Tag: alif nagar

  • صلیب — ثمینہ طاہر بٹ

    بعض اوقات انسان جو سوچتا ہے، جو کرنا چاہتا ہے وہ کر نہیں پاتا۔ کبھی زمانے کی زبانیں راہ کی رکاوٹ بن جاتی ہیں، تو کبھی ذات برادری کے خود ساختہ، بے بنیاد اور کھوکھلے اصول، کہیں انا کی دیوار بیچ میں آ جاتی ہے، تو کہیں ضد اور غصہ اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی صلیب خود اپنے شانوں پر اٹھا نی پڑتی ہے۔ اس وقت اسے اپنے ارد گرد نہ تو کوئی اپنا ہم درد دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی رہ نما نظر آتا ہے۔ بس وہ انسان ہوتا ہے اور اس کے ناکردہ گناہوں کا بوجھ، جسے وہ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے چلتا چلا جاتا ہے۔




    شہر کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کے برن یونٹ کے اندر پڑی ادھ جلی لڑکی کی کرب ناک چیخیں اب آہستہ آہستہ دم توڑ رہی تھیں۔ وہ شاید غنودگی میں جا رہی تھی یا پھر بے ہوشی میں، دور سے دیکھنے پر کچھ خاص اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ اس برن یونٹ میں اس حالت میں لائی جانی والی وہ پہلی لڑکی نہیں تھی۔ یہاں تو روزانہ ہی اس طرح کے کئی مریض آتے جاتے رہتے تھے۔ برن یونٹ کی سرد اور خاموش دیواریں دن میں کئی بار ایسے ہی اندوہ ناک اور دل دوز مناظر دیکھتی تھیں۔ تیزاب پھینک کر جلائی جانے والی دوشیزائیں، پٹرول اور تیل چھڑک کر زندہ جلائے جانے والی بہوویں اور ان کے درد سے تڑپتے اپنے مُنہ سے موت مانگتے وجود دیکھ دیکھ کر ان دیواروں کی آنکھیں بھی پتھرا چکی تھیں۔ ان مریضوں کے خلق سے نکلنے والی کرب ناک چیخیں ، آہیں اور کراہیں برداشت کرنا ان دیواروں ہی کا کام تھا یا پھر اس وارڈ میں مشینی انداز میں اپنے اپنے کام میں منہمک نرسوں اور ڈاکٹرز کا حوصلہ ، جو شاید اب ان دیواروں کی طرح ہی سرد اور بے حس ہو چکے تھے۔ وارڈ کے اندر وہ جان کنی کے عالم میں مبتلا تھی۔ کمرے کے باہر سفید بالوں اور جھکے شانوں والا اس کا پریشان حال باپ سنگی مجسمے کی صورت سر جھکائے حزن و ملال کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ اس کی گود میں قطرہ قطرہ گرنے والے بے بسی کے آنسوؤں کو دیکھ کر احساس ہو رہا تھا کہ اس کے پتھرائے وجود میں ابھی بھی زندگی کے کچھ آثار باقی ہیں۔
    ”ڈاکٹر!! اب کیسی حالت ہے اس burn victum کی؟ کیا ہم اس کا بیان لے سکتے ہیں؟” سنگی مجسمے کے کانوں میں ایک جانی پہچانی آواز پڑی تو جیسے اس کے بے جان ہوتے وجود میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ بعض اوقات ایسے بھی تو ہوتا ہے ناں کہ جب ہم مایوسی اور دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں خود کو دھنستا ہوا محسوس کرتے ہیں، تو اسی وقت ہمارے آس پاس ہی ہمارے قریب، بہت قریب امید کے جگنو ٹمٹمانے لگتے ہیں۔ جب خوف اور اکیلا پن اپنے نوکیلے پنجے ہماری روح میں گاڑنے لگتے ہیں، تو ہماراکوئی اپنا، کوئی بہت ہم درد ایک دم ہاتھ بڑھا کر ہمیں اس خوف، اس اکیلے پن کے پنجے سے چھڑوا کر دور، بہت دور لے جاتا ہے۔ اس وقت بھی یہی ہوا تھا۔
    ”بلال۔” ان کے مضطرب ہونٹوں نے بے آواز جنبش کی تھی، مگر یہ آواز شاید دل سے نکلی تھی اس لیے سیدھی دل تک ہی پہنچی تھی۔
    ”پروفیسر صاحب آپ؟ آپ یہاں… کیسے… کیوں…؟” بلال نے یک لخت پلٹ کر دھیمی لرزتی آواز کی سمت دیکھا اور پھر کچھ اور دیکھنے کے قابل ہی نہ رہا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کا وجود پتھر میں ڈھل چکا ہے۔ خوف کی بھاری صلیب نے اس کی روح، اس کے دل کو اپنے بوجھ تلے دبا لیا تھا۔ وہ اندھوں کی طرح گرتا پڑتا پروفیسر صاحب تک پہنچا اور اب ان کے قدموں میں بیٹھا ان کے بے بسی سے بہتے آنسو چن رہا تھا۔
    S.P بلال احمد اور جان بہ لب مریضہ کا مجبور باپ… یہ کیسا کنکشن تھا۔ پولیس کی بھاری نفری سمیت وہاں موجود ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے کان بھی کھڑے ہو چکے تھے۔ وہ سب تجسس بھرے انداز سے SP بلال صاحب کو اس ادھ جلی مریضہ کے باپ کے آنسو پونچھتے، انہیں گلے لگاتے، ان کے ہاتھ چومتے دیکھ رہے تھے۔
    ”سر! یہ اُسی مریضہ کے والد ہیں، جن کے بارے میں آپ investigation کرنے آئے ہیں۔” ڈاکٹر فاریہ نے ان کے پاس آتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا تو بلال احمد کا سارا وجود پتھر سے بھربھری ریت میں تبدیل ہو گیا۔ اسے لگا وہ وہیں، اسی کاریڈور میں ننھے ننھے ذرات بن کر بکھرتا جا رہا ہو۔ اس کے اپنے وجود کی ریت اُڑ اُڑ کر اس کی حیران آنکھوں میں چبھ رہی تھی۔




