Tag: alif nagar

  • درزی اور راجا | انعم سجیل

    درزی اور راجا | انعم سجیل

    درزی اور راجا
    انعم سجیل

    کسی جنگل میں راجہ نام کا ایک ہاتھی رہتا تھا۔ وہ روز نہانے کے لیے ندی پر جایا کرتا۔ راستے میں درزی کی دکان تھی۔ راجہ روزانہ اُس درزی کی دکان پر کچھ دیر ٹھہر جاتا کیوں کہ درزی اُسے کھانے کے لیے ڈبل روٹی دیا کرتا تھا۔ راجہ مزے لے لے کر ڈبل روٹی کھاتا اور پھر نہانے چلا جاتا۔
    ایک دن راجہ درزی کی دکان پر آیا اور اپنی سُونڈ کھڑکی کے اندر کی تاکہ درزی سے روٹی لے سکے۔ اسی دوران درزی کو شرارت سُوجھی۔ اس نے ڈبل روٹی کی بجائے ایک باریک اور نوک دار سوئی راجہ کی سونڈ میں چبھودی۔ راجہ تو ایک دَم تڑپ ہی اٹھا۔ سوئی چبھنے سے اُسے بہت درد ہوا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن راجہ نے درزی کو کچھ نہ کہا اور حُپ چاپ ندی پر نہانے چلا گیا۔ درزی اپنی شرارت پر خوب ہنسا۔
    راجہ جب ندی پر پہنچا تو اُس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ وہ درزی سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ خوب اچھی طرح نہانے کے بعد راجہ نے ندی کے کنارے سے بہت سا کیچڑ اپنی لمبی سُونڈ میں بھر لیا اور تیز تیز چلتا ہوا درزی کی دُکان پر پہنچ گیا۔ درزی اپنی دُھن میں مگن رنگ برنگے پیارے پیارے کپڑے سی رہا تھا۔
    راجہ نے کھڑکی سے اپنی سُونڈ اندر کی اور سارا کیچڑ پھینک دیا۔ درزی کی دکان میں رکھے سارے کپڑے کیچڑ سے خراب ہوگئے۔ پہلے تو درزی کو بہت غصہ آیا لیکن جب اُسے اپنی شرارت یاد آئی تو وہ بہت شرمندہ ہوا۔ اُس نے راجہ سے معافی مانگی اور آئندہ شرارت سے توبہ کرلی۔
    ٭…٭…٭

  • پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

    پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

    پڑھاکو روبینہ

    لبنیٰ حمید

    کسی قصبے میں روبینہ نام کی ایک لڑکی رہتی تھی۔ اُس کے پاس ڈھیر ساری کتابیں تھیں لیکن اُسے اِن کتابوں سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ ایک دن روبینہ کا کتا اُس کی کتابوں والی الماری پرچڑھ گیا۔ روبینہ اُسے نیچے اتارنے لگی تو ساری کتابیں زمین پر گر گئیں اور اُن کے صفحات پھٹ گئے۔ کتابوں کے صفحوں سے جانور نکل کر باہر آنے لگے۔ روبینہ حیرانی سے سب کو دیکھ رہی تھی۔ ہاتھی میز پر ناچ رہا تھا۔ بندروں نے پردے پھاڑ کر پگڑیاں بنالی تھیں۔ خرگوش اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے جب کہ دُنبہ ایک طرف کھڑا رو رہا تھا۔
    ”رکو! تم سب واپس آجاؤ۔” روبینہ غصے سے چلّائی مگر اِس شور میں کسی نے اُس کی آواز نہ سنی۔
    اچانک روبینہ کو ایک خیال آیا۔ اُس نے ایک کتاب کھول کر کہانی پڑھنا شروع کی: ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں…” سب جانور قریب آکر روبینہ کی کہانی سننے لگے۔ اچانک روبینہ نے دوسرا صفحہ پلٹا تو بندر اُچھلنے لگے:
    ”یہ ہمارے بارے میں لکھا ہے۔” اِس کے بعد وہ چھلانگیں لگاتے ہوئے کتاب کے اندر غائب ہوگئے۔ روبینہ یہ دیکھ کر حیران ہوئی لیکن وہ کہانی پڑھتی رہی۔ یوں ایک ایک کرکے سب جانور دوبارہ کتابوں میں بند ہوگئے۔ اب پورے گھر میں خاموشی تھی۔ ”میں انہیں دوبارہ کیسے دیکھ پاؤں گی؟” روبینہ افسردگی سے بولی مگر پھر اچانک اُسے ایک خیال آیا اور وہ مُسکرانے لگی۔
    اب وہ روزانہ اپنے اسکول کی کتابیں اور کہانیاں بہت شوق سے پڑھنے لگی۔ اُسے کتابیں پڑھنے میں مزا آنے لگا۔ اب وہ روزانہ کتابوں میں سب جانورں سے ملاقات کرلیتی تھی۔

  • ننّھا زرّافہ | نور الہدٰی افضل

    ننّھا زرّافہ | نور الہدٰی افضل

    ننّھا زرّافہ
    نور الہدٰی افضل

    کسی جنگل میں ایک ننھا زرافہ ظرفی رہتا تھا۔ جنگل کے جانور اُس کی لمبی گردن کا خوب مذاق اُڑاتے ۔ ظرفی دُکھ سے سوچتا کہ کاش اُس کی گردن چھوٹی ہو سکتی۔ ایک دن وہ اسی سوچ میں اُداس بیٹھا تھا کہ اچانک ایک پری اُس کے پاس سے گزری۔ پری نے ظرفی سے پوچھا:
    ”تم اُداس کیوں ہو؟” وہ بولا: ”سب جانور میری لمبی گردن کا مذاق اُڑاتے ہیں۔”
    پری نے کہا ”لو! اس میں اُداسی کی کیا بات ہے۔ اگر تم چاہو تو میں ابھی تمہاری گردن چھوٹی کر دیتی ہوں لیکن… تمہاری گردن دوبارہ لمبی نہیں ہو پائے گی۔”
    ”سچ پیاری پری! کیا ایسا ہوسکتا ہے؟” ظرفی خوشی سے چلّایا۔
    پری نے جادو کی چھڑی گھمائی اور اُس کی گردن چھوٹی کردی۔ اگلے دن جب وہ گھر سے نکلا تو جنگل کے سب جانور بہت حیران ہوئے مگر وہ پھر سے اُس کا مذاق اڑانے لگے۔ انہیں نظرانداز کرکے ظرفی آگے چل پڑا۔
    پہلے جو جانور اُس کی لمبی گردن کا مذاق اڑاتے تھے، اب وہی اُس کی چھوٹی گردن پر بھی ہنس رہے تھے۔ وہ سوچ میں گُم آگے بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے بھوک ستانے لگی۔ وہ جلدی سے درخت کی طرف بڑھا تا کہ پھل کھا سکے مگر اُس کا منہ پھلوں تک نہ پہنچ سکا۔ پہلے لمبی گردن کی وجہ سے اُسے آسانی تھی۔ وہ اونچے درختوں سے مزے مزے کے پھل کھا سکتا تھا لیکن اب ایسا نہیں تھا۔ بھوک کی وجہ سے وہ رونے لگا۔ اچانک اُس کی آنکھ کھل گئی۔
    ”اوہ! تو یہ ایک خواب تھا!” اپنی لمبی گردن دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے عزّم کیا کہ اب وہ کبھی دوسروں کے مذاق اڑانے پر اُداس نہ ہو گا کیوں کہ اللہ نے اُسے بہت خوب صورت بنایا ہے۔
    ٭…٭…٭

