Tag: bol entertainment

  • الف — قسط نمبر ۰۲

    الف — قسط نمبر ۰۲

    پیارے بابا!
    میں جانتا ہوں، اس خط کے لفافے پر میرا نام دیکھ کر آپ چونکے ہوں گے پھر بہت دیر تک آپ نے اس لفافے کو کھولا نہیں ہو گا۔ میرا نام دیکھتے رہے ہوں گے اور آپ کو سب کچھ یاد آتا رہا ہو گا۔ جو میں آپ سے کہہ کر گیا تھا اور جس پر میں آپ سے نادم ہوں۔ آپ نے سوچا ہو گا، خط کھولے بغیر لفافے کو پھاڑکر پھینک دیں مگر یہ آپ سے ہو نہیں سکے گا کیوں کہ میں آپ کا اکلوتا بیٹا ہوں۔ طہٰ عبدالعلی۔ جسے آپ نے میری ماں کے جانے کے بعد چڑیا کے بچے کی طرح تن تنہا پالا اور جس کے لیے آپ نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ لفافہ پھاڑ کر پھینک دیتے تو بھی دوبارہ ٹوکری سے نکال کر کاغذ کے ٹکڑوں کو جوڑ لیتے۔ دل تو ہے نہیں یہ کہ ٹوٹ کر نہ جڑتا۔
    کیا لکھوں آپ کے نام اس خط میں؟ اپنی شرم ساری، اپنی ندامت یا اپنی بے بسی۔ بابا !آپ کو چھوڑ کر گیا تھا پر آپ سے کٹ کر رہا نہیں جا رہا۔ آپ یاد آتے رہتے ہیں، زیادہ نہیں بس ہر سانس کے ساتھ۔
    آپ کا دل دکھایا ہے پر میرے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ کیا کرتا؟ آپ کو چھوڑ کر کم از کم زندہ تو رہ رہا ہوں۔ حسنِ جہاں کو چھوڑ دیتا تو یہ بھی نہ کر پاتا۔ خط پڑھ رہے ہوں گے تو حسنِ جہاں کے نام پر آپ کے ماتھے پر بل آیا ہو گا۔ میں جانتا ہوں، آپ اب بھی اس کے لیے اپنا دل بڑا نہیں کر پائے ہوں گے۔ میں نے زندگی میں پہلی بار آپ کو کسی سے نفرت کرتے دیکھا ہے اور وہ بھی اس سے جس سے محبت ہے۔ مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا بابا! آپ نفرت نام کی کسی شے سے واقف بھی ہیں۔
    آپ تو اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اللہ کی کائنات سے۔ اس کائنات میں ایک حسنِ جہاں بھی ہے جسے اللہ نے دنیا میں پیدا کر کے اس کو میرے دل میں رکھ دیا ہے۔ وہ ویسی ہی ”روح” رکھتی ہے جیسی آپ اور میں، ویسا ہی دل جیسا آپ اور میں۔ پھر بابا! آپ مجھے حسنِ جہاں سے محبت کرنے کے لئے معاف کیوں نہیں کر سکتے۔
    میرے بس میں ہوتا اسے پیار نہ کرتا تو میں کبھی نہ کرتا۔ میرے بس میں ہوتا اس سے ترک تعلق کرنا تو میں کب کا کر چکا ہوتا۔ پر میرے بس میں کچھ بھی نہیں۔ اسے دل سے نہیں نکال پاتا اور آپ کو دماغ سے۔ میں آج کل دل اور دماغ کی اس جنگ میں صرف ایک بے کار وجود بن کر رہ گیا ہوں۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    آپ کی بددعائیں لگ رہی ہیں مجھے۔ میں جانتا ہوں، یہ پڑھتے ہوئے آپ بے قرار ہوئے ہوں گے کیوں کہ آپ تو مجھے بددعا دے ہی نہیں سکتے نا لیکن آپ کا دل دکھایا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے، اللہ ناراض نہ ہوا ہو مجھ سے۔
    اب اللہ کا نام نہیں لکھ پاتا میں۔ لکھتا بھی ہوں تو وہ نام میری روح سے نہیں بس ہاتھوں سے لکھا جاتا ہے۔ لوگ میرے ہاتھ سے بنی خطاطی کو اب نہیں دیکھتے، دنگ ہونا تو دور کی بات ہے اور خریدنا تو اس سے بھی دور کی بات۔
    میں جانتا ہوں، آپ کہیں گے۔ دل میں حسنِ جہاں بسا کر اللہ کا نام لکھو گے تو یہی ہو گا۔ شاید شرک کر بیٹھا ہوں مگر توبہ کی توفیق بھی نہیں ہو پا رہی۔ طہٰ عبدالعلی بڑی تکلیف میں ہے آج کل۔ اللہ کو پکارتا ہوں تو وہ نہیں سنتا۔ آپ کو پکار رہاہوں کیوں کہ اللہ آپ کی ہمیشہ سنتا ہے۔ اس سے کہیں طہٰ کو معاف کر دے۔ طہٰ کے دل سے حسن جہاں مٹا دے، وہاں اپنا ٹھکانا بنائے۔ طہٰ کے ہاتھوں اور روح کو اس قابل رہنے دے کہ وہ اللہ کے نام لکھے تو لوگوں کے دلوں کو موم کر دے۔ اللہ کی کبریائی کے خوف سے۔ منور کرے اللہ کی محبت کے نور سے۔ پر یہ تب ہی ہو گا جب آپ طہٰ کو معاف کریں گے۔ بابا مجھے معاف کر دیں۔
    آپ کا نافرمان بیٹا
    طہٰ عبدالعلی
    ٭…٭…٭
    قلبِ مومن نے بے یقینی کے عالم میں اپنی ماں کے ہاتھوں سے وہ لفافہ لیا۔ اس پر اس کا نام لکھا تھا بے حد خوبصورت رسم الخط میں۔
    ”اللہ تعالیٰ کی ہینڈرائٹنگ کتنی خوب صورت ہے۔”
    اس نے اس لفافے پر نظر ڈالتے ہوئے ایک لمحہ کے لیے سوچا۔ پھر سر اٹھا کر اپنی ماں کو دیکھا جس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ اس نے لفافہ لیتے ہوئے نوٹس کی تھی۔ وہ سرتاپا لرز رہی تھی۔ اپنی مسکراہٹ کو ہونٹوں میں اور آنسووؑں کو آنکھوں میں چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا یا شنگرفی یا گلابی۔ پتا نہیں وہ کون سا رنگ تھا۔ کلر بیلٹ کے سارے رنگوں سے زبانی واقف ہونے کے باوجود مومن بوجھ نہیں سکا مگر کم از کم وہ زرد رنگت نہیں تھی۔ وہ زرد رنگت جو وہ اپنے باپ کے جانے کے بعد اپنی ماں کے چہرے پر دیکھنے کا عادی ہو گیا تھا۔
    وہ ایک خوب صورت سرخ گلاب کی طرح کھل اٹھی تھی یا شاید جی اٹھی تھی۔ وہ ماں کو مبہوت دیکھتا رہا۔
    ”تم خط نہیں پڑھوگے؟” اس کی ماں نے جیسے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں، مگر اسے کھولا کس نے؟” اس نے یک دم لفافہ پلٹا اور اس کا اٹھا ہوا فلیپ دیکھا۔
    ”میں نے۔” کچھ مجرمانہ سے انداز میں اس کی ماں نے کہا۔ وہ راز جو اس کے اور اللہ کے درمیان تھا وہ اس کی ماں بھی جان گئی تھی اور یہ بات اس وقت مومن کو اچھی نہیں لگی تھی۔ وہ چپ چاپ خط لیے اندر آگیا۔
    میرے پیارے قلبِ مومن!
    تمہارے سارے خط اللہ تک پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے پڑھ بھی لیے ہیں۔ وہ تمہیں خود ان سب کا جواب بھیجنا چاہتے تھے لیکن پھر انہوں نے سوچا، وہ تمہارا جواب میرے ذریعے تم تک پہنچا دیں۔ میں 15تاریخ کو آرہا ہوں۔ تمہاری سب باتوں کا جواب لے کر۔
    تمہارا دادا
    عبدالعلی
    ٭…٭…٭
    جس بے قراری اور بے چینی سے اس نے لفافہ کھول کر خط پڑھنا شروع کیا تھا۔ اسی بے قراری کے ساتھ ہی اس نے خط ختم بھی کیا۔ بے حد مایوسی کے ساتھ۔
    ”تو یہ خط اللہ تعالیٰ نے لکھ کر نہیں بھیجا۔” اس نے عجیب مایوسی سے سوچا۔
    ”پردادا یہاں کیوں آرہے ہیں؟”
    اس کے ذہن میں اگلا سوال ابھرا۔ مگر اس سے بھی بڑا سوال یہ تھا کہ دادا کو یہ کیسے پتا چلا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو خط بھیجا تھا اور دادا کو کیوں اس کے خطوں کا جواب دینے کے لیے اللہ نے چنا۔ کیا وہ بھی اللہ کے پاس رہتے ہیں۔
    سوالات کا ایک انبار تھا جس نے اس کے ذہن کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔
    ”مومن۔” وہ اپنی ماں کی آواز پر بے اختیار پلٹا۔ وہ پتا نہیں کب اس کے پیچھے کمرے میں آگئی۔
    ”اللہ تعالیٰ نے خود خط کیوں نہیں لکھا مجھے؟” اس نے ماں کو دیکھتے ہی بے ساختہ کہا۔
    ”خود نہیں لکھتے وہ، ان کے پاس بہت سارے لوگ ہوتے ہیں کام کرنے کے لیے۔ انہوں نے کسی کو کہہ دیا ہو گا یہ کام کرنے کے لیے۔” اس کی ماں نے اس کے ہاتھ میں پکڑا خط اس کے ہاتھ سے لے کر اسے بڑی احتیاط سے تہہ کر کے لفافے میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”انہوں نے دادا سے کہا ہے۔” مومن کو لگا جیسے اس کی ماں نے خط دھیان سے نہیں پڑھا تھا۔
    ”ہاں، میں جانتی ہوں۔” مدھم آواز اسے سنائی دی۔ اس کی ماں اب خط کو اس کی اسٹڈی ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس پر ایک پیپر ویٹ رکھ دی تھی۔
    ایک لمحہ مومن کو خیال آیا، وہ ماں کو بتا دے کہ اس نے خط میں اپنے باپ کو بھیجنے کا کہا تھا۔ ایک لمحہ کے لیے ہی وہ جھجکا اور پھر اس نے ماں سے کہہ دیا۔
    ”لیکن میں نے تو بابا کو بلایا تھا، دادا کو تو نہیں بلایا تھا۔” اس کے شکوے کا جواب اس کی ماں نے ایک پراسرار مسکراہٹ سے دیا مگر اس مسکراہٹ کے ساتھ اس کی آنکھوں میں بہت سارے قمقے سے روشن ہوئے تھے۔
    ”وہ بھی تو آرہے ہیں۔”
    وہ ساکت ہوا پھر خوشی سے بے قابو۔
    ”آپ کو کیسے پتا چلا؟” مومن بے اختیار چلایا تھا۔
    جواب میں ایک اور مسکراہٹ آئی اور پھر ایک ہنسی۔ اس نے باپ کے جانے کے بعد آج پہلی بار ماں کو کھلکھلا کر ہنستے دیکھا تھا۔ سرخ ہوتے، چمکتے چہرے کے ساتھ۔ مومن کو یقین آگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ واقعی اس کے بابا کو بھیج رہے تھے اور وہ بھی اس کے دادا کے ساتھ جن سے وہ کبھی نہیں ملا۔ مگر اس سے بھی زیادہ ناقابل یقین بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے سارے خط مل گئے اور انہوں نے اس کے خط پڑھ بھی لیے۔
    اس کی ماں کمرے سے جا چکی تھی اور مومن وہیں کھڑا تھا۔ اپنے دل کی دھڑکنوں کو گنتا۔ وہ کل اسکول میں سب کو بتا سکتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جو خط لکھتا تھا، وہ اللہ کو مل گئے تھے اور اسے ان کا جواب بھی ملنے والا تھا مگر اس سے پہلے اسے ایک کام کرنا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۱

    الف — قسط نمبر ۰۱

    انتساب

    خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ)اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے(پڑی)روشنی ہی روشنی(ہورہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی را ہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے تو لوگوں کے(سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔
    سورة النور آیت نمبر ٣٥
    ——————————————————————————————————————————————————————————-
    پیش لفظ

    بچپن میں اردو کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی۔ ایک بچہ اللہ کے نام خط لکھتا ہے جو پوسٹ آفس والوں کو ملتے ہیں تو پوسٹ آفس والے اُس غریب اور یتیم بچے کو اللہ کی طرف سے خط اور پیسے بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔ وہ کہانی ہمیشہ مجھے یاد رہی کیونکہ اللہ سے میرے سوال اور جواب بھی آپ سب کی طرح ہمیشہ چلتے رہتے ہیں اور بہت دفعہ اللہ کو خط لکھنے کو دل چاہتا ہے۔۔۔
    یہ بتانے کے لئے کہ مجھے اس سے بہت محبت ہے۔۔۔۔۔ویسی محبت اور کسی سے نہیں۔۔۔تو الف اسی محبت سے میری اسی دائمی محبت کے نام۔۔۔
    عمیرہ احمد

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۵ (تبارک الذی) آخری قسط

    ’’میرے بچپن میں، میری زندگی میں جتنا بڑا رول آپ لوگوں کی فیملی کا تھا، پچھلے پانچ سالوں میں اتنا ہی بڑا رول اس شخص کا ہے۔‘‘
    عبداللہ نے عنایہ کو بتایا تھا۔ چند ہفتوں بعد ہونے والی اپنی منگنی سے پہلے یہ ان کی دوسری ملاقات تھی۔ عنایہ ایک سیمینار میں شرکت کے لئے کیلی فورنیا آئی تھی اور عبداللہ نے اسے ڈنر پر بلایا تھا۔ وہ اسے ڈاکٹر احسن سعد سے ملوانا چاہتا تھا جو اسی کے اسپتال میں کام کرتے تھے اور وہ ہمیشہ سے ان سے متاثر تھا۔ عنایہ نے کئی بار اس سے پچھلے سالوں میں اس شخص کے حوالے سے سنا تھا جس سے وہ اب تھوڑی دیر میں ملنے والی تھی۔
    ’’مسلمان ہونا آسان تھا میرے لئے… جبریل کے بعد یہ دوسرا شخص ہے جسے میں رول ماڈل سمجھتا ہوں کہ وہ دین اور دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔‘‘
    عبداللہ بڑے جوش انداز میں عنایہ کو بتارہا تھا اور وہ مسکراتے ہوئے سن رہی تھی۔ عبداللہ جذباتی نہیں تھا، بے حد سوچ سمجھ کر بولنے والوں میں سے تھا اور کسی کی بے جا تعریف کرنے والوں میں سے بھی نہیں تھا۔
    ’’کچھ زیادہ ہی متاثر ہوگئے ہو تم ان سے۔‘‘ عنایہ کہے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔ وہ ہنس پڑا۔
    ’’تم جیلس تو نہیں ہورہی؟‘‘ اس نے عنایہ کو چھیڑا
    ’’ہوئی تو نہیں لیکن ہوجاؤں گی۔‘‘ اس نے جواباً مسکراتے ہوئے کہا۔
    ’’مجھے یقین ہے تم ان سے ملوگی تو تم بھی میری ہی طرح متاثر ہوجاؤگی ان سے…‘‘ عبداللہ نے کہا۔ ’’میں اپنے نکاح میں ایک گواہ انہیں بناؤں گا۔‘‘
    عنایہ اس بار قہقہہ مار کر ہنسی تھی۔ ’’عبداللہ، تم اس قدر انسپائرڈ ہو ان سے؟ مجھے تھوڑا بہت اندازہ تو تھا لیکن اس حد تک نہیں… مجھے اب اور اشتیاق ہورہا ہے ان سے ملنے کا۔‘‘ عنایہ نے اس سے کہا۔ ’’یقینا اچھے شوہر بھی ہوں گے اگر تم نکاح میں بھی انہیں گواہ بنانا چاہتی ہوتو۔‘‘ عبداللہ کو مزید تجسس ہوا تھا۔
    ’’بس اس ایک معاملے میں خوش قسمت نہیں رہے وہ۔‘‘ عبداللہ یک دم سنجیدہ ہوگیا۔ ’’اچھی بیوی ایک نعمت ہوتی ہے اور بری ایک آزمائش… اور انہیں دوبار اس آزمائش سے گزرنا پڑا۔ ان کی نرمی اور اچھائی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ان کی بیویوں نے۔‘‘ عبداللہ کہہ رہاتھا۔
    Ohhh! that’s sad. عنایہ نے کریدے بغیر افسوس کااظہار کیا۔
    ’’تمہیں پتا ہے تم سے شادی کے لئے بھی میں نے ان سے بہت دعا کروائی تھی اور دیکھ لو، ان کی دعا میں کتنا اثر ہے ورنہ تمہارے پیرنٹس آسانی سے ماننے والے تو نہیں تھے۔‘‘ عبداللہ اب بڑے فخر یہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    ’’میرے پیرنٹس کسی کی دعاؤں کے بجائے تمہارے کردار اور اخلاص سے متاثر ہوئے ہیں عبداللہ۔‘‘ عنایہ نے اسے جتایا۔
    اسے اپنی بے یقینی کا وہ عالم ابھی بھی یاد تھا جب چند مہینے پہلے عبداللہ سے پاکستان میں ملنے کے بعد امامہ نے اسے فون کیا تھا اور اسے بتایا تھاکہ انہوں نے اس کا رشتہ امریکہ میں مقیم ایک ہارٹ سرجن کے ساتھ طے کردیا ہے، وہ کچھ دیر کے لئے بھونچکارہ گئی تھی۔ اس سے پہلے جو بھی پروپوزلز اس کے لئے زیر غور آتے تھے، عنایہ سے مشورہ کیا جاتا تھا اور پھر اسے ملوایا جاتا تھا۔ یہ پہلا پروپوزل تھا جس کے بارے میں اسے اس وقت اطلاع دی جارہی تھی جب رشتہ طے کردیا گیا تھا۔ عجیب صدمے کی حالت میں اس نے امامہ سے کہا تھا۔
    ’’مگر ممی! آپ کو مجھے پہلے ملوانا چاہیے تھا اس سے… اس کے بارے میں مجھ سے کچھ پوچھا تک نہیں آپ نے۔‘‘
    ’’تمہارے بابا نے بات طے کی ہے۔‘‘ امامہ نے جواباً کہا۔عنایہ خاموش ہوگئی۔ عجیب دھچکا لگا تھا اسے۔
    ’’تم نہیں کرنا چاہتیں؟‘‘ امامہ نے اس سے پوچھا۔
    ’’نہیں، میں نے ایسا تو نہیں کہا، پہلے بھی آپ لوگوں ہی کو کرنا تھا تو ٹھیک ہے۔‘‘
    عنایہ نے کچھ بجھے دل کے ساتھ کہا تھا۔ اسے عبداللہ یاد آیا تھا اور بالکل اسی لمحے امامہ نے اس سے کہا۔
    ’’عبداللہ نام ہے اس کا۔‘‘ نام سن کر بھی لحظہ بھر کے لئے بھی اسے خیال نہیں آیا تھا کہ وہ ایرک عبداللہ کی بات کررہی تھی۔ امامہ اس قدر کٹر مخالف تھی ایرک عبداللہ سے شادی کی کہ عنایہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ جس عبداللہ کا اتنے دوستانہ انداز میں ذکر کررہی تھی، وہ وہی تھا۔
    ’’اوکے ۔‘‘ عنایہ نے بمشکل کہا۔




