Tag: Alif Kitab

  • چنبیلی کے پھول6 :قسط نمبر

    چنبیلی کے پھول6 :قسط نمبر

    6:قسط نمبر

    چنبیلی کے پھول
    مدیحہ شاہد

    سارہ نے عشنا کو فون پر جو خبر سنائی تھی وہ اس کے لیے بڑی حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین تھی۔ اس نے فوراً کوٹ پہنا، لانگ شوز پہنے، مفلر لپیٹا اور تیزی سے گھر سے باہر نکلی۔ عطیہ اسے روکتی ہی رہ گئیں مگر وہ برف میں راستہ بناتی ہوئی بھاگتی ہوئی سارہ کے گھر پہنچی۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔
    وہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ تیزی سے اندر داخل ہوئی اور لائونج کے دروازے کے پاس آکر جیسے اس کے قدم وہیں رک گئے وہ حیرت سے اپنی پلکیں جھپکنے لگی۔
    زوار راکنگ چیئر پر بیٹھا اطمینان سے کافی پیتے ہوئے کھڑکی کے پار گرتی برف کو دیکھ رہا تھا پھر اس نے گردن موڑ کر حیران کھڑی عشنا کو دیکھا اور دلکشی سے مسکرایا۔
    ”کیسی ہو عشنا!”
    وہ مسکراتی آواز میں بولا۔ اسے لوگوں کو حیران کر دینے کی عادت تھی۔ وہ اسے بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے اسے اندرون لاہور کے ایک پررونق گھر میں دیکھا تھا اور اب کینیڈا کے اس اپارٹمنٹ میں دیکھ رہی تھی۔ وہ واقعی عجیب و غریب شخصیت کا حامل تھا۔ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا تھا۔
    ”آپ یہاں کیسے آگئے؟”
    خوشگوار حیرت کے ساتھ کہتے ہوئے وہ اپنے بالوں اور کوٹ پر سے برف جھاڑتے ہوئے قریب پڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔
    ”جہاز میں بیٹھ کر۔”
    اس نے برجستہ جواب دیا۔ وہ اپنی اس ہی حاضر جوابی کی وجہ سے مشہور تھا۔ سارہ کچن سے نکل کر لائونج میں آئی۔ اس کے چہرے پر اطمینان بھری خوشی کا عکس تھا۔
    ”عشنا! سرپرائز کیسا رہا؟”
    وہ خوش دلی سے بولی۔
    ”میں تو ابھی تک اتنی حیران ہوں کہ بتا نہیں سکتی۔ زوار بھائی! اگر آپ نے یہاں آنا ہی تھا تو مجھے کیوں نہیں بتایا!”
    عشنا ابھی تک اپنی حیرت پر قابو نہیں پا سکی تھی۔
    ”کیا تمہیں بتانا ضروری تھا؟”
    وہ اطمینان سے کافی پیتے ہوئے بولا۔ وہ لاجواب ہو گئی۔
    ”کیا آپ کو یہاں جیمو ماموں نے بھیجا ہے؟”
    اسے اچانک خیال آیا کہ یہ ضرور جیمو ماموںکا ہی کارنامہ ہو گا ورنہ لاہور سے کینیڈا کا سفر اتنا بھی آسان نہیں تھا۔
    ”نہیں۔ میں یہاں خود اپنی مرضی سے آیا ہوں۔”
    اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
    ”عشنا! Thank you so much۔ تمہارا ایڈونچر کامیاب ہو گیا۔ دیکھو بھائی ہمارے پاس آگئے۔ ”
    سارہ کی آواز میں ممنونیت تھی۔
    عشنا نے کچھ سوچتے ہوئے نفی میں سرہلایا۔
    ”نہیں۔ یہ میرے کہنے سے نہیں آئے۔ مجھے تو یہ کوئی اور ہی چکر لگتا ہے۔”
    وہ زوار کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔
    زوار کی مسکراہٹ گہری ہو گئی پھر اس نے اسی طرح مسکراتے ہوئے سارہ کو دیکھا۔
    ”سارہ! اپنی دوست کو کافی نہیں پلائو گی؟”
    ”ہاں ضرور میں ابھی کافی بنا کر لاتی ہوں۔”
    وہ دوبارہ کچن میں چلی گئی۔
    ”میں بھی حیران تھی کہ آپ نے رانیہ باجی کو انکار کیسے کر دیا تھا۔”
    عشنا نے معنی خیز انداز میں کہا۔
    ”انکار نہیں کیا تھا۔”
    زوار کی آنکھیں یکدم چمکنے لگیں۔
    ” مگر انہوں نے مجھے خود بتایا تھا آپ نے صرف انہیں انکار ہی نہیں کیا تھا بلکہ ان کی insult بھی کی تھی۔”
    عشنا نے کہا وہ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ الجھ بھی گئی تھی۔
    ”ایسی بات نہیں ہے۔ دراصل وہ میری بات سمجھ نہیں پائی تھی۔ کافی بے وقوف لڑکی ہے تمہاری کزن۔”
    اس کے چہرے کی مسکراہٹ کا عکس اس کی آنکھوں میں بھی چمک رہا تھا۔
    ”مگر میں نے بھی آپ سے بات کی تھی تو آپ نے مجھے کہا تھا کہ سارہ کو کوئی جواب نہ دینا۔”
    وہ اسے اس کی باتیں یاد دلا رہی تھی۔
    ”ہاں۔ کیوں کہ یہ جواب میں اسے خود دینا چاہتا تھا”
    اس نے نرمی سے جواب دیا۔
    ”آپ نے کینیڈا آنے کا پہلے سے ہی ارادہ کر لیا تھا تو پھر اتنی دیر کیوں کر دی؟”
    عشنا نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”شاید یہی مناسب وقت تھا۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔ اس کی باتیں عشنا کے سر پر سے گزر گئیں۔
    ”مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ آپ یہاں کس کے کہنے پر آئے ہیں!”
    وہ کچھ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
    ”اپنے دل کے کہنے پر۔”
    وہ اسی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ وہ اس سے باتوں میں جیت نہیں سکتی تھی۔
    ”کیا پاکستان میں کسی کو معلوم ہے کہ آپ یہاں آئے ہیں؟”
    عشنا نے پوچھا۔
    ”اب معلوم ہو جائے گا سب کو۔”
    وہ معنی خیز انداز میں مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے بولا۔
    وہ لوگوں کو لاجواب کرنے میں ماہر تھا۔
    عشنا نے مسکراتے ہوئے سرجھٹکا۔
    ”زوار بھائی! آپ سے باتوں میں کوئی نہیں جیت سکتا۔ آپ کی personality بے حدcomplicated ہے ۔ رانیہ باجی آپ کے بارے میں ٹھیک کہتی ہیں۔”
    عشنا نے بالآخر اعتراف کیا۔
    زوار کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
    ”ہاں۔ وہ مجھے بہت اچھی طرح جانتی ہے۔ اسی لیے تو مجھے پسند نہیں کرتی۔”
    عشنا کو ہنسی آگئی۔
    ”مگر اب تو آپ بدل گئے ہیں۔ شاید وہ اب آپ کو پسند کر لیں۔”
    عشنا نے شوخی سے کہا۔ زوار کی آنکھوں میں خوشی کا عکس چمکنے لگا۔
    ”امید تو ہے۔”
    اس کی آواز دھیمی مگر خوشی سے معمور تھی۔
    ”سارہ عشنا کے لیے کافی لے کر آگئی۔ کافی کے مگ کے ساتھ ٹرے میں آلمنڈ کیک اور پیزا بھی تھا۔ یقینا یہ سارا اہتمام زوار کے آنے کی خوشی میں کیا گیا تھا۔
    ”میں اور ممی بھائی کیساتھ پاکستان جا رہے ہیں۔”
    سارہ نے میز پر ٹرے رکھتے ہوئے اسے کافی کا مگ تھماتے ہوئے کہا۔
    ”اور تمہاری ایجوکیشن؟”
    عشنا نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”پاکستان جا کر ہی پڑھوں گی اب۔”
    سارہ نے اطمینان سے جواب دیا اور عشنا کے قریب بیٹھ گئی گویا وہ لوگ سب کچھ پلان کر چکے تھے۔
    ”ناصرہ آنٹی تو بہت خوش ہوں گی!”
    عشنا نے کہا پھر اس نے کیک کا پیس اٹھا لیا۔
    ”ہاں میں نے بہت سالوں بعد ممی کو اتنا خوش دیکھا ہے۔ وہ کچھ شاپنگ کرنے قریبی سٹور تک گئی ہیں۔ کل بھائی ٹکٹ بھی لے آئیں گے۔ بہت سال رہ لیا ہم نے یہاں پر۔ اب پاکستان واپس جا رہے ہیں۔ اپنے گھر میں رہیں گے۔ وہیں میرا بچپن گزرا تھا اور ہاں! بھائی کی شادی بھی ہو رہی ہے۔”
    سارہ نے مسکرا کر کہا۔
    ”اچھا؟ کس سے؟”
    عشنا بے ساختہ بولی۔
    وہ حیران ہوئی۔ اسے تو ابھی تک اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی تھی حالاں کہ ثمن سے تو اس کی روزانہ ہی بات ہوتی تھی مگر اسے ثمن نے ایسی کوئی بات نہیں بتائی تھی۔
    ”ایک لڑکی سے۔”
    وہ مبہم سے انداز میں بولا۔
    ”کون ہے وہ لڑکی؟”
    اس نے احمقانہ پن سے پوچھا۔ سارہ نے معنی خیزی سے زوار کی طرف دیکھا۔ دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی اشارہ کیا۔
    ”تمہاری کزن رانیہ!”
    سارہ بے ساختہ ہنسی اس کی ہنسی میں خوشیوں کی بھنک تھی۔ عشنا کو اس کی بات سمجھنے میں چند سیکنڈز لگے کہانی اتنی آگے تک بڑھ گئی تھی اور اسے خبر بھی نہ ہوئی۔
    زوار کی ذہانت کے سامنے تو اسے اپنے سارے ایڈونچرز فضول ہی لگنے لگ گئے تھے۔
    پھر اس نے مسکراتے ہوئے اطمینان سے ٹیک لگا لی۔ اب اسے زوار سے بہت ساری باتیں کرنی تھیں۔
    بہت عرصے بعد اس اپارٹمنٹ میں خوشی نے قدم رکھا تھا۔
    سارہ ہنس رہی تھی اور زوار کے چہرے پر بھی خوبصورت مسکراہٹ ٹھہر گئی۔
    آج برف پر سورج چمکا تھا۔
    ٭…٭…٭

    روشنی اداس اور ملول تھیں۔ برقع کے کونے سے اپنی نم آنکھیں پونچھ رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے اتنے برسوں کی ریاضت اور قربانیاں بے کار چلی گئیں اور آج وہ خالی ہاتھ اور خالی دل تھیں۔
    رانیہ کی امی اور جیمو ماموں انہیں تسلی دے رہے تھے۔
    ”تو آپ کے میاں نے بالآخر دوسری شادی کر ہی لی۔”
    جیمو ماموں نے گہرا سانس لیتے ہوئے سنجیدہ اور متفکر انداز میں کہا۔ یہ خبر ان کے لیے غیر متوقع نہیں تھی مگر پھر بھی انہیں بے حد افسوس ہوا تھا۔
    ”کون عورت ہے وہ؟ جس نے ایک عورت کے بسے بسائے گھر پر ڈاکا ڈالا۔ ارے اسے تو کوئی بھی مل جاتا، کسی کے شوہر سے شادی کرنا

  • ”قسط نمبر5)”چنبیلی کے پھول )

    ”قسط نمبر5)”چنبیلی کے پھول )

    قسط نمبر5
    چنبیلی کے پھول”

