Tag: کہانیاں

  • خود شناسی کو اپنے تحریری عمل کا حصہ بنائیں ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹگ

    خود شناسی کو اپنے تحریری عمل کا حصہ بنائیں ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹگ

    خود شناسی کو اپنے تحریری عمل کا حصہ بنائیں

     

    عموماََ ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم کچھ لکھنے بیٹھیں تو خیالات ساتھ چھوڑنے لگتے ہیںاور موضوع کے چناؤ میں ہمیں دقّت پیش آتی ہے۔ایسی صورتحال سے نبٹنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو پرکھیں، خود اپنی شخصیت کھنگالیںتاکہ نئے خیالات ذہن میں جنم لیں۔اس مضمون کے ذریعے ہم آپ کو ایک ایسی مشق کروا رہے ہیں جو نئے آئیڈیازپر کام کرنے میںآپ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ 

     

    ذیل میںاپنی شخصیت کا تجزیہ کرنے کے حوالے سے چند سوالات ترتیب دیے گئے ہیں۔ آپ ایک صفحے پر ان تمام سوالات کے جوابات پوری سچائی سے تحریر کریں۔پھر ان جوابات پر ایک ناقدانہ نگاہ دوڑاتے ہوئے کوئی ایک جواب اپنی اگلی تحریر کے موضوع کے طور پر چُن لیں۔

     

    پہلا مرحلہ 

    دوسرا مرحلہ 

    کیا کبھی کسی کتاب کی بدولت آپ کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی؟

    اگر ہاں، تو وہ کون سی کتاب تھی اور کس قسم کی تبدیلی لائی؟

    کیا کبھی کسی رشتے یا تعلق کی وجہ سے آپ کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی؟

    کب؟ کیسے؟اور کیوں؟

    آپ کی نظر میں دوستی کا رشتہ کیسا ہونا چاہیے؟

    کیوں؟

    آپ کی نظر میں دوستی کا رشتہ کیسا نہیںہونا چاہیے؟

    کیوں؟

    کیا آپ کو کبھی شدید قسم کا غصہ آیا؟

    کب؟ کہاں؟اور کیوں؟

    کیا آپ نے زندگی میں کبھی خود کو بہت طاقتور محسوس کیا؟

    وہ کون سا واقعہ تھا جس کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوا؟

    کیا آپ نے کبھی خود کو نہایت حیرت انگیز صورتحال سے دوچار پایا؟

    وہ کون سا واقعہ تھا جس کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوا؟

    اپنی شخصیت کا وہ کون سا پہلو ہے جو آپ بدلنا چاہیں گے؟

    کیوں؟

    مستقبل میں آپ دنیامیں کیا تبدیلی دیکھنا چاہیں گے؟

    کیوں؟

    ماضی کی ایسی کون سی بات ہے جو آپ بدلنا چاہیں گے؟

    کیوں؟

     

    یہ ذہنی ورزشیں آپ کے تحریری عمل کو نہ صرف تروتازہ بنا دیتی ہیں بلکہ آپ کے ذہن کو نت نئے خیالات کے لیے زرخیز بناتی ہیں۔ 

  • سلیم ناصر ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    سلیم ناصر ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    سلیم ناصر
    لعل خان


