اب میرا انتظار کر — عمیرہ احمد

23مئی
لاہور
ڈیئر مریم!
السلام علیکم!
پچھلے دنوں سے میری عجیب حالت ہو گئی ہے۔ ہر وقت ایک عجیب سی بے چینی میرے وجود کو گھیرے رہتی ہے۔ کسی چیز میں میرا دل نہیں لگ رہا۔ اب تو ٹرینکولائزرز کا بھی مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ میرا دل چاہتا ہے۔ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کہیں دور بھاگ جاؤں کسی جنگل ‘ کسی ویرانے میں جہاں کوئی نہ ہو’ کوئی بھی نہ ہو۔
مریم! مجھے فون کرو’ مجھ سے بات کرو۔ میں تمہاری آواز سننا چاہتی ہوں۔ میں اپنے لیے کسی ایک آواز میں محبت اور نرمی محسوس کرنا چاہتی ہوں۔
خدا حافظ
درمکنون
***
24جون
لاہور
ڈیئر مریم!
السلام علیکم!
اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم رو رو کر میرے لیے پاگل ہو رہی ہو گی اور اس حالت میں اس طرح رونا اور پریشان ہونا تمہارے لیے کس قدر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے تو میں اب تمہیں کبھی خط نہ لکھتی۔ میں جانتی ہوں۔ پچھلے چند ہفتوں میں تم نے کئی بار مجھے فون کیا ہے’ مگر پھر بھی تمہاری مجھ سے گفتگو نہیں کروائی گئی۔ بہت اچھا ہوتا مریم! اگر تمہیں یہ پتا نہ چلتا کہ میرا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے۔ اور میں ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوں۔ جس مشکل سے میں یہ کاغذ اور قلم ڈاکٹر سے حاصل کر سکی ہوں۔ وہ صرف میں ہی جانتی ہوں۔ اور اب میں تمہیں خط لکھ رہی ہوں۔
مریم! میں ٹھیک ہوں۔ زندہ ہوں۔ تم پریشان مت ہونا۔ میرے لیے دعا کرنا۔
خدا حافظ
درمکنون
***




