Tag: کہانیاں

  • ولیم شیکسپیئر ۔ شاہکار سے پہلے

    ولیم شیکسپیئر ۔ شاہکار سے پہلے

    ولیم شیکسپیئر

    صوفیہ کاشف
    سولہویں صدی کے لندن کے تھیڑرز میں تفریح کے لیے آنے والا اعلیٰ مہذب اور متمدن طبقہ اشرافیہ گھوڑوں کی پشت پر سوار جب ترون اکڑائے تھیڑکے سامنے پہنچتا تو صدیوں تک انگلش ادب کی تاریخ کے پہلے صفحے سرفہرست زندہ جاوید رہنے والا ویلیم شیکسپیئر ان کے گھوڑوں کی لگامیں تھامنے کو موجود ہوتا۔ لندن کے نواب جب گھوڑے کی پشت سے چھلانگ لگاتے تو آج کے انگلش ڈرامہ کا یہ بے تاج بادشاہ انکساری اور عاجزی سے نظر جھکائے ان کے معزور گھوڑوں کی لگامیں تھامتا اور اصطبل کی طرف چل پڑتا کیونکہ ڈرامہ اور ادب کی دنیا میں سورج بن کر چمکنے سے پہلے ولیم نے روزقار کا آغاز لندن میں تھیٹر کے دروازے پر کھڑے ہونے والے ”ساستیں“ کے طور پر کیا تھا۔ وقت اور صدیوں کی ان گھڑیوں میں جھکے سر والا یہ ساستیں جانتا تھا کہ ادب کے صفحات پر اس کا نام گہرائی سے کھداے جانے والا ہے اور نہ اس کی طرف حقارت سے دیکھ کر گزر جانے والے نواب ہی یہ جانتے تھے کہ جھک کر کورنش بجا لانے والا یہ معمولی سا دربان ایک روز ادب کی سلطنت کا بادشاہ بننے والا ہے جس کی تعظیم کے لیے ان کی نسلیں اس کے حصّے اور الفاظ کو دہراتی اور ان سے شعور سیکھتی رہیں گی۔
    ”موٹ کی اُس نیند میں کس طرح کے خواب آتے ہیں؟“
    موت کی سرزمین پر بسیرا کرتے آسیب ہے خوفزدہ شیکسپیئر اگر یہ ادراک رکھتا کہ اس کی حیات کا اختتام اس کا انجام نہیں بلکہ اس کی شہرت، مقبولیت اور عظمت کا آغاز ہے تو شاید وہ وقت سی پہلے ہی جنتوں کی اس سر زمین پر قدم دھرنے کا سوچنے لگتا۔
    ”شیکسپیئر کے والد) جان شیکسپیئر کو غربت اور تندرستی ورثہ میں نہ ملی تھی مگر گردشِ ماہ وسال میں جان شکسپیئر کی جائیداد اور کاروبار گھٹتے گھٹتے محض ایک صفائی کے کاروبار تک محدود رہ گیا تھا۔ قدرت کا قانون ہے کہ کل کے اندھیرے آنے والے دن کے سویروں میں ڈھل جاتے ہیں اور ایک نسل کی مفلسی دوسری نسل کی امارت لے کر آتی ہے۔ حکومتی محکموں میں سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے جان شیکسپیئر کو کچھ مراعات حاصل تھیں جن میں ایک خدائی تحفہ اس کے بچوں بشمول ولیم کے، کی مفت کی گرامر سکول میں تعلیم بھی تھی۔ شہر اس کے بعد تنگ دامنی آڑے آئی اور کالج میں داخلہ حاصل کرکے مزید تعلیم حاصل کرنا ولیم شیکسپیئر کا مقدر نہ ہوسکا۔ میں شاعرانہ مزاج لڑکے کو قصاب کے کاروبار میں باپ کا ہاتھ بٹانے کے لیے زندگی کے میدان میںنکلنا پڑا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یاکہ فطرت کا ایک خفیہ راز کہ سکولوں اور کالجوں کے باضابطہ سخت ماحول صرف ایک خاص معیار کے انسان بناتے تھک جاتے ہیں جبکہ ان کی حدوں سے دور رہنے والے، فطرت سے سرگوشیاں کرنے والے اور دنیا کی جکی میں گھن کی طرح پسنے والے کامیابی کے اسرارورموز پاجاتے ہیں۔
    قرون وسطیٰ میں شیکسپیئر اندرون انگلستان کا ایک مقبول خاندانی نام تھا جو اس کے بہت سے علاقوں میں بے تحاشا بکھرا ہوا تھا۔ شیکسپیئر جس کا لفظی مطلب نیزہ رافی میں مہارت اور جن کی اہمیت کا حامل تھا۔ خصوصاً سولہویں اور سترھوی صدی عیسوی میں یہ ایک خاندانی نام کے طور پر بکثرت استعمال ہوا یہاں تک کہ کوئی 34 علاقے شیکسپیئر نامی افراد کی آبادی کی اکثریت ظاہر کرتے ہیں یہی وجہ تھی کہ اس دورانیہ میں ولیم شیکسپیئر نامی افراد کی بڑی تعداد کا سراغ ملتا ہے جس کی وجہ سے تاریخ دان اکثر ڈرامہ نگار ویلیم شیکسپیئر کے سفرِ حیات اور حقائق کے بارے میں ابہام کا شکار ہوتے رہے اور آج تک اس کی زندگی کے رازوں کو کھوجنے اور سچائیاں آشکار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
    "John Shakespear” کے گھر میں W.Shakespeare کی پیدائش کے ساتھ ہی ان علاقوں مںی بھیانک کالی (plague) موت کا اندھا رقصی شروع ہوگیا۔ بلدیہ کا سرگرم ملازم ہونے کی وجہ سے جان شیکسپیئر نے ان علاقوں میں بے تماشا امدادی کام کئے اور ایسے عہدے میں ترقیاں حاصل کیں جس کی بدولت اگلے کئی سالوں تک ولیم شیکسپیئر سکول کی تعلیم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مفت میں حاصل کرتا رہا۔
    تیرہ سال کی عمر میں ولیم کو پڑھائی چھوڑ کر باپ کے بچ رہنے والے واحد مختصر کاروبار میں باپ کا ہاتھ بٹانا پڑا۔ عظیم مشاہدہ اور بہترین تخیلاتی دماغ رکھنے والے شیکسپیئر کے لیے یہ رووگار غیر رومانوی اور غیر دلچسپ تو تھا ہی لیکن کچھ تبصرہ نگاروں کے خیال میں درباروں اور بادشاہوں کی سرکار میں وعظ و خطاب کرنے والے اور شاہانہ زبان میں کلام کرنے والے ویلیم نے یقینا ہر کام بھی بہت شاہانہ انداز میں کیا ہوگا۔
    ”وہ بچھڑا مارے کے لیے اعلیٰ طریقہ اختیار کرتا اور اُس سے پہلے ایک پر مقز خطبہ دیتا!“
    اٹھارہ سال کی عمر میں اپنی عمر سے بڑی خاتون کے ساتھ ویلیم کی شادب محبت کا بندھن تھی یا غم روزگار کا دُکھ، مگر یہ اٹل حقیقت ہے کہ Anne Hathaway کے ساتھ باندھے اس بندھن نے اس کے معاشی مسائل کو سختی کو خاصے حد تک کم کیا۔ Anne ایک بہتر مالی وسائل رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور باپ کی طرف کچھ جائیداد بھی اس کا حصہ بنی جس میں وہ فارم ہاو ¿س بھی شامل تھا جس میں شیکسپیئر کی یادگاراور نشانی کے طور پر محفوظ ہے۔
    1585 کے آخری مہینوں میں ویلیم startford سے رخصت ہوکر اگلے کئی سالوں تک کے لیے تاریخ کے اوراق سے گمشندہ ہوگیا۔ 1596 تک ویلیم شیکسپیئر کی زندگی جدوجہد اور آسائشیں و مصائب کا کوئی تذکرہ نہ کسی دفتری کاغذات میں ملتا ہے نہ دوست احباب کی کہانیوں اور واقعات میں۔ ان گیارہ سال کے وقفے کے بعد ویلیم شیکسپیئر کا سراغ لندن کے مشہور تھیٹرز کی کہانیوں اور ڈراموں سے ملنا شروع ہوتا ہے۔ کچھ داستانوں کے مطابق اس دوران ویلیم بڑی صحت کا شکار ہوکر بیکاری کے دن رات میں آس پاس کے فارم ہاو ¿سز سے ہرن اور پرندے چرانے لگا جس کے نتیجے میںاس کی ان افراد کے ہاتھوں سزا، مار، اور قیدو بند کی صعوبتیں بھی اٹھانا پڑئیں اور یہی وہ ناکامی روزگار کی سزا نہیں تھیں جن سے ہر دل ہوکر شیکسپیئر نے بالآخر startford سے لندن کی طرف کوچ کر جانے کا فیصلہ کیا اور اگلے گیارہ سال تک ایسی بیوی اور بچوں سے لاتعلق نہ سہی بہت فاصلے پر ضرور رہا اور اپنی دلچسپی اور خواہش کے مطابق کوئی روزگار حاصل کرنے کی کوشش میں جگتا رہا!
    وہ کچھ لوگ عظیم پیدا ہوتے ہیں کچھ عظمت حاصل کرلیتے ہیں اور باقیوں پر عظمت مسلط ہوجاتی ہے۔“
    یہ وہ دور تھا کہ ویلیم کا نام نہ تو کسی آبائی عظمت کا وارث تھا نہ اس کے فارم ہاو ¿س سے یا اس کی محنت کی فصل سے عظمت نامی پھل ہی نکلنا شروع ہوئے تھے۔ ہر پہلے سفر پر نکلنے والے مشکلات میں پھسے مسافر کی طرح شیکسپیئر بھی بڑے لوگوں کی عظمت کا شکار تھا۔ اسی لیے ادب کی شاہراہ پر صدیوں تک دوڑنے والے اس شاہ سوار نے پنا سفر تھیٹر کے اصطبل میں ایک سائنس کے طور پر کیا تھا۔
    starford کے دیہاتی علاقے میں گزاری زندگی نے ویلیم کے ذرخیز دماغ اور عظیم قوتِ مشاہدہ کو بہترین رنگوں سے نوازا۔ پرندوں، درختوں، پھولوں، جانوروں کے قریبی ساتھ نے اور فطرت و قدرت کے کُھلے نظاروں کے شیکسپیئر کے تخیل کو اُبھارا اور زندگی کی بہت سی خوبصورتوں اور بدصورتیوں سے متعارف کروایا۔ دیہی علاقے سے حاصل کیا یہی علم اور مشاہدہ تھا کہ گھروں کی کھڑکی پر بنا پرندوں کو گھونسلا گھر کے بابرکت اور پرُامن ہونے کی دلیل دیتا دکھائی دیتا اور تباہی اور بربادی کی رات اُلو اپنا سی گوشت نوچ کھاتے اور گھوڑے اپنے دوستوں کی گردنیں تناول کرجاتے!
    ”غیر فطری کام ہمیشہ غیر فطری نتائج کو جنم دیتے ہیں۔“
    شیکسپیئر سے بہتر اور کون بتا سکتا ہے کہ رات کا اندھیرا گہرا ہوجائے تو برائی اور تباہی کو قوتیں اڑان بھرنے لگتی ہیں اور جرم، گناہ اور زیادتی کے دیوتا پر پھیلاتے زمین کے سکون، امن اور اچھائیوں کو ڈھانپنے لگتے ہیں۔ رات کی تاریکی جب کُھل کر کھیل جائے تو اپنے پیچھے اُدھڑے ہوئے ضمیر، سِسکتی روحیں اور تباہ کن نتائج کا گھمبیر سلسلہ چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ وجدان سکول کی کتابوں کے مطالبہ سے نہیں ویلیم شیکسپیئر نے startford کے ہرے بھرے پھولوں بھرے علاقے میں چمکتے دن اور تاریک راتیں گزار کر زندگی کی نرمیاں چھو کر اور گرمیاں سہ کر حاصل کیا تھا۔
    لندن کے تھیٹرز کے دروازوں پر کی گئی خدمت ولیم کو جلد ہی تھیٹر کے اندر لے گئی۔ ملازم لڑے سے آغاز کرکے اب ویلیم کو تھیٹر کے اندر کام کا موقع ملنے لگا۔

