Tag: کہانیاں

  • منّزہ سہام مرزا – گفتگو

    منّزہ سہام مرزا – گفتگو

    گفتگو

    منّزہ سہام مرزا

    (منّزہ سہام مرزا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ منّزہ اپنے بچپن سے ہی اس شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ان کے والد سہام مرزا صاحب دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کے مدیرِ اعلیٰ اور بانی تھے۔ اب منّزہ سہام ماہ نامہ دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کی ادارت کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔)

    ٭ کچھ اپنے حوالے سے بتائیں، آپ کب سے اس فیلڈ میں ہیں؟

    منّزہ: میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں اپنے والد کے ساتھ واقعی میں بچپن سے ہی اس فیلڈ میں ہوں۔ جب وہ آفس جاتے تو میں بھی ان کے ساتھ جایا کرتی تھی۔ میرا شروع سے ہی اس کام کے ساتھ ایک خاص لگاؤ رہاہے، وہ مجھ سے کہانیوں کو ڈسکس کیا کرتے تھے، اچھا بتاؤ یہ افسانے، یہ کہانیاں کیسی ہیں؟ ہمارے ادارے سے بچوں کا رسالہ بھی نکلتا تھا جس کا نام ہی ”بچوں کا رسالہ تھا،” میں اس میں ”کوّا کہانی” کے نام سے کہانی لکھتی تھی، اس کا مرکزی خیال ابّو نے ہی دیا تھا کہ ایک کوّا ایک گھر میں بیٹھا ہے اور وہ اس گھر یا اس جگہ پر جو کچھ دیکھ رہا ہے، وہ سب بیان کررہا ہے۔ تو بہت چھوٹی سی عمر سے ہی بچوں کی کہانیوں میں معاشرے مسائل کو ڈسکس کیا۔ مجھے بلیاں بہت پسند تھیں، پہلی کہانی میں نے پانچویں جماعت میں لکھی تھی جس کا نام بلّی کانفرنس تھا، اور اس کے بعد کوّا کہانی۔ جانوروں کی کہانیاں زیادہ لکھیں۔ ابّو کے انتقال کے بعد جب میں نے آفس سنبھالا تو بہت سی چیزوں کا مجھے نہیں پتا تھا، لیکن ابّو کے ساتھ آفس آتے جاتے بہت سی چیزیں غیر ارادی طور پر میں سیکھتی گئی اور مجھے زیادہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میں نے ویسے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا ہوا ہے۔ گریجوایشن میں نے سینٹ جوزف کالج اور ماسٹرز کراچی یونی ورسٹی سے کیا تھا۔

    ٭ آپ جب ایڈیٹنگ کی فیلڈ میں باقاعدہ طور پر آئیں تو اس کے بعد سے آپ نے لکھناترک کردیا یا ابھی بھی جاری ہے؟

    منّزہ: ترک نہیں کیا، میں کالمز لکھتی رہی۔ میرا مزاج تھوڑا سا تبدیل ہوا۔میں پہلے کہانیاں اور افسانے لکھتی تھی، پھر مجھے کالم لکھنے میں مزہ آنے لگا۔ وہ ایک چیز جو میرے اندر شروع سے تھی سوشل ایشوز کو ڈسکس کرنا، وہ افسانے میں بھی کی جاسکتی ہے لیکن ذاتی طور پر مجھے کم الفاظ میں چیز کہنا یا لکھنا اچھا لگتا ہے تو ظاہر ہے وہ چیز آپ کالم میں کرسکتے ہیں، پھر میں کالمز لکھتی رہی۔ کالمز لکھ کر بھی تھک گئی کہ کچھ فائدہ نہیں ہوتا کتنا آپ لوگوں کوسمجھائیں (مسکراتی ہیں)، کالم لکھنا بھی چھوڑ دیا۔ اس کے بعد میں نے ایک چھوٹی سی ڈائری کے طور پر ‘شہید کی ڈائری’ لکھنا شروع کی جو دو صفحات پر مشتمل ہوتی تھی، وہ 1965ء کی جنگ کا ایک گمنام شہید ہے، وہ جنّت سے بیٹھ کر ہمارے ملک کو کیسے دیکھ رہا ہے، اس کو کیا نظر آرہا ہے۔ وہ سلسلہ چلتا رہا، لیکن اب واقعی میں لکھنے کی فرصت نہیں ہے، جب آپ ایک ادارہ چلارہے ہوتے ہیں تو مشکل ہوجاتا ہے۔ اب دل میرا چاہتا ہے لیکن وقت نہیں مل پاتا۔

  • شکیل عادل زادہ – گفتگو

    گفتگو

    شکیل عادل زادہ

    شکیل عادل زادہ صحافت اورڈائجسٹ کی دنیا کا بے حد معتبر نام ہیں۔ مقبول زمانہ ڈائجسٹ ”سب رنگ” ان کی پہچان بنا۔ 1938ء میں مراد آباد میں پیدا ہونے والے شکیل عادل زادہ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ چھے سال کے تھے جب والد دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ نامساعد مالی حالات کے باعث خود تگ و دو کرتے ہوئے تعلیمی منازل طے کیں۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے اور بطورِ صحافی اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی محنت اور لگن سے ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے اس درجے تک پہنچے کہ اپنی ذات میں ایک ادارہ بنے۔ انہوںنے سب رنگ کے پلیٹ فارم سے اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے بہترین کارہائے نمایاں انجام دیئے۔

    الف کتاب کے کونٹینٹ مینیجر حسن عمر سے ہوئی شکیل عادل زادہ کی گفتگو کا احوال پڑھیے۔

    حسن عمر: ویسے تو ہم سب جانتے ہیں کہ آپ کی عمر گزری ہے اس دشت کی سیاحی میں مگر پھر بھی ہمارے قارئین کے لیے مختصراً تعارف کہ آپ کب سے اس فیلڈ میں ہیں، شروعات کیسے ہوئیں؟

    شکیل: میں عملی زندگی میں اخبار کے راستے داخل ہوا تھا۔یہ سفر  رئیس امروہوی صاحب کے روزنامہ ”شیراز” سے شروع ہوا۔ یہ اُس زمانے میں شائع ہونے والا  ایک ناکام پرچہ تھا۔ لیکن جب میں اس سے وابستہ ہوا  تو تب وہ ڈمی (dummy) پر چھپتا تھا۔جب پرچے میں جان نہ رہتی تو پھر ڈیکلریشن زندہ رکھنے کے لیے وہ ڈمی پر چھپا کرتے تھے۔ تو میں نے اسے مزید ڈمی کردیا۔ یہ بات ہے سن ستاون(1957) کی۔چوں کہ کچھ اشتہارات تھے، تقریباً آٹھ نو سو روپے کے، اس زمانے میں آٹھ نو سو روپے بھی بہت ہوتے تھے ، تو ہم یہ کرتے کہ اشتہارات چھاپنے کے لیے چار صفحے کا سنڈے ایڈیشن چھاپتے جب کہ  باقی سولہ صفحے چھاپنے کے لیے ہمیں ڈمی کی مدد لینا پڑتی تھی۔ قانون یہ ہے کہ سولہ پرچوں کی ماہانہ ڈمی اگر داخل کی جائے توڈیکلریشن زندہ رہتا ہے۔ تو چار تو ہم سنڈے ایڈیشن چھاپ دیتے تھے مہینے میں، باقی سپلیمنٹ کے طور پر ایک صفحہ پر مشتمل اخبار روزانہ چھاپ دیتے تھے،جو تقریباً سو کے قریب چھپتا تھا۔ اس میں ہمیں کافی بچت ہونے لگی جس میں سے رئیس صاحب کا ذاتی خرچہ نکل آتا تھا۔ رئیس صاحب سے میرا تعلق یوں ہوا کہ میرے والد اور رئیس صاحب ہندوستان کے شہر مرادآباد سے ایک رسالہ نکالتے تھے جس کا نام تھا ”مسافر”۔ رئیس صاحب تقسیم کے فوراً بعد پاکستان آگئے اور میں کوئی دس سال بعد یہاں آیا۔ یہاں آیا تو کچھ عرصہ اپنے عزیزوں کے ہاں گزارا لیکن بعد میں رئیس صاحب کے گھر ہی رہا۔تو گویا میری لکھنے کی تربیت اسی خاندان میں ہوئی۔ رئیس امروہوی ،سیّد محمد تقی اور ان کے چھوٹے بھائی جون ایلیا کی ہمراہی میں سارا وقت گزرا اور یہی میرا عملی زندگی کا آغاز تھا۔ ہم پڑھتے بھی رہے، اردو کالج میں داخلہ لیا، وہاں سے بی کام کیا، پھر external student کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں اور بعد میں پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرزکیا۔ یہ میری مختصراً روداد ہے (مسکراتے ہیں)

