Tag: alif nagar

  • میں، محرم، مجرم — افراز جبین

    میں، محرم، مجرم — افراز جبین

    اس نے لرزتے ہاتھوں سے ICU کا دروازہ کھولا۔ اس کا اکلوتا بیٹا، اس کے بڑھاپے کا سہارا آکسیجن ماسک، نالیوں اور ڈرپس میں لپٹا ہوا تھا۔ اس کے لبوں پر شکوہ نہیں بلکہ آنکھوں میں شرمندگی اور چہرے پر پچھتاوے کے سائے منڈلا رہے تھے۔
    مدثر کو ہسپتال میں داخل ہوئے آج تیسرا دن تھا۔ اسے ہوش آگیا تھا۔ نیند کی گولیاں زیادہ مقدار میں کھانے کی وجہ سے اس کے معدے کو مکمل طور پر واش کیا گیا۔ اس کی طبیعت ذرا سنبھلی تو انعم کے بے قرار دل کو ذرا سا سکون ملا، مگر مدثر نے ہوش میں آتے ہی اپنے سیدھے ہاتھ کی رگ کاٹ لی۔ رات کا ناجانے کون سا پہر تھا۔ انعم کی آنکھ لگی اور مدثر… اس کا مدثر ایک بار پھر زندگی سے کھیل گیا تھا۔
    خون بہت زیادہ بہ گیا تھا مگر خدا نے پھر بھی اس کی جان بچالی۔ دل میں بہت سے سوال اور آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ انعم اسے دن رات صرف سگریٹ کے کش لگاتے دیکھتی۔ وہ کسی سے کیا کہتی؟ مدد کے لیے کس کو کیا پکارتی؟ اس کا اکلوتا بیٹا… وہ تو اپنے آپ کو آج تک معاف نہیں کر پائی تھی اور اب ایک نیا روگ۔
    ٭…٭…٭




    احمد علی سرکاری ملازم تھے، نہایت ایمان دار اور شریف النفس انسان۔ ان کی زندگی کا ایک اصول تھا کہ جو مرضی کرو بس حرام لو اور نہ ہی دو۔ اس قیمتی اصول کی سزا انہیں یہ ملتی کہ ان کی ماہانہ آمدنی مہینے کے درمیان میں ختم ہوجاتی اور باقی دن اگلے مہینے تنخواہ کی آس میں گزر جاتے۔ ان کی اہلیہبیگم فرخندہ بھی اپنے شوہر کی ہم مزاج تھیں اس لیے دونوں میاں بیوی کی خوب اچھی گزرتی، مگر پہ درپہ ہونے والی تین بیٹیوں اور تین بیٹوں نے گھر کا نقشہ ہی بدل دیا تھا۔ چھے بچے اور دو میاں بیوی۔ آٹھ لوگوں کا گزر، بسر بچوں کی تعلیم، کپڑا لتّا، زمانے کے ساتھ چلتے چلتے بیگم فرخندہ تو جیسے تھک سی گئی تھیں۔ اکثر سوچتیں اور نم آواز سے کہتیں:
    ”احمد علی! اپنی تو گزر گئی! بچوں کا کیا ہوگا؟ ان کی تعلیم، بچیوں کی شادیاں!”
    ”بیگم گھبراتی کیوں ہو؟ اللہ مالک ہے۔” وہ ہر بار ٹھنڈی سانس بھر کر یہی جواب دیتے۔
    احمد علی کے چھے بچے تھے، جو بالکل ماں باپ کی فطرت کے عکاس تھے۔ کوئی باپ کی طرح ایمان دار تو کوئی ماں کی طرح صابر۔ سب سے بڑے بیٹے عثمان نے میٹرک کرتے ہی پرائیویٹ ٹیوشنز پڑھانی شروع کردیں۔ فاخرہ، سلمیٰ اور علیشبہ بھی چھوٹی عمروں سے ہی گھر میں ٹیوشن پڑھانے لگیں۔ منجھلا بیٹا اکبر ایک کال سینٹر میں پارٹ ٹائم جاب کرتا، یوں گھر کا ہر فرد اپنے طور پر گھریلو اخراجات میں ایک اہم کردار ادا کرتا ماسوائے بلال کے۔ وہ گھر میں سب سے چھوٹا تھا۔ احمد علی نے کسی بچے کو خاص لاڈ پیار نہیں دیا تھا، لیکن بلال علی کی تو چال ہی نرالی تھی۔ وہ ہر وہ کام کرتا جس کی کسی کو توقع تک نہ ہوتی۔
    ”فرخندہ بیگم! یہ آخر کس مرض کی دوا ہے۔” احمد علی اکثر جھنجھلا کر پوچھتے۔
    ”بچہ ہے ابھی، رونق ہے گھر کی۔” وہ لاڈ سے کہتیں۔
    ”میں بتائے دیتا ہوں، تمہارا یہ بچہ کوئی گل ضرور کھلائے گا۔ دیکھ لینا۔” وہ ہر بار ٹھنڈی آہ بھر کر کہتے۔
    ٭…٭…٭
    ”احمد علی! احمد علی اٹھو۔” فرخندہ بیگم کی آواز نے احمد علی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
    ”کیا ہوگیا بھئی؟ کیوں چلا رہی ہو۔” نیند سے بھری آنکھیں مسلتے ہوئے احمد علی بڑُ بُڑائے۔
    ”وہ… وہ نا! وہ” فرخندہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے اور آواز اتنی بری طرح کپکپا رہی تھی کہ الفاظ بھی صحیح طرح منہ سے نہیں نکل رہے تھے۔
    ”وہ میرے امریکا والے کزن شجاع بھائی۔”
    ”شجاع! مرگئے کیا؟ بس جی موت ہے کسی کو کہیں بھی آجائے ولایت ہو یا دیس۔ یہ ظالم کہاں دیکھتی ہے کسی کو۔” احمد علی نے انتہائی سوگ وار لہجے میں کہا۔
    ”چُپ بھی کرو احمد علی! جو منہ میں آرہا ہے بولتے جارہے ہو۔ شجاع بھائی کا فون آیا تھا امریکا سے، وہ اگلے مہینے پاکستان آرہے ہیں۔”
    ”ہر سال ہی آتے ہیں تمہارے میکے والے…” احمد علی ابھی کچھ اور بھی بولتے مگر فرخندہ بیگم کی گھورتی نگاہوں نے انہیں یک دم خاموش کروا دیا۔
    ”شجاع بھائی اپنے دونوں بڑے بیٹوں کے لیے فاخرہ اور سلمیٰ کا رشتہ مانگ رہے تھے۔”
    وہ رات زیادہ خاموش تھی یا احمد علی، فرخندہ بیگم اسی کشمکش میں فجرکے لیے اٹھیں تو احمد علی کو مصلے پر سر رکھ کر گڑگڑاتے ہوئے بس اتنا سُنا:
    ”الٰہی! تیرا شکر ہے۔ الٰہی تیرا فضل ہے۔”
    ٭…٭…٭
    کرتا کوئی اور بھرتا کوئی ہے اور کتابوں میں پڑھا ہوا یہ محاورہ ہر کسی کو رٹا ہوا تھا۔ انعم سے اگر کوئی پوچھتا تو وہ بتاتی کہ اس کی زندہ مثال تو وہ خود تھی۔ آج سے اٹھارہ سال پہلے افضل کے نکاح میں آکر اس نے زندگی کا ہر میدان مار لیا تھا۔ افضل علی انتہائی خوب رُو، خوش مزاج اور ایک بڑی کمپنی کا مالک تھا۔ اس کی افضل علی سے پہلی ملاقات ایک بینک میں ہوئی تھی۔ وہ ٹیوشن فیس جو بچوں کے والدین بینک میں جمع کروا دیتے وہ ہر ماہ کی طرح اس مہینے بھی وہی لینے آئی تھی۔
    دروازہ کھولتے ہی سامنے منیجر کے کمرے سے نکلتے ہوئے افضل پر اس کی نظر پڑی تو وہ ایک لمحے کو رک سی گئی۔ براؤن لائنوں والی ٹی شرٹ، نیلی جینز، ہاتھ میں بہترین موبائل اور چہرے پر ہلکی سی ڈاڑھی، وہ تو جیسے نظر اٹھانا ہی بھول گئی تھی۔
    ”ایکسکیوزمی پلیز! ذرا راستہ دیجیے۔” پیچھے سے کسی بزرگ نے اسے دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا دیکھ کر راستہ مانگا۔
    ”اوہ سوری!” وہ راستے سے ہٹی۔
    کیا خوب صورت چیز ہے، اس نے سوچ کر دل مسوس کیا۔ پھر اپنے خیالوں کو جھٹک کر آگے بڑھ گئی۔ پیسے نکلوا کر باہر نکلی تو گلفام موبائل پر کسی سے انگریزی میں بات کررہا تھا۔ اس کی کالی چمکتی ہنڈا سوک ساتھ ہی کھڑی تھی۔ انعم ابھی اسے اور دیکھتی کہ دو نقاب پوش بائیک پر تیزی سے آئے اور اس کے ہاتھ میں موجود بیگ جھٹکے سے کھینچا۔ وہ زور سے چیخی۔ اس سے قبل کہ وہ کچھ کرتی نقاب پوش اس کا بیگ لے کر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے تیزی سے فرار ہوگئے۔
    ٭…٭…٭




    ”شجاع بھائی! میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ میں نہ تو آپ کے معیار کی شادی کرسکتا ہوں اور نہ ہی اتنا زیادہ جہیز دے سکتا ہوں۔” احمد علی نے انتہائی دھیمے لہجے میں کہا۔
    ”مجھے دولت اور حسن کی ہوس ہوتی تو بیٹوں کو امریکا میں بیاہ دیتا۔ مجھے اپنی نسل خاندانی خون سے بڑھانی ہے۔ اب اگر آپ نے ایسی کوئی ٹال مٹول کی تو میں انکار سمجھ کر چلا جاؤں گا۔” شجاع کی بات پر بیگم فرخندہ کا دل دہل گیا۔ ہر ماں کی طرح وہ بھی اپنے بچوں کی خوشی کے لیے لالچی ہوگئی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ فاخرہ اور سلمیٰ جاکر بھائیوں کو بھی امریکا بلوا لیں گی اور زندگی کے باقی دن آرام سے گزر جائیں گے، مگر احمد علی کی ایک ہی رٹ تھی کہ وہ اونچے لوگ ہیں۔
    ”نہیں شجاع بھائی، احمد علی کا یہ مطلب نہیں تھا۔ آپ بھی نہ بس۔” فرخندہ بیگم نے احمد علی کو ڈپٹا۔ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے۔
    ٭…٭…٭
    ”Are you ok?” افضل کی آواز نے اسے سکتے سے باہر نکالا۔
    ”جی ہاں… وہ میرا بیگ، ٹیوشن کے پیسے، وہ ہوسٹل کی فیس۔” اس وقت وہ اپنے حواس میں نہیں تھی۔ اس کی آواز رندھ گئی تھی۔ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ بھنگڑا ڈالتی۔ بالکل فلموں کی طرح ایک خوب صورت لڑکا اس کی مدد کر رہا تھا اور وہ کسی ہیروئن کی طرح مظلوم بن کر بیٹھی ہوئی تھی۔ مگر اس وقت اسے صرف یہ یاد تھا کہ اس کے پورے مہینے کی محنت، وہ پیسے چلے گئے اور ابو نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس مہینے بڑی مشکل سے بھیجے ہیں۔ اب کیا ہوگا؟
    ”Can I help you?” افضل نے پھر اسے پکارا تو اس نے زور زور سے رونا شروع کردیا۔
    ”Oh God! پلیز آپ روئیے مت۔ آپ گاڑی میں بیٹھیے۔” اس نے آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور بھاگ کر سامنے چھوٹے سے جنرل اسٹور سے اس کے لیے پانی کی بوتل لے آیا۔ کچھ دیر بعد اس نے اسے ہوسٹل کے باہر اتار دیا۔
    ”بہت شکریہ!” انعم نے اداس لہجے میں کہا۔
    It’s ok! آپ میرا یہ کارڈ رکھ لیجیے، کبھی بھی ضرورت ہو توdo contact me”
    اس کی چمکتی ہوئی گاڑی تیزی سے آگے بڑھ گئی اور وہ بوجھل دل اور خالی ہاتھ ہوسٹل میں داخل ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    ”میں اپنے سب دوستوں کو بلاؤں گا۔” بلال نے گھر میں شورمچا رکھا تھا۔ ہر طرف گہما گہمی تھی۔ کبھی بازار کا چکر، کبھی کوئی مہمان آجاتا اور کبھی خود جانا پڑتا۔ گھر کی پہلی خوشی میں ہر کوئی بوکھلا یا ہوا پھر رہا تھا۔ احمد علی تو بس پورا دن حساب کتاب ہی کرتے رہتے۔
    ”ذرا دھیان سے کرو سارے کام! ابھی باقی بچے بھی ہیں۔”
    ”میں نے کبھی آپ کو پریشان کیا ہے؟ پھر کیوں آپ پریشان ہوجاتے ہیں۔” فرخندہ بیگم احمد علی کی اس بات پر کبھی الجھتی، کبھی ڈپٹتی اور کبھی شکوہ کناں انداز میں کہتیں۔
    ”وہ تو میں بس یوں ہی کہہ رہا تھا۔”احمد علی ذرا کھسیانے ہوکر کہتے۔
    ذیشان اشرف اور رقیہ بانو کی ازدواجی زندگی مڈل کلاس لوگوں کی طرح سرد، گرم اور نرم ہر مرحلے سے گزرتی مگر بندھن ہر موسم کے بعد مضبوط ہوجاتا۔
    انعم ان کی پہلی اولاد تھی۔ اس کے معصوم چہرے پر اس کی آنکھوں میں ایک مقناطیسی کشش اور بے باکی تھی۔ اس معصوم چہرے کی بولتی آنکھیں رقیہ بیگم کو بے پناہ بھاتیں۔ انعم کے بعد دوبیٹیوں اور ایک بیٹے نے ان کے آنگن کو مکمل کردیا۔
    بچوں کی پرورش، گھر گرہستی، شوہر سے محبت اور اس کی اطاعت رقیہ بانو کی کل کائنات تھی اور رقیہ بانو نے اپنی کائنات کو جنت بنانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ یہ جنت اس دن ہمیشہ کے لیے ویران ہوگئی جب رقیہ بانو نے دنیا سے منہ موڑ لیا۔ نہ کوئی بیماری، نہ کوئی تکلیف۔ بس اک شام ذرا سا دل گھبرایا، ذیشان اشرف جب تک آفس سے گھر پہنچے رقیہ بانو جا چکی تھیں۔ نہ کسی سے کچھ کہا نہ سُنا۔ اپنے آنگن کو بلکتی سسکیوں میں چھوڑ کر وہ اپنے ہی ہاتھوں سے بنایا ہوا گلشن ویران کرگئیں۔
    ٭…٭…٭
    ”مدثر کیا تم دوبارہ پڑھائی شروع نہیں کرسکتے؟” انعم نے ایک روز اپنی ساری ہمت جمع کرکے اس سے دو ٹوک انداز میں پوچھا۔ مدثر نے اسے پلٹ کر یوں دیکھا کہ وہ خود ہی سے نظریں چرا گئی۔
    ”بیٹا زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ ہر شکست پر انسان کو ایسا لگتا ہے کہ زندگی اب رک گئی ہے، یہی آخر ہے۔ اس سے آگے کچھ نہیں، مگر پھر کچھ تگ و دو کے بعد زندگی دوبارہ شروع ہوجاتی ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں غم کو جلانے سے دکھ کم نہیں ہوتا۔ دکھ پر وقت اپنا مرہم رکھ جاتا ہے۔ تمہیں بھی کچھ وقت لگے گا، مگر اس طرح سے بند کمرے میں تنہائی اور لاحاصل کی تمنا سے تو وقت بھی نہیں گزرے گا۔”
    اس نے آگے بڑھ کر مدثر کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔ دونوں ماں بیٹے کی آنکھوں سے چھلکتی برسات نے دونوں کے دلوں کواور بوجھل کردیا۔
    غم نے تو جیسے انعم کے گھر کی راہ ہی دیکھ لی تھی۔ اداسی اس کے آنگن میں گرمیوں کی دھوپ کی طرح اس کے وجود کو جھلسا رہی تھی۔ مدثر کو بہت زیادہ سمجھاتے، قسمیں اور وعدے دینے کے بعد اس نے آفس جوائن کرلیا مگر یونیورسٹی وہ نہیں جاتا تھا۔ سارا کاروبار خسارے میں جارہا تھا۔ جب مالک سر پر نہ ہو تو ملازمین مالک بن جاتے ہیں اور اس کے حق دار بھی بدل جاتے ہیں۔
    ٭…٭…٭