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

  • ساغر صدیقی  ۔ شاہکار سے پہلے

    ساغر صدیقی ۔ شاہکار سے پہلے


    ساغر صدیقی
    صوفیہ کاشف

    بہار سے پہلے بہار اور وقت سے پہلے پذیرائی کا مزا چکھنے والا ساغر صدیقی عروج پر پہنچتے پہنچتے شہر کی گلیوں میں گمشدہ ہو چکا تھا۔سہانے دلنشیں خوابوں کو مشعل راہ بناکر چلنے والے کے سامنے جب دنیا کی حقیقت عیاں ہوئی تو وہ ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں بکھر گیا۔قطرہ قطرہ خون کی بوند بن کر بہ جانے کے بعد بھی اس کے ہنر کی خوشبو آج تک اہل ذوق کے ہاں پہچانی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ساغر کی داستانِ حیات کے باب میں عبرت کی کچھ نشانیاں تو ملتی ہیں مگر زندگی کے سیاق و سباق اور حقیقت کی کہانیاں نہیں ملتیں۔ اس کے باوجود اس کے لیے الفاظ آج بڑی عزت اور محبت سے بھی گائے اور محفلوں میں سنائے جاتے ہیں۔
    اب جنازہ ہے چار تنکوں کا
    آشیاں تھا بہار سے پہلے
    محمد اختر شاہ کے اصلی نام سے ہندوستاں کے شہر انبالہ کے ایک غریب محلے میں پیدا ہونے والاشاعر ساغر صدیقی ،اوائل عمری سے یتیمی کا شکارتھا مگر اس کے ابتدائی حالات کا تذکرہ و تفصیل اس کے قصہ حیات کا اک گمشدہ باب ہے۔
    ”میری زندگی زنداں کی ایک کڑی ہے ۔ میں نہ جانے کہاں پیدا ہوا تھا۔ماں کی مامتا، باپ کی شفقت، بھائی کی محبت اور بہن کا پیار ،یہ سب میرے لیے علی بابا چالیس چور کے پراسرار غار کی کہانی جیسا ہے۔“
     محمد اختر کا دماغ یقینا زرخیز اور شوق ضرور گہرے تھے۔تبھی غربت کی گود میں جنم لینے والا بچہ سکول یامدرسہ کی اوقات نہ رکھنے کے باوجود، گلیوں محلوں میں آوارہ پھرنے کی بجائے محلے کے ایک بزرگ حبیب حسن سے سبق لے کر تعلیم سے جڑا رہا۔ تاریخ کی لاعلمی ایسی کہ ہمیں اس محسن بزرگ کے نام کے علاوہ کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ لفظوں پر اس کا عبور اور مہارت بتاتے ہیں کہ ان کے پیچھے کسی کم علم کا قلم نہیں۔ یہ احسان یقینا اسی بزرگ حبیب حسن کاہو گا۔اپنے حالاتِ زندگی کا ذکر نہ کرنے والے ساغر صدیقی کی زندہ شاعری، ساغر کے شوقِ مطالعہ، عمدہ ذوق اور تخیلاتی اڑان کی وسعت کی گواہی ہے۔
    یہ حیات کی کہانی ہے فنا کا ایک ساغر
    تو لبوں کو مسکرا کے اس جام سے لگا لے
    غیررسمی تعلیم کے باوجود ساغر کی زبان دانی اور مہارت، الفاظ کی جادوگری کے لیے ایسی بارآور ثابت ہوئی کہ سولہ سال کی عمر سے ہی شاعری کی فتوحات ساغر صدیقی کا پیچھا کرنے لگی تھیں….امرتسر میں ایک بڑا مشاعرہ منعقد ہوا جس میں لاہور کے نامی گرامی شعرا کی موجودگی میں ساغر نے اپنے مخصوص ترنم سے غزل پڑھی۔ساغر کی آواز میں بلا کا سوز تھا اور ترنم پڑھنے میں وہ اپنا ثانی آپ تھا سو اس کے الفاظ، سوز اور ترنم نے مشاعرہ لوٹ لیا۔
    مشاعروں میں حاضری سے شاعرانہ صحبتوں کا آغاز ہوا۔ نفیس خلیلی، ظہیر کاشمیری ،احمد راہی اور مرزا جانباز سے راہ و رسم بڑھے۔ ان سب دوستوں کی صحبت اور رہنمائی کی وجہ سے شاعری میں مزید نکھار آیا۔ انیس سال کا سِن تھا جب تقسیم ہند کا واقعہ آن ٹکرایا۔جوان خون ، جذباتی خواب دیکھنے والے ایک شاعر کے دل اور اک نئی سرزمین کے سہانے دل نشیں خوابوں نے کیا کیا طلسم نہ آشکار کیے ہوں گے۔ اپنے تخیلات کو سینے سے لگائے ساغر اپنا تنہا وجود لیے پاک سرزمین کی طرف روانہ ہوا اور عظیم بہاروں اور گلزاروں کے خواب لیے لاہور پہنچ کر دم لیا۔
    ہم یہاں ساغر بنائیں گے نئی تصویر شوق
    ہم تخیل کے مجدد ہم تصور کے امام
    تیکھے خدوخال، سنہری سانولی رنگت اور گنگھریالے بالوں والے ساغر صدیقی کو آغاز میں ہجرت خوب راس آئی۔ ان دنوں اس کی شاعری عروج پر تھی ، پھلنے پھولنے کے مواقع میسر بھی تھے اور خوب ہاتھوں ہاتھ مل بھی لیا جارہا تھا۔ رسالوں میں نظمیں اور غزلیں چھپنے لگیں، فلموں کے لیے گیت لکھنے کے خوب مواقع ملے جن سے ساغر نے انصاف بھی خوب کیا۔ یہ وقت ساغر صدیقی کے عروج کا تھا۔اس دور کی متعدد فلموں کے مقبول گیت ساغر صدیقی کے قلم سے ہی نکلے تھے۔
    خود ساغر نے اس بارے میں کہا ہے:
    ”تقسیم کے بعد سے صرف شعر لکھتا ہوں،شعر پڑھتا ہوں، شعر کھاتا ہوں اور شعر پیتاہوں۔“
    لکھنے لکھانے کے شوق کی مزید تکمیل کے لیے ایک رسالہ شروع کیا جو ایک بہترین کاوش تھا۔ مگر اک نئی مملکت، جہاں کم پڑھے لکھے اور اَن پڑھ دماغوں کی بہتات ہو ، زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کی بھاگم ڈور، ایک نفسا نفسی اور افراتفری کی صورت ہو وہاں معیاری چیزوں کو پذیرائی نہ ملنا کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ چناچہ خرچہ پورا نہ کر پانے کی وجہ سے اس رسالہ کا بستر بھی گول ہوا۔
    جہاں منصب عطا ہوتے ہیں بے فکروفراست بھی
    وہاں ہر جستجو جھوٹی وہاں ہر عزم ناکارہ
     اگر ساغر صدیقی کا ساغر بھرا ہوتا تو سلگتے جذبوں ، ناآسودگیوں ،چکنا چور خوابوں اور گمشدہ منزلوں کا گداز اظہار اتنی روانی اور تلخی کے ساتھ بیان نہ ہو پاتا جتنا کہ ساغر کے ہاں ملتا ہے۔ زندگی میں آسائشوں ، محبتوں، خوابوں اور ان کی خوبصورت تعبیروں کی فراوانی ہوتی تو شاید یہ مٹھاس میں لتھڑی جلن اور چبھن اس کے الفاظ سے ندارد ہوتی۔ساغر صدیقی کے لیے مضمون لکھتے ہوئے یہ خیال آتا ہے کہ اس کا عنوان شاہکار سے پہلے نہیں شاہکار کے بعد ہونا چاہیے۔کیوںکہ زندگی کی مشکلات بابا ساغر نے گمنامی میں نہیں بلکہ شہرت کے ظہور کے بعد دیکھی ہیں۔ جتنا عروج ساغر کے نصیب میں تھا وہ یہیں تک تھا۔ اس سے آگے اس عظیم شاعر کی ہستی کے زوال اور حساس دل کی شکست کی کہانیاں ہیں۔ اس پستی میں بھی اس کا شعر اپنے عروج کی طرف سفر کرتا رہا۔جو اس کی قلندرانہ طبیعت بھی بہ ظاہر مٹی کا ڈھیر ہوتی دکھائی دیتی تھی درحقیقت تخلیقی طور پر بلندیوں کی طرف سفر پر گامزن رہی۔اسی لیے اس کے چاہنے والوں نے اسے قلندر اور بابا ساغر کے نام سے یاد رکھنا شروع کر دیا۔
    احساس کے میخانے میں کہاں اب فکرو نظر کی قندیلیں
    آلام کی شدت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
    اب اپنی حقیقت بھی ساغر بے ربط کہانی لگتی ہے
    دنیا کی حقیقت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
    نئی ریاست کی نئی زندگی سے وابستہ عظیم خواب جو ساغر اپنی پلکوں پر سجائے لاہور پہنچا تھا آہستہ آہستہ بکھرنے لگے! خوابوں کی سرزمین پر اقربا پروری، منافقت اور جھوٹ کا دور دورہ دیکھا تو ساغر صدیقی کے تخیل کے روشن اور خوبصورت رنگ پھیکے پڑنے لگے۔امرتسر میں کنگھیاں بناتے جو حوصلے نہ ٹوٹے تھے وہ نئی ریاست کے سینے پر پنپتے لالچ، طمع ،کمینگی اور منافقت سے بھرے رویوں نے توڑ دیے…. زندگی کے اعلی مقاصد اپنا رنگ کھو بیٹھیں تو رشتوں اور محبتوں کی بیڑیاں انساں کو اپنے رستے پر چلائے رکھتی ہیں۔ بہت سے پہاڑ نظریہ ضرورت کے تحت کھودے جاتے ہیں۔ مگر یہاں بھی اپنے سیاہ لباس کو لباسِ غم کے نام سے پکارنے والے ساغر کی تہی دامنی قصوروار نکلی۔خود اس کا اپنا تنہا وجود ہی سفر بھی تھا اور منزل بھی۔ زندگی کا زادِ راہ ماں باپ کی دعائیں ، نہ چوکھٹ سے جڑی بیوی کی نگاہیں اور بچوں کا تو ذکر ہی کیا کہ جن کی قلقاریاں آنکھوں میں روشنی اور جستجوجگائے رکھتیں۔ خودرو جھاڑی کی طرح اُگا اپنا تنہا وجود اس کے لیے معنی کھونے لگا۔کیا ہوں؟ کیوں ہوں؟ اور کس کے لیے ہوں؟جیسے سوال اس کے آس پاس سرسرانے لگے۔
    ”میری زندگی بھی ایک تماشا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتا میں کیوں پیدا ہوا؟ میری تقدیر کیاہے؟ ابھی تک میں کائنات سے اپنے گمشدہ رشتے کو نہیں پا سکااور اگر شعر میرے دوست نہ ہوتے تو میں صفحہ ¿ ہستی پر موجود نہ ہوتا۔“
    تنہائی کا احساس ساغر کو اپنے ساتھ لیے دلدل میں بہت تیزی سے دھنسائے چلا جا رہا تھا۔ وہ اپنی خودساختہ خودفراموشی کی خاردار تاروں میں الجھ کر ریشہ ریشہ ادھڑنے لگا…. دنیا سے جی اچاٹ ہوا تو یاروں نے خوب یاری نبھائی۔ کسی نے بوجھل اور اُداس طبیعت کو پرسکون کرنے کو نشہ آور ٹیکا لگا دیا تو کوئی کسی اور نشے میں دھت کر دینے کا باعث بنا۔ جن کو زیادہ پیار تھا وہ بھی گرتی دیوار کو دھکا دینے کے عمل میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ آتے اورتھوڑے سے نشے اور پیسے کے بدلے اس کی غزلیں اٹھا لے جاتے اور خود اپنی شاعری کی دکانوں پر سجاتے رہے۔
    بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
    کچھ باغباں ہیں برق وشرر سے ملے ہوئے
    ساغر یہ واردات سخن بھی عجیب ہیں
    نغمہ طراز شوق ہوں لب ہیں سلے ہوئے
    ساغر کی بے خودی لوگوں کو مضبوط اور خود ساغر کو کمزور تر کرکے مزید نشے میں دھکیلتی گئی۔بوسکی کی شان دار اچکن پہننے والا ساغر کھدر کی قمیص سے ہوتا ہوا چیتھڑے اوڑھ کر سڑکوں، مزاروں ،تاریک گلیوں اور بدبودار کوٹھریوں کی زینت بننے لگا۔ سگریٹ اور نشے کی عوض وہ غزلیں بیچتا رہا، لوگ خرید کر نام بناتے رہے۔ایک ناشر نے تو روزانہ ایک چائے اور سگریٹ کی ڈبی کے عوض ساغر سے پورے دیوان کا کلام لکھوا کر کتاب چھاپ دی اور ساغر کو جس کا معاوضہ صرف ایک نام کی صورت ملا۔ ”یہی کیا کم ہے کہ ہم نے نام بنا دیا۔“ اور ساغرطنزیہ ہنسی ہنستا رہا ۔
    ”وہ تو میرا خدا بن گیا ہے اور مجھے عزتیں دے رہا ہے!“
    ساغر سڑکیں ناپتا رہا اور اس کے ہنر کی کمائی لوگ کھاتے رہے…. اک واحد ساتھ جو بے وفا اور مطلب پرست نہ نکلا وہ شعر کا تھا۔ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر بھی شاعری اپنے عروج پر رہی اور نشے کا دھواں بھی اس کی بصیرت کے رنگ دھندلا نہ سکا۔
    ”وہ بدترین حالات، رسواکن غربت اور آنسو رُلا دینے والے دکھوں کے جنگل میں صرف اپنے ذہن کے ساتھ موجود تھا۔“ (یونس ادیب )
    ساغر کے نصیب کے ساتھ مفلسی اور فقیری لکھی تھی ورنہ روح تو خدا نے راج کرنے کے لیے بنائی تھی۔ اسی لیے مزاروں کا مقدر ہو کربھی اتنا پرتاثیر رہا کہ دہائیوں سے اس کی خوشبو میں کمی نہ ہوئی۔ غرور اتنا تھا کہ قصر سلطانی ٹھکرا دیئے اور عاجزی اتنی کہ حلقہ احباب سے چونی کا طلبگار رہا۔ لوگ مشاعرہ پڑھنے کے لیے خود اٹھا لے جاتے اور ساغر بابا سے ان کا دیا معاوضہ سنبھالا نہ جاتا۔ یا تو پیسے چھوڑ کر بھاگ جاتا یا پھر سڑک پر پڑے کسی فقیر غریب کی جھولی میں ڈال آتا۔ انا اتنی تھی کہ اپنی داستانِ حیات نہیں کہتا تھا اورعاجزی اتنی کہ ہنر جھولی بھر بھر بانٹ دیتا۔لوگوں کے رویے آنکھوں سے دیکھتا اور دل میں ان کا زہر اتار کر پلکیں جھکا لیتا۔لوگ سمجھتے کہ ان کی ذہانت نے اسے لوٹ لیا۔ مگر کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ ساغر بابا خود کو لٹا گیا۔ اس کی قلندرانہ مستی کے پیچھے اس کی تنہایاں ، حساسیت کے علاوہ دنیائے ہستی کے ستم اور ارباب اختیار کی ناانصافیاں بھی شامل تھیں۔مگر شکایت کرنا اس کے شایان شان نہ تھا سو خامشی سے زہر پیتا اور دنیا کے چوراہے پر رائج الوقت انسانیت کے خلاف احتجاج کی تصویر بن کے رہ گیا۔
    اب اور گردشِ تقدیر کیا ستائے گی
    لٹا کے عشق میں نام و نشاں بیٹھے ہیں
    مٹی اور راکھ سے اٹے چہرے اور سوکھ کرتڑخی زمین کی طرح کے کھردرے اور میلے ننگے پیر لیے کالی چادر لپیٹے ،آنکھوں میں روشن روشن افسردگی کے ساتھ گلیوں کی خاک چھانتے چھانتے لازوال غزلیں جنم لیتی رہیں۔کبھی راہ چلتے کسی دکان سے کاغذ قلم مانگ کر اور کبھی سگریٹ کی خالی ڈبیاں سمیٹ کر ان پر شعرلکھے جاتے اور را ت کو اسی شاعری کو جلا کر آگ سینکی جاتی۔ کچھ اپنے برے وقت کے اچھے ساتھیوں کو چلتے پھرتے سنائے جاتے۔ ذلت آمیز غربت اور خودفراموشی کی کیفیت میں بات دوستوں سے چونی مانگنے تک آ پہنچی جو صرف دن کے اختتام پرسامانِ نشہ ہی پورا کر پاتی۔
    دنیائے حادثات ہے اک دردناک گیت
    دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا
    کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا
    پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
    کچھ سنگی ساتھی اور چاہنے والے ساغر کو گھیر کے یا اٹھا کر مشاعروں میں لے جاتے، کچھ نے اس کے علاج کے لیے بھی حیلے بہانے کیے مگر ساغر کی خودفراموشی ان کی کوششوں کو باآور نہ کر سکی۔ظاہری جاہ وجلال ،عزت، رتبہ اور پیسہ اس کے لیے اپنے معانی کھو چکے تھے۔جو لوازمات عام انسانوں کی چاہتوں کی فہرست میں سب سے اوپر جگہ پاتے ہیں بابا ساغر ان سے دور بھاگتا تھا۔ چاہنے والے اسے نئے کپڑے دان کرتے اور بابا ساغر و ہ خوبصورت کپڑے غریبوں میں بانٹ کر اپنے چیتھڑوں میں واپس آ جاتا۔ ایک بار ساغر کے ہاتھ پانچ پانچ سو کے کچھ نوٹ آئے اور وہ یہ سوچ کر نکلا کہ اس سے ریشم کا بستر خریدے گا۔ باہر نکلا تو نکڑ پر ایک ننگ دھڑنگ فقیر نظر آیا۔ ایک فقیر اپنی کمائی دوسرے فقیر کی جھولی میں ڈال کر واپس اپنے پھٹے کمبل میں آ گیا۔ اس بارے میں یونس ادیب نے لکھا ہے۔
     ”ساغر کی یہ عظیم عبادتیں اس کی ابدی زندگی کی ضمانت بن گئیں۔ ننگے زخمی پیروں کو دیکھ کر خود تپتی ہوئی سڑکوں پر ننگے پاﺅں چلتا رہا۔ برہنہ جسموں کی بے حرمتی پر سیاہ پوشی کرنے والے کے حوصلے کا  مقابلہ کون کر سکتا ہے۔ بھوکے معدوں کے غم میں فاقوں کے دوزخ میں جلنا اسی کا کمال تھا۔“
     ایسی قلندری میں قسمت نے یاوری کی کوشش کی اور اچھے وقتوں میں ماشل لا کے حق میں لکھا ایک نغمہ گورنر جنرل ایوب خان کی نظر سے گزرا جو اسے بہت پسند آیا۔ قصر سلطانی سے ہرکارے خوب صورت مستقبل کے خواب ہاتھوں میں تھامے ساغر کو ڈھونڈنے نکلتے ہیں۔ ساغر خزاں کے پتوں کی طرح سڑکوں پر بکھرا ہوا ملا…. ہزار منت سماجت کے باوجود حکمراں کے در پر حاضری پر تیار نہ ہوا۔ جب سرکاری عہدے دار کسی طرح نہ ٹلے تو جھک کر زمین سے سگریٹ کی ایک خالی ڈبی اٹھائی ، اُسے پھاڑ کر سیدھا کیا اور اندر کے صاف گتے پر ایک شعر لکھ دیا.
    ہم سمجھتے ہیں ذوق سلطانی
    یہ کھلونوں سے بہل جاتا ہے
    (ساغر صدیقی بقلم خود)
    ایک شاعر کا ہدیہ شعر سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے۔ ایوب خان تک وہ ہدیہ پہنچا یا نہیں کوئی نہیں جانتا مگر ساغر میں اگر زندگی کے لیے کوئی خواہش کوئی اُمید باقی ہوتی تو وہ اس موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھاتا کیوں کہ یہ زند گی بدل دینے والا لمحہ تھا…. خوش نصیبی خود در پر پہنچی تھی جسے اس درویش نے اک زوردار ٹھوکر سے اُڑا دیا۔

