Tag: fiction

  • عکس — قسط نمبر ۶

    عکس نے گاڑی سے اتر تے ہوئے سر اٹھا کر اس آئینے کو دیکھا جو اس گھر کے برآمدے میں دروازے کے پاس رکھا تھا اور جس میں اس وقت شیر دل اور شہر بانو کی پشت نظر آرہی تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ کمشنر اور اس کی بیوی کا استقبال کررہے تھے جن کی گاڑی اس وقت پورچ میں داخلی برآمدے کے بالکل سامنے کھڑی تھی، خود اس کی گاڑی پورچ کی چھت سے باہر تھی۔ نظریں آئینے سے ہٹا کر اس نے ایک لمحے کے لیے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں سے ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی ۔پانی کی ہلکی پھوار نے اس کے چہرے، بالوں اور لباس کو ذرا سا نم کیا اور برآمدے میں کمشنر اور اس کی بیوی سے ملتے ہوئے شیر دل نے بالکل اس لمحے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا۔ وہ سیاہ موتیوں سے ایمبرائڈرڈ ایک فٹنگ والا سیاہ شیفون کا لباس پہنے ہوئے تھی جو اس کے متناسب جسم کو کچھ اور بھی متناسب کررہا تھا۔ عام طور پر کھلے رہنے والے گھنے سیاہ بال اس وقت ایک سیاہ نیٹ میں ڈھیلے جوڑے کی شکل میں اس کی گردن کے پیچھے سمٹے اس کی پتلی اور لمبی گردن کو نمایاں کیے ہوئے تھے۔ دائیں کندھے پر اسٹول کی شکل میں تہ شدہ دوپٹا ڈالے وہ بائیں ہاتھ میں ایک بہت چھوٹا اور خوب صورت سیاہ پرس پکڑے ہوئے تھی۔ شیر دل نے اس سے نظریں ہٹائیں مشکل کام تھا یہ اور اس نے مشکل سے ہی کیا۔ وہ کمشنر اور ان کی فیملی کے ساتھ آئی تھی اس لیے کمشنر اور ان کی بیوی گاڑی سے اتر کر سیدھا اندر جانے کے بجائے چند لمحوں کے لیے وہیں برآمدے میں رک گئے تھے۔ کمشنر کا استقبال کرنے کے بعد شیر دل برآمدے سے نکل کر اس کی گاڑی کی طرف بڑھا۔ اس کی طرف جاتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اس نے اپنی جیب میں پڑا ٹشو پیپرٹٹولا تھا۔




    ڈرائیور سے کچھ کہتے ہوئے عکس جب تک پلٹی وہ اس کے سامنے تھا۔ دونوں بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔ بلیک ڈنر سوٹ کے ساتھ ایک سرخ Striped ٹائی لگائے، سلور کف لنکس اور ٹائی پر ایک کرسٹل کی ٹائی پن لگائے وہ اپنے اس حلیے میں اس کے سامنے کھڑا تھا جو اس کی ایک وجہ شہرت تھا۔ اکیڈمی میں کوئی اور کامنر اپنی ڈریسنگ سینس میں شیر دل کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ عکس مراد علی نے اپنے اتنے سال کی سروس میں بھی شیر دل سے زیادہ خوش لباس مرد نہیں دیکھا تھا۔
    عکس نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ ستائشی نظروں سے شیر دل کو دیکھا۔ ہوا کے ایک جھونکے نے شیر دل کی ٹائی کو اڑایا۔ عکس کی نظر بھٹکی۔ اس کی ٹائی کو بے اختیار اڑنے سے روک دینے کی خواہش کو اس نے اتنی ہی بے اختیاری کے ساتھ دبایا جس طرح وہ ابھری تھی۔
    دونوں کے درمیان اب خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ ہورہا تھا۔ وہی رسمی جملے… اور وہی ان کہے مفہوم… وہ ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے بات کررہا تھا۔ اور اس کے چہرے پر نظریں جمائے شیر دل کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پر موجود کون سی شے کس کو ماند کررہی تھی۔ اس کے کانوں کی لوؤں میں دمکتے سفید موتیوں کےstuds اس کی شفاف چمکدار سیاہ آئی لائنز سے سجی آنکھوں کو یا اس کی آنکھیں سرخ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں سے چھلکتی دودھیا دانتوں کی قطار کو جو اس کی مسکراہٹ کو اور بھی دلکش کررہی تھی۔ بارش کی پھوار کے ننھے ننھے قطرے اوس کے قطروں کی طرح اس کے بالوں اور چہرے پر چمک رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل کا دل چاہا وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کردے… صرف ایک لمحے کے لیے پھر اس نے نظر چرائی تھی…جیب سے ایک ٹشو نکال کر غیر محسوس انداز میں عکس کی طرف بڑھاتے ہوئے شیر دل نے کہا۔
    ”تم نے بڑا رسک لیا۔” عکس نے کسی سوال کے بغیر وہ ٹشو تھام کر اسی غیر محسوس انداز میں چہرہ اور سر تھپتھپاتے ہوئے کچھ حیرانی سے اس سے پوچھا۔
    ”کیا؟ ”وہ دونوں اب ساتھ چل رہے تھے۔
    ”بارش میں گاڑی سے نکل آئیں۔” قدم بڑھاتے ہوئے شیر دل نے کچھ سنجیدگی سے کہا۔
    ”تو؟” وہ الجھی۔
    ”اگر میک اپ بہہ جاتا تو؟”اس بار شیر دل کے ہونٹوں اور آنکھوں میں شرارت لہرائی تھی یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایک سیاہ آئی لائنز اور لپ اسٹک کے سوا شاید ہی کچھ لگائے ہوئے تھی۔
    ”ہاں رسک تو تھا، میک اپ صاف ہوجاتا تو تم اس سے زیادہ گھورتے مجھے… جتنا ابھی گھوررہے تھے۔” عکس نے ہاتھ میں پکڑے ٹشو کوبڑی نفاست سے لپیٹ کر پرس میں بے نیازی سے رکھتے ہوئے کہا۔جواب ویسا ہی آیا تھا جیسا سوال کیا تھا۔ اسے دیکھے بغیر شیر دل نے بے اختیار سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی۔ وہ باقی لوگوں کے قریب پہنچ چکے تھے اور وہ اسے جواباً کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔
    کمشنر کی بیوی کے ساتھ بات کرتی شہر بانو عکس کے استقبال کے لیے چند قدم آگے بڑھ آئی تھی۔




