Tag: افسانہ

  • تسکین — امینہ خان سعد

    میرا بھائی سامی جو مجھ سے عمر میںنوسال چھوٹا تھااس سال نیو ایئر منانے کی ضد کر رہا تھا- میری ماما اس کو سمجھانے کی کو شش کر رہی تھیں کہ نیو ایئرنائٹ پر باہر جانا محفوظ نہیںہے ۔اس کی ضد کی وجہ سے مجھے اس پر بہت غصّہ آرہا تھا بلکہ اپنے ہی بھائی سے نفرت سی ہورہی تھی۔ یہ احساس نیا نہیںتھا۔ کم ازکم سال میں دو مرتبہ میراجی اسے دل کھول کر مارنے اور نوچنے کا چاہتا تھا۔
    ’’امّی میرے سب دوست اپنے گھر والوںکے ساتھ نئے سال کاجشن مناتے ہیں ـ،گھومتے پھرتے ہیں ،پٹاخے پھوڑتے ہیں۔ ایک تو ہم کہیں جاتے نہیںاوپر سے بابا ہر سال دس گیارہ بجے تک گھر کی سب لائٹیںبند کرکے ہمیںزبردستی سلا دیتے ہیں۔‘‘ سامی نے ماما کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
    ’’ ارے بھئی! ہم مسلمان ہیں یہ کوئی ہمارا نیو ایئرتھوڑی ہے اور اسلام میں سادگی کو پسند کیا گیا ہے۔‘‘ماما سامی کو بہلانے لگیں۔
    ’’ ما ما ذرا اس سے پوچھیںتو صحیح کہ اس نے آپ کو امّی کیوں کہا ،اگر میںنے بابا کو شکایت کردی تو نئے سال پر تو کیا یہ کسی دن بھی باہر نہیں جاسکے گا ۔‘‘ میں غصّے سے بولتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    بعض اوقات مجھے احساس ہوتاکہ میں سامی کے ساتھ زیادتی کر جا تی ہوں پر غصّے میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا۔ سامی کو اجازت نہیں تھی کہ وہ امّی کو امّی پکارے۔ یہ پابندی بھی میں نے لگائی تھی کہ ماما کو ہم دونوں صرف ماما بولیں گے۔ یہ فیصلہ تو سامی کے پیدا ہونے کے چھ ماہ بعد ہی ہوگیا تھا۔ عام حالات میں ہم لوگوں کی کوئی خاص لڑائی نہیں ہوتی تھی ۔ ویسے بھی ماما بابا ہم دونوں میں سے کبھی کسی ایک کی طرف داری نہیں کرتے تھے۔ دونوں کو ہی سمجھا کر یا جس کی غلطی ہو اس کو ڈانٹ کر لڑائی فوراً ختم کروا دیتے تھے۔
    سال 2015ختم ہونے میں ابھی پندرہ دن باقی تھے۔ ہر نئے سال کی آمد مجھے چڑچڑا بنا دیتی تھی۔
    ’’اُف نیا سال۔۔۔‘‘ میںیہ سوچ ہی رہی تھی کی ماما دستک دے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔
    ’’ سکینہ ـ۔‘‘
    ’’ جی ماما ۔‘‘
    ’’ بیٹا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
    ’’ ابھی؟‘‘
    ’’ ہاں بیٹا، صرف دو چار منٹ لگیں گے۔‘‘
    ’’ ماما میںسونا چاہتی ہوں۔‘‘ میں نے رک رک کے بولا۔
    ’’ ٹھیک ہے تو آپ لیٹ جائو، میں مختصر سی بات کرکے چلی جائوں گی۔‘‘
    میں سمجھ گئی کہ ماما کچھ خاص بات کرنے والی ہیں۔میں فوراً لیٹ گئی تاکہ ماما جلدی جلدی اپنی بات ختم کرلیں۔




    ’’بیٹاسامی بچّہ ہے ، باقی بچّوں سے قصّے کہانیاں سنتا ہے تو اس کا دل بھی تفریح کرنا چاہتا ہے۔ آپ حسّاس ہونے کے ساتھ سمجھدار بھی تو ہو۔‘‘ ماما نے جھک کر میرے ماتھے پر پیار کیا اور وہیں میرا غصّہ پانی کے بلبلے کی طرح غائب ہوگیا۔
    ’’ دوسری بات جو کہ کافی خاص ہے وہ یہ کہ ایک بہت اچھی فیملی آپ کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آنا چاہتی ہے۔‘‘ ماما جملہ مکمّل کرکے چند سیکنڈ کے لیے رکیں پر جب میں چپ رہی تو انھوں نے بات جار ی رکھی ۔
    ’’ بیٹا ہم نہیں چاہیں گے کہ آپ ہر ایک کے آگے ٹرے سجا کر لائو۔ آپ کے بابا تو انجان لوگوں کے منہ اٹھا کر چلے آنے کے سخت خلاف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے آپ لڑکے کی تصویر دیکھ لو اور لڑکا آپ کی۔اور شکل و صورت پسند آنے کی صورت میں ہی بات آگے بڑھائی جائے۔‘‘
    ’’پر آپ لوگوں کو اچانک شادی کی کیوں پڑگئی؟ کہیں سامی کی دلہن بھی ابھی سے لانے کا ارادہ تو نہیں ہو گیا؟‘‘ میں نے بات ٹالنا چاہی۔
    ’’ شریر لڑکی اس میں ابھی بہت وقت ہے۔ وہ تو تم ہمارے داماد کے ساتھ مل کر خود ڈھونڈنا۔ بیٹا تمہاری پڑھائی مکمّل ہو چکی ہے،ماشااللہ سے تیئس برس کی ہوگئی ہو، یہ بالکل صحیح عمر ہے شادی کی۔‘‘ماما مجھے زیادہ تر آپ کہہ کر مخاطب کرتی تھیںاور مذاق کے موڈ میں تم۔
    تو یہ تھی مختصر بات جو ابھی تک مکمّل ہی نہیں ہوئی؟
    ’’سکینہ بیٹا۔ بابا کے دوست کے بیٹے کا رشتہ تو آپ نے قبول نہیںکیا تھا، چلو اس وقت تو آپ پڑھ بھی رہی تھیںمگر اب سنجیدگی سے سوچئے گا۔‘‘ ماما کو سنجیدہ دیکھ کر میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔
    ’’ بیٹا سعیدہ آپا جنہوں نے سارہ کا رشتہ کروایا تھا انہوں نے ایک بہت اچھا رشتہ بتایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تصویر چھوڑواوران پر اعتماد کرکے لڑکے والوں کو گھر بلالو۔‘‘
    سارہ آپی ماما کی بھانجی تھیں۔ ان کی شادی پچھلے سال ایک بہت اچھے گھرانے کے نہایت شریف اور پڑھے لکھے شخص سے ہوئی تھی۔وہ اپنی شادی شدہ زندگی سے پوری طرح مطمئن تھیں اور اٹھتے بیٹھتے رشتے والی سعیدہ آپاکو دعائیں دیتی تھیں۔
    ’’ اچھا وہ کتنے بہن بھائی ہیں ؟ ماں باپ کیسے ہیں؟کہاں رہتے ہیںجو بابا نے پہلے تصویر دیکھنے کا کہا ہے‘‘ میں نے اپنے ذہن میں موجود سوال ایک سانس میںپوچھ ڈالے۔
    ’’سکینہ CID سانس تو لے لو ، اگر ہماری شہزادی کی اجازت ہو تو تفتیش کے لیے اس ویک اینڈ بلوا لیتے ہیں ۔ سعیدہ آپا کے مطابق وہ لوگ لڑکے کے بارے میں مل کرکچھ خاص بات بتانا چاہتے ہیںاور ویسے بھی ہمیںبھی ان کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہوگا۔ رشتے سچ کی بنیاد پر ہی رکھنا چاہئیں۔‘‘ماما نے گہرا سانس لیا۔’’اور ہاں جہاں تک تمھارے سوالات کا تعلّق ہے، آمنے سامنے بیٹھ کرتمام سوالات بھی کر لیں گے اور ان کوان کے سوالات کے جوابات بھی دے دیں گے۔‘‘
    میں نے ماما کوزور سے گلے لگا لیااور ماما مجھے پیار کرکے کمرے سے باہر چلی گئیں۔جاتے جاتے کمرے کی ڈم لائٹ اور دروازہ بند کر گئیں۔
    حقیقت، نیا گھر، نئے انجان لوگ اور نئے سال کی آمد،یہ سب خیالات مجھے بے چین کرنے کے لیے کافی تھے۔
    ماما اور بابا دونوں ہی بہت شفیق تھے۔ میں نے ہمیشہ ان کی آنکھوں میں پیار اور لہجے میں نرمی پائی۔ سامی اور مجھے ایک جیسا پیاردیا۔ جب بھی مجھے غصّہ آتا ،میں سامی کو چڑاتی کہ بابا مجھے زیادہ پیار کرتے ہیں پر مجھے معلوم ہوتا کہ سامی کو اس بات پر کبھی یقین نہیں آئے گاکیوں کہ مامابابا بیلنس رکھنے میں ماہر تھے۔
    میں نے دھیان بٹانے کو اپنی دراز سے کتاب نکالی، لحاف اوڑھا اور لیٹ کر کتاب پڑھنا شروع کردی۔ مجھے رومانوی کتابیں پڑھنا بہت پسند تھا مگر ابھی تو جیسے میں الفاظ رومانوی پڑھ رہی تھی اور کہانی میرے دماغ میںڈرائونی چل رہی تھی۔
    ایک دم یادیں مجھے سولہ سال پیچھے دھکیل کر لے گئیں۔سال 2000 نے میری زندگی بدل کر رکھ دی تھی ،ہاں شاید اچھے کے لیے پر اس سال رونما ہونے والے واقعات نے میرا اب تک پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔
    اس نئے سال2000 کا سب کو بڑی بے چینی سے انتطار تھا۔
    ہر کوئی میلینیئم ) (Milleniumمیلینیئم (Millenium)کر رہا تھا۔ چونکہ میری عمر اس وقت صرف سات برس تھی اور مجھے اسکول میں کلاس ٹیچر کی باتیں سن کر یہ لگنے لگا تھا کہ سال 2000ء شروع ہوتے ہی دنیا بدل جائے گی اور پھر حقیقتاً میری دنیا ہی بدل گئی۔ ہم حیدرآباد میں رہتے تھے کیوں کہ ابّو کی وہاں نوکری تھی۔میں نے ابّو سے ضد کی کہ نیا سال منانے ماموں کے گھر کراچی چلیں۔
    ’’بھئی اس سال ایسی کیا خاص بات ہے ؟‘‘ابّو نے پوچھا۔
    ’ابّونئے سال کے ساتھ نئی صدی شروع ہو رہی ہے‘، میں نے بڑے جوش سے بتایا۔
    پہلے توابّو خرچے کا سوچ کر پریشان ہوئے مگرمیرے پیچھے پڑنے پر راضی ہو گئے۔
    ہم اکتیس دسمبر 1999کی دوپہر ایک بجے کراچی پہنچے۔ ماموں ہمیں اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ماموں اچھے تھے مگر ممانی سے نہ جانے کیوںمجھے ڈر لگتا تھا۔ اس وقت بھی مجھے خوف تھا کہ ممانی کہیں گھومنے پھرنے پر پابندی نہ لگادیں۔ماموں ممانی کا ایک ہی بیٹا تھا، نادر۔نادر بھائی مجھ سے چھ سال بڑے تھے۔وہ بہت ہی پڑھاکو تھے اور ہر وقت ’’جی امّی، جی امّی‘‘ کرتے رہتے تھے۔
    شام کی چائے پر ابّو نے ذکر چھیڑا۔
    ’’بھئی بچّے سمندر کی سیر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
    ’’بھائی جان آپ نے ہمیں کراچی کی نئے سال کی رونقیں دکھانی ہیں۔‘‘ امّی بولیں۔
    میں بہت پُرجوش ئٹڈ ہو گئی پر وہی ہواجس کا مجھے ڈر تھا۔ ممانی فوراً بولیں:
    ’’رونقیں کیا، بے ہودگی ہوتی ہے ، بائیک والے سائیلنسر نکال کر سڑکوں پر ہلڑ بازی کرتے پھرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہیں سمندر پر کل دوپہر کو چلیں گے، میں بریانی اور کباب بنالوں گی اور پکنک بھی ہو جائے گی۔ ممانی نے تجویز پیش کی۔ نادر بھائی اپنی امّی کی بات سن کر کھل اُٹھے۔
    ’’بریانی، پکنک،یاہوووو۔‘‘
    دوسری طرف میرا چہرہ اتر گیا۔میں نئے سال کی آمد پر باہر جانا چاہتی تھی۔ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ ملینیئم کیا تبدیلی لاتا ہے۔ کیا آسمان کا رنگ بدل جائے گا؟ ایسی کیا تبدیلی ہوگی جس کا حیدرآباد میں موجود میری دوستوں کو بھی انتظار تھا؟ایک دم میرے ننھے دماغ میں خیال آیا کہ کیا پتا چاکلیٹ کی بارش ہو ویسے بھی کراچی اتنا بڑا شہر ہے یہاں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
    ’’ماموں جان آج ہی چلیں نہ سمندر پر۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
    ماموں مسکراتے ہوئے بولے:
    ’’بیٹا آج رات تو سمندر کا راستہ بند ہوتا ہے، کنٹینر لگے ہوتے ہیں، پھر بھی کچھ من چلے کچھ نہ کچھ کرکے کر پہنچ ہی جاتے ہیں۔ لیکن ہم کہیں اور چلیں گے فکر نہ کرو بڑا مزہ آئے گا۔‘‘
    ’’ہاںبھئی سنا ہے اس دفعہ تو لوگوں کا کچھ ذیادہ ہی موج مستی کا ارادہ ہے، نئی صدی میں جو داخل ہورہے ہیں۔ ہم تو نئی صدی اور نئے سال کا استقبال کرنے آپ کے پاس آگئے ہیں۔‘‘ ابّو بڑے جوش سے بولے۔
    ’’بہت اچھا کیا بھائی صاحب، ہمارا نادر ویسے بھی اکیلا ہوتا ہے۔ آپ سب کے آجانے سے اس کے بھی مزے ہوگئے ہیں۔‘‘ ممانی نے خوشی خوشی جوا ب دیا۔
    اس رات سب رات کا کھانا دس بجے تک کھا کر تیّار ہوگئے۔ اس زمانے میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک نیا مال بنا تھا۔ہم چوں کہ حیدرآباد سے آئے تھے لہذا ہم نے مال نہیں دیکھا تھا۔ماموں نے ہمیں مال گھمانے کا ارادہ کیا۔ نادر بھائی نے مال کی اتنی تعریف کی تھی کہ مجھ سے تو صبر نہیں ہو رہا تھا۔
    رات گیارہ بجے کے قریب جب ہم وہاں پہنچے توپتا چلا کہ مال تو بند تھا۔ ماموں کا خیال تھا کہ نئے سال کی تقریبات رات گئے تک مال میں ہو رہی ہوں گی مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ اس رات تو مقامی حکومت نے مال کھلنے ہی نہیں دیا تھا۔
    ہم بچّے رونے والے ہوگئے۔ماموں نے ہماری حالت دیکھ کر کہا کہ اب یہاں تک آگئے ہیں تو کسی طرح راستے عبور کرکے سی ویو جانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ یہ سن کر میری خوشی کا ٹھکانا نہ رہا اور میں نے خوشی میں امّی کو چومنا شروع کر دیا۔
    ’’سکینہ بس کرو بیٹھ جائو، گاڑی چلے گی تو گر جائوگی‘، امّی نے کہا۔
    ’’امّی دیکھ لیں یہ موقع اس سال پھر نہیں آئے گا۔ اب تو میں آپ کو اگلی صدی میں ہی پیار کروں گی۔‘‘
    میری بات سن کر سب ہنس پڑے۔
    ماموں نے دوبارہ گاڑی چلانا شروع کی۔ابھی تھوڑا ہی آگے گئے تھے کی ابّو بولے :
    ’’یہاں قریب میں بڑا مزار بھی ہے نا؟‘‘‘
    ’’’جی جی۔‘‘ ماموں نے جواب دیا۔