    سب کچھ آناً فاناً ہوا تھا کہ رانیہ کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ اچانک کیا ہوگیا ۔
    برسوں پرانی منگنی ختم ہوگئی۔ اُسے اپنے گھر والوں سے اس انتہائی قدم کی امید نہیں تھی۔ سب لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ اور فارس ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود امی اور جیمو ماموں نے اُس منگنی کو توڑنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگایا اور منگنی توڑنے کے بعد وہ بے حد مطمئن بھی تھے جو کہ بڑی حیر ت انگیز بات تھی۔ پتا نہیں انہوں نے یہ فیصلہ کب اور کیسے کرلیا کہ اسے خبر بھی نہ ہوسکی۔ حالانکہ انہو ں نے تو ہمیشہ فارس اور بی جان کا لحاظ کیا تھا ان کی تلخ و ترش باتیں خاموشی سے برداشت کیں تھیں۔ مگر نہ جانے اب کیا ہوا تھا کہ امی اور ماموں کا مزاج بالکل ہی بدل گیا۔
    فارس اور بی جان تو واویلا مچا کر اور خوب لڑائی جھگڑا کرکے جاچکے تھے۔
    رانیہ رو رہی تھی مگر اُسے نہ تو کسی نے چپ کروایا اور نہ ہی کسی نے اُسے تسلی دی۔ بلکہ کسی نے بھی اس کے رونے دھونے کو اہمیت ہی نہیں دی۔ اُس کے گھر والے اپنے فیصلے پر قائم تھے۔ ان کے خیال میں یہی فیصلہ رانیہ کے مستقبل کے لئے بہتر تھا۔ وہ دکھی ہونے کے ساتھ ساتھ حیران بھی تھی کہ اس کی تو کوئی بات ہی نہیں سن رہا تھا۔
    وہ روئے جارہی تھی۔
    ”کیوں کیا آپ لوگوں نے ایسا؟ جبکہ میں آپ لوگوں کو منع بھی کررہی تھی۔ میری مرضی کے بغیر…”
    اس کا جملہ ادھورا رہ گیا ۔ امی نے خفگی بھرے انداز میں اس کی بات کاٹ دی۔
    ”تمہاری مرضی کو اہمیت دینے کا نتیجہ ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ اتنا عرصہ ہم فارس کی بدتمیزیاں برداشت کرتے رہے۔ اس کی دھمکیاں سنتے رہے۔ اس کا لحاظ کرتے رہے مگر تمہیں اپنے غلط فیصلے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ نہ تمہیں اپنی بیوہ ماں کا احساس ہے نہ اپنی یتیم بہن کا اور نہ اپنے ریٹائر ماموں کا… کیسی لڑکی ہو تم؟”
    امی نے درشت لہجے میں اُسے ڈانٹا۔
    وہ رونا بھول کر ٹکر ٹکر انہیں دیکھنے لگی۔
    ”آپ لوگوں نے فارس کو کبھی دل سے قبول ہی نہیں کیا۔ کبھی اُسے اہمیت نہیں دی۔ کبھی کسی دعوت پر کسی فنکشن پر اُسے نہیں بلایا۔ آپ لوگ شروع سے ہی اُسے پسند نہیں کرتے تھے۔”
    رانیہ نے دکھے دل کے ساتھ شکوہ کیا۔
    امی نے ماتھے پر بل ڈال کر اُسے دیکھا۔
    ”کیونکہ وہ ایک لالچی اور خودغرض لڑکا ہے۔ اس کی نظر اس حویلی پر ہے۔”
    امی نے سخت لہجے میں کہا۔
    ”وہ حویلی میری خوشیوں سے زیادہ قیمتی تو نہیں ہے۔ اور جائیدادیں تو بک ہی جاتی ہیں۔ رشتے اہم ہوتے ہیں۔ مجھے نفرت ہے اُس حویلی سے… میرا بس چلتا تو وہ حویلی میں فارس کے نام کردیتی۔”
    امی اور ماموں نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا۔ ماموں نے شکر کیا کہ حویلی کے کاغذات ان کے پاس رکھے تھے۔
    امی نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کیا۔
    ”اگر حویلی تم اس کے نام کردیتی تو وہ اُسے بیچ کر کھا جاتا۔ اور بعد میں دوسری شادی کرلیتا۔”
    امی نے اُسے حقیقت کا ایک بھیانک رخ دکھاتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں… وہ ایسا کبھی نہیں کرسکتا میں اُسے جانتی ہوں۔”
    رانیہ نے یقین سے کہا۔
    ”تم اُسے بالکل نہیں جانتی… اور اگر اُسے موقع ملتا تو وہ ایسا ہی کرتا۔”
    ماموں نے سنجیدہ انداز میں کہا۔ رانیہ کو اس بات پر بالکل یقین نہیں تھا۔
    ”بند کرو یہ رونا دھونا۔ تم بھی فارس کی طرح خود غرض ہو۔”
    امی نے اُسے بری طرح جھڑکا۔ رانیہ دم بخود رہ گئی۔ اس کے آنسو خشک ہوگئے۔ اسے اپنے لئے خودغرض لفظ سننے کی امید نہیں تھی۔ اس کی آنکھ میں حیرانی اور غم ایک ساتھ ٹھہر گئے۔
    ”یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی۔”
    وہ صدمے سے بولی۔
    ”ٹھیک کہہ رہی ہوں فارس کو تم سے کوئی محبت نہیں ہے۔ اُس نے صرف محبت کا ڈرامہ کیا تھا۔ اس نے تم سے یہ منگنی صرف حویلی کی وجہ سے کی تھی۔ اس نے سوچا کہ تم ایک صاحب جائیداد لڑکی ہو۔ اس وجہ سے اُس نے محبت کا جھانسہ دے کر تمہیں بے وقوف بنایا۔ ارے اس جیسے نکمے نالائق کو بھلا کون رشتہ دیتا۔ یہ تو ہماری ہی عقل پر پتھر پڑگئے تھے ورنہ یہ فیصلہ ہمیں بہت پہلے کرلینا چاہیے تھا۔”
    امی نے ناراض آواز میں کہا۔
    وہ آنکھوں میں صدمے کی کیفیت کے ساتھ انہیں دیکھ رہی تھی۔ جیمو ماموں بھی امی کا ساتھ دینے کے لئے بول پڑے۔
    ”رانیہ! تمہیں فارس سے اچھا رشتہ مل جائے گا۔ وہ کوئی دنیا کا آخری لڑکا تو ہے نہیں کہ اگر تمہاری زندگی سے چلا گیا تو تمہاری شادی ہی نہیں ہوگی۔”
    سب اُسے ہی سمجھا رہے تھے۔
    وہ بھی اپنی ضد پر قائم رہی۔ بات محبت کی تھی اور محبت کے معاملے میں لڑکیاں بڑی بے وقوف ہوتی ہیں۔
    ”میں فارس کے علاوہ کسی سے بھی شادی نہیں کروں گی۔”
    اس نے جذباتی انداز میں کہا۔
    امی نے پیشانی پر بل ڈالے اس کی بات سنی۔
    ”ہم فیصلہ کرچکے ہیں۔ اب ہم نے تمہاری ایک نہیں سننی۔ اب ہم وہی کریں گے جو ہمیں مناسب لگے گا۔ تم میں اتنی عقل ہوتی تو کیا ہی بات تھی۔”
    امی نے قطعی اور فیصلہ کن انداز میں کہا۔
    رانیہ کو دکھ تھا کہ اس کے گھر والوں کو اپنی زیادتی کا احساس ہی نہیں ہے اور سب اسی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔
    وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کسی نے اُس کا دکھ نہیں بانٹا تھا۔
    فارس اور اس کی محبت برسوں پرانی تھی۔ خاندان کا ہر شخص حیران تھا کہ آخر اُسے فارس جیسے لڑکے سے کیسے محبت ہوگئی۔ وہ بدتمیز، بداخلاق، بدمزاج تھا اور پھر نکما اور نالائق بھی۔ پڑھنے لکھنے میں اُسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ہر وقت بس اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا رہتا۔
    جبکہ رانیہ پڑھی لکھی سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ آخر فارس میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ رانیہ نے اُسے اپنا دل دے دیاتھا۔
    کم عمری کی محبت بھی عجیب ہوتی ہے۔ اس میں ایسی شدت، دیوانگی اور جنون ہوتا ہے کہ عقل کے فیصلے اہم نہیں رہتے۔
    فارس وہ پہلا لڑکا تھا جس نے رانیہ سے اظہار محبت کیا تھا۔ اس نے اس سے کہا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنی امی کو رشتے کے لئے اس کے گھر بھیجے گا۔ اس جملے میں بڑی تاثیر تھی۔ ایک جادو تھا جس نے رانیہ کے دل کو اسیر کرلیا تھا۔ ا س جملے کی چابی سے ہر لڑکی کے دل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ محبت کے اظہار کا ہر انداز انوکھا اور خوبصورت ہوتا ہے۔ ہر لڑکی کے لئے خوش رنگ تجربہ ہوتا ہے۔
    محبت کے دعوے دار اور میٹھی میٹھی باتیں کرنے والے تو بڑے مل جاتے ہیں، مگر شادی کی بات کوئی کوئی ہی کرتا ہے۔ رانیہ کے دل میں فارس کی عزت بڑھ گئی۔ اس نے اپنی ماں کو رانیہ کا رشتہ مانگنے بھیجا، جو کہا وہ کردکھایا۔ اور یوں اس نے رانیہ کے دل کی بلندی کو چھولیا۔ عورت اس مرد کی عزت کرتی ہے جو اس سے کیا وعدہ نبھانا جانتا ہے۔
    فارس کوئی شہزادہ گلفام نہیں تھا۔ ایک عام سا لڑکا تھا مگر ہر لڑکی کے لئے اس کا محبوب ہی شہزادہ گلفام ہوتا ہے۔
    اُسے فارس کی محبت پر یقین تھا اور محبت تو ہر انسان کی کمزوری ہوتی ہے۔ عشق میں لوگ نفع و نقصان کا حساب نہیں رکھتے۔
    رانیہ کو برسوں پرانی منگنی ٹوٹنے کا غم تھا۔ وہ شاک کے زیر اثر تھی۔
    فارس بھی بہت غصے میں تھا۔

    اس نے رانیہ کو فون کیا تو وہ اپنے کمرے میں صدمے سے نڈھال بیٹھی تھی۔
    ”رانیہ! تمہارے گھر والوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ ارے وہ تو یہ منگنی توڑنے کے لئے پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔ یہ فیصلہ اچانک نہیں ہوا۔ یہ فیصلہ تو انہوں نے پہلے ہی کرلیا تھا۔ میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ وہ لوگ تمہاری شادی کرنا ہی نہیں چاہتے۔ تمہاری شادی کی صورت میں وہ حویلی ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ مجھے لالچی اور خودغرض کہتے ہیں، لالچی اور خودغرض تو وہ لوگ خود ہیں۔”
    فارس کی آواز میں غصہ تھا۔ خلاف توقع وہ جیتی ہوئی بازی ہار گیا تھا۔ اُسے شکست کا احساس بھی تھا اور ذلت کا بھی۔
    رانیہ اپنی جگہ مجبور تھی۔
    ”فارس ! تم نے اتنی جلد بازی سے کیوں کام لیا؟ تم اچھی طرح جانتے تھے کہ میری فیملی حویلی کے موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ پھر بی جان کو ایسی بات کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ باتیں شادی کے بعد میں بھی تو کی جاسکتی تھیں۔”
    رانیہ نے شکست خوردہ انداز میں کہا۔
    فارس نے درشت انداز میں اُسے ٹوک دیا۔
    ”وہ حویلی تمہاری ہے۔ اس کی مالک تم ہو… تم وہ حویلی اپنی تحویل میں لے سکتی ہو۔ اُسے بیچ سکتی ہو، اُسے نیلام کرسکتی ہو۔ جو چاہے کرسکتی ہو۔ تمہیں اپنے اختیارات اور اپنی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ آج تمہاری بزدلی نے مجھے بہت دکھ دیا ہے۔ تمہارے گھر والوں نے سب کے سامنے ہمیں ذلیل کیا اور تم چپ چاپ دیکھتی رہی۔”
    وہ خفا سے انداز میں بولا۔ فارس کو رانیہ کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ رانیہ پر بھی غصہ تھا۔
    ”فارس میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تھی مگر کسی نے میری بات ہی نہیں سنی۔”
    اس نے اپنی صفائی پیش کی۔ وہ ملول اور اداس ہوگئی۔ کسی کو اس کے دکھ کا احساس ہی نہیں تھا۔ ہر بندہ اسے ہی ڈانٹ رہا تھا۔ اسی کو باتیں سنا رہا تھا۔
    ”رہنے دو یہ بے کار کی وضاحتیں۔ اب تمہیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا۔ تم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم ہر حال میں میرا ساتھ دوگی۔ جو میں کہوں گا وہی کروگی۔”
    وہ ذرا سنجیدہ ہوا اور رعب سے بولا۔
    ”اب کیا کرنا ہوگا مجھے۔”
    وہ اس کی بات سمجھ نہیں سکی۔
    ”اس مسئلے کا ایک حل ہے میرے پاس۔”
    اب کی بار اُس کا لہجہ اتنا درشت نہیں تھا۔
    ”کیا؟”
    اس نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”ہم کورٹ میرج کرلیتے ہیں۔”
    اس نے گویا دھماکہ کیا۔
    کورٹ میرج کا نام سنتے ہی رانیہ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس کے ہاتھ پائوں کانپنے لگے۔
    ”نہیں فارس، میں ایسا نہیں کرسکتی۔ اپنے گھر والوں کی مرضی کے بغیر اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی ہوں۔”
    وہ خوفزدہ انداز میں بولی۔
    ”تمہیں اپنے گھر والوں کے بارے میں نہیں، صرف اپنے اور میرے بارے میں سوچنا ہے۔ ایک بار ہمارا نکاح ہوجائے پھر کوئی کچھ نہیں کرسکے گا۔ پھر تمہارے گھر والوں کو ہماری شادی کے لئے ماننا ہی پڑے گا۔”
    وہ اسے بہکا رہا تھا۔
    وہ اس بات کے لئے کبھی راضی نہیں ہوسکتی تھی۔
    ”عجلت سے کام نہ لو فارس، مجھے تھوڑا وقت دو۔ میں امی اور جیمو ماموں سے دوبارہ بات کروں گی۔”
    اس نے خوفزدہ انداز میں کہا۔فارس نہیں مانا۔
    ”وہ نہیں مانیںگے۔ تم سمجھ کیوں نہیں رہی؟ کورٹ میرج سے کیوں اتنا گھبرا رہی ہو؟ جب تم ساری دنیا کے سامنے تھیٹر ڈرامے کرسکتی ہو تو کورٹ میرج کرنا تمہارے لئے کون سا مشکل کام ہے!”
    اُسے فارس کی بات سن کر صدمہ ہوا تھا۔ اس نے تو کبھی رانیہ کے تھیٹر میں کام کرنے کی مخالفت نہیں کی تھی پھر آج اس نے اسے اس بات کا طعنہ کیوں دے دیا تھا۔رانیہ کو لگا جیسے وہ کسی اجنبی سے بات کررہی ہے۔
    ”فارس! تھیٹر میرا شو ق ہے۔ کورٹ میرج کرنا کسی بھی لڑکی کا شو ق نہیں ہوسکتا۔ تھیٹر میں پرفارم کرنا ایک آرٹ ہے… ایک فن ہے۔ کیا آرٹ کی فیلڈ سے وابستہ لوگ گھر سے بھاگ کر شادیاں کرتے ہیں؟”
    اس کے لہجے میں افسوس تھا۔ اسے فارس کی منطق سمجھ نہیں آئی تھی۔ فارس کے لئے تو جیسے اس کا دکھ اور صدمہ کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا تھا۔
    ”جب تم اپنی مرضی سے تھیٹر میں کام کرسکتی ہو تو اپنی مرضی سے جاکر شادی بھی کرسکتی ہو۔ تم کون سا گھر میں رہنے والی، ہانڈی چولہا کرنے والی چھوٹی موٹی لڑکی ہو جسے زمانے کی کچھ خبر ہی نہیں ہے۔ اب تمہیں کوئی فیصلہ کرنا ہی پڑے گا۔ کل صبح نو بجے میں تمہارے گھر کے باہر آجائوں گا۔ وہیں سے ہم کورٹ چلے جائیں گے۔ وکیل، گواہ، سب انتظامات میں کرلوں گا۔”
    وہ اسی انداز میں بولا۔
    اس کی باتیں تکلیف دہ تھیں۔
    ”نہیں، میںنہیں آسکتی فارس۔”
    اس نے انکار کردیا ۔فارس نے اس کے انکار کو اہمیت نہیں دی۔
    ”کورٹ میرج سے کیوں اتنا گھبرا رہی ہو؟ لوگ کورٹ میرج کرتے ہی ہیں۔یہ کوئی انوکھی بات تو نہیں ہے۔ مجبور ہوتی ہے لوگوں کی۔ تمہیں تھوڑی سی ہمت کرنی پڑے گی۔ ایک بار میرا اور تمہارا نکاح ہوجائے پھر میں دیکھوں گا کہ تمہارے گھر والے کیسے حویلی پر قبضہ جمائے رکھتے ہیں۔”
    وہ تلخ انداز میں بولا۔ اس کے لہجے میں رانیہ کے گھر والوں کے لئے بڑی نفرت اور حقارت تھی۔
    ”فارس… میری بات تو سنو۔”
    رانیہ کے اوسان خطا ہونے لگے۔
    اس نے تو کورٹ میرج کے بارے میں کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
    ”کل صبح نو بجے۔”
    حکیمہ انداز میں کہتے ہوئے اس نے فون بند کردیا۔ اس کے انداز میں کوئی لچک، کوئی گنجائش نہیں تھی۔ رانیہ کی آنکھوں سے چند آنسو بڑی خاموشی کے ساتھ نکلے۔ وہ شدید ذہنی دبائو اور ڈپریشن کا شکار ہورہی تھی۔ فارس نے غصے کے عالم میں اُسے جو طعنے دیئے تھے۔ ان کی تکلیف اتنی جلدی کم ہونے والی نہیں تھی۔ وہ تو فارس کو بہت روشن خیال شخص سمجھتی تھی اور اس کی روشن خیالی کی مثالیں دیا کرتی تھی۔ مگر آج فارس کے دیئے گئے طعنوں نے اُسے بہت دکھ دیا تھا۔
    اوپر سے وہ اس سے کورٹ میرج کرنے کا مطالبہ بھی کررہا تھا۔ وہ کسی صورت اس کی یہ بات نہیں مان سکتی تھی۔
    وہ کتنی ہی دیر اپنے کمرے میں بیٹھی روتی رہی۔ رات کو ماموں اس کے کمرے میں آئے۔
    وہ اُنہیں آتا دیکھ کر اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
    عنایا خاموشی سے میز پر چائے کے کپ اور سینڈوچ رکھ کر چلی گئی۔ ماموں کرسی پر بیٹھ گئے۔
    ”میں نے سوچا کہ آج رانیہ کے ساتھ چائے پی جائے۔”
    وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ بولے پھر چائے کے کپ کی طرف اشارہ کیا۔
    اس نے ناچاہتے ہوئے بھی چائے کا کپ اٹھالیا۔
    بھوک، پیاس سے اس کا برا حال تھا۔
    ماموں نے اصرار کرکے اسے سینڈوچ بھی کھلایا۔
    اسے ڈھارس ملی کہ گھر والوں کے لئے وہ اتنی بھی غیر اہم نہیں تھی۔ ماموں خود چل کر اس کے کمرے میں آئے تھے۔ احترام کا تقاضا تھا کہ وہ ان کی بات سنتی اور بحث و مباحثہ نہ کرتی۔ اس گھر میں بزرگوں کی عزت و احترام کے کچھ اصول تھے۔
    ”سینڈوچ تو بہت ہی مزے دار ہیں۔ عنایا کے ہاتھ میں بڑا ذائقہ ہے۔”
    وہ مسکرا کر بولے۔