    ”شہر بانو… ”عکس مراد علی…” ایک لفظ میں شیر دل نے باری باری دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا۔ دونوں ناموں کے ساتھ کوئی سیاق و سباق نہیں تھا پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو اس سے کہیں زیادہ جانتی تھیں جتنا شیر دل نے ان کاتعارف کروایا تھا۔
    سفید شیفون کے کلیوں والے کرتے اور چوڑی دار پاجامے میں شہر بانو ایک باربی ڈول لگ رہی تھی۔دودھیا رنگت، سیاہ لمبی خمدار پلکیں، ننھی سی نوک والی تیکھی ناک اور بے حد باریک مسکراتے ہونٹ۔ عکس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی اس کو دیکھ کر۔ شیر دل کو اس سے زیادہ پرفیکٹ لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔ وہ واقعی صرف شیر دل کے ساتھ سجتی تھی۔ اس کی طرف بڑھتے ہوئے عکس نے سوچا تھا۔
    شہر بانو نے اس سے پہلے عکس مراد علی کا نام سنا تھا یا اس کو شیر دل کی گروپ فوٹو گرافس میں دیکھا تھا۔ جہاں وہ لاکھ غور کرنے کے باجود بھی اس کی شکل وصورت اور حلیے میں وہ خاص چیز کھوجنے میں ناکام رہی تھی جو اس کے ذہن میں کسی خدشے یا اندیشے کو جنم دیتی لیکن آج اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی وہ عکس مراد علی سے بری طرح خائف ہوئی کیوں ہوئی؟ یہ اسے کئی دن سمجھ نہیں آیا۔ نہ اسے شیر دل سے کوئی خدشہ تھا نہ عکس مراد علی اس حسن وجمال کی مالک تھی جس سے اسے کوئی احساس کمتری ہونے لگتا لیکن اس کے باوجود اسے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ عکس مراد علی کو نظر انداز کرنا بے حد مشکل تھا اور اس کو پسند نہ کرنا اس سے بھی زیادہ دشوار۔
    بر آمدے کی انٹرنس پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ دونوں شہر بانو کو کسی فوٹو فریم کا حصہ لگے تھے۔ ایک پرفیکٹ پکچر، دراز قد، اٹریکٹو، پراعتماد، اسمارٹ… سیاہ لباس میں ملبوس وہ ایک ایسا کپل لگے تھے جو گھر سے نکلتے ہوئے پرفیکٹ میچنگ کر کے آئے تھے۔کوئی بھی ایک نظر میں دیکھ لیتا کہ عکس کے ہونٹوں کی لپ اسٹک کا رنگ شیر دل کی ٹائی کے رنگ کا ایک حصہ لگ رہا تھا… شہر بانو نے بھی نوٹس کیا تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے کسی رشتے اور تعلق کے بغیر بھی ان دونوں کی باڈی لینگویج میں ایک عجیب کیمسٹری تھی۔ ایک عجیب سا ربط اور تعلق جس کو نہ چھپانے کی کوشش تھی نہ دکھانے کی…لیکن پھر بھی وہ چھپ چھپ کر دِکھ رہا تھا۔ شہر بانو الجھی ٹھٹکی… اور پھر چاہنے کے باوجود وہ عکس سے ویسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کرسکی جو وہ دوسرے مہمانوں کے ساتھ کررہی تھی۔ وہ نپے تلے انداز میں عکس کی طرف بڑھی تھی اور عکس نے بھی مصافحے کے لیے اس کا ہاتھ گرم جوشی پر اسی احتیاط سے پکڑا تھا جس کے ساتھ وہ بڑھایا گیا تھا۔ شہر بانو نے اس کے ہاتھ کے لمس کی حدت اور نرمی کو بیک وقت محسوس کیا۔دونوں کی نظریں ملیں۔
    ”آپ کیسی ہیں؟” اس نے عکس کو کہتے سنا۔ اس کی آواز کی ملائمت نے شہر بانو کے وجود کی سرد مہری کو عجیب انداز میں پگھلایا۔
    ‘‘I am fine. How are you ”اس نے جواباً اپنی مسکراہٹ کو کچھ گرم جوش کرنے کی کوشش کی۔
    ‘‘I am good too ”عکس نے جواباً ایک دھیمی مسکراہٹ کے
    ساتھ کہا۔ شیر دل اب کمشنر کے ساتھ اندر جارہا تھا۔ شہر بانو نے ایک عجیب سا اطمینان محسوس کیا اس فوٹو فریم کے ایک حصے کو ہٹتے دیکھ کر۔
    ”شیر دل سے بہت سنا ہے میں نے آپ کے بارے میں ۔” عکس نے شہر بانو سے کہا۔




  • عکس — قسط نمبر ۵

    اس اسٹینڈنگ مرر میں اپنے عکس پر پہلی نظر ڈالتے ہی اس نے اپنی یادداشت کے سارے خانوں کو جسم سے اترے ہوئے لباس کی جیبوں کی طرح کھنگالنا اور جھاڑنا شروع کردیا تھا۔ کتنے سال بعد اس نے اس مرر کو دیکھا تھا اور اس مرر میں کیا کیا دیکھا تھا۔




    آئینہ اتنے سالوں کے بعد آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔ کم آب و تاب کے ساتھ لیکن اسی وقار کے ساتھ جس کے ساتھ اس نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔گھر کا ایکسٹیرئر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہ آئینہ جیسے کسی شہزادی کا رومال تھا جسے وہ پھاڑ کر پھٹنے اور غائب ہونے سے پہلے شہزادے کی رہنمائی کے لیے باہر چھوڑ گئی تھی۔ واحد سراغ … ہر ہر بھید تک لے جانے اور اسے پانے والا۔ چند لمحوں کے لیے اس آئینے کو دیکھتے ہوئے اسے یوں لگا تھا جیسے وہ بھی تب ہی وہاں سے ہٹے گا۔ غائب ہوگا جب حضرت سلیمان کے عصا کی طرح اسے بھی کھڑے کھڑے دیمک لگ جائے گی، پھر ایک دن وہ برادے کے ایک ڈھیر اور آئینے سے شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں تبدیل ہو کر وہاں سے ہٹادیا جاتا۔ پتا نہیں وہاں کھڑا وہ کس کس کا عکس دیکھتا اور دکھاتا رہا تھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ اس آئینے میں نظر آتی عمارت کے بیرونی حصے کے عکس کو دیکھنے لگی۔ انگلیوں کی پوروں پر اس نے جیسے وہ سال گنے تھے جب وہ آخری بار اس گھر سے گئی تھی۔ وہ گھر جو اس کی زندگی کا خوب صورت ترین اور سیاہ ترین باب تھا۔ وہ گھر جس سے زیادہ محبت اور نفرت اسے کبھی کسی جگہ سے نہیں ہوئی تھی لیکن وہ گھر جو وہاں آکر بسنے والے انسانوں کے تمام احساسات سے بے نیاز آج بھی اسی تمکنت سے وہاں کھڑا تھا۔
    اور پھر آئینے میں اپنے اور اس گھر کے عکس کے درمیان اس نے یک دم کسی کو نمودار ہوتے دیکھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ بے اختیار مسکرائی۔ اس نے زندگی میں اس مرد کے علاوہ صرف ایک مرد کو …وہ آگے کچھ سوچ نہیں پائی، وہ اب اس کے عقب میں کھڑا اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھے اس کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا
    ”You look lovely ”وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
    ”Thank you for flattering me”اس نے جواباً کہا۔ وہ اس کے عکس پر نظر جمائے ہوئے بے اختیار مسکرایا۔ گہری، گرم جوش، بہت کچھ یاد دلادینے والی آنکھیں… بے حد باریک ہونٹوں پر آنے اور کھیلنے والی بے ساختہ اور خمدار مسکراہٹ… اور یہ مسکراہٹ کیا کیا طوفان نہیں اٹھادیتی تھی۔ کون کون سی قیامت تھی جو بپا نہیں کردیتی تھی۔
    ”You are more than welcome” اس نے ذرا ساہنس کر اس کی بات پر جیسے کسی ندامت کا اظہار کیے بغیر دھڑلے سے کہا۔
    ”تمہیں پتا ہے میں پہلی بار اس گھر میں کب آئی تھی؟” اس نے آئینے میں اس کے عکس کے عقب میں موجود عمارت پر ایک نظر ڈالتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔ وہ اب بھی اس کے کندھے پر اسی طرح دونوں ہاتھ جمائے ،ٹکائے کھڑا تھا۔وہ اس کے ہاتھوں کا دباؤ محسوس کررہی تھی، نرم ،سہارا دیتا ہوا دباؤ۔ چند لمحوں کے لیے جیسے اس کا دل اس سے لپٹ جانے کو چاہا تھا۔
    ”جب…” اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن آواز حلق سے نہیں نکل سکی۔ آنسوؤں کے ایک ریلے نے اس کی قوت گویائی اور بینائی دونوں کو بیک وقت مفلوج کیا تھا۔ یادیں تھیں… درد کے آبلے تھے جو گرم پانی کے چشموں کی سطح پر ابھرنے والے بلبلوں کی طرح پھٹنے لگے تھے۔ کندھوں پر ٹکے وہ دونوں ہاتھ سرعت سے بازوؤں پر آئے پھر انہوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ حصار جس نے زندگی میں کبھی اس کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا، وہ حصار جواس کے لیے ایک عطا تھا کسی کا تحفہ۔ اس کے بازوؤں کے حصار میں روتے ہوئے اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کون سے کانٹے پہلے نکال کر اس کو دکھائے… وہ جو پاؤں میں تھے یا وہ جو دل میں تھے۔ سمجھ میں یہ بھی نہیں آرہا تھا کہ وہ جو یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس کو دوبارہ بھلانے کے لیے وہ کیا کرے گی۔
    اس گھر کے برآمدے میں لگا وہ آئینہ، شہزادی تک پہنچانے والا واحد سراغ، اب جیسے شہزادے کو اس کے پاس لے آیا تھا، پہاڑ کی اس کھوہ میں جہاں ایک شہزادی کو کئی سال پہلے گہری نیند سلادیاگیا تھا۔
    ……٭……