    ’’تم سے ملنا بھی چاہتا ہے۔ وہ نیویارک آیا ہوا ہے، میں نے اسے تمہارا ایڈریس دیا تھا۔‘‘ امامہ کہہ رہی تھی۔
    عنایہ نے بے ساختہ کہا۔ ’’ممی پلیز، اب اس طرح میرے سرپرمت تھوپیں اسے کہ آج مجھے رشتہ طے ہونے کی خبر دے رہی ہیں اور آج ہی مجھے اس سے ملنے کا بھی کہہ رہی ہیں۔ ویسے بھی اب رشتہ طے ہوگیا ہے، ملنے نہ ملنے سے کیا فائدہ ہوگا۔‘‘ ا س نے جیسے اپنے اندر کا غصہ نکالا تھا۔
    ’’اس کی فیملی بھی شاید ساتھ ہو… اس کی ممی سے بات ہوئی ہے میری… اگلے ٹرپ پر میں بھی ملوں گی اس کی فیملی سے… منگنی کافارمل فنکشن تو چند مہینوں بعد ہوگا۔‘‘ امامہ نے اس طرح بات جاری رکھی تھی جیسے اس نے عنایہ کی خفگی کومحسوس ہی نہیں کیا تھا۔
    عنایہ صدمہ کی کیفیت میں اگلے ایک گھنٹے تک وہیں بیٹھی رہی تھی اور ایک گھنٹے کے بعد اس کے دروازے پر بیل بجنے پر اس نے جس شخص کو دیکھا تھا، اسے لگا تھا سردیوں کے موسم میں ہر طرف بہار آگئی ہے۔ گلاب کا ایک اور اد ھ پھول ٹہنی سمیت اسے پکڑاتے ہوئے دروازے پر ہی اس نے عنایہ سے پھاوڑا مانگا تھا تاکہ اس کے دروازے کے باہر پڑی برف ہٹاسکے۔ وہ کئی سالوں بعد مل رہے تھے اور عنایہ کو وہی ایرک یاد تھا جو اکثر ان کے گھر میں لگے پھول توڑ توڑ کر اس کو اور امامہ کو لاکردیا تھا اور جس کا پسندیدہ مشغلہ سردیوں میں اپنے اور ان کے گھر کے باہر سے برف ہٹانا تھا۔
    ’’وہ یہاں ہے۔‘‘ عبداللہ کی آواز سے خیالوں سے باہر لے آئی تھی۔ وہ ریسٹورنٹ کے دروازے پر نمودار ہونے والے کسی شخص کو دیکھتے ہوئے کھڑا ہوا تھا۔ عنایہ نے گردن موڑ کر دیکھا۔ وہ احسن سعد سے اس کی پہلی ملاقات تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا اس سے ہونے والا یہ سامنا اس کی زندگی میں کتنا بڑ ابھونچال لانے والا تھا۔
    ٭…٭…٭
    سکندر عثمان ان سب کی زندگی سے بے حد خاموشی سے چلے گئے تھے۔ وہ حمین کی وہاں آمد کے دوسرے دن نیند سے نہیں جاگے تھے۔ اس وقت اس گھرمیں صرف امامہ اور حمین ہی تھے، طیبہ امریکہ میں تھیں۔
    اس رات حمین، سکندر عثمان کے پاس بہت دیر تک بیٹھا رہا تھا، ہمیشہ کی طرح۔ وہ جب بھی یہاں آتا تھا ، امامہ اور ان کے لئے ہی آتا تھا۔ سکندر عثمان سے وہ سالار کے دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ انسیت رکھتا تھا اور ایسا ہی انس سکندر عثمان بھی اسے رکھتے تھے۔ الزائمر کی اس انتہائی اسٹیج پر بھی حمین کے سامنے آنے پر ان کی آنکھیں چمکتی تھیں یا کم از کم دوسروں کو لگتی تھیں۔ کچھ بھی بول نہ سکنے کے باوجود اسے دیکھتے رہتے تھے اور وہ دادا کا ہاتھ پکڑے ان کے پا س بیٹھا رہتا تھا۔ ان سے خود ہی بات چیت کی کوشش کرتا رہتا۔ خود سوال کرتا، خود جواب دیتا، جیسے بچپن میں کرتا تھااور ویسی ہی باتیں جو بچپن میں ہوئی تھیں اور تب سکندر عثمان ان کے جواب دیا کرتے تھے۔
    ’’دادا! بتائیں شترمرغ کی کتنی ٹانگیںہوتی ہیں؟‘‘ وہ ان کے ساتھ واک کرتے کرتے یک دم ان سے پوچھتا۔ سکندر عثمان الجھتے، شتر مرغ کی تصویر ذہن میں لانے کی کوشش کرتے ، پھر ہار مانتے۔
    ’’مرغ کی دو ہوں گی تو شتر مرغ کی بھی دو ہوں گی دادا… یہ تو سوچے بغیر بتادینے والا جواب تھا۔‘‘ سکندر عثمان اس کی بات پر سرہلانے لگتے۔
    سکندر عثمان کی یادداشت کے دیئے، حمین سکندر نے اپنے سامنے ایک ایک کرکے بجھتے دیکھے تھے اور ایک بچے کے طور پر الزائمر کو نہ سمجھنے کے باوجود اس نے اپنے دادا کے ساتھ مل کر ان دیوں کی روشنی کوبچانے کی بے پناہ کوشش کی تھی۔
    وہ کسی بھی چیز کا نام بھول جانے پر انہیں تسلی دے دیا کرتا تھاکہ یہ نارمل بات تھی… اور بھولنا تو اچھا ہوتا ہے، اسی لئے وہ بھی بہت ساری چیزیں بھولتا ہے۔ وہ بچے کی لاجک تھی اور بڑے کے سامنے لنگڑی تھی مگر سکندر عثمان کو اس عمر میں اس بیماری سے لڑتے ہوئے ویسی ہی لاجک چاہیے تھی جو انہیں یہ یقین دلا دیتی کہ وہ ٹھیک تھے، سب کچھ ’’نارمل‘‘ تھا۔
    حمین ان کی بیماری کے بڑھتے جانے پر آہستہ آہستہ کرکے ان کے کمرے کی ہر چیز پر اس چیز کا نام کاغذ کی چٹوں پر لکھ کر چسپاں کردیا کرتا تھا تاکہ دادا کچھ نہ بھولیں، وہ جس چیز کو دیکھیں، اس کا نام یاد کرنے کے لئے انہیں تردد نہ کرنا پڑے۔ وہ چٹیں سینکڑوں کی تعداد میں تھیں اور اس کمرے میں آنے والے شخص کو ایک بار، سکندر عثمان کے ساتھ اس بیماری سے لڑنے والے اس دوسرے شخص کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیتیں اور حمین نے اس بیماری کے سامنے پہلی بار اس دن مانی تھی جس دن سکندر عثمان اس کا نام بھول گئے تھے ۔ وہ بے یقینی سے ان کا چہرہ دیکھتا رہا تھا۔ وہ آخر اس کا نام کیسے بھول گئے تھے؟ اس وجود کا جو چوبیس میں سے بارہ گھنٹے ان کے اردگرد منڈلاتا رہتا تھا۔ اس کے سامنے کھڑے سکندر عثمان اس کا نام یاد کرتے، اٹکتے، الجھتے، ہکلاتے، گڑگڑاتے رہے اور حمین ان کی جدوجہد اور بے بسی دیکھتا رہا۔
    پھر وہ بڑی خاموشی سے سینٹر ٹیبل کے پاس گھنٹے ٹیک کر بیٹھا۔ وہاں پڑی ایک اسٹک آن چٹ اس نے اٹھائی، اس پر اپنا نام لکھا اور پھر اپنے ماتھے پر اسے چسپاں کرتے ہوئے وہ سکندر عثمان کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ اس وقت وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہتا تھااور شاید زندگی میں پہلی بار، لیکن وہ نہیں رویا تھا، اس نے جیسے سکندر عثمان کے سامنے اس بات کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بات الزائمر سے جنگ کرتے اس شخص کے لئے مذاق نہیں تھی۔ وہ اس کے نام کے اسپیلنگ کرتے ہوئے ہنس پڑے تھے اور پھر ہنستے ہنستے وہ وہیں کھڑے کھڑے اپنی مٹھیاں بھنچتے، رونے لگے تھے اور ان سے قد اور عمر میں چھوٹے حمین نے اپنی عمر سے بڑے اس بوڑھے شخص کو تھپکتے ہوئے تسلی دی تھی جو اپنی ’’نااہلی‘‘ اور ’’مجبوری‘‘ پر نادم تھا اور جو اپنے چہیتے ترین رشتے کا نام یاد رکھنے سے بھی قاصر تھا۔ ان کی بیماری نے حمین سکندر کو وقت سے پہلے میچور کردیا تھا۔ جبریل نے سالار سکندر کی بیماری کو جھیلا تھا، حمین نے سکندر عثمان کی۔ وہ اسے اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لئے اسے اپنی چیزیں دینا شروع ہوگئے تھے۔
    ’’دادا! آپ کو یہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ حمین جیسے سمجھ جاتا تھا کہ وہ بار ٹرڈیل… کس شے کے لئے تھی۔
    ’’میرے پاس دنیا میں جتنا وقت ہے، آپ کے لئے ہے۔‘‘
    وہ جیسے انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتا۔ وہ پھر بھی اسے کچھ نہ کچھ دینے کی کوشش کرتے، حمین ان کے بہت سارے رازوں سے واقف تھا۔ ان بہت ساری جگہوں سے بھی جہاں وہ اپنی قیمتی چیزیں چھپاتے تھے۔ اس پر ان کے اعتبار کا یہ عالم تھا کہ وہ ہر چیز چھپاتے ہوئے صرف حمین سکندر کو بتاتے تھے صرف اس لئے کیوں کہ انہیں یہ خدشہ تھا کہ وہ کہیں اس جگہ کو بھی بھول نہ جائیں جہاں وہ سب کچھ چھپارہے تھے اور ایسا ہی ہوتا تھا، ان کے بھولنے پر حمین انہیںوہ چیز نکال کردیتا تھا۔ وہ کمرہ جیسے ان دونوں دادا اور پوتے کے لئے چھین چھپائی والی جگہ بن گیا تھا۔
    ’’ایک دن تم بہت بڑے آدمی بنوگے۔‘‘سکندر عثمان اس سے اکثر کہا کرتے تھے۔ ’’اپنے بابا سے بھی بڑے آدمی۔‘‘
    وہ ان کی بات غور وفکر کے بغیر سنتا لیکن بیچ میں انہیں ٹوک کر پوچھتا۔
    ’’خالی بڑا آدمی بنوں گا یا rich ؟ بابا تو rich نہیں ہیں۔‘‘ اسے جیسے فکر لاحق ہوئی سکندر عثمان ہنس پڑے۔
    ’’بہت امیر ہوجاؤگے… بہت زیادہ۔‘‘
    ’’ پھر ٹھیک ہے۔‘‘ اسے جیسے اطمینان ہوتا۔ ’’لیکن آپ کو کیسے پتا؟‘‘ اسے یک دم خیال آیا۔
    ’’کیوں کہ میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔‘‘ سکندرعثمان بڑھاپے کی اس لاٹھی کو دیکھتے جو ان کے سب سے عزیز بیٹے کا ان کے لئے تحفہ تھا۔
    ’’اوکے۔‘‘ حمین کے ذہن میں مزید سوالات آئے تھے لیکن وہ دادا سے اب بحث نہیں کرتا تھا۔
    ’’میں تم پر دنیا میں سب سے زیادہ اعتماد کرتا ہوں۔‘‘ وہ اکثر اس سے کہا کرتے تھے اور وہ بڑی سنجیدگی سے ان سے کہتا۔
    ’’اور آپ واحد انسان ہیںجو یہ کام کرتے ہیں۔‘‘ اور عثمان جواباً کسی بچے کی طرح ہنسنے لگتے تھے۔
    ’’جب میں اس دنیا سے چلا جاؤں گا تو یہ رنگ تم امامہ کو دے دینا۔ ‘‘ اعتماد کے ایسے ہی یک لمحے میں انہوں نے حمین کو وہ انگوٹھی دکھائی تھی، جسے وہ کئی سال اپنی ماں کی انگلی میں دیکھتا رہا تھا۔
    ’’یہ تو ممی کی رنگ ہے۔‘‘ حمین جیسے چلایا تھا۔
    ’’ہاں تمہاری ممی کی ہے… سالار نے شادی پر گفٹ کی تھی اسے… پھر وہ اسے بیچ کر سالار کے سارے پراجیکٹ میں کچھ انویسٹمنٹ کرنا چاہتی تھی، تو میں نے اسے لے کر اسے وہ رقم دے دی۔ میں اسے واپس کردوں گا تو وہ نہیں لے گی اور میں نہیں چاہتا، وہ اور سالار اسے بیچ کر میرا قرض واپس دینے کی کوشش کریں۔‘‘
    سکندر عثمان بتاتے گئے تھے۔ انہوں نے اسے ایک تھیلی میں ڈال کر اپنی وارڈ روب کے ایک چور خانے میں حمین کے سامنے رکھا تھا۔ وہ چور خانہ حمین نے بھی پہلی بار ہی دیکھا تھا۔
    ’’آپ اسے لاکر میں کیوں نہیں رکھوا دیتے؟‘‘ اس نے سکندر عثمان کو مشورہ دیا تھا۔ وہ مسکرادیئے تھے۔
    ’’میرے مرنے کے بعد لاکر سے جو کچھ بھی نکلے گا، وہ ساری اولاد کی مشترکہ ملکیت ہوگا۔ کوئی یہ امامہ کونہیں دے گا۔‘‘ سکندر نے کہا۔
    ’’لیکن آپ Will میں لکھ سکتے ہیں۔‘‘ سکندر اس کی بات پر ہنس پڑے تھے۔
    ’’میری اولاد بہت اچھی ہے لیکن میں زندگی میں ان سے بہت ساری باتیں نہیں منواسکتا تومرنے کے بعد کیسے منوا سکوں گا، جب تمہاری اولادہوگی تو تمہیں سمجھ آجائے گی میری باتوں کی۔‘‘ انہوں نے جیسے بڑے پیار کے ساتھ اس سے کہا تھا۔
    سکندرعثمان کی موت کے ایک ہفتے کے بعد اس گھر میں ان کی اولاد ترکے کی تقسیم کے لئے اکٹھی ہوئی تھی اور حمین سکندر کی سمجھ میں وہ بات آگئی تھی… سکندر عثمان اپنی زندگی میں ہی سب کچھ تقسیم کرچکے تھے۔ انہوں نے اپنے پاس صرف چند چیزیں رکھی تھیں جن میں وہ گھر بھی تھا، لیکن ان چند چیزوں کی ملکیت پر بھی سب میں کچھ اختلاف ہوگئے تھے اور یہ اختلاف بڑھ جاتے اگر سالار سکندر اور اس کا خاندان سکندر عثمان کے رہ جانے والے اثاثوں پر اپنے حصے کے حوالے سے کلیم کرتا۔ وہ ان کے خاندان کا مشترکہ فیصلہ تھا۔
    سکندر عثمان کے بچنے والے اثاثوں میں سے سالار سکندر اور اس کے خاندان نے کچھ نہیں لیاتھا۔ البتہ سکندر عثمان کا وہ گھر حمین سکندرنے خرید نے کی آفر کی تھی کیونکہ طیبہ پہلے بھی زیادہ تر اپنے بیٹوں کے پاس بیرون ملک رہتی تھیں اور اب مستقل طور پر ان کے پاس رہنا چاہتی تھیں اور ان کے وہاں سے شفٹ ہوجانے کے فیصلے کے بعد اس گھر کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس فیصلے کے دوران کسی نے امامہ کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ سالار سکندر اور اس کے اپنے بچوں کے علاوہ جنہیں یہ احساس ہورہا تھا کہ سکندر عثمان کے چلے جانے کے بعد اس گھر کے رہنے سے ایک شخص ایک بار پھر دربدر ہونے والا تھا۔ حمین نے اس گھر کو صرف امامہ کے لئے خریدا تھا اور ان یادوں کے لئے جو ان سب کی اس گھر سے وابستہ تھیں اور اس نے جس قیمت پر اسے خریدا تھا، وہ مارکیٹ سے دوگنی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ’’ممی! مجھے آپ کو ایک امانت دینی ہے۔ ‘‘ حمین رات کو سالار اور امامہ کے کمرے میں آیا تھا۔ وہ صبح واپس جارہا تھا۔ باری باری … سب ہی واپس جارہے تھے۔ سالار اور وہ دونوں کچھ دیر پہلے ہی کمرے میں آئے تھے، جب وہ دستک دے کر ان کے کمرے میں آیا تھا۔
    ’’امانت؟‘‘ وہ کچھ حیران ہوئی تھی۔ حمین نے ایک تھیلی اس کے ہاتھ پر رکھی اور اس کے قریب صوفے پر بیٹھ گیا۔
    ’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے کچھ حیران ہوتے ہوئے پہلے حمین پھر سالار کو دیکھا جو فون پر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔
    ’’آپ خود دیکھ لیں۔‘‘ حمین نے اسے کہا، امامہ نے تھیلی میں ہاتھ ڈال کر اندر موجود چیز نکالی اور ساکت رہ گئی۔
    فون پر بات کرتا سالار بھی اسی طرح ٹھٹکا تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ دونوں اس انگوٹھی کو سیکنڈز میں نہ پہچان جاتے جو ان کی زندگی کی بہترین اور قیمتی ترین یادوں میں سے ایک تھی۔
    ’’یہ تمہیں کہاں سے ملی؟‘‘ امامہ نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا تھا۔ سالار نے فون منقطع کردیا تھا۔
    ’’دادا نے بچپن میں میرے سامنے وارڈروب میں ایک دراز میں رکھتے ہوئے مجھ سے کہا تھا کہ اگر وہ اسے بھول جائیں تو ان کے مرنے کے بعد میں اسے وہاں سے نکال کر آپ کو دے دوں؟‘‘ حمین کہہ رہا تھا۔
    ’’وہ آپ کو یہ واپس دے دینا چاہتے تھے لیکن انہیں خدشہ تھا کہ آپ اسے نہیں لیں گی اور ایسا نہ ہو آپ اور بابا ان کا قرض ادا کرنے کے لئے اسے بیچ دیں۔‘‘
    آنسو سیلاب کی طرح امامہ کی آنکھوں سے نکل اس کے چہرے کو بھگوتے چلے گئے۔ سکندر عثمان ہمیشہ اس کا بہت شکریہ ادا کرتے رہتے تھے لیکن اس تشکر کو انہوں نے جس طرح اپنے جانے کے بعد اسے پہنچایا تھا، اس نے امامہ کو بولنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ وہ ایک شفیق سسر تھے۔
    ’’تم نے پہلے کبھی بھی اس رنگ کے بارے میں ذکر نہیں کیا۔‘‘ سالار نے اپنے سامنے بیٹھے اپنے اس بیٹے کو دیکھا جو آج بھی ویسا ہی عجیب اور گہرا تھا جیسا بچپن میں تھا۔
    ’’میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ میں کبھی کسی کو اس انگوٹھی کے بارے میں نہیں بتاؤں گا۔ یہ ایک امانت تھی، میں خیانت نہیں کرسکتا تھا۔‘‘ اس نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ باپ سے کہا اور پھر اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ ہموار قدموں سے چلتا ہواوہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ وہ دونوں تب تک اسے دیکھتے رہے جب تک وہ غائب نہیں ہوگیا۔
    ’’میں یہ انگوٹھی حمین کی بیوی کو دوں گی۔ اس پر اگر کسی کا حق ہے تو وہ حمین کا ہے۔‘‘ اس کے جانے کے بعد امامہ نے مدھم آواز میں سالار سے کہا تھا۔ وہ انگوٹھی ابھی بھی اس کی ہتھیلی پر تھی جسے وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ دیکھ رہی تھی، کئی سالوں کے بعد، کئی سال پہلے کی ساری یادیں ایک بار پھر زندہ ہوگئی تھیں۔
    سالار نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ اس نے امامہ کے ہاتھ سے وہ انگوٹھی لی اور بڑی نرمی سے اس کی انگلی میں پہنادی۔ اس کی مخروطی انگلی میں آج بھی بے حد آسانی سے پوری آگئی تھی۔
    ’’تمہارا بہت شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا میں امامہ۔‘‘ اس نے امامہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہنا شروع کیا۔ ’’تم نے پاپا کی جتنی خدمت کی ہے، وہ میں نہیں کرسکتا تھا نہ ہی میں نے کی ہے۔‘‘
    ’’سالار!‘‘ امامہ نے اسے ٹوکا تھا۔ ’’تم مجھے شرمندہ کررہے ہو۔‘‘
    ’’مجھے اگر زندگی میں دوبارہ شریک حیات کا انتخاب کرنے کا موقع ملے تو میں آنکھیں بند کرکے تمہیں چنوں گا۔‘‘
    وہ نم آنکھوں کے ساتھ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
    اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے اس نے ہاتھ کی پشت پر سجی اس انگوٹھی کو دوبارہ دیکھا۔ سولہ سال کی جدائی تھی جو اس نے اس گھر میں سالار سے الگ رہ کر جھیلی تھی۔ وہ تب چند سال یہاں گزارنے آئی تھی اور تب وہ جیسے تلوار کی ایک دھار پر ننگے پاؤں چل رہی تھی۔ وہ سکندر عثمان کا خیال رکھتے ہوئے دن رات سالار کے لئے خوف زدہ رہتی تھی اور اس نے سالار کو یہ نہیں بتایا تھا مگر اس نے یہ دعا کی تھی تب کہ اگر سکندر عثمان کی خدمت کے عوض اسے اللہ نے کوئی صلہ دینا تھا تو وہ سالار سکندر کی زندگی اور صحت یابی کی شکل میں دے دے اور آج سولہ سال بعد اسے لگتا تھا شاید ایسا ہی ہوا تھا۔ اس کی زندگی کا وہ سولہ سال بالآخر ایک بار پھر سے سالار اور اپنے بچوں کے ساتھ مستقل طور پر امریکہ جاکر رہ سکتی تھی۔ بے شک وہ اپنے رب کی کسی بھی نعمت کا شکریہ ادا کرسکتی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۴ (تبارک الذی)