    ”قندیل!!” حیرت اور خوف کے غلبے کے زِیر اثر اس کی آواز بھی کہیں دم توڑتی جا رہی تھی۔
    ”بلال! قندیل جل گئی۔ میری قندیل جل گئی۔ بلال… میری قندیل بجھ گئی۔” پروفیسر صاحب اس کے شانے پر سر رکھ کر نوحہ کناں ہوئے تو وہ بھی جیسے ہوش میں آگیا۔
    ”نہیں بابا! قندیل نہیں بجھے گی۔ قندیل کبھی نہیں بجھ سکتی بابا، کبھی بھی نہیں!” پروفیسر صاحب نے ایک دم چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ ان کی ساکت نگاہیں بلال احمد کے پر عزم روشن چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ وہ روشن چہرہ جسے انہوں نے اپنے ہاتھوں خود سے دور کر دیا تھا۔
    پروفیسر عالم صاحب کا شمار ان اساتذہ میں ہوتا تھا جوعِلم کا عَلم اٹھائے نسل ِ انسانی کے لیے مشعلِ راہ بنے ہر طرف روشنی کی کرنیں بکھیرتے رہتے ہیں۔ ان کے بے شمار شاگرد تھے اور ان کے گھر اور دل کے دروازے علم کی پیاس رکھنے والوں کے لیے ہر وقت کھلے رہتے تھے۔ جس طرح پہاڑوں کے درمیان بہنے والا چشمہ ، بل کھاتا اپنی دھن میں مگن لوگوں کی پیاس بجھاتا چلتا چلا جاتا ہے، اسی طرح پروفیسر عالم صاحب بھی اپنے شاگردوں میں بلا امتیاز و تفریق علم کی دولت لٹا رہے تھے اور لوٹنے والے دونوں ہاتھوں سے جھولیاں بھر بھر کر لوٹ رہے تھے۔
    بلال بھی ان کا ایسا ہی ایک شاگرد تھا۔ بلا کا ذہین اور سیلف میڈ انسان۔ بلال جیسے لوگوں کے لیے زندگی کبھی بھی مہربان دوست ثابت نہیں ہوتی۔ انہیں اپنی راہ میں پڑے پتھروں پر قدم جما جما کر چلنا پڑتا ہے۔ کبھی گرتے، کبھی سنبھلتے کسی نہ کسی طرح وہ لوگ بھی منزل پر پہنچ ہی جاتے ہیں، مگر یہ خوش نصیبی بھی صرف چند لوگوں کے حصے میں ہی آتی ہے اور بلال بھی بلا شبہ ان ہی خوش نصیبوں میں سے ایک تھا۔
    اس کا اس بھری دنیا میں بوڑھی دادی کے سوا اور کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ اپنے والدین اور دادی کے ساتھ گاؤں میں رہتا تھا۔ شاید وہ ہمیشہ ہی وہیں رہ کر پلتا بڑھتا اور جوان ہو کر اپنے باپ دادا کی طرح اپنی آبائی زینیں سنبھالتا، مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ اگر ایسا ہو جاتا تو وہ نہ ہوتا جو تقدیر میں لکھا جا چکا تھا۔ بلال اگر ان پڑھ دیہاتی ہی رہتا، تو وہ ”بیت العلم ” کا مکین کیسے بنتا؟
    پروفیسر عالم نے اپنی رہایش گاہ کو ”بیت العلم” کا نام دے رکھا تھا۔ وہ اپنی بیگم اور اکلوتی بیٹی کے ساتھ بڑی مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔ اگر ان کا اوڑھنا بچھونا درس تدریس تھا تو مہک عالم کی زندگی کا محور عالم صاحب اور چھے سالہ قندیل کی خوشیوں کا خیال رکھنا تھا۔ سب ٹھیک چل رہا تھا، مگر اچانک چلتے چلتے ان کی زندگی جیسے رک سی گئی۔ مہک کو موسمی بخار نے جکڑ لیا۔ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف خود پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتی تھیں اور یہی بے توجہی ان کے ساتھ ساتھ ان کے شوہر اور بیٹی پر بہت بھاری پڑی۔ مسلسل رہنے والا بخار کسی بڑی بیماری کا پیشِ خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور جب سارے ٹیسٹ کروائے گئے، تو وقت ہاتھ سے ریت کی طرح نکل چکا تھا۔ مہک کو کینسر جیسے موذی مرض نے اپنا نشانہ بنا لیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے بڑی ہمت سے حالات کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور اپنے فرائضِ منصبی کے ساتھ ساتھ مہک کے علاج پر بھی پوری توجہ مرکوز کر دی، مگر اب واقعی دیر ہو چکی تھی۔ مہک کے پاس وقت بہت کم بچا تھا اور اسے اپنے سے زیادہ قندیل اور عالم صاحب کی فکر ستاتی تھی۔
    ادھر بلال کے ساتھ بھی قسمت نے عجیب کھیل کھیلا تھا۔ وہ اپنی دادی کے ساتھ ان کی دور پرے کی عزیزہ ” مہک عالم” کی عیادت کے لیے شہر آیا تھا کہ پیچھے سے اس کی دنیا ہمیشہ کے لیے اجاڑ دی گئی۔ وہی گاؤں کی دشمنیاں اور زمین جائیداد کے بکھیڑے۔ اس کے داد کے شریکوں نے پیچھے اس کے ماں باپ اور بہن کو مار ڈالا اور ان کے گھر اور زمینوں پر قبضہ کر لیا۔ دادی جو مہک کی دور پرے کی پھپھو تھیں یہ خبر سن کر ہوش وحواس کھو بیٹھیں۔ وہ تو اپنی مرتی بھتیجی کی آخری بار عیادت کو گئی تھیں اور اب خود اسی ہسپتال میں بستر علالت پر آن پڑی تھیں۔ عالم صاحب کا نرم دل بھی ان پر گزرنے والی قیامت سے لرز سا گیا۔ اس پر جب بلال کے باپ کے شریکوں نے اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا، تو وہ اور زیادہ پریشان ہو گئے۔ دس سالہ معصوم بلال کی موہنی اور معصوم صورت ان کے دل میں ایسی بسی کہ انہوں نے اس کے رشتے داروں کو صاف انکار کر دیا۔
    عالم صاحب کے اس انکار نے دوسری طرف آگ سی بھڑکا دی تھی۔ وہ لوگ تو دشمنیاں پالنے کے عادی تھے، انہوں نے عالم صاحب کو بھی اپنا دشمن مان لیا، مگر یہاں بلال کی دادی نے عقل مندی کا ثبوت دیا اور عالم صاحب اور بلال کے سر سے اس دشمنی کا بوجھ اتارنے کے لیے اپنی ساری زمینیں، گھر، مال مویشی سب کچھ شریکوں کے نام لگا دیا۔ سب معامالات کورٹ کچہری میں ہوئے۔ پکے کاغذات پر انگوٹھے لگے اور بوا رحمت نے اپنی کل دنیا، اپنے پوتے کی جان اس دشمنی کے گرداب سے بچالی۔
    بلال کی جان تو بچ گئی، مگر مہک کو مزید مہلت نہ ملی اور وہ ایک دن باتیں کرتے کرتے اس سکون سے سوئی کہ پھر آنکھ ہی نہ کھول پائی۔ قندیل کے سر سے ممتا کی چھاؤں چھن گئی، مگر بوا جی نے اسے اپنی محبت بھری آغوش میں بھر لیا۔ اب بوا جی کی زندگی کا مقصد بلال کے ساتھ ساتھ قندیل بھی بن چکی تھی۔ پروفیسر عالم، مہک کی ابدی جدائی کو بڑی جی داری سے جھیل گئے تھے۔ انہوں نے خود کو پہلے سے زیادہ مصروف کر لیا۔ اپنے گھر کو اکیڈمی میں تبدیل کر دیا اور خود درس وتدریس میں کھو گئے۔
    ”بابا! بلال کا رزلٹ آگیا، دیکھیں اس نے پورے صوبے میں ٹاپ کیا ہے! ” قندیل بے حد خوش تھی۔ اس کے مسکراتے چہرے پر ایک انوکھی سی خوشی پھیلی تھی جیسے بلال کا نہیں اس کا اپنا رزلٹ آگیا ہو۔ پروفیسر صاحب نے کتاب سے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر اس کی خوشی کو محسوس کرتے ہوئے خود بھی خوش ہو گئے۔ بلال ان کے لیے سگی اولاد سے کم نہیں تھا اور پھر اس کی ذہانت، شرافت اور تابع داری اسے اور زیادہ ان کے دل کے قریب کرتی تھی۔




