اب میرا انتظار کر — عمیرہ احمد

27 ستمبر
لاہور
ڈیئر مریم!
السلام علیکم!
میری سالگرہ کا دن یاد رکھنے کے لیے تمہارا شکریہ۔ جانتی ہوں تم اس جملے پر ناراض ہو جاؤگی پھر بھی۔ تمہارا کارڈ اور گفٹ ہمیشہ کی طرح پسند آیا۔ اس بار پہلی دفعہ تم نے مجھے اپنے ہاتھ سے یہ دونوں چیزیں نہیں دیں۔ بلکہ پارسل کی تھیں۔ اس سال میری زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں یہ بھی ایک تبدیلی تھی۔ اپنی سالگرہ والے دن تمہارا فون سن کر میں بہت دیر تک روتی رہی۔ بہت سے لوگ مجھ سے جتنے دور ہیں۔ میرے دل کے اتنے ہی پاس ہیں اور میری بدقسمتی یہ ہے کہ مجھے اب ان لوگوں کے بغیر ہی’ ان سے دور ہی رہنا ہے۔
مریم ! سالگرہ والے دن تم سے پہلے اس نے بھی مجھے فون کیا تھا۔ میں نے اس کی آواز پہچانتے ہی فون بند کر دیا تھا۔ پھر میٹرن کو یہ کہہ کر اپنے کمرے میں آ گئی کہ عاشر عثمان کی کسی فون کال پر مجھے نہ بلایا جائے اور مریم! وہ رات تک کالز کرتا رہا تھا۔ میں نے اس سے بات کرنے سے اس کی آواز سننے سے خود کو باز رکھا۔ مگر میں اس کا کارڈ اور گفٹ وصول کرنے سے خود کو روک نہیں سکی۔
میں جانتی ہوں۔ مجھے یہ دونوں چیزیں نہیں لینی چاہیے تھیں۔ مگر مریم! میں کیا کروں؟ تم بتاؤ میں کیا کروں؟ مریم! میں اس کا ہر کارڈ’ ہر خط لے لیتی ہوں۔ میں بزدل ہوں’ میں منافق ہوں۔ میں ماں باپ کی نافرمان اولاد ہوں۔ میں باغی ہوں۔ میں سرکش ہوں۔
میں نے بابا سے وعدہ کیا تھا کہ میں عاشر کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھوں گی۔ اور میں … مریم! میں ان کو صریح دھوکا دے رہی ہوں۔ مگر میں کیا کروں۔ مجھے زندہ رہنا ہے۔ اس کے کارڈز اور خطوں کے بغیر میں مر جاؤں گی۔ میں اس کو ان خطوں کا جواب نہیں دیتی مگر وہ پھر بھی مجھے خط لکھتا رہتا ہے۔ کارڈ بھیجتا رہتا ہے۔ یاد دہانی کراتا رہتا ہے کہ وہ مجھ سے ‘ صرف مجھ سے صرف درمکنون سے محبت کرتا ہے۔ صرف مجھے چاہتا ہے۔ صرف میری پروا کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ مریم! وہ مجھے یاد رکھے گا تو اپنی زندگی عذاب بنا لے گا۔ بھول جائے گا تو میری زندگی جہنم بن جائے گی۔ پھر بھی مریم پھر بھی میری خواہش ہے کہ وہ مجھے بھول جائے۔ درمکنون کے بغیر زندگی کو دیکھے۔
یہی بہتر ہے عاشر عثمان کے لیے۔ آہستہ آہستہ ہی سہی مگر اسے میرے بغیر رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تم ایک بار پھر اس سے بات کرو’ اسے سمجھاؤ۔ اس سے کہو یہ میں چاہتی ہوں۔ یہ میری خواہش ہے۔
تم نے پوچھا ہے کہ میں تمہارے بیٹے یا بیٹی کے لیے نام تجویز کروں۔ تم میرا دیا ہوا نام اسے دینا چاہتی ہو۔ یہ تمہاری خواہش ہے۔ میں اسے کیسے رد کردوں۔ اگر تمہارے ہاں بیٹا ہوا تو اس کا نام بلال رکھنا اور اگر بیٹی ہوئی تو معصومہ مگر میری دعا ہے۔ تمہارے ہاں بیٹی نہ ہو۔ ہاں مریم! یہ جاننے کے باوجود کہ تم اپنی بیٹی کو بہت چاہو گی۔ بہت اختیار دوگی پھر بھی میں چاہوں گی کہ تمہارے ہاں بیٹی نہ ہو۔
خدا حافظ
درمکنون
***