  • جب زمین تنگ ہوجائے — حنا نرجس

    تقریباً تین ماہ گزر چکے تھے لیکن ابھی تک لاشعوری طور پر میری نگاہیں دائیں جانب ہل ہل کر قرآن پڑھتے بچوں میں سے قطار کے اختتام پر اس خوف زدہ چہرے کو تلاش کرنے لگتیں، جو ایک عرصہ تک میری نگاہوں کا مرکز رہا تھا۔ اب تک تو یقینا اس کے ماں باپ کو بھی صبر آ چکا ہو گا لیکن میرے اندر جلتا پچھتاوے کا بھانبڑ بجھنے میں نہیں آتا تھا۔ وہ خوب صورت چہرے، نرم طبیعت اور مہذب لب و لہجے کا مالک بچہ تھا جسے اس کے باپ نے اچانک ہی ساتویں جماعت سے انگریزی میڈیم سکول سے اٹھا کر قرآن مجید حفظ کروانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ خود بھی ان دنوں تازہ تازہ تبلیغی جماعت سے متاثر ہوئے تھے اور اکثر ان کے ساتھ اندرون و بیرونِ ملک جانے لگے تھے۔




    وہ بچہ شاید اس اچانک تبدیلی کو قبول نہیں کر پایا تھا کیوں کہ وہ مدرسے میں کسی سے بھی گھلتا ملتا نہیں تھا۔ اس کے طور طریقے سب سے الگ تھے۔ پتا نہیں کیوں میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ میں اسے بہ طور استاد پسند نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے یہ میرا وہم ہو لیکن یہ بات تو طے تھی کہ وہ دوسرے بچوں کی طرح مجھ سے ڈرتا نہیں تھا۔ بات کرتے وقت اس کا لہجہ مؤدب لیکن آواز مضبوط ہوتی اور یہی بات مجھ سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔ پھر تو مجھے جیسے ضد ہو گئی کہ اس کو ہر صورت اپنے رعب و دبدبے میں لا کر ہی رہنا ہے۔ ہر گزرتے دن اس پر میری سختی بڑھتی چلی گئی۔ کھڑا کر کے سبق یاد کروانا، مرغا بنانا، دھوپ میں بٹھانا، دیر سے چھٹی دینا، ڈنڈے سے پیٹنا غرض یہ کہ کون سی سزا تھی جو میں نے اسے نہ دی ہو۔ وہ سبق پر محنت کر کے سزا سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا لیکن میں بھی اپنے نام کا ایک تھا، تلفظ کی کوئی معمولی غلطی پکڑ کر پھینٹی لگا دیتا۔
    دروازے پر دستک سن کر سحرش بیگم نے سنک کا نل بند کیا اور گیلے ہاتھ دوپٹے سے پونچھنے لگیں جب ہی وحید بولے:
    "رہنے دیں بھابھی میں نکل ہی رہا ہوں، دیکھ لیتا ہوں۔”
    وہ ابھی ابھی دودھ لے کر آئے تھے اور ٹی وی پر کوئی دینی پروگرام چلتا دیکھ کر ذرا دیر لاؤئج میں رک گئے تھے۔ وہ جلد ہی پلٹے، ان کی آواز میں قدرے تشویش تھی۔
    "بھابھی! مغیث کہاں ہے؟ مسجد سے لڑکا اس کا پوچھنے آیا ہے۔ گیا نہیں آج مدرسہ؟”
    سحرش بیگم چند ثانیے تو خالی نظروں سے ولید کو دیکھتی رہیں جیسے بات سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں پھر دھیمے لہجے میں بولیں:
    "وہ تو وقت پر چلا گیا تھا، مسجد میں نہیں ہے کیا؟” ان کے لہجے میں فکر مندی کے آثار جھلک رہے تھے۔
    "آپ پریشان نہ ہوں میں پتا کرتا ہوں۔” ان کو تسلی دیتے ہوئے وحید باہر نکلے تو ان کے اپنے ذہن میں منفی خیالات گردش کر رہے تھے۔” لگتا ہے مدرسے میں دل نہیں لگتا صاحب زادے کا، پر پرزے نکالنے لگے ہیں۔” مغیث سب پوتے پوتیوں میں بڑا ہونے کی وجہ سے دادا ابا کا بہت لاڈلا رہا تھا، یہی وجہ تھی کہ وحید کو اس سے قدرے پرخاش تھی جس کے اظہار کا موقع کم کم ہی میسر آتا تھا۔
    اس دن سے تو مجھے مزید شہ مل گئی جب وقت پر مدرسے نہ پہنچنے پر ایک لڑکے کو اس کے گھر بھیجا۔ کچھ ہی دیر بعد گھر، محلے اور مسجد میں مغیث کی ڈھنڈیا پڑ گئی جو بالآخر مسجد کے پچھواڑے پرانے سٹور میں پڑے کاٹھ کباڑ کے پیچھے دبکا ہوا ملا۔ اس کے چچا، جو استاد اور گھر والوں کی نگاہوں میں دھول جھونکنے کے اس مظاہرے پر سیخ پا ہو رہے تھے، اس کے کان کھینچتے، تھپڑ لگاتے میرے سامنے پیش کرتے ہوئے بولے:
    "قاری صاحب! میرا فون نمبر نوٹ کر لیں، آئندہ یہ دو منٹ کی بھی تاخیر کرے تو فوراً مجھے اطلاع کریں۔ بڑے بھائی صاحب تو بیمار والد صاحب اور دونوں گھروں کی ذمہ داری مجھ پر ڈال کر روانہ ہو جاتے ہیں، کل کلاں لڑکا ہاتھ سے نکل گیا تو اسے میری ہی لاپروائی تصور کیا جائے گانا۔”




    اس دو طرفہ سختی سے اس کا سارا اعتماد ہوا ہو گیا۔ میری من چاہی تبدیلی آرہی تھی۔ اب تو مجھے دیکھتے ہی اس کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا۔ گھگھیا کر معافی مانگتا تو میرے من میں ٹھنڈ پڑ جاتی۔
    اگلی بار جب اس کے والد دورے سے لوٹے اور پڑھائی کے متعلق جاننے کے لیے میرے پاس تشریف لائے تو میں نے خود سے گھڑ کر اس کی خوب شکایتیں لگائیں۔ وہ سر جھکا کر دبی دبی آواز میں اکثر الزامات سے انکار کرتا رہا لیکن باپ کو تو استاد پر مکمل اعتماد تھا۔ خشمیگن نگاہوں سے اسے گھورتے وہ اٹھ کر چلے گئے اور میں مستقبل قریب میں اس کی درگت بننے کے خیال سے ہی محظوظ ہونے لگا۔ اس روز اس کی نگاہوں میں بے یقینی، شکوہ، رحم کی اپیل اور نہ جانے کیا کیا یک جا ہو گیا تھا لیکن میں انجان بنا رہا۔
    "قاری صاحب، قاری صاحب!”
    میری آنکھ ایک نسوانی آواز کے پکارنے پر کُھلی۔ رات کے دس بج رہے تھے۔ نیند سے ایک دم جاگنے پر پہلے تو میں کچھ سمجھ نہ پایا لیکن جب یادداشت بحال ہوئی تو یاد آیا کہ آج میں نے مغیث کی چھٹی بند کی ہوئی تھی اور تاخیر کچھ زیادہ ہی ہو گئی تھی۔ معلوم نہیں کب میری آنکھ لگ گئی اور وہ مجھے جگانے کی جرات نہیں کر پایا۔
    وہ برقع پوش ڈری ہوئی سی خاتون انتظار کا طویل دورانیہ گزار کر بالآخر ایک چھوٹے لڑکے کی انگلی تھامے اپنے لختِ جگر کی معافی کی درخواست لیے خود آن پہنچی تھی۔ ایک لمحے کو میرا دل کانپا لیکن جلد ہی میں نے خود کو پھر سے پتھر کر لیا۔ شکایات کی لمبی فہرست کے ساتھ احسان دھرتے ہوئے میں نے اسے چھٹی کا پروانہ عطا کیا۔
    میری سختیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔ بچہ ہار تو کب کا چکا تھا، اب تو ذہنی طور پر بھی غائب محسوس ہوتا۔ سبق سناتے ہوئے بار بار اٹکتا، لگتا تھا وہ اب بہتری کی کوششیں تک ترک کر چکا تھا۔ شاید اسے مجھ سے کسی خیر کی امید نہیں رہی تھی۔ رت جگوں سے اس کی آنکھیں لال رہنے لگیں لیکن میں شیطان کے شکنجے میں کسا ہوا اپنا دل اس کے لیے نرم نہ کر پایا۔
    پھر یہ آئے روز ہونے لگا۔ جب مدرسے پہنچنے میں تاخیر ہوتی تو کسی لڑکے کو گھر بھیجا جاتا یا چچا کو فون کیا جاتا اور جب مدرسے سے گھر پہنچنے میں تاخیر ہوتی تو وہ برقع پوش خاتون ڈری سہمی، خوف زدہ اور پریشانی کے عالم میں اسے لینے آتی اور مجھے اس کی آنکھوں میں التجا نظر آتی جیسے کہہ رہی ہو:
    "قاری صاحب، آپ ہی رحم کیجیے، میں ہر طرف سے دباؤ میں گھری کم زور مخلوق اپنے بیٹے کی حالت سے آگاہ ہونے کے باوجود بھی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔”
    لیکن میری رسی شاید کچھ زیادہ ہی دراز کر دی گئی تھی۔ سارا دن قرآن کے ساتھ رہ کر بھی قرآن میرے حلق سے نیچے نہیں اترا تھا۔ مجھے دل کی نرمی سے محروم کر دیا گیا تھا۔ میں ظلم کر کے لطف اندوز ہونے لگا تھا۔
    میری روش نہ بدلی حتیٰ کہ وہ دن بھی آگیا جب اس کے گھر پتا کرنے جانے والے لڑکے کو صفِ ماتم بچھی ہوئی ملی اور کچھ ہی دیر بعد اس کے چچا جھکے کندھوں اور گیلی آنکھوں کے ساتھ اعلان کرانے کی غرض سے مسجد آن پہنچے۔
    اس کے والد جنازے میں شریک نہ ہوسکے کیوں کہ وہ ملک سے باہر گئے ہوئے تھے اور زیادہ انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ نیلے پڑتے بدن اور پھولتے پیٹ کی وجہ سے مغیث کے جسدِ خاکی کو زیادہ دیر رکھنا ممکن نہ تھا۔
    یہ خود کشی تھی یا قتل، لوگوں کی آراء مختلف تھیں۔ پوسٹ مارٹم کروانے پر گھر والے رضامند نہ تھے۔ اگر قتل بھی تھا تو کیا قاتل کوئی ایک شخص تھا یا زیادہ افراد کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ کوئی آلۂ قتل بھی تو برآمد نہ ہوا۔ لیکن اس روز سے میں راتوں کو بار بار پسینے میں شرابور دہشت زدہ سا اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں اور دن میں میری نگاہیں مسجد میں دائیں جانب ہل ہل کر قرآن پڑھتے بچوں سے ہوتی ہوئی قطار کے اختتام پر اس خوف زدہ چہرے کو تلاش کرنے لگتی ہیں۔

