Tag: افسانہ

  • ساتواں سکّہ — فیصل سعید خان

    ساتواں سکّہ — فیصل سعید خان

    شاہ میر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا کھانے کا بے چینی سے انتظار کررہا تھا!
    کفگیر سے اُٹھنے والا شور اور چوڑیوں کی کھنک آپس میں مدغم ہو کر فضا میں جلترنگ بجا رہے تھے۔ شاہ میرکن انکھیوں سے ایک آدھ بار لائونج سے متصل باورچی خانے کی جانب دیکھتا۔ جہاں دانیہ مشینی انداز میں ہنڈیا میں کفگیر چلا کر روٹی بیلتی، اسے جلتے توے پر ڈال کر دوپٹے کے پلو سے اپنے ماتھے کا پسینہ خشک کرتی جلدی جلدی ہاتھ چلا رہی تھی۔
    شاہ میر پیشے کے اعتبار سے ایک نفسیاتی معالج ہے۔ وہ کچھ عرصہ قبل ہی اس نئے شہر میں آکرآباد ہوا۔ شہر کے پوش علاقے میں اس کا کلینک انتہائی قلیل عرصہ میں اپنی ساکھ قائم کرچکا تھا۔ شاہ میر اپنے والدین کا اکلوتی اولاد تھی۔ شومئی قسمت کے شاہ میر کے والدین اس کے بچپن ہی میں چل بسے۔ دانیہ سے اس کی شادی کو ابھی چند ماہ ہی گذرے تھے۔ دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر ایک لمحہ گزارنا محال تھا۔ جب شاہ میر کلینک میں ہوتا تو ہر ایک گھنٹے بعد دانیہ مختلف حیلے بہانوں سے اسے فون کرتی اور اس کے جلد گھر آنے کی تاکید کرتی۔ شاہ میر آج کلینک سے جلد واپس آگیا تھا۔ اس نے لباس تبدیل کیا اور فریش ہونے کے بعد کھانے کی میز پر آکر بیٹھ گیا۔ دانیہ نے جلدی جلدی کھانا ٹرے میں رکھا اور اسے بڑے سلیقے سے میز پر سجا دیا۔ دانیہ ٹیبل کی دوسری جانب بیٹھ کر شاہ میر کا پہلا لقمہ لئے جانے کا انتظار کرنے لگی۔ دانیہ نے شاہ میر کی پسند و ناپسند جانچنے کا ایک انوکھا پیمانہ کھوج لیا تھا۔ ایک روز دانیہ نے شاہ میر سے کہا:
    "جب آپ ڈیڑھ روٹی سے زیادہ کھاتے ہیں تو میں سمجھ جاتی ہوں کہ آج کھانا بہت اچھا پکا ہے۔” یہ بات شاہ میر کے علم میں آجانے کے بعد اس نے کبھی ڈیڑھ روٹی سے کم کھانا نہیں کھایا۔ خواہ کھانا اس کی پسند کا بنا ہو یا نہیں۔
    دانیہ نے پانی کا گلاس شاہ میر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا: "شاہ میر آپ کا کام بھی کتنا صبر آزما ہے نا۔ دن بھر طرح طرح کے مریضوں سے ملنا اور گھنٹوں بیٹھ کر ان کے مسائل سننا۔ اف خدایا کتنا بورنگ کام ہے۔ اگر کوئی میرے قدموں میں دنیا کی ساری دولت بھی رکھ دے تو میں یہ کام نہ کروں۔ سچ کہوں شاہ میرمجھے تو کبھی کبھی آپ پر رحم آنے لگتا ہے۔ قسم سے آپ کی ہمت کو بھی داد دینا ہوگی۔ آپ کا پورا دن کلینک میں مریضوں کی عجیب و غریب باتیں سُنتے ہوئے گذرجاتا ہے اور رات میں میری بکواس۔”
    یہ کہہ کر دانیہ ہنسنے لگی شاہ میر بھی مُسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔ اپنے پروفیشن پر دانیہ کا تبصرہ سننا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ دانیہ کی باتوں سے شاہ میر کی سماعت اس کی معصومیت کا لُطف کشید کر رہی تھی۔ دانیہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
    "شاہ میر آپ نے اب تک سینکڑوں مریضوں کا علاج کیا ہوگا۔ کیا کبھی کوئی ایسا مریض بھی آیا کہ جسے آپ کبھی بھلا نہ سکے ہوں۔”





    شاہ میر نے دوسری روٹی کا آخری لقمہ لیتے ہوئے سر ہلا کر ہاں کہنے پر ہی اکتفا کیا۔ اس کے ہاں کہنے کی دیر تھی کہ دانیہ نے شاہ میر کا بازو اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا اور کسی چھوٹے بچے کی طرح ضد کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ "پلیز شاہ میر مجھے بھی اس مریض کے بارے میں کچھ بتائیے نا۔۔ پلیز۔” شاہ میر نے خالی پلیٹ ٹرے میں واپس رکھی اور ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا:” ہاں کیوں نہیں! بھلا میں تمھاری کوئی بات ٹال سکتا ہوں لیکن ایک شرط ہے ۔ پہلے ایک گرما گرم چائے ہوجائے۔۔۔”
    اتنا کہہ کر شاہ میر ٹیبل سے اٹھ کھڑا ہوا۔ دانیہ نے جلدی جلدی برتن سمیٹتے ہوئے کہا: "بس اتنی سی بات، یہ تو بڑا سستا سوادا کیا آپ نے۔ ٹھیک ہے پھر آپ ہاتھ دھو لیجئے میں کمرے میں آپ کے لئے چائے لے کر آتی ہوں۔۔” دانیہ کے چہرے پر خوشی دیدنی تھی۔
    شاہ میر کمرے میں آکر ریلیکسنگ چئیر پر بیٹھا چائے کا انتظار کررہا تھا۔ چند ہی منٹوں بعد دانیہ شاہ میر کے لئے چائے اور اپنے لئے کافی بنا کر لے آئی۔ دانیہ نے چائے کا کپ شاہ میر کوتھمایا اور اپنا کافی کا مگ لئے وہیں نیچے قالین پر شاہ میر کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ شاہ میر نے دانیہ کے دمکتے چہرے کو نگاہ بھر کر دیکھا۔ دانیہ کی آنکھوں میں بے چینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ وہ کسی بچے کی طرح شاہ میر کے قدموں میں بیٹھی کہانی سُننے کا انتظار کرنے لگی۔ شاہ میر نے چائے کا کپ اٹھایا اور پھر اپنے سامنے لگی پینٹنگ پر نظریں گاڑ دیں۔۔ شاہ میر کی آنکھوں میں وہ بیتے دن روشنی کے چھوٹے چھوٹے نقطوں کی صورت بڑھتے بڑھتے ایک جگہ مرکوز ہوکر ہیبت ناک روشنی کے گولوں میں بدل گئے۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصہ میں وہ روشنی کا گولہ اس کی پیشانی سے ٹکرا گیا۔ کرب میں ڈوبی آوز کے ساتھ جو نام فضا میں گونجا وہ تھا۔۔۔۔
    سجل۔۔۔۔
    "کون سجل؟” دانیہ کے سوال نے رنگ و نور کے آتش فشاں کے دہانے پر جیسے پتھر رکھ دیا۔۔۔۔ کہانی ندی کی طرح ڈھلوان کی جانب بہنے لگی۔۔۔۔۔ شاہ میر نے اپنی توجہ سامنے لگی پینٹنگ پر ہی مرکوز رکھی اور کہا۔
    "میری پیشنٹ”
    "تو وہ پیشنٹ ایک لڑکی تھی؟”
    "ہاں۔۔۔”
    "دانیہ وہ عام لڑکیوں سے بالکل مختلف تھی۔ خدا نے سجل کی مٹی کو پانی سے نہیں بلکہ خلد بریں میں بہتی کسی دودھ کی نہر سے گوندھا تھا۔ دن کو رات کرتے ہوئے خوب صورت بال خدوخال میں وہ پاکیزگی اور لطافت تھی کہ حوریں شرما جائیں—”
    "کیا وہ واقعی اتنی خوبصورت تھی۔ کیا مجھ سے بھی زیادہ ؟ ” دانیہ کا اپنے شوہر کے منہ سے کسی اور لڑکی کی تعریف سُن کر یہ سوال پوچھنا ایک فطری رد عمل تھا، جسے شاہ میر نے سنی ان سنی کرکے اپنی کہانی جاری رکھی:” ہاں دانیہ وہ واقعی بہت خوبصورت تھی۔ سجل کے سہانے مکھڑے پر ہمیشہ موہنی اور دل نواز اُداس سی مسکراہٹ کھیلتی رہتی، بس یوں سمجھو کہ وہ حسن کی ایک بہتی ندی تھی۔”
    "تو جناب کا دل آگیا تھا اپنی مریضہ پر۔ اچھا ذرا یہ تو بتائیے کہ اگر وہ اتنی ہی خوبصورت تھی تو آپ نے اس سے شادی کیوں نہیں کی۔”۔۔۔۔
    "سچ کہوں دانیہ پہلی بار اسے دیکھ کرتو میرا دل بھی بہت زور سے دھڑکا تھا لیکن پریوں کو شہزادے چُرا لے جاتے ہیں یا پھر دیو اُن پر اپنا حق جماتے ہیں اور مجھے تلاش تھی ایک مٹی سے بنی گڑیا کی۔ جو تمھارے مل جانے سے ختم ہوئی۔”
    "اچھا ڈاکٹر صاحب اب زیادہ باتیں نہ بنائیں۔ مجھے کچھ اور بتائیں اپنی اس خوبصورت مریضہ سجل کے بارے میں”۔۔۔
    "سجل اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ بی اے کا امتحان دینے کے بعد وہ گھر میں فراغت کے دن گذار رہی تھی۔ سجل شام میں اپنا وقت مکان کی چھت پرایک کپ کافی کے ساتھ گذرا کرتی وہ کافی ایڈیکٹیڈ تھی۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ اپنے گھونسلوں کی جانب واپس پلٹتے ہوئے پرندوں کو دیکھنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا لیکن پھر ایک روز شام کے گہرے سائے اس کی ساری خوشیاں نگل گئے۔ مدھم پڑتا سورج اس کے چہرے کی بشاشت اور موہنی مسکراہٹ اپنے ساتھ لے کر ڈوب گیا۔” اتنا کہہ کر شاہ میر خاموش۔ دانیہ نے کافی کے مگ سے ایک گھونٹ لیا اور شاہ میر سے تجسس بھرے انداز میں پوچھا۔۔۔۔
    "کیا ہوا تھا اس شام کو ؟” شا ہ میر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "وہ ایک سرد شام تھی۔ اس روز ہوا بھی معمول سے ذرا کچھ زیادہ ہی تیز چل رہی تھی۔ سرد ہوائیں دائروں میں گھومتی ہوئی زمین پر اٹھکھیلیاں کر رہیں تھی۔ ہر روز کی طرح سجل اپنا کافی کا کپ لے کر چھت پر آئی اور بید سے بنی کرسی پر بیٹھ گئی۔ دوسری کرسی کو خود سے قریب کیا اور اپنی کمر کو تھوڑا نیچے سرکا کر اپنے پیر دوسری کرسی پر رکھ لیے۔ سجل کے لمبے سیاہ بال ہوا کے جھونکوں سے اُڑ کر اس کے چہرے پر بار بار بکھر نے لگے۔ اس نے کافی کا مگ بید کی لکڑیوں سے بنی میز پر رکھا اور بڑی نفاست سے اپنے بالوں کا جوڑا گوندھ لیا۔ آسمان پر اُڑتے ہوئے پرندوں کو دیکھتے دیکھتے کب سجل کی آنکھ لگ گئی اسے پتا ہی نہیں چلا۔ سارے پرندے اپنے گھونسلوں کی جانب لوٹ چکے تھے۔ سورج کب کا اپنی روشنیاں سمیٹ کر آسمان سے غائب ہوگیا تھا۔ جب سجل نیند سے جاگی تو اپنے چاروں جانب اندھیرا دیکھ کر سٹپٹا گئی۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا ہے۔ وہ سمجھی کہ اس کی والدہ اس کی پشت پر کھڑی ہیں لیکن جب سجل نے پلٹ کر دیکھا تو وہاں کسی کو نہ پا کر گھبرا گئی۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصّے میں اس کے ذہن میں کئی خیال آئے اورگئے۔ بدحواس ہو کر وہ کرسی سے اٹھی اور سیڑھی سے نیچے کی جانب دوڑ لگادی۔ سجل تیزی سے اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور کمرے کا دروازہ بند کرلیا۔۔۔۔
    اس دن کے بعد وہ سارا سارا دن اپنے کمرے میں بند رہا کرتی یا پھر اپنی والدہ کی گود میں سر رکھے روتی رہتی۔ اپنی چاند سی بیٹی کو یوں گہن لگتا دیکھ کر سجل کی والدہ کا دل دُکھ سے بھر جاتا۔۔۔۔ اس کی والدہ کے دل میں سو طرح کے وسوسے جنم لے رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
    "کیا ہوا تھا سجل کو۔۔۔؟ وہ اس طرح کیوں behave کر رہی تھی؟۔۔۔۔ "دانیہ اپنی بے چینی پر قابو نہ رکھ سکی اور جھٹ سے سوال کر ڈالا۔۔۔۔۔
    "اس شام جب سجل نے کمرے میں داخل ہوکر دروازہ بند کیا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ ان دیکھا سایہ بھی اس کا تعاقب کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوگیا۔ سجل دُبک کر اپنے بستر پر لیٹ گئی اور خود کو کمبل سے ڈھانپ لیا۔ سجل نے محسوس کیا کہ پورے کمرے میں ایک پُر اسرار سی خوشبو پھیل گئی ہے۔ وہ خوفِ کی شدت سے کانپ رہی تھی۔ دسمبر کی سرد ہوائوں کے باوجود اس کا پورا بدن پسینے سے بھیگ رہا تھا۔ ڈر اور خوف سے اس کا حلق خشک ہوگیا ۔ وہ چلّا کر اپنی والدہ کو بلانا چاہتی تھی لیکن پھر اسے خیال آیا کہ گھر میں اس وقت کوئی اور موجود نہیں۔ والد دکان سے رات دس بجے کے بعد آئیں گے اور والدہ پڑوس میں کسی کی مزاج پرسی کے لئے گئی ہوئی ہیں۔ اسے اپنے اکیلے پن کا شدت سے احساس ہونے لگا۔ چند منٹوں بعد کمرے سے وہ پُراسرار خوشبو غائب ہوگئی۔ سجل کو ایسا محسوس ہوا کہ اب سے کچھ دیر پہلے جو کوئی بھی کمرے میں تھا وہ اب موجود نہیں۔ اس نے ہمت کرکے کمبل کا کونا اپنے چہرے سے ہٹایا اور کمرے میں چاروں جانب دیکھنے لگی۔ اسی لمحے ڈور بیل بجی ۔ اس نے اپنے بیڈ سے چھلانگ لگائی اور سیدھا دروازے کی جانب دوڑی۔ گھر کا دروازہ کھولا تو سامنے اپنی والدہ کو کھڑا پاکر ان سے لپٹ کر زور زور سے رونے لگی۔ سجل کی والدہ اس اچانک افتاد سے گھبرا گئیں۔ بیٹی کی یہ حالت دیکھ وہ گھبرا گئیں۔ انھوں نے دروازے پر کھڑے رہ کر ہی گھر کے اندر جھانکا اور کسی چور کے موجود نہ ہونے کی تسلی ہوجانے پر سجل کو اپنے ساتھ لے کر گھر میں داخل ہوگئیں۔ سجل نے روتے روتے سارا ماجرا اپنی والدہ کو کہہ سنایا۔ رات کو جب سجل کے والد دکان سے گھر آئے تو اس کی والدہ نے پورا قصہ دسترخوان پر ہی ان کے سامنے دُہرا دیا۔ سجل کے والد کُھلے ذہن کے مالک تھے اور دقیانوسی خیالات سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ انہوں نے سجل کا ماتھا چوما اور اسے سجل کا وہم قرار دیا لیکن سجل کے دل میں خوف اب بھی ڈیرہ جمائے بیٹھا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سجل دن میں کئی بار اس پراسرار خوشبو کو اپنے آس پاس محسوس کرتی۔۔۔۔ وہ پُراسرار خوشبو سجل کی آنکھیں بن چکی تھیں۔۔۔۔۔۔ وہ سایہ جب سجل کے نزدیک آتا تو خوشبو اور تیز ہوجاتی۔ یہاں تک کہ اس کی گرم سانسیں بھی سجل اپنے چہرے پر محسوس کرسکتی تھی۔ سجل اس ان دیکھے سائے کو اپنے اتنا قریب پاکر خوف زدہ ہوجایا کرتی اور پاگلوں کی طرح چیختی چلاتی۔۔۔۔۔۔ ہر رات خوف کا بھیانک پرندہ سجل کے وجود کو اپنے بڑے بڑے پنجوں سے دیوانہ وار کُھرچتا اور اپنی بدصورت چونچ سے سجل کی روح تک نوچ لیتا تھا۔۔۔
    ٭٭٭٭