  • محمدۖ کے جیسا نہیں کوئی بھی

    محمدۖ کے جیسا نہیں کوئی بھی

    محمدۖ کے جیسا نہیں کوئی بھی
    محمد ارسلان اللہ خان

    نہیں بعد اُن ۖ کے کوئی بھی نبی
    یہ امُّت بھی ہے امُّتِ آخری

    جو گُزرے اطاعت میں سرکار ۖ کی
    بہت قابلِ رشک ہے زندگی

    بتایا انہوں نے کہ رب ایک ہے
    نہیں اس سے بڑھ کر کوئی آگہی

    جو چاہے کوئی رب کا محبوب ہو
    خُدا کے نبی ۖ کی کرے پیروی

    جو آقاۖکے نقشِ قدم پہ چلا
    وہ پائے گا دونوں جہاں میں خوشی

    حقیقت یہی ہے کہ بعدِ خُدا
    محمد ۖ کے جیسا نہیں کوئی بھی

    یہی ارسلاں! مُصطفیٰ ۖ نے کہا
    کرو ایک اللہ کی بندگی
    ٭…٭…٭

  • کریلا

    کریلا

    الف نگر مقابلہ کی چوتھی بہترین نظم

    کریلا
    ناہید حیات

    میں ہوں سبزی، نام کریلا
    جو بھی کھائے کرے واویلا

    کڑوا ہوں اور نیم چڑھا بھی
    کچھ کچھ چھوٹا اور بڑا بھی

    امی جب بھی مجھے پکائیں
    سارے بچے منہ بنائیں

    ابّو مجھ کو شوق سے کھائیں
    ہر ہفتے سالن بنوائیں

    دادا کی فرمائش ہوں میں
    دادی کی بھی خواہش ہوں میں

    ہر اک کو میں نہیں ہوں بھاتا
    کوئی کوئی مجھے ہے کھاتا

    ٭…٭…٭

  • جتن کیا تو…!

    جتن کیا تو…!

    جتن کیا تو…!
    زاہد حسین

    جتن کیا تو وطن پایا ہے
    ہم نے مل کے یہ پاکستان بنایا ہے

    قائد کی محنت نے ہے یہ کیسا رنگ دکھایا
    دے کر ہم نے قربانی اپنا یہ دیس بنایا

    ہم نے مل کے یہ پاکستان بنایا ہے

    قدرت کے سارے نظارے اس میں ہیں پیارے پیارے
    اس کی ندیاں اور دھارے ہر کوئی تن من وارے

    ہم نے مل کے یہ پاکستان بنایا ہے

    ٭…٭…٭

  • آزادی کی نعمت

    آزادی کی نعمت

    آزادی کی نعمت
    عظمیٰ رحمان ہاشمی

    آزادی کا جشن مناتے رہنا ہے
    گیت سدا خوشیوں کے گاتے رہنا ہے

    لاکھوں جانیں دے کر جس کو پایا تھا
    اس گلشن کو خوب سجاتے رہنا ہے

    اس کی خاطر کتنے درد اٹھائے تھے
    اب خوشیوں کے پھول بچھاتے رہنا ہے

    دشمن پر ہیبت ہو جائے گی طاری
    آزادی کے گیت سناتے رہنا ہے

    دیس کی عزت اپنی جان سے پیاری ہے
    ہر پل اس کی شان بڑھاتے رہنا ہے

    آزادی کی نعمت کے شکرانے میں
    الفت کے اب دیپ جلاتے رہنا ہے

    پاک وطن کی خاطر جینا مرنا ہے
    دیس پہ امبر جان لٹاتے رہنا ہے

    ٭…٭…٭

  • بلّی اور پرندہ

    بلّی اور پرندہ

    بلّی اور پرندہ
    عبدالمجید سالک

    سنا ہے کسی گھر میں تھی ایک بلّی
    وہ چوہوں کو کھا کھا کے تنگ آگئی تھی
    اسے صبح شام ایک کھانا نہ بھاتا
    بھلا صبر اک چیز پر کیوں کر آتا؟
    بس اک روز بلّی نے یہ دل میں ٹھانا
    کہ ڈھونڈوں گی اب میں نیا کوئی کھانا
    چڑھی ایک کوٹھے پہ یہ سوچ کر وہ
    لگی جھانکنے پھر اِدھر اور اُدھر وہ
    نظر اک طرف جب اُٹھائی تو دیکھا
    کہ ہے ایک لڑکے کا چھوٹا سا کمرہ
    دریچے میں ننّھا سا پنجرا ٹنگا ہے
    اور اُس میں پرندہ کوئی خوش نما ہے
    پرندہ وہ پنجرے میں جب چہچہایا
    وہیں منہ میں بلّی کے پانی بھر آیا
    اُٹھی اور دبے پاؤں کمرے کو چل دی
    قدم کو اُٹھاتی چلی جلدی جلدی
    جو دیکھا کہ کمرے میں لڑکا نہیں ہے
    اور اُس کے پرندے کا پنجرا وہیں ہے
    غضب ناک ہو کر وہ پنجرے پہ جھپٹی
    وہ گویا کہ بپھری ہوئی شیرنی تھی
    پڑا ہاتھ بلّی کا پنجرے کے در پر
    زمیں پر گری اُس کی زنجیر کھل کر
    نہ پھولی سمائی جو بلّی نے دیکھا
    کہ اب تو ہے قبضے میں میرے پرندہ