  • رعونت — عائشہ احمد

    "میں کہتی ہوں دو اسے طلاق۔۔۔۔!”فاخرہ بیگم کی زناٹے دار آواز ڈرائنگ روم میں گونجی تو یک دم ہر طرف سناٹا چھا گیا۔
    "لیکن امی۔۔۔۔؟” علی نے کچھ کہنا چاہا لیکن فاخرہ بیگم نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔
    "یہ میرا حکم ہے۔ ابھی اور اسی وقت اسے طلاق دو۔‘‘ فاخرہ نے ایک بار پھر گرج دار آواز میں کہا۔
    علی نے بے بسی سے ایشل کی طرف دیکھا، ایشل کے چہرے پر خوف کے سائے نمایاں تھے۔اس کی آنکھوں میںایک التجا ،ایک امید تھی۔پاس کھڑا پانچ سالہ ننھا کامران حیرت کی تصویر بنے یہ سب دیکھ رہا تھا۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔اس نے ایشل کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ علی نے ایک نظر ماں کو دیکھا اور دوسری نظر ایشل کو دیکھا، وہ تذبذب کا شکار تھا۔
    "تمہیں میری بات کی سمجھ نہیں آئی؟ میں نے کہا اسے ابھی اور اسی وقت طلاق دو، ورنہ میںبھول جائوں گی کہ تم میرے بیٹے ہو۔‘‘ دھمکی کام کر گئی، علی نے ایک لمحہ ایشل کی طر ف دیکھا۔
    "ایسا مت کرو علی،میرا نہیں تو اپنے بیٹے کا خیال کرو،اسے تمہاری ضرورت ہے۔‘‘ ایشل نے روتے ہوئے کہا۔ اس نے علی کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیے لیکن علی تو جیسے پتھر کا ہو گیا تھا۔
    "ایشل۔۔! میں تمہیں طلاق دیتاہوں۔۔۔میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔” اور یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا اور فاخرہ نے فاتحانہ انداز میں ایشل کی طرف دیکھا۔ ایشل زمین پر تقریباً گر پڑی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ فاخرہ پائوں پٹختے ہوئے اپنے کمرے کی طرف لوٹ گئی۔
    ٭…٭…٭





    فاخرہ بیگم کا شمار مڈل کلاس گھرانے سے تھا اور ان کے شوہر سرکاری ملازم تھے جن کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ہوا تھا۔ علی فاخرہ بیگم کا اکلوتا بیٹا تھا جو ایک کالج میں لیکچرار تھا۔ فاخرہ بیگم اس سے بے انتہا محبت کرتی تھیں۔
    فاخرہ بیگم کا شمار ان عورتوں میں ہوتا تھا جو پیدا ہی حکمرانی کے لیے ہوتی ہیں۔ بھلے وہ شوہر پر حکمرانی ہو، اولاد پر یا پھر گھر پر۔ اپنی انا میں رہنا اور غرور و تکبر کا اظہار کرنا ان کی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے۔ فاخرہ بیگم بھی ایسی ہی تھیں۔ ماں باپ کے گھر تھیں تو راج کیا، سسرال آئیں تب بھی اپنی حکمرانی قائم رکھی اور جب اولاد کی شادی کی، تب بھی اپنا رعب و دبدبہ برقرار رکھا۔ آج ان کی ہٹ دھرمی نے ایک ہنستا بستا گھراجاڑ دیا تھا۔ ایشل ان کی اپنی پسند تھی۔ بہت چائو کے ساتھ وہ بہو لائی تھیں لیکن وہ بھی روایتی ماں اور ساس ثابت ہوئیں بیٹے کو کسی اور کا ہوتا دیکھ نہیں سکیں اس لیے شادی کے اگلے دن ہی لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے تھے۔اصل جھگڑا وہاں سے شروع ہوا جب علی نے ہنی مون کے لیے اجازت مانگی۔ اس بات پر انہوں نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا۔
    "اب تم فضول خرچی بھی کرو گے؟ شادی کیا ہوئی تم تو بیوی کے ہو کر رہ گئے۔” بیگم فاخرہ غصے سے پھنکاریں۔
    "ایسی بات نہیں ہے امی! یہ تو میرا پلان ہے۔” علی گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا۔
    "ہاں! ڈال پردے تُو اس کی باتوں پر۔ اس دن کے لیے تیری شادی کی تھی کہ ماں کو بھول کر بیوی کا ہوجائے؟” فاخرہ بیگم فوراً آنکھوں میں آنسو لے آئیں اور علی ماں کے آنسو دیکھ کر بے چین ہوگیا۔ اس نے ہنی مون کا پلان کینسل کر دیا۔
    ایشل سب جانتی تھی لیکن وہ خاموش رہی۔ اسی دوران ان کا ایک بیٹا ہوا جس کا نام انہوں نے کامران رکھا۔ ایشل کو لگا کہ شاید اس کی ساس کے رویے میں کچھ تبدیلی آجائے گی لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی۔ فاخرہ کا رویہ دن بہ دن برا ہوتا جا رہا تھا۔ ہر روز ایک نیا طوفان ایشل کا منتظر ہوتا تھا۔ علی بھی ماں کے سامنے بھیگی بلی بنا رہتا وہ ایشل کی حمایت میں کچھ نہیں کہتا تھا جس کی وجہ سے فاخرہ بیگم کو مزید شہ ملتی اور وہ ایشل پر اور زیادہ ظلم کرتیں۔ علی بھی گھر کے ماحول کی وجہ سے ایشل سے کھنچا کھنچا رہنے لگا تھا جس کا نتیجہ ان کی طلاق کی صور ت میں نکلا تھا۔ فاخرہ بیگم یہ نہیں جانتی تھیں کہ اس نے محض ایک عورت کا گھر بلکہ حکمِ خداوندی کی صریح نافرمانی کی ہے اور جو اﷲ پاک کے احکامات کی نافرمانی کرتا ہے وہ ناصرف معاشرے کا مجرم ہوتا ہے، بلکہ قیامت کے دن سزاوار بھی ہوگا۔
    ٭…٭…٭
    ٰٓٓایشل گھر پہنچی تو ایک کہرام مچ گیا۔ اس کا بھائی عارف شدید غصے کی حالت میں مرنے مارنے پر تیار ہوگیا۔ایشل کے باپ میاں نثار نے بڑی مشکل سے اسے قابو کیا۔ ایشل مسلسل روئے جا رہی تھی، کامران بھی رو رہا تھا۔ ایشل کی امی سعدیہ اسے چپ کرانے میں مصروف تھیں۔
    "خدا غارت کرے فاخرہ کو! اسے تو خدا کا ذرا خوف نہیں آیا یہ سب کرتے ہوئے۔” سعدیہ بیگم اسے کوستے ہوئے بولیں۔
    "میں نے تو کہا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں۔” عارف غصے سے انگلیاں مروڑتے ہوئے بولا۔
    "کیا ہو گا اس سے؟ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ ویسے بھی بیٹی کی بربادی کے بعد میں بیٹے کو کھونا نہیں چاہتا۔ اب یہ سوچو آگے کیا کرنا ہے؟” میاںنثار نے کرب سے کہا۔
    "میں نے بہت منتیں کیں ان کی ،لیکن وہ لوگ نہیں مانے اور علی۔۔ بڑا مان تھا ا س پر مجھے، وہ بھی بت بنا کھڑا رہا۔ وہ ماں کی محبت میں اتنا آگے چلا گیاکہ وہ اﷲ کے احکامات کی حکم عدولی پر مجبور ہو گیا۔‘‘ ایشل روتے ہوئے بولی۔
    "بس کر میری بچی! تو دیکھنا ان سب کا کیا حشر ہوتا ہے۔ ظلم کا بدلہ ایک دن ضرور ملتا ہے۔” سعدیہ بیگم نے روتے ہوئے اسے تسلی دی۔
    "یہاں پرقیامت ٹوٹ پڑی ہے اور آپ لوگ جھوٹی تسلیوں پر زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟” عارف نے غصے سے کہا اور پائوں پٹختا ہوا باہر چلا گیا۔ میاں نثار دکھ سے اسے جاتا دیکھ رہے تھے۔ وہ سمجھ سکتے تھے کہ عارف کے جذبات کیا ہیں؟ کوئی بھی بھائی یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ اس کی بہن کا گھر برباد کر دیا جائے۔
    ٭…٭…٭
    ایشل ایک پڑی لکھی اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ اس کے ابو ایک پرائیوٹ فرم میں جاب کرتے تھے جب کہ چھوٹا بھائی ایم بی اے کر رہا ہے۔ ایشل نے خود ایم ایس سی کی تھی۔ اس کا ارادہ جاب کرنے کا تھا لیکن ایم ایس سی مکمل کرتے ہی اس کے لیے علی کا رشتہ آگیا جسے اس کے والدین نے چھان بین کے بعد ہاں کر دی۔ ایشل والدین کی نہایت لاڈلی تھی۔ عارف اگرچہ ایشل سے چھوٹا تھا لیکن وہ ایشل سے بے حد محبت کرتا تھا۔ وہ اس کی چھوٹی سی تکلیف پر بے چین ہو جاتا۔ علی کے ساتھ ایشل کی شادی ایک بھیانک تجربہ تھا۔ جس کا اندازہ ایشل کو وہاں جا کر ہوا اور آج وہ طلاق لے کر واپس اپنے گھر آگئی۔
    ٭…٭…٭
    زندگی اپنے معمول پر واپس آگئی۔ ایشل کے دامن پر لگا طلاق کا داغ رفتہ رفتہ مٹنے لگا تھا۔ اس نے ایک پرائیوٹ سکول میں جاب شروع کردی اور اپنے بیٹے کامران کو بھی اسی سکول میں داخل کروا دیا۔ اسے تسلی تھی کہ اس طرح کامران اس کی نظروں کے سامنے رہے گا۔
    دوسری طرف علی کو تو جیسے چُپ سی لگ گئی تھی۔ایشل کو طلاق دینے کے بعد اس نے خود کو آفس اور اپنے کمرے تک محدود کر لیا تھا۔ فاخرہ بیگم نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح وہ ایشل کو بھلا سکے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ فاخرہ نے اس کا حل سوچا اور علی کی دوسری شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے علی سے بات کرنے کا سوچا۔
    صبح کا وقت تھا۔علی آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا ۔جب فاخرہ بیگم اس کے لیے ناشتے کی ٹرے اٹھائے اندر آئی۔ انہوں نے ٹرے ایک طرف رکھی۔علی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ٹائی باندھ رہا تھا۔ انہوں نے بغیر تمہید کے بات شروع کی:
    "کب تک اس منحوس کا سوگ منائو گے؟ فاخرہ نے زہر بھرانشتر اسے مارا۔ علی نے ایک نظر ماں کو دیکھا اور پھر اپنا کام کرنے لگ گیا۔ٹائی باندھی،بال برش کیے اور بیگ اٹھا کر جانے لگا۔
    "میں تم سے مخاطب ہوں ۔ کیا تم میری بات نہیں سُن رہے۔؟” انہوں نے سوالیہ لہجے میں اس سے پوچھا۔
    "مجھے آفس کے لیے دیر ہو رہی ہے۔” علی سپاٹ لہجے میں بولا۔
    "آرام سے ناشتہ کرو۔ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔” ان کا لہجہ تحکمانہ تھا۔
    "مجھے بھوک نہیں ہے اور ویسے بھی مجھے دیر ہو رہی ہے۔ آپ بات کریں میں سن رہا ہوں۔” علی کا چہرہ کسی بھی کسی کے تاثرات یا جذبات سے عاری تھا۔ فاخرہ بیگم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر مخاطب ہوئیں:
    "میں چاہتی ہوں تمہاری دوسری شادی کر دوں۔” فاخرہ نے کہا تو علی کو لگا کہ جیسے اس کے سر پر کسی نے بم پھاڑ دیا ہو۔ اس نے چونک کر ماں کی طرف دیکھا لیکن منہ سے کچھ نہیں بولا۔ وہ جانتا تھا کہ پہلے وہ اپنی بات مکمل کریں گی پھر اس کی سنیں گی۔
    "میں نے تمہارے لیے ایک لڑکی دیکھی ہے، خوب صورت اور پڑھی لکھی ہے۔” فاخرہ بیگم اس کی خوبیاں گنواتے ہوئے بولیں۔
    "یہ سب خوبیاں تو ایشل میں بھی تھیں۔”علی نے تیز لہجے میں کہا تو فاخرہ بیگم کے چہرے کا رنگ ایک دم سے اُڑ گیا۔
    "میں اب شادی نہیں کروں گا۔” علی نے دو ٹوک لہجے میں کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا، جب کہ فاخرہ دانت پیس کر رہ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    فاخرہ نے آخر کار علی کو دوسری شادی کے لیے راضی کر ہی لیا۔لڑکی کا نام صباحت تھا۔صباحت نہایت تیز طرار لڑکی تھی۔اسے علی کی پہلی شادی اور طلاق کے بارے میں معلوم تھا۔ اس لیے اس نے آتے ہی سب سے پہلے علی کو اپنے کنٹرول میں کیا۔ صباحت بہت خوب صورت تھی، اور باقی رہی سہی کثر اس کی باتوں نے پوری کر دی۔ علی اب بات بات پہ صباحت کی ہاں میں ہاں ملانے لگ گیا تھا۔ ٹھیک ایک مہینے بعد دونوں نے ہنی مون کا پلان بنایا اور مری جانے کا فیصلہ کیا۔ علی نے صرف ماں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ تو فاخرہ بیگم جل کر کوئلہ ہوگئیں۔
    "تم نے مجھ سے پوچھے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کر لیا۔۔۔؟ فاخرہ اس وقت شدید غصے میں تھیں۔
    "امی میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں کہ ہر کام آپ سے پوچھ کروں۔ہم لوگ ایک ہفتے کے لیے مری جا رہے ہیں۔” علی نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
    اگلے دن علی اور صباحت ہنی مون کے لیے مری روانہ ہو گئے اور فاخرہ صرف غصے سے تلملا کر رہ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    علی نے کبھی پلٹ کر بیٹے کی خبر بھی نہیں لی تھی، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسے کبھی بیٹے کی یاد تک نہیں آئی۔ کیا باپ ایسے بھی ہوتے ہیں؟ ایشل اکثر خود سے یہ سوال کرتی تھی، جس کا اس کے پا س کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔
    "ماما اب پاپا کبھی نہیں آئیں گے؟ کامران نے معصومانہ لہجے میں ایشل سے سوال کیا تو وہ تڑپ کر رہ گئی۔
    "نہیں بیٹا! پاپا کچھ مصروف ہیں،جیسے ہی ٹائم ملا آپ سے ملنے آئیں گے۔” ایشل نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔ اس وقت وہ بیڈ روم میں سونے کی تیاری کر رہی تھی۔
    "مجھے پتا ہے ماما! اب وہ کبھی نہیں آئیں گے۔ انہوں نے آپ کو چھوڑ دیا ہے” کامران نے کہا تو ایشل کا دل کٹ سا گیا۔اس نے پلکوں پر آتے ستارے روک لیے تھے۔وہ بیٹے کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
    "سب ٹھیک ہو جائے گا بیٹا! ایشل نے اپنے آنسو روکتے ہوئے کہا اور اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔
    ٭…٭…٭