    ٭…٭…٭




  • حوّا کی بیٹی — سارہ عمر

    ”بس یہیں روک دیں۔” وہ ڈرائیور کے پیچھے سے بولی تھی۔ پرس سنبھالتی وہ اپنے اسٹاپ پر اتر گئی۔
    ایک لمحے کے لیے نظر سڑک کے پار اُٹھی اور پلٹ کر واپس آنا بھول گئی۔
    ”یہ تو…” وہ زیر لب بَڑبَڑائی۔
    ”یہ یہاں کیسے؟یہ تو گوجرانوالہ ہے …” اس نے اپنی چادر کا پلو کھینچ کر منہ کے آگے کیا۔ سوائے ایک آنکھ کے اس کا سارا چہرا چادر میں چھپ گیا تھا۔
    ”یااللہ! بس گھر کا راستہ نظر آجائے جلدی سے۔” اس نے گھر کی طرف دوڑ لگا دی تھی جیسے کوئی بھوت نظر آگیا ہو۔
    گھر پہنچتے پہنچتے سارا جسم پسینے میں بھیگ چکا تھااور سانس بری طرح اُکھڑ رہی تھی۔
    ”آ گئی نگہت؟ جلدی سے روٹی ڈال دے۔ بچے بھی بھوکے ہیں۔” اسے ہاتھ دھوتا دیکھ کر ساس نے کہا تو وہ کچن میں چلی آئی۔
    اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور ہونٹ خشک تھے،اس سے روٹیاں ٹیڑھی پک رہی تھیں۔ کچھ کچی اور کچھ جل رہی تھیں۔ چولہے کے آگے پسینہ تو آتا ہی ہے مگر اس کو ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔
    ”اگر وہ واقعی ولید ہوا اور اس نے مجھے پہچان لیا تو کیا ہوگا؟ میں تو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گی۔”
    ٭…٭…٭




    سمندر کی لہریں بار بار اس کے پاؤں کو چھو کر جارہی تھیں۔ جب ریت پاؤں کے نیچے سے نکلتی تو ندا کھلکھلا کر ہنس پڑتی اور فرقان اسے دیکھ کر ہنس پڑتا۔
    ”ایسے پاگل ہورہی ہو جیسے پہلی بار پانی دیکھا ہے۔” اس نے ندا کا ہاتھ تھاما اور ساحل پر چلنے لگا۔
    ”ایسی بات نہیں! ہر مہینے آتے تھے ہم سمندر پہ، بس شادی کے بعد پہلی بار آئی ہوں۔”
    وہ مُسکرا کر روٹھے انداز سے بال سلجھانے لگی جو ہوا سے اڑے جارہے تھے۔
    ”تبھی اتنا مزہ آرہا ہے؟” اس نے شوخی سے کہا تو وہ پھر ہنس دی۔
    ”سچی اسی لیے اتنا مزہ آرہا ہے۔” اس نے ہاں میں ہاں ملائی تو وہ اس کا ہاتھ گرم جوشی سے دباتا مُسکرا دیا۔
    ندا نے فرقان کے کندھے پر سر رکھا اور آنکھیں بند کردیں۔
    ”کاش یہ پل اسی طرح رہیں اور فرقان ایسے ہی مجھے پیار کرتے رہیں۔” وہ دل ہی دل میں مُسکرا دی۔
    ٭…٭…٭
    ”راجو ایک اور پلیٹ لا۔” شبیر نے راجو کو آرڈر کیا اور آج کا اخبار نکال کر صفحے پلٹنے لگا۔
    ”لو یہ دیکھو۔” اسلم نے پانی کا گلاس رکھ کر اسے دیکھا۔
    ”ڈیرہ غازی خان: چار بچوں کی ماں نے زہر کھا کر خودکشی کرلی۔ وجۂ تنازع معلوم نہ ہوسکی۔” وہ خبر پڑھ کر سنا رہا تھا۔
    ”یہ اتنے چھوٹے چھوٹے شہر کی عورتیں اتنا بڑا کام کیسے کرلیتی ہیں۔ چار بچوں کا بھی خیال نہ آیا حد ہوگئی۔” اسلم بری طرح نالاں ہوا۔
    ”بھلا چار بچوں کے ساتھ ایسا کیا مسئلہ کھڑا ہوگیا جو خودکشی جیسا حرام کام کر بیٹھی؟” شبیر نے بھی لقمہ دیا۔
    ”صاحب یہ تیسری پلیٹ ہے۔” راجو نے چھولوں کی پلیٹ رکھی تھی۔
    ”ہاں ہاں آئے ہیں تو صحیح سے کھا کر جائیں گے۔ برنس روڈ کے چھولے۔ ایویں تو مشہور نہیں کیا ذائقہ ہے بھئی۔”
    شبیر پھر سے کھانے میں جت گیا تھا۔ اسلم بھی ساتھ دینے کو موجود تھا۔
    ”کیا بنا تیری والی کا؟” شبیر نے پاس آکر آنکھ مار کے سرگوشی کی۔
    ”کہتی ہے مل نہیں سکتی۔ بس فون پہ بات کرو۔ بھائی ناراض ہو جائے گا۔” اسلم نے فکر مندی سے کہا۔
    ”چل تو لگا رہ کبھی تو آئے گا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔” وہ پانی کا گھونٹ بھر کر بولا۔
    ”سیما کو دوبارہ اس ایزی لوڈ والے نے تنگ تو نہیں کیا۔” شبیر کی بات پہ اسلم کی تیوریاں غصے سے چڑھ گئی تھیں۔
    ”آنکھ تو اٹھا کر دیکھے میری بہن کی طرف ہاتھ پاؤں توڑ کے چیل کوؤں کو ڈال دوں گا۔” وہ بھنا کر بولا۔
    ”ہاں ٹھیک ہے کھانا کھا کچھ بھی مدد چاہیے ہو یار کی تو بتانا۔”شبیر نے ٹھنڈا کیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”اُف اسے بھی ابھی خراب ہونا تھا۔” گاڑی چلتے چلتے گرم ہوگئی تھی اور اب رک گئی۔ نئی نئی گاڑی چلانی سیکھی تھی نیلم نے۔کتنا منع کیا تھا ماما بابا نے اکیلے مت نکلنا مگر نیلم بھی ضد کی پکی تھی۔
    ”اب کیا کروں؟” وہ پریشان ہوئی۔ بونٹ کھول کر ساتھ خود کھڑی ہوگئی۔
    پہلا بائیک والا ہی اسے دیکھ کر رک گیا۔
    پینٹ شرٹ پہ گلاسز لگائے۔ وہ فوراً اس کی طرف آیا۔
    ”کیا ہوگیا آپ کی گاڑی کو؟”
    ”پتا نہیں مجھے سمجھ نہیں آرہی۔”
    ”جی میں دیکھتا ہوں۔”
    سمجھ تو اسے بھی نہیں آنی تھی مگر تھوڑا ہاتھ مار کر ایکٹنگ کرنے میں کیا حرج تھا۔
    نیا شکار پھنسنے والا تھا۔
    نیلم بار بار کئی بار پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”بابا کو فون کرے گی تو ڈانٹ ہی پڑے گی۔” وہ خود سے سوچنے لگی۔
    ”موبائل ہے آپ کے پاس میں گھر بھول آیا ہوں یہاں میرے دوست کی ورک شاپ ہے وہ بندہ بھیج دے گا۔”
    اندھا کیا چاہے دو آنکھیں اور انہی دو آنکھوں نے اسے دوبارہ اندھا کردینا تھا۔
    اس نے فوراً غائب دماغی سے موبائل پکڑایا۔
    ”بس ابھی آجاتا ہے۔”
    دس منٹ بعد ہی بندہ آگیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی سٹارٹ ہوگئی۔ قصہ ختم، مگر نہیں ابھی تو قصہ شروع ہوا تھا۔
    اگلے کئی دنوں میں نیلم کے موبائل پہ نامعلوم نمبر سے میسج آئے اور پھر اس محسن کا پتا لگا تو شناسائی دوستی اور دوستی محبت میں بدل گئی تھی اور یہ محبت جو دل لگی تھی دل کی لگی بننے والی تھی۔
    ٭…٭…٭




    ”نگہت یہ پہن کر دکھاؤ۔” اس نے کانچ کی نازک سی چوڑیاں اس کے ہاتھ پر رکھ دیں۔ نگہت کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ جگمگ جگمگ کرتی چوڑیاں اس نے اپنے نازک ہاتھوں میں پہن لیں۔
    کانچ سے دل والی لڑکیوں کو کانچ کی چوڑیاں پہنتے تو کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جب وہ ٹوٹتی ہیں تو اس کے زخم ایک عرصے درد کرتے ہیں۔
    ”ولید بہت خوب صورت ہیں۔”
    ”تم سے زیادہ نہیں۔” وہ مُسکرایا۔
    ”کب بھیجو گے میرے گھر رشتہ؟” پھر وہی سوال لبوں پر مچل گیا۔
    ”پہلے کچھ بن تو جاؤں، کنگلے کو رشتہ کون دے گا۔” وہ اُداسی سے بولا۔
    ”تم بھیجو تو۔”
    ”گھر بھی تو گوجرانوالہ میں ہے تمہارا۔ پڑھائی ختم کرکے گھر جاؤ۔ امی کی بھی طبیعت بہتر ہوگی تو سفر کریں گی ناں۔” وہ پیروں میں پانی نہیں پڑنے دیتا تھا۔
    وہ چوڑیوں سے کھیلنے لگی۔
    ”گھر والوں کو کیا کہو گی؟ چوڑیاں کس نے دیں؟”
    ”کہہ دوں گی دوست نے۔” وہ جواب دیتے ہنس پڑی تو وہ بھی ہنس پڑا۔
    ان لڑکیوں کو بہلانا کتنا آسان ہے ناں۔” سو پچاس کا گفٹ دے کر سو سال ان کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ وہ سوچ کر رہ گیا۔
    ٭…٭…٭
    ندا کیا کررہی ہو؟” فرقان کی آواز پہ وہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔ ہاتھ میں پکڑا موبائل فرقان نے جھپٹ لیا تھا۔
    ”کیا دیکھ رہی تھی۔ موبائل چیک کررہی ہو؟”
    ”کال لوگ کیوں کھلی ہوئی ہے؟” وہ بری طرح دھاڑا تھا۔
    ”میں تو…” اس کی دھاڑ نے اس کے ہواس معطل کردیئے تھے۔
    ”مجھ پر شک کررہی ہو، اپنے شوہر پر ؟”وہ سخت ناراض تھا۔
    ”فرقان یقین کریں کال آرہی تھی میں نے۔”
    ”ضرورت کیا ہے تمہیں کال دیکھنے یا اٹھانے کی۔ میں تمہارا موبائل چیک کرتا ہوں۔ آئندہ اس کو ہاتھ مت لگانا سنا تم نے۔” وہ ڈر گئی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”ثوبیہ بہت بہت مبارک ہو۔” تانیہ نے بھی مبارک باد دی تھی۔
    وہ بھی سب کو اترا اترا کر اپنی منگنی کی انگوٹھی دکھا رہی تھی۔
    ”کون ہے کیا کرتا ہے وہ؟” سب فرداً فرداً پوچھ رہی تھیں۔
    ”اور تمہارے پرانے عاشق کا کیا ہوا ثوبیہ جو جینے مرنے کی قسمیں کھا رہا تھا۔”
    سمعینہ نے سب کے سامنے اس سے پوچھا تو اسے لگا بیچ چوراہے میں اس کا راز کھل گیا۔ حالاں کہ یہ راز تھا ہی کب۔ ہر روز کا قصہ تھا ڈیپارٹمنٹ والوں کے لیے۔
    سینئر کے ذوالفقار کے ساتھ ثوبیہ کا افیئر زد عام تھا مگر دونوں کے گھر والوں کو کچھ معلوم نہ تھا کہ یونیورسٹی میں کیا ہورہا ہے۔
    ذوالفقار گیا تو بات بھی دب گئی۔ سب کے سامنے یہ بھانڈا پھوٹے گا۔ اسے امید نہ تھی۔
    ”بھلا اس کنگلے ذوالفقار کے پاس سوائے ڈگری کے تھا ہی کیا؟ اچھے وقت پہ جان چھوٹ گئی تھی۔ ”ابو نے اپنے کزن کے بیٹے سے منگنی کیا کی کہ اب ثوبیہ ہواؤں میں تھی۔
    ”یار چھوڑ۔” تانیہ نے ثوبیہ کا منہ دیکھ کر کہا جہاں ایک رنگ آرہا تھا ایک جارہا تھا۔
    چھوڑ تو ثوبیہ نے اسے دیا تھا مگر اب ذوالفقار نے اسے نہیں چھوڑنا تھا یہ اسے نہیں پتا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”نگہت تم اتنی ڈری ڈری کیوں رہتی ہو؟” تیمور سے اب نہ رہا گیا۔ نگہت کا یہ حال دیکھ کر انہیں کچھ عجیب لگا۔
    شادی کے بعد اتنے سالوں میں کبھی وہ اتنی بدحواس نہ ہوئی۔ اب تو وہ باہر جانے سے ڈرتی، فون کی گھنٹی سے ڈرتی، دروازہ بجنے سے ڈرتی۔
    اس کی دماغی حالت کافی سنجیدہ ہوگئی تھی۔
    ”مجھے کسی ڈاکٹر سے ہی بات کرنی پڑے گی۔”
    وہ اسے سائیکاٹرسٹ کو دکھانا چاہ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • بارش کب ہوگی — مریم جہانگیر

