Tag: Alif Kitab

  • استنبول سے انقرہ تک   (سفرنامہ)  | باب 5

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 5

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    قونیہ ، تصوف کا شہر

    باب5

    صبح سویرے ناشتا کرنے کے بعد ہم پاموکلے سے قونیہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ راستے میں سب لوگوں نے عائشہ کو سالگرہ کی مبارکباد دی اور اس خوشی میں یاسمین مشتاق نے بس میں ہی عائشہ کو چھوٹا سا پیسٹری نما کیک بھی کھلایا۔ ہم بس میں یہ خوشیاں مناتے ہوئے قونیہ کی جانب سفر کرتے رہے۔
    قونیہ ایک تاریخی شہر ہے۔ 1420ء میں قونیہ کو عثمانیوں نے فتح کیا تھا اور بعد میں اسے صوبہ قرہ سان کا دارالحکومت بنادیا گیا تھا۔ قونیہ اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ یہ صوبہ قونیہ کا دارالحکومت ہے۔ جو رقبے کے لحاظ سے ترکی کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ بے حد خوبصورت شہر ہے۔
    مولانا رومی اس شہر کو iconium کہا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ قونیہ شہر میں ولی پیدا ہوتے رہیں گے اور اس شہر کو مدینة الاولیاء کا لقب دے دیا تھا۔
    بس راستے میں ایک جگہ رکی اور ہم لوگ بس سے اترے دور پہاڑ نظر آرہے تھے، ذرا فاصلے پر سرسبز درخت بھی تھے۔ وہاں چند دکانیں تھیں اور باہر گاڑیاں بھی کھڑی تھیں، وہاں لوگوں کی آمدورفت تھی۔ یہاں بھی چینی سیاح نظر آئے۔ لگتا ہے کہ چینی لوگوں کو سیاحت کا بے حد شوق ہے۔ ہمارے پاکستان میں بھی اکثر و بیشتر چینی نظر آتے رہتے ہیں۔
    ہم لوگوں نے دکانوں سے کچھ چیزیں خریدیں۔ وہاں ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ شیشے کی کھڑکیوں کے ساتھ مختلف رنگوں کے اسکارف لٹکے ہوئے تھے۔ دکان کے باہر ایک اسٹینڈ پر باریک اور نازک جیولری سجی ہوئی تھی۔
    ایک دکان میں پرانے زمانے کی روایتی ٹوپیاں رکھی تھیں جن کے دونوں اطراف دوپٹے کی طرح کپڑا کندھوں پر گرتا تھا۔ پرانے زمانے میں ترک خواتین ایسی ٹوپیاں پہنتی تھیں۔
    سب لوگوں نے دکان سے وہ ٹوپیاں اٹھا کر پہنیں اور تصاویر بنوائیں۔
    ترک دکاندار بھی پاکستانی خواتین کی زندہ دلی پر حیران ہوئے۔
    ہم نے کچھ کھانے پینے کی چیزیں اور آئس کریم خریدی۔
    قونیہ پاموکلے سے قونیہ کافی فاصلے پر تھا۔ ہم نے باتیں کرتے ہوتے خوبصورت نظارے دیکھتے ہوئے اور آئس کریم کھاتے ہوئے یہ سفر طے کیا۔
    ہم دوپہر کو قونیہ پہنچے ۔ بس سے اتر کر ہم لنچ کرنے کے لئے ایک ریسٹورنٹ میں آگئے۔ کھانے میں پیزا نما نان تھے۔ یہ بھی ترکی کی مشہور ڈش تھی۔ ساتھ سلاد اور لسی تھی۔ ایک طشتری سے کھانا کھایا ۔ کھانا بچا تو ہم نے ویٹر سے کہہ کر کھانا پیک کروالیا۔
    حسنہ عباسی نے تجویز دی۔
    ”یہاں بہت سے شامی مہاجر بچے ہوتے ہیں۔ یہ کھانا ہم ان کو دے دیں گے۔ وہ خوش ہوجائیں گے اور یوں ان کی مدد بھی ہوجائے گی۔”
    اس تجویز سے سب نے اتفاق کیا۔
    کھانے کے بعد ہم باہر آئے تو وہاں قریب ہی ایک وسیع مگر خوبصورت احاطہ تھا۔ پکے فرش پر مختلف جگہوں پر چھوٹے چھوٹے سبزہ زار بنے ہوئے تھے اور لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ بھی موجود تھے۔ وہ ایک پرسکون جگہ تھی مگر وہاں رونق بھی تھی۔ کچھ لوگ بنچ پر بیٹھے تھے اور کچھ لوگ چل پھر رہے تھے۔ وہاں ہمیں کچھ شامی مہاجر بچے بھی مل گئے۔ ہم نے پیک کیا ہوا کھانا انہیں دے دیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔
    ایک بھورے بالوں اور سیاہ لباس والی بچی ہمارے قریب چلی آئی۔ اس نے اپنا تعارف Syrian(شامی) کہہ کر کروایا۔ اس کی آنکھوں میں اداسی اور چہرے پر حزن اور تھکن تھی۔ پہلے تو ہمیں سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے پھر غور سے سننے پر سمجھ آئی کہ وہ لفظ Syrian (شام سے تعلق رکھنے والے) بول رہی ہے۔ اس کے بولنے کا تلفظ اور انداز مختلف تھا۔ اس ایک لفظ Syrian میں اک داستان پنہاں تھی۔ یہ لفظ اک اداس تعارف تھا، اس بچی کا سنبھال کررکھا ہوا فخر تھا۔ اس کی پہچان اور شناخت تھا۔ اس کا اثاثہ تھا۔ وہ ترکی میں تھی مگر آج بھی Syrian تھی۔ غریب الوطنی کا دکھ اس کے چہرے پر لکھا تھا اور اس کی آواز سے عیاں تھا۔ وہاں ایک اور بچہ بھی تھا۔ پرانی سی جینز اور جامنی شرٹ پہنے ہوئے سیاحوں کو دیکھ رہا تھا۔ ان بچوں نے بچپن ہی میں غریب الوطنی کے دکھ دیکھ لئے تھے۔ یہ ترکوں کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ انہوں نے شامی مہاجرین کو پناہ دی۔ یہ مہاجر بچے مہاجر کیمپ میں رہتے تھے اور ان کو سیاحوں کی رونق دیکھنے اس احاطے میں آجایا کرتے تھے۔ بہت سے لوگ خوشی خوشی ان مہاجرین کی مدد کردیا کرتے ہیں۔
    احاطے میں ایک جگہ Konya لکھا ہوا تھا۔ اس کے نیچے یہ عبارت تحریر تھی (City of hearts) (دلوں کا شہر) وہ بے حد خوبصورت جگہ تھی۔ ہم نے وہاں گروپ فوٹو بنوایا اور وہاں سے آگے کی طرف چلے۔
    پھر ہم مولانا رومی کے مزار کی طرف چلے آئے۔ مولانا رومی بہت بڑے عالم ، بزرگ، صوفی ، شاعر، مفکر ، استاد اور بے حد اہم شخصیت کے حامل تھے۔
    مولانا جلال الدین رومی کا نام محمد، لقب جلال الدین اور عرنیت مولانا رومی ہے۔ ان کے اسلاف کا تعلق بلخ سے تھا جو اب افغانستان میں واقع ہے۔ مولانا رومی 1207 ء میں بلخ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا حسین بن احمد خطیبی عالم فاضل شخص تھے، ان کے والد مولانا بہائو الدین بھی عالم تھے۔
    یہ وہ دور تھا جب اسلام کی سرحدیں شمالی افریقہ تک تھیں اور مسلمان یورپ کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔برصغیرپاک و ہند میں شہاب الدین غوری کی اسلامی حکومت تھی۔ اسلام کے ثقافتی اثرات دنیا میں پھیل رہے تھے مگر اس دور میں اسلام دشمن لوگوں نے فتنے فساد فوجیں یلغار کررہی تھیں اور مشرق کی طرف سے تاتاری سیلاب امڈ رہا تھا مگر امت مسلمہ پر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم تھا کہ اللہ نے مسلمانوں کو مولانا جلال الدین رومی جیسے صاحب علم اور صاحب کشف شخص عطاء کئے جنہوں نے اصلاح و تربیت کا کٹھن کام اس خوبی سے سرانجام دیا کہ اللہ کے فضل و کرم سے اس صدی کے آخری حصے میں اسلام کے دشمن اسلام کے نام ہوا بن گئے۔
    تاتاری حکمران برکا خان نے اسلام قبول کرلیا اور انہی منگولوں نے اسلام کی گراں قدر خدمات سرانجام دی جو کبھی اسلام کے دشمن ہوا کرتے تھے۔
    مولانا جلال الدین رومی کے والد مولانا بہائو الدین محمد امام غزالی سے بہت متاثر تھے۔ مولانا رومی نے جب ہوش سنبھالا تو ان کے گھر میں امام غزالی کی تعلیمات کا بہت چرچا تھا۔ یہ ایک علم دوست گھرانہ تھا جس پر صوفیانہ رنگ کے اثرات تھے۔ یہ وہ دور تھا جب بچوں کو قرآن کریم اور حدیث کا مطالعہ کروایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ حساب ، منطق، سیاسیات اور فلسفے کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ مولانا رومی کے والد نے ان کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی اور اسی لئے انہوں نے سید برہان الدین کومولانا رومی کا اطالیق مقرر کیا جو کہ بے حد قابل استاد تھے۔
    کچھ عرصہ بعد مولانا بہائو الدین اپنے اہل خانہ کے ساتھ بلخ سے روانہ ہوگئے اور راستے میں آئے جس بھی شہر سے گزرتے تو ان لوگوں کا پرجوش خیر مقدم ہوتا نیشا پور پہنچے تو ان کی ملاقات مشہور بزرگ شاعر خواجہ فرید الدین عطار سے ہوئی۔
    خواجہ صاحب نے ننھے جلال الدین کو دیکھا تو ان کے والد سے کہا کہ اس جوہر قابل سے غافل نہ ہونا، یہ کہہ کر انہوں نے اپنی کتاب اسرار نامہ ننھے رومی کو دی جسے مولانا رومی نے ساری عمر عزیز رکھا۔
    پھر مولانا رومی کے والد اپنے اہل خانہ کو لے کر بغداد پہنچے اور وہاں سے مکہ مکرمہ حج کرنے کے لئے چلے آئے۔ اس کے بعد یہ خاندان دمشق اور پھر زنجان چلا آیا، پھر انہوں نے ملاکیہ کا رخ کیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ لارندہ چلے گئے اور کچھ سال وہیں رہے۔مولانا رومی کی شادی شرف الدین کی بیٹی گوہر خاتون سے کردی گئی۔ اس وقت مولانا کی عمر سترہ یا اٹھارہ برس تھی۔ مولانا کے دو بیٹے رشید سلطان اور علائوالدین لارندہ ہی پیدا ہوئے ۔ اس دور میں چنگیز خان نے ثرقند غارا نیشاپور بلخ اور دیگر علاقوں میں تباہی مچادی تھی۔ اس لئے لوگ ان متاثرہ علاقوں سے ہجرت کرکے قونیہ کا رخ کررہے تھے۔

    مولانا بہا ئو الدین بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ قونیہ چلے آئے مگر کچھ عرصے بعد مولانا بہائو الدین کا انتقال ہوگیا، یہ خبر سن کر سید برہان الدین ترمز سے توشیہ چلے آئے۔ انہوں نے اپنے شاگرد مولانا رومی کو گلے لگایا اور انہیں یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ ان کے شاگرد نے تمام علوم میں کمال مہارت حاصل کرلی ہے مگر مولانا رومی اب بھی علم کے حصول کے متلاشی تھے اسی مقصد کے تحت وہ شام چلے آئے، اس زمانے میں دمشق بہت اہم تعلیمی مرکز تھا، مزید علم حاصل کرنے کے بعد آپ واپس قونیہ چلے آئے اور پھر وہیں رہے۔
    امیر بدر الدین نے قونیہ میں ایک بڑا مدرسہ قائم کیا تھا، مولانا رومی نے وہیں قیام کیا۔ مولانا رومی نے قونیہ میں درس و تدریس کی ذمہ داری سنبھال لی اور ان کے اکثر ساتھی بھی قونیہ آگئے تھے اس طرح قونیہ علمائے کرام کا اہم مرکز بن گیا۔مولانا رومی کے مدرسے میں چار سو سے زائد طلبا ء تھے۔ مولانا رومی اپنے مدرسے کے علاوہ دیگر مدارس میں بھی درس دیا کرتے تھے۔ پھر مولانا کی ملاقات ایک ایسی اہم شخصیت سے ہوئی۔ جس نے مولانا کے افکار پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے بلکہ اس شخصیت کے روحانی تاثر نے مولانا رومی کے دل کی کیفیت یکسر بدل دی۔ یہ شخصیت ایک بہت بڑے بزرگ اور صوفی حضرت شاہ شمس تبریز کی تھی۔ مولانا رومی حضرت شاہ شمس تبریز کے مرید ہوگئے۔ اس حوالے سے ایک واقعہ بے حد مشہور ہے کہ ایک دن مولانا رومی حوص کے کنارے اپنے شاگردوں کو درس دے رہے تھے اور قریب ہی کچھ کتابیں پڑی تھیں، حضرت شاہ شمس تبریز وہاں تشریف لائے اور انہوں نے مولانا رومی سے پوچھا کہ (ای چی است؟) (یہ کیا ہے؟)مولانا رومی نے جواب دیا تو نامی دانم (تم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے) مولانا رومی کو اس وقت معلوم نہ تھا کہ سامنے کھڑا شخص کوئی جید بزرگ اور علم ہیں۔ حضرت شاہ شمس تبریز نے وہ ساری کتابیں حوض میں ڈال دیں، اس پر مولانا رومی لبرہم ہوگئے اور کہا کہ یہ تم نے کیا کردیا ہے۔ حضرت شمس تبریز نے حوص سے وہ کتابیں نکال کر مولانا رومی کو دیں تو وہ کتابیں خشک تھیں۔ مولانا رومی حیران رہ گئے، انہوں نے بے ساختہ پوچھا ای چی است؟ (یہ کیا ہے؟) تو حضرت شاہ شمس تبریز نے جواب دیا تو نامی دانم (یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے) اس کے بعد مولانا رومی حضرت شاہ شمس تبریز کے مرید ہوگئے اور انہوں نے حضرت شاہ شمس تبریز کو اپنا شیخ مان لیا۔
    ایک بے حد خوبصورت شعرہے:
    مولانا ہرگز نہ شد مولائے روم
    تا غلامِ شمس تبریز ناشہ

  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)  | باب 4

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 4

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    پاموکلے کی حیرت انگیز خوبصورتی

    باب4

    صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد برصا سے پاموکلے کے لئے روانہ ہوئے۔
    پاموکلے ایک بے حد خوبصورت قصبہ نما گائوں ہے۔ جو ترکی کے صوبہ Denizilliمیں واقع ہے۔ یہاں cotton castleیعنی روئی کا قلعہ بھی موجود ہے جو دنیا بھر میں اپنی حیرت انگیز خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے یہاں گرم پانی کے چشمے بہتے ہیں اور کیلشیم کاربونیٹ کے معدنی ذخائر کی وجہ سے یہاں کے فرش سفید رنگ کے ہیں۔ یہ ترکی کا مشہور سیاحتی مقام ہے سفید پہاڑوں کی یہ وادی سیاحوں کے لئے بے حد کشش رکھتی ہے۔ ہم بس کی کھڑکی کے پار نظر آتے نظارے دیکھ رہے تھے سڑک کے اطراف سرسبز کھیت تھے۔ ترکی کے گائوں اور دیہات بھی بے حد خوبصورت ہیں ہماری اگلی سیٹ پر خالدہ آنٹی اور یاسمین مشتاق براجمان تھیں، ساتھ والی سیٹ پر رضیہ آنٹی اور طاہرہ مظہر بیٹھی تھیں۔ ہماری پچھلی سیٹ پر نیئر اور شاہینہ بیٹھی تھیں اور ان کے ساتھ والی سیٹ پر فضہ اور طلعت تھیں۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔
    یسریٰ نے اپنی پھپھو رضیہ صدیق کے بارے میں بتایا۔
    ”یہ میری پھپھو رضیہ صدیق ہیں اور یہ بڑی ہنر مند اور سلیقہ مند خاتون ہیں۔ انہیں بہت کچھ آتا ہے۔ ہمارے خاندان میں جتنی بھی تقریبات اور شادیاں ہوتی ہیں، ان سب کے لئے پھپھو ہی سب کے کپڑے ڈیزائن کرتی ہیں اور سب لوگ شاپنگ کے لئے انہیں ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
    یہ بہت باکمال ڈیزائنر ہیں اور ہر معاملے میں پھپھو سے مشورہ لیا جاتا ہے اور ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس سے پہلے میں رضیہ پھپھو کے ساتھ اسکردو اور ہنزہ گئی تھی۔ جب مجھے ترکی جانے کے بارے میں پتا چلا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا اور میں نے بھی فوراً اس ٹرپ کو جوائن کرلیا۔ اس حوالے سے اکثر عائشہ سے بات ہوتی رہتی تھی مجھے اپنے ویزے کی بہت فکر تھی۔ پھپھو کے ساتھ بیٹھی طاہرہ آنٹی میری روم میٹ ہیں اور پھپھو کی عزیز سہیلی بھی ہیں۔ پھپھو کی عادت ہے کہ وہ سب کا بے حد خیال رکھتی ہیں۔ بہت محبت کرنے والی اور شفیق خاتون ہیں۔ میں نے اس کی بات سنتے ہوئے ایک نظر اس کی پھپھو کو دیکھا۔
    ”کاش ہماری بھی کوئی پھپھو ہوتی۔”
    میں نے بے ساختہ کہا۔ یہ ہماری دلی خواہش تھی کہ ہماری بھی کوئی پھپھو ہوتی۔ نہ ہماری کوئی پھپھو تھی اور نہ ہی میرے بچوں کی کوئی پھپھو تھی۔ یہ حیرت انگیز اتفاق تھا۔
    اچانک رضیہ پھپھو نے ہماری طرف دیکھا جیسے انہیں پتا چل گیا ہو کہ ہم ان کے بارے میں ہی بات کررہے ہیں۔ ہنر مندی کے علاوہ ان کی حسیات بھی تیز تھیں اور قوتِ مشاہدہ بھی کمال کی تھی۔
    ”پھپھو میں انہیں آپ کے بارے میں بتارہی ہوں۔ یہ حیران ہورہی ہیں کہ تمہاری پھپھو کو اتنا کچھ آتا ہے اور وہ اتنی قابل خاتون ہیں۔”
    یسریٰ نے اپنی پھپھو کو دیکھتے ہوئے جواباً کہا۔
    یسریٰ کی پھپھو سنجیدہ اور سوبر خاتون تھیں، سفید دوپٹہ سر پر اوڑھا ہوا تھا۔ کبھی کبھی دھیمے انداز میں مسکراتیں۔ پھپھو کا یہ روپ انوکھا اور شفیق تھا۔ ان کے ساتھ بیٹھی طاہرہ مظہر سیا ہ دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں اور آنکھوں پر سیا ہ رنگ کی سن گلاسز لگائے ہوئے تھے۔ پھپھو کی نسبت وہ بارعب خاتون نظر آرہی تھیں۔ پھپھو میری طرف متوجہ ہوئیں۔
    ”میںنے آپ کو ترکی آنے سے پہلے کبھی نہیں دیکھا مگر میں نے آپ کے ڈرامے دیکھے ہیں آپ نے لکھنے کا آغاز کیسے کیا؟”
    رضیہ پھپھو نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے پوچھا۔
    ”مجھے بچپن سے ہی لکھنے کاشوق ہے۔”
    میں نے مسکرا کر کہا۔ یہ کئی بار کا دہرایا ہوا جواب تھا۔
    جب بھی کوئی یہ سوال پوچھتا، میرا یہی جواب ہوتا۔
    دراصل ایسے سوالات کے جوابات دینا مجھے مشکل لگتا تھا۔ لکھنے کا آغاز کیسے کیا، ڈرامے کیسے لکھنا شروع کئے، ٹی وی تک کیسے چلی گئیں، یہ کیسے کیا، وہ کیسے کیا، بندہ اب ان باتوں کا کیا جواب دے۔ اکثر لوگ میسج پر مجھ سے پوچھتے کیا آپ ڈائجسٹ رائٹر والی مدیحہ شاہد ہیں، میں جواب دیتی جی ہاں، لوگ حیران ہوتے اچھا، یقین نہیں آتا، یہ حیرانی مجھے بھی حیران کردیتی ۔ میں سوچتی کہ رائٹرز بھی تو عام لوگ ہی ہوتے ہیں۔ بس یہ ہے کہ ان کا پروفیشن باقی لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔
    ذرا توقف کے بعد یسریٰ نے پھپھو کی داستان کا سلسلہ وہیں سے جوڑا۔
    ”رضیہ پھپھو اپنے عہد کی ایک نامور شخصیت ہیں ۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ ہمارے خاندان کی لیڈر ہیں۔ انہوں نے بہت سے ممالک کے سفر کئے ہیں اور رفاہِ عامہ اور سوشل ورک کے حوالے سے بے شمار کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں دونوں شادی شدہ ہیں اور ان کے پوتے پوتیاں بھی اب جوان ہوگئے ہیں مگر یہ ابھی تک ایکٹو ہیں، ہر ایونٹ اور تقریب میں شرکت کرتی ہیں، پھپھا صدیق نے بھی ہر معاملے میں پھپھو کا ساتھ دیا ہے اور لوگ انہیں آئیڈیل کپل سمجھتے ہیں پھپھو جہاں بھی جاتی ہیں پھپھا جان کے ساتھ ہی جاتی ہیں۔ ہم نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ہے اور سیکھ رہے ہیں۔”
    اس نے مزید بتایا۔