  • بے غیرت — دلشاد نسیم

    بے غیرت — دلشاد نسیم

    پورے گاؤں کو سانپ سونگھ گیا۔ پنچایت کا فیصلہ تھا ہی ایسا… شاید ہی کوئی گھر ہو جس کا چولہا جلا ہو۔ ہر طرف سناٹا ہی سناٹا تھا۔ نہ اس شام پیپل کے درختوں کے نیچے حقہ گرم ہوا نہ کسی نے ہیر گائی۔ جمع سب ہوئے لیکن ’’ہک ہا‘‘ کہہ کر ایک دوسرے کو دیکھتے، ہاتھ ملتے رہے اور بس۔
    رخشی کا رو رو کر برا حال تھا۔ زلیخاں اس کو غصے سے گھورتی دانت پہ دانت جما کر کہہ رہی تھی:
    ’’مرن جوگے ایسا نہ ہو تیرا باپ صفیہ کے ساتھ ساتھ تجھے بھی جان سے مروا دے۔‘‘
    ’’تو مروا دے… مجھے کیوں نہیں مرواتا میں بھی تو عبداللہ سے محبت کرتی ہوں۔‘‘ رخشی نے تنک کر جواب دیا۔
    ’’بکواس نہ کر۔‘‘ ماں نے زور دار تھپڑ رخشی کے گال پہ مارا۔ لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلی تک نہیں۔
    ’’کیوں؟ میں نبی بخش کی بیٹی ہوں اس لیے مجھے کاری کی سزا نہیں ملے گی؟‘‘
    ’’بے وقوفے تو عبداللہ کی بچپن کی منگ ہے، اس لیے یہ محبت و حبت کا بھوت اتار دے سرسے۔‘‘ ماں نے ماتھا پیٹتے ہوئے کہا۔
    رخشی نے ماں کے غضب کے تیور دیکھے تو نرمی سے بولی:
    ’’اماں تیرے سینے میں تو عورت کا دل ہے ناں! ذرا دل پہ ہاتھ رکھ اور بتا… یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک لڑکی کو کسی پاگل کے پلے باندھ دیا جائے اور وہ احتجاج بھی نہ کرے۔ یہ نہ سوچ وہ پاگل تیرا بیٹا ہے۔ خدا کے لیے آپا کو بچالے اماں…‘‘ اس نے ہاتھ جوڑے مگر ماں نے اس کو قہرآلود نظروں سے دیکھا۔ اس وقت وہ محض عورت نہیں تھیں، زلیخاں نہیں تھیں صرف ایک پاگل بیٹے لاڈلے کی ماں تھیں۔ نبی بخش کی بیوی تھیں۔ زمین دار نبی بخش کی بیوی، جس کی پنچایت کا فیصلہ الٰہی مہر ہوتا تھا۔ کسی نے کبھی اس فیصلے کی حکم عدولی نہیں کی تھی تو زلیخاں کی کیا مجال تھی، گائوں بھر میں پھیلے سناٹے کی چاپ کو زلیخاں اپنی حویلی کی راہ داری میں محسوس کررہی تھیں۔ نوکر اسی طرح اپنے کاموں پر معمور تھے۔ مگر خاموش اور غم زدہ برسوں پرانی ملازمہ ماسی خیراں نے آج کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔
    زلیخاں کو شبہ تھا کہ خیراں نے کھانا کیوں نہیں کھایا۔ اس نے پوچھا تو خیراں نے اپنی جھریوں والی آنکھیں میچیں اور دکھ سے بولیں:
    ’’برسوں حویلی کا نمک کھایاپر دل پتھر نہیں ہوا۔ پتھر ہوتا تو کچھ کھا لیتی…‘‘
    ’’خیراں تم بیمار رہتی ہو… دوا کھانی ہو گی۔‘‘ اماں نے فکرمندی سے کہا۔
    ’’خیراں کی خیر ہے زلیخا بی بی… اسے کیا ہونا ہے۔‘‘ خیراں نے سرد آہ بھر کر کہا۔





    ’’یہ دوا دارو سارے ایویں ہیں، جب مولا نے لے کے جانا ہے تو لے جانا ہے، اس نے کون سی عمر شمر دینی ہے۔ کسی کی موت کا کبھی کوئی حیلہ بن جاتا ہے اور کبھی کوئی وسیلہ بن جاتا ہے۔‘‘ زلیخاں خیراں کی بات سمجھ گئی تھی اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے کہ اس کو ستانے کے لیے ایسا کہہ رہی ہے مگر خیراں عمر کے جس حصے میں تھی اس کو اب یہ فکر نہیں رہی تھی کہ اس کا کاٹ دار باتوں سے کوئی نقصان ہو گا۔ وہ بولے گئی۔
    ’’بہت مہربانی دھیے، ورنہ ہم غریبوں کا کون خیال کرتا ہے۔‘‘
    زلیخاں نے کچھ کہا نہیں، رنگین کرسی جس پر شیشے کا کام ہوا تھا، یہ کرسی ایسی جگہ پر رکھی تھی جہاں حتی الامکان حویلی کو دیکھا جاسکتا تھا۔ زلیخاں ہول ناک خاموشی سے گھبرا کر بولی:
    ’’بہت خاموشی ہے خیراں… لاڈلا سو گیا کیا؟
    ’’جی سو گیا… فرید کہہ رہا تھا آج اس نے بہت تنگ کیا تھا۔ دوائی دی تب سویا تھا۔‘‘ خیراں سپاٹ لہجے میں اسے بتا رہی تھی۔
    زلیخاں کے چہرے پہ دکھ کے نمایاں تاثرات تھے۔ اس نے افسردگی سے کہا:
    ’’سوچا تھا صفیہ آجائے گی تو میری فکر بانٹ لے گی، مگر اس نے تو ایسا چاند چڑھایا کہ بس! مرحوم اللہ بخش بھائی کی روح تڑپ گئی ہو گی…‘‘ خیراں نے سر ہلایا۔ کہا کچھ نہیں۔ زلیخاں بے چین ہوکر اٹھی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی جارہی تھی… جیسے روح پھر رہی ہو۔ نبی بخش ابھی مرنے سے واپس نہیں آیا تھا۔
    لاڈلے کے کمرے کے باہر فرید پہرا دیا کرتا تھا۔ لاڈلے کا کیا بھروسہ کب اُٹھ جائے اور شور مچا دے؟ کب اس کو کچھ کھانے کو دل چاہے اور کب…؟
    فرید نے ایک طرف ہوکر ادب سے سرجھکا کر زلیخا کو راستہ دیا۔ لاڈلا معصومیت کی تصویر بنا آنکھیں بند کیے پڑا تھا۔ چھبیس سال کے نوجوان کا ذہن سات آٹھ سال کے بچے سے زیادہ نہیں تھا۔ وہ کبھی کبھی سوتے میں سسکنے لگتا اور اس کا سارا جسم ہل جاتا۔ زلیخاں کی ممتاز تڑپ اٹھتی۔
    ’’کاش میں تیرے لیے خوشیاں خرید کے لا سکتی میرے لاڈلے۔ کاش اللہ نے مجھے ایسی آزمائش میں نہ ڈالا ہوتا۔ تو بھی عام لڑکوں کی طرح پڑھ لکھ کر پنچایت میں بیٹھتا۔ پھر تو خاص ہو جاتا۔ نبی بخش کا بازو، میری جان! تجھے لاڈلا کوئی نہ کہتا تو حبیب اللہ ہوتا… چودھری حبیب اللہ۔‘‘
    زلیخاں کے آنسو بسکٹی چادر کی تہوں میں ڈوب گئے۔
    صفیہ سے تیرا ہاتھ مانگتی تو چراغاں ہو جاتا، وہ تیری دلہن بن جاتی۔ پورے گائوں میں بتاشے بانٹتی تو… تو…‘‘ زلیخاں کی آواز بھرا گئی۔ اس نے لاڈلے کے بال سنوارے اور اٹھ گئی۔
    ٭…٭…٭
    رات گہری ہوتی جارہی تھی۔ صفیہ نے اپنے پیروں کو دیکھا اور سوچا۔
    ’’جو زنجیر آج میرے پیروں میں بندھی ہے کوئی وقت کے پیروں میں بھی باندھ دے۔ میں اپنے راجے بھائی عبداللہ کے پاس دوچار گھڑیاں اور گذار لوں۔‘‘ صفیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے عبداللہ کے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کی اور کہا:
    ’’یہ کبھی نہ سوچنا کہ تُو نے آپا کو مار دیا ہے، بلکہ یہ سوچنا کہ غیرت نے بے غیرتی کو ماردیا۔ میں نے کوئی اچھا کام تھوڑی کیا ہے، روایت توڑی ہے… روایت! چاچے کے پاگل بیٹے سے بچپن کی منگنی توڑ کے ماسٹر جیسے سمجھ دار کے ساتھ بھاگ کر شادی کے خواب دیکھے، یہ تو گناہ ہے… سزا تو ملنی تھی۔‘‘
    عبداللہ خاموش تھا۔ صفیہ کی گود میں سر رکھے وہ کسی اور دنیا میں تھا جب کہ صفیہ کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔ چوبیس سال کی صفیہ اور صرف چوبیس منٹوں کی مہمان کی تھی دنیا میں… موت کے چوبیس منٹ بہت بھاری تھے۔ اسے یہ بھی دکھ تھا کہ اس کے جانے کے بعد اس کے بھائی کا کیا ہو گا۔
    اس لیے تو وہ عبداللہ سے کہہ رہی تھی کہ رخشی سے شادی کر لینا۔ عبداللہ کی آنکھوں سے آنسو نکلا اور محبت کرنے کے جرم میں کاری ہونے والی بہن کی گود میں گر گیا۔
    صفیہ نے محبت سے بوجھل اور موت کے غم سے ٹوٹتی آواز میں کہا تھا:
    ’’رخشی تیرا بہت خیال رکھے گی، کیا ہوا جو وہ لاڈلے کی بہن ہے۔ یہ تو قسمت کی بات ہے عبداللہ کہ میں تیرے سہرے کے گیت نہیں گاسکوں گی۔ تیرا ماتھا چوم کر سدا خوش رہ نہیں کہہ سکوں گی… پر میرے بعد اگر کوئی تجھے چاہتا ہے تو… تو…‘‘ صفیہ کی آواز بھرا گئی اور وہ سانس لے کر بولی:
    ’’وہی تو ہے، وہی جانتی ہے میرے بھائی کو کیا پسند ہے اور کیا ناپسند۔‘‘ مگر عبداللہ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔
    ’’میں آپا کو کیسے گولی مار سکتا تھا… کیسے؟ اپنی آپا کو اپنے سامنے کیسے تڑپتا دیکھ سکتا تھا۔‘‘
    عبداللہ نے سر اٹھا کر دیکھا آپا کی آنکھیں خشک تھیں۔ اس نے بے ساختہ صفیہ کا ہاتھ چوم لیا۔
    ’’آپا… مجھے معاف کردینا، تیرے ہاتھوں کا لگا پودا ہوں۔ تیرا طفیل… مجھے تو اماں ابا کا چہرہ تک یاد نہیں… تو ہی میرے لیے ماں ہے، تو ہی باپ۔ مگر یہ پنچایت کا فیصلہ ہے، مجھے معاف کردینا۔‘‘ صفیہ کمال ضبط سے مسکرا رہی ہے۔
    ’’آپا مجھے یاد ہے جب بہت چھوٹا سا تھا تو میرے لیے ہینڈ پمپ چلاتی اور میں شرارت سے ہاتھ پر پانی کی دھار دیکھتا رہتا… پانی کا فوارہ بنتا اور میں ہنستا۔ تو نے کبھی نہیں کہا بس کر عبداللہ میرا ہاتھ تھک گیا ہے۔‘‘ وہ اب بھی روتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
    صفیہ بھی اس ہینڈ پمپ کے فوارے کے چکر میں گم ہوگئی۔ رات کی سیاہی میں جانے کس نقطے میں صفیہ کھو گئی۔ کہنے لگی:
    ’’وہ کبھی تھکتی تو کہتی اور وہ یاد ہے جب میں توے کو چولہے سے اتارتی اور تم چمٹے کو الٹے توے پر لگا کر کہتے دیکھو آپا ستارے بن گئے ہیں۔‘‘ صفیہ نے آنکھیں بند کرلیں اور دکھ سے بولی:
    ’’اب وہ تو سارے ستارے آنسو بن گئے ہیں اور کیسے نہ بنتے جب ہم اصولوں کے خلاف چلیں گے، قانون قدرت کو للکاریں گے تو غضب تو ڈھایا جائے گا ناں۔‘‘
    عبداللہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
    ’’کون سا غضب… کیسا قانون… آپا…؟‘‘
    صفیہ خاموش رہی اور مسکرا دی
    ’’ابھی تو چھوٹا ہے بڑا ہو جائے گا تو تجھے بھی یقین آجائے گا تو نے جو کیا اچھا کیا۔ میرا مرجانا ہی اچھا ہے میری جان اور باتیں کرتے کرتے مگر اس کی سوچوں میں اٹھارہ سال کی صفیہ آگئی جس کو اپنی گڑیا سے بہت پیار تھا، جو اس کے دکھ سکھ کی ساتھی تھی۔ وہ چہرے پہ عشق کا نور اور آنکھوں میں محبوب کی محبت سے جدا ہونے کا دھڑکا گنگنایا کرتی تھی۔
    دل وج شوق ملن دا
    تیرے دی چڑھی
    کنڈے اتے مہر ماں وے میں کدوں دی کھڑی… کھڑی
    وہ گڑیا کو سینے سے لگائے مسلسل ایک ہی لفظ کی گردان کیے جارہی تھی۔
    دل وچ شوق ملن دا
    ہنیری عشق دی چڑھی
    عبداللہ نے شرارت سے آکر گڑیا جھپٹی اور ہنسنے لگا۔
    صفیہ نے جلدی سے اس کے ہاتھ سے گڑیا لینی چاہی تھی مگر عبداللہ کے لیے وہ بے جان سی گڑیا کے علاوہ کیا تھی بھلا؟ مگر صفیہ کی تو وہ سہیلی تھی۔
    ’’دیکھ اس کو کچھ مت کہنا یہ میری سہیلی ہے۔ میرے دکھ درد کی ساتھی…‘‘ صفیہ چیخ کر بولی۔
    چھوٹا سا عبداللہ رک گیا، پریشان ہوگیا اور آپا سے روہانسی انداز میں پوچھنے لگا۔
    ’’آپا تجھے کیا درد ہے، کبھی تو نے بتایا ہی نہیں۔‘‘ صفیہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
    ’’سارے درد بتانے والی تھوڑی ہوتے ہیں۔ جس کو سہے جائو۔ سہے جائو۔ ٹھیک تھوڑی ہوتے ہیں۔‘‘
    عبداللہ کے چہرے پر غضب ناک غصہ تھا۔
    ’’مجھے معلوم ہے…تجھے لاڈلے کی وجہ سے پریشانی رہتی ہوگی۔ دیکھنا میں اس پاگل سے تیری شادی نہیں ہونے دوں گا۔ کبھی بھی نہیں۔‘‘ اس نے انگلی اٹھا کر کہا۔معصوم نے اپنی دانست میں بہت عقل کی بات کی تھی۔
    صفیہ حیران رہ گئی۔ اس نے لاڈلے کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ تو عشق کے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اسے یاد ہی نہیں یہ روگ بھی تو اس کے جان کو لگا ہوا ہے۔
    ’’آپا میں تیری شادی لاڈلے سے نہیں ہونے دوں گا۔ دیکھنا تو دل چھوٹا نہ کر۔ دفع کر گڑیا کو۔ اس کو دکھ درد کہنے کا کیا فائدہ۔ لاڈلا؟ واقعی بڑی دوراندیشی کی باتیں کر رہا تھا۔ یہ کوئی صلاح تھوڑی دے سکتی ہے۔ دکھ اس سے کہہ جو بتائے… بتائے کہ درد کا علاج کیا ہے۔‘‘صفیہ کا دل بھر گیا۔
    ’’ہائے میرا بھائی اتنا سیانا ہوگیا ہے۔ ‘‘عبداللہ خوش ہوکر چوڑا ہوگیا۔
    صفیہ نے پیار سے عبداللہ کو گلے لگایا اور پاس بٹھا کر کہنے لگی:
    ’’مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں نے درد کہہ دیے تو یہ زیادہ نہ ہو جائیں۔