    یہ 1982/83ء کی بات ہے ،انور مقصود صاحب نے اپنے مشہورِ زمانہ شو ‘‘سلور جوبلی ’’ میں آنے والے مہمان کا تالیوں کی گونج میں استقبال کیا۔ آپ اگر انور مقصود صاحب کو پانچ منٹ کے لیے بھی جانتے ہیں تو آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ وہ برِصغیر کے مایہ ناز رائٹر ہونے کے باوجود ‘‘ان اسکرپٹڈ ’’ باتیں کرنا بہت پسند کرتے ہیں۔ اب ان کی بذلہ سنج طبیعت اور برجستگی کی تعریف کرنا بھی جان جوکھوں کا کام ہے، بس آپ اتنا جان لیجیے کہ وہ معین اختر صاحب کے‘‘خوفناک’’ سینس آف ہیومرکے سامنے بھی ٹک جایا کرتے تھے۔ انور مقصود صاحب نے آنے والے مہمان کو منی بیگم کے برابر میں بٹھایا اور مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    ‘‘آپ سنجیدہ اداکاری کے لیے کافی مشہور ہیں؟’’ مہمان کے چہرے پر سادہ سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
    ‘‘صاحب پرانی بات ہے…تب پی ٹی وی بھی سنجیدہ ہوا کرتا تھا۔’’
    انور مقصود صاحب نے موقع پا لیا۔ ترنت بولے۔
    ‘‘تو کیا آج ایسا نہیں ہے؟’’
    مہمان کی مسکراہٹ رخصت ہو گئی اور اس نے گہری سنجیدگی سے کہا۔
    ‘‘نہیں صاحب …آج تو باہر کافی گرمی ہے۔’’
    ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ انور مقصود صاحب بھی خود کو روک نہیں پائے۔ بات چیت دوبارہ شروع ہوئی۔ ایک موقع پر انور صاحب بولے۔ ‘‘آپ کی بیوی بھی آرٹسٹ ہیں، تو آپ میں اور ان میں کافی کچھ مشترک ہو گا؟’’
    مہمان نے پھر سادگی سے مسکرا کر انور صاحب کی طر ف دیکھا۔
    ‘‘بجا فرمایا صاحب …بہت کچھ مشترک ہے ہم دونوں میں …میں گاڑی چلاتا ہوں، وہ زبان چلاتی ہیں …میں جاگتا ہوں، وہ سوتی ہیں…میں کھاتا ہوں ،وہ پانی پیتی ہیں …اور بھی بہت کچھ مشترک ہے۔’’
    اس مرتبہ ہال میں پہلے سے زیادہ گونجدار قہقہے پڑتے رہے۔
    ان دنوں ہر طرف ‘‘ان کہی’’ ڈرامہ چھایا ہوا تھا۔ انور صاحب کے مہمان اس ڈرامے میں اداکارہ شہناز شیخ کے ‘‘ماموں’’ کا رول کر رہے تھے۔ انور صاحب نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈرامے کی سچوئیشنز کے مطابق سوال کیا۔
    ‘‘آپ کے خیال میں شہناز شیخ کی شادی شکیل اور جاوید شیخ میں سے کس کے ساتھ ہونی چاہیے تھی؟’’
    مہمان نے اس مرتبہ نہایت سنجیدگی سے قدرے خائف ہو کر انور صاحب کی طرف دیکھا اور کہا۔
    ‘‘کمال کرتے ہیں صاحب ….ہم کوئی اصلی والے ماموں تھوڑی ہیں!’’
    اگلے دو منٹ تک ‘‘سلور جوبلی’’ کے سیٹ پر ہر کونے سے قہقہے فواروں کی طرح ابلتے رہے۔ میرا خیا ل میں آپ سمجھ ہی چکے ہوں گے کہ انور صاحب کے یہ مہمان کون تھے؟
    جی ہاں، آپ بالکل ٹھیک سمجھے ،یہ سلیم ناصر تھے۔ وہی سلیم ناصر جنہیں آپ یقینا ‘‘اکبر’’ کے نام سے بھی جانتے ہوں گے۔ آنگن ٹیڑھا کے ‘‘اکبر’’ جنہیں انور مقصود صاحب نے ہی تخلیق کیا تھا۔
    سلیم ناصر 15نومبر 1944ء کو ناگپور (برٹش انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ نسلاً پٹھان تھے، مردان کے سید گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ پیدائشی نام سید شیر خان تھا۔ بچپن کے واقعات بہت کم ملتے ہیں۔ کہیں کہیں پڑھنے کو ملا ہے کہ انتہائی شریف النفس قسم کے بچے تھے ۔کم گو انسان تھے اور اپنے کام سے کام رکھنے کو انسانوں کی سب سے بڑی خوبی گردانتے تھے۔ ان کی فیملی پڑھی لکھی اور روشن خیال تھی۔ پارٹیشن کے بعد 1948ء میں یہ لوگ ناگپور سے کراچی شفٹ ہوئے۔ گریجوایشن کے بعد ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی کے شعبہء تعلقاتِ عامہ میں بحیثت افسر تعینات ہوئے۔ مگر یہ ان کی منزل نہیں تھی، چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے اس جاب کو خیرباد کہہ دیا۔
    اس کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان میں قسمت آزمائی شروع کر دی۔ سلیم ناصر صاحب کی فنکارانہ صلاحیتیں ریڈیو کے زمانے سے ہی کھل کر سامنے آنے لگی تھیں۔ ریڈیو پر حالاتِ حاضرہ کے پروگرام میں ان کے تبصروں نے ان کے اندر چھپے ہوئے اس فنکار کو باہر نکالا جس نے بعد ازاں اپنی ڈائیلاگ ڈیلیوری سے ٹی وی اور فلم کے منجھے ہوئے اداکاروں کو حیران کر دیا تھا۔
    سال 1976ء سلیم ناصر کے اداکارانہ کیرئیر کی شروعات بتایا جاتا ہے۔ اس سال لاہور کی ایک فلم کمپنی ‘‘نور محل پکچرز’’ کے تحت ‘‘زیب النساء’’ کے ٹائٹل سے ایک فلم بنائی گئی جس میں شمیم آراء اور وحید مراد نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔اس فلم کو فرید احمد نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ جب کہ پروڈیوسر محمد اکرم چوہدری تھے ۔اس فلم کے لیے اس وقت کی مشہور گلوکارہ ارونا لیلیٰ اور مہدی حسن صاحب نے گانے بھی گائے تھے۔ سلیم ناصر پہلی مرتبہ بڑی اسکرین پر ‘‘بہادر شاہ ظفر’’ کے روپ میں سامنے آئے تھے۔ فلم باکس آفس پر کوئی کمال نہ دکھا سکی مگر سلیم ناصراپنی منفرد اور جاندار اداکاری کی وجہ سے پاکستان ٹیلی ویژن کی نظروں میں آ گئے۔
    یہاں میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس زمانے میں ہماری ڈرامہ انڈسٹری کو ہندوستان میں فلمی اداکاروں سے زیادہ جانا جاتا تھا۔ ستر اور اسی کی دہائی میں ہمارے ڈراموں کا معیار یہ تھا کہ بھارت کے ‘‘پونا انسٹیٹیوٹ’’ میں وہاں کے نئے ٹی وی اداکاروں کو ہمارے ڈرامے دکھائے جاتے تھے اور ہمارے ٹی وی اداکاروں کو بھارت سے باقاعدہ دعوتیں موصول ہوا کرتی تھیں اور یہ وہاں جا کر نئے اداکاروں کو سکھایا بھی کرتے تھے۔
    کنور آفتاب، قنبر علی شاہ، نصرت ٹھاکر، قاسم جلالی، شہزاد خلیل، راشد ڈار اور محمد نثار حسین جیسے لوگ ڈراموں کی ڈائریکشن کرتے تھے اور قوی خان، علی اعجاز، قمر چوہدری، ظفر مسعود، قاضی واجد، محمود علی، اطہر شاہ خان، روحی بانو، خالدہ ریاست، ذہین طاہرہ، عرس منیر، شہنازشیخ، مرینہ خان، راحت کاظمی، عثمان پیرذادہ، نوید شہزاد، ظہور احمد، محمد یوسف، نیلوفر عباسی، شکیل، محمود صدیقی، سبحانی بایونس، رفیع خاور (ننھا)، کمال احمد رضوی، بشریٰ انصاری، اسماعیل تارا، زیباشہناز، جمشید انصاری، خورشید شاہد، سلمان شاہد، خیام سرحدی، بندیا، روبینہ اشرف، شجاعت ہاشمی، محبوب عالم، فردوس جمال، ایوب خان، اورنگزیب لغاری اور نثار قادری جیسے بلند فنکارانہ قد رکھنے والے لوگ پرفارم کیا کرتے تھے۔
    پورا برِصغیر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنے ابتدائی دور میں جو اداکار پیدا کیے ہیں ان کا آج بھی کوئی ثانی پیدا نہیں ہو سکا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن کے اس عروج کے زمانے میں کسی نئے اداکار کے لیے جگہ بنانا اور وہ بھی اس طرح کہ پوری انڈسٹری کے دل میں گھر کر جانا ۔۔۔ یہ صر ف سلیم ناصر کا ہی کمال تھا۔ اس دور میں ڈائریکٹرز اداکار کی معمولی غلطیوں پر انہیں سیٹ پر ہی کان پکڑوا دیا کرتے تھے۔ اداکاری جیسے شعبے میں جگہ بنانا نئے لوگوں کے لیے تقریباً ناممکن تھا مگر سلیم ناصر صاحب نے ریڈیو پر صداکاری کے بعد ‘‘بہادر شاہ ظفر’’ بن کر اس ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا۔
    اور یہاں سے سلیم ناصر صاحب کا جادو چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ ان کی فنکارانہ زندگی کا مکمل احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے، انہوں نے کم و بیش 400 کے قریب ڈراموں،27 سیریلز اور کم و بیش 10 فلموں میں کام کیا ہے اور اداکاری کے ہر میدا ن میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ مگر ان کے چند ڈرامے در اصل ایسے ہیں کہ جن کا ذکر کیے بنا انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا ممکن ہی نہیں۔ ان ڈراموں میں سرِ فہرست انور مقصود صاحب کا تحریر کردہ ‘‘آنگن ٹیڑھا’’ ہے۔
    یہ1980ء کا ڈرامہ ہے۔ آپ اگر پچاس سال سے زائد عمر کے ہیں تب شائد آپ نے اس ڈرامے کا صحیح معنوں میں لطف اٹھایا ہو گا کیونکہ آپ ہی ہو سکتے ہیں جنہوں نے شکیل اوربشریٰ انصاری جیسے اداکاروں کے ساتھ سلیم ناصر کے طلسمی فن کو اپنے آنکھوں سے پہلی مرتبہ دیکھا ہوگا۔ اس کے بعد یہ کتنی مرتبہ کون کون سے چینل سے آن ائیر ہوا اس کا مجھے علم نہیں مگر میں نے بہرحال اسے یوٹیوب پر دیکھا ہے۔ اس ڈرامے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا نام ذہن میں آتے ہی ‘‘اکبر’’ نامی کردار ہماری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے اور پھر ہم مسکرائے چلے جاتے ہیں۔
    شکیل اور بشریٰ انصاری نے بلاشبہ اس ڈرامہ میں پائے کی اداکاری کی ہے مگر سلیم ناصر کے سامنے ان کا چراغ بھی مدھم ہوا ہے اور اس کا ثبوت ہم یوں دے سکتے ہیں کہ شکیل صاحب کو پھر کسی نے ‘‘محبوب احمد’’ کے نام سے یاد نہیں کیا، بشریٰ انصاری بھی ‘‘جہاں آراء بیگم ’’ کو اپنی شناخت نہیں بنا سکیں مگر سلیم ناصر صاحب نے ‘‘اکبر ’’ کو اپنی زندگی کا سچ مان کر نبھایا تھا جبھی تو آج اتنے برسوں بعد بھی ہم ‘‘اکبر’’ کے سحر سے آزاد نہیں ہو سکے۔ سلیم ناصر نے کئی مواقع پر اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے مشکل مگر دلچسپ کردار تھا جو ان کے دل کے بہت قریب ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ ‘‘اکبر’’ کو شناخت بنانے کے لیے انہیں بہت محنت کرنی پڑی تھی اور بڑے پاپڑ بیلنے پڑے تھے۔‘‘اکبر’’ کے روپ میں انہوں نے ایسے کلاسک ڈانس کے دلدادہ گھریلو ملازم کا رول نبھایا تھا جس کی ہر حرکت اور ہر بات میں ہنسی، لطف اور تفریح ہوا کرتی تھی۔
