Tag: alif nagar

  • اُوپر حلوائی کی دکان — علینہ معین

    ”اماں! کدھر ہو؟” ”اماں جلدی آئو”۔ شبانہ بلند آواز میں پکار رہی تھی۔ ایک تو صبح سویرے خالہ شیداں کا فون اس کی سپنوں بھری نیند میں خلل ڈال گیا اوپر سے شادی کا بلاوا۔ مطلب جانا لازمی۔ پارہ کیسے نہ ہائی ہوتا… ”اماں” اس نے پھر ہانک لگائی۔ بالآخراماں اسے اندر آتی نظر آہی گئیں۔ ”کیا ہے شبانہ؟ کیوں صبح صبح گلا پھاڑ رہی ہے؟” اماں نے چھوٹتے ہی کہا۔ ”اماں تیری بہن کا فون آیا تھا۔ کنیز باجی کا ویاہ ہے اگلے مہینے۔” شبانہ عرف شبو نے وہیں پڑے پڑے پیغام پہنچایا۔
    ”ہائے ہائے اینی گرمی دے وچ ویاہ؟ شیداں دا دماغ خراب ہو گیا ہے اور اس موٹی نوں کنے پسند کر لیا اتنی گرمی وچ۔” اماں کو اپنی پڑ گئی۔ ”اماں کیا مطلب ہے تیرا گرمی کے موسم میں لوگ شادی نہیں کرتے یا کڑی نہیں پسند کر سکتے؟ کیا پتا کوئی مجھے بھی گرمی میں ہی پسند کر لے۔” شبانہ عرف شبو نے خواب دیکھنا شروع کیا۔





    ”رہن دے شبو گرمی وچ تے ہر بندہ ویسے ہی بھینگا لگدا اے تو تو ہے ہی پیدائشی بھینگی تجھے کون پسند کرے گا۔” اماں نے اس کی خوش فہمی پر تیل ڈال کر آگ ہی لگا دی ۔ ”اُٹھ اماں باہر نکل مجھے سونا ہے۔ آنکھوں میں ذرا سا فرق کیا ہوا تو نے مجھے بھینگی ہی بنا دیا۔ کوئی اپنی بیٹیوں کو یوں بھی کہتا ہے؟” شبانہ نے صبح صبح رونا شروع کر دیا۔ ”چلو جی اِس منحوس نے تو سویرے ہی تماشا لگا لیا اے” اماں نے جاتے جاتے ایک جان دار دھموکا اس کے کاندھے پر رسید کر ہی ڈالا۔
    لو جی شبانہ چک جھمری جانے کے لئے تیار ہو رہی تھیں صبح۔ ابا بے چارے مستری تھے اور وسائل اتنے نہیں تھے کہ سب جاتے کیوں کہ اس طرح ابا کے کام کا حرج جو ہوتا اور پھر سال پیچھے اماں خود ہی بہن کے گھر چکر لگا آئیں یا پھر خالہ خود ہی آجاتی اپنی موٹی سی بیٹی کنیز کو لے کر جو تھوڑا اونچا بھی سنتی تھی۔ شبانہ کے بے حد اصرار اور جذباتی دھمکیوں کے نتیجے میں اماں نے دوچھتی پر پڑے بڑے سے ٹرنک سے اس کے لئے بھی چمک دمک والے دو جوڑے نکال دیے۔ گھنگھرو والا پراندہ اور ایڑی والے جوتے وہ خود خرید لائی تاکہ اس کے شہری ہونے کا تاثر تو پڑے اُن سب پر۔ ہاں بس میں بیٹھتے ہی کالا چشمہ لگانا نہ بھولی آخر کو تھوڑی ہی سہی، بھینگی تو تھی نا۔ اماں نے خوب لتے لیے مگر اثر کس پر ہوتا۔ چک جھمری آتے آتے ماں بیٹیاں گرمی سے گھوم ضرور گئی تھیں مگر اماں کی زبان فراٹے بھر رہی تھی۔ ”نی شیداں ٹٹ مریں اتنی گرمی وچ بلا کے ناس مار دیتا ای۔”
    سیون اپ کی ٹھنڈی ٹھار بوتلیں پی کر بھی گرمی کا اثر کم نہیں ہو رہا تھا۔ بس کے مسافر بے چارے زیر لب مسکرائے جا رہے تھے۔ خدا خدا کر کے سٹاپ آیا تو دونوں اتریں۔ جہاں گرمی نے مت مار رکھی تھی، ساتھ ہی حلیے بھی بگاڑ کے رکھ دیئے تھے۔ اتنی محنت سے کیا گیا میک اپ بہ کر شبو کو ڈرائونا بنا رہا تھا۔ نیلا آئی شیڈ غازے کی جگہ اور غازہ بہ کر گردن پہ۔ ”ہائے نی شبو جا اُس نلکے توں منہ دھو جا کے لگ رہا ہے چڑیل نوں نیل پے گئے نیں۔” اماںرکنے والی نہیں تھی لہٰذا فوراًً بات مان لی۔منہ دھو رہی تھی کہ خالہ شیداں کا بیٹا آگیا انہیں لینے۔ ”ارے یہ پا صدیق اتنا بڑا ہو گیا؟” اس نے فٹ کالا چشمہ آنکھوں پہ چڑھایا اور آگے بڑھی۔ خالہ کا گھر آتے آتے پسلیاں ہل گئیں۔ تانگے کی سواری کے نتیجے میں جوڑ دکھنے لگے تھے۔ دو تین بار صدیق کی طرف نگاہ اُٹھی تو وہ مسکرا مسکرا کر اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شبانہ نے فوراً منہ پھیر لیا۔ ”ہنہ لگ رہا ہے گنے کو مونچھیں لگائی ہیں۔”
    جونہی ماں بیٹی اندر داخل ہوئیں گھر میں شور مچ گیا ”میداں آگئی۔ نی شیداں تیری بہن آگئی۔” دونوں بہنیں جھپیاں ڈال ڈال کر ملنے لگیں۔ ”ارے میداں یہ شبو ہے نا! کتنی بڑی ہو گئی ” ”شکر ہے میرا بھی دھیان آیا۔” شبانہ دن میں سوچتے ہوئے بڑے انداز سے مسکرائی ”پتر یہ کالی عینک اتار تے آرام نال بیٹھ”۔ اس نے بڑے سے صحن میں نظر گھمائی مگر چارپائیوں کے انبار پر موٹی موٹی عورتوں کے ڈھیر پڑے تھے کوئی بیٹھی اور کوئی لیٹی ہوئی تھی۔ خالہ کو بھی احساس ہوا تو خود ہی اندر لے گئیں۔ کھانا کھا کے جان میں جان آئی تو کنیز کا خیال آیا۔ ”خالہ شیداں کنیز باجی کدھر ہے؟” ”پتر صبح ناشتے میں پائے نہاری کیا کھا لیے تب کی پڑی سو رہی ہے۔ میں نے بھی نہیں اٹھایا ایک دن کی تو پروہنی ہے وچاری۔” شبانہ کو اچھو لگ گیا ”بارہ من کی دھوبن اور و چاری”۔ اماں نے پوچھا ”آپا منڈا کرتا کیا ہے؟” ”میداں نال دے پنڈ میں دو چنگ چیاں چلاتا ہے۔ چنگا کمائو ہے۔ مال ڈنگر بھی ہے گھر میں۔ خوش حال لوگ نیں۔” لڑکے کی اتنی خوبیاں سن کر اماں کو اپنی بیٹی کی پڑ گئی۔ ”ہائے میری شبانہ کا وی رشتہ ہو جائے تے میں بھی سکون لواں”۔





    ”رہن دے اماں! میرے لئے کوئی چنگ چی ڈرائیور ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔” شبانہ نے دانت پیس کر اماں کو گھرکا۔ ”کیوں؟ تو کوئی حور پری ہے یا ابا وزیر ہے ملک کا جو اتنے اونچے خواب نیں تیرے۔”
    ”اماں لحاظ کر لو کچھ میرا ہم مہمان آئے ہیں ادھر۔” شبو دروازے میں پا صدق کو دیکھ کر ہڑبڑا اٹھی۔ مگر اماں کہاں رکنے والی تھیں۔ شبو کی مدح سرائی جاری رکھی ”نا تو ہے تو میری دھی ایک تے بھینگی اوپر سے رنگت بھی کوئی خاص نہیں۔ اپنے ابے دی کاربن کاپی، تورشتہ آئے شاہد آفریدی دا۔ بلے وی بلے” اماں کی زبان کون روکتا۔ خالہ شیداں اور پا صدیق کے چہروں پر مسکراہٹ تھی، جب کہ شبانہ عرف شبو آنسو بہا رہی تھی اور کوس رہی تھی اس لمحے کو جب اس نے اماں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ شام کو مہندی کی رسم تھی۔ خالہ شیداں نے باقاعدہ جھٹکے دے دے کر کنیز کو اٹھایا۔ مندی آنکھوں کے ساتھ وہ منہ ہاتھ دھوتی اندر آئی خالہ کو سلام کرنے۔ شبانہ سے بھی ملی کہ پہلے بھی کوئی خْاص لگائو تو تھا نہیں پھر بھی لحاظ مروت میں آگئی کہ کل رخصت ہو جانا ہے۔ اماں حسب عادت نہ رہ سکیںا ور چھوٹتے ہی بولیں: ”ہائے کنیز کچھ پتلی ہی ہو جاتی۔ ارے وہ ڈائٹنگ ہی کر لیتی دھیے۔” مگر افسوس کنیز سنتی بھی کم ہی تھی نجانے کیا سمجھ آئی۔ ”فائٹنگ؟ خالہ نہیں میں تو سو رہی تھی اور تو تو جانتی ہے خالہ میں ہوں بھی بڑی شریف سی۔” اس نے شبانہ کو گھوری ڈالتے معصومیت سے کہا۔ ”شبانہ! تو نے ابھی تک عینک نہیں اتاری؟ ادھر کمرے میں بھی تجھے کیا دھوپ پڑ رہی ہے ادھر تو تجھے کوئی دیکھنے والا بھی نہیں آتا”۔ کنیز نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ مجبوراً خاموش رہی کہ اماں پھر نہ اسٹارٹ ہو جائیں۔ شبانہ نے بھی دل میں بدلہ لینے کی ٹھان لی کہ چھوڑوں گی نہیں تجھے کنیز باجی۔
    شدید گرمی نے مت مار رکھی تھی مگر عورتوں اور لڑکیوں کے چمکیلے بھڑکیلے لباس تو ایک دوسرے کو مات دے رہے تھی اور کسر تو شبانہ نے بھی نہیں چھوڑی تھی۔ پیلا سوٹ جس پہ اس نے خود گوٹا لگایا تھا بڑے ارمانوں سے، کانوں میں بڑے بڑے جھمکے پراندہ اور اونچی ایڑی کے سینڈل کے ساتھ لشکتے میک اپ میں خود کودوسری مونا لیزا سمجھ رہی تھی۔
    ”باجی، راستہ دے دیں۔” وہ جو جلدی تیار ہو کر صحن میں کھڑی انتظام دیکھ رہی تھی اور کڑھ رہی تھی کہ کیا تھا جو میرا بھی بیاہ ہو جاتا۔ چونک کر پلٹی تو دیکھا صدیق کسی لڑکے کے ساتھ دیگ اٹھائے کھڑا راستہ مانگ رہا تھا۔ ”ہٹ کر کھڑی ہو شبانہ، راہ دے۔ گرمی نال جان نکل رہی ہے۔” پسینے میں نہایا صدیق اب باقاعدہ گھور رہا تھا۔ ”ہائے ہائے جان دیکھو اس گنے کی اور غصہ دیکھو۔” دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتی ایک طرف ہو گئی۔ صحن سے پیچھے کھلے برآمدے میں کام والی اماں ابٹن مہندی کے تھال سجا رہی تھی۔ شبانہ بھی ادھر ہی چل دی۔ مہندی کی دھانسو تیاری میں شبانہ کا کالا چشمہ بھی شامل تھا، جسے دیکھ کر گائوں کے شریر لڑکے اور شریر ہو رہے تھے۔ ”گورے گورے مکھڑے پہ کالا کالا چشمہ” ہائے ہائے چال اور مستانی ہو رہی تھی شبو کی۔ مگر ہائے ری قسمت اس کی صاف گو اماں یہاں بھی آگئی سلطان راہی بن کے۔ ”وے اندھیو! اے میری دھی کدھروں گوری لگدی اے۔ تو اڈی بہن ہے کج تے خیال کرو بے غیرتو۔بھینگی ہے اس لئے عینک لائی اے تسی گانے گان لگ گئے او۔” اماں نے لاج کیا رکھنی تھی الٹا پول کھول کر سب کے سامنے رکھ دیا۔ منہ چھپانے کو جگہ نہ ملی۔ آئندہ کہیں بھی اماں کے ساتھ نہیں جانا۔ اس نے دل میں عہد کیا۔ لڑکے بغلوں میں منہ دے دے کر ہنس رہے تھے۔ شبو نے بسورنا شروع کیا ہی تھا کہ سٹیج سے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگی۔ کنیز باجی سٹیج پر لڈیاں ڈال رہی تھی۔ ”ہائے اماں۔ ہائے اماں” کی گردان کے ساتھ اچھل کود ہو رہی تھی۔ مگر ایسا کچھ نہ تھا، بس کنیز کا واویلا تھا اور حیران پریشان مہمان۔ ابھی تو اسے ابٹن لگانا شروع ہی کیا تھا۔ آخر دو سیون اپ ڈکار کر اور 4 رس گلے کھا کر بولی ابٹن میں مرچیں ہیں۔ بس پھر اماں جو شروع ہوئیں گرمی سے پہلے ہی برا حال ہو رہا تھا ”نی دھی کنیز، دو گھنٹے لا کے منہ تے توں کریماں مل مل کر آئی ہے چھلے آلو جیسا منہ ہو گیا اے تیرا۔ ایس لئی مرچاں لگ رہیاں نیں۔ ”




