Tag: کہانیاں

  • استنبول سے انقرہ تک  (سفرنامہ)  | باب2

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب2

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    توپ کاپی محل اور قیمتی خزانے

     2باب

    صبح سویرے ہم تیار ہوکر ناشتہ کرنے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں پہنچے جہاں بڑی رونق تھی اور خوبصورت برتنوں میں ناشتے کے لوازمات سجے تھے۔ شہد، دلیہ، ابلے ، انڈے، بریڈ، مکھن، آملیٹ، پنیر، زینون، کارن فلیکس، بغیر دودھ والی چائے، کافی، جوس اور دیگر ڈشز پورے اہتمام کے ساتھ سرو کی گئی تھیں۔ لوگوں کی باتوں کی آواز کے ساتھ برتنوں کی کھنک بھی گونج رہی تھی۔
    ناشتہ کرنے کے بعد ہم بس میں سوار ہوکر توپ کاپی محل کی طرف روانہ ہوئے۔ ٹاکسم اسکوائر سے توپ کاپی محل کافی فاصلے پر تھا۔ صبح صبح موسم بے حد خوشگوار تھا۔ میں بس کی سیٹ پر بیٹھی کھڑکی کے پار نظر آتے نظارے دیکھنے میں محو تھی۔ ترکی آکر جو چیز واضع نظر آتی ہے۔ وہ وہاں کی صفائی ہے۔ سڑکیں، مکانات، گلیاں سب صاف ستھری تھیں۔ دکانیں سجی ہوئی تھی۔ ہر چیز میں اک خاص قسم کا نظم و ضبط نظر آتا ہے۔ جسے دیکھنے والے بے اختیار سراہتے ہیں۔
    حیرت کی بات تھی کہ بس جس راستے سے بھی گزرتی، دور سے اک مسجد نظر آتی رہتی جو شاید بلندی پر واقع تھی۔
    کچھ دیر بعد بس محل سے ذرا فاصلے پر سڑک کے کنارے رُکی اور ہم پرجوش انداز میں بس سے اُترے۔ صبح کے اجالوں میں ہلکی دھوپ چمک رہی تھی۔ محل بلندی کی طرف تھا۔ وہاں سے ہم پیدل ہی محل کی جانب چلے۔ محل دیکھنے کی ایکسائٹمنٹ اتنی تھی کہ جذبات پر قابو پانا مشکل تھا۔ ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے ہوئے محل کی جانب چلتے جارہے تھے۔ صبح کی تازگی میں اک پرلطف سی رونق ہوتی ہے۔
    کچھ دور چلنے کے بعد سامنے مضبوط، عالی شان اور شاندار محل نظر آیا جس کے صدر دروازے والی دیوار پر سنہری حروف سے پہلا کلمہ لکھا ہوا تھا۔
    لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔
    اسلام کا پہلا کلمہ اسلام کا پہلا بنیادی رکن ہے۔ اسلام کی بنیاد ہے۔ مسلمانوں کا دل ہے۔ صرف زبان ہی نہیں، مسلمان کا دل بھی کلمہ گو ہوتا ہے۔ یہ کلمہ بہشت کی کنجی ہے، عالم اسلام کی اساس ہے۔ مسلمان کا قیمتی اثاثہ ہے۔ اللہ رب العزت کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، یہ دنیا، کائنات، زمین، آسمان، ہر چیز اللہ کی ہے۔اللہ اور رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی ہدایت کا راستہ ہے۔ پہلا کلمہ طیبہ دنیا اور کائنات کا قیمتی خزانہ ہے۔ بادشاہت اور حکمرانی صرف اللہ رب العزت کے لئے ہے۔ وہی معبود ہے، وہی بادشاہ ہے، وہی حکمران ہے، اللہ ہر شے پر قادر ہے، تخت اُسی کا ہے، بادشاہی اُسی کی ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے۔ وہ ہی ہر شے پر قادر ہے۔ یہ دنیا، کائنات اور جو کچھ بھی ہے اُسی کی ملکیت ہے۔ باقی سب خالی ہے۔
    محل کے اونچے میناروں پر دھوپ دمک رہی تھی اور بلندی پر ترکی کا پرچم لہرا رہا تھا۔
    توپ کاپی محل فن تعمیر کا باکمال شاہکار ہے۔
    میں توپ کاپی محل کے سامنے کھڑی تھی۔
    خوش، حیران اور ایکسائیٹڈ۔۔۔ یوں جیسے انسان کی کوئی قیمتی خواہش اچانک پوری ہوجائے۔
    ترکی کے ڈراموں نے پاکستان میں مقبولیت حاصل کی تو میں بھی سارے کام نپٹا کر ٹرکش ڈرامے ذوق و شوق سے دیکھتی تھی، اور پھر یہ شوق جنون بن گیا۔
    اکثر میرا بیٹا علی اپنے پاپا کو شکایت لگاتا کہ مما ٹی وی پر ڈرامے دیکھ رہی ہیں اور مجھے کارٹون نہیں دیکھنے دے رہیں، علی کے پاپا اس شکایت پر بالائی منزل سے سیڑھیاں پھلانگتے بھاگے آتے کہ یہ کیا گھر میں ہر وقت ٹرکش ڈرامے لگے رہتے ہیں اور اب تو بچے بھی شکایتیں کرنے لگے ہیں۔ یہ بات نہیں تھی کہ مجھے ترکی ڈراموں کے اداکار، سیٹ ، ملبوسات یا ڈراموں کی کہانی پسند تھی۔ بات تو یہ تھی کہ دل چپکے چپکے استنبول اور توپ کاپی محل کے عشق میں گرفتار ہوگیا تھا۔
    اس وقت میں نے سوچا نہ تھا کہ ایک دن میں بھی ٹی وی ڈرامے لکھوں گی اور میرے تحریر کردہ ڈرامے بھی اسی طرح ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہوں گے جنہیں لوگ دیکھیں گے، سراہیں گے اور ایک دن میں بھی کوئی مشہور شخصیت بن جائوں گی، لوگوں کو انٹرویوز دوں گی۔ بھلا یہ کب سوچا تھا میں نے ۔ مگر ہم نے کب کیا کام کرنے ہوتے ہیں یہ اللہ طے کرتا ہے۔ یہ اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں۔ انسان کے دل میں کچھ ایسی خواہشات ہوتی ہیں۔ جن سے صرف رب واقف ہوتا ہے۔
    مجھے استنبول آنے اور توپ کاپی محل دیکھنے کی خواہش تھی۔ آج میں استنبول کی سڑک پر توپ کاپی محل کے سامنے کھڑی تھی۔
    انسانوں کو اپنی خواہشات بتانے کا کوئی فائدہ نہیں، اپنی خواہشات کی تکمیل کی دعائیں رب سے مانگنی چاہیے کہ وہی بادشاہ ہے، معبود ہے، حکمران ہے اور عطا کرنے والا ہے۔
    محل کے صدر دروازے کے اوپر دیوار پر لکھا گیا کلمہ اک پیغام تھا۔
    محل کے سامنے بہت سے لوگ قطاروں میں کھڑے تھے۔ وہاں سیاحوں کا رش تھا مگر اک خاص ڈسپلن بھی نظر آرہا تھا۔ مختلف ملکوں اور قوموں کے لوگ اس محل کو دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔
    میں پرجوش انداز میں خوشی سے معمور دل کے ساتھ اس محل کو دیکھتی رہی پھر مجھے زارش نظر آیا۔
    ”زارش ! اس محل کے سامنے میری تصویر بنادینا۔”
    میں نے زارش سے کہا اور محل کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ ٹرپ پر اچھی تصویریں بنانے والا بندہ مل جائے تو ٹرپ کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ زارش نے کئی تصاویر بنائیں اور وہ ایک ماہر فوٹو گرافر تھا۔ پھر ہم سب محل میں داخل ہونے کے لئے قطار میں کھڑے ہوگئے۔ میرے ساتھ فرح توقیر، نورین مان، نگہت، عذرا فہیم، صباحت ، زارش، نوشین ، ان کے میاں، لئیق انکل اور ان کی بیگم صوفیہ اور دیگر لوگ تھے۔ وہاں سکول کے بچوں کا ٹرپ بھی آیا ہوا تھا۔ استاد بچوں کی قطار کے ساتھ کھڑے تھے۔ نا وہ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کررہے تھے اور نا چیخ چلا رہے تھے۔ ان کا رعب ان کے انداز اور ان کی آنکھوں میں تھا۔
    بچوں میں بے حد اعتماد تھا۔ وہ ہنستے مسکراتے ہوئے آپس میں باتیں کررہے تھے۔ ترکی کے لوگ خوش رہنے کے فارمولے سے واقف تھے۔ وہ خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش رہنے دیتے ہیں۔ اس (Personality trait) نے ہمیں حیران کیا۔ خوشی کا فارمولا یہی ہے کہ آپ دوسروں کی خوشی کا خیال رکھیں۔
    میں نے اسکارف والی سلجھی ہوئی اک لڑکی کو سیلفی اسٹک سے تصویریں بناتے دیکھا جو اپنے والدین کے ساتھ کھڑی تھی اور فوٹو گرافری میں منہمک تھی۔ میں دھیرے سے اس کے قریب آگئی ۔ ایک جیسی دلچسپیاں اور شوق لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں۔
    اس لڑکی نے مسکراتے ہوئے اپنے بارے میں بتایا۔
    میرا نام فضہ ہے اور میں اپنے والدین کے ساتھ اسلام آباد سے آئی ہوں۔ یہ میری والدہ طلعت اور یہ میرے والد امتیاز ہیں۔ مجھے سیاحت کا شو ق ہے اور ہم مختلف ممالک میں اکثر سیاحت کی غرض سے آتے جاتے رہتے ہیں۔”
    اس نے سُریلی آواز میں کہا۔ اس کے ساتھ اس کے والدین بھی کھڑے تھے۔
    ”میری بھی تصویر کھینچ دیں۔ میں اکثر سیاحتی مقامات پر گئی ہوں۔ مگر مجھے اچھی تصویریں کھینچنے والے لوگ نہیں ملتے۔ کبھی تصویریں اچھی نہیں آتیں تو کبھی فوکس صحیح نہیں ہوتا۔”
    میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”آپ میرے ساتھ آجائیں۔”

  • ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ) | آغازِ سفر | باب ۱

    ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ) | آغازِ سفر | باب ۱

    تحریر:مدیحہ شاہد
    ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
    آغازِ سفر
    باب1
    سوشل ورک کا شوق اور خدمت ِ خلق کا جذبہ مجھے بین الاقوامی این جی او انر ویل کلب کے قریب لے آیا۔ مجھے یہ کلب جوائن کئے ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے کہ ڈسٹرکٹ چیئرمین 341 کے سالانہ وزٹ کی خبریں ملنے لگیں۔
    یاسمین مشتاق جن کا تعلق جھنگ سے تھا انرویل کلب 2018-2019 کی چیئرمین تھیں۔ ان کے شوہر چوہدری مشتاق روٹری کلب کے گورنر تھے اور خود وہ کئی سالوں سے اس این جی او سے وابستہ تھیں۔
    میں چونکہ کلب کی نئی ممبر تھی تو مجھے کلب کی سرگرمیوں اورچارٹر کے متعلق زیادہ علم نہیں تھا۔
    کسی نئی جگہ پر جاکر ایڈجسٹ ہوناا ور نئے دوست بنانا میرے لئے ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے۔ میں نے اپنے تیئں کوشش کی کہ کلب کی سرگرمیوں میں خاطر خواہ حصہ لے سکوں اور وہ دوست بناسکوں جو دوسروں کے فیس بک پروفائل میں نظر آتے ہیں۔ میری زندگی میں دوست بنانے کی جستجو اک طویل جستجو تھی۔ میں نے خوشی خوشی اس کلب کو جوائن کیا۔
    سب ممبران سے تھوڑا بہت تعارف ہوا۔ کئی لوگوں نے میرے ٹی وی ڈرامے دیکھ رکھے تھے اور مجھے میرے کام کے حوالے سے جانتے تھے۔ مجھے اس کلب میں سب نے خوش آمدید کیا۔ دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سال میں ایک بار ہر کلب میں چیئرمین کے وزٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس وزٹ میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ نئے ممبران کو کلب کی پِن بھی لگائی جاتی ہے۔
    ہمارے کلب نے اوائل مارچ کے دنوں میں سروز کلب لاہور میں ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ چیئرمین یاسمین مشتاق جھنگ سے تشریف لائیں۔ نیلے لباس میں ملبوس پھولوں کے گلدستے تھامے وہ سب سے خوشدلی سے ملیں۔ مجھے وہاں علم ہوا کہ وہ اپریل میں کلب کا سالانہ انٹرنیشنل ٹرپ لے کر ترکی جارہی ہیں۔ اس مقصد کے تحت لوگ اپنے اپنے نام لکھوا رہے تھے۔ میں فوراً اُس طرف متوجہ ہوگئی۔
    ”ترکی!”
    میری آنکھیں چمکنے لگیں۔
    دل میں چھپی برسوں پرانی خواہش نے آنکھ کھولی۔ استنبول ، توپ کاپی محل، بُرصا، قونیہ، انقرہ، خلافت ِ عثمانیہ کے تاریخی مقامات ، مساجد، نیلے پانی کا سمندر اور بے شمار جگہیں یاد آئیں۔ میں ترکی کے تاریخی ڈرامے ذوق و شوق سے دیکھتی تھی۔ مجھے وہاں کی ثقافت ، کلچر ، روایات اور آرکیٹیکچر بہت پسند تھا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مجھے ترکی سے بے حد محبت تھی۔ ترکی کے بارے میں پڑھ پڑھ کر مجھے وہاں کی سیر کا بے حد شوق تھا مگر گھر داری میں کئی سال ایسے مصروف رہی کہ اس خواہش کوپورا کرنے کی فرصت نہ ملی۔ گھر، بچے، ذمہ داریاں، بچوں کے سکول، ان کی پڑھائی اور کہانیاں، ڈرامے لکھنے میں ایسی مصروف رہی کہ کبھی کسی باہر کے ملک جانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔
    اب جو اس ٹرپ کے بارے میں سنا تو دل کو سمجھانا مشکل ہوگیا۔ وہ ایک انقلابی لمحہ تھا۔
    ”میں بھی ترکی جانا چاہتی ہوں۔”
    میں نے ایک لمحے میں یہ فیصلہ کرلیا۔
    جن لوگوں کو ہمسائے کے گھر جانے کی فرصت نہ ہو ان کے لئے کسی فارن ٹرپ پر جانا انہونی ہی تو تھی۔ مگر میں نے مصروفیات کی گٹھری کو ایک طرف رکھ دیا۔ دل میں کسی چیز کی لگن ہو تو فیصلے لمحوں میں ہوجایا کرتے ہیں۔
    ”گھر والوں سے مشورہ کرلیں، آپ کے بچے بھی چھوٹے ہیں۔ اس ٹرپ کا پیکیج ایک لاکھ پینسٹھ ہزار ہے، اپنا بجٹ بھی دیکھ لیں۔ یہ فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے پڑتے ہیں۔ ہر پہلو کو دیکھنا پڑتاہے۔”کسی نے آہستہ آواز میں سنجیدگی سے کہا۔
    ”میں سب Manage کرلوں گی۔ آپ میرا نام بھی لکھ لیں۔ میں بھی ترکی جانا چاہتی ہوں۔”
    میں نے حتمی انداز میں اعتماد سے کہا۔ سوچ بچار، نظرثانی جیسی فلسفیانہ باتیں کہیں پیچھے رہ گئیں۔
    اس لمحے مجھے فیصلہ کرنے کی قوت کا ادراک ہوا۔ انسان کے دل و دماغ میں بہت سی قوتیں ہوتی ہیں جس کا اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔
    ”ہاں ضرور چلیں۔ میں آپ کو ترکی گروپ میں شامل کرلیتی ہوں۔ آپ ٹریول ایجنٹ سے بات بھی کرلیجئے گا وہ آپ کو ٹریول پلان بھی بھیج دیں گے۔”
    یاسمین مشتاق نے خوشدلی سے کہا۔
    وہ خوش اخلاق اور خوش مزاج شخصیت کی مالک تھیں۔ ترکی جانے کی خوشی اور ایکسائیٹمنٹ اتنی زیادہ تھی کہ میں نے جوش وولولے کے ساتھ اپنا نام لکھوا دیا اور ترکی گروپ میں شامل ہوگئی۔
    میں خوشی خوشی گھر آئی اور گھر والوں کو یہ اہم اطلاع دی جسے سن کر ہر کوئی حیرت زدہ رہ گیا۔ گھر والوں کو کس طرح راضی کیا یہ ایک الگ کہانی ہے۔ میں نے ٹریول ایجنٹ سے بات چیت کر لی اور ایڈوانس بھی جمع کروا دیا۔ پاسپورٹ میرے پرس میں ہی پڑا تھا۔ اس پاسپورٹ کی کہانی بھی حیرت انگیز تھی۔ کچھ عرصہ قبل میں نے زی انڈیا کے لئے ایک ڈرامہ لکھا تھا جس کی میٹنگ کے سلسلے میں مجھے اور مصباح شفیق کو دبئی جانا تھا مگر میرا پاسپورٹ نہیں بنا ہوا تھا کہ کبھی پاسپورٹ بنانے کا خیال ہی نہیں آیا تھا۔ پھر مجھے ارجنٹ پاسپورٹ بنوانا پڑا مگر میٹنگ دو دن بعد ہی تھی تو مصباح اکیلی ہی دبئی چلی گئی۔ میں باربار پاسپورٹ دیکھ کر آہ بھرتی۔ پاسپورٹ تو بن گیا مگر دبئی کا ٹؤر نکل گیا۔ اس بات کا غم مہینوں دل میں رہا مگر اب غم کے خوشی میں بدلنے کا وقت تھا۔
    جب انسان پہلی بار کسی فارن ٹرپ پر جارہا ہوتا ہے تو بچوں کی طرح ایکسائیٹڈ ہوتا ہے۔ میں نے ٹرپ کا پلان پڑھا۔ استنبول، انقرہ، قونیہ اور کپاڈوکیہ کے اہم مقامات کی تصاویر بار بار انٹرنیٹ پر دیکھتی رہتی۔ نئے کپڑے سلوائے، بہترین سوٹ کیس خریدا، جیولری ، جوتے، پرس نیز خوب شاپنگ کی۔ ہاں بھئی عمر کتنی بھی منزلیں طے کرلے، خواتین کا دل ہمیشہ ٹین ایجر ہی رہتاہے۔
    خیر 24 اگست کو ہم سعودی ایئرلائنز کے ذریعے ترکی کے لئے روانہ ہوئے۔ جہاز میں بیٹھ کر دل ذرا خوفزدہ ہوگیا۔ میں پہلی بار جہاز میں تب بیٹھی تھی جب میں بارہ سال کی تھی۔ ابا جان سعودی عرب سے واپس آئے تھے اور ان کی پوسٹنگ ملیر کینٹ کراچی ہوئی تھی۔ ہم لاہور سے کراچی جہاز میں گئے تھے۔ پھر شادی کے بعد میاں کی پوسٹنگ بہاولپور رہی تو میں اپنے بیٹے علی کے ساتھ بہاولپور سے پنڈی اور پنڈی سے بہاولپور جہاز میںآیا جایا کرتی اور سارے کینٹ میں جہازوں میں سفر کرنے والی خاتون مشہور ہوگئی تھی مگر پھر بھی اب جہاز میں بیٹھ کر دل خوفزدہ ہوگیا۔ خوف کا تعلق عمر سے نہیں وِل پاور سے ہوتا ہے۔ خیر میں نے اپنی ہمت بندھائی اور خود کو حوصلہ دیا۔ میرے دائیں جانب خالدہ سعید اور بائیں جانب یاسمین مشتاق بیٹھی تھیں۔ سائیڈ والی سیٹ پر رفعت اور عبدالستار صاحب بیٹھے تھے۔