    جبرل نیند سے فون کی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھا تھا۔ اسے پہلا خیال ہاسپٹل کا آیا تھا لیکن اس کے پاس آنے والی وہ کال ہاسپٹل سے نہیں آئی تھی۔ اس پر نسا کا نام چمک رہا تھا۔ وہ غیر متوقع تھی۔ ایک ہفتے پہلے اسفند کی تدفین کے دوران اس کی ملاقات نسا سے ایک لمبے عرصے کے بعد ہوئی تھی اور اس کے بعد اس طرح رات کے اس وقت آنے والی کال…
    کال ریسیو کرتے ہوئے دوسری طرف سے اس نے جبریل سے معذرت کی تھی کہ وہ رات کے اس وقت اسے ڈسٹرب کررہی تھی اور پھر بے حد اضطراب کے عالم میں اس نے جبریل سے کہا تھا۔
    ’’تم عائشہ کے لئے کچھ کرسکتے ہو؟‘‘
    جبریل کچھ حیران ہوا۔ ’’عائشہ کے لئے، کیا؟‘‘
    ’’وہ پولیس کسٹڈی میں ہے۔‘‘
    ’’What?‘‘ وہ ہکا بکا رہ گیا۔ ’’کیوں؟‘‘
    ’’قتل کے کیس میں۔‘‘ وہ دوسری طرف سے کہہ رہی تھی۔
    جبریل سکتہ میں رہ گیا۔ ’’کس کا قتل؟‘‘ وہ اب رونے لگی تھی۔
    ’’اسفد کا۔‘‘ جبریل کا دماغ گھوم کر رہ گیا۔
    ٭…٭…٭




    لاک اپ میں بیٹھ کر اس رات عائشہ عابدین نے اپنی گزری زندگی کو یاد کرنے کی کوشش کی تھی، مگر اس کی زندگی میں اتنا بہت کچھ ہوچکا تھا کہ وہ اس کوشش میں ناکام ہورہی تھی، یوں جیسے وہ اٹھائیس سال کی زندگی نہیں تھی آٹھ سو سال کی زندگی تھی۔ کوئی بھی واقعہ اس ترتیب سے یاد نہیں آرہا تھا جس ترتیب سے وہ اس کی زندگی میں ہوا تھا اور وہ یاد کرنا چاہتی تھی۔
    لاک اپ کے بستر پر چت لیٹے، چھت کو گھورتے، اس نے یہ سوچنے کی کوشش کی تھی کہ اس کی زندگی کا سب سے بدترین واقعہ کون سا تھا۔ سب سے تکلیف دہ تجربہ اور دور…
    باپ کے بغیر زندگی گزارنا؟
    احسن سعد سے شادی؟
    اس کے ساتھ اس کے گھر میں گزارا ہوا وقت؟
    ایک معذور بیٹے کی پیدائش؟
    احسن سعد سے طلاق؟
    اسفد کی موت؟ یا پھر اپنے ہی بیٹے کے قتل کے الزام میں دن دیہاڑے اسپتال سے پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونا؟ اور ان سب واقعات کے بیچوں بیچ کئی اور ایسے تکلیف دہ واقعات جو اس کے ذہن کی دیوار پر اپنی جھلک دکھاتے ہوئے جیسے اس فہرست میں شامل ہونے کے لئے بے قرار تھے۔
    وہ طے نہیں کرسکی۔ ہر تجربہ، ہر حادثہ اپنی جگہ تکلیف دہ تھا… اپنی طرز کا ہولناک… وہ ان کے بارے میں سوچتے ہوئے جیسے زندگی کے وہ دن جینے لگی تھی اور اگلے واقعہ کے بارے میں سوچنا شروع کرتے ہوئے اسے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا تھا کہ پچھلا واقعہ زیادہ تکلیف دہ تھا یا پھر وہ، جو اسے اب یاد آیا تھا۔
    کبھی کبھی عائشہ عابدین کو لگتا تھا وہ ڈھیٹ ہے… تکلیف اور ذلت سہہ سہہ کر وہ اب شرمندہ ہونا اور درد سے متاثر ہونا چھوڑ چکی تھی۔ زندگی وہ اتنی ذلت اور تکلیف سہ چکی تھی کہ شرم اور شرمندگی کے لفظ جیسے اس کی زندگی سے خارج ہوگئے تھے… وہ اتنی ڈھیٹ ہوچکی تھی کہ مرنا بھی بھول گئی تھی۔ اسے کسی تکلیف سے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ دل تھا تو وہ اتنے ٹکڑے ہوچکا تھا کہ اب اور ٹوٹنا اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔ ذہن تھا تو اس پر جالے ہی جالے تھے… عزتِ نفس، ذلت، عزت جیسے لفظوں کو چھپا دینے والے جالے… یہ سوچنا اس نے کب کا چھوڑ دیا تھا کہ یہ سب اس کے ساتھ ہی کیوں ہوا تھا، ا س نے تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا… اس سوال کا جواب ویسے بھی اسے احسن سعد نے رٹوا دیا تھا۔
    ’’لکھو اس کاغذ پر کہ تم گناہ گار ہو… اللہ سے معافی مانگو… پھر مجھ سے معافی مانگو… پھر میرے گھر والوں سے معافی مانگو…بے حیا عورت!‘‘
    پتا نہیں یہ آواز اس کے کانوں میں گونجنا بند کیوں نہیں ہوتی تھی… دن میں… رات میں… سینکڑوں بار ان جملوں کی باز گشت اسے اس کے اس سوال کا جواب دیتی رہتی تھی کہ یہ سب اس کے ساتھ ہی کیوں ہوا تھا۔
    وہ ایک گناہ گار عورت تھی… یہ جملہ اس نے اتنی بار اپنے ہاتھ سے کاغذ پر لکھ کر احسن سعد کو دیا تھا کہ اب اسے یقین ہوگیا تھا کہ وہ جملہ حقیقت تھا۔ اس کا گناہ کیا تھا؟ یہ اسے یاد نہیں آتا تھا، مگر اسے پھر بھی یقین تھا کہ جو بھی گناہ اس نے کبھی زندگی میں کیا ہوگا، بہت بڑا ہی کیا ہوگا۔ اتنا بڑا کہ اللہ تعالیٰ اسے یوں بار بار ’’سزا‘‘ دے رہا تھا۔ سزا کا لفظ بھی اس نے احسن سعد اور اس کے گھر میں ہی سنا اور سیکھا تھا… جہاں گناہ اور سزا کے لفظ کسی ورد کی طرح دہرائے جاتے تھے۔ ورنہ عائشہ عابدین نے تو احسن سعد کی زندگی میں شامل ہونے سے پہلے اللہ کو خود پر صرف ’’مہربان‘‘ دیکھا تھا۔
    ’’بے حیا عورت…!‘‘ وہ گالی اس کے لئے تھی۔ کسی مجسمے کی طرح، کھڑی کی کھڑی، یوں جیسے اس نے کوئی سانپ یا اژدھا دیکھ لیا ہو… وہ ناز و نعم میں پلی تھی۔ گالی تو ایک طرف اس نے کبھی اپنے نانا، نانی یا ماں سے اپنے لئے کوئی سخت لفظ بھی نہیں سنا تھا… ایسا لفظ جس میں عائشہ کے لئے توہین یا تضیحک ہوتی اور اب اس نے اپنے شوہر سے اپنے لئے جو لفظ سنا تھا اس میں تو الزام اور تہمت تھی۔
    وہ ’’بے حیا‘‘ تھی… عائشہ عابدین نے اپنے آپ کو بہلایا تھا، سو تاویلیں دے کر کہ یہ گالی اس کے لئے کیسے ہوسکتی ہے… یا شاید اس نے غلط سنا تھا یا پھر ان الفاظ کا مطلب وہ نہیں تھا جو وہ سمجھ رہی تھی۔ وہ اس کیفیت پر ایک کتاب لکھ سکتی تھی، ان توجیہات، ان وضاحتوں پر جو پہلی گالی سننے کے بعد اگلے کئی دن عائشہ عابدین نے اپنے آپ کو دی تھیں۔ اپنی عزتِ نفس کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے اینٹی بایوٹکس کے ایک کورس کی طرح لیکن یہ سب صرف پہلی گالی کی دفعہ ہوا تھا پھر آہستہ آہستہ عائشہ عابدین نے ساری توجیہات اور وضاحتوں کو دفن کردیا تھا… وہ اب گالیاں کھاتی تھی اور بے حد خاموشی سے کھاتی تھی اور بہت بری بری… اور اسے یقین تھا وہ ان گالیوں کی مستحق تھی کیونکہ احسن سعد اس سے یہ کہتا تھا… پھر وہ مار کھانا بھی اسی سہولت سے سیکھ گئی تھی… اپنی عزتِ نفس کو ایک اور دلاسادیتے ہوئے۔
    پانچ افراد کا وہ گھرانہ اسے یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ اس کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا تھا وہ اسی قابل تھی۔
    وہ مومنین کے ایک ایسے گروہ میں پھنس گئی تھی جو زبان کے پتھروں سے اسے بھی مومن بنانا چاہتے تھے کیونکہ وہ ’’گناہ گار‘‘ تھی۔
    احسن سعد کی زندگی میں کیسے آیا تھا اور کیوں آگیا تھا…
    ایک وقت تھا جب اسے لگتا تھا کہ وہ اس کی خوش قسمتی بن کر اس کی زندگی میں آیا ہے اور پھر ایک وہ وقت آیا جب اسے وہ ایک ڈراؤنا خواب لگنے لگا تھا، جس کے ختم ہونے کا انتظار وہ شدو مد سے کرتی تھی اور اب اسے لگتا تھا کہ وہ، وہ عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے کردہ ناکردہ گناہوں پر اس دنیا میں ہی دے دیا ہے۔
    وہ ہاؤس جاب کررہی تھی جب احسن سعد کا پروپوزل اس کے لئے آیا تھا۔ عائشہ کے لئے یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ اس کے لئے درجنوں پروپوزلز پہلے بھی آچکے تھے اور اس کے نانا نانی کے ہاتھوں رد بھی ہوچکے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ یہ پروپوزل بھی کسی غو رکے بغیر رد کردیا جائے گا کیوں کہ اس کے نانا، نانی اس کی تعلیم مکمل ہوئے بغیر اسے کسی قسم کے رشتے میں باندھنے پر تیار نہیں تھے، مگر اس بار ایسا نہیں ہوا تھا… احسن سعد کے والدین کی میٹھی زبان عائشہ عابدین کی فیملی پر اثر کرگئی تھی اور اس پر بھی۔
    ’’ہمیں صرف ایک نیک اور اچھی بچی چاہیے اپنے بیٹے کے لئے… باقی سب کچھ ہے ہمارے پاس۔ کسی چیز کی کمی نہیں ہے اور آپ کی بیٹی کی اتنی تعریفیں سنی ہیں ہم لوگوں نے کہ بس ہم آپ کے ہاں جھولی پھیلا کر آئے بغیر رہ نہ سکے۔‘‘ احسن کے باپ نے اس کے نانا سے کہا تھا اور عائشہ عابدین کو تب پتا چلا تھا کہ اس کی ایک نند اس کے ساتھ میڈیکل کالج میں پڑھتی تھی۔ ان دونوں کا آپس میں بہت رسمی سا تعارف تھا، مگر اسے حیرت ہوئی تھی کہ اس رسمی تعارف پر بھی اس کی اتنی تعریفیں وہ لڑکی اپنی فیملی میں کرسکتی تھی جو کالج میں بالکل خاموش اور لئے دیئے رہتی تھی۔
    عائشہ عابدین کے لئے کسی کی زبان سے اپنی تعریفیں سننا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ وہ کالج کی سب سے نمایاں اسٹوڈنٹس میں سے ایک تھی اور وہ ہر شعبے میں نمایاں تھی۔ اکیڈمک قابلیت میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیون میں اور پھر اپنی پرسنالٹی کی وجہ سے بھی… وہ اپنے بیچ کی نہ صرف حسین بلکہ بے حد اسٹائلش لڑکیوں میں گنی جاتی تھی… بے حد باعمل مسلمان ہوتے ہوئے بھی اور مکمل طور پر حجاب لئے ہوئے بھی… حجاب عائشہ عابدین پر سجتا بھی تھا۔ یہ اس کی کشش کو بڑھانے والی چیز تھی اور اس کے بارے میں لڑکے اور لڑکیوں کی یہ متفقہ رائے تھی اور اب اس لڑکی کے لئے احسن سعد کا پرپوزل آیا تھا جس کی فیملی کو اس کے نانا نانی نے پہلی ملاقات میں ہی اوکے کردیا تھا۔
    پتا نہیں کون ’’سادہ ‘‘ تھا… ا س کے نانا، نانی جنہیں احسن کے ماں باپ بہت شریف اور سادہ لگے تھے یا پھروہ خود کہ ماں باپ کی دین داری کا پاس کیا تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے شادی سے پہلے احسن سعد اور عائشہ کی ایک ملاقات کروانا ضروری سمجھا تھا۔ احسن سعد
    اس وقت امریکا میں ریزیڈنسی کررہا تھا اور چھٹیوں میں پاکستان آیا ہوا تھا۔
    احسن سعد سے پہلی ملاقات میں عائشہ کو ایک لمبے عرصے کے بعد جبریل یاد آیا تھا اور اسے وہ جبریل کی طرح کیوں لگا تھا؟ عائشہ کو اس سوال کا جواب نہیں ملا۔
    وہ مناسب شکل و صورت کا تھا، تعلیمی قابلیت میں بے حد اچھا اور بات چیت میں بے حد محتاط… اس کا پسندیدہ موضوع صرف ایک تھا۔ مذہب، جس پر وہ گھنٹوں بات کرسکتا تھا اور اس کے اور عائشہ عابدین کے درمیان رابطے کی کڑی یہی تھا۔
    پہلی ہی ملاقات میں وہ دونوں مذہب پر بات کرنے لگے تھے اور عائشہ عابدین اس سے مرعوب ہوئی تھی۔ وہ حافظ قرآن تھا اور وہ اسے بتارہا تھا کہ زندگی میں کبھی کسی لڑکی کے ساتھ اس کی دوستی نہیں رہی، وہ عام لڑکوں کی طرح کسی الٹی سیدھی حرکتوں میں نہیں پڑا۔ وہ مذہب کے بارے میں جامع معلومات رکھتا تھا اور وہ معلومات عائشہ کی معلومات سے بہت زیادہ تھیں، لیکن وہ ایک سادہ زندگی گزارنا چاہتا تھا اور عائشہ بھی یہی چاہتی تھی۔
    ایک عملی مسلمان گھرانے کے خواب دیکھتے ہوئے وہ احسن سعد سے متاثر ہوئی تھی اور اس کا خیال تھا وہ اپنی عمر کے دوسرے لڑکوں سے بے حد میچور اور مختلف ہے۔ وہ اگر کبھی شادی کرنے کا سوچتی تھی تو ایسے ہی آدمی سے شادی کرنے کا سوچتی تھی۔ احسن سعد پہلی ملاقات میں اسے متاثر کرنے میں کامیاب رہا تھا۔ اس کی فیملی اس کے گھر والوں سے پہلے ہی متاثر تھی۔
    شادی بہت جلدی ہوئی تھی اور بے حد سادگی سے… یہ احسن سعد کے والدین کا مطالبہ تھا۔ عائشہ اور اس کے نانا نانی اس پر بے حد خوش تھے۔ عائشہ ایسی ہی شادی چاہتی تھی اور یہ اسے اپنی خوش قسمتی لگی تھی کہ اسے ایسی سوچ رکھنے والا سسرال مل گیا تھا۔ احسن سعد کی فیملی کی طرف سے جہیز کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں آیا تھا بلکہ انہوں نے سختی سے عائشہ کے نانا، نانی کو ان روایتی تکلفات سے منع کیا تھا، مگر یہ عائشہ کی فیملی کے لئے، اس لئے ممکن نہیں تھا کیونکہ عائشہ کے لئے اس کے نانا نانی بہت کچھ خرید تے رہتے تھے اور جس کلاس سے وہ تعلق رکھتی تھی، وہاں جہیز سے زیادہ مالیت کے تحائف دلہن کے خاندان کی طرف سے موصول ہوجاتے تھے اور عائشہ شادی کی تقریب میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ بہت سادگی سے کی جانے والی تقریب بھی شہرکے ایک بہترین ہوٹل میں منعقد کی گئی تھی۔ احسن سعد اور اس کے خاندان کو عائشہ اور اس کی فیملی کی طرف سے دیئے جانے والے تحائف کی مالیت بے شک لاکھوں میں تھی، مگر اس کے برعکس احسن سعد کی فیملی کی جانب سے شادی پر دیئے جانے والے عائشہ کے ملبوسات اور زیورات احسن سعد کے خاندانی رکھ رکھاؤ اور مالی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ وہ بس مناسب تھے۔
    عائشہ کی فیملی کا دل برا ہوا تھا، لیکن عائشہ نے انہیں سمجھایا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ’’سادگی‘‘ سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ اگر انہوں زیورات اور شادی کے ملبوسات پر بھی بہت زیادہ پیسہ خرچ نہیں کیا تو بھی یہ ناخوش ہونے والی بات نہیں تھی۔ کم از کم اس کا دل ان چھوٹی موٹی باتوں کی وجہ سے کھٹا نہیں ہوا تھا۔




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۳ (تبارک الذی)