    شیر دل نے اس کو کاریڈور میں داخل ہوتے ہی بہت دور سے دیکھ لیا تھا۔ وہ کمشنر آفس کے میٹنگ روم کے داخلی دروازے پر کھڑی اپنے عملے کے کسی رکن کو ہدایت دینے میں مصروف تھی۔
    چیف کمشنر کے ساتھ ڈویژن کے تمام ڈی سیز کی دس بجے ہونے والی میٹنگ کا انتظام اس کی ذمے داری تھی۔ شیر دل کے ہونٹوں پر بے ساختہ ایک مسکراہٹ رینگی تھی اور ایسا کیوں تھا وہ کبھی سمجھ نہیں پایاتھا۔
    عکس مراد علی کو اپنے سامنے پاکر اسے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی یا پھر غصہ آتا تھا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ بے تاثر رہ پایا ہو… خوشی کا وہ حال ہوتا تھا کہ وہ بہت دن تک اس کے ٹرانس سے باہر نہیں نکل پاتا تھا… اور غصہ سمندر کی ایک شوریدہ لہر کی طرح آکر گزر جاتا تھا۔
    ایمرلڈگرین لانگ شرٹ میں سیاہ چوڑی دار پاجامے اور دوپٹے میں کندھوں سے کافی نیچے تک جاتے اسٹیپس میں کٹے ہوئے گھنے سیاہ بالوں کو وہ اب بھی بات کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں جھٹک رہی تھی۔ وہ اس کو کئی سالوں بعد دیکھ رہا تھا لیکن شیر دل کو کم از کم دور سے اس میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا تھا۔ اس نے اپنے سامنے کھڑے شخص کے ساتھ بات کرتے کرتے اپنا رخ موڑا تھا اور تب اس نے بھی شیر دل کو دیکھ لیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل نے اس کو بھی بات کرتے کرتے ٹھٹکتے دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر بھی ایک مسکراہٹ آئی تھی۔ نظروں اور مسکراہٹوں کے تبادلے کے بعد اس نے عملے کے اس فرد کو کچھ آخری ہدایات دیں۔ شیر دل کے اس کے قریب پہنچتے پہنچتے اس کا عملہ وہاں سے رخصت ہوچکا تھا۔ اس کے بالمقابل جا کر کھڑے ہوتے ہوئے شیر دل کا دل بے اختیار مچلا تھا کہ وہ اپنے عقب میں آنے والے اپنے اسٹاف کو وہاں سے رخصت کردے… کم سے کم چند لمحوں کے لیے۔ عکس کو دیکھ کراس کے دل میں ہر قسم کی احمقانہ اور بچگانہ خواہشات پیدا ہوتی رہتی تھیں اور یہ ہمیشہ سے تھا۔ ہاں پہلے کبھی اس نے اپنی ان تمام خواہشات کو احمقانہ اور بچگانہ کا لیبل نہیں لگا یا تھا، اب لگانے لگا تھا۔ یہ کام وہ نہ کرتا تو وہ کرتی جو اس سے تین فٹ کے فاصلے پر اس کے سامنے کھڑی اپنی سیاہ، چمکدار، شفاف، گہری آنکھوں اور بے حدجان لیوا مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”ہیلو!اس کے خیر مقدمی کلمات کے آغاز سے پہلے ہی شیر دل نے کہا تھا۔
    ”سر آپ کیسے ہیں؟
    ”I am good آپ کیسی ہیں میم؟”
    ”I am fine too، آپ کا سفر ٹھیک رہا؟”
    ”جی، چیف آچکے ہیں؟”
    ”وہ بس راستے میں ہیں، دس منٹ میں پہنچ جائیں گے۔” کمشنر آفس میں کھڑے ادھر سے ادھر جاتے ہوئے انتظامی عملے کے بیچ میں وہ ایک دوسرے سے یہی کہہ سکتے تھے جو کہہ رہے تھے… فارمل انداز اور کلمات۔ صرف ان کی مسکراہٹ اور آنکھیں تھیں جو ایک دوسرے کو وہ پہنچارہی تھیں جو ان کے احساسات تھے۔ صرف چند منٹ وہ وہاں کھڑا رہا تھا پھر میٹنگ روم میں چلا گیا تھا، اس کے پاس سے نہ ہلنے کی خواہش کے باوجود…
    میٹنگ ٹھیک وقت پر شروع ہوئی تھی۔ شیر دل کمشنر کے بائیں جانب میز کی پہلی کرسی پر تھا اور وہ اس کے بالمقابل کمشنر کے داہنی جانب پہلی سیٹ پر براجمان تھی۔ اور اس سیٹنگ ارینجمنٹ سے شیر دل کو کم از کم یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے لیے ٹیبل کے سرے پر بیٹھے ہوئے کمشنر اور میٹنگ پر توجہ مرکوز رکھنا آج کافی مشکل ثابت ہونے والا تھا اور ایسا ہی ہوا تھا… وہ بار بار بھٹک رہا تھا، اسے دیکھتے اور سنتے ہوئے۔ وہ اب بھی اسی طرح بات کررہی تھی جس طرح ہمیشہ کرتی تھی۔ نپا تلا انداز، تول کر بولنے کی عادت، بے حد ٹھہراؤ والا دھیما، ملائم لہجہ اور بے حد شستہ اور مدلل گفتگو۔