    اس یادگار ڈرامے کے ساتھ ایک بد قسمتی بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ ڈرامہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں آن ائیر ہوا تھا۔ اس زمانے میں انور مقصود صاحب اپنے قلم کو مارشل لاء اور جنرل ضیا ۔۔۔ دونوں کے خلاف کھل کر استعمال کر رہے تھے جس کی سزا اس ڈرامے کو بھگتنا پڑی، اسے جنر ل ضیاء الحق کے حکم پر بند کر دیا گیا تھا۔ یہ ڈرامہ 12 اقساط پر مشتمل ہے۔
    سلیم ناصر صاحب کی دوسری شناخت ان کا ایک اور کردار ‘‘ماموں’’ بنا۔ یہ کردار انہوں نے ڈرامہ سیریل ‘‘ان کہی’’ میں نبھایا تھا جو پاکستان کی معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین کے زورِ قلم کا نتیجہ تھا۔ اس ڈرامے میں انہوں نے شہناز شیخ کے ماموں کا کردار ادا کیا تھا۔ انور مقصود صاحب نے اپنے شو میں ان سے پوچھا تھا۔
    ‘‘سلیم …آپ کو کبھی کسی پر شدید قسم کا غصہ آیا؟’’
    تو سلیم ناصر نے بڑے سنجیدہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا ۔‘‘جی ہاں، ایک مرتبہ حسینہ معین پر آیا تھا ….انہوں نے پہلے پہل مجھے صرف ‘‘ماموں’’ بنایا مگر بعد میں پتا چلا کہ میرے دو نوجوان بھانجے بھی ہیں …بس اسی وجہ سے ان پر بہت غصہ آیا تھا۔’’
    اس ڈرامہ میں ان کے ساتھ شہناز شیخ، جاوید شیخ، قاضی واجد، شکیل، جمشید انصاری، بدر خلیل اور بہروز سبز واری صاحب جیسے ورسٹائل ادااکاروں نے کام کیا تھا۔ ان کہی میں سلیم ناصر صاحب کے کردار کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خاص نہ ہو کر بھی سب کے لیے بہت خاص بن گیا تھا اور اس کا کریڈٹ صرف سلیم ناصر صاحب کو ہی جاتا ہے جنہوں نے اپنی عادت کے مطابق اپنے ‘‘ماموں’’ کے کردار کواپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر ہی نبھایا تھا۔
    ‘‘دستک’’ ان کا ایک اور منی سیریل تھا جس میں انہوں ایک وکیل کا کردار نبھایا۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ کردار تھا جس کے لیے انہیں بہت سراہا گیا تھا ۔اس ڈرامے میں ان کے ساتھ ایاز نائیک، شازیہ اختر اور قاضی واجد صاحب تھے۔ انہوں نے ‘‘نشانِ حیدر’’ کے نام سے کیپٹن سرور شہید پر بنائے جانے والے ڈرامہ میں مرکزی کردار ‘‘کیپٹن سرور’’ کو بے حد عمدگی سے نبھایا۔ ‘‘آخری چٹان’’ ان کا ایک اور بہترین ڈرامہ ہے جس میں انہوں نے سلطان جلال الدین منگو بیروی کا یادگار کردار ادا کیا۔ اس کردار کو نبھاتے وقت بھی انہیں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ ڈرامہ چونکہ تاریخ پر مبنی تھا لہٰذا شوٹنگ کافی سخت اور کٹھن مراحل سے گزرنے کے بعد مکمل ہوتی تھی۔ ان کٹھنائیوں کا سلیم ناصر اپنے مخصوص مزاحیہ مگر بظاہر سنجیدہ اندازسے کیسے ذکر کرتے ہیں ۔۔۔ ملاحظہ کیجیے:
    انور مقصود صاحب نے جب ‘‘آخری چٹان’’ کا ذکر کرتے ہوئے سلیم ناصر صاحب کی تعریف کی تو انہوں نے جواب کچھ اس طرح دیا۔
    ‘‘جانے دیجیے صاحب …اب ہم نے تاریخی ڈراموں میں کام ہی نہیں کرنا تو پھر ذکر کرنے سے کیا فائدہ۔ ’’
    انور مقصود صاحب نے حیرت سے وجہ پوچھی۔ کہنے لگے:
    ‘‘صاحب، بات کچھ اس طرح سے ہے کہ چنگیز خان کے دور میں مسلمانوں پر اتنے ظلم نہیں توڑے گئے ہوں گے جتنے ‘‘آخری چٹان’’ کی شوٹنگ کے زمانے میں کراچی کے فنکاروں پر توڑے گئے ہیں۔’’
    انور مقصود صاحب کے مزید استفسار پر فرماتے ہیں۔
    ‘‘دراصل ڈائریکٹر صاحب کے پاس دو طرح کے گھوڑے تھے، ایک پولیس والے اور دوسرے ریس والے ….اب صاحب پولیس والے کا گھوڑا تب تک نہیں بھاگتا جب تک کہ اس کے پیچھے چور کا گھوڑا نہ لگا ہو….اور ریس والے گھوڑے کو نوٹ دکھانے پڑتے ہیں…تو جناب میرے حصے میں جو گھوڑا آیا وہ ریس کا تھا …میں اسے دس کا نوٹ دکھاتا تو تیز چلنے لگتا اور سو کا نوٹ دکھاتا تب جا کر وہ بھاگتا تھا۔’’
    ان کا ایک اور بہترین شاہکار ‘‘یانصیب کلینک’’ تھا جس میں انہوں نے ایک ڈاکٹر کا رول بہترین انداز میں نبھایا۔ ‘‘جانگلوس’’ ان کی زندگی کا آخری ڈرامہ تھا۔ اس میں انہوں نے ایک سخت گیر بھائی کا انتہائی سنجیدہ رول نبھایا تھا جسے برسوں تک دیکھنے والوں نے یاد رکھا۔ شوبز کے ناقدین کے مطابق 1976ء سے 1989ء تک پاکستان ٹیلی ویژن میں سلیم ناصر صاحب کا کوئی جوڑ نہیں تھا۔ یہ فن کا ایک ایسا دریا تھا جو تیرہ سال تک بڑی روانی سے بہتا رہا اور ہماری ٹی وی انڈسٹری کو سیراب کرتا رہا۔ ان کے کریڈٹ پر دس فلمیں بھی ہیں جن میں سے ایک پنجابی فلم تھی ۔
    سلیم ناصر صاحب کی فیملی میں ان کی بیگم کے علاوہ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔ شخصی اعتبار سے وہ بہت خوبصورت انسان تھے۔ ماضی کی معروف اداکارہ ‘‘صابرہ سلطانہ’’ ان سے کافی قریب رہی ہیں۔ ان کے مطابق سلیم ناصر صاحب ان کے لیے چھوٹے بھائی کی طرح تھے اور انہیں دل سے بڑی بہن کا درجہ دیتے تھے۔ صابرہ سلطانہ کہتی ہیں کہ سلیم ناصر صاحب ایک مؤدب انسان تھے۔ اپنے سینئرز کے ساتھ ہمیشہ بے حد احترام اور تمیز سے بات کرتے تھے۔ پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کے بھی فیورٹ ہوا کرتے تھے کیونکہ یہ بہت جلد ان کی مرضی اور منشاء کو نہ صرف سمجھ لیتے تھے بلکہ خود کو بہت آسانی سے اس شکل میں ڈھال بھی لیتے تھے۔ کبھی کسی جھگڑے یا تلخ کلامی تک کی نوبت نہیں آئی۔ غصے کی حالت میں چپ رہتے اور منظر سے غائب ہو جایا کرتے تھے۔ سلیم ناصر صاحب نے اپنی پوری زندگی میں خود کو ایک اچھا اداکار تسلیم نہیں کیا۔ جب بھی ساتھی اداکاروں یا دوستوں کی محفل میں بیٹھتے تو ان کی تعریفیں شروع ہو جایا کرتیں تھیں جن کے جواب میں یہ بڑی سنجیدگی سے کہا کرتے ۔۔۔
    ‘‘نہیں بھائی ….میرے اندر وہ بات نہیں جو فلاں اداکار میں ہے۔’’
    اور اس فلاں کے بعد اداکاروں کی ایک طویل لسٹ ہوا کرتی تھی جس میں تقریباً پوری ٹی وی انڈسٹری ہی آجایا کرتی تھی۔ ہمیشہ اپنی تعریف پر کہا کرتے، ‘‘ابھی میں اچھے اداکاروں میں شامل نہیں ہوتا مگر میں دن رات محنت کر کے ایک نہ ایک دن ضرور اس قطار میں شامل ہو جاؤں گا۔’’
    آپ اسے سلیم ناصر صاحب کی اعلیٰ ظرفی سمجھ لیجیے یا ان کا بڑا پن کہ وہ اپنے جونیئرز کی کھل کر تعریف کیا کرتے اور جوابی تعریف کو یکسر مسترد کر دیا کرتے تھے۔
    ان کے حوالے سے ایک اور دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ ماضی کے معروف فلمی ہیرو محمد علی صاحب کے بہت بڑے پرستار تھے اور اکثر ان کی نقل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ خاص کر عدالتی مناظر میں ان کی پوری کوشش ہوا کرتی تھی کہ وہ محمد علی بن جائیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق ان کی یہ خواہش اس لیے تھی کیونکہ وہ چہرے مہرے سے محمد علی صاحب کی طرح دکھتے تھے مگر حقیقت میں وہ بس محمد علی صاحب کی اداکاری پر فدا تھے اور ان جیسا پرفارم کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔
    اکتوبر 1989ء میں سلیم ناصر صاحب دل کی تکلیف میں مبتلا ہوئے، دل کا پہلا دورہ برداشت کرنے کے چند ہی دن بعد 19 اکتوبر 1989ء کو انہیں دوسرا شدید دورہ پڑا۔ انہیں ہاسپٹل لے جایا جا رہا تھا مگر وہ راستے میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت مختصر وقت کے لئے اس دنیا میں بھیجا تھا ۔سلیم ناصر صاحب نے 45 برس کی عمر پائی۔
    انہیں بعد از مرگ پرائیڈ آ ف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
    انور مقصود صاحب نے اپنے شو میں ان سے ایوارڈ کے متعلق بھی پوچھا تھا اور جواباً سلیم ناصر صاحب نے کہا تھا۔
    ‘‘ایوارڈ تو صاحب …جب تک نہیں ملے گا کام کرتے رہیں گے مگر میری اس معاملے میں اوپر والے سے بات ہو گئی ہے …بس اب ملنے ہی والاہے۔’’
    اور جب ان سے ‘اوپر والے’ کے بارے میں پوچھا گیا تو کہتے ہیں ۔‘‘اوپر …بہت اوپر، ہماری اللہ میاں سے بات ہوئی ہے …ہمیں ایوارڈ ضرور ملے گا۔’’
    مجھے آنگن ٹیڑھا کا ایک سین یاد آ رہا ہے۔
    اکبر کچن میں ایک اسٹول پر بیٹھا ہوا ہے، اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں جنہیں وہ قمیص کے دامن سے صاف کررہا ہے۔ جہاں آراء بیگم کچن میں آتی ہیں تو اکبر خفگی اور ناراضی سے ان کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے۔
    ‘‘آپ دیکھنا، ہم ایک دن یہاں سے چلے جائیں گے …ہاں بس ذرا جلدی چلے جائیں گے۔’’
    جہاں آرا بیگم کے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ اکبر جو کہہ رہا ہے وہ سچ کر دکھائے گا۔
    سلیم ناصر جیسے لوگ دنیا میں ایک مثال بن کر اترتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ذریعے ہم عام انسانوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ جس نے کرنا ہے اس کے لیے زندگی کی لمبائی چوڑائی کی کوئی اہمیت نہیں، وہ صرف چند برسوں میں اتنا کام کر جاتا ہے جتنا لوگ ایک صدی جی کر بھی نہیں کر پاتے ۔سلیم ناصر صاحب ہماری ٹی وی کی تاریخ کی سب سے خوبصورت، دلکش اور اثر انگیز یاد ہیں۔ یہ وہ تابندہ ستارے ہیں جن کی چمک تاریخ کے صفحوں پر کبھی ماند نہیں پڑے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔۔۔ آمین۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