    اوول آفس سے ملحقہ ایک چھوٹے سے کمرے میں پروٹوکول آفیسر کی رہنمائی میں داخل ہوتے ہوئے سالار سکندر کے انداز میں اس جگہ سے واقفیت کا عنصر بے حد نمایاں تھا۔ وہ بڑے مانوس انداز میں چلتے ہوئے وہاں آیا تھا اور اس کے بعد ہونے والے تمام Rituals سے بھی واقف تھا۔ وہ یہاں کئی بار آچکا تھا، کئی وفود کا حصہ بن کر… لیکن یہ پہلاموقع تھا جب وہ وہاں تنہا بلایا گیا تھا۔
    اسے بٹھانے کے بعد وہ آفیسر اندرونی دروازے سے غائب ہوگیا تھا۔ وہ پندرہ منٹ کی ایک ملاقات تھی، جس کے اہم نکات وہ اس وقت ذہن میں دہرا رہا تھا۔ وہ امریکہ کے کئی صدور سے مل چکا تھا، لیکن وہ صدر جس سے وہ اس وقت ملنے آیا تھا، خاص تھا۔ کئی حوالوں سے…
    وال کلاک پر ابھی 9:55ہوئے تھے۔
    صدر کے اندر آنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔ اس سے پہلے 9:56 پہ ایک ویٹر اس کو پانی پیش کرکے گیا تھا۔ اس نے گلاس اٹھا کر رکھ دیا تھا۔ 9:57 پہ ایک اور اٹینڈنٹ اسے کافی سرو کرنے آیا تھا۔ اس نے منع کردیا۔ 9:59 پہ اوول آفس کا دروازہ کھلا اور صدر کی آمد کا اعلان ہوا۔ سالار اٹھ کھڑا ہوا۔
    اوول آفس کے دروازے سے اس کمرے میں آنے والا صدر، امریکہ کی تاریخ کا کمزور ترین صدرتھا۔ وہ 2030ء کا امریکہ تھا۔ بے شمار اندرونی اور بیرونی مسائل سے دوچار ایک کمزور ملک … جس کی کچھ ریاستوں میں اس وقت خانہ جنگی جاری تھی۔کچھ میں نسلی فسادات… اور ان سب میں امریکہ کا وہ پہلا صدر تھا جس کی کابینہ تھنک ٹینکس میں مسلمانوں اور یہودیوں کی تعداد اب برابر ہوچکی تھی۔ اس کی پالیسیز کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ بھی اندرونی خلفشار کا شکار تھی لیکن یہ وہ مسائل نہیں تھے جن کی وجہ سے امریکہ کا صدر اس سے ملاقات کررہا تھا۔
    امریکہ اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی بینکنگ بحران کے دوران اپنی بین الاقوامی پوزیشن اور ساکھ کو بچانے کے لئے سرتوڑ کوشش کررہا تھا اور SIF سربراہ سے وہ ملاقات ان ہی کوششوں کا ایک حصہ تھی۔ ان آئینی ترامیم کے بعد جو امریکہ کو اپنے ملک کی حیثیت کو مکمل طور پر ڈوبنے سے بچانے کے لئے کرنی پڑی تھیں۔
    اپنی تاریخ کے اس سے بڑے مالیاتی بحران میں جب امریکہ کی اسٹاک ایکسچینج کریش کرگئی تھی، اس کے بڑے مالیاتی ادارے دیوالیہ ہورہے تھے۔ ڈالر کی ویلیو کو کسی ایک جگہ روکنا مشکل ہوگیا تھا اور مسلسل گرتی ہوئی اپنی کرنسی کو استحکام دینے کے لئے امریکہ کو تین مہینے کے دوران تین بار اس کی ویلیو خود کم کرنی پڑی تھی۔ صرف ایک ادارہ تھا جو اس مالیاتی بحران کو جھیل گیا تھا۔ لڑکھڑانے کے باوجود وہ امریکہ کے بڑے مالیاتی اداروں کی طرح زمین بوس نہیں ہوا تھا، نہ ہی اس نے ڈاؤن سائزنگ کی تھی، نہ بیل آؤٹ پیکجز مانگے تھے۔ اور وہ SIF تھا۔ پندرہ سال میں وہ ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے طور پر اپنی شان دار ساکھ اور نام بناچکا تھا اور امریکہ اور بہت سے دوسرے چھوٹے ملکوں میں وہ بہت سے چھوٹے بڑے اداروں کو ضم کرکے اپنی چھتری تلے لاچکا تھا اور وہ چھتری مغربی مالیاتی اداروں کی شدید مخاصمت اور مغربی حکومتوں کے سخت ترین امتیازی قوانین کے باوجود پھیلتی چلی گئی تھی۔




    پندرہ سالوں میں SIFنے اپنی بقا اور ترقی کے لئے بہت ساری جنگیں لڑی تھیں اور ان میں سے ہر جنگ چومکھی تھی لیکن SIFاور اس سے منسلک افراد ڈٹے رہے تھے اور پندرہ سال کی اس مختصر مدت میں مالیاتی دنیا کا ایک بڑا مگرمچھ اب SIF بھی تھا جو اپنی بقا کے لئے لڑی جانے والی ان تمام جنگوں کے بعد اب بے حد مضبوط ہوچکا تھا۔
    یورپ اور ایشیا اس کی بڑی مارکیٹیں تھیں لیکن یہ افریقہ تھا جس پر SIF مکمل طور پر قابض تھا۔ وہ افریقہ جس میں کوئی گورا 2030ء میں SIF کے بغیر کوئی مالیاتی ٹرانزیکشن کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ افریقہ SIF کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ سالار سکندر کے ہاتھ میں تھا، جسے افریقہ اور اس کے لیڈر ز نام اور چہرے سے پہچانتے تھے۔ پچھلے پندرہ سالوں میں صرف سالار کا ادارہ، وہ واحد ادارہ تھا جو افریقہ کے کئی ممالک میں بدترین خانہ جنگی کے دوران بھی کام کرتا رہا تھا اور اس سے منسلک وہاں کام کرنے والے سب افریقی تھے اور SIF کے مشن اسٹیٹمنٹ پر یقین رکھنے والے… جو یہ جانتے تھے جو کچھ SIF ان کے لئے کررہا تھا اور کرسکتا تھا، وہ دنیا کا کوئی اور مالیاتی ادارہ نہیں کرسکتا تھا۔
    SIF افریقہ میں ابتدائی دور میں کئی بار نقصان اٹھانے کے باوجود وہاں سے نکلا نہیں تھا، وہ وہیں جما اور ڈٹا رہا تھا اور اس کی وہاں بقا کی بنیادی وجہ سود سے پاک وہ مالیاتی نظام تھا جو وہاں کی مقامی صنعتوں اور صنعت کاروں کو نہ صرف سود سے پاک قرضے دے رہا تھا، بلکہ انہیں اپنے وسائل سے اس انڈسٹری کو کھڑا کرنے میں انسانی وسائل بھی فراہم کررہا تھا۔
    پچھلے پندرہ سالوں میں SIF کی افریقہ میں ترقی کی شرح ایک اسٹیج پر اتنی بڑھ گئی تھی کہ بہت سے دوسرے مالیاتی اداروں کو افریقہ میں اپنا وجود قائم رکھنے کے لئے SIF کا سہارا لینا پڑا تھا۔
    سالار سکندر سیاہ فاموں کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا اور اس کی یہ پہچان بین الاقوامی تھی۔ افریقہ کے مالیاتی نظام کی کنجی SIF کے پاس تھی اور سالار سکندر کے اس دن وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ امریکہ ورلڈ بینک کو دیئے جانے والے فنڈز میں اپنا حصہ ادا کرنے کے قابل نہیں رہا تھا اور ورلڈ بینک کو فنڈز کی فراہمی میں ناکام رہنے کے بعد اس سے سرکاری طور پر علیحدگی اختیارکررہاتھا۔ ورلڈ بینک اس سے پہلے ہی ایک مالیاتی ادارے کے طور پر بری طرح لڑکھڑا رہا تھا۔ یہ صرف امریکہ نہیں تھا جو مالیاتی بحران کا شکار تھا۔ دنیا کے بہت سے دوسرے ممالک بھی اسی کساد بازاری کا شکار تھے اور اس افراتفری میں ہر ایک کو صرف اپنے ملک کی معیشت کی پروا تھی۔ اقوام متحدہ سے منسلک ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی اقتصادیات پر قابض رہنا اب نہ صرف ناممکن ہوگیا تھا، بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آئے ہوئے مالیاتی بحران کے بعد اب یہ بے کار بھی ہوگیا تھا۔
    ورلڈ بینک اب وہ سفید ہاتھی تھا جس سے وہ ساری استعماری قوتیںجان چھڑانا چاہتی تھیں اور کئی جان چھڑا چکی تھیں۔ اقوام متحدہ کا وہ چارٹر جو اپنے ممبران کو ورلڈ بینک کے ادارے کو فنڈ ز فراہم کرنے کا پابند کرتا تھا۔ اب ممبران کے عدم تعاون اور عدم دلچسپی کے باعث کاغذ کے ایک پرزے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ اقوام متحدہ اب وہ ادارہ نہیں رہا تھا جو بین الاقوامی برادری میں سیکڑوں سالوں سے چلے آنے والے ایک ہی مالیاتی نظام میں پروئے رہنے پر مجبور کرسکتا۔
    دنیا بدل چکی تھی اور گھڑی کی سوئیوں کی رفتار کے ساتھ مزید بلدتی جارہی تھی اوراس رفتار کو روکنے کی ایک آخری کوشش کے لئے امریکہ کے صدر نے SIF کے سربراہ کو وہاں بلایا تھا۔
    ایوان ہاکنز نے اندر داخل ہوتے ہوئے اپنے اس پرانے حریف کو ایک خیر مقدمی مسکراہٹ دینے کی کوشش کی جو اس کے استقبال کے لئے مؤدبانہ اور بے حد باوقار انداز میں کھڑا تھا۔ سیاست میں آنے سے پہلے ایوان ایک بڑے مالیاتی ادارے کا سربراہ رہ چکا تھا۔ سالار سکندر کے ساتھ اس کی سالوں پرانی واقفیت بھی تھی اور رقابت بھی۔ SIF نے امریکہ میں اپنی تاریخ کا پہلا بڑا نضمام اس کے ادارے کو کھا کر کیا تھا۔ اور اس انضمام کے بعد ایوان کو اس کے عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا۔ وہ آج امریکہ کا صدر تھا، لیکن وہ ناکامی اور بدنامی آج بھی اس کے ریکارڈ میں ایک داغ کے طور پر موجود تھی۔ یہ ایوان کی بدقسمتی تھی کہ اتنے سالوں کے بعد وہ اسی پرانے حریف کی مدد لینے پر ایک بار پھر مجبور ہوا تھا۔ وہ اس کے دورِ صدارت میں اسے دھول چٹانے آن پہنچا تھا۔ یہ اس کے احساسات تھے۔ سالار کے نہیں۔ وہ وہاں کسی اور ایجنڈے کے ساتھ آیا تھا۔ اس کا ذہن کہیں اور پھنسا ہوا تھا۔
    ’’سالار سکندر…‘‘ چہرے پر ایک گرم پر جوش مسکراہٹ کا نقاب چڑھائے، ایوان نے سالار کا استقبال تیز رفتاری سے اس کی طرف بڑھتے ہوئے یوں کیا تھا جیسے وہ حریف نہیں رہے تھے، بہترین دوست تھے، جو وائٹ ہاؤس میں نہیں کسی گالف کورس پر مل رہے تھے۔ سالار نے اس کی خیر مقدمی مسکراہٹ کا جواب اتنی ہی خوش دلی کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے دیا تھا۔ دونوں کے درمیان رسمی کلمات کا تبادلہ ہوا۔ موسم کے بارے میں ایک آدھ بات ہوئی، جو اچھا تھا اور ا س کے بعد دونوں اپنی اپنی نشست سنبھال کر بیٹھ گئے تھے۔ وہ ون آن ون ملاقات تھی۔ کمرے کے دروازے اب بند ہوچکے تھے اور وہاں ان دونوں کا اسٹاف نہیں تھا اور اس ون آن ون ملاقات کے بعد ان دونوں کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس تھی جس کے لئے اس کمرے سے کچھ فاصلے پر ایک اور کمرے میں بیٹھے دنیا بھرکے صحافی بے تابی سے منتظر تھے۔
    اس ملاقات سے پہلے ان دونوں کی ٹیم کے افراد کئی بار آپس میں مل چکے تھے۔ ایک فریم ورک وہ ڈسکس بھی کرچکے تھے اور تیار بھی… اب اس ملاقات کے بعد باضابطہ طور پر وہ دونوں وہ اعلان کرتے جس کی بھنک میڈیا کو پہلے ہی مل چکی تھی۔
    امریکہ اب ورلڈ بینک کے ذریعے نہیں SIF کے ذریعے دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں گھسنا چاہتا تھا۔ خاص طور پر افریقہ میں اور اس کے لئے وہ ورلڈ بینک سے باضابطہ علیحدگی اختیارکررہا تھا مگر اس کے سامنے مسئلہ صرف ایک تھا۔ امریکہ کا ایجنڈا SIF کے ایجنڈے سے مختلف تھا اور اس ملاقات میں سالار سکندر کو غیر رسمی انداز میں… آخری بار ان امریکی مفادات کے تحفظ کی یاد دہانی کروائی تھی۔ امریکہ SIF کی ٹیم کے بہت سارے مطالبات مان کر اس فریم ورک پر تیار ہوا تھا۔ یہ وہ امریکہ نہیں رہا تھا جو بندوق کی نوک پر کسی سے کچھ بھی کرواسکتا تھا۔ یہ انتشار کا شکار ایک کھوکھلا ہوتا ہوا ملک تھا جو بات سنتا تھا۔ مطالبات مانتا تھا اور اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹ جاتا تھا یا پھر آخری حربے کے طور پر اپنے مفادات کی خاطر وہ کرتا تھا جو اس بار بھی اس میٹنگ کے اچھے یا برے نتیجے کے ساتھ پہلے سے مشروط تھا۔
    میٹنگ کا نتیجہ ویسا ہی نکلا تھا جیسی ایوان کو توقع تھی۔ سالار سکندر کو SIF کے ایجنڈے کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا۔ نہ ہی امریکی حکومت کے ایجنڈے کے حوالے سے… وہ امریکی حکومت کی مدد کرنے پر تیار تھا۔ اس فریم ورک کے تحت جو اس کی ٹیم نے تیار کیا تھا، لیکن SIF کو امریکہ کا ترجمان بنانے پر تیار نہیں تھا۔ اس نے ایوان کی تجویز کا شکریہ کے ساتھ رد کردیا تھا۔ دو مگرمچھوں کے درمیان دشمنی ہوسکتی تھی، دوستی نہیں مگر دشمنی کے ساتھ بھی وہ ایک ہی پانی میں رہ سکتے تھے۔ بڑے محتاط اور پرُامن طریقے سے، اپنی اپنی حدود میں، اور اس نے ایوان کو بھی یہی مشورہ دیا تھا جس سے ایوان نے اتفاق کیا تھا۔ سالار سکندر سے انہیں جیسے جواب کی توقع تھی انہیں ویسا ہی جواب ملا تھا۔
    SIF کو اب ایک نئے سربراہ کی ضرورت تھی جو زیادہ لچک دار رویے کا حامل ہوتا اور زیادہ سمجھدار بھی… سالار سکندر میں ان دونوں چیزوں کی اب کچھ کمی ہوگئی تھی۔ یہ ایوان کا اندازہ تھا۔
    سی آئی اے کو SIF کے نئے سربراہ کے بارے میں تجاویز دینے سے پہلے SIF کے پرانے سربراہ کو ہٹانے کے لئے احکامات دے دیئے گئے تھے اور یہ اس میٹنگ کے بعد ہوا تھا۔
    اس سے پہلے ایوان نے سالار سکندر کے ساتھ اس پریس کانفرنس میں شرکت کی تھی، جس میں امریکہ نے باقاعدہ طور پر ملک میں ہونے والے مالیاتی بحران سے نپٹنے کے لئے نہ صرف SIF کی مدد لینے کا فیصلہ کیا تھا بلکہ SIF کے ساتھ طے پانے والے اس فریم ورک کا بھی اعلان کیا تھا، جس کی منظوری صدر نے بے حد دباؤ کے باوجود دے دی تھی۔
    ایوان ہاکنز کو اس اعلان کے وقت ویسی ہی تضحیک محسوس ہورہی تھی جتنی اس نے اس وقت محسوس کی تھی، جب اس کے مالیاتی ادارے کا انضمام SIF کے ساتھ ہوا تھا اور جس کے بعد وہ اپنے عہدے سے فارغ ہوگیا تھا۔ اسے یقین تھا تاریخ اس بار اپنے آپ کو کچھ مختلف طریقے سے دہرانے والی تھی۔ اس دفعہ اسکرین سے غائب ہونے والا اس کا پرانا حریف تھا، وہ نہیں۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۲ (ابداً ابدا)

    امامہ کے لئے کیرولین کی فون کال ایک سرپرائز تھی۔ اس نے بڑے خوشگوار انداز میں اس سے بات چیت کرتے ہوئے امامہ کو اس اجازت کے بارے میں بتایا تھا جو اس نے ایرک کو دی تھی اور امامہ حیران رہ گئی تھی۔ اسے ایرک اور جبریل کے درمیان اس حوالے سے ہونے والی گفتگو کا علم نہ تھا۔
    ’’ممی! مجھے یقین تھا وہ نہ اپنی ممی سے بات کرے گا نہ ہی وہ اسے اجازت دیں گی۔‘‘ جبریل نے ماں کے استفسار پر اسے بتایا تھا۔
    امامہ نے اسے کیرولین کی کال کے بارے میں مطلع کرتے ہوئے بتایا تھا۔
    ’’لیکن اب اس کی ممی نے مجھے کال کرکے کہا ہے کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے تو اب کیا کریں؟‘‘ امامہ نے کہا۔
    ’’کیا کرنا ہے۔‘‘ وہ ہنس پڑا تھا۔ ’’قرآن پاک سکھاؤں گا اسے اب۔‘‘ جبریل نے ماں سے کہا تھا۔
    اسے اپنے جواب پر امامہ کے چہرے پر خوشی نظر نہیں آئی۔
    ’’آپ کو پریشانی کس بات کی ہے۔ پہلے یہ تھی کہ اس کی فیملی کو اعتراض نہ ہو لیکن اب تو اس کی فیملی نے اجازت دے دی ہے پھر اب تو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
    جبریل نے جیسے ماں کو کریدنے کی کوشش کی تھی۔ امامہ اس سے کہہ نہیں سکی کہ اسے سارا مسئلہ عنایہ کی وجہ سے ہورہا تھا۔ قرآن پاک سیکھنے کی یہ خواہش اگر ایرک کی اس خواہش کے بغیر سامنے آتی تب وہ کچھ اور طرح کے تامل اور جھجک کا شکار ہوتی لیکن خوشی خوشی ایرک کو اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر قرآن پاک سیکھنے دیتی۔
    ’’مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے… جوبھی ہوتا ہے، اللہ کی مرضی سے ہی ہوتا ہے اور ہم کچھ بھی بدلنے پر قادر نہیں ہیں۔ ٹھیک ہے ایرک تم سے قرآن پاک سیکھنا چاہتا ہے تو تم سکھاؤ اسے۔‘‘ امامہ نے بالآخر جیسے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔
    ٭…٭…٭