    اس سفر میں ہم رضیہ پھپھو کے متعلق باتیں کرتے رہے۔ ایسے بزرگ قابل ِ رشک ہوتے ہیں جن کی نئی نسل انہیں آئیڈیلائز کرتی ہے۔ ورنہ میں نے ایسے بہت سے معمر لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی دوسروں کو دکھ دیئے اور خاندانی سیاستوں اور سازشوں میں مصروف رہے۔ خیر پاموکلے پہنچ کر ہم نے ایک ریسٹورنٹ میں دوپہر کا کھانا کھایا جہاں ترکی کی روایتی ڈشز تھیں۔ ہم کچھ دیر وہیں بیٹھے رہے، پاموکلے کا موسم خوشگوار تھا اور سنہری دھوپ بے حد بھلی لگ رہی تھی۔ یہاں کی فضا میں تازگی تھی۔ ہر طرف رونق تھی۔
    وہاں سے ہم گائیڈ کے ہمراہ اک جھیل نما تالاب کے پاس آئے جہاں لوگ تیراکی کا شوق بھی پورا کررہے تھے۔ وہاں اردگرد سبز درخت تھے اور لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ بھی موجود تھے۔ تالاب دیکھنے کے بعد ہم لوگ باہر آئے اور ہم وہاں سے پیدل ہی cotton castle کی جانب چلے۔ روئی کا وہ قلعہ جسے دیکھنے کے لئے لوگ بے تاب تھے۔ یہاں آکر لوگوں کو بہت پیدل چلنا پڑتا ہے۔ اچھی بھلی واک ہوجاتی ہے۔ یہاں کے نظارے اتنے خوبصورت تھے کہ ہمیں پیدل چلنے میں لطف آرہا تھا۔
    Cotton Castleآکر ہم سب بے حد ایکسائیٹڈ تھے۔ سفید فرش پر نیلے پانی کے چشمے بہہ رہے تھے۔ کیا خوبصورت نظارے تھے، کیا رعنائی اور دلکشی تھی، سبحا ن اللہ، اللہ کی قدرت کے ایسے خوبصورت نظارے، ایسے دلکش منظر تھے۔
    دیکھنے والے خوش اور حیران رہ جاتے۔
    کہاجاتا ہے کہ اس پانی میں کچھ ایسی قدرتی معدنیات ہیں کہ جن میں healing properties پائی جاتی ہیں۔ یہ قدرتی پانی کے چشمے ہیں۔ انہیں دیکھنے کے لئے لوگ دور دراز سے کے علاقوں سے آتے ہیں۔ دن کے وقت یہاں بہت رش ہوتا ہے اور یہاں کا موسم بھی خوشگوار ہوتا ہے۔ دور نیلے پانی کی اک جھیل بھی نظر آرہی تھی اور اس سے آگے لوگوں کے مکانات بھی تھے، وہاں آبادی بھی تھی۔ سنہری کرنوں کا عکس پانی پر جھلملا رہا تھا۔
    یہ چشمے دور تک بہتے نظر آرہے تھے۔ ان کی روانی میں ایک ردھم تھا۔ ذرا آگے لوہے کی زنجیریں بھی لگی تھیں۔ فرش پر پھسلن کی وجہ سے بہت احتیاط سے چلنا پڑتا ہے۔
    لوگ پانی میں چلتے ہوئے دور تلک چلے گئے تھے۔ ہم بھی کچھ دیر پانی میں چلتے رہے پھر کنارے پر بیٹھ گئے۔ بہت تازگی محسوس ہورہی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس پانی کو چھوتے ہی انسان کو تازگی کا احساس ہوتا ہے اور لوگ تازہ دم ہوجاتے ہیں۔
    دور سے یہ سفید رنگ نے پہاڑ لگتے ہے قریب جاکر پتا چلتا ہے کہ یہ برف نہیں بلکہ سخت پتھریلی چٹانیں ہیں۔ ان پہاڑوں میں جگہ جگہ پانی کے تالاب بھی بنے ہوئے تھے۔ وہاں اک شخص رنگ برنگا طوطالئے ہوئے آیا۔ لبنیٰ نے اس طوطے کے ساتھ تصویر بنوائی۔ رضوانہ ہیٹ پہنے اپنی سیلفی اسٹک کے ساتھ نظرآئیں۔وہ چینی سیاحوں کے ساتھ ہنی خوشی تصویریں بنارہی تھیں۔
    دور ایک واٹر چینل کے پاس ڈاکٹر شمیم، عالیہ ، کرن، نیئر، طاہرہ، یاسمین، شاد، شاہین بیٹھی تھیں۔ نگہت بھی پانی میں چلتے ہوئے نظر آئیں۔ مہوش بھی اپنے شوہر دانیال کے ساتھ تھی۔ عمران صاحب بھی چشمے کے پاس کھڑے نظر آئے۔
    پہاڑ میں ایک جگہ تیزی سے چشمہ بہتا جارہا تھا لوگ اس کے نیچے کھڑے ہوکر پانی کا لطف اٹھا رہے تھے۔ یہاں بے فکری کے ساتھ اک آزادی بھی تھی۔ اک آزاد ماحول تھا۔ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں تھی اور لوگ انجوائے کررہے تھے۔ پانی میں کھیل رہے تھے۔
    میں کنارے پر بیٹھ کر یہ خوبصورت نظارے دیکھ رہی تھی۔ یہ چشمے قدرت کا تحفہ ہیں۔
    وہاں آنے والے سیاح خوش تھے اور بے فکری سے انجوائے کررہے تھے۔ رش تھا مگر کسی طرح کی افراتفری نہیں تھی اور یہی لطف اٹھانے کا طریقہ ہوتا ہے کہ کسی کو تنگ نہ کیا جائے۔
    ہم کافی دیر وہاں بیٹھے رہے۔ کچھ دیر بعد ہم وہاں سے چلے ۔ وہاں ہم نے ایک خوبصورت شام دیکھی۔
    وہاں اک شادی شدہ نوبیاہتا جوڑا دولہا دلہن بھی آئے ہوئے تھے اور بے حد خوش و خرم نظر آرہے تھے۔ ترکی میں دلہنیں اپنی شادی پر سفید رنگ کا لباس پہنتی ہیں، ہلکا میک اپ کرتی ہیں اور ہلکے پھلکے زیور پہنتی ہیں۔
    وہاں آئی دلہن بے حد خوبصورت تھی اور اس نے حجاب پہنا ہوا تھا۔ مغربی انداز کے طرزِ زندگی کے باوجود یہاں بھی خواتین حجاب پہنتی تھیں یہ بے حد خوش آئند بات تھی۔ اس نے ہاتھوں میں رنگ برنگے خوش رنگ پھولوں کا گلدستہ تھاما ہوا تھا۔ چہرے پر ہلکا میک اپ تھا۔ یہاں پر لوگ برائیڈیل فوٹو شوٹ کے لئے بھی آتے ہیں۔
    ایک اور کپل تھا۔ لڑکی نے سفید رنگ کا خوبصورت لباس پہنا ہوا تھا۔ گلے میں ایک سنہری رنگ کا لاکٹ تھا اور بالوں میں کلپ لگے تھے ہاتھ میں سنہری کڑا تھا۔ لڑکے نے سفید رنگ اور سیاہ اور مہرون رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ ترکوں کے چہروں پر جو خوشی ہوتی ہے اس میں خود اعتمادی کی جھلک واضع نظر آتی ہے۔ پاکستانیوں نے اِ ن دولہا دلہن کو جالیا اور ذوق و شوق سے ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔
    میرے پاس ایک چھتری تھی۔ جو میری بیٹی کی تھی جلدی میں میں نے وہی چھتری اپنے ساتھ رکھ لی تھی۔ اس چھتری کے ساتھ ایک بیٹی تھی عائشہ نے وہ سیٹی لے لی اور وہ سیٹی بجاتے ہوئے گروپ کے لوگوں کو اکٹھا کرنے میں آسانی ہوتی کچھ دیر بعد ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ پیدل کا راستہ لمبا تھا۔ ہم نے بھاگتے دوڑتے وہ راستہ طے کیا۔ بہت عرصے بعد ہم یوں بچوں کی بھاگے تھے۔ راستہ سڑک نما ٹریک تھا۔ یہ پہاڑی علاقہ تھا۔ ایک جگہ ہم سب نے گروپ فوٹوبنوایا۔
    عقب میں سفید رنگ کے پہاڑ نظر آرہے تھے۔ پانی پر سنہری کرنوں کا عکس جھلملا رہا تھا۔ دور سرسبز درخت بھی نظر آرہے تھے۔ وہ بے حد خوبصورت جگہ تھی۔ اچانک سڑک کے کنارے چلتے ہوئے آرٹیکا کا پائوں پھسلا اور وہ نیچے گرگئی۔ آس پاس کے لوگ بھاگتے ہوئے اس کی طرف لپکے اسے سہارا دے کر اٹھایا مگر اسے کافی چوٹیں آئی تھیں۔ہم فوراً بس میں بیٹھے اور ہم ہوٹل Anemon چلے آئے جو کہ ایک شاندار ہوٹل تھا۔ ا س میں کسی فلورز تھے۔ ہم اپنا سامان اٹھائے اپنے اپنے کمروں میں چلے آئے۔ میرے پاس دو سوٹ کیس تھے۔ ان کے ساتھ لفٹ میں سوار ہونا پھر انہیں گھسیٹ کر کمرے تک لانا بھی دشوار تھا۔
    یہاں لوگوں کو اپنا سامان خود اٹھانا اور سنبھالنا پڑتا ہے۔ اپنے جھوٹے موٹے کام بھی خود کرنے پڑتے ہیں۔ انسان کو حد سے زیادہ ذمہ دار ہونا پڑتا ہے۔
    میں سامان لئے کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں زاہدہ فاروق کے ساتھ ایک لڑکا بھی تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ ان کا بیٹا ہے اور پاکستان سے آگیا ہے۔ زاہدہ اپنے بیٹے کی آمد پر بے حد خوش اور نہال تھیں۔ مامتاکی خوشی میں محبت کا عکس واضع نظر آتا ہے۔
    ”یہ میرا بیٹا حیدر ہے۔پاکستان سے آیا ہے، شکر ہے کہ خیریت سے یہاں پہنچ گیا ہے۔ مجھے اس کی بڑی فکر تھی۔”
    وہ خوشی سے معمور آواز میں بولیں۔
    ”مبارک ہو، آپ کا بیٹا آگیا ہے۔”
    میں نے مسکرا کر کہا۔
    مجھے معلوم تھا کہ وہ کس شدت سے اپنے بیٹے کا انتظار کررہی تھیں۔ پاکستان فون کرتی رہتی تھیں۔ ہم لوگ ہوٹل میں چیک اِن کرتے ہی انٹرنیٹ connect کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہوجاتے، انٹر کام پر منیجر کو فون کرتے رہتے اور ٹوٹی پھوٹی انگلش سن کر اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے مغز ماری کرتے رہتے۔ انٹرنیٹ connect ہوتے ہی سب سے پہلے پاکستان فون کرتے۔ اب میں زاہدہ کا بیٹا آگیا تھا تو مجھے کمرہ تبدیل کرنا تھا، میں نے پتا کروایا تو معلوم ہوا کہ اب مجھے ہوٹل کے دوسرے کمرے میں جانا تھا جو اس کمرے سے دور تھا۔
    حیدر کے ساتھ پاکستان سے ساجدہ بھی آئی تھیں وہ بھی کسی وجہ سے لیٹ ہوگئی تھیں۔ عائشہ کے شوہر عمران صاحب بھی آگئے تھے۔ آج خوشی کا دن تھا۔ ساجدہ اب میری روم میٹ تھیں۔
    ”آپ ذرا میرا سامان اٹھالیں گے؟”
    میں نے اس لڑکے سے کہا۔ زاہدہ کے ساتھ اپنائیت کی وجہ سے میں نے چنداں تکلف سے کام نہ لیا اور جھٹ سے یہ فرمائش نما مطالبہ کردیا۔
    ”جی میں؟”

  • استنبول سے انقرہ تک  (سفرنامہ)  | بُرصا کے رنگ  | باب 3

    استنبول سے انقرہ تک  (سفرنامہ) | بُرصا کے رنگ | باب 3

    تحریر:مدیحہ شاہد

    استنبول سے انقرہ تک  (سفرنامہ)

    بُرصا کے رنگ
    باب3
    صبح سویرے ہم نے ناشتہ کرکے سامان بس میں رکھوایا اور برصا کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک لیدر فیکٹری وزٹ کے لئے رکے جہاں لیدر سے بنی اشیاء بنائی جاتی تھیں۔ اس فیکٹری کا نام Levinson fur and leatherتھا۔ ہم فیکٹری کے اندر آئے تو وہاں پورا stitching unit تھا، بہت ساری مشینیں رکھی ہوئی تھیں اور لوگ کام میں مصروف تھے۔
    ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپری منزل پر آئے تو وہاں لیدر سے بنی اشیاء کوٹ، جیکٹ، پرس وغیرہ رکھے تھے اور بے حد مہنگے تھے جن کی قیمت ڈالرز میں تھی۔ کرن تحسین نے ایک جیکٹ خریدی ہم مختلف چیزیں دیکھتے رہے۔
    ترکی صنعتی لحاظ سے بھی خود کفیل ملک ہے۔ ملک کی معیشت کے لئے صنعتی ترقی بہت ضروری ہے۔ ترکی میں بے شمار صنعتیں ہیں۔ کچھ دیر بعد ہم باہر آئے اور تھوڑی دیر سڑک کے کنارے بیٹھے رہے۔
    موسم خوشگوار تھا اور ہلکی دھوپ تھی سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھی۔ میں اور یسریٰ سڑک کے کنارے بیٹھے کافی دیر آپس میں باتیں کرتے رہے۔ سڑک کے پار عمارتیں بھی نظر آرہی تھیں۔
    ہم سے ذرا فاصلے پر فرح توقیر ، نورین مان، نیہا، صباحت اور نگہت موجود تھیں۔
    کچھ لوگوں نے لیدر فیکٹری سے باہر آنے میں بہت دیر کردی۔ ہم لوگوں نے چونکہ فیکٹری اور وہاں موجود اشیاء دیکھ لی تھیں اس لئے جلد وہاں سے باہر آگئے تھے۔
    لیدر کی مصنوعات بے حد مہنگی ہوتی ہیں۔ ہمارا تو اتنا بجٹ نہیں تھا۔ لیدر کی اتنی مہنگی کوئی چیز خریدتے اور پھر ہمیں لیدر کی چیزوں میں اتنی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اس لئے ہم فیکٹری وزٹ کرنے کے بعد جلد ہی باہر آگئے تھے۔
    بس ذرا فاصلے پر کھڑی تھی۔
    گروپ کے لوگ پیدل چلتے ہوئے بس تک آئے پھر وہاں سے ہم روانہ ہوئے اور بس میں بیٹھ کر ساحل پر آئے جہاں سے ہم بحری جہاز یعنی فیری (ferry) میں سوار ہوئے۔
    اس بحری جہاز کے نچلے حصے میں گاڑیاں اور بس وغیرہ بھی پارک کی گئی تھیں۔ ہم فیری کے اوپر والے حصے میں آگئے۔
    فیری نیلے پانی کے سمندر میں لکیریں بناتے ہوئے تیرتی جارہی تھی۔ یہ بے حد خوشگوار تجربہ تھا۔ مجھے یاد آیا بچپن میں جب ابا کی پوسٹنگ کراچی ہوئی تھی تو ہم نے پورٹ قاسم میں بحری جہاز دیکھے تھے۔ یہاں مختلف بحری جہاز تھے۔ جنہیں فیری (ferry) کہا جاتا ہے اور یہ مرمرا کے سمندر میں چلتے ہیں۔
    ہم جہاز کے جنگلے کے پاس کھڑے ہوئے دھوپ کی سنہری کرنوں میں چمکتے نیلے سمندر کو دیکھتے رہے۔ کیسا خوبصورت اور دلکش منظر تھا۔ آسمان کی نیلاہٹیں خوبصورت تھیں۔ سفید سمندری پرندے فضا میں اڑتے ہوئے اِدھر سے اُدھر جارہے تھے۔ ہم کتنی ہی دیر ان خوبصورت نظاروں سے نظریں نہیں ہٹا پائے۔
    خوبصورتی کو دیکھنا بھی ایک نعمت ہے۔
    اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں اور غور و فکر کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا یہ اللہ رب العزت نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے۔ بے شک تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لئے ہی ہیں۔
    استنبول سے برصا سمندر کے راستے بھی جایا جاسکتا ہے اور بذریعہ سڑک بھی لوگ جاسکتے ہیں۔
    برصا ترکی کا ایک اہم شہر ہے۔ جو ٹیکسٹائل سے وابستہ ہے۔ یہ سرسبز شہر ہے اور یہاں بے حد خوبصورت عمارتیں اور مساجد موجود ہیں۔
    برصا شہر صوبہ ٔ برصا کا دارالخلافہ ہے۔
    یہاں حضرت خضر سے منسوب مسجد اور ترکوں کا قدیم قلعہ بھی ہے۔
    اور چنار کا چھ سو سال پرانا درخت بھی ہے ، کہاجاتا ہے کہ اسی درخت کے سائے میں بیٹھ کر خلافت ِ عثمانیہ کی داغ بیل رکھی گئی تھی۔ عثمان (اوّل) نے 1326 ء میں برصا شہر کو فتح کرلیا تھا۔
    سب لوگ فیری کے سفر کو انجوائے کررہے تھے۔
    دھوپ کے باوجود وہاں تیز ہوا تھی۔ لوگوں نے کوٹ ، جیکٹ اور سوئیٹر پہنے ہوئے تھے۔
    ایک کونے میں یاسمین اور رفعت فیری کے جنگلے کے پاس کھڑی ٹائٹینک والا پوز بنائے کھڑے تھیں۔
    رضوانہ اپنی سیلفی اسٹک کے ساتھ مصروف نظر آئیں۔
    لوگ تصاویر اور ویڈیوز بنارہے تھے۔
    نیلے پانی کا سمندر اتنا خوبصورت تھا کہ لوگ دیکھتے تو دیکھتے ہی رہ جاتے۔ ہم نے اوپر سے جھانکا تو فیری کی نچلی منزل پر گاڑیاں پارک ہوئی نظر آئیں۔ دور دور تک نیلا سمندر نظر آرہا تھا۔ نیلا سمندر ، لہریں، سمندر پرندے، نیلا آسمان، بادل ، قدرت کے نظارے بے حد دلکش تھے۔
    میں فیری کے کوریڈور میں واک کرتی رہی اور خوبصورت نظارے دیکھتی رہی پھر میں فیری کے اندر آگئی۔ وہاں لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ موجود تھے۔ کونے میں کافی شاپ بھی تھی جہاں سے لوگ کھانے پینے کی چیزیں اور کافی لے رہے تھے۔ فیری میں بہت لوگ سوار تھے۔ نیلا سمندر، خوبصورت نظارے اور ٹرکش کافی، میں بھی وہیں چلی آئی کہ چلو ہم بھی کافی پیتے ہیں۔
    کافی شاپ پر رش تھا۔ میں رش کم ہونے کا انتظار کرتی رہی۔ کچھ دیر بعد جب رش کم ہوا تو میں کائونٹر کے پاس چلی آئی جہاں کافی بنانے والا کھڑا تھا۔
    ”ایک کپ کافی۔”
    میں نے اسے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    وہ شخص کافی بنانے لگا۔