    حسن عمر: سب رنگ کا آئیڈیا کسی نے دیا تھا یا یہ خالصتاً آپ کا اپنا آئیڈیا تھا؟

    شکیل: جی ہاں بالکل! یہ میرا اپنا آئیڈ یا تھا۔ہوا کچھ یوں کہ ”شیراز” تقریباً ایک سال تک چلا۔ جون ایلیا بھی اسی زمانے میں ہندوستان سے آئے تھے اور بہت بیمار تھے۔ انہیں TB تھی ایک طویل علاج کے بعد وہ ٹھیک تو ہو گئے مگر ان کی دوبارہ صحت مند زندگی کی طرف بحالی کے لیے ایک رسالہ نکالا گیا جس کا نام تھا ”انشائ” ۔ یہ ایک علمی اور ادبی پرچہ تھا۔ ادبی کم اور علمی زیادہ تھا کیوں کہ یہ گھرانہ  اپنی  علمی حیثیت سے زیادہ پہچانا جاتا تھا۔ ایک سال کے بعد میں بھی انشاء سے وابستہ ہوگیا۔ انشاء میں مارکیٹنگ یعنی اشتہارات کا حصول اور طباعت کی ذمے داری میری تھی۔ سرکولیشن کا کام ان کے تیسرے بھائی سید محمد عباس کرتے تھے اور پرچے کی ایڈیٹنگ جون ایلیا کرتے۔  رفتہ رفتہ میں بھی ایڈیٹنگ میں دل چسپی لینے لگا۔ انشاء ایک ادبی پرچے کی طرح چلتا رہا اور ہماری سر توڑ کوشش کے باوجود اس کی اشاعت ساڑھے بارہ سو سے آگے نہ بڑھ پائی۔ اس کے کئی تیور اور  روپ بدلے۔۔خواتین کے ٹائٹل بھی لگائے( مسکراتے ہیں) لیکن اس کی سرکولیشن ساڑھے بارہ سو سے زیادہ نہ ہوسکی۔ اس زمانے میں اردو ڈائجسٹ کی بڑی شہرت تھی اور اس کی اشاعتی تعداد نوے ہزار تک جا پہنچی تھی۔ ہم تین لوگوں کا روز گار انشاء سے ہی وابستہ تھا، جون ایلیا، ان کے بڑے بھائی سید محمد عباس اور میں۔۔۔تاثر یہ تھا کہ یہ ہم تینوں کا پرچہ ہے۔ پھر ہم نے الطاف حسن قریشی کے اُردو ڈائجسٹ کی مقبولیت سے متاثر ہوکر انشاء کو ”عالمی ڈائجسٹ” کردیا۔۔ عالمی ڈائجسٹ میں دو ایک سال تک جون صاحب زیادہ مستعدرہے، لیکن ڈائجسٹوں کے بارے یہ تاثر غالب تھا کہ یہ دوسرے درجے کی چیزیں ہیں، جو ابھی تک قائم ہے۔ اس تاثر کے پیشِ نظر وہ اس سے بتدریج علیحدہ ہوتے گئے، اور میں اس میں اسی طرح شامل ہوتا گیا۔ باقاعدہ ادارت میں میرا نام آنے لگا، کہانیوں کے انتخاب وغیرہ میں عباس صاحب میرا ساتھ دیتے۔۔۔اس سے فرق یہ پڑا کہ ڈائجسٹکی اشاعت ساڑھے بارہ سو سے ساڑھے چار ہزار تک پہنچی لیکن پھر وہیں ٹھہر گئی۔ بے حد کوششوں کے باوجود اس میں اضافہ نہ کر پائے۔ پھر مزید چارے کے طور پر  ہم نے کالی مائی ٹائپ کی پراسرار کہانیاں قسط وار شائع کرنا شروع کیں اور اسے فکشن کی طرف لے آئییہ طریقہ کار آمد ثابت ہوا اور اشاعت بیس ہزار تک جا پہنچی۔ لیکن جب اس کی اشاعت بیس ہزار تک ہوئی، تو مجھے یہ تاثر ملنے لگا کہ یہاں میری حیثیت  ملازم کی سی ہے، جب کہ حقیقت  میں ،میں پارٹنر تھا۔ ایک مشہور ناقد ہیں سید محمد علی صدیقی جو ڈان میں Aerial کے نام سے کالم لکھتے ہیں اور اُردو تنقید میں ان کا بڑا نام ہے۔ انہوں نے میری طرف سے رئیس امروہوی اور سید محمد تقی سے بات کی کہ شکیل کا رسالے  میں کیا حصہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا  کہ شکیل تو مالک ہیں، جیسے جون ویسے شکیل۔ (مسکراتے ہیں) صدیقی صاحب نے مجھے بتایا تو میں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں تو وہ کرتے رہتے  ہیں ان کی کوئی قانونی حیثیت بھی تو ہو۔ انہوں نے رئیس صاحب سے دوبارہ بات کی تو انہوں نے کہا کہ دستاویزی ثبوت کیسا، یہ پرچہ تو رئیس صاحب سمیت سب کا ہے، تقی صاحب اور، ان کی اولادوں کا بھی ہے۔ میں نے ان کے رویئے سے بد دل ہوتے ہوئے ‘سب رنگ’ کے نام سے اپنا ایک ڈیکلریشن چپکے سے فائل کردیا تھا ۔ یہ ایوب خان کا زمانہ تھا اور اس زمانے میں ڈیکلریشن کا ملنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا،وہ امپورٹ لائسنس کی طرح ملتا تھا۔ مجھے ڈیکلریشن داخل کیے ہوئے زمانہ ہوگیا۔ بہت کوششوں کے بعد بالآخر نومبر 1979 میں مجھے اس کا ڈیکلریشن مل ہی گیا۔ پیسے ویسے تو میرے پاس اس وقت تھے نہیں، جمع پونجی بھی پانچ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ تو میں نے رئیس امروہوی کو  خط لکھا کہ اگر میرا کچھ بقایا بنتا ہے تو مجھے دے دیا جائے، میں یہ رسالہ چھوڑ رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے ایک پیسہ نہ دیا، البتہ یہ چاہا کہ میں دوبارہ آجاؤں۔۔میں نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ میں اپنا ایک پرچہ نکال رہا ہوں۔ آخر کار اپنے ان پانچ ہزار سے سب رنگ کی ابتدا کی، کچھ دوستوں نے مدد کی۔عالمی ڈائجسٹ کے زمانے میں جو تعلقات پریس اور بائنڈر سے بن چکے تھے ،انہوںنے بڑی معاونت کی۔پریس والوں نے کہا کہ ہم چھاپیں گے اور جب پرچہ چل نکلے  تو ہمیں پیسے دے دیجیے گا۔ پھرلکھاریوں اور ادیبوں نے بھی بڑا ساتھ دیا۔ پہلا پرچہ ہم نے جنوری 70 میں پانچ ہزار کی تعداد میں چھاپا۔ اس زمانے میں ریڈرز ڈائجسٹ بھی اُردو ڈائجسٹ کی طرح اپنا ایک نام اور مقام رکھتا تھا۔ میں نے سب رنگ کو ریڈرز ڈائجسٹ کی طرز پہ تیار کیا تاکہ لوگوں کو عام ڈائجسٹ سے ہٹ کر کچھ پڑھنے کو ملے۔ پہلا شمارہ ساڑھے تین ہزار بکا، ڈیڑھ ہزار واپس آگیا۔ ہم نے دوسرا پرچہ بھی پانچ ہزار ہی چھاپا، اس میں سے بھی ساڑھے تین ہزار ہی بک سکا۔ یہ صورت حال  خاصی  تشویش ناک تھی۔ چناں چہ ہم نے اپنا رخ فکشن کی طرف موڑا۔ جس طرح ہم فکشن پر مبنی پرچہ عالمی ڈائجسٹ نکالتے تھے، اس ہی طرح ہم سب رنگ میں بھی فکشن پر زیادہ توجہ دینے لگے۔ تیسرا شمارہ بھی پانچ ہزارچھپا لیکن وہ پورا بک گیا۔ چوتھا پرچہ غالباً چھے ہزار چھپا تھا اور جو سب کا سب بک گیا تھا، یہاں تک کہ ہمارے پاس ایک بھی کاپی نہ بچی۔ اسے قارئین کی طرف سے پذیرائی ملنے لگی اور بتدریج بڑھنے لگی اس کی اشاعت بتدریج بڑھنے لگی، پہلے سال اس کی بیس ہزار، دوسرے سال بیالیس ہزار، تیسرے سال باسٹھ ہزار ، چوتھے سال اسّی ہزار، پانچویں سال ایک لاکھ اور پھر یہ ڈیڑھ لاکھ سے اوپر تک بھی چھپا۔ یہ کیوں کر ہوا؟ اس لیے کہ ہم نے بہت صدقِ نیت سے کام کیا، بہت خلوص سے، بہت محنت اور جانفشانی سے اور لوگوں کو وہ معیاری تحریریں پڑھنے کو دیں جو وہ ڈھونڈ رہے تھے۔ میرے بعد عالمی ڈائجسٹ ، جون صاحب کی بیگم زاہدہ حنا نے سنبھالا، انہوں نے بھی اسے بہت بہتر بنایا اور اس کی اشاعت بیس ہزار تک جا پہنچی مگرہم بہت آگے بڑھ چکے تھے۔تو یوں یہ سفر شروع ہوا۔

  • چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

    چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

    چشمہ

    انعم سجیل



    ”امیّ! مجھے فہد سے شادی نہیں کرنی، آپ پلیز تائی جان کو منع کر دیں ۔“

    ”لیکن آخر کیا بُرائی ہے اُس میں؟ پڑھا لکھا ہے، اچھی نوکری ہے اور سب سے بڑھ کر اپنی نظروں کے سامنے پلا بڑھا ہے۔ کوئی وجہ بھی تو ہو انکار کی؟“ زلیخا بیگم نے کڑے لہجے میں اپنی بیٹی صالحہ سے استفسار کیا۔

    ”امّی! آپ کو تو پتا ہے فہد نظر کا چشمہ لگا تاہے اور مجھے کسی ایسے شخص سے شادی نہیں کرنی جس کو میں عینک کے بغیر نظر ہی نا آﺅں۔ آپ بس دوسرے رشتے کو فائنل کر دیں۔“ صالحہ نے جیسے ضد ہی پکڑ لی اور زلیخا بیگم کو اپنی لاڈلی بیٹی کی ضد کے آگے ہار ماننا ہی پڑی۔ یوں صالحہ فیض کی دلہن بن کر اس کے بڑے سے گھر میں آ گئی۔

    فیض ایک کام ےاب اور معروف بزنس مین تھا جس کے لیے سب سے ضروری اس کا کاروبار تھا۔ خوب صورت بیوی کی حیثیت اس کے لیے ایک شو پیس سے زیادہ نہ تھی جس کو گھر میںلا کر سجا وٹ کے لیے رکھ دیا گیا ہو۔یوں تو صالحہ کو آسائشوں کی کمی نہ تھی، کمی تھی تو صرف احساس کی۔ بات صرف ایک نظر کی تھی۔وہ ہر روز تیار ہو کر فیض کا انتظار کرتی اور چاہتی تھی کہ وہ اس کو نظر بھر کر دیکھے ، اس کے حسن کی تعریف کرے، اس کو اپنا وقت دے لیکن فیض کے خیال میں یہ سب فارغ لوگوں کے چونچلے تھے۔اور پھر ہر گزرتے دن نے صالحہ کو باور کرایا کہ بصارت کم زور ہونے پر تو چشمہ لگا کر سب کچھ ٹھیک سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن اگر آنکھوں پر بے حسی کا ان دیکھاچشمہ لگا ہو تو بھرپور بصارت کے باوجود بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

    ٭….٭….٭



  • ترجیح – صبا سید– افسانچہ

    ترجیح – صبا سید– افسانچہ

    ترجیح

    صبا سید



    ”باجی! تھوڑی مدد کر دےں۔ بچے کو بکھار (بخار) ہے دوائی کے پیسے نہیں۔“

    ”جاﺅ بھئی معاف۔۔۔۔۔“ میرے جملے کے اختتام سے پہلے ہی سمیعہ نے جھٹ پچاس کا نوٹ اسے پکڑا دیا۔

    ”خواہ مخواہ پیسے دیے، ڈرامے ہیں ان کے صرف۔ میں یہاں ہر ہفتے آتی ہوں، اس کے بچے کو ہمیشہ بخار ہوتا ہے؟“ میں نے اسے بتایا۔

    ”اور تم تو سوشل ورک کرتی ہو، تم تو ان لوگوں کو بہتر جانتی ہوگی۔تم کیسے بے وقوف بن سکتی ہو ایسے لوگوں کے ہاتھوں؟“ مجھے حقیقتاً اس کی بے وقوفی پر حیرانی ہوئی تھی۔

    ”ہاں جانتی ہوں، مجھے معلوم ہے یہ سب ڈرامہ ہے۔۔۔“اس نے آہستہ سے کہا۔

    ”مگر میں بے حس ہونے سے زیادہ بے وقوف ہونے کو ترجیح دیتی ہوں۔“



  • تنہا چاند – حریم الیاس – افسانچہ

    تنہا چاند – حریم الیاس – افسانچہ

    تنہا چاند

    حریم الیاس



    >

    وہ "بہو مٹیریل” تھی ہی نہیں شاید….. نہ ہی کوئی ایسی حسین کہ کسی ماں کو اپنے جگرگوشے کے لیے پہلی نظرمیں پسند آتی اوربہنوں کی ہر دل عزیز بھابھی بن جاتی۔

    وہ واجبی سی شکل کی درمیانے قد کی والی فربہی مائل سفید پوش خاندان کی لڑکی تھی۔ رنگت بھی گندمی تھی لیکن اس جیسی سلیقہ شعار، ہونہار، سمجھ دار، ملنسار اور خوش اخلاق لڑکی خاندان بھر میں کوئی نہ تھی۔ اس نے ایم ایس سی کر رکھا تھا اور نگاہیں پی ایچ ڈی پر تھیں، لیکن گھر والے شادی پر بہ ضد تھے۔

    شادی ہو تو کیسے؟ اس کی ساری خوبیاں اس کی واجبی سی شکل اور صحت مند جسم کے پیچھے کہیں چھپ جاتی تھیں اور جو چیزیں ڈرائنگ روم میں بیٹھے مہمانوں کو درکار ہوتیں، وہ چائے کی ٹرے لاتی لڑکی میں مفقود ہوتیں….

    لمبا قد، سمارٹ جسم اور سفید رنگت مہمانوں کو درکار کوئی ایک چیز بھی نہ ہوتی وہاں….

    اس کی جو خوبیاں اس کے ساتھ رہ کر جانچی جا سکتی تھیں وہ ڈرائنگ روم میں چائے ناشتے کے ساتھ چند منٹوں کی ملاقات میں جانچنا مشکل تھا۔ اس لیے ہربار نتیجہ انکار ہی ہوتا…..