  • کلپٹومینیا ۔ ناولٹ

    کلپٹومینیا ۔ ناولٹ

    کلپٹومینیا
    میمونہ صدف



    رات کے پچھلے پہر وہ اوپری منزل کی جانب بڑھتا ہو ا ہر چیز کو آگے پیچھے اوپر نیچے سے یوں ٹٹول رہا تھا جیسے وہ لڑکی نہیں کوئی تتلی ہو جواُڑ کر کہیں چھپ گئی ہو۔ اگر وہ نیچے کہیں نہیں تھی تو اسے اوپر ہی ہونا چاہیے تھا بلکہ لازمی ہونا چاہیے تھا اور اگر وہ اوپر بھی نہ ہوتی تو؟ اس’ تو‘ کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔ باہر جانے کے دو ہی راستے تھے، اپارٹمنٹ کا فرنٹ ڈور اور کچن میں موجود بیک ڈور جو آس پاس کے ایک ہی طرز کے بنے سبھی اپارٹمنٹس میں موجو د تھے۔ دونوںہی دروازے اندر سے اچھی طرح مقفل تھے ۔ کھڑکیاں شدید سردی کی وجہ سے اس نے سردیوں کے آغاز پر ہی بند کر دی تھیں ورنہ وہ کھڑکی کے ذریعے باہر نہ چلی گئی ہو یہ سوچ بھی اس کے ذہن میں آتی اگر کوئی کھڑکی اسے کھلی ملتی تو، لیکن اس جما دینے والی ٹھنڈ میں وہ کمرے کی گرمائش ، میٹھی نیند، انگیٹھی میں جلتی بجھتی لکڑیوں اور نرم گرم لحاف چھوڑ کر اوپر کیا کر رہی تھی؟ جہاں ٹیرس پر شمال کی جانب سے آنے والی یخ بستہ ہوا ئیں استقبال کرنے کو تیار رہتی تھیں۔ ٹیرس کے ایک جانب اسٹور نما کمرا تھا جہاں گھر کا پرانا اور فالتو سامان رکھا ہوا تھا۔ پہلی بار اپنے نئے پروجیکٹ کے سبب وہ اتنا مصروف رہا تھا کہ اس نے کبھی اوپر جھانکنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ یہ اپارٹمنٹ اسے حال ہی میں کمپنی کی جانب سے اس ترقی پر ملا تھا جو شادی کے دو ماہ بعد ہی ہوئی تھی اور جسے اس نے اپنے بجائے اپنی بیوی کی اچھی قسمت گردانا تھا ۔
    زینہ عبور کرتے ہی اس کی نظر سامنے اسٹور کے ادھ کھلے دروازے سے چھن کر آتی ملگجی پیلی روشنی پر پڑی تو ایک گہری سانس اس کے سینے سے آزاد ہوئی۔ اسٹور سے آتی روشنی اس بات کی غماز تھی کہ وہ اندر ہی موجود ہے ۔ وہ اسی طرح دبے قدموں چلتا ہوا دروازے تک آیا ۔ نیم وا دروازے سے اندر کا منظر واضح تھا ۔ وہ ٹھنڈے فرش پر اپنے شب خوابی کے لمبے موٹے گاو ¿ن میں ملبوس، بال کھولے، بکھرائے، اردگرد ڈھیروں متفرق اشیا پھیلائے بیٹھی نہ جانے کہاں گم تھی کہ اسے اس کے آنے کی خبر تک نہ ہوئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے مخاطب کرتا، اس سے پوچھتا کہ وہ رات کے اس پہربنا اسے بتائے، یہاں کیا کر رہی ہے، اس کی نظر سامنے پڑی چیزوں پہ پڑی اور اس کے ذہن میں ایک جھماکا ہونے کے ساتھ ہی قدم وہیں جم گئے ۔
    ٭….٭….٭



  • اعتبار، وفا اور تم ۔ ناولٹ


    اعتبار، وفا اور تم
    نفیسہ سعید

    ”یہ مقیت کون ہے؟“
    حور عین نے اپنا جھکا ہوا سر اُٹھا کر سامنے دیکھا جہاں دروازے کے عین درمیان میں کھڑا سعدی اُس سے جواب طلب کررہا تھا۔
    ”میرا کلاس فیلو ہے۔“ سامنے پھیلے کاغذ سمیٹتے ہوئے حور عین نے جواب دیا۔ اس کا انداز بالکل نارمل تھا۔
    ”تم یونیورسٹی سے کلاسز بَنک کرکے اُس کے ساتھ باہر جاتی ہو۔“
    ”بَنک کرکے“وہ حیرت سے سعدی کی جانب پلٹی۔
    ”ایکس کیوز می میں کوئی اسکول یا کالج گرل نہیں ہوں جو بَنک کرکے لڑکوں کے ساتھ گھوموں اور یہ بات تم اچھی طرح جانتے ہو میں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی۔“ اس دفعہ اس کا جواب دینے کا انداز کچھ تیکھا تھا جسے سعدی نے شاید محسوس ہی نہیں کیا تھا۔
    ”تو کل اس کی گاڑی میں کہاں گئی تھی؟“
    ”کم آن سعدی! آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ۔“
    اس بار کیے جانے والے سعدی کے سوال نے اُسے قدرے چڑا دیا۔
    ” میری بات کا جواب دو تم کل مقیت کے ساتھ گاڑی میں کہاں گئی تھیں؟“
    ”صرف میں نہیں بلکہ ہم پانچ دوست باہر لنچ کرنے گئے تھے۔“
    ”تمہارے ساتھ اور کون گیا تھا مجھے اُس سے کوئی مطلب نہیں، میرا مسئلہ صرف تم ہو اور تم اچھی طرح جانتی ہو کہ مجھے لڑکیوں کا اس طرح غیر لڑکوں کے ساتھ گاڑیوں میں گھومنا پھرنا قطعی پسند نہیں لہٰذا آئندہ احتیاط کرنا۔“
    اتنا کہہ کر وہ دروازے سے واپس پلٹ گیا جب کہ اُس کے اندازِ گفتگو نے اچھی بھلی حور عین کا پارہ ہائی کردیا۔
    ”یہ اتنے غصے میں کیوں واپس گیا ہے؟“
    سعدی کے باہر نکلتے ہی فرزین دروازے میں آکر کھڑی ہوگئی۔ ایک بار پھر وہی جواب طلبی جس نے حورعین کو مزید تپا دیا۔
    ”پتا نہیں مجھے لگتا ہے کچھ پاگل ہوگیا ہے بلاوجہ ہی فضول بولے جارہا ہے۔“
    سعدی کی باتوں نے اُس کے دماغ کو برُی طرح گھما دیا تھا۔” برُی بات ہے حورعین ایسے نہیں کہتے وہ تمہارا ہونے والا منگیتر ہے۔“ فرزین نے چھوٹی بہن کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں تو منگیتر ہی رہے نا کیا ضرورت ہے میرے باپ کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی میں کس کے ساتھ کہاں جارہی ہوں، کیوں جارہی ہوں؟ یہ اُس کا مسئلہ نہیں ہے ابھی میں اپنے گھر پر ہوں اور یہ ذمہ داری میرے ماں باپ کی ہے عجیب فالتو آدمی….“اُس نے برُی طرح غُصے سے بڑبڑاتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی۔
    ”اچھا یار ریلیکس ہوجاو ¿ کیوں بلاوجہ اتنی ٹینشن لے رہی ہو۔“
    ”آو ¿ مووی دیکھنے چلتے ہیں۔“ فرزین نے اُسے کندھوں سے تھامتے ہوئے اُس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
    ”میرا موڈ نہیں ہے۔“ حورعین نے غصے سے کہا۔
    ”موڈ بنا لو میں تیار ہونے جارہی ہوں اور تم بھی ہوجاو ¿ ابھی جان محمد گھر پر ہی ہے ہمیں سینما چھوڑ دے گا اور واپسی میں بابا پک کر لیں گے اگر وہ فیکٹری چلا گیا تو بہت مسئلہ ہوگا۔“
    اُسے آرڈر دے کر فرزین باہر نکل گئی جب کہ اُس کے باہر جاتے ہی حورعین وہیں بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔ اس کا دماغ سوچ سوچ کر شل ہوگیا تھا کہ آخری سعدی میں اتنی بے اعتباری کیسے پیدا ہوگئی کہ وہ حورعین کی محبت پر شک کرنے لگا تھا اور اس بات نے اُسے بے چین کر دیا تھا۔
    ٭….٭….٭

  • کوزہ گر ۔ افسانہ

    کوزہ گر ۔ افسانہ

    کوزہ گر
    محمد عثمان ریحان

    ”کیا کہا ؟ کوزے نے کوزہ گر سے بغاوت کر دی ؟ تمہیں پتا بھی ہے کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ ارے اگر چاند، سورج سے بغا وت کر دے گا، تو روشنی کہاں سے پائے گا؟“
    ”لیکن وہ کوزہ تو کچھ ایسا ہی کہہ رہا تھا کہ بس آج کے بعد میں تم سے بغاوت کر رہا ہوں۔“
    ”بے وقوف! اوّل تو یہ کہ کوزے کا ایسا کہنا سمجھ میں نہیں پڑتا اور دوسرے یہ کہہ دینے سے کہ میں بغاوت کر رہا ہوں، بغا وت نہیں ہو جاتی ۔ اس کے لیے بہت بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے اور اکثر تو یہ قیمت جان سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور کوزہ اس قیمت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی کوزہ گر کو کیا فرق پڑے گا؟ وہ ایک چھوڑ کئی اور بنا لے گا۔“