    وہاں چینی چوکور ڈلیوں کی شکل میں ایک پیالے میں پڑی تھی۔
    ”تھوڑا دودھ اور ڈال دیں۔ ہم پاکستانی ہیں دودھ والی چائے اور کافی پیتے ہیں۔”
    میں نے اسے انگلش میں بتایا۔
    تین چار چینی کی چوکور ڈلیاں ڈالنے کے باوجود کافی کڑوی تھی۔
    ہر علاقے اور ہر ملک کے لوگوں کی اپنی پسند و ناپسند ہوتی ہے۔ خیر اپنی تسلی کرکے، کافی میں میٹھا چیک کرکے میں پلٹی تو مجھے وہاں اپنے گروپ کا کوئی بندہ نظر نہ آیا میں پریشان ہوگئی۔
    ”گروپ کے سب لوگ کہاں چلے گئے!”
    میں نے فیری کے ہال میں اِدھر اُدھر دیکھا، پھر باہر آئی تو کوریڈور سنسان سا محسوس ہوا میرے تو اوسان خطا ہوگئے۔
    فیری ، سمندر ، پردیس… میں ہاتھ میں کافی لئے وہیں کھڑی رہ گئی ۔ سمجھ نہ آئی کہ اب کیا کروں ۔ ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ پورے بحری جہاز میں اپنے گروپ کا کوئی بندہ نا ملتا۔ کافی کی مصروفیت میں ایسی محو ہوگئی تھی کہ پتا ہی نہ چلا گروپ کے لوگ کہاں چلے گئے۔ پھر بھی میں نے تلاش جاری رکھی۔ میں دوبارہ باہر آئی اِدھر اُدھر دیکھا کہ اچانک سامنے سے عائشہ آتی نظر آئی۔ اُسے دیکھ کر دل کو اطمینان ہوا۔
    ”میں آپ کو کب سے ڈھونڈ رہی ہوں۔ سب لوگ بس میں بیٹھ چکے ہیں، آپ کہاں گھوم رہی ہیں… چلیں جلدی کریں میرے ساتھ آئیں۔”
    اس نے فکر مندی سے کہا۔
    میں لپک کر اس کے پاس آئی۔
    ”ہاں وہ دراصل میں کافی لینے چلی گئی تھی، پتا ہی نہ چلا سب اچانک کہاں چلے گئے۔” میں اپنی اس لاپرواہی پر کچھ شرمندہ سی ہوگئی۔
    ”سفر کرتے ہوئے لوگوں کو بہت الرٹ اور چوکس رہنا پڑتا ہے۔اِدھر اُدھر نظر رکھنی پڑتی ہے برصا آگیا ہے، سب لوگ جاکر بس میں بھی بیٹھ گئے اور آپ کو خبر ہی نہ ہوئی ایسی کون سی اسپیشل کافی ہے۔” عائشہ نے کہا۔ ہم تیزی سے چلتے ہوئے بس کے پاس آئے اور بس میں سوار ہوئے تو سب لوگ ہمارا انتظار کررہے تھے۔
    ”ایک خاتون گم ہوگئی تھیں شکر ہے کہ مل گئی ہیں۔”
    کسی نے کہا۔
    میں فوراً اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ اس سفر میں میں بھی کسی جگہ گم ہوسکتی ہوں۔
    ”دیکھیں آپ لوگ محتاط رہیں، گروپ کے ساتھ رہا کریں۔ کوئی شخص گم ہوجاتا ہے تو ہمیں بے حد پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ پردیس ہے… یہاں ان باتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ میں باربار آپ لوگوں کو بتارہی ہوں۔ اس طرح ہمارا وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔”
    یاسین نے خفا اور ناراض انداز میں دوبارہ اعلان کیا۔
    میں کان لپیٹے سنتی رہی اور کافی پیتی رہی۔
    میرے ساتھ بیٹھی یسریٰ نے تلوں والا رول دیا۔ جس کا نام simit ring ہے۔ یہ ترکی کا مشہور smack ہے اور جگہ جگہ عام ملتا ہے اور ذوق و شوق سے کھایا جاتا ہے۔
    ہم برصا پہنچ چکے تھے۔ بس ایک جگہ رکی اور ہم لنچ کرنے کے لئے ایک ریسٹورنٹ میں آئے جس کا نام ”بنکار” تھا۔
    برصا بے حد خوبصورت اور تاریخی شہر ہے۔ یہاں کی عمارت اور گھر کلاسیکل اور روایتی انداز میں بنے ہوئے ہیں۔
    ترکی کے ہر شہر کا اپنا ایک مزاج ہے۔ اپنا ایک الگ کلچر ہے۔
    برصا میں سبزہ ہے۔ پھول پودے، گھاس اور درختوں کی بہتات ہے۔ اس لئے اسے ”گرین برصا” (سرسبز برصا) بھی کہا جاتا ہے۔
    برصا سلجھے ہوئے لوگوں کا شہر لگتا ہے ۔ یہاں صاف ستھری کشادہ سڑکیں اور باغیچوں والے کلاسیکل انداز میں بنے خوبصورت گھر نظر آتے ہیں۔ یہاں عمارات کا فن ِ تعمیر بے حد خوبصورت ہے۔
    بنکار بے حد خوبصورت ریسٹورنٹ تھا۔ ہوٹل کی عمارت کے باہر ٹوکریوں میں پھول کھلے تھے۔ ہوٹل کے باہر خوبصورت سرسبز درخت تھے۔
    وہاں ایک بے حد مزاحیہ سا ویٹر بھی تھا جس نے خوب شغل لگایا ۔ کھانے میں ڈونر کباب تھے۔ کسی کو بیف کے کباب ملے تو کسی کو چکن کے کباب ملے۔ گوشت کے تلے ہوئے ٹکڑوں کے ساتھ ٹماٹر اور ہر ی مرچیں تھیں، ساتھ دہی بھی تھا، کہاجارہا تھا کہ یہی کباب تھے۔
    ”یہ کیسے کباب ہیں، ہمارے ہاں تو ایسے کباب نہیں ہوتے!”
    لوگ یہ کباب دیکھ کر حیران تھے۔
    بیف کھانے والے کم تھے، چکن کی ڈیمانڈ زیادہ تھی۔ لوگوں نے اپنی فرمائشیں بھی کیں۔
    ”جو کچھ بھی ملے شکر کرکے کھالینا چاہیے۔”
    یاسمین نے نخرے کرتے لوگوں کو دیکھ کر بارعب انداز میں نصیحت کی۔
    پردیس آکر انسان صبر شکر بھی سیکھ لیتا ہے۔جب بھی پردیس جائیں ناز نخرے اپنے وطن میں چھوڑ کر آئیں اور اپنا سامان خود اٹھانے کی عادت ڈال بھی لیں۔ پردیس آکر ہم بہت کچھ سیکھ چکے تھے۔ سب لوگ کھانے میں مصروف ہوگئے۔
    وہ مزاحیہ ویٹر آنکھ مار کر بات کررہا تھا۔ ہم حیران رہ گئے کہ یہ ویٹر آنکھ کیوں مار رہا ہے۔ پھر کسی نے وضاحت کی کہ یہ یہاں کے لوگوں کا انداز ہے۔ winkکرتے ہوئے بات کرتے ہیں۔ ہم نے اس انداز کو بھی سمجھ لیا اور جب بھی کوئی آنکھ مارتا اس سے نارمل انداز میں بات کرتے پردیس جاکر انسان کو وہاں کے ماحول اور کلچر کو سمجھنا پڑتا ہے۔
    کھانے کے بعد ہم سِلک مارکیٹ چلے آئے جو برصا کا قدیم بازار تھا۔ بس سے اتر کر ہم سڑک پر پیدل چلتے رہے ایک جگہ سیڑھیاں نظر آئیں جن کے دونوں اطراف سرسبز لان تھے۔ ہم نے وہاں یادگار گروپ فوٹو بنوایا۔
    برصا میں بھی پیدل چلنے کارواج تھا۔ گروپ کے لوگ پیدل چلتے ہوئے تھک گئے تو رفعت سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پربیٹھگئی۔
    ”ارے آپ فٹ پاتھ پر کیوں بیٹھ گئی ہیں؟ دیکھنے والے لوگ نہ جانے کیا سمجھ لیں گے۔”
    کسی نے رفعت کو ٹوکتے ہوئے کہا۔
    ”کچھ بھی سمجھ لیں۔ میں تھک گئی ہوں۔ کچھ دیر یہیں بیٹھ کر سُستا لیں گے۔”
    رفعت کے اطمینان میں فرق نہ آیا ۔ نیہا نے شرارت سے پرس میں سے پیسے نکالے اور رفعت کو پکڑا دیئے۔
    ”اپنی مرضی سے دے رہی ہو، واپس نہ مانگنا اب یہ میرے ہوگئے ہیں۔”
    رفعت نے شرارت سے کہتے ہوئے مٹھی بند کردی۔
    ”یہ تو بس مذاق تھا۔ پیسے اب واپس کردیں۔”
    نیہا نے ہنستے ہوئے کہا اور پھر پیسے واپس لے بھی لئے۔ ہاں بھئی روپے پیسے کی اہمیت کا احساس توپردیس میں ہوتا ہے۔ جہاں ایک ایک روپیہ سوچ سمجھ کر خرچ کرنا پڑتا ہے کہ جتنا بجٹ ہے اسی میں گزارہ کریں اور کسی سے ادھار مانگنے کی نوبت نہ آئے۔
    ہم پھر پیدل چلتے رہے۔ گائیڈ نے بازار میں شاپنگ کے لئے دو گھنٹوں کا ٹائم دیا۔
    ہم نے سوچا اب دو گھنٹے بازار میں کون گھومتا پھرتا رہے۔ استنبول سے ہم نے کافی شاپنگ کرلی تھی۔ اسی لئے میں بس کی طرف آگئی سوچا بس میں کچھ دیر آرام سے بیٹھیں گے۔
    لبنیٰ اور رضوانہ ایک مسجد دیکھنے چلی گئیں۔ میں سعادت منیر بھی بس میں بیٹھی تھیں۔ باقی لوگ بازار چلے گئے۔ میں پارکنگ ایریا میں آگئی۔
    پارکنگ کے پاس بے حد خوبصورت گھر بنے ہوئے تھے۔ جہاں جنگل نماباغ تھے۔ گھروں کے باہر گاڑیاں بھی کھڑی تھیں۔ میں چلتے ہوئے پارکنگ کے کنارے تک آئی۔ سامنے گرے رنگ کا تکونی چھت والا اور سفید کھڑکیوں والا خوبصورت گھر تھا۔ جس پر ترکی کا پرچم لگا تھا۔ گھر کے ساتھ چھوٹا سا باغ بھی تھا۔ گھر کے باہر گملے بھی رکھے ہوئے تھے۔
    میں وہاں کھڑی اس خوبصورت گھر کو دیکھتی رہی۔
    یہاں لوگ گھروں میں خود کام کرتے ، باغ کا خیال رکھتے، پودوں کو پانی دیتے اور مصروف رہتے۔
    کچھ دیر بعد میں بس میں آگئی ، جہاں سعادت منیر بھی بیٹھی تھیں۔
    ”تم بازارنہیں گئی۔”
    انہوںنے پوچھا۔
    ”تھک گئی تھی۔ کافی دیر پیدل چلتے رہے تھے، سوچا کون بازارمیں دو تین گھنٹے چلتا رہے۔ اسی لئے بس میں آگئی۔”
    میں نے جواباً کہا۔ مرسڈیز بس بے حد آرام دہ تھی۔
    یکدم ڈرائیور اوہان بس میں آیا اور اس نے بس اسٹارٹ کردی ۔ہم حواس باختہ رہ گئے۔ ڈرائیور انگریزی زبان سے نابلد تھا نا وہ ہماری زبان سمجھتا تھا اور نا ہم اس کی زبان سمجھ سکتے تھے۔
    ”بات سنیں ، ہم کہاں جارہے ہیں؟”
    ہم نے اشارے کرکر کے اس سے پوچھنے کی کوشش کی۔
    نجانے وہ ترک زبان میں کیا بول رہا تھا۔ ہماری سمجھ میں نہ آیا۔ ترکی آنے سے پہلے ہمیں ترک زبان کے عام بول چال کے کچھ الفاظ سیکھ لینے چاہیے تھے، ہمیں یہ غلط فہمی تھی کہ ترکی میں انگریزی بولی جاتی ہے۔
    مس سعادت بھی گھبرا گئیں۔
    ”بھائی کہاں لے کر جارہے ہو ہمیں؟ ہمارے گروپ کے لوگ تو اُدھر بازار میں ہی ہیں۔ ارے اس سے پوچھو تو سہی اسے کس نے کہا ہے کہ بس چلادے، ہمیں کہاں لے جارہا ہے؟ میرا تو دل گھبرا رہا ہے۔”
    سعادت منیر نے گھبرا کر کہا۔
    بس ، دو پردیسی خواتین اور ایک اجنبی ڈرائیور… میں نے فوراً بلند آواز میں اسے ٹوکا۔
    ”ہمارے گائیڈ سرخان کو فون کردیں۔ سرخان … فون…”
    مزید وضاحت کے لئے ہم نے اشارے بھی کئے۔
    اس نے موبائل سے سرخان کو کال ملائی اس سے ترک زبان میں کچھ بات کی اور مجھے موبائل پکڑا دیا۔
    اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ سرخان کو کہہ رہا ہے یہ دو وہمی خواتین ہے، خوفزدہ ہو گئی ہیں ان سے بات کرکے انہیں تفصیل بتادو۔
    میں نے موبائل تھام کر سرخان سے بات کی۔
    ”ہیلو مسٹر سرخان! یہ ڈرائیور ہمیں کہیں لے جارہا ہے۔ گروپ کے لوگ وہیں بازار میں ہیں، ہمیں اس کی بات بھی سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کہہ کیا

  • استنبول سے انقرہ تک  (سفرنامہ)  | باب2

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب2

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    توپ کاپی محل اور قیمتی خزانے

     2باب

    صبح سویرے ہم تیار ہوکر ناشتہ کرنے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں پہنچے جہاں بڑی رونق تھی اور خوبصورت برتنوں میں ناشتے کے لوازمات سجے تھے۔ شہد، دلیہ، ابلے ، انڈے، بریڈ، مکھن، آملیٹ، پنیر، زینون، کارن فلیکس، بغیر دودھ والی چائے، کافی، جوس اور دیگر ڈشز پورے اہتمام کے ساتھ سرو کی گئی تھیں۔ لوگوں کی باتوں کی آواز کے ساتھ برتنوں کی کھنک بھی گونج رہی تھی۔
    ناشتہ کرنے کے بعد ہم بس میں سوار ہوکر توپ کاپی محل کی طرف روانہ ہوئے۔ ٹاکسم اسکوائر سے توپ کاپی محل کافی فاصلے پر تھا۔ صبح صبح موسم بے حد خوشگوار تھا۔ میں بس کی سیٹ پر بیٹھی کھڑکی کے پار نظر آتے نظارے دیکھنے میں محو تھی۔ ترکی آکر جو چیز واضع نظر آتی ہے۔ وہ وہاں کی صفائی ہے۔ سڑکیں، مکانات، گلیاں سب صاف ستھری تھیں۔ دکانیں سجی ہوئی تھی۔ ہر چیز میں اک خاص قسم کا نظم و ضبط نظر آتا ہے۔ جسے دیکھنے والے بے اختیار سراہتے ہیں۔
    حیرت کی بات تھی کہ بس جس راستے سے بھی گزرتی، دور سے اک مسجد نظر آتی رہتی جو شاید بلندی پر واقع تھی۔
    کچھ دیر بعد بس محل سے ذرا فاصلے پر سڑک کے کنارے رُکی اور ہم پرجوش انداز میں بس سے اُترے۔ صبح کے اجالوں میں ہلکی دھوپ چمک رہی تھی۔ محل بلندی کی طرف تھا۔ وہاں سے ہم پیدل ہی محل کی جانب چلے۔ محل دیکھنے کی ایکسائٹمنٹ اتنی تھی کہ جذبات پر قابو پانا مشکل تھا۔ ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے ہوئے محل کی جانب چلتے جارہے تھے۔ صبح کی تازگی میں اک پرلطف سی رونق ہوتی ہے۔
    کچھ دور چلنے کے بعد سامنے مضبوط، عالی شان اور شاندار محل نظر آیا جس کے صدر دروازے والی دیوار پر سنہری حروف سے پہلا کلمہ لکھا ہوا تھا۔
    لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔
    اسلام کا پہلا کلمہ اسلام کا پہلا بنیادی رکن ہے۔ اسلام کی بنیاد ہے۔ مسلمانوں کا دل ہے۔ صرف زبان ہی نہیں، مسلمان کا دل بھی کلمہ گو ہوتا ہے۔ یہ کلمہ بہشت کی کنجی ہے، عالم اسلام کی اساس ہے۔ مسلمان کا قیمتی اثاثہ ہے۔ اللہ رب العزت کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، یہ دنیا، کائنات، زمین، آسمان، ہر چیز اللہ کی ہے۔اللہ اور رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی ہدایت کا راستہ ہے۔ پہلا کلمہ طیبہ دنیا اور کائنات کا قیمتی خزانہ ہے۔ بادشاہت اور حکمرانی صرف اللہ رب العزت کے لئے ہے۔ وہی معبود ہے، وہی بادشاہ ہے، وہی حکمران ہے، اللہ ہر شے پر قادر ہے، تخت اُسی کا ہے، بادشاہی اُسی کی ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے۔ وہ ہی ہر شے پر قادر ہے۔ یہ دنیا، کائنات اور جو کچھ بھی ہے اُسی کی ملکیت ہے۔ باقی سب خالی ہے۔
    محل کے اونچے میناروں پر دھوپ دمک رہی تھی اور بلندی پر ترکی کا پرچم لہرا رہا تھا۔
    توپ کاپی محل فن تعمیر کا باکمال شاہکار ہے۔
    میں توپ کاپی محل کے سامنے کھڑی تھی۔
    خوش، حیران اور ایکسائیٹڈ۔۔۔ یوں جیسے انسان کی کوئی قیمتی خواہش اچانک پوری ہوجائے۔
    ترکی کے ڈراموں نے پاکستان میں مقبولیت حاصل کی تو میں بھی سارے کام نپٹا کر ٹرکش ڈرامے ذوق و شوق سے دیکھتی تھی، اور پھر یہ شوق جنون بن گیا۔
    اکثر میرا بیٹا علی اپنے پاپا کو شکایت لگاتا کہ مما ٹی وی پر ڈرامے دیکھ رہی ہیں اور مجھے کارٹون نہیں دیکھنے دے رہیں، علی کے پاپا اس شکایت پر بالائی منزل سے سیڑھیاں پھلانگتے بھاگے آتے کہ یہ کیا گھر میں ہر وقت ٹرکش ڈرامے لگے رہتے ہیں اور اب تو بچے بھی شکایتیں کرنے لگے ہیں۔ یہ بات نہیں تھی کہ مجھے ترکی ڈراموں کے اداکار، سیٹ ، ملبوسات یا ڈراموں کی کہانی پسند تھی۔ بات تو یہ تھی کہ دل چپکے چپکے استنبول اور توپ کاپی محل کے عشق میں گرفتار ہوگیا تھا۔
    اس وقت میں نے سوچا نہ تھا کہ ایک دن میں بھی ٹی وی ڈرامے لکھوں گی اور میرے تحریر کردہ ڈرامے بھی اسی طرح ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہوں گے جنہیں لوگ دیکھیں گے، سراہیں گے اور ایک دن میں بھی کوئی مشہور شخصیت بن جائوں گی، لوگوں کو انٹرویوز دوں گی۔ بھلا یہ کب سوچا تھا میں نے ۔ مگر ہم نے کب کیا کام کرنے ہوتے ہیں یہ اللہ طے کرتا ہے۔ یہ اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں۔ انسان کے دل میں کچھ ایسی خواہشات ہوتی ہیں۔ جن سے صرف رب واقف ہوتا ہے۔
    مجھے استنبول آنے اور توپ کاپی محل دیکھنے کی خواہش تھی۔ آج میں استنبول کی سڑک پر توپ کاپی محل کے سامنے کھڑی تھی۔
    انسانوں کو اپنی خواہشات بتانے کا کوئی فائدہ نہیں، اپنی خواہشات کی تکمیل کی دعائیں رب سے مانگنی چاہیے کہ وہی بادشاہ ہے، معبود ہے، حکمران ہے اور عطا کرنے والا ہے۔
    محل کے صدر دروازے کے اوپر دیوار پر لکھا گیا کلمہ اک پیغام تھا۔
    محل کے سامنے بہت سے لوگ قطاروں میں کھڑے تھے۔ وہاں سیاحوں کا رش تھا مگر اک خاص ڈسپلن بھی نظر آرہا تھا۔ مختلف ملکوں اور قوموں کے لوگ اس محل کو دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔
    میں پرجوش انداز میں خوشی سے معمور دل کے ساتھ اس محل کو دیکھتی رہی پھر مجھے زارش نظر آیا۔
    ”زارش ! اس محل کے سامنے میری تصویر بنادینا۔”
    میں نے زارش سے کہا اور محل کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ ٹرپ پر اچھی تصویریں بنانے والا بندہ مل جائے تو ٹرپ کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ زارش نے کئی تصاویر بنائیں اور وہ ایک ماہر فوٹو گرافر تھا۔ پھر ہم سب محل میں داخل ہونے کے لئے قطار میں کھڑے ہوگئے۔ میرے ساتھ فرح توقیر، نورین مان، نگہت، عذرا فہیم، صباحت ، زارش، نوشین ، ان کے میاں، لئیق انکل اور ان کی بیگم صوفیہ اور دیگر لوگ تھے۔ وہاں سکول کے بچوں کا ٹرپ بھی آیا ہوا تھا۔ استاد بچوں کی قطار کے ساتھ کھڑے تھے۔ نا وہ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کررہے تھے اور نا چیخ چلا رہے تھے۔ ان کا رعب ان کے انداز اور ان کی آنکھوں میں تھا۔
    بچوں میں بے حد اعتماد تھا۔ وہ ہنستے مسکراتے ہوئے آپس میں باتیں کررہے تھے۔ ترکی کے لوگ خوش رہنے کے فارمولے سے واقف تھے۔ وہ خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش رہنے دیتے ہیں۔ اس (Personality trait) نے ہمیں حیران کیا۔ خوشی کا فارمولا یہی ہے کہ آپ دوسروں کی خوشی کا خیال رکھیں۔
    میں نے اسکارف والی سلجھی ہوئی اک لڑکی کو سیلفی اسٹک سے تصویریں بناتے دیکھا جو اپنے والدین کے ساتھ کھڑی تھی اور فوٹو گرافری میں منہمک تھی۔ میں دھیرے سے اس کے قریب آگئی ۔ ایک جیسی دلچسپیاں اور شوق لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں۔
    اس لڑکی نے مسکراتے ہوئے اپنے بارے میں بتایا۔
    میرا نام فضہ ہے اور میں اپنے والدین کے ساتھ اسلام آباد سے آئی ہوں۔ یہ میری والدہ طلعت اور یہ میرے والد امتیاز ہیں۔ مجھے سیاحت کا شو ق ہے اور ہم مختلف ممالک میں اکثر سیاحت کی غرض سے آتے جاتے رہتے ہیں۔”
    اس نے سُریلی آواز میں کہا۔ اس کے ساتھ اس کے والدین بھی کھڑے تھے۔
    ”میری بھی تصویر کھینچ دیں۔ میں اکثر سیاحتی مقامات پر گئی ہوں۔ مگر مجھے اچھی تصویریں کھینچنے والے لوگ نہیں ملتے۔ کبھی تصویریں اچھی نہیں آتیں تو کبھی فوکس صحیح نہیں ہوتا۔”
    میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”آپ میرے ساتھ آجائیں۔”

  • ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ) | آغازِ سفر | باب ۱

    ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ) | آغازِ سفر | باب ۱

    تحریر:مدیحہ شاہد
    ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
    آغازِ سفر
    باب1
    سوشل ورک کا شوق اور خدمت ِ خلق کا جذبہ مجھے بین الاقوامی این جی او انر ویل کلب کے قریب لے آیا۔ مجھے یہ کلب جوائن کئے ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے کہ ڈسٹرکٹ چیئرمین 341 کے سالانہ وزٹ کی خبریں ملنے لگیں۔
    یاسمین مشتاق جن کا تعلق جھنگ سے تھا انرویل کلب 2018-2019 کی چیئرمین تھیں۔ ان کے شوہر چوہدری مشتاق روٹری کلب کے گورنر تھے اور خود وہ کئی سالوں سے اس این جی او سے وابستہ تھیں۔
    میں چونکہ کلب کی نئی ممبر تھی تو مجھے کلب کی سرگرمیوں اورچارٹر کے متعلق زیادہ علم نہیں تھا۔
    کسی نئی جگہ پر جاکر ایڈجسٹ ہوناا ور نئے دوست بنانا میرے لئے ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے۔ میں نے اپنے تیئں کوشش کی کہ کلب کی سرگرمیوں میں خاطر خواہ حصہ لے سکوں اور وہ دوست بناسکوں جو دوسروں کے فیس بک پروفائل میں نظر آتے ہیں۔ میری زندگی میں دوست بنانے کی جستجو اک طویل جستجو تھی۔ میں نے خوشی خوشی اس کلب کو جوائن کیا۔
    سب ممبران سے تھوڑا بہت تعارف ہوا۔ کئی لوگوں نے میرے ٹی وی ڈرامے دیکھ رکھے تھے اور مجھے میرے کام کے حوالے سے جانتے تھے۔ مجھے اس کلب میں سب نے خوش آمدید کیا۔ دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سال میں ایک بار ہر کلب میں چیئرمین کے وزٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس وزٹ میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ نئے ممبران کو کلب کی پِن بھی لگائی جاتی ہے۔
    ہمارے کلب نے اوائل مارچ کے دنوں میں سروز کلب لاہور میں ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ چیئرمین یاسمین مشتاق جھنگ سے تشریف لائیں۔ نیلے لباس میں ملبوس پھولوں کے گلدستے تھامے وہ سب سے خوشدلی سے ملیں۔ مجھے وہاں علم ہوا کہ وہ اپریل میں کلب کا سالانہ انٹرنیشنل ٹرپ لے کر ترکی جارہی ہیں۔ اس مقصد کے تحت لوگ اپنے اپنے نام لکھوا رہے تھے۔ میں فوراً اُس طرف متوجہ ہوگئی۔
    ”ترکی!”
    میری آنکھیں چمکنے لگیں۔
    دل میں چھپی برسوں پرانی خواہش نے آنکھ کھولی۔ استنبول ، توپ کاپی محل، بُرصا، قونیہ، انقرہ، خلافت ِ عثمانیہ کے تاریخی مقامات ، مساجد، نیلے پانی کا سمندر اور بے شمار جگہیں یاد آئیں۔ میں ترکی کے تاریخی ڈرامے ذوق و شوق سے دیکھتی تھی۔ مجھے وہاں کی ثقافت ، کلچر ، روایات اور آرکیٹیکچر بہت پسند تھا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مجھے ترکی سے بے حد محبت تھی۔ ترکی کے بارے میں پڑھ پڑھ کر مجھے وہاں کی سیر کا بے حد شوق تھا مگر گھر داری میں کئی سال ایسے مصروف رہی کہ اس خواہش کوپورا کرنے کی فرصت نہ ملی۔ گھر، بچے، ذمہ داریاں، بچوں کے سکول، ان کی پڑھائی اور کہانیاں، ڈرامے لکھنے میں ایسی مصروف رہی کہ کبھی کسی باہر کے ملک جانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔
    اب جو اس ٹرپ کے بارے میں سنا تو دل کو سمجھانا مشکل ہوگیا۔ وہ ایک انقلابی لمحہ تھا۔
    ”میں بھی ترکی جانا چاہتی ہوں۔”
    میں نے ایک لمحے میں یہ فیصلہ کرلیا۔
    جن لوگوں کو ہمسائے کے گھر جانے کی فرصت نہ ہو ان کے لئے کسی فارن ٹرپ پر جانا انہونی ہی تو تھی۔ مگر میں نے مصروفیات کی گٹھری کو ایک طرف رکھ دیا۔ دل میں کسی چیز کی لگن ہو تو فیصلے لمحوں میں ہوجایا کرتے ہیں۔
    ”گھر والوں سے مشورہ کرلیں، آپ کے بچے بھی چھوٹے ہیں۔ اس ٹرپ کا پیکیج ایک لاکھ پینسٹھ ہزار ہے، اپنا بجٹ بھی دیکھ لیں۔ یہ فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے پڑتے ہیں۔ ہر پہلو کو دیکھنا پڑتاہے۔”کسی نے آہستہ آواز میں سنجیدگی سے کہا۔
    ”میں سب Manage کرلوں گی۔ آپ میرا نام بھی لکھ لیں۔ میں بھی ترکی جانا چاہتی ہوں۔”
    میں نے حتمی انداز میں اعتماد سے کہا۔ سوچ بچار، نظرثانی جیسی فلسفیانہ باتیں کہیں پیچھے رہ گئیں۔
    اس لمحے مجھے فیصلہ کرنے کی قوت کا ادراک ہوا۔ انسان کے دل و دماغ میں بہت سی قوتیں ہوتی ہیں جس کا اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔
    ”ہاں ضرور چلیں۔ میں آپ کو ترکی گروپ میں شامل کرلیتی ہوں۔ آپ ٹریول ایجنٹ سے بات بھی کرلیجئے گا وہ آپ کو ٹریول پلان بھی بھیج دیں گے۔”
    یاسمین مشتاق نے خوشدلی سے کہا۔
    وہ خوش اخلاق اور خوش مزاج شخصیت کی مالک تھیں۔ ترکی جانے کی خوشی اور ایکسائیٹمنٹ اتنی زیادہ تھی کہ میں نے جوش وولولے کے ساتھ اپنا نام لکھوا دیا اور ترکی گروپ میں شامل ہوگئی۔
    میں خوشی خوشی گھر آئی اور گھر والوں کو یہ اہم اطلاع دی جسے سن کر ہر کوئی حیرت زدہ رہ گیا۔ گھر والوں کو کس طرح راضی کیا یہ ایک الگ کہانی ہے۔ میں نے ٹریول ایجنٹ سے بات چیت کر لی اور ایڈوانس بھی جمع کروا دیا۔ پاسپورٹ میرے پرس میں ہی پڑا تھا۔ اس پاسپورٹ کی کہانی بھی حیرت انگیز تھی۔ کچھ عرصہ قبل میں نے زی انڈیا کے لئے ایک ڈرامہ لکھا تھا جس کی میٹنگ کے سلسلے میں مجھے اور مصباح شفیق کو دبئی جانا تھا مگر میرا پاسپورٹ نہیں بنا ہوا تھا کہ کبھی پاسپورٹ بنانے کا خیال ہی نہیں آیا تھا۔ پھر مجھے ارجنٹ پاسپورٹ بنوانا پڑا مگر میٹنگ دو دن بعد ہی تھی تو مصباح اکیلی ہی دبئی چلی گئی۔ میں باربار پاسپورٹ دیکھ کر آہ بھرتی۔ پاسپورٹ تو بن گیا مگر دبئی کا ٹؤر نکل گیا۔ اس بات کا غم مہینوں دل میں رہا مگر اب غم کے خوشی میں بدلنے کا وقت تھا۔
    جب انسان پہلی بار کسی فارن ٹرپ پر جارہا ہوتا ہے تو بچوں کی طرح ایکسائیٹڈ ہوتا ہے۔ میں نے ٹرپ کا پلان پڑھا۔ استنبول، انقرہ، قونیہ اور کپاڈوکیہ کے اہم مقامات کی تصاویر بار بار انٹرنیٹ پر دیکھتی رہتی۔ نئے کپڑے سلوائے، بہترین سوٹ کیس خریدا، جیولری ، جوتے، پرس نیز خوب شاپنگ کی۔ ہاں بھئی عمر کتنی بھی منزلیں طے کرلے، خواتین کا دل ہمیشہ ٹین ایجر ہی رہتاہے۔
    خیر 24 اگست کو ہم سعودی ایئرلائنز کے ذریعے ترکی کے لئے روانہ ہوئے۔ جہاز میں بیٹھ کر دل ذرا خوفزدہ ہوگیا۔ میں پہلی بار جہاز میں تب بیٹھی تھی جب میں بارہ سال کی تھی۔ ابا جان سعودی عرب سے واپس آئے تھے اور ان کی پوسٹنگ ملیر کینٹ کراچی ہوئی تھی۔ ہم لاہور سے کراچی جہاز میں گئے تھے۔ پھر شادی کے بعد میاں کی پوسٹنگ بہاولپور رہی تو میں اپنے بیٹے علی کے ساتھ بہاولپور سے پنڈی اور پنڈی سے بہاولپور جہاز میںآیا جایا کرتی اور سارے کینٹ میں جہازوں میں سفر کرنے والی خاتون مشہور ہوگئی تھی مگر پھر بھی اب جہاز میں بیٹھ کر دل خوفزدہ ہوگیا۔ خوف کا تعلق عمر سے نہیں وِل پاور سے ہوتا ہے۔ خیر میں نے اپنی ہمت بندھائی اور خود کو حوصلہ دیا۔ میرے دائیں جانب خالدہ سعید اور بائیں جانب یاسمین مشتاق بیٹھی تھیں۔ سائیڈ والی سیٹ پر رفعت اور عبدالستار صاحب بیٹھے تھے۔

    ایئر پورٹ پر اچانک کچھ ایسے واقعات رونما ہوگئے تھے کہ جن کی وجہ سے بہت سے مسافر اپ سیٹ تھے۔ مسز شہناز سردار کے دو پاسپورٹ تھے وہ ایک پاسپورٹ لائیں دوسرا نہ لاسکیں اور بورڈنگ کلوز ہوگئی۔ وہ اور ان کے میاں جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔ عائشہ عمران کے میاں بھی کسی وجہ سے جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔ وہ اپنی بہن مہوش کے ساتھ بیٹھی تھیں اور مسلسل رو رہی تھیں۔
    ”حوصلے سے کام لیں، نہ روئیں۔”
    ارد گرد بیٹھے لوگوں نے ہمدردی سے سمجھایا مگر ان کا غم کم نہ ہوا۔
    ”گھر سے نکلتے وقت ہم دونوں کتنے خوش تھے کہ ترکی جارہے ہیں۔ کئی دنوں سے خوشی خوشی تیاریاں کررہے تھے۔ مگر میں جہاز میں سوار ہوگئی اور وہ وہیں ایئرپورٹ پر رہ گئے ۔
    ” میرا دل رو رہا تھا۔”
    وہ آنسو بہاتے ہوئے رقت آمیز انداز میں بولیں۔
    ”آپ پریشان نہ ہوں۔ وہ بھی جلد آجائیں گے۔”
    لوگوں نے تسلی دی سب مسافر ان کے غم میں برابر کے شریک تھے۔
    سب مسافر خوشی خوشی جہاز میں سوار ہوگئے، میرے میاں کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا!”
    وہ پھر رونے لگیں۔ آہیں اور سسکیاں گونجنے لگیں۔
    ”آپ کی شادی کو کتنا عرصہ گزرا ہے؟”
    کسی نے پوچھا۔
    ”اٹھارہ سال۔”
    انہوں نے جواب دیا۔
    ”آپ کے بچے ہیں؟”
    کسی نے سوال کیا۔
    ”میرے چھ بچے ہیں۔”
    وہ اسی انداز میں بولیں۔
    ”پھر بھی محبت کا یہ عالم ہے!”
    کسی نے بے ساختہ کہا۔
    ”محبت عمر، وقت ، سال، مہینے نہیں دیکھتی۔ اس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ وقت سے نہیں۔”
    کسی نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔
    مہوش اور ان کے شوہر فیصل عائشہ عمران کو تسلیاں اور دلاسے دیتے رہے۔ مشتاق صاحب بھی سمجھاتے رہے کہ فکر نہ کریں۔ عمران صاحب اگلی فلائٹ سے ترکی پہنچ جائیں گے مگران کے دل کو تسلی نہ ملی اور وہ آنسو بہاتی رہیں۔”
    ”سفر کے دوران اکثر ایسے واقعات ہوجایا کرتے ہیں، فکر نہ کریں سب ٹھیک ہوجائے گا۔”
    سب نے ہمدردی کا اظہار کیا۔
    یاسمین مشتاق نے بھی اپنے آنسو صاف کئے۔
    ”آپ کیوں رو رہی ہیں؟”
    میں نے حیرت سے پوچھا۔
    ”میرے میاں نے ایئرپورٹ سٹاف کی بہت منت سماجت کی کہ تھوڑا انتظار کرلیں۔ عمران صاحب کا پاسپورٹ غلطی سے ٹریول ایجنسی کے دفتر میں رہ گیا تھا۔ وہاں سے ایئرپورٹ پہنچنے میں آدھا گھنٹہ مزید لگنا تھا مگر ایئرپورٹ سٹاف نے بورڈنگ کلوز کردی۔ اپنے علاقے میں میرے میاں کا بہت رعب ہے۔ انہوں نے کبھی کسی شخص کی اتنی منت سماجت نہیں کی مگر آج میری وجہ سے انہیں لوگوں سے اتنی ریکوئیسٹ کرنی پڑی۔ اس با ت کا مجھے بہت افسوس ہے۔ وہ اپنے کئی اہم کام چھوڑ کر میرے ساتھ اس ٹرپ پر آئے ہیں اور میری وجہ سے انہیں لوگوں سے ریکویسٹ کرنی پڑی جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔ ”
    انہوں نے آنکھ کے کنارے صاف کرتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔

  • جنت سے ایک خط | شہید برہان وانی بنامِ پاکستان

    جنت سے ایک خط | شہید برہان وانی بنامِ پاکستان

    جنت سے ایک خط
    شہید برہان وانی بنامِ پاکستان
    نفیسہ عبدالرزاق

    میرے پاکستانی بھائیوں!
    السلام علیکم!
    آج میں آپ سے پہلی بار مخاطب ہوں۔ پاکستان کا نام ہم کشمیریوں کے لئے کوئی نیا نہیں ہے، ہم جہاں پیدا ہوتے ہی آزادی کے نعرے سنتے ہیں وہیں پاکستان کا نام بھی سنتے ہیں۔ میں آج آپ کو اپنی داستان سنانا چاہتا ہو تھوڑی بہت تو آپ جان ہی چکے ہوںگے میرے شہید ہونے کے بعد۔ میں پھر سے اسے دُہراتا ہوں جب پندرہ برس کی عمر میں اپنے بھائی کے ساتھ جاتے ہوئے قابض بھارتی فوج نے ہمیں بلاوجہ تذلیل کا نشانہ بنایا تب شاید پہلی بار غلامی کا مجھے بے پناہ احساس ہوا اس تذلیل نے ایک پل چین نہ لینے دیا اور میں برہان جو اپنی جماعت میں ہمیشہ اول رہتا تھا میرے آگے ایک روشن مستقبل تھا مگر مجھے غلامی سے نفرت ہے سو اسی غلامی کو آزادی میں بدلنے کے لئے میں گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ بہت سے مشکل پڑائو آئے میں رکا نہیں چلتا ہی گیا، بہت سے مقامی مجاہدین کی طرح میں نے بھی پاکستان کی طرف دیکھنے سے گریز کیا، اپنے زور بازو اور اللہ کی مدد کے سہارے میں کم وقت میں کشمیر کے ہر گھر کا ہر دل عزیز بن گیا۔ دشمن کو ناکوں چنے چبوائے مگر آزادی کی روشن صبح ابھی دور تھی ۔ بائیس سال کی عمر میں شہادت کا پروانہ آپہنچا یہ وہ عمر ہوتی ہے، جس میں ہر نوجوان اپنا کیریئر پلان کرتا ہے مگر مجھے کوئی افسوس نہیں، میں نہیں تو کیا ہوا ہماری آنے والی نسلیں ضرور آزاد فضائوں میں سانس لیں گی ( اِن شاء اللہ)۔ خیر،میری آج خاص طور پر آپ سب سے مخاطب ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ میرے جنازے کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹا گیا مجھے اس پرچم سے بے حد اُنسیت محسوس ہوئی مجھے لگا میرے بعد میرا کشمیر تنہا نہیں ہوگا پاکستانی ہر بار کی طرح آگے آئیںگے مگر یہ کیا میرے جانے کے بعد جنت نظیر وادی میں ہنگامے پھوٹ پڑے ”ہر گھر سے برہان نکلے گا”کے نعرے گونجے اور ساتھ میں وردی والے دہشت گرد بغیر کسی تخصیص کے گولیاں برسانے لگے اور ان چاردنوں میں بہت سے برہان سبز پرچم میں لپٹے مجھ سے آ ملے۔
    میں اُن کی طرف آس و امید سے دیکھتا رہا کہ وہ مجھے بتائیں گے پاکستانیوں نے بھارتی ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی ہے ان کو منہ توڑ جواب دیا ہے کیوںکہ غلام تو ہم ہیں آپ تو آزاد قوم ہیں اور آزاد قومیں خود مختار ہوتی ہیں وہ مل کر جابر کو للکار سکتی ہیں مگر میرے یہ شہید بھائی تو کوئی اور داستان سُنا رہے تھے آپ لوگ تو بہت مصروف ہیں آپ کے پاس وقت نہیں کہ ہمارے بارے میں جانیں، آواز بلند کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ جب آپ کی مصروفیات کی بابت دریافت کیا تو معلوم ہوا عید کے دن ہیں اس لیے سینما میں بھارتی فلمیں لگی ہیں اور یہی آپ کی مصروفیات ہیں۔ یقین کیجیے یہ سُن کر دل لہو لہو ہوگیا۔ آپ کو ہمارا کتنا خیال ہے نا کہ سینما میں جا کر بھارت کو کروڑوں کا بزنس دیتے ہیں، جس سے وہ ہتھیار بنا کر ہمارے سینوں پر وار کر کے ہمیں شہید کرتے ہیں اور ہمیں ڈائریکٹ جنت کا ٹکٹ تھماتے ہیں۔
    جنت تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے تو آپ کی بدولت ہمارے لیے جنت کا رستہ بہت آسان ہوجاتا ہے۔ صرف میڈیا نہیں آپ تو پور پوردشمنکے جال میں قید ہوتے جا رہے ہیں، جس کی قید سے ہم آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ فلمیں اور ڈرامے آپ اُن کے دیکھتے ہیں سارا سارا دن گانے آپ ان کے سنتے ہیں پھر مارکیٹ جا کر ان ہی کی پراڈکٹس خریدتے ہیں پھر کہتے ہیں کیا کریں میڈیا یہی دکھاتا ہے آپ ایک بار بائیکاٹ کر کے تو دیکھیں پھر میڈیا وہی دیکھائے گا جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں اپ ان کی چیزیں چھوڑ کر ایک بار اپنی چیزیں طلب تو کریں پھر کیسے وہ زبردستی آپ کو دشمنوں کی چیزیں تھمادیں گے۔
    ارے ہاں! یہاں پہنچ کر میری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی ہوئی میرے اور دوسرے آنے والے ساتھیوں کے ذریعے انہیں آپ کے حالات معلوم ہوئے بہت اُداس ہوئے کہنے لگے: ”میری قوم کو کیا ہوگیا؟ انہیں جس کی غلامی سے آزاد کروایا تھا آج ذہنی طور پر اسی کے غلام بنے بیٹھے ہیں۔ کتنی قربانیاں! کتنی قربانیاں! آہ…کیوں بھول گئے کہ شہیدوں کے لہو سے سینچا تھا اس گلزار کو۔ اگر انہیں کے رسم و رواج پر چلنا تھا تو وہ سب لہو رائیگاں گیا نا برہان! پھر کیوں ان کشمیریوں کے لئے اپنی جوانی، اپنا مستقبل سب چھوڑ کر اس راہ کا انتخاب کرلیا یہ بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ نہیں رہتی میری قوم کو یاد قربانیاں۔”

