۔ا ن کا خیال تھا بنا ملے اتنا فرق آیا تھا، تو مل کے علاج کرا کے تو عائلہ بالکل ٹھیک ہو جائے گی ۔ 

اب وہ خود ہی عائلہ کو مزار پہ لے جایا کرتیں ۔ عائلہ ہجوم کا بہانہ کر کے اکثر آگے یا پیچھے رہ جاتی اور اپنے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھتے، اترتے عبداللہ سے باتیں کر لیتی۔

جب عشق کا جادو سر چڑھ کے بولنے لگتا ہے تو رنگ تو چڑھتا ہے ۔ عائلہ پہ بھی آہستہ آہستہ چڑھا نا رسائی کا کالا رنگ ا ترنے لگا اور اس کی جگہ محبت کا گلابی رنگ دمکنے لگا تھا ۔ ہجر جب زیست میں بدلتی ہے تو آپ ہی اعلان کرتی ہے بس یہ سننے والے کی سماعت پہ منحصر ہوتا ہے کہ وہ سنے یا نہیں ۔ 

عائلہ سے بے پناہ محبت کرنے والی اس کی سادہ سی ماں اِ س سب کومزار کی کرامات سمجھ رہی تھیں۔ لالا اور شانزے بھی اس تبدیلی سے بے حد خوش تھے۔ ذاکرہ کو اِ س دفعہ بھی سب خبر تھی، مگر اس مرتبہ بھی وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے، اندھی بنی ہوئی تھی۔

ایک میر ابراہیم سید تھے جنہیں عائلہ میں آتی اتنی بڑی تبدیلیاں ، خوش کرنے کے بجائے متفکر کیے ہوئے تھیں ۔ شک تھا کہ ان کا جینا محال کیے ہوئے تھا۔ وہ لاکھ کوشش کرتے، مگران کا دماغ نہ مانتا کہ صرف مزار پہ آنے جانے سے عائلہ اتنی جلدی زندگی کی طرف لوٹ رہی تھی ۔ اب تو وہ شاہ زین کے ذکر پہ بھی برا نہ مناتی۔ منگنی کی انگوٹھی بھی خود ہی پہن لی تھی اور اب اس کے مغرب میں وہ خضوع وخشوع بھی نہ تھا۔ اکثر شانزے کے ساتھ ہنستی کھلکھلاتی نظر آتی اور یہ سب باتیں میر صاحب کو باور کرا رہی تھیں کہ کچھ تو گڑ بڑ ہے ۔ تبھی ا نھوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ اب خودہی خبر لیں گے آخر یہ ماجرا کیا ہے ۔ 

آج پھر جمعرات کا دن تھا ۔ اِ ن لوگوں نے آج پھر مزار کا رخ کیا تھا ۔

سکینہ صاحبہ اور ذاکرہ کے پیچھے پیچھے چلتی عائلہ نے قد م سست کیے تھے۔ لوگ ا س سے آگے بڑھتے گئے ، اس کے اور سکینہ صاحبہ کے درمیان ہجوم اور فاصلہ بڑھتا گیا ۔ یہ عام سی بات تھی ۔ انہیں لگا ہجوم کی وجہ سے ایسا ہے ۔ ہمیشہ کی طرح عائلہ اوپر آجائے گی ۔

سست روی سے سیڑھیاں چڑھتے عبداللہ نے جب دیکھا عائلہ پیچھے رہ گئی ہے، تو تیز تیز زینے سر کرتا اُس کے پیچھے پہنچا تھا۔

کیسی ہیں آپ ؟

عبداللہ کی دھیمی آواز عائلہ کے کانوں میں رس گھول گئی ۔ وہ مُسکرائی۔

ٹھیک ہوں اور آپ ؟

عبداللہ بھی مُسکرایا:

بالکل ٹھیک۔

کچھ لمحے ا ن کے بیچ خاموشی سے گزر گئے ۔ وہ عائلہ کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھتا رہا کہ اس کی نظر ریلنگ پہ رکھے عائلہ کے ہاتھ پہ گئی ۔ جہاں اس کی منگنی کی انگوٹھی جگمگا رہی تھی ۔ عبداللہ کے قدم وہیں تھم گئے ۔