    ”حضور! یہ تو مجھے معلوم نہیں، لیکن خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور کانوں سے سن کر آرہا ہوں۔“
    ”ارے نادان! بعض اوقات آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا غلط بھی ہو سکتا ہے۔ یہ دنیا تو ہے ہی دھوکے کا گھر۔ یہ دایاں ہاتھ دکھا کر بائیں ہاتھ سے وار کرتی ہے، اس کی کسی بات پر کبھی اعتبار مت کرنا۔ ہاں! اگر کوزہ گر نے کوئی بات کہی ہو تو وہ بتا۔“
    ٭….٭….٭


    تجمل نماز سے فارغ ہوا، صوفے پر لیٹ کر کمبل اوڑھا اور اخبار دیکھنے لگ گیا۔ اسی اثنا میں پھپھو کمرے سے باہر آئیں اور تجمل کی طرف غصے اور حیرت سے دیکھا، لیکن تجمل نے کوئی دھیان نہیں دیا تو پھپھو غصے سے گویا ہوئیں۔
    ”توبہ توبہ! کیا زمانہ آگیا ہے۔ نا تو کسی کو نماز کی فکر ہے ناقرآن کی۔ صبح سویرے اٹھتے ہی نہار منہ اس کم بخت کو لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ تمہیں ذرا بھی خوفِ خدا نہیں ہے۔“
    تجمل نے چڑتے ہوئے چہرے سے اخبار ہٹایا اور منہ بسورتے ہوئے کہا:
    ”پھپھو! ابھی تو نماز پڑھ کربیٹھا ہوں۔“ پھپھوبھی ہارنے والی کہاں تھیں جھٹ سے گویا ہوئیں:
    ”گھر پر ہی پڑھ لی؟ اتنا بڑ ا ہو گیا ہے پتا نہیں کب عقل آئے گی کہ مسجد میں نماز پڑھنا کتنا افضل ہے۔“
    تجمل اخبار لپیٹ کر رکھتے ہوئے بولا:”تو آپ کیوں نہیں جاتیں مسجد ؟ہر وقت مجھے کوستی رہتی ہیں۔“
    پھپھو اس بد تمیزی کو جو کہ متوقع تھی، برداشت نہ کر پائیں اور غصے سے تجمل کے سر پر ایک ہلکی سی چپت رسید کرتے ہوئے بولیں۔
    ”بہت زبان چلتی ہے۔ ذرا بڑے چھوٹے کا لحاظ نہیں ہے۔ قرآن شریف تمہارے ابا نے آکر پڑھنا ہے کیا؟ کتنے دن ہو گئے، مجال ہے کھول کر بھی دیکھا ہو۔“ تجمل نے پھپھو کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ ابھی کل، ان کی موجودگی میں ہی تو آخری دو پارے پڑھ کر قرآن ختم کیا ہے۔
    پھپھو تھو ڑی کھسیانی ہوئیں اور کہنے لگیں۔
    ”اچھا اچھا ٹھیک ہے، زیادہ بننے کی کوشش مت کرواور اٹھ کردکان سے چینی لے کر آﺅ، چائے بنانی ہے۔“ تجمل جو کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی سو کر اٹھا تھا اور کمبل چھوڑ کر کہیں جانا نہیں چاہتا تھا، اکتاہٹ سے بولا:
    ”پھپھو آپ سرمد کو بھیج دیں، مجھے اخبار دیکھنا ہے پلیز۔“
    ”اس کے اسکول کا وقت ہو گیا ہے اور تمہیں کتنی بار کہا ہے اس نامراد انگریزی کو گھر میں کم از کم مت بولا کرو، بے برکتی زبان ہے۔ ویسے ہی سننے میں کتنی بری لگتی ہے۔ توبہ!“ پھپھو نے کانوں کو ایسے ہاتھ لگائے گویا تجمل کو کوئی ناقابلِ معافی جرم کرتے دیکھ لیا ہو ۔ اس پر تجمل بھی چڑ گیا۔
    ”اب کہاں بول دی میں نے انگریزی؟“ وہ اکتائے ہو ے لہجے میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔
    ”یہ جو ابھی تم نے کہا، پی لیز…. یہ کیا تھا؟ چلو چھوڑو، اٹھو جا کر چینی خرید کر لاﺅ۔“ پھپھو نے جھڑکنے والے انداز میں اُسے حکم دیا اور خود صوفے پر براجمان ہو گئیں۔
    تجمل ناک چڑھاتے ہوے اٹھا۔ ”اچھا جا رہا ہوں۔“اتنے میں سائرہ بھابی بر آمدے میں داخل ہوئیں۔
    ”تجمل ناشتے میں کیا لو گے؟“



    تجمل جو پھپو کی نظروں سے اوجھل ہونا چاہتا تھا، بغیر تردد کے بولا۔
    ”بس جو بنا ہے، وہ ہی کھالوں گا۔“ اتنے میں پھپھوکا ایک اور حکم صادر ہوا۔
    ”اور ہاں دکان سے انڈے بھی لیتے آنا۔ “
    تجمل جو پہلے ہی اکتایا ہوا تھا، ویسے ہی بدلحاظی سے منہ بناتے ہوے بولا:
    ”جی اچھا! اور کچھ؟“
    پھپھو سے بھی جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو پھر جھڑکتے ہوے بولیں۔
    ”بس بس! اب جلدی سے جااور سامان لے کر واپس آ۔ خود تو تم نے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانا، لیکن باقی لوگوں کے پاس تو بہت سارے کام ہیں کرنے کو۔“ تجمل تیوری چڑھاتے ہوئے گھر سے باہر نکل گیا، سائرہ بھابی، باورچی خانے کی طرف بڑھ گئیں اور پھپھو تسبیح کرنے لگیں۔
    سرمد، جو مسجد سے قرآن شریف پڑھ کر ابھی لوٹا تھا۔ پھپھو کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر یونہی بیٹھے ہوئے گزری تو ایک دم بےزاری سے بولا۔
    ”امی جان، آج مجھے اسکول نہیں جانا، میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“
    پھپھو کو لگا کہ شاید یہ پٹی اسے تجمل نے ہی پڑھائی ہو گی۔ وہ جو پہلے ہی تجمل کو لتاڑنے کے بہانے ڈھونڈتی تھیں، اُنہیں اس کی خبر لینے کا ایک اور موقع مل گیا۔
    ”اے لو!“ پڑ گئی جناب کو بھی چچا والی عادتیں۔ میں تو کہتی ہوں،صاحبزادے کو اگر سیدھا رکھنا ہےتو اس کے سائے سے بھی دور رکھو۔“ وہ منہ چڑھاتے ہوے سائرہ بھابی سے مخاطب ہوئیں جنہوں نے کوئی جواب نہ دیا، لیکن اتنے میں تجمل جو سامان کے لیے پیسے لینا بھول گیا تھا، واپس آیا اور یہ ساری باتیں سن لیں۔
    ”جی ہاں، بالکل! اور اگر میں نے پیدا نا ہونا ہوتا، تو مغلوں پر زوال نا آتا ، انگریز ہندوستان پر قبضہ نا کرتے اور جنگِ عظیم دوم تو خود میں نے بھڑکائی تھی۔ بھابی پیسے لینا بھول گیا تھا، وہ دے دیجیے اور بھی کوئی الزام دینا ہے تو بتا دیجیے، سن رہا ہوں۔ پیٹھ پیچھے باتیں کر کے خوامخواہ گناہ لیں گی آپ۔“ تجمل نے بھی حسبِ روایت اپنا حساب چکاتے ہوئے کہا۔



    افضل، جو اپنے دفتر جانے کو تیار ہو رہا تھا۔ اس ساری گفت گو سے لطف اندوز ہو رہا تھا وہ۔ کمرے سے نکلا اور اپنی قمیص کے بٹن بند کرتے ہوئے پھپھو کے پاس ”ارے پھپھو جان! کیوں ہر وقت اپنا سر کھپاتی رہتی ہیں؟ سننی تو اس نے ہوتی نہیں آپ کی بات۔“ اس نے پھپھو کو سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔
    ”ارے بیٹا! یہی تو دکھ ہے کہ بات نہیں سنتا، اگر سن لیتا تو آج تمھاری طرح، کہیں اچھی جگہ پر ملازمت کر رہا ہوتا۔“
    پھپھو نے بھی اپنا وہی دکھڑا ہمیشہ کی طرح دہرایا۔ افضل نے اپنی طرف سے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی اور کہا۔
    ”پھپھو جی، ویسے ایک بات تو اس کی بھی ٹھیک ہے کہ ملازمت مت کرو، بندہ غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی کام کرنا ہے تو اس طرح کا کرو کہ نا تو کسی کی سنو اور نا سناﺅ۔ دیکھ لیا ہے میں نے ملازمت کا انجام بھی، لیکن کم بخت ہوا کا رخ مخالف سمت میں تھا۔“
    ”ارے! تو میں کیا اس کی دشمن ہوں ؟اس کے لیے برا سوچتی ہوں ؟ ہائے! اتنے تھے تم دونوں تمہارے ماں باپ گزر گئے، ماں باپ بن کر پالا تم دونوں کو۔ کیا کیا نہیں کیا میں نے تم دونوں کے لیے؟ یہی سننا باقی تھا۔ ہائے۔“ پھپھو منہ بسور کر بیٹھ گئیں کہ بات ان کے مزاج کے خلاف تھی۔
    افضل اس اچانک حملے سے بوکھلاگیا۔ ”ارے نہیں نہیں پھپھو! میرا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا، آپ غلط سمجھ گئیں۔ میں تو بس یونہی کہہ رہا تھا۔“ پھپھو اب کہا ں کوئی دلیل سنتیں؟
    ”ہاں تم جو بھی کہو، وہ صحیح، جو میں نے کہہ دیا وہ سب غلط۔“ پھپھو نے یہ کہہ کر رونا شروع کر دیا۔
    افضل کو پہلے ہی دفتر سے دیر ہو رہی تھی۔ وہ اپنا دامن بچاتے ہوئے کہنے لگا۔ ”ارے نہیں پھپھو۔ میر ا مطلب تھا کہ ….“ پھر وہ سائرہ سے مخاطب ہوا۔