  • مدیر سے پوچھیں | پرویز بلگرامی

    مدیر سے پوچھیں | پرویز بلگرامی

    مدیر سے پوچھیں
    پرویز بلگرامی

    ٭ اپنی کہانی کے بارے میں بتائیں، آپ اس فیلڈ میں کب سے ہیں؟ کیسے آنا ہوا اس فیلڈ میں؟

    پرویز بلگرامی: جہاں تک لکھنے کا سوال ہے تو کم عمری سے لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن چھپنے کی ابتدا روزنامہ جنگ کے نونہال لیگ یعنی بچوں کے صفحہ سے ہوئی پھرماہنامہ چاند میں لکھا.لیکن جب پروفشنلی لکھنے کا آغاز کیا تو ڈائجسٹوں کے دفاتر میں آنا جانا بڑھ گیا۔اسی دوران میں شمیم نوید صاحب سے قربت بڑھی اور ان کے مشورے پر سچی کہانیاں جوائن کر لیا۔اس وقت وہ اس پرچے کے مدیر تھے ۔لیکن کچھ ہی عرصہ بعد میں نے سچی کہانیاں چھوڑ دیااور پھر سے فری لانسنگ کرنے لگا۔شمیم نوید کے بعد سلیم فاروقی صاحب سچی کہانیاں کے مدیر بنے تو میں دوبارہ سے سچی کہانیاں میں آگیا۔اس وقت سچی کہانیاں ۔دوشیزہ کی ٹیم میں تمام لوگ کو آپریٹیو تھے۔سیما غزل تھیں۔مصطفیٰ ہاشمی تھے۔دانش دیروی تھے ۔سلیم آزر تھے۔ثمینہ یاسمین تھیں۔خوب وقت گزرا۔1994میں سلیم فاروقی سچی کہانیاں چھوڑ گئے تو میں نے ادارت سنبھال لی۔تب سے 2008 تک سچی کہانیاں کو سجاتا سنوارتا رہا پھر جاسوسی ڈائجسٹ پبلیکشن کے ماہ نامہ سرگزشت میں آگیا۔تب سے یہیں ہوں۔

     

    ٭ ایک مہینے میں آپ کو اوسطاً کتنے مسودے موصول ہوتے ہیں؟ اور آپ کا تحریروں کی چناؤ کا کیا معیار ہوتاہے؟

    پرویز بلگرامی : سچی کہانیاں میں نئے مصنفین کو اولیت دی جاتی تھی۔وہاں کام کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔نئے مصنفین کا آئیڈیا لے کر ہم لوگ کہانیاں لکھ دیتے تھے اور اسے شائع کیا جاتا اسی مصنف کے نام سے جس کی وجہ سے پرچے کی خریداری بھی بڑھتی اور نئے لکھنے والے کو حوصلہ بھی ملتا۔وہاں جو لوگ لکھتے تھے ان سے باضابطہ خط و کتابت کیا کرتا تھا۔انہیں ان کی کہانیوں کی خامیاں بتاتا۔لکھنے کا انداز سمجھاتا یہی وجہ ہے کہ سچی کہانیاں سے شروعات کرنے والوں میں سے کچھ اب نامور بن چکے ہیں۔اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔لیکن سرگزشت ذرا تیڑھا پرچہ ہے۔اس میں لکھنے کے لیے مصنف کا مطالعہ وسیع ہونا ضروری ہے کیونکہ سرگزشت انفورمیٹیو میگزین ہے۔لیکن اس کا ایک حصہ ایسا ہے جس میں نئے مصنف لکھ سکتے ہیں۔جن کی کہانیاں آتی ہیں اور اس میں کوئی ہلکی پھلکی خامی نظر آتی ہے تو مصنف کو اطلاع دے دیتا ہوں کہ اپنی کہانی کو اپنے مسودے سے ملا کر دیکھیں کہ کون کون سی تبدیلی ہوئی ہے پھر بلا جھجک پوچھ لیں کہ وہ تبدیلی کیوں کی ہے۔جو لوگ فون کرتے ہیں ان کو جواب دیتا بھی ہوں اور کہانیوں کے سلسلے میں مشورے بھی دیتا ہوں۔در اصل یہ طریقہ شمیم نوید کا تھا اور پھر سلیم فاروقی نے اختیار کیا ۔ اپنے دو سینئر کو جس راہ پر چلتے دیکھا اسی راستے پر میں بھی چلنے لگا۔یہی وجہ ہے کہ نئے مصنفین مجھ سے بہت زیادہ قریب ہیں۔میں پابندی سے ہر نئے لکھنے والے کو تاکید کرتا رہتا ہوں کہ وہ جملوں کی بندش پر خصوصی توجہ دیں۔جس طرح دریا کی لہریں اٹھتی ہیں اسی طرح جملوں میں روانی رہنا چاہیے تا کہ پڑھنے والے کو لطف آئے۔پھر کہانی کو آگے بڑھانے کا صحیح انداز اپنائیں ۔معروف مصنفین کی تحریر کو بہ نظر غور دیکھیں کہ وہ کہانی کو کس طرح آگے بڑھا رہے ہیں۔وہی انداز اپنائیں ۔خاص کر تجسس پیدا کرنے کی ضرور کوشش کریں تا کہ قاری اگلا صفحہ ضرور پڑھے۔جملوں کی ساخت آسان رکھیں تا کہ ایک کم پڑھا لکھا بھی بہ آسانی سمجھ لے کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔کہانی آہستہ آہستہ اٹھائیں اور پرت پرت کھولیں۔نہ زیادہ سست رکھیں اور نہ بہت تیز بھگائیں۔کہانی کو آگے بڑھانے کی رفتار پر مکمل کنٹرول رکھیں۔اختتام ایسا ہو کہ قاری چونک جائے لیکن غیر فطرتی نہ لگے۔

     

    ٭ہ کون سی چند چیزیں ہیں جن کا خیال ایک نئے لکھنے والے کو اپنا کام آپ کو بھیجتے ہوئے رکھنا چاہیے؟

    پرویز بلگرامی :مصنفین کو کہانی بھیجنے کے پہلے کم سے کم تین بار ضرور پڑھنا چاہیے۔اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کہانی لکھ کر ایک طرف رکھ دیں پھر دوسری کہانی شروع کر دیں۔اسے مکمل کر کے الگ رکھ دیں اور تیسری کہانی شروع کر دیں۔اسے مکمل کر کے پہلی کہانی کو پڑھیں۔اس طرح اس کہانی کی خامیاں سامنے آتی جائیں گی۔اسے ایڈیٹ کر کے الگ رکھ دیں اور دوسری کو پڑھیں۔اس کی خامی درست کر کے تیسری کو نکال لیں۔اسے درست کرنے کے بعد پھر پہلی کہانی کو پڑھیں۔اگر ایک کہانی کو آپ نے تین بار پڑھ کر درست کر لیا تو یقینا وہ کہانی خامیوں سے بہت حد تک مبرا ہو جائے گی۔ہر نئے مصنف کو ابتدا میں اس طریقہ کو ضرور اپنا نا چاہیے۔لیکن لکھنے والے کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔اگر وہ دن بھر میں اس کام کو دس گھنٹے دیتا ہے تو اسے لکھنے کے لیے صرف دوگھنٹے صرف کرنا چاہیے۔اس سے اسے لکھنے کے لیے مواد بھی ملے گا اور جملوں کو برتنے کا صحیح انداز بھی علم میں آتا جائے گا۔
    ٭بطور مدیر کیا آپ ایسے موضوعات پر کام کرتے ہیں جو risky ہوں؟
    پرویز بلگرامی : ادارتی کام ہوتا ہی رسکی ہے۔ذرا سی نظر چوکی اور غلط مواد چھپ گیا۔خود میرے ساتھ ایک بار ہو چکا ہے۔لکھنے والا خاصہ تجربے کار۔منجھا ہوا لکھاری۔ایک ایسا مضمون لکھ گیا جس پر محکمے حرکت میں آگئے۔بعد میں اس مضمون کو پڑھا تو سر پیٹ لیا اس لیے کہ اس میں کئی ایسی باتیں تھیں جو پرنٹ نہیں ہونا چاہیے تھا۔مصنف سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ یہ معلومات نیٹ سے لیا ہے۔نیٹ پر سچ کے علاوہ جھوٹ بھی بھرا پڑا ہے۔سچ اور جھوٹ کی اگر مدیر کو پرکھ نہ ہو تو ایسی باتیںہوجانا تعجب خیز نہیں۔ویسے نئے تجربے کے لیے رسک لینا ضروری ہے۔جس مدیر کے اندر نیا کچھ کرنے کی امنگ نہ ہو اس کا پرچہ لکیر کا فقیر ہوتا ہے۔

    ٭ نئے موضوعات پر کام کرنے کے لیے زیادہ موزوں کون ہوتا ہے؟ نئے رائٹرز یا پرانے رائٹرز؟

    پرویز بلگرامی: پرانے لکھاری نسبتاً بہتر انداز میں نئے موضوع کو برت سکتے ہیں۔نئے لکھاری کے جملوں بے ساختگی نہیں ہوتی۔بے ساختگی تجربے سے آتی ہے۔پرانے لکھاری الفاظ کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔مثلاً نیا لکھاری لکھے گا” چچا جان کی شیو بڑھ آئی تھی۔”جب کے پرانا لکھاری لکھے گا”شیو نہ کرنے کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ چچا جان کے گالوں پر چیونٹیوں کے انڈے سینکڑوں کی تعداد میں بکھرے ہوئے ہیں۔” اس سے سطر بھی بڑھی اور پڑھنے والے کو جملے کے بڑے ہونے کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔

     

    ٭نئے لکھنے والوں میں آپ کی رائے میں کون ہے جو اچھا کام کررہا ہے؟

    پرویز بلگرامی: ڈائجسٹوں میں جن کی تحریریں چھپ رہی ہیں ان نئے مصنفیں میں ناصر ملک ۔ندیم اقبال۔محمد فاروق انجم۔ڈاکٹرعبدالرب بھٹی کے علاوہ بھی چار پانچ مصنف بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔

     

    ٭ دنیا بھر کے لکھنے والوں میں آپ کا پسندیدہ رائٹر کون ہے؟

    پرویز بلگرامی :دنیا بھر کے رائٹرز میں کسی ایک یا دو کا نام لینا میرے خیال سے صحیح نہیں ہے۔اس لیے کہ ہر رائٹر کا ایک دو کام ہی ایسا ہوتا ہے جو اس کی پہچان بن جاتا ہے۔اگر پسندیدگی کی نظر سے دیکھوں تو مجھے جاپانی مصنف جیرو اکاگاوا کے جتنے ترجمے پڑھے ہیں سب پسند آئے ہیں۔زبردست مسٹری ۔اسی طرح بنگلہ کے نہار رنجن گپت۔امریکا کے اسٹیفن کنگ پسند آئے ہیں۔لیکن جب ہم اردو کی طرف آتے ہیں تو ابن صفی پر سوئی رک جاتی ہے۔لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ مجھے آگ کا دریا یا علی پور کا ایلی پسند نہیں آیا۔در اصل ہر ایک کی پسند ایک خاص نکتے کے گرد گردش کرتی ہے۔ورنہ تو اردو میں جتنے اچھے ناول لکھے گئے ہیں اس کی مثال مشکل ہے کیونکہ عالمی زبانوں میں سب سے نئی زبان اردو ہی ہے۔چائنیز جاپانی فرنچ جرمن انگلش کے مقابلے میں اردو کی عمر بہت کم ہے لیکن فیکشن رائٹنگ میں اردو کسی بھی طرح پیچھے نہیں ہے ۔

     

    ٭ آپ کی پسندیدہ صنف کون سی ہے؟

    پرویز بلگرامی: کہانیوں کی ہر صنف پڑھنے میں اچھی لگتی ہے جہاں تک لکھنے کا تعلق ہے تو میں نے ہر قسم کی کہانیاں لکھی ہیں۔رومانی۔خوفناک۔تھرل سسپنس لیکن جہاں تک ڈوب کر لکھنے کا تعلق ہے مجھے ہارر لکھنے میں زیادہ مزہ آتا ہے مزے کی بات یہ ہے کہ تھریل زیادہ لکھا ہے۔لیکن جب چھاپنے کی بات آتی ہے تو میں معاشرتی مسائل کی کہانیاں پرچے میں شامل کرنے پر زور دیتا ہوں۔کیونکہ عام قاری اپنے مسائل کو پڑھنا پسند کرتا ہے۔بشرطیکہ لکھنے والا پیش کرنے کا فن جانتا ہو۔
    ٭ کہانی کی کون سی ایسی صنف ہے جو آپ کو غیر دلچسپ لگتی ہے؟
    پرویز بلگرامی : مجھے ایسی کہانیاں بالکل پسند نہیں جن میں انسانی نفسیات کے نام پر جنس زبردستی ڈالی جائے یا اوچھے جملے لکھ کر قاری کو بھٹکانے کی کوشش کی جائے۔منٹو کے پاس الفاظ کا ذخیرہ تھا۔وہ کہانی کو الفاظ سے ملفوف کر کے پیش کرتے تھے لیکن تسکینی انداز میں نہیں بلکہ نشتر بنا کریہی وجہ ہے کہ میں جنس زدہ کہانیوں کو فوراً رد کر دیتا ہوں۔
    ٭ آپ نے اب تک ماشااللہ بہت کام کیا ہے، کوئی ایسا پراجیکٹ جو آپ کے دل کے بہت قریب ہو؟
    پرویز بلگرامی : مجھے اپنے دو ناول کا پلاٹ بہت پسند ہے ”جرمِ مسلماں” اور ” دوسرا جنم”لیکن یہ بھی خود سے شکواہ ہے کہ میں جس انداز میں وہ دونوں ناول لکھنا چاہتا تھالکھ نہیں پایا کیونکہ جس ڈائجسٹ میں وہ کہانی قسط وار چھپ رہی تھی اس کے ریڈر میں جیسا چاہتا تھا اس انداز میں اسے پسند نہیں کرتے۔مجبورا پرچے کے قارئین کو ذہن میں رکھ کر لکھنا پڑا۔اپنے دل کی اس چبھن کو مٹانے کے لیے میں ان دونوں ناول کو دوبارہ لکھوں گا۔ایک اور طویل کہانی” میری منزل میرا رستہ”اور سرگزشت کے ١٩٩١ کے کسی شمارے میں بعنوان ”ایک کہانی”کا پلاٹ مجھے

  • مدیر سے پوچھیں | علی عمران سے ملاقات

    مدیر سے پوچھیں | علی عمران سے ملاقات

    مدیر سے پوچھیں
    علی عمران سے ملاقات

    علی عمران کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں مشہور سٹِ کام سیریلز ‘نادانیاں’، ‘بلبلے’ کے مصنف کے طور پر تو سب انہیں جانتے ہی ہیں لیکن اس کے علاوہ وہ اے آر وائی ڈیجیٹل میں بہ طور کونٹینٹ ہیڈ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس ماہ مدیر سے پوچھیں کے سلسلے میں ہمارا انتخاب ہیں علی عمران۔
    ٭ کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟ ہمارے قارئین جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے لکھنا کب شروع کیا؟
    علی عمران: میں نے اپنا کام ریڈیو پاکستان سے زمانۂ طالب علمی میں شروع کیا تھا ، وہاں ایک پروگرام ہوا کرتا تھا ‘بزمِ طلبہ’، اس میں لکھنے اور پڑھنے والے آیا کرتے تھے، میری شروعات وہاں سے ہوئی تھیں، چوں کہ آرٹس کونسل پڑوس میں ہی تھا تو پیدل چل کروہاں جایا کرتا تھا، اس زمانے میں وہاں سٹریٹ تھیٹر ہوا کرتا تھا میں اپنے ریڈیو کے کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں گیا۔ بزمِ طلبہ کے تھیٹر کی ایک ٹیم تھی جس نے وہاں پر تھیٹر کیا اور ہم وہ دیکھنے گئے ۔مجھے بڑا متاثر کیا اس پلے نے اور ان ساری چیزوں نے اس کے ساتھ ہی اس چیز نے مجھے اعتماد بھی دیا کہ میں لکھ بھی سکتا ہوں، یہ کوئی اتنی مشکل چیز بھی نہیں ہے۔ پھر میں نے ایک تھیٹر پلے لکھا، جس گروپ کے لئے لکھا تھا انہوں نے اس کو اچھا ڈائریکٹ نہیں کیا، میں نے سوچا کہ یہ خود ڈائریکٹ کرنا چاہیے تو پھر ہم نے ایک چھوٹا سا تھیٹر گروپ بنایا میزان کے نام سے، اس زمانے میں لڑکیاں تھیٹرمیں بہت کم آتی تھیں خاص طور پر سنجیدہ تھیٹر میں، تو ہمارے ایک دوست کہتے تھے یار شادیاں کرو اور اپنی بیویوں سے کام کرواؤ( قہقہہ) بہرحال اس گروپ سے ہم نے ایک پلے کیا، خود لکھا، خود ڈائریکٹ کیا خود ہی ایکٹ بھی کیااور مزے کی بات ہے دیکھا بھی خود ہے (مسکراتے ہوئے)۔ لیکن اس کا اپنا نشہ تھا، کہتے ہیں کہ تھیٹر کا نشہ کوکین کے نشے سے زیادہ خطرناک ہے۔ کوکین کا نشہ ہم نے کبھی کیا نہیں ، تو پھر وہ ایک نشہ لگ گیا اور بڑی برُی لت لگ گئی ( مسکراتے ہوئے) ہم گھنٹوں آرٹس کونسل کے چبوترے پر بیٹھا کرتے تھے۔ ٹیلی ویژن میں بہت بعد میں آیا ہمارے ایک بہت اچھے رائٹر ہیں فصیح باری خان، ان سے میری واقفیت تھی ، ان سے میں نے درخواست کی کہ اگر ٹیلی ویژن کے لئے کوئی کام مل سکے، اس زمانے میں ایک پروڈکشن ہاؤس تھا BMN پروڈکشن میمونہ صدیقی کا ان کے پاس انہوں نے بھیجا، میںنے ان کے لئے ایک ٹیلی فلم لکھی، وہ آج تک بنی نہیں لیکن مجھے اس کے پیسے مل گئے تھے (مسکراتے ہوئے) اور اس کے جب پیسے ملیں تو مجھے لگا کہ یار یہ تو اچھا کام ہے تو میں باقی سب جو کام کررہا تھا اپنی زندگی میں وہ چھوڑ کر اس ہی طرف آگیا۔میں نے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا تھا ، نفسیات کا علم تھا، ادب سے تو خیر شروع سے ہی لگاؤ تھا ، لکھتا بھی تھا، ریڈیو نے وہ خوف دور کیا، اس کے بعدتھیٹر نے بہت سکھایا، اور پھر ٹیلی ویژن ایک بالکل الگ میڈیم تھا۔
    ٭ ایک مہینے میں اوسطاً کتنے مسودے اور آئیڈیاز آپ کے پاس آجاتے ہیں اور آپ کا سلیکشن کا طریقہ کار کیا ہے؟
    علی عمران: جس چینل میں میں بیٹھا ہوں اس کی اپنی requirement ہے اور اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم چیزوں کو سلیکٹ کرتے ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ ہم ہر کہانی اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ وہ سکرپٹ اچھا نہیں ہے یا کہانی اچھی نہیں ہے، کئی بار ہم وہ اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ وہ ہمارے چینل کی requirement سے match نہیں کررہی ہوتی۔ بہت اچھے اور خوبصورت سکرپٹس ہوتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرپاتے ہیں کیوں کہ ہمیں تھوڑا محتاط ہونا پڑتا ہے اور آپ نے مہینے کی بات کی ہے تو وہ تو میں نہیں بتا پاؤں گا لیکن ہمیں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً چالیس، پچاس نئے مسودے مل رہے ہوتے ہیں ، اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔
    ٭ کیا آپ riskier themes پر کام کرتے ہیں؟یا پھر جو آپ کا چینل پروفائل ہے اس ہی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کام کرتے ہیں؟
    علی عمران: دونوں چیزیں ہوتی ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ٹیلی ویژن لوگوں کا مزاج بناتا ہے ۔میں جب سے یہاں ہوں میری کوشش ہوتی ہے کہ چینل کی جو requirement ہے اس کو feed کیا جائے اس کے علاوہ میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ساتھ ساتھ ہم ایسا کونٹینٹ بھی بناتے جائیں جو لوگوں کو دوسرے طریقے سے کہانی سننے اور دیکھنے کا بھی عادی بنائے ۔ ہم نے ایشوز پر کہانیاں بہت کی ہیں، ہم نے controvercial taboos پر بھی کام کیا ہے، صرف روتی دھوتی عورتوں پر کام نہیں کیا ۔