25جولائی
لاہور
ڈیئر مریم!
السلام علیکم!
پچھلے دو ماہ مجھ پر بہت بھاری گزرے ہیں۔ اب جب ایک بار پھر ہاسٹل کے اس کمرے میں واپس آئی ہوں تو مجھے تم یاد آ رہی ہو۔ مریم! میرے وجود کے اندر اس قدر خاموشی ہے کہ مجھے یوں لگنے لگا ہے۔ جیسے میرے اندر کہر جم گیا ہو۔ وہی ہڈیوں تک اتر جانے والا۔ دسمبر کا سرد اور سفاک کہر اور حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کل جولائی ہے اور پھر بھی … آج آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر مجھے بے تحاشا ہنسی آئی۔ آئینے میں نظر آنے والا چہرہ درمکنون کا چہرہ تھا اور درمکنون ہی اسے پہچان نہیں پا رہی تھی۔
ہاسپٹل میں گزارے ہوئے دو ماہ نے مجھے بے حد بدصورت کر دیا ہے۔ اب تو شاید تم بھی مجھے پہلی نظر میں پہچان نہیں سکو گی۔ مگر مریم! میرا چہرہ بدلے یا وجود’ قسمت کبھی نہیں بدلے گی۔ اس کو میرے ساتھ ساتھ ہی رہنا ہے۔ پچھلے دو ماہ سے اپنے اردگرد وہی چہرے دیکھ دیکھ کر بے زار ہو گئی ہوں۔ تم سوچوگی میں کیسی بیٹی ہوں جو اپنے ماں باپ کے چہرے دیکھ کر بے زار ہو جاتی ہے۔ مگر مریم! میں کیا کروں۔ مجھے ان دونوں کے چہرے پر کوئی شفقت ‘ کوئی مانوسیت نظر نہیں آتی۔ مجھے دوسرے لوگوں اور ان کے چہروں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
ان دونوں نے مجھ سے اتنی بڑی قربانی لی ہے کہ میری ذات پر کیے جانے والے ان کے سارے احسان اس ایک قربانی کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہو گئے ہیں۔
جب میں نے قیمت چکا دی تو پھر رشتے کس حد تک رہ گئے؟ ان کے مہنگے ڈاکٹر’ قیمتی میڈیسنز اور عمدہ خوراک میرے دل کے بیچوں بیچ لگائے گئے گھاؤ نہیں بھر سکتے۔ وہ مجھے خوش رکھنے کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں تاکہ میں مکمل صحت یاب ہو جاؤں۔ ہاں بس عاشر عثمان مجھے نہیں دے سکتے۔ اور مجھے مریم! مجھے بس اسی ایک چیز کی ضرورت ہے۔ تم نے فون پر بار بار مجھ سے کہا تھا۔
”درمکنون! تمہیں نروس بریک ڈاؤن کیسے ہو گیا؟ تم اتنی کمزور تو نہیں تھیں۔”
ہاں مریم! میں پہلے کمزور نہیں تھی۔ اب ہو گئی ہوں۔ اپنے وجود اور ذات کی کرچیاں سنبھالنا کتنا مشکل کام ہے۔ یہ تم نہیں جانتیں اور میں … آج کل یہی کام کر رہی ہوں۔ میری بیماری نے مجھے دو ماہ تک ان دونوں باڈی گارڈز کے بھیانک چہروں سے دور رکھا۔ اب ہاسٹل میں آنے کے بعد ایک بار پھر وہی چہرے میرے وجود کو اپنی نظروں سے چھلنی کرنے کے لیے میرے سامنے ہوں گے۔ میں جانتی ہوں۔ میں عاشر عثمان والی غلطی نہ کرتی تو بابا ان دونوں کو عذاب کی شکل میں میرے سر پر مسلط نہ کرتے۔
مگر اب تو عاشر عثمان میری زندگی میں نہیں ہے اب تو وہ اس شہر’ اس ملک میں بھی نہیں ہے۔ پھر بھی بابا کو اتنی بے اعتباری کیوں ہے؟ مریم! مجھ میں اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ میں ان سے یہ کہہ سکوں کہ وہ مجھ پر اعتبار کریں۔ مجھ پر اس طرح پہرے مت بٹھائیں۔