    "اوہو یار! تم دل پہ کیوں لیتی ہو؟” اس کا چچا زاد اکثر سمجھاتا جواس کا بہترین دوست بھی تھا۔

    "بس اب دکھ ہوتا ہے۔” وہ مایوسی سے کہتی۔

    "یقین مانو سارہ! میں نے جتنی بھی لڑکیاں آج تک دیکھی ہیں، تم ان میں سب سے بہترین ہو۔” وہ ہمیشہ اسے تسلی دیتا۔

    "اس اچھے ہونے کا فائدہ؟”

    "واقعی یار! میرے نزدیک تم پرفیکٹ لڑکی ہو، تمہارا شوہر بہت خوش نصیب ہوگا۔” وہ ہمیشہ اس کا حوصلہ بڑھاتا۔

    "تم بننا پسند کروگے وہ خوش نصیب؟؟” ایک دن انہی باتوں کے دوران اس نے اچانک سوال کردیا۔

    "میں…. میں کہاں اس قابل، تم مجھ سے کہیں زیادہ اچھا بندہ ڈیزرو کرتی ہو۔” اس اچانک سوال پر وہ گھبرا کر بولا۔

    ٭….٭….٭



  • سونے کی ڈَلی ۔ الف نگر

    سونے کی ڈَلی ۔ الف نگر

    سونے کی ڈَلی

    سیما صدیقی

    چور اُسے گھسیٹتے ہوئے جھاڑیوں میں لے گئے تھے۔

    بخشو ایک محنتی کسان تھا۔ اس کا ایک چھوٹا سا کھیت تھا، جس میں وہ کبھی سبزی اُگاتا تو کبھی اَناج۔ فصل تیار ہوجاتی تو شہر جا کر فروخت کر آتا۔ جو پیسے ملتے اِس سے مہینے کا راشن اور نئی فصل کے لیے بیج اور کھاد خرید لیتا۔ کبھی کبھی اس کی فصل بہت اچھی ہوتی تو اِسے زیادہ پیسے مِل جاتے۔ ان پیسوں سے وہ اپنے اور اپنی بیوی کے کپڑے یا جوتے خرید لیتا۔

    اس کا مکان کچا تھا، جس کی چھت میں بہت سارے سُوراخ ہوگئے تھے۔ نئی چھت بنوانے کے لیے ڈھیر سارے پیسوں کی ضرورت تھی۔ بخشو کی بیوی ”گلابو” بڑی عقل مند تھی۔ اس نے بخشو سے کہا: ”کیوں نہ ہم ایک بڑی سی گُلّک خرید لیں اور ہر ماہ اس میں تھوڑے تھوڑے پیسے ڈالتے رہیں، جب گلّک بھر جائے تو اِن پیسوں سے نئی چھت بنوا لیں۔”

    بیوی کے مشورے سے بخشو گُلّک خرید لایا اور دونوں نے اس میں پیسے جمع کرنے شروع کردیے، کافی دِن گزر گئے مگر ابھی تک گُلّک آدھی ہی تھی۔

    ایک دِن کسان بیج بونے کے لیے زمین کھود رہا تھا کہ اچانک اسے ایک چمک دار چیز نظر آئی۔ بخشو نے اِس پر سے مٹی صاف کی اور دیکھا تو وہ ”سونے کی ایک ڈَلی” تھی۔ خوشی کے مارے بخشو کا برُا حال ہوگیا۔ وہ بھاگا بھاگا گھر آیا اور بیوی کو سونے کی چَم چَم کرتی ڈلی دکھائی۔ گلابو بھی بہت خوش ہوئی۔ ”تمہیں اس سے سونے کی بالیاں بنوا کر دوں گا۔” بخشو نے کہا۔

    ”نہیں! اس سے ہم مکان کی چھت بنوائیں گے۔” گلابو نے کہا۔

    ”چھت بنوانے کے بعد بہت سارے پیسے بچ جائیں گے۔” بخشو نے وضاحت کی۔ اس رات خوشی کے مارے دونوں کو نیند نہ آئی۔

    شہر جانے کے لیے مہینے میں صرف ایک بس گاؤں سے چلتی تھی۔ اب بخشو کو انتظار تھا کہ کب بس روانہ ہو اور کب وہ شہر پہنچے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کاش اس کے پرَ لگ جاتے اور وہ اُڑ کر شہر پہنچ جاتا۔ اس دوران کسان نے نہ کھیتوں میں ہَل چلایا نہ بیج بویا۔ اس نے سوچا کہ اب تو میں اَمیر آدمی بن گیا ہوں۔ اتنی مصیبت اُٹھانے کی کیا ضرورت؟

    آخر کار بس روانہ ہونے کا دن آپہنچا۔ بخشو سفر کے لیے تیار ہوا۔ سونے کی ڈلی اس نے اپنی پگڑی میں چُھپائی اور بس میں سوار ہوگیا۔ جب وہ شہر پہنچا تو بارش شروع ہوگئی۔ بارش سے بچنے کے لیے وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ بارش کی وجہ سے سردی بڑھ گئی تھی۔ بخشو کی پگڑی بھی پانی سے بھیگ گئی۔ اس نے پگڑی اُتار کر نچوڑی پھر سونے کی ڈلی کو دیکھنے لگا۔ ڈلی خوب چمک دمک رہی تھی۔ اتفاق سے وہیں جھاڑیوں میں دو چور چُھپے تھے۔ اُنہوں نے بخشو کے ہاتھ سونے کی ڈلی دیکھی تو فوراً اس کی طرف لپکے۔ چوروں نے پیچھے سے جَھپٹ کر اسے پکڑ لیا اور گھسیٹتے ہوئے جھاڑیوں کے اندر لے گئے۔ کانٹوں سے اُلجھ کر بخشو کے کپڑے پھٹ گئے، اُس کے جسم سے خون بھی نکلنے لگا۔ چوروں نے بخشو کے ہاتھ پاؤں باندھے اور سونے کی ڈلی لے کر بھاگ گئے۔ بخشو بے چارا چیختا ہی رہ گیا۔

    اتفاق سے وہاں ایک نیک دِل آدمی کا گزر ہوا تو اس نے بخشو کورسی سے آزاد کیا۔ ہسپتال لے جا کر مرہم پٹی کرائی اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر گاؤں پہنچا دیا۔ بخشو کی بیوی نے اس کی یہ حالت دیکھی تو رونے لگی، پھر اس نے خود کو سنبھالا اور صبر سے اس کی دیکھ بھال کرنے لگی۔

    بخشو کے زخم ٹھیک ہونے میں ایک ماہ لگ گئے۔ جب وہ ٹھیک ہوا تو گلابو نے بتایا کہ گھر میں کھانے پینے کا تمام سامان ختم ہوگیا ہے۔ 

    ”آہ! مجھ سے کتنی بڑی بھول ہوئی، میں نے اِس بار کوئی فصل نہیں اُگائی، اب کیا ہوگا؟ ہم کیا کھائیں گے؟” بخشو بے چارا افسردہ ہوگیا۔

    اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ دونوں میاں بیوی سَر پکڑ کر بیٹھے تھے کہ اچانک گلابو خوشی سے چلاّئی۔

    ”ارے! ہم اپنی گُلّک کو تو بھول ہی گئے۔ جس میں ہم نے تھوڑے تھوڑے کرکے بہت سے پیسے جمع کیے تھے۔” یہ کہہ کر وہ بھاگی اور گُلّک اُٹھا لائی اور اِسے توڑ دیا۔ بہت سارے تُڑے مُڑے نوٹ اور چمک دار سکّے فرش پر بکھر گئے۔

    گلابو نے کہا: ”ہم ان پیسوں سے مہینے کا خرچ چلا لیتے ہیں اور پھر جب تم فصل اُگاؤ گے تو ایک نئی گُلّک خرید کر چَھت کے لیے دوبارہ رقم جمع کریں گے۔” یہ سُن کر بخشو کی جان میں جان آئی۔ اس نے اللہ کا شکر اَدا کیا کہ گُلّک جیسی کام کی چیز ان کے پاس موجود تھی۔ جس میں جمع کی ہوئی رقم برُے وقت میں ان کے کام آرہی تھی۔ بخشو نے اپنی بیوی کو دیکھا اور ہنس کو بولا: ”بھئی واہ! یہ مَٹی کی گُلّک تو سونے کی ڈَلی سے زیادہ کام کی ہے۔”

    ”ہاں بالکل! آئندہ بھی ہم لالچ کے بجائے محنت ہی سے کمائیں گے۔” گلابو یہ کہہ کر پیسے گننے لگی۔

    ٭…٭…٭

  • سوچ کا رخ ۔ الف نگر

    سوچ کا رخ ۔ الف نگر

    سوچ کا رخ

    بینا رانی

    وہ گھٹنوں میں سر دیے مسلسل رو رہی تھی۔ آخر ایسا کیا ہوا تھا؟

    ”ارے میرا پرس… رکو! کون ہو تم؟ اس میں میرے ضروری کاغذات ہیں، ارے کوئی ہے؟” بوکھلائی، ہوئی عاتکہ اس اچکّے کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ اس کے لیے یہ پرس بہت قیمتی تھا۔ اس کی بی ایس سی کی سند اور باقی ضروری کاغذات سب اسی میں تھے۔ آگے داخلے کے سلسلے میں ہی وہ آج اپنی سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی گئی تھی، مگر آج کام نہیں ہوسکا تھا ، سو وہ سب مل کر واپس آرہی تھیں۔ ابھی آدھے راستے میں ہی تھیں کہ ایک موٹر سائیکل سوار نقاب پوش نے اُس کے کاندھے سے پرس کھینچا اور موٹر سائیکل کی رفتار بڑھا دی۔