  • لاکھ — عنیقہ محمد بیگ

    لاکھ — عنیقہ محمد بیگ

    وہ ایک ایسا ٹی وی شو دیکھ رہا تھا جس میں ایک غریب آدمی کی گاڑی نکل آئی۔ وہ آدمی خوشی سے رونے لگا… اینکر نے محبت کے ساتھ اُسے گلے سے لگایا… اُس نے غریب آدمی سے کہا:” یار سات آٹھ لاکھ کی گاڑی نکلی ہے… اس میں رونا کیسا؟ گاڑی کو فروخت کرو… اور پیسہ جیب میں رکھو۔ پھر اس کے ذریعے اپنی ساری خواہشات پوری کرلو۔” وہ اُس آدمی کی قسمت پر خوش نظر آرہا تھا… مگر وہ یہ نہیںجانتا کہ دور سلائی مشین پر کام کرتی ہوئی افشی کو اس کے تبصرے پر اختلاف ہو سکتا ہے…!!
    وہ خفگی سے بولی: ”یہ کیا بات ہوئی کہ گاڑی فروخت کر دی جائے؟ اب گاڑی ملی ہے تو بیوی بچوں کو سیر کروائے… کیا پتا یہ گاڑی اُن کا نصیب ہو…۔”
    اس غریب آدمی کی بیوی بچے گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔
    اینکر نے پرُ جوش انداز میں آواز بلند کی: ”قسمت ہو تو ایسی … جو چند سیکنڈ میں انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دے۔”مگر وہ اینکر سے لاپرواہ سا ہو گیا اور اُس نے افشی کو جواب دینا بہتر سمجھا… جو پچھلے دو گھنٹے سے کسی ایسی بات پر اس سے خفا بیٹھی تھی، جس سے وہ بھی واقف نہ تھا۔ وہ شائستگی سے بولا: ”افشی جوشخص کہہ رہا ہے کہ وہ کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر ہے، وہ اتنی بڑی گاڑی کہاں رکھ سکے گا؟ اور جس جگہ وہ رہتا ہے۔ بھلا وہاں گاڑی جا سکتی ہے؟” وہ شخص اپنے بارے میں ٹی وی پر کیا کچھ بتا رہا تھا۔
    وہ حیرانی سے بولی: ”ایسا کیوں؟؟”





    ”ارے اس کی تنگ گلی جس محلے سے وابستہ ہے… میں نے وہ محلہ خود دیکھا ہوا ہے۔ عجیب و غریب تنگ سی گلیاں ہیں… جو بھی اس محلے میں چلا جاتا ہے… اس کے گھر کا راستہ بھول جاتا ہے۔”
    افشی خفگی سے بولی:” گاڑی روڈ پر بھی تو کھڑی کی جا سکتی ہے۔” گویا اُس نے بحث ہی شروع کر دی۔ اظہر اُس کی بات پر خفا سا ہوا اور سنجیدگی سے بولا: ”افشی تمہیں کیا پتا؟؟… جو گاڑیاں روڈ پر کھڑی کی جاتی ہیں وہ اکثر چوری ہو جاتی ہیں یا پھر اُن کے ٹائر چرا لیے جاتے ہیں اور کبھی کبھی تو گاڑی کیشیشے بھی ٹوٹے ملتے ہیں۔”
    وہ خفگی سے بولی: ”میرے خیال میں اُس غریب شخض کو اپنی گاڑی فروخت نہیں کرنی چاہیے۔” وہ اپنی بات پر اٹل رہی اور سلائی مشین مزید تیزی سے چلانے لگی۔
    ”بی بی جی… گاڑی کے بہت نخرے ہوتے ہیں…” اُس نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا۔ وہ افشی کی بات پر چڑ سا گیا۔
    وہ محبت سے بولی:” گاڑی کے نخروں کے بارے میں آپ مرد ذات بہ خوبی واقف ہوتے ہیں… اور کیا بیوی کے نخرے شوہر کے علم میں نہیں ہونے چاہئیں؟ گاڑی تو بے جان چیز ہوتی ہے، اُس کے نخرے نہ بھی اُٹھائے جائیں تو اُسے کیا فرق پڑتا ہے؟ مگر عورت تو نرم دل رکھتی ہے اور وہ بھی حساس دل …!! مگر مرد کو وہ دل نہ جانے کیوں نظر نہیں آتا… خاص طور پر بیوی کا دل!!” اُس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا اور اس نے سلائی مشین روک دی۔
    اظہر نے خاموشی اختیار کر لی کیوںکہ وہ پوسٹ آفس سے تھکا ہارا گھر آیا تھا اور اُس میں بحث کرنے کی ہمت نہ تھی۔ وہ افشی کی فطرت سے واقف تھا کہ جب کبھی اُس کی آنکھیں بھر آئیں تو اُس دن جھگڑا لازمی ہوتا ہے… اُس نے ٹی وی بند کر دیا اور آنکھیں موند لیں۔
    وہ غصے سے اُٹھی اور ٹی وی دوبارہ آن کر دیا۔ ”اک ٹی وی ہی ہے جو میری انٹرٹینمنٹ ہے۔” اُس نے غصے سے ریموٹ بیڈ پر پٹخ دیا۔ مگر افشی کی اس بدتمیزی پر اس نے کوئی ردِ عمل ظاہر نہ کیا اور خاموشی سے بیڈ کے دوسری جانب کروٹ لے لی۔
    ”انعام میں میری گاڑی نکلے تو میں کبھی فروخت نہ کروں۔” اُس نے غصے سے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا!! دوسری طرف خاموشی رہی، اُس نے ٹی وی کی آواز اونچی کر دی۔
    ”مجھے سونے دو افشی…!!میرا سر درد کر رہا ہے۔” وہ والیم کے بلند ہونے پر چیخا۔
    وہ غصے سے بولی:” نہیں۔”
    ”مجھے نیند نہیں آرہی” افشی نے اس کی بات کی پرواہ تک نہ کی اور اپنی ضد قائم رکھی۔ وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور اُس نے بری طرح سے ریموٹ اُس سے کھینچا اور ٹی وی بند کر دیا۔
    وہ چیخی ”ریموٹ مجھے دیں۔” اُس نے ریموٹ چھیننے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکی کیوںکہ ریموٹ پر اُس کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ وہ دوسری طرف کروٹ لے کر منہ میں بُڑبُڑایا ”گاڑی نکلی نہیںاور گاڑی فروخت نہ کرنے کی باتیںپاگل عورت۔” اُس نے بھی تمیز کا دامن چھوڑ دیا…مگر پھر اپنے غصے پر قابو پانے لگا۔
    وہ دوبارہ سلائی مشین پر آبیٹھی ہے… اور غصے سے مشین چلاتے ہوئے چیخی۔ ”آپ کے لیے تو میں صرف اک پاگل عورت ہی رہ گئی ہوں… سچ! جو سارا دن آپ کا گھراور آپ کا بچہ سنبھال رہی ہوں۔” اُس نے مشین روک دی اور رونے لگی۔