  • عکس — قسط نمبر ۴

    اس نے اسٹینڈنگ مرر میں اپنے آپ کو دیکھا، اپنے خوبصورت بالوں کو دیکھا، اپنے بے حد نازک گولائی میں پھولے ہوئے پنک فراک کو ذرا گھوم کر دیکھا پھر اس نے بے حد فخریہ انداز میں چند قدم پیچھے کھڑی چڑیا کو دیکھا جو بے حد ستائشی نظروں سے اس ساڑھے تین سالہ باربی ڈول کو دیکھ رہی تھی۔یہ وہ نام تھا جس سے وہ اس کو پکارتی تھی اور یہی وہ نام تھا جو اس نے پہلی بار اسے دیکھتے ہی دے دیا تھا۔ اس کے تمام ساتھی بونوں کو بھی باربی ڈول سے اتنا ہی عشق تھا جتنا چڑیا کو اور وہ بھی اس کو پہلی بار دیکھتے ہی اس پر اسی طرح فریفتہ ہوئے تھے جس طرح چڑیا کو دیکھ کر ہوئی تھی۔
    ”میں اچھی لگ رہی ہوں؟” اب باربی ڈول چڑیا سے پوچھ رہی تھی۔




    ”بہت، بہت، بہت، بہت اچھی اور پیاری۔” چڑیا نے دونوں ہاتھ پھیلا کر اس کی خوبصور تی اور ستائش کی جیسے پیمائش پیش کی۔ باربی ڈول کا رنگ سرخ ہوا، اس نے ناک کو ہلکا سا دائیں طرف سکیڑ کر اپنے ہونٹوں کو بھینچ کر جیسے اپنی خوشی اور مسکراہٹ کو ایک ساتھ چھپانے کی کوشش کی۔
    ”میں تمہاری پونی کر دوں؟” چڑیا نے باربی ڈول کے بکھرے ہوئے سیاہ ریشمی بالوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے پوچھا۔ باربی ڈول سر ہلاتی فوراً پونی بنوانے پر تیار ہو گئی تھی۔ چڑیا نے اپنے بالوں سے ربڑ بینڈ اتارا اور آئینے کے سامنے باربی ڈول کے عقب میں جا کر بڑے انہماک سے اس کی پونی بنانے لگی۔ ان دونوں کے اس تعلق کا آغاز باربی ڈول کے اس کے اسکول میں ایڈمیشن کے ساتھ ہوا تھا۔
    چڑیا کلاس مانیٹر تھی اور وہ اس دن اپنی کلاس سے کسی کام سے باہر نکلی تھی جب اس نے مانیٹسوری کے لنچ بریک کے دوران پلے ایریا کے سامنے سے گزرتے ہوئے باربی ڈول کو وہاں لنچ باکس ہاتھ میں پکڑے see saw پر جھولتے دو بچوں کے پاس کھڑے دیکھا۔ چند لمحوں کے لیے چڑیا کو جیسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا۔ وہ باربی ڈول جس کے بالوں کو چھونے اور جس کے ساتھ بات کرنے اور کھیلنے کی خواہش میں وہ کئی بار ڈی سی ہاؤس میں لان کے اس حصے میں منع کرنے کے باوجود جاتی رہتی تھی جہاں وہ اپنی ماں اور کبھی کبھار باپ کے ساتھ بھی شام کو کھیلنے کے لیے نکلتی تھی۔ باربی ڈول کے قریب جا کر اس سے کچھ کہنے کی ہمت اسے کبھی نہیں ہوئی تھی لیکن دور سے بہت باران دونوں کے درمیان خاموش نظروں اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ وہ اس گھر کے مستقل رہائشی دو واحد بچے تھے۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں تجسس کا شکار نہ ہوتے اور ایک دوسرے کو مستقل طور پر اگنور کر پاتے۔ چڑیا فرینڈلی تھی، باربی ڈول نہیں تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی طرح بہت مہذب اور سلجھی ہوئی ہونے کے باوجود بے حد ریزورڈ تھی۔ پتا نہیں یہ طبعاً تھا یا اس کے ماں باپ نے اسے بھی کچھ ہدایات دی تھیں۔ چڑیا سوچتی رہتی تھی لیکن کچھ اندازہ نہیں کر سکی تھی اور اب وہی باربی ڈول اس سے چند گز کے فاصلے پر کھڑی تھی۔ چڑیا کے لیے کیسے یہ ممکن تھا کہ وہ اسے اگنور کر کے گزر جاتی۔ اگر اس کا بس چلتا تو وہ شاید باربی ڈول کو بھی اپنے ہی اسکول میں دیکھ کر خوشی سے چھلانگیں لگاتی۔
    ”ہیلو۔” وہ ایکسائٹمنٹ کے باوجود کچھ ڈرتی جھجکتی باربی ڈول کے پاس پہنچ گئی تھی اور ہیلو کا چھوٹا سا لفظ کہنے کے لیے اسے پتا نہیں کتنی ہمت کرنی پڑی تھی۔ باربی ڈول نے چونک کر گردن گھما کر اسے دیکھا اور پھر اس نے بھی اسی برق رفتاری سے چڑیا کا چہرہ پہچانا تھا جس طرح چڑیا نے اس کا… وہ چڑیا کو فراموش کر بھی کیسے سکتی تھی۔ وہ گھر میں اس کے لیے دلچسپ چیزوں میں سے ایک تھی۔ لان میں کھیلتے اچانک کسی پھولدار جھاڑی یا پودے کی شاخ کے درمیان سے جھانکتا ہوا پرتجسس آنکھوں والا ایک معصوم چہرہ، کبھی راہداری کی کھڑکیوں میں یک دم نمودار ہونے والی وہ روشن شرارتی آنکھیں جو باربی ڈول کے ساتھ اس کی ماں یا باپ کو دیکھ کر اسی طرح جھپاکے سے غائب ہو جاتی تھیں۔ بہت دفعہ پودوں سے جھانکتی چڑیا کو دیکھ کر وہ ٹھٹکی تھی… اپنے کھلونوں کے ساتھ لان میں کھیلتے یا سائیکل چلاتے ہوئے اور شروع شروع میں وہ اپنی ممی کو چڑیا کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش بھی کرتی تھی لیکن وہ اس کوشش میں ہمیشہ ناکام رہی۔ وہ جب تک اپنی ممی کو اس پودے یا جھاڑی کی طرف متوجہ کر پاتی جہاں اس نے چڑیا کو دیکھا تھا چڑیا وہاں سے غائب ہو چکی ہوتی۔
    ”ممی وہاں ایک Girl ہے۔” اس نے پہلی بار چڑیا کو دیکھنے پر فٹ بال کو کک لگاتے لگاتے رک کر اپنی ماں کو اشارے سے بتایا تھا لیکن جب تک وہ اس پودے کی ان شاخوں کو دوبارہ فوکس کر پاتی جن میں سے اسے چڑیا کا چہرہ نظر آیا تھا، چڑیا غائب ہو چکی تھی۔ اس کی ماں نے چند لمحوں کے لیے چونک کر اس پودے کو دیکھا پھر پوچھا۔
    ”کہاں؟”