  • کہاوت کہانی | مسور کی دال | ضیاء اللہ محسن

    کہاوت کہانی | مسور کی دال | ضیاء اللہ محسن

    کہاوت کہانی
    مسور کی دال
    ضیاء اللہ محسن

    پرانے زمانے میں ہندوستان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ کھانے پینے کا بہت شوقین تھا اسی لیے اُس نے اپنے محل میں بہت وسیع باورچی خانہ بنارکھا تھا۔ اس باورچی خانے میں بہت سے باورچی نت نئے پکوان بنا کر بادشاہ کو خوش کرتے اور اس سے انعام لیتے۔ مسور کی دال اُن دنوں بہت قیمتی ڈش سمجھی جاتی تھی۔ جیسے آج کل گوشت یا مچھلی پسند کی جاتی ہے۔ بادشاہ کو بھی مسور کی دال بہت پسند تھی۔
    ایک دن بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو باورچی مسور کی دال سب سے اچھی بنائے گا اُسے خاص انعام و کرام سے نوازا جائے گا۔ چناں چہ تمام شاہی باورچیوں نے اچھی سے اچھی دال بنانے کے لیے محنت کی لیکن بادشاہ کو کسی کا ذائقہ پسند نہ آیا۔ انہی دنوں ایران سے ایک باورچی ہندوستان آیا ہوا تھا۔ وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھا۔ چناں چہ اُسے بھی محل میں دعوت دی گئی تاکہ وہ اپنی قسمت آزمائے۔
    خدا کا کرنا یہ ہوا کہ بادشاہ کو حاذق نامی اس باورچی کی بنائی گئی دال پسند آگئی۔ چناں چہ اُسے انعام و اکرام دے کر شاہی باورچیوں میں شامل کر لیا گیا۔ رفتہ رفتہ یہ باورچی بادشاہ کا خاص اور لاڈلا بن گیا۔ بادشاہ کو جب بھی مسور کی دال کھانا ہوتی تو حاذق ہی کو کہا جاتا۔
    دن یونہی گزرتے گئے۔ ایک دن بادشاہ بیمار پڑگیا۔ اُسے لگا کہ اُس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ چناں چہ بادشاہ نے شاہی خاندان کے تمام افراد کو ایک دعوت پر مدعو کیا تاکہ نئے بادشاہ کے نام کے لیے سوچ بچار کی جاسکے۔ چوں کہ بادشاہ کی کوئی اولاد نہ تھی چناں چہ نئے بادشاہ کے لیے کسی قریبی عزیز کا نام دے دیا گیا۔ اِس اعلان کے چند روز بعد بادشاہ کا انتقال ہوگیا۔ اب تختِ شاہی پر نیا بادشاہ بیٹھ چکا تھا لیکن اپنی فطرت میں یہ کچھ تنگ دل اور کنجوس تھا۔
    کچھ روز بعد نئے بادشاہ نے مسور کی دال کھانے کی فرمائش کی۔ چناں چہ حاذق باورچی نے دال تیار کرکے بادشاہ کے دسترخوان پر پیش کی، جسے کھاتے ہی بادشاہ کا منہ بن گیا۔ اُسے دال پسند نہ آئی۔ بادشاہ حاذق پر بگڑتے ہوئے بولا:
    ”اے پردیسی باورچی! کیا تمہیں کھانا پکانا نہیں آتا؟ ہونہہ… کیا ہی بد ذائقہ چیز بنائی ہے۔”
    یہ بات سنتے ہی ایرانی باورچی حاذق نے جواب دیا: ”بادشاہ سلامت! دال تو وہی ہے جو میں پہلے بنایا کرتا تھا البتہ اب کھانے والا منہ بدل گیا ہے۔ ہونہہ… یہ منہ اور مسور کی دال…” یہ کہتے ہوئے حاذق نے محل سے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور ایران جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اُسے معلوم ہوگیا کہ اب یہاں اِس کی قدر نہیں ہوگی۔
    پیارے بچو! حاذق تو واپس ایران چلا گیا لیکن اُس کا بولا گیا جملہ اتنا مشہور ہوا کہ رفتہ رفتہ وہ کہاوت بن گئی جو آج بھی مشہور ہے۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔ آج بھی اگر کوئی آدمی کسی کام یا کسی خدمت کے لائق نہ ہو تو اس کے لیے یہی کہاوت بولی جاتی ہے۔
    ٭…٭…٭

  • مالی کا گدھا | طاہرہ احمد

    مالی کا گدھا | طاہرہ احمد

    مالی کا گدھا
    طاہرہ احمد

    پرانے زمانے کی بات ہے شہر بغداد میں رستم نامی ایک مالی رہتا تھا۔ ایک دن رستم اپنے گدھے کو لے کر بازار سے گزر رہا تھا۔
    بازار میں اُسے ایک ٹھگ ملا، ٹھگ نے رستم سے پوچھا: ”میاں! گدھے کو کہاں لے جارہے ہو؟” رستم بولا: ”یہ بہت تنگ کرتا ہے۔ میں اسے بیچنے جارہا ہوں۔” ٹھگ نے کہا:
    ”ارے بھئی کیوں نقصان کرتے ہو اپنا؟ میں اسے انسان بنا سکتا ہوں لیکن اس کے بدلے پانچ سونے کے سِکّے لوں گا۔” رستم یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ اس نے گدھا ٹھگ کے حوالے کیا اور چھے ماہ بعد آنے کا وعدہ کرکے چلا گیا۔
    دن گزرتے گئے۔ اُدھر ٹھگ نے رُستم کا گدھا بیچ ڈالا۔ چھے ماہ بعد رستم ٹھگ کے پاس گیا۔ اس نے جاتے ہی ٹھگ سے گدھے کے متعلق پوچھا: ”بھائی میرا گدھا انسان بن گیا؟”
    یہ سن کر ٹھگ پہلے تو گھبرایا پھر اُس نے سوچا کہ یہ تو بے وقوف ہے۔ کیوں نا اس کی بے وقوفی کا فائدہ اٹھایا جائے؟
    اُس نے مالی سے کہا: ”دیکھو بھائی! میں نے تمہارے گدھے کو انسان بنادیا تھا اور اب وہ شہر جاکر گورنر لگ گیا ہے۔ تم گورنر کے محل چلے جاؤ لیکن یاد رکھنا وہ خود کو گدھا نہیں مانے گا۔ اس لیے تم اُس کی کسی بات پر یقین نہ کرنا۔ بس اس کے سامنے چارہ لہرا دینا، ہوسکتا ہے وہ تمہیں پہچان لے۔”
    ٹھگ کی بات سن کر رُستم نے اپنے ہاتھ میں چارہ لیا اور گورنر کے محل میں چلا گیا۔ وہاں جاکر مالی نے گورنر کے سامنے چارہ لہرایا اور بولا: ”چل بھئی میرے گدھے! تُو انسان بن گیا ہے۔ چل میرے ساتھ میں تجھے لینے آیا ہوں۔”
    گورنر نے یہ بات سنی تو اسے بہت غصّہ آیا وہ چیخ کر بولا: ”کون ہو تم؟ کہاں سے آئے ہو؟ کون سا گدھا؟ چلو بھاگو یہاں سے…” رُستم نے گورنر کو پچکارنا شروع کردیا۔
    ”ارے میرے پیارے گدھے! اتنا غصہ کیوں کرتا ہے۔ تُو اپنے مالک کو ہی بھول بیٹھا۔ دیکھ یاد کر جب تو میرے ڈنڈے کھایا کرتا تھا میں ہی تیرا مالک ہوں۔” یہ کہہ کر رستم نے اُچھل کر گورنر کو دبوچ لیا۔ گورنر نے اپنے سپاہی بلالیے جنہوں نے مالی کو گرفتار کرلیا۔ رستم کے رونے دھونے پر گورنر نے اُس سے سارا واقعہ سنا تو اس کی ہنسی چُھوٹ گئی۔ اس نے سپاہی بھیج کر اس ٹھگ کو گرفتار کروایا اور رُستم کو آزاد کر دیا۔