  • جزدان میں لپٹی دعائیں — آدم شیر

    جزدان میں لپٹی دعائیں — آدم شیر

    تین گھنٹے قطار میں کھڑا رہنے کے بعد میری باری آنے والی تھی مگر بڑی اماں کب سے آگے کھڑی شناختی کارڈ کا فارم وصول کرنے والی خاتون سے بحث میں مصروف تھیں ۔بڑی اماں کے یہ الفاظ میرے کانوں سے کئی بار ٹکرائے۔
    ’’بیٹا! مجھے حج پر جانا ہے۔ دن بڑے تھوڑے ہیں۔ بار بار چکر نہ لگوائو۔‘‘
    ’’تصدیق کرنے والی کا شناختی کارڈ نمبر صحیح نہیں۔ ٹھیک کرا کے لائیں تو فارم جمع ہوگا۔‘‘ بڑی اماں کو کائونٹر والی کی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی اور کائونٹر والی انہیں ہٹا کر باقی لوگوں کو بھگتانا چاہتی تھی۔ اس نے بڑی اماں کو انتہائی بے زاری سے ایک طرف ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا اور مجھے فارم پکڑانے کا اشارہ کیا مگر بڑی اماں آگے بڑھنے کی بہ جائے تھوڑا سا کھسک کر ایک جانب کھڑی گئیں اور میں نے بازو دوسری طرف سے گھما کر فارم پکڑا دیا۔ کائونٹر والی خاتون نے فارم اور اس سے منسلک نقول دیکھ کر اصل بھی مانگیں اور تھوڑی سی نکتہ چینی کے بعد میرا فارم جمع کر لیا جس پر مجھ سے پیچھے کھڑے دو افراد نے مبارک باد دی۔ بڑی اماں وہیں ایک طرف کھڑی فارم کو تکے جا رہی تھیں۔ میں نے واپس جانے کے لئے مڑتے ہوئے انہیں دیکھا تو وہ مجھے متوجہ پا کر جھٹ سے بولیں۔
    ’’بیٹا!ایک فون کر دو گے؟‘‘
    ’’جی ماں جی۔‘‘ میں اپنی جیب سے فون نکال رہا تھا کہ اتنی دیر میں بڑی اماں نے اپنا سمارٹ فون مجھے پکڑا دیا جو کافی قیمتی معلوم دیا۔
    ’’بیٹا! میڈم ناصرہ کا نمبر ڈھونڈ کر فون ملا دو۔ ‘‘
    تین بار نمبر ملایا مگر ہر بار گھنٹی بجتی رہی، کسی نے فون اُٹھایا نہیں۔ بڑی اماں کو بتایا تو انہوں نے خودکلامی کی کہ اب فلاں سکول جانا پڑے گا۔ سکول کا نام سُن کر چونکا کیوں کہ وہ میرے راستے میں پڑتا تھا۔ میں نے بڑی اماں کو سفری خدمت کی پیشکش کی تو وہ خوشی خوشی دعائیں دیتی ساتھ چل پڑیں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ مختلف سوالات کرنے لگیں اور میں بے زاری سے جواب دیتا رہا۔
    جب سکول پہنچے تو بڑی اماں مجھے تھوڑی دیر رکنے کا کہہ کر اندر چلی گئیں لیکن جلد ہی واپس آگئیں کہ میڈم ناصرہ جا چکی تھیں۔ بڑی اماں نے بتایا: ’’پاس ہی میرا گھر ہے۔ وہاں چھوڑ دو۔کل بھانجے کے ساتھ سکول آئوں گی۔‘‘
    میں نے بڑی اماں کی ناک پر ٹکے موٹے شیشوں والے چشمے میں سے ان کی آنکھوں کو دیکھا جو ملتجی تھیںاور اثبات میں سر ہلادیالیکن خود کو کوسا کہ نیکی کے چکر میں کہاں پھنس گیا۔ ایک تسلی بھی تھی کہ کچھ دیر سکون سے بیٹھوں گا۔ تھکاوٹ سے برُا حال ہے۔ گھر گیا تو بیگم کے احکامات کی بجاآوری سے فرصت نہ ملے گی۔ جب ہم سکول سے تھوڑا آگے جا کر ایک گھر کے سامنے رُکے تو میں نے ایک نظر بڑی اماں پر ڈالی اور دوسری جدید طرز تعمیر سے بنے مکان پر… کوئی میل نظر نہ آیا۔ بڑی اماں نے جس کمرے میں بٹھایا، اس کی مدت سے کسی نے جھاڑ پونچھ نہ کی تھی۔ میں نے صوفہ نما کرسی پر بیٹھنے سے پہلے اس کی نشست اور پشت پر خود ہی ہاتھ پھیر کر تسلی کر لی تھی کہ دوسرے صوفے شان دار نظر آنے کے باوجود مٹی سے اٹے نظر آ رہے تھے۔ پورے کمرے میں بس ایل سی ڈی کی سکرین صاف تھی یا ایک طرف جدت سے بھرپور آڑے ترچھے شیلف پر شیشے کے فریم میں سجی تصویرچمک رہی، جس میں کئی چہرے قید تھے۔
    دیواروں پر لکڑی کا کام کیا گیا تھا جو اب تک جاذب نظر تھا گو غبار نے کچھ دھندلا دیا تھا۔ چھت کے چاروں کونے مکڑی کی بے مثال کاری گری کے نمونے پیش کر رہے تھے۔ فانوس کی چار لڑیوں کے درمیان بھی مکڑیوں نے جال کسا ہوا تھا۔ میز پر رکھے شیشے کے کناروں میں مٹی اور بھی نمایاں تھی۔ گل دان میں رکھے مصنوعی آرائشی پھولوں کا رنگ بڑی اماں کے بالوں کی طرح بدل چکا تھا۔ بڑی اماں کی عینک کے شیشوں کے پیچھے نظر آنے والے سیاہ حلقوں کی پرچھائیں نرم و ملائم سُرخ قالین پر پڑ رہی تھیں اور میں ان میں کھویا ہوا تھا کہ بڑی اماں شیشے کا جگ اور گلاس لئے آئیں۔ میں ٹھنڈے مشروب سے پیاس بجھانے لگا اور وہ یادوں کے چراغ جلانے لگیں۔
    بڑی اماں نے آغاز مرحوم شوہر کے آخری ایام کی بپتا سے کیا، جو پیسوں اور دوائوں کی فراوانی کے باوجود کسی کے انتظار میں روتے روتے کٹے تھے۔ پھر پوتوں کی شرارتوں اور پوتیوں کے لاڈ بھرے قصے سنا سنا کر ہنسنے لگیں۔ کبھی دبئی میں رہنے والے بڑے بیٹے کی کہانی چھیڑدیتیں تو کبھی جاپان میں مقیم لاڈلے کی… اس کی ختم ہوتی تو امریکا میں بسے منجھلے کی باری آجاتی۔ بھانجے کی خوب تعریف سنی کہ کہیں آنا جانا ہو، وہ گاڑی لے آتا ہے۔ گھر کا سودا سلف بھی وہی لاتا ہے۔ بڑی اماں کو بھانجی سے شکوہ تھا کہ اس نے کبھی گھر کی صفائی میں حصّہ نہیں لیا۔ اب وہ بوڑھے ہاتھوں سے کتنی گرد جھاڑ سکتی ہیں۔ بھانجی کو کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ کبھی کچھ پکا کر دے جائے حالاں کہ قریب ہی رہتی ہے البتہ اسی بھانجی کی اماں کا ذکر کرکے نہال ہوتی رہیں کہ جب کبھی آتی ہے، کچھ نہ کچھ کر جاتی ہے اور بہت کچھ اپنی ملازمہ سے کرا دیتی ہے۔ میں نے کہا: ’’آپ بھی ایک کام والی رکھ لیں۔‘‘ تو بڑی اماں بولیں: ’’اس عمر میں کہاں نوکروں پر نظر رکھتی پھروں گی۔ ‘‘ اور لگے ہاتھ انہوں نے دو سابق ملازموں کی کہانیاں بڑی تفصیل سے سُنا دیں جن میں سے ملازمہ کا ذکر زیادہ دلچسپ تھا۔ میں حیران تھا کہ بڑی اماں نے پوتے پوتیوں سے لے کر بہن بھائیوں کے نام تک گنوا دیئے ہیں مگر اپنی بہوئوں کے متعلق کچھ بھی نہیں کہہ رہیں، تعریف تو دور کی بات… ایک آدھ جلی کٹی ہی ہو جائے لیکن ان کی باتیں گھوم پھر کر بیٹوں کے نیک و صالح ہونے پر آجاتیں ۔ میں نے تنگ آ کر بڑی اماں سے پوچھا: ’’آپ کے فرماں بردار بچے کبھی پاکستان نہیں آتے؟‘‘
    بڑی اماں کچھ دیر کے لئے فانوس میں بنے جال میں جھولنے لگیں، پھر ہولے سے بولیں: ’’آتے تھے۔ جب سے بیوی بچوں کے ساتھ گئے ہیں، واپس نہیں لوٹے۔ اب پیسے آتے ہیں یا کبھی فون آ جاتا ہے۔ تسلی مل جاتی ہے مگر … ‘‘
    ’’تو آپ ان کے پاس چلی جائیں۔‘‘ میرے منہ سے یہ بات برملا نکل گئی جو بڑی اماں کو گولی کی طرح اندر سے چھلنی کر گئی۔ وہ دو گھنٹے سے لگا تار باتیں کئے جا رہی تھیں، اب اچانک خاموش ہو کررہ گئیں اور قالین سے چپکی پرچھائیاں دیکھنے میں ایسے کھو گئیں کہ مجھے محسوس ہوا جیسے ہم دونوں میں سے کوئی ایک وہاں موجود نہیں گو ان کے پاس کہنے کے لئے ڈھیر ساری باتیں تھیں جنہیں سنتے سنتے شام ہو سکتی تھی اور رات کا سحر توڑتا سویرا ہو سکتا تھا مگر انہیں چُپ لگ گئی تھی۔ وہ نظریں جھکائے پرچھائیوں میں روشنی ڈھونڈ رہی تھیں۔ میں اور کچھ دیر بیٹھ سکتا تھا مگر اون سے بُنے قالین پربل کھاتی سیاہی جیسی خاموشی مجھے ڈسنے لگی اور میں بوجھل دل کے ساتھ کرسی سے اٹھ گیا۔
    بڑی اماں مجھے چھوڑنے دروازے تک آئیں۔ وہ کواڑ کھولے اندر اور میں باہر کھڑا تھا۔ ان کے لب مسلسل ہل رہے تھے اور میری نگاہیں متحرک تھیں۔ جب دعائوں کی گٹھڑی کافی بھاری ہو گئی تو میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ بڑی اماں پر آخری نگاہ ڈالی اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ میرا دھیان کہیں اور تھا اور میں جا کہیں اور رہا تھا۔ تھوڑا آگے جا کر موڑ کاٹ ہی رہا تھا کہ ایک سائیکل سوار سامنے آگیا ۔ میں نے بروقت بریک لگائی لیکن سائیکل سوار ڈر کر توازن کھو بیٹھا اور پیچھے بیٹھی خاتون سمیت گر گیا۔ گاڑی سے نکل کر دیکھا تو اچھی قامت مگر بری صحت کا مالک نوجوان اپنی اماں کو سنبھال رہا تھا۔ چند راہ گیر بھی رک گئے تھے اور غصیلی آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں ۔ میں شش و پنچ کے بعد گاڑی کا دروازہ بند کر کے آگے بڑھا اور بھیڑ میں راستہ بناتے ہوئے پوچھا۔
    ’’کسی کو چوٹ تو نہیں لگی۔‘‘
    ’’بائو تُو کسر تے کوئی نئیں سی چھڈی۔‘‘کسی کی آواز آئی اور میرے ماتھے پرپسینے کے اٹھکھلیاں کرتے قطرے ناک سے ہوتے ہوئے ہونٹ تر کرنے لگے، جو اس وقت زیادہ ہی خشک ہو رہے تھے۔ میں معذرت کے لیے الفاظ ٹٹول رہا تھا مگر دوسری طرف سے کچھ آنکھیں اور زبانیں چھید پر چھید کئے جا رہی تھیں۔ سائیکل سوار ابھی اپنی اماں کو ایک راہ گیر سے ملی پانی کی بوتل سے پانی پلا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ جب اس کا دھیان میری طرف جائے گا تو کیا ہوگا گو میرے سامنے اس کی کیا حیثیت … لیکن موقع پر کچھ بھی ہو سکتا تھا ۔میرا خدشہ صحیح ثابت ہوا کہ نوجوان پانی پلا کر جونہی پلٹا، اس نے میرا گریبان پکڑ لیا اور میں نے اس کی کلائیوں پر ہاتھ جما دیئے۔ وہ گریبان بھنبھوڑتے ہوئے ایسے الفاظ سے نوازنے لگا جولڑائی کے دوران میں استعمال ہوتے رہتے ہیں۔ راہ گیروں نے ہم دونوں کو پیچھے سے پکڑ لیا اور اس سے پہلے کہ وہ مجھے گھونسا مارتا یا میں اس کی پسلی میں مکا رسید کرتا ، بڑی اماں چیختی ہوئی آگے آئیں اور اسے کھینچ کر پیچھے لے گئیں۔
    ’’چھڈ پُت ، نہ لڑ، رہن دے ، اے گڈیاں والے تے ہندے ای انھے نیں۔‘‘
    ایک بڑی اماں سے رخصت ہوا تھا تو کسی شاعر کا مصرع بھٹکا رہا تھا ۔دوسری نے وداع کیا تو تھپڑ جُھلسا رہا تھا۔




  • سراب — زارا رضوان

    جیسے ہی میسج کی بیپ بجی اس نے فورا موبائل اٹھایا اور میسج پڑھنے لگی۔ چہرے پر مدھم مسکراہٹ بکھر گئی۔ الٹے ہاتھ سے بریڈآملیٹ کھاتے ہوئے سپیڈ سے میسج ٹائپ کرنے لگی۔ رقیہ بیگم نے تیکھی نظروں سے دیکھا۔ان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات واضح تھے۔
    ’’کبھی چھوڑ بھی دیا کرو اِس منحوس کاپیچھا۔ جسے دیکھو اِسی میں گھسارہتا ہے جیسے کھانے کو پیسے دیتا ہو۔‘‘
    ’’امی جان ضروری نہیں ہر چیز کھانے کے لیے پیسے دے۔ کچھ چیزیں اِنسان کوتفریح اور سکون دینے کے لیے ہوتی ہیں۔‘‘ ساتھ ساتھ ٹائپنگ جاری تھی۔
    ’’اِس میں سکون کہاں ہے؟ سکون چاہیے تو نماز پڑھو، قرآن پڑھو ، اللہ کو یاد کرو۔‘‘رقیہ صابرنے بریڈ پر جیم لگا کر اس کی پلیٹ میں رکھا۔ وہ خاموشی سے میسج ٹائپ کرتی رہی۔
    ’’بعد میں بات ہوگی۔ آئی ایم ہیونگ بریک فاسٹ ۔‘‘ میسج سینڈ کیا پھر ٹیبل پر پڑی چیزوں کی تصاویر بنانے لگی۔ موبائل ایپ سے اچھی طرح امیج کو ایڈٹ کیا، کیپشن لگا کرپوسٹ کا بٹن دبا دیا۔وہ جانتی تھی تھوڑی ہی دیر میں لائک اور کمنٹس کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اُس نے موبائل واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔
    ’’یہ لیں رکھ دیامنحوس کو، اب خوش۔‘‘ر قیہ بیگم نے اس کی طرف دیکھ کر منہ بنایا اور پھر چائے پینے لگ گئیں۔ مسکراہٹ اب تک اس کے چہرے پر رقص کر رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ’’حد ہے تھوڑا صبر نہیں کر سکتے ناشتہ کر رہی تھی۔‘‘ گاڑی کا ہارن سُن کر ایمن بھاگی بھاگی آئی۔ سانس پھولا ہوا تھا چہرہ دھوپ کی تمازت سے چمک رہا تھا۔
    ’’تھوڑا سا ؟ میڈم پچھلے بیس منٹ سے کھڑا ہوں۔روز مجھے آفس کے لیے لیٹ کروا دیتی ہو۔ اب بیٹھو بھی۔ ‘‘ اسے کھڑا دیکھ کر بولا تو وہ فوراً بیٹھ گئی۔
    ’’یہ تم کیا ہر وقت فیس بک میں گُھسی رہتی ہو۔ جب دیکھو موبائل ہاتھ میں رہتا ہے۔ کبھی تو جان بخش دیا کرو۔‘‘ ایمن کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کرراحیل جل ہی تو گیا۔
    ’’جان کس کی بخشوں؟ فیس بک کی یا موبائل کی؟‘‘ بات کاٹ کر ٹائپنگ کرتے ہوئے ایمن نے شوخی سے کہا۔
    ’’ہوسکے تو دونوں کی۔‘‘ راحیل نے تپ کرجواب دیا۔ اس کی شوخی راحیل کو ایک آنکھ نہ بھائی مگر ایمن نے کوئی جواب نہ دیا اور کمرے کی جانب بڑ گئی۔
    ٭…٭…٭





