الف — قسط نمبر ۰۳

وہاں کھڑے قلبِ مومن نے میوزک کی دھن پر ناچتے ہوئے لوگوں کے درمیان سے گزرتے عبدالعلی کو عجیب ندامت اور شرمساری سے دیکھا۔ ندامت اور شرمساری اُسے کس لیے محسوس ہو رہی تھی، وہ یہ بوجھ نہیں سکا۔ گیسٹ روم کے کھلے دروازے سے اندر جانے سے پہلے مومن نے دادا کو پلٹتے دیکھا۔ یوں جیسے وہ جانتے تھے کہ وہ اُنہیں ہی دیکھ رہا ہے۔ وہیں کھڑا ہے۔ دونوں کی نظریں ملیں مومن نے نظریں چرائیں پھر جب اُس نے دوبارہ گیسٹ روم کے دروازے کو دیکھا تو وہ بند ہوچکا تھا۔ دادا اندر جاچکے تھے۔
”یہ کون تھے؟” نیہا لپکتی اُس کی طرف آئی تھی۔
”میرے دادا۔” قلبِ مومن کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
”دادا؟” نیہا کو جیسے کرنٹ لگا۔ تم نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ تمہارا کوئی فیملی ممبر بھی ہے۔” وہ بھونچکا ہوکر اُس سے بولی تھی۔
”ہاں بس یہی ہیں۔” مومن نے جیسے خود کو سنبھالا۔
”ملائو مجھے۔” نیہا نے یک دم اصرار کیا۔
”نہیں آج نہیں، پھر کسی دن ملواتا ہوں۔۔۔ سفر کرکے آئے ہیں آج، تھکے ہوئے ہوں گے۔” قلبِ مومن نے کہا۔
”میرے بارے میں کچھ تو بتایا ہو گا انہیں؟” نیہا کریدے بغیر نہیں رہ سکی۔
”بہت کچھ۔” قلبِ مومن نے مسکرا کر اُس کی آنکھوں میں دیکھا ور اُس کا بازو پکڑتے ہوئے کمال اعتماد سے جھوٹ بولا۔
اُسے اب اس پارٹی کا کچھ کرنا تھا۔۔۔ مگر کیا کرنا تھا یہ اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
گیسٹ روم میں سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا اُنہیں ہمیشہ ملتا تھا سوائے دیوار پر لگی اُس nude پینٹنگ کے جو پہلے وہاں نہیں لگی ہوتی تھی۔ عبدالعلی کی نظر اُس کمرے میں آنے کے بعد سب سے پہلے اُس پینٹنگ پر ہی پڑی تھی اور وہ ٹھٹک گئے۔ شکور کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے اب اُن کا سامان رکھ رہا تھا۔ اُس نے دادا کو دیوار پر لگی اُس پینٹنگ کی طرف متوجہ ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ دروازہ بند ہوتے ہی باہر گونجتا شور یک دم ہلکا ہوا۔
”اس دفعہ آپ بہت دنوں بعد آئے دادا جان۔” شکور نے اُن کا بیگ اور وہ فریم رکھتے ہوئے کہا۔ جسے بڑی حفاظت سے پیک کیا گیا تھا۔
”ہاں بس دیر ہوگئی اس بار۔” عبدالعلی نے گہرا سانس لے کر اُس پینٹنگ سے نظریں ہٹا لیں۔
”وضو کریں گے آپ؟” شکور کو سامان رکھتے ہی خیال آیا۔
”ہاں، نماز رہتی ہے ابھی میری۔” دادا نے اپنی آستین کے کف کھولتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔ پھر انہوں نے اُس پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”پہلے یہاں میری کیلی گرافی لگی ہوئی تھی۔”
”ہاں۔ وہ تو ہر بار آپ کے آنے سے پہلے لگواتے ہیں مومن بھائی۔۔۔ اسٹور روم سے نکلوا کر۔۔۔ اس بار آپ کے آنے کا پتا ہی نہیں چلا۔ میں چپل دیکھ لوں۔۔۔ ہے بھی کہ نہیں۔” شکور کے جواب نے عبدالعلی کو چند لمحوں کے لیے بولنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ شکور نے اُن کے چہرے کے تاثرات دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ ہونقوں والے انداز میں کچھ عجلت کے عالم میں باتھ روم کے باہر ڈریسنگ روم میں گیا پھر ہڑ بڑاتا ہوا باہر آیا۔
”مصلیٰ ڈھونڈلوں ذرا۔۔۔ پتا نہیں ہے بھی کہ نہیں۔” اُسے ایک نئی پریشانی لاحق ہوئی تھی۔
”میرے پاس ہے میرا مصلیٰ۔ تم فکر نہ کرو، جا کر مہمانوں کو دیکھو، اُنہیں ضرورت ہوگی تمہاری۔” عبدالعلی نے بے حد نرمی سے اُسے ٹوکا۔ پھر وہ باتھ روم میں چلے گئے۔ شکور اسی طرح بڑی احتیاط سے کمرے کا دروازہ کھولتا اور بند کرتا وہاں سے باہرآگیا۔