    وہ بھی غصے سے بولا:” ہر عورت کا یہی فرض ہے کہ وہ اپنا گھر سنبھالے۔ مجھ پر احسان نہیں کر رہی ہو اور اگر احسان سمجھ رہی ہو… تو رہو اپنے والدین کے گھر” اُس نے بات اُدھوری چھوڑ دی… اب وہ بحث کے موڈ میں آچکا تھا شاید اب بحث کے بعد ہی وہ پُرسکون نیند سو سکتا تھا۔
    ”آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ میں اپنے والدین کے گھر نہیں جا سکتی۔ اس لیے… آپ ہمیشہ میرا دل دُکھا تے ہیں… اور میں کیوں جائوں گھر چھوڑ کر؟ یہ گھر میرا ہے… اگر دوسری شادی کا شوق ہے تو پہلے مجھے طلاق دیں… اور پھر اس گھر سے نکالیں۔” اُس نے بات کو دوسرا رخ دیا۔ وہ پریشان سا ہو گیا کہ وہ بات کو کہاں سے کہاں جوڑ کر نیا مسئلہ کھڑا کر رہی ہے۔ کہیں اُس کے بیٹے جواد نے دوسری شادی کا سُن لیا تو ؟؟ وہ سنجیدگی سے بولا: ”اچھا… گھر تمہارا ہے اور تمہیں ہی مبارک ہو۔ نہ تو میں گاڑی افورڈ کر سکتا ہوں اور نہ ہی دوسری بیوی! پوسٹ آفس میں معمولی کلرک ہوں۔ اک بیوی سنبھال نہیں سکتا تو دوسری بیوی کی بات کرکے دل کو جلائو مت۔” ہر دفعہ جب وہ اُسے گھر چھوڑنے کی دھمکی دیتا تو وہ اُس پر دوسری شادی کا الزام لگا دیتی تھی۔ مجبوراً اُسے ہی ہار ماننی پڑتی تھی کیوں کہ وہ افشی سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ اُس کے جواب سے مطمئن سی ہو گئی کہ وہ صرف اُس کا ہے۔ مگر پھر بھی وہ منہ بسور کر بولی: ”کاش کہ میں نے اپنے والدین سے شادی کے بعد رشتہ جوڑ رکھا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ جس عورت کا میکا نہیں ہوتا، اسی کا خاوند اسے دبا سکتا ہے۔” وہ اُس کی بات پر ہنسا اور ہنستا ہی چلتا گیا… کہ کیا وہ واقعی دب کر رہ رہی ہے یا پھر اُس نے اُسے دبا کر رکھا ہوا ہے۔
    ”آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟” اُس نے منہ پھلا کر پوچھا۔ مگر اب غصے کا تاثر اُس کے چہرے سے تقریباً چھٹ چکا تھا۔
    اُس نے بات پلٹی اور مُسکرا کر بولا: ”اس لیے ہنس رہا ہوں … کہ میری معصوم بیوی کے پاس گاڑی نہیں ہے۔”
    وہ دھیمے لہجے میں بولی:” تو اس بات پر افسوس کرنا چاہیے ناکہ آپ ہنس کر زخم پر نمک چھڑک رہے ہیں۔” وہ بستر پر آکر اُس کے پاس لیٹ گئی۔
    ”افشی… اللہ کے لیے مجھے سونے دو… میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے۔” وہ معصومیت سے بولی ”مجھے نیند نہیں آرہی… مجھ سے باتیں کریں اور یہ بتائیںکہ آپ مجھے شاپنگ پر کب لے کر جائیں گے۔” اُس نے اصل ناراضی کی وجہ بتا دی… پچھلے کئی دنوں سے وہ شاپنگ کا کہہ رہی تھی اور وہ اُسے اِگنور کر رہا تھا… مگر آج تو وہ پھٹ ہی پڑی۔ ایسا ہر دو ماہ کے بعد ضرور ہوتا تھا۔
    وہ سنجیدگی سے بولا: ”شاپنگ بھی ہو جائے گی… مجھے سونے دو۔” اس نے آنکھیں بند کر لیں اور پھر سوچنے لگاکہ اس ماہ کی تنخواہ ملنے پر اُسے پانچ ہزار روپے اپنے دوست رحیم کو دینے ہیں جس نے دو ماہ سے اپنا اُدھار واپس نہیں مانگا ۔مگر ہر بار تنخواہ ملنے پر وہ مشکوک نظروں سے اُسے دیکھتا اور بس دیکھتا ہی رہ جاتا۔ وہ اپنے دوست سے نظریں ملا کر بات نہیںکر پا رہا تھا کیوں کہ وہ دونوں ایک ہی کے پوسٹ آفس میں ملازم تھے اور دونوں ہم عمر تھے مگر فرق صرف یہ تھا… کہ وہ بہت خوش نظر آتا تھا کیوںکہ وہ کنوارا تھا۔
    وہ پھر خفگی سے بولی: ”اظہر آپ کب شاپنگ پر لے کر جائیں گے۔” اُس نے پھر اُسی موضوع پر بحث شروع کر دی۔
    ”افشی تم بھی ایک بات کے پیچھے پڑ جاتی ہو… تمہیں بتا چکا ہوں میرے سر میں درد ہے… سونے دو… مگر تم کہ شاپنگ کے لیے روئے جا رہی ہو۔ پوسٹ آفس میں مہر کی ٹپ ٹپ، رات کو تمہاری بک بک اور زندگی کی پریشانیاں گھڑی کی سوئیوں کی طرح ٹِک ٹِک کر کے میرا وجود کھا رہی ہیں۔ یقین جانو، ایک دن تمہیں بس یہ اطلاع ملے گی کہ اظہر ہاشم اب اس دنیا میں نہیں رہا… اور شاید وہی دن ہو گاجب تم سو نہیں پائو گی اور میں زمین کے اندر آرام کی نیند سو رہا ہوں گا۔” اُس کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ اُبھر آئی۔ ”خبردار جو ایسی فضول بات آپ نے دوبارہ کی۔” اُس نے اپنا ہاتھ اظہر کے منہ پر رکھ دیا اور محبت سے اُسے دیکھنے لگی۔ ”واہ شوہر کے مرنے کی بات پر یہ عورتیں ڈر جاتی ہیںمگر روزانہ اپنی تلخ باتوں کا تھوڑا تھوڑا زہر وہ شوہروں کو دیتی ہیں… اُس سے انہیں ڈر نہیں لگتا…؟” اس نے دکھ سے کہا۔
    ”اچھا… بس بھی کر دیں۔ مجھے نہ تو گاڑی چاہیے اور نہ ہی شاپنگ کرنی ہے… ہم لوگ فضول باتوں پر جھگڑ رہے ہیں۔” وہ نرم پڑی، شاید ایک گھنٹے کی بحث نے اسے تھکا دیا تھا۔ اُس کی آنکھیں نیند سے بند ہو رہی تھیں۔
    وہ مُسکراکر بولا: ”ایک دن ضرور گاڑی لے دوں گا اور روز شاپنگ پر بھی لے جائوں گا بس تم دعا کیا کروکہ اللہ ہمیں بھی گاڑی سے نوازے۔”




  • دیو اور پری — سارہ عمر

    بہت پرانی بات ہے ایک دیو کا ایک بستی پر سے گزر ہوا۔ اس کی نظر اک گھر کے باغ میں کھڑی خوب صورت لڑکی پر پڑی۔
    لڑکی کیا تھی پری تھی۔ شہزادیوں کی سی آن بان والی۔ دیو نے خوب صورت لڑکی کو پانے کا فیصلہ کر لیا۔ دیو ایک خوبصورت شہزادے کا روپ دھار کر گھوڑے پر سوار اس گھر کے آگے جا پہنچا۔
    دروازے پر دستک دی اور کہا کہ شہزادہ راستہ بھول بیٹھا ہے مسافر ہے کیا پناہ مل سکتی ہے؟
    شہزادی جیسی لڑکی اور اس کے ماں باپ تو اس شہزادے کا رنگ روپ، آن بان اور شان و شوکت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے اسے گھر آنے کی اجازت دے دی۔ وہ ان کے گھر آیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ کچھ ہی عرصے میں لڑکی کے گھر والوں کو سبز باغ دکھا کر اپنی دولت کے قصے سنا کر اور اپنی باتوں میں الجھا کر ایسا ہوش سے بے گانہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی دینے پر راضی ہو گئے۔
    اس لڑکی کا نام پری تھا، لگتی بھی پریوں جیسی تھی۔ وہ تو خود شہزادے پر دل و جان سے گرویدہ ہو گئی لیکن مشرقی شرم و حیا کے باعث بول نہ سکی۔ دل ہی دل میں مستقبل کے خواب سجائے، وہ خاموشی سے اپنے سپنوں کے راجا کے سنگ رخصت ہو گئی۔
    اس کے ماں باپ بہت خوش تھے کہ دور دیس کا راجا صرف ان کی بیٹی کو لینے اتنی دور کا سفر کر کے آیا۔
    دیو شہزادے نے پری کو گھوڑے پر بٹھایا اور گھوڑا ہوا سے باتیں کرتا دوڑتا چلا گیا۔
    پری اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی اچانک اسے لگا گھوڑا سچ میں آسمان سے باتیں کرتا اوپر کی طرف جا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ گھوڑا بادلوں میں گم ہوتا گیا۔ دیو کا محل بادلوں کے اوپر تھا۔





    دیو کا محل آگیا تھا۔ دیو جو ابھی شہزادے کے ہی روپ میں تھا اپنی دلہن کا ہاتھ پکڑ ے اپنے محل لے گیا۔ وہ حیران و پریشان تھی کہ یہ کہاں آگئی؟………
    شہزادے نے کہا: ”پری میں زمین پر سیر کرنے گیا تھا جب تم پر نظر پڑی۔ مجھے لگا کہ تمہارے بغیر میری زندگی ادھوری ہے تمہارے آنے سے میرا گھر مکمل ہو گیا۔ اب یہ تمہارا گھر ہے ہمیشہ کے لئے۔”
    پری کچھ گھبرائی اور بولی: ”لیکن میر ے ماں باپ؟ کیا میں ان سے کبھی مل نہ سکوں گی۔”
    ”نہیں نہیں اب ایسا بھی نہیں کچھ سال تو انتظار کرنا پڑے گا نا… کیوںکہ بار بار زمین پر جانے کی اجازت نہیں ملتی۔”
    پری اب کیا کرتی شادی تو ہو گئی تھی۔ شہزادہ اسے لے کر بادلوں کی سیر کرتا، محل کا ایک ایک گوشہ گھماتا پھراتا رہا۔
    کئی ہفتے اسی طرح گزر گئے۔ دیو اپنی اصلیت چھپاتے چھپاتے تنگ آگیا تھا۔ دیو نے ایک دن پری سے کہا: ”بہت دن گزر گئے اب تم اپنے گھر کو سنبھالو۔ مثلاً کھانا پکانا صفائی ستھرائی وغیرہ۔ پری پریشان ہوئی اور بولی:” تم مجھے ماسی بنا کر لائے ہو کیا؟”
    دیو شہزادہ بولا: ”نہیں مجھے باورچی کے ہاتھ کے کھانے نہیں پسند۔ تم دل سے میرے لئے پکائو گی تو مجھے اچھا لگے گا۔”
    پری بولی: ”لیکن میرے ماں باپ نے مجھے کھانا بنانا نہیں سِکھایا۔ شادی بھی اتنی جلدی میں ہوئی کہ کچھ سیکھنے کا موقع ہی نہ ملا۔”
    شہزادہ بولا: ”باورچی سے سیکھ لو آہستہ آہستہ سب آجائے گا۔”
    پری شہزادے کی محبت میں راضی ہو گئی۔ باورچی محل کا ایک ہی ملازم تھا۔ وہ ایک جن تھا مگر اس نے اپنی اصلیت نہیں بتائی۔ وہ ایک عام انسان کے روپ میں تھا۔ باورچی نے اسے بتایا: ”پری بی بی! شہزادے صاحب کا کھانا بنانا آسان بات نہیں۔ دراصل ان کے نخرے بہت زیادہ ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی بات کا برا مان جاتے ہیں۔ شہزادے کی پسندیدہ چیز تیار کرنا جان جوکھم کا کام ہے۔”
    پری کو لگا کہ باورچی خواہ مخواہ اپنی اہمیت جتا رہاہے۔ کچھ شادی کا نشہ تھا اور کچھ اپنے حسن کا غرور جن کا شکار تو شہزادہ ایک ہی وار میں ہو گیا تھا۔ پری دل لگا کر سیکھنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس نے باورچی کے ساتھ مل کر بہت محنت سے کھانا بنایا۔ مصالحے وغیرہ اپنے ہاتھ سے ڈالے تا کہ اس کا شوہر اس کی محنت و محبت کا حترام کرے ۔
    کھانا میز پر لگایا گیا۔ شہزادے نے جیسے ہی کھانا چکھا اس کے غیظ و غضب کی انتہا نہ رہی۔ وہ غصے سے چلایا: ”اتنا نمک اور اتنی مرچ کتنا بد مزہ کھانا بنا کر رکھا ہے میرے آگے۔ ”
    وہ ایک شیر کی طرح دھاڑا اور اسی وقت اس کا شہزادے والا روپ ختم ہوا اور لبادہ اُتر گیا۔ اس کی جگہ ایک دیو نے لی۔ معصوم پری اس صورتِ حال سے گھبرا کر چلاتی ہوئی سیڑھوں سے اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے کمرے میں کنڈی لگا کر بے تحاشا روئی۔ روتے روتے وہ کمرے کی واحد کھڑکی کے پاس آگئی اور باہر دیکھتے ہوئے رونے لگی اور اس کے آنسو قطار در قطار بادلوں پر گرنے لگے۔ ننھے ننھے موتیوں نے پانی کے ڈھیر سارے قطروں کی شکل اختیار کر لی اور بادل بہت زور سے کڑکے اور برش برسنے لگے گئی۔ پری روتی جاتی تھی اور بارش کی جھڑی رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔
    پری کا دل بہت بری طرح ٹوٹا تھا۔ کہاں وہ نازک پری شیشے جیسی کانچ جیسی آبگینے کی طرح اور کہاں وہ ظالم دھاڑتا ہوا دیو۔ اوپر سے اس کے سامنے اس کی بنائی ہوئی چیز کی برائی۔ بھلا گھر میں اس کے ساتھ کبھی ایسا سلوک ہوا تھا۔ اب ماں باپ کی یاد نے اس کا دل اپنی مٹھی میں لے لیا۔ دھیان دیو سے ہٹ کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا تھا۔ اپنے ماں باپ کے پاس۔ ناجانے کس حال میں ہوں گے۔
    موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ کتنے عرصے بعد بارش ہوئی تھی۔ پری کی ماں نے ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالا تاکہ بارش کے کچھ قطرے سمیٹ لے۔ لیکن پانی کے یہ قطرے جیسے ہی اس کے ہاتھ پر پڑے۔ اسے لگا یہ قطر ے نہیں پری کے آنسو ہیں۔
    اس کا دل بہت بری طرح بے قرار تھا۔ وہ پریشانی سے پری کے باپ سے بولی: ”کتنے دن ہو گئے پری کی کوئی خیر خبر نہیں۔ کیا تمہارے پاس اس کا پتا تک نہیں؟” پری کا باپ بھی اداس تھا۔ وہ اپنی کم عقلی پر حیران ہوا کہ واقعی مجھے اس کا پتا پوچھنے کی فرصت نہ ملی اور یوں انجان شخص کے ساتھ اپنی پھول سی بیٹی بھیج دی۔ نہ جانے کس حال میں ہو گی۔ دونوں ماں باپ اب پری کے لئے بے چین اور مضطرب سے ہو گئے۔
    پری نے آہستہ آہستہ حالات کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا۔ کیا کرتی شادی جو ہو گئی تھی۔ اس نے کھانا پکانا بھی سیکھ لیا تھا۔ وہ سارا سارا دن محل کی صفائی کرتی، کھانا پکاتی ،برتن دھوتی اور کپڑے دھوتی۔ حالاںکہ دیو چاہتا تو اسے کچھ نہ کرنا پڑتا۔ لیکن وہ چاہتا تھا کہ وہ اتنا تھک جائے کہ اسے اپنے گھر کی یاد نہ ستائے۔ اپنے ماں باپ سے ملنے کی خواہش نہ ہو کیوںکہ اگر وہ زمین پر چلی گئی اور میری اصلیت بتا دی تو بھلا اس کے ماں باپ اسے دوبارہ کب آنے دیں گے۔ اس سوچ نے دیو کو خود غرض بنا دیا۔
    پری کو ہر وقت غم رہتا کہ اس کے ماں باپ نے اس کی شادی جس انسان سے کی وہ کیا نکلا؟ سب پیار، محبت، عزت واحترام کے وعدے ہوا ہو گئے اور بس کچھ ہی مہینوں میں اس کی اہمیت ختم ہو گئی۔
    پری دن رات وہاں سے نکلنے کے منصوبے بناتی۔ لیکن کیسے؟ کیا کرے؟ کھڑکی سے چھلانگ لگا دے؟ بادلوں پر گرے گی تو کہاں جائے گی؟ اسے لگتا کہ دیو اس کو قید میں ڈال کر بھول گیا ہے۔