    مسٹر فیک بک کی طرف سے ایک شعر ٹیگ کیے جانے پرکتنی دیر وہ اِن لفظوں کے حصار میں کھوئی رہی۔ لائک کا بٹن دبا کر پوسٹ میں دِل والا آئی کن منتخب کیا۔
    ’’کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں جو ابھی تک اپنی تصویر نہیں دِکھائی نہ ہی اپنا نمبر دیا؟‘‘تھوڑی دیر بعد مسٹر فیک بک کامیسنجرپر میسج آیا ۔
    ’’تو تم نے کون سا اپنا نام بتایا ہے اب تک؟‘‘ فوراً جواب دیا۔
    ’’اُف! تم بھی کمال کرتی ہو۔ میری تصاویر مع میری فیملی کی تصاویر دیکھ لیں ۔ اب بھی نام کی گنجائش رہ جاتی ہے؟ ‘‘
    ’’بالکل‘‘ مختصر سا جواب ملا۔
    ’’تم نے بھی تو اپنے نام پر آئی ڈی نہیں بنائی۔ سوئٹ پرنسز میں نے کبھی اعتراض کیا؟ نہیں نا۔ کیوں کہ میرے لیے تم پرنسز ہی ہو۔‘‘ سوئٹ پرنسزکا دِل دھڑکا۔
    ’’میری بات اور ہے۔ تم مجھے پرنسز کہتے ہو وہ ٹھیک ہے لیکن مجھے تمہیں مسٹر فیک بک کہہ کر مخاطب کرنا بہت عجیب لگتا ہے۔ آئی مین تم خود سوچو نقلی کتاب۔‘‘
    ’’حقیقت ہے جناب! فیس بک میں سب فیک ہوتا ہے، اسٹیٹس، تصاویر، جنس، جگہ ،سب نقلی دنیا ہے حقیقت سے کوسوں دور۔‘‘
    ’’خیر اب ایسا بھی نہیں۔ یہاں بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے فریب و جھوٹ کی بہ جائے اپنا اصل پیش کیا ہے اور فیس بک چلا رہے ہیں۔‘‘ سوئٹ پرنسز نے اس کی بات سے اِختلاف کیا۔
    ’’میں نے کب اِنکار کیا اِس بات سے۔ وہ لوگ سیلیبرٹی ہیں یا شاعر، رائٹر یا سنگر وغیرہ جن کو سب جانتے ہیں۔ اکثریت ایسے لوگوں کی بھی ہے جو فیملی فرینڈز سے فرینڈز تک چلے آرہے ہیں۔‘‘ مسٹر فیک بک کی بات پر اس نے لائک کا آئی کن بنایا۔
    ’’اچھا! چلو اِک کام کرتے ہیں۔ تم مجھے اپنی تصویر دِکھاؤ، میں تمہیں اپنا نام بتا دوں گا۔ ٹھیک ہے؟‘‘ مسٹر فیک بک نے ڈیل کی۔ کافی دیر تک وہ لیپ ٹاپ کو تکتا رہا لیکن میسنجرمیں کوئی میسج نہ آیا۔
    ’’یہ کیسی شرط ہے؟‘‘کافی دیر بعد اس نے جواب دیا۔
    ’’شرط؟ محبت شرط سے ماورا ہوتی ہے پرنسز۔‘‘
    ’’محبت؟ ہم اچھے دوست ہیں۔ محبت کے لیے ایک دوسرے کو جاننا ضروری ہے، مراسم ضروری ہیں۔ ایسے کیسے محبت ہو سکتی ہے؟‘‘ مسٹر فیک بک کے اِس میسج نے اس کے اندر ایک عجیب سی بے چینی بھر دی۔
    ’’تم مجھے جانتی ہو۔ مجھے دیکھا ہوا ہے۔ کیا جاب کرتا ہوں اس سے واقف ہو۔ مجھے دیکھو صرف تمہاری آئی ڈی کو لے کر چل رہا ہوں مگر پھر بھی محبت ہو ہی گئی جس دِن تمہارا میسج نہیں آتا دِل بے چین ہو جاتا ہے۔ صبح ، دوپہر، شام، رات تمہارے میسج کی ڈوز چاہیے ہوتی ہے۔ اپنافون، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ ادھورا لگتا ہے بلکہ نہیں ادھورا تومیں خود ہو جاتا ہوں۔‘‘
    میسج دیکھ کر اس کا دِل دھڑکا۔ کافی دیر ٹٹولا تو پتا چلا ایسا تو اس کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ جب تک مسٹر فیک بک کا میسج نہ آئے وہ بے چین رہتی ہے، بار بار موبائل چیک کرتی ہے۔ اپنا اِنٹرنیٹ پیکج کبھی ختم ہونے نہیں دیتی جب کہ باقی فرینڈز کے لیے اس کی سوچ ایسی نہیں ہے اور نہ ہی دِل یوں دھڑکتا ہے۔
    ’’کہاں گئی؟‘‘ کافی دیر تک جواب نہ ملنے پر میسج آیا۔
    ’’بعد میں بات کرتی ہوں۔ کھانا کھا لوں۔‘‘ جلدی سے رپلائی کیا اور کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی۔
    ’’سمجھ بیٹھاکہ تمہیں محبت ہوگئی ہے مجھ سے، ہائے میں تو غلط فہمی کا شکار ہوا۔
    میسج کی بیپ ہوئی تو منہ تک جاتا نوالہ رک گیا۔ کھانا کھاتے میسج پڑھا تو دِل کو بے سبب، بے وجہ بے قرار پایا۔اُلجھی سوچیں ، منتشر دھڑکن اور بے چین پل، کھانے میں رغبت ختم ہوچکی تھی۔
    اُس کے دل کی آنکھوں نے یہ منظر بہت غور سے دیکھا۔
    ٭…٭…٭
    ’’ایمن۔‘‘
    ’’جی ابو۔‘‘ صابر صاحب کے پکارنے پر کمرے تک جاتے اُس کے قدم رُک گئے۔
    ’’بیٹا اگرکسی ٹیسٹ وغیرہ کی تیاری نہیں کر رہی تو ایک کپ چائے بنا دو۔ تمہاری امی کپڑے پریس کر رہی ہیں۔‘‘ قریب کی عینک اتار کراس کو بہ غور دیکھتے ہوئے بولے۔
    ’’جی ابو! ابھی لائی۔‘‘ موبائل کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ کچن کی جانب بڑھ گئی۔
    حرکت کافی غیراِخلاقی تھی مگرنہ چاہتے ہوئے بھی ان کو موبائل اٹھا نا پڑا۔ کال ہسٹری ، میسجز یہاں تک کانٹیکٹس چیک کیے لیکن کوئی مشکوک نمبر ملا نہ ہی ایسا میسج جس سے وہ غلط اندازہ لگا سکتے۔ موبائل واپس رکھا، قریب کی عینک سیٹ کی اوردوبارہ کتاب میں گم ہو گئے۔
    ’’یہ لیں ابو آپ کی ادرک والی چائے۔‘‘ ایمن نے چائے کا کپ تھمایا۔
    ’’جیتی رہو بیٹا۔‘‘
    ’’ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے ایمی۔‘‘ وہ جانے ہی کو تھی جب انہوں نے مخاطب کیا۔
    ’’میں سمجھی نہیں ابو۔‘‘ وہ حقیقتاً نہ سمجھ سکی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
    ’’بیٹھو بیٹا! دیکھو تمہاری امی کو شکایت ہے کہ تم موبائل بہت زیادہ استعمال کرنے لگی ہو۔ یہ اچھی بات نہیں۔ اِس سے آئی سائیٹ متاثر ہو سکتی ہے اوربھی کئی نقصانات ہیں۔‘‘ کتاب بند کی اورعینک اتار کر ٹیبل پر رکھ دی۔
    ’’ایسی تو کوئی بات نہیں ابو وہ بس کسی فرینڈ کا میسج آجائے تو الگ بات ہے ورنہ اِتنا تویوز نہیں کرتی۔‘‘
    ’’بہرحال اعتدال میں رہ کر استعمال کرو۔‘‘ عینک لگا کر دوبارہ کتاب کھول لی ساتھ ساتھ چائے پینے لگ گئے۔ ان کی خاموشی کا مطلب تھا وہ جاسکتی ہے۔
    ’’کوئی مجھیایسا نمبر نہیں ملا جو مشکوک ہو۔ کُل ستائیسنمبرز ہیں زیادہ ترفیملی ممبرز کے ہیں یا اس کی دوستوں کے۔تمہیں پورا یقین ہے کہ…‘‘ انہوں نے بات ادھوری چھوڑ دی
    ’’ماں کی نظریں وائی فائی کے سگنل سے زیادہ تیزہوتی ہیں صابر صاحب۔ وہ سب کچھ معمول سے ہٹ کرکررہی ہے’’۔ چائے کا کپ پکڑتے ہوئے کہا۔
    ’’کیا کہوں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔‘‘ چشمہ اتار کر میز پر رکھااور سر مسلنے لگے۔
    ’’سمجھنا کیا ہے۔ پیپرزکے فورا بعد شادی کردینی چاہیے۔‘‘ انہوں نے اپنے تئیں فیصلہ کیا۔
    ’’یہ کیا بات کر رہی ہورقیہ؟ ایک شک کی بنیاد پرایسا کرنا قطعاً ٹھیک نہیں یا تو اس سے کھل کر بات کی جائے۔‘‘ وہ ایک دم کھڑے ہو کر ٹہلنے لگے۔ اپنی بیٹی پر ان کو خود سے زیادہ بھروسہ تھامگررقیہ بیگم کی بات بھی نظرانداز نہ کر سکتے تھے۔ آخر کو وہ ماں ہیں اور اولاد کو ماں سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا۔
    ’’نکاح تو کر سکتے ہیں نا؟‘‘ رقیہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
    ’’ہاں اِس پر غور کیا جا سکتا ہے۔‘‘ وہ ابھی تک کش مکش میں تھے۔
    ’’غور نہیں صابرصاحب عمل کرنا ہے۔ میں آج ہی بلکہ ابھی جا کرراحیل سے بات کرتی ہوں۔‘‘
    ’’جیسے آپ کی مرضی پر ایمن کی رضامندی بھی ضروری ہے رقیہ بیگم۔‘‘
    ’’آپ بے فکر رہیں۔ میں اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کروں گی۔‘‘
    ٭…٭…٭




  • عمراں لنگیاں پباں پار — ماہ وش طالب

    عمراں لنگیاں پباں پار — ماہ وش طالب

    یہ لاہور کے جدیدپوش علاقے کا پچھلا حصہ ہے جہاں کہیں کہیں خودرو جھاڑیوں اور جنگلی گھاس کی بہتات ہے اور اسی حصے کے بیچوں بیچ قطار در قطار جھونپڑیاں ہیں۔ میلی گرد سے اٹی، پردہ اٹھائے، پردہ گرائے، بدبودار ، بدتمیزمیلے کچیلے انسان جس کے مکین ہیں۔ چار گز کے قطعے میں دس دس بیس بیس انسان، جنس کی تمیز کیے بغیر جہاں یوں ہمہ وقت طوفانِ بدتمیزی کھڑا کیے رکھتے ہیں جیسے کپڑے دھونے والی مشین اپنے پیٹ میں ہر طرح کے میل کچیل کو بھر کر گھر ر گھرر چلتی ہے۔ اس چھپر کی عورتیں سر ڈھانپے، برہنہ، نیم برہنہ سا جسم لیے پھرتی ہیں اور ان کے شیر خوار بچے ماں کی چھاتیوں سے لگے بِلکتے ہیں۔ بڑے بچے ٹانگوں سے چمٹے رہتے ہیں جن کی رال اور ناک ایک ساتھ بہتی ہے۔ یہاں کے مرد پھٹی ہوئی بنیانیں اور میلی شلواریں پہنے دیدہ دلیری اور بے شرمی سے بدن کھجاتے پھرتے ہیں۔
    اور یہ لوگ موسموں کی پروا کیے بغیر اپنے کام کیے چلے جارہے ہیں، مگر ان کے کاموں کی فہرست بھی کوئی اتنی طویل نہیں۔ بھیک اپنا حق سمجھ کر مانگنا، بچے پیدا کرنا اور عیش کرنا بس یہی کچھ انہوں نے اپنا مقدر سمجھ رکھا ہے۔ نہ انہیں کل کی فکر ستاتی ہے، نہ ماضی کا کوئی قلق انہیں ندامت میں مبتلا کرتا ہے۔ رتیں بدلتی ہیں، مگر ان کی مصروفیات کی نوعیت بدلتی ہے نہ ترتیب۔ یہاں تقریباً سب ہی ایک جیسے ہیں۔ ایک جیسا ناک نقشہ، ایک جیسی کسیلی رنگت اور مٹیالے اجڑے ہوئے بال، پھٹے اور گھسے ہوئے بدرنگ کپڑے اور قابلِ رحم چال۔ اس بستی کے باسیوں کا تہذیب سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ دنیا ترقی کی کس ڈگر پر چل نکلی ہے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ وہی کام کر رہے ہیں جو ان کے ننگ دھڑنگ باپ دادا نے کیا اور ورثے کی صورت ان میں بھی جی بھر کے منتقل کردیا۔ پاکیزگی، عزت اور ایمانداری یہ کیا جانیں کہ یہ کن بلائوں کے نام ہیں بھلا۔ ان کے حال پر تو ان کے اوپر نیچے، دائیں بائیں منڈلاتی مکھیاں بھی اپنے گندم کے دانے جتنے پروں سے استہزائیہ اڑان بھرتی بھن بھن کرتی ہیں، مگر کیا یہاں بسنے والے سب ہی ایک جیسے ہوتے ہیں۔