میرا دل چاہتا ہے۔ میں شادی کر لوں۔ کسی بھی شخص سے مگر بس وہ سید نہ ہو۔ اس کے ساتھ میں عام زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔ تمہارے جیسی زندگی سب لڑکیوں جیسی زندگی۔ مریم! میں کسی گدی کی جانشین بننا چاہتی ہوں نہ کسی مزار کی متولی۔ مجھ میں اتنی پاکیزگی ہے نہ روحانیت۔ میں نفس کو نہیں مار سکتی ہوں۔ میں لوگوں کو ان چیزوں کی دعائیں نہیں دے سکتی جو میرے پاس نہیں ہیں۔ عورتیں میرے ہاتھ چومیں’ میری چادر کو آنکھوں سے لگائیں’ میرے سامنے الٹے پیروں واپس جائیں۔ یہ سب میری خواہش نہیں ہے۔ مجھے یہ سب نہیں چاہیے۔
مجھے گھر چاہیے۔ میں اپنی زندگی اجاڑ کر لوگوں کی زندگی نہیں سنوار سکتی اور یہ سب مریم! یہ سب میں بابا سے نہیں کہہ سکتی۔ وہ یہ سب سمجھ ہی نہیں سکتے۔ وہ تو کچھ بھی سمجھ نہیں سکتے۔ میری ذات کا کوئی فیض میرے وجود کو نہ پہنچے اور میں ساری عمر لوگوں کو تعویذ دیتی رہوں۔ پھونکیں مارتی رہوں۔ کیوں مریم میں کیوں یہ سب کروں۔ کیا اللہ نے مجھے ہی زندگی اس لیے دی تھی کہ میں اس کو قربانی بنا کر رکھ دوں۔
بعض دفعہ میرا جی چاہتا ہے میں کہیں بھاگ جاؤں۔ بہت دور کہیں اتنی دور کہ کوئی میرے نام کے ساتھ کوئی القاب نہ لگائے۔ میں جو چاہے کروں۔ جیسے چاہوں رہوں۔ کوئی یہ نہ کہے کہ درمکنون سید زادی ہو کر یہ کر رہی ہے۔ مگر میں کہیں نہیں جا سکتی۔ میرے قدموں کی زنجیر یہی لفظ ہیں۔ نام ہے۔ خاندان ہے۔ مجھے ہر وقت اپنے وجود پر کیڑے رینگتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے میں زندہ نہیں ہوں۔ جیسے میں کوئی اور ہوں۔ درمکنون کوئی اور ہے۔
آج کل میری دماغی حالت کچھ ایسی ہے۔ اور میں زمین پر ایک بار پھر پیر جمانے کی کوشش کر رہی ہوں۔
مریم! میرے لیے دعا کرو۔
خدا حافظ
درمکنون
***
26 اگست
لاہور
ڈیئر مریم!
السلام علیکم!
مریم! میرے لیے عذاب ایک ایک کر کے بڑھتے ہی جا رہے ہیں اور ان کے کم ہونے کا کہیں کوئی امکان نہیں ہے۔ چند دن پہلے بابا میرے لیے ایک پرپوزل لے کر آئے تھے۔ اور بھلا کس کا؟ میرے خالہ زاد اور مجھ سے چار سال چھوٹے سبط علی کا۔ اور جانتی ہو’ ستم ظریفی کیا ہے’ درنجف اور سبط علی دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور یہ بات اگر مجھے معلوم ہے تو کیا بابا کو پتا نہیں ہو گی۔ امی نہیں جانتی ہوں گی۔
سبط علی نے بہت احتجاج کیا تھا۔ مگر پھر بھی اسے خاندان کی عزت کا واسطہ دے کر سب نے اپنی بات ماننے پر مجبور کیا ہے اور کسی نے درنجف کا نہیں سوچا۔ اس کا دل کتنا بانجھ ہو جائے گا۔ یہ خیال کسی کو کیوں نہیں آیا اور مریم! مجھے بتاؤ’ میں کیسے اپنی بہن کے گلے میں پڑا ہوا ہار کھینچ کر اپنے گلے میں ڈال لوں۔ کیسے اس کی آنکھوں میں جلتی ہوئی روشنی کو بجھا کر اپنی آنکھوں کے دیے روشن کرنے کی کوشش کروں۔ میرے لیے کوئی ایثار کیوں کرے۔ کوئی قربانی کیوں کرے۔
میرے نروس بریک ڈاؤن نے بابا کو میرے بارے میں پریشان کر دیا ہے۔ اب وہ دوسروں کی چھتیں گرا کر میرے لیے محل تیار کرنا چاہتے ہیں۔
میں ان کی جانشین ہوں۔ ان کی گدی کی وارث جو ہوئی۔ پہلے میرا دل اجاڑ کر اب گھر آباد کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی دوسری بیٹی کا دل اجاڑ کر۔