    ٭ آپ کے خیال میں نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے کون سے رائٹرز زیادہ موزوں ہیں؟ نئے رائٹرز یا سینئر اور منجھے ہوئے؟
    علی عمران: دیکھیں دونوں کے اپنے pros and cons ہیں، دونوں کی اپنی اچھائی اور کمی ہوتی ہیں۔ نئے لکھنے والوں کے پاس انرجی بہت زیادہ ہوتی ہے، passion بہت ہوتا ہے ان میں، ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کچھ ہٹ کر کام کیا جائے۔ جہاں تک پرانے رائٹرز کا تجربہ بہت count کرتا ہے ان کو سکرپٹ کی تکنیک کا پتا ہوتا ہے، ان کے ساتھ کام کرنے میں وہ دقّت نہیں ہوتی جو نئے رائٹرزکے ساتھ کام کرنے پر ہوتی ہے ،اگر آپ ہمارا پورا اردو ادب اٹھا کر پڑھ لیجیے، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کہانیاں کم و پیش ایک ہی جیسی ہوتی ہیں، ان کا اسلوب انہیں مختلف بناتا ہے، مجھے مغربی ادب کی کہانیاں بہت اپیل کرتی ہیں وہاں پر انسانی نفسیات پر اور آج کے انسان پر کہانیاں ہوتی ہیں جس پر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کام نہیں ہوپایا ہے ۔ نئے رائٹرز بھی اچھا لکھ رہے ہیں، پرانے رائٹرز بھی اچھا لکھ رہے ہیں، کچھ پرانے رائٹرز ہیں، جو اچھا نہیں لکھ رہے، کچھ نئے رائٹرز ہیں جو اچھا نہیں لکھ رہے۔ یہ کرتے کی وِدّیا ہے جو کرنے سے آتی ہے۔
    ٭ ابھی جو آپ نے بات کی پاپولرفکشن کی، ہمارے ملک میں دو طبقے بنے ہیں، ایک ادب اور ایک فکشن۔ ادب والے فکشن رائٹر کو کچھ سمجھتے نہیں ہیں، آپ کے خیال میں یہ درست ہے؟
    علی عمران: ہر آدمی کا اپنا ایک نظریہ ہے، اپنی ایک سوچ ہے ، لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ ہر قسم کی سوچ کو اظہارکا موقع دینا چاہیے۔ اگر ایک آدمی اپنے ڈھب سے کہانی سنانا چاہتا ہے تو اس کو سنانے کا موقع ضرور دیں،یہ فرق ہمیشہ سے رہا ہے، میں اس چیز کا حامی ہوں کہ ہر طرح کا کام سامنے آنا چاہیے۔
    ٭ نئے لکھنے والوں میں کچھ ایسے نام جن کا کام آپ کو زیادہ بہتر لگا ہو؟
    علی عمران: بہت سارے ہیں، نئے رائٹرز میں مجھے لگتا ہے کہ بہت پوٹینشل ہے، اور ہمارے پاس زیادہ تر نئے رائٹرز کام کررہے ہیں ۔ ہر رائٹر میں کچھ نہ کچھ خصوصیت ہوتی ہے ، کچھ کا سکرین پلے بہت اچھا ہوتا ہے، کچھ کے مکالمے اچھے ہوتے ہیں، کچھ کو کہانی کہنا بہت اچھی آتی ہے ۔ہر رائٹر میں کوئی نہ کوئی خاص بات ہوتی ہے، میں تو بڑا پراُمید ہوں، مجھے بڑی خوش آئند بات لگتی ہے، میری بس ایک درخواست ہوتی ہے کہ جو لکھ رہے ہیں اس کو ایمان داری سے لکھیں، جو لکھا ہے اس کو پڑھیں ضرور اور اس کو بار بار چھلنی سے گزاریں۔
    ٭ آپ نے ابھی کہا کہ زمانۂ طالب علمی سے آپ کا لکھنے پڑھنے کا شوق رہا ہے، تو کون سا ایسا ادیب ہے جس کی تحریریں آپ کو بہت اچھی لگتی ہیں؟
    علی عمران: لکھنے کا تو بہت بعد میں ہی شوق ہوا، پہلے پڑھنے کا شوق تھا اور بہت شوق تھا۔ ہماری یونیورسٹی کے زمانے میں یہ ہوتا تھا کہ آپ خواتین کو متاثر کرنے کے لئے اشعار سنایا کرتے تھے ، ہمارے زمانے کی لڑکیاں بھی اشعار سے بڑا متاثر ہوتی تھیں، ہم نے مختلف شعراء کے اشعار سنانا شروع کردیے ، بعد میں ہم پکڑے گئے کہ یہ کسی اور کے شعر تھے، اس احساسِ شرمندگی نے مجبور کیا کہ اب کچھ لکھا بھی جائے(قہقہہ) جہاں تک ایک ادیب کی بات ہے تو ایک کا نام لینا مشکل ہے۔بہت سارے ہیں ، اگر برِصغیر کی بات کی جائے تو سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی صاحب، گلزار صاحب، ممتاز مفتی صاحب ، عبداللہ حسین اور اگر آپ بین الاقوامی ادب کی بات کریں تو چیخوف ہیں۔
    ٭ کون سا writing genre کا آپ کو بہت پسند ہے؟
    علی عمران: مجھے نفسیاتی کہانیاں ہمیشہ سے پسند آئی ہیں اور ٹیلی ویژن کے اعتبار سے اگر پوچھا جائے تو مجھے رومانی کہانیاں پسند آتی ہیں۔
    ٭ کون سا writing genre جو آپ کو انتہائی غیر دلچسپ لگتا ہو؟
    علی عمران: آپ اگر یقین کریں گے تو میں بتادیتا ہوں مزاح (قہقہہ) میں سچی بات بتاؤں تو مجھے کامیڈی لکھنے میں بھی زیادہ مزہ نہیں آتا۔ میں بہت بے دلی سے لکھ کر اپنے ڈائریکٹر کو دے دیتا ہوں کہ بھائی جو سمجھ آئے اس کو شوٹ کردینا، اور وہ بہت اچھا نکل آتا ہے ، تو وہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ بے دلی سے ہی لکھا کریں، دل سے لکھیں گے تو رزلٹ اچھا نہیں آئے گا (قہقہہ)
    ٭ آپ کو نہیں لگتا کہ بلبلے بہت زیادہ طویل ہوگیا ہے اس کو اب بند ہوجانا چاہیے؟
    علی عمران: دیکھیں اگر آپ میری پسند ناپسند پر جائیں گے تو اس وقت ٹیلی ویژن پر چلنے والے آدھے سے زیادہ ڈرامے بند ہوجائیں گے ( مسکراتے ہوئے) میں نے کہا نا کہ چینل کی بھی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں اور ایسا ہرگز نہیں ہے کہ چینل ڈھیٹ بن کر بیٹھا ہوا ہے ، مجھے آج بھی بہت لوگ ملتے ہیں جو بلبلے دیکھتے ہیں اور باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔ میرا ماننا یہ ضرور ہے کہ اس کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔ یقینی طور پر ایک چیز اگر اتنی طویل ہوگی تو ایک وقت آئے گا کہ لوگ اس کو گھر کا سامان سمجھنے لگتے ہیں۔
    ٭ آپ نے کامیڈی کے علاوہ سنجیدہ بھی لکھا ہے؟
    علی عمران: میں نے شروعات سنجیدہ کام سے ہی کی۔ اب بدقسمتی ہے کہ لوگوں کو اس کے حوالے سے زیادہ پتا نہیں (قہقہہ) میں تو مزاح لکھتا ہی نہیں تھا ، نہ ہی لکھنا چاہتا تھا۔ میں نے کامیڈی کبھی نہیں لکھی، تھیٹر میں ڈارک کامیڈی تھوڑی بہت لکھی اور شاید وہی چیز میرے کام آگئی۔ ایک سیریل آتا تھا میں اور تم جو اظفرکرتے تھے،اس کے رائٹر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہوگیا تو اظفر میرے پاس آگئے اور کہنے لگے کہ علی بھائی آپ نے یہ لکھنا ہے ، میں نے کہا یار مجھے تو کامیڈی نہیں لکھنا آتا، تو انہوں نے کہا یار اتنا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، میرے ساتھ بیٹھ جاؤ یوں کرو، یہ کرو، اور ایسے کرلیتے ہیں، اور واقعی اظفر نے بڑا آسان کردیا۔
    ٭ آپ کے اب تک کے کیے گئے پراجیکٹ میں کون سا پراجیکٹ ہے جو آپ کو بہت پسند ہے؟
    علی عمران: میں نے شروع میں ایک شارٹ پلے کیا تھا، خاموشی کے نام سے جس میں فیصل قریشی اور ثانیہ سعید تھے اور عمران پٹیل اس کے ڈائریکٹر تھے، وہ پلے مجھے بہت پسند تھا۔ دوسرا میرا ایک سیریل تھا خراشیں، سیفی حسن نے ڈائریکٹ کیا تھا وہ بھی مجھے بہت پسند ہے۔ پھر فہد مصطفیٰ نے ایک سیریز شروع کی تھی ‘اور پھر’ کے نام سے اس کے میں نے پلے لکھے تھے۔ کامیڈی میں مجھے جو پسند ہے وہ نادانیاں ہیں، اور بلبلے۔۔اب تو نہیں لیکن شروع میں بہت پسند تھا(مسکراتے ہوئے)
    ٭ مقابلے کے باقی ایڈیٹرز میں کون سے ایسے ہیں جن کا کام آپ کو بہتر لگتا ہے؟

  • سیاہ اور سفید کے درمیان

    سیاہ اور سفید کے درمیان

    ناول

    ”سیاہ اور سفید کے درمیان ”

    تحریر: نائلہ عرفان

    Surah Al-Baqarah
    (Ayat 286)
    ”خدا کسی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔اُس کوثواب بھی اُسی کا ملے گاجو ارادہ سے کرے اور اُس پر عذاب بھی اُسی کا ہو گا جوارادہ سے کرے۔ اے رب ہمارے نہ پکڑ ہم کو اگر ہم بھولیں یا چُوکیں۔ اے رب ہمارے اور نہ رکھ ہم پر بوجھ بھاری جیسا رکھا تھا ہم سے اگلے لوگوں پر ۔ اے رب ہمارے اور نہ اُٹھوا ہم سے وہ بوجھ کہ جس کی ہم کو طاقت نہیں اور درگزر کر ہم سے اور بخش ہم کو اور رحم کر ہم پر تو ہی ہمارا رب ہے ۔ مدد کر ہماری کافروں پر” ۔
    (سورہ البقرہ آیت 286)

    ”A journey of a thousand miles begins with a single step”
    میلوں کی مسافت پہلا قدم اُٹھانے سے ہی طے ہوتی ہے۔

    سید مظہر حسین مرحوم کے انتقال کو آج سوا مہینے پورا ہوا قُل دسواں اور چہلم سب ہی پورے اہتمام سے منائے گئے ۔رشتے دار عموماََدن رات کا کھانا بھیجوایا کر تے جب کہ پرُ لطف ناشتے کا اہتمام محلے داروں نے سنبھالا ہوا تھا۔ایک روز تو مختلف شہروں سے آئے مظہر صاحب کے بہن بھائیوں نے رات کو ہی سو چ لیا کہ صبح اُٹھ کر تندوری نان بمعہ لیاقت سفید مکھن منگوالی جائیں جو کہ کو ئٹہ کی خاص سوغات سمجھی جا تی ہے ۔ساتھ میں دودھ والے سے تازہ دودھ لے کر دودھ پتی چائے بھی چڑھ گئی ۔ابھی ناشتے کا پہلا دور اختتام پذیر نہیں ہوا تھا کہ ڈاکٹر شاہ زمان کے گھر سے گرماگرم ناشتے کی ایک اور بڑی ٹرے آگئی ۔دو مختلف طرح کے آملیٹ،گھر کے بنے دس پندرہ پراٹھے ،تازہ ڈبل روٹی ،چھوٹی بلیوبینڈ مکھن کی ٹکیہ ،جیم اور شہد کی دو شیشیا ں اور چائے کے دو فل سائز تھرماس ۔ سب کی آنکھیں ناشتے کی اس ٹرے کو دیکھ کر کُھلی کی کُھلی رہ گئیں پھر تقریباََ سبھی نے پچھلے ناشتے کو کو صاف کر کے اگلے نا شتے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ غم زدہ حلیمہ بھابھی اگرچہ عدّت میں تھیں مگرگھر والی ہونے کے ناطے ہر آئے گئے کا خیال رکھنا اُن کا فرض ٹھہرا پہلے انہوں نے شکرئیے کے ساتھ ناشتے کی ٹرے وصول کی ۔بعد میں بچے کُچے نا شتے کو سمیٹ کر دُرناز )برتن دھونے والی ادھیڑ عمر خاتون( کے حوالے کیا ۔پھر اپنا تیرھواں سپارہ کھول کر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پڑھنے بیٹھ گئیں ۔رات کو بھی بڑی ذمہ داری سے انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے تمام برتنوں میں دیگ کا کھانا بھرا پھر گرم جوش شکریہ ادا کر نے کی خصوصی تاکید کے ساتھ ٹرے واپس بھیجوادی۔
    سوئم کی قر آن خوانی کا انتظام عورتوں کا گھر پر اور مردو ںکے لیے سامنے خالی پلاٹ پر کیا گیا تھا۔مظہر صاحب کے گھر کے بالکل سامنے سحر این جی او (NGO)کا دفتر ہے ۔دفتر کے ساتھ والے پلاٹ پرمالک پلاٹ سے پوچھ کر چار دیواری کھڑی کر دی ۔سکیورٹی (security)کیمرہ ‘ رات بھر آدھی گلی کو روشن رکھنے والی پاور فل اسٹریٹ لائٹ بھی لگوادی گئی اور گیٹ پر چوکیدار بیٹھا دیا ۔اس طرح نہ صرف دفتر والوں کو ایک بہترین پارکنگ لاٹ مل گیا ۔بلکہ گلی کی سکیورٹی کا بھی خاطر خواہ انتظام ہو گیا ۔این جی او (NGO)میں ہر وقت لوگوں کے آنے جانے سے ایک رونق سی لگی رہتی ۔بہر حال جب حلیمہ اور شیراز نے سوئم کا دن مُقررکرلیا تو محلے میں اطلا ع بھیجوا دی گئی ۔کوئٹہ کے لوگوں میں خلوص کا تناسب بڑے شہروں کی نسبت کچھ زیادہ ہی ہے۔بس تو پھر کیا تھا محلے کا ایک لڑکا دوڑ کر این جی او (NGO)کے چوکیدار کے پاس گیا اور اُس سے پارکنگ لاٹ رسمِ قُل کے لیے مانگ لیا۔واضح رہے کہ یہ وہی چوکیدار ہے ۔جس سے مظہر صاحب کی اپنی پوری زندگی ٹھنی رہی ۔جب بھی گھر سے نکلتے اِسے کسی نہ کسی بات پر ضرور ہی رگڑتے جیسے کبھی کہتے کہ ”تمہارا لوگ جب بھی لاٹ سے گاڑی نکالتا ہے ‘ہمارے تھڑے پر ضرور چڑھاتا ہے ‘کبھی ٹوٹ گیا ۔تو میں نے مالک کے پاس لڑنے پہنچ جانا ہے "یا پھر کہتے” تمہارے دفتر میں ہر وقت لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے ۔ پوری گلی میں شور وغُل ڈال رکھا ہے” شیراز نے دبّی زبان میں کئی مرتبہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ”ابّا !اوّل تو ہمارا تھڑا خا صا مضبوط سیمنٹ کا بنا ہوا ہے ۔شیشے کا نہیں کہ ذرا سا گاڑی چڑ ھنے پر ٹوٹ جائے ۔دوسرا یہ کہ یہاں سے نکلنے کا اور راستہ بھی نہے ۔تیسرا یہ کہ اِن لوگوں سے ہماری ہمسائے داری ہے اور چوکیدار ایک غریب شریف آدمی ہے ۔آپ ہر وقت اُس کا پیچھا نہ پکڑا کرئیں "مگر مرحوم کچھ پیدائشی برہمی کا شکا ر تھے ،سوچھوٹی چھوٹی باتوں پر فساد کھڑا کر ناطبیعت میں رچ بس گیا تھا۔ کف افسوس کیا خبر تھی کہ ایک روز اِسی لاٹ پر اُن کی رسمِ قُل ہوگی اوریہی این جی او (NGO)والے انتظام کریںگے۔
    خیر شیراز اکثر آتے جاتے چوکیدار کے ہاتھ پر کبھی ہزار ‘پانچ سو رکھ دیتا ۔اس غریب چوکیدار نے حق ہمسایہ گیری ادا کرتے ہوئے ”لشتم چشتم این جی او (NGO)کے مالک کو فون کر کے اجازت طلب کی اور پھر انتظامات میں بھی خوب آگے آگے رہا ۔حتی کہ ہرے پھول دار ٹینٹ کو روشن رکھنے کے لیے جو دو بڑے بڑے بلب لگوئے گئے تھے اُن کا کنکشن بھی سامنے مظہر صاحب کے گھر سے لینے کے بجائے ساتھ موجود این جی اوکے دفتر سے دے ڈالا ۔سوئم کے لیے چکن کڑاہی ،مٹن پلائو اور میٹھے چاولوں کی جو تین دیگیں آئیں وہ بھی اُسی نے دیگ والے کے ساتھ مل کر گدھے گاڑی سے اُتروائیں اور پلاٹ کے سامنے خالی سڑک پر رکھ وادیں۔اسی لئے حاضرینِ محفل اس چھوٹی سی زندگی میں آپ سب کے ساتھ بھلے رہئے کوئی پتہ نہیںکہ کوئی کب کہاں اور کس طرح آپ کا بھلا کر جاتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب سب نے مل کر کئی کلام پاک اور سینکڑوں مرتبہ سورةیسٰین پڑھ ڈالی تو حلیمہ نے حافظ سلیمہ مندوخیل سے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پرُسوز دُعا کی التماس کی ۔۔۔۔کافی دیر تک اللہ سبحان وتعالی کے آگے عاجزی سے گڑگڑ انے اور توبہ استغفار کرنے کے بعد انھوں نے کٹے ہوئے موسمی پھلوں ودیگر پکوانوں کی سوخ پھول دار خوان سے دھکی پلیٹوں پر فاتحہ دے ڈالی۔اس طویل روح پُرور رتقریب کے اختتام تک حلیمہ بھابھی اس قدر تھک چکی تھیں کہ صوفے پر کچھ دیر کے لیے یہ کہہ کر بیٹھ گئیں کہ خدارا اب مجھے نہ اُٹھانا کیونکہ اب اگر اُٹھی تو ڈر ہے کہ چکرا کر کہیں گر ہی نہ پڑوں ۔
    دراصل اللہ نے مظہر حسین اور حلیمہ مظہر کو صرف دو ہی اولادیں دی ہیں ۔عائلہ مظہر اور شیراز مظہر۔ عائلہ توشادی کر کے امریکہ چلی گئی تو اُس کا آنا جانا ہوا مشکل ۔بچا شیراز تو وہ بیچارہ باہر کا انتظام سنبھا لے کہ اندر کا؟ لہٰذا اندرونِ خانہ کی تمام تر ذمہ داری آئی حلیمہ بھابھی کے کندھوں پر۔ اب انھیں کبھی سفید چادروں کے لیے آواز پڑتی تو کبھی کسی کو جائے نماز یںدرکار ہوتیںعین سوئم کی قران خوانی کے درمیان ڈرائنگ روم کے بیرونی دروازے کے پاس والے کونے سے آواز آئی بھابی !اگر بتیاں کہاں ہیں ؟اِن کے بغیر قرآن خوانی کا بھلا کیا مزہ ”
    لو بھلا بتائو یہ قرآن خوانی مرحوم کی روح کو بخشوانے کے لیے رکھوائی ہے یا تمہارے مزے کے لیے۔ یہ آواز عطرت پھوپھو کی تھی ۔مسز عطر ت عثمان مظہر صاحب کے دس بہن بھائیوں میں سے ساتویں نمبر پر ہیں۔خاتون جس محفل میں جاتیں کچھ الگ ہی نظر آتیں وجہ چہرے پر تنا شکنوں کا منفرد جال شکنوں کی ترتیب کچھ اس پرکارہے ماتھے پر لمبائی کے رُخ چار اور چوڑائی کے رُخ چھ ، دونوں آنکھوں کے گرد بے تحاشہ چھوٹی چھوٹی لکیریں اور سب سے واضح ناک کے سرے سے لیکر ہونٹوں کے کناروں تک آتی اسمائل لائنز،(حالانکہ کے مسکرانے سے اُن کا دور کا بھی واستہ نہیں تھا )جب بھی وہ منہ ٹیڑھا کر کے بو لتیںتو وہ کچھ اور بھی واضح ہو جاتیں ۔پچھلے سال جب وہ ا پنی ڈاکٹر بیٹی کو امتحان دِلوانے لندن لیکر گئیں تو اپنی کاسموٹولوجسٹ بھابھی سے زبر دستی مفت میں بوٹوکس کے انجکشنز لگوالئے اور فلرز بھی ڈلوالئے ۔