    کیا واقعی…
    نہیں تو! کبھی کبھار نہ چاہتے ہوئے بھی حالات اور وقت آپ کو بے بسی کی زندگی گزاردینے پر مجبور کر دیتے ہیں جو آپ نہیں بننا چاہتے ہیں۔ حالات کی سختی آپ کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے کہ آپ ویسے بن جاتے ہیں اور اپنے وہاں ہونے پر بظاہر مطمئن بھی نظر آتے ہیں۔
    سو اسی بستی سے ذرا پرے ایک اور خیمہ لگا ہے۔ یہ جھونپڑی نسبتاً صاف اور کشادہ ہے۔ یہاں پر رہنے والے افراد کی تعداد کم ہے اور ان کے طور طریقے کسی حد تک مختلف ہیں مگر جس طرح کچرے کے ڈھیر کو اٹھا کر سونے کی طشتری میں سجا دینے سے بھی وہ کچرا ہی رہتا ہے۔ اسی طرح سے یہ جھونپڑی بھی بہر صورت رہے گی تو جھونپڑی ہی۔
    اس کی شخصیت میں بولتی آنکھوں اور سنجیدہ چہرے کا عجب امتزاج ہے۔ بھاری جثے اور خوبصورت قد کاٹھ کی مالک وہ بولتی کم اور سوچتی زیادہ ہے۔ اللہ جانے اتنی سی عمر میں کون سی فکریں ہیں جو ہمہ وقت اسے گھیرے رہتی ہیں۔ کبھی جو کریدنا بھی چاہو تو آہستگی سے دامن چھڑالیتی ہے، پھر پہاڑبن جاتی ہے اور ٹس سے مس نہیں ہوتی، مگر جب موڈ میں ہوتی ہے تو اس سے زیادہ زندہ دل بھی کوئی نہیں ملتا کہ سکھیوں کی سنگت میں سب کچھ بھول کر وہ بستی میں آوارہ گردی کرنے لگتی ہے یا فٹ پاتھ پر دائرہ بنا کر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہوئے دو پل کے لیے ہی سہی، مگر وہ بے فکری ہوجاتی ہے۔
    وہ دیکھنے والی آنکھ کے لیے غروبِ آفتاب کا منظر ہی تو ہے۔ نرم گرم سی، پل میں اداس کرتی ہوئی اور پل میں امید دلاتی ہوئی اور رجو کو اس کا یونہی رہنا پسند ہے۔ وہ جو اُس کی ماں ہے جو خود غلطی سے پانچ جماعتیں پاس تھی۔ اس نے کب سوچا تھا کہ وہ بھی کبھی یونہی ان کے بیچ آجائے گی۔ انہی کی برادری کا حصہ کہلائے گی، مگر یہ بری قسمت بھی کسی جونک سے کم نہیں جو چمٹ جائے تو چھٹکارا پانا دوبھر ہو جاتا ہے۔ خیر رجو کی ایک بیٹی اور پانچ بیٹے ہیں۔ شوہر برائے نام ہے اس سے اب کوئی جسمانی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے نہ معاشی۔ نشے کی لت نے اس کی مردانگی کو سب سے پہلے ٹھکانے لگایا تھا۔
    ’’اور مورل سپورٹ…‘‘
    ’’ہاہاہا یہ کیا پوچھ لیا؟‘‘
    ’’شش !! جن باتوں کا پتا نہ ہو،انہیں زیادہ نہیں کریدتے۔ خیر تسلی کے لیے بتائے دیتی ہوں کہ رجو خود تو کسی حد تک شائستہ ہے، مگر یہاں کے مرد… کوئی سن لے تو کہے کہ یہ چلتی زبانیں ان کی اپنی نہیں۔ وہ گلی کوچوں میں بنے کچے پکے مکانوں سے اٹھ کر آئی تھی۔ اس کا دیہاتی باپ اسے بھکارن بنانا چاہتا تھا اور ماں اپنے گھر والی، مگر شوہر نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔ نہ وہ ٹھیک سے مانگ سکی نہ اپنے گھر والی بن سکی۔ (گھر ہوتا تو گھر والی کہلاتی نا۔) اس کا یہ جھونپڑا تو بنجارا تھا جہاں موسم اجازت دیتا وہیں چل پڑتا۔ ویسے بھی یہ لوگ موسموں کے مارے ہوتے ہیں، وقت کے نہیں۔ ان کے لیے سارے وقت ایک طرح کے ہوتے ہیں تسبیح کے دانوں کی مانند، انگلی کی پوروں سے ایک ایک کرکے پھسلتے جاتے ہیں، مگر درحقیقت موسم میں تغیر ہی ان کی رہائش گاہ اور مانگنے کی جگہ متعین کرتے رہنے کا باعث بنتا ہے اور اسے مانگنے کا سلیقہ ساری زندگی نہ آیا۔ سلیقہ تو خیر شوہر کو بھی نہ تھا کہ اسے سیدھا چوری کی عادت تھی، مگر بیوی کو ڈنڈے کے زور پر کسی نہ کسی طرح کمائی کا ذریعہ بنا لیا پہلے وہ اپنے تڑپتے ، ترستے بہن بھائیوں اور باپ کی دھمکیوں کی وجہ سے مجبور ہوتی رہی۔ پھر شوہر نے بھی اس کو خوب ہی ہتھیار بنایا۔ حالانکہ رجو کی اپنی ماں نے کتنے اچھے خواب دیکھ رکھے تھے اس کے لیے۔ مگر یہ مائیں بھی تو حد کرتی ہیں۔ اپنی ممتا سے فائدہ اٹھاتی ہیں، ایسی ایسی خواہشیں اولاد کے لیے پال لیتی ہیں کہ ان کے پورا ہونے کے لیے ایک نسل کو قربانی دینی پڑ جاتی ہے اور یہاں… وہ قربان شدہ نسل رجو تھی۔
    ’’اے نسرین ! کہاں مر گئی؟ یہ تیری پوستی ہمیں لے ڈوبے گی۔ کسی کام کی نہیں تو۔ نہ تیری ماں ہی مجھے آج تک کوئی فیض دے سکی۔ ابا تو بھی ایک ہی بات بار بار کرتا تھکتا نہیں۔ یہ دونوں بے غیرت عورتیں ہیں۔ اپنی عزت کے علاوہ انہیں کبھی کسی کی پروا نہ رہی۔ اپنے خاص دیہاتی لہجے میں پنجابی بولتا جیرا باپ کو ڈپٹتا درپردہ انہیں ذلیل کررہا تھا اور یہ باتیں نسرین کے لیے نئی ہر گز نہ تھیں۔ ماں کے پیٹ سے ہی ایسی باتیں اس کی نازک سماعت پر پڑتی رہی تھیں۔ وہ سماعت جو اب نازک بھی نہ رہی تھی بلکہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی تھی کہ اب ہر بات کان کے پردے سے ٹکراتی ہوئی جب دل پر پڑتی تو اسے ذرا کم ہی رُلاتی تھیں۔
    اس کی زندگی اپنی پہلی سانس پر ہی سِسکی تھی اور اب تک سِسک رہی تھی۔ نہ اس کے لیے پھولوں میں کوئی خوشبو تھی۔نہ چوڑیوں کی کھنک اس کی نازک کلائیوں کے لیے تھی اور اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ ایک پکھی واس تھی۔ مسئلہ اس ذرا سی آگاہی کا تھا جو اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملی تھی۔ نہ وہ کھل کر اپنے ماحول میں جیتی تھی نہ اسے باہر کی لپک جھپک متاثر کرتی۔ اس کے لیے شعور عذاب ہی تو تھا۔ وہ بھکارن تھی۔ سفید میلی چادر سر پر ٹکائے، گرد سے اٹی ٹوٹی پلاسٹک کی چپل پہنے، ہاتھ میں کھلا سا برتن پکڑے جب وہ بڑے بڑے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتیتو خود کو بونوں سے چھوٹا محسوس کرتی۔
    وہ اپنے مخصوص انداز اور لہجے میں مانگتی۔ ہر بار نئے بہانے اور وجہ اس کے پاس موجود ہوتے حالانکہ اس کے باپ اور بھائیوں کی تین وقت کی روٹی بڑے آرام سے پوری ہوتی تھی کہ وہ چھے مرد خود کو اندھا بناکے، لنگڑا کے یتیم ظاہر کرکے اپنے زورِ بازو سے اچھی خاصی رقم اینٹھ لیتے تھے اور کبھی کبھی جب اس جاب سے بھی جی اکتا جاتا، تو جیب تراشی اور ہاتھ کی صفائی کام آتی۔
    مگر رجو کا آدمی خود کما کر اپنی بیوی کو عیش کرانے والوں میں سے ہر گز نہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ گھر کا ہر فرد مصروف رہے اور یوں بھی گھر میں پیسہ آتا کسے برا لگتا ہے۔ سو رجو سمیت وہ یعنی نسرین بھی مصروف تھی اتنی کہ نیند میں بھی مانگتی رہتی۔ کبھی کسی کا در کھٹکھٹارہی ہوتی تو کبھی کہیں سے جھڑکیاں سن رہی ہوتی۔
    نامساعد حالات میں جب اسے سڑکوں پر نکل کر مانگنا پڑتا، تو یہ اس کے لیے حقیقتاً آزمائش کا وقت ہوتا۔ جب کسی گاڑی کا شیشہ بجاتی، کسی بڑی دکان یا شوروم کے ہجوم میں مانگنے گھستی تو لوگوں کی خود پر گڑی ہوئی چبھتی نظریں محسوس کرکے خود میں سمٹ کر رہ جاتی حالانکہ اس کی جگہ کوئی اور پکھی واسنی ہوتی تو خوب ان نظروں کا مفہوم سمجھتی اور جی بھر کر فائدہ بھی اٹھاتی، مگر یہاں مصیبت ہی یہ تھی کہ اس شعور سے بے بہرہ انسانوں کی بستی میں وہ ایک مافوق الفطرت پیدا ہوگئی تھی جو بس یہی سوچتی جاتی تھی کہ یہ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے والے مردوں کی سوچ اس قدر چھوٹی کیسے ہوسکتی ہے؟ انہیں تو کسی شے (زر اور زن) کی کمی نہیں۔ پھر بھی یہ سارے اس قدر ندیدے کیوں ہیں ؟ مگر کملی اگر چار جماعتیں پڑھی ہوتی یا ماں جتنا تجربہ حاصل ہوتا، تو آپ ہی جان لیتی کہ مرد کسی بھی نسل کا ہو اور کتنا بھی امیر کیوں نہ ہو، نہتی عورت ذات کو دیکھ کر اس کا ندیدہ پن امنڈ کر سامنے آجاتا اور رال ٹپکنے لگتی ہے اور پھر وہ جتنا گھبراتی۔ لوگ اسے اتنا ستاتے اس کے فربہی مائل جسم، دودھیا رنگت اور گہری آنکھوں پر فقرے کستے ۔
    پھر بیچ میں ساتھ والی جھونپڑی کی چھیما کے کہنے پر اس نے پلاسٹک اکٹھا کرنے کا کام شروع کیا، مگر اس کام میں بھی کمائی کم اور رسوائی زیادہ تھی۔ گودام کا مالک چاہتا تھا کہ ہر روز مخصوص مقدار میں وہ اسے پلاسٹک لا کردے۔ خواہ اس کے لیے اسے ناک کے بل رینگنا پڑتا اور خواہ پلاسٹک کی جگہ وہ اسے کمیاب دھاتوں کی تھیلیاں تھمادیتی ، مگر اس کے ذمہ چونکہ صرف پلاسٹک اکٹھا کرنا تھا سو چنی آنکھوں اور گرد سے اٹی بھوری ڈاڑھی والا گودام کا لڑکا بڑی چالاکی سے چپ چاپ دھاتیں بھی ہتھیا لیتا اور اس کی ساری محنت نہایت ہلکے داموں خرید لیتا۔ خود چھیما تو من موجی تھی، دل کرتا تو ہفتہ بھر پلاسٹک اکٹھا کرکے دہاڑی بناتی، ورنہ مہینہ گزرجاتا اور اپنی کوئی خبر نہ دیتی۔ وہ نسرین سے تجربے اور عمر میں کافی بڑی تھی۔ سو راشد (گودام کا مالک ) کی غلط سلط باتوں کا دوبدو جواب دیتی۔ وہ ڈھیٹ بنا حِظ اٹھاتا رہتا۔ ان کے ساتھ والی دو اور لڑکیاں بھی کوڑا چھانتی تھیں مگر ان کا کام دھات (خالی ٹِن، پلیٹس ، سپیئر پارٹس وغیرہ ) ہی اکٹھے کرنا تھا اور اس کے عوض ناصرف وہ انہیں اچھی رقم دے کر خوش کرتا تھا بلکہ ان کے پاس بھی اس کی خوشی کا سارا سامان موجود ہوتا تھا، لیکن وہ بھی اُن جیسی ہوتی تو اسے بھی کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔




  • وہ اپنی سی ۔۔۔ تنزیلہ احمد

    وہ اپنی سی ۔۔۔ تنزیلہ احمد

    آئیے! میں آپ کو اس پری پیکر سے متعارف کرواتا ہوں۔ میری اجلی صبح کا آغاز اس نازنین کے دیدار سے ہوتا ہے۔ سورج کی مندی آنکھوں اور پرندوں کی انگڑائیوں کے دوران منہ اندھیرے وہ سفید یونیفارم میں ملبوس دو بچیوں کو ساتھ لیے گھر سے نمودار ہوتی ہے اور تب تک پکی روش پہ کھڑی رہتی ہے جب تک بچیاں پہلے سے ان کے انتظار میں کھڑے تانگے میں سوار ہو کر نظروں سے اوجھل نہیںہوجاتیں۔
    بچیوں کو رخصت کرنے کے بعد گھر میں واپس داخل ہونے سے پہلے وہ گردوپیش پہ ایک تفصیلی نظر ڈالتی ہے اور اپنے کندھوں پہ شال کی مانند لپیٹا دوپٹا درست کرتی اندر چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے میں وہ یونیفارم میں ملبوس ایک اور چھوٹی بچی کو لیے گھر سے وارد ہو گی اور اندر چلے جانے کے بعد کئی گھنٹوں کے لیے اپنا چہرہ نہیںں دکھائے گی۔
    بہت قلیل عرصے میں ہی وہ مجھے بہت پیاری، اپنی اپنی اور دل کے نزدیک لگنے لگی ہے۔ مجھے اس کا انتظار رہنے لگا ہے کہ کب دھوپ ڈھلے، کب جھولے پہ چھاؤں آئے اور وہ اپنا موبائل اور ہینڈز فری سنبھالے اینڑرنس کا ڈور کھولے خوشی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتی لان میں نصب لکڑی کے بڑے سے جھولے پہ آبیٹھے۔
    ٭…٭…٭