  • خالہ بلی اور ننھے چوہے | افشاں شاہد

    خالہ بلی اور ننھے چوہے | افشاں شاہد

    خالہ بلی اور ننھے چوہے
    افشاں شاہد

    کسی جنگل میں ٹومی اور ٹمی دو ننھے چوہے رہتے تھے۔ ایک دن دونوں نے اپنے امی ابو سے میلے پر جانے کی اجازت لی اور قریبی گاؤں کی طرف چل پڑے۔ ابھی وہ کچھ قدم ہی چلے تھے کہ انہیں صُبح سے بھوکی خالہ بلی مل گئیں۔ ننھے چوہوں کو دیکھ کر ان کے منہ میں پانی آگیا۔
    ”آہا…!! آج تو شکار خود چل کر پاس آیا ہے۔ بہت مزہ آئے گا!” خالہ بلی خوش ہوکر بُڑبُڑائی۔ ٹومی اور ٹمی خوف زدہ ہوگئے اور ٹمی رونے لگی۔
    ”میں تم دونوں کو کھا جاؤں گی۔” خالہ بلی نے پنجے لہراتے ہوئے کہا۔
    ”خالہ بلی! خالہ بلی! ہم آتے ہوئے کیچڑ میں گرگئے تھے۔ یہ دیکھیں! ہمارے ہاتھ پاؤں بھی گندے ہوگئے ہیں۔ ہمیں ابھی کھائیں گی تو آپ کے پیٹ میں درد ہوگا۔ ہم تالاب سے نہا کر آتے ہیں۔ پھر آپ چاہیں تو بے شک ہمیں کھالیں۔” ٹومی ہمت کرکے بولا۔
    ”تم اتنے چالاک نہ بنو! مجھے پتا ہے تم دونوں موقع ملتے ہی بھاگ جاؤ گے۔” خالہ بلی نے کہا۔
    ”خالہ بلی! ہم ایک ایک کرکے جائیں گے اور نہا کر واپس آجائیں گے۔” ٹومی نے کہا تو خالہ بلی نے اجازت دے دی۔ ٹومی تالاب کی طرف چل پڑا۔ ٹومی کو جاتا دیکھ کر ٹمی پریشان ہوگئی۔ خالہ بلی کو تسلی تھی کہ ٹمی اُس کے پاس ہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد ٹومی بھاگتا ہوا واپس آیا۔ اُسے دیکھ کر خالہ بلی نے اپنی زبان ہونٹوں پر پھیرنا شروع کردی۔
    اچانک ڈبو انکل کی خوف ناک غرّاہٹ گونجی جو ٹومی کے پیچھے پیچھے چلا آرہا تھا۔ ڈبو انکل کو دیکھ کر خالہ بلی گھبرا گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے دُم دبا کر بھاگ نکلی۔ وہ سمجھ گئی کہ ٹومی ڈبو کو بلا کر لایا ہے۔ خالہ بلی کو بھاگتے دیکھ کر ٹومی نے آواز دی: ”خالہ بلی! خالہ بلی! رک جاؤ، بھاگ کیوں گئی۔ کیا ہمیں کھانا نہیں؟”
    خالہ بلی نے بھاگتے ہوئے جواب دیا: ”نہیں نہیں! تم لوگ بہت گندے ہو۔ میں تمہیں کھاؤں گی تو میرے پیٹ میں درد ہوگا۔” یہ سن کر ٹومی، ٹمی اور ڈبو انکل کی ہنسی چھوٹ گئی۔

  • جِن کے تین سنہری بال | سارہ قیوم

    جِن کے تین سنہری بال | سارہ قیوم

    جِن کے تین سنہری بال
    سارہ قیوم

    کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ ایسا بیمار ہوا کہ کسی دوا سے ٹھیک نہ ہوا۔ حکیموں نے کہا: ”اگر بادشاہ کو جن کے تین سونے کے بال پیس کر کھلائے جائیں تو ہ ٹھیک ہو جائے گا۔” لیکن جن کے بال لائے کون؟ آخر دوردیس سے ایک شہزادہ آیا اور اس نے جن کے تین سونے کے بال لانے کا وعدہ کیا۔ جن بہت دور ایک پہاڑ پر اپنی نانی کے ساتھ رہتا۔ شہزادہ پہاڑ کی طرف چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ ایک شہر میں پہنچا۔ اس شہر کے لوگ بہت اداس تھے۔ شہزادے نے پوچھا: ”تم لوگ اتنے اداس کیوں ہو؟
    انہوں نے جواب دیا: ”ہمارے شہر میں ایک بہت بڑا فوارہ ہے جس کا پانی شہد کی طرح میٹھا ہے۔ سارا شہر اسی فوارے سے پانی لیتا ہے۔ اب کچھ دنوں سے فوارے میں پانی آنا بند ہو گیا ہے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟”
    شہزادے نے کہا: ”میں جن کے تین سنہری بال لانے جا رہا ہوں۔ اگر ہو سکا تو تمہارے اس مسئلے کا حل بھی تلاش کر لائوں گا۔”
    شہر کے لوگوں نے شہزادے کو ایک خوب صورت ہیروں کا ہار تحفے میں دیا۔ شہزادہ دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ سفر کے دوران وہ ایک اور شہر میں پہنچا جہاں کے لوگ بہت پریشان تھے۔ شہزادے نے پوچھا ”تم لوگ پریشان کیوں ہو؟” انہوں نے جواب دیا: ”ہمارے شہر میں ایک بہت بڑا انار کا درخت ہے جس پر بے حد میٹھے اور رس دار انار لگتے ہیں۔ اب وہ درخت مرجھا رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتی اس کو کیا ہو گیا ہے اور ہم اس کو کیسے ٹھیک کریں۔”
    شہزادے نے کہا: ”میں جن کے تین سنہری بال لانے جا رہا ہوں۔ ہو سکا تو تمہارے مسئلے کا حل بھی ڈھونڈ لائوں گا۔”
    شہر والوں نے شہزادے کو ایک خوب صورت سرخ ریشمی دوپٹہ تحفے میں دیا جس پر سونے چاندی کی تاروں سے کڑھائی بنی تھی۔ شہزادہ آگے چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ ایک دریا کے کنارے پہنچا جہاں ایک ملاح اپنی کشتی میں بیٹھا تھا۔ شہزادہ دریا کرنے کے لیے اس کی کشتی میں بیٹھ گیا اور ملاح چپو چلانے لگا۔ جب دوسرے کنارے پر پہنچے تو ملاّح نے کہا: ”لگتا ہے آپ کسی خاص سفر پر جا رہے ہیں۔ کیا آپ میرے ایک سوال کا جواب تلاش کر لائیں گے؟”
    شہزادے نے کہا ”ضرور کیا سوال ہے؟”
    ملاح نے کہا: ”میں اس کشتی کا قیدی ہوں۔ اس سے نکل نہیں سکتا۔ دن رات اسی میں بیٹھے رہنے پر مجبور ہوں۔ کیا کوئی ایسا طریقہ ہو سکتا ہے کہ میری اس سے جان چھوٹ جائے؟”
    شہزادے نے جواب ڈھونڈنے کا وعدہ کیا۔ ملاح نے شہزادے کو سونے کی ایک انگوٹھی تحفے میں دی۔ شہزادہ کئی دن سفر کرتا رہا۔ آخر اُس پہاڑ تک پہنچا جہاں جن کا گھر تھا۔ شہزادہ پہاڑ پر چڑھا اور اس نے جن کے دروازے پر دستک دی۔ جن کی نانی نے دروازہ کھولا۔
    شہزادے نے کہا: ”السلام علیکم نانی جان۔”
    بے چاری بوڑھی نانی سارا دن اکیلی رہتی تھی۔ شہزادے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور بولی: ”ارے کتنے اچھے لڑکے ہوتم کتنی تمیز سے سلام تم کون کرتے ہو بیٹا؟ کہاں آئے ہو؟ کیا کام ہے؟”
    شہزادے نے کہا ”نانی جان میں ایک شہزادہ ہوں۔ آپ کے پاس جو جن رہتا ہے اس کے سر میں سونے کے تین بال ہیں۔ میں وہ بال لینے آیا ہوں۔ اگر آپ وہ بال مجھے دے دیں تو میں آپ کو تین تحفے دوں گا۔”
    نانی یہ سن کر بہت خوش ہوئی اور بولی: ”آج تک کوئی میرے لیے تحفہ نہیں لایا۔ جلدی سے دکھاؤ کیا تحفے ہیں؟”
    شہزادے نے کہا: ”ہر تحفے کے ساتھ ایک سوال بھی ہے جس کا جواب آپ کو دینا ہو گا۔”
    نانی خوشی سے تالیاں بجا کر بولی ”ارے واہ! یہ تو بہت مزے کا کھیل ہے۔ تحفے کے ساتھ سوال کا جواب۔ بتاؤ کیا سوال ہیں؟”
    شہزادے نے کہا: ”پہلا سوال یہ ہے کہ ایک شہر میں ایک فوارہ ہے جس کا پانی شہد کی طرح میٹھا ہے۔ اس فوارے کا پانی بند کیوں ہو گیا ہے؟”
    یہ کہہ کر اس نے ہیروں کا ہار نکال کر نانی کی خدمت میں پیش کیا۔ نانی خوشی سے اچھل پڑی۔ جلدی سے ہار لے کر گلے میں ڈال لیا اور کہنے لگی: ”اتنا خوب صورت ہار تو میں نے زندگی میں نہیں دیکھا۔ بیٹا جلدی سے بتاؤ دوسرا سوال کیا ہے؟”
    شہزادے نے دوسرا سوال بتایا: ”ایک شہر ہے، جہاں انار کے درخت پر میٹھے انار لگتے ہیں، وہ درخت کیوں سوکھتا جا رہا ہے؟”
    یہ کہہ کر سرخ ریشمی دوپٹہ نکال کر نانی کے حوالے کیا۔ نانی نے جلدی سے دوپٹہ اوڑھ لیا اور خوشی سے بولی: ”ارے واہ کس قدر خوب صورت دوپٹہ ہے۔”
    تیسرا سوال شہزادے نے کہا: ”وہ جو دریا میں ملاح ہے، وہ اپنی کشتی کی قید سے کیسے نکل سکتا ہے؟” یہ کہہ کر سونے کی انگوٹھی نانی کو دی۔ نانی نے انگوٹھی پہن لی اور بولی: ”ان تین سوالوں کے جواب میں تمہیں تین سنہری بالوں کے ساتھ دوںگی۔ اب تم جلدی سے چھپ جاؤ جن کے آنے کا وقت ہو گیا ہے۔”
    نانی نے شہزادے کو ایک الماری میں چھپا دیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ جن آگیا۔