  • چپ — عزہ خالد

    برتنوں کا ڈھیر دھو کر فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    کمرے اور کچن کے بیچ اتنا فاصلہ تو نہ تھا مگر پھر بھی اس کی سانس پھول گئی تھی۔
    سامنے دیوار پر لگے کیلنڈر پر نظر پڑتے ہی اسے کچھ یاد آیا تھا۔ ”بارہ جون…”
    یہ جون کی بارہ تاریخ توکچھ جانی پہچانی لگتی ہے۔ کوئی نہ کوئی خوش گوار یاد تو وابستہ ہو گی اس دن سے…
    کچھ نہ کچھ تو ہے اس دن… مگر کیا…؟؟
    دماغ کے کسی کونے کھدرے سے ایک یاد برآمد ہوئی تھی۔ ایک چھوٹی سی گڑیا… خوب صورت فراک پہنے… بالوں میں رنگ برنگی پنیں لگائے… سامنے میز پر رکھا کیک کاٹ رہی تھی…





    ”ہیپی برتھ ڈے…” کا شور… ہنستے مسکراتے چہرے… (جو جانے کہاں کھو گئے تھے…)
    اوہ… آج تو مرحومہ ہادیہ عبدالباسط کی سالگرہ ہے… جو کبھی بڑے اہتمام سے منائی جاتی تھی۔ دونوں بھائی پورے گھر میں غبارے لگاتے تھے۔
    اب معلوم نہیں وقت بدل گیا تھا یا بھائی…
    کمرے میں داخل ہونے سے بستر پر بیٹھنے تک اس کی نظریں کیلنڈر سے نہ ہٹی تھیں۔
    اس کی عمر کتنی ہے…؟؟
    بہت سوچنے اور دماغ پر زور دینے کے بعد وہ حساب لگا پائی تھی۔
    آج وہ بتیس سال کی ہو گئی ہے۔
    بتیس سال…
    آج اس کے اس دنیا میں بتیس سال پورے ہو گئے ہیں۔
    عمر بتیس سال
    ہاتھ… خالی
    دل… خالی
    دامن … خالی
    جانے اس دنیا میں آنے والوں کو عمر، خوشی غم کس حساب سے تقسیم کیے جاتے …
    کسے کتنے سال جینا ہے…؟
    کس کے حصے میں کتنی خوشیاں ہیں…
    کتنے غم ہیں…
    کتنے گھنٹے مسکرانا ہے…
    کتنے گھنٹے آنسو بہانا ہے…
    کس کے لیے زندگی ”گلزار” ہے اور کس کے لیے زندگی ”بوجھ” ہے۔ کچھ زندگی کے اس سفر پر ہنستے مسکراتے بے فکری سے چلے جا رہے ہیں اور کچھ اسے بوجھ کی طرح گھسیٹے جا رہے ہیں۔
    اور اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ اس بوجھ سے آزاد ہو جائیں۔
    وہ ”ہادیہ عبدالباسط” خود کو زندوں میں شمار نہیں کرتی تھی۔
    وہ مر چکی ہے…
    زندہ لوگ ہنستے ہیں مسکراتے ہیں… خوش ہوتے ہیں…
    اسے ہنسے مسکرائے اتنا عرصہ ہو گیا کہ اسے خود بھی یاد نہیں وہ آخری مرتبہ کب ہنسی تھی؟
    زندہ انسانوں کو جب کوئی برا بھلا کہے تو وہ پلٹ کر جواب دیتے ہیں۔ پلٹ کر جواب دینے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں تو بھی انہیں تکلیف محسوس ہوتی ہے… پر اسے صبح سے شام کوئی کچھ بھی کہے … جتنا چاہے ذلیل کرے … اسے ذرا فرق نہیں پڑتا…
    زندہ انسان خواب دیکھتے ہیں…
    اس کا خوابوں سے کوئی لینا دینا نہیں…
    (ماضی میں رہا ہو تو یاد نہیں…)





    وہ گونگی نہیں پر دو چار دن میں ایک آدھ جملہ ہی بولتی ہے…
    چند گنے چنے جملوں کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں کرتی …
    خواہشیں… وہ کیا بلا ہیں…؟ اسے نہیں معلوم …
    خوشی، غم، خواب، خواہش، دکھ، تکلیف… یہ سب اس کے لیے ایسی زبان کے لفظ ہیں جن کی وہ حروف تہجی سے بھی واقف نہیں… تو وہ کیسے خود کو زندہ لوگوں میں شمار کرے۔
    ماضی میں شاید اس زبان سے شناسائی رہی ہو… تھوڑی بہت جان پہچان رہی ہو… مگر اب… اب تو جیسے یادداشت پر گرد کی موٹی تہ جم گئی ہو…
    آج سے پہلے اسے کبھی اتنا وقت ہی نہ ملا تھا کہ فرصت سے بیٹھ کر ماضی کو یاد کر سکے… اس گرد کی موٹی تہ کو صاف کرے… زندگی کی جمع تفریق کرے… کیا کھویا… کیا پایا… ”پایا” والا خانہ خالی تھا۔
    ”کھوئے” والے خانے میں ایک لمبی فہرست تھی…
    بھائی بھابھی بچوں کے ساتھ کسی عزیز کے ہاں شادی پر گئے تھے۔
    وہ طویل سانس لیتے ہوئے بستر پر لیٹ گئی تھی۔
    ایک گڑیا تھی گھر بھر کی لاڈلی… بابا کی جان…
    بابا اس کی فرمائشیں پوری کیے جاتے… بھائی لاڈ اٹھاتے نہ تھکتے تھے… اور امی بس اس کی باتوں پر مسکرائے جائیں۔
    پھر وقت بدلا، منظر بدلا، گھر کے باہر ایمبولینس آکر رکی…
    آفس جاتے ہوئے ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور وہ ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گئے…
    ان کی زندگی کا دیا بجھ گیا وہ بس یاد کی صورت میں رہ گئے…
    معاشی حالات بگڑے … وقاص بھائی نے تعلیم کے ساتھ ساتھ جاب بھی شروع کی… وقار بھائی شام کے وقت اکیڈمی میں پڑھانے لگے…
    حالات بہت اچھے تو نہ ہوئے پر گزارا اچھا ہونے لگا۔
    وہ کالج جانے لگی… راستے میں کھڑا آوارہ چھچھورے لڑکوں کا گروپ … اسے دیکھ کر گانے گاتا… جملے کستا…
    گھر آکر امی سے کہا… تو انہوں نے اسے ”چپ” رہنے کو کہا…
    ارادہ تھا کہ بھائیوں کو بتا کر ان کی طبیعت صاف کروائے گی۔ مگر امی نے سختی سے منع کر دیا۔
    ”کوئی ضرورت نہیں ہے… وہ جھگڑ پڑیں گے… بات بڑھ جائے گی… تم بس خاموش رہا کرو… گھر سے کالج اور کالج سے گھر… کسی کی باتوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں…” امی نصیحتیں سن کر وہ بس انہیں دیکھتی رہ جاتی۔
    اس آوارہ گروپ کی ہمت اس کی خاموشی سے مزید بڑھی اور وہ اسے کالج تک چھوڑ کر آنا انہوں نے اپنی ڈیوٹی سمجھ لیا تھا۔
    ادھر اس کا گریجویشن ہوا ادھر ساتھ والے محلے کی خاتون مٹھائی کا ڈبہ لیے رشتہ لے کر پہنچ گئی…
    ”میں اپنے بیٹے اکمل کا رشتہ لے کر آئی ہوں… مین روڈ پر جو ورکشاپ ہے اس میں کام کرتا ہے…”
    فضیلہ بیگم حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھیں جو اپنے نکمے بیٹے کا رشتہ لے کر آئیں اور انہیں پورا یقین تھا کہ ”ہاں” ہو گی تبھی مٹھائی کا ڈبہ ساتھ لے کر آئی تھیں۔
    ”مجھے اکمل نے ہی بھیجا ہے آپ کو آپ کی بیٹی نے بتایا ہو گا…” انہوں نے فضیلہ بیگم کی حیرت دور کرنا چاہی تھی۔
    فضیلہ بیگم نے کچن کی کھڑکی میں کھڑی ہادیہ کودیکھا تھا جسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان چھچھوروں میں سے اکمل تھا کون سا …
    ”بہن میں معافی چاہتی ہوں… آپ کے بیٹے اور میری بیٹی کا کوئی جوڑ نہیں ہے… میری طرف سے انکار…” ابھی فضیلہ بیگم کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ خاتون بول پڑیں۔
    ”یہ بات تو اپنی بیٹی کو سمجھانی تھی نا… کیوں سج دھج کر باہر نکلتی تھی… میرے بیٹے کو اپنے جال میں پھنسایا… میں تو آنا بھی نہیں چاہ رہی تھی… اکمل کی ضد کی وجہ سے آگئی…” وہ خاتون سو باتیں سنانے کے بعد مٹھائی کا ڈبہ اٹھا ئے واپس چلی گئی۔
    امی کو اپنی جانب عجیب نظروں سے دیکھتا پا کر اس نے انہیں بتایا کہ یہ اس کی خاموشی کا نتیجہ ہے۔ اس نے ان کی ہدایت کے مطابق کسی کو ایک لفظ نہیں کہا تھا۔
    ”چھوڑو… دفع کرو…”
    ”بھائیوں کو نہ بتانا…” امی کی ہدایت پر وہ صرف حیران ہوئی تھی وہ بھلا انہیں بتاتی بھی کیا…
    امی کے نزدیک ہر مسئلے کا حل ”چپ” تھا۔
    پھر منظر بدلا۔
    دونوں بھائیوں کی شادی ہو گئی… کچھ دن اچھے گزرے پھر بھابھی کے رویے میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔




  • ایک رات کی بات — محمد جمیل اختر

    ایک رات کی بات — محمد جمیل اختر

    انہیں ضرور خاموش ہوجاناچائیے کہ میرے سر میں درد ہے اور میں سونا چاہتاہوں ۔
    آخر یہ خاموش کیوں نہیں ہوتے۔۔۔
    ” میں تو اُس دن سے ہی پریشان ہوں جس دن سے میری تم سے شادی ہوئی ہے ”
    ” ہاں ہاں سارے مسائل کی جڑ تو میں ہی ہوں ، مجھے کون سی خوشی دی تم نے بتاو”
    آخر ان میاں بیوی کا مسئلہ کیا ہے ، کیا انہیں معلوم نہیں کہ رات کے بارہ بج چکے ہیں اور کوئی سونا چاہتاہے ، اگر لڑنا بھی ہے تو باہر سڑک پر جاکر لڑیں اس طرح پڑوسیوں کی نیندیں کیوں حرام کرتے ہیں ۔
    ”مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ تم جیسا شوہر ملے گا تو میں کبھی بھی شادی نہ کرتی ”
    ” کاش یہ بات مجھے بھی معلوم ہوتی”





    میں ایک نیا نیا وکیل ہوں اور ایک پرانے وکیل کے چیمبر میں کام کرتا ہوں ، یہ پرانا وکیل انتہاکا کھڑوس آدمی ہے اُس کے ساتھ سارا دن کام کرنے کے بعد آپ کو نیندکی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ تمام دن کی فضول بکواس بھول کراگلے دن نئی بکواس سنی جائے ، لیکن یہ میاں بیوی مجھے کچھ نہیں بھولنے دیں گے۔۔
    ”میرا بھائی صُبح کام پر جاتا ہے تو میری بھابی کے ہاتھ پر پورے دو سو روپے رکھ کر جاتا ہے کہ دن میں کچھ ضرورت بھی پڑ سکتی ہے اورایک تم ہوکہ بھول کر بھی پیسے نہیں دیتے سارا دن بچے مجھ سے پیسے مانگتے ہیں بتائو کیا جواب دوں میں اِن کوکہ تمہارا باپ ایک روپیہ دے کر نہیں جاتا مجھے۔ شادی سے پہلے تم نے کتنے وعدے کیے تھے کہ میں یہ کروں گا میں وہ کروں گا یاد کرو جب تم لاہور سے ملتان صرف مجھ سے ملنے آئے تھے اُس وقت تم کہتے تھے اخبار میں کام بھی کرتا ہوں اور بزنس بھی شروع کرنے لگا ہوں مجھے کیا پتا تھا کہ یہ اخبار میں ٹکے ٹکے کے کالم لکھنے والے کو کون پیسے دے گا؟”
    ”بس بس اب ایسی بھی بات نہیں کل کو میرا بھی نام بن جائے گا پھر دیکھنا کیسے دن پھرتے ہیں”
    افف یہ کیسے لوگ ہیں اتنا اونچا بولتے ہیں حالاں کہ اس جاڑے کی سرد راتوں میں تو سانس کی آواز بھی سنائی دیتی ہے ، پھر صبح اُس بوڑھے وکیل کی فضول باتیں سُننا پڑیں گی، آج صُبح ہی کی بات سنیں مجھے اُس نے کہا فلاں کیس کی فائل لے آو میں آدھا گھنٹہ سٹور میں وہ فائل تلاش کرتا رہا اور جب میں ڈھونڈھ کے لایا تو صاحب کہتے ہیں کہ میں نے تمہیں یہ فائل لانے کا کہاہی نہیں تھا، یہ کیس تو کب کا بند ہوچکا ہے میں نے بہت کہا کہ سر آپ نے ابھی آدھا گھنٹہ قبل مجھے سرفراز ملک کے کیس کی فائل لانے کا کہاتھا، تو وہ کہنے لگے کہ اچھا اب میں اتنا بچہ ہوں کہ بندکیسوں کی فائلیں منگواوں ، میں نے تم سے بشیرصاحب کی فائل لانے کا کہا تھا، اور آپ یقین کریں بشیر صاحب کی فائل ان کی میز پرہی پڑی تھی ، میں نے کہاسر وہ تو یہ پڑی ہے آپ کی میز پر ، تو وہ ایک نظر فائل کو دیکھنے کے بعد کہتے ہیں کہ ہاں مجھے معلوم ہے وہ یہاں پڑی ہے اور یہ میں خود ڈھونڈھ کر لایا ہوں ، مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ تم یہ نہیں ڈھونڈھ سکتے ،اب آپ بتائیں ایسے شخص کے ساتھ بھلا کہاں تک بحث کی جاسکتی ہے ، میں تو ایک دن نہ ٹھہروں پر میرے ماموں ان کے دوست ہیں وہ مجھے ان کے پاس چھوڑ گئے ہیں کہتے ہیں کہ یہ اِس شہر کے سب سے مشہور اور قابل وکیل ہیں سوچتا ہوں اگر یہی قابلیت ہے تو اِس شہر میں کوئی قابل وکیل نہیں ہے ۔





    ” تم نے بچوں کے لیے کیا کیاہے، کل کو میری بچی جوان ہوگی تو کیا دو گے جہیز”
    ”خدا کا خوف کرو ابھی وہ تین سال کی ہے اور تمہیں جہیز کی فکر پڑگئی ”
    آخریہ میاں بیوی کب خاموش ہوں گے، مجھے جاکر انہیں سمجھانا چاہیے لیکن وہ کہیں گے میں کون ہوتا ہوں جو ابھی چار دن پہلے یہاں آیا ہے اور ان کی ذاتی زندگی میں دخل دیتا ہے ،
    ” یہ سامان کیوں توڑنے لگے ہو”
    ”بس میری کمائی سے آیا ہے سو میں توڑ رہا ہوں۔۔۔۔”
    چٹاخ، چٹاخ۔۔۔۔برتن ٹوٹنے لگے۔
    ”یہ تو میرے جہیزکی پلیٹیں تھیں، یہ میں تمہیں نہیں توڑنے دوں گی”
    مجھے جانا چاہیئے، ہاں مجھے ضرور جانا چاہیے ۔
    میں نے ہمت کرکے گھنٹی بجائی ۔
    ”اور شور کرو تم اب دیکھو محلے والے بھی آگئے ہیں، میں تو نہیں جاتی خود ہی جاؤ دیکھو کون ہے باہر۔”
    ”جی آپ کون؟”
    ”جی میں آپ کا نیا پڑوسی ہوں ملتان سے آیا ہوں وکیل ہوں آپ کے گھر شور تھا میں نے سوچا خیریت پوچھ لوں”
    ”لو وکیل صاحب بھی آگئے عمارہ بیگم ، آئیے آئیے صاب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ ہم میں کون حق پر ہے”۔
    ”جی میں وکیل ہوں جج نہیں”
    ”کوئی نہیں یار عدالتوں میں چکر لگا لگا کروکیل بھی جج ہی بن جاتے ہیں اور ویسے بھی ہمارا کیس کوئی زیادہ پیچیدہ نہیں میں ایک اخبار میں کام کرتا ہوں آمدن بہت معمولی ہے سو اِسی وجہ سے آئے روز ہمارا جھگڑاہوتا ہے کل بچوں کی فیس دینی ہے اور پیسے نہیں ہیں ۔
    معاف کیجئے کیا آپ ہمیں کچھ قرض دے سکتے ہیں ویسے پڑوسی ہونے کے ناطے آپ ضرور ہماری مدد کریں گے ”
    ”جی وہ میں تو۔۔۔۔۔”
    ”عمارہ بیگم وکیل صاحب کے لیے چائے بناو”
    ”لیکن وہ میں تو۔”
    ”بیٹھیے بیٹھیے اپنا ہی گھر سمجھیے آپ جیسے اچھے لوگ اب کہاں ملتے ہیں آپ اگر ہماری مدد نہ کرتے توکل سکول والے ہمارے بچوں کانام سکول سے خارج کردیتے سمجھ نہیں آرہا آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں۔”
    ”وہ میں کہہ رہا تھا کہ…”
    ”آپ ضرور کہیں گے کہ پڑوسی ہونے کے ناطے یہ تو آپ کا فرض تھا لیکن آج کل کے دور میں بھلاایساممکن ہے کہ ایک ساتھ پانچ ہزار کا قرض دے دیا جائے”
    ”پانچ ہزار؟؟؟”
    ”جی صرف پانچ ہزار۔”
    ”سچ پوچھیں تو آپ کے ایک ہی کیس کی مار ہیں پانچ ہزار”
    ”مگر میں تو۔”
    ا”چھا تو آپ سمجھ رہے تھے کہ میں بہت زیادہ رقم کا مطالبہ کروں گا نہیں نہیں بھائی ہمیں بھی آپ کی مجبوریوں کا اندازہ ہے آپ بھی ہماری طرح یہاں کرائے کے مکان میں ہی رہتے ہیں۔”




  • چاند مہکتا ہے — غزالہ رشید

    چاند مہکتا ہے — غزالہ رشید

    اسلام آبادکے خوب صورت ائیر پورٹ پر ایک سال بعد بھی ویسی ہی رونق تھی۔ کچھ بھی تو نہ بدلا تھا، ہاں البتہ فریال اب پہلے جیسی نہ رہی تھی، نا صرف حلیے سے بلکہ مزاج سے بھی وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ میچور ہوگئی تھی۔ ہونا تو یہی چاہیے تھاکہ وہ دھا ڑیں مار مار کے رونا شروع کردیتی۔ دل میں درد کی لہر اٹھی تو تھی لیکن اس نے اپنی سائیکا ٹرسٹ دوست ڈاکٹر سبین مرتضیٰ کی بتائی ہوئی ترکیب پہ عمل کرتے ہوئے چند گہری سانسیں لینا شروع کیں اور پھر سے اس خوبصورت ما حول میں جینے کے لیے، خود کو تیا ر کیا۔
    وہ اتنی کم زور تو کبھی نہ تھی کہ اسے یہ وقت کاٹنا اتنا مشکل لگتا۔ امی ابو کی اچانک موت نے اسے زندگی کے رموزو اسرار تو سکھا ہی دیے تھے،لیکن شاید ابھی اس کا کندن بننے کا عمل جاری تھا۔ ”وہ کھلنڈری فری” اب پھر سے فریال سعداحمد تھی۔
    سفر پھر سے شروع تھا، اس وقت کو بھول جانے کے لیے ملازمت بے حد ضروری تھی۔ خود شناسی بھی تو بہت ہی لازم ہے ناں، کب تک شاگردی کرتی؟ استاد بھی تو بننا تھا۔ آنے والوں کے لیے مشعل راہ، زندگی شمع کی صورت تب ہی تو بنتی ہے جب شعلہ بنے اور روشنی پھیلا ئے۔
    شومئی قسمت! نوکری ملی بھی توملگجی شام کی یاد لیے،غروب آفتاب کی طرح، اس سر سبز شہر میں جہاں اس کی زندگی میںخزاں نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔





    کل رات جب اس نے اپنی مسیحا دوست کو الوداع کہتے ہوئے خوش بو کا تحفہ دیتے ہوئے کہا تھا:
    ”دعا کرنا”
    سبین کہ اب دوبارہ تم سے ملوںتو تمہاری دوست پھر سے زندہ ہو۔ زندہ لو گوں کی طرح سانس لینے کا ہنر سیکھ چکی ہو،اس کا اعتبار ،اس کا اعتماد پھر سے بحا ل ہوچکا ہو”
    وہ دوست تھی ناں،اس کے دونوں ہاتھ مضبو طی سے تھامتے ہوئے کہا:
    ”تم ہمیشہ بہادر تھیں،کالج میں بھی اور یونیورسٹی میں بھی ، جب میں تم سے پہلی بار ملی تھی یا د ہے ناں ،صومی کے گھر پہ،اور فیلڈ الگ ہونے کے باوجود میری تم سے دوستی کی وجہ تمہاری چاند جیسی صورت ہی نہیں، خوب صورت دل بھی تھا، اور تم نے مجھے کہا تھا کہ تمہارے ابو نہیں ہیں، تو کیا ہوا؟ میرے ابو کو اپنا (بابا سائیں سمجھ لو ناں، اور پھر تم نے یہ سچ کر دکھایا۔ ابھی بھی حسن جاوید کی بے وفائی نے تم کو افسردہ ضرور کردیا ہے، لیکن تنہا نہیں کیا۔ تمہاری خالہ نے تم کو ڈھونڈ ہی لیا ناں،والدین کی جدائی کو تم نے سہا، اس بے درد کی بے وفائی کو سارے شہر سے چھپایا۔ اب بھی اس کی شادی کی خبر کو تم نے سہا۔ ویسے بھی اس سے رشتہ ہی ٹوٹا ہے ناں، یقین کرو رب سائیں کسی کو بھی تنہا نہیں چھوڑتا،میری بھی شادی ابھی تک نہ ہونے کی وجہ شاید یہ ہی تھی کہ تم نے میرے پاس آنا تھا۔ویسے بھی رشتے تو سارے وقتی ہوتے ہیں، سائے کی طرح گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں، خاص طورپہ آزمائش کے وقت میں۔ رشتو ں کو سمجھنا ہے تو مو سموں کو دیکھو، کبھی گرم کبھی سرد۔۔۔۔ ویسے میں تمہاری خالہ جان سے ملنے ضرور آئوں گی،ان کو تو دعوتیں کرنے کا شوق ہے ناں، اور مجھے دعوت کھا نے کا” وہ ہنس دی۔
    ”پلیز پلیز ضرور آنا۔۔۔میرا بھی دل چاہے گاکہ اسلام آباد کی سڑکوں پہ تمہارے ساتھ قدرت کے کرشمے دیکھوں۔ بہت عرصے سے ٹھنڈے کمروں،اور ڈنر ز نے مجھ سے موسموں کا حسن، ان کو انجوائے کرنے کی صلاحیت چھین لی تھی۔ میں بھی جی لوں گی ان دنوں” فری پھر اداس ہونے لگی۔
    ”اب تم اس انداز کو سوچو بھی ناں،یہ جاب تمہاری مرضی کی ہے،تم یقینا اسے انجوائے کروگی یارا اس نے الوداع ہوتے ہوئے بہت پیار سے اسے کہا تھا۔”
    ٭…٭…٭
    ”مولا! تو ہی کا میابی اور کامرانی عطا کرنے والا ہے۔” اس نے گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگاتے ہوئے پھر سے خود کو اسلام آباد کی خو ب صورت اورطویل شاہراہوںکی طرف متوجہ کرتے ہوئے دعا کی۔
    ”شکر ہے آنیا جی نے اپنے ڈرائیور خان جی کو بھیج دیا۔” اس نے تیزی سے گزرتی اس پاک سر زمین کی شادابی کو دیکھتے ہوئے قدرت کی صناعی کو سراہا، اور پھر امانت علی خان کی آواز بھی اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔
    ”ابو کو بھی یہ قو می نغمہ اور یہ آوازکتنی پسند تھی۔”
    ”اے وطن پاک وطن۔۔۔پاک وطن
    اے میرے پیارے وطن”
    وہ اکثر سنتے اور اسے بھی خاص طور پہ سناتے۔
    ”اف! یہ ماضی، خواب کیوں نہیں بن جاتا؟ ہمارے اندر ہر لمحہ سانس کیوں لینے لگتا ہے؟” اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے سوچا۔
    گاڑی اب F.6/4 سے گزررہی تھی جہاں اس نے حسن جاوید کے ساتھ زندگی کے صرف دو سال ہی تو گزارے تھے، جو شاید اس کی زندگی پر نہ چاہتے ہوئے بھی حاوی ہوگئے تھے۔اور شاید روگ بھی بنتے جارہے تھے۔اس روڈ کی ایک شام کا ایک ایک لمحہ اسے یاد آنے لگا تھا۔
    وہ تو اس کے رنگ میں رنگ گئی تھی، اسے تو صرف اب یہ یاد تھا کہ اسے ابو کی وجہ سے فیض احمد فیض بہت پسند تھے اور حسن جاوید کو بھی، لیکن اس نے ٹینا ثانی کے بعد پہلی بار مونا احمد کو فیض کو گاتے سنا تو وہ مبہوت ہوکے رہ گئی تھی۔ اس نے جانا ہی نہیں کہ یہ کیفیت اس پہ گزری لیکن واردات کہیں اور بھی ہوگئی تھی۔ واپسی میں بھی اس نے ڈھونڈ کے ،موبائل پہ پھر سے سرچ کرکے مونا احمد کو لگایا۔ وہ دونوں سارے راستے پھر اسی کو سنتے رہے، اس کی آواز اور فیض کا کلام روح کو ایسے آسودہ کررہا تھا کہ گھر آکے اس رات دونوں نے ایک دوسرے سے بات بھی نہ کی،ایسی سرشاری رہی۔۔۔۔
    ستم سکھلائے گا رسمِ وفا ایسے نہیں ہو تا
    صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا
    جہاں دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
    یہاں پیمانِ تسلیم ورضا ایسے نہیں ہوتا
    ہر اک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوںتو ہوتا ہے
    مگر ہر صبح ہو روز جزا ایسے نہیں ہوتا
    مونا کی آواز کب فری کے دل میں اتری اور کب وہ ماہ نور ،حسن جاوید کے دل میں براجمان ہوئی ،وہ جان ہی نہ سکی۔ اس کو توآئینہ ہر بار یہ ہی پیغام دیتا کہ تم پری ہو، اور اس کے دل پہ حکومت کرنے ہی تو اس دنیا میں آئی ہو۔ کیوں کہ حسن جاوید نے ہی تو اس سے کہاتھا: تمہارا M.B.Aکا آخری سمسٹر ،جو ہماری شادی کی وجہ سے رہ گیا ہے اسے مکمل کرلو،پھر ہم اپنا بزنس جلد ہی شروع کریںگے۔”
    ٭…٭…٭
    وہ ماضی کا سفر کرتے ہوئے ”سعد ولا” کے آہنی گیٹ کے سامنے تھی۔ آنیاجی جو اس کی سگی خالہ تھیں اور اس کی اس حرکت پہ شدید ناراض بھی تھیں کہ اس نے اپنی عدت کا وقت ان کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی دوست کے گھر گزارا۔ وہ اپنے بینک بیلنس پہ عیش کرنے والے حسن کو اب کوئی بھی رعایت دینے کو تیار نہ تھی۔
    ڈاکٹرنے اس کے اسلام آباد آنے سے پہلے انہیں بھی اس کی ذہنی کیفیت بتا کر راضی کرلیا تھا۔
    ”وہ تمہارا گھر ہے ، تم سکون محسوس کروگی ،ان کی گود میں سر رکھ کے تمہاری تنہائی کم ہوگی ،وہ خود بھی تو ذیادہ تر اکیلی ہی رہتی ہیں۔” اس کے کانوں میں اپنی دوست کے الفاظ گونجے۔
    مسز تنویر احمداس کی سگی خالہ جو بے حد خوب صورت اور پریکٹیکل خا تون تھیں۔ وہ نہیں جانتی تھیںکہ حسن جاوید مہارت سے جھوٹ بولنے کا عادی ہے۔ اس کے لیے رشتوں میں جڑے رہنے کی اہمیت ہی نہیں کیوں کہ وہ خود ایک broken family کا بچہ تھا، اب بھلا اس عمر میں وہ اپنے ساتھ ساتھ آنیا جی کو بھی ان خبروں میںکیو ں لاتی، وہ جان چکی تھی کہ اب واپسی کے سارے راستے بند تھے۔
    وہ ایک سال تک ان سے دور رہی اور اس کی ہمت ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ ان سے سب حالات شیئرکرتی۔ معصومیت کی ہی بنا پہ تو، زندگی اس کے ساتھ یہ کھیل اتنی بے دردی سے کھیل گئی تھی۔ وہ ان کو کیا بتاتی کہ وہ جس حسن جاوید کو جانتی تھیں، اس کو ڈیڈی کی جائیداد نے کچھ اور ہی رنگوں میں رنگ دیا تھا۔ ایسے رنگ جس نے اسے تمام اخلاق اور اقدار سے عاری کردیا تھا۔ بے وفائی اس کی فطرت میں ہی ہوگی ورنہ ایسے ہی تو نہیں کوئی لمحوں میں فیصلہ کرتا۔ اولاد کی کمی نے تو اسے احساس تنہائی دیا ہی تھا، لیکن جس درد نے اس کے وجود کو ریزہ ریزہ کردیاتھا۔ اُسے سمیٹنا بھی تو تھا۔ خود کو جوڑنا بھی تو تھا۔ توڑنے والے کو بھلا کب یہ احساس تھاکہ کچھ رشتے کانچ سے بھی ذیادہ نازک ہوتے ہیں۔
    گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہوئی آج پہلی مرتبہ وہ خود اسے ریسیو کرنے گیٹ تک آئیں۔ اسے بے اختیار وہ شام بھی یاد آگئی جب اس نے ڈنر سے واپسی پر اپنی عادت کے مطابق کچھ تحریر کیا، اسے کیا خبرتھی کہ وہ رات ان دونوں کے درمیان جدائی کا لمحہ بھی ساتھ لائی تھی، دسمبر کی شام۔ اس روز بہت دھند تھی۔
    ”تم دونوں اس گھر میں کبھی بھی اور کسی بھی وقت آ سکتے ہو۔ آپی اب اس دنیا میں نہیں ہیںتو کیا ہوا میرا گھر تمہارے لیے میکہ ہی ہے۔ میں تو ویسے بھی دوستوں کی محفلیں سجاتی رہتی ہوں۔ ماں جیسی شفقت تو شاید نہ دے سکوں، لیکن میرا دل ہر وقت تمہارا منتظررہے گا۔ یہ بات ہمیشہ یادرکھنا۔” ان کی آواز میں نمی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • اچھے بچے

    اچھے بچے

    آئیں مل کر سارے بچے
    کام کریں اب اچھے اچھے

    مل جل کر تم رہنا سیکھو
    بن جاؤ تم سچے بچے

    لڑنا اچھی بات نہیں ہے
    لڑتے نہیں ہیں اچھے بچے

    کہنا بڑوں کا ہر دم مانو
    بن جاؤ گے اچھے بچے

  • آؤ کتابیں کھولیں

    آؤ کتابیں کھولیں

    آؤ کتابیں کھولیں
    آؤ کتابیں کھولیں

    ہم اسکول سے ہولیں
    بات ادب کی بولیں

    کرلی ہم نے بہت ہے مستی
    ملے گی اس سے شہرت سستی

    ہوگی ورنہ پھر رسوائی
    جو کام نہ کسی کے آئی

    چلو اب ہی محنت کرلیں
    اور قسمت کو بدل لیں

    جو وقت بچا ہم پائیں
    تو مُلک کو خوب چلائیں

    سب کو پیچھے چھوڑیں ہم
    آگے آگے دوڑیں ہم

    آؤ کتابیں کھولیں
    آؤ کتابیں کھولیں

  • حماقتیں — اُمِّ طیفور

    ”دل دار صدقے، لکھ وار صدقے
    دل دار صدقے، لکھ وار صدقے
    دل دار صدقے، لکھ وار صدقے
    تیرا کرم ہویا، ہویا پیارے صدقے…”
    چھوٹے سے صحن میں ایف۔ ایم سی نکلتی نورجہاں کی سریلی آواز پھیلتی جا رہی تھی۔ سارا صحن دُھلا دُھلایا سا چمک اور مہک رہا تھا… مہکنے کی وجہ تو یہ تھی کہ صحن میں بلبل نانی کی من پسند چنبیلی کے عطر کی شیشی ٹوٹ کے چور چور ہوئی تھی اور اُس کی خوشبو صحن دُھلنے کے باوجود سارے میں پھیلی تھی۔ بلبل نانی اس صدمے سے چور چور دل لئے… موچنا ہاتھ میں تھامے اپنی باریک تر بھنوئوں کے زائد بال اُکھاڑ رہی تھیں… چند سیکنڈ بعد عطر کے غم میں منہ سے سسکی سی خارج ہوتی تھی۔
    صحن کے نکڑ پر لگے امرود کے پیڑ کے نیچے بید کی کرسی پر پیر پسارے بابرا نے چور نظروں سے نانی کے جارحانہ انداز کو دیکھا تھا، جن کا موچنا بڑی تیزی سے بھنوئوں کی باریکی میں اضافہ کر رہا تھا۔ ”بس کر دیں بلبل نانی … اسی تیزی سے اگر بال اکھاڑتی گئیں تو ساری بھوں اُڑ جائے گی اور آپ آٹے کے پیڑے جیسی لگنے لگیں گی…”
    ”میں کہتی ہوں چپ کر جا بابرا… میرے منہ نہ لگ … میرے صلّو میاں کی نشانی تھا یہ عطر… جو تیری بے پرواہی کی نذر ہو گیا … ہائے میرے مرحوم شوہر کا تحفہ ویڑے میں بکھر گیا…”