    بارش کب ہوگی — مریم جہانگیر

    بارش کب ہو گی؟ ” عمیر نے زبیر کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
    "اگر میں ہوا کی رتھ پہ سوار ہو سکتا تو اس پہ بیٹھ کر دور آسمانوں میں چلا جاتا اور آسمان پہ بکھرے ہوئے بادلوں سے پوچھتا کیوں اے میرے بادلو! تم ہم سے کیوں روٹھ گئے ہو؟ اب ہمارے گاؤں پہ آکر کیوں نہیں برستے ؟ کڑکتی ہوئی بجلی ساتھ لاتے ہو لیکن شور مچا کر کہیں دور غائب ہو جاتے ہو۔ ہمارے نصیب میں تو شور ہی رہ گیا ہے۔بارشیں تو تم جانے کس کو دان کر چکے ہو۔ لیکن تم جانتے ہو مجھے ہوا کی رتھ پہ سوار ہونا بھی نہیں آتا "زبیر نے حسرت سے آسمان پہ نظر ٹکا کر جوا ب دیا۔
    "بھیا آپ سے بات پوچھنا ایسا ہے جیسے کسی بے سرے قوال کو چھیڑ دیا جائے۔ویسے بھی یہاں ہوا ہے ہی کہاں جس کی رتھ پہ آپ سوار ہو سکیں۔ "عمیر نے جواباً اپنے سے پانچ سال بڑے بھائی کو اس کی لن ترانیوں پہ ٹوکا۔
    "تو نہ پوچھا کرو مجھ سے۔ میں تو نہیں کہتا کہ مجھ سے پوچھو۔” زبیر نے صاف دامن بچایا۔




    "مجھے لگتا ہے ماں کی آنکھیں بھی بنجر ہوگئی ہیں۔ ان سے بھی بارش نہیں ہوتی۔ بھیا تمہیں پتا ہے ماں سے کون سا بادل روٹھا ہے؟ "عمیر اپنے فطری تجسّس پہ قابو نہ پا سکا۔
    "ہزار سوال کرو لاکھ جواب دوں گا۔ مجھ سے کچھ اور پوچھ لو یہ نہ پوچھو۔” زبیر کو اب کی بار واقعی دامن بچانا تھا۔
    وہ دونوں گھر کی کچی دیوار پہ بیٹھے تھے۔شام کے سائے آہستہ آہستہ گہرے ہونے لگے ۔دور آسمان کے آخری کونے پہ سورج اپنی الوداعی روشنی کو بہ مشکل سمیٹے دوسرے دیس کوچ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ان کم عمر سے لڑکوں کا روپ یوں کملایا ہوا تھا، جیسے ان کے جسم پہ درختوں کی چھال جیسی کوئی چیز چپک گئی ہو اور کلہاڑی جیسی کسی سختی کی منتظر ہو کہ آئے اور چیر دے۔ ان کی آنکھوں سے ویرانی یوں ٹپک رہی تھی جیسے شکست خوردہ قدیم کھنڈر کی دیواریں چیخ چیخ کر اپنے ہونے کا ثبوت اپنی دراڑوں سے دیتی ہیں۔ان کی گھنی پلکوں پہ گرد کی اتنی دبیز تہ تھی کہ اس ڈر سے پلک جھپکانے سے گریز کرنے کو جی چاہتا کہ کہیں یہ واحد متاع بھی ہوا کی پرواز کے ساتھ بکھر نہ جائے۔ ان کی آواز پیاس سے لڑکھڑائی ہوئی اور ہونٹ پپڑی زدہ تھے۔ ان کی آوازیں سن کر یوں لگتا کہ کہیں ٹین کے کنستر بج رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان کی نو خیز زندگیاں اس بنجر پن سے شکست کھانے کے حق میں نہیں تھیں۔
    وہ دیوار پہ ٹکے ہوئے اپنی باتوں کی پٹاری سے کچھ نہ کچھ بانٹ رہے تھے۔زندہ رہنے کو بانٹنا کتنا ضروری ہے….. ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
    لبوں پہ پیاس پھڑپھڑا رہی تھی لیکن لفظ پر جَھٹک کر ہوا میں پرواز کرتے رہے اور پیاس وہیں پھڑپھڑاتی رہی۔
    روشنی نے اپنی چادر سمیٹی تو دور سے ایک ہیولا ڈگمگاتا ہوا چلتا آیا۔
    زبیر فورا آگے بڑھا: "ماں کتنا پانی لائی ہو؟”




    "بس یہ اتنا سا ملا۔” ماں نے کٹورا دکھایا جس کا صرف پیندا بھرا تھا۔ زبیر کا چہرہ مایوسی سے لٹک گیا۔ پیاس نے اسے بے حال کر رکھا تھا۔
    "تم لوگ یہاں بیٹھے کیا باتیں بگھار رہے ہو؟” ماں کو جیسے کسی نا خوش گوار بات کا احساس ہوا۔
    زبیر سٹپٹا کر نگاہیں جُھکا گیا۔ اس کی آنکھوں میں ماں کو دیکھ کر روشنی کی جوت جاگی تھی جیسے کھنڈرات کے اندر کوئی ہیرا جگمگا اٹھے لیکن پھر وہ یوں ماند پڑی کہ جیسے ابھی ساری دیواریں چٹخ جائیں گی۔
    اور اب یہ ماں کا سوال…. اس سوال کا سامنا کرنے کی ہمت زبیر میں نہ تھی۔ عمیر تھوڑا بے باک اور انجان تھا۔اپنی گرد آلود آنکھیں جما کر بولا: "بارش کب ہو گی؟”
    ماں نے حیرت سے اسے دیکھا۔آنکھوں میں اتنی حیرت تھی کہ ماتھے تک آئی اوڑھنی پیچھے کہیں لڑھک گئی اور بے چاری کو خبر بھی نہ ہوئی۔
    اس لمحے زبیر نے آنکھ اُٹھا کر دیکھا ماں کی آنکھوں میں بلا شبہ زیادہ گرد نظر آئی۔
    اس نے چھوٹے کو ٹہوکا دیا کہ چُپ رہ لیکن وہ بے خبر رہا اور اس نے اسی طرح اپنا سوال دہرایا۔
    "بارش کب ہوگی؟”
    "اللہ غارت کرے تجھے۔ منہ بند کر کے بیٹھ۔ بارش کی دعائیں نہ مانگ۔وہ آتی ہے تو سب بہا لے جاتی ہے۔ پیچھے ککھ نہیں چھوڑتی۔ ککھ سمجھتا ہے؟ ککھ؟ یہ تیلا؟ یہ بھی نہیں چھوڑتی۔” ماں نے زمین سے تنکا اٹھا کر دکھایا۔
    روٹھے روٹھے قدم اٹھائے وہ اپنی کچی کٹیا میں چلی گئی۔ابھی اس کے بلونگڑوں نے اس کے پیچھے ہی آجانا تھا۔
    عمیر نے گھر کے سامنے کا سپاٹ میدان دیکھا۔ اجڑے ہوئے درخت اور لُو زدہ ہوا، کچھ بھی ماں کے بیان سے میل کھاتا دکھائی نہ دیا۔یہاں تو اَبر کی ضرورت تھی۔ یہاں تو بارش کو برسنا چاہیے تھا۔ یہ مٹی پانی پانی چلاتی بھٹک رہی تھی۔ماں نے کیوں ایسی بہکی بات کی۔ماں تو سمجھ دار ہے۔اس کا ناتواں ذہن یہ بوجھ اٹھانے سے قاصر تھا۔ اس نے سوچوں کی گٹھڑی کندھے پہ ہی رکھی اور بڑے بھائی کی پیروی کرتا ہوا گھر میں داخل ہوگیا۔
    ماں نے اتنے میں پیاز توڑ کر دو حصّوں میں بانٹ دی آدھی بڑے کو تھمائی اور آدھی چھوٹے کو۔ ”اللہ غارت کرے” والی بات شاید کٹیا کے دروازے کے باہر ہی کہیں رہ گئی تھی۔وہ پیاز چبا چکے تو پچکا ہوا ایک ایک ٹماٹر بھی ملا۔ زبیر سمجھ گیا ضرور ساتھ والے گاؤں سے خیرات آئی ہوگی۔بھائیوں نے وہ بھی لے کر پیٹ کے ایندھن میں ڈالا۔




  • بس کا دروازہ — نوید اکبر

    جون کی گرمی۔۔۔ دوزخ کی گرمی۔۔۔لاہور شہر اور اُنتالیس نمبر بس۔یہ بس ائیر پورٹ سے شیرا کوٹ تک جاتی تھی، نہ جانے کتنی خاک، کتنے تنکے راستے میں بکھراتے ہوئے۔ اس کے راستے میں کینٹ بھی آتا تھا اور امراء کا گلبرگ بھی۔ یہ روڈ کلمہ چوک سے بھی گزرتا تھا اور اقبال ٹاون کی مون مارکیٹ سے بھی۔
    بس کے اندر سے باہر کی دنیا ہوا کی طرح یوں ہو کر گزرتی تھی جیسے کسی بہتی ندی کے کنارے بنے جوہڑ میں ندی کا کچھ پانی پھنس کر تھوڑی دیر کے لیے رک جائے لیکن پھر بے چین ہو کر تھوڑی ہی دیر میں ندی کے شور میں شامل ہو کر دوبارہ ندی ہو جائے۔




    بس کے دو خود کار دروازے آنے جانے والے پانی کو regulate کرنے کے لئے بنائے گئے تھے، بدلتے موسموں کو نہیں۔ سردیوں میں بس کی کھڑکیاں بند رہتی ہیں۔ اندر بھیڑ کی وجہ سے موسم گرم رہتا ہے۔ گرمیوں میں کھڑکیاں کھل جاتی ہیں پر اندر بھیڑ کی وجہ سے سب تنور ہو جاتا ہے۔ بسیں فطری طور پر گرمی پسند ہوتی ہیں لیکن انسان۔۔۔ انسان فطری طور پر اِختلاف چاہتا ہے۔ وہ گرمیوں میں سردی چاہتا ہے اور سردیوں میں گرمی۔ وہ ہر موسم میں بہار چاہتا ہے اور بہار میں بارش۔ اندر بھی ایک طرح کی بارش ہو رہی تھی۔ جلد کے پور کھل رہے تھے اور ہر طرف پسینہ بہ رہا تھا۔ قمیصیں جسم سے چپک گئیں تھیں۔ چہرے گیلے تھے اور دہشت عروج پر تھی۔ دوپہر کے تین بجے جتنے لوگ بس کی سیٹوں پر ہوتے ہیں اُس سے دُگنے سیٹوں کے بیچ چھت سے ٹنگی لوہے کی راڈوں سے لٹک رہے ہوتے ہیں۔ کچھ کے ہاتھ تو راڈ بھی نہیں آتی۔ پھر وہ ان راڈوں سے ٹنگے بھائیوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں جیسے سانسیں جسم میں اور جسم زندگی میں پھنس جاتے ہیں۔ جسمانی نفرت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ جذبوں کی طرح انسان بھی عروج و زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ بس میں موجود کچھ لوگ عروج کی طرف سفر کرنے والے ہوتے ہیں، کچھ زوال پہ آ چکے ہوتے ہیں اور کچھ عروج و زوال کے درمیان ڈائواں ڈول ہوتے ہیں۔۔۔
    فطرتاً سب مسافر اسی پانی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ دنیا کا ہر شخص ازل سے اس تلاش میں ہے۔ کسی کو یہ رزق علم سے ملتا ہے، کسی کو روحانیت سے، کسی کو محبت سے، کسی کو شہرت سے تو کسی کو پیسے سے۔ مختلف اقسام کے یہ رزق بانٹنے والے فرشتے بس میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے۔ کچھ مستقل طور پر یہاں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے تو کچھ مسافروں کے ساتھ چڑھتے اُترتے رہتے تھے۔ اس بس میں نوّے فیصد لوگ پیسہ ڈھونڈ رہے تھے۔ روٹی ڈھونڈ رہے تھے۔ ہر پیر کے نیچے گردش تھی اور نظریں آسمان کھوج رہی تھیں۔ روٹی ہر روح کو معلوم نا معلوم رستے کی طرف کھینچ رہی تھی اور کچھ کو کھینچتے کھینچتے اس بس میںلے آئی تھی۔ بہت سوں کو تو رزق اسی بس سے ملتا تھا۔
    ڈرائیور، کنڈیکٹر اور ٹکٹ چیکر کے علاوہ کئی ایسے دُکان دار تھے، جو اس بس میں دو گھڑی کے لیے چھابڑی لگاتے اور اگلے سٹاپ پہ اُتر جاتے۔
    صدر بازار کے پاس ایک سانولی سی جوان اوڈھ لڑکی مردوں کے حصے میں داخل ہوئی۔ ناک میں موٹی سی نتھ اور سر پر بڑا سا ڈوپٹہ اوڑھے۔ سارے مرد یکایک اُس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ بسوں میں مردوں کی توجہ کئی عورتوں کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے لیکن اُس کے لیے توجہ اک ہتھیار تھی۔ دو سیکنڈ سانس لے کر اُس نے ترنم چھیڑا۔۔۔
    شاہِ مدینہ۔۔۔ شاہِ مدینہ
    یثرب کے والی
    سارے نبی تیرے در کے سوالی
    شاہِ مدینہ۔۔۔ شاہِ مدینہ