    ”آدم بو… آدم بو۔” اس نے آتے ہی شور مچا دیا ”مجھے کسی انسان کی بو آرہی ہے۔”
    نانی نے کہا: ”ارے یہ تو میں نے تمہارے لیے پراٹھے پکائے ہیں، یہ خوشبو ان پراٹھوں کی ہے۔ آجلدی سے کھانا کھا لے۔”
    جن نے ایک سو بیس پراٹھے کھائے اور بولا: ”واہ نانی! آج تو آپ نے بڑے مزے کا کھانا بنایا ہے۔ کھانے کھا کر تو اب نیند آنے لگی ہے۔”
    نانی پیار سے بولی: ”آجا میرا بچہ۔ یہاں میری گود میں سر رکھ کر سو جا۔”
    جن نانی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔ نانی آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ تھوڑی ہی دیر میں جن کے خراٹے گونجنے لگے۔ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پھیرتے نانی نے ایک سنہری بال تلاش کیا اور جھٹکے سے توڑ لیا۔ جن گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔
    ”کیا ہوا نانی؟” اس نے گھبرا کر کہا ”بال کیوں کھینچ رہی ہو میرے؟”
    نانی بولی: ”ارے معاف کرنا بیٹا! وہ دراصل میں کچھ سوچ رہی تھی۔ غلطی سے تمہارے بال کھینچ لیے۔”
    جن جمائی لے کر بولا: ”کیا سوچ رہی تھی نانی؟”
    ”میں سوچ رہی تھی کہ دور وہ جو ایک شہر ہے جس میں ایک میٹھے پانی کا فوارہ ہے، وہ فوارہ کیوں بند ہو گیا ہے؟”
    جن نے قہقہہ لگایا: ”ہا ہا ہا… اس سوال کا جواب صرف مجھے معلوم ہے۔ اس فوارے کے سوراخوں میں مٹی پھنس گئی ہے۔ اگر وہ بے وقوف لوگ فوارے کو کھول کر صاف کر لیں تو پانی پھر سے چل پڑے گا۔”
    نانی نے خوش ہو کر کہا: ”ارے تم کتنے عقل مند ہو میرے بچے۔ چلو اب تم سو جاؤ۔ سو جاؤ میرے بچے۔”
    جن دوبارہ نانی کی گود میں سر رکھ کر سو گیا اور خراٹے لینے لگا۔ نانی دوبارہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ انگلیاں پھیرتے پھیرتے اس نے دوسرا سنہری بال پکڑا اور جھٹکے سے توڑ لیا۔ جن اچھل پڑا۔
    ”نانی” اس نے غصے سے کہا: ”کیا ہو گیا آپ کو؟ پھر سے بال نوچ لیے میرے؟”
    نانی بولی: ”معاف کرنا بیٹا! اصل میں یہ سوچ رہی تھی کہ دور وہ جو ایک شہر ہے جس میں میٹھے اناروں کا درخت ہے، وہ درخت کیوں سوکھتا جا رہا ہے؟”
    جن نے کہا: ”اس سوال کا جواب صرف مجھے معلوم ہے۔ اس درخت کی جڑوں میں ایک بہت موٹا چوہا بیٹھا جڑوں کو کتر رہا ہے۔ شہر والوں کو چاہیے کہ وہاں سے کھود کر اس چوہے کو مار ڈالیں۔ درخت پھر سے ہرا بھرا ہو جائے گا۔”
    نانی خوش ہو کر بولی: ”واہ واہ! تم کتنے عقل مند ہو میرے بچے چلو اب تم پھر سے سوجاؤ۔”
    جن نے کہا: ”دیکھنا اب میرے بال نہ کھینچنا نانی ورنہ میں یہاں سے اٹھ کر چلا جائوں گا۔”
    نانی بولی: ”نہیں نہیں بیٹا! تم بے فکر ہو کر سوجاؤ… سو جاؤ میرے بچے۔”
    جن خراٹے لینے لگا۔ نانی نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے تیسرا سونے کا بال تلاش کیا اور جھٹکے سے توڑ لیا۔ جن تڑپ کر اٹھ بیٹھا۔
    ”کیا کرتی ہو نانی؟” اس نے تڑپ کر پوچھا۔
    نانی بولی: ”ارے معاف کرنا بیٹا۔ دراصل میں سوچ رہی تھی کہ بڑے دریا میں جو ملاح کشتی چلاتا ہے، وہ اپنی کشتی سے اترتا کیوں نہیں؟”
    جن بولا: ”کیا ہو گیا ہے نانی؟ آج ساری دنیا کے سوال آپ ہی کیوں سوچ رہی ہیں۔ وہ ملاح اصل میں ایک بادشاہ ہے جسے اس کے دشمن نے جادوکے زور سے ملاح بنا دیا تھا اور خود اس کے تخت پر قبضہ کر لیا تھا۔ اگر یہ ملاح اپنا چپو کسی کو پکڑا دے تو وہ آزاد ہو جائے گا اور چپو پکڑنے والا کشتی میں قید ہو جائے گا۔”
    نانی بولی: ”واہ واہ! بہت اچھی بات کی تم نے… چلو اب تم سو جاؤ میرے بچے۔”
    جن نے کہا: ”میری توبہ نانی! میں اپنے کمرے میں جا کر سوئوں گا۔ یہاں رہا تو آپ میرے سارے بال نوچ ڈالو گی۔”
    جن چلا گیا تو نانی نے شہزادے کو الماری سے نکالا اور کہا: ”یہ رہے جن کے تین سنہری بال اور سوالوں کے جواب تو تم نے سن ہی لیے ہوں گے۔”
    شہزادے نے نانی کا شکریہ ادا کیا اور واپسی کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ سب سے پہلے وہ دریا پر پہنچا۔ ملاح نے پوچھا: ”میرے سوال کا جواب لائے؟” شہزادے نے کہا: ”ہاں مگر دوسرے کنارے پر پہنچ کر بتائوں گا۔” ملاح نے اسے کشتی میں بٹھا کر دوسرے کنارے پر پہنچا دیا۔ شہزادہ کشتی سے اتر کر کنارے پر کھڑا ہوا اور ملاح کو وہ جواب بتایا جو اس نے جن سے سنا تھا۔ ملاح نے پوچھا: ”یہ بات تم نے مجھے کشتی ہی میں کیوں نہ بتائی؟” شہزادہ مسکرایا اور وہاں سے چلا گیا ۔
    شہزادہ کئی دن چلتا رہا۔ پھر وہ انار کے درخت والے شہر میں پہنچا۔ وہاں کے لوگ اس کا انتظار کر رہے تھے۔ شہزادے نے ایک بیلچہ منگوایا اور درخت کی جڑوں کو کھودنے لگا۔ وہاں ایک واقعی موٹا تازہ چوہا بیٹھا جڑیں کتر رہا تھا۔ شہزادے نے اسے مار ڈالا۔ درخت پھر سے ہرا بھرا ہو گیا۔ شہر کے لوگ خوشی سے جھوم اٹھے۔ انہوں نے ڈھیر سارے ہیرے جواہرات شہزادے کو تحفے میں دیئے۔
    شہزادہ اپنے سفر پر چل پڑا۔ کئی دن بعد وہ فوارے والے شہر میں پہنچا۔ لوگ بے چینی سے اس کی راہ تک رہے تھے۔ شہزادے نے فوارے کو کھول کر اس کے سوراخوں میں پھنسی مٹی صااف کر دی اور فوارہ پھر سے چل پڑا۔ لوگ بے حد خوش ہوئے۔ انہوں نے بہت سا مال و دولت تحفے میں شہزادے کو دیا۔
    کئی دن کے سفر کے بعد شہزادہ بیمار بادشاہ کے پاس پہنچا اور جن کے تین سنہری بال اس کے حوالے کیے۔ جونہی وہ بال پیس کر بادشاہ کو کھلائے گئے۔ وہ اسی وقت صحت یاب ہوگیا۔ بادشاہ نے شہزادے کے پاس اتنا مال و دولت دیکھا تو اس کے دل میں لالچ آگیا۔ وہ سمجھا کہ شاید شہزادہ یہ مال و دولت جن سے لے کر آیا۔
    اس نے اسی وقت سفر کی تیاری کی اور جن کے گھر جانے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ کئی دن چلتے رہنے کے بعد آخر وہ اس دریا پر پہنچا جہاں ملاح اپنی کشتی میں بیٹھا تھا۔ دریا پار کرنے کے لیے بادشاہ کشتی میں بیٹھا تو ملاح نے کہا: ”بھائی ذرا یہ چپو تو پکڑنا بادشاہ نے بے خیالی میں چپو پکڑ لیا۔ ملاح اسی وقت کشتی سے اتر کر دریا کے کنارے کھڑا ہو گیا۔ بادشاہ نے غصے سے کہا: ”کہاں جا رہے ہو ملاح؟ مجھے دریا پار کروائو۔” ملاح نے ہنس کرکہا ”اے دوست! ملاح اب میں نہیں تم ہو۔ مجھے غور سے دیکھو۔ میں وہی بادشاہ ہوں جسے تم نے جادو کے زور سے اسی کشتی میں قید کر دیا تھا اور خود میری جگہ بادشاہ بن بیٹھے تھے۔ اب تم اس کشتی کے قیدی ہو۔ میں اپنا تخت و تاج لینے واپس جا رہا ہوں۔”
    یوں اس ظالم شخص نے اپنے کیے کا پھل پایا اور تمام زندگی ملاح بن کر کشتی چلاتا رہا۔
    ٭…٭…٭