    میرے چہار سو سب کچھ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ اجاڑ، ویران، بیابان جنگل آہستہ آہستہ زندگی، رنگوں اور پھول بوٹوں سے آباد ہوا ہے۔ ہر رنگ، نسل اور مذہب کے لوگوں کو میں نے یہاں آ کے بستا اور پھر جاتا دیکھا ہے۔
    کچھ جگہوں کی قسمت میں مستقل مکین نہیں ہوتے۔ اس بنگلے کا ظاہری رنگ و روغن اور تزئین و آرائش بہت بار بدلا ہے۔ جو یہاں رہنے آتا ہے اپنی مرضی کے رنگ بھر دیتا ہے مگر اس کی ہیئت آج بھی ویسی کی ویسی ہے جیسے میرے سامنے تعمیر کی گئی تھی۔
    وہ حسین دن میرے حافظے میں اچھے سے محفوظ ہے۔ جب وہ بہار کے پہلے جھونکے کی مانند خوش باش سی گاڑی سے اتری تھی اور ہر سو شگوفے چٹخنے لگے تھے۔ اسے دیکھتے ہی میری آنکھوں میں شناسائی کی چمک لہرائی کہ کوئی سال بھر پہلے بھی وہ چند دنوں کی مہمان بن کے آئی تھی اور جب گھر میں داخل ہونے سے پہلے دلچسپی سے ایک بھرپور نگاہ اس نے ہم سب پہ ڈالی تو شناسائی اس کی روشن آنکھوں سے بھی بخوبی چھلکی تھی۔
    سچ پوچھیے تو میں نے ایک صدی کی طویل مدت میں کیا کیا نہیں دیکھا ہے مگر خدا کو حاضر ناظر جان کے کہتا ہوں کہ میں نے اس کے جیسی اللہ پاک کی خوبصورت تخلیق پہلے نہیں دیکھی یا شاید پہلے کوئی مجھے اتنی منفرد لگی ہی نہیں۔
    ٭…٭…٭
    ادھر ڈھلتی دھوپ آہستہ آہستہ جھولے سے سرکنا شروع ہوتی ہے، ادھر وہ ہاتھوں میں گولڈن کلر کا موبائل، سفید ہینڈز فری اور کالے کور کی ڈائری تھامے سیدھی گارڈن میں نصب جھولے پہ کھنچی چلی آتی ہے۔
    جھولا جھولتے ہوئے اس کے لمبے کالے کھلے بال ہوا کے دوش پہ بے تحاشا سرگوشیاں کرتے جھولا آگے آتا تو اس کی ریشمی زلفیں کالی ناگن کی طرح سفید گالوں سے لپٹ لپٹ جاتیں۔
    میں جان گیا ہوں کہ اس کا پسندیدہ وقت وہ ہوتا ہے جو وہ اکیلی اپنی ذات کے ساتھ جھولے پہ بِتاتی ہے۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتی، بس چپ چاپ جھولا جھولتی ہے۔ جب اس کی سیدھی نگاہ مجھ پہ ٹھہرتی ہے تو وہ میرے لیے دن کا سب سے بہترین وقت ہوتا ہے اور پورے دن میں اسی خوش قسمت گھڑی کا مجھے شدت سے انتظار رہتا ہے کہ بہرکیف اتنی توجہ سے تو آج تک ہمیں کسی نے نوازا ہی نہیں جتنی وہ دیتی ہے۔
    اپنی پرتجسس آنکھوں سے وہ ہر سو دیکھتے ہوئے حصار باندھتی جاتی ہے۔
    میں نے محسوس کیا ہے کہ لان کے بیچوں بیچ پوری شان و شوکت سے کھڑے درویش درخت پہ اڑتے طوطے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں بچوں کی سی چمک اور خوشی جھلکتی ہے۔
    مجھے تعجب ہوتا ہے کہ کانوں میں ہینڈز فری لگائے کچھ نا کچھ سنتے اور دھیمے سروں میں گنگناتے ہوئے بھی وہ کیسے اپنے گردوپیش سے اتنی باخبر رہتی ہے۔ درویش درخت سے گرتے بے جان خزاں رسیدہ پتے، آزادی سے اڑتے طوطے، شاخوں سے جھولتی عقاب کے سائز کی چمگاڈریں، دور درخت پہ کوکتی کوئل، گارڈن اور گردوپیش کا ہر پھول بوٹا وہ اتنے دھیان اور لگاوٹ سے دیکھتی ہے جیسے اس کے سوا اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں۔
    گلاب اور موتیے کے پھولوں پہ اس کی پرشوق نگاہیں پلٹ پلٹ کر آتی ہیں۔ خوبصورتی اور رنگینی کسے نہیں بھاتی۔ اب تو آپ سمجھ لیں کہ وہ مجھے اتنا کیوں بھاتی ہے۔’’وہ سر تا پا زندگی اور رنگین ہے۔‘‘
    ٭…٭…٭
    ویک اینڈ پہ بچوں کی اسکول کی چھٹی ہونے کے باعث لان میں بہت رونق ہوتی ہے اور اس کی وجہ بلاشبہ وہی ہے۔ جب تک وہ گھر کے اندر ہوتی ہے، کوئی بچہ باہر نہیں دکھتا اور ادھر وہ لکڑی کے پھٹوں سے بنے جھولے پہ آ کے بیٹھتی ہے اور کچھ ہی دیر میں ایک ایک کر کے بچیاں اینٹرینس کا دروازہ کھول کر باہر جھانکتی ہیں اور سیدھی اس کے پاس جھولے پہ بھاگی چلی آتی ہیں۔ وہ بیچ میں اور دو بچیاں اس کے دائیں بائیں بیٹھ کر جھولا جھولتے ہوئے نجانے کون کون سے قصے زیرِ بحث لاتی ہیں۔
    ان کی باتوں اور قہقہوں میں بچیوں کی ضد کرنے اور جھگڑنے کی آوازیں تب شامل ہو جاتی ہیں جب اندر سے بھاگ کے باہر آئی ہوئی تیسری بچی بھی جھولے پہ بیٹھنے کی ضد کرتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ بخوشی ہتھیار ڈال کے اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور اپنی جگہ تیسری بچی کو دے دیتی ہے مگر آہ! یہ کیسی بات ہے کہ تھوڑی دیر میں ایک ایک کر کے اس کے پیچھے تینوں بچیاں بھاگتی چلی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ کوئی نا کوئی گیم کھیلنے میں مگن ہو جاتی ہیں اور خالی جھولا میری طرح انہیں دلجمعی سے تکتا رہتا ہے۔ اسے دیکھ کے میں نے جانا ہے کہ کچھ لوگوں کو واقعی انسانوں کو جوڑے رکھنے کا ہنر آتا ہے۔
    وسیع و عریض گارڈن میں وہ بچیوں کے ساتھ بھاگتی دوڑتی رہتی ہے۔ بیڈمنٹن کی کئی باریاں کھیلتی اور جیتتی بھی ہے۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اسے بچپن کے بعد سے بھولی سائیکلنگ بھی آگئی ہے۔ جس دن اسے سائیکل بیلنس کرنی اور چلانی آئی، اس دن اس کے چہرے پہ بچوں کی سی خوشی تھی جیسے اس نے کوئی معرکہ سرانجام دیا ہو۔
    انسان بھی کتنی دلچسپ مخلوق ہے۔ ہر وقت کسی نا کسی جستجو میں جتا رہتا ہے۔ کچھ سیکھنے کی جستجو، کچھ پانے کی، حاصل کرنے کی یا کسی کو تسخیر کرنے کی جستجو اور جب جستجو پوری ہو جاتی ہے تو خوشی سے نہال ہو جاتا ہے اور یوں اتراتا ہے جیسے اس نے دنیا فتح کرلی۔
    اب اسے ایک اور ایکٹیویٹی مل گئی ہے۔ وہ بچوں کے ساتھ آزادانہ سائیکل ریس لگاتی ہے۔ کبھی پکی روش پہ تو کبھی گھوڑوں کے اصطبل کے اطراف۔ ان کی آوازوں اور چیخوں سے کتنی رونق لگی رہتی ہے۔
    ٭…٭…٭




  • وادان — خدیجہ شہوار

    وادان — خدیجہ شہوار

    ’’تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘وہ درخت کے موٹے تنے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا کہ ایک دم سے چونک کر اٹھ بیٹھا۔گھبرا کر چاروں سمت نظریں دوڑا ئیں ۔
    ’’آواز کہاں سے آئی؟کون بولا؟‘‘وہ سمجھ نا پایا۔
    ’’کون ہے؟میرے سامنے آئے۔‘‘ اس نے بے ساختہ پکارا۔
    ’’میں ہوں ،’’وادان ‘‘ ایک درخت جس کی ٹھنڈی گھنی چھاؤں میں تم بیٹھے ہو۔ ‘‘ ساٹھ سالہ قد آور بوڑھا درخت بولا ۔اس نے حیرت زدہ آنکھوں سے درخت کی طرف دیکھا ۔
    ’’اوہو!تو تم بول رہے ہو۔‘‘ اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے درخت کو دیکھا۔
    ’’ہاں!اورتم کون ہو؟‘‘بوڑھے درخت نے پوچھا۔
    ’’میں انسان ہوں۔‘‘ اس نے جواباً کہا۔وہ بوڑھادرخت بے ساختہ مسکرایا۔
    ’’وہ ،جودنیا کی ہر چیز پہ قابض ہے؟دنیا پہ راج کرتا ہے اور ایک دن اسی مٹی میں دفن ہو جاتا ہے جس مٹی سے بنا ہے؟‘‘وہ بوڑھے درخت کی بات پے ہلکی سی ہنسی ہنسا اور چمکتی آنکھوں سے درخت کا اوپر سے نیچے تک پورا جائزہ لیا جیسے درخت کی بات نے اسے متاثر کیاہو۔
    ’’ہاں! تم انسان کا مطلب خوب سمجھتے ہو۔تم مجھ سے دوستی کرو گے؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    ’’ہاں !میں دوستی کروں گا۔کیونکہ تم میرے لیے انجان نہیں ہو۔‘‘درخت نے جواباً کہا۔
    ’’تم میرے بارے میں کیا جانتے ہو؟‘‘ اس نے بوڑھے قد آور درخت سے استفسا ر کیا۔





    ’’یہی کہ تم اکثر یہاں سے گنگناتے ہوئے گزرتے ہو۔کبھی کبھار میری ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر آرام کرتے ہو۔کبھی کبھار میرے سائے میں بیٹھ کر کتاب بھی پڑھتے ہو۔اور تمہا را گھر سامنے نظر آتے کچے پکے مکانوں میں ہے۔ ‘‘ وہ درخت کے منہ سے اپنا تعارف سن کر چونکا اور بے اختیار ہنس دیا۔
    ’’تم بہت دلچسپ باتیں کرتے ہو۔تمہارے ساتھ میری خوب نبھے گی۔ویسے تمہیں کیا کرنا پسند ہے؟‘‘ اس نے درخت کے مضبوط چوڑے تنے سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا۔
    ’’میں سارا دن سورج کی کرنوں سے باتیں کرتا ہوں۔بادلوں کواٹکھیلیاں کرتا دیکھتا ہوں ۔ پرندوں کو بیٹھنے کے لیے اپنے بازو فراہم کرتا ہوں ۔ آتے جاتے انسانوں کو چھاؤں دیتا ہوں۔دنیا میں سبز رنگ پھیلا کردل و دماغ کو ٹھنڈک کا احساس دیتا ہوں۔انسانوں کے لیے آکسیجن پیدا کرتا ہوں۔ ‘‘ درخت نے اعتماد سے کہا۔وہ درخت کی دلچسپی سے باتیں سنتے ہوئے مزہ لے رہا تھا۔
    ’’تم انسانوں سے زیادہ گہرے ہو۔تم وہ سب دیکھتے ہو جو انسان نہیں دیکھ سکتے۔‘‘اس نے درخت کو سراہا۔
    ’’یہ جو چھوٹے بڑے درخت تم میرے ارد گرد دیکھ رہے ہو ۔یہ میری برداری ہے۔میرے نو بھائی ،چھ بہنیں،چچازاد کزن،خالہ زاد کزن سبھی یہاں موجود ہیں۔جب وقت ملے تو ان سے بھی گپ شپ لگا لیتا ہوں۔میں ان سب سے بے حد پیار کرتا ہوں۔یہ میرے لیے بہت خاص ہیں۔اور وہ دیکھو چھوٹے چھوٹے ننھے پودے جو آج کل میں زمین کا سر پھاڑ کر باہر آئے ہیں میرے پوتے پوتیاں ہیں۔یہ بہت شرارتی ہیں۔لیکن میں انہیں کبھی نہیں ڈانٹتا۔ ‘ ‘ درخت نے پودوں کی طرف اشارہ کیا۔اس نے آنکھیں سکیڑے حیرانی سے سبھی چھوٹے بڑے پودوں کو دیکھا۔
    ’’جب آندھی یا طوفان آتے ہیں پھر تم کیا کرتے ہو؟ یہ ننھے پودے تو مرجھا جاتے ہوں گے نا؟‘‘ اس نے درخت سے استفسار کیا۔
    ’’ میں اور میری طرح دوسرے درخت سینا تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ طوفان ہم سے ڈر جاتا ہے اور کچھ کہے بغیر گزر جاتا ہے لیکن یہ ننھے پودے اس وقت خود کو ڈھیلا چھوڑ دیتے ہیں۔کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیتے ہیں۔طوفان ان کی عزت کرتے ہوئے انہیں ایسے ہی قائم رہنے دیتا ہے اور گزر جاتا ہے۔‘‘بو ڑھے درخت نے بھاری بھرکم آواز میں بولتے ہوئے بتایا۔
    ’’ مجھے تمہاری فیملی کے بارے میں جان کر اچھا لگا۔ تمہاری فیملی کافی بڑی ہے۔‘‘ اس نے بوڑھے درخت کی برادری پر سرسری نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔بوڑھا درخت مسکرا یا۔
    ’’ہاں ! ایسا ہی ہے۔ ‘‘لمبے توانا بوڑھے وادان نے جواباً کہا۔
    اسی لمحے اسے کوئی ضروری کام یاد آ گیا اور اس نے وادان سے جانے کی اجازت لی اورچلا گیا۔کچھ دن ایسے ہی گزر گئے۔وادان روز اس کا انتظار کرتا۔کبھی انتظار میں راہ تکتا تو کبھی چاند کی چاندنی میں چند منٹ سو کر نیند پوری کر لیتا۔کبھی پوتے پوتیوں سے گپ شپ لگا لیتا اورکبھی بادلوں کا حال احوال پوچھ لیتا۔اور اسی طرح ایک دن وہ پھر وہاں سے گزرا اور وادان کا حال چال پوچھنے آ گیا۔بوڑھا درخت اسے دیکھ کر بہت خوش تھا۔وہ اب اکثر وادان کو ملنے آتا۔ ڈھیروں باتیں کرتا۔ دل کا بوجھ ہلکا کرتا۔کچھ اس کی سنتا کچھ اپنی سناتا۔ان دونوں کو آپس میں گپ شپ لگانے میں مزہ آنے لگا تھا۔
    ’’مجھے وقت نہیں ملا ورنہ میں تمہیں پہلے ملنے آجاتا۔کہو کیسے ہو۔؟‘‘ اس نے وادان کو مخاطب کیا۔
    ’ ’ تمہارے سامنے ہوں۔ ‘‘ وادان نے جواباً کہا ۔وہ آگے بڑھا اور وادان کی ٹھنڈی چھاؤں میں موٹے چوڑے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔و ہ اس قد آور درخت کے نیچے پہلے بھی بیٹھا کرتا تھا لیکن جب سے ان دونوں کی دوستی ہوئی تھی اسے بوڑھے درخت کے سائے میں بیٹھنے میں سرور آنے لگا تھا۔اسی لمحے ایک ننھی چڑیا وادان کی آسمان کو چھوتی شاخوں پے آن بیٹھی۔
    ’’وادان! یہ کون ہے جو تمہارے سائے میں بیٹھا ہے؟‘‘ چڑیا کچھ خوفزدہ تھی۔وادان چڑیاکے سوال پر بے ساختہ ہنسا۔
    ’’میرا دوست ہے۔‘‘ وادان نے جواب دیا۔ وہ بھی چڑیا کو چہچہاتا دیکھ کر متوجہ ہوا اورٹیک چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
    ’’یہ انسان ہے۔اس سے بچو۔‘‘ چڑیا نے تقریباً چلاتے ہوئے کہا۔وادان کی مسکراہٹ برقرارتھی۔
    ’’نہیںنہیں!ننھی چڑیایہ میرا دوست ہے۔اور مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں۔‘‘ وادان نے چڑیا کو تسلی دی۔ چڑیا مایوس کن آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی اور پھر پنکھ پھیلا کر دور فضا میں کہیں غائب ہو گئی۔وادان اسے آسمان میں غائب ہوتا دیکھتا رہا۔
    ’’یہ ننھی چڑیا کیا کہہ رہی تھی تم سے؟‘‘ اس نے تجسس میں پوچھا ۔
    ’’کچھ خاص نہیں۔‘‘ وادان نے اسے ٹالتے ہوئے کہا۔
    ’’جانتے ہو،میرا دل چاہتا ہے میں ایک پرندہ ہوتا ۔میں بھی جگہ جگہ اٹکھیلیاں کرتا ۔جب دل چاہتا گھونسلے میں آرام کرتا۔جب بھوک لگتی تو دانہ چگنے چلا جاتا۔ میں بھی درختوں کی لمبی لمبی شاخوں پے بیٹھ کر پوری دنیا کا نظارہ کرتا ۔ میری زندگی کتنی ہلکی پھلکی ہوتی ۔میری زند گی بھی پرندے کی طرح مشقت سے خالی ہوتی تو کیا ہی مزہ آتا ۔‘‘ اس نے حسرت لیے کہا۔وادان اس کی خواہش سن کر ہنس دیا۔
    ’’تم انسان بن کر خوش نہیں ہو؟‘‘ وادان نے پوچھا۔