    ایئر پورٹ پر اچانک کچھ ایسے واقعات رونما ہوگئے تھے کہ جن کی وجہ سے بہت سے مسافر اپ سیٹ تھے۔ مسز شہناز سردار کے دو پاسپورٹ تھے وہ ایک پاسپورٹ لائیں دوسرا نہ لاسکیں اور بورڈنگ کلوز ہوگئی۔ وہ اور ان کے میاں جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔ عائشہ عمران کے میاں بھی کسی وجہ سے جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔ وہ اپنی بہن مہوش کے ساتھ بیٹھی تھیں اور مسلسل رو رہی تھیں۔
    ”حوصلے سے کام لیں، نہ روئیں۔”
    ارد گرد بیٹھے لوگوں نے ہمدردی سے سمجھایا مگر ان کا غم کم نہ ہوا۔
    ”گھر سے نکلتے وقت ہم دونوں کتنے خوش تھے کہ ترکی جارہے ہیں۔ کئی دنوں سے خوشی خوشی تیاریاں کررہے تھے۔ مگر میں جہاز میں سوار ہوگئی اور وہ وہیں ایئرپورٹ پر رہ گئے ۔
    ” میرا دل رو رہا تھا۔”
    وہ آنسو بہاتے ہوئے رقت آمیز انداز میں بولیں۔
    ”آپ پریشان نہ ہوں۔ وہ بھی جلد آجائیں گے۔”
    لوگوں نے تسلی دی سب مسافر ان کے غم میں برابر کے شریک تھے۔
    سب مسافر خوشی خوشی جہاز میں سوار ہوگئے، میرے میاں کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا!”
    وہ پھر رونے لگیں۔ آہیں اور سسکیاں گونجنے لگیں۔
    ”آپ کی شادی کو کتنا عرصہ گزرا ہے؟”
    کسی نے پوچھا۔
    ”اٹھارہ سال۔”
    انہوں نے جواب دیا۔
    ”آپ کے بچے ہیں؟”
    کسی نے سوال کیا۔
    ”میرے چھ بچے ہیں۔”
    وہ اسی انداز میں بولیں۔
    ”پھر بھی محبت کا یہ عالم ہے!”
    کسی نے بے ساختہ کہا۔
    ”محبت عمر، وقت ، سال، مہینے نہیں دیکھتی۔ اس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ وقت سے نہیں۔”
    کسی نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔
    مہوش اور ان کے شوہر فیصل عائشہ عمران کو تسلیاں اور دلاسے دیتے رہے۔ مشتاق صاحب بھی سمجھاتے رہے کہ فکر نہ کریں۔ عمران صاحب اگلی فلائٹ سے ترکی پہنچ جائیں گے مگران کے دل کو تسلی نہ ملی اور وہ آنسو بہاتی رہیں۔”
    ”سفر کے دوران اکثر ایسے واقعات ہوجایا کرتے ہیں، فکر نہ کریں سب ٹھیک ہوجائے گا۔”
    سب نے ہمدردی کا اظہار کیا۔
    یاسمین مشتاق نے بھی اپنے آنسو صاف کئے۔
    ”آپ کیوں رو رہی ہیں؟”
    میں نے حیرت سے پوچھا۔
    ”میرے میاں نے ایئرپورٹ سٹاف کی بہت منت سماجت کی کہ تھوڑا انتظار کرلیں۔ عمران صاحب کا پاسپورٹ غلطی سے ٹریول ایجنسی کے دفتر میں رہ گیا تھا۔ وہاں سے ایئرپورٹ پہنچنے میں آدھا گھنٹہ مزید لگنا تھا مگر ایئرپورٹ سٹاف نے بورڈنگ کلوز کردی۔ اپنے علاقے میں میرے میاں کا بہت رعب ہے۔ انہوں نے کبھی کسی شخص کی اتنی منت سماجت نہیں کی مگر آج میری وجہ سے انہیں لوگوں سے اتنی ریکوئیسٹ کرنی پڑی۔ اس با ت کا مجھے بہت افسوس ہے۔ وہ اپنے کئی اہم کام چھوڑ کر میرے ساتھ اس ٹرپ پر آئے ہیں اور میری وجہ سے انہیں لوگوں سے ریکویسٹ کرنی پڑی جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔ ”
    انہوں نے آنکھ کے کنارے صاف کرتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔

  • جنت سے ایک خط | شہید برہان وانی بنامِ پاکستان

    جنت سے ایک خط | شہید برہان وانی بنامِ پاکستان

    جنت سے ایک خط
    شہید برہان وانی بنامِ پاکستان
    نفیسہ عبدالرزاق

    میرے پاکستانی بھائیوں!
    السلام علیکم!
    آج میں آپ سے پہلی بار مخاطب ہوں۔ پاکستان کا نام ہم کشمیریوں کے لئے کوئی نیا نہیں ہے، ہم جہاں پیدا ہوتے ہی آزادی کے نعرے سنتے ہیں وہیں پاکستان کا نام بھی سنتے ہیں۔ میں آج آپ کو اپنی داستان سنانا چاہتا ہو تھوڑی بہت تو آپ جان ہی چکے ہوںگے میرے شہید ہونے کے بعد۔ میں پھر سے اسے دُہراتا ہوں جب پندرہ برس کی عمر میں اپنے بھائی کے ساتھ جاتے ہوئے قابض بھارتی فوج نے ہمیں بلاوجہ تذلیل کا نشانہ بنایا تب شاید پہلی بار غلامی کا مجھے بے پناہ احساس ہوا اس تذلیل نے ایک پل چین نہ لینے دیا اور میں برہان جو اپنی جماعت میں ہمیشہ اول رہتا تھا میرے آگے ایک روشن مستقبل تھا مگر مجھے غلامی سے نفرت ہے سو اسی غلامی کو آزادی میں بدلنے کے لئے میں گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ بہت سے مشکل پڑائو آئے میں رکا نہیں چلتا ہی گیا، بہت سے مقامی مجاہدین کی طرح میں نے بھی پاکستان کی طرف دیکھنے سے گریز کیا، اپنے زور بازو اور اللہ کی مدد کے سہارے میں کم وقت میں کشمیر کے ہر گھر کا ہر دل عزیز بن گیا۔ دشمن کو ناکوں چنے چبوائے مگر آزادی کی روشن صبح ابھی دور تھی ۔ بائیس سال کی عمر میں شہادت کا پروانہ آپہنچا یہ وہ عمر ہوتی ہے، جس میں ہر نوجوان اپنا کیریئر پلان کرتا ہے مگر مجھے کوئی افسوس نہیں، میں نہیں تو کیا ہوا ہماری آنے والی نسلیں ضرور آزاد فضائوں میں سانس لیں گی ( اِن شاء اللہ)۔ خیر،میری آج خاص طور پر آپ سب سے مخاطب ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ میرے جنازے کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹا گیا مجھے اس پرچم سے بے حد اُنسیت محسوس ہوئی مجھے لگا میرے بعد میرا کشمیر تنہا نہیں ہوگا پاکستانی ہر بار کی طرح آگے آئیںگے مگر یہ کیا میرے جانے کے بعد جنت نظیر وادی میں ہنگامے پھوٹ پڑے ”ہر گھر سے برہان نکلے گا”کے نعرے گونجے اور ساتھ میں وردی والے دہشت گرد بغیر کسی تخصیص کے گولیاں برسانے لگے اور ان چاردنوں میں بہت سے برہان سبز پرچم میں لپٹے مجھ سے آ ملے۔
    میں اُن کی طرف آس و امید سے دیکھتا رہا کہ وہ مجھے بتائیں گے پاکستانیوں نے بھارتی ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی ہے ان کو منہ توڑ جواب دیا ہے کیوںکہ غلام تو ہم ہیں آپ تو آزاد قوم ہیں اور آزاد قومیں خود مختار ہوتی ہیں وہ مل کر جابر کو للکار سکتی ہیں مگر میرے یہ شہید بھائی تو کوئی اور داستان سُنا رہے تھے آپ لوگ تو بہت مصروف ہیں آپ کے پاس وقت نہیں کہ ہمارے بارے میں جانیں، آواز بلند کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ جب آپ کی مصروفیات کی بابت دریافت کیا تو معلوم ہوا عید کے دن ہیں اس لیے سینما میں بھارتی فلمیں لگی ہیں اور یہی آپ کی مصروفیات ہیں۔ یقین کیجیے یہ سُن کر دل لہو لہو ہوگیا۔ آپ کو ہمارا کتنا خیال ہے نا کہ سینما میں جا کر بھارت کو کروڑوں کا بزنس دیتے ہیں، جس سے وہ ہتھیار بنا کر ہمارے سینوں پر وار کر کے ہمیں شہید کرتے ہیں اور ہمیں ڈائریکٹ جنت کا ٹکٹ تھماتے ہیں۔
    جنت تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے تو آپ کی بدولت ہمارے لیے جنت کا رستہ بہت آسان ہوجاتا ہے۔ صرف میڈیا نہیں آپ تو پور پوردشمنکے جال میں قید ہوتے جا رہے ہیں، جس کی قید سے ہم آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ فلمیں اور ڈرامے آپ اُن کے دیکھتے ہیں سارا سارا دن گانے آپ ان کے سنتے ہیں پھر مارکیٹ جا کر ان ہی کی پراڈکٹس خریدتے ہیں پھر کہتے ہیں کیا کریں میڈیا یہی دکھاتا ہے آپ ایک بار بائیکاٹ کر کے تو دیکھیں پھر میڈیا وہی دیکھائے گا جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں اپ ان کی چیزیں چھوڑ کر ایک بار اپنی چیزیں طلب تو کریں پھر کیسے وہ زبردستی آپ کو دشمنوں کی چیزیں تھمادیں گے۔
    ارے ہاں! یہاں پہنچ کر میری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی ہوئی میرے اور دوسرے آنے والے ساتھیوں کے ذریعے انہیں آپ کے حالات معلوم ہوئے بہت اُداس ہوئے کہنے لگے: ”میری قوم کو کیا ہوگیا؟ انہیں جس کی غلامی سے آزاد کروایا تھا آج ذہنی طور پر اسی کے غلام بنے بیٹھے ہیں۔ کتنی قربانیاں! کتنی قربانیاں! آہ…کیوں بھول گئے کہ شہیدوں کے لہو سے سینچا تھا اس گلزار کو۔ اگر انہیں کے رسم و رواج پر چلنا تھا تو وہ سب لہو رائیگاں گیا نا برہان! پھر کیوں ان کشمیریوں کے لئے اپنی جوانی، اپنا مستقبل سب چھوڑ کر اس راہ کا انتخاب کرلیا یہ بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ نہیں رہتی میری قوم کو یاد قربانیاں۔”