 دو تین زینے ،اکیلے ہی سر کرتی عائلہ کو اس کے قدموں کی چاپ نہ سنائی دی تو، وہ مڑی ۔ خود سے فاصلے پہ کھڑے عبداللہ کے فق چہرے کو دیکھ وہ اس کے قریب آئی اورحیرت سے پوچھا

کیا ہوا ؟



عبداللہ کی آنکھوں میں بے یقینی کی چھب صاف دیکھی جا سکتی تھی۔

کیا آپ کی منگنی ہوگئی ہے ؟

اس کے اِ س طرح سے پوچھنے پہ عائلہ جس نے ہلکے گلابی رنگ کی چادر سے اپنے آدھے چہرے کو ڈھکا ہوا تھا ۔ چادر کا کونہ چھوڑ دیا ۔ اِ س پورے عرصے میں آج عبداللہ اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔ وہ مبہوت سا ا سے دیکھے جا رہا تھا ۔ اسی اثنا میں عائلہ سید نے اپنی انگلی سے شاہ زین کے نام کی انگوٹھی ، جس کے ارد گرد دو مزید انگوٹھیاں بھی تھیں ، اتار لیں ۔ 

 یہ ایک اچھے خاصے بڑے اور قیمتی ہیرے سے آراستہ ، نہایت ہی دلکش انگوٹھی تھی جس کے اطراف میں دو مزید پتلی پتلی، ہیروں سے آراستہ انگوٹھیاں تھیں ۔ جنہیںگارڈ رنگزیعنی پہرے دار انگوٹھیاں کہا جاتا تھا ۔

عائلہ کی ہتھیلی پہ تینوں انگوٹھیاں اور چہرے پہ عبداللہ کی نظریں جگمگا رہی تھیں۔ آج مدت بعد عائلہ کے چہرے پہ شرارت کا رقص صاف دیکھا جا سکتا تھا ۔ 

ا س نے مٹھی بند کی اور اپنی پوری طاقت سے انگوٹھیاں اونچائی سے نیچے کی طرف پھینک دی ۔

عبداللہ اس اچانک حرکت کے لیے ہرگز تیار نہ تھا ۔ حیرت سے پوچھنے لگا

یہ کیا کیا آپ نے ؟

عائلہ شرارت سے بولی :

کون سی منگنی ؟ کون سی انگوٹھی ؟اور کیا کیا میں نے ؟

اس کی اِ س معصومانہ شرارت پہ وہ بے ساختہ کھلکھلا ا ٹھا ۔ عائلہ بھی مُسکراتے ہوئے، مبہوت سی ا س کے گالوں پہ بنتے گڑھے دیکھ رہی تھی ۔ 

یہ کتنا مکمل منظر تھا ۔ کاش وقت یہیں پہ تھم جاتا اور سالوں بعد اِن کے چمکتے چہرے یونہی چمکتے رہتے ، مگر وقت ہماری مرضی کے مطابق نہ ر کتا ہے نہ تھمتا ہے ۔ وقت تو اپنی مرضی کا مالک ہے ۔

عائلہ کو خیال آیا کہ کافی دیر ہو گئی یہاں تبھی وہ اوپر جانے کو پلٹی ، پلٹنے کے دوران غیر ارادی طور پہ اس کی نظریں ، پاس ہی واقعہ ا ترنے والی سیڑھیوں پہ گئیں۔

اس کا سارہ وجود کانپ سا گیا۔ تیزی سے اپنی چادر کا نقاب لیتے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسی طرف دیکھ رہی تھی ۔ عبد اللہ اس کے تاثرات نہیں دیکھ سکتا تھا، لیکن یوں بت بنی کھڑی عائلہ سے تقریباً تین دفعہ پوچھ چکا تھا ۔ 