28 اکتوبر
لاہور
ڈیئر مریم!
السلام علیکم!
اس سال پہلی اور شاید آخری اچھی خبر مجھے تم نے دی ہے فون پر میں نے تمہیں بلال کی پیدائش پر مبارک باد دے دی ہے۔ اب تحریر کے ذریعے ایک بار پھر مبارک دے رہی ہوں۔ میری دعا ہے بلال تمہاری زندگی کو ہمیشہ خوشیوں سے منور کرتا رہے۔ تم نے اس کی پیدائش کے تین دن بعد اس کی جو فوٹو گرافس کھینچ کر مجھے بھیجی ہیں وہ مجھے مل گئی ہیں اور مریم میرا دل چاہ رہا ہے۔ میں اڑ کر تمہارے پاس پہنچ جاؤں۔
وہ بالکل تمہارے جیسا ہے اور تمہیں لگتا ہے اس کی شکل میرے جیسی ہے۔ میرا دل اس کی تصویر دیکھ کر چاہتا ہے کہ میں اس کے چہرے کے نقوش کو ہاتھ سے محسوس کروں۔ ماتھا’ آنکھیں’ ناک’ ہونٹ’ گال’ ٹھوڑی ہر چیز اور اس کھکھلاہٹ کو سنوں جو تمہارے دل سے بلال کو دیکھ کر ابھرتی ہو گی۔ میرا دل چاہتا ہے مریم! کاش میں اس وقت تمہارے پاس تمہارے ساتھ مل کر بلال کو دیکھتی۔ تمہارے چہرے پر ابھرنے والی شفق دیکھ کر ایک بار پھر ہنسنے کی کوشش کرتی۔ ویسے ہی جس طرح ہم دونوں کبھی مل کر ہنسا کرتے تھے۔ مگر جانتی ہوں۔ یہ بھی ممکن نہیں ہے۔ میں بلال کے لیے کچھ گفٹس بھیج رہی ہوں۔ تم مجھے اس کی کچھ اور تصویریں بھجواؤ۔
خدا حافظ
درمکنون
***
29 نومبر
لاہور
ڈیئر مریم!
السلام علیکم!
مریم! کل مجھے میرے نہ چاہنے کے باوجود سبط علی سے منسوب کر دیا گیا اور کل سے میں اپنے کمرے میں بند ہوں۔ مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں ہے کہ میں درنجف کا سامنا کر سکوں۔ یا خود اپنا چہرہ ہی آئینے میں دیکھ سکوں۔ درنجف پچھلے چار دنوں سے گونگوں کی طرح میرے سامنے پھر رہی ہے۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ مجھ سے کہہ سکتی کہ میں سبط علی سے شادی نہ کروں۔ کیونکہ وہ سبط علی سے محبت کرتی ہے۔ میں نے اس کی آنکھوں میں وہی ویرانی دیکھی ہے جو کبھی عاشر عثمان کا رشتہ ٹھکرائے جانے پر میری آنکھوں میں در آئی تھی۔ میں نے اس کے وجود کو اسی طرح گم اور کھویا کھویا دیکھا ہے۔ جس طرح پچھلے ڈیڑھ سال سے میں بنی ہوئی ہوں۔ مگر پھر بھی وہ بولتی نہیں۔ کہتی نہیں کہ اس کی زندگی تباہ ہو رہی ہے۔ اسے پتا ہے کہ سبط علی کے بعد خاندان میں اور کوئی دوسرا رشتہ نہیں ہے۔ اگر میری شادی اس سے ہو گئی تو پھر درنجف کو ساری زندگی پھوپھو آمنہ کی طرح اسی حویلی کی چار دیواری میں لمبی لمبی چادروں میں لپٹ کر گزارنی پڑے گی مگر مریم! وہ پھر بھی چپ ہے۔ میرے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتی ہے۔ اس نے سوچا ہو گا کہ عاشر عثمان کا صدمہ بھلانے کا یہی واحد راستہ ہے۔ مگر مریم! سبط علی کبھی بھی عاشر عثمان کی جگہ نہیں لے سکتا۔ اور دیکھو مریم! میں کس قدر بزدل ہوں۔ میں نے کچھ کہے بغیر سبط علی کے نام کی انگوٹھی اپنے ہاتھ میں پہن لی ہے۔ تقریباً دو ماہ بعد میں سبط علی اور درنجف کے خواب اجاڑ کر اپنا گھر بسانے چلی جاؤں گی۔ اور جب عاشر عثمان کو یہ سب پتا چلے گا تو کیا وہ مجھ پر تھوکے گا نہیں۔
اور کیا میں سبط علی کے ساتھ خوش رہ سکتی ہوں؟