    وہ خاموشی سے سینڈوچ کھانے لگی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ یہ باتیں کرنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ یہ تو صرف تمہید ہے۔
    پھر کچھ دیر بعد انہوں نے سنجیدگی سے اس بات کا آغاز کیا جس کے لئے وہ اس وقت یہاں آئے تھے۔
    ”رانیہ بیٹا! زندگی میں بہت سی چیزیں غیر متوقع ہوتی ہیں۔ انسان جن سے محبت کرتا ہے ان سے بچھڑ جاتا ہے۔ جو چاہتا ہے وہ حاصل نہیں کرپاتا۔مقد رکے فیصلوں کو آسانی سے قبول نہیں کرپاتا۔ مگر آسمان والے کے فیصلے زمین والوں کے فیصلوں سے کہیں بہتر ہوتے ہیں۔ اور اس کا احساس انسان کو وقت گزرنے کے ساتھ ہوتا ہے۔”
    وہ اسے سمجھا رہے تھے۔ وہ رو رو کر تھک چکی تھی اور اب خاموشی سے چائے پی رہی تھی۔
    ”مجھے اپنی منگنی کے ٹوٹنے کا بہت دکھ ہے ماموں۔ آپ لوگوں نے میری مرضی، میری رائے کو اہمیت نہیں دی۔”
    کچھ دیر بعد اس نے اُداس آواز میں کہا۔
    ”ہم تمہارے بزرگ ہیں۔ تمہارے لئے کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کریں گے۔ ہم پر اعتبار رکھو۔ فارس جیسا لالچی آدمی تمہیں کبھی خوشیاں نہیں دے سکتا۔ آج اس نے حویلی کا مطالبہ کیا ہے۔ کل کوئی اور مطالبہ کرکے دوبارہ تمہیں بلیک میل کرے گا۔ جن لوگوں کو دوسروں کی چیزوں پر قبضہ کرنے کی عادت پڑجائے وہ آہستہ آہستہ دوسروں کی سب چیزیں چھین لیتے ہیں۔”
    ماموں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ رانیہ کے چہرے پر اداسی تھی۔
    ”مگر میں فارس کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی۔ یہ میرا فیصلہ ہے۔”
    اس نے نظریں جھکائے ہوئے مدھم مگر سنجیدہ آواز میں کہا۔ ماموں کچھ دیر سوچتے رہے۔ آج انہیں رانیہ کی بے وقوفی پر دکھ ہوا تھا۔ فارس نے اسے ہپناٹائز کرلیا تھا اور وہ اس کے اثر سے باہر نہیں آنا چاہتی تھی۔
    پھر انہوں نے چائے کا کپ آہستگی سے میز پر رکھا اور تفکر بھری سنجیدگی سے کہنے لگے۔
    ”رانیہ! کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی بوڑھی ماں کے بارے میں ضرور سوچنا جو پہلے ہی بلڈ پریشر کی مریض ہیں۔ ابھی تمہاری دونوں بہنوں عنایا اور ثمن کی شادی بھی ہونی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کوئی غلط فیصلہ ان دونوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوجائے۔ جب تمہاری مامی کا انتقال ہوا تو ثمن اور ٹیپو بہت چھوٹے تھے۔میں نے بہت محنت سے ان کی پرورش کی۔ زندگی کے ساتھی کے بغیر اتنے سال گزار دیے۔ اپنے بچوں کے لئے قربانی دی کہ نجانے سوتیلی ماں آکر ان کے ساتھ کیا سلوک کرے۔ جب تک وہ سمجھدار نہیں ہوجاتے، میرا پورا وقت اور توجہ صرف میرے بچوں کے لئے ہی ہے۔ اپنے دکھ، غم اور تنہائی کے روگ کو زندہ دلی کی آڑ میں چھپا لیا۔ پھر میں نے اپنی بہن کو بیوگی کا دکھ جھیلتے دیکھا۔ وہ دن رات تمہاری اور عنایا کی فکر میں پریشان رہتیں۔ یہی سوچتی رہتیں کہ تم دونوں کی ذمہ داری تنہا کیسے اٹھائیں گی۔ پھر ہم دونوں بہن بھائی نے ایک دوسرے کے دکھ بانٹ لئے۔ ایک دوسرے کا بوجھ بانٹ لیا۔ جانے والوں کا دکھ تو ہمیشہ دل میں موجود رہتا ہے مگر تم لوگوں کے لئے ہم نے ہمیشہ یہی ظاہر کیا کہ ہم اپنے دکھ بھول چکے ہیں۔ اصل بات ہی قربانی دینے کی ہوتی ہے ۔ بیٹا جو لوگ قربانی دینا نہیں جانتے وہ کبھی محبت نہیں کرسکتے تم ایسا کوئی قدم نہ اٹھانا جس سے اس گھر کی عزت پر آنچ آئے۔”

  • چنبیلی کے پھول“ (قسط نمبر4)”

    چنبیلی کے پھول“ (قسط نمبر4)”

    قسط نمبر4
    ”چنبیلی کے پھول

    اُسے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا۔ کچھ لمحوں کے لئے اس کے حواس منجمد ہوگئے۔
    وہ اتنی بے باکی سے اُسے پرپوز کرے گا اُسے اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا جبکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اُس کی منگنی ہوچکی ہے۔
    ”آپ!“
    غصے سے اس کا چہرہ سرخ پڑگیا۔ آنکھوں سے شرارے پھوٹنے لگے۔اُسے احساس ہوا کہ اس نے یہاں آکر غلطی کی تھی۔ وہ اُس کے سامنے بڑے اطمینان سے بیٹھا پرسکون انداز میں اُس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
    ”مجھ سے قربانی مانگ رہی ہیں! آپ کیوں یہ قربانی نہیں دے سکتیں؟ توڑ دیں اپنی منگنی…… ختم کردیں۔ مجھ سے شادی کرلیں۔ میں آپ کی بات مان لوں گا۔“
    وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے اسی پرسکون اندا ز میں بولا مگر اس کی آواز برف جیسی سرد تھی۔
    رانیہ کاغصے سے بر ا حال تھا۔ رہی سہی کسر زوار کے سکون اور اطمینان نے پوری کردی۔
    آخر وہ خود کوسمجھتا کیا تھا۔ رانیہ کی آنکھوں سے غصہ چھلکنے لگا۔
    ”آپ ایک نفسیاتی مریض ہیں۔“
    اردگرد بیٹھے لوگوں کی وجہ سے وہ بلند آواز میں بات نہیں کرسکتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں برہمی اور چہرے پر بے پناہ خفگی تھی۔
    زوار کے چہرے کے تاثرات پرسکون ہی رہے۔ اُس کے بارے میں رانیہ کا اندازہ درست تھا۔ اس کامطلب تھا کہ وہ اُسے جاننے لگی تھی۔
    ”میں اپنے منگیتر سے بہت محبت کرتی ہوں۔ آ پ کو یہ بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔“
    رانیہ نے اُسے یہ جتانا ضروری سمجھا۔ زوار کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا۔
    ”آپ کو بھی تو یہ بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ میں جواب میں کچھ بھی کہہ سکتا ہوں۔“
    اُ س نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدہ انداز میں کہا مگر اس کی آواز سرد تھی۔
    رانیہ کو اس کا یوں جتانا اور بھی زیادہ برا لگا۔
    ”مجھ سے غلطی ہوگئی۔ مجھے اپنی کزن عشنا کی وجہ سے یہاں آکر آپ سے یہ بات کرنی پڑی مگر آپ کو کیا پتا کہ رشتوں کی محبت اور اُن کا مان کیا ہوتا ہے۔ نہ تو میں سارہ آفندی کو جانتی ہوں اور نہ ناصرہ تسکین کو…… میں نے یہ کوشش صرف انسانی ہمدردی کی وجہ سے کی۔ عشنا اپنی دوست کی مدد کرنا چاہتی ہے اور میں نے انسانیت کے ناطے اُس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ میں اُس کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی۔ اُسے مایوس نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اور پھر میں نے برسوں پردیس میں رہنے والی ماں بیٹی کے بارے میں بھی سوچا جنہوں نے اپنی زندگی کی مشکلات کا تنہا اور خاموشی سے مقابلہ کیا مگر یہاں آکر تو میں نے صرف اپنا وقت ہی ضائع کیا ہے۔آپ ایک بے حد خودغرض، ظالم اور سنگ دل آدمی ہیں۔ آئندہ نہ میں کبھی آپ سے ملنا چاہتی ہوں اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی رابطہ رکھنا چاہتی ہوں۔ میں تو تھیٹر بھی چھوڑ رہی ہوں۔“
    وہ بے حد خفا سے انداز میں بولی۔ اُس نے سوچا کہ آج تو اُسے دو چار سنا ہی دینی چاہیے۔
    وہ پرسکون انداز میں بیٹھا اُس کی بات سنتا رہا۔ شزا اور اس کی بہن وہاں سے جاچکی تھیں۔ ورنہ زوار اور رانیہ کے اس انداز پر ضرور چونک جاتیں۔ زوار کے چہرے کے تاثرات سے لگتا تھا جیسے اُس نے رانیہ کی کسی بات کا برا نہیں منایا، بلکہ وہ تو پہلے سے ہی جانتا تھا کہ وہ اُس کی بات کے جواب میں یہی سب کچھ کہے گی۔ وہ اُس کے اس ردعمل کے لئے پہلے سے ہی تیار تھا۔
    ”یہ کیسی ہمدردی ہے آپ کی؟ کہ آپ سارہ آفندی کے لئے اپنی منگی نہیں توڑ سکتیں! اور مجھ جیسے سنگ دل آدمی سے آپ کو رحم دلی کی اُمید ہے؟“
    اس نے پلکیں جھپکائے بغیر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بھاری آواز میں کہا۔
    رانیہ کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔ اس نے بمشکل اپنے غصے پر قابو پایا۔
    ”آپ مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں؟“
    اُس نے زوار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ وہ اُس کے سوال پر مسکرایا۔
    ”کیونکہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔“
    اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اعتراف کیا۔ اب کی بار اس کی آواز کا بر ف جیسا تاثر پگھل گیا تھا۔
    وہ اس کے اس جملے پر سن ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی کہ اُس نے نظر جھکالی۔ زوار کی آنکھیں مقناطیسی کشش رکھتی تھیں۔
    ”مگر میں آپ سے محبت نہیں کرتی ہوں۔“
    وہ جھکی نظروں کے ساتھ بولی۔
    وہ زوار کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ بات نہیں کرسکتی تھی۔ اس نے کوشش کی کہ اگر زوار کو اس کے حوالے سے کوئی خوش فہمی ہے تو وہ ختم ہوجائے۔ وہ اس کی جھکی پلکوں کودیکھ کر زیر لب مسکرایا۔
    ”مگر میں نے آپ سے محبت تو نہیں مانگی۔“
    وہ مدھم مگر بھاری آواز میں بولا۔
    رانیہ نے بے ساختہ پلکیں اٹھائیں۔ اسے احساس ہوا کہ اس آدمی سے ایسی باتیں کرنا خطرناک تھا…… بہت خطرناک اس نے اس سے محبت کا تقاضا نہیں کیا مگر شادی کے لئے پروپوز کردیا۔ آخر اس بات کا کیا مطلب تھا۔
    وہ الجھ گئی۔
    ”پھر آ پ نے مجھے پروپوز کیوں کیا ہے؟“
    اس نے خفگی سے کہا۔
    وہ مدھم انداز میں مسکرایا۔
    ”جب آپ میرا پروپوزل قبول کرلیں گی پھر بتادوں گا۔“
    وہ اُس مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے گہری آواز میں بولا۔ رانیہ کو اس سے خوف سا محسوس ہوا۔ پتا نہیں ا س آدمی کے کیا ارادے تھے۔
    ”ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ مجھے آپ کے پروپوزل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔“
    اس نے قطعی اور بے لچک انداز میں کہا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    زوار کی مسکراہٹ گہری ہوگئی، یوں جیسے اُسے رانیہ کے انکار سے کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو۔ اُسے یوں مسکراتے دیکھ کر رانیہ نے بمشکل ضبط کیا۔ اس کی آنکھیں بے اختیار نم ہوگئیں۔ وہ اس کی باتوں سے ہرٹ ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں کی نمی دیکھ کرزوار کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ وہ اُسے ہرٹ نہیں کرناچاہتا تھا۔
    وہ وہاں رکی نہیں۔ وہاں سے چلی گئی۔ بارہ بارش تھی۔ وہ بے اختیار۔ اس کے پیچھے آیا۔
    کیفے کے ساتھ ہی تھیٹر ہال تھا۔ وہ بھیگی سڑک کے کنارے چلتے ہوئے اس طرف جارہی تھی۔
    زوار تیزی سے اس کے قریب آکر اس کے برابر چلنے لگا۔
    ”میرا تعاقب نہ کریں۔“