٭…٭…٭
اپنے آخری مہمان کو رخصت کرنے کے بعد مومن سیدھا دادا کے کمرے میں آیا۔ اُس کا خیال تھا کہ وہ سوچکے ہوں گے۔ بے حد خاموشی سے دروازہ کھول کر اُس نے کمرے میں جھانکا۔ وہ مصلیٰ بچھائے کمرے کے ایک کونے میں اُسے نظر آگئے۔ وہ اُسی احتیاط سے دروازہ بند کرتے ہوئے اندر آیا تھا اور کچھ دیر کھڑا دادا کو دیکھتا رہا۔ اُن ی پشت اُس کی طرف تھی۔ شاید وہ اُس کی آمد سے بے خبر تھے اور تب ہی قلبِ مومن کی نظر دیوار پر لگی ان پینٹنگز پر پڑی اور وہ بے اختیار ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔ اُس نے خواہش کی عبدالعلی کی نظر ان پینٹنگز پر نہ پڑی ہو لیکن وہ جانتا تھا یہ خواہش خوش فہمی سے بڑھ کر ہے۔ وہ آرٹسٹ تھے۔ یہ کیسے ممکن تھا اس کمرے میں آکر ان دیواروں پر نظر ہی نہ دوڑائی ہوگی اُنہوں نے۔ کچھ کہے بغیر بے حد خاموشی سے قلبِ مومن نے دیواروں پر لگی اُن پینٹنگز کو ایک کے بعد ایک اُتار کر دیواروں کے ساتھ اُلٹ کر رکھنا شروع کیا تھا۔
”رہنے دیتے انہیں۔” وہ عبدالعلی کی آواز پر یک دم چونکا۔ پتا نہیں انہوں نے کس وقت اپنی نماز ختم کی۔ قلبِ مومن بے حد غیرمحسوس انداز میں اُن پینٹنگز کو وہیں چھوڑ کر سیدھا ہوتے ہوئے پلٹا۔ دادا مصلّے سے اُٹھ کر کھڑے ہوچکے تھے اور اب اُس کی طرف متوجہ تھے۔ اُسی نرم، شفیق اور حلیم انداز میں جس میں وہ اُنہیں بچپن سے دیکھتا آیا تھا۔
”مجھے بہت افسوس ہے۔” انہوں نے یک دم قلبِ مومن سے کہا۔
”کس بات کا؟” وہ بے اختیار چونکا۔ یہ جملہ وہ بولنا چاہتا تھا اُن سے اور بول وہ رہے تھے۔
”میں غلط وقت پر آگیا۔ تمہاری پارٹی خراب کردی میں نے۔” اُن کے لہجے میں واقعی رنج تھا۔ مومن نظریں نہیں ملا سکا۔ وہ ایسے ہی تھے ہمیشہ سے۔۔۔ اُسے ہمیشہ عجیب احساسِ جرم میں مبتلا کردیتے تھے۔
”نہیں، پارٹی تو ویسے ہی ختم ہو جانا تھی۔ آپ کے آنے نہ آنے سے کچھ فرق نہیں پڑا۔” وہ کہتا ہوا صوفے پر بیٹھا۔
”میں نے خط لکھا تھا تمہیں، سوچا تھا مل گیا ہوگا لیکن شاید تمہیں نہیں ملا۔” انہوں نے قلبِ مومن کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
”آپ کو ڈاک کے سسٹم کا تو پتا ہی ہے اسی لیے کہتا ہوں فون کیا کریں۔ خط تو کم ہی ملتے ہیں مجھے آپ کے۔” اُس نے بے حد ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولا۔
”اور جہاں میں رہتا ہوں وہاں فون کے سگنلز اپنی مرضی سے آتے ہیں۔” دادا نرمی سے ہنسے تھے۔
”اسی لیے آپ کے اور میرے درمیان رابطہ ٹوٹ گیا۔” قلبِ مومن نے بے ساختہ کہا۔
”ٹوٹا تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ یہ خون کا رشتہ ہے قلبِ مومن۔۔۔ فاصلہ آگیا ہے بس اور مصروفیت۔”
”اور فاصلہ اور مصروفیت دونوں تعلق توڑ دیتے ہیں۔” وہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔
”آپ آرام کریں۔۔۔ تھک گئے ہوں گے، صبح بات کرتے ہیں۔” عبدالعلی اُٹھ کر کھڑے ہوئے اور آگے بڑھ کر اُسے گلے لگا کر ماتھے پر بوسہ دیا۔ قلبِ مومن کے حلق میں ہمیشہ کی طرح کوئی چیز اٹکی تھی۔۔۔ یہ جو جذباتیت تھی اس کا وہ شکار ہونا نہیں چاہتا تھا اور دادا اس دنیا میں وہ واحد شخص تھے جو قلبِ مومن کے دل میں جو احساسات پیدا کرتے تھے، وہ اُن سے اگلی ملاقا ت تک چور بنا پھرتا رہتا تھا۔
”اللہ حافظ!” وہ جذباتیت کے اُس اظہار کے جواب میں یہی کہہ سکتا تھا سو یہی کہا۔ وہ کمرے کا دروازہ بند کرکے باہر نکلا تو لائونج میں اُس کی نظر اُس کنسول پر پڑی تھی جس کی درازوں میں دادا کے خطوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور وہیں وہ آخری موصول ہونے والا خط بھی تھا جس کے بارے میں وہ جھوٹ بول کر آیا تھا مگر اس کے علاوہ اُس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