  • پراسرار محبت — کوثر ناز

    پراسرار محبت — کوثر ناز

    ہوا کی سرسراہٹ اور وحشت زدہ سناٹے کو چیرتے ہوئے گھوڑے کے قدموں کی ٹاپ دور دور تک گونج رہی تھی۔ وہ ہر شے بے نیاز اڑتے بالوں کو کاندھے کے ایک طرف ڈالے سرپٹ دوڑتے گھوڑے کی لگام مضبوطی سے تھامے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔
    وہ ہر روز کی مانندصبح کی سیر کو نکلی تھی۔ موسم گذشتہ رات ہونے والی بارش کے باعث ابھی تک نم آلود تھا اور فضا میں خنکی برقرار تھی۔ وہ گہری سانس خارج کرتے ہوئے جوگرز پہنے باہر نکلی تو مشرق کی جانب سے نکلتا ہوا سورج گہرے بادلوں کی اوٹ میں جا چھپااور اندھیرے نے ایک بار پھردن پر سرمئی چادر تان کرزمین کی جانب رخ کرتی سورج کی شعاعوں کا راستہ روکا۔ وہ اس بے اعتبار موسم کے تیور بدلتے دیکھ کر مسکرا دی۔ ایسے موسموں سے اسے عشق تھا۔ دل لبھاتا موسم اسے روحانی سکون بخشتا تھا۔ وہ جوگرز کی تسمے کستے ہوئے ایک طرف کھڑے گھوڑے کو دیکھ کر اس کی جانب بڑھی۔تو اس کے لبوں پر پُراسرار سی مسکراہٹ چھا گئی۔
    ’’تم پورے ایک ہفتے بعد آتے ہو ستم گر!‘‘ اس کا دل ایک ہی لے پر دھڑک رہا تھا اور وہ لے نغمہِ محبت کے علاوہ کسی شے کی نہیں ہوسکتی تھی۔
    گلابی رخسار اور آنکھوں میں محبوب سے ملاقات کی چاہ لیے وہ گھوڑے کو ایڑ لگا کر ایک ہی جست میں گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوئی تو گھوڑا زرا سا ہنہنانے کے بعد اپنی منزل کی جانب پیش قدمی کرنے لگا۔ عجیب گھوڑا تھا کہ جس پر سفر کرتے ہوئے اسے کبھی خوف محسوس نہیں ہوا تھا۔ ہمیشہ لگا کہ محبوب کی مضبوط بانہوں کا حصار اس کے گرد تمام تر حفاظت کے لیے موجود ہے۔ وہ سرشاری کی سی کیفیت میں ڈوبی مغرب کی جانب سفر کرنے لگی۔ تیز چلتی ہوا کے تھپیڑے ، آندھی کے باعث درختوں سے جھڑتے ہوئے پتے اور چاروں جانب لہلہاتی ہریالی نے موسم کو اس قدر فسوں خیز بنا دیا تھا کہ ہر طرف ڈزنی لینڈ کا سا گمان ہونے لگا تھا۔ وہ ہر اس خوبصورت منظر کو نگاہوں میں قید کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگی جو قدرت کی عنایت کے باعث زمین کا حصہ بنا ہوا تھا۔
    یہ ایک سرسبز و شاداب وادی تھی جہاں آکر گھوڑے نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ محبوب یہیں کہیں ہوگا۔ وہ گھوڑے کی ایڑ پر پاؤں رکھتے ہوئے نیچے اتری تو گھوڑا ایک طرف کو چل دیا۔ اس نے گلے میں پڑا مفلر درست کرتے ہوئے بالوں کو ہاتھ کی کنگھی بنا کر سلجھایا اور اپنے مخصوص انداز میںسارے بال کاندھے کے ایک طرف ڈال کر گھاس کو کچلتے ہوئے آگے بڑھنے لگی ۔
    ٭…٭…٭





    وہ اس کی ہرنی کی سی چال دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔ وہ دونوں ہاتھ ہوا میں پھیلائے سنبھلسنبھل کر قدم رکھتی آگے بڑھ رہی تھی۔ کل رات ہونے والی بارش کے باعث زمین نم آلود تھی اور یہی وجہ تھی کہ اس کے قدم آہستگی سے آگے بڑھ رہے تھے۔ وہ اسے اپنی جانب آتے ہوئے دیکھ کر چھپ گیا۔ وہ آس پاس اسے ڈھونڈنے کے بعد تھک ہار کر وہیں سنگی بنچ پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی ۔وہ آہستہ سے درخت کی اوٹ سے نکلا توحسینہ نے شہزادے کی مسکراہٹ دیکھ کر چہرے پر خفگی کے تاثرات سجا لیے۔
    ’’روشنی! تنگ کررہا تھا یار بس!‘‘ وہ حسینہ کا ہاتھ تھامے مان سے کہہ رہا تھا وہ ہنس دی۔ اور پھر دیرتک اسکے سنگ بیٹھی باتیں کرتی رہی ۔ ہرمحبت کرنے والے جوڑے کی طرح اس کے سنگ مستقبل کے خواب بننے لگی۔ اس کے حسن کے قصیدے پڑھتے ہوئے اپنی تعریف پر شرمائے لجائے جاتی۔ اس کی باتیں اس قدر دل لبھانے والی ہوتیں کہ وہ گھنٹوں اسے بیٹھ کر سن سکتی تھی۔ابھی بھی یہی ہوا تھا وہ اس کے سنگ بیٹھی مستقبل کے خواب بن رہی تھی اور حسین لمحات پا کر راز و نیاز کررہی تھی۔ وہ اس کے بالوں کی آوارہ اڑتی لٹوں سے کھیلتے ہوئے اس کو اس قدر توجہ سے سن رہا تھا گویا اس سے زیادہ ضروری کوئی کا م ہی نہ ہو اور ایسا تھا بھی۔ انہیں ملتے ہوئے یہ چھٹاہفتہ تھا اور وہ ہر بار ایسے ہی فرصت سے بیٹھ جایا کرتا کہ دنیا کہ باقی کاموں سے بے فکر ہے اور سب سے زیادہ ضروری بس وہی ہے۔ وہ اس کی اس قدر توجہ اور چاہت پر نازاں ہوتی نہ تھکتی تھی۔ اکثر اپنی وادی کی سہیلیوں سے اس شہزادے کا ْذکر کرتی تو گردن فخر سے اٹھ جایا کرتی۔ اس کی چاہت کے قصے سناتی تو وہ اس دلچسپی سے گویا کسی اور زمانے کی داستان گڑھ رہی ہے۔
    روشنی اور وہ طلمساتی آنکھوں والا شہزادہ بنام اسرارحق اسے اسی جگہ ملا تھا ۔ وہ ایک طوفانی رات تھی جب روشنی اپنی سہیلیوں کے ہمراہ جگنو پکڑنے کی خواہش میں جنگل کی طرف نکل آئی تھی اور پھر راستہ بھٹک گئی۔ سہیلیاں اسے ڈھونڈتے ہوئے گھر کی جانب روانہ ہوگئیں اور وہ وہیں اندھیرے کے خوف سے سنگی بینچ سے چپک کر بیٹھ گئی۔ پراسرار ہوا اور تیز چلتی آندھی اور ہلکی بوندا باندی اور رات کے سناٹے نے ماحول کو یکدم خوفناک بنا دیا تھا۔ ایسے میں وہ تھا کہ جس کے قدموں کی آمد نے اسے سانس بحال کرنے پر مجبور کیاتھا۔ وہ کسی کی آمد کو محسوس کرتے ہوئے فوراً مدد کے لیے پکار نے لگی۔ تبھی وہ اس کی جانب بڑھا اور ہاتھ میں تھامے سارے جگنو ایک ایک کرکے اڑا دیے۔ پل بھر کے لیے ایسا سماں بند ھ گیا کہ وہ حیرت زدہ سی ماحول پر چھائی خوبصورتی کو ساکت سی ہوکر دیکھنے لگی۔ پھر اس شخص کا خیال آیا تو چونک کر اس کی جانب دیکھا۔
    ’’مجھے اسرار حق کہتے ہیں۔ یہاں جنگل کی سیر کو نکلا تھا، رات کب ہوئی اندازہ ہی نہیں ہوسکا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کوئی شہزادی یہاں تنہا اور خوفزدہ ہوگی ۔‘‘ وہ طلمساتی آنکھوں والا شہزادہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور اس کی مسکراہٹ میں بھی ایسا طلسم ضرور تھا کہ وہ پہلی ہی ملاقات میں اسے اپنے سنگ باندھ چکا تھا۔ اسے گھر تک چھوڑتے ہوئے اس نے بتایا تھا کہ وہ دوسرے شہر رہتا ہے، یہاں وادی میں سیر کو آیا تھا اور اسی رات واپسی کا ارادہ تھا لیکن اسے دیکھنے کے بعد ایک دن مزید اس کے ہمراہ گزار کر جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جسے روشنی نے بنا چوں چرا کیے مان لیا۔ وہ تو گویا کوئی اختلاف کر نے کے قابل ہی نہیں رہی تھی۔ وہ ساحرطلسم پھونک چکا تھا۔
    اگلے دن روشنی اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر موجود ایک ٹیلے پر کھڑی اس کی منتظر تھی اور وہ گھوڑے پر سوار ایک طرف سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ قریب پہنچا توروشنی اس کی ہمراہی میںاسی جگہ آن پہنچی جہاں وہ پہلے روز ملے تھے اور پھر اسی دن وہ سارے عہدو پیماں اسرار حق نے باندھ لیے جنہیں باندھنے کو ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔وہ تب سے اب تک ہر ہفتے اس سے ملنے آیا کرتا اور روشنی ہر ہفتے اس کی منتظر رہتی۔ وہ چند ہفتوں کے ساتھ میں برسوں کی سی پختگی محسوس کرنے لگی تھی۔ اسرار، روشنی کی روح تک میں سرائیت کرگیا تھا۔ اتنا، کہ وہ اپنی سہیلیوں سے اس کا ذکرکرنے کو معتبر خیال کرنے لگی۔
    ابھی بھی وہ رازو نیاز میں مصروف تھی۔ اس کی واپسی پر افسردہ تھی اور وہ اسے اگلے ہفتے آنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ تبھی ایک طرف سے لڑکیوں کے قہقہوں کی آوازیں آنے لگی تو روشنی آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    عینی کو اپنی دوستوں کے ہمراہ پھولوں کی ٹوکریاں اٹھائے اپنی طرف آ تے دیکھا تو چہرے پر بشاشت لاتے ہوئے مسکرائی اور پھر اسرار حق کی جانب دیکھ کر آنکھ دبائی۔
    ’آؤ! تمہیں اپنی دوستوں سے ملواتی ہوں۔ یہ بہت خوش ہوں گی۔ بہت چاہ ہے انہیں تم سے ملنے کی۔‘ ‘ وہ چہکتے ہوئے اس کا ہاتھ تھامے عینی کی طرف بڑھنے لگی۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن روشنی سننے کو تیار نہیں تھی۔
    ’’ارے روشنی یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ عینی آس پاس دیکھتے ہوئے حیرانی سے پوچھ رہی تھی۔ حیا کی سرخی اس کے رخسار پر چھا گئی۔
    ’’اسرار سے ملنے آئی ہوں۔ تم بھی ملو ان سے اور اسرار یہ میری سہیلیاں ہیں۔‘‘ روشنی نے اسرار کا تھاما ہوا ہاتھ اٹھا کر اسرارکی جانب دیکھا۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا پریشان سا کھڑا تھا۔ عینی اور اس کی سہیلیاں اس کے خالی ہاتھ کو دیکھ کرقہقہہ لگا کر ہنس دیں۔

    ٭…٭…٭




  • محتاج — سارہ عمر

    محتاج — سارہ عمر

    ”نل میں پانی نہیں آ رہا۔ کیا مصیبت ہے؟ اب منہ کیسے دھوؤں؟”
    ریحان نے سنک پر کھڑے ہو کر شور مچایا تھا۔چہرے پر صابن ملے وہ بے زار سا کھڑا تھا جب شہلا بالٹی جھولاتی پہنچ گئی۔
    ”کیا مسئلہ ہے، روز کا تماشا ہے۔”ریحان نے منہ پر پانی ڈالتے شہلا پر غصہ اتارا تھا۔
    ”پتا ہے روز کا تماشا ہے پھر بھی کبھی جلدی مت اٹھنا۔”شہلا نے بھی دو بدو سنائی تھیں آخر بہن کس کی تھی۔
    ”جلدی اٹھ کر کیا کروں؟ رات کو موٹر چلایا کرو۔” وہ تولیے سے منہ پونچھ رہا تھا۔
    ”چلاتے تو ہیں روز مگر فرحان، نعمان اور ابا کے جانے کے بعد فوراً لائٹ چلی جاتی ہے۔اس لیے تمہارے نصیب میں بس بالٹی کا پانی ہی آتا ہے۔”
    شہلا نے ہنستے ہوئے کہا تو ریحان نے تولیا ٹانگتے اسے دیکھا۔
    ”جب میرے نصیب میں بالٹی کا پانی ہی ہے تو جلدی اٹھ کر کیا کروں ؟” ریحان نے آنکھیں دکھائیں ۔
    ” بالٹی میں منہ دیکھ لو۔”
    شہلا نے شرارت سے کہتے ہوئے بالٹی میں بچا پانی ریحان پر پھینک دیا تھا اور تیزی سے اندر بھاگی۔
    ”شہلا کی بچی۔”
    وہ دہاڑتا ہوا اس کے پیچھے بھاگا۔
    ”ابھی نہیں ہوئی۔ بچی کے ماموں۔”وہ بھی منہ چڑاتی ہوئی جلدی سے کمرے میں گھس گئی جبکہ ریحان دروازہ بجاتا رہ گیا تھا ۔
    ٭…٭…٭
    شکیل احمد کے چار بچے تھے۔تین بیٹے اور ایک بیٹی ۔ ریحان جاب کرتا تھا۔جبکہ شہلا نے والدہ کی وفات کے بعد تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔ وہ ایف اے کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی جب خانگی حالات دیکھتے ہوئے اس نے گھر رہنے کو ہی ترجیح دی ۔ فرحان اور نعمان اسکول سے واپس آتے تو کھانے کے لیے شور مچا دیتے۔شکیل صاحب اور ریحان شام کو دفتر سے لوٹتے تھے۔شہلا نے ایک سلیقہ مند لڑکی کی طرح سارا گھر سنبھال لیا تھا۔والد اور بھائیوں کو وقت پہ کھانا پکا ہوا ملتا۔گھر صاف ستھرا اور کپڑے دھلے ہوئے ۔
    جس علاقے میں شکیل صاحب رہائش پذیر تھے وہاں پانی کی بندش کا مسئلہ رہتا تھا۔صبح صبح ریحان اور شہلا کی نوک جھوک بھی چلتی رہتی۔
    دن مہینوں میں بدلے اور مہینے سالوں میں۔
    شہلا بیاہ کر اپنے گھر رخصت ہو گئی تھی۔ریحان کی بھی ترقی ہو گئی تھی۔ریحان کے آفس کی ایک کولیگ شمائلہ اس میں دلچسپی لینے لگی تھی۔ریحان کتنے عرصے بے خبر رہا، مگر جب اسے معلوم ہوا تو وہ کچھ پریشان ہوا تھا۔
    شمائلہ کا تعلق امیر گھرانے سے تھا اور وہ جاب شوقیہ کر رہی تھی۔اور ریحان ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔وہ ہمیشہ سے یہی چاہتا تھا کہ اس کی بیوی اس کی ماں اور بہن کی طرح سادہ اور گھر کو بنانے والی ہو۔شمائلہ دیکھنے سے ہی بہت ماڈرن لگتی تھی۔سونے پہ سہاگا اس نے بلاجھجک ریحان کو شادی کی پیشکش کردی۔ ریحان اس اظہار پر حیران و پریشان رہ گیا ۔ اس نے بغیر سوچے سمجھے بہت سلیقے سے شمائلہ کو انکار کر دیا تھا۔
    ریحان کے انکار نے شمائلہ کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ ان امیر لڑکیوں میں سے تھی جن کے ماں باپ ان کی کوئی فرمائش رد نہیں کرتے تبھی ان کے نزدیک انسان بھی ایک چیز کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ریحان ایک خوش شکل، ہینڈسم اور اپنے کام سے کام رکھنے والا لڑکا تھا۔ اُس کے اِس لیے رویے نے شمائلہ کو بہت متاثر کیا تھا۔وہ جتنا اس کے قریب جاتی وہ اتنا ہی دور چلا جاتا، مگر اس کے انکار نے شمائلہ کو مزید سرکش بنا دیا تھا۔اُس نے بھی سوچ لیا کہ ریحان کو حاصل کر کے رہے گی۔
    ٭…٭…٭