  • مدیر سے پوچھیں | پرویز بلگرامی

    مدیر سے پوچھیں | پرویز بلگرامی

    مدیر سے پوچھیں
    پرویز بلگرامی

    ٭ اپنی کہانی کے بارے میں بتائیں، آپ اس فیلڈ میں کب سے ہیں؟ کیسے آنا ہوا اس فیلڈ میں؟

    پرویز بلگرامی: جہاں تک لکھنے کا سوال ہے تو کم عمری سے لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن چھپنے کی ابتدا روزنامہ جنگ کے نونہال لیگ یعنی بچوں کے صفحہ سے ہوئی پھرماہنامہ چاند میں لکھا.لیکن جب پروفشنلی لکھنے کا آغاز کیا تو ڈائجسٹوں کے دفاتر میں آنا جانا بڑھ گیا۔اسی دوران میں شمیم نوید صاحب سے قربت بڑھی اور ان کے مشورے پر سچی کہانیاں جوائن کر لیا۔اس وقت وہ اس پرچے کے مدیر تھے ۔لیکن کچھ ہی عرصہ بعد میں نے سچی کہانیاں چھوڑ دیااور پھر سے فری لانسنگ کرنے لگا۔شمیم نوید کے بعد سلیم فاروقی صاحب سچی کہانیاں کے مدیر بنے تو میں دوبارہ سے سچی کہانیاں میں آگیا۔اس وقت سچی کہانیاں ۔دوشیزہ کی ٹیم میں تمام لوگ کو آپریٹیو تھے۔سیما غزل تھیں۔مصطفیٰ ہاشمی تھے۔دانش دیروی تھے ۔سلیم آزر تھے۔ثمینہ یاسمین تھیں۔خوب وقت گزرا۔1994میں سلیم فاروقی سچی کہانیاں چھوڑ گئے تو میں نے ادارت سنبھال لی۔تب سے 2008 تک سچی کہانیاں کو سجاتا سنوارتا رہا پھر جاسوسی ڈائجسٹ پبلیکشن کے ماہ نامہ سرگزشت میں آگیا۔تب سے یہیں ہوں۔

     

    ٭ ایک مہینے میں آپ کو اوسطاً کتنے مسودے موصول ہوتے ہیں؟ اور آپ کا تحریروں کی چناؤ کا کیا معیار ہوتاہے؟

    پرویز بلگرامی : سچی کہانیاں میں نئے مصنفین کو اولیت دی جاتی تھی۔وہاں کام کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔نئے مصنفین کا آئیڈیا لے کر ہم لوگ کہانیاں لکھ دیتے تھے اور اسے شائع کیا جاتا اسی مصنف کے نام سے جس کی وجہ سے پرچے کی خریداری بھی بڑھتی اور نئے لکھنے والے کو حوصلہ بھی ملتا۔وہاں جو لوگ لکھتے تھے ان سے باضابطہ خط و کتابت کیا کرتا تھا۔انہیں ان کی کہانیوں کی خامیاں بتاتا۔لکھنے کا انداز سمجھاتا یہی وجہ ہے کہ سچی کہانیاں سے شروعات کرنے والوں میں سے کچھ اب نامور بن چکے ہیں۔اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔لیکن سرگزشت ذرا تیڑھا پرچہ ہے۔اس میں لکھنے کے لیے مصنف کا مطالعہ وسیع ہونا ضروری ہے کیونکہ سرگزشت انفورمیٹیو میگزین ہے۔لیکن اس کا ایک حصہ ایسا ہے جس میں نئے مصنف لکھ سکتے ہیں۔جن کی کہانیاں آتی ہیں اور اس میں کوئی ہلکی پھلکی خامی نظر آتی ہے تو مصنف کو اطلاع دے دیتا ہوں کہ اپنی کہانی کو اپنے مسودے سے ملا کر دیکھیں کہ کون کون سی تبدیلی ہوئی ہے پھر بلا جھجک پوچھ لیں کہ وہ تبدیلی کیوں کی ہے۔جو لوگ فون کرتے ہیں ان کو جواب دیتا بھی ہوں اور کہانیوں کے سلسلے میں مشورے بھی دیتا ہوں۔در اصل یہ طریقہ شمیم نوید کا تھا اور پھر سلیم فاروقی نے اختیار کیا ۔ اپنے دو سینئر کو جس راہ پر چلتے دیکھا اسی راستے پر میں بھی چلنے لگا۔یہی وجہ ہے کہ نئے مصنفین مجھ سے بہت زیادہ قریب ہیں۔میں پابندی سے ہر نئے لکھنے والے کو تاکید کرتا رہتا ہوں کہ وہ جملوں کی بندش پر خصوصی توجہ دیں۔جس طرح دریا کی لہریں اٹھتی ہیں اسی طرح جملوں میں روانی رہنا چاہیے تا کہ پڑھنے والے کو لطف آئے۔پھر کہانی کو آگے بڑھانے کا صحیح انداز اپنائیں ۔معروف مصنفین کی تحریر کو بہ نظر غور دیکھیں کہ وہ کہانی کو کس طرح آگے بڑھا رہے ہیں۔وہی انداز اپنائیں ۔خاص کر تجسس پیدا کرنے کی ضرور کوشش کریں تا کہ قاری اگلا صفحہ ضرور پڑھے۔جملوں کی ساخت آسان رکھیں تا کہ ایک کم پڑھا لکھا بھی بہ آسانی سمجھ لے کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔کہانی آہستہ آہستہ اٹھائیں اور پرت پرت کھولیں۔نہ زیادہ سست رکھیں اور نہ بہت تیز بھگائیں۔کہانی کو آگے بڑھانے کی رفتار پر مکمل کنٹرول رکھیں۔اختتام ایسا ہو کہ قاری چونک جائے لیکن غیر فطرتی نہ لگے۔