  • حاضری — کنیز نور علی

    حاضری — کنیز نور علی

    وہ آج بھی ویسا ہی کھانا بناتیں ہیں جیسے دس سال پہلے بنایا کرتیں تھیں، یا اس سے بھی پہلے بیس سال پہلے…… اس سے بھی پہلے، کتنا زمانہ بیت گیا پکاتے ،کھلاتے، دھوتے، مانجھتے…….. باتیں کرتے اور خاموش رہتے……… سوچتے ہوئے اور جھگڑتے ہوئے، کبھی اپنے اندر سے جھگڑا… کبھی باہر سے……..
    ہانڈی بھونتے ہوئے وہ غور کر رہی تھیں کہ آج بھی سب ویسا ہی بنتا ہے، لیکن کھانے والے بدلتے گئے ہیں….. آہ!
    دل سے ہوک کیوں اٹھتی ہے؟
    ماضی یاد کیوں آتا ہے؟
    آخر انسان کیوں ماضی سے ہی بھاگتا ہے
    اور…
    اسی میں پناہ بھی لیتا ہے…..
    آخر میرے اندر اتنے سوال کیوں ابھرتے ہیں؟
    یہ سب وہ سوچے چلی جاتیں اور کھانا تیار ہو جاتا تھا؟
    "آپ تو زیادہ اچھی بریانی بناتی ہیں، پھر میری بریانی کی ایسے ہی اتنی زیادہ تعریف کر رہی تھیں”….. عائشہ نے آج ان کے ہاتھ کی بریانی چکھی تھی۔
    "تم واقعی زیادہ اچھی بناتی ہو کیوں کہ وہ تم بناتی ہو۔” چائے کپ میں ڈالتے ہو ئے وہ اداسی سے مسکرائیں۔
    "یہ کیا بات ہوئی؟” اب وہ دونوں لانج میں آکر بیٹھ چکی تھیں۔ چائے پی جائے گی، چند باتیں ہوں گی….. اور پھر عائشہ کو اپنے گھر کے کام، بچوں کا ہوم ورک اور شوہر کے لیے رات کا کھانا یاد آئے گا اور وہ بھاگ جائے گی۔ نورالنسا یہ سب کچھ بھگتا کر یہاں بیٹھی تھیں۔ اب اگلی نسل کی عورتیں ذمہ داریاں سنبھال چکی تھیں….
    "بس! یہی بات ہے… دس سال بعد تم اور اچھی بریانی بنانے لگو گی، لیکن تمہیں اپنی پکائی ہوئی کوئی شے بھائے گی نہیں……. کیوں کہ تب اس سے زیادہ اہم چیزیں تمہاری منتظر ہوں گی۔” ان کا لہجہ سنجیدہ تھا۔
    "کیسی باتیں کرتی ہیں آپ؟” عائشہ نے سادگی سے پوچھا۔
    ” بس! ایسی ہی بات ہے عورت کے کام نہ اس کے ہاتھ کی پکی بریانی آتی ہے، نہ اپنے ہاتھوں پلی اولاد… سب ہاتھ سے نکل جاتا ہے….. وقت بھی۔” وہ اپنی سوچوں میں مگن تھیں۔
    ’’کیا وقت واقعی ظالم ہے؟‘‘ وہ اپنی ہی سوچوں میں الجھ گئیں، اور اس سے پہلے کہ وہ رُکتیں، عائشہ نے ہی ان کی بات کاٹ دی:
    "بچے ٹیوشن سے آنے والے ہوں گے، میں چلتی ہوں۔ مغرب بھی ہونے والی ہے۔”
    اور وہ بس سوچتی رہ گئیں………… وقت ظالم ہے یا انسان؟ جو خود اپنے آپ کو ضائع کر دیتا ہے۔
    "میرے بچے بھی ٹیوشن سے آیا کرتے تھے اور میں بھی بھاگی بھاگی پھرا کرتی تھی، لیکن یہ کہ مغرب بھی ہونے والی ہے، یہ خیال مجھے کیوں نہ آیا؟ اب ساری دھول بیٹھ چکی ہے، بچے دنیا کے راستوں پر نکل گئے ہیں۔ میں نے کیا کھویا کیا پایا؟ کوئی ایک لو تو ایسی لگانا چاہئے تھی۔ کوئی ایک شاخ جو ہر موسم میں ہری رہے، ایک رابطہ ایسا ہوتا جو ہر ربط اور تعلق پر حاوی ہوتا۔ پھر تنہائی یوں تو نہ کاٹتی، پچھتاوے یوں تو نہ گھیرتے، ان کے اندر اک بازگشت ہوئی…..
    "اب ہم دونوں رہ گئے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھی اور تنہا بھی۔” اپنے ہم سفر کو دیکھ دیکھ کر وہ سوچتی رہتیں…..
    "ایک یہ شخص ہے اور اس گھر کا خالی پن… بس یہی میری زندگی ہے….. اور…… اور بچوں کے فون ہیں….. جو آتے رہتے ہیں۔”
    ساری عمر کا حاصل یہ خاموشی تھی جو کسی سمجھوتے کی مانند ان دونوں کے درمیان در آئی تھی۔ انہیں کبھی بہت پرُسکون لگتی، بہت بھاتی یہ خاموشی، کہ کائنات کا ساز بھی تو یہی ہے اور کوئی لمحہ ایسا آتا کہ انہیں یہی خاموشی کانٹے کی طرح چبھتی…… کھٹکتی….. اور زخمی کر ڈالتی…
    "کوئی بھی ایسی بات نہیں جو ہم آپس میں کر سکیں؟ بس میرے اندر ہی یہ جوار بھاٹا ہے….. یہ تو بہت پرُسکون…. اپنے انداز سے جی رہا ہے……… یہ کیسا انسان ہے جس کے ساتھ میں نے ساری زندگی بتا دی؟ لیکن کبھی ہمیں چین نا ملا……… ساری زندگی اک آپا دھاپی، اک رولا سا تھا۔”
    اور اب؟ اب کیا ہوا ہے؟ سارے رولے، لڑائی جھگڑے، آپس میں ہی بھڑتے ہوئے اس گھر کی دہلیز پار کر گئے تھے۔ باہر نکل گئے، گھر جھگڑوں سے خالی ہو گیا، اور رشتوں سے بھی۔ لوگوں سے بھی۔ لوگوں کی سانسوں کے دم سے ہی تو گرماگرمی ہے۔ تیری میری اور یہ وہ ہے۔ وہ سب چلے گئے۔ جو بڑے تھے وہ عمر پوری کر کے اگلے جہان سدھار گئے…. جو چھوٹے ہیں وہ پردیس کے لیے نکل گئے۔
    در اصل زندگی کے گزرنے کا ادراک ہر روح کو دکھی کر دیتا ہے۔ بیٹیاں بیاہ دی جاتی ہیں اور ماں سے دور اپنے بکھیڑوں میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔
    بیٹے محنت کا پھاوڑا لے کر گھر سے نکلتے ہیں اور دن رات مشقت کرتے ہیں۔
    ماں گھر بیٹھی یاد کرتی رہتی ہے…. بیٹی بیاہ دی تو پرائی ہوئی، بیٹا کمائی میں لگا تو وہ بھی پرایا ہی سمجھو۔ اب ان کاموں کے بغیر چارا بھی تو کوئی نہیں۔ بھلا بیٹیاں گھر میں رکھی جا سکتی ہیں؟ مچھلی جل کے بغیر رہی ہے کبھی؟ اور بیٹے…….. کمانے نہیں جائیں گے تو گہنے کہاں سے آئیں گے؟ بہو کیسے بیاہ کر لائی جائے گی……… عورت کے گہنے مرد کو مشقت تک لے جاتے ہیں، اور مرد کی مشقت عورت کو گھر گرہستی تک کھینچ لاتی ہے۔
    یوں زندگی گزر جاتی ہے یادیں، خسارے پچھتاوے، اداسی آخری عمر کے ساتھی ہیں……….
    نور النسا بھی اب اس عمر میں ماضی کے سفر پر نکلا کرتیں اور ان کو سمجھ ہی نہ آتی تھی کہ وہ کیا کریں؟ نمازیں پوری کرتیں وظیفے پڑہتیں….. پھر؟ پھر وہی تنہائیاں، وہی یادیں۔
    انہیں وہ وقت یاد آتا جب ان کاموں کے لیے ان کے پاس فرصت نہیں تھی۔ ہک ہا!
    خدا بھی تب یاد آیا جب بندوں نے جان چھڑا لی۔ "تنہائی سے گھبرا کر میں مصلے پر آبیٹھی
    "واہ نور النسا! کیا سودا کیا ہے تم نے بھی، تم جیسی بیبیوں کو ساری عمر گھاٹا ہی ملتا ہے۔ تم بندوں میں گھری خالق کو بھول جاتی ہو اور پھر شکوے کرتی ہو۔”
    نور النسا کا اندر اب بہت بولتا تھا۔ انھیں حیرانی ہوتی کہ اب یہ کون سا وقت ہے بولنے کا؟ ساری عمر اسے دبائے رکھا، باہر کے شور میں اس کی سنی ہی نہیں، اب اور کوئی بچا نہیں تو اسی سے یاری گانٹھ لی ہے میں نے…
    بیٹیوں کے فون آتے، بیٹے صبح شام بات کرتے۔ اب تو فاصلے ہی سمٹ گئے ہیں۔ دور بیٹھے بچوں کو وہ سامنے سکرین پر دیکھ لیتیں۔ دن رات وہ اپنی حاضری لگواتے تھے۔ ماں سے دور ہیں تو کیا ہوا، رابطہ دوری کو گھٹا دیتا ہے۔
    ابھی بھی سب سے چھوٹی بیٹی نائلہ کا فون آیا تھا، وہ امریکا ہوتی ہے۔ پہلے اپنے وقت کے حساب سے فون کیا کرتی تھی تو ماں سے خوب ڈانٹ کھاتی۔ اب ان کے حساب سے کرتی ہے۔
    "میں نے سوچا حاضری لگوا لوں، آج سب سے پہلے میں نے ہی فون کیا ہے ناں؟” وہ ہنس رہی تھی۔ یہاں صبح کے دس بجے تھے، وہاں اس وقت تو رات ہوگی…”
    نور النسا کے اندر سے ایک آہ نکلی… حاضری! ان کا دل ڈوب کر ابھرا….
    وہ دنیاوی لحاظ سے کامیاب گردانی جاتی تھیں۔ ساری اولاد ہی ٹھکانے لگ گئی۔ تسبیح پھرولتی وہ کھو جاتیں۔
    "میں کیسی کیسی پریشانیاں لیے پھرتی تھی؟ بیٹیوں کی شادیاں، بیٹوں کی نوکریاں سارا کچھ ہی تو سدھر گیا۔ ایک یہی کام ہے جو…… جو…… میرے کرنے میں نہ آیا …میری تو حاضری ہی پوری نہیں ہے” ان کی آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ جاتی۔
    "کیوں ایسا گھاٹے کا سودا کیا میں نے؟”
    وہ خود اپنی ندامت پر حیران ہوتیں کہ ایسا خیال کہاں سے آلپکا انہیں۔ یوں ہی اچانک….. لیکن اچانک تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جب سے عائشہ سامنے والے گھر میں آئی تھی، نئے کرائے دار…… انہیں بھی ایک سہارا مل گیا۔ آنا جانا ہونے لگا؟ عائشہ جب بھی آتی، اس کی باتوں کے اندر ہی کہیں ٹوٹے جڑے ہوتے
    "بچوں کے پیپرز ہو رہے ہیں… بہت بزی ہوں….. عصرہونے والی ہے”……. کبھی کہتی:
    "اچانک مہمان آگئے تھے ظہر پڑھ رہی تھی میں۔” میں ظہر پڑھ رہی تھی کہ اچانک مہمان آگئے۔
    کبھی اسے بیٹھے بیٹھائے یاد آجاتا:
    "عشا ادا کرنے کے بعد میں کپڑے استری کر رہی تھی کہ امی کا فون آگیا۔” اس کی ساری گفتگو کے دوران ان ٹوٹوں میں وہ الجھ جاتیں۔ عائشہ تو اپنی ساری گفتگو سمیت اپنے گھر لوٹ جاتی لیکن اس کی فجر، ظہر، عصر ان کے ارد گرد کہیں بازگشت کرنے لگتیں۔
    "عائشہ جیسی ہی میں تھی، اور مجھ جیسی ہی عائشہ ہے۔ وہی گھریلو عورت وہی روایتی ذمہ داریاں…. پھر کچھ تو فرق ہے نا….. میں ساری عمر اک بھاگم بھاگ میں ہی رہی۔ کام کام کام!
    ’’یہ بھی کرنا ہے، وہ بھی باقی ہے …..
    اتنا کر لیا ہے….. یہ ہو جائے گا……….. تو وہ کرنا ہے‘‘ کام آگے آگے تھے اور میں ان کے پیچھے ……..
    عائشہ بھی ایسی ہی ہے۔ میری اپنی بیٹیاں بھی دن رات انہی بکھیڑوں میں الجھی رہتی ہوں گی، بہویں بھی۔ لیکن یہ میری روٹین میں عائشہ کی طرح فجر ظہر عصر کیوں نہ تھیں؟ کاش! کبھی زندگی کی رنگا رنگی میں میں خالق کو نہ بھولی ہوتی۔ بچے گھر، شوہر، سسرال، ذمہ داریاں، رشتہ داریاں، محلے داریاں، دوستیاں…….. یہی رونا رہا ساری عمر…… کاش! اے کاش! اس سب میں میں نے اپنی حاضری تو یقینی بنائی ہوتی۔ بس اک حاضری….. ایک سجدہ جو نہ چھوٹا ہوتا۔ تو آج مجھے یہ ایسا جان لیوا پچھتاوا نہ ہوتا…….. سارے دھندے نپٹاتی رہی، بس اک مصلی بچھانا ہی دوبھر رہا میرے لیے۔ کیسا سودا کیا میں نے؟” وہ دن رات اسی سوچ میں گھلتی جاتیں۔

    ٭…٭…٭




  • سرہانے کا سانپ — شاذیہ خان

    صبح اُٹھ کر اس نے مُندی مُندی آنکھوں سے موبائل اُٹھایا اور Inboxمیں آئے ہوئے بہت سے میسجز کو چھوڑ کر احسن کا میسج پڑھا…
    ’’پیاری ربیعہ خوش رہو!
    آج کے بعد احسن نام کا کوئی شخص تمہاری زندگی میں نہیں رہے گا… بچپن سے اب تکبہت چاہا ہے میں نے تمہیں ۔ تمہارے سوا کبھی کسی کے بارے میں نہیں سوچا… اور تم نے ہی مجھے ٹھکرا دیا… یہ میں برداشت نہ کر پایا۔ میں جلد تمہاری دنیا سے دور چلا جائوں گا… خوش رہو… امید تو نہیں ہے کہ اللہ مجھے اس بات پر معاف کرے گا لیکن تم اللہ سیمیرے اس گناہ کی معافی ضرور طلب کرنا پلیز ربیعہ یہ میری آخری خواہش ہے۔
    احسن
    ربیعہ کی آنکھیں اس مسیج پر پوری طرح کھل گئیں۔یہ کیا کیا بے وقوف تم نے؟ وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی اور فون پر کال ملائی۔ دوسری طرف سے مطلوبہ نمبر بند آنے کی نوید سنائی دے رہی تھی…اس نے کافی دیر ٹرائی کیا، پھر خالا جی کے گھر کا نمبر ملایا جو کسی نے اٹینڈ نہ کیا۔ اس پر ربیعہ ہڑبڑا کر دروازے کی سمت بھاگی۔ جیسے ہی دروازہ کھولا دروازے پر اماں بوکھلائی ہوئی کھڑی تھیں۔
    ’’ربیعہ احسن نے نیند کی گولیاں کھالیں… ابھی باجی کا فون آیا تھا جلدی سے گاڑی نکالو۔‘‘ ان کے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔
    ’’لیکن اماں کیوں کیا احسن نے ایسا…؟‘‘اس نے بھی بوکھلا کر پوچھا۔
    ’’یہ تو پوچھ رہی ہے؟ دیکھ ربیعہ اگر میرے احسن کو کچھ ہوا تو میں تجھے کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘‘انہوں نے انگلی اُٹھا کر اُسے وارن کیا۔ اماں کی آنکھوں میں اس وقت وحشت ناچ رہی تھی… اور وہ اندر ہی اندر احسن کے لیے دعائیں کررہی تھی۔’’یا میرے مالک !احسن کو زندگی دے دے۔‘‘