    ابھی باہر اِس کو پکڑ لاؤں گی میں
    ابھی پھاڑ کر اِس کو کھا جاؤں گی میں
    پرندے نے دیکھا کہ آئی ہے آفت
    نہیں آج کچھ جان بچنے کی صورت
    اچانک جو در کو کُھلا اُس نے دیکھا
    وہ پھر سے اُڑا اور پنجرے سے نکلا
    وہ جنگل کی جانب اُڑا گیت گاتا
    چہکتا گیا اور تانیں اُڑاتا
    وہ بلّی ہوئی غرق شرمندگی میں
    یہ پہلی شکست اُس کی تھی زندگی میں
    یہ دھوکا جو کھایا پریشان تھی وہ
    پرندے کے اُڑنے سے حیران تھی وہ
    وہ کہتی تھی اک بے حقیقت پرندہ
    مجھے حیف! اِس طرح دے جائے دھوکا
    نتیجہ یہ ہے اِس کا اے پھول بچّو!
    پرندے سے عقل اور دانائی سیکھو
    کہ کام آتی ہے وقت پر عقل مندی
    نہ جانے دو ہاتھوں سے موقع کو تم بھی
    ٭…٭…٭

  • تالاب کا مینڈک

    تالاب کا مینڈک

    تالاب کا مینڈک

    ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ ایک شہزادی تالاب کے کنارے سونے کی گیند سے کھیل رہی تھی۔ کہ اچانک اس کی گیند پانی میں گر گئی۔
    شہزادی روتے ہوئے کہنے لگی: ”کوئی ہے جو تالاب سے ہماری گیند نکال دے؟ کوئی ہے؟” یہ سُن کر ایک مینڈک تالاب سے باہر آیا اور کہنے لگا:
    ”اے شہزادی! اگر آپ مجھے اپنے ساتھ شاہی محل میں رہنے دیں اور اپنی پلیٹ میں کھانے کی اجازت دیں تو میں گیند تالاب سے نکال کر لاسکتا ہوں۔”
    شہزادی نے فوراً مینڈک کی شرط قبول کرلی۔ مینڈک تالاب میں کود کر گیند باہر لے آیا۔ شہزادی نے گیندلی اور خوشی خوشی محل واپس جانے لگی۔ مینڈک نے پیچھے سے آواز دی:
    ”اے پیاری شہزادی! اپنا وعدہ پورا کریں اور مجھے بھی ساتھ محل میں لے جائیں۔” مگر شہزادی نے اس کی ایک نہ سنی۔ اگلے روز محل کے دروازے پر دستک ہوئی اور مینڈک کی کمزور سی آواز آئی:
    ”دروازہ کھولیے، پیاری شہزادی! یاد کیجیے اپنا وعدہ جو آپ نے تالاب کے کنارے کیا تھا۔”
    یہ سن کہ شہزادی نے دربانوں کو دروازہ بند رکھنے کا حُکم دیا۔ بادشاہ سلامت نے شہزادی کو سہماہوا دیکھا تو پوچھا:
    ”کیا بات ہے شہزادی! آپ گھبرائی ہوئی لگ رہی ہیں؟” شہزادی نے پورا واقعہ سنایا۔
    بادشاہ نے شہزادی سے کہا: ”شہزادی آپ کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔”
    چناں چہ شہزادی نے بادشاہ سلامت کی بات مان کر مینڈک کے لیے دروازہ کھلوا دیا۔ دروازہ کھلتے ہی مینڈک پھدکتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور میز کے قریب پہنچ گیا جہاں شہزادی کھانا کھا رہی تھی۔ اس نے شہزادی سے کہا: ”براہِ کرم مجھے اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھائیں اور اپنی پلیٹ سے کھانے دیں۔”
    مجبوراً شہزادی نے اسے کرسی پر بٹھایا اور اپنی پلیٹ اس کے سامنے رکھ دی۔ جب وہ پیٹ بھر کر کھا چکا تو محل میں ہی غائب ہوگیا۔ جب صبح ہوئی تو شہزادی حیران رہ گئی۔ اس نے دیکھا کہ ایک خوب صورت شہزادہ محل میں موجود ہے۔
    شہزادے نے شہزادی کو بتایا کہ ایک ظالم جادوگرنی نے اُس پر جادو کرکے اسے مینڈک بنا دیا تھا۔ اس جادوگرنی نے یہ شرط رکھی تھی کہ جب تک وہ ایک شہزادی کے ساتھ اس کی پلیٹ میں کھانا نہیں کھائے گا تب تک مینڈک ہی رہے گا۔
    تو بچو! آپ نے دیکھا کس طرح شہزادی نے وعدہ نبھا کر شہزادے کو ظالم جادوگرنی کے جادو سے نجات دلائی۔ ہمیں بھی ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتے رہنا چاہیے۔
    ٭…٭…٭