    ”وہاں… پر وہ اب نہیں ہے۔” وہ اب فٹ بال کھیلنا بھول گئی تھی۔
    ”ہاں وہی بچی ہو گی جو اس دن ملنے آئی تھی… وہی بچی تھی کیا؟” اس کی ممی نے کسی خاص حیرت اور تعجب کے اظہار کے بغیر کہا۔ ”وہ جو ہمارے کک کے ساتھ آئی تھی۔” باربی ڈول نے ماں کے سوال پر اتنا غور نہیں کیا تھا نہ ہی اس نے اس بچی کے خدوخال کو ذہن میں لانے کی کوشش کی جسے اس نے کک کے ساتھ ملاقات میں دیکھا تھا۔ اسے زیادہ تجسس اس بات پر تھا کہ وہ اس پودے کے پیچھے سے اچانک کیسے غائب ہو گئی تھی اور کہاں غائب ہو گئی تھی۔ یہ چڑیا سے اس کے تعارف کا آغاز تھا اور پھر جیسے یہ ایک معمول ہو گیا تھا۔ اس نے کئی بار چڑیا کو پودوں کے پیچھے چھپے ہوئے دیکھا تھا۔ شروع شروع میں وہ ایکسائٹڈ ہو کر اپنی ممی کو بتانے کی کوشش کرتی تھی لیکن آہستہ آہستہ اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کی ایسی ہر کوشش کے دوران چڑیا غائب ہو جاتی تھی اور اس کی ممی کو بھی لان کی جھاڑیوں اور پودوں میں چھپی ہوئی کسی بچی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر اس نے اپنا یہ معمول بہت جلد بدل لیا تھا اب وہ لان میں کھیلنے کے لیے داخل ہوتے ہی دور تک پھیلے ہوئے پودوں اور جھاڑیوں میں چڑیا کی تلاش شروع کر دیتی تھی اور اکثر بڑی آسانی سے اسے ڈھونڈ لیتی تھی پھر وہ اپنی ماں کو کچھ بھی کہے بغیر اس طرح کھیل میں مصروف رہتی اور وقتاً فوقتاً کھیل سے دھیان ہٹا کر چڑیا کو بھی دیکھتی رہتی۔
    چڑیا نے اب پہلے کی طرح غائب ہونا بند کر دیا تھا۔ خاموش نظروں کا تبادلہ آہستہ آہستہ مسکراہٹوں کے تبادلے میں بدلنے لگا تھا۔ اگر کچھ نہیں ٹوٹا تھا تو ان دونوں کے بیچ خاموشی نہیں ٹوٹی تھی۔ ڈی سی کی بیوی لان میں کرسی پر بیٹھی یا تو کوئی کتاب پڑھتی رہتی یا پھر پینٹنگ کرتی رہتی اوروہ لان میں سائیکل چلاتے یا فٹ بال کھیلتے ہوئے دور پودوں میں چھپی چڑیا کو دیکھ کر مسکراتی رہتی۔ کبھی کبھار وہ سائیکل چلاتے چلاتے جان بوجھ کر چڑیا کے بہت قریب سے ہو کر گزرتی اور کبھی وہ کھیلتے ہوئے جان بوجھ کر پودے کے قریب بال پھینک دیتی جہاں چڑیا چھپی ہوتی، یہ جیسے چڑیا کو کھیل کی دعوت دینے کی ایک غیر ارادی کوشش تھی جسے چڑیا نے کبھی قبول نہیں کیا تھا، وہ یہ جرأت کر ہی نہیں سکتی تھی کہ لان میں صاحب یا ان کی بیوی کی موجودگی میں وہ باہر نکل آتی۔ خیر دین نے اسے سختی سے منع کیا تھا، وہ ایک بچگانہ تجسس کی وجہ سے وہاں آ تو جاتی تھی لیکن وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے کبھی اس کے نانا کو ڈانٹ پڑے۔ اس نے بہت بار مختلف آفیسرز کے ہاتھوں اپنے نانا کو ڈانٹ کھاتے دیکھا تھا اور یہ اسے کبھی بھی اچھا نہیں لگا تھا اگرچہ خیر دین ہر بار ایسے کسی موقع پر ا سکی موجودگی پر بعد میں اسے بٹھا کر اپنے صاحب کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
    ”دیکھو چڑیا جب غلطی ہوتی ہے تو ڈانٹ پڑتی ہے اور نہ ہر ڈانٹنے والا برا ہوتا ہے نہ ہی ہر ڈانٹ۔”
    ”پر نانا… آپ کی زیادہ غلطی تو نہیں تھی۔” وہ اپنا نانا کا دفاع کرتی۔
    ”تھوڑی تھی پر تھی تو سہی نا… اب اگر صاحب غلطی پر کسی کو بھی نہ ڈانٹا کرے تو ہر ایک کام خراب کرنا شروع کر دے گا۔” چڑیا خیر دین کی بات پر سر ہلا دیتی لیکن اس کے باوجود خیر دین جانتا تھا کہ وہ خیر دین کو پڑنے والی کسی ڈانٹ پر بہت ناخوش ہوتی تھی۔
    ”ہیلو۔” باربی ڈول نے جواباً مسکرا کر کہا تھا۔ اسکول میں پہلے دن وہ پہلا شناسا چہرہ تھا جو اسے نظر آیا تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ چڑیا سے لپٹ ہی جاتی۔
    ”تم یہاں اسٹڈی کے لیے آئی ہو؟” چڑیا اس کے ہیلو پر مسکرائی تھی، باربی ڈول نے سر ہلایا۔
    ”ممی پاپا کے ساتھ آئی ہو؟” باربی ڈول کا سر ایک بار پھر ہلا لیکن ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آئے تھے۔ اسے یک دم یاد آ گیا تھا کہ اس کے ممی پاپا اسے صبح وہاں چھوڑ گئے تھے اور وہ وہاں اکیلی تھی۔ چڑیا اس کے آنسو دیکھ کر جیسے تڑپ اٹھی تھی۔
    ”رونا نہیں باربی ڈول۔ اچھے بچے تو نہیں روتے نا۔” اس نے آگے بڑھ کر باربی ڈول کے گالوں پر لڑھکتے آنسو پہلے اپنے ہاتھوں سے پونچھے پھر اپنے فراک کی جیب سے رومال نکال کر اس سے باربی ڈول کا چہرہ صاف کیا۔




  • یاد کا بوڑھا شجر

    یاد کا بوڑھا شجر
    قرۃ العین خرم ہاشمی

     