    میں التفات یار کا قائل نہیں ہوں دوست
    سونے کے نرم تار کا قائل نہیں ہوں دوست
    مجھ کو خزاں کی ایک لٹی رات سے ہے پیار
    میں رونقِ بہار کا قائل نہیں ہوں دوست
    سڑکوں پر خود کو خاک بناتے ایک آوارہ کتے سے دوستی ہوئی اور دونوں ایک دوسرے کے والی وارث مقرر ہوئے۔چیتھڑوں کی گدڑی لپیٹے پھرتے سڑکوں پر سوتے جاگتے ساغر پر فالج کا اٹیک ہوا اور صرف ساغر کی قوت ارادہ نے شکست دی لیکن یہ حملہ اس کا دایاں ہاتھ لے گیا۔ یہ ہاتھ ہی ساغر کا کل اثاثہ تھا جس کے بے کار ہونے کے بعد اُس کے لئے شعر لکھنا محال ہو گیا۔
    ”بے کار ہونا ہی تھا تو بایاں ہاتھ ہو جاتا“
    ساغر سے یہ نقصان سہا نہ جاتا…. کوئی بھی زہر ساری عمر نہیں پیا جا سکتا، ایک حد کے بعدانجام تو ہونا ہی تھا۔
    ”میں نے زاد راہ جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔“
    ساغر کا یہ فقرہ اس کے دوستوں کے کانوں میں گونجنے لگا- جس وقت ملک میں سب سے بڑی ادبی تنظیم رائٹرز گلڈ کے انتخابات پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا تھا اور بہت سے تعلقات اور وسائل والے ادیب اور شاعر حضرات گھر بیٹھے معذوروں کا وظیفہ وصول کر رہے تھے،شہر کی گلیوں میں فالج زدہ ساغر صدیقی نام کا یہ بڑا شاعر ایڑیاں رگڑتا خون تھوک رہا تھا۔ یونس ادیب سے ملاقات ہوئی تو اس وقت تو ساغر نے سیاہ چادر کی جگہ سفید کرتہ پہن رکھا تھا۔
    ”مقتل کی طرف جانے کی گھڑیاں آ گئی ہیں اور میں نے کفن پہن لیا ہے۔“
    دنیا کے کاروبار میں مگن آس پاس چلتے راہگیر اس صدی کے خوب صورت شاعر کے پاس سے کپڑے بچا کے گزرنے لگے۔ساغر کی آخری سانسیں چوراہوں پر بکھر رہی تھیں اور آس پاس سے لوگ شان بے نیازی سے گزرتے رہے، دکاندار گاہکوں کے ساتھ الجھتے رہے۔ وہ کوئی لکڑی ،پتھر ،یا بے جان شے نہ تھا، یہ ساغر صدیقی کا وجود تھا جو بے وفا اور بے مروت لوگوں کے بیچ نادیدہ ہوا جاتا تھا۔ خون تھوکتا اس کاجسم ایک رات سڑک کنارے اکڑ گیا اور اس کی روح جسم کی ذلت اور غلاظت سے آزاد ہو گئی…. اس کا جنازہ کس نے پڑھا، کفن دفن کس نے کیا، کون اس کے جنازے میں شریک ہوا یہ بھی اس کی زندگی کی گمشدہ کہانی ہی کی ایک کڑی رہی جس کا کوئی سرا کسی تاریخ داں کے ہاتھ نہ لگا۔
    لفظوں کی جادوگری کا سورج ڈوبا اورریڈی میڈ شاعری کی مفت سبیل کا قصہ بھی تمام ہوا۔ شہرت کے مقدر کے ساتھ پیدا ہوئی روح اپنا وعدہ وفا کرکے رہی اور جسم کے ساتھ مفلسی وفاشعار بیوی کی طرح وفا نبھاتی رہی۔گلیوں کی پیداوار گلیوں میں پروان چڑھنے والا آخر اپنے شاہ کار راستوں میں چھوڑ کر گلیوں کی نظر ہو گیا۔ وراثت میں مرحوم نے وہی آوارہ کتا چھوڑا جس کی موت بھی اِسی گلی کے اسی کنارے واقع ہوئی۔جانور کی یہی خوبی ہے، انسانوں کی طرح ابھی بے وفائی اور بے مروتی ان کی گھٹی میں نہیں پڑی….
    موت اک انگبیں کا ساغر ہے
    زندگی زہر کی پیالی ہے
    چونی دینے والوں ، مفت کی شاعری اڑانے والوں اور پیسے دبا کر بیٹھنے والوں نے مر جانے کے بعد ساغر بابا کی موت پر خوب وفا نبھائی کہ جس کے سر پر چھت نہ تھی اس کا سنگ مرمر سے مزین مزار بن گیا۔ جو جسم سڑکوں پر تنہا ننگے سر دھوپ اور بارش سہتا رہا اس کے مزار پر سالانہ میلے لگنے لگے۔زندگی ظالم نہیں زندگی کے ساتھ ملنے والی دنیا ظالم ہوتی ہے جس پر ان کے رب نے صحیفوں پر صحیفے اتارے، پر انسان انسان کا دشمن ہی رہا ، دوست اور درماں نہ بن سکا۔ اگر تاریخ کے اوراق میں ساغر کے لیے زوال کے بعد عروج ہوتا تو آج ہمارے پاس اس کے اپنے ہاتھ سے لکھی سوانح حیات بھی ہوتی اور اس کے بارے میں لکھے گئے مضامین اور مدح سرائی سے بھرے مقالوں اور کتابوں کا انبار ہوتا۔ مگر چونکہ ساغر ایک ٹوٹا تارا تھا، اس لیے اس سڑک چھاپ افیمی شاعر کے لیے نہ کسی پبلشر کو سوانح عمری میں کچھ منافع دکھائی دیا اور نہ ہی حکومتی اور غیر حکومتی اداروں نے لفظوں کے جادوگر سے کوئی تعلق واسطہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ چناچہ آج اس کی زندگی کی کہانیوں کی تلاش کے دوران ہمارے ہاتھوںمیں ایک آدھ کتاب، چند چھوٹے چھوٹے مضامین اور دھندلی تصویروں کے سوا کچھ نہیں آتا۔
    گم سم کھڑی ہیں دونوں جہاں کی حقیقتیں
    میں ان سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