  • اسپیس شپ کا فرار | علینا ملک

    اسپیس شپ کا فرار | علینا ملک

    اسپیس شپ کا فرار

    علینا ملک

    بازل، وہاج اور فاتح بلا کے شرارتی اور بے حد ذہین بچے تھے۔ پورا محلہ ان کی شرارتوں سے واقف تھا۔ ایک دن وہاج نے فاتح اور بازل کو ساتھ لیا اور دادا جان کی لائبریری کی طرف چل پڑے۔
    ”داداجان! ہمیں ضروری بات کرنی ہے۔” تینوں نے لائبریری میں داخل ہوتے ہی کہا۔ ”ہاں بولو! ” دادا جان اپناچشمہ درست کرتے ہوئے بچوں کے چہروں کا جائزہ لینے لگے۔
    ”دادا جان! اِس بار ہم آپ کے ساتھ شکار پر جائیں گے۔” بازل نے کہا۔
    ”ارے! کیوں بھئی؟ تم لوگ تو بہت شرارتی ہو۔ تمہارے والدین نہیں مانیں گے۔ انہوں نے صاف انکار کردیا۔ ”دادا جان! پلیز ، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ وہاں کوئی شرارت نہیں کریں گے۔” تینوں کے اصرار پر دادا جان خاموش ہوگئے۔ دادا جان کے دوست قریشی صاحب کا شہر سے دورایک بہت بڑا فارم ہائوس تھا۔ اِس کے تین اطراف گھنا جنگل تھا۔
    قریشی صاحب اور اُن کے دوست مہینے میں ایک بار شکار کے لیے وہاں جاتے تھے۔ ”بچو! ایک بات یاد رکھنا۔ فارم ہائوس کے اطراف میں خوف ناک جنگل ہے۔ وعدہ کرو کہ تم اُس کے کاٹیج سے باہر نہیں نکلو گے۔” دادا جان نے مقررہ دن فارم ہاؤس پہنچ کر بچوں کو نصیحت کی۔ ”جی دادا جان! ہم ایسا ہی کریں گے۔ آپ بے فکر رہیں۔”
    فارم ہائوس واقعی کسی جادوئی محل یا پرستان سے کم نہ تھا۔ چاروں طرف سبزہ، خوب صورت باغات، بے شمار پھل دار درخت اور خوش نما پھول، پودے اِس پیارے منظر کو چار چاند لگا رہے تھے۔ دادا جان بچوں کو سمجھا کر دوستوں کے ہمراہ شکار کے لیے چل دیے۔
    ُہرّرے… اب آئے گا مزہ! تینوں نے جیپ کونظروں سے اوجھل ہوتے ہی نعرہ لگایا اور باغ کے پچھلے حصّے میں نکل آئے۔ ”اوہ… تم دونوں ادھر آئو، دیکھو یہ کیا چیزہے؟” بازل نے فاتح اور وہاج کو پکارا۔ ”ہائیں! یہ کوئی خفیہ دروازہ لگتا ہے۔” تینوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
    ”اس کے پیچھے شایدجنگل ہے جس کا ذکر دادا جان کر رہے تھے ۔” فاتح نے کہا۔ دروازے کو تالا لگا دیکھ کر وہ تینوں رسی کے ذریعے دوسری طرف کود گئے اور کسی ماہر جاسوس کی طرح وہ جنگل میں آگے بڑھنے لگے۔ اچانک انہیں عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں۔ وہ تینوں سہم گئے۔ پھر ایک طرف سے آہنی ہاتھ ان کی طرف بڑھے۔ انہوں نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلیں اور آہنی ہاتھ انہیں گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔ ”اوہ …اوہ … ہم اس وقت کہاں ہیں؟” ہوش میں آتے ہی بازل کی آواز گونجی۔ چاروں طرف شیشے اور اسٹیل کی دیواریں تھیں۔ چھت کے ساتھ ایک بڑی اسکرین نصب تھی۔ یہ کوئی اسپیس شپ تھی جس کے آہنی پنجے اِنہیں پکڑ کر شپ میں لے آئے تھے۔وہ تینوں خوف زدہ تھے۔