  • خواہشوں کے پھیر ۔ افسانہ

    خواہشوں کے پھیر
    حمیرا فضا

    ”رات میرے سپنے میں پری آئی تھی ،سفید جھالر کے فراک والی پری۔اُس کے ہاتھ میں سبز رنگ کی جالی دار ٹوکری تھی اور اُس میں ڈھیر سارے سرخ گلاب کے پھول رکھے تھے۔“بانو نے ایک سرسری نظر چمکتی آنکھوں اور لال گالوں پر ڈالی۔
    ”پتا ہے بانو؟ اُس نے مجھے ایک پھول دیا،مگر صبح ہوتے ہی وہ کہیں غائب ہو گیا۔شاید سپنے میں رہ گیا ہے ۔ وہ پھول مجھے پھر مل جائے گا نا بانو؟“ رنگ بہ رنگ دھاگوں کی گوٹیوں سے کھیلتی وہ یک دم بے تاب ہوئی۔
    ”ہاں ہاں مل جائے گا۔“سلائی مشین پر انہماک سے کپڑے سیتی بانو نے اُس کی جانب امید کی ایک اور گوٹی اُچھالی۔
    ”تجھے ایک اور بات بتاﺅں بانو ؟“بانو نے چلتا ہاتھ روک کر اُسے تجسس بھری نگاہ سے دیکھا۔چھوٹی چھوٹی بھوری آنکھوں کی سپیاں، ارمانوں کے سمندر میں ڈوب رہی تھیں ۔
    ”ہمارے اسکول کی پچھلی طرف جو پیپل کا بڑا درخت ہے، وہاں سے کچّی سڑک ایک پکی سڑک کی طرف جاتی ہے ۔جہاں ایک بازار ہے، پرانا بازار،مگر ادھر ہر شے نئی ملتی ہے بانو ۔ وہاں مجھے ایک لمبے بالوں والی گڑیا ملی۔بڑی منت کی امّاں کی، مگر اُس نے خریدا تو سجُّو کا جوتا۔“اُس نے تپتے ہوئے دھاگوں کی گوٹیاں مشین پر دے ماریں، یوں جیسے چھوٹے چھوٹے پتھر سجُّو کے سر پر برسا رہی ہو۔
    ”ہائے ربّا اِتنا غصہ ؟“بانو نے ادھ سلے کپڑے بکھیرتے ہوئے اُسے بانہوں میں سمیٹا ۔ وہ کچھ دیر سسکتی رہی، پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔نہ جانے اُسے کس بات کا زیادہ دکھ تھا، گڑیا کے کھو جانے کا یا سجُّو کو نیا جوتا ملنے کا۔
    وہ دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی ۔اُسے امّاں ابّا سے یہ شکوہ تھا کہ وہ بھائیوں کی نسبت اُس کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے غریب اور بھائیوں سے یہ شکایت کہ وہ ماں باپ کا پیار بٹورنے میں اُس سے زیادہ امیر تھے۔اگر اُسے اِرد گرد کوئی اپنا لگتا، تو وہ بس بانو ہی تھی۔جو اُس کی سہیلی بھی تھی اور راہنما بھی۔ عمروں کی گنتی میں چھے سال کا فرق تھا، لیکن دوستی کی کتاب میں محبت برابر تھی۔
    جھالر کے فراک والی پری، سُرخ گلاب، پرانا بازار،نیا جوتا، لمبے بالوں والی گڑیا، رنگ بہ رنگ دھاگوں کی گوٹیاں، معصوم ذہن کی گلیوں میں کچھ دن گتھم گتھا خیالوں کے ہیولے گھومتے رہے۔آخر ایک دن امّاں نے پھیری والے سے اُسے مٹی کا گلّہ لے دیا۔
    ”اِس میں پیسے جمع کرتی جا، کچھ میں بھی ملاﺅ گی اور پھر تجھے گڑیا لے دوں گی۔“امّاں نے اُسے منایا، تو کملائی صورت پر رونق لوٹ آئی۔
    اسکول کے خرچ کے لیے اُسے روز ابّا سے ایک روپیہ ملتا۔چٹ پٹی چیزوں سے اُس کا دل اُٹھنے لگا تھا کیوں کہ میٹھا خواب سامنے تھا۔ وہ پرانے نوٹ پر ننھا ہاتھ پھیر کر روز نئے گلّے میں ڈالتی۔ اپنا پیٹ خالی رکھ کر محبت سے گلّے کا پیٹ بھرتی۔ خواہش کو دل میں پالتے اور گلّے میں پیسے جوڑتے چھے ماہ ہوگئے تھے۔ ابّا بیمار ہوکے گھر بیٹھا، تو اسکول کے راستے ہی بند ہو گئے۔اب سارے گھر کا بوجھ امّاں کے کندھوں پر تھا۔
    ”دیکھ بینا گلّہ توڑ دے،اپنا سپنا توڑ دے ۔“ امّاں کی کانپتی آواز کے پیچھے پری کی مترنم سرگوشی تھی۔
    ”میرے پاس کچھ پیسے ہیں، کچھ تو ملا دے۔ تب ہی تیرے ابّا کی دو چار دن کی دوا آئے گی۔ اُس کی کھانسی سن، میرے دل پر لگتی ہے۔“ ایک طرف امّاں کی روتی ہوئی شکل تھی، تو دوسری جانب گڑیا کا ہنستا ہوا چہرہ۔ اُسے خوب صورت پری پر شدید غصہ آیا۔ خواہش کا پہلا پھول، غربت کی زمین پر گِر کے سوکھ چکا تھا۔
    کچھ روز دل، حسین پری اور بدحال ماں سے خفا رہا، مگر پھر نئے خواب نے دل کو راضی کر لیا۔
    ”بانو رات وہ پھر آئی تھی۔“
    ”کون آئی تھی ؟“سوئی میں دھاگا ڈالتی بانو نے بے دھیانی سے کہا۔
    ”وہی جھالر کے فراک والی ، پیاری سی پری ۔ایک اور پھول دے گئی ہے وہ۔“ بانو ادھوری بات کا مطلب اچھی طرح سمجھ گئی۔
    ”تجھے یاد ہے وہ شبنم کا گلابی غرارہ چولی، جو اُس نے جمیلہ باجی کی مہندی پر پہنا تھا ۔اِس عید پر میں بھی ویسا بناﺅں گی ۔“ وہ مختلف دھاگوں پر انگلیاں پھیر تے ہوئے بولی۔
    ”ہاں ہاں ضرور بنا، تیرے گورے رنگ پر خوب جچے گا، اُس سانولی پر تو اُٹھ ہی نہیں رہا تھا۔“