    وہ غصے سے بولی۔ وہ شاید رو رہی تھی۔ زوار کو افسوس ہوا۔
    ”بارش تیز ہے۔ آپ کواس موسم میں اکیلے نہیں جانے دے سکتا ہوں۔“
    وہ نرم مگر قطعی انداز میں بولا۔ رانیہ نے غصے کے عالم میں اس کے لہجے کی فکر مندی کو محسوس ہی نہیں کیا۔ اس نے یونہی چلتے ہوئے اپنا دوپٹہ پھیلا کر اوڑھ لیا۔
    ”مجھے آپ کی مہربانیوں کی ضرورت نہیں ہے۔“
    وہ اکھڑے ہوئے لہجے میں بولی۔ اس کی آواز میں غصہ تھا۔
    ”میں تو ایک سنگ دل آدمی ہوں۔ لوگوں پر مہربانیاں نہیں کرتا ہوں۔“
    اس نے اسے جتاتے ہوئے کہا۔ رانیہ نے بے اختیار لب بھینچ لئے۔
    ”اُف …… اس آدمی کے ساتھ بحث کرنا بے وقوفی ہے۔“
    اس نے لمحہ بھر کے لئے آنکھیں بند کیں اور دل میں سوچا پھر گردن موڑ کر اپنے برابر چلتے زوار کو دیکھ کر درشت لہجے میں کہا۔
    ”آپ یہاں سے چلے جائیں۔“
    اس کی آواز میں غصہ اور ناراضگی تھی۔
    مگر وہ زوار ہی کیا جس پر کسی با ت کا اثر ہوجائے۔
    ”یہ سڑک آپ کی جاگیر تو نہیں ہے۔ آپ کے علاوہ اور لوگ بھی یہاں چل پھر سکتے ہیں۔“
    وہ مدھم آواز میں بات کررہا تھا۔ رانیہ نے بے بسی سے اُسے دیکھا۔
    ”نفسیاتی مریضوں کو اپنے او ردوسروں کے نقصان کی پرواہ نہیں ہوتی۔“
    اس نے خفگی سے کہا۔ اس نے اس کی با ت کا برا نہیں مانا۔
    ”اگر میں نفسیاتی مریض ہوں تو آپ میرا علاج کردیں۔ یقین کریں میں ٹھیک ہوجاؤں گا۔“
    وہ زیر لب مسکرایا۔
    ”اُف یہ آدمی……“
    وہ جھنجھلا گئی۔ اُسے احساس ہوا کہ اس سے کچھ کہنا سننا بے کار ہی تھا۔
    وہ تھیٹر کی پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کے پاس آگئی تھی۔ اب وہ جلد از جلد گھر جانا چاہتی تھی۔
    گاڑی کا لاک کھول کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ مگر وہ گاڑی کا دروازہ نہیں بند کرسکی کیونکہ اس پر زوار نے ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
    ”میری بات سن لیں۔“
    وہ برستی بارش میں کھڑا تھا۔
    ”آپ میرے پاس یہ مقدمہ لے کر آئی ہیں۔ میں آپ کو مایوس نہیں کرنا چاہتا مگر ادھوری کہانیاں خطرناک ہوتی ہیں۔ میں آ پ کوہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا، مگر میرے پروپوزل پر غور ضرور کیجیے گا۔ یقین کریں میں اتنا بھی سنگ دل نہیں ہوں۔“
    رانیہ نے ناراضگی کے عالم میں اُس کی بات سنی پھر گاڑی اسٹارٹ کردی۔ وہ اب اس کی کسی بات کا جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔ وہ گہرا سانس لے کر دو قدم پیچھے ہٹا۔
    رانیہ نے اس کی طرف نہیں دیکھا اور فوراً ہی وہاں سے گاڑی بھگاکر لے گئی۔
    ”میں آئندہ کبھی اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔“
    وہ راستے بھر سوچتی آئی۔
    پھر اُس کی گاڑی کو اپنے تعاقب میں آتے دیکھا۔
    وہ جانتی تھی کہ وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گا اور اس برستی بارش میں اس کے گھر تک آئے گا اور ایسا ہی ہوا۔ وہ اپنے گھر پہنچ گئی اور وہ اس کے گھر کے گیٹ سے واپس مڑ گیا۔
    وہ واقعی ایک عجیب آدمی تھا۔
    ٭……٭……٭
    وہ گھر آئی تو عشنا اسی کا انتظار کررہی تھی۔ مگر وہ آتے ساتھ ہی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اس کا چہرہ اترا ہوا اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ گیلے بال الجھے ہوئے تھے۔ عشنا اسے اس حال میں دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ اسے کسی غیر معمولی بات کا احساس ہوا۔ وہ تو کبھی اس ابتر حالت میں گھر واپس ہی نہیں آئی تھی۔
    رانیہ اپنا لباس تبدیل کرکے تھکے ہوئے انداز میں اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ آج کا دن اس کے لئے بے حد برا ثابت ہوا تھا۔
    ”آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے رانیہ باجی؟“
    عشنا نے اس کی سوجی ہوئی آنکھوں اور بجھے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا۔
    ”میرے سر میں درد ہے…… آج بہت تھک گئی ہوں۔“
    رانیہ نے تھکے ہوئے انداز میں جواب دیا۔
    عشنا کو تشویش ہوئی۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر سے برش اٹھایا۔
    ”میں آپ کے بال سلجھا دیتی ہوں۔دیکھیں تو سہی۔ کتنے الجھ گئے ہیں۔“
    وہ آہستگی سے رانیہ کے گیلے الجھے بالوں میں برش کرنے لگی۔ پھر اس نے وہی سوال کیا جس سے رانیہ خوفزدہ تھی۔
    ”کیا آپ نے زوار آفندی سے بات کی؟“
    رانیہ نے ایک پل کے لئے آنکھیں بند کیں۔ وہ اس لمحے کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
    ”وہ ایک پاگل اور سنگ دل آدمی ہے۔ تم اپنی دوست کی مدد کرنے کا خیال دل سے نکال دو۔ وہ ناصرہ تسکین کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔“
    رانیہ نے خفا سے انداز میں کہا۔ وہ عشنا کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں کرناچاہتی تھی۔ عشنا اس کے اس انداز پر بھونچکا رہ گئی۔ یہ جواب ا س کی توقع کے برعکس تھا۔
    ”مگر ہوا کیا ہے؟ کیا کہا اُس نے؟“
    عشنانے بے چینی سے پوچھا۔ رانیہ اُسے وہ سب کچھ تو نہیں بتا سکتی تھی جو زوار نے اس سے کہا تھا۔
    ”اس نے انکار کردیا؟“
    عشنا نے دل تھام کر اندازہ لگایا۔
    ”ہاں۔“
    رانیہ کو یہی مناسب ترین جواب لگا۔ عشنا کو مایوسی ہوئی۔
    ”آپ نے اسے ساری باتیں بتائی تھیں؟“
    عشنا نے بجھے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”ہاں …… بتائی تھیں۔“
    رانیہ نے کہا۔
    ”پھر…… کیا اُس نے آپ کے ساتھ بدتمیزی کی؟“
    عشنا نے ذرا جھجک کر پوچھا۔
    ”بہت زیادہ…… صرف یہی نہیں بلکہ اس نے میری انسلٹ بھی کی۔“
    رانیہ نے خفا انداز میں کہا۔ عشنا کو افسوس ہوا۔ اُسے زوار سے ایسے انتہائی ردعمل کی امید نہیں تھی۔
    ”I am sorry Rania Baji…… میری وجہ سے آپ کو اتنی باتیں سننی پڑیں۔“
    اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں تمہارا اس میں بھلا کیا قصور…… تم تو اپنی دوست کی مدد کرنا چاہتی تھی وہ ہی بدتمیز آدمی ہے…… آئندہ میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔“
    رانیہ برہم انداز میں بولی۔
    ”اس کامطلب ہے سارہ کا اندازہ درست تھا۔“
    عشنا نے گہراسانس لے کر کہا۔
    ”ہاں ظاہر ہے۔ وہ زوار آفندی کی فطرت سے واقف ہوگی بے چاری……“
    رانیہ نے اسی انداز میں کہا۔
    ”اور آپ نے اُسے تاج بھی واپس کردیا؟“
    عشنا نے بجھی آواز میں پوچھا۔
    ”ہاں ……کردیا۔“
    رانیہ نے سنجیدہ انداز میں جواب دیا۔
    عشنا نے بے اختیار گہرا سانس لیا۔ وہ رانیہ کے بال سلجھا چکی تھی اور اب اس کے سامنے آکر بیٹھ گئی تھی۔
    ”مجھے یقین نہیں آرہا کہ زوار آفندی نے آ پ کی بات بھی نہیں سنی۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ جب وہ آپ کے لئےgold کا تاج بنوا سکتا ہے تو آپ کی اتنی سی بات کیوں نہیں مان سکتا؟“
    عشنا نے الجھ کر کہا۔ اسے افسوس تھا کہ اس کی ساری کوششیں بے کار ہوگئی تھیں اور یہ اُس کے لئے بڑے صدمے کی بات تھی۔
    ”ایک دولت مند آدمی کے لئے سونے کا تاج بنوانا بہت آسان ہوتا ہے مگر اپنی انا اور غرور کو توڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔“
    رانیہ نے گہرا سانس لیتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
    عشنا خاموش ہوگئی۔ یہ فلسفہ اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔
    یکدم رانیہ کا موبائل بجنے لگا۔ اُس نے پرس میں سے موبائل نکال کر دیکھا تو موبائل کی اسکرین پر زوار کالنگ لکھا ہوا آرہا تھا۔
    ”دیکھیں …… زوار کا فون آرہا ہے۔ شاید اُسے ابguiltہورہا ہوگا اور آپ سے sorry کرنا چاہتا ہوگا۔“
    عشنا کی آواز پرجوش ہوگئی۔ رانیہ کی پیشانی شکن آلو دہوگئی۔
    وہ زوار کا فون نہیں اٹھانا چاہتی تھی۔
    ا س نے زوار کا فون کاٹ کر اس کا نمبر بلاک کردیا۔
    ”میں اب اس آدمی سے کبھی با ت نہیں کرنا چاہتی ہوں۔“
    اس نے قطعی انداز میں کہا
    عشنا نے اُسے روکنے کی کوشش کی۔
    ”بلاک تو نہ کریں اُسے۔“
    زوار کا فون آنے سے اُسے کچھ امید بندھ گئی تھی۔
    رانیہ کو عشنا پر غصہ آیا۔
    ”اس کا انکار سن کر بھی تمہیں اس سے ہمدردی ہورہی ہے!“
    وہ اس پر برس پڑی۔
    ”پھر وہ آپ کو فون کیوں کررہا ہے؟“
    عشنا نے الجھ کرکہا۔
    ”کیونکہ وہ ایک پاگل آدمی ہے۔ نفسیاتی مریض ہے۔“
    رانیہ نے خفگی سے کہا اور موبائل آف کرکے سائیڈٹیبل پررکھ دیا۔
    عشنا خاموش ہوگئی۔ اُسے احساس ہوا کہ اس وقت رانیہ سے زوار کے بارے میں بات کرنا بے کار ہے۔ وہ بہت غصے میں تھی مگر آخر رانیہ کو زوار پر اتنا غصہ کیوں تھا؟ ایسی کیا بات ہوگئی تھی۔ عشنا نے سوچا۔ اگر زوار نے سارہ کے معاملے میں انکار کردیا تھا تو اس میں اتنا ناراض ہونے والی کیا بات تھی۔ عشنا کو لگا کہ رانیہ اس سے کچھ چھپا رہی ہے۔ بات دراصل کچھ اور تھی۔
    رانیہ سونے کے لئے لیٹ گئی۔

  • چنبیلی کے پھول“ (قسط نمبر3)”

    چنبیلی کے پھول“ (قسط نمبر3)”

    تحریر:نوید احمد
    قسط نمبر3
    ”چنبیلی کے پھول“

    زوار نے اُس کی طرف دیکھا تو اُس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی مگر وہ مسکرا بھی نہ سکی۔
    یہ اتفاق نہیں تھا۔
    یہ آدمی بار بار اُس کے راستے میں کیوں آجاتا تھا؟ کل تک وہ محض اُس کا فین تھا اور آج اُس کے ڈرامے کا financer بھی بن گیا، یہ اتفاق کیسے ہوسکتا تھا بھلا!
    یہ اُس کا وہم نہیں تھا کہ وہ اُس کے آس پاس رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جہاں جاتی تھی، وہاں پہنچ جاتا۔ آخر وہ اُس سے کیا چاہتا تھا، کیوں بار بار اُس سے ٹکراتا تھا۔
    اُس کی آنکھیں بے حد گہری اور چونکا دینے والی تھیں۔ وہ محسوس کرتی کہ جب بھی وہ اس کی طرف دیکھتا ہے تو اُس کی آنکھوں میں انوکھی سی چمک آجاتی ہے۔ اُس کی شخصیت میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ سامنے والا اُس کی شخصیت کے رعب میں آجاتا۔ وہ اُسے جتنا اگنور کرتی وہ اُتنا ہی اُس کے قریب آنے کے بہانے ڈھونڈتا۔ اب وہ اس کے تھیٹر ڈرامے کا اسپانسر بھی بن گیا تھا تو بھلا وہ اُسے کیسے نظر انداز کرسکتی تھی اور شاید وہ یہی چاہتا تھا کہ وہ اس انداز میں اُس کے قریب آئے کہ وہ اُسے نظر انداز نہ کرسکے۔
    ”چلو رانیہ……“
    شزا نے اُسے یوں ساکت کھڑے دیکھ کر اُس کا بازو تھام کر کہا۔
    اُس کے قدم من من بھر کے ہوگئے۔
    وہ اس شخص سے خوفزدہ ہوگئی تھی اور یہ خوف اس کی آنکھوں میں بھی نظر آرہا تھا۔
    ڈائریکٹر نے زوار آفندی سے سب لوگوں کا تعارف کروایا۔ وہ غائب دماغی سے سب کی باتیں سنتی رہی۔
    رانیہ کے علاوہ سب لوگ بہت خوش نظر آرہے تھے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ایک وہی تھی سنجیدہ، گم سُم اور قدرے خوفزدہ بھی……
    اس کے بعد لنچ تھا جو زوار کی طرف سے تھا۔ وہ اُن سے ذرا فاصلے پر کھڑا آرگنائزر کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔
    وہ اپنی جگہ سے نہیں اٹھی ایک کونے میں ہی بیٹھی رہی۔
    شزا نے اُس کی اس غائب دماغی کو نوٹ کیا۔
    ”تم کچھ کھا نہیں رہی!“
    شزا نے اُسے یوں کونے میں الگ تھلگ بیٹھے دیکھا تو اس کے لئے پلیٹ میں سینڈوچز لے آئی۔
    ”مجھے بھوک نہیں ہے۔“
    اس نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”Financerکو دیکھ کر تمہاری بھو ک کیوں اڑ گئی؟“
    پتا نہیں شزا نے اُسے کیوں چھیڑا۔
    ”یہ آدمی……“
    وہ اس سے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہتے کہتے رُک گئی وہ یہ باتیں کسی کے ساتھ شیئر بھی نہیں کرسکتی تھی اور وہ شزا کو مشکوک بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ شزا نے اُس کی ادھوری بات پر اتنا دھیان نہیں دیا۔
    ”میں تو سمجھی تھی کہ کوئی پکی عمر کا، سفید بالوں والا کوئی موٹا بھدا سا بندہ ہوگا مگر یہ تو بڑا ہی ہینڈسم آدمی ہے۔ بالکل ہیرو لگ رہا ہے۔دیکھو! سب سے مسکرا مسکرا کر باتیں کررہا ہے۔ ذرا بھی غرور نہیں ہے اس میں۔“
    شزا ذرا فاصلے پرکھڑے زوار کو دیکھ کر کہہ رہی تھی۔رانیہ نے اُس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔
    شزا نے اُس کی خاموشی کو محسوس کیا وہ مسلسل اُس کے بالوں میں چمکتے تاج کو دیکھ رہی تھی۔
    ”کیا پتا کہ واقعی یہ اتنا امیر آدمی ہو کہ اس کے لئے سونے اور موتیوں کا تاج منگوانا کوئی بڑی بات ہی نہ ہو…… ویسے بندہ بڑے زبردستtaste کا مالک ہے۔“
    اُس نے سینڈوچ کھاتے ہوئے کہا۔
    رانیہ نے نفی میں سرہلایا۔
    ”تمہیں تو وہم ہوگیا ہے کہ یہ تاج سونے کا ہے۔ تم خود سوچو کہ ایک تھیٹر ڈرامے کے لئے یہ آدمی سونے اور موتیوں کا تاج کیوں بنوائے گا؟“
    ”یہی تو میں سوچ رہی ہوں …… مگر خیر تھیٹر پلے والے دن میری بہن آئے گی تو وہ خود ہی اس تاج کے بارے میں بتادے گی۔“
    شزا نے پرسوچ انداز میں کہا۔
    وہ تاج اتنا ہی قیمتی اور خوبصورت تھا کہ دیکھنے والوں کو چونکا دیتا۔
    ”ٹھیک ہے۔“
    رانیہ نے کہا۔ اُسے اس تاج میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ شزا کو ڈائریکٹر نے کسی کام سے بلایا تو وہ اٹھ کر چلی گئی۔
    زوار اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔ لوگ اُس سے متاثر ہورہے تھے۔ اس کے ساتھ تصویریں بنوا رہے تھے۔
    اگر وہ شزا کو بتاتی کہ ایک بار ا س آدمی نے اُس سے آٹوگراف لیا تھا تو شزا بالکل یقین نہ کرتی بلکہ اس کی بات پر بہت ہنستی۔ رانیہ نے زوار آفندی کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ اُس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ اور آنکھوں میں روشنی سی تھی۔
    اب وہ اُسے نظر انداز نہیں کرسکتی تھی۔ اب اُس سے مجبورا ً اُسے بات کرنی ہی تھی۔
    وہ اب اُس کے عین سامنے کھڑا تھا۔
    ”کیسی ہیں آپ کوئین؟“
    وہ خوشدلی سے مسکراتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں بولا۔
    اس کی بے حد گہری نظریں جیسے اُس پر ٹھہر گئی تھیں۔
    ”آپ تو بالکل کوئین آف اسکاٹ لینڈ لگ رہی ہیں۔“
    اس نے اس کی تعریف کی تھی۔
    ”تھینک یو۔“
    وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
    آخر کچھ تو اُسے کہنا ہی تھا۔
    ”سب سے الگ تھلگ کیوں بیٹھی ہیں آپ؟“
    اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
    رانیہ نے بے ساختہ نظریں جھکالیں۔ زوار کی آنکھیں بے حد گہری تھیں، اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرنا بہت مشکل کام تھا۔
    اسے محسوس ہوتا کہ زوار صرف اس کا فین ہی نہیں ہے بلکہ کوئی اور بات بھی ہے۔
    ”بس ویسے ہی…… مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ financer بھی ہیں۔“
    اُس نے کہا۔
    اس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔
    ”بن گیا ہوں۔“
    وہ بے ساختہ بولا۔
    جملہ مختصر مگر واضح تھا۔
    وہ خاموش رہی۔ اب اس سے یہ پوچھنا کہ وہ فائنانسر کیوں بن گیا تھا، احمقانہ پن کی انتہا ہی ہوتی۔
    ”میں تو آپ کے گھر والوں کی دعوت کا انتظار ہی کرتا رہا۔“
    وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
    ”وہ لوگ کچھ پلان تو کررہے ہیں۔ آپ کو جلد ہی بتادیں گے۔“
    اس نے مدھم آواز میں کہا۔ بھلا وہ کیوں اس کے گھر آنے کے لئے اتنا بے تاب تھا۔
    ”خوش قسمت ہیں آپ! کہ آپ کے گھر والے اتنے اچھے اور سوئیٹ ہیں۔ میں ایسے لوگوں سے بہت متاثر ہوتا ہوں۔“
    وہ اس کے گھر والوں کی تعریف کررہا تھا۔ سو اُسے مسکرانا ہی تھا۔ وہ محسوس کررہا تھا کہ وہ اس سے زیادہ بات نہیں کرپارہی۔
    ”Macbeth میرا فیورٹ پلے ہے مگر یہ ایک ٹریجک ڈرامہ ہے…… ٹریجک کہانیوں کا اپنا ہی impact ہوتا ہے…… وہ اپنا اثر رکھتی ہیں اور لوگوں کو یاد رہ جاتی ہیں۔“
    وہ اسی طرح اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔
    اس کی باتوں میں فلسفہ تھا۔
    ”جی ہاں …… یہ تو ہے۔“
    رانیہ نے بس اتنا ہی کہا۔
    وہ مسلسل اُس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔
    ”Love stories are always tragicایسا کیوں ہوتا ہے؟“
    وہ ذر ا سنجیدہ ہوا۔
    اب وہ اس بات کا کیا جواب دیتی۔
    ”معلوم نہیں …… میری love story تو ٹریجک نہیں ہے۔“
    اس نے ایک جملے میں اُسے بہت کچھ جتا دیا۔ اس نے سوچا عقلمند کو اشارہ ہی کافی ہے۔
    وہ اُس کے جملے پر چونکا پھر سرجھٹک کر مسکرا دیا، جیسے اس نے اس کی بات کو سنجیدگی سے ہی نہیں لیا۔
    ”میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ میری love story ٹریجک نہ ہو۔“
    وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔
    وہ کچھ بول نہ سکی۔ ایک لمحے کے لئے اُس کا دل زور سے دھڑکا وہ اپنی کس love story کی بات کررہا تھا۔آخر اس نے اُسے کیا جتایا تھا۔
    رانیہ کی چھٹی حس اُسے بار بار الارم دیتی کہ کہیں کچھ غلط تھا اور یہ اُس کا وہم نہیں تھا۔
    وہ گہری مسکراہٹ کے ساتھ اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اور وہ اس کی آنکھوں کا خوف بھی پڑھ چکا تھا۔ وہ کچھ دیر اُس کے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر اس نے خوبصورتی سے بات بدل دی۔
    ”آپ کا تاج بہت خوبصورت ہے!“
    وہ اس کی بات پر حیران ہوئی۔ یہ سب چیزیں اسی کی تو بھیجی ہوئی تھیں۔
    ”یہ تاج آپ نے ہی تو بھیجا ہے۔“
    اس نے بے ساختہ کہا۔
    نجانے وہ کیوں ہنسا۔ وہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی۔ وہ ایک عجیب آدمی تھا۔ اس کی باتیں بھی عجیب تھیں۔
    وہ اس سے کیا پوچھتی کہ وہ کیوں ہنس رہا ہے۔ اسے اپنا آپ احمق محسوس ہوا۔
    ”اس تھیٹر پلے کو میں نے اسی تاج کی وجہ سے اسپانسر کیا ہے۔“
    اس نے مدھم مگر خوشگوار لہجے میں کہا۔ یوں جیسے بڑے راز کی بات بتائی ہو۔
    ”ایسی کیا خاص بات ہے اس میں؟“
    وہ الجھ گئی۔
    وہ پہیلیوں میں بات کرنے کا عادی تھا۔
    ”یہ تاج ایک ملکہ کے لئے بنایا گیا ہے۔“
    ا س کی آواز گہری ہوگئی۔
    ”کون ملکہ؟“
    اس نے احمقانہ پن سے پوچھا۔زوار کی آنکھوں میں روشنی سی چمکی۔
    وہ سادہ تھی یا معصوم…… یا واقعی ایک بے وقوف لڑکی تھی۔
    وہ ذرا آگے کو جھکا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا۔
    ”وہی ملکہ جس نے اس تاج کو پہنا ہوا ہے۔“
    اس کی آواز میں جذبات کی شدت تھی اور آنکھیں لو دے رہی تھیں۔
    وہ چند لمحوں کے لئے ساکت رہ گئی۔
    وہ اس پر ایک گہری اور مسکراتی نظر ڈال کر واپس پلٹ گیا۔
    وہ گم سم بیٹھی اُسے وہاں سے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔
    اُسے احساس ہوا کہ وہ صرف پراسرار آدمی ہی نہیں تھا…… بلکہ خطرناک آدمی بھی تھا۔
    ٭……٭……٭