  • سٹیفن کنگ ۔ شاہکار سے پہلے

    سٹیفن کنگ ۔ شاہکار سے پہلے

    سٹیفن کنگ
    مدیحہ ریاض

    کامیابی کوئی کہانی نہیں ہے جس کا ایک آغاز، ایک درمیان اور ایک اختتام ہو۔ یہ کوئی راستہ بھی نہیں ہے، کیوں کہ راستوں کی بھی یا تو منزلیں ہوتی ہیں یا dead ends۔ مجھے لگتا ہے کامیابی ایک ذہنی کیفیت ہے، ایک رویہ، کوشش ، کوشش، اور ہر لمحہ کوشش۔۔۔ہنر پر بھروسا۔۔۔خطرہ اٹھانے کی ہمت۔۔۔اور قربانی دینے کا حوصلہ۔۔۔یہ سب وہ کنجیاں ہیں جو اس رویے ، اس کیفیت کا خاصہ ہیں۔ آپ کسی بھی کامیاب انسان کی زندگی کی کہانی اٹھا کر دیکھ لیں، یہ چند عناصر ہر کہانی میں موجود ہوں گے۔
    اس مرتبہ ہم جس شاہکار کی کہانی آپ سے بانٹ رہے ہیں وہ جدید انگریزی فکشن کا ایک بہت بڑا نام ہیں۔ انگریزی فکشن انہیں "Master of Horror”, "The King of Horror” اور "The King” جیسے القابات سے مخاطب کرتا ہے۔ ہارر، مسٹری، سسپنس اور غیر ماورائی بہ شمول سائنس فکشن لکھنے میں انہیں ایک عجیب ملکہ حاصل ہے۔
    یہ تمام وہ اصناف ہیں جنہیں لکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے حقیقتاً ایک انتہائی قابل ذہن ، مسحور کن تخّیل اور قدرتی ہنر بہت ضروری ہیں۔ رومانی اور معاشرتی مسائل پر لکھنا نسبتاً بہت آسان ہے کیوں کہ ان کہانیوں کی مثالیں اور inspirations زندگی کے ہر موڑ پر بکھری پڑی ہیں۔ ہارر ، مسٹری اور سسپنس وہ اصناف ہیں جنہیں لکھنے کے لیے قلم کار کو پچھتر سے اسّی فیصد اپنے تخیل کو ہی استعمال میں لانا پڑتا ہے۔ لیکن اگر آپ کا تخیل سٹیفن کنگ جیسا شان دار اور کہانیوں سے بھرا ہو تو بس، آپ کا آدھا کام تو ہو گیا۔
    سٹیفن کنگ ایک ایسے ہارر رائٹر ہیں جنہوں نے اس صنف کو ایک نئی شکل دی ہے۔ بھوت پریت، غیر ماوارئی مخلوقات، زندہ لاشیں، کراہتے دروازے اور خون سرد کر دینے والی چیخیں، جو تقریباً ہر ہارر سٹوری کا حصہ ہوتی ہیں، خال خال ہی سٹیفن کنگ کی کہانیوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں باقی مصنفین کا ہارر پڑھتے کبھی تو ہنسی چھوٹ جاتی ہے اور کبھی بے یقینی سے آنکھیں گھمانے کا دل کرتا ہے، وہیں سٹیفن کنگ کا ہارر آپ کی رگ رگ جکڑ لیتا ہے۔
    سٹیفن کنگ کا ہارر انسان کی اپنی نفسیات سے جنم لیتا ہے۔ evil کوئی بیرونی واقعہ نہیں جو کرداروں کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے بلکہ اس کی جڑیں کرداروں کے خود اپنے اندر ہوتی ہیں۔ سٹیفن کنگ کی بہت کم ایسی کہانیاں ہیں جہاں کردار کسی بیرونی شیطانی طاقت کا سامنا کرتے ہیں، لیکن ان کہانیوں میں بھی آپ کو خوف میں مبتلا کر دینے والی چیزیں وہ طاقت ور غیر ماوارئی مخلوقات نہیں، بلکہ انسانی کرداروں کے ان طاقتوں کا سامنا کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے رویے، فیصلے اور اعمال ہیں۔
    اس بارے میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
    ”میں برائی کے ہونے اور اس کی موجودگی پر یقین رکھتا ہوں۔ لیکن اپنے پورے کیرئیر میں بار بار میں یہ سوچتا رہا ہوں کہ کیا دنیا میں کوئی بہت بڑی، بُری یا بیرونی طاقت ہے جو ہمیں برباد کرنا چاہتی ہے؟ یا پھر یہ تمام برائیاں ہمارا اپنا ہی حصہ ہیں، ہمارے ماحول اور جینیات سے پیدا ہوتی او ر بڑھاوا پاتی ہیں۔ “
    دنیا میں کسی شیطانی طاقت کے ہونے یا نا ہونے پر اتنے معروضی انداز میں بات کرتے ہوئے اس پر اعتماد لکھاری کے بارے میں شبہ ہوتا ہے کہ شاید وہ ہمیشہ سے ہی اتنا پر اعتماد اور مطمئن تھا۔ لیکن اپنے ہنر میں طاق اس لکھاری نے Master of Horror Storytelling کا لقب پانے سے پہلے زندگی کو کیسی کیسی کروٹیں لیتے دیکھا، آئیں جانتے ہیں۔
    سٹیفن کنگ اکیس ستمبر 1947 ءکو امریکی ریاست ©”مین“ کے شہر پورٹ لینڈ میں پیدا ہوئے۔ سٹیفن کنگ کا باپ ایک سمندری تاجر تھا اور ماں ایک گھریلو عورت۔ زندگی نے جب پہلا جھٹکا سٹیفن کنگ کو دیا تب دو سال کا یہ بچہ اس صدمے کی شدت اور بدصورتی محسوس کرنے سے محفوظ تھا۔ ایک عام سی شام تھی جب سٹیفن کنگ کا باپ ڈونلڈ اپنے بیوی بچوں سے سگریٹ خریدنے کا بہانہ کر کے گھر سے نکلا اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔ پتا نہیں اگلے کچھ دن اور کچھ راتیں دو بچوں کی اس نوجوان ماں نے کیسے کاٹی ہوں گی، روتے ہوئے بچوں کو باپ کے واپس آنے کے بارے میں کیا بتایا ہو گا؟