    عاتکہ اور اس کی سہیلیاں اس اچانک افتاد سے گھبرا گئیں۔ اس پرس میں عاتکہ کے پیسے بھی تھے جو اس نے بڑی محنت سے کتنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر آگے پڑھنے کے لیے جمع کیے تھے، مگر اس وقت اس کے نزدیک اپنی سندوں سے زیادہ اہم کوئی چیز نہ تھی۔ وہ پاگلوں کی طرح اس موٹر سائیکل سوار کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔

    ”بھائی! تمہیں اللہ کا واسطہ… بھلے سب کچھ لے لو مگر میرے ضروری کاغذات دے جاؤ۔” وہ بھاگتے بھاگتے چلّا رہی تھی۔ اسے دیکھ کر کچھ اور لوگوں نے بھی اس موٹر سائیکل کا پیچھا کرنا چاہا، مگر وہ تو لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا۔ کوئی کچھ نہ کرسکا اور عاتکہ سڑک پر ہی گھٹنوں میں سردے کر بیٹھ گئی، آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کی سہیلیوں نے اسے حوصلہ دے کر گھر بھجوا دیا۔

    ایک محفوظ مقام پر پہنچ کر موٹر سائیکل سوار نقاب پوش نے پرس میں سے پیسے نکال کر گننا شروع کردیے۔ اب وہ بڑے کمرے میں داخل ہوا جہاں زکو ان ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔

    ”باس! یہ لے، آج تو بڑا ہاتھ مارا ہے۔”

    ”ارے واہ! تُو واقعی چیتا ہے اپنا! یہ لے کچھ پیسے تو بھی رکھ لے۔” زکوان نے کچھ پیسے نکال کر راشی کو دیے۔

    ”باس! ان ڈگریوں کا کیا کروں؟” راشی نے پوچھا

    ”ڈگریاں؟ ہاہاہا… پھینک دے کہیں… ہمارے کس کام کی ہیں۔” زکوان نے بے پروائی سے کہا تو راشی نے واقعی ڈگریاں قریبی نہر میں پھینک دیں پھر وہ دونوں اپنے اپنے گھر کو چل دیے۔

    زکوان کا تعلق متوسط طبقے سے تھا، گھر میں کافی حد تک دینی ماحول تھا مگر برُے دوستوں کی صحبت سے اسے غلط کاموں کی لت پڑ چکی تھی۔ ماں باپ سمجھا سمجھا کر تھک گئے مگر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ البتہ اپنی لاڈلی بہن اسے جان سے زیادہ عزیز تھی۔ بس کوئی بات مانتا تو اسی کی مانتا اور کوئی اس سے کچھ نہیں منوا سکتا تھا۔

    سارا دن دوستوں کے ساتھ موج مستی کے بعد وہ شام کو گھر میں داخل ہوا تو گھر میں اک کہرام مچا ہوا تھا۔ اس کی بہن کا رو رو کر برُا حال ہوچکا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔

    ”ارے! کیا ہوا میری بہن کو؟” بہن کی لال سرخ آنکھیں دیکھ کر زکوان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ وہ ایک دم پریشان ہوگیا تھا۔

    ”بھیا… بھیا… وہ… وہ…” یہ کہتے ہوئے اس کی بہن اپنے بھائی کے کندھے پرسر رکھ کر رونے لگی۔

    ”ہاں ہاں بتا کیا ہوا؟ کیا چاہیے میری بہنا کو؟” زکوان کی پریشانی بڑھنے لگی۔ ”بھیا! آج یونیورسٹی سے واپسی پر کوئی اچکا میرا پرس چھین کر لے گیا، میرے سارے پیسے اسی میں تھے، میری سندیں اور باقی ضروری کاغذات بھی…” عاتکہ ہچکیاں لے کر بتارہی تھی۔ زکوان کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی ہو۔ اس کا جسم لرزنے لگا۔ اس کے دل میں جیسے تیر لگا تھا۔

    ”بھیا! ایسے لوگوں کو شرم کیوں نہیں آتی؟ وہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر ان کے اپنوں کے ساتھ یا خود ان کے ساتھ کوئی ایسا کرے تو انہیں کیسا لگے گا؟” زکوان ایک دم صوفے پر گرگیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ عاتکہ کو آگے پڑھنے کا کتنا شوق ہے، اور یہ بھی جانتا تھا کہ اس نے یہ پیسے کتنی مشکل سے جمع کیے تھے، جو آج وہ جوئے میں ہار آیا تھا، اور… اور بہن کی قیمتی سندیں… ”اف… یہ میں نے کیا کردیا؟” اس کا سر پھٹنے لگا۔ بہن کی سسکیاں اس کو سانپ کی طرح ڈس رہی تھیں۔ اس سے پہلے اس نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا۔ ضمیر جاگا تو سوچ کا رخ تبدیل ہونے لگا۔ اس کے دماغ میں اپنے سارے گناہوں کی فلم چلنے لگی۔ کتنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے تکلیفیں پہنچی ہوں گی؟ وہ سوچنے لگا تھا۔ بس ایک لمحہ ہوتا ہے آگہی کا۔ آج کی رات اس نے رب کے حضور گڑگڑا کے معافی مانگی ،آئندہ کے لیے توبہ کی اور اپنی غلطیوں کے ازالے کا عزم بھی۔

    ٭…٭…٭

  • موہن داس ۔ الف نگر

    موہن داس

    خالد محی الدین 

    جھاڑیوں سے ہاتھ آنے والی گول چیز دیکھتے ہی اُس کی چیخ نکل گئی۔ وہ کون تھا؟ اور وہ چیز کیا تھی؟ پڑھیے اس خوب صورت کہانی میں!

    جب اُسے ہوش آیا تو ہر طرف اندھیرے کا راج تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہوئیں تو اُسے اپنے ساتھیوںکی یاد آئی اور وہ دائیں بائیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا۔ وہاں کوئی ہوتا تو دکھائی دیتا۔ پانی کی بوتل اور فوجیوں کا مخصوص راشن جو جنگ کے دنوں میں ہر فوجی کے پاس ہوتا ہے یہ نعمتیں وہ کھو چکا تھا، اس کے بائیں کندھے پر خون اور دھول جمی ہوئی تھی اور زخم ٹھنڈا ہونے سے ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں۔ اندھیرے کی وجہ سے اِس علاقے کی پہچان کرنا ممکن نہیں تھا۔ 

    یہ 9 ستمبر 1965ء کی سہ پہر تھی۔ ہر طرف دھول ہی دھول جیسے خاک کا طوفان اُمڈ آیا ہو۔ خاکی وردیوں میں ملبوس کوئی فوجی دکھائی نہیں دے رہا تھا کیوں کہ خاک اور وردیوں کا رنگ ایک جیسا تھا۔ ایسے میں توپ کا گولا قریبی پہاڑی پر گرا، کئی فوجی اس کی زد میں آگئے۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود سبھی نے لب سی لیے تھے تاکہ آواز نکلنے کی صورت میں وہ پکڑے نہ جائیں۔ رفتہ رفتہ اندھیرا چھانے لگا۔ وہ مٹی پر پڑا کراہ رہا تھا۔ پھر کچھ ہی دیر بعد وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگیا۔

    جب اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اس کے زخموں سے ابھی بھی خون رس رہا تھا۔ گرتے پڑتے وہ اندھیرے میں ٹٹولتا ہوا بھگوان کا نام لے کر ایک جانب چل پڑا۔ چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں سے ٹکراتا’ گرتا پڑتا وہ بہت دیر چلتا رہا۔ بھوک زوروں پر تھی اور وہ جلد از جلد کسی آبادی والے علاقے میں پہنچنا چاہتا تھا تاکہ کھانے کو بھوجن مل سکے۔ وہ جھاڑیوں کو ٹٹولتا جارہا تھا کہ اُس کے ہاتھ ایک نرم اور گول چیز پر جا پڑے۔ اُس نے جیسے ہی اُسے اُٹھایا تو وہ ایک موٹا تازہ سانپ تھا۔ ایک خوف ناک چیخ مار کر اس نے سانپ کو وہیں پٹخا اور لنگڑاتے ہوئے ایک طرف دوڑ لگا دی۔ خوش قسمتی سے وہ آبادی والے علاقے میں پہنچ گیا۔ قریب ہی ایک مکان کے کواڑ کھلے تھے۔ وہ اندر چلا گیا۔