    جس سے چہرہ تو سچی بات ہے جیسے پہلے تھا ویسا ہی رہا ۔بھابھی نے کون سا دل سے یہ کام کیا تھا۔بس جان ہی چھڑوائی تھی اپنی مگر وہ خود کو پچپن کے بجائے پینتیس 35))کا سمجھنے لگیں ۔دماغ کے فطور اور لہجے کے غرور میں گراقدرِ اضافہ ہوا کہ ناخن کچھ مزید لمبے ہوگئے لپ اسٹک ،نیل پالش شیڈ کچھ دوہرا گہرا اور انگوٹھیا ںدوسے چار ہوگئیں ۔یہ عطرت پھوپھو ہی تھیں جنھوں نے بھرے مجمع میں جب عورتیںمنہ کھول کھول کر حلیمہ بھابھی کی خدمت گزاری کے گُن گارہی تھیں ۔تو جل کر کہہ دیا کہ "بھئی ! ہمیں کیا پتہ کہ خدمت کی بھی ہے یا نہیں ہم تو سب دوربیٹھے تھے اپنے اپنے گھروں میں۔ میں تو آخیرتک فون کرتی رہی کہ ذراکی ذرا بھائی کی آواز ہی سنُ لو ں مگر کبھی جواب ملتا کہ اّبا ابھی سو رہے ہیں ۔کبھی یہ کہ اُن کی کنڈیشن ایسی نہیں ہے کہ ابھی بات کر سکیں ”
    اپنے سے فقط ڈیڑ ھ دو سال چھوٹی بہن کے بے تُکے پن پربڑی سعدیہ پھوپھو نے خوب ہی بُرا محسوس کیا۔ساتواں سپارہ جو ابھی صرف نصف ہی پڑھا تھا انگلی رکھ کر بند کیا ۔عینک ناک کی ٹپ پر ٹکائی اور پہلے اُسے خوب غور سے دیکھا پھر ٹھوک کر بولئیں ۔”تم نے بالکل صحیح کہا بھلا دوربیٹھے ہوئوں کو یہاں کے باسیوںکی کُلفتوں کا کیا اندازہ ؟ہم توبھئی دو قدم کے فاصلے پر رہتے ہیں ۔لہذا پَل پَل کی خبر ہے کہ پچھلے دو سال سے حلیمہ بھابھی اور شیراز نے کس طرح مظہر بھائی کی خدمت کے لیے اپنا دن اور رات ایک کیا ہوا تھا۔مظہر بھائی پچھلے تیس سالوں سے زیا بیطس کے مریض تھے ۔دوسال پہلے گُردوںنے جواب دے دیا اور بہنا !ڈالیسیز Dialysis))کے مریض کی دیکھ بھال کرنا کو ئی بچو ں کا کھیل نہیں ہے۔آخر کے چند مہینوں میں ہیپاٹائٹس (hepatitis)ہوگیا ۔چہرے کا رنگ کالا سیاہ، جسم پر سیاہ دھّبے مرحوم پیشاب اور پوٹی بھی ڈائیپر(Diaper)میں کر رہے تھے اتنے لہیم شہیم آدمی کے پیمپر(pamper) بدلنا بھی ہر بار ایک مرحلہ ہوتا ۔اوپر سے بھائی کا چِڑچِڑاپن اور کنجوسی اپنے عروج پر تھی اپنے علاج پر بھی جیب سے ایک ٹکا خرچ کرنے کو تیار نہ تھے ۔ایک منٹ کیسی باہر والے اٹینڈئنٹ Attendent))نے ٹِک کر نہ دیا ۔خود ہی ماں بیٹا کبھی اُن کی اُلٹیا ں صاف کرتے تو کبھی مالش کر رہے ہیں ،جسم داب رہے ہیں ۔سچ پوچھوتو اِن دونوں نے اپنی جنت اسی دنیا میں کمالی میں خود اِس بات کی سب سے بڑی گواہ ہوں ۔مگر تم کیا جانو!تم تو خیر سے دور بیٹھی تھیںاپنے گھرمیں "سعدیہ پھوپھو نے اپنی بات ختم کر کے ٹیولپ ٹشو Tulip tissue ))کا پاکٹ سائز پیک اپنے پرس سے نکالا ۔اس میں سے دوخوشبودار سفید ٹشو باہر کھینچے اور بھیگی بھیگی آنکھوں کو خوب رگڑ کر صاف کرنے لگئیں ۔بڑی بہن کے اِس تفصیلی بیان کے بعد عطرت پھوپھو اپنا سا مُنہ لے کر رہ گئیں ہاتھ میں کب سے پکڑی سورةیسٰین کچھ غصے میں اور کچھ وجّدمیں آکر جھوم جھوم کر پڑھنی شروع کر دی ۔سعدیہ پھوپھو اگر چے قرآن خوانی کے درمیا ن باتیں کرنا معیوب خیا ل کر تی تھیں ۔مگر اِس وقت یہ وضاحت دینا بے حد ضروری تھا ۔
    پہلے ہی عائلہ کی عدم موجودگی پہ گھر کے ملازمین سے لے کر ہر آئے گئے نے خوب ہی سوال اُٹھائے ہیں کہ عائلہ اب تک کیوں نہیںآئی؟؟ پہلے باپ کی دو سالہ بیماری میں نہیں آئی اب تدفین پہ بھی غائب ہے !!حلیمہ بھابھی سمجھا سمجھا تھک گئیں کہ امریکہ کوئی پاکستان میں نہیں رکھا ہوا۔پی آئی اے(PIA)کی براہِ راست پرواز بھی امریکہ سے آنا اب بند ہو چکی ہے ۔اگر باپ کی اطلاع ملتے ہی اِسے ٹیکٹس کسی طرح مل بھی جاتے توکنیکٹنگ Connecting))فلائٹ لے کر یہاں کوئٹہ آتے کم از کم دو دن تو لگ ہی جانے تھے اور مظہر صاحب کی تدفین اتنی دیر روکی نہیں جاسکتی تھی۔باڈی اِس حال میں ہی نہیں تھی پھر باہر والوں کی اپنی زندگی کے ہزار ہاں جھمیلے ہیں ۔ہمیں اُس سے کوئی شِکایت نہیں ہے۔آجائے گی وہ اپنی سہولت سے لیکن اللہ کی اِس زمیں پہ جتنے اُبھار اور گھاٹیاں ہیں ۔اِس سے کہیں زیادہ اُبھار اور گھاٹیا ں انسان دماغ پہ موجود ہیں ۔جہاں پراَن گنت سوچیں اُبھر تی پھسلتی رہتی ہیں ،سومولا کی زمین پر ربسنے والے اپنی قیاس آرئیوں سے باز نہیں آتے ۔
    دراصل عائلہ مظہر نے شادی اپنی مرضی سے کی تھی شروع شروع میں تو باپ بیٹی میں خاصی ٹھنی رہی۔مگر امریکہ جانے کے بعد بھی وہ ہرسال ماں باپ سے ملنے آیا کرتی تھی ۔بلکہ ایک مرتبہ ایان کا کوئی طویل پرجیکٹ جاپان میں چل رہا تھا تو عائلہ کوئی سال بھر کے لیے دونوں بچوں کے ساتھ ماں باپ کے پاس پاکستان آگئی تھی۔اِس موقع پر بھی خاندان بھر میں خوب چہ میگوئیاں ہوئیں کہ یقینا میاں بیوی کی علیحدگی ہو گئی ہے۔ آگیا ہو گا کسی گوری کے چکر میں تو بھیج دیاعائلہ کو واپس خیر عائلہ کچھ عرصہ رہ کر چار سالہ سلیمان اور دو سالہ مُحمد کے ساتھ ور جینا (virginia)واپس چلی گئی اور ایسی گئی کہ اب دو ڈھائی سال ہونے کو آئے اُس کا کوئی نام ونشان نہیں ہے۔
    "سعدیہ باجی !یہ اپنی عائلہ نظر نہیں آرہی اِس روز میں تد فین میں آئی تھی تو بھی ملاقات نہیں ہوئی مانا کہ باپ کا غم ہے مگر ایسا بھی کیا کہ بندہ آنے جانے والے مہمانوں سے پُرسہ بھی نہ لے سکے "عائلہ کی بابت خالصتاً ٹھوہ لینے والے انداز میں پوچھنے والی یہ مظہر حسین کے ماموں زاد بھائی کی بیوہ بیگم طاہرہ نسیم تھیں صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ بن رہی ہیں اندر سے خوب ہی جانئے ہیں کہ عا ئلہ یہاں موجود نہیں ہے ۔
    بہر کیف اُن کے اِس سوال پرسعدیہ پھوپھو کا پانی کے جگ کی طرف بڑھتا ہاتھ تھم سا گیا ۔”طاہرہ بھابھی !عائلہ تو نہیں آئی شاید کچھ ٹھہر کر آنے کا ارادہ ہے ”
    ” اچھی بہن !سچ کہو یعنی کہ اب بھی نہیں آئی اللہ جانے کیا معاملہ رہا ہو گا ۔ویسے بھی اپنی عائلہ کی یہ love marriage)) ہے ۔ مظہر بھائی اِس رشتے کے شروع سے ہی خلاف تھے کیا پتہ سسر اور داماد میں کب سے سرد جنگ چل رہی ہو جس کا بدلہ اُس نے عائلہ کو مظہر بھائی کی بیماری نہ میں بھیج کر لیا ہو”انہوں نے مانوقیاس کے سمندر میں ساری کشتیاں ڈبو دئیں ۔اگر آپ نے کبھی پمپکن پیچ(pumpkin patch)کی پھولے پھولے گالوں والی خوب گول مٹول اور گوری چٹّی گڑیاں دیکھی ہوں تو اِس لائن کی وہ گڑیا جو بارہ تیرہ سال کی بچیوں کے لیے ہوتی ہے وہ لے آئیں ۔اُسے پاکستان کے کیسی بہترین برانڈ کے کپڑے پہنا کر سر پر دوپٹہ اُوڑھا دیں اور شکل کی ساری معصومیت سرے سے غائب کر دئیں تو ہوبہو نسیم بھابھی بن جاتی ہیں ۔پہنا اُوڑھنا اِن کا شروع سے ہی بہت اچھا رہا ہے اور کیوں نہ ہو ؟دونوں بیٹے خوب اچھا کمارہے ہیں ۔ایک تو کینڈا میں ہے اور دوسرا کوئٹہ میں کوئی لیب شیب چلا رہا ہے جس طرح کی وہ ٹیڑھی ماں تھیں اولاد خود بخود ہی سیدھی رہتی شرافت سے دونوں بیٹے انھیں خوب اچھا پاکٹ منی دیتے ہیںجو بہو پاس تھی شریف خاندان کی قبول صورت مگر کم پڑ ھی لکھی لڑکی تھی جیسے وہ اہتمام سے اپنے ایم ایس سی پاس بیٹے کے لیے بیاہ کر لئیں تھی ۔اب پائوں کے انگوٹھے تلے ایسا دبارکھا ہے کہ اپنے میکے جانا تو درکنار گھر کے دروازے تک اُن کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتی تھی ۔بھلے گھر میں بے چاری کا دم گھٹا جا رہا ہو ۔
    "اچھی بہن!بس اب کیا بتائوں کہ آخری دونوں میں بھیا مرحوم کی شریانوں کی حالت اِس قدر نازک ہوگئی تھی کہ مزید ڈائی لیسیسزDialysis))ممکن نہیںرہا تھا ۔”انہوں نے سعدیہ پھوپھو کے قریب کھسک کر قدرے راز داری سے کہا انداز ایسا تھا کہ جیسے وہ مرحوم کی تیمار داری کے لیے روزانہ آتی رہی ہوں اور سعدیہ پھوپھو کبھی کبھار حالانکہ حقیقت اِس کے بالکل برعکس تھی ۔وہ خود مرحوم کی طویل بیماری میں صرف ایک آدھ بار ہی خبر گیری کے لیے آسکیں تھیں۔
    ”ڈاکٹر نے صاف جواب دے دیا تھا ،دماغ پر اثر ہونے لگا تو سارا سارا دن عجیب وغریب آوازیں نکالتے رہتے۔کیسی پل چین نہیں تھا یوں لگتا کہ موت کا فرشتہ نظر وں کے سامنے ہر وقت موجود ہو مگر تف ہے بھئی آج کل کی اولاد پر کہ ایسے کڑے وقت میں بھی ماں باپ کی دل جوئی کو نہ آسکے۔
    نہ تو عائلہ اُمید سے ہے نہ اس کے بچے شیرخوار ہیں کہ اتنا لمبا سفر ممکن نہ ہو .عائلہ تو گوروں کے دیس میں جا کر بالکل انہی کی طرح سوچنے لگی ہے کہ اپنے شیڈول کے مطابق آنا جانا ہے ماں باپ بھلے اِس کے بچوں کی صورتوں کو ترستے رہیں "وہ کچھ اور آگے کھسک کر مزید گویا ہوئیں۔
    ”ویسے میں اس کے بچوںسے مل چکی ہوں پہلے دونوں ہی عجیب چڑچڑے سے تھے ۔ہر وقت ماں کا پلو پکڑے ہر آئے گئے کو نوچتے کھسوٹتے رہتے ،بولتے ولتے اُس وقت تو کچھ خاص نہ تھے لگتا ہے کہ عائلہ نے کوئی خاص تمیز نہیں سیکھائی ۔امریکہ کے بجائے کسی چک کی پیداوار لگ رہے تھے ۔اب اپنے خرم (اُن کا چھوٹا بیٹا )کے بچوں کو ہی دیکھ لو ‘میں نے پالنے میں ہی آداب سلام کی تمیز سیکھادی تھی ورنہ آتا جاتا تو اُن کی ماں کو بھی کچھ خاص نہیں ہے۔آپ کی بھابی صاحبہ کیا بتا رہی ہیںکہ صاحبزادی کب تک آئیں گی ؟ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید سعدیہ پھوپھو عائلہ کی صفائی ضرور پیش کرتیں مگر اُن کا دل اِس بارعائلہ سے خوب ہی کھٹا ہو ا تھا ۔اگر چے اپنے ہاتھوں کی پالی بچی تھی دلِ ودماغ یہ مانے کو تیار نہیں تھا مگر حالات کچھ یہی خبر دے رہے تھے کہ عائلہ بدل گئی ہے بہت دُکھی دل سے گویا ہوئیں کہ "اُن سے تو ہم نے پوچھنا چھوڑ دیا ہے ہر ایک کو یہی کہتی پھر تی ہیں کہ باہر والوں کے اپنے سومسلے مسائل ہوتے ہیں جن کا اندازہ ہم پاکستان میں بیٹھ کر نہیں لگا سکتے ۔میرا بھائی تو آخیر تک سب سے پوچھتا رہا کہ عائلہ آگئی کیا ؟میرے سیلمان اور محمد کہا ں ہیں ؟پھر اُن کے معصوم چہرے دیکھنے کی حسرت لیئے لحد میں اُتر گیا بد قسمتی اُس کی بھی کہ باپ کا آخری دیدار نہ کر سکی البتہ حلیمہ بھابھی نے میت کو قبرستان لے جانے سے پہلے پانچ منٹ کے لیے فیس ٹائم پر دیکھایاضرور تھا ۔اُس کے رونے کی ہلکی سی آواز تو میں نے بھی سُنی تھی ۔یہ رونا تو اب عمر بھر کا ہے ۔کچھ بھی کر لو ماں باپ کہاں واپس آتے ہیں ”
    سعدیہ پھوپھوکی بات سنُ کر نسیم بھابھی نے اثبات میں خوب زور سے سر ہلایا پھر اپنے سوجے ہوئے پیر سمیٹ کر اُٹھنے لگ گئیں ۔
    "اچھا اب میں چلوں گی پیر نیچے بیٹھنے سے اور سوج گئے ہیں گھر جا کر اِن کا ذرا مساج کروں تو کچھ سکون آئے ”نسیم بھابھی خود بھی زیابیطس کی مریضہ تھیں مگر پرہیز بالکل بھی نہ کر تیں لہذاکبھی پیر سوجتے تو کبھی چہرہ لیکن اِس کے باوجود بھی خاصی سوشل خاتون تھیں ۔جہاں بھی جاتیں دس پندرہ منٹوں میں مقررہ ہدف پورا کر لیتیں ۔دوسروں کے دل آپس میں کھٹے کر کے خود مطمئن سی جیے جا رہی تھیں ۔
    ”ارے نسیم بھابھی !ذرا روکئیے تو دُعا میں شریک ہو کر ‘دو لقمے کھا کر چلی جائیے گا ۔”سعدیہ پھوپھو نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔ ”اچھی بہن !کھانا تو میں باہرکا کھاتی نہیں ہو ں مگر دُعا میں شرکت لازمی کرو نگی بس میں ذرا لطیف )ڈرائیور)کو فون کر دوں کہ وہ پندرہ منٹ باہر میرانتظار کرے ”نسیم بھابھی نے اپنے کوچ (coach)کے شولڈر بیگ سے آئی فون نکالا اور ڈرائیورکو نمبر ملا کر ہدایت دینے لگ گئیں تو سعدیہ پھوپھو بھی کچن میں ایک نظر ڈالنے کے خیال سے اُٹھ کھڑی ہوئیں ۔

  • چنبیلی کے پھول قسط نمبر 7

    چنبیلی کے پھول قسط نمبر 7

    تحریر:نوید احمد
    قسط نمبر7
    ”چنبیلی کے پھول”