  • چنبیلی کے پھول” (قسط نمبر2)“

    چنبیلی کے پھول” (قسط نمبر2)“

    قسط نمبر2
    ”چنبیلی کے پھول“

     

    ”کیا؟“
    عشنا نے یقینی سے سارہ کو دیکھ رہی تھی۔ اُس کے جواب نے اُسے ششدرہ کردیا تھا اُسے سارہ کے منہ سے ایسی کوئی بات سننے کی توقع بھی نہیں تھی۔
    سارہ کے چہرے پر گہری شام کے سائے تھے۔
    ”ہاں …… وہ میرے اسٹیپ فادر تھے۔“
    سارہ نے نظریں جھکائے ہوئے مدھم آواز میں اپنا جملہ دہرایا۔
    ”اسٹیپ فادر؟ مگر تم نے تو کہا تھا کہ وہ تمہارے پاپا ہیں۔“
    سارہ اپنے دونوں ہاتھ مسلتے ہوئے خاموش ہوگئی پھر اس نے گہرا سانس لیا۔
    ”میں انہیں پاپا ہی کہتی تھی،مگر وہ ممی کے سیکنڈ ہزبینڈ تھے۔“ اُس نے دھیمی آواز میں کہا۔
    ”اچھا!“
    عشنا حیران ہوئی اور سوچنے لگ گئی کہ ناصرہ تسکین نے گھر سے بھاگ کر جس امیر کبیر آدمی سے شادی کی تھی، تو وہ کون تھا بھلا……
    ”تو تمہارے اپنے فادر کہاں ہیں؟“
    عشنا نے حیرت بھری سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”بہت سال پہلے میرے باباکیdeath ہوگئی تھی۔“
    سارہ نے اداسی سے کہا۔
    ”تو پھرتمہاری ممی نے دوسری شادی کب کی تھی؟ عشنا کے لئے انکشافات کا یہ سلسلہ بے حد حیران کن اور عجیب تھا۔
    ”ممی نے دوسری شادی کچھ سال پہلے پاکستان میں ہی کی تھی، پھر ممی کی فیملی نے ان کا بائیکاٹ کردیا اور ہم لوگ کینیڈا آگئے۔ ممی سمجھی تھیں کہ یہاں آکر ہم لوگ ایک نئی زندگی شروع کریں گے مگر یہاں آکرسب کچھ بدل گیا، جیسا ممی نے سوچا ویسا کچھ نہیں ہوا۔“
    سارہ نے افسردہ انداز میں بتایا۔
    ”اگر تمہاری ممی نے تمہارے بابا کیdeath کے بعد دوسری شادی کرلی تھی تو ان کی فیملی ان سے ناراض کیوں ہوگئی؟ کیا پاکستان میں عورتیں دوسری شادی نہیں کرسکتیں؟“
    عشنا نے سنجیدگی سے کہا۔ سارہ نے سرمزید جھکا لیا۔
    ”میرے پاس اس بات کا جواب نہیں ہے۔“
    سارہ نے مدھم مگر افسردہ آواز میں کہا۔
    عشنا بھی سارہ کی بات سن کر اداس ہوگئی۔
    ”کتنے rudeاور cruelہیں تمہارے خاندان والے…… دوسر ں کو معاف کرنے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے۔“
    عشنا نے افسوس سے کہا۔ وہ سارہ اور اس کی ممی کا دکھ محسوس کرسکتی تھی۔
    ”Cruelتو پاپا بھی تھے…… ممی نے انہیں بہت روکا تھا…… وہ بہت روئی تھیں مگر پاپا کو ان پر رحم نہیں آیا۔ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، انہوں نے ممی کو دھوکہ دیا تھا۔ممی نے اپنی زندگی میں بہت دکھ دیکھے ہیں۔“
    سارہ نے افسردہ آواز میں کہا۔ بہت چھوٹی سی عمر میں وہ اپنی ماں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔
    ”اوہ…… مجھے تو یہ سب سن کر بہت افسوس ہوا۔“
    عشنا افسردہ ہوگئی۔
    سارہ نے اداس آنکھیں اٹھاکر عشنا کی طرف دیکھا۔
    ”میں پاکستان جانا چاہتی ہوں کیونکہ وہاں کوئی میرا انتظار کررہا ہے۔“
    سارہ نے پراسرار لہجے میں کہا۔ اس کے انداز میں کوئی ایسی بات تھی جس نے عشنا کو چونکا دیا تھا۔
    ”کون؟“
    عشنا بری طرح ٹھٹک گئی۔
    ”ہے کوئیrelative۔“
    سارہ نے اسی پراسرار انداز میں جواب دیا۔
    ”کونrelative؟ دادا، دادی، نانا، نانی، خالہ، پھپھو؟“
    عشنا نے بے ساختہ پوچھا۔
    ناصرہ تسکین کی کہانی پرت در پرت کھلتی جارہی تھی اور مزید سنسنی خیز ہوتی جارہی تھی۔ ایک راز سے جڑے کئی راز تھے۔
    ”بس ہے کوئی رشتہ دار…… میں چاہتی ہوں کہ وہ ممی کو معاف کردے…… اس کے لئے مجھے پاکستان جانا ہوگا…… مگر نہ ممی خود پاکستان جانا چاہتی ہیں اور نہ ہی مجھے جانے دیتی ہیں۔“
    سارہ نے چونکا تے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”تمہیں چاہیے کہ سوشل میڈیا پر اور فون کے ذریعے اسrelativeسے رابطہ کرو۔“
    عشنا نے پوچھتے ہوئے اُسے مشورہ دیا۔
    ”بہت کوشش کی ہم نے…… ممی انہیں فون کرتی ہیں مگر وہ ممی سے بات ہی نہیں کرتے۔ فون نہیں اٹھاتے، میسجز کا جواب نہیں دیتے…… اتنے سال گزر گئے مگر انہوں نے ممی کو معاف نہیں کیا۔ ممی تو بہت سالوں سے کوشش کررہی ہیں مگر انہیں کوئیsuccess نہیں ہوئی۔“
    سارہ نے اداسی سے جواب دیا۔
    عشنا کے ذہن میں فوراً ایک خیال آیا۔
    ”تم اس relative کا نام مجھے بتاؤ…… فون نمبر دو…… میں اُن سے contact کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں تمہارا یا ناصرہ آنٹی کا نام نہیں لوں گی…… کیا معلوم کچھ ہوجائے۔“
    عشنا کی آواز پرجوش ہوگئی۔
    سارہ نے بنچ پر پڑے بیگ کی جیب میں سے کاغذ اور پین نکالا اور کچھ لکھنے لگی۔
    ”عشنا میں تم پرtrust کرتی ہوں …… یہ میرے رشتہ دار کا نام ہے……میں ان کے پاس پاکستان جانا چاہتی ہوں، مگر یہ ہم سے بات نہیں کرتے…… تم ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرو…… مگرpromis meعشنا،یہ ہم دونوں کاsecret ہے۔“
    سارہ نے کاغذ پر لکھتے ہوئے عشنا سے کہا۔
    ”Don’t worry Sara، تمہارا کام ضرور ہوجائے گا۔“
    عشنا نے کاغذ پرلکھی تحریر پڑھتے ہوئے سارہ کو تسلی دی۔
    اور اس کے بعد سارہ نے اُسے جو کچھ بتایا اُسے سن کر عشنا کی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئیں …… اُسے اتنا شاک سارہ کے سوتیلے پاپا کے بارے میں سن کر نہیں لگا تھا جتنا سارہ کے رشتہ دار کے بارے میں جان کر لگا۔
    ٭……٭……٭

    رانیہ کے گھر میں تناؤ کی سی کیفیت تھی۔ اُسے گھر والوں کے چہروں کو دیکھ کرہی محسوس ہوگیا تھا کہ وہ سب اُس سے ناراض ہیں۔ منہ سے تو کوئی کچھ نہیں کہتا تھا مگر اُن کے رویوں سے ایسا ہی لگتا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ گھر والوں کو حویلی میں شفٹ ہونے والی بات بہت بری لگی تھی۔ اس کے بعد اس حوالے سے گھر میں کوئی ذکر تو نہیں ہوا تھا مگر تناؤ اور کشیدگی کی فضا برقرار رہی۔ رانیہ شرمندہ بھی تھی۔ اُس کے گھر والے فارس کو ناپسند کرتے تھے اور وہ چاہنے کے باوجود کسی کے دل میں فارس کے لئے جگہ نہ بناپائی۔
    وہ اپنے کمرے سے باہر نکلتی تو گھر والے اُس سے نظریں چرا لیتے، اگر بات چیت میں مصروف ہوتے تو اُسے دیکھ کر خاموش ہوجاتے۔ رانیہ کے لئے یہ رویے تکلیف دہ تھے وہ پریشان تھی کہ کیا کرے اور کیا ناکرے۔ فارس کو بھی اُس سے گلے تھے اور اس کے گھر والے بھی اس سے ناراض تھے۔
    وہ اپنے کمرے میں اکیلی، چپ بیٹھی رہتی۔ اسے لگتا تھا کہ وہ اکیلی ہوگئی ہے۔ نہ کوئی اس کی بات سمجھتا ہے او رنہ کوئی اس کا ساتھ دیتا ہے۔ بذات خود اُسے چاند حویلی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں اِتنے مسائل پیدا ہوگئے تھے۔
    چاند حویلی دراصل رانیہ اور عنایا کے دادا کی حویلی تھی اور وہ وراثت میں رانیہ کے والد کے حصے میں آئی تھی۔ رانیہ کے دادا نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی تھی جن کے پہلے شوہر سے ایک بیٹا بھی تھا جو فارس کے ابا تھے۔
    ساری زندگی رانیہ کے دادا، دادی نے دونوں بیٹوں میں فرق نہیں رکھا۔ رانیہ کے دادا نے اپنے سوتیلے بیٹے کو بھی وہی محبت اور شفقت دی جو اپنے بیٹے کو دی تھی مگر سوتیلے بیٹے ہونے کی وجہ سے وہ وراثت میں حصہ دار نہیں تھے اور رانیہ کے دادا نے وہ حویلی اپنی پوتیوں کے نام کردی تھی۔ اس بات کا فارس کی ماں کو گلہ تھا کہ انہوں نے ساری زندگی فارس کی دادا کی خدمتیں کیں، اُن کا خیال رکھا اور جائیداد انہوں نے کل کی بچیوں کے نام کردی۔
    فارس کا بچپن اس ہی حویلی میں گزرا تھا۔ اس جگہ سے اُس کی یادیں جڑی تھیں۔ اُسے ضد ہوگئی تھی کہ وہ اسی حویلی میں رہے گا اور اسی وجہ سے ہی اس نے رانیہ سے منگنی کی تھی، ورنہ رانیہ کے ساتھ کبھی کسی نے اُس کے چہرے پر خوشی تو دیکھی نہیں تھی۔
    ان حالات سے دلبرداشتہ ہوکر رانیہ نے دوبارہ تھیٹر جوائن کرلیا۔ اور اب وہ لوگ نئے ڈرامے macbeth کی ریہرسل کررہے تھے اور اس ڈرامے میں وہ لیڈی macbethکا کردار ادا کررہی تھی۔
    ”لیڈی میکبیتھ“ دراصل اسکاٹ لینڈ کی ملکہ تھی، یہ کردار رانیہ کے لئے بہت چیلنجنگ تھا اور وہ اس پر بہت محنت کررہی تھی۔
    وہ خوش تھی کہ وہ ایک بار پھر ملکہ بن رہی تھی اور اس طرح اُس کا کتھارسس بھی ہوجاتا تھا۔ وہ ایک حساس لڑکی تھی اور سوچتی تھی کہ کاش اُس کے پاس بھی ملکہ جیسے اختیارات ہوتے۔ یا کم از کم وہ فارس کے دل کی ملکہ تو ہوتی۔ وہ اُس کی منگیتر ضرور تھی مگر اُس کی ملکہ نہیں تھی۔
    وہ ریہرسل سے فارغ ہوئی تو واپسی پر فارس اُسے لینے آیا اور وہ دونوں ساحل سمندر پر چلے گئے۔
    فارس ہمیشہ کی طرح سنجیدہ تھا، رانیہ کو ہمیشہ اس کی سنجیدگی سے خوف آتا تھا۔
    ”پھر تمہاری امی اور ماموں نے کیا فیصلہ کیا؟ مجھے تو ان لوگوں نے صاف جواب دے دیا تھا…… مگر تمہاری بات پر تو ضرور غور کریں گے۔ وہ لوگ آخر کب تک اپنی من مانی کرتے رہیں گے۔“
    وہ سمندر کے کنارے گیلی ریت پر رانیہ کے ہمراہ چلتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔
    ”فیصلہ!“