    صحن میں جانوروں کی کھرلی پڑی تھی’ لیکن بالکل ویران۔ نہ گائے نہ بکری۔ ساتھ والے کمرے میں گیا تو کہیں سے آواز نہ آئی۔ نہ کسی نے ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا۔ ٹوٹی ہوئی چارپائی، بکھرے ہوئے کپڑے، لڑھکی ہوئی ہنڈیا اور پھوٹے ہوئے گھڑوں نے اُس کا استقبال کیا۔ دیواروں پر اندھا دھند فائرنگ کے نشان تھے۔ یہ دیکھ کر اُسے مایوسی ہوئی اور وہ اس کھنڈر سے نکل آیا۔ ہر سو ویرانی دل پر ہول طاری کر رہی تھی۔ 

    اچانک اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ سامنے ہی ایک مکان میں لالٹین روشن تھی۔ یہ دیکھ کر اُس میں توانائی لوٹ آئی اور وہ تیز تیز قدم اُٹھاتا دروازے تک پہنچا اور بے دھڑک کھٹکھٹانے لگا۔

    دن بھر کا تھکا ہارا مومن خان چھت پر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا اور اُس کی ماں ماسی برکتے جو اپنے پوتے کو سلا کر خود بھی سونے لگی تھی یہ سوچتے ہوئے دروازے کی طرف آئی کہ اس وقت کون ہو سکتا ہے؟

    جیسے ہی اُس نے دروازہ کھولا، سامنے ایک زخمی فوجی کو کھڑے دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ حیران ہوتے ہوئے ماسی نے جلدی سے دروازے کے دونوں پٹ کھول دیے اور وہ لڑکھڑاتا ہوا اندر آتے ہی گرپڑا۔ امّاں برکتے نے جلدی سے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ درد سے کراہ اُٹھا۔

    ”ہائے میں صدقے…” اُس نے زخمی فوجی کی بلائیں لیں اور اُسے فوراً اندر لے جاکر بستر پر لٹا دیا۔ پھر لالٹین لے کر جلدی سے باورچی خانے میں چلی گئی۔ اتنے میں ماسی کا بیٹا مومن خان بھی اُٹھ گیا۔

    ”اماں! کون ہے؟ تُو کس سے باتیں کررہی ہے؟” چھت سے اترتے ہی مومن خان نے پوچھا۔

    ”پتر! کوئی شیر جوان ہے اپنی فوج کا۔” ماسی برکتے ایک ہاتھ میں ہلدی والے دودھ کا پیالہ لیے باورچی خانے سے نکلی۔ مدھم روشنی میں اُسے فوجی کے روپ میں اپنا بیٹا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کا تصور کرکے اس کی تیمار داری کرنے لگی۔ وہ چپ سادھے ماسی سے اپنی خدمت کروا رہا تھااور دل ہی دل میں اس کے سلوک سے متاثر ہورہا تھا۔ پھر اسی حالت میں سوچوں کے سمندر میں کھو گیا۔ وہ اس وقت چونکا جب ماسی برکتے کی آواز اُس کی سماعت سے ٹکرائی: ”میرا شوہر بھی فوج میں تھا۔” یہ کہتے ہوئے ماسی اُسے اپنے ہاتھوں سے دودھ پلانے لگی۔

    اُس نے پیالہ پکڑ لیا اور ماسی برکتے شوہر کے ساتھ بیتے لمحے یاد کر کے افسردہ ہو گئی۔ آواز رندھ گئی اور نحیف آواز میں کپکپاہٹ بڑھ گئی۔ ماسی برکتے بتانے لگی: ”شہادت کی تمنا اُس کے دل میں رچی بسی تھی۔ وہ اکثر اس بات کا  اظہار کرتا تھا۔ اب تم یہی دیکھ لو بزدل دشمن نے چپکے سے پاکستان پر حملہ کردیا۔ نہتے اورمعصوم لوگوں پر گولہ باری کردی۔ ہم مسلمان تو دشمن کو للکار کر وار کرتے ہیں اور شہادت کی تمنا کرتے ہیں۔” ماسی برکتے کی بات سنتے ہی وہ چونک اٹھا:

    ”اوہ! میں… میں کہاں ہوں؟” حیرانی و پریشانی کی ایک لہر اس کے چہرے کو زرد کر گئی۔ ماسی برکتے کا بیٹا مومن خان اب پاس کھڑا ہمدردی سے اُسے دیکھ رہا تھا۔

    ”کک… کیا… میں پاکستانی علاقے میں… غلطی سے…” یہ بات سوچتے ہوئے زخمی فوجی موہن داس کو جھرجھری آگئی۔ دل ہی دل میں وہ خوف زدہ ہوگیا پھر سونے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔

    رات خاصی بیت چکی تھی۔ ماسی لالٹین اُس کے چہرے کے قریب لائی جیسے یہ دیکھنا چاہتی ہو کہ اب وہ کس حال میں ہے۔ یہ دیکھ کر ماسی کو اطمینان ہوا کہ وہ سوچکا تھا۔ مومن خان چھت پر چلا گیا اور ماسی برکتے اپنے کمرے میں لالٹین کی لو دھیمی کرکے سونے لگی۔ گہری خاموشی میں جھینگروں کی آواز لوری کا کام دے رہی تھی۔ وہ کب نیند کی آغوش میں گئی، اسے پتا ہی نہ چلا۔

    اچانک کھڑاک کی آواز سن کر ماسی ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھی اور ڈنڈا تھامے لالٹین لیے صحن میں آئی تو ایک سایہ باہر کے دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ماسی نے چور اُچکا سمجھ کر للکارتے ہوئے ڈنڈا ہوا میں لہرایا تو وہ سایہ دیوار کے ساتھ دبک کر بیٹھ گیا۔ ماسی نے لالٹین کی روشنی اس کے چہرے پر ڈالی تو حیران رہ گئیں۔

    ”تم…؟ تم یہاں کیسے؟”انہوں نے حیرانی سے پوچھا۔

    ”وہ… وہ میرے زخموں کی وجہ سے بہت درد ہورہا تھا۔ میں پانی پینے اُٹھا تھا۔” موہن داس نے گھبراتے ہوئے جھوٹ بولا۔

    دراصل وہ بھارتی فوج میں حوالدار تھا۔ جنگ کے دوران سرحد کے قریب پاک فوج کی بمباری سے زخمی ہوا۔ پھر جنگل سے گرتا پڑتا اندھیرے میں غلطی سے پاکستانی سرحد میں گھس آیا تھا۔ لیکن رات کو باتوں ہی باتوں میں مومن خان اور اس کی ماں سے مل کر اسے حقیقت پتا چلی تھی کہ وہ پاکستانی علاقے میں ہے۔ اب وہ جلد یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا تاکہ حقیقت پتا چلنے پر یہ لوگ اُسے مارنہ دیں۔

    لیکن چوری چھپے فرار ہوتے ہوئے امّاں نے اسے دیکھ لیا تھا۔ کچھ لمحوں بعد چھت سے مومن خان بھی اتر آیا۔ ماسی برکتے کے دل میں نہ جانے کیا آئی کہ اُس سے نام پوچھ لیا۔

    موہن داس کی ٹال مٹول اور گھبرائے لہجے کو دیکھ کر ماسی کے بیٹے مومن خان کو کچھ شک گزرا۔ اس نے آگے بڑھ کر موہن داس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو ایک دم حیران رہ گیا کیوں کہ موہن داس کی فوجی وردی پر بھارت کا جھنڈا بنا ہوا تھا۔

    ”اوہ! یہ کیسے ہوسکتا ہے۔” مومن خان کے منہ سے نکلا مگر جلد ہی اس نے خود پر قابو پایا اور موہن داس کو شک نہ ہونے دیا کہ اسے حقیقت پتا چل چکی ہے۔

    ابھی وہ اندھیرے میں کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ ہی رہے تھے کہ اچانک موہن داس نے ماسی کے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا چھین کر مومن خان پر حملہ کردیا۔ اس سے پہلے کہ ڈنڈا مومن خان کے سر میں لگتا۔ وہ جلدی سے ایک طرف ہوگیا اور پُھرتی سے اس نے موہن داس کو قابو کرلیا۔