  • جادوئی جنگل | سمیعہ علی

    جادوئی جنگل | سمیعہ علی

    جادوئی جنگل
    سمیعہ علی

    کسی پہاڑی علاقے میں پانچ دوست رہتے تھے۔ وہ مل جل کر پڑھتے اور ایک ساتھ ہی کھیلتے تھے۔ حمزہ اور عادل بہت شرارتی اور چالاک تھے۔ پنکی اپنے نام کی طرح گلابی سی اور بھولی بھالی لڑکی تھی۔ قاسم ذراسُست مزاج اور دانیال گول مٹول سابچہ تھا۔ ان پانچوں کی دوستی بڑی مثالی تھی۔ ایک دن وہ سب پہاڑی علاقے کی سیر کو نکلے اور گھومتے پھرتے ایک خوب صورت وادی میں داخل ہوگئے۔ اس نئے علاقے کا حُسن دیکھ کر اُن کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
    ”کیاخیال ہے دوستو! اگر ہم اسی جگہ اپنے خیمے لگا لیں۔” عادل نے ایک جگہ رک کر پوچھا۔ پھر سب نے اپنے اپنے خیمے اسی جگہ لگالیے۔ اچانک ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہوا نے تیز طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ آخر کچھ دیر بعد طوفان کی شدت کم ہوئی۔ اب وہ ایک ہرے بھرے علاقے میں تھے۔ ہر طرف خوش نما پھول اورمہکتی فضا، ایسا دل کَش منظر انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اچانک عادل نے زور سے ہنسنا شروع کر دیا:
    ”ہاہاہا…ہاہاہا… ارے دیکھو! دانیال بھالو بنا ہوا ہے۔” سب نے حیران ہوکر دیکھا۔ واقعی ایسا ہی تھا۔ سب ہنسنے لگے۔
    ”اوہ… وہ دیکھو! پنکی کتنی پیاری خرگوشنی بن چکی ہے۔” حمزہ چلا ّیا۔ دانیال اب ہنستے ہوئے بولا: ”ہاہاہا!!! عادل! تم ذرا اپنی شکل تو دیکھو… بندر بن چکے ہو تم۔”
    اِدھر حمزہ ایک شاطر لومڑ کا روپ دھار چکا تھا۔ سب حیرانی سے اپنے جسم پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔ اچانک انہیں قاسم کا خیال آیا تو وہ چونک گئے۔
    ”ارے! میں یہاں ہوں، نیچے دیکھو!” سب نے نیچے دیکھا تو زمین پر ایک پیارا سا کچھوا رینگ رہا تھا۔
    ”دوستو!لگتا ہے ہم کسی جادوئی دنیا میں آ گئے ہیں۔” دانیال بھالو نے کہا۔ ”ہاں شاید… لیکن جلد ہی باہر نکل جائیں گے فکر مت کرو… ہمیں کوئی نہ کوئی راستہ مل ہی جائے گا۔” پنکی نے کہا تو سب کو حوصلہ ہوا۔
    پھر وہ سب ذرا آگے بڑھے تو وہاں ایک خوب صورت جھیل نظر آئی۔ وہ سبھی جھیل میں موجود کشتی میں سوار ہو گئے۔ کشتی خود بہ خود چلنے لگی۔ پانی میں پیاری پیاری مختلف رنگوں والی مچھلیاں تیر رہی تھیں، جو خوشی سے دائرہ بناتی ہوئی ان کی کشتی کے پاس آتیں اور پھر تیزی سے دور چلی جاتیں۔ جھیل کے پاراُترتے ہی بندر یعنی عادل سیب کے درخت پر چڑھ گیا۔
    ”ارے بھائی! ہمیں بھی کھانے ہیںسیب ۔”خرگوشنی،کچھوا اور بھالو نے آواز لگائی۔ بندر نے یہ سن کر درخت کو زور زور سے ہلانا شروع کر دیا۔ اِس طرح بہت سارے سیب نیچے گرگئے۔ اچانک ایک تیز آواز اُن کے کانوں میں پڑی۔ ”رک جاؤ… کون ہو تم؟ پھل ضائع کرنے پر تمہیں سزا ملے گی۔” کرخت آواز سنتے ہی اُن سب نے دوڑ لگا دی۔ اتنے میں آسمان پر موجود بادل کا ایک ٹکڑا اُن کے سروں پر منڈلانے لگا۔ اسے دیکھ کر لومڑ کو خیال آیا: ”دوستو! یہ بادل ہمیں کہیں لے کر جانا چاہتا ہے۔ دیکھو! یہ نیچے آرہاہے ہماری طرف…” لومڑ کی بات سُن کر سب چوکنا ہوگئے۔
    ”چلوبھئی! بادل آہستہ آہستہ سوار ہوجاؤ۔” بادل کے نیچے آنے پر خرگوشنی نے کہا تو سب سوار ہوگئے۔ بادل نے انہیںایک خوف ناک باغ کے باہر لا کر اُتار دیا۔ اِس باغ میں بے ہنگم پتھر تھے جِن پر پاؤں رکھ کرانہیں آگے بڑھنا تھا۔ اِن پتھروں کے درمیان کہیں آگ تھی تو کہیں پانی اور کہیں رینگتے جانور۔ سب نے اللہ کا نام لے کر پتھر پر پاؤں رکھا اور احتیاط سے آگے بڑھے۔
    سامنے ایک بڑی کھائی آگئی۔ بندر نے ایک درخت کے ساتھ لٹک کر اپنی دم سے انہیں وہ کھائی پار کروائی۔ پھر کچھوا اپنے خول میں سمٹا تو سب نے اُس کے سخت خول پر پاؤں رکھ کر وہ ندی پار کی۔ سامنے دور استے تھے۔ ایک راستے پر خاردار جھاڑیاں اور دوسرے پرسُلگتی ہوئی آگ تھی۔ لومڑ نے سمجھ داری سے کام لیا۔ وہ سب کو لے کر جھاڑیوں والے راستے کی طر ف چل پڑا۔ اچانک بندر کو ایک جادوئی چراغ نظر آیا۔ اس نے بھاگ کر چراغ اُٹھا لیا۔ جیسے ہی اس نے چراغ رگڑا اُس میں سے ایک جن نکلا۔ ”ہوہوہو… ہاہاہا… کیا حکم ہے میرے آقا؟”
    ”اوہ…ج… ج… جن بھائی! ہمارا ایک کام تو کردیں۔” خرگوشنی ذرا ڈر تے بولی۔ ”آقا! میں آپ کا ہر حکم مانوں گا۔”
    بھالو بولا: ”مجھے ایک ایسا گھڑا چاہئے جس میں بہت سارا شہد بھرا ہو۔” خرگوشنی بولی: ”مجھے ایک نیک پری بنا دو۔” کچھوا بولا: ”میں تیز تیراک بننا چاہتا ہوں۔” ”خاموش…” بندر چلّایااور بولا: ”ہمیں اس جادوئی دنیا سے باہر جانا ہے جن بھائی! آپ ہمیں باہر جانے کا راستہ دکھادو بس۔”
    ”جو حکم میرے آقا! تعمیل ہوگی۔” اتنا کہہ کر جن نے کوئی منتر پڑھا تو اطراف سے دھواں اُٹھنے لگا۔ ایک دم کسی چیز نے ان سب کو ہوا میں اُچھالا تو ان کی چیخیں نکل گئیں۔ کچھ دیر بعد پائوں زمین پر لگے تو انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔ آس پاس کا منظر دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہ جادوئی دنیا سے باہر آچکے تھے۔ انہوں نے مل کر ایک عزم کیا کہ وہ آئندہ کبھی گھر والوں کے بغیر اتنی دور کا سفر نہیں کریں گے۔
    ٭…٭…٭