اس کا اور عبدالعلی کا رشتہ بے حد عجیب تھا۔ وہ جانتا تھا وہ اُس سے بے حد محبت کرتے تھے اور وہ بھی اُن سے ویسی ہی محبت کرتا تھا مگر اظہار نہ وہ کر پاتے تھے نہ قلبِ مومن۔۔۔کر پاتے اگر قلبِ مومن کی غیرجذباتیت ایک دیوار کی طرح دونوں کے درمیان حائل نہ ہوتی۔
”میں بورڈنگ میں پڑھنا چاہتا ہوں۔”
اُسے یاد تھا کہ اُس نے پہلی بار دادا سے کون سا بڑا مطالبہ کیا تھا۔۔۔ اُس کا خیال تھا وہ اُسے سمجھائیں گے، روکیں گے، منائیں گے۔ یہ کہیںگے کہ وہ اُس کے بغیر اکیلے نہیں رہ سکتے۔ وہ اپنے فیصلے کو بدل دے مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے اُس کا مطالبہ پورا کردیا تھا۔۔۔ شاید وہ اُس زخم کو بھرنا چاہتے تھے جو قلبِ مومن کو لگا تھا یا پھر اپنے اُس احساس جرم کو مٹانے کی کوشش کررہے تھے کہ وہ اس جرم کے شریک تھے۔
قلبِ مومن استنبول کے ایک بہت نامور بورڈنگ اسکول میں پڑھنے کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔ اُس نے اُس وقت دادا سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ یہ سب افورڈ کرسکتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ وہ بورڈنگ اسکول پرائیویٹ تھا۔ اُن سے دور جا کر مومن کو جیسے عجیب سا قرار ملا تھا۔
اُس کا اگلا مطالبہ امریکہ میں فلم میکنگ پڑھنے کے لیے بھیجا جانا تھا اور عبدالعلی نے وہ مطالبہ بھی خاموشی سے پورا کردیا تھا۔
یہ ایک اتفاق تھا کہ ایک پاکستانی دوست کے ساتھ بنائی جانے والی کمپنی قلبِ مومن کو امریکہ سے واپس ترکی لے جانے کے بجائے پاکستان لے آئی تھی اور عبدالعلی نے تب بھی کوئی اعتراض کوئی احتجاج نہیں کیا تھا۔
اگر زندگی میں قلبِ مومن کبھی کسی شخص کی خوبیوں کو سراہتا تھا تو وہ عبدالعلی ہی تھے مگر وہ کبھی اُن کے سامنے یہ اعتراف نہیں کر سکا تھا۔ اب اتنے سالوں سے وہ پاکستان میں رہ رہا تھا تو وہ بھی اُس کے پاس آنے جانے لگے تھے۔ قلبِ مومن نے کبھی بھی دادا سے جھوٹ بول کر اپنا لائف اسٹائل اُن سے چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ جس طرح رہنا چاہتا تھا جو کرنا چاہتا تھا، ویسے ہی رہ رہا تھا۔ وہی کر رہا تھا۔ بہت کم عمری میں وہ امریکہ میں مالی طور پر عبدالعلی کا محتاج نہیں رہا تھا اور اس خودمختاری اور مالی آزادی نے اُسے ہر لحاظ سے آزاد کردیا۔ رہی سہی کسر اُس کی فیلڈ اور اُس فیلڈ میں بہت کم وقت میں اُس کی قابلِ رشک حد تک حاصل ہو جانے والی کامیابی نے پوری کردی تھی۔
وہ دادا کے ساتھ جیسے سیدھی اور سادہ زندگی گزارتا آیا تھا وہاں سے نکل کر وہ اتنی ہی ”تیز رفتار” زندگی گزار رہا تھا۔۔۔ سب کچھ آج ہی کر جانے کا جنون۔۔۔ ابھی ہی پا لینے کی دوڑ، سب سے بہتر ہونے کا خواب۔۔۔ قلبِ مومن کی زندگی اُس بھاگ دوڑ کے علاوہ کچھ نہیں رہی تھی مگر اس سب میں بھی عبدالعلی سے ہونے والے ہر سامنے میں اُس کی رفتار میں جیسے ایک اسپیڈ بریکر آتا تھا۔ اُس کے لائف اسٹائل کے بارے میں اُنہیں کسی حد تک خبر تھی۔ قلبِ مومن نے کبھی اس کا اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کی تھی مگر اُس کے لائف اسٹائل میں وہ کون سی چیزیں تھیں جو اُنہیں پریشان کرسکتی تھیں۔ قلبِ مومن کم از کم اُس کا ایک پردہ رکھنے کی کوشش ضرور کرتا تھا اور وہ پردہ آج بدقسمتی سے رہ نہیں سکا تھا۔
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

الف — قسط نمبر ۰۲

Read Next

الف — قسط نمبر ۰۴

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!