     

    ٭ہ کون سی چند چیزیں ہیں جن کا خیال ایک نئے لکھنے والے کو اپنا کام آپ کو بھیجتے ہوئے رکھنا چاہیے؟

    پرویز بلگرامی :مصنفین کو کہانی بھیجنے کے پہلے کم سے کم تین بار ضرور پڑھنا چاہیے۔اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کہانی لکھ کر ایک طرف رکھ دیں پھر دوسری کہانی شروع کر دیں۔اسے مکمل کر کے الگ رکھ دیں اور تیسری کہانی شروع کر دیں۔اسے مکمل کر کے پہلی کہانی کو پڑھیں۔اس طرح اس کہانی کی خامیاں سامنے آتی جائیں گی۔اسے ایڈیٹ کر کے الگ رکھ دیں اور دوسری کو پڑھیں۔اس کی خامی درست کر کے تیسری کو نکال لیں۔اسے درست کرنے کے بعد پھر پہلی کہانی کو پڑھیں۔اگر ایک کہانی کو آپ نے تین بار پڑھ کر درست کر لیا تو یقینا وہ کہانی خامیوں سے بہت حد تک مبرا ہو جائے گی۔ہر نئے مصنف کو ابتدا میں اس طریقہ کو ضرور اپنا نا چاہیے۔لیکن لکھنے والے کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔اگر وہ دن بھر میں اس کام کو دس گھنٹے دیتا ہے تو اسے لکھنے کے لیے صرف دوگھنٹے صرف کرنا چاہیے۔اس سے اسے لکھنے کے لیے مواد بھی ملے گا اور جملوں کو برتنے کا صحیح انداز بھی علم میں آتا جائے گا۔
    ٭بطور مدیر کیا آپ ایسے موضوعات پر کام کرتے ہیں جو risky ہوں؟
    پرویز بلگرامی : ادارتی کام ہوتا ہی رسکی ہے۔ذرا سی نظر چوکی اور غلط مواد چھپ گیا۔خود میرے ساتھ ایک بار ہو چکا ہے۔لکھنے والا خاصہ تجربے کار۔منجھا ہوا لکھاری۔ایک ایسا مضمون لکھ گیا جس پر محکمے حرکت میں آگئے۔بعد میں اس مضمون کو پڑھا تو سر پیٹ لیا اس لیے کہ اس میں کئی ایسی باتیں تھیں جو پرنٹ نہیں ہونا چاہیے تھا۔مصنف سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ یہ معلومات نیٹ سے لیا ہے۔نیٹ پر سچ کے علاوہ جھوٹ بھی بھرا پڑا ہے۔سچ اور جھوٹ کی اگر مدیر کو پرکھ نہ ہو تو ایسی باتیںہوجانا تعجب خیز نہیں۔ویسے نئے تجربے کے لیے رسک لینا ضروری ہے۔جس مدیر کے اندر نیا کچھ کرنے کی امنگ نہ ہو اس کا پرچہ لکیر کا فقیر ہوتا ہے۔

    ٭ نئے موضوعات پر کام کرنے کے لیے زیادہ موزوں کون ہوتا ہے؟ نئے رائٹرز یا پرانے رائٹرز؟

    پرویز بلگرامی: پرانے لکھاری نسبتاً بہتر انداز میں نئے موضوع کو برت سکتے ہیں۔نئے لکھاری کے جملوں بے ساختگی نہیں ہوتی۔بے ساختگی تجربے سے آتی ہے۔پرانے لکھاری الفاظ کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔مثلاً نیا لکھاری لکھے گا” چچا جان کی شیو بڑھ آئی تھی۔”جب کے پرانا لکھاری لکھے گا”شیو نہ کرنے کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ چچا جان کے گالوں پر چیونٹیوں کے انڈے سینکڑوں کی تعداد میں بکھرے ہوئے ہیں۔” اس سے سطر بھی بڑھی اور پڑھنے والے کو جملے کے بڑے ہونے کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔

     

    ٭نئے لکھنے والوں میں آپ کی رائے میں کون ہے جو اچھا کام کررہا ہے؟

    پرویز بلگرامی: ڈائجسٹوں میں جن کی تحریریں چھپ رہی ہیں ان نئے مصنفیں میں ناصر ملک ۔ندیم اقبال۔محمد فاروق انجم۔ڈاکٹرعبدالرب بھٹی کے علاوہ بھی چار پانچ مصنف بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔

     

    ٭ دنیا بھر کے لکھنے والوں میں آپ کا پسندیدہ رائٹر کون ہے؟

    پرویز بلگرامی :دنیا بھر کے رائٹرز میں کسی ایک یا دو کا نام لینا میرے خیال سے صحیح نہیں ہے۔اس لیے کہ ہر رائٹر کا ایک دو کام ہی ایسا ہوتا ہے جو اس کی پہچان بن جاتا ہے۔اگر پسندیدگی کی نظر سے دیکھوں تو مجھے جاپانی مصنف جیرو اکاگاوا کے جتنے ترجمے پڑھے ہیں سب پسند آئے ہیں۔زبردست مسٹری ۔اسی طرح بنگلہ کے نہار رنجن گپت۔امریکا کے اسٹیفن کنگ پسند آئے ہیں۔لیکن جب ہم اردو کی طرف آتے ہیں تو ابن صفی پر سوئی رک جاتی ہے۔لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ مجھے آگ کا دریا یا علی پور کا ایلی پسند نہیں آیا۔در اصل ہر ایک کی پسند ایک خاص نکتے کے گرد گردش کرتی ہے۔ورنہ تو اردو میں جتنے اچھے ناول لکھے گئے ہیں اس کی مثال مشکل ہے کیونکہ عالمی زبانوں میں سب سے نئی زبان اردو ہی ہے۔چائنیز جاپانی فرنچ جرمن انگلش کے مقابلے میں اردو کی عمر بہت کم ہے لیکن فیکشن رائٹنگ میں اردو کسی بھی طرح پیچھے نہیں ہے ۔

     