  • مصطفیٰ — اُمِّ زینب

    مصطفیٰ — اُمِّ زینب

    مجھے اپنی ایک بات جو سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے و ہ یہ کہ میں اپنی لاکھ مصروفیات کے باوجود اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے ضرور جوڑے رکھتی ہوں بلکہ یہاں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔ اس کی دو خاص وجوہات ہیں، ایک مصطفی اور دوسری کہ یا اللہ! میرے پاس بہت سارا پیسا آجائے۔ اب آپ ہی بتائیں یہ دونوں چیزیں تو مجھے اکٹھی اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔
    جب سے مصطفی میری زندگی میں آیا ہے نجانے کیوں آنکھ کھلتے ہی میرے ذہن میں آدھمکتا ہے اور جب تک میں سو نہیں جاتی کوئی لمحہ ایسا نہیں ہو تاکہ اس کی یاد میرے ساتھ نہ ہو، مگر پھر بھی صبح صبح میں ایک اچھی مسلمان بننے کی کوشش کرتی ہوں۔ کلمہ پڑھ کر اٹھتی ہوں کہ کہیں اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض نہ ہو جائے اور آج میری اور مصطفی کی کوئی لڑائی نہ ہو جائے یا ہمیں کوئی اور پریشانی نہ آجائے۔




    مصطفی… مصطفی… مصطفی! آخر یہ مصطفی میری زندگی میں اتنا اہم کیوں ہے؟ کون ہے یہمصطفی؟
    جی ہاں ٹھیک سمجھے آپ میری زندگی مصطفی سے شروع ہو کر مصطفی پر ہی ختم ہوتیہے۔
    دو سال پہلے میری ملاقات مصطفی سے اس کے گھر پر ہوئی۔ میری سہیلی انیتا جس بلڈنگ میں رہتی تھی، مصطفی کا فلیٹ بھی اسی بلڈنگ میں تھا۔ میں اور انیتا اس کے گھر گئیں کہ انیتا کو اپنا لیپ ٹاپ ٹھیک کروانا تھا۔ مصطفی کمپیوٹر سے متعلق ہر طرح کا کام جانتا تھا مجھے وہ بہت ہی سلجھا ہوا انسان لگا پھر میری دوسری ملاقات اس سے تب ہوئی جب اس کے ابو کا انتقال ہوا۔ اس وقت مجھے وہ اپنے جیسا لگا، بہت ہی بے بس اور اکیلا۔ میں آٹھ سال کی تھی اور میری چھوٹی بہن ایک سال کی جب میرے ابو فوت ہو ئے تھے۔ مجھے آج بھی وہ تکلیف یاد آتی ہے، جو مجھے اپنے ابو کے فوت ہونے پر ہوئی تھی تو میرا دم گُھٹنے لگتا ہے۔
    میں اپنی بہن کے ساتھ مصطفی کے گھر کھانا لے کر گئی۔ آج تیسرا دن تھا۔ میں اس کے گھر روز کھانا لے کر جاتی تھی۔ اس کے سب رشتے دار جا چکے تھے۔ ویسے تو اس کی امی روز کھانا لیتی تھیںلیکن آج اس کی امی سو چکی تھیں۔
    ”آپ تکلیف نہ کیا کریں ہم کل سے خود ہی پکا لیا کریں گے، دو لوگ ہی تو ہیں ہم۔” مصطفی نے شکر گزار سا ہوکر کہا۔
    ” کوئی بات نہیں! کچھ دن ہم کام آجائیں گے تو کیا فرق پڑے گا۔ بعد میں ساری زندگی آپ نے خود ہی کرنا ہے اور ہمسائے کس لیے ہوتے ہیں۔” میں نے اسے ٹرے پکڑاتے ہوئے کہا۔
    اس نے مجھے بیٹھنے کو کہا۔ میں بیٹھ تو گئی لیکن بات کرنے کے لیے میرے پاس کوئی اور موضوع نہ تھا۔ پھر میں نے اسے اپنے ابو کے فوت ہونے کی تھوڑی بہت تفصیل بتائی اور اس کا دل ہلکا کرنے کے لیے اس کے ابو کے بارے میں بہت ساری باتیں پوچھیں۔ میں اس کے درد کو اپنے دل سے محسوس کر سکتی تھی اور جانتی تھی کہ اس کڑے وقت میں اسے ایک دل کی بات سُننے والے کی اشدضرورت ہے۔
    اس رات گھرآکر میں بہت دیر تک اس کے بارے میں سوچتی رہی ۔وہ مجھے بہت اپنا اپنا سا لگا۔ یہ بڑھتی عمر کا تقاضا تھا یا شاید اس لیے کہ اس کا اور میرا دکھ ایک جیسا تھا بلکہ شاید نہیں یقینا ایسا ہی تھا۔ وہ مجھے اچھا بھی لگنے لگا۔ مجھے لگا بغیر اجازت ہی وہ میرے دل میں گھر کرتا چلا جا رہا تھا جب کہ میں نے ہمیشہ یہی سوچا تھا کہ میں کسی امیر کبیر آدمی سے محبت کروں گی۔ اکثر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی لڑکیاں سوچتی ایسا ہی ہیں۔ مگر یہ بات آج حقیقت بن کر میرے سامنے آگئی کہ محبت کی نہیں جاتی بلکہ محبت ہو جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو گئے۔ میں جس ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں کام کرتی تھی وہاں اکائونٹس میں مصطفی کو بھی میرے کہنے پر جاب مل گئی۔ ہم روز بس پر اکٹھے ہی جاتے اور شام کو اکٹھے واپس آتے۔
    یہ اسٹور کراچی ڈیفنس میں واقع تھا۔ اس سپر سٹور میں ہماری ڈیوٹی صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک تھی۔ ہر پندرہ دن بعد ہمیں ایک چھٹی ملتی تھی۔ روز شام کو میں اور مصطفی کچھ دیر ایک کیفے میں بیٹھ کر کافی پیتے۔ کبھی کبھی میں سوچتی تھی کہ ہم ہر روز ساتھ ہوتے، ساتھ آتے جاتے اور رات کو دیر تک فون پر بات بھی کرتے ہیں، مگر پھر بھی ہماری باتیں ختم کیوں نہیں ہوتیں؟لیکن شاید اسی کو انڈرسٹینڈنگ کہتے ہیں۔