  • میخیں ۔ افسانہ

    میخیں
    افسانہ
    منیر احمد فردوس

    ”منو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“ بابا نے مجھے پانچ روپے کا نوٹ پکڑاتے ہوئے کہا اور میں پیسے لے کر بازار کی طرف دوڑ پڑا۔
    کئی راتوں سے یہ خواب میری آنکھوں سے چمٹا ہوا تھا اور میں تحیر خیز لمحوں میں جکڑا ہوا تھا کہ بابا کیوں بار بار خواب میں آ کے مجھے میخوں کا کہہ رہے ہیں؟میرے پلے کچھ نہیں پڑ رہا تھا۔ وہ زندہ ہوتے تو پوچھ بھی لیتا مگر انہیں تو فوت ہوئے چند برس بیت گئے تھے۔ بابا ہر دوسرے تیسرے روز خواب میں آ کر بالکل اُسی طرح مجھے میخیں لینے بھیج دیتے جیسے وہ فرنیچر کی دکان پر کام کرتے ہوئے بچپن میں مجھے کہا کرتے تھے:
    ”منو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“
    پہلے تو میں نے خواب پرکوئی خاص توجہ نہ دی مگر ایک رات بابا جب لہو لہان آنکھوں کے ساتھ میری نیندوں میں داخل ہوئے تو میرے اوسان خطا ہو گئے۔ ان کی آنکھوں میں تین انچی والی میخیں اتری ہوئی تھیں اور ان کے ہونٹوں پہ ایک ہی بات جاری تھی:
    ”منو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“
    بابا کی یہ حالت اور خون اُگلتا خواب میرے اعصاب پر ایسا سوار ہوا کہ نیند میری آنکھوں سے رخصت ہو گئی جیسے زندہ وجودکو روح چھوڑ کر چلی جائے۔ میں سوچوں کے جزیرے کی طرف جا نکلا کہ بابا آخر مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟ بظاہر میری زندگی بہت آسودہ تھی۔ ایسا کوئی دکھ یا پریشانی لاحق نہیں تھی جو مجھے بے خوابی کے جنگلوں میں لا پھینکتی۔ جہاں سے فرار ہونے کے میں سو سو جتن کرتا مگر رتجگوں کے لشکر مجھ پر حملہ آور ہو کر میری نیندوں پر قبضہ کر چکے تھے۔ہر وقت بابا کی خون ٹپکاتی آنکھیں میری نگاہوں میں گھوم جاتیں اور ان کی ایک ہی بات میری سماعتوں میں اودھم مچانے لگتی:
    ”مْنو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“
    پتہ نہیں کیوں یہ بات میرے دل دماغ میں جڑ پکڑ گئی کہ خواب کو نظر انداز کرنے سے بابا مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں اورجاتے وقت میری آنکھوں کے ساحل سے نیند کے سارے سیپ بھی چن کرساتھ لے گئے ہیں۔ بابا کی ناراضی کی گرد سے اٹا میں کئی بار ان کی قبر پر بھی گیا، وہاں بیٹھ کر ان سے اپنی کوتاہی کی معافی مانگی، آنسو بہائے مگر کچھ بھی کام نہ آیا۔ نہ میری آنکھوں میں نیند کی بارش ہوئی اور نہ ہی خوابوں کے راستے بابا پھر مجھ سے ملنے آئے۔ راتیں میری نیند کا راستہ روکے میری آنکھوں میں کھڑی ہو گئی تھیں۔
    آج رات بھی بستر پر بے چینی سے کروٹیں بدلتا میں نیند کا شکار کرنے کے لئے مسلسل جاگ رہا تھا اور رت جگے کی اذیت میرے چہرے پرشکنیں بچھا رہی تھی۔ کمرے میں چاروں طرف بابا کی سرخ آنکھیں تھیں اور ان کا گونجتا ہوا جملہ تھا:
    ”منو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“
    نیند میری حسرت بن کے بابا کو آوازیں دینے لگی کہ صرف ایک بار وہ میرے خواب میں آئیں تو میں بابا سے معافی مانگتے ہوئے پوچھوں کہ بابا! مجھ سے ایسی کیا خطا ہو گئی کہ آپ نے مجھے خوابوں میں بھی دھتکار دیا۔
    میں سوچوں کے انبار میں سے اِس اذیت سے نجات کا راستہ ڈھونڈنے لگا کہ آخر اس خواب کی جڑیں کہاں پیوست ہیں؟ گھنٹوں سوچتے سوچتے اچانک میرے ذہن کے دریچوں سے ایک گلی جھانکنے لگی۔
    ”ارے یہ گلی؟“ میں چونک اٹھا۔یہ تو وہی گلی تھی جہاں میرا بچپن کسی ہریالی بیل کی طرح سے پھیلا ہوا تھا۔ کہیں اس خواب کا تعلق اس گلی سے تو نہیں ہے؟ ایک دم سے مجھے خیال سوجھا اور میں اس خیال کی انگلی تھام کر اس کے ساتھ ہی اڑتا چلا گیا۔ جوں جوں اڑتا گیا، خواب پر سے دھول ہٹتی گئی۔
    ”ہو نہ ہو یہ خواب اسی گلی میں ہی کہیں پڑا ہوا ہے۔“ میرا گمان مجھ سے مخاطب ہوا اورمیں خیالوں کی رتھ میں سوار برسوں کی مسافت لمحہ بھر میں طے کرتا اس گلی میں پہنچ گیا جہاں ہر وقت بابا کا یہ جملہ میری سماعتوں میں بارش کے قطروں کی طرح ٹپکتا رہتا:
    ”منو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“
    وہ گلی میرے ذہن کے پردے پر پوری طرح سے جاگ اٹھی، اس کے ساتھ ہی اچانک اُن دو لال آنکھوں نے مجھے جکڑ لیا جن کے خوف سے میں بچپن میں رضائی کے اندر منہ چھپائے سو جایا کرتا۔ میں وقت کی چالوں پر حیران تھا جس نے میری یادداشتوں سے وہ آنکھیں بالکل ہی مٹا دی تھیں جن کا ایک عرصے تک میری نفسیات پر گہرا اثر رہا مگر اب مجھے یوں لگا جیسے ماضی کی دہلیز سے جھانکتی وہ لال آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں جن کی مجھے آج بھی ضرورت ہے۔ جن میں گہری نیندوں کے راز چھپے ہوئے تھے۔ میں اسی لمحے میں ہی ٹھہر گیا۔ وہ گھورتی آنکھیں آہستہ آہستہ میرے وجود میں اترنے لگیں اور مجھ پر وہی بچپن والی کیفیات طاری ہونے لگیں۔ ان سے جھانکتا خوف مجھے دھیرے دھیرے گھیر رہا تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی اور اس لمحے نے مجھے گلی سے اٹھا کر کمرے میں لا پھینکا، جس نے اندھیرا اوڑھ لیا تھا۔ میں نے اٹھ کر موم بتی جلائی۔ ٹک ٹک کرتے گھڑیال پر نظر ڈالی تو رات کے تین بج رہے تھے۔ بظاہرتو میں بچپن کے جادوئی لمحوں میں سانس لیتی اس گلی سے لوٹ آیا تھامگر وہ گلی میرے اندر دور دور تک بچھتی چلی گئی جن کے ساتھ جڑے کچھ شناسا چہرے بھی جاگ اٹھے تھے۔ ان میں وہ  لال آنکھیں بھی شامل تھیں جو میرے اندر خوف بویا کرتی تھیں۔برسوں بیت گئے تھے مجھے اس گلی میں قدم رکھے ہوئے، جس نے مجھے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔اسے دیکھنے کی شدید خواہش میرے اندرجاگ اٹھی اور صبح میں نے وہاں جانے کا تہیہ کر لیا۔
    میں مدت بعد اس گلی میں کھڑا تھا جہاں چپے چپے پر میری یادوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ میری چاپ سنتے ہی وقت کے دبیز پردوں میں خوابیدہ منظر انگڑائیاں لے کر بیدار ہو گئے،جن میں میری دی ہوئی سانسیں دوڑ رہی تھیں۔ میں جس طرف بھی نگاہ ڈالتا وہاں سے کوئی نہ کوئی منظر مجھے آواز دینے لگتا۔گلی میں بکھری انگنت یادیں میرے دامن سے یوں لپٹ گئیں جیسے وہ برسوں سے میری ہی راہ دیکھ رہی تھیں۔ میں اُن بیتے لمحوں میں اتر کر ایسا کھویا کہ آس پاس سے بے خبر گلی کے ایک ایک حصے کو دیکھتا ہوا عین اس جگہ پر آٹھہرا جہاں بابا کی فرنیچر کی دکان ہوا کرتی تھی اور وہ کام کرتے کرتے اچانک مجھ سے کہہ اٹھتے: 
    ”منو پتر! جا بھاگ کے جا، بازار سے تین انچی والی میخیں لے کے آ۔“ 