مریم! ماں باپ اتنے خود غرض کیوں ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنی عزت اور رواجوں کے سامنے اولاد کی آنکھوں کے پاتال نظر ہی نہیں آتے۔
”ہم نے تمہیں یہ دیا۔ ہم نے تمہیں وہ دیا۔”
اور پھر وہ ان سب نوازشات اور عنایات کی قیمت مانگتے ہیں اور قیمت اگر زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہو تو دل کس طرح خون ہوتا ہے۔ یہ تم نہیں جان سکتیں مریم! یہ صرف میں جان سکتی ہوں یا پھر درنجف۔ ایک معمولی سا عقیدہ’ ایک معمولی سی انا اتنی بڑی چیزیں بن گئی ہیں کہ ان کے ہاتھوں بہت سی سیدہ درمکنون اور درنجف خوار ہو جاتی ہیں۔ کیا عاشر عثمان سے میری شادی سارے مسائل کا حل نہیں ہے؟ بتاؤ مریم! کیا ایک چھوٹی سی قربانی سب کچھ ٹھیک نہیں کر سکتی؟ بابا مجھے بے شک جائیداد سے عاق کر دیں۔ بے شک اپنا جانشین نہ بنائیں۔ بس اپنی مرضی سے میری شادی عاشر عثمان سے کر دیں۔ مجھے اپنی مرضی سے اپنے گھر سے رخصت کردیں۔ پھر چاہے ساری عمر اپنے پاس نہ آنے دیں اور بابا کو یہی کام سب سے مشکل لگتا ہے۔ یہ ہی کام پہاڑ لگتا ہے۔ مجھے خوشی دینا چاہتے ہیں مجھے گھر دینا چاہتے ہیں۔ عاشر عثمان کے بغیر کیا میرے لیے خوش رہنا اور کسی دوسرے شخص کا گھر آباد کرنا ممکن ہے۔ وہ بھی اس شخص کا گھر جسے میری بہن چاہتی ہے۔ جو درنجف کا عاشر عثمان ہے۔
مریم! سیدوں کے گھر بیٹیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ صرف بیٹے ہی ہونے چاہئیں۔ یہ لوگ بیٹیوں سے محبت کے دعوے کرتے ہیں انہیں سیپ میں بند موتی کی طرح رکھتے ہیں اور ساری عمر سیپ میں ہی بند رکھنا چاہتے ہیں۔ مریم! تم نے کبھی موتی کو گھن لگتے دیکھا ہے؟ میں نے دیکھا ہے ہاں مریم سیپ میں بند موتی کو کبھی گھن لگ جاتا ہے۔ پھر وہ اندر ہی اندر برادہ بن جاتا ہے ۔ کوئی شور کوئی آواز کیے بغیر۔
سیدہ درمکنون کو بھی سب نے مل کر سیپ کا موتی بنا دیا ہے۔ سیپ میں بند کر دیا ہے۔ اب گھن لگانا چاہتے ہیں۔ برادہ بنانا چاہتے ہیں اور سیدہ درمکنون انہیں روک نہیں سکتی۔ ہاتھ نہیں پکڑ سکتی۔ چیخ نہیں سکتی۔ بُرا بھلا نہیں کہہ سکتی۔ سر نہیں اٹھا سکتی۔
یہ سب کام اہل سادات کی بیٹیاں نہیں کر سکتیں۔ مجھے بتاؤ مریم! میں کیا کروں۔ میں کہاں جاؤں۔
لوگ کہتے ہیں سیدوں کی دعائیں ہمیشہ قبول کی جاتی ہیں۔ سیدوں پر آفتیں نہیں آتیں۔ مریم! اہل سادات پر اور آتا ہی کیا ہے۔ صبر کریں تو دل مر جاتا ہے۔ صبر نہ کریں تو ساری عمر ضمیر سنگسار کرتا ہے۔ ماں باپ کی بددعائیں دوزخ بن کر پیچھے بھاگتی رہتی ہیں۔ زمین پر دونوں پاؤں سے کھڑا رہنا ایک پاؤں پر کھڑے رہنے سے زیادہ مشکل ہے۔ ایک پاؤں پر کھڑا رہنے پر آپ تھک کر تو گر سکتے ہیں۔ دونوں پاؤں پر کھڑے رہنے سے یہ بھی نہیں ہو سکتا۔
میری دعا کسی کو نہیں لگتی۔ میں تمہارے لیے دعا نہیں کروں گی۔ تم میرے لیے دعا کرنا۔
خدا حافظ
درمکنون
***




Loading

Read Previous

بس اِک داغِ ندامت — عمیرہ احمد

Read Next

ابھی تو مات باقی ہے — عمیرہ احمد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!