    معمولی سی شکل صورت والا احسن ربیعہ کا خالہ زاد تھا۔ بچپن سے اس کے لیے بہت جذباتی اور بہت خیال رکھنے والا لیکن وہ اس کی حد سے زیادہ پروا کرنے کی وجہ سے اکثر چڑ جاتی… بے تحاشا حسین اور خوب صورت ربیعہ نے کبھی احسن کو اپنے ایک اچھے دوست سے زیادہ اہمیت نہ دی تھی… لیکن وہ اچھے دوست سے ایک خاص دوست بننے کی ہرممکن کوشش کرتا رہا۔ ہر جگہ جہاں ربیعہ کو اس کی مدد کی ضرورت ہوتی وہ بنا کہے پہنچ جاتا اور وہ حیران رہ جاتی کہ اس کو کیسے خبر ہوئی؟ وہ ربیعہ کے لیے اپنے دل میں جیسے بھی جذبات رکھے لیکن ربیعہ کے دل میں اس کے لیے کسی خاص جگہ کی گنجائش نہ تھی۔ وہ چاہ کر بھی اس سے محبت نہ کر پائی… اپنے آگے پیچھے پھرتے احسن سے اُسے چڑ ہونے لگی۔ خوامخوا ہر بات میں ٹانگ اڑاتا، اب اکثر وہ اسے چڑانے لگاتھا۔ اس نے اسی بات کا اظہار اپنی ماں سے بھی کردیا تو وہ ہنس پڑیں۔
    ’’پگلی ہم دونوں بہنیںتیرے اور اس کے بارے میں بہت کچھ سوچے بیٹھے ہیں۔ تیری خالہ تو تیرے لیے رشتہ بھی دے چکی ہیں۔‘‘انہوں نے انکشاف کیا۔
    ’’کیا سوچے بیٹھی ہیں اماں؟‘‘ اس نے حیرانی سے آنکھیں پھاڑتے ہوئے پوچھا۔
    ’’یہی کہ ہم دونوں بہنیں تم دونوں کی وجہ سے ایک نئے رشتے میں بندھ جائیں۔‘‘
    ’’No Never اماں کبھی سوچئے گا بھی مت کہ میں آپ کی بات پر سر جھکا دوں گی۔‘‘
    ’’کیوں کیا برائی ہے احسن میں؟‘‘انہیں حیرانی ہوئی۔
    ’’برائی تو کچھ نہیں، بس وہ مجھے پسند نہیں اور آپ کو پتا ہے بچپن سے ایک چیز اگر مجھے پسند نہیں تو کوئی قوت اس کے لیے مجھے راضی نہیں کرسکتی۔‘‘
    ’’احسن کوئی چیز نہیں ہے ربیعہ، ایک جیتا جاگتا انسان ہے اور بچپن سے تم دونوں ایک ساتھ پلے بڑھے ہو، ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے ہو۔‘‘انہوں نے سمجھایا۔
    ’’یہی تو مسئلہ ہے اماں کہ میں اُسے اچھی طرح سمجھتی ہوں، مجھے شوہر چاہیے ایک Puppyنہیں جو دم ہلائے میرے آگے پیچھے پھرتا رہے، میری ہر غلطی کو صحیح کہتا ہوا ہر بات مانتا ہوا… میں نے شوہر کے لیے بالکل الگ سا تصور بنایا ہوا ہے۔‘‘وہ چڑ گئی ان کی بات پر۔
    ’’ جب وہ شوہر بنے گا تو اس میں ساری خصوصیات شوہروں والی آجائیں گی یہ تو دیکھو کہ وہ کتنا چاہتا ہے تمہیں۔‘‘انہوں نے پیار سے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    ’’اماں آپ خالہ جی کو منع کردیں، میں نے نہیں کرنی احسن سے شادی…‘‘اس نے منہ بنایا۔
    ’’دیکھو ربیعہ جذباتی فیصلہ مت کرو… تھوڑا ٹائم لے لو سوچو اس سے بات کر لو پھر…‘‘
    ’’اماں میں نے کہہ دیا نا میرا فیصلہ تب بھی یہی ہوگا اور اب بھی یہی ہے، آپ صاف صاف خالہ جی کو منع کردیں کہ میں ان کی یہ خواہش پوری نہیں کرسکتی۔‘‘اس نے اماں کی بات کاٹ دی۔
    ’’تم بہت بڑی غلطی کررہی ہو ربیعہ اتنا چاہنے والا لڑکا قسمت والوں کو ملتا ہے۔‘‘وہ تاسف سے بولیں۔
    ’’ہاں تو ملنے دیں، کسی اور کی قسمت سنورنے دیں، جو میری قسمت میں ہوگا مجھے مل جائے گا۔‘‘اس نے تنفر سے جواب دیا اور وہ اُسے دیکھ کر رہ گئیں۔
    یہ کل کی بات تھی کہ کس دل سے انہوں نے بہن کو انکار کیا اور آج یہ خبر آگئی۔
    وہ دونوں ہسپتال پہنچیں تو خالہ کوریڈور میں ہی کھڑی رو رہی تھیں۔ وہ دونوں ان کے پاس آگئیں۔
    ’’دیکھ لیا تم نے اس انکار کا انجام میرا بیٹا آج موت کی کش مکش میں ہے۔… اگر اس کو کچھ ہوگیا تو ربیعہ یاد رکھنا ساری عمر میری بددعائوں کے سائے میں رہو گی۔‘‘ ان کے لہجے کی آگ ربیعہ کو جلا گئی۔ وہ خالہ جی جو کبھی دعائیں دیتے نہیں تھکتی تھیں اب منہ بھر بھر کر کوسنے دے رہی تھیں۔
    ’’خالہ جی کیسا ہے وہ؟‘‘ اب اُسے واقعی دکھ ہورہا تھا۔
    ’’مرنے کے قریب ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ چوبیسگھنٹے اہم ہیں اس کے لیے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ بہت کرب سے رو پڑیں اور پھر اس نے چوبیسگھنٹے صرف ایک دعا مانگنے میں وقف کردیئے کہ’’ اے میرے مالک اسے بچا لے۔‘‘ نہ جانے اللہ نے کہاں سے اس کے دل میں احسن کے لیے اتنی اپنائیت بھر دی تھی۔ اگلے دن چوبیسگھنٹے پورے ہوئے تو احسن نے آنکھیں کھول دیں اور اس نے بھی سکون کی سانس لی کہ ایک بے گناہ کا خون اس کے سرپر نہیں۔ورنہ وہ ساری عمر خالہ جی اور اپنے گھر والوں سے نظریں نہیں ملا سکتی تھی۔
    ان دونوں کی منگنی اگلے مہینے ہی طے پا گئی۔ منگنی کی رات احسن بہت خوش نظر آرہا تھا اور یہ خوشی اس کے چہرے پر بھی پوری طرح نظر آرہی تھی۔ ربیعہ بھی خوش تھی لیکن کہیں اندر ایک گہری سی اُداسی بھی تھی۔ شاید اس کے ذہن میں اپنے شوہر کے لیے جو خاکہ تھا احسن اس پر پورا نہیں اترتا تھا لیکن اس کی خودکشی نے ربیعہ کے دل میں کہیں نہ کہیں ایک نرم گوشہسا پیدا کردیا تھا کہ ایک شخص جو آپ کے لیے اپنی زندگی کو بھی خاطر میں نہیں لارہا اور زندگی جیسی چیز اس نے کتنی آسانی سے اس پر نثار کردی، کچھ تو ہے اس کی محبت میں… اور پھر اس نے بھی اپنی پوری زندگی اسی ایک شخص کے لیے وقف کرنے اور لُٹا نے کا فیصلہ کرلیا۔
    شادی کی ساری تیاریاں ان دونوں نے مل کر کیں۔ ساری چیزیں ربیعہ کی پسند سے خریدی گئیں اور بڑی دھوم دھام سے ربیعہ اس کی زندگی میں چلی آئی۔ اس کی خوشی چھپائے نہیں چُھپ رہی تھی۔ خالہ جی ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر ان کے لیے دعائیں کررہی تھیں۔
    شوہر بننے کے بعد جیسے وہ اس کے بارے میں اور زیادہ possiveہوگیا تھا۔ربیعہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتا، اُسے کیا کھانا ہے؟ کیا پہننا ہے؟ کب سونا ہے؟ یہ ساری تفصیلات اُس سے زیادہ احسن کو پتا ہوتیں۔ آفس جانے سے پہلے ربیعہ کو کبھی نہیں اٹھاتا بلکہ اکثر اس کا ناشتہ بنا کر بھی رکھ جاتا۔ وہ روز بہت شرمندہ شرمندہ سی اٹھتی اور خود کو بُرا بھلا کہتی کہ یار وہ تمہارا شوہر ہے اس کو تمہاری توجہ چاہیے، ٹائم چاہیے۔ صُبح اٹھنا اور اٹھ کر ناشتہ بنانا اس کو کبھی پسند نہ تھا لیکن آہستہ آہستہ اس نے احسن کے لیے اُٹھنا شروع کردیا۔ اس کی پسند کا ناشتہ بناتی اور دوپہر کے کھانے کے لیے بھی پوچھتی، پہلے تو وہ دوپہر کا کھانا آفس سے ہی منگوالیتا تھا لیکن اب وہ خود لنچ بکس بنا کر اُسے بھیجتی۔ جتنی محبت وہ اس سے کرتا تھا اس کی تھوڑی بہت مقدار تو وہ بھی اس کو لوٹا سکتی تھی۔ اکثر وہ رات کو باہر ہی کھانا کھاتے۔ گھر میں ایک کام والی آتی تھی۔ جو کچن اور صفائی کے کام کرتی اور ربیعہ کو اس سے کافی سہولت تھی۔
    خالہ اس کی شادی کے بعد بڑے بھائی کے پاس شفٹ ہوگئیں تھیں تاکہ ان دونوں کے درمیان under standingپیدا ہو جائے اور ان کی سٹریٹیجی کامیاب بھی ہوگئی۔ دونوں کے درمیان ایک دوسرے کی محبت اور خیال پختہ ہوتا جارہا تھا۔ محبت ’’خیال‘‘ کا نام ہی تو ہے کسی کا بے تحاشا خیال رکھنا، اس کے اُٹھنے، بیٹھنے، چلنے پھرنے، کھانے پینے یا اس کے ناراض ہونے پر دُکھی ہو جانا اور منانے کی ہرممکن کوشش کرنا اس کی چھوٹی سی بیپروائی کو بھی بہت زیادہ محسوس کرنا یہی تو محبت کی روح ہے۔
    وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن گئے تھے اب کبھی کبھی ربیعہ کو ہنسی آتی کہ کس طرح احسن کی جو باتیں اُسے Irretateکرتی تھیں اور آج اس رشتے نے انہی باتوں کو محبت کا روپ دے دیا۔ اب اگر ایک لمحہ بھی وہ اُس کی کسی بات کو بھول جاتا تھا تو وہ دُکھی ہو جاتی کہ اس نے خیال کیوں نہ کیا۔ جیسے آج دونوں بازار گئے اور دکان دکان پھرتے اُسے ایک انگوٹھی بہت پسند آئی۔ پسند کے رنگ ربیعہ کے آنکھوں میں اپنی پوری قوت سے جھلملائے جسے احسن نے بھی پوری طرح محسوس کرلیا لیکن مہینے کے آخری دنوں میں چالیس ہزار کی رقم نے اسے ایک لمحہ سوچنے پر مجبور کردیا۔ بہت بے دلی سے ربیعہ نے اس کی طرف دیکھا اور اس کی کش مکش کو محسوس کرتے ہوئے انگوٹھی واپس رکھ دی۔ دل میں تھوڑا غبار سا آگیا۔گھر آکر بھی وہ تھوڑا اُکھڑی اُکھڑی سی تھی۔ جسے وہ شدت سے محسوس کررہا تھا… کھانا بھی ربیعہ نے بے دلی سے کھایا۔ کمرے میں آتے ہی اس نے کپڑے چینج کیے اور ڈریسنگ پر بیٹھی منہ ہاتھ دھو کر لوشن لگا رہی تھی کہ وہ پاس ہی آکر کھڑا ہوگیا۔اور بہت غور سے اس کو دیکھتا رہا۔
    ’’کیا ہوا ناراض ہو؟‘‘ربیعہ کو اپنی طرف گھماتے ہوئے اُس نے پوچھا۔
    ’’نہیں ناراضگی کیسی؟‘‘ہاتھ میں موجود لوشن کہنیوں پر ملتے ہوئے وہ اپنے لہجے کے روکھے پن پر قابو نہ پاسکی۔
    ’’کیوں کہ تمہیں تمہاری پسند کی چیز نہیں لے کر دی۔‘‘وہ نہ جانے کیا پوچھنا چاہ رہا تھا۔
    ’’اتنا سب کچھ تو لے دیا ایک چیز رہ گئی تو کوئی بات نہیں‘‘ اس نے بے پروائی ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی۔
    ’’بات کیسے نہیں تمہاری آنکھوں میں اس انگوٹھی کو دیکھ کر جو چمک ابھری تھی اتنا تو مجھے دیکھ کر بھی نہیں آتی۔‘‘ اس نے مزاحیہ انداز میں کہا۔
    ’’Very funny احسن زیادہ بکواس نہ کرو۔ ایسا کچھ نہیں تھا۔‘‘اس نے آنکھیں نکالیں۔
    ’’ایسا تھا میں تمہیں جانتا ہوں۔‘‘وہ بہت پختہ تھا اپنی بات میں اسی لیے پُریقین انداز میں بولا۔
    ’’کیا جانتے ہو؟‘‘اُس نے اسی انداز میں پوچھا۔
    ’’یہی کہ اول تو تمہیں کوئی چیز پسند نہیں آتی اور اگر آجائے تو تمہارے دل سے مشکل سے نکلتی ہے۔‘‘
    ’’تمہاری خام خیالی ہے، مجھے تو یاد بھی نہیں۔‘‘بے پروائی سے کندھے اُچکا کر بولی۔
    ’’ادھر دیکھو میری طرف۔‘‘ اس نے ربیعہ کا چہرہ اپنی طرف گھمایا تو ربیعہ نے ایک نظر ڈال کر اپنی نظریں جھکا لیں۔
    ‘‘جھوٹ بول رہی ہونا، جب ہی نظریں نہیں ملا رہیں۔‘‘وہ بہت پیار سے بولا۔
    اففف! احسن تمہاری آنکھوں میں detactor لگے ہوئے ہیں، کتنی آسانی سے سکین کرلیتے ہو بندے کے اندر اُتر کر کوئی جھوٹ بول ہی نہیں سکتا۔‘‘وہ ہتھیار ڈالنے والے انداز میں بولی۔
    ’’اچھا! جلدی سے آنکھیں بند کرو۔‘‘وہ زور دے کر بولا۔
    ’’کیوں؟‘‘اس نے حیرانی سے پوچھا۔
    ’’یار بند کرو آنکھیں پلیز!‘‘اس نے التجا کی۔