  • مایا اینجلو ۔ شاہکار سے پہلے

    مایا اینجلو ۔ شاہکار سے پہلے

    مایا اینجلو ۔ شاہکار سے پہلے

    الماس آصف

    ہم میں سے بہت سے لوگ، مایا اینجلو کوایک عظیم امریکی مصنفہ اور شاعرہ کے طور پر جانتے ہیں مگر یقینا اس کی شخصیت کے ان خفیہ پہلووں سے واقف نہیں، جنہوں نے اسے مارگریٹ اینی جانسن سے ”مایا اینجلو“ بنایا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مایا نے زندگی میں جن مشکلات کا سامنا کیا، کوئی عام عورت ان میں سے نصف کو بھی برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔
    4 اپریل 1928ءکو ریاست میزوری کے اہم شہر سینٹ لوئز کے سیاہ فام امریکی خاندان میں جنم لینے والی مایا کی آزمائشوں سے بھرپور زندگی کا آغاز اسی دن سے ہو گیا تھا جب محض تین برس کی عمر میں اس کے والدین نے روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آ کراپنی زندگی کی راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کیا اور بعدازاں بچوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر اسے چار سالہ بھائی بیلے کے ہم راہ آرکنساس ان کی دادی کے پاس بھجوا دیا۔ معصوم بہن بھائی تنِ تنہا اپنا مختصر سامان سنبھالے بہ ذریعہ ٹرین طویل سفر طے کرنے کے بعد دادی کے گھر پہنچے تو ان کے لئے یہ ایک نئی زندگی کا آغاز تھا۔
    یہ وہ دور تھا جب دنیا پر دوسری جنگِ عظیم کے سائے لہرانے شروع ہو گئے تھے۔ سیاہ فام امریکی، بنیادی انسانی حقوق سے محروم کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ مایا کی دادی اشیائے خوردونوش بیچنے کا کاروبار کرتیں جس سے خاصی معقول آمدنی ہو جایا کرتی۔ اسی بنا پر وہ سمجھتیں کہ اس مشکل گھڑی میں وہ دونوں بچوں کی بہترین نگہداشت کے قابل ہیں۔
    اگلے چار برس کمسن مایا کا بچپن، بھائی کے ساتھ خوش گوار انداز میں بسر ہوا۔ تاہم جب وہ آٹھ برس کی ہوئی تو ایک روز اچانک ہی اس کا باپ اپنے دونوں بچوں کو لینے آن پہنچا اور یوں انہیں واپس ان کی ماں کی سرپرستی میں دے دیا گیا۔ مایا، والدین کے گھر واپسی کو اپنی زندگی کا ”ٹرننگ پوائنٹ“ قرار دیتی ہے جس کی بڑی وجہ کمسنی میں اس کا اپنی ماں کے بوائے فرینڈ کے ہاتھوں عصمت دری کا وہ واقعہ ہے جس نے زندگی میں پہلی بار اسے ایک شدید ترین ذہنی صدمے سے دوچار کیا۔ یہ تکلیف دہ سانحہ اس کی پوری زندگی پربہت اثرانداز ہوا۔ مایا نے اس واقعے کا تذکرہ صرف بیلے سے کیا جس کے ذریعے یہ بات اس کے رشتہ داروں اور پھر پولیس تک جا پہنچی۔ گرفتاری کے بعد فری مین نامی شخص محض دو روز بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا، تاہم رہائی کے چار روز بعد ہی مایا کے رشتہ داروں نے اسے رنجش کی بنا پرموت کی نیند سلا دیا۔ اس سنگین واقعے کاکمسن مایا کے ذہن پر اس قدر گہرا اثر ہوا کہ احساس جرم اورصدمے کی کیفیت میں مبتلا ہو کر وہ پانچ برس کے لئے قوت گویائی سے تقریباً محروم ہوکر رہ گئی۔ مایا اس واقعے کے نفسیاتی پہلو پر بات کرتے ہوئے اپنی سوانح حیات میں لکھتی ہیں:
    ”اس قتل کے بعد میں نے اپنے اوپرخاموشی طاری کر لی کیوں کہ مجھے لگا کہ میری آواز اتنی طاقت ور تھی جو ایک انسان کے قتل کا باعث بنی۔ میں سمجھتی تھی میری آواز نے ہی اس شخص کی جان لی تھی اور اگر دوبارہ زبان کھولی تو میں پھرکسی انسان سے اس کی زندگی چھین لوں گی۔ میں ایسا ہرگز نہیں چاہتی تھی کیوں کہ میں اندرونی طور پرنہایت خوف زدہ ہو کررہ گئی تھی۔ میں بالکل خاموش رہ کر زندگی گزارنا چاہتی تھی۔“
    مذکورہ واقعے کے تناظر میں مایا کوایک بار پھراس کی دادی کی سرپرستی میں دینے کا فیصلہ ہوا، جہاں اس کی زندگی ایک مختلف انداز میں بسر ہونے لگی۔ پانچ برس کا خاموش دور اس کے لئے روحانی طور پرنہایت مفید ثابت ہوا۔ اس دوران اسے اپنے اردگرد کے ماحول، انسانی رویوں اور زندگی کے دیگر واقعات کا مشاہدہ کرتے ہوئے قیمتی ترین باتیں سیکھنے کا موقع ملا۔ پانچ برس کے اس طویل عرصے میں وہ سوائے اپنے بھائی یا ذاتی ڈائری کے کسی سے دل کی بات نہ کر سکی۔ بات کرنے پر آمادہ کرنے کی ناکام کوششوں کے بعد بالآ خراس کی دادی اور ماموں نے ہار مانتے ہوئے اسے اس کے حال پر چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا۔
    وہ اپنے زمانہ ¿ طالب علمی سے متعلق یادداشت رقم کرتے ہوئے لکھتی ہے۔

  • کفن میں پاکٹ  ۔ افسانچہ

    کفن میں پاکٹ ۔ افسانچہ

    کفن میں پاکٹ

    فاطمہ شیخ

    ”کیا صاحب؟ ایک جیکٹ کم قیمت میں خریدنے کے لیے آپ نے سارا دن ہمارا ٹانگ تڑوایا۔“ گل خان اپنے مخصوص پختون انداز میں بولا۔

    ”کچھ تو خوفِ خدا کرو گل خان! ہمیں صرف دو گھنٹے لگے ہیں۔“ ولی نے اس کی مبالغہ آرائی پر کانوں کو ہاتھ لگایا۔

    ”صاحب دو گھنٹے میں بھی ٹانگ بہت دکھ جاتا ہے۔“ گل خان نے منہ بسورا۔

    ”تمہیں ناصر بھائی کے ساتھ رہ رہ کر گاڑی کے مزے لگ گئے ہیں۔“ ولی نے رُک کر اپنے سامنے والی سڑک پر ایک بُری طرح سے جھلسی ہوئی دکان کا جائزہ لیتے ہوئے گل خان کو گھرکا۔

    ”ویسے صاحب بُرا نہ ماننا، لیکن ناصر صاحب آپ کی طرح کنجوس نہیں تھا۔ کیا ٹھاٹ تھا اس کا، شان سے ایک بڑی سی دکان میں گھسا اور اچھا سا چیز اٹھا کر اس کا پیسہ دیا اور ایسے ہی شان سے گاڑی میں آکر بیٹھ گیا اور ایک تم ہو…. جب تک ہمارا ٹانگ نہ دکھا دو کچھ خریدتا نہیں ہو او صاحب! ہمارا ایک بات غور سے سنو، کفن میں پاکٹ نہیں ہوتا…. یہ تم اتنی کنجوسی دکھا کر اتنا ڈھیر سارا پیسہ کدھر لے کر جائے گا؟“ گل خان نے تپ کر ولی کو غیرت دلانہ چاہی۔

    ”بالکل غلط گل خان! کفن میں پاکٹ ہوتا ہے۔“ وہ فلسفیانہ انداز میں بولا۔

    ایک پوشیدہ پاکٹ…. جو دکھتا نہیں لیکن ہوتا ہے اور میں اپنی کنجوسی سے بچائے پیسے کو اپنے کفن کی اسی پاکٹ میں جمع کر کے رکھتا ہوں….“

    ”او صاب! تم کدھر جاتا ہے؟“ گل خان نے ولی کو اس جھلسی ہوئی دکان کی سمت بڑھتا دیکھ کر پوچھا جس کے باہر دکان کا بوڑھا مالک سر پر ہاتھ رکھے بیٹھا تھا۔

    ”اس مہنگی جیکٹ سے بچے ہوئے پیسے کو اپنے کفن کی پاکٹ میں رکھنے….“ وہ اب اس بوڑھے شخص کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے تسلی دیتا دوسرے ہاتھ سے اپنی پاکٹ سے پیسے نکال رہا تھا۔

    ٭….٭….٭

  • سکرین رائٹرز  ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرین رائٹرز 

    ایک سکرین رائٹر، سکرین رائٹر اور بس سکرین رائٹر ہی ہوتا ہے۔ کئی سکرین رائٹرز ٹی وی، فلم، مزاج اور ڈرامہ لکھ سکتے ہیں مگر ان میں سے ہر صنف کا مزاج الگ ہوتا ہے۔

    مثال کے طور پر ٹی وی کے لیے مزاج لکھنے والے لکھاری نہ صرف عام طور پر مزاحیہ مزاج رکھتے ہیں بلکہ اپنے کام کی بدولت فلم سازوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں اور بعض اوقات انتہائی دبائو کے عالم میں بھی کام کرنا پڑے تو کر سکتے ہیں۔ سِٹ کام سکرین رائٹنگ یا مزاحیہ ڈرامہ یا سین بنانے میںپورا ایک گروپ متحرک ہوتاہے۔ ایک روایتی سِٹ کام کی تکمیل میں دس بارہ کل وقتی لکھاریوں کی کوششیں شامل ہوتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لکھاری کے بڑے سے کمرے میں اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔ جہاں بھانت بھانت کے لوگ مختلف واقعات و گفتگو شیئر کرتے ہیں۔ ہر قسط کے پلاٹ کے ہرہر نقطے کو زیر بحث لاتے ہیں۔ لطائف بازی ہوتی ہے جن سے کہ مزاحیہ سین کشید کیے جاتے ہیں اور سکرپٹ کے ہر ہر سین پر اُس وقت تک بحث ہوتی ہے جب تک کہ وہ شوٹنگ کے لیے تیار نہیں ہو جاتے۔

    سکرین رائٹر کیسے بنتے ہیں؟

    سکرین رائٹر بننے کے لیے سب سے پہلے اپنی تحریری صلاحیتوں کو نکھاریئے اور اس کے ساتھ بطور لکھاری بھی اپنا ایک مضبوط تشخص ابھاریئے۔ یعنی کہ آپ کو لکھاری کے طور پر سنجیدگی سے لیا جائے۔

    آپ کا اوّلین ہدف سکرین رائٹر بننا یا ٹی وی سکرپٹ لکھنا نہیں بلکہ صرف ” لکھنا ” ہونا چاہیے۔ کچھ بھی، کوئی مضمون، شارٹ سٹوری، کہانی، افسانہ یا کچھ بھی لکھیں۔سب سے پہلے اپنی تحریر میں پختگی لائیں۔ جب آپ کو ”لکھنا” آ جائے گا تو پھر آپ مزیدآگے بڑھ سکتے ہیں۔

    یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے جسے صرف ثابت قدمی سے ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ لکھنا، لکھنا اور بس لکھنا۔ اپنی ان اوّلین تحریروں کو ایک ناقد کی نظر سے خود پڑھیں، دوسروں کو پڑھائیں اور ان کی آرا کی روشنی میں اس مشق کو مطلوبہ معیار تک جاری رکھیں۔ مشق آخر کار آپ کو پختہ کار بنا دے گی۔

    کچھ لوگ باقاعدہ کسی ادارے سے باقاعدہ ترتیب لینا زیادہ سود مند تصور کرتے ہیں۔ ان میں کالج کورس، فلم سکول پروگرام یا آن لائن رائٹنگ ورکشاپس جیسے رہنمائی دینے والے میڈیاہیں۔ ان اداروں کو جوائن کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں آپ کو ایک مقررہ وقت پر کام کر کے دکھانا ہوتا ہے اور پھر اس کا گریڈ بھی ملتا ہے یا مقابلے بازی کا رجحان ہوتا ہے۔ کسی فلم سکول میں داخلے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں آپ کا براہِ راست واسطہ فن کاروں، لکھاریوں اور فلم سازوں سے پڑتا ہے۔ جہاں آپ کام ہوتے دیکھتے اور کئی نئے نئے آئیڈیاز بھی پاتے ہیں۔ اور اگر ایک محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ خوش قسمت بھی ہیں تو براہِ راست یہاں ملازمت بھی حاصل کرتے ہیں۔

    سکرین رائٹر سافٹ ویئر

    سکرین رائٹر سافٹ ویئر شوقیہ اور پیشہ ورانہ دونوں اقسام کے سکرین رائٹرز کے لیے یقینا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ سکرین رائٹر سافٹ ویئر خریدنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انڈسٹری سٹینڈرڈ کے مطابق بنائے گئے فارمیٹ کے مطابق اپنا سکرپٹ تیار کر سکتے ہیں۔

    ایک بڑی اہم، عجیب اور منفرد بات یہ ہے کہ آدھے گھنٹے کے سِٹ کام، ایک گھنٹے کے سِٹ کام، ایک گھنٹے کا ٹی وی ڈرامہ اور فیچر فلم، ان میں سے ہر ایک کا فارمیٹ الگ ہوتا ہے۔ ان سب کے لیے ایک فارمیٹ کام نہیں دے سکتا۔ اور اس سے بھی انوکھی بات یہ کہ کچھ خاص شوز کے لیے گفتگو کے نکات تحریر کرنے کے لیے فارمیٹ بالکل مختلف ہوتے ہیں۔

    جب آپ اپنا سکرپٹ کسی پروڈیوسر یا ایجنٹ کے ہاتھ میں تھماتے ہیں تو وہ سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اس میں کرداروں کے نام اور مقام کس طرح سے لکھے گئے ہیں، سین کی وضاحت کیسے کی گئی ہے، اور کیا سین میں تسلسل ہے۔ آپ fade out اور jump cut  کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

    تواپنا پہلا سکرین پلے یا سکرپٹ کسی پروڈیوسر یا ادارے کو بھیجنے تک پوری کوشش کریں کہ ان تمام جزئیات پر آپ کو پورا عبور حاصل ہے۔

  • کامیابسکرپٹ لکھنے کے چھے گُر  ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    کامیابسکرپٹ لکھنے کے چھے گُر  ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    کامیابسکرپٹ لکھنے کے چھے گُر 

    (ملین ایئر سکرپٹ رائٹر کے قلم سے)