    اچانک دیوار ذرا آگے کو سرکی اور ایک لمبا روشن راستہ دکھائی دیا۔ اس راہ داری کی دوسری طرف کچھ فولادی مشینیں نصب تھیں۔ چند عجیب و غریب روبوٹ نما بلائیں کمرے میں داخل ہوئیں۔ ”مجھے لگتا ہے یہ ہماری زمین پر کوئی خطرناک منصوبہ لے کر آئے ہیں ۔”وہاج نے کہا۔
    ”ہاں! تم ٹھیک کہہ رہے ہووہاج! ہمیں کچھ کر نا ہوگا، لیکن پہلے یہاں سے فرار ہونے کاراستہ تلاش کرناچاہیے ۔” بازل نے کہا۔ ”دیکھو! نیچے فرش پر کچھ ہندسے لکھے ہو ئے ہیں۔ یہ ہندسے راستہ کھلنے کا کوڈ ہوگا۔” فاتح نے ذہن لڑایا۔ ابھی وہ باتیں کررہے تھے کہ جادوئی دروازہ ایک بار پھر کھلا کوئی روبوٹ نما مخلوق اندر داخل ہوئی۔ اُن کے ہاتھوں میں فائلیں اور الیکٹرک پیڈ زتھے۔
    اندر آنے والے یہ عجیب و غریب روبوٹ ایک اسکرین کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ بازل اُن کی حرکات کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اُن کے واپس جاتے ہی بازل نے فرش پر لکھا کوڈ ملایا تو دروازہ خود بہ خود کھل گیا۔ انہیں سامنے ایک سیڑھی نظر آئی۔ وہ جلدی سے سیڑھی کے ذریعے نیچے اُتر گئے۔ کچھ دیر رینگنے کے بعد انہوں نے دوڑ لگادی اور اسپیس شپ سے کافی دُور نکل آئے۔
    ابھی وہ اپنی سانسیں بحال کر رہے تھے کہ ایک دم سے ان کے قدم زمین کے ساتھ چپک کررہ گئے۔ سامنے دادا جان کی جیپ کھڑی تھی۔ ”اُف! دادا جان تو آگئے۔ اب کیا ہوگا!” فاتح نے گھبرا کر پوچھا۔ ابھی وہ پریشانی کے عالم میں تھے کہ اچانک ایک آواز نے انہیں چونکا دیا۔ ”تم لوگوںنے تو وعدہ کیا تھا مجھ سے؟ تم واقعی اعتبار کے قابل نہیں ہو۔” دادا جان کی آنکھیں غصّے سے سرخ تھیں۔
    ”دادا جان! ہمیںمعاف کر دیں۔ ہم سے واقعی غلطی ہوگئی۔” فاتح نے سر جھکاتے ہوئے کہا پھر بازل نے سارا واقعہ سنا یا تو دادا جان حیران رہ گئے۔ ”دادا جان! ہمیں اس مخلوق کو یہاں سے بھگانا ہوگا۔” یہ کہہ کر تینوں نے اپنا منصوبہ دادا جان کو بتا دیا۔ پھر سب نے مل کر بہت سی لکڑیاں جمع کیں اور اُنہیں اسپیس شپ کے چاروں طرف پھیلا کر آگ لگا دی۔
    جیسے ہی آگ بھڑکی، اسپیس شپ میں ہل چل مچ گئی۔ ہر طرف دھواں اُٹھنے لگا۔ کچھ دیر بعد دھویں کے بادل چھٹنا شروع ہوئے تو بچوں کو اسپیس شپ آسمان کی طرف جاتی دکھائی دی۔ سب نے زور دار نعرے لگانا شروع کردیے۔ دادا جان نے تینوں کو پیار سے گلے لگا لیا۔
    ”داداجان! آپ ہم سے ناراض تو نہیں ہیں نا۔” واپسی پر بچوں نے دادا جان سے سوال کیا ۔
    ”دیکھو بچو! تم لوگوںنے وعدہ خلافی کی جس کا مجھے افسوس ہے۔ میں تم سب سے خفا ہوں۔ ہاں! البتہ مجھے خوشی ہے کہ تم نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے ایک بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اس پر میں تم سب کو شاباش دیتا ہوں لیکن یاد رکھنا کہ قسمت ہمیشہ مہربان نہیں ہوتی اس لیے بڑوں کا کہنا ماننا سیکھو۔ اسی میںتمہاری کامیابی ہے۔”
    ”جی دادا جان! ہم آیندہ کہنا مانیں گے۔” تینوں نے یک زبان ہوکر کہا اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
    ٭…٭…٭