کیا ہوا ؟

اب کے اس نے محسوس کیا عائلہ کا پورا وجود کپکپا رہا تھا ۔ وہ حیران سا اس کی پشت کو دیکھے جا رہا تھا کہ اگلے ہی پل وہ چکرا کے بے ہوش ہو گئی ۔ عبداللہ اس کے پیچھے نہ ہوتا تو ا سے چوٹ بھی لگ سکتی تھی۔ عبداللہ نے ا سے سنبھا لتے ہوئے ، خود سے لگائے اوپر کی طرف قدم بڑھانا چاہے تا کہ اس کے چہرے پہ پانی کے چھینٹے ڈال سکے کہ ا سے خود پہ کسی کی نظروں کا ارتکاز محسوس ہوا ۔ ا س نے ارد گرد نظر دوڑائی تو اسے، میر ابراہیم سید کی دوشعلہ بار نظریں ، ہجوم میں گم ہوتی نظر آئیں۔

کیا کسی غیرت مند باپ کے لیے اِس سے بڑی قیامت کوئی ہوگی کہ جس بیٹی پہ ا نہوں نے ایک دفعہ اعتبار کیا ، دوسری دفعہ پھر ا س نے دھوکا دیا۔

کیسے ایک غیر مرد کے لیے باپ بھائی کی سالوں کی کمائی عزت، ان کی بیٹیاں یوں تار تار کردیتی ہیں ۔ کاش میں اولاد کی محبت میں یوں اندھا ہو کے عائلہ کومعاف نہ کرتا ۔ کاش جیسے میں نے آبگینے کو دوسرا موقع نہیں دیا تھا ویسے ہی اپنی بیٹی کو بھی موقع نہ دیتا ۔ 

مزار کی پارکنگ میں کھڑی اپنی مرسیڈیز میں بیٹھے میر صاحب کا خون کھول رہا تھا ۔ا ن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ عائلہ اور عبداللہ کو وہیں گولی مار دیں ۔ 

ان کی نظروں کے سامنے اب بھی تھوڑی دیر پہلے کے منظر گھوم رہے تھے ۔ ان کی وہ بیٹی جس کی طرف ایک دفعہ ایک گارڈ کے آنکھ اٹھا کے دیکھنے پر ا نہوں نے ا س گارڈ کی کھال اُتروا دی تھی ۔ وہی بیٹی آج بھرے مزار کے بیچ بے پردہ کھڑی ا س غیر مرد کے ساتھ ہنس رہی تھی، مُسکرا رہی تھی ۔

اُنہیں جانے کیا سوجھی ۔ اپنی گاڑی کا ڈیش بورڈ کھول کے اپنی پستول چیک کی ۔ان کا دل، جوش مارتا خون ، کنپٹیوں میں پھڑکتی رگ ابھی اور اسی وقت عائلہ ابراہیم سید کو محبت کی سزا دینے پہ مجبور کر رہے تھے ۔ 

مگر دماغ ، ان کی جدی پشتی عزت اور قبیلے کی نیک نامی کی دھائیاں دے رہا تھا۔

میر صاحب کو بھی دماغ کی بات میں دم لگا ۔ ا نہوں نے ڈیش بورڈ بند کرتے ہوئے ہارن بجایا۔ کئی چاک چوبند گارڈز ان کی گاڑی کے گرد کھڑے ہو گئے ۔ غصے میں غضب ناک ہوتے میر صاحب انہیں براہوی میں کچھ ہدایات دینے لگے۔

دھیرے دھیرے آنکھیں کھولتی عائلہ کو اپنی نسوں میں اگربتی اور گلاب کے پھولوں کی تیز خوشبو چبھتی محسوس ہوئی۔ ا س نے تیزی سے آنکھیں کھولیں ۔ اس کے گرد اماں ، ذاکرہ اور شاہ آغا سب تھے، مگر نہ تھا تو وہ جسے اس کی آنکھیں ڈھونڈ رہی تھیں ۔

اماں وہ…. وہ …. بابا …. ام م م ماں …. عبد اللہ کہاں ؟

ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنی اماں سے سوال کرتی ، عائلہ کی وحشت زدہ نگاہیں ، اردگرد کچھ تلاش کر رہی تھیں ۔ ا س کا پورا وجود اب بھی کپکپا رہا تھا ۔ پسینے میں شرابور وہ ہذیانی انداز میں چیخنے لگی :