  • چڑیا جیسی عورت — روحی طاہر

    چڑیا جیسی عورت — روحی طاہر

    عام سے گھر کے عام سے کمرے میں دوپلنگ ساتھ ساتھ بچھے ہوئے تھے۔ ایک پر چھے سالہ گڈی اور پانچ سالہ ننھی لیٹی ہوئی تھیں۔ پپو امی کے ساتھ چپک کر چھوٹے چھوٹے سوال کئے جا رہا تھا۔ چھوٹی پنگھوڑے پر سوئی ہوئی تھی۔ صبح کا وقت تھا۔ ننھی پکی نیند مگر گڈی آنکھ موندے پڑی تھی۔ سرکاری گھرکے اونچے چھتوں والے کمرے میں روشن دان تھا اور اُس روشن دان میں چڑیوں نے گھونسلا بنا یا ہوا تھا۔ یہ چڑیا نما فاختہ صبح سویرے اُٹھا نے آجاتی تھیں۔ اپنی بولی میں نجانے کیا پوچھ رہی تھیں ایک دوسرے سے۔ پپونے اپنی مدہم سی آواز میں پوچھا:
    ’’امی یہ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ امی کی ایک ہی حسرت ہوتی: ’’پپو یہ تیری بیویاں ہیں اور تجھ سے خرچہ مانگ رہی ہیں۔‘‘
    امی سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر تھیں۔ سیدھا سادہ زمانہ سیدھے اور حلال کھانے والے لوگ صبح آٹھ بجے سے جو شام تک امی کو فرصت نہیں تھی۔ بچوں کے ساتھ یہی صبح کے چند لمحے یا پھر رات کے چند پل پپو لاڈلا کیوں کہ اکلوتا لڑکا تھا ویسے بھی کہاوت ہے ’’ایک بیٹے کی ماں اندھی۔‘‘ اسے بیٹے کے علاوہ کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ صبح کے یہ کچھ لمحات امی پپو کے ساتھ گزارہ کرتی تھیںاس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا جواب، اس کے اندر سے اُٹھتے ہوئے سوال کی اٹھان پر خوش ہونے والی امی کو گڈی اور ننھی سے بھی پیار تھا مگر ننھی کی کم زور صحت اور بڑی آنکھیں انہیں ہمیشہ تشویش میں مبتلا رکھتی تھیں۔ ہاں بینا ابھی چھوٹی تھی آیا کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اپنا پورا وقت لے جاتی تھی۔ گڈی بڑی تھی اور چھے سالہ گڈی سے امی کو بڑی اُمید تھی کہ وہ ان کی جاں نشین بنے گی۔ انہی کی طرح سے تمام ذمہ داریاں اُٹھائے گی۔ ابا کی زندگی لااُبالی تھی وہ بھی اپنی ماں کے اکلوتے تھے اور اکلوتوں والی تمام بیماریاں ان میں موجود تھیں۔ وکیل ہوکر بھی وہ امی کی عدالت میں اپنا مقدمہ ہار جاتے تھے اس لئے اپنی اماں کے مرنے کے بعد انہوں نے بیوی میں ماں ڈھونڈنا شروع کر دی تھی۔ تقسیم کے خرابات سے متاثر یہ کنبہ صرف اماں کی ذمہ داری تھی۔ والد اور بڑے بہنوئی بٹوارے میں پیارے ہوگئے تھے اور ان دونوں خاندانوں کی واحد کفیل امی بن کر رہ گئی تھیں، تیسرا خاندان ان کا اپنا انہوں نے کزن سے شادی کی کہ وہ دکھ ہٹائیں گی اور ان کا ساتھ دیں گے۔ مگر اکلوتے ابا نے امی جوکہ ان سے ایک سال بڑی تھیں میں اپنی مرحوم والدہ ڈھونڈلی اور ایک تیسرا خاندان بھی امی کے حوالے کر دیا۔ گڈی کو امی بالکل روشن دان والی چڑیا نظر آتی تھیں۔ ہر وقت منہ میں دانا لئے کسی نہ کسی کے منہ میں ڈالنے کو تیار۔
    نماز کے وقت آنکھ امی کی لسّی بلونے کی آواز سے ہوتی تھی۔ گھر میں امی نے بھینس پالی ہوئی تھی گو کہ نوکر بھینس کا خیال رکھتے تھے مگر نوکر سرکاری اور بھینس گھر کی، اکثر کوتاہی ہوجاتی اور رات کے وقت گڈی کو بھوکی بھینس کو چرانے جانا پڑتا۔ صبح صبح ہسپتال کا ساراعملہ لسی کی لالچ میں آجاتا اور اماں ڈول بھر بھر کے انہیں دیے جاتیں۔ یہ بھی ان کا صدقہ ہوتا۔ چڑیا اپنے پروں کے نیچے بچوں کو بچانے کے لئے خدا سے دعا کئے جاتی اور صدقہ دیے جاتی۔ نانی کا گھر قریب تھا، صُبح صُبح خالص دودھ دینا گڈی کی ذمہ داری تھی کیوں کہ وہاں بھی چڑیا کے کچھ بچے رہتے تھے، بیوہ بہن کے بچے، نانی کے بچے۔ پھر تمام دن امی ہسپتال اور گھر کے درمیان گھن چکربنی رہتیں۔ چھوٹا شہر، صحت کی سہولتیں کم اور ہسپتال، ایک تمام دن کبھی زچہ بچہ، کبھی کھانسی نزلہ کی دوائی لکھ کر دیتی ہوئی امی۔ گڈی اسکول سے آکر چپکے سے امی کے ہسپتال چلی جاتی، کھڑکی سے لگی دیکھتی رہتی کب اماں کیا کرتی ہیں؟ اماںوہ پرچیاں لکھتیں، عورتوں کے دکھ درد سنتیں اور دلاسے دیتیں امی اسے فرشتہ سی لگتیں۔ کبھی کبھی اسے یہ بھی دکھائی دیتا کہ امی اپنا بڑا سا پرس کھول کر چند نوٹ نکال کر بھی کسی غریب مریض کو دیتیںکہ دودھ پی لینا۔ گڈی کو عجیب سا لگتا کہ دودھ سے کیا ہوگا۔ امی اسے دوائی کیوں نہیں دیتیںیا پھل کھانے کا کیوں کہتی ہیں؟ مگر وہ چڑیا جیسی عورت ہر ایک کا پیٹ بھرنے کی فکر میں رہتی تھی خود ان کی خوراک اتنی سادہ تھی کہ اس سادگی کی عادت بچوں کو بھی ہوگئی۔ یاد ہے وہ بچوں کو چوری بنا کر ایک ایک کے منہ میں نوالادیتی تھیں، خود لسی سے روٹی کھا کر رات کو ابا کے لئے دال چاول یا کوئی اور کھانا بنا کر سو جاتی تھیں۔ گڈی چولہے کے پاس بیٹھی ہوم ورک کرتی ابا کا انتظار کئے جاتی تھی اور جب ابا گھر اتے تو ان کو کھانا دینے کا کام گڈی کے سپرد تھا۔ رات کو ابا اکثر اپنے دفتر سے آتے تھے مگر کام تو تھا ان کے پاس مگر اماں کے لئے پیسے نہیں تھے۔ وہ جب بھی فیس لیتے اس کی فیس امی سے چھپاجاتے اس کے لئے تین خاندان والی عورت کو رات کو دیر تک کام کرنا پڑتا تھا۔ کسی قریب کے گاوُں میں بچے کی پیدائش پر جاتیں، کبھی کسی گاؤں میں اپنی چونچ میں فیس کے ساتھ اصلی گھی کا کنستر اور آموں یا کھجوروں کے ٹوکرے بھی ٹانگوں پر لدے ہوتے۔ ایک بار کنستر گر گیا اور سارا گھی زمین پر گر گیا۔ امی نے توڑی مل کے گھی کو بھینس کے چارے کے لئے رکھ لیا، بچے ساراسال گھی کانشان دیکھتے رہے اور بھینس اصلی گھی والا چارہ کھاتی رہی۔
    امی کی دوسرے شہر تبدیلی ہوگئی، ابا پرانے شہر رہ گئے اور وہ بچوں کی زندگی میں صرف عید تک محدودہوگئے۔ اماں نے تین خاندانوں کے بچے پال لئے۔ ننھی حسن میںیکتاتھی جو بڑی بڑی آنکھیں جو بچپن میں ترس کھانے پر مجبور کرتی تھیں دو آتشہ ہوگئیں۔ دوانشہ شراب ہوگیں۔ اماں نے بیاہ دیا۔ حسبِ معمول ابا نے بہت نخروں سے شرکت کی کہ کہیں اکلوتے کو ذمہ داری کا احساس نہ ہو۔ اس دن اماں نے اپنا زیور نکال کر ننھی کے آگے رکھ دیا۔ حسن کو اماں کے زیور نے چار چاند لگا دئیے دنیا نے اتنی خوب صورت دلہن کہا ںدیکھی تھی؟ جلنے والوں نے سولہ سالہ دلہن کی زندگی میں انگارے
    بھر دیئے اورچڑیا نے بے چین ہوکر یہ داغ لے لیا۔
    چہکنا بند ہوگئی۔ گڈی کواماں میں اپنا آپ نظر آتا تھا حالاں کہ اماں کہا کرتی تھیں کہ تو بالکل باپ جیسی ہے۔ گڈی کی شادی ہوگئی۔ شادی کے بعد اس نے بھی نوکری کرلی اور اپنی زندگی کے رنگ میں مصروف ہوگئی۔ اماں نے سارے ارمان نکال کر بیناکوبیاہا، اسے سسرال سے وہ لاڈ نہ ملا تو دوبارہ سے اماں کے گھر واپس آگئی، ایک داغ اور امی کے لئے۔ پھر پپو کوبیاہا لاڈلا اور اکلوتا ہونے نے اس کے پاس کوئی راستہ نہیں چھوڑا کہ وہ امی کو خوشی دیتا امی بیمار رہنا شروع ہوگئیں گڈی اپنی بھابھی سے مایوس ہوکر امی کو اپنے پاس لے آئی۔ زندگی نے گڈی کوبھی چڑیا بنا دیا تھا، چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ اس نے امی کو بھی اپنے پروں میں چھپالیا۔ آخری داغ اس چڑیا کے دل پر اس وقت لگا جب ننھی ایک دن اچانک سات بچے چھوڑکر اﷲکوپیاری ہوگئی۔ چڑیا چُپ ہو گئی۔ اس کے بعد چڑیا کو بولتے کسی نے نہیں سنا، بس گڈی تھی جس سے وہ بات کیا کرتی تھیں دل کی۔ ایک دن گڈی ان کو دوائی کھلا رہی تھی تین چار گولیاں دیکھ کر بولیں:
    ’’ائے ساریاں میں کھانیا ں نے؟‘‘ گڈی نے کہا:
    ’’آپ تو سب کو دواکھلاتی تھیں یہ شائد اس کی بددعا لگ گئی۔‘‘
    اماں مسکرا کر بولیں۔ ’’تو مجھے اپنے جیسی لگتی ہے گڈی کے لئے یہ ایک اعزاز تھا۔ اس کی آئیڈیل امی جوکہ ہمیشہ ان کی پڑھنے اور لکھنے کی عادت کے باعث اسے ابا سے تشبیہ دیتی تھیں۔ اسے اپنے جیسی کہہ رہی تھیں۔ اس نے ماں کے ہاتھ اور ماتھا چوم لیا، کافی دیران سے بیٹھ کر باتیں کرتی رہی اگلے دن وہ دفتر سے جلدی اُٹھ گئی کہ گھر کچھ پھل لیتی ہوئی جاؤ گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے۔ امی کی وجہ سے گھر میں سب لوگ ان سے ملنے آتے تھے پھل لے کر وہ گھر پہنچی تو کہرام برپا تھا، بیٹی نے بتایا نانو فوت ہوگئی ہیں۔ اس کا دل ایک دم چھن سے ٹوٹا ہاتھ میں پھل کے تھیلے کو اس نے زمین پر رکھا اور سوچنے لگی ہر عورت چڑیا جیسی کیوں ہوتی ہے۔
    ٭…٭…٭




  • ہدایت — ساجدہ غلام محمد

    ہدایت — ساجدہ غلام محمد

    ’’دیکھو تو ذرا اس کے کپڑے!‘‘ سمیرا نے خرد کی طرف اپنا موبائل بڑھایا۔ سکرین پر پاکستانی شوبز کا صفحہ کھلا تھا جس میں ملک کی معروف ایکٹریس شیمی کی قابلِ اعتراض تصویر کے ساتھ ایک کار حادثے میں زخمی ہوجانے کی خبر تھی۔
    ’’توبہ! حلیہ تو دیکھو ذرا۔ نجانے اس کے والدین کیا سوچتے ہوں گے جب انہیں اس کی فلموں اور حرکتوں کے بارے میں پتا چلتا ہوگا۔‘‘ خرد نے تصویر کو تعجب سے دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا۔دونوں یونیورسٹی کینٹین کے سامنے بنے ایک بنچ پر بیٹھی تھیں۔
    ’’غیرت کہاں ہوتی ہے ان میں۔ ایک بار پیسے اور شہرت کا نشہ لگ جائیتو پھر کچھ قابلِ اعتراض نہیں لگتا۔ خیر! ہمیں کیا۔‘‘ سمیرا نے کیپری کٹ ٹراؤزر والی ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھ کر جھلاتے ہوئے کہا۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’اف!ان کا حلیہ دیکھو ذرا۔‘‘ شگفتہ نے حلیمہ کو ٹہوکا دیتے ہوئے کینٹین کے سامنے بنے بنچ پر بیٹھی خرد اور سمیرا کی طرف آنکھوں سے اشارہ کیا۔
    ’’توبہ! ٹراؤزر میں اتنا لمبا کٹ؟ حد ہی ہو گئی۔ کیا ان کے والدین کو اپنی بیٹیوں کا لباس نظر نہیں آتا ؟ نہ جانے ان کی مائیں انہیں اتنے واہیات فیشن کیسے کرنے دیتی ہیں۔‘‘ جینز کی پینٹ کے اوپر لمبی اور کُھلی سی قمیص پہنی حلیمہ نے ناگواری سے خرد اور سمیرا کی جانب دیکھا تھا۔
    ’’ سب تربیت کی بات ہوتی ہے۔ ہم بھی تو ہیں، ہم بھی فیشن کرتی ہیں لیکن ایک حد میں رہ کر۔ خیر! ہمیں کیا۔‘‘شگفتہ نے کہا اور دونوں کینٹین کے اندر چلی گئیں۔بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’حلیہ دیکھو ذرا ان کا۔‘‘کوثر نے چاٹ کھاتی اسود کو ایک جانب متوجہ کیا تو اسود نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں کینٹین کے دروازے کی جانب دیکھا۔ وہاں سے شگفتہ اور حلیمہ اندر داخل ہوئی تھیں اور اب کینٹین والے سے چیزیں خرید رہی تھیں۔
    ’’توبہ! دوپٹہ بھی نہیں لیا ہوا انہوں نے تو۔اتنی بے شرمی!حد ہے بھئی۔‘‘اسود کی آنکھوں اور لہجے میں ناگواری در آئی۔
    ’’آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ان کے ماں باپ کو نظر نہیں آتا کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم دوپٹا تو اوڑھا دیں انہیں۔‘‘کوثر نے سر کے کونے پر ٹکے دوپٹے سے جھانکتے بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا۔
    ’’ خیر! ہمیں کیا۔ ابھی کلاس شروع ہونے میں تھوڑا وقت رہتا ہے۔ آؤ فوٹو کاپی شاپ سے ہو آئیں۔ میں نے کچھ نوٹس کی فوٹو کاپی کروانا تھے۔‘‘ اسود نے چاٹ کا آخری لقمہ لے کر اٹھتے ہوئے کہا تھا۔ کوثر بھی بیگ سنبھالتے اٹھ کھڑی ہوئی۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’یہ دیکھو ذرا، دوپٹے کا مذاق۔‘‘ فوٹو کاپی دکان سے آتی ارم نے سامنے سے آتی کوثر اور اسود کو دیکھتے ہوئے منہ بنایا۔ اس کے ساتھ چلتی شمامہ نے بھی دونوں کو گھورا۔
    ’’بس دوپٹہ سر پر ڈال لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ یہ کافی ہے۔ سارے بال نظر آ رہے ہیں، سینہ بھی دوپٹے سے صحیح طرح نہیں ڈھانپتیں۔حیرت ہے ان کی امی کو نظر نہیں آتا کیا؟ یہ لمبا سا دوپٹا فیشن کے طور پر لے لیتی ہیں، سنبھالا جاتا نہیں ہے۔‘‘شمامہ نے بھی دبے دبے لہجے میں تبصرہ کیا تھا۔دونوں لڑکیاں ان کے پاس سے گزر چکی تھیں۔
    ’’دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ بس دوپٹہ ہی لے لیا کروں۔ اتنی گرمی میں یہ عبایا اور پھر اس کے اوپر سکارف، ٹھیک ٹھاک پسینہ آ جاتا ہے لیکن پھر یہی سوچتی ہوں کہ اچھا نہیں لگتا۔ اب اتنی عادت ہو گئی ہے عبائے اور سکارف کی کہ ان کے بغیر اپنا آپ ادھورا سا لگتا ہے اور انہیں دیکھو تو اپنی طرف سے پردہ کیے بیٹھی ہیں۔ خیر! ہمیں کیا۔‘‘ ارم نے ٹشو سے ماتھے پر آتا پسینہ پونچھا اور دونوں کلاس روم کی جانب بڑھ گئیں۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔‘‘ نورین کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
    ’’کیا ہوا؟‘‘ طیبہ نے چونک کر اس کی جانب اور پھر اس کی نظروں کے تعاقب میں سامنے کی طرف دیکھا۔سامنے ارم اور شمامہ ہنستی بولتی ہوئی ایک کلاس روم میں داخل ہو رہی تھیں۔
    ’’عبایہ دیکھا تھا تم نے ان کا؟ اتنا چست اور فیشن ایبل سا۔ کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ یہ پردے کے لیے پہنا گیا ہے۔‘‘ نورین نے چہرے سے کھسکتے نقاب کو دوبارہ سیٹ کرتے ہوئے کہا۔
    ’’اس طرح کے پردے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پردے کا بھی پردہ ہونا چاہیے۔‘‘ طیبہ تمسخرانہ لہجے میں ہنسی۔ اس کی بات سن کر نورین بھی ہنس پڑی۔
    ’’ہاں تو اور کیا۔ اتنے جھلمل کرتے عبائے سے کیا خاک پردے کا مقصد پورا ہو گا۔مجھے تو بس کالے رنگ کا سادہ سا عبایہ اور نقاب پسند ہے۔کسی کو بُرا لگے تو لگے، مجھے دنیا کو تھوڑی دکھانا ہے۔ افسوس تو ان لڑکیوں اور ان کے ماں باپ پر ہوتا ہے، پردے کے نام پر زیادہ پُرکشش عبائے پہن لیتی ہیں اور والدین سوچتے بھی نہیں۔‘‘نورین نے کہا تھا۔
    ’’خیر! ہمیں کیا۔قیامت کے دن پتا چل جائے گا کہ اس طرح کا شوخ پردہ کرنے سے کتنا ثواب کما لیا انہوں نے۔‘‘ طیبہ نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’اللہ!!! میرے اللہ!!! ‘‘ اس کا وجود کانپ رہا تھا۔ وہ زاروقطار رو رہی تھی۔
    ’’میرے مالک! مجھے معاف کر دے! میرے مولا! بس مجھے معاف کر دے، میں بہت زیادہ بھٹک گئی تھی۔ اس دنیا کی لذت نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی۔ مجھے اس چمک دمک میں تُو یاد ہی نہ آیا، اس دنیا کی شہرت نے مجھے اپنے جال میں پھنسا لیا تھا۔ میرے رب! مجھے معاف کر دے۔ میں تیرے در پر سچی توبہ لے کر آئی ہوں، میں اس شوبز کی گند بھری دنیا سے توبہ کرتی ہوں۔ بس میرے مالک! میرے دل کو نور اور ہدایت سے بھر دے۔ میرے اللہ! مجھے معاف کر دے! مجھے بس ایک بار معاف کر دے۔ میں تجھ سے معافی کی، ہدایت کی طلب گار ہوں۔ اے اللہ! ‘‘ پٹیوں میں لپٹے ہاتھوں سے اپنا منہ ڈھانپے شیمی ہچکیوں کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ کر رہی تھی۔ بائیں کندھے پر بیٹھے فرشتے نے خوشی سے دائیں کندھے پر بیٹھے فرشتے کی جانب دیکھا۔شیمی کا گناہوں سے بھرا ہوا سیاہ رجسٹر یک لخت بالکل صاف ہو گیا تھا!
    اور اللہ جسے چاہے ہدایت سے نواز دے۔ ہمیں دوسروں کے لیے ہدایت کی دعا کرنے سے زیادہ پُرکشش کام ان پر منفی تبصرہ کرنا ہے۔کیا واقعی ان منفی تبصروں کی اللہ کے نزدیک کوئی اہمیت ہے؟
    ٭…٭…٭