اس سوال کا جواب تم جانتی ہو۔ مگر مریم پھر بھی میرے والدین نے اپنی دونوں بیٹیوں کو ایک ہی چھری سے ذبح کرنے کا اہتمام کر لیا ہے۔ میں درنجف کا چہرہ پڑھ سکتی ہوں۔ کیا وہ نہیں پڑھ سکتے؟ بابا دوسروں کی بیٹیوں کے لیے اچھے نصیبوں کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ انہیں اپنی بیٹیوں کا خیال کیوں نہیں آتا؟ بیٹی نہ سمجھتے مریدنی سمجھ کر ہی ہمارے حق میں دعاکرتے۔ پہلے درمکنون اجڑی تھی۔ اب درنجف کی باری ہے۔ پیچھے کون رہ جائے گا۔ کیا رہ جائے گا۔ سات نسلوں سے چلی آنے والی اس رسم کو کسی کو تو بدلنا چاہیے۔ کسی کو تو بنیاد کا پتھر بننا چاہیے۔ مگر میں’ ہاں میں اعتراف کرتی ہوں کہ میں بنیاد کا وہ پہلا پتھر نہیں بن سکتی۔ بنیاد کے اس پہلے پتھر کو بہت نیچے’ بہت گہرا دفن ہونا پڑتا ہے۔ بہت وزن سہارنا پڑتا ہے اسے۔ اور میں مریم! میں اندر سے اتنی کھوکھلی’ اتنی بھربھری ہو چکی ہوں کہ کبھی بھی وہ پہلا پتھر نہیں بن سکتی۔ اس شخص سے شادی کرنا کیسا لگتا ہے جس کے دل میں کوئی پہلے سے ہی آباد ہو چکا ہو اور کیسا لگتا ہے مریم! یہ علم کہ وہ دل آباد کرنے والا آپ کو بھی بہت عزیز ہو۔
دو ماہ بعد میری زندگی میں ایک ایسا ہی بٹا ہوا شخص آئے گا۔ جس کے دل میں میری ہی طرح کوئی پہلے سے ہی آباد ہو گا۔ اسے درنجف یاد آئے گی۔ مجھے عاشر عثمان۔ میرے وجود میں اسے نجف کی جھلک نظر آئے گی اور اس کے وجود میں … میں عاشر عثمان کی شبیہہ ڈھونڈوں گی۔ اور یہ تلاش ہمیشہ جاری رہے گی۔ ہم دونوں کو ساری عمر اپنے اپنے آسیبوں کے ساتھ رہنا ہے۔ ہاں مریم! جس سے محبت کی جائے’ وہ اگر نہ ملے تو پھر وہ آسیب ہی بن جاتا ہے۔ لرزاتا ہے۔ ہولاتا ہے۔ تڑپاتا ہے۔ رلاتا ہے۔ ہاں مگر مارتا نہیں۔ مریم ! بس مرنے نہیں دیتا۔ موت جیسی نعمت حاصل ہونے نہیں دیتا۔ مریم! میرا دل چاہ رہا ہے۔ میں اپنی ساری ڈگریاں ایک ایک کر کے ایک بہت بڑے الاؤ میں جلاؤں۔ انہیں بہت اونچا اچھالوں اور پھر جب وہ زور سے بھڑکتے ہوئے الاؤ میں گریں اور شعلے یک دم تیز ہو جائیں تو میں زور زور سے قہقہے لگاؤں۔ ہنسوں’ چیخیں مار مار کر ہنسوں۔ میرا کوئی سرٹیفکیٹ’ کوئی ڈگری۔ میری ذات کو ریت کا ایک ڈھیر بننے سے نہیں روک سکتا۔ کوئی گولڈ میڈل مجھے عاشر عثمان نہیں دلا سکتا۔ کوئی رول آف آنر سبط علی سے میری شادی نہیں رکوا سکتا۔ اور پھر بھی مریم! پھر بھی میں اس دنیا میں رہنا چاہتی ہوں۔ ہے ناحیرت کی بات کہ مجھے ابھی بھی زندگی سے نفرت نہیں ہوئی۔ ابھی بھی یہاں میرا دم نہیں گھٹا۔ مگر کب تک مریم! کب تک میں اس طرح سانس لیتی رہوں گی۔ دوسروں کے گلے گھونٹ کر میں کب تک زندہ رہوں گی۔ پہلے عاشر عثمان تھا۔ صرف عاشر عثمان۔ اب درنجف اور سبط علی۔ میری گردن پر کتنوں کا خون آئے گا۔ میری بزدلی کتنوں کی زندگیاں اجاڑے گی۔ کتنوں کی آنکھوں کے خواب چھینے گی۔ میں جو کچھ کر رہی ہوں۔ اپنی مرضی سے نہیں کر رہی۔ مگر پھر بھی پشیمان ہوں اور وہ جو یہ سب کچھ کر رہے ہیں’ بقائمی ہوش و حواس کر رہے ہیں۔ مریم! ان کا دل کیوں نہیں کانپتا؟ انہیں خوف کیوں نہیں آتا؟
مریم! میرے لیے کچھ ایسا کرو کہ مجھے سکون آ جائے۔ یہ کانٹے جو میرے وجود پر اگ آئے ہیں’ یہ ختم ہو جائیں۔
درمکنون
***




Loading

Read Previous

بس اِک داغِ ندامت — عمیرہ احمد

Read Next

ابھی تو مات باقی ہے — عمیرہ احمد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!