    میرے ابو کی وفات سے پہلے ہمارے حالات بہت اچھے تھے پھر اچانک پتا چلا کہ انہیں کینسر ہو گیا ہے۔ شروع میں انہوں نے میری امی سے یہ بات چھپائی، مگر جب تکلیف حد سے بڑھنے لگی تو انہوں نے امی کو بتا دیا۔ انہی دنوں میری چھوٹی بہن پیدا ہوئی تھی۔ اسی ایک ڈیڑھ سال کے اندر ابو کی جاب تو گئی ساتھ ہی ان کے علاج پر بہت سا پیسا بھی لگ گیا۔ میرے ابو ہمیشہ امی کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے مگر ان حالات میں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگے۔ کچھ پیسے انہوں نے بینک میں جمع کروا دیے کہ اس کا منافع آئے گا، تو گھر کا کچن چلتا رہے گا۔ مجھے یاد ہے ابو سو بھی جاتے تو امی ان کے پاس بیٹھ کر قرآنی آیات پڑھتی رہتیں خیر اللہ کو جو منظور تھا ہونا تو وہی تھا۔ ابو ہمیں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے اور ایک سال کے اندر ہی ہمارا شمار مڈل کلاس سے سفید پوش افراد میں ہونے لگا۔ وہی رشتہ دار جو ہمارے ساتھ خوشی سے ملتے اب ہمارے رابطہ کرنے پر بھی بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے گو کہ میں تب صرف آٹھ سال کی تھی مگر اس سال نے مجھے یہ بات بہت اچھی طرح سمجھا دی کہ ہماری زندگی میں پیسے کی بہت اہمیت ہے۔
    امی کو اپنے دکھ شیئر کرنے کے لیے کوئی نہیں ملتا تھا۔ ابو نے تو انہیں شہزادیوں کی طرح رکھا ہوا تھا۔ ایک دن میں اسکول سے واپس آئی تو امی کمرے میں فرش پر گری ہوئی تھیں۔ میں پڑوسیوں کے ساتھ مل کر انہیں ہاسپٹل لے کر گئی۔ وہاں جا کر پتا چلا کہ ان پر فالج کا شدید اٹیک ہوا ہے۔ امی گھر تو آگئیں، مگر اب وہ صرف بیڈ پر ہی تھیں۔ شروع شروع میں مجھے اپنی ہی ماں کی ماں بن کر تیمار داری کرنابہت مشکل لگا ۔ وہ بس زندہ تھیں اور اس وقت کی صورت حال میں میرے لیے یہ بھی غنیمت تھا۔
    میں وقت کی اس خوبی کو سراہے بغیر نہ رہ سکی کہ مشکلضرور تھا، مگر گزرتا جا رہا تھا۔ امی کا خیال رکھ کر اور گھر کے اخراجات کا حساب رکھتے میں اپنی عمر کے لوگوں سے زیادہ سمجھدار ہو چکی تھی۔
    اتنی مشکلا ت سے گزر کر جب مصطفی میری زندگی میں آیا تو مجھے ہر وقت ایک خوش گوار سا احساس گھیرے رکھتا۔ اپنے اور اس کے روشن مستقبل کی امید نے مجھے نئی زندگی دی۔ مصطفی نے مجھ سے کئی بار شادی کا کہا، مگر میں نے ہر بار اسے یہی کہا کہ جب ہم دونوں کے پاس بہت ساری بچت ہو گی تب ہم شادی کریں گے تاکہ ہمیں کسی قسم کی کوئی بھی پریشانی نہ ہو۔ مصطفی ہر بار مُسکرا کر خاموش ہو جاتا۔
    اس کا نظریہ ہمیشہ سے یہ تھا کہ زندگی کو ہر لمحے بھرپور طریقے سے جینا چاہیے، آنے والی بڑی بڑی خوشیوں کے انتظار میں اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جب کہ میرا نظریہ اس کے برعکس تھا۔ وہ ہر لمحے کو جینا چاہتا تھا اور میں ہر لمحے اچھے لمحات کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔ ان سب باتوں کے باوجود جس طرح دولت میرا مقصد اور جنون تھی اسی طرح مصطفی بھی میرا مقصد اور جنون تھا۔
    پھر اچانک ہماری زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا کہ میں نے اپنے جنون اور مقصد کو پانے کے لیے اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیا۔ جی ہاں! میں نے مصطفی کو ہی کھو دیا اپنے ہاتھوں، کسی اور کے حوالے کر دیا، مگر یہ کیا اس کے بعد… کوئی چیز اور کوئی بات بھی مجھے خوش نہ کر سکی۔ مجھے سمجھ نہ آتا کہ مصطفی غلط تھا یا میں غلط تھی؟ نہیں! میں غلط نہ تھی، مصطفی ہی بے وفا تھا۔ کیا یہ سب مصطفی کے لیے اتنا ہی آسان تھا؟ وہ تو کہتا تھا کہ مجھے دولت کی ہوس نہیں۔ وہ تو کہتا تھا میرے لیے تم ہی سب کچھ ہو۔ پھر یہ سب کیسے ہو گیا؟




  • موسمِ گُل — عاصمہ عزیز

    خوب صورت شاہ ولا جس کی پیشانی پر ماشا اﷲ کی تختی سجی تھی، میں اس وقت گہرا سکوت چھایا ہوا تھا۔
    شان دار فرنیچر سے مزّین شاہ ولا کے ڈائننگ روم میں اس وقت دو لوگ دوپہر کے کھانے کے لیے غیر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک کے چہرے پر سوچ اور تفکر کا گہرا جال بچھا تھا جب کہ دوسرے کے دلکش نقوش سے غصہ اور جھنجھلاہٹ واضح تھی۔
    ”با باپلیز ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ ….میں نہیں کرسکتی ابھی شادی وادی۔” عنایہ شاہ نے پچھلے دوتین دنوں سے بار بار دہرایا جانے والا جملہ ایک دفعہ پھر دہرایا۔ بیٹی کی بات سن کر حیدر شاہ کا نوالہ پکڑے منہ کی طرف جاتا ہاتھ لمحہ بھر کے لیے ہوا میں معلق ہوا، لیکن اگلے ہی لمحے انہوں نے پلیٹ پر جھکی اپنی نظریں اٹھائیں اور سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹی کو گھورتے ہوئے کہا۔
    ”میں نے آپ سے آپ کی رائے نہیں پوچھی… اور نہ ہی آئندہ اس بارے میں میرا ایسا کوئی ارادہ ہے۔”




    ”لیکن بابا”….. عنایہ نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا، لیکن حیرت اور دکھ کی شدت سے اس کی آواز حلق کے اندر ہی گھٹ کررہ گئی۔
    ”مم… میں پڑھنا چاہتی ہوں ابھی۔” کچھ دیر خود پرقابو پانے کے بعد اس نے بہ مشکل یہ الفاظ ادا کیے تھے۔ آج سے پہلے اسے اپنے باباسے بات کرنے کے لئے کبھی الفاظ نہیں سوچنا پڑے تھے۔تین سال کی عمر میں ماں کی وفات کے بعد سے انہوں نے اس کی ہر خواہش کو الفاظ میں ڈھلنے سے پہلے پورا کیا تھا۔ عنایہ شاہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتاتھا جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر اس دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور جنہیں ”انکار” اور ”نہیں” جیسے لفظوں سے بہت کم واسطہ پڑتا ہے۔
    ”جسٹ سٹاپ اٹ! کوئی لیکن ویکن نہیں چلے گا۔” انہوں نے سخت لہجے میں اسے ٹوکتے ہوئے اپنے بٹوے سے چند بڑے نوٹ نکال کر ٹیبل کی سطح پراس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا:
    ”یہ کچھ رقم رکھیں اور اپنی پسند سے شاپنگ کیجیے۔ اس جمعہ کو آپ کا نکاح ہے۔” انہوں نے یہ کہتے ہوئے اس کے حیرت سے گنگ چہرے سے نظریں چرالیں۔ عنایہ باپ کے اس رویے کی وجہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ اس نے سامنے پڑے لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک جھٹکے سے کرسی کھسکائی اور منہ بنائے اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
    ”تم؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟” کمرے میں ملازمہ کی موجودگی نے اس کے غصے کی شدت سے بڑھتے پارے کو آسمان سے مزید باتیں کرنے پر مجبور کردیاتھا۔عنایہ شاہ باپ کے برعکس اپنے ملازموں کو عام انسان کے بجائے احساسات وجذبات سے عاری غلاموں کا درجہ دینا زیادہ پسند کرتی تھی۔
    ”وہ… وہ بی بی جی!” ملگجے سے کپڑے زیب تن کیے پکی عمر کی ملازمہ کے ہاتھ میں کانچ کا نفیس گل دان لرز رہا تھا۔
    ”شٹ اپ نان سنس! نکل جائو میرے کمرے سے اپنا گندہ وجود لے کر۔” وہ غراتے ہوئے جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی تھی۔ پرُ غرور لہجے میں اپنے سے کم حیثیت ملازمہ کو برا بھلا کہتے ہوئے شاید وہ یہ بھول گئی تھی کہ انسان کو اس دنیا میںمحض اپنے برے اعمال کا ہی نہیں بلکہ اپنی زبان سے ادا کیے سخت الفاظ کابھی خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
    ٭…٭…٭