  • ایک معمولی آدمی کی محبت ۔ افسانہ


    ایک معمولی آدمی کی محبت
     محمدجمیل اختر
    وہ ایک ادھوری زندگی گزار رہا تھا ، بعض لوگ ساری عمر زندہ رہنے کے باوجود مکمل زندگی نہیں گزار پاتے۔ مکمل زندگی بہت کم لوگوں کونصیب ہوتی ہے ۔
    اُس کے باپ نورزمان نے دوشادیاں کررکھی تھیں۔ دونوں بیویاں سارا دن آپس میں لڑتی رہتیں ۔ نورزمان جب گھر آتا اور بیویوں کو لڑتے دیکھتا تو وہ بھی اس میدانِ جنگ میں کود پڑتا، کسی کے حصے میںاُس کا بھاری ہاتھ آتا تو کسی کے حصے میں اُس کا بھاری جوتا۔ دونوں بیویاںایک دوسرے کوکوسنے دیتے ہوئے اپنے اپنے بچوں کوسمیٹتی ہوئی اپنے کمروں جا کر دبک جاتیں۔ جن بچوںکی وجہ سے عموماً لڑائی ہوتی تھی، نورزمان انہیں بھی مارنا اپنا فرض سمجھتا تھا اُسے اپنے باپ سے ڈر لگنے لگا تھا۔ اُسے لگتا کہ اُس کے باپ کو اُس سے ذرا بھی محبت نہیں، ورنہ وہ اتنی بے دردی سے انہیں کبھی نہ مارتا۔ ایسے پرتشدد ماحول میں کسی کا حساس دل کے ساتھ پیدا ہوجانا ناقابلِ تلافی جرم ہے۔ جس کی سزا تمام عُمر بھگتنا پڑتی ہے۔
     دانش بھی یہ سزا بھگت رہا تھا۔ اندر ہی اندر اُس کی یہ خواہش تھی کہ کوئی اُس سے بھی محبت کرے، کوئی کہے کہ دانش تم کتنے اچھے ہو کتنے لیکن اُسے تو کبھی کسی نے محبت سے نہیں پکارا تھا ۔ وہ گاوں کی نہر کے کنارے بیٹھ کر اکثر سوچتا رہتا تھا کہ کاش وہ کوئی پرندہ ہوتا پرندے ایک ساتھ اڑتے ہیں، ایک ساتھ دانہ چگتے ہیں تو پرندوں کو یقینا آپس میں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت ہوتی ہوگی، تبھی تو وہ ایک ساتھ ایک قطار میں اڑتے ہیں۔ کاش! وہ ایک پرندہ ہوتا، اِس تنہائی کا احساس اُس کے اندر دن بہ دن شدید تر ہوتا جارہا تھا۔
    اپنے باپ کی مار سے بچنے کے لیے اُس نے کتابوں میں پناہ لے لی۔ وہ دن رات پڑھتا رہتا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پڑھائی میں بہت تیز ہوگیا۔ ایف اے کرنے کے بعد وہ محکمہ ¿ ڈاک لاہورمیں جونیئر کلرک بھرتی ہوگیا اور اُس نے گاﺅں کو خیرآباد کہہ دیا۔لاہور میں اُس نے ایک کرائے کا مکان لے لیا جس کی اوپری منزل پر اُس کا مالک مکان منصور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔
     ایک عمر تک وہ اس خواہش میں مارا مارا پھرتا رہا کہ اُس سے کسی کو محبت ہوجائے اورکوئی پاگلوں کی طرح دیونہ وار اُس سے محبت کرے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بہت سی آنکھوں میں اُس نے اِس امید سے جھانکا کہ شاید اِن میں اُس کاعکس ہولیکن ایسا کبھی ہوا نہیں۔ وہ ایک معمولی آدمی تھا، ایک معمولی جونیئر کلرک جوپورا دن فائلوں کے بوجھ تلے دبا رہتا، سارا دن ٹھک ٹھک ٹھک ٹائپنگ کرکے افسر کے آگے کاغذات لے کر جاتا ہوا معمولی سا آدمی ، جس کا لکھا ہوا کاغذ صاحب ایک بار دیکھتے اور نخوت سے اس کی طرف اچھالتے ہوئے کہتے:“
    ”یہ ٹھیک نہیں ہے تم اس میں ایسے یہ تبدیلی کرو۔“اور جب وہ یوں کر کے بھی لے آتا تھا تو پھر صاحب کہتے:
    ” میں نے تو یوں نہیں کہا تھا، تمہارے پاس الفاظ کا ذخیرہ کم ہے، اپنی Vocabulary بڑھاﺅ،تھوڑی محنت کرو اور اِس درخواست کو پھر سے لکھو ۔“
     وہ پھر چلا جاتا۔ ڈکشنری سے نئے نئے الفاظ چن کرٹھک ٹھک ٹھک کرتا نئے سرے سے درخواست ٹائپ کرتا، لیکن اکثر ہی جب وہ درخواست پھر سے ٹائپ کرکے لاتا تو صاحب کا گھر جانے کا وقت ہوجاتا۔شام کو وہ ٹینس کھیلتے تھے سو جلدی گھر چلے جاتے کیوں کہ وہ صاحب تھے، لیکن ایک جونیئر کلرک ان سے سوال نہیں کرسکتاتھا، اور جاتے ہوئے صاحب اُس سے یہ ضرور کہتے کہ سارا دن تم سے ایک صفحہ نہیں لکھا جاتا، اگر اِسی طرح کام چوری کرتے رہے تو تمہارا کچھ کرنا پڑے گا۔وہ چوں کہ معمولی آدمی تھا لہٰذا معذرت ہی کرتا رہ جاتا کہ آئندہ وہ کوشش کرے گا کہ کام بہتر طریقے سے کرسکے اور یہ اُس کا روز کا معمول تھا ۔
    ایسے میں دفتر کا کوئی ساتھی جب اپنی محبت کا کوئی قصہ سناتا تو اُسے لگتا کہ یہ سب جھوٹ ہے، ایسا بھلا کیسے ممکن ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی اُس سے بھی محبت کرتا۔
    اُس کے کمرے میں ہرطرف کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ وہ اب ناولز پڑھ پڑھ کر اکتا گیا تھا۔ اُسے یہ سب کہانیاں جھوٹ لگنے لگی تھیں، ایسے ہی جیسے اُسے اپنے ساتھی اہل کاروں کی باتیں جھوٹ لگتی تھیں۔ نہ اُس سے کسی کو محبت ہوئی تھی اور نہ ایسے جذبات اُس کے اندر کسی کے لیے پیدا ہوئے تھے۔ اب وہ صرف فلسفے کی کتابیں پڑھتا تھا۔
    اپنے مالک مکان منصور صاحب سے اُس کی معمولی سلام دعا تھی لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا کہ یہ منصور صاحب کے گھر کا فرد ہی سمجھا جانے لگا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک شام یہ دفتر سے گھر آ رہا تھا۔ ابھی وہ گلی کی نکڑ پر ہی تھا کہ اُس نے دیکھا کہ اُس کے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم ہے۔ وہ پریشانی میں دوڑتا ہوا وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ منصور صاحب کا چھ سالہ اکلوتا بیٹا گلی میں کھیل رہا تھا کہ کوئی موٹر بائیک والا ٹکر مار کر اسے بھاگ گیا ہے۔ بچے کی ٹانگ سے خون بہہ رہا تھااور منصور صاحب اپنی دکان سے ابھی گھر پر نہیں آئے تھے۔ وہ بھاگ کرٹیکسی پکڑ لایا اور بچے کو ہسپتال پہنچایا ، او نیگیٹو خون کی ضرورت پڑی تو وہ بھی اس نے دے دیا کہ اُس کا بلڈ گروپ یہی تھا۔ قصہ ¿ مختصر کہ جب منصور صاحب ہسپتال پہنچے تو بچے کی حالت سنبھل چکی تھی۔ منصور صاحب کو بھابھی ثانیہ نے جب دانش صاحب کی رحم دلی کے بارے بتایا تو انہوں اٹھ کر دانش کو گلے سے لگایا کہ بھائی میں تمہارا یہ احسان عمر بھر نہیں اتار سکتا، آج سے تم میرے بھائی جیسے ہو۔ اُس دن کے بعد جب وہ شام کو گھر آتا تو ثانیہ بھابی بچوں کے ہاتھ ان کے لیے کھانا بھیج دیتیں ، کبھی کبھار منصور صاحب ہاتھ پکڑ کر لے جاتے کہ آئیں جناب! ایک کپ چائے ساتھ میں پیتے ہیں۔ اب اُس کی تنہائی کچھ کم ہوئی تھی لیکن رات کو کوئی شاعری کی کتاب پڑھتے ہوئے جب وہ کوئی شعر گنگناتاتو تنہائی کا احساس شدید ہوجاتا اور اُسے محسوس ہوتا کہ وہ گاوں میں نہر کنارے بیٹھا ہے اور پرندوں کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہے کہ کاش وہ بھی کوئی پرندہ ہوتا ۔آخر اُس سے کوئی کب محبت کرے گا؟
    ایک شام جب وہ دفتر کی ٹھک ٹھک سے اکتا کر گھر واپس آیا تو اوپر سے منصور بھائی کہ آواز آئی:
    ” بھائی اوپر آئیے! چائے بھی پیجئے اور کچھ مہمانوں سے مل بھی لیجیے ،انہیں بھی آپ کی طرح کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے “
     جب وہ اوپر گیا تو معلوم ہوا کہ ثانیہ بھابھی کی چھوٹی بہن بہاول پورسے یہاں چھٹیاں گزارنے آئی ہوئی ہیں۔

  • بھوک – سو لفظی کہانی

    بھوک – سو لفظی کہانی

    سو لفظی کہانی

    بھوک

    سیدہ رابعہ غرشین

    ماہا کے پیٹ میں روز درد رہتا تھا۔ ٹیچر دوائی دے کر ڈاکٹر کے پاس جانے کی تلقین کرتی… مگر اگلے دن پھر وہ درد سے رو رہی ہوتی…

    آج میں نے اسے اپنے ساتھ لنچ کرنے کی پیشکش کی۔

    امی کے ہاتھ کا بل والا پراٹھا دیکھ کر اس کی آنکھیں چمک اٹھیں، مگر اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے کھانے سے انکار کردیا۔

    بہت اصرار کرکے میں اسے کھانے پر راضی کیا۔

    معمول سے ہٹ کر ایک کام ہوا تھا آج… اس کے پیٹ میں درد نہیں ہوا۔

    تب مجھے پتا چلا یہ درد پیٹ کا نہیں بھوک کا درد تھا۔

    ٭…٭…٭

     
  • ایڈوانس بکنگ – سو لفظی کہانی

    سو لفظی کہانی

    ایڈوانس بکنگ

    محمد فیصل علی

     

    ”میں نے کار روکی، بزرگ شکریہ ادا کر کے بیٹھ گئے۔

    ”آپ کا تعارف؟”

    ”ریٹائرڈ فوجی ہوں، ایک سیٹھ کے ہاں کام کرتا ہوں،

    ادھر ”بچوں” کو عید ملنے آیا ہوں۔”

    ”ایڈریس بتائیں؟” میں گھر تک چھوڑ دیتا ہوں۔

    انہوں نے پتہ بتایا… کار ایک بڑی کوٹھی کے سامنے جا رکی۔

    مجھے پانی پلانے کے لیے روکا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک نوجوان فون پر بات کرتے ہوئے نمودار ہوئے:

    ”ابا جی آئے ہوئے ہیں، عید کے بعد رش بہت ہوتا ہے نا… ان کی ٹکٹ ایڈوانس بک کر لیں… ہاں ہاں عید کے دوسرے روز صبح آٹھ بجے کی، اوکے۔”

    ٭…٭…٭