    ”ابا میاں کہاں ہیں؟“صبا نے آہستگی سے پوچھا تھاکیوں کہ بڑی بھابھی غضب ناک تیوروں سے اسے گھور رہی تھی۔
    ”آگیا تمہیں بڑے میاں کا خیال؟ پتا بھی ہے کہ بڑے میاں پچھلے کئی دنوں سے شدید بیمار ہیں۔ڈاکٹر نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے مگر وہ ہیں کہ کچھ سنتے ہی نہیں!۔تھوڑی طبیعت بہتر ہوتی ہے چھڑی کے سہارے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے،پرانے سٹور روم میں پہنچ جاتے ہیں۔اللہ بخشے تمہاری مرحومہ اماں جان نے ضرور وہاں کوئی خزانہ یا راز چھپایا ہو گا۔ جس کی خبر صرف ان کو ہی ہے تب ہی وہ گھنٹوں وہاں کچھ نہ کچھ تلاش کرتے رہتے ہیں اور سمجھ دار اتنے ہیں کہ کچھ پوچھو تو خاموشی کی چادر اوڑھے ٹکر ٹکر چہرہ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔“
    صبا نے گہری سانس لے کر اس کے چہرے سے نظر ہٹائی تھی۔لوگوں کو اکثر احساس نہیں ہوتا ہے کہ غصہ اور نفرت اچھے بھلے چہرے کے نقوش بگاڑ کر انہیں خوف ناک بنا دیتے ہیں۔
    ”میں ابا میاں کو دیکھتی ہوں!“صبا وہاں سے خاموشی سے اُٹھ کر اس بڑے سے گھر کے کونے میں بنے پرانے سٹور روم میں چلی آئی جہاں اماں کے زمانے کا پرانا سامان اور فرنیچر پڑا اپنی مدت پوری کر رہا تھا۔پیلے بلب کی روشنی میں صبا نے،سفید کپڑوں میں ملبوس،اپنے کمزور اور نحیف ہاتھوں سے اِدھر اُدھر پڑی چیزیں ہٹاتے کچھ ڈھونڈتے،ابا میاں کو اداسی سے دیکھا تھا۔صبا نہ جانے پچھلے کتنے برسوں سے اپنے باپ کو کسی ان دیکھی چیز کی تلاش میں برف کی سل کی طرح قطرہ قطرہ پگھلتے دیکھ رہی تھی۔تلاش کا سفر ظاہری مسافت رکھتا ہو یا باطن کی تہ در تہ پرتیں کھولتا ہو۔اس میں وجود اورجسم ایسے ہی گھلتے ہیں جیسے تیز دھوپ میں پگھلتی برف!تلاش اپنا خراج فنا کی صورت میں لیتی ہے۔اب یہ فنا کس پیمانے پر اور کتنی تیزی سے ہوتی ہے یہ اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے!اپنی اپنی چاہ پر منحصر ہوتا ہے۔جس کی جتنی چاہت ہو گی اس کا حاصل بھی اتنا ہی ہوگا۔

    ”ابامیاں!کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟“صبا نے نرمی سے باپ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے پوچھا تھا۔ابامیاں نے چونک کر خالی خالی نگاہوں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تھا۔اس وقت اُن کے چہرے پر اتنی بے بسی تھی کہ صبا کا دل تڑپ کر رہ گیا۔
    ”ابامیاں!کیوں اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اذیت دے رہے ہیں؟سب کہتے ہیں کہ آخری عمر میں پروفیسر صاحب کسی ذہنی مرض کا شکار ہو گئے ہیں مگر ابامیاں!دنیا چاہے کچھ بھی کہے مگر ایک بیٹی کا دل جانتا ہے کہ اس کا باپ پاگل نہیں ہے! جو شخص آج بھی ماضی اورحال کی سب سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔آج بھی اپنے طالب علموں میں علم کے خزانے بانٹتا ہو،ایسا شخص بھلا ذہنی طور پر ناکارہ کیسے ہوسکتا ہے؟میں نہیں جانتی کہ آپ کی تلاش کیا ہے، آخر آپ کی زبان تک یہ سچ کیوں نہیں آتا؟ مگر ابامیاں میں آپ کو اتنا بے بس اور لاچار بھی نہیں دیکھ سکتی!زندگی میں وہ مقام بہت تکلیف دہ ہوتا ہے جب ہم اپنے پیاروں کو بے بسی کی دلدل میں لمحہ بہ لمحہ اترتے دیکھتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کر پاتے ہیں۔“صبا نے روتے ہوئے باپ کے جھریوں بھرے کمزور ہاتھوں کو تھاما تھا۔ابامیاں نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور اس کا سر تھپکتے ہوئے کمزور لہجے میں بولے:
    ”میں نے تمہاری اماں کو لیدر کا ایک چھوٹا بیگ دیا تھا جس میں۔۔۔!“اسی وقت آہٹ ہوئی تو دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا،جہاں متجسس نظروں سے دیکھتی،بڑی بھابھی کھڑی تھی۔ان دونوں کے دیکھنے پر گڑبڑا کر غصے سے بولیں:
    ”اچھا تو بڑے میاں نے گاؤں والی زمین کے کاغذ کسی لیدر کے بیگ میں چھپائے ہیں۔ مجھے پہلے ہی شک تھا کہ زمین کے کاغذ گم ہونے والی بات سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔دیکھو! ذرا خدمت ہم لوگ کریں اور سارا اثاثہ بیٹی لے جائے۔واہ جی کیسا انصاف کیا بڑے میاں نے۔“
    بڑی بھابھی تیز تیز بولتی وہاں سے چلی گئی مگر صبا جانتی تھی کہ یہ بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوگی۔ایسا ہی ہوا شام تک عدالت لگ چکی تھی اور فردِ جرم اس پر عائد کرتے ہوئے اسے سب کچھ سچ سچ بتانے کو کہا گیا تو وہ افسردگی سے مسکرا کر اپنے بڑے بھائی سے بولی:
    ”بھائی!ابامیاں نے بہت پہلے ہی اپنے سب اثاثے،اپنا سب کچھ ہم تینوں بہن بھائیوں میں تقسیم کر دیا ہے۔احمد بھائی اپنا حصہ لے کر دبئی جا چکے ہیں، رہ گئے آپ اور میں تو ہمارے پاس بھی اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔جہاں تک گاؤں والی زمین کی ملکیت کی بات ہے تو ابامیاں بہت سال پہلے ہی اس زمین کو گاؤں کے بچوں کے سکول کے لئے وقف کر چکے ہیں۔پھر ایسی بات کرنے یا سوچنے کا کیا فائدہ؟“
    ”ہاں میں جانتا ہوں مگر وہ تمہاری بھابھی کہہ رہی تھی کہ۔۔“بڑے بھائی نے شرمندہ لہجے میں کچھ کہنا چاہا تھا۔
    ”بھائی ہر رشتہ اپنی اپنی جگہ پر سچ اور جھوٹ کے تناسب سے مل کر ہی بنتا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ کس رشتے میں کتنا سچ ہے اور کس رشتے میں کتنا جھوٹ، اس کا فیصلہ ہر خردمند انسان خود کرتا ہے۔“