    شمائلہ نے آہستہ آہستہ ریحان سے دوستی کرنے کی کوشش کی تھی۔دھیرے دھیرے وہ اس کے حواسوں پر چھانے لگی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔جانتی تھی وہ جہاں کہے گی اس کے ماں باپ شادی کے لیے مان جائیں گے۔ شمائلہ نے اسے احساس دلایا تھا کہ پیسہ اس زندگی کے لیے بہت ضروری ہے ۔ اس دنیا میں عزت صرف پیسے والوں کی ہے۔تمہیں اگر دولت اور محبت ایک ساتھ ہی نصیب ہو رہی ہے، تو اسے موقع کو مت گنواؤ ۔ قسمت بار بار مہربان نہیں ہوتی۔
    شمائلہ کی باتوں نے ریحان کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔وہ کبھی اتنا مادیت پرست نہ تھا جتنا بنتا جا رہا تھا۔شمائلہ کی صحبت نے بہت بدل دیا تھا۔شمائلہ کی ضد کے باعث اس کے والدین خود ہی رشتہ لے آئے ۔اس کے والد کا اپنا بزنس تھا اور شمائلہ بھی صرف شوق کے باعث ان کے دوست کی کمپنی میں جاب کر رہی تھی۔وہ اپنی بیٹی کی خوشی کی خاطر آ تو گئے مگر انہیں گھر دیکھ کر انتہائی مایوسی ہوئی تھی ۔ شکیل صاحب اور ان کے تینوں بیٹے سادہ طبیعت اور ملنسار تھے، مگر گھر شہلا کے جانے کے بعد سے کافی توجہ طلب حالت میں تھا۔ ایک کام والی تو آتی تھی جو برائے نام صفائی کر کے چلی جاتی، لیکن گھر کو گھر بنانے والی موجود نہ تھی۔ریحان کو لگا تھا کہ شاید شمائلہ شادی کے بعد اس گھر کو گھر بنا دے، مگر اس کے والد نے تو انہیں مزید الجھن میں ڈال دیا تھا۔
    ”دیکھیں شکیل صاحب ریحان کو دیکھ کر مجھے کافی تسلی ہو گئی ہے اور ہمیں اس رشتے پر اعتراض نہیں، مگر معذرت کے ساتھ میری بیٹی شادی کے بعد اس گھر میں نہیں آ سکتی۔”
    ”مگر شبیر صاحب لڑکیاں تو رخصت ہو کر سسرال میں ہی آتی ہیں۔” شکیل صاحب نے جواب دیا۔
    ”جی آپ کی بات بجا ہے، مگر میں نے اپنی بیٹی کو بہت نازوں سے پالا ہے۔ وہ کبھی اتنے چھوٹے اور پرانے گھر میں نہیں رہ سکے گی، مگر میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیٹی کی خواہش رد نہ کروں۔”
    شبیر صاحب پہلو بدل کر بولے وہ کچھ کہتے ہوئے جھجھک رہے تھے۔
    ”مگر کیسے؟ کیا کوئی حل ہے؟”
    ” حل تو ہے اگر آپ قبول کریں۔”
    شبیر صاحب کی بات نے ان سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”ابو پلیز ہمارے ساتھ چلیں۔”
    ریحان نے دسویں دفعہ التجا کی تھی، مگر شکیل صاحب گھر چھوڑنے پر رضا مند نہ تھے۔
    ”تم دونوں ہی کچھ بولو۔ابو کو منا لو۔”ریحان فرحان اور نعمان سے کہنے لگا۔
    شبیر صاحب نے شمائلہ کو جہیز میں گھر دینے کی آفر کی تھی۔وہ چاہتے تھے وہ سب لوگ ہی ادھر شفٹ ہو جائیں ۔ ریحان کے خواب تو لمحوں میں پورے ہو گئے ۔ سب کچھ بن مانگے مل گیا۔ خوبصورت امیر بیوی، بنا بنایا گھر، نوکر چاکر اور شبیر صاحب نے مستقبل میں اسے اپنا بزنس سنبھالنے کی بھی آفر کی تھی۔
    شکیل صاحب شادی کے لیے تو مان گئے تھے اور انہوں نے ریحان کو کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہے، مگر وہ اسی گھر میں بہت خوش اور مطمئن ہیں کیونکہ یہاں ان کی شریک حیات کی یادیں ہیں۔
    ”ریحان بھائی ابو صحیح کہہ رہے ہیں ۔ ہم ادھر بہت خوش ہیں بس آپ بھابھی کے ساتھ نئی زندگی کی شروعات کریں۔بس ملنے آتے رہیے گا ۔”
    فرحان کی بات پر وہ بے اختیار بھائیوں کے گلے لگ گیا۔وہ ایسا چاہتا تو نہ تھا، مگر پیسے کی چمک نے اسے اپنے پیارے رشتوں سے دور کر دیا تھا۔پہلے پہل تو وہ مستقل آتا جاتا رہتا، مگر پھر یہ آنا کم ہوتے ہوتے ختم ہی ہو گیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    چھے سال بعد:
    ریحان نے شبیر صاحب کا بزنس سنبھال لیا تھا۔ان کے تین بچے تھے۔شمائلہ اچھی بیوی ثابت ہوئی تھی مگر بہت سی باتوں میں ابھی تک وہ خود سر اور ضدی ہی تھی۔
    آج کل ان کے علاقے میں نئی پائپ لائن بچھائی جارہی تھی تبھی صبح سے بجلی بند تھی۔ پانی ہلکا ہلکا آرہا تھا جب اس نے بے ساختہ ہی شمائلہ کو آواز دی تھی۔
    ”پانی نہیں آ رہا، منہ دھلا دو۔”
    ”بالٹی میں پانی رکھا ہے، خود ہی منہ دھو لیں بچے نہیں ہیں جو میں منہ دلاؤں۔ بہت شوق ہو رہا تو کسی ملازم کو بھیجتی ہوں۔”
    ”نہیں رہنے دو۔” اس نے جلدی جلدی منہ دھویا اور باہر نکل آیا۔ کوئی بہت شدت سے یاد آیا تھا۔وہ ناشتا کر کے ٹیرس پر کھڑا ہو گیا ۔آس پاس گھروں سے جنریٹر چلنے کی آواز آ رہی تھی۔ان کا جنریٹر خراب تھا جسے ٹھیک کرنے کوئی آدمی آیا تھا۔
    اس کے والد بھی کتنی چیزیں خود ہی ٹھیک کر لیتے تھے۔وہ ٹیرس سے نیچے جھانک کر دیکھنے لگا۔فرصت ملی تو بے سبب پرانے دن یاد آئے تھے۔اپنا گھر اپنے لوگ۔بھائیوں کا پیار، ان کی نوک جھوک۔
    ”نل میں پانی نہیں آ رہا۔”
    ایک آواز اسے ماضی سے حال میں واپس کھینچ لائی تھی۔
    وہ آواز اِس کے گھر کے سرونٹ کوارٹر سے سنائی دی تھی جس کے صحن کا کچھ حصہ اُس کے ٹیرس سے دکھ رہا تھا۔ اس کا چوکیدار منہ پر صابن لگائے زور زور سے بول رہا تھا۔
    ”نل میں پانی نہیں آرہا۔ اب لے بھی آؤ۔”
    چوکیدار کی بیوی بالٹی اٹھائے آئی تو چھم سے اسے شہلا یاد آئی تھی۔ وہ اب ڈونگے سے پانی ڈال کر اس کا ہاتھ منہ دھلا رہی تھی۔ جیسے ہی شوہر کا منہ دھلا تو بیوی نے ڈونگے میں بچا ہوا تھوڑا سا پانی اس کے منہ پہ اچھال دیا تھا اور دونوں میاں بیوی کھلکھلا کر ہنس پڑے تھے۔
    اس لمحے اسے ادراک ہوا تھا کہ محبت پیسے اور حالات کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ جہاں ہو اس چھوٹے سے گھر کو منور کر دیتی ہے۔

    ٭…٭…٭




  • نالائق — نورالسعد

    نالائق — نورالسعد

    سات بج کر پچپن منٹپر اس کی آنکھ کھل گئی ۔ سستی سے انگڑائی لیتی وہ اٹھ بیٹھی تھی ۔ بالوں کو پونی ٹیل میں سمیٹتی وہ نیچے آئی تو وہی مانوس سا منظر تھا۔چھوٹا سا لِونگ روم اور چمکتا ہوا اوپن کچن۔ اس کا مادی کمفرٹ زون۔گنگناتے ہوئے اس نے آملیٹ کے لیے سامان نکال کر کاؤنٹر پر رکھا۔کٹنگ بورڈ پر پیاز کاٹتے ہوئے وہ ٹھٹکی، آج گھر میں کچھ زیادہ ہی خاموشی اور خالی پن محسوس ہو رہا تھا۔ وہ دھیرے سے مسکرائی،اس کے بغیر تو وہ اب بھی کچھ نہیں کھاتی تھی۔
    ”رالف!” اس نے گردن ترچھی کر کے آواز لگائی۔
    ”ناشتا تیار ہونے والا ہے۔”
    اپنی پسند کا پھولا پھولا آملیٹ وہ پلیٹ میں نکال کر پلٹی تورالف کچن ڈائننگ ٹیبل کے دواطراف دھری کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھا ہوا تھا۔ بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ سرخ سوئیٹر پہنے۔ ہمیشہ کی طرح اس کے قدموں کی چاپ بھی سنائی نہ دی تھی۔
    ”گڈ مارننگ!” اْس نے مسکرا کر کہا۔
    ”ٹوسٹ اور آملیٹ لوگے یا میوزلی؟”
    اس نے سرپوری طرح اٹھا کر اُس پر اپنی سلیٹی آنکھیں جمائیں اور سخت لہجے میں بولا:
    ”تمہیں پتا ہونا چاہیے آگسٹا کہ میں سنڈے کوآملیٹ ہی کھاتا ہوں۔”آگسٹا کی مسکراہٹ دھیمی پڑی۔
    ”ہاں۔ مجھے پتا ہے، میں نے سوچا شاید آج تم۔”
    ”میری عادتیں نہیں بدلتیں آگسٹا ،تم جانتی ہو۔” اس کی آواز بھاری اور گونج دار تھی ۔ جیسے کوئی بھولابسرا خواب ۔ ”خیر، یہ بتاؤ کہ تم نے اس ہفتے کے الاؤنس کے لیے اپلائی کر دیا؟ویسے اور کتنا عرصہ بے روزگاری بینیفٹ پر پلنے کا ارادہ ہے ؟” آخری فقرے میں سوال کم اور طنز زیادہ تھا۔
    ”آج کر دوں گی۔” آگسٹاکی آواز خود اسے بھی مشکل سے سنائی دی۔ حلق میں کچھ پھنسا تھا شاید۔
    چند لمحے توقف کے بعدرالف نے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔
    ”ناشتا کرو آگسٹا۔میں نے تمہاری پسند کا آملیٹ بنایا ہے۔” آواز اب نرم اور پُرسکون تھی۔




    ”دیکھو تمہارا شوہر تمہارا کتنا خیال رکھتا ہے۔”
    آنسوؤں کا گولا اس نے حلق سے اتارااور مسکرا دی۔
    ”بالکل! ” ایک ٹکڑا کانٹے میں پھنسا کر کھایا اور بولی:
    ”لذیذ! ہمیشہ کی طرح۔ کاش میں بھی تمہارے جیسا کھانا بنا سکوں کبھی۔ ”
    ”ایسا ہونا تو ممکن نظر نہیں آتا۔” رالف کی مخصوص یک طرفہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر سجی ہوئی تھی۔
    ”تم جیسی نالائق عورت کیا مجھ جیسے عظیم شیف کو ڈیزرو کرتی ہے؟ ”
    آگسٹا نے جھکے سر کے ساتھ نفی میں سر ہلایا۔
    ”بالکل بھی نہیں۔” ایک زخمی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی اور اپنے ناشتے کی طرف متوجہ ہوگئی۔
    ناشتا ختم کر کے وہ کچھ جھاڑ پونچھ میں لگ گئی۔ رالف شاید اپنی اسٹڈی میں چلا گیا تھا، وہ زیادہ تر وہیں ہوتا تھا۔ اسے گند گی سے شدید چڑ تھی اس لیے آگسٹا صاف گھر کو بھی دن میں دو بار صاف کرتی۔لونگ روم کے کارپٹ پر ویکیوم کلینر چلاتے ہوئے اسے بہ مشکل ہی اپنے بجتے ہوئے فون کی آواز سنائی دی۔ کچھ جھنجھلاتے ہوئے اس نے فون کو دیکھا۔ ہیلینا کالنگ۔ہیلینا اس کی بچپن کی سہیلی تھی۔ ایک گہری سانس بھر کے اس نے فون اٹھا لیا۔
    ”ہاں اوگی ڈارلنگ؟” دوسری طرف سے آواز آئی۔
    ”کیسی ہو؟ طبیعت کیسی ہے؟”
    ”ہاں فلو بہتر ہے۔ ” آگسٹا منہ ہی منہ میں میں بڑبڑائی۔
    ”میں فلو کی بات نہیں کر رہی اوگی۔” دوسری طرف ایک لمحے کی خاموشی چھائی پھر وہ بولی۔
    ”خیر میں نے فون بھی اس لیے کیا تھا کہ میں آج ڈاؤن ٹاؤن جا رہی ہوں، میڈیکل سینٹر بھی جاؤں گی۔ تم کہو تو…”
    ”میں ٹھیک ہوں ہیلینا۔” آگسٹا نے خفگی سے بات کاٹی۔
    ”تم جاؤ اپنے گھٹنوں کے دردکا علاج کراؤ،مزیدسردیاں آنے والی ہیں۔” انداز جتانے والا تھا۔
    ”اور ٹی وی پر بتا رہے تھے کہ اس سال ناروے میں سردی کا دس سالہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔” اپنے تئیں بات میں وزن پیدا کر کے اس نے فون بند کیااور واپس اپنے کام میں جت گئی۔
    گھر کے اندر کی صفائی تو اس نے ایک گھنٹے میں ہی ختم کر لی۔ مشکل کام ابھی باقی تھا دروازے کے سامنے سے برف ہٹانے کا۔ اس نے اپنا شاکنگ پنک اوور کوٹ پہنا،لال کیپ اور لال ہی سنو بوٹ پہنے بیلچہ اٹھائے وہ باہر آگئی۔
    برف کے ساتھ دھینگا مشتی کرتے اسے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔برگن (ناروے کا ایک قصبہ) کا کمزور سا سورج پوری طرح نکل تو آیا تھا، مگر اس کی روشنی بھی ٹھنڈی اور پھیکی سی تھی۔ وہ بیلچہ چلاتی گئی، چلاتی گئی مگر سورج کی طرح اس کی کاوشیں بھی بے سود رہیں، سوائے اس کے کہ اس کی کمر میں شدید ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔ بے زار ہو کراس نے ہاتھ روک دیا۔ دفعتہ اسے کھڑکی کے شیشے سے رالف کا چہرہ جھانکتا نظر آیا۔ خفگی کے تاثرات شیشے کے پار سے بھی عیاں تھے، اسے گھر کی سامنے والی سیڑھیوں پر برف بھی سخت نا پسند تھی۔ آگسٹا نے دانت پیستے ہوئے بیلچے سے ایک اور وار کیا توبلبلا گئی۔ یوں لگا کہ ساری ریڑھ کی ہڈی جھٹکا کھا گئی ہو۔
    ”کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟” ایک خوش گوار مردانہ آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
    آگسٹا نے سر اٹھا کے دیکھا۔ برابر والے گھر کی سیڑھیوں پر ایک چھبیس ستائیس سالہ خوش شکل لڑکا کھڑا تھا۔ وہ نیا پڑوسی تھا اور شاید کچھ گروسری لے کر واپس آرہا تھا۔ آگسٹا نے پچھلے ہفتے اسے اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا تھا۔کمر کا درد چھپاتے وہ یقینا سرخ پڑ رہی تھی۔کن انکھیوں سے گھر کی کھڑکی کی طرف دیکھا، رالف اب وہاں نہیں تھا۔
    ”نہیں میں کر رہی ہوں۔ کر لوں گی۔”وہ اپنی کیپ سر پے ٹھیک سے جماتے ہوئے بولی۔
    ”آپ رکیں۔میں یہ رکھ کے آتا ہوں۔” وہ مسکرا کر کہتا اپنے گھر داخل ہوگیا۔ آگسٹا وہیں کھڑی سرد ہوائیں کھاتی رہی۔ کوئی پانچ منٹ بعد وہ باہر آیا۔ اس کے ہاتھ سے بیلچہ لیا اور اس کے دروازے کے آگے سے برف ہٹانے لگا۔