    گیارہ سال کی عمر میں قرآن پاک سے ایرک کا وہ پہلا باقاعدہ تعارف تھا۔ اس سے پہلے وہ صرف اس کتاب کا نام جانتا تھا۔ جنرل نالج کے حصے کے طور پر…
    وہ سالار اور امامہ کے گھر جاکر مسلمانوں کے قریب ہوا تھا اور جبریل کی تلاوت سن سن کر وہ قرآن پاک سے متاثر ہونا شروع ہوگیا تھا۔ وہ زبان اور وہ تلاوت اسے جیسے کسیfantasy میں لے جاتی تھی۔ وہ لفظ ’’ہیبت‘‘ سے آشنا نہیں تھا… ہوتا تو شاید یہی استعمال کرتا اس کے لئے… جبریل کی آواز دلوں کو پگھلا دینے والی ہوتی تھی، وہ خوش الحان نہیں تھا۔ وہ بلا کا خوش الحان تھا اور گیارہ سال کا وہ بچہ اس زبان اور اس کے مفہوم سے واقف ہوئے بغیر بھی صرف اس کی آواز کے سحر میں گرفتار تھا۔
    جس دن اس نے جبریل سے قرآنی قاعدہ کا پہلا سبق لیا تھا، اس رات اس نے آن لائن قرآن پاک کا پورا انگلش ترجمہ پڑھ لیاتھا۔ وہ کتابیں پڑھنے کا شوقین اور عادی تھا اور قرآن پاک کو اس نے ایک کتاب ہی کی طرح پڑھا تھا۔ بہت ساری چیزوں کو سمجھتے ہوئے… بہت ساری چیزوں کو نہ سمجھتے ہوئے۔ بہت ساری باتوں سے متاثر ہوتے ہوئے… بہت سارے احکامات سے الجھتے ہوئے… بہت سارے جملوں کو ذہن نشین کرتے ہوئے… بہت سارے واقعات کو اپنی کتاب بائبل سے منسلک کرتے ہوئے…
    اس نے بائبل بہت اچھی طرح پڑھی تھی اور اس نے قرآن پاک کو بھی اسی لگن سے پڑھا تھا۔ اس کی ماں کی یہ رائے ٹھیک تھی کہ ایرک کو جب ایک چیز کا شوق ہوجاتا تھا تو پھر وہ شوق نہیں جنون بن جاتا تھا، لیکن اس کی ماں کا یہ خیال بالکل غلط تھا کہ وہ ایک دو ہفتوں کے بعد خود ہی اپنے اس شوق سے بے زار ہو جانے والا تھا کیوں کہ وہ متلون مزاج تھا۔
    جبریل کو حیرت نہیں ہوئی تھی جب دن ایرک نے اسے قرآنی قاعدہ کا سبق بالکل ٹھیک ٹھیک سنایا تھا۔ وہ بے حد ذہین تھا اور وہ اتنے سالوں سے اس سے واقف ہونے کے بعد… یہ تو جانتا تھا کہ ایرک کوئی بھی چیز آسانی سے بھلاتا نہیں تھا، لیکن وہ یہ جان کر کچھ دیر خاموش ضرور ہوگیا تھا کہ ایرک نے ایک رات میں بیٹھ کر قرآن پاک کا پورا ترجمہ پڑھ لیا تھا۔
    ’’اس کا فائدہ کیا ہوا؟‘‘ جبریل نے اس سے پوچھا تھا۔
    ’’کس چیز کا…؟ قرآن پاک پڑھنے کا؟‘‘ ایرک نے اس کے سوال کی وضاحت چاہی۔
    ’’ہاں!‘‘ جبریل نے جواب دیا۔
    ایرک کو کوئی جواب نہیں سوجھا، اس کا خیال تھا جبریل اس سے متاثر ہوگا۔ وہ متاثر نہیںہوا تھا، الٹا اس سے سوال کررہا تھا۔
    ’’فائدہ تو نہیں سوچا میں نے، میں نے تو بس تجسس میں پڑھا ہے قرآن پاک۔‘‘ ایرک نے کندھے اچکا کر پوچھا۔
    ’’تو اب تمہاری کیا رائے ہے قرآن پاک کے بارے میں…؟ اب بھی سیکھنا چاہتے ہو؟‘‘ جبریل نے اس سے پوچھا۔
    ’’ہاں… اب اور بھی زیادہ۔‘‘ ایرک نے کہا۔ ’’مجھے یہ بے حد انٹرسٹنگ لگی ہے۔‘‘
    جبریل اس کی بات پر مسکرایا تھا۔ وہ ایسے بات کررہا تھا جیسے انسائیکلوپیڈیا کے بارے میں بات کررہا ہو یا کسی دلچسپ کتاب کے بارے میں جو وہ مکمل پڑھے بغیر نہیں رہ سکا ہو۔
    ’’مقدس کتابوں کو صرف پڑھ لینا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔‘‘ جبریل نے اس سے کہا تھا۔ ’’اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔‘‘
    ایرک اس کو بغور دیکھتے ہوئے اس کی بات سن رہا تھا۔
    ’’یہ میں جانتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا، یہ وہی بات تھی جو وہ اپنے ماں باپ سے بھی بہت بار سن چکا تھا۔
    اس دن جبریل نے اسے دوسرا سبق قرآنی قاعدہ کا نہیں دیا تھا۔ اس نے اسے دوسرا سبق اسے ایک ’’اچھا انسان‘‘ بننے کے حوالے سے دیا تھا۔
    ’’کوئی بھی ایسی چیز جس کا تعلق اللہ سے ہے اور جو ہم سیکھتے ہیں تو پھر اس دن ہمارے اندر دوسروں کے لئے کچھ زیادہ بہتری آنی چاہیے تاکہ یہ نظر آئے کہ ہم کوئی ’’خاص چیز‘‘ سیکھ رہے ہیں۔‘‘
    جبریل نے اسے سمجھایا تھا۔ وہ تبلیغ کرنا نہیں چاہتا تھا اور یہ مشکل کام بھی تھا کہ اپنے مذہب کا ڈنکا بجائے بغیر کسی کو یہ سمجھا سکے کہ اسلام آخری مذہب کیوں تھا… کامل ترین کیوں تھا۔
    ’’وہ سارے سبجیکٹ جو ہم اسکول میں پڑھتے ہیں اور جو ہم وہاں سیکھتے ہیں، وہ ہماری پرسنالٹی پر اثر انداز نہیں ہوتے وہ صرف تب ہمارے کام آتے ہیں جب ہمیں ایگزام دینا ہو… جاب کرنی ہو… یا بزنس کرنا ہو… کتابیں ہمیں باعلم بناتی ہیں… باعمل نہیں… باعمل ہمیں صرف وہ کتاب بناسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف باعمل کرنے کے لئے اتاری ہے۔‘‘
    ایرک اس کی بات بڑی توجہ سے سن رہا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے اس سے پہلے کوئی چیز سمجھا کرتا تھا۔
    ’’بابا نے مجھ سے کہا تھا اگر ہم اچھے انسان نہ بن سکیں اور اپنے خاندان اور معاشرے کے لئے تکلیف کا باعث ہوں تو عبادت کرنے اور مذہب کے بارے میں پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ مذہب اور مذہبی کتابیں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک مقصد کے لئے اتاری ہیں کہ ہم اچھے انسان بن کر رہیں… ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا خیال رکھیں۔ خاص طور پر ان کا جو ہماری ذمہ داری ہیں… جیسے تمہارے چھوٹے بہن، بھائی اور تمہاری ممی تمہاری ذمہ داری ہیں… تمہارا اپنا جسم اور ذہن تمہاری اپنی ذمہ داری ہے۔‘‘
    جبریل بڑی ذہانت سے گفتگو کو اس موضوع کی طرف موڑ رہا تھا جس پر وہ ایرک سے بات کرنا چاہتا تھا اور ایرک یہ بات سمجھ رہا تھا۔ وہ چھوٹا تھا، بے وقوف نہیں تھا۔ وہ کہیں اور بیٹھا ہوتا تو کبھی اس موضوع پر کسی کو بات کرنے کی اجازت نہ دیتا۔ وہ ان ایشوز کے حوالے سے اتنا ہی حساس تھا، لیکن وہ اس گھر میں آکر کسی سے بھی کچھ بھی سن لیتا تھا۔
    ’’تو اب تم نے دیکھنا ہے کہ جس دن تم آقرن پاک پڑھ کر جاتے ہو… اس دن تمہارے اندر کیا تبدیلی آتی ہے… اس دن تم اپنی فیملی کے لئے اور دوسروں کے لئے کیا اچھا کام کرتے ہو۔‘‘ جبریل نے جیسے اسے چیلنج دیا تھا۔
    ’’میں کوشش کروں گا۔‘‘ ایرک نے وہ چیلنج قبول کرلیا تھا۔ پھر اس نے جیسے اس کی مدد مانگی۔ ’’تو آج میں گھر میں جا کر کیا کروں؟‘‘
    ’’تم آج ایک ایسا کام مت کرنا جس سے تمہیں پتا ہو کہ تمہاری ممی اپ سیٹ ہوتی ہیں۔‘‘
    جبریل نے اس سے کہا تھا۔ ایرک کچھ خجل سا ہوگیا۔ اسے اندازہ نہیں تھا جبریل اتنے بے دھڑک انداز میں اس کے بارے میں ایسی بات کہے گا۔
    ’’تم مجھے عبداللہ کہا کرو۔‘‘ ایرک نے جان بوجھ کر بات کا موضوع بدلنے کے لئے اسے ٹوکا۔
    ’’عبداللہ تو اللہ کا بندہ ہوتا ہے… سب سے Kind سب سے زیادہ خیال رکھنے والا اور احساس کرنے والا… کسی کو تکلیف نہ دینے والا، میں تمہیں عبداللہ تب کہنا شروع کروں گا۔ جب تم سب سے پہلے اپنی ممی کو تکلیف دینا بند کردوگے۔‘‘
    جبریل نے اس کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا تھا۔ ایرک جیسے کچھ اور خجل ہوا۔ ایک لمحے کے لئے اسے لگا جیسے جبریل اس سے جو کچھ کہہ رہا تھا، وہ اس کی ممی کے کہنے پر کہہ رہا تھا، لیکن وہ اس سے بحث میں نہیں الجھا تھا اس نے خاموشی سے اس کی بات سن لی تھی۔
    اس دن ایرک گھر جاکر پہلی بار رالف سے خوش دلی سے ملا تھا… کیرولین اور وہ دونوں سٹنگ ایریا میں بیٹھے فٹ بال میچ دیکھ رہے ہیں۔ رالف اور کیرولین کو ایک لمحے کے لئے لگا، شاید ایرک سے غلطی ہوئی تھی یا پھر انہیں وہم ہورہا تھا۔ اس نے پہلی بار رالف سے خوش مزاجی کا مظاہرہ کیا تھا اور کیرولین اس بات پر شروع شروع میں اسے ڈھیروں بار ڈانٹ اور سمجھا چکی تھی۔ زچ ہوچکی تھی اور پھر اس نے ایرک کو کچھ کہنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ ایرک اور رالف کے درمیان کبھی کوئی تکرار نہیں ہوئی تھی، لیکن رالف یہ جانتا تھا کہ وہ اسے پسند نہیں کرتا اور اس نے بھی ایرک کے ساتھ فصلے کم کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
    اس کا خیال تھا، ان دونوں کے درمیان فاصلہ رہنا ہی بہتر تھا تاکہ لحاظ ختم نہ ہو، لیکن وہ ذاتی حیثیت میں ایک اچھا سلجھا ہوا آدمی تھا اور وہ ایرک کے حوالے سے کیرولین کی پریشانی کو بھی سمجھتا تھا۔
    ایرک رکے بغیر وہاں سے چلا گیا تھا۔ رالف اور کیرولین نے ایک دوسرے کو حیرانی سے دیکھا۔
    ’’اس کو کیا ہوا؟‘‘ رالف نے کچھ خوش گوار حیرت کے ساتھ کہا تھا۔
    ’’پتا نہیں۔‘‘ کیرولین نے کندھے اچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
    وہ پہلی تبدیلی نہیں تھی جو ایرک میں آئی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ مزید تبدیل ہوتا گیا تھا۔ ویسا ہی جیسا وہ پہلے ہوا کرتا تھا۔ قرآن پاک کا سبق ہفتے میں دو دن کے بجائے وہ اب ہر روز لینے جایا کرتا تھا… اگر کبھی جبریل یہ کام نہ کرسکتا تو حمین یا امامہ اسے سبق پڑھا دیتے، لیکن ایرک کو یہ اعتراف کرنے میں عار نہیں تھا کہ جیسے جبریل اسے پڑھاتا تھا، ویسے اور کوئی نہیں پڑھا سکتا تھا۔ اس کی آواز میں تاثیر تھی، ایرک اس سے پہلے بھی متاثر تھا، لیکن اس سے قرآن پاک پڑھنے کے دوران وہ اس سے مزید قریب ہوگیا تھا۔
    اس گھر میں ایرک کی جڑیں اب زیادہ گہری اور مضبوط ہوگئی تھیں۔ امامہ کی تمام تر احتیاط کے باوجود…
    ٭…٭…٭
    جبریل لوگوں کو نہ سمجھ میں آنے والے انداز میں متاثر کرتا تھا۔ تیرہ سال کی عمر میں اس کا ٹھہراؤ اس کی عمر کے عام بچوں کے برعکس تھا۔ سالار کی بیماری نے امامہ کے ساتھ ساتھ دس سال کی عمر میں اسے بھی بدل دیا تھا۔ وہ ضرورت سے زیادہ حساس اور اپنی فیملی کے بارے میں زیادہ ذمہ دار ہوگیا تھا یوں جیسے وہ اسی کی ذمہ داری تھی اور سالار اور امامہ یقینا خوش قسمت تھے کہ ان کی سب سے بڑی اولاد میں ایسا احساس ذمہ داری تھا۔
    اس نے امریکا میں سالار کی سرجری اور اس کے بعد وہاں امامہ کے بھی وہیں قیام کے دوران اپنے تینوں چھوٹے بہن، بھائیوں کی پروا کسی باپ ہی کی طرح کی تھی۔
    سکندر عثمان اور طیبہ، سالار کے بچوں کی تربیت سے پہلے بھی متاثر تھے، لیکن ان کی غیر موجودگی میں جبریل نے جس طرح ان کے گھر پر اپنے بہن بھائیوں کا خیال رکھا تھا، وہ ان کو مزید متاثر کرگیا تھا۔ امامہ نے اپنے بچوں سے کہا تھا کہ یہ ہمارا گھر نہیں ہے، ہم یہاں مہمان ہیں اور مہمان کبھی میزبان کو شکایت کا موقع نہیں دیتے اور ان چاروں نے ایسا ہی کیا تھا۔ طیبہ اور سکندر کو کبھی ان چاروں بچوں کے حوالے سے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا نہ ہی انہیں ان کے حوالے سے کسی اضافہ ذمہ داری کا احساس ہوا تھا۔
    وہ تینوں اپنا ہر کام خود ہی کرلینے کی کوشش کرتے تھے اور رئیسہ کی ذمہ داری ان تینوں نے آپس میں بانٹی ہوئی تھی کیوں کہ ان چاروں میں سب سے چھوٹی اور کسی حد تک اپنے کاموں کے لئے، وہی دوسروں پر انحصار کرتی تھی۔
    اپنے بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں اس طرح اپنے سر لینے نے جبریل کو بہت بدلا تھا۔ ایک دس سالہ بچہ کئی مہینے اپنا کھیل کود، اپنی سرگرمیاں بھلا بیٹھا تھا اور یہی وہ وقت تھا جب جبریل ذہنی طور پر بھی بدلتا چلا گیا تھا۔
    تیرہ سال کی عمر میں ہائی اسکول سے ڈس ٹنکشن کے ساتھ پاس کرکے یونیورسٹی جانے والا وہ اپنے اسکول کا پہلا اسٹوڈنٹ تھا اور وہ یونیورسٹی صرف ڈس ٹنکشن کے ساتھ نہیں پہنچا تھا، وہ وہاں بل گیٹس فاؤنڈیشن کی ایک اسکالر شپ پر پہنچا تھا۔ وہ، وہ پہلی سیڑھی تھی جو میڈیسن کی طرف جاتے ہوئے اس نے چڑھی تھی سالار سکندر کے خاندان کا پہلا پرندہ یونیورسٹی پہنچ چکا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۱ (ابداً ابدا)

    گرینڈ حیات ہوٹل کا بال روم اس وقت Scripps National Spelling Bee کے 92 ویں مقابلے کے دو فائنلسٹس سمیت دیگر شرکاء ان کے والدین، بہن بھائیوں اور اس مقابلے کو دیکھنے کے لئے موجود لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہونے کے باوجواد اس وقت پن ڈراپ سائلنس کا منظر پیش کررہا تھا۔
    دونوں فائنلسٹ کے درمیان راؤنڈ 14 کھیلا جارہا تھا۔ 13 سالہ نینسی اپنا لفظ اسپیل کرنے کے لئے اس وقت اپنی جگہ پر آچکی تھی۔ پچھلے 92 سالوں سے اس بال روم میں دنیا کے بیسٹ اسپیلر کی تاجپوشی ہورہی تھی۔ امریکہ کی مختلف ریاستوں کے علاوہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں اسپیلنگ بی کے مقامی مقابلے جیت کر آنے والے پندرہ سال سے کم عمر کے بچے اس آخری راؤنڈ کو جیتنے کے لئے سردھڑکی بازی کے شرکاء آج بھی اسٹیج پر تھے۔
    "Sassafras” نینسی نے رکی ہوئی سانس کے ساتھ پروناؤنسر کا لفظ سنا۔ اس نے پروناؤنسر کو لفظ دہرانے کے لئے کہا پھر اس نے خود اس لفظ کو دہرایا۔ وہ چیمپئن شپ ورڈز میں سے ایک تھا لیکن فوری طور پر اسے وہ یاد نہیں آسکا، بہر حال اس کی ساؤنڈ سے وہ اسے بہت مشکل نہیں لگا تھا اور اگر سننے میں اتنا مشکل نہیں تھا تو اس کا مطلب تھا وہ ٹرکی لفظ ہوسکتا تھا۔
    نوسالہ دوسرا فائنلسٹ اپنی کرسی پر بیٹھا، گلے میں لٹکے اپنے نمبر کارڈ کے پیچھے، انگلی سے اس لفظ کو اسپیل کرنے میں لگا ہوا تھا۔ وہ اس کا لفظ نہیں تھا لیکن وہاں بیٹھا ہر وہ بچہ بھی غیر ارادی طور پر اس وقت یہی کرنے میں مصروف تھا جو مقابلے سے آؤٹ ہوچکا تھا۔
    نینسی کاریگولر ٹائم ختم ہوچکا تھا۔ اس نے لفظ کو اسپیل کرنا شروع کیا۔ s.a.s.sوہ پہلے چار لیٹرز بتانے کے بعد ایک لمحے کے لئے رکی۔ زیر لب اس نے باقی کے پانچ لیٹرز دہرائے، پھر دوبارہ بولنا شروع کیا۔
    "A.F.R” وہ ایک بار پھر رکی، دوسرے فائنلسٹ نے بیٹھے بیٹھے زیر لب آخری دو لیٹرز کو دہرایا ـ”U.S” مائیک کے سامنے کھڑی نینسی نے بھی بالکل اسی وقت یہی دو لیٹرز بولے اور پھر بے یقینی سے اس گھنٹی کوبجتے سنا جو اسپیلنگ کے غلط ہونے پر بجتی تھی۔ حیرت صرف اس کے چہرے پر نہیں تھی، اس دوسرے فائنلسٹ کے چہرے پر بھی تھی۔ پروناؤنسر اب Sassafras کی درست اسپیلنگ دہرایا تھا۔ نینسی نے بے اختیار اپنی آنکھیں بند کیں۔
    ’’آخری لیٹر سے پہلے A ہی ہونا چاہیے تھا… میں نے U کیا سوچ کر لگا دیا۔‘‘ اس نے خود کو کوسا۔
    تقریباً فق رنگت کے ساتھ نینسی گراہم نے مقابلے کے شرکاء کے لئے رکھی ہوئی کرسیوں کی طرف چلنا شروع کردیا۔ ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ اس کے قریب پہنچنے پر اس نے نینسی سے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا۔ نینسی نے ایک مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اسے جواباً وش کیا اور اپنی سیٹ سنبھال لی۔ ہال میں موجود لوگ دوبارہ اپنی نشستیں سنبھال چکے تھے اور دوسرا فائنلسٹ مائیک کے سامنے اپنی جگہ پر آچکا تھا۔ نینسی نے کسی موہوم سی امید کے ساتھ اسے دیکھنا شروع کیا۔ اگر وہ بھی اپنے لفظ کو مس اسپیل کرتا تو وہ ایک بار پھر فائنل راؤنڈ میں واپس آجاتی۔
    "That was a catch 22.” اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اس نے کہا تھا۔ وہ اندازہ نہیں لگاسکی، وہ اس کے لئے کہہ رہا تھا یا وہ اس لفظ کو واقعی اپنے لئے بھی catch 22 ہی سمجھ رہا تھا… وہ چاہتی تھی ایسا ہوتا… کوئی بھی ہوتا، یہی چاہتا۔
    سینٹر اسٹیج پر اب وہ نو سالہ فائنلسٹ تھا۔ اپنی شرارتی مسکراہٹ اور گہری سیاہ چمکتی آنکھوں کے ساتھ… اس نے اسٹیج پر کھڑے چیف پروناؤنسر کو دیکھتے ہوئے سرہلایا۔ جوناتھن جواباً مسکرایا تھا اور ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ رکھنے والا وہ وہاں واحد نہیں تھا۔ وہ نو سالہ فائنلسٹ اس چیمپئن شپ کو دیکھنے والے کراؤڈ کا سوئیٹ ہارٹ تھا۔
    اس کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی۔ چمکتی ہوئی تقریباً گول آنکھیں جو کسی کارٹون کریکٹر کی طرح بے حد animatedتھیں اور اس کے تقریباً گلابی ہونٹ جن پر وہ وقتاً فوقتاً زبان پھیر رہا تھا اور جن پر آنے والا ذرا سا خم بہت سے لوگوں کو بلاوجہ مسکرانے پر مجبور کررہا تھا… وہ معصوم فتنہ تھا، یہ صرف اس کے والدین جانتے تھے جو دوسرے بچوں کے والدین کے ساتھ اسٹیج کی بائیں طرف پہلی صف میں اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔




    وہاں بیٹھے دوسرے فائنلسٹ کے والدین کے برعکس وہ بے حد پرسکون تھے۔ ان کے چہرے پر اب کوئی ٹینشن نہیں تھی، جب ان کا بیٹھا چیمپئن شپ ورڈ کے لئے آکر کھڑا ہوا تھا۔ ٹینشن اگر کسی کے چہرے پر تھی تو وہ ان کی سات سالہ بیٹی کے چہرے پر تھی جو دو دن پر مشتمل اس پورے مقابلے کے دوران دباؤ میں رہی تھی اور وہ اب بھی آنکھوں پر گلاسز ٹکائے پورے انہماک کے ساتھ اپنے نو سالہ بھائی کو دیکھ رہی تھی جو پروناؤنسر کے لفظ کے لئے تیار تھا۔
    ـ”Cappelletti” جوناتھن نے لفظ ادا کیا۔ اس فائنلسٹ کے چہرے پر بے اختیار ایسی مسکراہٹ آئی جیسے وہ بمشکل اپنی ہنسی کو کنٹرول کررہا ہو۔ اس کی آنکھیں پہلے کلاک وائز پھر اینٹی کلاک وائز گھومنا شروع ہوگئی تھیں۔ ہال میں کچھ کھلکھلاہٹیں ابھری تھیں۔
    اس نے اس چیمپئن شپ میں اپنا ہر لفظ سننے کے بعد اسی طرح ری ایکٹ کیا تھا۔ بھنچی ہوئی مسکراہٹ اور گھومتی ہوئی آنکھیں… کمال کی خود اعتمادی تھی۔ کئی دیکھنے والوں نے اسے داد دی۔ اس کے حصے میں آنے والے الفاظ دوسروں کی نسبت زیادہ مشکل تھے۔ یہ اس کی ہارڈ لک تھی لیکن بے حد روانی سے بغیر اٹکے بغیر گھبرائے اسی پر اعتماد مسکراہٹ کے ساتھ وہ ہر پہاڑ سر کرتا رہا تھا اور اب وہ آخری چوٹی کے سامنے کھڑا تھا۔
    "Definition Please.” اس نے اپنا ریگولر ٹائم استعمال کرنا شروع کیا۔
    "Language of origin.”
    اس نے پروناؤنسر کے جواب کے بعد اگلا سوال کیا۔ ’’اٹالین‘‘ اس نے پروناؤنسر کے جواب کو دہراتے ہوئے کچھ سوچنے والے انداز میں ہونٹوں کو دائیں بائیں حرکت دی۔ اس کی بہن بے حد پریشانی اور دباؤ میں اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے والدین اب بھی پرسکون تھے۔ اس کے تاثرات بتارہے تھے کہ لفظ اس کے لئے آسان تھا۔ وہ ایسے تاثرات کے ساتھ پچھلے تمام الفاظ کو اسپیل کرتا رہا تھا۔
    "Use in a sentence please.”
    وہ اب پروناؤنسر سے کہہ رہا تھا۔ پروناؤنسر کا بتایا ہوا جملہ سننے کے بعد اس نے گلے میں لٹکے ہوئے نمبر کارڈ کی پشت پر انگلی سے اس لفظ کو اسپیل کیا۔
    "Your Finish Time starts.”
    اسے ان آخری 30 سیکنڈز کے شروع ہونے پر اطلاع دی گئی جس میں اس نے اپنے لفظ کو اسپیل کرنا تھا۔ اس کی آنکھیں بالآخر گھومنا بند ہوگئیں۔
    ـ”Cappelleti” اس نے ایک بار پھر اپنے لفظ کو دہرایا اور پھر اسے اسپیل کرنا شروع ہوگیا۔
    "C.a.p.p.e.l.l” وہ اسپیلنگ کرتے ہوئے ایک لحظہ رکا، پھر ایک سانس لیتے ہوئے اس نے دوبارہ اسپیل کرنا شروع کیا۔
    "e.t.t.i.” ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور بہت دیر تک گونجتا رہا۔
    اسپیلنگ بی کا نیا چیمپئن، صرف ایک لفظ کے فاصلے پر رہ گیا تھا۔
    تالیوں کی گونج تھمنے کے بعد جوناتھن نے اسے آگاہ کیا تھا کہ اسے اب ایک اضافہ لفظ کو اسپیل کرنا تھا۔ اس نے سرہلایا۔ اس لفظ کو اسپیل نہ کرسکنے کی صورت میں نینسی ایک بار پھر مقابلے میں واپس آجاتی۔
    "weissnichtwo.” اس کے لئے لفظ پروناؤنس کیا گیا تھا۔ ایک لمحہ کے لئے اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی، پھر اس کا منہ کھلا اور اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔
    ’’اوہ! مائی گاڈ؟‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ وہ شاکڈ تھا اور پوری چیمپئن شپ میں یہ پہلا موقع تھا کہ اس کی آنکھیں اور وہ خود اس طرح جامد ہوا تھا۔
    نینسی بے اختیار اپنی کرسی پر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی تھی۔ تو بالآخر کوئی ایسا لفظ آگیا تھا جو اسے دوبارہ چیمپئن شپ میں واپس لاسکتا تھا۔
    اس کے والدین کو پہلی بار اس کے تاثرات نے کچھ پریشان کیا تھا۔ کیا crunch تھا ان کا بیٹا۔ اب اپنے نمبر کارڈ سے اپنا چہرہ حاضرین سے چھپا رہا تھا۔ حاضرین کی انگلیوں اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ بڑی آسانی سے اسکرین پر دیکھ سکتے تھے اور ان میں سے بہت سوں نے اس بچے کے لئے واقعی بہت ہم دردی محسوس کی تھی۔ وہاں بہت کم ایسے تھے جو اسے جیتتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔
    ہال میں بیٹھا ہوا صرف ایک فرد ریلیکسڈ تھا… ریلیکسڈ؟… یا ایکسائیٹڈ؟… کہنا مشکل تھا اور وہ اس بچے کی سات سالہ بہن تھی جو اب اپنے ماں باپ کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی اور جس نے بھائی کے تاثرات پر پہلی بار بڑے اطمینان کے ساتھ کرسی کی پشت کے ساتھ مسکراتے ہوئے ٹیک لگائی تھی۔ گود میں رکھے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو بہت آہستہ آہستہ اس نے تالی کے انداز میں بجانا شروع کردیا تھا۔ اس کے ماں باپ نے بیک وقت اس کے تالی بجاتے ہاتھوں اور اس کے مسکراتے چہرے کو الجھے ہوئے انداز میں دیکھا پھر اسٹیج پر اپنے لرزتے کانپتے کنفیوزڈ بیٹے کو جو نمبر کارڈ کے پیچھے اپنا چہرہ چھپائے انگلی سے نمبر کارڈ کے پیچھے کچھ لکھنے اور بڑبڑانے میں مصروف تھا۔
    ہال اب آہستہ آہستہ تالیاں بجا رہا تھا۔ وہ اب اپنا کارڈ نیچے کرچکا تھا یوں جیسے ذہنی تیاری کرچکا ہو… 92 ویں اسپیلنگ بی کے فائنل مقابلے میں پہلی بار پہنچنے والا وہ فائنلسٹ اپنی قسمت آزمانے کے لئے تیار تھا۔
    ’’w-e-i-s-s-n-i-c-h-t-w-o‘‘ حمین سکندر نے ایک ہی سانس میں رکے بغیر Championship word کے ہجے کئے… کسی روبوٹ کی طرح بنارکے… خلا میںدیکھتے ہوئے… یوں جیسے وہ ان حروف کو خلا میں کہیں لکھا دیکھتے ہوئے، پڑھ رہا تھا۔ وہ اس مقابلے کا پہلا لفظ تھا جسے اس نے بنارکے اس طرح ادا کیا تھا ورنہ وہ ہر لفظ کو سوچ سوچ کر ہجے کرتا تھا یوں جیسے ناپ تول رہا ہو۔
    ’’An unknown place‘‘ اس نے لفظ کے ہجے کرتے ہی اسی رفتار سے اس کا مطلب بتایا… پھر اس کی نظریں pronouncer پر ٹکیں… pronouncer کے منہ سے نکلی ’’درست‘‘ کی آواز ہال میں گونج اٹھنے والی تالیوں کی آواز میں گم ہوگئی تھی… ہال میں اب حاضرین، والدین اور بچے اپنی اپنی سیٹوں سے تالیاں بجاتے ہوئے کھڑے ہورہے تھے… وہ 92nd اسپیلنگ بی کے نئے فاتح کو خراج تحسین پیش کررہے تھے جو اسٹیج پر فلیش لائٹس اور ٹی وی کیمروں کی چکا چوند کردینے والی روشنیوں میں ساکت کھڑا تھا۔ دم سادھے… گنگ … اس کی گول آنکھیں گھومنا تک بھول گئی تھیں… یوں جیسے وہ ابھی تک اس شاک سے نکل نہ پایا ہو کہ وہ جیت چکا ہے۔ یہ حمین سکندر تھا اور یہ حمین سکندر ہی ہوسکتا تھا۔
    تالیوں کی بہرہ کردینے والی گونج اور کیمروں کی خیرہ کردینے والی روشنیوں میں اس نو سالہ بچے نے خود کو سنبھالا… اپنے اعصاب اور حواس پر ایک ہی وقت میں قابو پانے کی کوشش کی اور پھر جو پہلا جملہ اس کے سامنے لگے مائیک نے حاضرین تک پہنچایا تھا اس نے ان تالیوں کی گونج میں ایک بلند شگاف قہقہے کی آواز کو بھی شامل کیا تھا۔
    ’’اوہ ! مائی گاڈ۔‘‘ وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں بول سکا… حاضرین کی ہنسی نے جیسے اسے کچھ اور نروس کیا… پھر نادم … پھر پرجوش اور پھر اس نے سرجھکا کر حاضرین کی تالیوں کاجواب دیا… پھر ایک قدم آگے بڑھا کر ججز کی اس قطار کا ، جو حاضرین سے کچھ آگے بیٹھے ہوئے تھے، لیکن اب کھڑے تالیاں بجا رہے تھے، پھر اس نے پلٹ کر اس طرف دیکھا تھا جہاں اس کے ماں باپ اور رئیسہ بیٹھے تھے۔ وہ بھی اب سب کے ساتھ کھڑے اس کے لئے تالیاں بجارہے تھے۔
    حمین سکندر تقریباً بھاگتا ہوا ان کی طرف گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی وہ سپاٹ لائٹ بھی گئی جو اس سے پہلے اسٹیج پر اس کو فوکس کئے ہوئے تھی۔ وہ تالیاں بجاتی اور آنسو بہاتی امامہ سے آکر لپٹا تھا… پھر اس سے الگ ہوتے ہوئے اس نے اسی تیزی سے امامہ کے گالوں پر بہتے ہوئے آنسو دونوں ہاتھوں سے رگڑے پھر ان ہاتھوں کو اپنی شرٹ پر رگڑتے ہوئے وہ سالار سے لپٹ گیا۔ ــ”Did I make you proud?” اس نے ہمیشہ کی طرح باپ سے پوچھا۔
    "Very proud!” اس نے اسے تھپکتے ہوئے کہا۔
    اس کی آنکھیں چمکیں… مسکراہٹ گہری ہوئی… پھر وہ رئیسہ کی طرف گیا۔ دونوں ہتھیلیاں پھیلاتے ہوئے اس نے بازو ہوا میں بلند کرتے ہوئے رئیسہ کے پھیلائے ہوئے ہاتھوں پر ہائی فائی کیا… اپنے گلے میں لٹکا نمبر کارڈ اتار کر اس نے رئیسہ کے گلے میں ڈالا… پھر جھک کر اسے تھوڑا سا اٹھایا… وہ کھلکھلائی… حمین نے اسے نیچے اتارا اور اسی طرح بھاگتا ہوا واپس اسٹیج کے درمیان چلا گیا جہاں میزبان اب اس سے پھر بات چیت کرنے کے لئے منتظر کھڑے تھے۔
    ’’آخری لفظ کتنا مشکل تھا؟‘‘ ابتدائی کلمات کے بعد میزبان نے چھوٹتے ہی اس سے پوچھا۔ وہ چند سیکنڈز پہلے سب فائنلسٹ سے ہاتھ ملاتے، ان کی مبارک بادیں وصول کرتے ہوئے اس کے پاس پہنچا تھا۔ ہال میں موجود سب لوگ، اب دوبارہ نشستیں سنبھال چکے تھے اور تقسیم انعامات کی تقریب دیکھنے کے منتظر تھے۔
    ’’آخری لفظ تو بے حد آسان تھا۔‘‘ حمین نے بڑے اطمینان سے کندھے اچکا کر کہا۔ ہال میں قہقہہ گونجا۔
    ’’تو پھر مشکل کیا تھا؟‘‘ میزبان نے چھیڑ چھاڑ والے انداز میں کہا۔
    ’’اس سے پہلے پوچھے جانے والے سارے الفاظ۔‘‘ حمین نے بے حد سنجیدگی سے ترکی بہ ترکی کہا۔ ہال میں پہلے سے زیادہ اونچا قہقہہ بلند ہوا۔
    ’’کیوں؟‘‘
    ’’کیوں کہ میں ہر لفظ بھول گیا تھا۔ بس تکے لگا تارہا، ہر لفظ کے ہجے کرنے کے لئے… بس آخری لفظ تھا جومیں آنکھیں، کان، ناک سب بند کرکے بھی ہجے کرسکتا تھا۔‘‘




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۰ (یا مجیب السائلین)

    ’’نہیں کوئی ایسی بات نہیں ہے… فلو کی وجہ سے ہی گیا تھا دوبارہ… بس گپ شپ کرتے ہوئے فون ٹیبل پر رکھا اور پھر اٹھانا یاد ہی نہیں رہا۔‘‘
    سالار نے اس رات فون پر امامہ سے بات کرتے ہوئے کہا۔ وہ مطمئن ہوگئی۔
    ’’اور فلو…؟ اس کا کیا ہوا؟‘‘
    ’’بس چل رہا ہے۔‘‘
    ’’ٹیسٹوں کی رپورٹس آگئیں؟‘‘
    ’’ہاں سب ٹھیک ہے بس وائرل انفیکشن ہے، اس نے کچھ میڈیسنز دی ہیں، ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
    ’’میں تو پریشان ہی ہوگئی تھی… میں نے سوچا پتا نہیں کیا مسئلہ ہے۔ کیوں دوبارہ اسپتال میں فرقان کے ساتھ بیٹھے ہو۔‘‘
    وہ خاموشی سے اس کی گفتگو سنتا رہا۔ فرقان نے ٹھیک مشورہ دیا تھا۔ اسے بھی امامہ کو کچھ بھی نہیں بتانا چاہیے تھا، لیکن اس کے لہجے میں جھلکنے والے اطمینان نے اسے عجیب طریقے سے گھائل کیا تھا… وہ اسے دھوکا دے رہا تھا۔
    وہ اب اسے بچوں کے بارے میں بتارہی تھی۔ بچوں سے باری باری بات کروا رہی تھی۔ وہ پچھلے تین دن سے جبریل کو قرآن پاک نہیں پڑھا پایا تھا۔ امامہ نے اسے یاد دلایا۔
    ’’تم پڑھادو۔‘‘ سالار نے جواباً کہا۔
    ’’میں تو پچھلے تین دن سے پڑھا رہی ہوں۔ revision (دہرائی) کروا رہی ہوں۔ نیا سبق تو تم ہی دوگے۔‘‘ وہ اس سے کہہ رہی تھی۔
    ’’کتنے پارے رہ گئے؟‘‘ سالار نے اس کی بات پر عجیب غائب دماغی سے پوچھا۔
    امامہ نے نوٹس کیا۔ ’’آخری دس۔‘‘
    ’’جلدی ہوجائیں گے۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔





    ’’ہاں انشاء اللہ… وہ ماشاء اللہ ذہین بھی تو بہت ہے۔ دس سال کا ہونے سے پہلے ہی قرآن پاک مکمل ہوجائے گا اس کا۔‘‘
    وہ اس بار سالار کے لہجے پر غور کئے بغیر کہتی گئی۔ وہ چاہتے تھے جبریل اس سے بھی کم عمری میں قرآن پاک حفظ کرلیتا کیوں کہ وہ بلا کا ذہین تھا اور اس کی زبان بے حد صاف تھی، لیکن سالار نے اسے اس عمر میں قرآن پاک حفظ کرنے پر لگایا تھا جب وہ کچھ باشعور ہوکر اس کے معنی و مفہوم کے ساتھ ساتھ اس فریضے کی اہمیت سے بھی واقف ہوگیا تھا۔
    اسکائپ کی اسکرین پر اب باری باری اس کے بچے دکھنے لگے تھے… وہ اب لیپ ٹاپ آن کئے ہوئے بیٹھا ان کی شرارتوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ ایک بھیانک حقیقت کے اندر بیٹھا ایک خوب صورت خواب دیکھ رہا تھا۔ وہ باری باری اپنی طرف کے کمپیوٹر کے کیمرے کے سامنے منہ کر کر کے باپ کو ہیلو کہہ رہے تھے۔
    ’’بابا! آج میں نے ککی بنائی ہے۔‘‘ عنایہ اسے اسکرین پر ایک بڑے سائزکا بسکٹ دکھا رہی تھی۔
    ’’واہ یہ تو بہت یمی دکھتی ہیں۔‘‘ سالار نے اپنے اندر کے فشار کو چھپاتے ہوئے بیٹی کو داد دی۔ وہ سب کچھ وہ اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا، کیوں کہ وہ سب کچھ ختم ہوجانے والا تھا۔
    امامہ ان سب کو وہاں سے ہٹا کر لے گئی تھی کیوں کہ اب جبریل کو نیا سبق پڑھنا تھا۔ وہ اور اس کا نو سالہ بیٹا آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سالار سے اگلا سبق پوچھ رہا تھا۔ سالار نے اسے پچھلا سبق سنانے کے لئے کہا تھا۔ جبریل نے پڑھنا شروع کیا تھا۔ سینے پر ہاتھ باندھے آنکھیں بند کئے خوش الحان آواز میں… اس نے باپ سے صرف ذہانت ورثے میں نہیں پائی تھی، خوش الحانی بھی پائی تھی۔
    نو سال کی عمر میں بھی اس کی قرأت دلوں کو چھو لینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ کسی بھی سننے والے کی آنکھوں کو نم کرسکتی تھی۔ جبریل نے کب اپنا پہلا سبق ختم کیا تھا، سالار کو اندازہ ہی نہیں ہوا، وہ کہیں اور پہنچا ہوا تھا۔ جبریل نے آنکھیں کھول کر اپنے ہاتھ سینے سے ہٹا کر سامنے رکھے قرآن پاک کو دیکھا پھر اسکرین پر باپ کے نظر آنے والے چہرے کو کو جو کسی بت کی طرح بے حس و حرکت تھا۔
    ’’بابا!‘‘ جبریل کو ایک لمحہ کے لئے لگا شاید نیٹ کا کنکشن ختم ہوگیا تھا یا سگنلز کی وجہ سے streaming نہیں ہوپائی تھی۔
    سالار چونکا اور اپنا گلا صاف کرتے ہوئے اس نے جبریل کو ایک بار پھر پچھلا سبق سنانے کو کہا۔ وہ حیران ہوا تھا۔ ’’وہ تو میں نے سنادیا۔‘‘
    ’’میں نہیں سن سکا ایک بار پھر سناؤ۔‘‘
    وہ پہلا موقع تھا جب جبریل نے باپ کے چہرے کو بے حد غور سے دیکھا تھا۔ کچھ مسئلہ تھا اس دن باپ کو… اسے یہ اندازہ ہوگیا تھا، لیکن کوئی سوال کئے بغیر اس نے ایک بار پھر پچھلا سبق سنانا شروع کردیا۔ اس بار سالار پہلے کی طرح کہیں اور محو نہیں ہوا تھا۔ اس نے بیٹے کو نیا سبق پڑھا کر اور چند بار دہرانے کے بعد اسکائپ بند کردیا تھا۔
    "Is baba ok?”(کیا بابا ٹھیک ہیں؟) جبریل نے اسکائپ پر سالار سے باتکرنے کے بعد ماں سے پوچھا۔
    ’’ہاں! وہ ٹھیک ہیں، بس فلو ہے، اس لئے کچھ طبیعت خراب ہے ان کی۔‘‘ امامہ نے اس کے سوال پر زیادہ غور کئے بغیر کہا۔
    "When is he returning?” (’’وہ واپس کب لوٹ رہے ہیں؟‘‘)
    جبریل نے اگلا سوال کیا۔
    ’’ابھی تو امریکا جارہے ہیں دو ہفتے کے لئے پاکستان سے… کہہ رہے تھے کچھ میٹنگز ہیں، پھر امریکا سے آئیں گے۔‘‘
    امامہ نے سالار سے فون پر ہونے والی گفتگو اسے بتائی۔
    ٭…٭…٭
    ورلڈ بینک کی نائب صدارت چھوڑنے سے صرف دو ہفتے پہلے جب سالار کانگو میں الوداعی ملاقاتیں اور فیئر ویل ڈنرز لینے میں مصروف تھا، وال اسٹریٹ جرنل نے ورلڈ بینک کی صدارت سے انکار کی وجہ ڈھونڈ نکالتے ہوئے سالار سکندر کو ہونے والے برین ٹیومر کی نیوز بریک کی تھی اور پھر یہ خبر صرف اس اخبار ہی نے نہیں، ڈھیروں دوسرے اخبارات نے بھی لگائی تھی۔ سالار سکندر کے برین ٹیومر کی بریکنگ نیوز میں مغرب کو دلچسپی نہیں تھی نہ ہی میڈیا کو… دلچسپی اگر تھی تو سی آئی اے کو… اس اسٹیج پر سالار کی مہلک بیماری کی خبر بریک کرنے کا مطلب اس پروجیکٹ کے شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی کمر توڑ نے کے مترادف تھا جس پر سالار کام کررہا تھا۔ ’’وہ‘‘ جانتے تھے سالار ورلڈ بینک سے الگ ہونے کے بعد کیا کرنے جارہا تھا اور انہیں یقین تھا، جو وہ کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا، وہ ناممکنات میں سے تھا۔ اس کے باوجود حفاظتی اقدامات ضروری تھے اور سب سے بہترین دفاعی حکمت عملی وہی تھی جو انہوں نے اختیار کی تھی۔ وہ سالار سکندر کی بیماری کو مشتہر کرنے کے بعد اب اس پروجیکٹ کے ممکنہ سرمایہ کاروں کے پیچھے ہٹ جانے کا انتظار کررہے تھے۔ وہ شطرنج تھی۔ سالار اپنے مہرے سجا کر پہلی چال چلنے کی تیاری کررہا تھا۔ ’’وہ‘‘ پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔ ’’انہوں‘‘ نے پہلی چال چل دی تھی اور پہلی چال میں ہی بادشاہ کو شہہ مات ہونے والی تھی… یہ کم از کم ’’ان‘‘ کو یقین تھا۔
    ٭…٭…٭
    اس نے انٹر نیٹ پر glioma کا لفظ گوگل پر سرچ کیا… پھر oligodendrogliomaکو … ساڑھے نو سال کی عمر میں محمد جبریل سکندر نے ان دو لفظوں کو Spelling Bee کے مقابلے میں حصہ لینے کے لئے ان الفاظ کی فہرست میں شامل کیا تھا جس کی اسپیلنگ اسے یاد کرنا تھی۔ اسے ان دو الفاظ کی اسپیلنگ یاد کرتے ہوئے یہ اندازہ نہیں تھا۔ وہ اپنے باپ کو لاحق دنیا کے مہلک ترین برین ٹیومر سے واقفیت حاصل کررہا تھا۔
    Spelling Bee کے مقابلے کے لئے جبریل نے صرف ان الفاظ کی اسپیلنگ یاد کی تھی۔ وہ دو الفاظ کیا تھے، وہ کھوجنے کی کوشش اس نے بت کی تھی جب اس نے انٹر نیٹ پر اپنے باپ کے نام کے ساتھ اس کی بیماری کے حوالے سے ایک خبر دیکھی تھی۔ وہ ورلڈ بینک کی ویب سائٹ تھی جو ان کے ڈیسک ٹاپ کا ہوم پیج تھا اور کئی بار سالار کے زیر استعمال آتا تھا اور ہوم پیج پر تازو ترین اسکرول ہونے والی خبروں میں سے ایک سالار سکندر کی بیماری کے حوالے سے وال اسٹریٹ جرنل کی نیوز تھی جو صرف آدھ گھنٹہ پہلے بریک ہوئی تھی۔
    ساڑھے نو سال کے اس بچے نے اس بیماری کو کھوجنا شروع کیا تھا۔ سالار ابھی گھر نہیں لوٹا تھا۔ امامہ دوسرے کمرے میں بچوں کو پڑھا رہی تھی اور جبریل انٹر نیٹ پر ساکت بیٹھا یہ پڑھ رہا تھا کہ اس کا باپ گریڈ ٹوکے oligodendroglioma کا شکار تھا۔ اس ٹیومر کا علاج نہیں ہوسکتا تھا۔ مکمل طور پر کامیاب علاج… اور اگر علاج ہو بھی جاتا تو مریض سات سے دس سال تک زندہ رہ سکتا تھا۔ اس برین ٹیومر کے مریض صحت مندرہ کر بھی اس سے زیادہ نہیں جی سکتے تھے۔
    ساڑھے نو سال کا وہ بچہ اس دن چند لمحوں میں بڑا ہوگیا تھا۔ اس گھر میں سالار کے بعد وہ پہلا شخص تھا جسے سالار کی بیماری اور اس کی نوعیت اور اثرات کا علم ہوا تھا۔ جبریل کی سمجھ میں نہیں آیا تھا، وہ اس ہولناک انکشاف کا کیا کرے۔ ماں کو بتادے یا نہ بتائے… یہ اس کا Dilemma (مخمصہ) نہیں تھا۔ اس کا مخمصہ اور تھا۔
    ’’حمین! جاؤ بھائی کو بلا کے لاؤ، وہ سونے سے پہلے تم لوگوں کو دعا پڑھا دے۔ پتا نہیں اتنی دیر کیوں لگا دی اس نے۔‘‘
    بچوں کو پڑھانے سے فارغ ہونے کے بعد انہیں سونے کے لئے لیٹنے کا کہتے ہوئے امامہ کو جبریل یاد آیا۔ اسے کمرے سے گئے کافی دیر ہوگئی تھی۔
    ’’آج میں پڑھاتا ہوں۔‘‘
    حمین نے اعلان کرتے ہی اپنے دونوں ہاتھ کسی نمازی کی طرح سینے پہ باندھتے ہوئے بڑے جذب کے عالم میں دعا پڑھنے کے لئے اپنا منہ کھولا اور امامہ نے تحکمانہ انداز میں فوری طور پر اسے ٹوکا۔
    ’’حمین! بھائی پڑھائے گا۔‘‘
    حمین نے بند آنکھیں کھول لیں اور سینے پر بندھے ہاتھ بھی… اس سے پہلے کہ وہ کمرے سے نکل جاتا، امامہ نے نائٹ سوٹ کے اس پاجامے پر لگی گرہ کو دیکھا جو وہ ابھی ابھی باتھ روم سے پہن کر باہر نکلا تھا۔ پاجامے کے اوپری حصے کو ازابندکے بجائے ایک بڑی سی گرہ لگا کر کسا گیا تھا اور اس گرہ کے دونوں سرے کسی خرگوش کے کانوں کی طرح اس کے پیٹ کے اوپر کھڑے تھے۔
    ’’ادھر آؤ…‘‘ امامہ نے اسے بلایا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے جھک کر نیچے بیٹھتے ہوئے اس گروہ کو کھولنے کی کوشش کی، تاکہ پاجامے کو ٹھیک کرسکے۔
    حمین نے ایک چیخ ماری اور جھٹکا کھا کر اس گرہ پر دونوں ہاتھ رکھے، پیچھے ہٹا۔ ’’ممی! نہیں۔‘‘
    ’’اس کی string کہاں ہے؟‘‘ امامہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس گرہ کو باندھنے کی وجہ کیا تھا۔
    ’’میں نے اسکول میں کسی کو دے دی ہے؟‘‘
    امامہ نے حیرانی سے پوچھا۔ ’’کیوں…؟‘‘
    ’’چیریٹی میں…‘‘ حمین نے جملہ مکمل کیا۔
    امامہ نے ہکا بکا ہوکر اپنے اس بیٹے کا اعتماد اور اطمینان دیکھا۔ ’’چیریٹ میں؟‘‘ وہ واقعی حیرن تھی۔ ’’صرف ایک ڈوری کو؟‘‘
    ’’نہیں…‘‘ مخصر جواب آیا۔
    ’’پھر…؟‘‘
    ’’ڈوری سے بیگ کو باندھا تھا۔‘‘
    ’’کس بیگ کو؟‘‘ امامہ کا ہاتھ ٹھٹکا۔
    ’’اس بیگ کو جس میں toys (کھلونے) تھے۔‘‘ جواب اب بھی پورا آیا تھا۔
    ’’کس کے toys (کھلونے)؟‘‘ امامہ کے ماتھے پر بل پڑے۔
    {"Well”حمین نے اب ماں، رئیسہ اور عنایہ کو باری باری… محتاط انداز میں دیکھا اور اپنے جواب کو گول مول کرنے کی بہترین کوشش کی۔
    "There were many owners.” (وہ کئی لوگوں کے تھے)
    امامہ کو ایک لمحے میں سمجھ میں آیا تھا۔
    ’’ many owners کون تھے۔ کس کو دیئے؟ کیوں دیئے کس سے اجازت لی؟‘‘
    اس نے یکے بعد دیگرے تابڑ توڑ سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۸ (حاصل و محصول)

    اس کا ہاتھ پکڑے وہ اسے اب کسی راستے پر لے جانے لگا… ایک قدم، دوسرا قدم، تیسرا… وہ ٹھٹک کر رک گئی۔ وہ ایک جھیل تھی۔ چھوٹی سی جھیل جس کے کنارے پر وہ تھے۔ ہلکی نیلی رنگت کے شفاف پانی کی ایک جھیل… جس کے پانی میں وہ رنگ برنگی مچھلیاں تیرتے ہوئے دیکھ سکتی تھی۔
    اور اس کی تہ میں بے شمار رنگوں کے موتی… پتھر… سیپیاں…
    جھیل کے پانی پر آبی پرندے تیر رہے تھے… خوب صورت راج ہنس۔ جھیل کے چاروں اطراف پھول تھے… اور بہت سے پھول جھیل کے پانی تک چلے گئے تھے… کچھ پانی کی سطح پر تیر رہے تھے۔
    مگر اس کے قدموں کو ان میں سے کسی چیز نے نہیں روکا تھا۔ اس کے قدموں کو روکنے والی شے جھیل کے کنارے پر موجود لکڑی کی وہ خوب صورت چھوٹی سی کشتی تھی جو پانی میں ہلکورے لے رہی تھی۔ اس نے بے اختیار کھلکھلا کر اسے دیکھا۔
    ’’یہ میری ہے؟‘‘ وہ مسکرا دیا۔ وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر بچوں کی طرح بھاگتی کشتی کی طرف گئی۔ وہ اس کے پیچھے لپکا۔ اس کے قریب پہنچنے پر کشتی پانی سے کچھ باہر آگئی۔ وہ بڑی آسانی سے اس میں سوار ہوگئی۔ اسے لگا وہ کشتی صندل کی لکڑی سے بنی تھی۔ خوشبودار صندل سے…
    وہ اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔ ہوا کا ایک تیز جھونکا کشتی کو پانی میں لے گیا۔ دونوں بے اختیار ہنسے۔
    کشتی اب جھیل کے دوسرے کنارے کی طرف سفر کررہی تھی۔ اس نے جھک کر پانی میں تیرتا کنول کا پھول پکڑ لیا۔ پھر اسی احتیاط کے ساتھ اسے چھوڑ دیا۔
    اس نے دوسری طرف جھک کر اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں جھیل کا پانی ایک چھوٹی سی رنگین مچھلی سمیت لیا اور اس کے سامنے کردیا۔ اس کے ہاتھوں کے پیالے میں حرکت کرتی مچھلی کو دیکھ کر وہ ہنسی، پھر اس نے اس مچھلی کو ہاتھ سے پکڑا اور پانی میں اچھال دیا۔ وہ دونوں جھک رک اسے دیکھتے رہے۔
    پانی پر تیرتا ایک ہنس کشتی کے پاس آگیا۔ پھر دوسرا، پھر تیسرا… وہ کشتی کے گرداب جیسے ایک دائرہ سا بنا کر تیر رہے تھے۔ یوں جیسے ان کا استقبال کررہے تھے۔ وہ پاس سے تیر کر گزرتے، ہر ہنس کو وہ اپنے ہاتھوں سے چھوتی کھلکھلارہی تھی۔ پھر ایک دم اس نے جھیل کے پانی پر کنول کے پھولوں کی قطاروں کو حرکت کرتے دیکھا۔ وہ جھیل کے پانی پر تیرتے اب رقص کررہے تھے۔




    اِدھر اُدھر جاتے… خوب صورت شکلیں بناتے… پاس آتے دور جاتے… پھر پاس آتے… یوں جیسے وہ یک دم ہنسوں کی طرح زندہ ہوگئے تھے۔ جھیل کے نیلے پانی پر وہ سفید کنول اپنے سبز خوب صورت پتوں کے ساتھ ہونے والی مسلسل حرکت سے پانی میں ارتعاش پیدا کررہے تھے۔ وہ بے خود ہورہی تھی یا بے اختیار… وہ بھی سمجھ نہیں پارہی تھی۔ سمجھنا اب ضروری تھا بھی نہیں۔
    جھیل کے نیلے پانی پر رقص کرتے لاتعداد و خوب صورت پھولوں کے بیچ اس نے یک دم کسی عکس کو نمودار ہوتے دیکھا۔ کشتی میں بیٹھے بیٹھے وہ چونک کر مڑی اور پھر وہ بے ساختہ کھڑی ہوگئی۔ کشتی دوسرے کنارے کے پاس آگئی تھی اور وہاں… وہاں کچھ تھا۔
    امامہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی گہری نیند سے۔ اس نے اپنی کلائی پر کسی کا لمس محسوس کیا تھا۔ خواب آور دوا کے زیر اثر اسے ایک لمحہ کے لئے کمرے کی مدھم روشنی میں یوں لگا، وہ ایک خواب سے کسی دوسرے خواب میں آئی تھی۔ سالار اس کے بستر کے قریب کرسی پر بیٹھا تھا… بے حد قریب، بستر پر دھرا اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے۔ پتا نہیں نیند ٹوٹی تھی یا خواب… یا پھر وہ لمس تھا جو اسے خواب سے حقیقت میں لے آیا تھا لیکن وہ خواب آور دوا کے زیر اثر ہوتے ہوئے بھی یک دم اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے کھینچتے ہوئے کہنیوں کے بل اٹھ کر بیٹھنے لگی تھی، سالار نے اسے روکا۔
    ’’اٹھو مت…‘‘
    ’’تم واقعی آگئے ہو؟‘‘ امامہ کو اب بھی جیسے یقین نہیں آیا تھا۔
    وہ دھیرے سے ہنسا۔ ’’تمہیں بتایا تو تھا کہ آجاؤں گا۔‘‘
    ’’یہ تو نہیں بتایا تھا کہ کب آؤگے؟ اور تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟‘‘
    ’’بس میں نے سوچا، تمہاری نیند خراب ہوگی۔‘‘ وہ مدھم آواز میں بات کررہا تھا… دوسرے بستر پر جبریل اور عنایہ تھے جو گہری نیند میں تھے اور صوفے پر ہیڈی تھی جو کچھ دیر پہلے سالار کے آنے پر دروازہ کھلنے کی آواز سے جاگ گئی تھی اور سالار کے ساتھ کچھ خیر مقدمی جملوں کے تبادلے کے بعد وہ کمرے سے چلی گئی تھی۔ وہ رات کے پچھلے پہر کنشاسا پہنچا تھا اور ائیر پورٹ پہ رکے بغیر وہاں آگیا تھا۔ شہر میں حالات اب نارمل ہورہے تھے… فوج اور حکومت امن بحال کرنے میں کامیاب ہورہے تھے۔
    ’’تمہیں کیا ہوا ہے؟‘‘ امامہ نے سالار کے چہرے کو پہلی بار غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے اور آنکھیں سرخ اور یوں سوجی ہوئی تھیں… یوں جیسے وہ کئی راتوں سے سویا نہ ہو۔
    ’’کچھ نہیں، بس اتنے دن گھر سے دور رہا تو شاید اس لئے پھر…‘‘
    سالار نے اس سے آنکھیں ملائے بغیر کہا۔ امامہ نے اس کی بات کاٹ دی، اسے یک دم اپنا خواب یاد آگیا تھا۔
    ’’سالار! تمہیں پتا ہے، ابھی میں خواب میں کیا دیکھ رہی تھی؟‘‘ سالار نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ’’کیا؟‘‘
    ’’میں نے خواب میں ایک گھر دیکھا جھیل کنارے… جہاں تم مجھے لے کر جارہے تھے… ایک کشتی میں بٹھا کر۔‘‘
    وہ دم بخود رہ گیا… جو گھر اس نے امریکہ میں اس کے لئے mortgage کیا تھا، وہ سمندر کے ایک جھیل نما ٹکڑے کے کنارے تھا… اس نے ابھی تک امامہ کو اس گھر کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ وہ اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا اس کی اگلی سالگرہ پر… لیکن اب وہ بیٹھے بٹھائے اسے جھیل کنارے ایک گھر کا قصہ سنارہی تھی۔
    ’’جس جھیل کے کنارے وہ گھر تھا وہ جھیل بے پناہ خوب صورت تھی… سفید کنول کے پھولوں سے بھری ہوئی نیلے پانی کی جھیل… جس میں ہر طرف راج ہنس تیر رہے تھے… اور پانی میں رنگ برنگی مچھلیاں…اور کشتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے خود ہی چل رہی تھی… اور جھیل کے کنارے پھولوں بھری جھاڑیاں تھیں…رنگ رنگ کے پھول سبزے کی طرح پھیلے ہوئے تھے… اور پھول ٹوٹ ٹوٹ کر پانی پر بہتے چلے جارہے تھے۔‘‘
    وہ بول نہیں پارہا تھا۔ جس جھیل کے کنارے اس نے گھر خریدا تھا… وہ بھی کچھ ایسی ہی تھی… اس کے گرد بھی پھول تھے… آبی پرندے اور راج ہنس بھی… اور کنول کے پھول بھی… اور اس جھیل کے کنارے جتنے گھر تھے، ان سب کی کشتیاں بھی اس پانی میں رہتی تھیں۔ بس فرق یہ تھا کہ ان میں سے کوئی لکڑی کی چپو والی کشتی نہیں تھی جیسا نقشہ وہ کھینچ رہی تھی۔
    ایک لمحہ کے لئے اسے محسوس ہوا، امامہ کو شاید اس گھرکا پتا چل گیا تھا… شاید اس نے اس کے لیپ ٹاپ میں اس گھر کی تصویریں دیکھ لی تھیں اور اب وہ جان بوجھ کر اسے چھیڑ نے کی کوشش کررہی تھی، لیکن اگر ایسا بھی تھا تو اس نے کب لیپ ٹاپ دیکھا تھا… پچھلے کئی دنوں میں تو یہ نہیں ہوسکتا تھا کیوں کہ اس کا لیپ ٹاپ اس کے پاس تھا اور اگر یہ اس سے پہلے ہوا تھا تو پھر وہ اس وقت ان حالات میں وہ خواب کیوں سنا رہی تھی۔ وہ الجھا تھا اور بری طرح الجھا تھا۔
    ’’اور گھر کیسا تھا؟‘‘ وہ کریدے بغیر نہیں رہ سکا۔
    ’’شیشے کا۔‘‘ سالار کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔ اس کا mortgage کیا ہوا گھر بھی شیشے ہی کا تھا۔
    ’’لیکن مجھے اس کے اندر کچھ نظر نہیں آیا… وہ شیشے کا تھا لیکن اندر کچھ نظر نہیں آرہا تھا اور میں کشتی سے اتر کر گھر کے اندر جانا چاہتی تھی تو تب ہی میری آنکھ کھل گئی۔‘‘
    وہ بہت مایوس نظر آرہی تھی یوں جیسے اسے بہت افسوس ہورہا تھا۔ سالار پلکیں جھپکے بغیر صرف اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا۔
    ’’لیکن وہ گھر ویسا گھر تھا جیسا میں ہمیشہ بنانا چاہتی تھی جیسا میں اپنے اسکیچز میں اسکیچ کرتی رہتی تھی۔ وہی جھیل… وہی سبزہ… وہ شیشے کا گھر… اور ہر طرف پھول۔‘‘ وہ جیسے ابھی تک کسی خمار میں تھی۔ سالار بھی گنگ تھا۔ اس نے بھی اس گھر کو mortgage کرتے ہوئے وہی ساری چیزیں ڈھونڈی تھیں جو وہ اپنے اسکیچ میں ڈیزائن کرتی رہتی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ امامہ سے کیا کہے… اگر وہ کھیل تھا تو وہ بہترین کھیل رہی تھی اور اگر وہ کھیل نہیں تھا تو اس کے دماغ کی چولیں ہل گئی تھیں۔
    ’’تم نے کبھی زندگی میں کوئی جھیل دیکھی ہے ایسی جیسی میں تمہیں بتارہی ہوں؟‘‘ سوال اچانک آیا تھا اور عجیب و غریب تھا۔
    ’’میں نے؟‘‘ وہ چونکا۔ ’’میں نے؟‘‘ اس نے ذہن پر زور دیا اور پھر ایک جھماکے کے ساتھ اسے یاد آیا تھا کہ اس نے وہ جھیل خواب میں دیکھی تھی… اس رات جب وہ امامہ کو گھر لے کر آیا تھا تو اس نے خواب میں خود کو کسی حسین اور خوب صورت وادی میں امامہ کے انتظار میں پایا تھا اور پھر امامہ آگئی تھی اور پھر اس وادی کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے وہ اسے اس وادی سے ایک جھیل اور کشتی تک لے گیا تھا۔ اس جھیل کا نقشہ ویسا ہی تھا جیسا وہ بتا رہی تھی… پھول، سبزہ، نیلا پانی… راج ہنس… کنول کے پھول… اور لکڑی کی چپو والی صندلی کشتی…
    سالار کے جسم میں کپکپاہٹ ہونے لگی تھی… وہ اگر پزل تھا تو اس کے دو ٹکڑے عجیب انداز میں جڑے تھے۔
    ’’تم نے یہ کیوں پوچھا کہ میں نے خواب میں کبھی کوئی جھیل دیکھی ہے؟‘‘ اس نے سرسراتی آواز میں امامہ سے کہا۔
    ’’تمہیں یاد ہے، حرم پاک کے بارے میں دیکھا جانے والا وہ خواب… جس کا ایک حصہ میں نے دیکھا تھا تو ایک حصہ تم نے بھی دیکھا تھا… اور ایک ہی رات۔‘‘
    وہ اسے عجیب چیزیں یاد دلانے بیٹھ گئی تھی۔
    ’’میں نے سوچا، شاید یہ بھی ویسا ہی کوئی خواب ہو… شاید وہ گھر تم اندر سے دیکھ چکے ہو جو مجھے نظرنہیں آیا۔‘‘
    وہ بچوں جیسے اشتیاق کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی… یوں جیسے وہ کہے گا ہاں… میں اس گھر کو اندر سے دیکھ چکاہوں… سالار کسی بت کی طرح اس کا چہرہ دیکھتا رہا… یقینا اس خواب کے دو ہی حصے تھے… لیکن وہ امامہ سے پچھلے حصے کا گواہ تھا… وہ اس وادی کو دیکھ چکا تھا جہاں وہ جھیل تھی، پر اس جھیل کو اس نے دور سے دیکھاتھا کنارے سے… جسے امامہ نے پار کیا تھا… اور جھیل کے پار جو گھر تھا، اس تک وہ دونوں ہی نہیں پہنچے تھے… اس نے گھر کی جھلک بھی نہیں دیکھی تھی… امامہ نے جھلک دیکھی تھی، پر اندر نہیں جھانک پائی تھی…
    وہ خواب دونوں نے پہلے والے خواب کی طرح ایک رات میں نہیں دیکھا تھا۔ سالار نے وہ رخصتی کی پہلی رات امامہ کو گھر لانے پر… اور امامہ نے تقریباً چھ سال بعد…