    اس رات صبا کو ابامیاں کی بگڑتی حالت کے پیشِ نظر وہاں رکنا پڑا۔ابامیاں تین دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے اور پھر ایک صبح خاموشی سے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔موت کی آہٹ سے پھیلا سناٹا، اپنے پنجے بہت اندر تک گاڑ دیتا ہے کہ ایک بار ہی سہی مگر موت کی اذیت سارے جسم میں جمود ضرور طاری کر دیتی ہے۔مگر اس دل چیرتے سناٹے کو زندگی کی ایک چہکار ہی درہم برہم کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے، شاید زندگی کی رونقیں اسی لئے ہیں کہ اپنے پیاروں کی موت کے غم کو کسی حد تک بھلایا جاسکے، موت کی سرد چاپ سے، زندگی کی آہٹ کشید کی جا سکے۔ابامیاں سے محبت کرنے والے، انہیں یاد کرنے والے بہت سے لوگ اور بھی تھے جن کی تربیت اور کامیابی میں ابامیاں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔وہ لوگ بھی اپنے پیارے اور شفیق استاد کی موت کا افسوس کرنے جوق در جوق آ رہے تھے۔
    ”پروفیسر صاحب جیسے نیک لوگ بہت کم ہوتے ہیں، میں ایسے بہت سے غریب اورمستحق طالب علموں کو جانتی ہوں،جن کے تعلیمی اخراجات پروفیسر صاحب نے بہ خوشی پورے کیے تھے۔“وہ خاتون کافی دیر سے وہاں بیٹھی رو رہی تھی۔ابامیاں کو آج اس دنیا سے گئے دس دن گزر چکے تھے۔
    ”ویسے مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی۔۔!سنا ہے کہ پروفیسر صاحب آخری دنوں میں عجیب بہکی بہکی سی باتیں کرتے تھے؟کیا یہ سچ ہے کہ وہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہوگئے تھے؟“اس عورت کے پوچھنے پر بڑے بھائی افسوس بھرے انداز میں بولے:

  • سعی

    سعی

    سحر ساجد

    وہ عجیب کیفیت میں تھی….. ناک کے نتھنوں سے، سانس کے نام پر خارج ہونے والی ہوا تپش لیے ہوئے تھی۔ وہ کہاں تھی، آسمان پر یا زمین پر؟ وہ اپنے وجود کو کسی سطح پر محسوس نہیں کرپارہی تھی۔ سر جس قدر بھاری تھا، وجود اسی قدر ہلکا۔ ذہن کسی ایک سوچ پر مرتکز نہیں ہوپارہا تھا۔ اس کے وجود پر ایک نظر ڈالو تو سانس کا اتار چڑھاؤ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ لمبے ادھ کھلے بال، کچھ شانوں پر، کچھ سینے پر اُلجھے، پریشان اور بے ترتیب بکھرے ہوئے تھے۔ خلافِ معمول دوپٹہ گلے میں، کہ ان کے ہاں گھر میں بھی دوپٹہ سر پر لیا جاتا تھا۔ دونوں بازو سیدھے پہلو میں گرے …… ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بند کیں۔ لاؤنج کے کنارے پر کھڑی اک اک چیز کو دیکھے جارہی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ کیوں دیکھے جارہی تھی۔
    فیصلہ سخت تھا جو اس نے کرلیا تھا اور اس فیصلے کی یاد آتے ہی اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کچھ اور سختی سے بھینچی تھی۔ ہونٹ لرزے اور آنکھ کے کنارے پر اک قطرہ آکر جم سا گیا تھا۔ دل پر جیسے کسی نے خنجر کا وار کیا تھا۔ لرزتے ہونٹوں کے ساتھ اس نے حلق سے نیچے کچھ اتارا تھا اور اس کی نظر ان چیزوں پر کسی آوارہ بد روح کی طرح بھٹکتی تھی ”آپی!….“
    اچانک لاؤنج کے کسی گوشے سے آواز ابھری تھی۔ وہ بُری طرح سے ڈری اور سہم کر آواز کی سمت دیکھا تھا لیکن اس کاارادہ دائیں ہاتھ کی مٹھی کو کمر کے پیچھے چھپانے کا تھا۔”آپی۔ دیکھیں میرا بے بلیڈ۔“

    اسے بھائی کی آواز کسی باز گشت کی طرح محسوس ہوئی تھی۔ اس نے دھندلی آنکھوں سے بھائی کو دیکھا جو لٹو سے کھیل رہا تھا۔ وہ کسی بے جان وجود کی مانند بھائی کی طرف بڑھی تھی۔ وہ نیچے قالین پر بیٹھا میز پر اپنا لٹو گھمارہا تھا اور وہ اس کے پیچھے موجود صوفے پر جاکر بیٹھی تھی۔ دونوں ہاتھوں کی بند مٹھیاں اب اس کے دائیں بائیں سختی سے صوفے پر جمی تھیں اور وہ اپنے بھائی کو دیکھے ہی چلی جا رہی تھی۔ اس کے بھائی نے بٹن دبایا، لٹو میز کی سطح سے ٹکرایا۔ وہ چونک کر آواز کی سمت متوجہ ہوئی۔ لٹو اب گھوم رہا تھا گول، گول اور تیزی سے…. اس کے بھائی نے مڑ کر اس کا گھٹنا ہلاکر اس سے کچھ کہا تھا۔ کیا؟ وہ محض آواز کااِک احساس ہی محسوس کرپائی تھی۔ لٹو گھوم رہا تھا گول گول اور پھر گھومتے گھومتے وہ یک دم بڑا ہوتا گیا۔ ہوتا گیا، ہوتا ہی چلاگیا۔ لٹو اتنا بڑا ہوگیا کہ وہاں موجود ہر چیز پر حاوی ہوچکا تھا۔ وہ ڈر کے مارے صوفے کی پشت سے ٹکرانے کے سے انداز میں جالگی تھی۔ لٹو ا س کے عین سامنے گھومے چلاجارہا تھا۔ وہ نظریں لٹو کیگھومتی دھاریو ں سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن سر کو حرکت نہیں دے پارہی تھی۔ نظر گھوم رہی تھی، سر چکرارہا تھا اور اب اسے متلی محسوس ہورہی تھی، اتنی کہ پیٹ میں شدید بل پڑا۔ وہ بے اختیار آگے کو جھکی۔ اسے زور کی ابکائی آئی تھی۔ وہ سانس لینے کو سیدھی ہوئی اور پیروں تلے سے جیسے زمینیک دم نکلی ہو۔ لٹو عین اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا میں معلق گھومے جارہا تھا۔ گھبراہٹ کا احساس شدید تھا۔ وہ ہانپتے ہوئے، کف بہتے منہ کے ساتھ، بری طرح سے خوف زدہ ہوکر اس لٹو کو دیکھتی جارہی تھی۔
    ’آپی۔ آپی!“ اس کا بھائی شانہ ہلارہا تھا لیکن وہ متوجہ نہ تھی۔ وہ متوجہ ہو بھی کیسے سکتی تھی۔
    تنفس کی بگڑی رفتار کے ساتھ وہ خوفزدہ سی لٹو کو دیکھے جارہی تھی۔
    ”مور، مور“ اس کا بھائی ماں کو بلانے بھاگا تھا اور ماں کے آنے تک وہ بے حد گھبراچکی تھی۔ اتنی خوف زدہ ہوچکی تھی کہ اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کھولی اور اس میں موجود زہریلی گولیاں پھانک لیں۔ اچانک وہاں سناٹا چھاگیا تھا، اتنا کہ جیسے کائنات کی ہر متحرک چیز حالت قرار میں آچکی ہو…. وہاں اب کوئی لٹو نہ تھا۔ وہ بے یقینی سے کھڑی ہوئی لڑکھڑائی اور پھر اوندھے منہ گرگئی اور گرتے ہی تکلیف کی اک لہر، دھماکے کی صورت اس کے وجود سے آن ٹکرائی تھی۔ شدید دباؤ، اندھیرا،گھٹن، پیاس، حلق سوکھ رہا تھا اور وہ تڑپ رہی تھی لیکن کمال کی بات یہ کہ وہ خود ہی اپنے تڑپتے وجود کو ذرا فاصلے پر کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ محسوس کرسکتی تھی کہ اسے کتنی تکلیف ہورہی تھی۔ وہاں زمین پر اس کا تڑپتا جسم تھا اور وہ دور بس، بہتی آنکھوں کے ساتھ کھڑی خود کو بے بسی سے تڑپتا دیکھ رہی تھی اور میز پر لٹو آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ساکت ہوگیا تھا۔
    ٭٭٭٭
    یہ انگور کے باغوں کی سرزمین تھی۔ اس کے خاندان والے پتھریلے پہاڑوں کے درمیان بستے اور اک سخت زندگی گزارتے تھے۔ یہ قلعہ سیف اللہ تھا اور وہ اس کی ہونہار بیٹی جاناں کاکڑ۔ اونچی نیچی گھاٹیوں پر جب چلتی تو یوں محسوس ہوتا تھا گویا جنگل میں کسی ہرنی نے کلانچ بھری ہو۔ تعلیم حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ اس کی اماں کہتی تھیں۔ ”جاناں پاگل تو نیند میں بھی اسکول کا سبق دہراتی رہتی ہے۔“