عبداللہ عبداللہ !کہاں ہو ؟عبداللہ….عبداللہ ….“

وہ ، اس وقت مزار کی اترتی ہوئی سیڑھیوں کی بائیں جانب ، اونچائی پر قائم ہجرے کے اندر تھے ۔ دروازے سے مبرا ، بڑے بڑے دریچوں والا یہ ہجرا زیادہ تر شاہ بابا کے ہی زیر استعمال تھا ۔ 

عائلہ کے یوں چیخنے پہ سکینہ صاحبہ نے دھیمی آواز میں بابا کو اس کی اِس حالت کا بتایا ۔ 



اسی طرح کی حالت ہو جاتی ہے بابا اس کی ۔ جب بھی جن چڑھتا ہے ۔ جب اس کی منگنی تھی تب تو جن نے بات بھی کی تھی ۔ اِس کے منہ سے مردانہ آواز میںتماشا ختم شدکا جملہ نکل رہا تھا اس نے انگوٹھی وغیرہ سب اتار کے پھینک دیے تھے ۔ اب بھی جن ہی آیا ہے شاید تبھی اِس طرح کی باتیں کر رہی ہے ۔

ان کی دھیمی آواز بہ غور سنتی عائلہ کی لال آنکھوں میں آنسو تھے ۔ اب کے ا س نے قدرے بلند آواز میں کہا :

میں آسیب زدہ نہیں ہوں سنا آپ نے۔ اس دفعہ میں بابا کو اپنا عبد اللہ چھیننے نہیں دوں گی وہ میرا ہے سمجھیں۔

تیز تیز آواز میں بولتی عائلہ بری طرح ہانپنے لگی تھی۔ ہانپتے ہانپتے وہ ہنسنے لگی ۔ فلک شگاف قہقہے قدرے اونچے اور بھاری آواز میں تھے۔ ہنستے ہنستے وہ ایک پل کو ر کی اور اپنی لال آنکھیں سکینہ صاحبہ پہ گاڑتے ہوئے ، تقریباً مردانہ آواز میں بولی:

آسیب زدہ ؟ ہاں ہوں میں آسیب زدہ ۔ وہ رہتا ہے میرے اندر ہر پل ہر لمحہ۔ میں ا سی کی ہوں ۔ کیا کر لو گے تم سب ؟ بولو ؟ نکال سکتے ہو ا سے مجھ سے ؟ لو نکالو …. نکال کے دکھا دو ۔

اپنے دونوں بازو سکینہ صاحبہ کے سامنے پھیلاتے ہوئے ، عائلہ کی حالت غیر ہو رہی تھی ۔ اگلے ہی پل وہ پھر سے قہقہے لگانے لگی اور انہی قہقہوں کے بیچ ، وہ بے ہوش ہو کے گر پڑی ۔ 

دور کونے میں سہمی ہوئی ذاکرہ اس کے قریب آئی تو ہی سکینہ صاحبہ نے بھی ہمت کی ۔ وہ بالکل بے سدھ تھی ۔ ا س پہ غشی کا یہ دوسرا دورہ تقریباً پانچ منٹ کے وقفےسے آیا تھا ۔

سکینہ صاحبہ نے خاموشی سے عائلہ کا چہرہ دیکھتے شاہ بابا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ بالکل ایسے جیسے پوچھ رہی ہوں کہ آپ نے کیا کِیا ۔

بابا ان کی نظروں کا عندیہ سمجھ چکے تھے اور وہ تو ساری حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ عبداللہ سچ مچ عائلہ سے ملا تھا ۔ اُنہیں عبداللہ نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ میر صاحب نے ا ن دونوں کو باتیں کرتا دیکھ لیا ہے۔ نا صرف یہ بلکہ وہ یہ بھی کہہ گیا تھا کہ آپ عائلہ کا خیال رکھیں اِسی اثنا میں ، میں میر صاحب کو ڈھونڈ کے ان سے بات کرکے اُنہیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ 