  • اخوّت و احساس — عمارہ کامران

    اخوّت و احساس — عمارہ کامران

    ماہا آج بہت خوش تھی کیوں کہ چھٹیاں شروع ہو چکی تھیں اور اس بار تو عید بھی چھٹیوں میں آنی تھی۔ بڑی عید بھی آنے والی تھی اور اس بار تو وہ دو تین مہینے پہلے ہی قربانی کے لیے بکرا لانے والی تھی۔ اس کے بابا نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگلی گرمیاں شروع ہوتے ہی اسے اس کی پسند کا بکرا لے دیں گے۔ ہر سال دونوں عیدیں خوب دھوم دھام سے منائی جاتیں اور اس بار تو وہ اپنی دوستوں اور کلاس فیلوز کو بھی بلانے والی تھی۔
    آج اتوار کا دن تھا۔ اس کے بابا جانی کی آج آفس سے چھٹی تھی جس کا صاف مطلب تھا کہ آج وہ اسے بکرا لے کر دینے والے ہیں، پھر مما کے ساتھ ڈھیروں شاپنگ اور من پسند کھلونے، آج تو اسے خوب مزا آنے والا تھا۔
    صبح سے ہی ماہا ادھر ادھر ہنستی مسکراتی اچھلتی کودتی پھر رہی تھی۔ کبھی بابا کو یاد دہانی کرواتی کہ آج اسے کلرز، گلیٹرز اور اسٹیکرز وغیرہ لینے ہیں تاکہ وہ اپنی دوستوں کے لیے دعوتی کارڈز بنا سکے تو کبھی مما کو بتاتی کہ اسے اپنی دوستوں کے لیے گفٹ بھی لینے ہیں۔ ایک لمبی لسٹ تھی اس کے پاس فرمائشوں کی۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ چاہتی تھی کہ سب کو بڑی عید کے لیے دعوت دے۔
    اچانک ماہا کا دھیان دادی امی کی طرف گیا۔ آج اماں جی کمرے سے باہر آئیں اور نہ اس کے ساتھ باغ میں ہی گئیں۔ اس نے تو انہیں ناشتا کی ٹیبل پر بھی نہیں دیکھا۔ ویسے تو وہ ہمیشہ صبح کا ناشتا اپنے کمرے میں ہی کرتیں لیکن اتوار کو وہ بابا اور اس کے گھر پر ہونے کی وجہ سے ان سب کے ساتھ ناشتا کرتیں تو پھر آج وہ کیوں نہیں آئیں اس نے سوچا کہیں دادی امی بیمار تو نہیں۔
    مما! اماں جی نے ناشتا کر لیا؟‘‘ اس نے اُبلا ہوا انڈا کھاتے ہوئے سوال کیا۔
    ’’نہیں! ابھی نہیں کیا۔ کہہ رہی ہیں ان کا دل نہیں چاہ رہا۔‘‘ اس کی بریڈ پر مکھن لگاتے ہوئے مما نے جواب دیا۔
    ’’کیوں نہیں دل چاہ رہا؟ کہیں وہ بیمار تو نہیں؟‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ اسے یاد تھا پچھلی بار جب اس کی دادی امی بیمار ہوئی تھیں تو انہیں ہاسپٹل لے جایا گیا تھا۔ اسے ہسپتال بالکل اچھے نہیں لگتے تھے۔ کتنے بڑے بڑے انجیکشن اور ڈرپس لگائی تھیں ہسپتال والوں نے دادی امی کو، انہیں کتنا درد ہوا ہو گا۔ اس نے سوچ کر جھرجھری لی۔
    ’’ارے نہیں چندا !تمہاری اماں جی بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔ تم فکر نہ کرو اور چلو جلدی سے ناشتا مکمل کرو پھر آپ نے شاپنگ کرنے بھی تو جانا ہے نا۔‘‘ اس کی مما نے پیار سے پچکارتے ہوئے اسے تسلی دی۔
    اس نے جلدی جلدی اُبلا ہوا انڈا نگلا اور دودھ کے دو تین بڑے بڑے گھونٹ بھر کر ٹیبل سے اٹھ گئی:
    ’’کر لیا ممی بس اور نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہی وہ وہاں سے بھاگ گئی۔ اسے پتا تھا ممی نے پھر سے پکڑ کر اسے زبردستی کھانے کے لیے بٹھا لینا ہے۔
    دادی امی کے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر وہ اندر داخل ہوئی۔ ’’اماں جی! السلام علیکم‘‘ وہیں کھڑے کھڑے اس نے اماں جی کو جاسوسوں والے انداز میں دیکھا۔
    ’’وعلیکم السلام میری چندا! جیتی رہ میری جان۔ آ ادھر آ جا میرے پاس۔‘‘ دادی نے اسے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح اپنی بانہیں پھیلا دیں۔
    وہ دوڑ کر اماں جی کے بیڈ پر چڑھ کر ان کی کھلی بانہوں میں چھپ گئی۔
    ’’اماں جی آپ نے ناشتا کیوں نہیں کیا؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
    ’’دل نہیں چاہ رہا تھا، بعد میں کر لوں گی آپ نے کر لیا ناشتا؟‘‘انہوں نے جواباً اس سے پوچھا۔
    ’’جی کر لیا لیکن مزہ نہیں آیا آپ کے بغیر۔‘‘ اس نے کہا اور مزید تفتیش جاری رکھی۔
    ’’آپ صبح لان میں کیوں نہیں آئیں؟ وہاں گلاب کے پودے پر جو کلیاں ہیں وہ ساری آج پھول بن گئی ہیں۔ اتنے بڑے بڑے پھول کھلے ہیں اور موتیا کے کئی پھول نیچے گرے ہوئے تھے۔ میں نے سنبھال لیے، آپ میرے لیے گجرا بنا دیں گی نا۔‘‘ اس نے لاڈ دکھاتے ہوئے پوچھا۔
    ’’بالکل بنا دوں گی اور آپ کی پونی میں لگا بھی دوں گی۔‘‘انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے کہا۔
    ماہا نے اپنی آنکھیں سکیڑ کر انہیں دیکھا ۔’’ گھٹنے میں درد ہے کیا؟‘‘
    اپنی ننھی جاسوس کے سوال پر وہ مسکرائیں۔ وہ جانتی تھیں جب تک اس کو وجہ نہیں بتائیں گی وہ یوں ہی ان کے پاس بیٹھی سوال پر سوال کرتی رہے گی۔
    ’’نہیں! گھٹنے میں درد نہیں ہے۔ بس صبح صبح اخبار پڑھا تو پھر کچھ کرنے کو دل نہیں کیا۔‘‘
    ’’اچھا!‘‘ اس نے اچھا کو لمبا کیا۔ ابھی وہ اتنی بڑی نہیں ہوئی تھی کہ خبروں میں دل چسپی لیتی لیکن جب دادی یا بابا خبریں سنتے تو وہ بھی چپ چاپ بیٹھی ٹی وی پر نظر آتی تصویروں سے کہانیاں بناتی رہتی۔
    اماں جی نے محسوس کیا کہ وہ باہر جانے کو بے چین ہے اس لیے اس کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئیں۔’’ چلو باہر چلتے ہیں دیکھوں احمر اور بہو کیا کر رہے ہیں اور تم وہ پھول بھی لے آئو میں مالا میں پرو دوں۔‘‘ اماں جی کی بات سن کر وہ دوڑتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
    ’’احمر بیٹا فارغ ہو؟ ایک بات کہنی تھی تم سے۔‘‘ اماں جی کچھ بات کرنے لگی تھیں کہ اچانک خبروں پر دھیان گیا۔ ٹی وی پر مختلف مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ برما اور شام میں ہوتے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا ذکر، ٹوٹے پھوٹے گرتے تباہ شدہ مکان اور سیمنٹ اور گرد سے اٹے بے بس اور معصوم بچوں کے چہرے۔ اماں جی نے عینک کے شیشے صاف کیے اور چادر کے پلو سے اپنی آنکھیں بھی پونچھیں۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ یہ خبریں دیکھتے ہوئے رو رہی تھیں اور ساتھ ہی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا لیے۔
    ’’اے اللہ! اے میرے مالک! مسلمانوں کی مدد فرما، انہیں اس ظلم سے بچا، ان کی حفاظت کے لیے درد دل رکھنے والے اپنے بندوں کی مدد بھیج دے اے اللہ!‘‘
    ماہا نے اپنی امی اورابو کو بھی دادی کی دعا پر آمین کہتے ہوئے سنا۔
    اس کے ابو کہہ رہے تھے کہ یہ تو روز کا معمول بن گیا ہے۔ ہر جگہ مسلمان تکلیف اور آزمائش کا شکار ہیں۔ اس کے جواب میں ماہا کی ممی بولیں برما کے حالات تو بہت برے ہیں، روہنگیا کے مسلمانوں سے تو رہنے کی جگہ بھی چھین لی۔ دنیا میں زمین کا کوئی ٹکڑا نہیں جسے وہ لوگ اپنا ملک کہہ سکیں۔
    اس کے ابو اب اماں جی کی بات سن رہے تھے لیکن اس کا ننھا سا ذہن ان سب کی باتوں میں اُلجھا ہوا تھا۔
    وہ چپ چاپ کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس کے ہاتھ میں اخبار تھا جسے وہ پڑھ تو نہیں سکتی تھی لیکن اس میں پٹیوں میں لپٹی بچی اسے بالکل اپنے جیسی لگی اس کی طرح چھوٹی سی، بکھرے بکھرے بالوں والی۔ وہ شاید رو رہی تھی لیکن اس کے منہ پر اتنی گرد لگی تھی تو پتا کیسے چلتا۔