    بس کا موسم بدلنے لگا۔ نگاہوں میں اک آواز لہرانے لگی۔ کسی کو اپنے گناہ یاد آئے تو کسی کو محرومیاں۔ اگلے سٹاپ سے پہلے پہلے نعت ختم ہو چکی تھی اور وہ گناہ گاروں اور نیکوکاروں سے اُن کی بخششں اور ثواب کے سکّے سمیٹ کر، اُنہیں اپنے حال پہ چھوڑتے ہوئے بس سے اُتر گئی۔ اُس کے اُترتے ساتھ ہی انسانیت کے اس مختصر ٹولے پر تاجروں، حکیموں اور علم فروشوں کی عنایت ہو گئی۔ خبر نامے کے مطابق آج ملک میں تجارتی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کی نعمتیں آ موجود ہوئیں۔ سب کچھ بکنے لگا۔
    "بہنوں اور بھائیو۔۔۔ جی میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حلال رزق عین عبادت ہے جو شخص جھوٹ بیچ کر مال بیچتا ہے وہ اللہ کا نہیں شیطان کا ساتھی ہے۔”
    بیان تو جاری ہو گیا لیکن منجن نہ بکا۔۔۔ حالاں کہ ڈبیا پہ منجن بنانے والے کی فوٹو بھی تھی۔ کتنی مشابہت تھی ان دونوں میں۔ ویسے بھی جب بنانے والے اور بیچنے والے کے نظریات ایک ہوں، جذبات ایک ہوں، مقاصد ایک ہوں تو صورتیں کیوں نہ ایک ہوں؟
    "دانت سے خون آئے تو نماز نہیں ہوتی۔” منجن نہ بکا۔
    "عزیز دوست پاس آنے سے کتراتا ہے۔” نہ جی نہ۔
    "معاشرے میںسبکی ہوتی ہے۔” کوئی چکر نہیں۔
    "محبوب سے راز و نیاز کی باتیں کم ہو جاتی ہیں۔” بک گیا۔
    ایک بوڑھے بابا جی کی عنایت ہو گئی۔ بارش کی اس پہلی بوند کے بعد بارش کے دو چارقطرے اور بھی ٹپکے لیکن پھوار نہ پڑ سکی۔ منجن فروش اگلے سٹاپ پہ اُتر گیا۔ آج صفائی ، صحت اور فارماسوٹیکل فرشتے کچھ سست سست سے تھے۔
    سفر جاری رہا اورسفر کرتے کرتے سڑک سورج کے قریب چلی گئی۔ زمین کی برف زوروں سے پگھلنے لگی۔ بس کی ساری سواریاں پگھلنے لگی۔پنجاب میں سیلاب کا موسم تھا۔ ہر طرف پانی آگیا۔۔۔ اور ہر زبان سوکھنے لگی۔
    ایک چودہ پندرہ سال کا لڑکا اس سیلاب میں دھڑا دھڑ پانی کے گلاس بیچنے لگا۔ پانی نیم گرم تھا۔ شائد یہ گرمی پانی نے تار کول کی اُس سڑک سے جذب کی تھی جس پر یہ لڑکا ننگے پیر دوڑ رہا تھا۔
    ٹھنڈی گنڈیری ، میٹھی گنڈیری۔ چند سکّوں کے عوض کچھ کڑوی زبانیں بھی میٹھی ہو گئیں۔
    بھیڑ میں پرانی قمیص اور سستی جینز پہنے شخص نے آواز لگائی۔۔۔ "چائنا آگیا، چائنا چھا گیا۔ بازار جا کر پوچھو تو اس بال پوائنٹ کی قیمت بیس روپے سے کم نہیں۔ کمپنی کی پروموشن واسطے اس وقت دو بال پوائنٹ اور ایک خالص جاپانی کاغذی پنکھے کے سیٹ کی قیمت ہے۔۔۔ دس روپے، دس روپے، دس روپے۔”
    اس نوجوان کے پیچھے سفید شلوار قمیص پہنے ایک عزت دار شہری کھڑا تھا۔ نوجوان کے چُپ ہوتے ساتھ ہی اس درمیانی عمر کے پاکستانی نے تقریر شروع کر دی جس کا لبّ لباب یہ تھا کہ پاکستانی معاشرہ تنزلی اور بے راہ روی کی طرف گامزن ہے۔ دین سے دوری نے زندگی میں برکت او ر روحانیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ رزق میں تنگی آ گئی ہے۔ پریشانیوں اور مسائل میں اِضافہ ہو رہاہے لیکن اس سب سے نجات ممکن ہے۔ طریقہ پانچ وقت کی نماز، اور نماز کے بعد چند دعائیں۔ ان دعاوں کا جاننا زیادہ مشکل نہ تھا کیوں کہ اس کے کاندھے سے لٹکے بیگ میںایک انمول کتاب بیسیوں کی تعداد میں موجود تھی۔ فلاحی اغراض کی بنا پر کمپنی بسوں میںاس کتاب کا ہدیہ صرف دس روپے وصول کر رہی تھی اور تو اور اس کتاب میں بس پر چڑھنے اور بس سے اترنے کی بھی دو سنہری دعائیں درج تھیں۔ یہ کتاب بس میں ہٹ ہو گئی اور اس دن کی بیسٹ سیلر قرار پائی۔ پوری سات کاپیاں فروخت ہوئیں۔ شائد سات زندگیاں بدل گئیں۔ کئی اور زندگیوں میں بھی برکتوں اور روحانیت کے چراغ روشن ہو جاتے اگر ملک خوش حال ہوتا اور جیبوں میں بس کا کرایہ چھوڑ کر اضافی دس روپے ہوتے۔۔۔ لیکن نہیں۔ ایسی صورت میں شائد اس عزت دار شہری کی ایک بھی کتاب نہ بکتی۔ بھوک مٹ جائے تو دسترخوان پہ کون بیٹھتا ہے۔ حسرتیں ختم ہو جائیں تو دعا کون کرے؟




  • درخت اور آدمی — محمد جمیل اختر

    درخت کے سائے میں بیٹھے بیٹھے ایک دن وہ اُکتا گیا، یہ دنیا اتنی بڑی ہے میں کب تک یہاں پڑا رہوں گامجھے ضرور یہاں سے جانا ہوگا۔
    ”میں یہاں سے جارہاہوں ” ایک دن اُس نے درخت کو اپنا فیصلہ سُنا یا۔
    درخت جو اُسے سایہ دینے میں ایسا مگن تھا کہ اُسے یقین نہ آیا۔
    اُس نے اپنی شاخیں پھیلائیں اورکہا: ”دیکھو یہاں سے مت جائو تمہارے بغیر میرا کیا ہوگامیں اپنی شاخوں کو اور گھناکر دوں گابس تم یہیں رہو میرے پاس۔”
    ” میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں وہاں سے تمہارے لیے کھاد اور پانی بھیجوں گا”
    ”تم پھر سوچوشاید کوئی اور حل نکلتاہو دیکھومیں تمہارے بغیرنہیں رہ سکتاتمہارے سوایہاں میرا کون ہے ؟”
    ”کئی اور مسافر آئیں گے تمہارے سائے میں بیٹھیں گے تم سے باتیں کریں گے تم پریشان نہ ہو میں لوٹ آئوں گا۔” اور وہ وہاں سے دور بہت دور جا کر آباد ہوگیادرخت ساری رات روتا رہااور بہت سی شاخیں اُسی رات ٹوٹ کے گرگئیں ۔
    مدتیں گُزریں وہ پلٹ کر نہیں آیانئے شہر کے نئے ر نگ تھے نئی مصروفیات تھیں ،ہاں لیکن شہر میں جب کبھی اُسے گائوں کا کوئی آدمی ملتا تو وہ اُس سے درخت کے بارے ضرور پوچھتا۔




    شروع شروع میں لوگوں نے اُسے بتایا کہ درخت کے پتے گر گئے ہیں اور وہ ساری رات روتا ہے شاید دیمک لگ گئی ہے اُسے۔ ”
    ”لیکن میں تو کھاد اور پانی ہر ماہ بھیجتا ہوں کیا یہ محکمے کے لوگ میرا سامان وہاں نہیں پہنچاتے؟”
    ”کھاد اور پانی پہنچ رہا ہے لیکن درخت پہ بہار نہیں آرہی ایک بار دیمک لگ جائے تو کہاں بہار آتی ہے۔”
    وہ فکر مند ہوا درخت کو دیمک لگنے کا خیال اُسے بار بار ستاتا لیکن شہرکی مصروفیات نے اُسے یہ سب آخر بھلا دیا، کچھ اور عرصہ بیت گیا اُسے لوگوں نے بتایا کہ درخت کی سب شاخیں ٹوٹ چکی ہیں اور وہ نیچے بیٹھے مسافروں میں سے کسی کو نہیں پہچانتا۔
    اُس نے درخت کو پیغام بھیجا کہ وہ شہر آجا ئے کہ یہاں پرانے درختوں کی دیکھ بھال کے لیے الگ نرسریاں آبادہیں۔
    ”میں کیسے آسکتا ہوں ، میں تو درخت ہوں زمین سے جڑا ہوادرخت۔”
    پھر وہ ایک مدت بعددرخت کے پاس لوٹ آیا ۔
    ”میں آگیا ہوں، تم خاموش ہو، مجھے پہچانو میں آگیا ہوں تمہاری شاخیں تمہارے پتے کہاں ہیں ، بولوتم بولتے کیوں نہیں۔”
    ٹنڈ مُنڈ سے درخت نے سر اُٹھا کر اُسے ایک نظر دیکھا (ایسی نظر سے کہ جس کو سمجھنے کے لیے آدمی کو کم ازکم درخت ہونا پڑے گا)۔

  • لال کتاب — حنا یاسمین

    لال کتاب — حنا یاسمین

    اس کچے سے صحن میں شام اُتر رہی تھی۔ ہوا نے چلنے سے انکار کر دیا اور بڑھتی حبس نے سینوں کے اندر دھڑکتے دل پژمردہ کر دیئے تھے۔ وہ خاندانی گویئے تھے۔ سال ہا سال سے گیت سنگیت کا کام کیا جاتا۔ سارنگی… باجے… ہیلا… بگل سنگھا… ترئی… دف… ڈھول… …ستار… سنکھیا… بینجو… پیالو… جھانجر … ڈگڈگی… ڈھولک… سرود… سیٹی اور سرمہ تقریباً سبھی سے واقف تھے۔ یہ سارے موسیقی کے آلات اُن کے لیے روحانی پیشوائوں کی طرف سے عبادت کا ایک ذریعہ تھے۔ ان کو بجانے۔ دھنیں بنانے اور نت نئی اختراع، موسیقی کی دنیا میں متعارف کروانے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ صبح جب سورج اپنے نور کی پہلی کرن کو دھرتی کا دکھ سمیٹنے کیلئے بھیجتا تو اس گھر میں مرغ کی بانگ کے ساتھ ہی ریاض کا کام شروع کر دیا جاتا۔ پائل… چمپا… سسی اور ان کا باپ مورکھ راج اپنے کام کا آغاز کر دیتے۔ تینوں بیٹیاں، باپ کے ہم راہ ریاضت سمجھ کر موسیقی کے آلات سے آشنائی حاصل کرتیں۔ سمن لال ان سے نئی نئی دھنیں تیار کرواتا اور بڑے بڑے پروڈیوسروں کے ہاتھوں بڑی بڑی قیمتوں میں بیچ آتا، چار پیسے مورکھ راج کے ہاتھ پر بھی رکھ دیتا۔ یہ غریب تین بیٹیوں کا بوجھ کندھوں پر اٹھائے ہنسی خوشی قبول کرتا۔