    اور ہاں وہ اتنی ہی پاگل تھی۔ جنونی تھی۔ اسے پڑھنا تھا بہت سارا۔ ڈھیر سارا۔ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا دیکھنا تھا۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ ڈاکٹر۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ قلعہ سیف اللہ، قبائل کی آماج گاہ تھا۔ جہاں روایات کی سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔ وہ ساتویں جماعت میں تھی تب سے برقعہ پہن کر اسکول جاتی تھی۔ برقعے کے اوپر کالی چادر کے نقاب سے محض اس کی ایک آنکھ ہی نظر آیا کرتی تھی۔ وہ قلعہ سیف اللہ کی ان چندخوش نصیب لڑکیوں میں سے تھی جو پرائمری سے اوپر تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ جاناں وہ طالبہ تھی جس نے اپنا ہر امتحان نمایاں درجے میں پاس کیا تھا۔ وہ برف زاروں میں پل کر بڑی ہوئی تھی لیکن خواہش، اک چنگاری کی صورت، طلب بن کر سینے میں بھڑکتی تھی۔ وہ خوش تھی، مگن تھی اور سمجھتی تھی کہ زندگی کا سفر اسی طرح کامیابی و کامرانی سے طے ہوتا چلا جائے گا۔ وہ امتحان پر امتحان پاس کرتی چلی جائے گی اور پھر…… پھر وہ دن ضرور آئے گا کہ جب وہ اسکالرز گاؤن پہنے اپنی Ph.D کی ڈگری وصول کرے گی۔ خوشی سے چیختے ہوئے اسکالرز کیپ کو ہوا میں اچھالے گی اور کوئی نامعلوم فوٹوگرافر اس کی آنکھ کی خوشی، اس کی ہنسی، اس کے چہرے کا جوش، طمانیت سب اک لمحے میں قید کرکے اسے زندہ جاوید بناڈالے گا۔ ہاں …… وہ ایسا ہی سوچتی تھی…… ایسا ہی سمجھتی تھی۔
    جب اس نے میٹرک میں پوزیشن حاصل کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ اتنی خوش تھی اتنی کہ لگتا تھا کہ بس اب خوشی سے مر ہی جائے گی۔ وہ۔ وہ جاناں کاکڑ۔ اک پسماندہ علاقے کی گورنمنٹ اسکول کی طالبہ، اُسی جاناں کاکڑ نے میٹرک میں ٹاپ کیا تھا۔ ٹاپ۔ یہ پہلی بڑی کامیابی تھی۔ پہلی بڑی کامیابی اور اتنی بڑی خوشی جو اُسے مار بھی ڈالتی تو غم نہ تھا۔ لیکن اسے تو جینا تھا۔ بہت سارا ایک لمبی زندگی گزارنی تھی کیوں کہ اسے تو پڑھنا تھا۔ ڈھیر سارا۔ اتنا زیادہ کہ اس کے نام کے ساتھ لکھا جاتا… ڈاکٹر جاناں کاکڑ……
    ٭٭٭٭

  • نان فکشن کیا ہے؟ ۔ کمرشل رائٹنگ

    نان فکشن کیا ہے؟ ۔ کمرشل رائٹنگ

    نان فکشن کیا ہے؟

    اخبارات میں چھپی کہانیاں، اداریے، قانونی دستاویزات، ذاتی اکاﺅنٹس اور نصابی کتب وغیرہ‘ یہ تمام چیزیں نان فکشن کہلاتی ہیں۔

    متن کی مناسبت سے فکشن کی تین درجہ بندیاں ہیں۔

    کہانیاں اور ناول، وہ نثر جو عام طو رپر پیراگراف سے لے کر کئی ابواب پر مشتمل ہوتی ہے۔

    شاعری، چھوٹی بڑی سطور جو منظوم یا غیر منظوم بند کی شکل اختیار کریں۔

    ڈرامہ سٹیج ڈائرکشن، ڈائیلاگ، مناظر اور ایکٹ۔

    معلوماتی دستاویزات کے علاوہ تمام فلمیں فکشن کے زمرے میں آتی ہیں کیوںکہ وہ کہانیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ جب کہ فلمی جائزے حقیقت پر مبنی ہونے کی وجہ سے نان فکشن کہلاتے ہیں۔ 

    یاد رہے کہ کچھ حد تک من گھڑت ہونے کے باوجود ‘ اخبارات میں چھپنے والے آرٹیکل بھی نان فکشن کے عنوان میں آتے ہیں۔ نان فکشن اکثر اپنی سچائیوں کے بے بنیاد دعوے کرتے ہیں مگر مسئلہ یہ جانچنا ہے کہ بحث کے باوجود یہ دعوے کس حد تک حقیقت کو بیان کرنے سے کامیاب رہتے ہیں۔

    پچھلے چندسالوںکے دوران فکشن اور نان فکشن کا امتیازی فرق بھی پھیکا پڑ گیاہے۔ فکشن رائٹرز اپنی کہانیوں کو حقیقی واقعات اور کرداروں کو نان فکشن کی طرز پر لکھ رہے ہیں اور تاریخ دان یا نان فکشن رائٹرز تاریخی کرداروں کے خیالات کو مزید پرتاثیر بنانے کے لیے اپنی تحریروں میں فرضی ڈائیلاگ شامل کر رہے ہیں۔

    نان فکشن کی کئی اقسام ہیں اور اُنہیں بیان کرنے کے کئی طریقے۔ ان سب چیزوں کے بارے میں تفصیلاً معلومات آپ کو آگے چل کر ملیں گی۔