    ”نام بتاؤ اپنا…” مومن خان نے غضب ناک ہوتے ہوئے پوچھا۔

    ”مم… موہن داس…” اس نے مرے ہوئے لہجے میں جواب دیا ساتھ ہی زخم سے اٹھنے والے درد سے کراہنے لگا۔ یہ دیکھ کر مومن خان نے اپنی گرفت ڈھیلی کردی۔

    ”چھوڑ دے اسے پُتر… زخمی ہے۔” اماں برکتے نے کہا تو مومن خان سے اسے چھوڑ دیا۔ موہن داس کا سر جھک گیا تھا۔

    ”آپ مجھے جان سے مار کر اپنا بدلہ لے سکتے ہیں۔” وہ بے بسی کے ساتھ بجھے ہوئے لہجے میں بولا۔

    ”نہیں، ہم نہتے پر وار نہیں کرتے۔” مومن خان نے سرد لہجے میں کہا۔

    موہن داس پر کپکپی اب بھی طاری تھی۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا یہ کیسے لوگ ہیں جو گھر آئے دشمن کو ناصرف زندہ سلامت چھوڑ رہے ہیں بلکہ اس کی خدمت بھی کررہے ہیں۔

    سوچوں میں گم موہن داس شرمندگی سے زمین میں گڑھا جارہا تھا۔ ایسے میں مومن خان کی آواز گونجی۔

    ”موہن داس! جاؤ اب تم آزاد ہو۔” اس سے پہلے کہ موہن داس قدم اُٹھاتا، پیچھے سے ماسی برکتے نے آواز دی۔

    ”رُکو! صبح ہونے والی ہے۔ میں ابھی آتی ہوں۔” یہ کہہ کر ماسی برکتے باورچی خانے میں گئی پھر جلد ہی لوٹ آئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹفن تھا جس میں سالن اور کچھ روٹیاں تھیں۔

    ”لو! یہ ساتھ رکھ لو، بھوک لگے تو کھا لینا۔” ماسی نے ٹفن اس کی طرف بڑھایا۔ تشکر آمیز نگاہوں سے اس نے ماسی کے ہاتھ سے وہ ٹفن لیا اور سرجھکاتے ہوئے ایک طرف چل پڑا۔ لنگڑاتے ہوئے اس نے ماسی برکتے کی دہلیز پار کی پھر رک کر پیچھے دیکھا جہاں ماسی برکتے اور مومن خان اسے واپس جاتا دیکھ رہے تھے۔ نمناک آنکھوں سے موہن داس نے ہاتھ اُٹھا کر انہیں سلیوٹ کیا پھر ایک زرد دار نعرہ بلند کیا: پاکستان زندہ۔

    ٭…٭…٭

  • پاکستان ہمارا ہے ۔ الف نگر

    پاکستان ہمارا ہے

    عثمان طفیل

    رات کے اندھیرے میں اس کا گھر سے نکلنا خطرے سے خالی نہ تھا۔

    ”بتول…! اٹھو بتول…! آدھی رات بیت چکی ہے۔ سب تمہارا انتظار کر رہے ہوں گے۔” جاوید نے بستر پر سوئی بتول کو جھنجھوڑا۔ وہ جلدی سے اپنا دوپٹا ٹھیک کرتے ہوئے اُٹھ بیٹھی۔ پھر وہ دونوں دبے پائوں دروازے کی طرف بڑھے۔

    انہیںیہ تو فکر تھی کہ بچے نہ جاگ جائیں مگر اس سے زیادہ ڈر اس بات کا تھا کہ کوئی پہرے دار انہیں گھر سے نکلتے نہ دیکھ لے۔ جاوید نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو ہوا کا ایک سرد جھونکا ان سے ٹکرایا۔ بتول نے چپکے سے سرباہر نکالا اور خالی گلی دیکھ کر دوڑتی ہوئی کونے والے گھر کے سامنے پہنچ گئی۔ پہرے دار کسی بھی وقت آسکتے تھے۔ 

    اس نے دروازہ دھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ جاوید نے بتول کو اندر جاتے دیکھا تو واپس اپنے کمرے میں آگیا۔ دوسری طرف بتول کو لینے کے لیے دو لڑکیاں دروازے کے پاس ہی موجود تھیں۔ انہوں نے دروازہ بند کر کے اندر سے تالا لگا دیا۔ پھر وہ بتول کو لیے گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئی۔ پورے گھر میں خاموشی کا راج تھا۔

    ایک کمرے میں پہنچ کر ان کے قدم رک گئے۔ فرش پر قالین بچھاہوا تھا۔ ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر قالین ہٹایا تو وہاں ایک دروازے کے آثار نظر آئے۔

    دیکھنے میںبالکل بھی اندازہ نہیںہوتا تھا کہ یہاںکوئی دروازہ ہے مگر قالین ہٹانے سے تہ خانے کا راستہ نظر آنے لگا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ سب تہ خانے میںموجود تھیں۔ اوپر والے حصے میں گھر کے دو مرد ہی تھے جنہوں نے تمام کمروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند کر رکھی تھیں جب کہ دروازوں کے آگے بھاری پردے لگا دیے تھے۔ پوری کوشش کی گئی تھی کہ اس گھر سے کسی بھی قسم کی آواز باہر نہ جا سکے۔ تہ خانے میں محلے بھر سے کوئی درجن بھر خواتین جمع تھیں۔

    بتول کے پہنچتے ہی سب نے خوشی کا اظہار کیا اور پھر اپنے اپنے کام میں جُت گئیں۔

    ان کے سامنے کپڑے کے کئی تھان تھے جو چند نوجوانوں نے اپنی جان پر کھیل کر یہاں پہنچائے تھے گو کہ کچھ روز قبل ہی فوج نے یہ سارا علاقہ چھان مارا تھا۔ ہر گھر کی تلاشی لی گئی بلکہ تلاشی کیا ہر چیز ادھیڑ کر رکھ دی تھی مگر ان کے ہاتھ یہ تھان نہ لگ سکے۔ اگر انہیں ذرا سی بھنک پڑ جاتی کہ یہ تھان اس گھر کے خفیہ تہ خانے میں ہیں تو وہ سارا فرش اکھیڑ دیتے۔

    دو رنگی کپڑے کے یہ تھان انہیں زہر لگتے تھے۔ بہر حال کپڑے کے یہ تھان فوج کو ملنے تھے نہ ملے۔ اس وقت کئی خواتین بتول کی دی گئی پیمائش کے مطابق کپڑا کاٹ رہی تھیں۔ ان کے پاس صرف دوسلائی مشینیں تھیں۔

    فوجیوں کا بس چلتا تو اگست کے آنے سے ایک ماہ قبل ہی ہر گھر سے سلائی مشین اٹھا لیتے لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔ وقت گزرتا گیا۔ بتول اور اس کی ایک سہیلی مسلسل سلائی مشین چلاتی رہیں۔ فجر کی اذان ہوتے ہی ساری خواتین ایک ایک کرکے چپکے سے واپس گھروں کو جانے لگیں۔ جس طرح ان کا آنا بہت بڑا خطرہ تھا اس طرح واپس جانا بھی خطرے سے خالی نہ تھا۔

     اگر کوئی ایک لڑکی اور اس کے پاس موجود دورنگی کپڑا پکڑا جاتا تو پورا علاقہ فوجیوں کے عتاب کا شکار ہوجاتا۔ بہرحال اللہ نے ہر سال کی طرح اِس بار بھی ان کی حفاظت کی اور سب سے آخر میں بتول بھی اپنے گھر پہنچ گئی۔ 11 اگست کا سورج طلوع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا اور ابھی مزید دو راتیں بتول نے اسی طرح گزارنی تھیں۔

    کشمیر کی بیٹی بتول کو علم تھا کہ اگر وہ پکڑی گئی تو فوجی اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے مگر اپنے وطن کے لیے اسے اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہوا ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اگلی دو راتیں بھی چھپتے چھپاتے گلی کے کونے والے گھر گئی اور فجر سے پہلے واپس آگئی۔ اب اگلی رات مردوں کے لیے آزمائش لیے ہوئے تھی۔ بتول اور باقی کئی خواتین اپنا فرض ادا کر چکی تھیں۔

    13 اور 14 اگست کی درمیانی شب مردوں کی مختلف ٹولیاں بن گئیں۔ یہ سب پہلے سے طے شدہ تھا۔ انہوں نے انتہائی خاموشی سے اپنا کام کیا اور واپس گھروں کو آگئے۔ کئی جگہ فوجیوں سے ٹکرائو ہوتے ہوتے بچا۔