    بلبل نانی نے ایک اور سسکی لی، ساتھ ہی غصے کے مارے اکٹھے دو بال اکھیڑ ڈالے، بھؤں بے چاری عین درمیان سے اُڑ گئی۔ بلبل نانی نے بے یقینی سے دستی آئینے میں دیکھا… اور اب کے اُن کا رنگ اُڑ گیا… بابرا کے زور دار قہقہے نے اُنھیں یقین دلایا کہ بیڑہ پوری طرح غرق ہو گیا ہے۔ ”دیکھا…! میں نے کہا تھا ناں کہ ہاتھ ہولا رکھیں… بن گئی ناں موٹر وے … ہاہاہا!”
    ”رک ذرا کم بخت!” بلبل نانی چار پائی کے نیچے سے جوتی تلاشتی ہوئی بولیں۔
    ”آپ کی چپل میں نے پہنی ہوئی ہے…”
    ”تینوں اللہ پچھے گا بابرا…! آج کے دن دو صدمے لگا دیئے تو نے مجھے…”
    ”لو بھلا…! یہ موٹر وے بنانے میں میرا کیا ہاتھ… مشینری آپ کی اپنی تھی بلبل نانی…”
    بابرا ہنستے ہوئے قریب آئی اور بہ غور جائزہ لیتے ہوئے بولی ۔
    ”ویسے بچا ہوا کیا ہے ابھی… چار دنوں میں یہ چار بال اُگ آئیں گے، لائیں گری کا تیل رگڑ دوں…”
    ”اپنے سر میں ڈال جدھر ناس پھرا ہوا ہے… بالوں کا! تجھے دیکھ کر تو مجھے جمعرات والا فقیر بابا یاد آجاتا ہے، جس کی میل سے گجی (گندھی) یہ موٹی موٹی لٹیں ہوتی تھیں… مرن جو گا… ایسا دکھتا تھا جیسے سر پر سُنڈیوں کی کنالی اُلٹا دی ہو۔”
    ”آخ تھو …!” بابرا نے کراہیت سے مصنوعی اُبکائی لی… ”حد ہو گئی بلبل نانی، یہ میں نے ہئیر اسٹائل بنایا ہوا ہے… کرل ہیں یہ کرل…”
    ”ایڈا منہ مٹکا کے نہ بول … کڑل پٹے جائے گا… اور اب جا ذرا اس موئے گانے کی آواز اونچی تو کر … حق ہاہ! میری بڑی یادیں جڑی ہیں اس گیت کے ساتھ …”
    بلبل نانی گائو تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر نیم دراز ہوتے ہوئے بولیں آنکھوں میں پرانی یادوں کی ایک خماری سی تیر گئی۔
    ”یقینا نانا بھی اُس یاد کا لازمی حصہ ہوں گے… ہیں ناں!”
    ”ہائے ہائے! کی یاد کرا دِتا ظالمے! میں اُن کو دیکھ کر بڑے بانکپن سے یہ گانا گنگنایا کرتی تھی اور وہ بالکل کسی مغرور ہیرو کی طرح اینٹھتے چلے جاتے تھے… اکڑ ہی ختم نہیں ہوتی تھی اُن کی… میں اٹھلا کر ہاتھ تھامتی اور وہ جھٹک کر بولتے… جانسن…! جب بھی پہ لاڈ آتا تو مجھے یہی بولا کرتے تھے… جانسن!…”
    ”پھوپھوپھو…!” ہنسی کسی پھوار کی صورت بابرا کے منہ سے برآمد ہوئی تھی… بلبل نانی نے خشمگیں نظروں سے دیکھا، سارا ٹیمپو بیڑہ غرق کر دیا تھا۔
    ”بلبل نانی! جانسن نہیں ”نان سینس” کہتے تھے وہ نان سینس!” بابرا پھر ہنسنے لگی تھی اور بلبل نانی کا چہرہ خفت سے انار ہوا جاتا تھا۔ اُس وقت بھلے نہ سہی مگر اب تو اُنہیں بہ خوبی ”نان سینس” کا مطلب آتا تھا۔
    ”بکواس بند کرتی ہے یا تیری گچی مروڑوں… شرم نہیں آتی ہم دونوں کے سین میں کودتے…”
    ”کیہڑا سین نانی… میں کدھر سے آگئی آپ کے سین میں… ہوتی تو تب ہی جانسن کی تشریح نہ کر دیتی… اچھا چلیں چھوڑیں… مجھے یاد آیا کہ کل ماما کا فون آیا تھا، پیسے بھجوائے ہیں اُنہوں نے گرمیوں کی شاپنگ کے … کل میں بتول کے ساتھ شاہ عالمی جائوں گی… آپ نے کچھ منگوانا ہوا تو بتا دینا”۔ بابرا بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے بے نیازی سے بولی۔
    ”ماں صدقے…! میرا بچہ میرے واسطے تین، چار ذرا کھلتے رنگوں والے پرنٹ پکڑ لینا… جو مجھ پر جچیں…”
    بلبل نانی ململ کے دوپٹے کو دائیں ہاتھ سے بائیں شانے پر سیٹ کرتے ہوئے بولیں۔
    ”اللہ کو مانیں نانی…! مجھے بھلا پتا نہیں کہ آپ کھلتے کن رنگوں کو کہتی ہیں… یہ کھٹے مالٹے جیسے رنگ اور تیکھے جامنی، بیگنی شیڈ آپ کو پسند آتے ہیں اور میں کم از کم ایسے پرنٹ اور رنگ خرید کر دکان داروں کے آگے بستی نہیں کروا سکتی…”
    ”گرقی (غرقی) پھرے تیری بستی کو… میری پسند کا مذاق اُڑاتی ہے … پھول جھاڑو کے منہ والی نہ ہووے تے…”
    بلبل نانی کا تنفس تیز ہوا تھا… نتھنے پھولنے پچکنے لگے ۔
    ”اب تو ہرگز ہرگز نہیں لائوں گی میں ایسے چھچھورے رنگ… بس ہلکے ہلکے، میٹھے میٹھے رنگوں والے پرنٹ لائوں گی… آپ کی عمر کے مطابق…”
    بابرا نے بلبل نانی کی چپلیں اُتار کر اُن کی چار پائی کے آگے دھریں اور کھڑے ہو کر فیصلہ سنایا۔
    ”ہاں… ہاں! کفن اوڑھا دے مجھے … ابھی سے بڑھاپا متھے مارلوں… کوئی ایسی بڈھی نہیں ہو گئی میں … بڈھی ہو گئی تیری ماں، بڈھی ہو گئی تیری دادی … بڈھی ہو گی تیری …”





    ”نانی…!” بابرا نے فقرہ مکمل کرنے کے ساتھ ہی اندرکمرے کی جانب دوڑ لگا دی تھی۔ بلبل نانی کی چپل لگنے سے پہلے ہی وہ گم ہو چکی تھی… مگر چپل اُڑتی ہوئی سر بکھیرتے جدید طرز کے ایف ایم ریڈیو کو جا لگی… وہ بے چارہ تاب نہ لاتے ہوئے پھڑک کر اسٹول سے گرا تھا… تیسرا صدمہ!…
    بلبل نانی سکتے کی کیفیت میں اُسے تکے جار ہی تھیں، جس کے اندرونی نظام میں خدا جانے کیا خرابی آئی کہ وہ اوّل فول بکنے لگا تھا۔
    نورجہاں کا گانا اور کسی دوسرے اسٹیشن پر چلنے والا پھکڑ جگتوں سے مزین اسٹیج شو مدغم ہو گیا… اور اب جو آواز میں اُبھر رہی تھیں وہ بلبل نانی کے کلیجے کے پار ہوئی جاتی تھیں۔
    ”دل دار صدق… کھوتے دا پتر…”
    لکھ وار صدقے …… اے آنڈے میں دِتے سی…”
    تیرا کرم ہویا،… … بساں (بس) وچ سرمہ ویچن والیا…”
    ”ہویا پیار صدقے … لکھ دی لعنت…!”
    بلبل نانی کی دوسری چپل لہراتی ہوئی آئی اور ریڈیو کا ٹینٹوا دبا گئی۔
    نانی طیش سے پیروں پر ڈالا کھیس سر تک اوڑھ کر لیٹ گئیں اور زیر لب بڑبڑائیں…… ”لکھ دی لعنت”۔
    ٭٭٭٭
    دن کے گیارہ بجے تھے… صبح کی لائٹ گئی ہوئی تھی… بلبل نانی اکتائی ہوئی صحن کے وسط میں بچھی چار پائی پر بیٹھی مٹر چھیل رہی تھیں۔ بابرا ابھی ابھی آدھے مٹر پھانک کر اور پھر کمر پر بلبل نانی کی زور دار چپیڑ کھا کر تیار ہونے کے لئے اندر چلی گئی تھی۔ اُسے اور بتول کو آج شاہ عالمی جانا تھا… دیر بھی ہو سکتی تھی لہٰذا کافی کام نبٹا بیٹھی تھی… بلبل نانی کوفت کے عالم میں بھی دھیمے سروں میں گنگنا رہی تھیں۔
    ”لے آئی پھر کہاں پہ … قسمت ہمیں کہاں سے …”
    ”یہ تو وہی جگہ ہے… گزرے تھے…”
    بلبل نانی ابھی پوری طرح گزر بھی نہ پائی تھیں کہ دھاڑ کی آواز سے داخلی دروازے کو دیوار سے مارتی بتول فاطمہ ڈیوڑھی سے گزرتی صحن میں داخل ہوئی تھیں۔ تیز رنگوں والے کھچڑی پرنٹ اور ویسا ہی دوپٹہ اوڑھے … آنکھوں پر ٹھیلے سے لئے سستے بڑے شیشوں والے گاگلز چڑھائے … پیروں میں سلور تلے والی کولہا پوری چپل پہنے… بتول فاطمہ بازار جانے کے لئے مکمل تیاری کے ساتھ پہنچ چکی تھی۔ طوطے کا رنگ کا پرس بھی ہاتھ میں جھول رہا تھا۔
    ”ہیلو گرینڈما …… کیسی ہوئنگ آپ……”
    بتول نے بلبل نانی کے قریب جا کر چٹ سے اُن کا گال چوما اور بڑے اسٹائل سے حال پوچھا۔ بلبل نانی بتول پر بڑی فریفتہ تھیں … وہ ہو بہو اُنھیں اپنی جوانی لگا کرتی تھی… حالاں کہ بابرا بھی ہوبہو اُنہی پہ پڑی تھی مگر بتول نے تو چھچھورپن کا ریکارڈ قائم کر رکھا تھا۔
    ”ماں صدقے … ! کیسی ہے بتولاں… بابرا تو اندر تیار ہو رہی ہے…”
    ”اُف…! گرینڈما میرا نیم بتول فاطمہ ہوئنگ… پلیز! ڈونٹ رانگ سیئنگ…!”
    ”ذرا بندے دے پتربن کر بولیا کر … اور بتولاں تیری ماں تجھے سب سے زیادہ کہتی ہے… پہلے اُسے منع کر … ویسے کر کیا رہی تھی ثریا…”
    بلبل نانی نے چھلے ہوئے مٹر کے دانے سمیٹتے بتول کے ہاتھوں پر دھپ لگاتے ہوئے پوچھا۔
    ”ساگ پکائنگ اور پھر کلی (اکیلی) ہی کھائنگ… میں تو شاہ علمی سے ہی چاٹ اور برگر کھا کر آئینگ…”
    بتول نے چٹخارہ بھرا تو بے اختیار بلبل نانی کے منہ میں پانی آگیا… اتنے میں بابرا کاندھے پر بیگ لٹکائے… نک سک سے درست چلی آئی۔ دونوں سہیلیاں یوں گلے ملیں جیسے مدتوں بعد سامنا ہوا ہو… حالاںکہ چوبیس گھنٹوں میں چودہ گھنٹے تو دونوں درمیانی دیوار پر چڑھی رہتی تھیں… ساتھ والا گھر بتول کا ہی تو تھا۔
    ”ماں کو کہتی ہوئی جا کہ بلبل نانی کہہ رہی ہیں کہ ساگ پکا کر تھوڑا مجھے بھی بھیجیں… اب میں کیا اکیلی جان کچن میں کھپتی پھروں…”بلبل نانی نے دونوں کا معانقہ لمبا ہوتا دیکھا تو بیچ میں اپنا مدعا بیان کر کے اُن کا دھیان بٹایا۔
    ”اوکے گرینڈما… ابھی آسکنگ… مگر ابھی ٹائم لگینگ… ابھی وہ گھوٹنگ… پھر تڑکا لگائنگ… پھر… ”
    ”اے بتول کی بچی…!” بیچ میں ہی بابرا نے کوفت زدہ ہوتے ہوئے ٹوکا…
    ”اگر تو نے یہ ”آئینگ” اور ”جائینگ” دکان داروں کے سامنے کیا نا… تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا… بستی (بے عزتی) کرا کر رکھ دیتی ہو… اگلوں کو بھی پتا لگ جاتا ہے کہ چوبرجی کی ”کھڈوں” سے نکل کر آئی ہیں۔”