    ٭ آپ کی پسندیدہ صنف کون سی ہے؟

    پرویز بلگرامی: کہانیوں کی ہر صنف پڑھنے میں اچھی لگتی ہے جہاں تک لکھنے کا تعلق ہے تو میں نے ہر قسم کی کہانیاں لکھی ہیں۔رومانی۔خوفناک۔تھرل سسپنس لیکن جہاں تک ڈوب کر لکھنے کا تعلق ہے مجھے ہارر لکھنے میں زیادہ مزہ آتا ہے مزے کی بات یہ ہے کہ تھریل زیادہ لکھا ہے۔لیکن جب چھاپنے کی بات آتی ہے تو میں معاشرتی مسائل کی کہانیاں پرچے میں شامل کرنے پر زور دیتا ہوں۔کیونکہ عام قاری اپنے مسائل کو پڑھنا پسند کرتا ہے۔بشرطیکہ لکھنے والا پیش کرنے کا فن جانتا ہو۔
    ٭ کہانی کی کون سی ایسی صنف ہے جو آپ کو غیر دلچسپ لگتی ہے؟
    پرویز بلگرامی : مجھے ایسی کہانیاں بالکل پسند نہیں جن میں انسانی نفسیات کے نام پر جنس زبردستی ڈالی جائے یا اوچھے جملے لکھ کر قاری کو بھٹکانے کی کوشش کی جائے۔منٹو کے پاس الفاظ کا ذخیرہ تھا۔وہ کہانی کو الفاظ سے ملفوف کر کے پیش کرتے تھے لیکن تسکینی انداز میں نہیں بلکہ نشتر بنا کریہی وجہ ہے کہ میں جنس زدہ کہانیوں کو فوراً رد کر دیتا ہوں۔
    ٭ آپ نے اب تک ماشااللہ بہت کام کیا ہے، کوئی ایسا پراجیکٹ جو آپ کے دل کے بہت قریب ہو؟
    پرویز بلگرامی : مجھے اپنے دو ناول کا پلاٹ بہت پسند ہے ”جرمِ مسلماں” اور ” دوسرا جنم”لیکن یہ بھی خود سے شکواہ ہے کہ میں جس انداز میں وہ دونوں ناول لکھنا چاہتا تھالکھ نہیں پایا کیونکہ جس ڈائجسٹ میں وہ کہانی قسط وار چھپ رہی تھی اس کے ریڈر میں جیسا چاہتا تھا اس انداز میں اسے پسند نہیں کرتے۔مجبورا پرچے کے قارئین کو ذہن میں رکھ کر لکھنا پڑا۔اپنے دل کی اس چبھن کو مٹانے کے لیے میں ان دونوں ناول کو دوبارہ لکھوں گا۔ایک اور طویل کہانی” میری منزل میرا رستہ”اور سرگزشت کے ١٩٩١ کے کسی شمارے میں بعنوان ”ایک کہانی”کا پلاٹ مجھے

  • مدیر سے پوچھیں | علی عمران سے ملاقات

    مدیر سے پوچھیں | علی عمران سے ملاقات

    مدیر سے پوچھیں
    علی عمران سے ملاقات

    علی عمران کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں مشہور سٹِ کام سیریلز ‘نادانیاں’، ‘بلبلے’ کے مصنف کے طور پر تو سب انہیں جانتے ہی ہیں لیکن اس کے علاوہ وہ اے آر وائی ڈیجیٹل میں بہ طور کونٹینٹ ہیڈ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس ماہ مدیر سے پوچھیں کے سلسلے میں ہمارا انتخاب ہیں علی عمران۔
    ٭ کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟ ہمارے قارئین جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے لکھنا کب شروع کیا؟
    علی عمران: میں نے اپنا کام ریڈیو پاکستان سے زمانۂ طالب علمی میں شروع کیا تھا ، وہاں ایک پروگرام ہوا کرتا تھا ‘بزمِ طلبہ’، اس میں لکھنے اور پڑھنے والے آیا کرتے تھے، میری شروعات وہاں سے ہوئی تھیں، چوں کہ آرٹس کونسل پڑوس میں ہی تھا تو پیدل چل کروہاں جایا کرتا تھا، اس زمانے میں وہاں سٹریٹ تھیٹر ہوا کرتا تھا میں اپنے ریڈیو کے کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں گیا۔ بزمِ طلبہ کے تھیٹر کی ایک ٹیم تھی جس نے وہاں پر تھیٹر کیا اور ہم وہ دیکھنے گئے ۔مجھے بڑا متاثر کیا اس پلے نے اور ان ساری چیزوں نے اس کے ساتھ ہی اس چیز نے مجھے اعتماد بھی دیا کہ میں لکھ بھی سکتا ہوں، یہ کوئی اتنی مشکل چیز بھی نہیں ہے۔ پھر میں نے ایک تھیٹر پلے لکھا، جس گروپ کے لئے لکھا تھا انہوں نے اس کو اچھا ڈائریکٹ نہیں کیا، میں نے سوچا کہ یہ خود ڈائریکٹ کرنا چاہیے تو پھر ہم نے ایک چھوٹا سا تھیٹر گروپ بنایا میزان کے نام سے، اس زمانے میں لڑکیاں تھیٹرمیں بہت کم آتی تھیں خاص طور پر سنجیدہ تھیٹر میں، تو ہمارے ایک دوست کہتے تھے یار شادیاں کرو اور اپنی بیویوں سے کام کرواؤ( قہقہہ) بہرحال اس گروپ سے ہم نے ایک پلے کیا، خود لکھا، خود ڈائریکٹ کیا خود ہی ایکٹ بھی کیااور مزے کی بات ہے دیکھا بھی خود ہے (مسکراتے ہوئے)۔ لیکن اس کا اپنا نشہ تھا، کہتے ہیں کہ تھیٹر کا نشہ کوکین کے نشے سے زیادہ خطرناک ہے۔ کوکین کا نشہ ہم نے کبھی کیا نہیں ، تو پھر وہ ایک نشہ لگ گیا اور بڑی برُی لت لگ گئی ( مسکراتے ہوئے) ہم گھنٹوں آرٹس کونسل کے چبوترے پر بیٹھا کرتے تھے۔ ٹیلی ویژن میں بہت بعد میں آیا ہمارے ایک بہت اچھے رائٹر ہیں فصیح باری خان، ان سے میری واقفیت تھی ، ان سے میں نے درخواست کی کہ اگر ٹیلی ویژن کے لئے کوئی کام مل سکے، اس زمانے میں ایک پروڈکشن ہاؤس تھا BMN پروڈکشن میمونہ صدیقی کا ان کے پاس انہوں نے بھیجا، میںنے ان کے لئے ایک ٹیلی فلم لکھی، وہ آج تک بنی نہیں لیکن مجھے اس کے پیسے مل گئے تھے (مسکراتے ہوئے) اور اس کے جب پیسے ملیں تو مجھے لگا کہ یار یہ تو اچھا کام ہے تو میں باقی سب جو کام کررہا تھا اپنی زندگی میں وہ چھوڑ کر اس ہی طرف آگیا۔میں نے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا تھا ، نفسیات کا علم تھا، ادب سے تو خیر شروع سے ہی لگاؤ تھا ، لکھتا بھی تھا، ریڈیو نے وہ خوف دور کیا، اس کے بعدتھیٹر نے بہت سکھایا، اور پھر ٹیلی ویژن ایک بالکل الگ میڈیم تھا۔
    ٭ ایک مہینے میں اوسطاً کتنے مسودے اور آئیڈیاز آپ کے پاس آجاتے ہیں اور آپ کا سلیکشن کا طریقہ کار کیا ہے؟
    علی عمران: جس چینل میں میں بیٹھا ہوں اس کی اپنی requirement ہے اور اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم چیزوں کو سلیکٹ کرتے ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ ہم ہر کہانی اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ وہ سکرپٹ اچھا نہیں ہے یا کہانی اچھی نہیں ہے، کئی بار ہم وہ اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ وہ ہمارے چینل کی requirement سے match نہیں کررہی ہوتی۔ بہت اچھے اور خوبصورت سکرپٹس ہوتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرپاتے ہیں کیوں کہ ہمیں تھوڑا محتاط ہونا پڑتا ہے اور آپ نے مہینے کی بات کی ہے تو وہ تو میں نہیں بتا پاؤں گا لیکن ہمیں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً چالیس، پچاس نئے مسودے مل رہے ہوتے ہیں ، اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔
    ٭ کیا آپ riskier themes پر کام کرتے ہیں؟یا پھر جو آپ کا چینل پروفائل ہے اس ہی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کام کرتے ہیں؟
    علی عمران: دونوں چیزیں ہوتی ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ٹیلی ویژن لوگوں کا مزاج بناتا ہے ۔میں جب سے یہاں ہوں میری کوشش ہوتی ہے کہ چینل کی جو requirement ہے اس کو feed کیا جائے اس کے علاوہ میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ساتھ ساتھ ہم ایسا کونٹینٹ بھی بناتے جائیں جو لوگوں کو دوسرے طریقے سے کہانی سننے اور دیکھنے کا بھی عادی بنائے ۔ ہم نے ایشوز پر کہانیاں بہت کی ہیں، ہم نے controvercial taboos پر بھی کام کیا ہے، صرف روتی دھوتی عورتوں پر کام نہیں کیا ۔