    بس بھگوان کی کرپا ہے… کبھی وہ وقت بھی تھا… جب دو نوالے روٹی کے نصیب نہ تھے۔ وہ جب بھی سمن لال سے پیسے وصول کرتا تو کتنی ہی دیر پیسے آنکھوں پر لگائے۔ بھگوان کا شکر ادا کرنے لگ جاتا۔
    احمدپور شرقیہ کی اس پرانی حویلی میں پچھواڑے کا حصہ بیچ کر باقی والا صحن اور برآمدے کے ساتھ والے دو کمرے مورکھ راج کے تھے۔ جن لوگوں کو اس نے پچھواڑے کا حصہ بیچا تھا ان لوگوں نے اس پر چار دیواری ڈال کے صرف جگہ گھیری تھی۔ خرید کر کوئی تعمیراتی کام اس پر شروع نہیں کیا تھا۔ چمپا کتنا روئی تھی جب اس کی ماتا کے مرنے کے بعد اس کے پتا نے پیچھے کا حصّہ بیچ ڈالا۔ وہاں موتیا کی کلیاں اور گلاب کی کیاریوں کو اس نے اور پائل نے کتنی محبت سے اُگایا تھا۔ پھر پھول کھلتے اور وہ خوب صورت گجرے بنا کر سسی کو دیتیں۔ سسی کو الٹی چٹیا گندھوا کر ان پر پھول سجانے کا بڑا شوق ہوتا۔ وہ سب سے چھوٹی اور مورکھ راج کی لاڈلی تھی۔ پائل چٹیا بنا دیتی اور چمپا اس کے بالوں میں موتیے اور گلاب کی کلیاں ٹانک دیتی پھر وہ احمد پور شرقیہ کی گلی گلی… محلہ … محلہ پھرتی… بیس بیس روپے اور پندرہ پندرہ روپے میں گجرے فروخت کر آتی۔ چمپا شادیوں میں ڈگڈگی… ڈھولک… جھانجر بجا آتی۔ پائل کو کتھک ڈانس کی اچھی مشق تھی۔ بھلا ہو صلہ دیدی کا… چندی گڑھ سے انہیں پاکستان ملنے آئی اور یہ فن پائل میں منتقل کر گئی۔ ہنر کوئی بھی بے کار تھوڑی جاتا ہے۔ جب گندم پکنے کے دن آتے یا چاولوں کی فصل کھڑی ہوتی تو سانول گائوں سے تانگہ لے آتا۔ چودھریوں کے ہاں محفل موسیقی رکھی جاتی… یا بچے کی ولادت کی خوشی میں جشن… چمپا گانا بجانا کرتی اور پائل ناچ ناچ کر اُن کے بڑے دالانوں میں مورنی بنے پھرتی۔ گندم کے دانے اور چاولوں کی بوریوں سے کچھ مہینے آرام سے گزر جاتے۔ چودھرائن کبھی میٹھا گُڑ اور کٹے کا گوشت بھی عنایت کر دیتی۔ البتہ وہاں سے وہ کچھ کھا نہ سکتی تھیں۔ اگر کھانا آتا بھی تو علیحدہ برتنوں میں۔ وہ لوگ خاندانی مسلمان تھے اور وہ ہندومذہب کی تھیں بھلا ان کے ساتھ کچھ کھایا پیا جا سکتا تھا؟
    پائل کی آنکھیں بہت پیاری تھیں پھر امّاں نے جنہیں وہ بی بی جان کہتی تھی چاندی کی نتھلی اُسے تحفتاً دی۔ وہ پہن کر تو اس کی سنہری رنگت اور دمک گئی تھی۔ نور باجی تو سچ مچ کسی دیوتا کی دیوی لگتی۔ پائل کی اس کے ساتھ اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ ہر وقت سفید دوپٹہ اور سفید شلوار کے ساتھ کسی بھی رنگ کی قمیص زیب تن کئے رکھتی۔ بس دوپٹہ اور شلوار لازماً سفید رنگ کے ہوتے۔ بی بی جان کہتی تھیں کہ اُن کا خاوند شہید ہو گیا ہے۔ اسی لیے وہ ان کے ہاں رہتی تھیں۔ پائل کیا جانے شہید کیا ہوتا ہے۔ چمپا بتاتی تھی کہ جو ان کے بھگوان کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کر دے وہ شہید ہوتا ہے۔ چمپا نے مسلمانوں کے سکول سے کچھ جماعتیں پڑھی ہوئی تھیں۔ نور باجی کی آنکھیں ہر وقت متورم سی رہتیں اور ان کی نازُک سی ناک پر چمکتی ہیرے کی لونگ میں بھی اداسیاں گھُلی رہتیں۔ وہ اداس شام میں کھڑی سفید مورتی لگتی۔
    بی بی جان کبھی کبھی پائل کو بلوا بھیجتی تاکہ نور باجی کا دل لگا رہے۔ اس بڑے سے گھر میں نوکر… چاکر… ڈھور ڈنگروں کے علاوہ وہ دونوں خواتین رہتی تھیں۔
    یہ لوگ گدی نشین تھے۔ ان کے بڑے ابا کی وفات کے بعد ماحول قدرے بدل گیا۔ اب گانے بجانے… ساز و آلات… سب کچھ جائز تھا۔ بدلتی رتوں اور گزرتے وقت نے بہت کچھ نیا اور انوکھا کر دیا تھا۔





    نور باجی کا بھائی وجاہت حسین ولایت پڑھنے گیاتھا۔ بی بی جان بتاتی ہیں کہ وہ ہر سال آجاتا جب آموں پر بور آنے لگتی اور موسم اپنی کروٹ بدلنے لگتا۔ کوئی وقت مقرر نہ تھا۔ ہر سال بعد اُس کا چکر ضرور لگتا۔ گائوں کی زمین کو نور باجی کے چاچے سنبھالتے… لوگ چودھریوں کی عزت بہت کرتے تھے، نور باجی لال رنگ کی کتاب بہت شوق سے پڑھتیں۔ پائل حیران ہوتی اُس کتاب کو پڑھنے سے پہلے وہ ہاتھ دھوتیں۔ منہ دھوتیں… پائوں دھوتیں… اس کو چومتیں، سینے سے لگاتیں اور پھر پڑھنے بیٹھ جاتیں۔ پائل کو اس وقت وہ درشن دیوی کی طرح پوتر اور دودھ سے دُھلی لگتیں۔ ان کے چہرے پر ایسا حزن ہوتا۔ ایسی سرمستی ہوتی جیسے گرما میں اترتے ٹھنڈے بادلوں کی اوٹ میں بیٹھا مدھم چاند… یا سورج کی کرنوں کو اپنے پروں میں سمیٹ کر زمین پر پھیلی پیلی دھوپ سمیٹے پچھم سے پورب کی طرف بہتی ہوائیں…
    ”وقت کا بھی نشہ ہوتا ہے پائل!… جب شام ہمارے چوباروں پر ڈیرہ جمانے آتی ہے اور دن بھر کی تھکی کرنوں کو واپس بھیجنے کیلئے کمربستہ ہوتی ہے تو دل پر یادوں کے دریچے کھل جاتے ہیں، روح پر اداسیاں اترنے لگتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ وجود گھائل ہو اور نمک کی طرح پگھل کر اپنا آپ کھو دے، تب یہ لال کتاب مجھے بہت سنبھالتی ہے…”
    ایک دن پائل کے استفسار پر کہ وہ اس مخصوص وقت میں ہی کیوں لال کتاب پڑھتی ہیں پر انہوں نے مفصل جواب دیا۔
    ”نور باجی! یہ کتاب ساری اداسی دور کر دیتی ہے…؟ وہ حیران ہوتی۔
    ”یہ کتاب اداسی بھی دور کرتی ہے… بیماری بھی… دکھ درد بھی…” وہ پیار سے اس بھولی بھالی لڑکی سے بولیں۔ ”ہر دکھ تکلیف…؟” وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں مزید پھیلا کر پوچھتی۔
    ”ہاں ہر دکھ ہر تکلیف…” اُس کی آنکھوں میں اشتیاق ہی نہیں بلکہ ایک شوق کا جہان آباد تھا۔ پائل کو لگا اس کتاب سے اچھا کوئی ہم درد نہیں۔ وہ نور باجی سے کتاب سننے کی فرمائش کرتی۔ وہ اس کی بات مان جاتیں اور اُسے کتاب پڑھ کر سنانے لگتیں۔ الفاظ موتی بن جاتے جو اس کے دل پر اِترا اِترا کر شوق اور دل چسپی کا محل تعمیر کرنے لگتے۔ وہ بھاگی بھاگی نور باجی سے ملنے سانول کے پیغام پر جاتی۔
    پچھلے کچھ دنوں سے ابّا کی کھانسی زور پکڑنے لگی تھی… ریاض ٹھیک نہ ہو پاتا۔ سوہنی خالہ کے کہنے پر ابّا کو دارچینی اور الائچی کی چائے بھی دی۔ موڑ پر موجود حکیم جان محمد سے نیلی شیشی والا شربت بھی لے کر پلایا پر ابّا ساری رات کھانستا رہا۔ سسی کی آنکھیں بھرنے لگی۔ پائل اور چمپا کتنی ہی دفعہ سسی سے چھُپ کر رو چکی تھیں۔ اسی طرح ان کی ماتا کی کھانسی نہیں رکتی تھی اور پھر ایک دن وہ چپکے سے بھگوان کے پاس چلی گئی۔ اب پِتا جی…؟ سو ہنی خالہ نے انہیں ابا کہنا سکھایا تھا۔ مُسلوں کے محلے میں پِتا ماتا عجیب سا لگتا۔ مسلمانوںکو ابّا مُسلے کہتا تھا۔
    سنکھیا… ستار، سارنگی… جھانجر… بینجو بھی انہی کی طرح اُداس تھیں۔ مورکھ راج کے سُر بکھرنا بند ہو گئے… شدید طوفان میں لٹکتی کچی اینٹوں کی طرح ٹوٹتی دیوار جیسی زندگی رہ گئی۔
    اور لالی… کوّے اور چڑیا کی آواز پر اُٹھتی چمپا نے صحن کے کچے حصے سے پودینہ کی پتیاں اُتار کر ابّا کے لیے قہوہ بنانے کا انتظام کیا۔ ابّا کھانس کھانس کر پرانی جھلنگا چارپائی کی رسی کے ساتھ جھول رہا تھا۔ کھانسی اُسے ٹِک کر کسی ایک جگہ پر قائم رکھنے میں ناکام ثابت کر رہی تھی اور قہوہ سمیت ابّا کے پاس پہنچی چمپا کی چیخوں نے صحن کے دوسری طرف پڑی چارپائی پر موجود دو نفوس کو ہڑبڑا کر اُٹھنے پر مجبور کیا تھا۔ ”ابّا مر گیا…؟” سسی نے بے ساختہ پائل کی کلائی پر اپنے پنجے گاڑے شیر کو دیکھ معصوم ہرنی کی آنکھوں میں اُتر جانے والی اداسی کے سارے رنگ اُس کی نگاہوں میں نظرآرہے تھے۔ ”بھگوان کی کرپا… ایسے نہ کہو…” پائل اُس کی بات دہل کر بولی۔
    ”چمپا کیوں چیخی…؟” پائل کی آواز گونج بن کر اُس کے کچے صحن میں پھریریاں لے کر عقبی دیواروں سے ٹکرائی… پھر آناً فاناً کھیس پیچھے پھینکے گئے۔ ٹوٹی نائلون کی جوتیوں میں پیر پھنسائے، خاکستری گلابی اوڑھنیاں گردن کے گرد جھلاتی دو لڑکیاں ایک گُندھے بالوں والی اور ایک چھوٹی لٹوں کو سر کے دائیں بائیں گھماتے ابّا کی چارپائی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئیں۔ ابّا کا استخوانی ہاتھ لال نشانوں اور نیلی ٹکیوں سے بھر گیا تھا۔ پھر ایسے ہی نشان کمر سے لے کر پیٹ تک بنے ہوئے تھے۔ چمپا جیسی چیخ پائل اور سسی نے بھی ماری۔ چیخوں نے آپس میں مقابلہ کیا اور دوڑ میں سسی کی چیخ کو پیچھے چھوڑتی، پائل کی چیخ خالہ سو ہنی کے مکان تک پہنچی۔ وہ دوڑی چلی آئیں۔ تینوں لڑکیوں کے آنسو پونچھے اور نیلی شیشوں کی دکان سجائے حکیم جان محمد کے پاس پہنچ گئی، انگوری رنگ کا پھٹا ہوا تنبو پہنے۔ چمپا مُسلوں کے برقعہ والی خواتین کو تنبو پہننے والی خواتین کہتی تھی، جو شادی بیاہ میں لگائے جاتے۔ حکیم صاحب سکّہ رائج الوقت کے مطابق پندرہ روپے اور پچیس پیسہ پر راضی ہو کر گھر مورکھ راج کو چیک کرنے آگئے نیلے سرخ نشانوں کو اس نے کسی ماہر ڈاکٹر کی طرح چیک کیا۔ ”اس کا تو خون خراب ہے۔ بڑے ہسپتال لے جانا پڑے گا۔ پھر ڈاکٹر اِس کے ٹیسٹ کرے گا اور بیماری کے بارے میں بتائے گا۔ بیٹا یہ تو بہت لمبا چوڑا کام ہے۔ اس پر بہت پیسہ لگے گا۔” حکیم جان محمد نے تینوں بہنوں کے پیروں سے جان نکال دی۔ ابّا کو بچانا بھی ضروری تھا۔ ان کے علاوہ اس جہاں میں ان کا تھا ہی کون…؟ پر پیسہ وہ بھی اتنا سارا اکٹھا کہاں سے لے کر آتیں۔ سمن لال نے دو ہزار روپے نئی دھن بنانے کے دیئے۔ حالاں کہ پیچھے سے وہ پتا نہیں کتنے لاکھوں کما کر لایا تھا۔ دو ہزار لے کر پائل خوشی خوشی حکیم جان محمد کی دکان پر گئی۔