    وہ ساکن سمندر کو دیکھ کر چند لمحوں کیلئے چپ سی ہوگئی۔
    ”فارس! وہ حویلی صرف میری نہیں ہے۔ عنایا کی بھی ہے اور عنایا اس بات کے لئے راضی نہیں ہے کہ میں اور تم شادی کے بعد وہاں رہیں۔“
    وہ مدھم آواز میں بولی۔
    ”عنایا راضی نہیں ہے یا تمہاری ماں اور ماموں راضی نہیں ہیں؟“
    وہ طنزیہ انداز میں بولا۔ اُس کی آواز میں دبا دبا سا غصہ تھا اور وہ اپنا غصہ بھی چھپانا نہیں جانتا تھا۔
    ”اس ضد کو چھوڑ دو فارس۔ گھر میں اس بات کی وجہ سے بہت جھگڑا ہوا ہے۔ سب لوگ مجھ سے ناراض ہیں۔“
    رانیہ نے اداسی سے کہا۔ اُسے خود پر بھی افسوس ہوا کہ وہ باوجود کوشش کے کسی کو بھی خوش نہیں رکھ پائی۔
    ”تمہاری امی اور ماموں تمہاری اور میری شادی کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں …… تم بے وقوف لڑکی ہو جو ان لوگوں کی پلاننگ کو نہیں سمجھتی ہو۔ وہ لالچی لوگ ہیں اور تمہیں اپنے مفاد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔“
    فارس رانیہ کے گھر والوں سے کچھ زیادہ ہی بدگمان تھا۔
    رانیہ نے فوراً اُسے وضاحت دی۔
    ”ایسی بات نہیں ہے فارس……دراصل تمہاری جاب……“
    فارس نے اُس کی بات کاٹ دی۔
    ”جاب تو مجھے مل ہی جائے گی…… ایک دو جگہ انٹرویو ز دیئے ہیں میں نے…… مسئلہ میری جاب کا نہیں ہے رانیہ…… مسئلہ چاند حویلی کا ہے…… تمہاری حویلی کا۔“
    فارس جھنجھلا کربولا۔
    اُسے اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کا فن آتا تھا۔ اُسے ہر چیز میں دوسروں پر الزام لگانے کی عادت تھی۔
    ”وہ صرف میری حویلی نہیں ہے فارس…… تم کیوں بھول جاتے ہو؟“
    رانیہ عاجز آگئی۔
    فارس کی ضد اُسے تکلیف دینے لگی تھی۔ وہ فارس کے ساتھ خوش رہنا چاہتی تھی مگر فارس ہر وقت کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کرلیتا۔
    ”تم کیوں بھول جاتی ہو، کہ تم اُس حویلی کی مالک ہو۔ اس حویلی کے حوالے سے فیصلہ کرسکتی ہو۔“
    وہ اُسے اُکسا رہا تھا۔
    وہ چاہتا تھا رانیہ اُس کی مرضی کا فیصلہ کرے،وہی کرلے جو وہ چاہتا ہے۔ وہ رانیہ کے منہ سے کسی بھی چیز کے لئے کبھی انکار سننا ہی نہیں چاہتا تھا۔
    ”میں اکیلی مالک تو نہیں ہوں …… مجھے اپنی بہن کے مشورے کا بھی احترام کرنا ہوگا۔“
    رانیہ نے سنجیدگی سے کہا
    وہ ذرا ناراض ہوا۔

  • چنبیلی کے پھول (قسط نمبر ۱)

    چنبیلی کے پھول (قسط نمبر ۱)

    ”چنبیلی کے پھول“

    تحریر:مدیحہ شاہد

    قسط نمبر1

    اسٹیج کا منظر تھا جہاں شیکسپیئر کا ڈرامہ "Hamlet” پرفارم کیا جارہا تھا۔ جسے اردو زبان میں ٹرانسلیٹ کیا گیا تھا۔ اسٹیج کو کلاسیکل انداز میں وکٹورین سٹائل کے سیٹ سے سجایا گیا تھا۔ یقینا یہ کسی ماہر آرٹ ڈائریکٹر کا کمال تھا۔
    مختلف کالجز اور یونیورسٹیز سے لوگ یہ تھیٹر پلے دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ اس ڈرامے کو ”فنکار تھیٹر گروپ“ کے ساتھ ”ایشین لٹریچر سوسائٹی“ نے آرگنائز کیا تھا۔ ہال میں بیٹھے لوگوں میں زیادہ تعداد لٹریچر کے اسٹوڈنٹس کی تھی۔
    ہال میں زوار آفندی بھی اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ وہ آج پہلی بار اپنے دوستوں کے اصرار پر کوئی تھیٹر ڈرامہ دیکھنے آیا تھا، وہ بھی اس لئے کیونکہ شیکسپیئر اُس کاپسندیدہ ڈرامہ نگار تھا۔
    خوبصورتی سے سجا اسٹیج رومی سلطنت کے محل کا منظر پیش کررہا تھا۔
    تخت پر ملکہ Gertrudeبڑی شان سے بیٹھی تھی۔
    وہ موتیوں سے بھری ہلکے سنہری رنگ کی میکسی میں ملبوس تھی اور لمبے بالوں پر قیمتی نگینوں سے مسزین جگمگاتا ہوا تاج پہنا ہوا تھا۔
    اُ س کی گردن میں چمکتا موتیوں کا ہار دور سے ہی نگاہوں کا خیرہ کررہا تھا۔ اُس کے چہرے پر گہرا مگر خوبصور ت میک اپ تھا۔
    اُس کے ساتھ تخت پر بادشاہ claudius براجمان تھا۔ وہ کوئی دیکھا بھالا سا اداکار تھا۔ جو رومن بادشاہ کے لباس میں ملبوس سر پرتاج پہنے بیٹھا تھا۔
    اُس کے سامنے شہزادہ ہیملٹ کھڑا تھا۔ وہ ایک جواں سال شہزادہ تھا جس کے سر پر تاج نہیں تھا مگر وہ اپنی وجاہت کے باعث نمایاں نظر آرہا تھا۔
    زوار کی دلچسپی ڈرامے سے زیادہ تخت پر بیٹھی ملکہ میں تھی، اور وہ مبہوت انداز میں پلکیں جھپکائے بغیر اُس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
    وہ ایک بہت خوبصورت لڑکی تھی۔
    یاشاید اس وقت ملکہ کے اِس روپ میں اِتنی حسین لگ رہی تھی کہ وہ اس پر سے نظریں نہیں ہٹا پارہا تھا۔
    وہ ملکہ کے کردار کو بڑی خوبی سے نبھارہی تھی۔ یہ صرف اُس کے حسن کا کمال ہی نہیں تھا بلکہ وہ ایک بہت اچھی اداکارہ بھی تھی۔
    باقی سب کردار جیسے پس منظر میں چلے گئے۔ وہ تو صرف ملکہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔
    ایسا حسن اور ایسی تمکنت کہ وہ پہلی نظر میں ہی متاثر ہوگیا ورنہ وہ لوگوں سے اتنی جلدی متاثر ہوجانے والوں میں سے نہیں تھا۔
    پتا نہیں وہ لڑکی کون تھی!
    وہ تو اُسے پہلی بار دیکھ رہاتھا……
    سنہری رنگت، خوبصورت آنکھوں اور خوبصورت بالوں والی لڑکی…… شاید وہ کوئی تھیٹر آرٹسٹ تھی یا اُسے اداکاری کا شوق تھا۔
    اسٹیج کی روشنیوں میں اُس کے چہرے کا نقش دمک رہا تھا۔
    مگر وہ جو بھی تھی زوار کو پہلی نظرمیں ہی متاثر کرچکی تھی۔ وہ اُسے دیکھتے ہوئے مسلسل اُس کے بارے میں ہی سوچے جارہا تھا۔
    یہ ایک کامیاب تھیٹر پلے تھا۔ ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور وقفے وقفے بعد تالیوں سے گونج اُٹھتا۔
    اسٹیج پر مختلف کردار آتے رہے اور اپنا رول ادا کرتے رہے۔
    Claudius, Queen Gertrude, Hamlet, Laertes, Horatio, Ophelia, Polonius وغیرہ۔
    یہ سارے اِس ڈرامے کے کردار تھے۔
    کرداروں کے خوبصورت اور شاہی لباس، شاندار اداکاری، شیکسپیئر کے دل کو چھو جانے والے ڈائیلاگز، اسٹیج کی کلاسک سجاوٹ اور دلچسپ کہانی نے دیکھنے والوں کو مسمرائز کردیا تھا۔
    ایک کے بعد دوسرا سین آتا رہا۔ فنکاروں کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر، آرٹ ڈائریکٹر اور پورے crew نے بہت محنت کی تھی۔
    زوار ملکہ کے حسن میں ایسا گم ہوا کہ اُسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔
    ڈرامہ ختم ہوا۔ اسٹیج کے پردے گرگئے۔ ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔
    وہ بھی جیسے کسی ٹرانس سے باہر آیا۔
    رانیہ اسٹیج سے اُتری تو اُس کے گرد ایک ہجوم اکٹھا ہوگیا۔
    لوگ اُس کے پاس آکر اُسے مبارکباد دے رہے تھے۔ کوئی اُس کی اداکاری کو سراہ رہا تھا، کوئی اُس کے لباس کی تعریف کررہا تھا۔ وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ لوگوں کی تعریفیں سن رہی تھی۔
    اُس کے گھر والوں کو تھیٹر سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کے باوجود وہ لوگ تھیٹر پلے دیکھنے آئے ہوئے تھے اور بہت خوش تھے۔ اُس کے ساتھ کھڑے تھے۔ تصویریں بنوا رہے تھے۔ لوگوں سے باتیں کررہے تھے۔
    امی، جیموماموں، عنایا، ثمن اور ٹیپو…… یہی اُس کی فیملی تھی۔
    Bloggers اور میگزین سے منسلک لوگ بھی وہاں موجود تھے اور Reviews لکھنے کے لئے سب اداکاروں سے بات چیت کررہے تھے۔
    رانیہ آج بہت خوش تھی۔ اُسے لوگوں کی تعریفیں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔
    یوں تو اُس نے بہت سارے کردار ادا کئے تھے مگر Queen Gertrude کا کردار اُس کی زندگی کا یادگار کردار تھا۔ تخت پر بیٹھے ہوئے اُس نے خود کو ایک ملکہ ہی تصور کیا تھا۔
    اُسے احساس ہوا کہ دراصل ہر لڑکی زندگی میں ملکہ بننا چاہتی ہے اور وہ ملکہ بننے کے خواب دیکھتی ہے۔ اُسے سر پرتاج سجانے کا شوق ہوتا ہے اور وہ ایک ملکہ کی سی زندگی جینا چاہتی ہے۔ یہ ہر لڑکی کی فطری خواہش ہوتی ہے۔
    مگر وہ خوش تھی کہ کچھ دیر کے لئے ہی سہی وہ ملکہ تو بنی تھی۔ اُس نے لوگوں کی آنکھوں میں اپنے لئے رشک دیکھا تھا۔
    وہ ایک بہت باصلاحیت پرفارمر تھی۔ لوگ اُسے جاننے اور پہچاننے لگے تھے۔ اُسے اپنے کیرئیر کے شروع ہی میں عروج ملا تھا۔ اُس نے اپنی پرفارمنس کے ساتھ ساتھ اپنے گیٹ اپ اور سٹائل پر بھی محنت کی تھی۔
    زوار اُس سے چند قدموں کے فاصلے پر کھڑا اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    وہ اُس سے کچھ فاصلے پر اُس کے سامنے شاہانہ انداز میں کھڑی تھی۔
    پیروں کو چھوتی موتیوں سے بھری انگلش اسٹائل کی میکسی اور جگمگاتے نگینوں سے سجا تاج پہنے وہ کسی سلطنت کی ملکہ لگ رہی تھی۔
    حسین…… دلکش اور دل کو چھو لینے والی……
    وہ اُس کے پاس جاکر اُس سے کوئی بات کرنا چاہتا تھا مگر ساکت کھڑا رہا۔
    اُسے آج معلوم ہوا تھا کہ لوگ کسی ملکہ کے رعب حسن کے سامنے کس طرح ہپناٹائز ہوجایا کرتے ہیں۔
    وہ بڑی شان سے اپنے اردگرد کھڑے لوگوں سے بات کررہی تھی۔
    وہ مبہوت ہوکر رُک گیا۔
    ٹھہر گیا……

    رعب حسن تھا یا کوئی اور بات، و ہ سمجھ نہیں پایا۔
    وہ اُسے دیکھتے ہوئے جیسے کسی ٹرانس میں چلا گیا۔ ایسا اُس کے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
    وہ اُس کے سامنے سے چلی گئی۔ اُس نے تو زوار پر ایک نظر بھی نہیں ڈالی تھی۔
    وہ وہیں کھڑا رہا……
    مبہوت اور کرزدہ……
    آج زندگی میں پہلی بار اُس نے کسی ملکہ کو دیکھا تھا۔

  • ماں کا آکاش

    ماں کا آکاش

    ماں کا آکاش

    انتساب
    وطن اور قوم کی خاطربہنے والے لہو کے نام

    ادارتی نوٹ
    اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی خاص توجہ حاصل کرلیتے ہیں اورکیپٹن آکاش آفتاب ربانی شہید کی سوانح حیات کی ادارت بھی میرے لیے ایک ایسا ہی کام تھا۔ وجہ صرف یہ نہیں کہ یہ ملک و قوم کی خاطر جواں مردی سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے ایک دلیر فوجی کی کہانی ہے، بلکہ یہ کہانی اس ماں کی یادوں پر مشتمل ہے جو اب بھی اپنے شہید بیٹے کو دیکھتی ہے، محسوس کرتی ہے، اس سے باتیں کرتی ہے۔ جس کی کرسی آج بھی کھانے کی میز پر سجتی ہے اور جس کا کمرہ آج بھی تیار کیا جاتا ہے۔ ایک بہادر فوجی کا اپنے گھر اور دوستوں کے ساتھ نہایت دوستانہ رویے کا امتزاج بھی دلنشین ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کتاب کی ادارت کے دوران تخیلات کی دنیا میں سفر کرتے ہوئے میری بھی کئی جگہ اس دوست صفت انسان سے ملاقات ہوئی۔
    ”شہید کبھی مرتا نہیں“ کا فلسفہ مذہبی اعتبار سے ہٹ کر ایک دنیاوی پہلو بھی رکھتا، یہ بات شاید آپ کو کیپٹن آکاش شہید کی سوانح حیات پڑھ کر معلوم ہوسکے۔

    نوید احمد خان
    ایڈیٹر
    ٭……٭……٭

    پیش لفظ

    15جولائی 2014ء کو میرے دل، میری روح، میرے احساسات اور میرے وجود پرجو خبر بجلی بن کر گری، اس کے صدمہ سے باہر آنا شاید ممکن ہی نہیں مگر مشیتِ ایزدی کے سامنے میری کیا حیثیت۔ اس ٹوٹے ہوئے دل، اس پر سوز روح، ان بکھرے ہوئے پریشان خیالات و احساسات کو کہانی کی شکل دینے کی ایک بہت ناکام کاوش نے مجھ سے شہید کیپٹن آکاش آفتاب ربانی کو یاد کرتے ہوئے یہ اور اق لکھوا دیے۔
    ایک ماں جس کا بہت پیارا اور عزیز از جان بیٹا، بہت ہونہار، قابل اور ذمہ داربیٹا جوچوبیس سال کا ہونے سے ڈھائی ماہ پہلے شہید ہو جائے، اس کی آنکھوں اور دنیا سے روپوش ہوجائے تو یہ خیال ہی اس ماں کے لیے کتنا اذیت ناک ہوگا کہ میرے شہزادے سے بچے کی کہانی ختم…… اور اتنی جلدی ختم۔ اس کے بیٹے کی زندگی کے سارے Chapters Close۔ بس اتنی مختصر سی زندگی تھی اس کی۔