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۷ (حاصل و محصول)

    نیویارک میں واقع امریکہ کے سب سے بڑے میڈیا ڈسٹرکٹ مڈٹاؤن میں ہٹن کے کولمبس سرکل میں واقع ٹائم وارنر سینٹر کی عمارت کے سامنے کھڑے پیٹرس ایباکا کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے چمک رہی تھیں۔ وہ کچھ دیر میں اس عمارت کے اندر واقع سی این این کے اسٹوڈیوز میں امریکہ کے ممتاز ترین اخباری صحافیوں میں سے ایک اینڈرسن کو وپر سے اس کے پروگرام 360کے سلسلے میں ملاقات کرنے والا تھا۔
    اینڈرسن کووپر دو ہفتے بعد کانگو میں بارانی جنگلات کے حوالے سے ایک پروگرام کرنے جارہا تھا۔ اس نے انگلینڈ اور یورپ کے اخبارات میں پیٹرس ایباکا کے انٹرویوز اور پگمیز کی بقا کے لئے چلائی جانے والی اس کی مہم کے بارے میں بنیادی معلومات لینے کے بعد اپنی ٹیم کے ایک فرد کے ذریعے اس سے رابطہ کیا تھا…
    ایباکا کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اینڈرسن کووپر کی طرف سے ملنے والی اس کال نے اس کی زندگی اور موت کے حوالے سے بھی فیصلہ کردیا تھا… مگر تاخیر بس تھوڑ سی ہوئی تھی اس کی نگرانی کرنے والے لوگوں سے… ایک سراسیمگی اور بدحواسی پھیلی تھی ان لوگوں میں، جنہوں نے یہ طے کرنا تھا کہ اب اچانک سی این این کے منظر میں آجانے کے بعد وہ فوری طور پر ایباکا کیا کریں… تشویش اس بات پر بھی ہوئی تھی کہ اگر ایباکا اور پگمیز کے حوالے سے کووپر نے پروگرام کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا تو چوٹی کے اور کتنے ایسے صحافی تھے جو اس پروجیکٹ کے حوالے سے پروگرام کرنے کی تیاریوں میںتھے…
    ایباکا، جن چھوٹے موٹے نیوز چینلز اور جرنلٹس کو ’’بڑا‘ اور ’’طاقت ور‘‘ سمجھ کر واشنگٹن میں ان کے ساتھ گھنٹوں گزار کر آتا رہا تھا… وہ سب پہلے ہی ایباکا کی نگرانی کرنے والے لوگوں کی فہرست میں شامل تھے… ان سے ایباکا کے حوالے سے پہلے ہی بات کرلی گئی تھی اور انہیں اس پروجیکٹ اور اس ایشو کی کوریج کے حوالے سے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات بھی پہنچائی گئی تھیں کہ امریکی مفادات کے لئے اس پروجیکٹ کے حوالے سے کوئی منفی خبر کی کوریج اور رپورٹ کس قدر نقصان دہ ہوسکتی تھی… اور ان چھوٹے چینلز اور نیوز جرنلٹس کو تابع کرنا آسان تھا۔ سی این این جیسے بڑے ادارے کو بھی امریکن مفادات کو ہر چیز پر بالاتر رکھنا جو سی این این پر جب بھی کسی ایشو کو کتنا بھی امریکی مفادات کو بالا تر رکھنے کی پالیسی کے باوجود اٹھاتے وہ دنیا میں کسی نہ کسی نئے تنازعے کو جنم دے دیتے…




    اور یہاں بھی ایباکا کو مانیٹر کرنے والے لوگوں کو اچانک درپیش آنے والا چیلنج یہی تھا۔ اگر وہ پروگرام کووپر، ایباکا سے پہلے پیش کرنے کا ارادہ نہ کرچکا ہوتا تو سی آئی اے کے لئے کووپر کو اسی آفیشنسی صحافت سے روکنے کا واحد حل یہ تھا کہ ایباکا کو اس تک کسی بھی قیمت پر نہ پہنچنے دیا جاتا لیکن یہاں کووپر… ایباکا سے اس اسٹیج پر رابطہ کررہا تھا جب وہ اور اس کی ٹیم پہلے ہی اس ایشو پر بہت زیادہ کام کرنے کے بعد کانگو روانگی کی تیاریوں میں تھی اور اب اس صورت حال میں کیا جاتا…! یہ تھا وہ چیلنج جس نے فوری طور پر ایباکا اور کووپر کی ملاقات کے حوالے سے سی آئی اے کو پریشان کیا تھا اور اس پریشانی میں اضافہ تب ہوگیا تھا جب ایباکا اس کال کے ملنے کے فوراً بعد ہی واشنگٹن سے نیویارک کے لئے چل پڑا تھا اور جب تک ان کا اگلا لائحہ عمل فائنل ہوسکا ایباکا ٹائم وارنر سینٹر پہنچ چکا تھا۔
    اینڈرسن کووپر کے ساتھ دو گھنٹے کی ایک گرما گرم نشست کے بعد وہ جب سی این این اسٹوڈیوز سے باہر نکلا تھا تو ایباکا کا جوش پہلے سے بھی زیادہ بڑھ چکا تھا۔
    کووپر اس پروجیکٹ کے حوالے سے جن مزید لوگوں سے بات چیت کرنے والا تھا، ان میں سالار سکندر کا نام سرفہرست تھا… سی آئی اے کو اس کا اندازہ تھا… یہ وہ دن تھا جب سالار سکندر سفر کرتے ہوئے رات کو واشنگٹن پہنچ رہا تھا اور اسے اندازہ نہیں تھا کہ بدقسمتی اس سے پہلے اس کے انتظار میں وہاں بیٹھی تھی۔
    ایباکا نے اس عمارت سے نکلنے کے بعد سینٹرل پارک کی طرف جاتے ہوئے بے حد خوشی کے عالم میں سالار کو ٹیکسٹ کیا تھا۔ وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اب سی این این تک رسائی حاصل کرچکا تھا اور کووپر ہی کے حوالے سے اسے واشنگٹن کے سی این این اسٹوڈیوز میں اسی کی ٹیم کے چند اور لوگوں سے بھی ملنے کا موقع مل گیا تھا… اور ایباکا ساتویں آسمان پر تھا۔
    وہ ٹیکسٹ بہت لمبا تھا۔ اس میں اور بھی بہت کچھ تھا… اور پیٹرس کا جوش و خروش وہیں ختم نہیں ہوا تھا۔ اس نے اس بہت لمبے ٹیکسٹ کو کرتے کرتے ای میل کردیا تھا۔ سالار سکندر اس وقت اپنی فلائٹ پر تھا اور کچھ گھنٹوں کے بعد وہ جب واشنگٹن اترا تھا تب تک اس کے رابطوں کے تمام ذرائع زیر نگرانی آچکے تھے۔ پیٹرس ایباکا کی وہ آخری ای میل سالار سکندر کو اس کی موت کے بعد ملی تھی۔ لیکن ان لوگوں کو سالار سکندر کے جہاز اترنے سے بھی کئی گھنٹے پہلے مل گئی تھی جو پیٹرس ایباکا کی زندگی اور موت کے حوالے سے فیصلہ کررہے تھے۔
    بعض اوقات کسی شخص کی زندگی کسی دوسرے کی موت بن جاتی ہے… اور کسی دوسرے کی موت کسی اور کی زندگی… ایباکا کی موت کے فیصلے نے سی آئی اے کی فوری طور پر سالار سکندر کو ماردینے کی حکمت عملی بد لی تھی۔ ورنہ اس سے پہلے سالار سکندر کو بینک کے ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اس کے انکار اور معاملہ حل نہ کرنے کی صورت میں ایک ’’حادثانی موت‘‘ کا سامنا کرنا تھا۔ اینڈرسن کووپر سے ایباکا کی ہونے والی اچانک ملاقات نے سی آئی اے کو یک دم پسپا کردیا تھا۔ وہ ایباکا اور سالار دونوں کو اکٹھا نہیں مار سکتے تھے… شاید مارنے کا سوچ ہی لیتے اگر اتفاقی طور پر وہ دونوں ایک ہی وقت میں امریکہ میں موجود نہ ہوتے اور وہ بھی دو قریبی شہروں میں… وہ ایسا کوئی رسک نہیں لے سکتے تھے کہ کسی تفتیش شروع ہونے کی صورت میں ایباکا اور سالار کی طبعی اموات کے درمیان کوئی اور قدرتی تعلق نکال لیا جاتا۔
    سالار کو فی الحال صرف خوف زدہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور سی آئی اے کو اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے غلط حکمت عملی، غلط آدمی پر لاگو کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
    پیٹرس ایباکا چند گھنٹوں کے بعد بروکلین کے ایک ایسے علاقے کی ایک تنگ و تاریک گلی میں روکا گیا تھا جہاں ایک قریبی عمارت میں ایبا کا کو اپنے ایک دوست سے ملنا تھا۔ سی آئی اے کا خیال تھا ایباکا ان کے لئے حلوہ تھا جسے وہ بہت آرام سے اسے پکڑ کر لے آتے۔ ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایباکا ان دو افراد سے بڑی بے جگری سے لڑا تھا جنہوں نے اچانک اس کے قریب اپنی گاڑی روک کر اسے ریوالور دکھاتے ہوئے اندر بٹھانے کی کوشش کی تھی۔ اس نے ساری زندگی امریکہ کی مہذب دنیا میں مہذب طور طریقوں کے ساتھ گزاری تھی لیکن جنگل اور جنگلی زندگی اس کی سرشت اور جبلت میں تھی، اپنا دفاع کرنا اسے آتا تھا۔
    وہ ان تربیت یافتہ گماشتوں کے قابو میں نہیں آیا تھا… پستہ قامت ہونے کے باوجود وہ سخت جان اور مضبوط تھا۔ وہ پٹتا اور پیٹتا رہا تھا۔
    لڑتے لڑتے ریوالور ایباکا کے ہاتھ میں آگیا تھا اور ایک بار ریوالور ہاتھ میں آنے پر اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، ان دونوں افراد پر گولیاں چلادی تھی۔ گولی ایک کو لگی تھی لیکن دوسرا خود پر ہونے والے فائر سے بہت پہلے اپنا ریوالور نکال کر ایباکا پر دو فائر کرچکا تھا جو اس کے سینے میں لگے تھے۔
    یکے بعد دیگرے ہونے والے ان تین فائرز نے اس سڑک پر چلتے راہ گیر کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا اور ان ہی میں سے کسی نے پولیس کو بھی فون کیا تھا لیکن پولیس کے آنے سے پہلے ہی وہ دونوں ایجنٹ شدید زخمی حالت میں تڑپتے ایباکا کو گاڑی میں ڈال کر فرار ہوگئے تھے۔
    ایباکا کی وہ حالت اس دن سی آئی اے کے لئے دوسرا جھٹکا تھی۔ انہیں ایباکا صحیح سلامت کچھ گھنٹوں کے لئے چاہیے تھا تاکہ اسکے ذریعے ان تمام چیزوں کو بھی نابود کرسکتے جو ایباکا کی موت کی صورت میں کسی اور کے ہاتھ لگ جانے کی صورت میں ان کے لئے کوئی اور پیٹرس ایباکا کھڑا کردیتا۔ سی آئی اے کے لئے فی الحال سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ وہ ایباکا کے دستخط کیسے حاصل کرتے، جن کی انہیں فوری ضرورت تھی تاکہ وہ اس کے وہ لاکرز کھلواسکتے جہاں اس کی اصل دستاویزات تھیں… ان کی حکمت عملی یہ تھی کہ وہ ان اصلی دستاویزات کو حاصل کرنے کے بعد ایباکا کو ختم کردیتے، مگر سب کچھ اس کے الٹ ہوا تھا۔
    پلان اے اور پلان بی ناکام ہوچکا تھا۔ اب سی آئی اے کو پلان سی سے کام لینا تھا لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایباکا کے پاس ایک پلان ڈی تھا جس کا انہیں کبھی پتا نہیں چل سکا… وہ کانگو میں اپنی ایک گرل فرینڈ کے پاس ایک وصیت چھوڑ کر آیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    سالار جس رات واشنگٹن کے لئے روانہ ہوا تھا اس کے اگلے دن امامہ کی گائنا کولوجسٹ نے اسے فون کیا تھا۔ امامہ کے معائنے کی تاریخ تین دن بعد کی تھی۔ اس کی امریکن ڈاکٹر نے اسے اسی دن ایمرجنسی میں آنے کے لئے کہا، کیوں کہ اسے کسی میڈیکل کیمپ میں شرکت کے لئے اگلے ایک ہفتہ کے لئے گھانا میں رہنا تھا۔ اس کی سیکریٹری نے امامہ سے کہا تھا کہ وہ اپنی تمام اپوائنٹ منٹس ری شیڈول کررہی ہے اور اس نے امامہ کو آج کے دن کا کہا تھا۔ امامہ نے کسی غور و خوض کے بغیر جانے کی ہامی بھرلی تھی۔ وہ اسے ایک معمول کی بات سمجھ رہی تھی اور اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اگر سالار سکندر سی آئی اے کے ہاتھوں بے بس ہورہا تھا تو امامہ تو کوئی شے ہی نہیں تھی۔
    وہ ہمیشہ کی طرح جبریل اور عنایہ کے ساتھ ہیڈی کو بھی اسپتال لے کر گئی تھی۔ وہ کنشاسا کے بہترین اسپتالوں میں سے ایک تھا، کیوں کہ وہاں پر زیادہ تر غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیز اور سفارت کاروں کا علاج ہوتا تھا۔ سالار اس وقت اپنی فلائٹ پر تھا اور امامہ کا خیال تھا وہ جب تک واشنگٹن پہنچتا وہ اس سے بہت پہلے واپس گھر آجاتی، لیکن وہ واپس گھر نہیں آسکی تھی۔
    اس کی ڈاکٹر نے اس کا الٹراساؤنڈ کرنے کے بعد کچھ تشویش کے عالم میں اس سے کہا تھا کہ اسے بچے کی حرکت ابنارمل محسوس ہورہی ہے۔ اس نے اسے بتایا تھا کہ اسے کچھ اور ٹیسٹ کروانے ہوں گے اور ساتھ اسے کچھ انجکشن بھی لینا ہوں گے۔ ڈاکٹر نے اسے فوری طور پر ہاسپٹل میں کچھ گھنٹوں کے لئے یہ کہہ کر ایڈمٹ کیا تھا کہ انہیں اس کو زیر نگرانی رکھنا تھا۔
    اسے ایک کمرے میں شفٹ کیا گیا تھا اور جو انجکشن امامہ کو دیئے گئے تھے وہ درد بڑھانے والے انجکشن تھے۔ امامہ کو گھر سے غائب اور سالار اور اپنی کسی اور فیملی ممبر سے رابطہ منقطع رکھنے کے لئے سی آئی اے کے پاس اس سے بہترین حل نہیں تھا کہ اس کے بچے کی قبل ازوقت پیدائش عمل میں لائی جائے۔