    ”تم یہاں؟”
    بہت دیر بعد اُس کی آواز آئی۔
    برسوں بعد دھوکہ دے کر چلے جانے والے لوگ واپس آجائیں تو انسان اسی طرح کے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔
    ”ہاں کیسے ہو؟”
    وہ دلربائی سے مسکرائی۔ وہی حسین مسکراہٹ؟ وہی بھورے بال، سنہری آنکھیں۔۔۔۔ مگر آج اُس کے حسن میں وہ کشش نہیں تھی جو اُسے دیوانہ کردیا کرتی تھی۔ ماہم نے رشک بھرے انداز میں اُسے دیکھا۔ گرے ٹریک سوٹ میں ملبوس وہ ایک بے حد شاندار اور ہینڈسم مرد کے روپ میں اُس کے سامنے کھڑا تھا۔ پہلے وہ دبلا پتلا لڑکا ہوتا تھا۔ مونچھیں بھی نہیں رکھی تھیں اُس نے اور اُس کے چہرے پر دانے بھی ہوا کرتے تھے مگر اب تو اُس پر نظر ہی نہیں ٹھہرتی تھی۔ اُس کی وجاہت میں اک سحر تھا۔ وہ اُسے دیکھ کر کچھ دیر کے لئے پلکی نہیں جھپک سکی۔
    ”ٹھیک ہوں۔۔۔۔ کیسے آنا ہوا؟”
    اس نے اجنبیت بھرے خشک انداز میں کہا۔ وہ ذرا قریب آیا، جوس کا گلاس میز پر رکھا مگر بیٹھا نہیں ، اسی طرح کھڑا رہا۔
    ماہم نے اس کی بے اعتنائی کو اُس کی ناراضگی سمجھا۔ ہاں ناراض ہونے کا حق تو اُسے تھا ہی۔
    ”سنا ہے کہ تم نے منگنی کرلی ہے؟ میں امریکہ سے پاکستان آئی ہوئی تھی تو سوچا کہ تمہیں مبارک باد ہی دے دوں۔ بالآخر تم نے بھی اپنی فیملی لائف شروع کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔”
    اُس نے اسے بغور دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ انداز ایسا تھا جیسے اُن کے مابین کبھی فاصلے آئے ہی نہ ہوں۔
    ”تھینک یو۔”
    وہ روکھے پھیکے انداز میں بولا۔
    ”سنا ہے کہ ستارہ آنٹی آئی ہوئی ہیں؟ اتنے سالوں بعد کیسے لوٹ آئیں وہ؟” اُس نے کریدنے والے انداز میں پوچھا۔ اُن کے چلے جانے کی وجہ سے تو وہ اور زوار الگ ہوئے تھے۔ اب اتنے سالوں بعد وہ اتنے دھڑلے سے بھلا کیسے واپس آگئیں۔ یہ سوال کافی دنوں سے اُسے بے چین کررہا تھا۔
    ”اُن کا گھر ہے یہ۔۔۔۔ وہ یہاں کبھی بھی آسکتی ہیں۔۔۔ اور ویسے بھی وہ میری شادی کے لئے آئی ہیں۔”
    اُس نے خشک انداز میں کہا۔
    لہجہ اجنبی سا تھا۔ اُسے ماہم کی یہ باتیں عجیب لگنے کے ساتھ ساتھ غصہ دلا رہی تھیں۔
    ”مگر وہ تو تمہیں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ پھر اب تمہاری شادی پر آنے کا خیال کیسے آگیا انہیں؟”
    ماہم نے اپنا طنزیہ انداز آج بھی ترک نہیں کیا تھا۔ کچھ لوگ اپنی شخصیت کو وقت کے ساتھ بھی بہتر نہیں بنا پاتے۔
    زوار نے اس کی بات پر خفگی سے ابرو اچکا کر اُسے دیکھا بھلا وہ ایسے سوال جواب کرنے والی کون ہوتی تھی۔
    ”وہ مجھے چھوڑ کر نہیں گئی تھیں، میں خود ہی اُن کے ساتھ نہیں گیا تھا۔”
    اُس نے سرد انداز میں کہا۔
    ”جانتی ہوں میں۔”
    وہ طنزیہ انداز میں ہنسی۔
    وہ اُسے بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ اُس کی منگنی کی خبر سن کر دراصل اُس پر اپنا غصہ نکالنے ہی یہاں آئی تھی۔ خود تو وہ شادی کرکے امریکہ چلی گئی تھی اور تین بچوں کی ماں بھی بن بیٹھی مگر اُس کی خواہش تھی کہ زوار ساری زندگی اُس سے محبت کرتا رہے اور اُس کا جوگ لئے بیٹھا رہے۔
    زوار نے سوچا کہ اک وہ لڑکی تھی جو برستی بارش میں اُس کی ممی کی سفارش کرنے اُس کے پاس آئی تھی اور ایک یہ لڑکی تھی جو اتنے سالوں بعد بھی اُسے طعنے دینے کے لئے آئی تھی ۔ ایک لمحے کا موازنہ تھا۔
    اور ایک لمحے کے موازنے نے اُسے مطمئن کردیا۔
    ”کیا سوچ رہے ہو؟”
    پھر اُس نے ماہم کو کہتے ہوئے سنا۔
    وہ اپنے خیالوں سے چونکا۔
    ”اپنی منگیتر کے بارے میں سو چ رہا ہوں۔”
    اُس کے چہرے کے تاثرات میں نرمی آئی تھی۔
    ماہم کو یہ جواب اچھا نہیں لگا۔
    ”مجھے ممی سے قریب کرنے میں اُس کا بھی ایک کردار ہے۔ رانیہ بہت اچھی لڑکی ہے۔ رشتے نبھانے والی، محبتیں بانٹنے والی، سب کا خیال رکھنے والی، میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی اچھی لڑکی کا ساتھ نصیب ہوا ہے۔”
    اس نے سنجیدہ انداز میں کہا۔
    ماہم یہ سن کر چند لمحوں کے لئے ساکت رہ گئی۔ وہ اپنی منگیتر کی تعریف کررہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں رانیہ کے لئے محبت تھی۔ وہ زوار کا یہ انداز دیکھنے کے لئے تو یہاں نہیں آئی تھی۔۔۔۔ پھر اس نے پینترا بدلا اور مسکرا کر بڑی لگاوٹ سے بولی۔
    ”اتنے سالوں بعد ہماری ملاقات ہورہی ہے۔ ساری باتیں کیا یونہی کھڑے کھڑے ہی کرلوگے؟ بیٹھو گے نہیں؟ کیا تمہیں یاد نہیں رہا کہ ہم دونوں کبھی بیسٹ فرینڈز ہوا کرتے تھے؟”
    زوار پر اس اپنائیت کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
    ”نہیں۔۔۔۔ مجھے بالکل یاد نہیں ہے۔”
    اُس نے بے اعتنائی سے جواب دیا۔
    ماہم کو اُس کے اِس انداز پر صدمہ ہوا۔ اُس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے اُسے احساس ہوا کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔ وہ واقعی اُسے بھول چکا تھا۔
    ”وہ لڑکی کون ہے؟جس سے منگنی کرکے تم اپنے پرانے دوستوں کو بھلا بیٹھے ہو۔”
    اُس نے حاسدانہ انداز میں پوچھا۔
    وہ عجیب سے انداز میں مسکرایا۔
    "She is a Queen.”
    اُس نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جیسے رانیہ کا تعارف کروایا۔
    جملہ خوبصورت تھا۔ اِس جملے سے زیادہ اُس کی آواز سے چھلکتی محبت نے ماہم کو چونکا یا تھا۔ اب وہ کسی اور سے محبت کرتا تھا۔ وہ بھی اتنی شدت سے ، کہ وہ اپنے ماضی کے سب اندھیرے بھول گیا تھا۔
    اُس کے جملے نے اُسے کچھ کہنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔
    زوار نے دیوار پر لگے وال کلاک پر ٹائم دیکھا۔
    ”ممی سے ملنا چاہتی ہو تو انتظار کرلو میں آفس کے لئے لیٹ ہورہا ہوں۔” اُس نے نارمل سے اجنبی لہجے میں کہا۔ اُس کی آواز میں کسی قسم کی وارفتگی یا جذباتی لگائو نہیں تھا۔ ایسا انداز جو کسی بن بلائے مہمان کے لئے اختیار کیا جاتا ہے۔ وہ میز پر سے اپنا جوس کا گلاس اٹھا کر باہر چلا گیا۔
    وہ بے عزتی کے احساس کے ساتھ وہیں بیٹھی رہی۔ اُس کے سارے سنگھار پھیکے پڑ گئے۔ یہ وہ زوار نہیں تھا جسے وہ برسوں پہلے جانتی تھی۔ جو اُس کے بچپن کا دوست تھا، اُس کا عاشق تھا اور اُس کی شادی پر بُری طرح رویا تھا جس کے بارے میں اُسے خوش فہمی تھی کہ وہ اُسے کبھی نہیں بھول سکتا۔
    یہ تو کوئی اجنبی آدمی تھا۔
    وہ اپنا پرس اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    رانیہ کی امی کی باتوں کا اثر تھا یا عقیل میاں کو اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوگیا تھا کہ جیسے ہی انہیں روشنی کے میکے آجانے اور ثاقب کی دوسری شادی کی اطلاع ملی، انہوں نے فون پر ثاقب اور اس کے گھر والوں کو خوب کھری کھری سنائیں۔ ثاقب سمیت اس کے سارے گھر والوں کو باری باری فون کیا اور سب کی خوب خبرلی۔ بات گالم گلوچ تک جا پہنچی ۔ عطیہ عقیل کو منع کرتی رہیں مگر وہ اس معاملے میں بے حد جذباتی ہوگئے تھے۔ پھر رانیہ کی امی ، جیمو ماموں اور فردوسی خالہ بھی ثاقب کے گھر گئے، اُس کے گھر والوں سے بات کی وہاں تو ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔
    ثاقب جیسے ضدی، جھگڑالو اور غصے کے تیز آدمی سے لوگوں کی لعن طعن اور لعنت ملامت سننا دوبھر ہوگیا اور اس نے طیش میں آکر روشنی کو طلاق بھجوا دی۔ طلاق بھیجتے وقت اُسے برسوں کی رفاقت اور روشنی کی وفا بھی یاد نہ رہی حالانکہ وفا اِتنی آسانی سے بھولنے والی چیز نہیں ہوتی۔ وہ اپنی دوسری امیر کبیر بیوی کے ساتھ خوش تھا۔ اب اُس کی زندگی میں روشنی کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔
    کسی عورت کو طلاق دینا کون سا مشکل کام ہوتا ہے۔ وکیل کی فیس ہی تو بھرنی ہوتی ہے۔ کاغذ ہی تو تیار کرنے ہوتے ہیں۔
    فردوسی خالہ کے لئے اس عمر میں یہ ایک بڑ ا صدمہ تھا روشنی گم صم ہوکر رہ گئیں۔ ثاقب کی دوسری شادی پر روتی تھیں کہ شوہر کی بے وفائی کا غم تھا۔ اب روتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس کرتیں کہ ایک نامحرم اور غیر آدمی کیلئے کیسے آنسو بہائیں۔ آنسو بھی تو ہر ایک کیلئے نہیں بہائے جاسکتے۔ لوگ طعنے دیتے کہ ایسے دھوکے باز اور بے وفا آدمی کیلئے کیوں آنسو بہاتی ہو۔ رونا بھی دوبھر ہوجاتا۔
    محلے والے، خاندان والے، رشتہ دار سب ہی ان کے دُکھ میں شریک تھے۔ فردوسی خالہ ایک مقبول شخصیت تھیں۔ لوگ اُن کی عزت کرتے تھے۔ ان کا دُکھ بانٹنا اپنا فرض سمجھتے۔
    لوگ آتے جاتے ، ثاقب کو برا بھلا کہتے۔
    کہ شاید اس طرح روشنی کا غم ہلکا ہوجائے۔ وہ چپ چاپ سنتی رہتیں۔ وہ آج بھی نہیں چاہتی تھیں کہ لوگ ثاقب کی برائیاں کریں۔
    جب دو لوگوں میں طلاق ہوجاتی ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اب وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر اور ایک دوسرے کی برائیاں سن کر خوش ہوں گے ۔ مگر ہر بار ایسا نہیں ہوتا۔ برسوں کی رفاقت کا لحاظ اور انسان کا ضمیر اُسے اِس حد تک گرنے سے روک دیتا ہے۔
    رانیہ کی امی نے زوار کی ممی سے کہہ دیا کہ رانیہ اور زوار کی شادی روشنی کی عدت مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگی۔ روشنی اُن کی خالہ زاد بہن اور ہر دلعزیز سہیلی تھی۔ اُن کا دل نہ مانا کہ اُن کی بہن عدت میں بیٹھی ہو اور وہ دھو م دھام سے ڈھول تاشوں کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کردیں۔ زوار کی ممی نے خندہ پیشانی سے اِس بات کو قبول کیا اور روشنی کے ساتھ گزرے اس حادثے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
    روشنی صدمے کی کیفیت میں تھیں۔
    ٫
    دن گزرتے جارہے تھے۔
    وہ سارا دن ایک کمرے میں بیٹھی رہتیں۔
    وہ پہروں خاموش رہتیں۔فردوسی خالہ اپنے آنسو چھپا کر لقمے بنا بنا کر اپنے ہاتھوں سے کھلاتیں۔
    زندگی میں دو موقعے ایسے آئے تھے جب انہیں دنیا والوں سے اپنے آنسو چھپانے پڑتے تھے۔
    ایک موقع تب تھا جب وہ ریٹائرہوئی تھیں اور دوسرا جب انہوں نے روشنی کے طلاق کے کاغذ دیکھے تھے۔ روشنی صدمے سے سوچتیں…
    برسوں کی رفاقت ، خدمت اور ریاضت کا یہ صلہ ملا! یہ انسان کا دیا ہوا صلہ تھا۔
    پھر انہیں خیال آتا کہ طلاق نامے پر ثاقب نے اپنی مرضی سے دستخط نہیں کئے ہوں گے ضرور اُس عورت نے انہیں مجبور کیا ہوگا۔ وہ ایسا کبھی نہیں کرسکتے۔ بُرے تھے مگر اتنے بھی نہیں غم حیران رہ جاتا پھر یہ حیرت صدمے میں بدل جاتی…وہ کیسا گھر تھا ! جہاں کھڑکی سے جھانکنا بھی جرم تھا۔ جہاں اُن کی رائے اور خواہشات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ جہاں ان کے آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ آنسو سمندر بن جاتے پھر بھی کسی کو نظر نہ آتے۔ وہ برقع اوڑھے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں شوہر کے ساتھ کبھی بحث نہ کی۔ اس نے جو بھی کہا چپ کرکے سن لیا۔ شوہر گھر آتا تو کھانے کے تھال سجا کر سامنے رکھتیں، تازہ روٹی، گرم سالن، ٹھنڈا پانی، لسی کا گلاس، دستر خوان روزانہ ہی اہتمام سے سجا ہوتا، مگر اہتمام کرنے والی کی پھر بھی کوئی قدر کوئی عزت نہ تھی۔ روز رات کو سونے سے پہلے میاں کے پائوں دباتیں کہ یہ بھی ثواب کا کام تھا۔ شوہر کو خوش رکھنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
    ایسے بھی ہوتے ہیں لوگ… احسان فراموش اور بے ضمیر… دوسروں کو روگ لگا کر خود خوشیوں کے شادیانے بجاتے ہیں۔
    بعض مردوں کی یاداشت اتنی کمزور کیوں ہوتی ہے کہ کسی نے پوری جوانی دان دی اور انہیں یاد ہی نہ رہا۔
    ٭…٭…٭
    ”ہیلو کوئین!”
    وہ اپنے مخصوص انداز میں خوش دلی سے بولا۔
    اُس کی آواز میں وہی جوش وولولہ تھا جو ہمیشہ سے ہوتا۔
    رانیہ رات کے اِ س وقت ابھی بیڈ بنا کر بیٹھی ہی تھی کہ زوار کا فون آگیا۔
    ”روز رات کو فون کرنا ضروری ہے کیا؟”
    اُس نے بظاہر مسکرا کر کہا۔
    وہ اس کی روزانہ کی فون کالز کی عادی ہوتی جارہی تھی۔
    ”مجھے لگتا ہے کہ تم روز میرے فون کا انتظار کرتی ہو”
    اس نے مسکراتی آواز میں جواب دیا۔
    وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
    اُس کی ہنسی میں سحر تھا جس نے زوار کے دل کو اسیر کرلیا۔
    ”یہ خوش فہمی بھی ہوسکتی ہے۔”
    ”خوش فہمیاں خوش رہنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ Anywaysتمہاری خالہ کی ڈائیوورس کے بارے میں سن کر ہم سب کو ہی افسوس ہوا۔ میں نے منگنی پردیکھا تھا انہیں… وہ تو خاصی پردہ دار خاتون ہیں۔”
    زوار نے کہا۔
    ”ہاں پردہ دار، فرمانبردار، تابعدار، سلیقہ مند… وہ رشتے میں میری خالہ لگتی ہیں ۔ ہم تو انہیں بچپن سے ایسے ہی دیکھتے آرہے ہیں۔”
    اس نے سنجیدگی سے کہا۔
    ”اوہ! پھر تو بڑی ٹریجڈی ہوئی اُن کے ساتھ۔ اُن کا ایشو کیا تھا؟”
    اس نے سنجیدہ آواز میں کہا۔
    ”اُن کے شوہر نے دوسری شادی کرلی۔ خاندان والوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تو انہوں نے غصے میں آکر طلاق بھجوادی۔ میں نے بی اے میں Tolerance کے نام سے ایک مضمون پڑھا تھا ۔ رٹے لگانے کے باوجود مجھے وہ اُس وقت سمجھ نہیں آیا تھا کہ بھلا صرف برداشت کرنے کے وصف کی وجہ سے قوموں کی تقدیر اور معاشرے کا نظام کیسے سنور سکتا ہے! صرف برداشت کی کمی کی وجہ سے قومیں کیسے تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ مگر اب میں نے جانا کہ لوگوں میں برداشت کا مادہ نہ ہو تو گھر اُجڑ جایا کرتے ہیں ۔ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔”
    اس نے گہرا سانس لے کر کہا۔
    ایک لمحہ میں اُسے بہت کچھ یاد آگیا۔
    فارس میں بھی تو صبر اور برداشت کی کمی تھی اور اسی وجہ سے قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود اُن دونوں کا رشتہ ٹوٹ گیا تھا۔
    یک دم ہی زوار کو کوئی خیال آیا۔
    ”تمہاری خالہ نے اپنے بارے میں اب کیا سوچا ہے؟”
    اُس نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
    ‘انہوں نے کیا سوچنا ہے۔ ابھی تو وہ عدت میں ہیں۔ فردوسی خالہ کی پنشن آتی ہے، پھر عقیل ماموں بھی کینیڈا سے کبھی کبھار رقم بھیجتے رہتے ہیں… گھر بھی اپنا ہے، وہیں رہیں گی۔”
    اُس نے کہا۔
    ”اُن کی شادی بھی تو ہوسکتی ہے۔”
    زوار کی بات سن کر وہ اُچھل پڑی۔
    ”اس عمر میں اب وہ کیا شادی کریں گی!”
    اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
    ”وہ اتنی بوڑھی بھی نہیں ہیں اور شادی تو کسی بھی عمر میں کی جاسکتی ہے۔”
    وہ اطمینان سے بولا۔
    رانیہ حیران ہوئی کہ بھلا زور کو روشنی کی شادی میں اتنی دلچسپی کیوں تھی۔
    ”اس بات کا فیصلہ تو فردوسی خالہ ہی کرسکتی ہیں۔ اُن کا بہت سے لوگوں کے ساتھ ملنا ملانا ہے۔ شاید روشنی باجی کے لئے کوئی اچھا اور Suitableرشتہ مل جائے۔”
    اُس نے بھی اس بات پر سوچا ۔ اچھی بات تھی کہ روشنی کو سہارا مل جاتا اور فردوسی خالہ کا غم بھی کچھ ہلکا ہوتا۔
    زوار کی اگلی بات سن کر تو وہ لمحہ بھر کے لئے ساکت رہ گئی۔
    ”اُن کی شادی جیموماموں کے ساتھ بھی تو ہو سکتی ہے۔”
    یہ تو بس زوار کے ذہن کا ہی کمال تھا جو ۔ اُس نے اِس اعتماد کے ساتھ اِ س امکان کے بارے میں سوچا ورنہ اُن سب لوگوں کے لئے تو یہ انہونی سی بات تھی۔
    ”جیمو ماموں اور روشنی باجی کی شادی؟”
    کچھ دیر بعد وہ بے یقینی بھرے انداز میں بولی۔
    ہنسی مذاق میں جیموماموں سے متعلق بہت باتیں ہوتی تھیں مگر کبھی کسی نے اِس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ سب لوگ جانتے تھے کہ جیموماموں اپنی زندگی سے خوش اور مطمئن تھے اور انہیں دوسری شادی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
    ”اگر روشنی باجی یا جیمو ماموں نے انکار کردیا؟”
    اُس نے اس امکان کو بھی مدنظر رکھا۔
    وہ مسکرایا۔
    ”نہیں کریں گے… بس اُن دونوں کو ذرا طریقے سے منانا پڑے گا۔”
    اُس کے یقین بھرے انداز نے اُسے چونکانے کے ساتھ ساتھ حیران بھی کیا۔ وہ کسی ماہر نفسیات کی طرح اُسے مشورے دے رہا تھا۔
    ”ہمیں تو کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ انہیں بھی ہمسفر کی خواہش ہوگی… وہ تو بہت سالوں سے اکیلے ہیں۔ ہم نے انہیں ہمیشہ ہنستے ہنساتے ، بانسری اور ستار بجاتے، شطرنج کھیلتے اور غزلیں پڑھتے ہی دیکھا ہے… اور ہم سب بھی اُنہیں اسی طرح دیکھتے رہنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ اُن کی زندگی میں کوئی کمی ہے۔”
    ”بعض دفعہ گھر کے بزرگ بچوں کے سامنے اپنی خواہشات کا اظہار نہیں کرپاتے… روایات، اقدار کی اجازت نہیں دیتا، تو بہت سی باتیں بچوں کو خود ہی سمجھ لینی چاہیے۔”
    وہ رسانیت سے بولا۔
    اُس کی بات بھی ٹھیک تھی۔ ایسا ہوبھی سکتا تھا۔
    ”امی نے بہت بار کوشش کی مگر جیمو ماموں دوسری شادی کے لئے نہیں مانے۔ پھر امی نے بھی انہیں کہنا چھوڑ دیا۔”
    رانیہ نے کہا۔
    ”پہلے ان کے بچے چھوٹے تھے وہ اپنے بچوں پر سوتیلی ماں کا رعب پسند نہیں کرتے ہوں گے۔ اب اُ ن کے بچے بڑے ہوگئے ہیں۔ سمجھدار ہیں۔ انہیں بھی اس بات کا احساس ہے کہ اُن کے والد نے اُن کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں ۔ اس سوسائٹی میں سوتیلی ماں اور سوتیلے باپ کا تصور لوگوں کو terrifiedکردیتاہے۔پھر ارد گرد رہنے والے لوگ بھی اپنی باتوں سے اِس خوف کو بڑھا دیتے ہیں اور یوں یہ خوف لوگوں کے لاشعور پر حاوی ہوجاتا ہے۔ مگر اب جیمو ماموں اپنے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔”
    اُس نے رسانیت سے کہا۔
    اُس کی باتوں میں لاجک تھی۔
    رانیہ سوچ میں پڑگئی۔
    ”میں اس بارے میں امی سے بات کروں گی، اگر ایسا ہوجائے تو بہت ہی اچھا ہوگا۔ امی جیمو ماموں کو بھی منا ہی لیں گی۔”
    اُ س نے سوچتے ہوئے کہا۔
    جیمو ماموں زندہ دل شخصیت کے مالک تھے اور روشنی خاموش طبع خاتون تھیں۔ اُن دونوں کے مزاج میں بہت فرق تھا۔ مگر اس کے باوجود ، رانیہ کویقین تھا کہ وہ دونوں اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔
    ”اپنے گھر والوں سے بات کرکے مجھے بتانا۔”
    زوار نے نرمی سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے۔”
    اس نے بے ساختہ کہا۔
    پھر جب وہ فون بند کرکے سونے کے لئے لیٹے تو اُس کے ذہن میں ایک ہی خیال تھا۔
    روشنی اور جیمو ماموں کی شادی…
    ٭…٭…٭