  • سونے کا انڈا | احمد عدنان طارق

    سونے کا انڈا | احمد عدنان طارق

    سونے کا انڈا
    احمد عدنان طارق

    ایک کھیت کے کنارے ایک بھوری مرغی رہا کرتی تھی جو روز بھورے رنگ کا ایک انڈا دیتی۔ ایک دن مرغی نے سوچا: ”اے کاش! میں کبھی سونے کا انڈا دے سکوں تاکہ ساری زندگی سکون سے گزرے۔” دوسری مرغیوں نے اُس کی یہ خواہش سنی تو آپس میں سرگوشی کرنے لگیں۔
    ”ذرا اسے تو دیکھو! یہ سونے کا انڈا دینا چاہتی ہے! اتنے اچھے تو ہوتے ہیں بھورے انڈے!” رفتہ رفتہ یہ خبر سارے جانوروں نے سن لی۔
    آخر بھوری مرغی کی یہ خواہش کسان کی بیوی تک بھی پہنچ گئی۔ وہ مسکرائی۔ اُسے پتا تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے۔ موسم بہار تھا اور گائوں کا میلہ نزدیک آگیا تھا۔ میلے میں انڈوں کو رنگنے کا مقابلہ بھی ہوتا تھا۔ کسان کی بیوی نے ٹوکری میں بھورے انڈے اکٹھے کیے اور اُن پر بہت خوب صورت رنگ کرکے مقابلے کے لیے کسان کو دے دیئے۔
    صرف سب سے بڑا ایک بھورا انڈا اس نے اپنے پاس رکھ لیا اور اس پر انتہائی خوب صورت سنہری رنگ کر دیا۔ جب دوبارہ انڈے اکٹھے کرنے کے لیے کسان کی بیوی بھوری مرغی کے پاس آئی تو اس نے چپکے سے وہ سنہری انڈا بھوری مرغی کے نیچے رکھ دیا۔
    کچھ دیر کے بعد جب بھوری مرغی انڈوں سے نیچے اُتری تو اُس کی نظر چمکتے ہوئے سنہری انڈے پر پڑی۔ اس نے خوشی سے اُچھل اُچھل کر شور مچانا شروع کر دیا۔
    ”میری خواہش پوری ہو گئی۔ میں نے سونے کا انڈا دیا ہے۔ اب میں بہت خوش ہوں۔”
    بھوری مرغی نے کسان کی بیوی سے درخواست کی کہ اس چمکتے انڈے کو کھڑکی میں رکھ دے تاکہ وہ جب چاہے اُسے دیکھ سکے۔ تب سے آج تک انڈا کھڑکی میں ہی پڑا ہے۔

    ٭…٭…٭

  • شامو اور بابو | رِدا سلیم

    شامو اور بابو | رِدا سلیم

    شامو اور بابو
    رِدا سلیم

    علی پور کے گاؤں میں دو گھوڑے شامو اور بابو رہتے تھے۔ بابو صحت اور جسامت میں خوب تھا جب کہ شامو بے چارا دبلا پتلا۔ ان دونوں کی آپس میں بہت دوستی تھی۔ ایک دن بابو نے شامو سے کہا:
    ”شامو! تم تو ایک عام نسل کے گھوڑے ہو جب کہ میں خوب صورت اور طاقت ور ہوں۔ میرے چارے میں طرح طرح کے میوے ہوتے ہیں اور تمہاری خوراک صرف گھاس پھوس ہی ہوتی ہے۔ میری ٹانگیں مضبوط اور میرے کُھر مہارت سے کٹے ہوئے ہیں جب کہ تمہارے پاؤں تو مٹی گارے سے لتھڑے رہتے ہیں۔ تم نے میری گردن دیکھی ہے نا! خوب صورت اور ملائم، جب کہ تمہاری گردن بھدی اور کھردری ہے۔ میری کھال ریشم کی طرح چمکتی ہے اور تمہاری پسینے میں شرابور، اب بتاؤ ہم میں کون زیادہ خوب صورت ہے؟” اس بات پر شامو کو سخت غصہ آگیا۔ وہ کہنے لگا: ”بابو! اگر یہی بات ہے تو ہم دوڑ لگا لیتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کون آگے نکلتا ہے۔”
    چناں چہ وہ دونوں اُسی وقت مقابلے کے لیے تیار ہوگئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ دونوں میدان میں چکر لگائیں گے اور تب تک نہیں رکیں گے جب تک کوئی ایک اپنی ہار تسلیم نہیں کرلیتا۔”
    دونوں نے ایک ساتھ دوڑنا شروع کیا۔ بابو ذرا گردن اکڑا کر دوڑ رہا تھا۔ وہ پہلے تین چار چکر شامو سے آگے رہا لیکن جلد ہی اس کی ہمت جواب دینے لگی۔ شامو نے بابو سے پوچھا ”کیوں بھئی! تھک گئے؟”
    ”ارے! میں تھکا نہیں، بس میرے پاؤں میں ذرا موچ آگئی ہے۔” بابو نے جھوٹ بولا۔
    اگلے چکر کے دوران شامو دوڑتا ہوا بابو سے کافی آگے نکل گیا۔
    ”میرے دوست! کیا تم تھک گئے ہو؟” شامو نے پوچھا۔
    ”نہیں، مجھے کُچھ یاد آگیا۔” بابو کی سانس اُکھڑی ہوئی تھی لیکن وہ مسلسل جھوٹ بول رہا تھا پھر اچانک وہ رک گیا اور زمین پر لیٹ گیا۔
    اِدھر شامو دسواں چکر لگانے گیا تو اُدھر بابو چپکے سے لنگڑاتا ہوا قریبی جھاڑیوں کے پیچھے جاکر گھاس چرنے لگا۔ وہ شامو سے کترا رہا تھا۔ اچانک اس نے آواز لگائی: ”شامو! تم تھوڑی دیر کے لیے آرام کرلو۔”
    ”مجھے آرام کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں تو ابھی دوڑنے کے لیے صرف گرم ہوا ہوں۔ ابھی میں دس چکر مزید لگائوں گا۔” شامو نے جواب دیا۔ اس کی بات سن کر بابو اتنا شرمندہ ہوا کہ آئندہ کبھی اس کے سامنے اپنا سر نہ اٹھا سکا۔

    ٭…٭…٭