وہ چاہتے تو اب بھی سکینہ صاحبہ کو بتا سکتے تھے کہ آپ کی بیٹی کو آپ تک پہنچانے والا عبداللہ ہی تھا ،لیکن وہ اِ س وقت کسی اور جھمیلے میں پڑنے کے بجائے ا س پیاری سی لڑکی کی فکر میں تھے جس پہ کوئی آسیب نہ تھا بلکہ وہ شدید ذہنی دبااور ہر بات اپنے اندر دفن کرتے کرتے، ایک ذہنی بیماری کا شکار ہو گئی تھی ۔

بابا سکینہ صاحبہ سے عائلہ کی حالت مخفی نہیں رکھنا چاہتے تھے تبھی گویا ہوئے :



میں سمجھتا ہوں میری بہن کہ آپ مجھ سے بہت سی ا میدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں، لیکن میں معذ رت چاہتا ہوں آپ کی بیٹی پہ کوئی آسیب نہیں۔ یہ ایک ذہنی بیماری کا شکار ہیں اور اِس کی وجہ کوئی اور نہیں عشق ہے ۔ عشق ہی ہے جس نے اِ س معصوم لڑکی کو آپ سب کے سامنے مجرم بنا کے اکیلا کر دیا ہے۔ یہ اکیلا پن ہی ہے جس نے اِ سے خود میں ہی محبوب کو بسانے پہ مجبور کر دیا ۔ ان کی شخصیت بری طرح سے متاثر ہو چکی ہے۔ یہ خود میں کسی اور کا بسیرا سمجھتی ہیں۔ سائنس اِسےملٹی پل پرسنالٹی ڈس آرڈرکا نام دیتی ہے جب کہ عرفِ عام میں اِ سےعشق ِ نامرادکہتے ہیں ۔ یہ عشق ہی انسان کو سکھاتا ہے کہ جس سے عشق کرو ا سے اپنا لو ۔ اپنا آپ اس کے سانچے میں ڈھال لو۔ اتنی محبت کرو کہ تم تم نہ رہو وہ بن جا۔

سکینہ صاحبہ کی تحیر سے کھلی آنکھوں میں اب فکر کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا ۔

بابا اس کا کوئی علاج تو ہو گا ؟ کوئی وظیفہ ؟ کوئی دوا ؟ کوئی تعویذ؟

بابا دکھ سے مُسکرائے اور جواب دیا :

لا علاج ….“

عشقِ نامراد لا علاج ہے ۔ سائنس میں آپ کی بیٹی کی بیماری کے لیے دوائیں ہوں گی، دے کے دیکھ لیجیے ، مگر عشق کا علاج صرف عشق ہی ہے ۔ بے پناہ عشق اور عشق اور عشق اور عشق ۔

سکینہ صاحبہ جیسی سادہ خاتون کی برداشت کی حد اتنی ہی تھی ۔ وہ جو پہلے صرف عائلہ سے ڈر رہی تھیں اب انہیں بابا سے بھی ڈر لگنے لگا تھا ۔ 

آنکھوں ہی آنکھوں میں ذاکرہ کو چلنے کا اشارہ کرتیں ، سکینہ صاحبہ نے عائلہ کو ذاکرہ کے سہارے کھڑا کیا اور ہجرے سے باہر نکل گئیں ۔ 

عائلہ کی پشت پہ شاہ آغا کی اداس نوحہ کناں نگاہوں نے دوشعر پڑھے تھے۔

وہ تو دیوانہ ہے، بستی میں رہے یا نہ رہے

یہ ضروری ہے حجابِ رخ ِ لیلیٰ نہ رہے

گلہِ جوڑ نہ ہو، شکوہِ بےداد نہ ہو

عشق آزاد ہے، کیوں حسن بھی آزاد نہ ہو

تیزی سے تسبیح کے دانے گھماتے شاہ آغا ، عبد اللہ کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے ۔

٭….٭….٭

Loading

Read Previous

جھوک عشق – ایم رضوان ملغانی – داستانِ محبت 

Read Next

تنہا چاند – حریم الیاس – افسانچہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!