    ہر گزرتے دن کے ساتھ فلم انڈسٹری میں ایک سے بڑھ کر ایک سکرین رائٹرمنظرِ عام پر آرہا ہے، جن میں سے ہر رائٹر کے خیالات ہر لحاظ سے پختہ اور جامع ہوتے ہیں۔ وہ اپنے خیالات اورتجربات کو قلم کی مدد سے صفحۂ قرطاس پر منتقل کرتا ہے اوراس طرح بہترین سکرپٹ ترتیب پاتا ہے۔ اس کے بعد رائٹر بنا سوچے سمجھے اپنا سکرپٹ اور ون لائنر پروڈیوسرز کو بھیج دیتا ہے جہاں سے وہ سکرپٹ بری طرح رد ہونے کے بعد مصنف کے پاس واپس پہنچتا ہے۔آخرایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس آرٹیکل میں ہم نے اپنے قارئین کو ان ہی وجوہات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی بنا پر بہت اچھے اچھے سکرپٹ بھی رد کر دیئے جاتے ہیں۔

    سکرپٹ لکھتے ہوئے اگر ان چھے باتوں کا خیال رکھا جائے تو کوئی بھی پروڈیوسر آپ کا سکرپٹ رد نہیں کر سکتا بہ شرط یہ کہ خیال بھی عمدہ ہو۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آخر وہ ایسے کون سے اصول ہیں۔

    1۔ اپنی تحریر پر باربار نظرثانی کریں:

     سینما گھر یا ٹی وی سکرین پر جو ڈراما یا فلم آپ بہت شوق سے دیکھتے ہیں، وہ فلمائے جانے سے قبل پروڈیوسرز کی جانب سے بار بار رد ہوتی ہے یا اس کے سکرپٹ میںوقتاً فوقتاً اس قدر تبدیلیاں کی جاتی ہیں کہ ابتدائی مسودے اور فائنل سکرپٹ میں بہت کم مماثلت رہتی ہے۔سکرپٹ فائنل ہونے کے بعد جب شوٹنگ شروع ہوتی ہے تو بعض اوقات ہفتوں اور مہینوں کی محنت کو بری طرح سے رد کر دیا جاتا ہے کیوں کہ جس اداکار نے کام کرنا ہوتا ہے، وہ موجود نہیں ہوتا یا پھر وہ لباس نہیں مل پاتے جو اس نے پہننا ہوتے ہیں۔تو ذہنی طور پر اپنے لکھے ہوئے کو بار بار دوبارہ لکھنے کے لیے تیار رہیں۔ 

    2۔ ذہن میں ایک سٹار کا تصور رکھیں:

    جب بھی آپ اپنی مووی کا سکرپٹ لکھنے لگیں، تو آپ کے ذہن میں مرکزی کردار کے مطابق ایک اداکار لازمی ہونا چاہیے۔ ہوسکتا ہے جس وقت آپ فلم لکھ رہے ہوں،آپ کو ایسا محسوس ہو کہ اس وقت فلمی دنیا میں وہ کردار ادا کرنے کے لئے چودہ کے قریب اداکار ہوں۔ لیکن اس کے باوجود آپ کو اس بات کی مکمل یقین دہانی کرنی چاہیے کہ کیا ان میں سے ایک یا دو اداکار آپ کے سکرین پلے کے لئے بالکل موزوں ہیں ۔

    ہالی ووڈ انڈسٹری میں بننے والی کسی بھی فلم کا بجٹ کم از کم ڈھائی کروڑ ڈالر تک ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی اپنی فلم پر اس قدر خطیر رقم خرچ کررہا ہے، تو اس فلم میں کم از کم ایک اچھا اداکار لازمی ہوناچاہیے۔ اس لیے وہاں سکرپٹ لکھتے ہوئے لکھاریوں کے ذہن میں اکثر ایک نامور ادارکار ہوتا ہے جسے وہ اپنے کردار کے لیے بالکل موزوں سمجھتے ہیں۔ آپ کے سکرپٹ کے لیے کیا کوئی کامیاب اداکار آپ کے ذہن میں ہے؟

    3۔فلم کے روایتی فارمولے کو ترک مت کریں:

    آپ کی فلم کا آئیڈیا بالکل منفردہو نا ضروری ہے، لیکن اس کا فارمولا باقی موویز کی طرح ہی ہونا چاہیے۔ آپ کو ایسا سکرپٹ لکھنا چاہئے جس کی فلم کے تیس سیکنڈ کے ٹریلر سے ہی ناظرین مکمل فلم دیکھنے پر مجبور ہوجائیں اور ایسی تمام فلموں کی ساخت ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔

    فلم کی بنیادی ساخت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ سکرپٹ لکھتے ہوئے آپ ایک آدمی کو لیں، اس کو درخت پر چڑھائیں، پتھر ماریں، اور پھر اس کو درخت سے نیچے اتاریں اور آخر میں دوبارہ چڑھا دیں۔

    مثال کے طور پر Die Hard   The Matrix, Casablanca,  ان تینوں فلموں میں ہیروز کو ان کی خواہش کے برعکس حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن آخر میں وہ جیت گئے۔ یہ ایک فلم کا سٹرکچر ہے، جس پر عمل کر کے آپ مشکلات سے بچ سکتے ہیں۔

    4۔ابتدائیہ اختتام سے بھی زیادہ اہم ہے:

    سکرین پلے کے ابتدائی دس صفحات وہ ہیں جو نہ صرف کسی بھی فلم کے ناظرین بلکہ ہالی ووڈ انڈسٹری میں موجود پروڈیوسرز اور اداکاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اگر آپ کے سکرین پلے کا ابتدائی حصہ مزے دار اور دل چسپ نہیں ہیں تو کوئی آگے کی کہانی نہیں پڑھے گا۔

    ابتدائیہ بالکل اوریجنل ہونے چاہیے تاکہ اس پر بننے والی فلم فوراً ناظرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواسکے۔ سکرپٹ پڑھنے والوں کی توجہ اختتام سے زیادہ سکرین پلے پر ہوتی ہے۔ اگر آپ کی توجہ اچھی فلموں کے اختتام پر ہے، تو تقریباً تمام فلموں کا اختتامیہ ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔بروس ولز ولن کو ہرادیتا ہے، ہیرو ڈیتھ سٹار کو مار دیتا ہے، لوگ شارک کو ماردیتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

    5۔مسودے سے زیادہ اہم کہانی بیان کرنا ہے:

    کہانی کوبیان کرنے کا عمل سیکھنے سے زیادہ اہم چیز کوئی نہیں ہوسکتی۔ اگر آپ ایک اچھے سکرین رائٹر بننے جارہے ہیں، تو آپ کو اس کے ساتھ ساتھ ایک اچھا اداکار اور سیلزمین بھی بننا پڑے گا۔ آپ کو کسی پروڈیوسر سے بات کرتے ہوئے دس منٹ کے اندر اندر اپنا آئیڈیا سنانا ہوگا ، اور اس کو اپنا وہ نظریہ دکھانا ہوگا جس سے آپ خود اپنی مووی کو دیکھتے ہیں، اور یہ کہ اس کے اندر آپ کو کیا چیز پسند ہے۔ بعض اوقات یہ مسودے کو پیش کرنے سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے۔

    6۔ جملوں کے لئے زیادہ باریک بین نہ ہوں:

    بہت سے نئے لکھاری اپنے سکرپٹ سے زیادہ توجہ جملوں اور مکالموں پر دیتے ہیں، ان کے نزدیک ان کی فلم کی کامیابی ان کے اچھے جملوں کی مرہونِ منت ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔آپ کے جملے شوٹنگ کے پہلے ہی دن اداکار رد کردیتے ہیں، وہ یا تو اپنی طرف سے ان جملوں کو تبدیل کرتے ہیں یا پھر نئے سرے سے ان کو لکھتے ہیں۔آپ کا سکرپٹ اتنا اچھا اور شاندار ہونا چاہیے کہ ایک کامیاب اداکار اس کو کرنے کے لئے حامی بھر لے لیکن ساتھ ہی آپ کو یہ بھی امید کرنی چاہیے کہ وہ اس فلم میں آپ کے تخلیق کردہ کردار کے اندر رہ کر ایک شاندار اداکاری کا مظاہرہ کرے اور ساتھ ہی نئے جملے بھی لکھے۔فلم میں بنیادی چیز پلاٹ ہوتا ہے نہ کہ مکالمے۔

    دوسری طرف سائنس فکشن اور کچھ دوسری اصناف میںمکالمے بہت اہم ہوتے ہیں کیوں کہ ڈائیلاگز کی مدد ہی سے فلم کے حقائق کا پتہ چلتا ہے، ہاں البتہ مزاح اور ڈرامہ میں آپ اداکاروں کو آزادی دیں تاکہ وہ خود سے اپنا حصہ بھی ڈال سکیں۔ ایک اچھا اداکار اپنے کردار میں خود کو ڈھالتا ہے، اس کی طرح بولنے کا انداز اپناتا ہے اور یہ ایک اچھی چیز ہے۔

    آپ کے نزدیک ان تمام ٹپس میں سے سب سے زیادہ کارآمد کون سی ہے؟

  • کہانی زیادہ ضروری ہے یا کردار؟ ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    کہانی زیادہ ضروری ہے یا کردار؟

    اعلیٰ پائے کے تمام مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ کہانی کرداروں کی نسبت بہت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اگر پلاٹ اور کہانی کی ڈھانچہ مضبوط نہیں تو صرف دلچسپ اور پر کشش شخصیتوں والے کردار آپ کے ہر سکرپٹ کو مقبولیت نہیں دے پائیں گے۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم کرداروں کو نظر انداز کردیں۔

    دیکھا جائے تو کہانی اور کرداروں کو دو الگ چیزیں تصور کرنا ایک غلطی ہے۔ یہ در اصل دو جسم ایک جان والا معاملہ ہے۔آپ جس کہانی کا بھی معائنہ کرلیں، کردار کہانی کے بغیر کچھ نظر نہیں آئے گا اور کہانی کردار کے بغیر کچھ نہیں لگے گی۔ جب کبھی کوئی کردار مشہور ہوا ہے تو وہ کہانی کے سر پر ہوا ہے اور جب کبھی کسی کہانی کو پذیرائی ملی ہے تو وہ کرداروں کے باعث۔

    کہانی لکھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ کہانی کے پلاٹ اور تھیم سے آگاہ ہونے کے بعد اپنے کرداروں پر توجہ دیں۔ کہانی لکھنے سے پہلے کرداروں کی مکمل اور تفصیلی بائیوگرافی لکھیں۔ یہ طریقہ کار مشہور مصنفہ جے کے رولنگ کا ہے۔ ہیری پوٹر کا مسودہ لکھنے سے پہلے انہوں نے ہیری پوٹر کی پوری دنیا، کرداروں کا پس منظر، ہر چھوٹے بڑے کردار کی مکمل بیک گرائونڈ سٹوری تخلیق کی۔ یہ طریقہ ء کار وقت لیتا ہے لیکن اس کے نتائج نہایت عمدہ اور ایک باریک بینی سے لکھی ہوئی دلچسپ کہانی کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔ 

    دوسرا طریقہ ء کار اس کے بالکل بر عکس ہے۔ کچھ مصنفین کے مطابق اس طرح کی چیزیں کہانی کو کرداروں سے بہت دور کردیتی ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ ایک لکھاری کہانی لکھنے سے پہلے کرداروں کو دریافت کرے اس سے بہتر ہے کہ وہ کرداروں کوخود ہی کہانی دریافت کرنے دے۔ اس سے نہ صرف کہانی نمایاں مقام لے گی بلکہ کردار خود بخود اس کے نئے نئے موڑ دریافت کرتے رہیں گے۔ عین ممکن ہے کہ اس اپروچ کو استعمال کر کے لکھاری خود اپنی کہانی اور کرداروں کے بارے میں چونک جائیں۔ 

    کیوں کہ دیکھا جائے تو اگر ایک کہانی اپنے لکھاری کو ہی متاثر نہیں کر پاتی تو بہت مشکل ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والوں کو متاثر کر سکے ۔