    ٭ آپ کے خیال میں نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے کون سے رائٹرز زیادہ موزوں ہیں؟ نئے رائٹرز یا سینئر اور منجھے ہوئے؟
    علی عمران: دیکھیں دونوں کے اپنے pros and cons ہیں، دونوں کی اپنی اچھائی اور کمی ہوتی ہیں۔ نئے لکھنے والوں کے پاس انرجی بہت زیادہ ہوتی ہے، passion بہت ہوتا ہے ان میں، ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کچھ ہٹ کر کام کیا جائے۔ جہاں تک پرانے رائٹرز کا تجربہ بہت count کرتا ہے ان کو سکرپٹ کی تکنیک کا پتا ہوتا ہے، ان کے ساتھ کام کرنے میں وہ دقّت نہیں ہوتی جو نئے رائٹرزکے ساتھ کام کرنے پر ہوتی ہے ،اگر آپ ہمارا پورا اردو ادب اٹھا کر پڑھ لیجیے، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کہانیاں کم و پیش ایک ہی جیسی ہوتی ہیں، ان کا اسلوب انہیں مختلف بناتا ہے، مجھے مغربی ادب کی کہانیاں بہت اپیل کرتی ہیں وہاں پر انسانی نفسیات پر اور آج کے انسان پر کہانیاں ہوتی ہیں جس پر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کام نہیں ہوپایا ہے ۔ نئے رائٹرز بھی اچھا لکھ رہے ہیں، پرانے رائٹرز بھی اچھا لکھ رہے ہیں، کچھ پرانے رائٹرز ہیں، جو اچھا نہیں لکھ رہے، کچھ نئے رائٹرز ہیں جو اچھا نہیں لکھ رہے۔ یہ کرتے کی وِدّیا ہے جو کرنے سے آتی ہے۔
    ٭ ابھی جو آپ نے بات کی پاپولرفکشن کی، ہمارے ملک میں دو طبقے بنے ہیں، ایک ادب اور ایک فکشن۔ ادب والے فکشن رائٹر کو کچھ سمجھتے نہیں ہیں، آپ کے خیال میں یہ درست ہے؟
    علی عمران: ہر آدمی کا اپنا ایک نظریہ ہے، اپنی ایک سوچ ہے ، لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ ہر قسم کی سوچ کو اظہارکا موقع دینا چاہیے۔ اگر ایک آدمی اپنے ڈھب سے کہانی سنانا چاہتا ہے تو اس کو سنانے کا موقع ضرور دیں،یہ فرق ہمیشہ سے رہا ہے، میں اس چیز کا حامی ہوں کہ ہر طرح کا کام سامنے آنا چاہیے۔
    ٭ نئے لکھنے والوں میں کچھ ایسے نام جن کا کام آپ کو زیادہ بہتر لگا ہو؟
    علی عمران: بہت سارے ہیں، نئے رائٹرز میں مجھے لگتا ہے کہ بہت پوٹینشل ہے، اور ہمارے پاس زیادہ تر نئے رائٹرز کام کررہے ہیں ۔ ہر رائٹر میں کچھ نہ کچھ خصوصیت ہوتی ہے ، کچھ کا سکرین پلے بہت اچھا ہوتا ہے، کچھ کے مکالمے اچھے ہوتے ہیں، کچھ کو کہانی کہنا بہت اچھی آتی ہے ۔ہر رائٹر میں کوئی نہ کوئی خاص بات ہوتی ہے، میں تو بڑا پراُمید ہوں، مجھے بڑی خوش آئند بات لگتی ہے، میری بس ایک درخواست ہوتی ہے کہ جو لکھ رہے ہیں اس کو ایمان داری سے لکھیں، جو لکھا ہے اس کو پڑھیں ضرور اور اس کو بار بار چھلنی سے گزاریں۔
    ٭ آپ نے ابھی کہا کہ زمانۂ طالب علمی سے آپ کا لکھنے پڑھنے کا شوق رہا ہے، تو کون سا ایسا ادیب ہے جس کی تحریریں آپ کو بہت اچھی لگتی ہیں؟
    علی عمران: لکھنے کا تو بہت بعد میں ہی شوق ہوا، پہلے پڑھنے کا شوق تھا اور بہت شوق تھا۔ ہماری یونیورسٹی کے زمانے میں یہ ہوتا تھا کہ آپ خواتین کو متاثر کرنے کے لئے اشعار سنایا کرتے تھے ، ہمارے زمانے کی لڑکیاں بھی اشعار سے بڑا متاثر ہوتی تھیں، ہم نے مختلف شعراء کے اشعار سنانا شروع کردیے ، بعد میں ہم پکڑے گئے کہ یہ کسی اور کے شعر تھے، اس احساسِ شرمندگی نے مجبور کیا کہ اب کچھ لکھا بھی جائے(قہقہہ) جہاں تک ایک ادیب کی بات ہے تو ایک کا نام لینا مشکل ہے۔بہت سارے ہیں ، اگر برِصغیر کی بات کی جائے تو سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی صاحب، گلزار صاحب، ممتاز مفتی صاحب ، عبداللہ حسین اور اگر آپ بین الاقوامی ادب کی بات کریں تو چیخوف ہیں۔
    ٭ کون سا writing genre کا آپ کو بہت پسند ہے؟
    علی عمران: مجھے نفسیاتی کہانیاں ہمیشہ سے پسند آئی ہیں اور ٹیلی ویژن کے اعتبار سے اگر پوچھا جائے تو مجھے رومانی کہانیاں پسند آتی ہیں۔
    ٭ کون سا writing genre جو آپ کو انتہائی غیر دلچسپ لگتا ہو؟
    علی عمران: آپ اگر یقین کریں گے تو میں بتادیتا ہوں مزاح (قہقہہ) میں سچی بات بتاؤں تو مجھے کامیڈی لکھنے میں بھی زیادہ مزہ نہیں آتا۔ میں بہت بے دلی سے لکھ کر اپنے ