اگر ہو مہربان تم — عطیہ خالد

امی نے میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔
’’تمہیں ماں سے یہی شکوہ ہے نا کہ میں نے تمہارے لیے ایسی لڑکی کا انتخاب کیوں کیا جو تمہارے لائق نہیں تھی۔ تم نادان ہو۔ ہم سب نادان ہیں احمد! میں نے تمہارے لیے ڈھونڈ کر ایک ایسی لڑکی تلاش کی تھی جس کے لائق تم تھے۔ بیوہ سے شادی کا بڑا اجر ہے میرے بیٹے۔ بڑا ثواب ہے۔ پھر ایک یتیم بچی کے باپ بن جاتے تو جنت جانے کا آدھا ٹکٹ مل جاتا تمہیں۔ میں نے تو اپنے بیٹے کے لیے جنت کی ٹکٹ ڈھونڈ کر نکالی تھی۔ یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھو گے تو اللہ تمہیں اس دنیا میں اور اس دنیا میں اپنی نعمتوں سے نوازے گا۔ تمہاری مشکلیں آسان کرے گا۔ یہ جو تم اپنے دوستوں اور دوسرے دنیا داروں کو دیکھ کر یہ سوچتے ہو کہ وہ ایسا کرتے ہیں تو تم بھی ویسا ہی کرو ۔ تو بیٹا یہی تمہاری سب سے بڑی غلطی ہے۔ خوب صورت چہرے، کم عمر لڑکیاں، اونچے گھرانے، زیادہ جہیز، یہ تو سب تو بس بہلاوے ہیں۔ دوڑ لگی ہوئی ہے جس میں سب اندھا دھند دوڑ رہے ہیں۔ اس دوڑ میں دوڑنے پر کوئی انعام نہیں ملے گا میر ے لال۔ انعام پانا ہے تو اللہ کو خوش کرو۔ میں جانتی ہوں کہ تمہیں کوئی بھی اپنی بیٹی ہنس کر دینے کو تیار ہوگا۔ اونچے سے اونچے گھرانے میں تمہارا رشتہ ہو جائے گا اور جس لڑکی سے میں تمہارا رشتہ کرنا چاہتی ہوں‘ اسے تو کوئی تین چار بچوں کا باپ ہی ملے گا۔ پر میں اپنے رب کو راضی کرنا چاہتی ہوں۔ میں اس لڑکی کو بہو بنا کر اس گھر میں لانا چاہتی ہوں تاکہ اللہ کے حضور سر خرو ہو جائوں۔ ہاں اگر تم نہیں مانو گے تومیں زبردستی نہیں کروں گی۔ تم جہاں کہو گے وہیں تمہاری شادی ہو گی۔‘‘





پتا نہیں میری امی کیا کہہ رہی تھیں، مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کیا دنیا کی ساری مائیں پاگل ہیں جو اکیس بائیس سال کی حور شمائل لڑکیاں بہو بنا کر لاتی ہیں۔ اونچے گھرانوں میں اپنے سپوتوں کی شادیاں کرتی ہیں۔ مائیں سو پچاس گھر کھنگالتی ہیں پھر کہیں جا کر ایک بہو ڈھونڈ کر لاتی ہیں۔ اورمیری ماں میرے لیے ڈھونڈ کر ایک بیوہ کا رشتہ لائی تھی۔ جو ایک بیٹی کی ماں بھی تھی۔ میرے دوست اتنا ہنسے تھے تو خاندان والے کتناہنسیں گے۔
’’میری نہ ہاں میں کبھی نہ بدلتی اگر فرقان کو طلاق نہ ہو جاتی۔ چار مہینے پہلے کار ایکسیڈنٹ میں فرقان کی ٹانگ میں فریکچر ہو گیا۔ تین آپریشن بھی ہو چکے تھے ، لیکن پھر بھی ٹانگ میں ہلکا سا لنگ آگیا۔ وہ چلتا تھا تو ایک پیر پر تھوڑا دبائو ڈال کر جھک کر چلنا پڑتا تھا۔وہ خود ڈاکٹر تھااور اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اب یہ ہلکا سا نقص اس کے ساتھ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ کسی آپریشن سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔بس اس اتنے سے نقص کو اس کی حور شمائل بیوی قبول نہیں کر سکی تھی۔پہلے دونوں کے درمیان تلخی بڑھی‘ پھر لڑائیاں ہونے لگی۔ ایک دن اس کی بیوی لڑ کر میکے گئی تو پھر واپس نہیں آئی۔ بات طلاق تک پہنچ چکی تھی۔ سارے محلے میں چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں۔کوئی کچھ کہہ رہا تھا اور کوئی کچھ۔ ڈرتے ڈرتے میں نے فرقان سے پوچھا، تو اس نے گہرا سانس لیا اور بس اتنا کہا۔
’’بڑا مان تھا مجھے اپنی وجاہت پر۔ پچاس ساٹھ رشتے ٹھکرائے تھے میں نے۔ امی جس لڑکی کی تصویر مجھے دکھاتی تھیں،میں اس میں سو سو نقص نکالتا تھا۔اب دیکھو مجھے۔ لنگڑا کر چلتا ہوں۔ ساری وجاہت گئی بھاڑ میں جس بیوی کی خوب صورتی پر مجھے بڑا ناز تھا، وہ اب میرے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بات بات پر کہتی تھی، کہاں میں کہاں تم۔ بس یار! وہ بات بات پر لڑتی ہی اس لیے تھی کہ میں اس کی جان چھوڑ دوں۔ ایک دن اسے منانے اس کے گھر گیا، تو اس کی باتیں سن لیں۔ وہ اپنی ماں سے کہہ رہی تھی کہ وہ مر جائے گی لیکن کسی لنگڑے کی بیوی بن کر نہیں رہے گی۔ میرا دل چاہا زمین پھٹے اور میں اس میں سما جائوں۔ بالکل ٹھیک ہوا تھا میرے ساتھ‘ میں نے بھی دوسری لڑکیوں کا ایسے ہی مذاق اڑایا تھا۔ پھر یار قصور ہماری مائوں کا بھی ہوتاہے‘ وہ پچپن ہی سے ہمارے ذہنوں میں یہ ڈال دیتی ہیں کہ ہم شہزادے ہیں اور ہمیں شہزادیاں ہی بیاہ کر لانی ہیں۔‘‘
فرقان کے دل کو بڑی چوٹ لگی تھی، میں بھی اس کے لیے اداس ہو گیا تھا۔ گھر آکر امی کے سامنے دل کا بوجھ ہلکا کیا تو انہوں نے نرمی سے کہا۔
’’میں نے کہا تھا بیٹا! گھر شکلوں یا چیزوں سے نہیں بستے۔ سب سے بڑی ذات صرف ہمارے سوہنے رب کی ہے۔ باقی ہم سب معمولی ہیں۔گھر کااور دل کا سکون ایسی بے معنی چیزوں میں ڈھونڈو گے تو اور بے سکون ہو جائو گے۔‘‘
میری ماں تہجد گزار بھی تھی۔ پتا نہیں کیوں مجھے لگا دنیا کی ساری مائیں اولاد سے زیادہ جانتی ہیں۔ جو انسان اللہ کے حضور دن میں پانچ وقت سجدے کرتاہے‘ اللہ اس کے دل میں بہت سے حکمت کی باتیں ڈال دیتا ہے۔ اسی لیے مائوں کو الہام ہوتے ہیں۔ میری چار جماعتیں پاس ماں ، دل کی بڑی صاف تھی اور اللہ سے ہر وقت سب کے لیے ہدایت مانگتی رہتی تھی۔
میں نے ثمینہ سے شادی کے لیے ہاں کہہ دی ۔ میں ڈر بھی گیا تھا کہ میری ماں کا تجربہ اورمیری ماں کی دانائی میری نادانی سے کہیں زیادہ ہے۔اگر میں نے ان کی بات نہ مانی تو میں بہت بڑ ا نقصان اٹھائوں گا۔
ثمینہ بھی امی کی طرح صوم و صلاۃ کی پابند تھی۔ اسے بھی الہام ہوتے تھے۔ بنا کہے سب سمجھ جاتی تھی۔ ایسے دھیمے دھیمے بولتی تھی کہ لگتا تھا کوئل کوک رہی ہو۔ میری شادی پر خاندان والے بڑا حیران ہوئے تھے۔ بہت باتیں بنی تھیں، لیکن امی بہت خوش تھیں۔ لوگ کہتے کہاں ہیرے جیسا بیٹا ڈبو دیا۔ تو امی ہنس دیتی میری طرف دیکھتی ہیں اورکہتی۔’’ دنیا والوںکی باتوں میں نہ آنا احمد! تیرا رب تجھ سے خوش ہے…تجھے اور کیا چاہیے۔‘‘
تین مہینے تو ثمینہ اپنی بیٹی کے بغیر رہی ‘ پھر ایک دن میں خود ہی جا کر ماہ نور کو گھر لے آیا۔ ڈھائی سال کی بچی میری گود میں آئی تو پھر اتری ہی نہیں۔ میں بھی اسے لے کر گھومتا رہا۔ہمارے گھر میں رونق آگئی تھی۔ امی اسے اپنے ساتھ سلاتی تھیں۔ میرے دوست میرا مذاق اڑاتے کہ میری شادی کو سال بھی نہیں ہوا اور میں ڈھائی سال کی بیٹی کا باپ بن گیا تھا۔مجھے برا تو لگتا تھا، لیکن جب ماہ نور پاپا کہہ کر میری طرف بھاگتی تو میرا سارا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا۔
٭…٭…٭
دبئی کی ایک فرم جہاں میں نے اپلائی کیا تھا‘ وہاں سے مجھے کال آگئی تو میں دبئی چلاگیا۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ ثمینہ اور ماہ نور میرے لیے کیا تھیں۔ ماہ نور تو مجھے بہت ہی زیادہ یاد آتی تھی۔جیسے ہی میں تھوڑا سا سیٹ ہوا‘ میں نے دونوں کو دبئی بلا لیا۔ وہ دونوں دو مہینے میرے ساتھ رہیں اور پھر واپس چلی گئیں۔ امی ابو کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے تھے ہم۔ اگلے سال مل کر ہم سب نے حج بھی کر لیا۔ دس مرلے کے گھر کو چھوڑ کر ایک کنال کا گھر لے لیا۔ مجھے زندگی میں کبھی معلوم ہی نہیں ہوا کہ سب کیسے ہوتا چلا گیا۔ دبئی کی جس فرم میں‘ میں کام کرتا تھا اس کے لیے میرے کلاس فیلوز نے بھی اپلائی کیا تھا‘ لیکن کال صرف مجھے آئی تھی۔ اگر کبھی کوئی مشکل آ بھی جاتی تو میں ماہ نور کو فون کرتا اور کہتا کہ’’ پاپا پریشان ہیں بیٹا! دعا کرو کہ میری پریشانی ختم ہو جائے۔ ‘‘ مشکل چند ہفتوں میں ٹل جاتی تھی۔ ماں نے کہا تھا، بس اس بیوہ سے شادی کر لو۔ اس کے ساتھ حسن سلوک رکھنا۔ اس سے کبھی سخت زبان میں بات نہ کرنا۔ یتیم ماہ نور کو پیٹ بھر روٹی کھلا دینا۔ اللہ تمہارے ساتھ بڑا مہربان رہے گا۔ پتا نہیں یہ ماہ نور کی ہی برکت تھی کہ گھر میں کبھی رزق کی کمی ہوئی ہی نہیں تھی۔
ایک با رمیری فرم نے ورکرزکی چھانٹی کرنی شروع کر دی تھی۔مجھے بھی نوٹس مل چکا تھا۔ پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ عین وقت پر مجھے واپس بلا لیا گیا۔ اپنی زندگی میں اپنی مشکلات گننے بیٹھوں تو وہ بے شمار ہیں، لیکن وہ کیسے ٹل گئیں، یہ میں آج تک نہیں جان سکا۔ میرا باس سب پر چلا لیتا تھا۔ جیسے ہی میری شکل دیکھتا، اس کی زبان کی سختی نرمی میں بدل جاتی تھی۔ ایک بار سر سے پوچھا کہ سب کہتے ہیں آپ مجھ سے بڑا دب کر بات کرتے ہیں۔ کیا وجہ ہے ، تو وہ مسکرا د یے۔
’’احمد صاحب آ پ کی تو بات ہی اور ہے۔‘‘
’’میری کیا بات ہے سر؟‘‘ میں نے پوچھا، تو وہ الجھن بھری نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے سر کھجانے لگے۔
’’پتا نہیں، پر کوئی بات تو ہے۔ آپ کے سامنے زبان کو تالا لگ جاتاہے۔ڈر بھی لگتا ہے کہ کچھ ایسا ویسا منہ سے نکل گیا تو پتا نہیں کیا ہو جائے گا۔‘‘
میں سال بعد پاکستان کا چکر لگا تا تو کوئی نہ کوئی دوست مل جاتا۔ مل بیٹھ کر گھنٹوں دل کی باتیں کرتا اور پھر جاتے ہوئے کہتا جاتا۔
’’تو ٹھیک رہ گیا ہے یار! سکون تو بس ہماری زندگیوں میں نہیں ہے۔‘‘
امی نے ٹھیک کہا تھا،زندگی کی خوشیاں ان چیزوں میں نہیں ہیں جن میں ہم ڈھونڈتے ہیں۔ ذرا سا دل بڑ ا کر کے اگر مجھ جیسا ایک لڑکا اور امی جیسی ایک ماں ایک ایسی لڑکی کو میری بیوی اور اپنی بہو بنا کر گھر لے آئیںگی جسے معاشرے کمتر سمجھتا ہے، تو یہ بھی ایک نیکی ہے۔ایک بیوہ ایک کنوارے کی بیوی بن سکتی ہے۔ ایک یتیم بچی ‘ مجھ جیسے باپ کے زیر سایہ پل سکتی ہے۔ہم اگر اہل زمین پر مہربان ہو ں گے تو ہی ہمارا رب ہم پر مہربان ہو گا۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

اناہیتا — تنزیلہ احمد

Read Next

شبِ آرزو کا چاند — مونا نقوی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!