    لیکن اس سے پہلے کہ آپ ان دونوں طریقوں میں سے اپنے لیے ایک منتخب کرنے کا سوچیں، یہ ضرور جان لیں کہ ہر لکھاری ایک الگ انداز اور الگ نظر رکھتا ہے۔ کچھ لکھاری کرداروں پہ تفصیلی کام کر کے ہی کہانی کو آگے بڑھا سکتے ہیں، جب کہ کچھ مصنفین کہانی کے پیچ و خم پر کام کرتے کرداروں کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ یہ طریقہ ء کار خاص طور پر مسٹری، سسپنس اور تھرل لکھنے والے مصنفین استعمال کرتے ہیں۔ 

    رومینس، تاریخ، فیملی ڈرامہ، اور ایسی دوسری اقسام کے لیے بہتر ہے کہ پہلے کرداروں پر توجہ دی جائے تا کہ قاری کردار کے جذبات کے ساتھ جڑ سکے۔ 

    اچھی کہانی تخلیق کرنے کے لیے ان تمام پہلوئوں کا بغور جائزہ لے کر، اور اپنی طبیعت کے قدرتی میل کے مطابق فیصلہ کیجیے کہ آپ کے لیے کردار زیادہ اہم ہیں یا کہانی۔

    ٭…٭…٭

  • سکرپٹ، ڈائریکٹر کے حوالے کرنے سے پہلے کچھ ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرپٹ، ڈائریکٹر کے حوالے کرنے سے پہلے کچھ ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرپٹ، ڈائریکٹر کے حوالے کرنے سے پہلے کچھ

    احتیاطی اقدامات

    پروڈیوسر ڈائریکٹر ٹونی بل نے دنیائے تحریر یا صحافت سے کچھ ایسے نئے لکھاری دریافت کیے ہیں جو ہالی ووڈ کے بڑے بڑے ناموں پر حاوی ہیں۔ ان میں ٹیرنس (Terrenc Malick)ہے جس نے The Thin Red Lineلکھی، پال (Paul Schoader) جس نے Taxi Driverلکھی، کرٹس (Curtis Hanson) ہے جس نے La Confidential   اور جان پیٹرک  (John Patrick) نے Moonstruck جیسی شہرہ آفاق کہانیاں لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اس فہرست میں کئی بہت سے نام شامل ہیں کہ جن کا تذکرہ اس بحث کو بہت طویل کر دے گا۔

    بل نے ان نئے لیکن بے حد اچھے لکھاریوں کو جن خصوصیات کی بنا پر منتخب کیا، انہیں سمیٹتے ہوئے انہوں نے بارہ نکات پر مشتمل ایک رہنمائی گائیڈ لائن مرتب کی ہے جو نئے لکھاریوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اپنا سکرپٹ مناسب ہاتھوں میں دینے سے پہلے ان نکات پر عمل ضروری ہے۔

    بل کا کہنا ہے کہ جو لکھاری ان سادہ لیکن بے حد قیمتی آرا کو مدِّنظر نہیں رکھے گا وہ نقصان اُٹھائے گا۔ یہ بے حد بنیادی اصول ہیں جو معمولی ہوتے ہوئے بھی بے حد اہمیت کے حامل ہیں کیوں کہ کسی بھی پروڈیوسر یا ڈائریکٹر کی نظر پہلے انہی خامیوں پر جاتی ہے۔ آپ میں سے اکثر لکھاری ان باتوں میں سے کچھ سے اگرچہ آشنا ہوں گے مگر پھر بھی آپ کی رہنمائی کے لیے 12 اصول دینے جا رہے ہیں کہ سکرپٹ جمع کرانے سے پہلے دیکھ لیں کہ آپ درست سمت میںجا رہے ہیں۔ آپ کا سکرپٹ پسندیدگی کی نظر پائے گا کہ ردی کی ٹوکری کا منہ دیکھے گا۔

    (1)  فینسی فائل کور مت استعمال کریں

    مسودہ فائنل کرنے کے بعد اس کے لیے کوئی سادہ سا فائل کور منتخب کیجیے نہ کہ مرصع و مرقع یا پھول بوٹوں والا اور نہ ہی اس پہ کو ئی عبارت یا دیگر سجاوٹ ہو۔

    یہ بھی خیال رکھیں کہ فائل کور نرم ہو، تاکہ آسانی سے موڑا اور گول کیا جا سکے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ پروڈیوسر اس مسوّدے کو کسی بھی وقت (کام کے دوران بھی مثلاً چلتے پھرتے یا گاڑی میں یا چائے پیتے ہوئے بھی) آسانی سے ساتھ رکھ سکتا ہے اور گاہ بہ گاہ تحریر پر بھی نظر ڈالتا رہتا ہے۔ اگر فائل کور سخت پلاسٹک کا ہو گا تو مسودہ پڑھنے کے لیے پروڈیوسر کو الگ سے وقت درکار ہو گا۔ جو ممکن نہیں اور اس طرح آپ کا مسودہ نظر انداز ہوتے ہوتے ردی میں شامل ہو جائے گا۔ 

    سفید صفحات پر لکھے کئے مسودے کو تین متوازن جگہوں سے اس طرح پنچ کیجیے کہ صفحات عمدہ طریقے سے قابو میں رہیں۔ پنچ شدہ سوراخوں میں ڈالی گئی ڈوری کو تھوڑا ڈھیلا رکھیں تاکہ ورق آرام سے پلٹا جا سکے۔ مسودے کے شروع میں ایک سادہ صفحے پر آپ خوش خطی سے مسودے کا عنوان اور اپنا نام لکھ سکتے ہیں۔ اس لکھائی کے لیے آپ کالا پن استعمال کیجیے۔

    (2)  کردار اُجاگر نہ کریں

    کبھی بھی یہ کوشش نہ کریں کہ مسودے میں موجود کرداروں سے متعلق تفصیل دیں۔ آپ کا مسودہ پڑھنے پر کردار خود ہی اپنا تعارف کروائیں گے اور بہتر انداز میں کروائیں گے۔ آپ کا یہ عمل آپ کی کوشش پر منفی اثر ڈالے گا۔

    (3)  ٹائٹل پیج سادہ بنایئے

    اپنے مسودے کے ٹائٹل پیج کو زیادہ سے زیادہ سادہ رکھنے کی کوشش کیجئے۔ صفحے کے درمیان میں مسودے کا عنوان لکھئے، صفحے کے نیچے دائیں جانب اپنا نام،رابطہ نمبر اور پتا تحریر کیجیے۔ رابطہ نمبر یا فون نمبر ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر تو آپ کا مسودہ بک چکا ہے تو اسے پروڈویوسر کے حوالے کرنے سے پہلے اس پر تاریخ ڈالئے وگرنہ تاریخ کہیں درج نہ کیجیے۔ کیوں کہ آپ نہیں جانتے کہ مسودے کس رفتار سے ”پرانے” ہوتے چلے جاتے ہیں۔ صفحات پر نمبر بھی نہ ڈالیے۔

    ایک اور اہم بات کہ کبھی بھی پہلی بار کا لکھا ہوا مسودہ آگے نہ بھیجیں۔ ہمیشہ تیسری یا چوتھی بار تحریری دہرائی کے بعد ہی مسودہ بھیجیں تاکہ وہ خوش خط اور اغلاط سے پاک ہو۔ املا یا الفاظ کی غلطیاں بھی تحریر کا تاثرغلط کر ڈالتی ہیں۔

    (4) اداکاروں کا چنائو

    اپنی کہانی یا مسودے کی مناسبت سے اداکاروں کا چنائو آپ کی ذمے داری نہیں۔ ایسا کرنے پر پروڈیوسر یا ڈائریکٹر اسے اپنے کام میں دخل اندازی تصور کریں گے۔ آپ کی کہانی کے کردار، خود اپنے لئے بہتر چنائو کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    (5)  کہانی کا خاکہ

    کبھی بھی اپنی کہانی کا خاکہ یا مختصر تعارف اس کے ساتھ نتھی نہ کیجیے۔ اس طرح آپ کی کہانی کا تعارف پہلے ہی چند سطروں میں ہو جائے گا اور پروڈیوسر آپ کی کہانی پڑھنا گوارا نہ کرے گا۔ پوری کہانی پڑھنے پر ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی بات اُس کے دل کو لگ جائے جو آپ خاکے میں واضح نہ کر سکے ہوں۔ لہٰذا پروڈیوسر کو گائیڈ لائن نہ دیجئے۔

    (6)  کور لیٹر کو درخواست نہ بنائیں

    کور لیٹر، موٹی ویشن لیٹر یا موٹی ویشنل لیٹر دراصل تعارف ہوتا ہے جو مطلوبہ مقصد کے اظہار کے لئے لکھا جاتا ہے۔ آپ جانتے ہوں گے کہ ملازمت کی درخواست کے ساتھ بھی ایک کور لیٹر درکار ہوتا ہے۔ ویسا ہی یہ کور لیٹر ہے جو مصنف اپنی تحریر کے حوالے سے لکھتا ہے تو بعض مصنف کور لیٹر میں اپنی تحریر کی سفارش کرتے نظر آتے ہیں۔ درخواست گزار ہوتے ہیں کہ ان کہانی میں اگر کوئی غلطی ہو تو صرفِ نظر کر دی جائے اور پلیز اس تحریر کو دھیان سے پڑھا جائے وغیرہ وغیرہ۔

    لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اس طرح وہ اپنی تحریر کو منظور نہیں بلکہ نامنظور کروانے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔ کور لیٹر کو ہمیشہ باوقار  انداز میں لکھیں۔

    (7)  تکنیکی اور کیمرے سے متعلق ہدایت سے بھی نہیں

    یہ ڈائریکٹر کا کام ہے جس میں دخل اندازی آپ کا تاثر خراب کر سکتی ہے۔ مسودہ لکھنے کے دوران مختلف مناظر کے ساتھ اس طرح کی ہدایات کہ ”قریب سے دکھائیں”، ”اس زاویئے سے دکھائیں”، ”اس منظر کے دو سین بنائیں” یا اس طرح کی دیگر ہدایات ڈائریکٹر کو بارِ خاطر گزریں گی اور وہ چڑ جائے گا ۔ یوں نادانستگی میں آپ اپنا نقصان خود ہی کر بیٹھیں گے۔ کیوںکہ ہدایت کار کیوں چاہے گا کہ وہ کسی اور سے ہدایات لے؟ لہٰذا آپ سیدھے سادے طریقے سے اپنا مسوّدہ مکمل کیجئے۔ 

    (8)  کرداروں کے لہجے نہ متعین کیجئے

    اپنے مسودے میں ناراضی، حیرانی یا خوشی کے اظہار کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ کے ساتھ یہ مت لکھئے کہ کردار نے اسے کیسے بولنا ہے۔ آواز بلند رکھنی ہے کہ پست یا اگر آپ نے اوہ، افوہ یا وائو جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں تو کردار کو بھی وہی بولنا لازم ہے۔ ایسی شرط باندھنا بالکل غلط ہے۔ ایکٹر کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے جس میں وہ بہتر طورپر الفاظ کی ادائی کر سکتا ہے۔

    (9)  مسودے کی مناسب طوالت

    اپنے مسودے کی طوالت 100 صفحات سے کم اور 140 صفحات سے زیادہ نہ ہونے دیں۔ اس میں آپ کوئی چالاکی نہ برتیں کہ ہاتھ کی لکھائی یا فونٹ سائز بڑا کر دیں یا صفحے کا حاشیہ زیادہ چھوڑ کر یا سطروں کے درمیان فاصلہ بڑھاتے یا گھٹاتے ہوئے آپ مطلوبہ صفحات تک اپنی تحریر کو پھیلا دیں، یہ غلط ہے۔ عمومی طور پر ایک فیچر فلم کا مسوّدہ 110 سے 120 صفحات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مسوّدے کے ہر صفحے کو سکرین پر ایک منٹ کے برابر تصور کیا  جاتا ہے۔

    (10) اغلاط سے پاک مسودہ

    مسوّدے کو غلطیوں سے مبرا رکھنے کی کوشش کریں۔ انگریزی لکھنے کے دوران تو کمپیوٹرز میں موجود Spell-check پروگرام آپ کے بے حد کام آتا اور غلطیوں کی درستی کرتا چلا جاتا ہے مگر ہاتھ سے لکھنے کی صورت میں آپ کو اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں کی صحت کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے، خاص طور سے گرائمر کا۔ آپ کے جملے سبک اور جامع ہونے چاہیں۔ طویل اور غلط سلط جملے پڑھنے والے کو ذہنی کوفت میں مبتلا کرتے ہیں۔

    اپنے مسودے کو بار بار پڑھئے یہاں تک کہ اس کی اغلاط سے پاک بہترین شکل نکل آئے۔ کچھ ایسے پروڈیوسرز بھی ہیں جو سکرپٹ کے پڑھنے کے دوران پہلے صفحات میں چھے سے سات غلطیاں ملنے پر سکرپٹ کو ایک طرف کر دیتے ہیں۔ اس لیے اپنی تحریر کا بار بار جائزہ لیتے ہوئے اسے مکمل طور پر اغلاط سے پاک تحریر بنائیں۔

    (11) مناظر پر نمبر نہ لگائیے

    سکرپٹ میں منظر بندی یا گنتی اس وقت لگائی جاتی ہے جب وہ شوٹنگ کے مراحل میں داخل ہوتا ہے۔ رائٹر کا مسوّدے کے مناظر پر نمبر لگانا مناسب نہیں۔ سین کو نمبر وار ترتیب دینا شوٹنگ کا تقاضا ہوتا ہے کہ جس کی روشنی میں مقامات، شوٹنگ کے مراحل یا بجٹ جیسے معاملات طے کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کمپیوٹر کا فینسی سافٹ ویئر استعمال کر بھی رہے ہیں تو اس کا نمبرنگ والا آپشن بند کر دیجئے۔

    (12)  عمدہ کاپی کیجئے

    اگر آپ ہاتھ سے لکھے مسوّدے کی کاپی یا نقل بھیجنا چاہیں تو اس کے لیے بے حد عمدہ کارکردگی کے حامل پرنٹر یا فوٹو کاپیئر کا انتخاب کیجئے تاکہ آپ کی نقل صاف اور واضح ہو۔ اس کی سکیننگ بہت واضح اور عمدہ ہو تاکہ مسوّدہ پڑھنے میں کسی قسم کی دشواری نہ آئے۔

    اشاعتی دنیا کے برعکس’ فلمی دنیا میں مسودے کئی مختلف طریقوں سے جمع کرائے جاسکتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسودہ بہ ذریعہ ڈاک ارسال کرنے سے کہیں آسان طریقہ ای میل کرنے کا ہے۔

  • کہانی کی چھے منازل ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

    کہانی کی چھے منازل

    اس مضمون میں میں آپ کو رومانی فلموںکی کہانیوں کے ایک ایسے ڈھانچے کے بارے میں بتائوں گا، جو آپ کو اکثر رومینٹک فلموں میں دیکھنے کو ملے گا۔کہانی کا یہ خاکہ یا ڈھانچا آپ کو یہ نہیں سکھاتا کہ آپ کیا کہانی لکھیں؟ یا کیسے لکھیں؟، یہ آپ کو بتاتا ہے کہ وہ کون سے بیٹس، کون سے لمحات اور کہانی کے وہ کون سے اتار چڑھائو ہوتے ہیں، جو ایک رومانی فلم کو کامیاب بناتے ہیں۔لیکن ذہن میںرکھیں  کہ رومینٹک فلم لکھنے کے لیے صرف ایک یہی طریقہ نہیں جو آپ استعمال کر سکتے ہیں، مگر یہ یقینا آپ کے سیکھنے کے عمل کے لیے  ایک اچھا آغاز ہے۔

    چند مشہور فلمیں جن میں کہانی کا یہ طریقۂ کار استعمال کیا گیا، ان میں Titanic، Meet Joe Blackاور The Notebook   وغیرہ شامل ہیں۔ فلموں کی مقبولیت سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ طریقہ کتنا کامیاب اور کارآمد ہے۔اس طریقے کو استعمال کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ کی فلم کا اختتام اداس ہو یا خوش گوار، یہ دونوں طرح کی کہانیوں میں کافی  کارآمد ہے۔

    فلمی  سکرپٹ لکھنے سے پہلے اس طریقۂ کار کے بارے میں جاننے کے  لیے ہوم ورک کے طور پر سب سے پہلے آپ یہ چند فلمیں ضرور دیکھیں۔

    Titanic:  اشرافیہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک سترہ سالہ لڑکی کو ایک غریب لیکن مہربان فن کار سے محبت ہو جاتی ہے، جب وہ ایک بد قسمت بحری جہاز، ٹائٹینک ،پر اپنی ماں اور منگیتر کے ساتھ برطانیہ سے امریکا کے سفر پر نکلتی ہے۔ 

    Meet Joe Black:موت ، ایک نوجوان لڑکے کا روپ دھار کر دنیا میں آتی ہے اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک نامور آدمی کو اپنے گائیڈ کے طور پر لے کر اس سے دنیا پر موجود زندگی کے بارے میں سیکھتی ہے، اور اس دوران اسے اپنے گائیڈ کی بیٹی سے محبت ہو جاتی ہے۔

    The Notebook:ایک غریب اور جذبے سے بھرپور لڑکے کو ایک امیر اور نوجوان لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے اور وہ اسے آزادی سے جینے کا ایک احساس دیتا ہے۔لیکن جلد ہی وہ اپنے مالی اور سماجی فرق کی وجہ سے ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔

    رومانی کہانیوں کی چھے منازل:

    پہلا ایکٹ)تیس منٹ)

    ابتدائی  تیس منٹوں کا صحیح استعمال کریں ۔ناظرین کو اپنے ہیرو ہیروئن سے ملوانے کے لیے، فلم کے پہلے سین سے دیکھنے والوں کو متوجہ کرنے کے لیے اور وہ نکتہ پیش کرنے کے لیے، جس کی وجہ سے ہیرو ہیروئن کا ملن مشکل یا شاید نا ممکن ہو گا۔

     -1 پہلا سین: فلم کا پہلا سین ایسا رکھیں، جو کہانی کے مرکزی کرداروں کے ساتھ ناظرین کا تعلق فوری طور پر جوڑ دے۔ ان دونوں کی زندگی کی محرومی کیا ہے؟اس محرومی کی وجہ سے ان کی زندگی میں کوئی فرق پڑتا ہے، اگر ہاں، تو کیا؟ کرداروں کو اتنا دل چسپ بنائیں کہ ناظرین ان دو فرضی کرداروں کی زندگی کی محرومی ختم ہونے کی دعائیں مانگنے لگیں!

    -2 آپس کی کشش:یہ وہ منزل ہے جہاں آپ ناظرین کو بتا سکتے ہیں کہ کیسے یہ دو الگ افراد ایک دوسرے کے لیے ایک دم بہترین ہیں، کس طرح یہ دونوں ایک دوسری کی محرومی کو ختم کر سکتے ہیں، لیکن ابھی یہ ایک دوسرے کی طرف مکمل طور پر مائل بھی نہیں ہیں۔آپ کو یہ دکھانا ہے کہ ان کے رشتے کی جڑ کیا ہو گی، اس کی روح کیا ہے، اور کس طرح ایک دوسرے تک آنے اور محبت کرنے کے لیے انہیں اپنی موجودہ شخصیت کو تبدیل کرنا ہو گا۔

    -3  اس مختصر آغاز کا اختتام:

    بیرونی اثر: کہانی کے آغاز کو ختم کرتے ہوئے، آپ اسے درمیانی حصے پر لانے کے لیے تیار ہو جائیں۔ ایک ایسا بیرونی واقعہ دکھائیں جس کی وجہ سے دونوں کردار ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں۔

    اندرونی اثر:کردار ایسا کون سا قدم اُٹھا رہے ہیں، جس سے ان دونو ں کی ایک دوسرے کی جانب کشش نمایاں ہو رہی ہے؟

    دوسراایکٹ(تیس سے نوے منٹ)

    مرکزی کردار ایک دوسرے کی جانب  متوجہ تو ہو رہے ہیں لیکن ابھی بھی دلوں میں کچھ ڈر ہے، خوف ہے۔ ایک قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

    پِنچ پوائنٹ(Pinch Point): یہ کہانی کے وہ موڑ ہوتے ہیں، جو کرداروں کو ، کہانی کو،اس کی پوری شدت سے آگے نہیں بڑھنے دیتے۔ حرکت اور جمود کے بیچ کی کیفیت۔ یہ پوائنٹس کہانی میں کلائمکس اوردل چسپی کو اور زیادہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان پوائنٹس کی ذریعے آپ ناظرین کو بتاتے ہیں کہ کردار ایک دوسرے کی طرف بڑھتے بڑھتے کیوں رک جاتے ہیں اور یہ بار بار کا رُکنا ان کے رشتے پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔

    -4 فلم کا انٹرویل:جب تک آپ کی فلم انٹرویل تک پہنچے، اس سے پہلے پہلے ان دو سوالوں کے جواب ناظرین تک ضرور پہنچا دیں:

    دونوں کردار ایک دوسرے سے اپنی وابستگی ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے کیا اظہار کرتے ہیں، یا کیا اشارے دیتے ہیں؟

    دونوں کردار کس طرح ابھی تک اپنی اپنی شخصیت اور محرومی کے خول سے باہر نہیں آ سکے (اور اس وجہ سے ان کا رشتہ ضرور ناکام ہو گا؟)

    -5 بحران: یہ کہانی کا وہ حصہ ہے جہاں دونوں کردار اپنی کہانی کے بحران سے پہلی بار کھل کر آمنے سامنے آتے ہیں۔

    بیرونی اثر:کس چیز کا ڈر دونوںیا دونوں میں سے ایک کردار کودوسرے کے طرف سے خوف میں مبتلا کر دیتا ہے، اور اس وجہ سے وہ دوبارہ اپنے خول میں سمٹ جاتے ہیں؟

    اندرونی اثر:کردار(یا کرداروں) کو احساس ہوتا ہے کہ ان کا رشتہ مزید نہیں چل سکتا، اسے ناکام ہی ہونا ہے۔

    تیسراایکٹ(نوے سے ایک سو بیس منٹ)

    کہانی کے اس آخری حصے میںدونوں مرکزی کردار تمام اندرونی اور بیرونی رکاوٹیں عبور کر کے ، اپنے اندر سے سب خوف ختم کر کے ایک دوسرے کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔

    -6 کلائمکس: 

    بیرونی واقعہ:کس طرح ان دونوں کے درمیان کی رکاوٹیں اور فرق ایک آخری بار ان کے رشتے کو خطرے میں ڈالتے ہیں؟

    اندرونی اثر:کس طرح دونوں کردار ایک حتمی فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ ہر صورت اپنی باقی زندگی ایک ساتھ گزارنا چاہتے ہیں؟

    کلائمکس کے بعد: یہاں ناظرین کو ایک آخری سین یا چند مکالمات کے ذریعے دکھائیں کہ کس طرح یہ دونوں کردار حقیقتاً ایک دوسرے کے لیے بہترین ہیں۔

     ان چھے منازل کا سفر یہاں ختم ہوتا ہے۔ اگر آپ اس موضوع کو اور تفصیل میں جانچنا اور سیکھنا چاہئیں تو یہ چند فلمیں ضرور دیکھیں ،جو کہانی کی ان چھے منازل کو خوبصورتی سے استعمال کرتی ہیں:

    Atonement

    Silver Linings Playbook

    Pride and Prejudice

    Eternal Sunshine of the Spotless Mind

    Pretty Woman

    500 Days of Summer

    Ghost

    (نوٹ: کمنٹس میں ضرور بتائیں کہ ایک لکھاری کے طور پر آپ نے ان فلموں سے کیا سیکھا؟)