    میرے پھول سے بچے کی جوانی شروع ہوئی اور ابھی ہی تو اس کے خوابوں کی تکمیل کا وقت شروع ہوا تھا۔ اس کی چھوٹی بڑی بے شمار خواہشیں، اس کے خوبصورت اور اہم plans،اس کے ارادے جو وہ وقتاً فوقتاً میرے ساتھ شیئر کرتا رہتا تھا، سب کچھ پورا کیے بغیر کوئی خوشی دیکھے بغیر کیسے جا سکتا ہے وہ۔ کیسے چلا گیاوہ۔
    اور اب وہ اس دنیا میں مجھے اور کسی کو بھی دوبارہ نظر نہیں آئے گا اور پھرout of sight, out of mindسب اسے بھول جائیں گے کہ آکاش نام کا لڑکا بھی ہوتا تھا۔
    آکاش کی جدائی، اس کی کمی اور اُس کے بچھٹرنے کے غم کے علاوہ یہ بھی ایک بہت بڑا دکھ کہ میرے بچے کی کہانی جو میری کہانی سے بہت بعد میں شروع ہوئی تھی، وہ میری کہانی سے اتنا پہلے کیسے ختم ہو گئی۔ یہ سوچ اتنی تکلیف دہ ہے کہ اس کے ساتھ سانس لینا بھی محال لگتا ہے۔
    اگرچہ شہادت آکاش کی سب سے بڑی خواہش تھی۔لیکن کاش وہ تھوڑا سا اور جی لیتا۔ کچھ سال اور رہ جاتا یا کم از کم میری زندگی سے پہلے تو نہ جاتا۔ اس دنیا سے میری آنکھوں کے سامنے یوں نہ رخصت ہوتا۔
    اپنے اس دکھ کو کم کر کرنے کے لیے جب میں نے اور شہید بچوں کی ماؤں سے ملناشروع کیا اور ان شہیدوں کی کہانیاں ان کی ماؤں اور گھر والوں سے سنیں تو مجھے لگا کہ تقریباًسب شہید بچوں کی کہانیاں بہت مماثلت رکھتی ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے چہرے، ان کی مسکراہٹیں، ان کی عادتیں، ان کا اپنی ماؤں سے والہانہ پیار اپنے سب گھر والوں کا بے انتہا خیال سب کچھ ایک جیسا اور بہت قابلِ رشک۔ تو میرا دل چاہا کہ میں آکاش کی کہانی لکھوں۔ آکاش سے ملتی جلتی اُن تمام شہید بچوں کی کہانی لکھوں کہ کتنے پیارے پیارے، میرے آکاش جیسے بچے، پھولوں کی مانند معصوم بچے وطن اور قوم کی خاطر بن کھلے ہی مرجھا گئے۔
    یہ کہانی لکھنا میرے لیے آسان نہ تھا۔ آکاش کی زندگی کو سوچنا، پڑھنا اور لکھنا بہت تکلیف دہ تھا۔ ماضی کے اس حصے میں چلے جانا جب وہ میرے ساتھ ہوتا تھا اورپھر واپس حقیقت کی دنیا میں آکر اسے کہیں نہ پانا اور بار بار یہ عمل اپنے ساتھ دہرانا بہت مشکل، تکلیف دہ اور بہت اذیت ناک تھا۔ شاید ہی کوئی ایسی سطر ہوگی جو میں نے بغیر آنسوؤں کے لکھی ہو۔ یہ میرے لیے بالکل ایسے تھا جیسے اپنے زخموں کو تیز بلیڈ سے کھرچ کھرچ کر ان پر نمک ڈالنا۔ لیکن میں نے مصمم ارادہ کرلیا تھا کہ میں نے یہ کرنا ہے۔ اس بیٹے کے لیے جس نے اس دکھ کے باوجود مجھے پہچان دی۔ مجھے شناخت دی۔ اپنا پاک لہو دے کر مجھے ایک شہید کی ماں ہونے کا اعزاز دیا۔
    اس نے دنیا میں بھی میری تربیت، میری پرورش اور میری محبت کی لاج رکھی اور انشاء اللہ آخرت میں بھی میری شفاعت کا ذریعہ بنے گا اور مجھے میرے پروردگار کے سامنے بھی سرخرو کرے گا۔انشاء اللہ!
    میں نے روتے روتے اسے سوچا اور روتے روتے ہی یہ کتاب لکھی۔ اس خیال کے ساتھ کہ کوئی نہ کوئی کبھی نہ کبھی بھولے بسرے اسے پڑھ لے گا اور آکاش کا وجود نہ سہی اس کا نام تو رہے گا۔
    اس بات پر ایمان کے باوجود کہ نام زندہ رکھنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اس ذات نے اپنے نیک بندوں کے نام ناصرف زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ اس کے وسیلے سے وہ بہت سے ہم جیسے گناہ گاروں پر بھی اپنا کرم کرتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے نام دیتا ہے، عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے آکاش کی شہادت کے ذریعے مجھ جیسی گناہ گار کو بہت کچھ سکھا دیا اور وہ خالقِ کائنات شہادت کو جس طرح ownکر رہا ہے، وہ نہ کرتا تو شاید شہیدوں کی ماؤں کے لیے ان کے بچوں کے بعد سانس لینا ہی مشکل ہوجاتا۔
    اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ ”شہید کو مردہ تصور نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔“
    میں سب لوگوں کی طرح یہ سمجھتی تھی کہ یہ کوئی ایسا phenomenanہے جو آخرت کے بارے میں ہے۔ یہ شہید کی دوسرے جہاں کی زندگی کے بارے میں آیت ہے۔ لیکن میرے اللہ نے مجھے اور میرے گھر والوں کویہ بتایا کہ نہیں، یہ آیت صرف دوسرے جہاں سے تعلق نہیں رکھتی کہ شہید سبز پرندوں کی شکل میں جنت میں جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں۔بلکہ وہ اس دنیا میں بھی کسی نہ کسی صورت میں پائے جاتے ہیں۔
    آکاش میرے ساتھ نہیں ہے۔ میں اُسے ظاہری حالت میں دیکھ نہیں سکتی چھو نہیں سکتی۔ لیکن میں ہر وقت ہر دن اُس کے کا موں کے ساتھ ایسے ہی مصروف ہوتی ہوں جیسے میں اپنے دوسرے دو بچوں کی وجہ سے ہوتی ہوں۔ بلکہ شاید حقیقت یہ ہے کہ آکاش سے relatedکام دوسرے بچوں اور گھر کے کاموں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ میں اگر ان کاموں کی تفصیل لکھوں گی تو بہت لمبا ہو جائے گا۔ مختصراً مجھے میرے رب نے دکھایا اور سکھایا ہے اور مسلسل دکھا رہاہے کہ شہید کے زندہ ہونے کا مطلب کیا ہے۔
    میں اپنے رب کی بے انتہا شکرگزار ہوں کہ اُس نے میرے بچے کو شہادت کا بلند مقام بلند درجہ عطا کیا اور مجھ ناچیز کو شہید کی ماں ہونے کا اعزازدیا۔ کیونکہ وہ قادرالمطلق ہے۔ وہ اگر مجھے آکاش جیسا بیٹا نہ دیتا یا پھر اُسے دے کر کسی اور ذریعے سے واپس لے لیتا، تو بھی میرا کیا اختیار تھا۔ تو میں اُس اللہ کی ذات کا اس کے احسانات کے لیے
    جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔
    اس کتاب کے لکھنے میں میرے ساتھ بہت سے لوگوں کا تعاون شامل ہے جن کی فہرست بہت لمبی ہے۔ لیکن میں خاص طور پر اپنے ان پیاروں کا نام ضرور لکھنا چاہتی ہوں جن کے تعاون اور مدد کے بغیر یہ کتا ب لکھنا ممکن نہ ہوتا۔
    (1) عبیداللہ ساہی آکاش کے سکول اور کالج کا دوست
    (2) میجر احسن اقبال 48 field Regt Arty
    (3) میجر عارف نیازی 47 field Regt Arty
    (4) میجر محمد اسلم 2 cdo Battalian
    (5) میجر ہاورن 4 cdo Battalian
    (6) میجر جواد 4 cdo Battalian
    (7) حوالدار اقبال 4 cdo Battalian
    (8) عثمان کیانی 4 cdo Battalian
    (9) سر علی رضانقوی Central Public School
    خاص طور پر عمیرہ احمد صاحبہ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ انہوں نے اپنی بے پناہ مصروفیت کے باوجود میری اس کتاب کو دیکھنے اور شائع کرنے کی حامی بھرلی۔ میں کیا ہو ں؟ لیکن ایک شہید کی ماں ہونے کی وجہ سے اپنی مصروفیت کے باوجود انہوں نے مجھے انکار نہیں کیا۔ میں دل کی گہرائیوں سے ان کی ممنون ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کس طرح سے ان کا شکریہ ادا کروں۔ بس اتنا کہوں گی عمیرہ جی آپ کے لیے بہت بہت دُعائیں ہیں۔ اللہ پاک آپ کو ہمیشہ ہمیشہ خوش اور شادآباد رکھے۔ آپ پر کبھی کسی غم کا سایہ بھی نہ پڑے اور میرا رب آپ کی ہر ہر خواہش پوری کرے۔(آمین ثم آمین)
    عمیرہ احمد کی پوری ٹیم خاص کر نوید احمد خان صاحب کی بے انتہا ممنون ہوں کہ انہوں نے اس کتاب کو پایہئ تکمیل تک پہنچایا۔
    میرے وہ سب محسن جن کی وجہ سے یہ کتاب ممکن ہوئی سب کے لیے بہت دُعائیں!
    ساجدہ آفتاب ربانی
    والدہ شہید کیپٹن آکاش آفتاب ربانی

    ٭……٭……٭

  • بہاولپور کی کہانی | نواب صاحب

    بہاولپور کی کہانی | نواب صاحب

    بہاولپور کی کہانی
    نواب صاحب
    زاہدہ عروج تاج

    زاہدہ عروج تاج صاحبہ ساہیوال میں پیدا ہوئیں اور آج کل بہاولپور مقیم ہیں۔ ایف اے تک روایتی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مختلف شارٹ کورسز کیے، پھر جی ایچ کیو اسلام آباد میں دفاعی تربیت کے ساتھ دیگر کورسز میں حصہ لیا۔ 1993ء سے لکھنے کا آغاز کیا۔ مختلف رسائل میں بڑوں کے لیے افسانے اور نظمیں لکھیں۔ طویل وقفے کے بعد 2004ء میں بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا۔ سینکڑوں کہانیاں لکھ چکی ہیں۔ الدعوة اکیڈمی شعبہ بچوں کا ادب سے پاکستان کی بہترین کہانی کار کا ایوارڈ بھی اپنے نام کرچکی ہیں۔

    اس حقیقی کہانی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، لیکن جس ریاست کی یہ کہانی ہے وہاں کے لوگ آج بھی مزے لے لے کر سناتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں ایک ریاست، جس کا نام تھا بہاول پور!
    نہایت خوش حال ریاست تھی۔ یہاں کے نواب صاحب بڑے جی دار تھے۔ وہ اپنی رعایا کا خوب خیال رکھتے۔ ان کے غم اور خوشیوں میں شریک ہوتے۔ لوگوں کی فلاح اور بہبودکے لیے ہمہ وقت تیار رہتے۔ تعلیم اور صحت کے بہتر معیار کے لیے اقدامات ان کی بہترین ترجیح تھی۔ اسی زمانے کی بات ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں کے لیے ایک ا زاد اور خود مختار اسلامی مملکت کی آواز بلند ہوئی اور پھر یہ آواز ہر سو پھیل گئی۔
    نواب صاحب کے ملکہ برطانیہ سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ایک دفعہ وہ انگلستان کی سیر کے لیے گئے۔انگلستان اس وقت بھی امیر اور ترقی یافتہ ملک تھا۔ ایک دن وہ لندن میں بون سٹریٹ پر عام شہریوں کی طرح گھوم پھر رہے تھے کہ ا ن کا گزر گاڑیوں کے ایک شو روم کے سامنے سے ہوا۔ وہ مشہور زمانہ رولز رائس گاڑیوں کا شو روم تھا۔ رولز رائس اس وقت کی سب سے مشہور اور مہنگی گاڑی تھی۔ نواب صاحب کی نظر شوروم میں موجود چمچماتی گاڑیوں پر پڑی۔ وہ اندر جانے لگے تو دروازے پر موجود گارڈ نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی۔ نواب صاحب کے اصرار پر اس نے بہ غور اُن کا حلیہ دیکھا۔ مطلب یہ تھا کہ ایک عام سے انسان کا رولز رائس کے شو روم میں کیا کام؟ بہرحال نواب صاحب کے اعتما دسے گھورنے پر وہ دروازے سے ہٹ گیا اور وہ اندر چلے گئے۔ انہوں نے گاڑیاں دیکھیں اور ایک گاڑی کا ماڈل انہیں بہت پسند آیا۔ انہوں نے سیلز مین سے اس کی قیمت پوچھی۔ وہ رولز رائس کا نیا اور جدید ماڈل تھا جو کہ سب سے مہنگا تھا۔
    ”اس گاڑ ی کی کیا قیمت ہے؟” نواب صاحب نے پوچھا، مگر سیلز مین نے انہیں ایک عام ایشیائی آدمی سمجھ کر طنزیہ نظروں سے دیکھا اور کہا: ”تم یہ گاڑی نہیں خرید سکتے کیوں کہ تمہاری حیثیت نہیں ۔” اُس کا جواب سن کر نواب صا حب طیش میں آگئے۔
    ”میری حیثیت کیا ہے، اس بات سے تمہیں غرض نہیں ہونی چاہیے۔” انہوں نے ملازم کو غصے سے کہا۔ جواب میں ملازم بولا تو کچھ نہیں، مگراس نے عجیب سا منہ بنا کر ہونٹ سکیڑتے ہوئے کندھے اُچکائے۔ نواب صاحب کو کمپنی ملازمین کے رویّے پر پہلے ہی غصہ تھا۔ اب تو وہ اوربھی سیخ پا ہو گئے اور دل ہی دل میںکمپنی کو مزہ چکھانے کا ارادہ لیے ہوٹل واپس آگئے۔ نوابی خون ساری رات کھولتا رہا اور وہ کمپنی کو مزہ چکھانے کا سوچتے اور ٹہلتے رہے۔ آخرکار اُن کے ہونٹوں پر ایک پُراسرار مسکراہٹ اُبھری اور وہ سونے کے ارادے سے بیڈ روم کی جانب بڑھ گئے۔
    اگلے روز نواب صاحب پورے شاہی پروٹوکول اور ملازمین کی فوج کے ساتھ شوروم پہنچے ۔ اس وقت شو روم میں چھے رولز رائس گاڑیاں موجود تھیں ۔نواب صاحب نے چھے کی چھے گاڑیاں خرید لیں۔ قیمت ادا کرنے کے لیے انہوں نے اپنا پاؤں میز پر رکھا اور جوتے میں سے ایک ہیرا نکال کر کمپنی کے نمائندے کو دیا۔ وہ ہیرا ان سب گاڑیوں کی قیمت سے بھی زیادہ مہنگا تھا۔ ایک روز پہلے آنے والے گاہک کو وہ معمولی ایشیائی سمجھے تھے اور آج وہ جس شان سے آیا تھا یہ دیکھ کر کمپنی کے ملازمین ہکا بکا رہ گئے اور ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔
    سب گاڑیاں لمحوں میں خرید لینے اور رقم کی ادائیگی کے انوکھے انداز پر سب حیران تھے ۔ نواب صاحب گاڑیاں خرید کر واپس آگئے ۔گو اپنی حیثیت تو انہوں نے جوتے کے ایک ہیرے سے ہی باور کروا دی تھی، مگر آپ سوچ رہے ہوں گے اس سے کمپنی کو کیا مزہ چکھایا گیا؟ کمپنی کو تو فائدہ ہو گیا۔ اب سنیے! اپنی نوعیت کا یہ دل چسپ اور انوکھا انتقام تھا جس میں بچوں جیسی معصومیت بھی ہے۔
    تو ہو اکچھ یوں کہ نواب صاحب نے گاڑیاں فوری طور پر اپنی ریاست بہاولپور بھجوائیں اور انہیں میونسپل کمیٹی کے حوالے کر دیا۔
    کمیٹی کے عہدیداروں کو حکم دیا کہ ان گاڑیوں سے شہر کی صفائی اور کوڑا کچرا اُٹھانے کا کام لیا جائے۔ ہدایت کے مطابق عہدیداروں نے گاڑیوں کے آگے بڑے بڑے جھاڑو باندھے اور صفائی کا کام شروع کردیا۔

    بہت جلد یہ خبر پوری دنیا میں پھیل گئی کہ دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے ایک نئے ملک پاکستان میں رولز رائس گاڑیاں کوڑا اٹھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ اس خبر کے ساتھ ہی رولز رائس گاڑی کی مارکیٹ ڈاؤن ہونے لگی۔ اب ایسی مہنگی گاڑی کون خریدنا پسند کرے اور کون اس میں بیٹھنا چاہے گا جو کچرا گاڑی کے طور پر استعمال کی جاتی ہو بلکہ ہوا یہ کہ اب رولز رائس گاڑی کا نام سنتے ہی لوگ مذاق اُڑانا شروع کر دیتے۔ جو لوگ پہلے ہی سے رولز رائس گاڑی استعما ل کر رہے تھے وہ بھی حیران و پریشان ہوکر وقتی طور پرگاڑی کا استعمال ترک کر بیٹھے کیوں کہ جدھر سے گاڑی گزرتی لوگ اشارے کر کے وہی انوکھی خبر دہراتے اور قہقہے لگاتے۔
    اس سے گاڑی کی اہمیت کم ہوئی، تو کمپنی مالک کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ فوراً کمپنی کا ایک وفد نواب صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے باضابطہ تحریری معافی مانگی اور درخواست کی کہ گاڑیوں سے یہ گندا کام لینا بند کر دیا جائے تو آپ کی نوازش ہو گی کیوں کہ آپ کے اس اقدام سے کمپنی کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔ پھر پرانی گاڑیاں لے کر انہیں چھے نئی گاڑیاں تحفے میں دیں۔
    نواب صاحب نے ان کی معذرت قبول کرتے ہوئے میونسپلٹی والوں کو حکم دیا کہ گاڑیوں کو اس کام سے ہٹا لیا جائے ۔ اس کے ساتھ انہوں نے کمپنی کے مالک کو اپنے ان اقدام کی وجہ بھی بتائی۔ نواب صاحب نے ان نئی ملنے والی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی قائد اعظم محمد علی جناح کو تحفے میں دی۔ آپ کو بتاتے چلیں ان نواب صاحب کا نام ”نواب محمد خان عباسی ”تھا ۔آج بھی بہاولپور اور چولستان میں نواب صاحب کا یہ قصہ زبانِ زد عام ہے اور لو گ اس قصے کو دہراتے ہوئے مسکرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

