حد – صبا خان

”میز پر پڑے لوازمات سے انصاف کرتے ہوئے ہر ایک اپنی رائے دینے میں مشغول تھا
”تم نے اچھا نہیں کیا بلال…”
”کتنی صابر بچی ہے… کسی حال میں شکایت نہیں کی۔”
”ارے ایسی بیویاں تو نصیب والی کو ملتی ہیں۔” یہ حسرت بھرا جملہ ان مردوں کی طرف سے تھا جن کی اپنی بیویوں پر نہیں چلتی تھی۔
”پتا نہیں تجھے کس بات کا غصہ تھا؟ ورنہ اچھی بھلی زندگی تو چل رہی تھی؟” کھوج لگانے والی آنٹیوں کا جملہ آیا تھا اور وہ سرجھکائے بیٹھا تھا۔ ہمارے ہاں مسائل حل کم اور ڈسکس زیادہ ہوتے ہیں۔ سبھی اپنے اپنے فلسفے جھاڑ رہے تھے اور وہ کسی الجھن میں تھا کہ اچانک دروازے پر بیل ہوئی۔
”جاؤ بیٹا دیکھ لو کون آیا ہے۔” اس نے پرامید لہجے میں بھانجے کو کہا۔ اسے سوفیصد یقین تھا کہ رضیہ آئی ہو گی۔
”کچھ نہیں ہو گا، آجائے گی، پہلے بھی اس طرح کے جھگڑے ہوئے ہیں ہمارے، میرے بغیر رہ کہاں سکتی ہے وہ۔” وہ بڑے زعم سے بولا تھا۔
”لیکن پہلے وہ کبھی گھر چھوڑ کر تو نہیں گئی۔” اس کی بہن جھٹ سے بولی اور یہی اُس کی واحد الجھن تھی۔
سب انہی باتوں میں مصروف تھے جب اُس کا بھانجا واپس آیا، لیکن اس کے پیچھے کوئی نہیں تھا، اس کے ہاتھ میں کچھ تھا جسے دیکھ کر اس کے حواس گم ہوگئے۔ اس کی بھلے محبت کی شادی نہیں تھی لیکن شادی محبت کی ہو یا ارینج، آخر میں بس شادی ہی رہ ہی جاتی ہے۔ رضیہ بلا کی صابر اور خدمت گزار لڑکی تھی، تو بلال اس کا اُلٹ… یہ آگ اور پانی کا کھیل شاید مقدر میں لکھا ہے۔ دن بھر کام کر کے کچھ نہ کرنے والا طعنہ تو عورتوں کے حصے میں ازل سے آیا ہے، اوپر سے مرد کی مردانگی کو تسکین تب ملتی ہے، جب باہر آکر عورت پر اتار دے۔ روزانہ کی جھاڑ… لاتیں، مکے، تھپڑ… رضیہ اپنے نصیب کا رزق سمجھ کر کھاتی رہی۔ اکثر جسم کا نیل چُھپانے کی خاطر کئی کئی دن گھر سے نہیں نکلتی تھی، لیکن کبھی کسی سے شکایت نہیں کی… ساری دنیا اس کے صبر اور خدمت کی معترف تھی سوائے بلال کے۔
٭…٭…٭