  • انہیں ہم یاد کرتے ہیں — اشتیاق احمد

    انہیں ہم یاد کرتے ہیں — اشتیاق احمد

    اشتیاق احمد کا نام آتے ہی ذہن میں انسپکٹر جمشید،ایک مستعد ،ایمان دار اور محب وطن پولیس آفیسر کا خاکہ بننے لگتا…محمود، فاروق اور فرزانہ کی نوک جھونک، شرارتیں،غیر معمولی ذہانت اور بر وقت سمجھ داری، بچپن کی یادیں تازہ کرنے لگتی ہے۔
    اشتیاق احمد ہمارے ہیرو تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے ہمیں اپنی تحریروں کے ذریعے وطن سے محبت اور وفاداری کا سبق دیا… اشتیاق احمد 1944ء کو پانی پت، ضلع کرنال میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے زمانے میں پاکستان ہجرت کی اور ان کا گھرانہ جنگ میں آبسا… انہوں نے ستر کی دہائی کے آغاز میں لکھنے کی ابتدا کی… شروع میں انہوں نے بچوں کی کہانیاں لکھیں اور پھر 1973ء میں باقاعدہ ناول لکھنے کا آغاز کیا جو بنیادی طور تو جاسوسی تھے مگر ان میں بچوں کے لیے دینی تعلیمات اور اصلاحی مواد بدرجہ اتم موجود ہوتا… ان کی یاد گار تحاریر میں انسپکٹر جمشید سیریز، انسپکٹر کامران مرزا سیریز اور شوکی سیریز شامل ہیں… اشتیاق احمد صاحب نے آٹھ سو سے زائد ناول تحریر کیے… انہوں نے تمام عمر اپنی توجہ بچوں کے ادب پر ہی مرکوز رکھی … ہر کتاب کا موضوع الگ ہونے کے باوجود اس سے دل چسپی کا عنصر کم نہ ہوتا… اشتیاق احمد اپنے دور کے مقبول و معروف ترین مصنف رہے اور انہوں نے لاکھوں کروڑوں دلوں پہ راج کیا… بچوں کے ادب پہ شائد ہی کسی نے اتنی محنت اور جانفشانی سے کام کیا ہو جتنا اشتیاق احمد نے اس فن کو اپنے خون جگر سے پالا …انہوں نے ایک ماہ میں چار چار ناول لکھنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا … ان کی تحریریں اُردو زبان کی بہترین شاہ کار ہوتیں، جس سے بچوں کی بول چال میں بھی نکھار آتا۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے پڑھنے والوں کے دلوں میں پاکستان کی شدید محبت انڈیلی… کتاب آپ کی دوست ہوتی ہے کے مقولے کو اشتیاق احمد صاحب کی کتابوں نے ثابت کیا…





    میں جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو ہمیشہ ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے کہ ہمارا بچپن اور نوجوانی کا دور اشتیاق احمد کے اصلاحی ناول پڑھتے ہوئے گزرا… اَسی کی دہائی میں مجھ جیسے ہزاروں لاکھوں بچوں کے لیے اشتیاق احمد مشفق و مہربان استاد کی حیثیت رکھتے تھے… میرے والد اس وقت ہم بہن بھائیوں کو دو روپے روزانہ جیب خرچ دیتے جن کے مصرف میں ترجیح اشتیاق احمد کے ناولوں کو حاصل ہوتی تھی… ہم رنگ برنگی گولیاں ٹافیاں یا سموسہ وغیرہ کھائے بغیر تو رہ سکتے تھے مگر اشتیاق صاحب کی کتاب کے بغیر ہمارا گزارا نہ تھا… اور پھر ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب کے لیے پیسے جمع کرنا شروع کر دیتے… ان کتب کا نشہ ایسا تھا کہ جب بھی نئی کتاب لاتے تو دل میں کھلبلی مچنے لگتی کہ کب سکول کا کام ختم ہو اور ہم انسپکٹر جمشید، محمود، فاروق اور فرزانہ سے مل سکیں… کتابوں کے آغاز میں بچوں کے لیے دئے گئے رہنما اصول اپنی مثال آپ تھے :
    (1)کیا یہ کسی نماز کا وقت تو نہیں؟
    (2)کیا آپ نے اسکول کا کام ختم کر لیا ؟
    (3)کیا آپ کے والدین نے آپ کو کوئی کام تو نہیں کہا؟
    (4)کیا یہ سونے کا وقت تو نہیں ؟
    (5) آپ کے گھر میں مہمان تو نہیں آئے ؟
    اگر ان میں سے ایک بھی کام ہے تو پہلے اسے مکمل کریں پھر کتاب پڑھیں …
    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اشتیاق احمد صرف کتاب ہی نہ لکھتے تھے بلکہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں بھی اُن کا کردار اہم تھا۔
    کتاب شروع کرنے سے ختم کرنے تک سیکھنے کا عمل مسلسل جاری رہتا…





    اشتیاق احمد صاحب کے ناولوں میں دلچسپی کا عنصر بھر پور ہونے کے باعث پڑھتے ہوئے محویت کا عالم یہ ہوتا کہ ارد گرد کا کوئی ہوش نہ رہتا … ناول میں مزاح ،سنجیدگی اور اصلاح ساتھ ساتھ چلتی … اشتیاق صاحب مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے لیے استاد کی حیثیت بھی رکھتے تھے … بڑوں کا ادب، اللہ سے محبت، اچھائی اور برائی میں فرق کا سبق ان کی کتابوں میں ہمیشہ موجود ہوتا … اُردو زبان سے محبت اور مشکل الفاظ سے واقفیت ان کی کتابوں کی وجہ سے ہی ہمیں حاصل ہوئی… ان کی کتابوں میں سائنس کی نت نئی ایجادات سے بھی آگاہی ملتی… مجھے یہ کہنے میں ہمیشہ فخر محسوس ہوا ہے کہ اشتیاق احمد ہمارے بچپن کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ ہیں… وہی قومی زبان سے ہماری محبت کا باعث ہیں … ہماری اور ہم سے پیچھے آنے والی نسلوں میں اُردو ادب کا بیج بونے والے اشتیاق احمد ہی ہیں…کتاب چند کاغذوں پہ مشتمل شے کا نام ہی نہیں بلکہ اس کے اندر ایک جہان بستا ہے اور اس جہان کو ہم تب ہی جان پاتے ہیں اور اس کا حصہ بھی ہم تب ہی بن پاتے ہیں جب اس کتاب کو اپنا لیتے اور اس کے اندر دئیے گئے اسباق اور اصلاح پر عمل کرتے ہیں… ایک قاری کے محسوسات کتاب کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں کیوںکہ وہ کتاب نہ صرف اس کی دوست ہوتی ہے بلکہ اس کتاب کے لمس میں اپنائیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے … اور ان تمام احساسات سے ہمارا تعارف اشتیاق احمد کی کتب کے ذریعے ہوا…ان کا ادبی سفر1970 ء سے 2015 ء تک جاری رہا اور اس تمام عرصے میں انہوں نے بچوں کے دلوں پہ راج کیا…
    آج کی نسل کو اُردو ادب سے وہ شغف حاصل نہیں جو تین یا چار دہائیاں پہلے کے بچوں کو تھا… دوسری زبانوں کا ادب پڑھنا بھی اچھی بات ہے مگر اپنی زبان کا ساتھ چھوڑ دینا دانش مندی نہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو اردو کی کہانیوں اور کتابوں کی جانب راغب کریں ..
    17 نومبر 2015ء کو وہ اس فانی دنیا کو چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے اور اپنے پیچھے لاکھوں مداحوں کو چھوڑ گئے… مرحوم ایک ایسا سرمایہ تھے جن کی کمی پوری ہونا ناممکن ہے… انہوں نے لاکھوں بچوں کے دلوں میں مطالعہ کی شمع روشن کی اور انہیں اپنی زبان سے روشناس کرایا … حاضر دماغی کا ہنر ان کی کتابوں سے بچوں نے حاصل کیا کہ مشکل وقت میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے… اشتیاق احمد کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ہماری اصلاح اور تربیت اتنے لطیف طریقے سے کرتے کہ ہمیں وہ ذہنی بوجھ نہ لگتا بلکہ ہم اس میں ایسے ڈوب جاتے کہ غیر محسوس طریقے سے علم ہمارے اندر سرایت کر جاتا … والدین کی تربیت کے ساتھ ساتھ ایک اور انسان نے بچوں کی تربیت کا بیڑا اٹھا رکھا تھا اور وہ تھے مرحوم اشتیاق احمد…
    …اس سب کو دیکھتے ہوئے ایک خواہش دل میں پنپتی ہے کہ کاش ایک اشتیاق احمد آج کی نسل کے لیے بھی پیدا ہو جو اپنے لفظوں کی جادوگری سے اس زمانے کو شیدا کر دے… ہم اشتیاق احمد صاحب کی خدمات سے نظر نہیں چرا سکتے اور نہ ہی انہیں فراموش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی کئی نسلوں پر احسان کیا اور ہم احسان فراموش بالکل نہیں ہیں۔ ہمارے دلوں میں مطالعے کی جو لگن وہ لگا گئے ہیں ہم اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھیں گے اِن شاء اللہ… اللہ پاک اشتیاق احمد مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین ثم آمین ۔




  • سوزِ دروں — سندس جبین

    سوزِ دروں — سندس جبین

    داستان محبت مقابلے میں شامل ”سوزِ دروں” ایک ایسی کہانی ہے جس کو لکھنے سے پہلے کئی بار میرا قلم دماغی اور ارادی طور پر ٹوٹا پھر ہمت کرکے لکھنا شروع کردیا۔ مگر ذہن میں ہر وقت ہار جیت چلتی رہی تھی۔ شاید وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے کبھی نہ تو رائٹنگ کمپٹیشن ہوا تھا نہ میں نے حصّہ لیا تھا۔ مگر میں اپنے بابا کی بہت شکر گذار ہوں جنہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا اور بار بار حوصلہ افزائی کی کہ ہار جیت چھوڑو اور کہانی لکھوں… اس لیے میں نے پھر واقعی ہار جیت کا خیال ذہن سے نکال کے اسے لکھا اور میں سمجھتی ہوں کہ اسی وجہ سے میں نے اسے مکمل بھی کر لیا۔ اللہ پاک کا کرم ہے کہ اس نے مجھے بہت سے اچھے لوگوں میں سربلند کیا۔
    الف کتاب کی ساری ٹیم اور جیوری کا شکریہ جنہوں نے اس قابل سمجھا اور سو سے زیادہ رائٹرز میں سے مجھے چنا گیا۔ محبت کا جو نظریہ میں نے اپنی داستان محبت میں چنا مجھے یقین ہے کہ آپ اس سے اتفاق کریں گے کیوں کہ محبت تب ہی خوبصورت ہے جب اس کے سوزِدروں میں پاکیزگی کا ساز ہو۔

    سندس جبیں




  • اب تو موت بھی نصیحت نہیں کرتی — اسیرِ حجاز

    میں نے جیب سے اپنا نیا آئی فون نکالا، ملیحہ کا میسج تھا "Very cute look… Jan!!!” اوپر دیکھا تو دوسری منزل پر کھڑی وہ بڑے پُر جوش انداز سے ہاتھ ہلا رہی تھی۔اُس نے سکن ٹائٹ ٹرائوزر اور بغیر بازوئوں والی شرٹ زیب تن کر رکھی تھی۔
    "You are all set to kill me… Mili” میں نے جواب دیا اور ساتھ ہی اشارہ کیا کہ وقفے میں ملتے ہیں۔ مجھے ان رنگین تتلیوں میں ہمیشہ ہی بہت کشش محسوس ہوتی تھی، جو میری طرف خود ہی کھنچی چلی آتی تھیں۔ رومانس، ڈیٹنگ سب کچھ میری زندگی کا لازمی حصہ تھے… کچھ میری وجاہت اور کچھ شاہانہ اخراجات، مہنگے ترین مالز سے ان کے لئے تحائف اور اچھے ہوٹلز میں کھانا… ان لڑکیوں کو اس سب کے علاوہ کسی چیز سے مطلب بھی کیا۔ اچانک میری نظر سامنے لگے ٹائم ٹیبل پر پڑی…
    Islamic studies: 9-11am
    ”اوہ نو!” میں نے افسوس سے سر پر ہاتھ مارا۔ پوری انجینئرنگ میں سب سے بور سبجیکٹ۔ پتا نہیں ان HEC والوں کی عقل کہاں چلی جاتی ہے؟ ہمیشہ کی طرح مجھے سلیبس طے کرنے والوں پہ غصہ آ رہا تھا، جو ایک غیر تکنیکی مضمون کو اتنی پروفیشنل پڑھائی کا حصہ بنانے پر تلے رہتے ہیں۔ ہم الحمدللہ مسلمان ہیں، نماز روزے کا پتا ہے، پھربھی نہ جانے کیوں ہمیں وہی چیزیں بار بار رٹتے رہنیپر مجبور کرتے ہیں۔ اوپر سے ڈاکٹر ذوالقرنین! قسم سے ان ڈاکٹر صاحب کو تو ایمان داری کا ایسا رو گ لگا ہے کہ بس!!! مجال ہے جو کبھی ایک لیکچر بھی کینسل کر دیں۔ دو گھنٹے تک پھر ان کا لیکچر!!!!