  • کشمیری لوک کہانی | مہرالنسا اور سبز پری

    کشمیری لوک کہانی | مہرالنسا اور سبز پری

    کشمیری لوک کہانی
    مہرالنسا اور سبز پری
    مدیحہ شاہد

    آخر کیا راز تھا کہ روز بہ روز اس میں تبدیلی آرہی تھی؟
    کئی صدیاں پہلے کشمیر کی سر سبز وادی میں ایک چھوٹی سی لڑکی اپنے والد اور سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ اُس کا نام مہرالنسا تھا۔ اُس کی سوتیلی ماں حاسد اور ظالم تھی۔ اُس کے والد کسان تھے اور سارا دِن کھیتوں میں کام کرتے۔ وہ بھی اُس کی سوتیلی ماں کی بدزبانی سے ڈرتے تھے۔ سوتیلی ماں مہرالنسا سے گھر کے سارے کام کرواتی اور اُسے رات کا بچا کھانا دیتی۔ بعض دفعہ تو مہرالنسا کو فاقے بھی کرنے پڑتے۔ گھر پر سوتیلی ماں کی حکومت تھی۔ مہرالنسا سارا دن خاموشی سے کاموں میں مصروف رہتی۔
    ایک دن مہرالنسا بکریاں چراتے ہوئے اپنے علاقے سے ذرا دور نِکل آئی۔ دریائے نیلم کے کنارے گھنا جنگل آباد تھا جہاں سے گزرتے ہوئے اچانک اُس نے ایک نسوانی آواز سُنی۔
    ”سنو اچھی لڑکی! کیا تم میری مدد کرسکتی ہو؟”
    مہرالنسا نے چونک کر آواز کے تعاقب میں دیکھا، تو ذرا فاصلے پر جھاڑیوں میں اُسے سبز آنکھوں والی حسین و جمیل پری نظر آئی جس کا ایک پر کانٹوں میں پھنس گیا تھا اور وہ کوشش کے باوجود نکال نہیں پا رہی تھی۔ اُس کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔ مہرالنسا خوب صورت پری کو اِس حالت میں دیکھ کر حیران رہ گئی۔ وہ بے حد رحم دل اور نیک لڑکی تھی۔ اُس نے پری کے قریب آکر پوچھا:
    ”آپ کون ہیں؟” پری نے اپنی سبز چمکتی آنکھیں اُٹھا کر اُسے دیکھا، اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
    ”میں پرستان سے آئی ہوں۔ میرا نام سبز پری ہے۔ یہاں سے گزرتے ہوئے میرا ایک پر کانٹوں میں پھنس گیا ہے۔ کیا تم میرے پَر کو کانٹوں سے نکال سکتی ہو؟”
    یہ سن کر مہرالنسا احتیاط سے کانٹوں کے درمیان چلتے ہوئے سبز پری کے پاس آئی پھر اس نے نرمی سے اُس کا پَر کانٹوں سے نکالا۔ سبز پری کو کچھ آرام ملا مگر وہ تھوڑی زخمی تھی۔
    مہرالنسا اُسے دریا کے کنارے بٹھا کر بھاگتے ہوئے گھر آئی۔ صَد شکر کہ اُس کی سوتیلی ماں گھر نہیں تھی۔ وہ اپنے کسی رشتہ دار کے ہاں گئی ہوئی تھی۔ وہ مرہم اور نیم گرم پانی لے کر واپس پری کے پاس پہنچی۔ مہرالنسا نے نیم گرم پانی سے سبز پری کا زخم صاف کیا اور اُس پر مرہم لگایا۔ پری اب خود کو بہتر محسوس کرنے لگی۔ اب وہ اُڑ کر پرستان جاسکتی تھی۔ وہ مہرالنسا سے بے حد خوش ہوئی۔
    اُس نے مہرالنسا سے کہا: ”تم ایک اچھی اور نیک لڑکی ہو۔ تم نے میری مدد کی، بتاؤ تمہیں کیا چاہیے؟”
    ”مجھے کھانا چاہیے۔” مہرالنسا نے مدھم آواز میں جواب دیا۔
    یہ سُن کر پری چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گئی۔ اُس نے معصوم مہرالنسا کا دُکھ اپنے دل میں محسوس کیا۔ پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد اُس نے اپنے بالوں میں لگا گلابی پھول اُتار کر اُس کے ہاتھ پر رکھا۔

    ”یہ پھول میری طرف سے تحفہ ہے۔ جب تم اِس پھول کو سبزیوں پر رکھو گی تو وہ پک کر تمہارے سامنے آجائیں گی اور تم انہیں کھا کر اپنا پیٹ بھر سکو گی۔ جب تم اِسے گندم یا اناج پر رکھو گی تو تمہارے لیے پکی ہوئی روٹیاں آجائیں گی۔ جب تم اِسے پھلوں پر رکھو گی تو پھلوں کا شربت تیار ہو جائے گا اور تم سیر ہوکر پی سکو گی۔”
    مہرالنسا غور سے پھول کو دیکھنے لگی۔ وہ جادو کا پھول بے حد خوب صورت تھا۔ مہرالنسا بکریاں چرانے جاتی تو واپسی پر جنگل اور کھیت سے اناج، سبزی اور پھل توڑ کر اپنی چادر میں چُھپا گھر لے آتی۔ رات کو جب سب لوگ سو جاتے تو وہ پری کی ہدایت پر عمل کرکے مزے مزے کے کھانے کھاتی پھر سو جاتی۔
    اُس کی صحت روز بہ روز نکھرنے لگی۔ سوتیلی ماں حیران ہوتی کہ یہ تو سب کا بچا ہوا کھانا کھاتی ہے اور بعض دفعہ تو اسے بھوکے پیٹ ہی سونا پڑتا ہے پھر بھی یہ روز بہ روزحسِین ہوتی جارہی ہے۔ آخر راز کیا ہے؟ اُس نے اِس بات کا پتا لگانے کی بہت کوشش کی مگر اُسے کامیابی نہ ہوسکی۔ وقت گزرتا رہا یہاں تک مہرالنسا اٹھارہ برس کی ہوگئی۔ دور دور تک اُس کے حُسن کے چرچے پھیل گئے۔
    ایک دن گاؤں کے زمین دار کا بیٹا گھوڑے پر سوار جنگل میں شکار کھیلنے گیا۔ اس نے دریا کے کنارے مہرالنسا کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اِتنی خوب صورت لڑکی اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
    وہ مہرالنسا کا تعاقب کرتے ہوئے اس کے گھر پہنچا اور اگلے ہی دن اُس کے والدین مہرالنسا کا ہاتھ مانگنے اس کے گھر چلے آئے۔
    مہرالنسا کا باپ بہت خوش تھا کہ اُس کی بیٹی کا اِتنا اچھا رشتہ آیا ہے۔ اس نے فوراً ہاں کردی۔ سوتیلی ماں پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔ وہ اب بوڑھی ہوچکی تھی۔ وہ چاہنے کے باوجود بھی مہرالنسا کی شادی نہ رُکوا سکی۔
    مہرالنسا کی شادی دھوم دھام سے زمین دار کے بیٹے سے ہوگئی۔ سارے گاؤں والوں نے جشن منایا۔ اُس کی شادی میں سبز پری نے بھی شرکت کی۔ مہرالنسا اپنے دولہا کے سنگ خوشی خوشی رخصت ہوگئی۔
    ٭…٭…٭

  • بلتستانی لوک کہانی | ماس جنالی

    بلتستانی لوک کہانی | ماس جنالی

    بلتستانی لوک کہانی
    ماس جنالی
    محمد عثمان طفیل

    محمد عثمان طفیل 1984ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ بی ایس سی کے بعد لاہور چلے آئے اور ایک ادبی جریدے سے منسلک ہوگئے۔ اس کے بعد اخبار طلبہ، مجلة الاساتذہ اور روضہ الاطفال کے مدیر رہے۔ بچوں کی علمی، ادبی اور تربیتی سرگرمیوں میں بھرپور دل چسپی لیتے ہیں۔ مختلف ادروں سے بیس سے زائد کتب شائع ہوچکی ہیں۔ آج کل لاہور میں مقیم ہیں اور ایک تعلیمی ادارے کی نصابی کتب کی تیاری کا کام بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ الف نگر کے لیے قلمی تعاون اور مشاورت میں خصوصی شفقت فرماتے ہیں۔

     

    ”مومو…! مومو…!”
    عبداللہ یوگوی نے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کیا اور آواز کی سمت دیکھا۔ اس کا بھانجا بلتی زبان میں ماموں، ماموں کہتا ہوا اُس کی طرف آ رہا تھا۔
    ” اللہ خیر کرے۔” اس نے دل ہی دل میں سوچا پھر کندھے پر ٹکائی ”کدال” اور ہاتھ میں پکڑا ”پھاوڑا ”زمین پر رکھ دیا۔
    ”چی سونگس جولے؟” (کیا ہوا؟)
    بھانجے کے قریب پہنچتے ہی عبداللہ یوگوی نے پریشانی سے پوچھا۔ اس کے بھانجے نے بولنے کی کوشش کی مگر پھولی سانسوں کے سبب یہ ممکن نہ سکا۔ اس نے ہانپتے ہانپتے ایک جانب اشارہ کیا۔ عبداللہ نے دیکھا تو یوں لگا جیسے دور کہیں لوگوں کا ہجوم سا ہو۔غور کرنے پر اُسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ سب اِسی طرف آ رہے ہیں۔ وہ غلط نہیں تھا، ہجوم اُسی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے منظر واضح ہونا شروع ہوا اور لوگوں کے چہرے نظر آنے لگے۔
    ”ان میں تو نیت قبول حیات کاکا خیل بھی موجود ہیں۔” عبداللہ بڑبڑایا۔ نیت قبول حیات ضلع غذِر کے حاکم تھے۔ ان کے ساتھ بہت سے مقامی نوجوان تھے جنہوں نے عبداللہ ہی کی طرح کدا لیں اور پھاوڑے اٹھا رکھے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد اس کے دل میں اُبھرتے تمام سوالوں کے جواب مل گئے۔ اپنے حاکم کی ہدایت پر اس نے دیگر نوجوانوں سے مل کر ایک بڑے میدان کو ہموار کرنے کا کام شروع کردیا۔
    …٭…
    ”آہ میرے مولا!” عبداللہ یوگوی نے کدال زمین پر ماری اور مٹی کے ڈھیر پر بیٹھ گیا۔ وہ سطح سمندر سے ساڑھے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر موجود تھا مگر اس کے باوجود پسینا پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ یہ معاملہ صرف اسی کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے تمام ساتھی پسینے سے بھیگے ہوئے تھے۔ اس نے کچھ دیر سانس درست کیا اور پھر سے کام میں جت گیا۔ گھنٹے دنوں میں اور دن ہفتوں میں ڈھلتے رہے۔ ان کے حاکم نیت قبول حیات مسلسل اُن کی حوصلہ افزائی میں مصروف تھے۔ بالآخر وہ وقت آیا کہ لگ بھگ 56 میٹر چوڑا اور 200 میٹر لمبا زمین کا ٹکڑا بالکل ہموار ہوگیا۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا لیکن انسانی ہمت و حوصلے نے اسے آسان بنا دیا۔
    نیت قبول حیات کو کام مکمل ہونے کی اطلاع ملی تو وہ بھاگم بھاگ وہاں پہنچے۔ انہوں نے ایک نظر اس میدان کودیکھا اور تصور ہی تصورمیں برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ ”ایولین ہے کوب” کا چہرہ دیکھا جو اس میدان کو دیکھ کر خوشی سے چمک اٹھے گا۔ چند دن بعد جب تمام تیاریاں مکمل ہوگئیں تو ”ای ایچ کوب” نے اس میدان کا دورہ کیا۔ کام اس کی توقع سے بھی بڑھ کر شان دار ہوا تھا۔ اس نے نیت قبول حیات کو بہت اعلیٰ انعام کی پیش کش کی۔ بھلا ایسے کام انعامات کی لالچ میں کب مکمل ہوتے ہیں۔ نیت قبول حیات تو اپنے آباء و اجداد بالخصوص علی شیر خان انچن سے متعلق سوچ رہا تھا جس نے یہ سارا علاقہ فتح کرکے پہلی بار یہاں ”ماس جنالی” بنایا اور ”چوگان” جیسے کھیل کا آغاز کیا۔ سوچتے سوچتے اس کے ذہن میں نہ جانے کیا آیا کہ اس نے ای ایچ کوب سے ایک انوکھی فرمائش کی۔
    ”بس آپ یہ کام کروا دیں، میں اسے ہی اپنا انعام سمجھوں گا۔”
    ای ایچ کوب کچھ لمحے ہچکچایا اور پھر بولا: ”ٹھیک ہے۔ تمہاری خواہش پر ایسا ہی ہو گا۔”
    …٭…

    سیٹی بجی اور کئی گھوڑے ہنہناتے ہوئے ”پڑنجو” (پولو والی گیند) کی طرف لپکے۔ شانزے نے بھی جلدی سے اپنے عربی گھوڑے کو ایڑلگائی۔ گھوڑے نے کچھ اَڑی کی اور پھر سوار کے حکم پر دوڑ پڑا۔ یہ گھوڑا اس کے لالہ کا تھا۔ شانزے اپنے سرخ و سپید لالہ کو اس سرمئی گھوڑے کو دوڑاتا ہوا دیکھتی تو ماشاء اللہ ماشاء اللہ کا ورد کرنے لگتی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ لالہ گھوڑے کی شان بڑھا رہے ہیں یا گھوڑا لالہ کی۔
    لالہ جانتے تھے کہ شانزے کو گھڑ سواری کا بہت شوق ہے۔ انہوں نے خود اُسے ایک بہترین گھڑ سوار بنایا تھا۔ اس وقت بھی شانزے ہاتھ میں ایک لمبی سی ہاکی تھامے گھوڑا دوڑا رہی تھی۔ وہ ہر صورت میں ”پڑنجو” حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن ایسا ہو نہیں پارہا تھا۔ دوسری ٹیم کے کھلاڑی مسلسل ایک دوسرے کی طرف پڑنجو پھینک رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ گول کرنے میں کامیاب ہوجاتے، شانزے کی ٹیم کے ایک کھلاڑی نے پڑنجو چھین لی۔ اگلے ہی لمحے پڑنجو شانزے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ شانزے نے بڑی مہارت سے اُسے روکا اور آگے بڑھا دیا۔
    وہ اس وقت ”ماس جنالی” کے تاریخی میدان میں موجود تھی۔ ”چوگان” اپنے عروج پر تھا اور ان کا مقابلہ چترال کی بے حد ماہر ٹیم سے تھا۔ شانزے بلتستانی ٹیم کا حصہ تھی اور اس وقت وہ اپنے لالہ کے گھوڑے پر سوار تھی۔ یہ خیال آتے ہی کہ وہ لالہ کی بجائے خود ٹیم کا حصہ ہے، شانزے چونک سی گئی۔وقت اچانک ٹھہر گیا اور اُسے لگا کہ شندور کا میدان بلند ہوتے ہوتے بادلوں کے ساتھ تیرنے لگا ہے۔ گھوڑے دوڑنے کے بجائے اُڑنے لگے تھے اور پڑنجو کو بھی پر لگ چکے تھے۔ وہ بڑی پھرتی سے مخالف ٹیم کے سب کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑتی آگے بڑھ رہی تھی۔ گول کے قریب پہنچ کر اُس نے ہاکی فضا میں بلند کی اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب اس کا توازن بگڑ گیا۔ ایک ہلکی سی چیخ کے ساتھ شانزے گھوڑے سے نیچے آگری۔نیچے زمین تو تھی نہیں، اسے لگا کہ وہ نیچے ہی نیچے گرتی جا رہی ہے۔
    …٭…