    حیدر شاہ اور شاہ نواز شاہ دو ہی بھائی تھے۔حیدر شاہ فطرتاًملنسار اور نرم مزاج کے حامل تھے جب کہ شاہ نواز شاہ کی طبیعت میں غروروتکبر اور دولت کی لالچ وہوس کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اسی لئے شاہ نواز شاہ نے ماں باپ کی وفات کے بعد جائیداد اور کاروبار میں سے اپنا حصہ بانٹتے ہوئے شاہ ولا سے نکل کر الگ گھر میں رہنا پسند کیا تھا۔
    گھر اور کاروبار کی علیحدگی کے بعد شاہ نواز شاہ کو اگر کوئی چیز اپنے بھائی سے جوڑے ہوئے تھی تو وہ بھائی نہیں بلکہ پیسے کی محبت تھی جس کی انہیں اپنے نئے کاروبار کو جمانے کے لئے اکثروبیشتر ضرورت پڑتی رہتی تھی۔
    حیدر شاہ ان کے لالچی پن سے آگاہ ہونے کے باوجود اپنی فطرت اور بھائی کی محبت سے مجبور ہو کر ہمیشہ ان کی مدد کے لئے تیار کھڑے رہتے تھے۔
    وقت اسی طرح سرکتا رہا۔ کئی سال کسی سمندر کی منہ زور موجوں کی طرح تندی وتیزی سے بیت گئے۔
    انسان کی فطرت کا بدلائو کبھی بھی وقت کا محتاج نہیں رہتا۔ہزار وں قیمتی لمحے اور گھڑیاں بیت جانے کے باوجود انسان اپنی فطرت کو نہیں بدل سکتا۔ اسی طرح کئی سال بیت جانے کے باوجود شاہ نواز شاہ کی فطرت میں دولت کے لیے چُھپی حرص و ہوس میں کوئی فرق نہیں آیا۔
    ورثے میں ملی جائیداد کو عیش وعشرت میں اڑانے کے بعد اب شاہ نواز شاہ کی نظر اپنے بھائی کی جائیداد پر تھی، جسے وہ ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے واحد ہتھیار عنایہ شاہ تھی، جسے بہو بنا کر وہ بآسانی اپنا مقصد حاصل کرسکتے تھے۔
    لیکن حیدرشاہ کے واضح اور دوٹوک انکار کے بعد وہ دل مسوس کررہ گئے تھے۔ پھر بھی وہ ہار ماننے والوں میں سے نہ تھے کیوں کہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے انہوں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے عنایہ شاہ کے سامنے محبت کا جال بچھا دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    کمرا نیم تاریک تھا۔ وہ اس وقت بیڈ سے ٹیک لگائے اپنے بستر پر نیم دراز تھے۔اپنی بیٹی عنایہ شاہ کے مستقبل کا خوف انہیں کسی زہریلے ناگ کی طرح ڈس رہا تھا۔جس دولت اور جائیداد کو انسان اپنی خوشیوں کی ضمانت سمجھتا ہے، اس وقت وہی دولت انہیں اپنی دشمن دکھائی دے رہی تھی۔
    کاش! وہ اس دولت اور جائیداد کے عوض اپنی بیٹی کے خوش گوار مستقبل کویقینی بناسکتے ۔انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے کنپٹیاں سہلاتے ہوئے سوچاتھا۔ آج سے ایک سال پہلے ہی وہ برین ٹیومر جیسی موذی بیماری کا شکار ہونے کا اور اس بات کا علم ان کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مرحوم دوست کے بیٹے عرشما ن کے علاوہ کسی کو نہیں تھا۔ جسے انہوں نے حال ہی میں اس کی ذہانت اور قابلیت کی بنا پر اپنے آفس میں اعلیٰ عہدے پر فائز کیا تھا۔ وہ حیدرشاہ کی بیماری کا راز اپنے سینے میں دبائے سگے بیٹوں کی طرح ڈاکٹر سے ان کا چیک اپ کرواتا اور ان کا خیال رکھتاتھا۔ حیدر شاہ کے لیے بھی وہ محض ایک تنخوار دار ملازم نہیں تھا بلکہ وہ اسے سگے بیٹے کا درجہ دیتے تھے۔ رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے بلکہ احساس کے بھی ہوتے ہیں۔بعض دفعہ جب خونی رشتے ہمیں راستے میں پڑے بے جان پتھر کی طرح ٹھوکر مار کرچلے جاتے ہیں، تو احساس کے رشتے ہی ہماری اندھیری دنیا میں روشنی لاتے ہیں۔”
    پچھلے کئی ماہ سے ڈاکٹر انہیں سرجری کرانے کی پُر زور تاکید کر رہا تھا جسے وہ ہر بار ٹالتے رہے، لیکن اب آپریشن ان کے لئے ضروری ہوگیاتھاکیوںکہ بیماری ان کی بے پرواہی کی بنا پر اپنے پنجے گاڑ چکی تھی۔ اس لئے وہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنی بیٹی کو لالچی و خودعرض رشتے داروں سے بچاتے ہوئے اس کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے تھے۔
    وہ سوچوں کی وادی میں ڈوبے ہوئے تھے کہ دروازے پر ہونے والی دستک اور اس کے بعد عنایہ کے نمودار ہونے نے انہیں چونکادیا تھا۔
    ”آئو بیٹا بیٹھو!” رسمی علیک سلیک کرتے ہوئے بیڈ سے کچھ فاصلے پر پڑے صوفے پر وہ ٹک گئی۔
    ”اور بیٹا شاپنگ کرلی آپ نے؟” حیدر شاہ نے بیٹی کے متذبذب چہرے پر نگاہیں ٹکائے بات کا آغاز کرتے ہوئے اسے بولنے کا موقع دیا۔
    ”جب مجھے شادی ہی نہیں کرنی تو شاپنگ کیسی؟” عنایہ شاہ نے منہ بنا کے اپنی ازلی ہٹ دھرمی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا۔ کوئی اور موقع ہوتا، تو وہ شاپنگ کرنے سے کیسے منع کرسکتی تھی۔
    ”عرشمان میری پسند ہے اور آپ کو اپنے….” حیدر شاہ نے کچھ بولنا چاہا، لیکن عنایہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولی:
    ”بابا جان آپ اپنے اس تنخواہ دار ملازم کو میرے لئے کیسے پسند کرسکتے ہیں؟ میں نے زندگی میں ہمیشہ بہترین اورقیمتی چیزوں کا انتخاب کیا جب کہ اب آپ…”
    ”اسٹاپ اٹ!” انہوں نے اس کی پٹرپٹر چلتی زبان کو روکنے کے لیے درشتی سے ٹوکتے ہوئے کہا۔
    ”چیزوں کو تو دولت کے ترازو میں تولا جا سکتا ہے، لیکن انسانوں کو نہیں، انسان کو اخلاق وکردار کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔”
    ”اوکے! آپ قائم رہیں اپنے فیصلے پر، تب تک میں جا رہی ہوں، چچا جان کے پاس۔ چچا جان ٹھیک کہتے ہیں آپ ہم دردی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔” وہ اٹھی اور دھپ دھپ کرتی کمرے سے نکل گئی۔
    حیدر شاہ اس کے باغیانہ لہجے کو محسوس کرتے اپنی خوش فہمی پر سوچتے رہ گئے کہ عرشمان کی ہم درد اور پُرخلوص شخصیت کی ضرورت ان سے زیادہ عنایہ کو ہے۔
    ٭…٭…٭