    پورے سمسٹر میں آج میں دوسری بار ان کی کلاس میں جا رہا تھا۔ میرے پورے تعلیمی کیرئیر میں یہ شاید واحد مضمون تھا جسے میں نے ہمیشہ "one eyed study” کے ذریعے پاس کیا تھا۔ آج تو پیچھے والی ساری نشستیں پُرہونے پر مجبوراً مجھے ڈاکٹر صاحب کے بالکل سامنے والی سیٹ پر بیٹھنا پڑا۔
    ”مر گئے۔ آج تو بچنے کا کوئی امکان بھی نہیں۔ کیسے گزریں گے یہ دو گھنٹے؟؟؟” میں نے بے بسی سے سوچا۔ ڈاکٹر صاحب نے بورڈ پر لکھنا بند کر دیا تھا۔ تختۂ سفید پہ تاریخ کے ساتھ آج کے لیکچر کا عنوان بھی خوشخط لکھا ہو اتھا…
    ”ہر ذی روح نے موت کا مزا چکھنا ہے۔”
    ”موت ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا۔ لوگ خدا کو ماننے سے منکر ہو سکتے ہیں، رسولوں کی حقانیت کو اپنے بے بنیاد نظریات کے مقابل غلط سمجھ سکتے ہیں، آسمانی کتابوں، مر کر جی اٹھنے اور جنت و جہنم کو تو جھٹلا سکتے ہیں مگر موت… یہ ایسی ایک اٹل حقیقت ہے کہ کسی بھی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھنے والا، چاہے تعصب کی کتنی ہی گہری عینک لگا لے، موت کو نہیں جھٹلا سکتا” ڈاکٹر صاحب کی نرم مگر مضبوط آواز گونج رہی تھی۔
    ”ان مولوی لوگوں کو بھی بس موت، جنت اور جہنم کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا، مغرب ترقی کی انتہائوں کو چھو رہا ہے، ہماری زندگی ان کی ایجادات کی مرہونِ منت ہیں اور یہ ہیں کہ بس اسی ”پتھر کے دور” میں جی رہے ہیں”… میں نے ناگواری سے سوچا!
    ”اسی بات کو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں کہ اگر تم میرے وجود سے انکاری ہو اور انسان ہی کو ہر طرح کی طاقتوں کا سرچشمہ سمجھتے ہو، تو جس وقت ہم تم میں سے کسی ایک کی جان نکالتے ہیں تو تم اس کو واپس کیوں نہیں ڈال لیتے؟؟ اور سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود انسان اس قابل ہو ہی نہیں سکا کہ وہ اس دعویٰ کو جھٹلا سکے۔”
    میں اپنی زندگی اور کامیابیوں کے متعلق سوچ رہا تھا۔ ابھی تو مجھے بہت کچھ کرنا ہے، یہ صدارتی ایوارڈ، بورڈ ٹاپر… یہ تو ابھی شروعات ہیں… میں سائنسدان بننا چاہتا ہوں اور میری منزل ”ناسا” ہے…
    ”(لوگو) تمہیں (مال و خواہشات کی) بہت سی طلب نے غفلت میں ڈال دیا ، یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔”
    موت کو بھول جانا بہت بڑی حماقت ہے، ہم لوگ پوری زندگی کا ٹائم ٹیبل سیٹ کرتے ہیں، پر اس میں صرف ایک چیز کبھی فٹ نہیں کرتے اور وہ ہے موت۔ دنیا کی چاہت میں انسانوں کے دل گناہوں سے زنگ آلود ہو جاتے ہیں، نصیحت اثر نہیں کرتی، الفاظ بے فائدہ ثابت ہو جاتے ہیں۔
    ”پھر اس کے بعد تمہارے دِل سخت ہو گئے گویا کہ وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی سخت”
    اور اس سختی سے نجات کا سب سے کارگر طریقہ ہے موت کی یاد۔ جب انسان کو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر اس نے اس جہان فانی کو چھوڑ جانا ہے اور دنیاوی مال و متاع یہاں ہی رہ جانا ہے تو وہ بہت سی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے مارا مارا نہیں پھرتا… یہی وجہ تھی کہ نبی ۖ خود بھی موت کا تذکرہ کثرت سے فرمایا کرتے اور صحابہ کوبھی اس کی تلقین فرماتے۔”
    اگر ہر وقت موت کا ہی سوچتے رہے تو پھر تو گئے کام سے۔ دنیا کا نظام ہی ختم ہو جائے گا اگر ہر کوئی یہ سوچ ہر وقت ساتھ لیے پھرے تو … اور یاروں دوستوں کے ساتھ کی جانے والی تفریح!!! ہنہ، موت جب آئے گی تو دیکھ لیں گے۔”





    ”ایک دفعہ نبی ۖ صحابہ کی مجلس میں تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ کھلکھلا کے ہنس رہے تھے اور ہنسی کی وجہ سے ان کے دانت کھل رہے تھے۔ آپ ۖ نے فرمایا کہ اگر تم موت کو کثرت سے یاد کرو تو جو حالت میں دیکھ رہا ہوں وہ پیدا نہ ہو۔ قبر پر کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب وہ یہ آواز نہ دیتی ہو کہ میں تنہائی کا گھر ہوں، بیگانگی اور کیڑوں کا مسکن ہوں۔ جب کوئی صالح میت اس میں رکھی جاتی ہے تو وہ اسے کہتی ہے کہ تیرا آنا مبارک ہو، زمین پر جتنے آدمی چلتے تھے، تجھ ہی سے مجھ کو زیادہ الفت تھی آج جب تو میرے حوالے ہوا ہے تو میرے حسن سلوک کو بھی دیکھ لے گا۔ اس کے بعد وہ حدِ نگاہ تک وسیع ہو جاتی ہے اور ایک دروازہ جنت کا کھل جاتا ہے۔ اور جب کوئی بدکردار اس میں رکھا جاتا ہے تو کہتی ہے کہ تیرا آنا نامبارک ، برا کیا جو تو آیا، زمین پر جتنے آدمی چلتے تھے تجھ سے ہی مجھے سب سے زیادہ نفرت تھی۔ اس کے بعد وہ اس کو اتنا دباتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دو سرے میں گھس جاتی ہیں اور جہنم کی ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔ جہاں سے جہنم کا دھواں اور بدبو اس کو آتی رہتی ہے۔”
    ”آج آنے کی غلطی ہو گئی ہے تو اب اس کی سزا اس طرح ملے گی!!!” میں نے انتہائی بے زاری سے سوچا۔
    ”صحابہ ہر وقت موت کو پیشِ نظر رکھتے تھے، اور اسی وجہ سے ان کے دل دنیا سے اچاٹ رہتے تھے۔ اس حالت میں ان کو ذرہ بھر بھی تغیر محسوس ہوتا تو فوراً سے پیشتر خود کو ملامت کرتے۔ ایک دفعہ ایک محفل میں جب نبی ۖ نے قبر کے حشر کا ذکر فرمایا تو صحابہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مجلس کے بعد جب حنظلہ گھر آئے اور بیوی بچوں کے ساتھہنسی مذاق میں مشغول ہوئے تو فوراً یہ خیال آیا کہ آپ ۖ کی خدمت میں تو آنسو اور یہاں یہ حال؟ خود کو منافق سمجھتے ہوئے حاضر خدمت ہوئے تو آپ ۖ نے فرمایا کہ ہر وقت میری مجلس والی کیفیت رہے تو فرشتے سرِ بازار تم سے مصافحہ کرنے لگ جائیں، لیکن ایسا تو کبھی کبھی ہوتا ہے۔”
    مجھے کسی کی موت نے کبھی نہیں رلایا تھا، حتیٰ کہ اپنی سگی ماں کی وفات پر بھی ایک آنسو تک نہیں نکلا تھا میرا، احساس تک نہیں ہوا تھا کہ کیا ہو چکا ہے… میرے سب جاننے والے میرے حوصلے کی داد دیا کرتے تھے۔ مجھے سب سے بڑی ڈرامہ باز وہ عورتیں لگتی ہیں جو مردے کے سرہانے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں… اس پر میں ہمیشہ ایک ہی لفظ بولا کرتا تھا… "Overacting”۔
    ”حضرت عبداللہ ایک حدیث اس طرح سے بیان فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی مسافر اور فرماتے تھے کہ اگر صبح مل جائے تو شام کی امید مت رکھو اور شام کو پالو تو صبح کی امید نہ رکھو۔”
    ”پھر تو بندہ مصلے سے سر ہی نہ اٹھائے، اس میں دنیا داری تو کہیں نہیں بچتی”… میں نے سوچا۔
    ”حضرت عثمان قبر کے ذکر پر اتنا روتے تھے کہ بعض دفعہ داڑھی تر ہو جاتی۔ فرمایا کرتے تھے کہ یہ آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، جو اس میں سرخرو ہوا وہ آگے بھی بچ جائے گا۔ حضرت عمر جن کی فراست کا ہر کوئی معترف تھا اور ہے، انہوں نے اپنی مہر ایک عبارت پر درج کروا رکھی تھی۔
    ”نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے”
    یہ الفاظ اچانک ہی میرے دل میں جا پیوست ہوئے اور میرے ذہن پر دستک دینے لگے… مجھے کچھ اور سجھائی دے رہا تھا نہ سنائی۔ اس ایک عبارت کے الفاظ نے مجھے کیا کر دیا تھا؟ میں سمجھنے سے قاصر تھا… میں تو بڑے بڑے علماء کی باتوں کو چٹکیوں میں اُڑا دیا کرتا تھا… اس ایک فقرے میں کیا جادو تھا… میری ساری حسیات یک دم میرا ساتھ چھوڑ گئی تھیں… میں، جسے اپنی قوتِ ارادی پر ناز تھا مجھ سے فیصلے کی ساری قوت لے لی گئی تھی… جس کو اپنی دماغ پہ غرور تھا… اس کا ذہن کام کرنا چھوڑ گیا تھا… میں تو انتہا درجے کا پریکٹیکل آدمی تھا… پھر بھی نہ جانے کون سی طاقت تھی جو مجھے ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے پہ مجبور کر رہی تھی؟؟؟ مجھے اپنے سامنے مرنے والے سارے لوگ ایک ایک کر کے یاد آنے لگے جنہیں میں غیر سنجیدگی سے لیا کرتا تھا۔ وہ جنازے جن میں مجھے میرے گھر والے زبردستی بھیج دیا کرتے تھے، وہ ساری میتیں میرے ذہن میں دستک دینے لگیں۔ سفید کپڑوں میں ملبوس وہ چہرے ایک سلائیڈ شو میں چلنے لگے اور ہر کسی کے منہ سے بس ایک سوال نکل کر آرہا تھا کہ کیا تم نے کبھی اس دنیا کو نہیں چھوڑنا، کیا تم ہمیشہ رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہو؟ ابھی کل ہی دوست کی والدہ کے جنازے کے لئے گیا تھا، چوںکہ میرا ارادہ خانہ پری کا تھا اس لئے راستے میں سب دوستوں کے ساتھ ویسے ہی فحش گفت گو، کار میں انگلش دھنیں اور آنکھوں سے بد نظری… مجھے کھانا پسند نہیں آیا تھا، میں نے اپنے دوست کی خوب مٹی پلید کی، کہ اس موقع پر تو اچھا انتظام کر لیتے… اس کے بعد ہم چاروں دوست وہاں سے نکلے اور سیدھے ایک اچھے ہوٹل گئے۔ رات ہو چکی تھی اس لئے ”شیشے” کا پروگرام بنایا اور شہر کے مشہور ”حقہ بار” پہنچ گئے…
    پتا ہے کبھی کبھی آپ کی آنکھیں برس رہی ہوتی ہیں پر آپ کو پتا نہیں چلتا۔ کھلی آنکھوں سے کچھ نظر نہیں آرہا ہوتا، آوازیں آپ کی سماعت سے ٹکراتی ہیں پر آپ انہیں سمجھ نہیں پا رہے ہوتے، سب کو جانتے ہوئے بھی کسی کو پہچان نہیں پاتے… کچھ ہو گیا تھا میرے دل کو… لگتا تھا کہ پتھر بھی آخر ٹوٹ رہا تھا۔
    ”اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی ٹپکنے لگتا ہے اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔”
    دل میں ایک کسک سی جاگ اُٹھی تھی، شاید آگہی کی یا اپنے ماضی پہ ماتم کی!!! میں فرق کرنے سے قاصر تھا۔
    ”میرے بچے! کیا ہوا؟؟” ڈاکٹر صاحب کی مدھم سی آواز سنائی دی، اُن کے پُر نور چہرے پر میری نظر ٹھہر نہ پائی… میرے آنسو گرتے جا رہے تھے اور جسم پسینے سے شرابور… میں نے ٹوٹتی آواز سے کہا:
    ”سر!!! اب تو موت بھی نصیحت نہیں کرتی”