  • صدقہ جاریہ — قرسم فاطمہ

    صدقہ جاریہ — قرسم فاطمہ

    ”پیارے بچے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو پھر وہ خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں ہو اسے اللہ ضرور لائے گا۔اللہ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔” ( لقمان:16 )
    ”میرے دادا کہا کرتے تھے،پُتر! اللہ کے گھر کسی چیز کی کمی نہیں۔ اس کے گھر دیر ضرور ہے مگر اندھیر نہیں اور میں جواب میں کہتا: ابو جی! کیا اللہ کا بھی کوئی گھر ہوتا ہے؟ دادا بے اختیار ہنسنے لگتے پھر کہتے: پُتر! یہ پوری کائنات اس سوہنے رب کا گھر ہی تو ہے۔ مگر میں نہیں سمجھتا تھا پھر جب سمجھنے لگا تو اللہ اپنے گھر سے میرا گھر بھی بھرتا گیا۔جب اللہ اپنے گھر سے عطا کررہا ہے، تو میرے بیٹے ہم کیوں رزق کی تگ و دو میں پریشان ہوتے ہیں؟” لقمان احمد نے مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے کو سمجھایا۔
    ”بابا جان! میں رزق کے لیے نہیں آپ کے لیے پریشان ہورہا ہوں۔اس عمر میں ایک بار پھر آپ محنت مزدوری میں لگ جائیں گے۔صرف اس لیے کہ میری خواہش پوری ہوجائے؟ نہیں،اب نہیں!” وہ اپنے باپ کے سامنے سر جھکائے بیٹھا انتہائی کمزور آواز میں کہہ رہا تھا۔ اس کے لہجے میں زمانوں کی تکان تھی۔
    ”بیٹے! اگر تم نہیں بھی چاہتے تو سمجھ لو تمہاری ماں کہہ رہی ہے۔اس کی خواہش تھی کہ تم لندن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرو۔تم اپنی ماں…”
    ”ایک تو ہر بات میں امی کو مت لایا کریں۔ میں جانتا ہوں اُن کی ایسی کوئی خواہش نہیں تھی اور اگر کوئی خواہش تھی تو وہ مرگئی۔” اس نے آخری لفظ کہتے ہوئے اپنے باپ کے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھا۔ وہ کرسی سے اُٹھ کر ستاروں سے ڈھکا آسمان تکنے لگا۔
    ”انسان مرجاتے ہیں، خواہشیں نہیں۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ پیسوں کا مسئلہ نہیں ہے بیٹے۔ میں نے ساری زندگی تمہارے لیے ہی محنت کی ہے، کیونکہ میں جانتا ہوں ایک دن تم میرے لیے صدقہ جاریہ بنو گے۔” بوڑھے باپ نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھ اسے تسلی دی۔
    ”بابا جان! آپ میرے لیے اور کیا کیا کریں گے۔اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ دو سال مزید آپ میرے لیے پیسے اکٹھے کرتے رہیں گے۔ اتنا بوجھ نہ ڈالیں میرے کندھوں پر۔ میں نہیں اتارسکوں گا۔کبھی بھی نہیں۔ آپ کی ایک دن کی محنت کا بھی نہیں۔” ایان احمد نے اپنے بوڑھے باپ کے ہاتھ تھامتے ہوئے سر جھکا لیا۔اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
    ”بیٹے! رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے جو چیز ہمیں انتہائی قریب سے بھی دکھائی نہیں دیتی،وہ اس کے لیے تو کبھی مخفی ہوتی ہی نہیں۔ پیسے کہاں سے آئیں گے؟ زمین سے، آسمان سے؟یہ سوچنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر رائی کے دانے کے برابر یا کسی پہاڑ کے برابر بھی رزق ہمارے لیے لکھا ہے نا تو وہ ہمارے تک پہنچ جائے گا۔ تم بس دعا کرو کہ جو ہمارے لیے لکھ دیا گیا ہے ہم اس تک پہنچ جائیں۔ اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پیسوں کی کمی کے باعث ترک کبھی مت کرنا۔” بوڑھے باپ نے حکیمانہ انداز میں ایان کو سمجھایا۔
    ”بابا جان! آپ …”وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر ہمیشہ کی طرح باپ کی گود میں چہرہ ڈھانپ کر خاموش ہوگیا۔ لقمان احمد نے مسکراتے ہوئے ایان کی پیشانی چومی اور اس کی نم آنکھیں صاف کرنے لگے۔
    ٭…٭…٭




    اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا،برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آئے صبر کرنا کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے۔
    (لقمان:17)
    ٭…٭…٭
    جنوری کے مہینے میں لندن برف میں دب سا گیا تھا۔ شدید دھند نے تاریک آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔سیاہ روش پر سفید برف چمکنے کو تیار تھی۔سڑک پر اِکا دُکا لوگ نظر آرہے تھے۔
    ”یہ تم لوگ مجھے کہاں لے آئے ہو؟” گاڑی میں پانچ افراد بیٹھے تھے جن میں ایک مسلسل سوال کررہا تھا جبکہ باقی چار اُس پر ہنس رہے تھے۔
    ”آدھے گھنٹے سے بکواس کررہا ہوں، مجھے آدھی رات کو کہاں لے جارہے ہو؟ تم لوگ جانتے ہو میں…”
    ”اوئے فکر نہ کر تجھے زندہ ہی واپس لائیں گے۔” ڈرائیو کرنے والے لڑکے نے بریک لگاتے ہوئے کہا۔
    بارہ بجنے میں چند منٹ باقی تھے جب دھند میں لپٹی سڑک پر بنے ریستوران کے قریب گاڑی روک دی گئی۔ وہ پانچوں ایک ساتھ ریستوران میں داخل ہوئے جہاں ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔رات کے اس پہر خاموش اندھیرے میں ایان کا دم گْھٹنے لگا۔اس نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ یکدم شور بلند ہوا۔
    ”ہیپی برتھ ڈے، ہیپی برتھ ڈے ایان۔” ایک ساتھ بے شمار آوازیں بلند ہوئیں۔ ڈانسنگ لائٹس سے ہال جگمگا اٹھا۔ تیز میوزک کے ساتھ جگمگ کرتی لائٹس اور ایک طرف سے اٹھتا ڈھیروں دھواں دیکھ کر ایان قدرے حیران ہوا۔اس کے تمام کلاس فیلو گول میز پر رکھے کیک کے گرد دائرہ بنائے کھڑے تھے۔
    ”اب کیا ایسے ہی حیران پریشان کھڑے رہو گے یا کیک بھی کاٹو گے؟”ثنا نے چٹکی بجاتے ہوئے ایان کو متوجہ کیا۔
    ”تھینک یو سو مچ۔تم لوگوں نے میرے لیے اتنا سب کیا۔” وہ قدرے بوکھلائے ہوئے انداز میں بولا۔
    ”اگر میں یہ بتادوں کہ اس چھوٹے بچے کو ہم یہاں کیسے لائے ہیں ،تو تم لوگوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہوجائے۔” ایان کیک کاٹنے ہی لگا تھا جب اس کے دوست کی بات سن کر سب قہقہے لگانے لگے۔تیز میوزک اور طنزیہ قہقہوں کی گونج میں اس نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کیک کاٹا۔وہ ان سب خرافات کا عادی کبھی بھی نہیں تھا، مگر اب اس کی مرضی سے کچھ بھی نہیں ہونا تھا۔
    ”یہ تمہارا پاکستان نہیں ہے اب تو بڑے ہوجاؤ ایان۔”
    ”یہ لندن ہے لندن! اور تم یہاں انجوائے کرنے آئے ہو۔اب تو ڈرنا چھوڑ دو یار۔” ایک ساتھ بے شمار آوازیں بلند ہوئیں جن کے لہجوں میں طنز و تمسخر تھا۔وہ خاموشی سے مسکراتا رہا۔جواب نہ اس کو دینا آتا تھا اور نہ وہ دینا چاہتا تھا۔لندن میں پچھلے ایک سال سے وہ ہر موقع پر یوں ہی غصہ ضبط کیا کرتا تھا مگر اب قوّتِ برداشت کا چپ کی زنجیروں سے آزاد ہونے کا وقت تھا۔
    ”یہ جوس لو ایان۔” باسط نے اس کے ہاتھ میں گلاس تھماتے ہوئے ثنا کے کان میں سرگوشی کی جس پر وہ قہقہہ لگانے لگی۔ ایان نے خاموشی سے گلاس تھام لیا جو اس کے لیے زہر ثابت ہوا۔
    ”یہ ۔یہ کیا ہے اس گلاس میں؟” ابھی گلاس سے اس کے لب چھوئے ہی تھے کہ وہ ٹھٹک گیا۔وہ اس بدبو سے واقف تھا۔
    ”یہ کیا گھٹیا حرکت ہے؟ تم جوس کے نام پر مجھے شراب پلا رہے ہو؟” وہ یکدم چیخنے لگا۔تیز میوزک کے باعث وہ بے حد بلند آواز میں باسط کا گریبان پکڑتے ہوئے غرّایا تھا۔
    ”ایان چھوڑ دے یار۔یہ صرف مذاق تھا۔ہم نے تمہیں بتا دینا تھا بس یہ چھوٹا سا مذاق تھا۔” اکبر ایان کے ہاتھ تھامتے ہوئے اسے سمجھانے لگا۔ دیارِ غیر میں اکبر اس کا واحد اچھا دوست تھا۔
    ”چھوٹا سا مذاق؟ مائی فٹ!” اس نے انتہائی غصے میں میز پر رکھا گلاس پوری قوت سے زمین پر دے مارا۔
    ”یہ تم لوگوں کے لیے مذاق ہوگا میرے لیے نہیں اور …اکبر! تم ۔تم بھی؟ تم جیسے گھٹیا انسان ایسی ہی گِری ہوئی حرکت کرسکتے ہیں۔” میوزک بند ہوچکا تھا۔ رات کے اس پہر بولنے والا اب صرف ایان احمد تھا۔
    ”ایک بات تم لوگ ہمیشہ یاد رکھنا میرا ایمان ابھی زندہ ہے۔تم لوگ چاہ کر بھی میرے اندر حرام نہیں اُنڈیل سکتے۔کبھی بھی نہیں ۔” اس کا چہرہ غصے سے لال ہوچکا تھا۔وہ ٹوٹے گلاس کو ٹھوکر مارتے ہوئے ریستوران سے باہر نکل آیا۔
    ”یان ۔ایان! میری بات سن یار۔” اکبر اس کے پیچھے بھاگا، مگر اب اُسے کسی کی پروا نہیں تھی۔ وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔دور بہت دور۔
    موسم شدید بگڑ چکا تھا۔ بارش بھی ایان کے آنسوؤں کے مانند برستی ہی جاری تھی۔جب ساتھ کوئی رونے والا نہ تھا تو بارش نے اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔وہ مسلسل چلنے کے باعث تھک چکا تھا۔کتنا وقت گزر چکا تھا اور دن نکلنے میں کتنا وقت تھا اسے کچھ معلوم نہ تھا۔وہ کہاں پہنچ چکا تھا اور یہاں سے واپس کیسے جانا تھا وہ اس سوچ سے بھی بے پروا تھا۔ طویل مسافت کے بعد وہ ایک دکان کے باہر برآمدے کے نیچے فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔
    ٭…٭…٭
    ”بابا جان! میں نے آپ سے کتنا کہا تھا مجھے صنم کدوں کے اس جہاں میں نہ بھیجیں۔ میں یہاں روز مرتا ہوں۔ ہر صبح،ہر شام،ہر رات۔ میں اتنے عرصے میں بھی ان لوگوں جیسا نہیں بن پایا، مگر میں پھر بھی مطمئن ہوں۔” وہ ہاتھ میں کاغذ تھامے خود کلامی کرنے لگا۔کاغذ پر لکھی قرآنی آیات پر نظریں جمائے وہ کہیں کھو گیا۔ماضی سایہ بن کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا۔
    ”مگر بابا یہ تو قرآن پاک کی آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔آپ تو کہہ رہے تھے آپ نے میرے لیے نصیحتیں لکھی ہیں۔” وہ بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے باپ سے سوالیہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔کل کی فلائٹ سے وہ لندن جانے کی تیاری مکمل کرچکا تھا۔
    ”یہ آیات میں نے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیے لکھی ہیں۔ مجھے یقین ہے اگر تم ان نصیحتوں پر عمل کرو گے تو ہمیشہ راہِ راست پر رہو گے میرے بچے۔ مجھ سے دور تو جارہے ہو، مگر اس صفحے کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا۔ اسے روز دیکھنا۔ بلاناغہ پڑھنا پھر دیکھنا تم خودبخود ان پر عمل بھی کرنے لگو گے۔” ماسٹر لقمان اداس تھے مگر پھر بھی مسکرانے لگے۔
    ”تمام والدین کو اپنی اولاد کی تربیت کرتے وقت حکیم لقمان کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی یہ نصیحتیں یاد رکھنی چاہئیں پھر تربیت کرنا کافی آسان ہوجائے گا۔”
    ”جی جی بابا جان! آپ کی ساری باتیں میں ویسے بھی یاد رکھوں گا اور یہ آیات بھی ۔ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا۔” ایان نے عادتاً باپ کے دونوں ہاتھ تھام کر مان رکھ لیا۔ماضی بادلوں کے سنگ بہہ گیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی۔
    ”آج آپ کو ایک راز کی بات بتاتا ہوں۔آپ کی ساری حکمتیں اور نصیحتیں تو ایک طرف مگر آپ کے ہاتھ سے لکھی قرآن کی یہ چند آیات ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہیں۔آج بھی میں ان کی برکت سے بچ گیا۔” وہ ہلکا سا مسکرایا۔
    ”آپ نے میرے اندر حلال رزق اور ایمان کی تپش کو ایسے بھر دیا ہے کہ میں ہمیشہ بھٹکنے سے پہلے ہی بچالیا جاتا ہوں، مگر بابا جان! اب میں تھکنے لگا ہوں۔اپنے نفس اور خواہشات کو دفن کرکے دوسروں کو راہِ راست پر لانے کی کوششیں کرتے کرتے تھک گیا ہوں۔ کوئی میری مانتا ہی نہیں۔ سب ہنستے ہیں مجھ پر ۔ پھر میں بھی سب کے سامنے ہنسنے لگتا ہوں۔”بارش قدرے تھم چکی تھی،ایان کے آنسوؤں کی طرح۔
    ”مگر بابا۔ آج میرا ضبط ٹوٹ گیا۔میں یہ سوچ سوچ کر کانپ رہا ہوں کہ اگر میں وہ گلاس پی لیتا تو جہنم کے کس گڑھے میں گرتا، لیکن میں یہ سوچ کر مزید کانپنے لگتا ہوں کہ کسی بیرونی قوت نے مجھے گناہ کرنے سے روک لیااور پھر جواب بھی فوراً مل گیا۔ آپ کی دعاؤں سے۔ وہ دعائیں جو میری ہر منزل کا راستہ آسان کردیتی ہیں۔”ایان دنیا سے بے پرواہ کاغذ تھامے اپنی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا جب فجر کی پکار بلند ہوئی۔آواز بے حد مدھم قدرے دور سے آرہی تھی۔پکار جس قدر مدھم تھی پکارنے والا اتنا ہی قریب تھا۔
    ”میرے لیے یہ دعا بھی کیا کریں بابا جان کہ میرا دل بے شک مرجائے بس ضمیر نہ مرے۔دل مرتا ہے تو صرف انسان ہی مرتا ہے ۔ضمیر مرجائے تو انسانیت مرجاتی ہے۔” وہ فٹ پاتھ سے اٹھا تو اس کے جوتے اور جیکٹ برف سے بھر چکے تھے۔وہ مسکرانے لگا۔دل کا بوجھ کم ہوا، تو مسجد کی تلاش میں وہ ایک بار پھر چلنے لگا۔
    ”اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر یقینا آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھے کی ہے۔”(لقمان:19)
    ٭…٭…٭