    ”اُف…! بابراہ یو آر جسٹ کر پکنگ…! تمہیں کیا بتا کہ کتنا اچھا امپریشن پڑنگ… یہی محسوس منٹ ہوئینگ کہ لڑکیاں پڑھی لکھی اور وڈے گھروں کی ہوئینگ…!”
    بتول نے اِٹھلا کر بابرا کو تسلی دی… بلبل نانی نے اپنی ادھوری بھؤں اُچکا کر دونوں کو دیکھا اور ہنستے ہوئے بولیں۔
    ”کتھے دیاں پڑھی لکھی کڑیاں… بی۔ اے تو کیا مرا نہیں جا رہا دونوں سے… دوسرا سال ہے لڑھکتے ہوئے… اَج کل کے مُنڈے تو ایم۔ اے سے کم کوئی کڑی تکتے بھی نہیں … اس سال بھی اٹک گئیں تو ہو گئے پڑھے لکھے منڈوں سے ویاہ…”
    ”ہوجائیں گے بلبل نانی … ہو جائیں گے… جس طرح آپ کا ہو گیا تھا نانا کے ساتھ… آپ نے تو آٹھویں جماعت میں ہی قسم کھا لی تھی کہ نویں کہ منہ نہیں دیکھنا … پھر بھی نانا کو آپ بھاگئیں… ایسے ہی ہمارا بھی دائو چل جائے گا…” بابرا نے سینڈل کا اسٹریپ ٹائٹ کرتے ہوئے بلبل نانی کو تفصیل سے اُن کا ماضی یاد کروایا… پیچھے کھڑی بتول دانت نکو سے جارہی تھی۔
    ”بابرا… مرن جو گئے تیری زبان تو بالکل اپنی دادی پر پڑی ہے… ذرا عقل بھی لے لیتے تھوڑی سی … یا وہ کالج میں بیچ کھائی ہے…” بلبل نانی کھسیانی سی ہوئی بابرا کے لئے لیتی ہوئی بولیں۔ بابرا فوراً ان کے قریب آئی اور گلے میں بازو ڈالتے ہوئے بولی: ”ہائے نہیں بلبل نانی… ایسا کیسے ہو سکتا ہے… مجھے تو بس آپ اچھی لگتی ہیں… پھر عقل کیسے کسی اور کی اچھی لگتی…” بلبل نانی جو اُس کے لاڈ پر موم ہو گئیں تھیں… آخری فقرہ سمجھ میں آتے ہی رکھ کر اس کی کمر پر دو تھپڑ دھرے۔
    ”پراں مر…! تیری عقل مجھ پر پڑی ہوتی تو اب تک بیاہ کر اگلے گھر دفع بھی ہو گئی ہوتی… جا اب اگر زیادہ بکواس کیتی تو بٹھالوں گی گھر… سارے پرنٹ پھر تیری شکل پہ ہی اُتر آئیں گے… سمجھی!” بابرا خاموشی سے کمر سہلاتی بتول کو آنکھ سے ڈیوڑھی کی طرف اشارہ کرتی کھڑی ہو گئی مبادا بلبل نانی سچ میں روک نہ لیں۔ ”اے بتول!… اپنی اماں کو کہتی کہ تم لوگوں کے ساتھ ہی چلی جاتی… اکیلی جائو گی دونوں تو فکر رہے گی مجھے…” بلبل نانی کے لہجے میں تشویش تھی… دونوں سہیلیوںکی نظریں ٹکرائیں… تبھی بتول آگے بڑھی اور بولی…
    ”وہ … گرینڈما! آپ فکر ناٹ… ہمارے ساتھ ببلو جائینگ، وہ مرد بچہ ہوئینگ…”
    ”وہ تیرا چھے سال کا بھتیجا… او پاٹی( پھٹی) نیکر تے وگندی نک والا… مرد”… شاباش اے!”
    بلبل نانی نے استہزائیہ انداز میں ہونٹ پھیلا کر بتول کو گھورا …
    بتول برا مناتے ہوئے بولی: ”میرا بھتیجا بڑا ہوشیار ہوئینگ… گرینڈما!”
    ”آہو…! جتنا زمین کے اُتے ہوئینگ، اُتنا ہی زمین کے تھلے بھی ہوئینگ…” یہ بابرا تھی… جس نے بتول کے انداز میں ہی نانی کو تسلی دی تھی اور پھر خود ہی ہنس پڑی تھی۔
    ”ذرا چھیتی واپسی کرنا… موبیل (موبائل) بند نہ کرنا… تے بابرا میری پسند کے چار ودھیا جوڑے پھڑ کے لے آئیں… ورنہ جوتُو اپنے لئے لائے گی نا… میں وہی لے لوں گی… سمجھی!”
    بلبل نانی نے بابرا کو دھمکی دینی ضروری سمجھی تھی ورنہ بابرا کا ارادہ واقعی اس دفعہ نانی کے لئے سوبر رنگ لانے کا تھا۔ مگر بلبل نانی سے کچھ بعید نہیں تھا… وہ سچ میں اُس کے کپڑے جھپٹ لیتیں… اس لئے عافیت اسی میں تھی کہ نانی کے من پسند رنگوں کے پرنٹ لا کر اُن کے حوالے کرتی…! مزید بحث میں پڑنے کی بجائے بابرا نے بتول کا ہاتھ تھاما اور داخلی دروازے کا رُخ کیا۔
    ٭٭٭٭




  • تھکن — سمیرا غزل

    تھکن — سمیرا غزل

    انسان کتنا نادان ہے….کیسے کیسے رواج ،ظالم سماج، بصیرت سے محروم، حقیقت سے انجان حقیقت، جو نہیں ہے سے ہونے تک کی گواہ ہے، جس تک پہنچنے میں انسان کی آنکھوں کے آگے ڈھٹائی کی تنی ہوئی چربی رکاوٹ بنی رہتی ہے” وہ کہہ رہی تھی اور میں سن رہی تھی۔
    ”کیا تمہیں ریت کی پیاس کا اندازہ ہے سبین؟” اس نے خلا میں گھورتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں ہے! کبھی نہیں بجھتی۔” میں نے کہا۔
    ”تم نے کبھی کسی صحرا سے گزرتے ہوئے اس کی پیاس بجھانے کی کوشش کی؟”
    ”نہیں!”میں نے نفی میں سر ہلایا۔
    "مگر میں نے کی ہے اور تم جانو یہ دنیا کا سب سے زیادہ تھکا دینے والا اور مشکل ترین کام ہے” وہ اسی طرح خلا میں تکتے ہوئے بات کرتے جارہی تھی۔
    ”تم نے یہ کوشش کیوں کی؟” میں نے عام سے لہجے میں پوچھا۔
    "تاکہ خود کو سیراب کر سکوں”
    ”ناکام کیوں ہوگئیں؟”





    "کیو ںکہ صحرا کی پیاس کبھی نہیں بُجھتی، اپنا آپ جھلس جاتا ہے، مگر ہوس باقی رہتی ہے، یہ سب سے تھکادینے والا کام ہے۔” اس کی آنکھوں میں ننھے ننھے تارے چمکنے لگے۔
    نیا واقعہ کیا ہے؟ میں نے افسردہ ہوکے سر جھکا لیا اور پوچھا۔
    "رواج، وہ رواج جس کی بھوک مٹاتے مٹاتے ہم ادھ موئے ہوجاتے ہیں” اس کی زبان میں لرزش تھی۔
    ”کون سا رواج” میں نے تعجب سے پوچھا؟
    ”وہ رواج جس کی ادائی پہ نہیں ہونے پہ دکھ ہوتا ہے۔ ”کچھ بتا تو……” میں نے زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”کال ریکارڈنگ ملی ہے۔” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی۔ ارے بابا کس کی؟ میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا۔
    ”ان کی جو رواجوں کے پابند ہیں…”
    ”کون؟” میں نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔
    وہی جنہوں نے کہا کہ ہم نے آج تک کوئی حق ادا نہیں کیا۔” وہ مجھے اپنی مبہم باتوں میں الجھا رہی تھی اور میں گتھی کو سلجھانے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔
    "وہی جن کا موبائل میری بیٹی نے گیم کھیلنے کے لیے مانگا تھا اور پھر معلوم نہیں کیسے وہ ریکارڈنگ چل گئی” وہ بڑبڑائی..
    کون ن ن ن سسی ریکارڈنگ؟؟” میں حیرانی سے چلائی۔
    "وہ جو شاید ان کے پاس غلطی سے ریکارڈ ہوگئی تھی۔”
    ”کچھ بتاؤ گی بھی فائزہ؟ یا یونہی پہیلیاںبُجھاتی رہو گی؟” میں چیخ پڑی۔
    "جس میں میری نند نے دوسری نند سے میری شکایت کی اور بتایا کہ میں اتنی بری اس لیے ہوں کہ میرا میکا بھی ایسا ہے۔” وہ پھر لمبے وقفے پر چلی گئی۔
    ”افففففف تو وجہ کیا تھی یہ سب کہنے کی؟”
    "انہیں عید کی دعوت کے فوراً بعد ان کی امی یعنی میری ساس کی عدت پوری ہونے کی خوشی میں دعوت چاہیے تھی اور ان کا یہ قدیم رواج مجھے قطعاً یاد نہیں رہا”
    ”اف توبہ کیا جہالت ہے فائزہ؟” غصہ سے میری رگیں تن گئیں۔
    ”میں نے تمہیں کہا تھا نہ سبین کہ صحرا کی پیاس کبھی نہیں بُجھتی اور جس کا پیٹ ہی صحرا بن جائے تو ان کے غم بھی پیٹ کی ہی سوچتے ہیں۔” یہ کہتے ہوئے اس کی پلکوں پہ صدیوں کا بوجھ اور لہجے میں گہری تھکن تھی۔

    ٭…٭…٭