    14اگست کا سورج طلوع ہوا تو قابض فوج سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ ان کی ہزار کوششوں کے باوجود سارے کشمیر میںسبز ہلالی پرچم لہرا رہے تھے۔ کچھ بہادر جیالوں نے تو سرکاری عمارتوں پر بھی یہ پرچم لہرا دیا تھا۔ مختلف علاقوں سے کشمیری باشندے گروہوں کی شکل میںمرکزی چوراہوں کی طرف بڑھنے لگے۔ ان کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھے جو بتول جیسی کشمیری بیٹیوں نے اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر تیار کیے تھے۔

    اس پرچم کی شان اور کشمیریوں کے عزم و استقلال کے آگے ساڑھے آٹھ لاکھ قابض فوج اپنے تمام تر اسلحے اور رعونت سمیت بے بس تھی۔ پھر ایک نورانی چہرہ نمودار ہوا۔ آزادی کے سبھی متوالے اس کی طرف بڑھنے لگے۔ فضا میں مظلوم کشمیری مسلمانوں کی آواز گونج رہی تھی۔

    ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے

    ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے

    ٭…٭…٭

  • روشن چہرہ ۔ الف نگر

    روشن چہرہ ۔ الف نگر

    روشن چہرہ

    تنزیلہ یوسف

    دانیال بیٹا! تمہاری دوسری خواہش بھی پوری ہوئی۔

    بابا جی مسکرائے۔

    ”ہے کوئی سخی! جو مجھ اندھے کو سڑک کے اُس پار لے جائے اور بدلے میں اپنی دو خواہشیں پوری کروائے؟” سڑک کنارے کھڑے باباجی صدا لگارہے تھے مگر کوئی بھی ان کی صدا پر کان دھرنا گوارا نہیں کررہا تھا۔ دانیال اسکول جارہا تھا۔ وہ سڑک پار کرنے لگا تو اس کے کانوں سے یہ صدا ٹکرائی۔

    ”ہے کوئی سخی! جو مجھ اندھے کو سڑک کے اُس پار لے جائے اور بدلے میں اپنی دو خواہشیں پوری کروائے؟”

    دانیال نے حیرت سے باباجی کو دیکھا۔ اسی دوران باباجی نے پھر صدا لگائی۔ دانیال نے آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھاما اور بولا: ”آئیے باباجی! میں آپ کو سڑک کے اس پار لے جاؤں۔”

    ”جیتے رہو میرا بچہ!” باباجی نے بے اختیار دعا دی۔

    دانیال نے اپنے دائیں طرف دیکھا پھر اشارہ بند پاکر سڑک پار کرلی۔

    ”لیجیے باباجی! آپ سڑک کے اس پار آگئے۔ مجھے اجازت دیں میں اسکول جاؤں۔” دانیال نے باباجی سے اجازت چاہی۔

    ”ارے ایسے کیسے میرا بچہ! ابھی تو مجھے تمہاری دو خواہشیں پوری کرنی ہیں۔” باباجی نے یاد دلایا۔

    ”اوہ میں تو بھول ہی گیا۔” دانیال کو یک دم یاد آیا۔ ”لیکن باباجی! مجھے اسکول کے لیے دیر ہورہی ہے۔” اس نے کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے کہا۔

    ”یہ پاس ہی تو ہے اسکول، پھر کیوں دیر ہورہی ہے؟” باباجی نے اپنی لاٹھی سے بائیں جانب اشارہ کیا۔

    ”ارے! آپ کو کیسے معلوم ہے بابا جی؟ میرا مطلب کہ آپ تو دیکھ ہی نہیں سکتے۔” دانیال نے کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا۔

    ”جو دیکھ نہیں سکتے ان کے کان کُھلے ہوتے ہیں۔ بچوں کے شور کی آواز ادھر سے ہی تو آرہی ہے۔” باباجی دانیال کو سمجھاتے ہوئے بولے۔

    ”آئیں ادھر بنچ پر بیٹھیں۔ میں آپ کو اپنی دو خواہشیں بتاتا ہوں۔” دانیال نے ہاتھ پکڑ کر انہیں بٹھایا: ”ہاں بھئی جلدی بولو! ایسا نہ ہو کہ اسکول کا وقت شروع ہوجائے۔”

    ”باباجی! میری پہلی خواہش یہ ہے کہ آپ مجھے روشن پاکستان کی خیالی تصویر دکھائیں۔ میرا ہم جماعت وسیم پاکستانی قوم کو ہر وقت طعنے دیتا ہے۔” دانیال نے کہا۔

    ”بھئی میں تمہیں روشن پاکستان کی خیالی نہیں بلکہ عملی تصویر دکھاتا ہوں۔” بابا جی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

    ”یہ دیکھو!” باباجی نے کہا تو دانیال کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آیا پھر سامنے ایک سکرین روشن ہوئی اور اس پر کچھ چلنے لگا۔

    ”یہ کیا ہے باباجی؟” دانیال کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔

    ”خود ہی دیکھو مثالی پاکستان کا روشن چہرہ!”

    سکرین پر ٹریفک جام کا منظر تھا۔ مغرب کی اذان ہوئی تو کچھ لوگ ٹریفک میں پھنسے لوگوں میں پانی کی بوتلیں تقسیم کررہے تھے۔ اگلا منظر اس سے بھی بڑھ کر تھا۔ سڑک کنارے ایک بڑی سی گاڑی کھڑی تھی۔ اس میں کھانے کی اشیا تھیں۔ گاڑی کے پاس کھڑے کچھ لوگ راہ گیروں میں ڈبے تقسیم کرتے جارہے تھے۔ منظر بدلا اور ایک ویران سڑک کے کنارے ٹھنڈے پانی کے بڑے بڑے کولر تھوڑے تھوڑے سے فاصلے پر نصب دکھائی دیے۔

    اگلا منظر ایک بڑے ہسپتال کا تھا۔ پاس ہی سڑک پر ایک حادثہ ہوا تھا۔ زخمیوں کے لیے خون کا عطیہ دینے والوں کی بڑی تعداد اپنی باری کی منتظر تھی۔

    ”یہ تو صرف پاکستان کے ایک شہر کی ہلکی سی جھلک ہے۔ میرے پاکستان کا چہرہ اس سے کئی گنا زیادہ روشن ہے۔ یہاں اگر ایدھی جیسے بوڑھے، لاوارث بچوں کو گود لیتے ہیں، لاوارث لاشیں دفناتے ہیں، یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہیں، وہیں حماد صافی، ایّان قریشی، بابر اقبال اور ارفع کریم جیسے بچے اس ملک کا مستقبل روشن کیے ہوئے ہیں۔ جنگ ہو یا امن، مشکل پڑنے پر پاکستانی قوم یک جان نظر آتی ہے۔” باباجی کی آواز میں جوش نمایاں تھا۔

    ”زبردست بابا جی! اور میری دوسری خواہش؟” دانیال پُر جوش انداز میں بولا۔

    ”ہاں بھئی جلدی بولو اپنی دوسری خواہش۔” باباجی نے دوسری خواہش پوچھی۔

    ”میری دوسری خواہش ہے کہ پاکستان دنیا کا ترقی یافتہ ملک بن جائے۔” دانیال نے جلدی سے کہا۔

    ”یہ خواہش بھی پوری ہوئی۔” باباجی دھیمے انداز میں مسکرائے۔

    ”وہ کیسے؟” دانیال حیرانی سے بولا۔

    ”وہ ایسے کہ جب تک پاکستان کا نصیب تم جیسے ہونہار بچے ہیں، پاکستان کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ دیکھنا! تم جیسے بچوں کی وجہ سے آئندہ چند سال میں پاکستان صفِ اول کے ترقی یافتہ ممالک میں کھڑا ہوگا۔ ان شاء اللہ۔” بابا جی نے کہا۔ 

    ”آہا! میرے روشن پاکستان کا مثالی چہرہ! یہ چہرہ ہم پوری دنیا کو دکھا کر دم لیں گے۔” دانیال نے پُر جوش انداز میں کہا۔

    ”ان شاء اللہ…” بابا جی نے مسکرا کر کہا تو دانیال اسکول کی طرف روانہ ہوگیا۔

    ٭…٭…٭