وہ بھی معمول کا ایک دن تھا جب اُس کی تھکی ہوئی ہڈیاں بلال کا ظلم سہ رہی تھیں۔ وہ باہر کسی سے منہ ماری کر آیا تو مردانگی کے مظاہرے گھر میں کرنے لگا۔ رضیہ مار کھاتی رہی، لیکن بلال کو تسلی نہ ہوئی۔
”بدچلن آوارہ! مجھے پتا ہے تو نے یار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ جو تو نیک اور گُھنی بنتی ہے وہ اسی لیے کہ کوئی تجھ پہ شک نہ کرے…” یہ جملہ سنتے ہی رضیہ کی چیخیں اچانک بند ہو گئیں۔ مار تو وہ پھر بھی رہا تھا لیکن شاید درد کا احساس ختم ہو گیا تھا۔ پھر اس رات اسے نیند نہیں آئی۔ نا ہی گولی کھا کر اس نے درد کے احساس کو کم کیا، اور نہ ہی دودھ ہلدی پی کر خود کو اگلی مار کے لیے تیار کیا۔ وہ کھڑکی کے ساتھ بیٹھی گھٹنوں میں سردیئے برستے آسمان کو دیکھ رہی تھی جو شاید اس کی حالت پر رو رہا تھا۔ اور وہ آسمان والے کے سامنے رو رہی تھی۔
”عورت برداشت نہ کرے تو بھی بدچلن، کرے تو بھی؟ اتنی سیاہ بختی کیوں میرے مالک؟” رات گزر گئی۔ اسے پتا ہی نہیں چلا کہ کب صبح ہوئی۔ اسی طرح گھٹنوں پر سر رکھ کے بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔
”ابھی تک ماتم کر رہی ہو، ناشتے کا بندوبست نہیں کیا؟” بلال گرج دار آواز میں بولا، لیکن زندگی میں پہلی بار اس نے حرکت نہیں کی۔
”منحوس عورت!” اس نے اسے ایک لات رسید کی تو وہ کھڑکی کی طرف لڑھک گئی اور وہ دھاڑتا ہوا باہر نکل گیا۔
شام تک اس کے غصے کی آگ پر اوس پڑ چکی تھی۔وہ آتے ہوئے بازار سے کھانے پینے کی مختلف اشیاء لیتا آیا تھا۔ مرد کی نفسیات میں خدا جانے یہ بات کیسے بیٹھ گئی ہے کہ عورت کو کچھ بھی کہہ دو، بس دو میٹھے بول، ایک سوٹ یا کھانا پینا اسے راضی کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس کی خوش فہمی کا بت اس وقت ٹوٹ گیا جب اسے گھر پر تالا لگا ہوا ملا اور چابی سامنے والے گھر سے ملی۔
”بے حیا عورت!” وہ دوبارہ اپنی اصلیت پر آگیا اور لغویات بکتا ہوا پلیٹ نکال کر کھانے کی چیزوں پر ہاتھ صاف کرنے لگا…
”خود ہی آئے گی دو دن بعد، کون رکھے گا منحوس کو۔” وہ ازلی اکڑ اور غرور سے بڑبڑایا۔
دن گزرتے گئے، مہینہ ہو گیا لیکن رضیہ نہیں آئی… اور جا کر اسے لانا اس کو اپنی مردانگی کے خلاف لگتا تھا۔ رفتہ رفتہ سب رشتہ داروں کو خبر ہو گئی۔ اور سب جمع ہو کر اپنی رائے سے نوازنے لگے۔ کچھ تو رضیہ کو جا کر لانے کے حق میں تھے لیکن بلال بہ ضد تھا کہ وہ خود آئے گی۔ بہ قول اس کے وہ اس کے بغیر رہ کہاں سکتی ہے؟ اس نے بھانجے کے ہاتھ سے جھٹ سے لفافہ لیا اور کھول کر پڑھنے لگا…
خلع کا نوٹس! بلال کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے… ساتھ دوسرا کاغذ اس نے جلدی سے کھول لیا۔
”بلال میرے پیچھے آنے کی بے کار کوشش مت کرنا۔ تمہارے ظلم سہنا میری بزدلی نہیں، ایک رشتے کو نبھانے کا سمجھوتہ تھا۔ یہ نہیں کہ میرے بھائی کے گھر میں میرے لیے جگہ نہیں تھی۔ بس میں نے کبھی ان سے کچھ کہا نہیں، کیوں کہ تم میری عزت تھے… لیکن افسوس! میں تمہاری عزت نہ بن سکی۔ اللہ نے مجھے صبر عطا کیا تھا، لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور تم نے وہ حد پار کر دی۔ جب بات کردار پر آجائے تو فیصلہ کر لینا چاہیے اور میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے… کہ مجھ میں وہ الفاظ دوبارہ سننے کی سکت نہیں۔”
”اور بے شک اللہ کو حد پار کرنے والے پسند نہیں آتے۔”
واپسی کے سارے راستے مسدود تھے… اس کے پاس سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں تھا…

٭…٭…٭




Loading

Read Previous

پچیس ہزار – حمیرا نوشین

Read Next

باز – فریال سید

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!