  • معصوم سوال — ناہید حیات

    ’’دادی دیکھیں پھر میری گاڑی لے کر بھاگ رہی ہے۔ مجھے دے نہیں رہی۔‘‘ عون، ماہا کے پیچھے بھاگتا ہوا دادی کے کمرے میں داخل ہوا جو نماز پڑھنے کے بعد وظیفے میں مصروف تھیں۔
    ’’اِدھر آئو دونوں‘‘ دادی نے دونوں کو جائے نماز پر ہی اپنے دائیں بائیں بٹھایا۔ ماہا نے بھی گاڑی نیچے رکھ دی جسے عون نے جلدی سے اٹھا کر اپنی طرف رکھا اور تمیز سے دادی کے پاس بیٹھ گئے۔ دادی نے ان سے کلمہ اور نماز سنی، جو انہوں نے کچھ اٹک اٹک کے سنا دی۔ ’’چلو اب دُعا مانگو‘‘ دونوں نے اپنے ہاتھ دُعا کے انداز میں بلند کیے ’’اللہ میاں ہمیں بھائی دے دے‘‘ آنکھیں بند کر کے انہوں نے طوطے کی طرح رٹی رٹائی دعا مانگی کیوں کہ آج کل گھر میں ہر کوئی ان بچوں سے یہی دعا منگوا رہا تھا۔ دادی نے جوش سے آمین کہا۔ ’’اُلو تمھارے تو پہلے ہی دو بھائی ہیں۔‘‘ پٹاخہ سی ماہا نے کہا۔
    ’’مگر دادی کہتی ہیں میں تم سب کا بڑا بھائی ہوں۔ کیوں دادی؟‘‘ عون نے چہرے پر رعب طاری کر کے کہا۔
    ’’تم میرے کزن ہو اور ہم دونوں سکس ایئر اولڈ ہیں‘‘ ماہا نے جتایا۔
    ’’میں سکس اینڈ آ ہاف ہوں‘‘ عون کو اپنا چھے مہینے کا بڑا پن بھی نہیں بھولتا تھا ان دونوں کو بحث کرتا چھوڑ کر دادی خشوع و خضوع سے دعا مانگنے لگئیں۔
    اچھے وقتوں کے بنے اس چھوٹے سے شہر کے بڑے سے گھر میں دادی اپنے تین بیٹوں ساجد، راشد اور واجد کے ساتھ رہ رہی تھیں جب کہ تین شادی شدہ بیٹیاں اپنے اپنے گھر میں خوشحال زندگی گزار رہی تھیں۔ دادا کا کچھ عرصہ پہلے ہی انتقال ہوا تھا۔ ساجد اور راشد کی اکٹھی ہی شادی ہوئی تھی۔ ان کی مین بازار میں اچھی چلتی ہوئی کپڑے کی دُکان تھی جب کہ واجد ابھی غیر شادی شدہ تھا اور لاہور میں پڑھ رہا تھا۔
    اوپر تلے بچوں کی پیدائش سے گھر کا کام اور ذمہ داریاں بڑھنے کے باوجود مجموعی طور پر گھر کا ماحول خوش گوار ہی تھا جس کی وجہ دونوں بہوئوں مریم اور آسیہ کا آپس میں سگی بہنیں ہونے کے علاوہ دادی کی نرم اور صلح جو طبیعت بھی تھی۔ ساجد اور مریم کے تین بیٹے تھے بڑا عون اور اس سے دو سال چھوٹے جڑواں سعد اور فہد، جو اب چار سال کے ہو چکے تھے۔ راشد اور آسیہ کی تین بیٹیاں تھیں۔ ماہا، زویا اور پھر حبہ۔ حبہ کی پیدائش کے وقت کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے ڈاکٹر نے آئندہ احتیاط کرنے کو کہا۔ چوں کہ آسیہ مرتے مرتے بچی تھی تو بیٹے کی شدید خواہش ہونے کے باوجود راشد نے کہہ دیا کہ تین بچے ہی بہت ہیں خود آسیہ نے بھی بہت دعائیں کی تھیں مگر اللہ کی مرضی کے آگے سر جُھکا لیا اور اب تو حبہ بھی ڈھائی سال کی ہو چکی تھی۔ دادی کو پوتیوں سے بے حد پیار تھا مگر جب راشد کو دیکھتیں ایک سرد آہ ان کے لبوں سے نکل جاتی۔ راشد کو بھی بیٹیوں سے بہت لگائو تھا آسیہ کا بھی خیال رکھتا مگر جب جب ساجد اپنے بیٹوں کو دکان پر لے جاتا یا مسجد میں وہ اس کے ساتھ جاتے تو وہ بڑی حسرت سے ان کو دیکھتا۔ ساجد ہمیشہ بچیوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتا اور راشد سے کہتا رہتا تھا کہ تمہیں ان کی فکر کی ضرورت نہیں۔ دادی کو بھی تسلی تھی کہ دونوں بھائیوں کا اتفاق قائم رہا تو وہ یہ ذمہ داریاں مل بانٹ کر اٹھالیں گے مگر پھر بھی راشد کے دل میں کوئی کسک تھی، حسرت تھی یا خواہش جو دن بدن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ اس کے رویے میں ایک کھچائو سا آگیا تھا۔ جو گھر میں سب نے ہی محسوس کیا تو آسیہ کیسے نہ کرتی اور تب ہی اس نے ایک بار اور قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ راشد نے بھی حبہ کی پیدائش پر جذبات میں آکر کہہ تو دیا تھا کہ تین بچے بہت ہیں مگر اب آسیہ کی خواہش کی مخالفت نہیں کی۔ مریم نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانی۔ جلد ہی اللہ نے امید لگائی تو دادی اور مریم نے اسے مکمل آرام دیا اور ہر طرح سے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرایا۔ جوں جوں دن قریب آرہے تھے لگتا تھا سب نے جائے نماز سنبھال لی۔ صدقہ، خیرات اور دعائیں جاری تھیں کوئی بچہ کچھ کھانے کو بھی مانگتا تو کہا جاتا پہلے دعا کرو اللہ چاچو کو بیٹا دے اور ماہا تو خود ہی پہلے دعا مانگتی: ’’اللہ میاں ہمیں بھائی دینا‘‘ اور پھر اگلی بات شروع کرتی مگر جب دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو اس کی مصلحت صرف اللہ جانتا ہے، انسان تو صرف رونا پیٹنا ڈال دیتا ہے۔
    ایک عام سی صبح ماہا اور عون سو کر اٹھے تو گھر میں عجیب طرح کی خاموشی تھی روز والی بھاگ دوڑ نہیں مچی تھی۔ دادی بالکل خاموش اپنے بستر پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھیں اور مریم زوہا اور حبہ کو خاموشی سے ناشتہ کروا رہی تھی۔
    ’’امی کہاں ہیں۔‘‘ ماہا کو اُٹھتے ہی آسیہ کی غیرموجودگی کا احساس ہو گیا تھا۔
    ’’وہ ہسپتال میں ہیں۔‘‘ آسیہ نے بتایا۔
    ’’تمھاری بہن پیدا ہوئی ہے۔‘‘ آسیہ نے یہ خبر جتنے غمناک انداز میں سنائی ماہا اور عون نے اتنی ہی خوشی کا اظہار کیا۔
    ’’ہمارے گھر چھوٹا بے بی آیا ہے۔‘‘ دونوں ہی یہ بھول گئے تھے کہ ’’بے بی‘‘ لڑکا ہے یا لڑکی۔ ان کے لیے یہ کافی تھا کہ اب کھیلنے کے لیے ایک کھلونا آرہا ہے۔
    ’’اچھا جلدی سے ناشتہ کر کے تیار ہوئے سکول جائو تاکہ میں ہاسپٹل جا سکوں۔‘‘ مریم نے کہا۔
    ’’ہم نے بھی بے بی دیکھنا ہے۔‘‘ ماہا نے ضد کی۔
    ’’نہیں بیٹا۔ ابھی اس کی طبیعت نہیں ٹھیک، شام کو چلے جانا۔‘‘ مریم نے بچوں کو تیار کر کے سکول بھیجا تاکہ سکون سے کام کر کے ہاسپٹل جا سکے۔
    تین دن ہاسپٹل رہ کر آسیہ ننھی سی لائبہ کو لے کر گھر آگئی۔ اپنی جان پر کھیل کر دنیا میں لانے والے وجود سے آسیہ تو زیادہ دیر غافل نہ رہ سکی مگر راشد نے تو اپنے جذبات چھپانے کی بھی کوشش نہیں کی۔ ساجد اور تینوں بہنوں نے ہر طرح سے سمجھانے اور دل جوئی کرنے کی کوشش کی مگر اس کے چہرے پر جامد تاثرات رہتے۔ ڈھیر سارے دن ایسے ہی گزر گئے مگر راشد کے رویے میں فرق نہ آیا۔ دکان سے بھی وہ اکثر غائب رہتا۔ ساجد کافی عرصے سے دیکھ رہا تھا کہ اس کا اٹھنا، بیٹھنا کچھ اچھے لوگوں میں نہیں ہے۔ اس نے سمجھانے کی کافی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ یہ یار دوست ہی تھے جنہوں نے راشد کو گھر سے دور کیا ہوا تھا اور وہی ایسے الٹے سیدھے مشورے دیتے رہتے تھے کہ وہ تو مرد ہے کیا ہوا کہ ایک بیوی بیٹا نہیں دے سکی وہ دوسری لا سکتا ہے جب تک یہ باتیں گھر پہنچتیں اور گھر والے کچھ کر پاتے پتا چلا کہ راشد نے دوسری شادی کر لی ہے اپنے انہی دوستوں میں سے کسی ایک کی طلاق یافتہ بہن کے ساتھ۔ چھوٹے سے شہر میں یہ بات کب تک چھپتی اور راشد نے چُھپانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ آسیہ پر تو جو قیامت گزری سو گزری باقی گھر والے بھی ہکّا بکّا رہ گئے۔ سب نے ہی اس کے خوب لتے لیے مگر وہ ڈھیٹ بنا سنتا رہا۔ گھر میں عجیب ٹینشن بھرا ماحول تھا، جس میں بچے بُری طرح نظرانداز ہو رہے تھے۔ آسیہ سارا سارا دن روتی رہتی راشد گھر آتا تو دونوں کی زوروں کی لڑائی ہوتی۔ مریم پھرکی بن گھر کے کام کرتی، آسیہ کو بھی سنبھالتی اور دادی پوتیوں کو دیکھ دیکھ کر آہیں بھرتیں ایسے میں ماہا اور عون دعا کرتے کہ چاچو ہی آجائیں کیوں کہ وہ ان سب سے خوب لاڈ کرتے اور باہر بھی لے جاتے مگر آج کل واجد کے ایگزامز ہو رہے تھے اس لیے وہ گھر نہیں آرہا تھا۔
    جاتی گرمیوں کی خوش گوار سی شام میں دادی باہر صحن میں چارپائی پر بیٹھی بچوں کو کوئی کہانی سنا رہی تھیں جب ساجد کے ساتھ بہت دنوں بعد راشد گھر آیا۔ زوہا اور حبہ باپ کے ساتھ لیٹ گئیں جب کہ ماہا دادی کے پاس بیٹھی رہی۔ لائبہ کمرے میں سو رہی تھی۔ آسیہ کچن سے دیکھ رہی تھی باہر نکلی اور حبہ اور زوہا کو کھینچ کر راشد سے الگ کیا۔




  • کیوئیں جاناں میں کون — مصباح علی سیّد

    اٹخ پٹخ، جھاڑ پونچھ، چیزیں یہاں سے اٹھا وہاں رکھ، وہاں کی اٹھائی سٹور میں اور سٹور کا فالتو سامان ردی والے کو، مہینوں سے رکھیں اوپر والوں کی چیزیں واپس جارہی تھیں اورعرصے دراز بعد اوپر سے نیچے والوں کا سامان واپس آرہا تھا۔ افراتفری کا ایسا عالم تھا جیسے کوئی نیا نیا مالک مکان آئے یا پھر چھوڑ کر جارہا ہو۔ چیزیں فرش پر بکھری اور بچے دیواروں پر ٹنگے، کیلیں مختلف چیزیں لگانے کے لیے ٹھونک رہے تھے۔ عرصے بعد شام کا بھولا گھر آرہا تھا بدنظر سے بچاؤ کے تعویز اور نقش خاص طور پر پیر جی سے لگاتے تھے اور ایسی جگہ لٹکانے تھے جہاں سے وہ گزرے۔
    ’’خالا…‘‘
    فارحہ اپنی قدرتی صور پھونکتی آواز میں ہانک لگاتی آئی اور کیل ٹھونکتے احمد کی ہتھوڑی کیل کے بجائے اس کے ناخن پر، صد شکر تکلیف سے توازن نہ بگڑا ورنہ وہ خالہ سمیت زمین پر ہوتا اس نے گردن گھما کر اُسے گھورا مگر وہ اطمینان سے استفسار کررہی تھی۔
    ’’امی پوچھ رہی ہیں، ہادی ماموں کو لینے کون کون جائے گا؟‘‘
    ’’وہ تو بارہا منع کررہا ہے، خود ہی آجاؤں گا۔ مگر میں سوچ رہی ہوں‘‘
    انہوں نے کان پر دوپٹہ اڑستے گویا مطلع کیا تھا ’’احمد اور علی دونوں کو بھیج دوں۔‘‘
    ’’خالا میں بھی چلی جاؤں… علی بھائی اور …‘‘ وہ قدرے جھجک کر بولی ’’احمد کے ساتھ…، اس کی شرماتی نگاہ احمد کی پیٹھ پر گئی اپنے نام پر اُس نے بھی مڑ کر دیکھا تھا اس کی آواز گرم پانیوں میں تیرنے لگی تھی۔
    ’’ارے… تم کیا کرو گی…؟‘‘
    خالہ نے گھورا اور ایک کیل احمد کو پکڑاتے متوجہ کیا تھا ’’برابر دو کیلیں لگا، سبز تعویز لٹکانا ہے، پیر جی نے کہا تھا، سبزے کے چھاؤں ہاری کو ہرا بھرا کردے گی۔‘‘
    ’’اے اچھا چلی جانا…‘‘ قدرے محبت سے دیکھا جیسے ہی مڑنے لگی خالہ نے ہانک لگائی۔
    ’’اس سوکھے بدن پر اپنا کالا جوڑا نہ لٹکا لینا، کالا رنگ سوگ کی علامت…‘‘
    اس کی فرما رواہلتی گردن پر احمد کا دل مسوس کررہ گیا۔
    ’’ہائے! کیا غضب ڈھاتی ہے، اس سوٹ میں، سیدھی دل میں لگتی ہے… ٹھاہ‘‘
    اس کا سارا غصہ کیل اور دیوار پر نکلا تھا…
    ’’ہادی ماموں، ہادی بھیا‘‘ ہر جانب اک ہی ورد تھا۔ ہادی، ہادی، ہادی… جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوا بڑی آپانے سات دانے سرخ ڈوڈی مرچ کے اس پر سے وار کے آگ میں پھینکے۔ گھر کی پالتو بلی کو بہ طورِ خاص آج باندھ کر رکھا گیا تھا منحوس رستہ ہی نہ کاٹ دے۔ خوب ڈیل ڈول والی چھوٹی آپا بھی اِدھر اُدھر ڈولتی بڑھیں لمبی سی سبز بوتل سے چوکھٹ کے دونوں اطراف تیل ڈالا بھائی کی بلائیں لیں۔
    ’’امی یہ کیا…! فارحہ کی آواز اُبھری ’’تیل ڈال دیا تاکہ ماموں آتے ہی چوکھٹ رسید ہوجائیں۔‘‘
    امی سے پہلے خالہ کا چھانپڑ پشت پر لگا ’’کم بخت، منحوس ماری، بدفعال کیوں نکال رہی ہے، میرا لاڈلا بھائی کیوں گرنے لگا…‘‘
    فرطِ جذبات سے آگے بڑھیں پہلے ہادی کو گلے لگایا پھر پچڑ پچڑ پیشانی سے گال پر بوسے دے ڈالے۔
    ساتوں بھانجے بھانجیاں صوفے پر بیٹھے ہادی کے گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے۔ کوئی گری پھانکتا، کوئی موبائل پر میسج ٹائپ کرتا، کوئی میسج پڑھتی اور کوئی ماموں کے ساتھ سیلفی بناتا۔ گزرے دنوں کی یادیں تازہ کررہے تھے۔ بڑی اور چھوٹی آپا دونوں بہنیں ہونے کے ساتھ دیورانی جیٹھانی بھی تھیں۔ منٹ منٹ بعد اس کے واری صدقے جائیں۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ ہر چیز سے نظر اتار لیں۔ حالاں کہ چیزوں سے نظر اتارنے کہ بہ جائے خود کو اس پروار دیتیں یا کم از کم دل ہی بڑا کرلیتیں تو شاید آج ہادی کی زندگی میں سکون ہی ہوتا اور اس کی اجڑی صورت دیکھ کر غمزدہ نہ ہوتیں۔ غم بھی عجیب تھا سات سمندر پار سے برسوں بعد بھائی کی صورت دیکھنے کو ملی تھی۔ بڑا بھائی اللہ نے دیا نہیں چھوٹے کو ہی بھیا کہہ کر دل کی تسکین کرتی رہیں۔ دل کی تسکین بھی عجیب چیز ہے وہاں سے ہوتی ہے جہاں خواہشات ساتھ چھوڑ جائیں اور خواہشات کب مٹھی میں آتیں ہیں۔ اتنی جلدی ہاتھ سے ریت نہیں پھسلتی جتنی جلدی خواہشات پھسل کر سامنے منہ چڑھاتیں ہیں۔ چھوٹی اور بڑی دونوں کی شدید آرزو تھی ہادی کی خندہ پیشانی پر سنہری تاروں والا سہرا لہرائے پر خدا کی پناہ مجال کیا جو کوئی ڈھنگ کی لڑکی اس کے دل میں ٹھہری ہو، نظر سے گزری ہو، یا کسی معقول پر انگشت اشارہ ہی کیا ہو کتنا پوچھا مگر روزہ نہ کُھلا اور عمر پچیس سے بھاگتی پچاس کو چھونے لگی۔
    ’’ماموں آپ نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا۔‘‘
    احمد نے موبائل آف کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح درمیان سے جملہ نکالا ’’ہمیں اکلوتی ممانی سے محروم رکھ کر‘‘
    ہادی پوری بات سن کر دھیما سا مسکرا دیئے۔
    سدرہ نے بھی موبائل آف کرتے ہوئے احمد کی ہاں میں ہاں ملائی۔
    ’’تو اور کیا… قسمت سے ایک ہی آنی تھی، وہ بھی نہ آئی…‘‘
    ’’اے کم بخت… آہستہ بولا کر…‘‘
    بڑی آپا نے انگلی کی پورکان کے سوراخ پر رکھی اور اسے نخوت سے گھورا ’’جس دن منحوس پیدا ہوئی تھی اس دن منڈیر پر اتنا کوا بولا کہ دم دینے کو ہوگیا اور اپنی ساری نخوت بھری آواز اس مصیبت کو ہدیہ کرگیا، جواب ہمارے کانوں کے پیچھے پڑی ہے‘‘
    بڑی آپا اس کی آواز سے انتہائی عاجز تھیں۔ مسلسل اُسے گھورتے کہتی رہیں ’’لو بھلا آوازنہ ہوگئی ایف 16- ہوکیا، کان کے پردے پھاڑ ایک سے گھس دوسرے سے نکل…‘‘
    احمد ماں کے تبصرے پر دل مسوس کررہ جاتا اُسے تو اتنی سریلی لگتی تھی کیا کوئل کی کوک ہو، دل کے ہر خانے میں ڈیرہ ڈالتی سی اُس تاسفانہ ماں کو دیکھا۔
    ’’جانے امی کو اس کی آواز سے کیا مسئلہ ہے، بھلا میرے دل سے پوچھے کوئی…‘‘
    احمد کی بڑابڑاہٹ سدرہ نے سن لی اور پلکیں پٹپٹاتے رخساروں پر گلال پھیلتا ہادی ماموں نے اُس کے چہرے پر محسوس کیا تھا پھر مونچھوں تلے ہونٹ مبہم سے پھیل گئے۔
    ’’ابھی کون سا بوڑھا ہوگیا ہے، لوگ ساٹھ ساٹھ کے شادی کرتے ہیں۔‘‘
    چھوٹی آپا ابھی تک پرانے موضوع میں الجھی تھیں۔ ’’اتنے برس پردیس لگایا، کرلیتا کوئی گوری پسند۔‘‘
    دل کو چیرتی تیز لہر سے بے قرار ہوکر اُس نے چھوٹی آپا کو دیکھا تھا وہ سوئے بیلو کے تکیے تلے لوہے کی چُھری چُھپانے میں مصروف تھیں۔ غالباً اُس کی شباب کی عمر آرہی تھی۔ رات کو بار بار کروٹیں بدلتا آنکھ کُھلتی، بے چین رہتا اور آپا کا کہنا تھا اوپری چیزیں ڈراتیں ہیں، لوہے کی کوئی تیز دھار اگر پاس ہو تو چیزیں بھاگ جاتیں ہیں، ہونہ آپا اور اُن کا تضاد۔
    ’’آپا، وہاں کی گوریاں مذہب اغیار سے ہوتیں ہیں۔‘‘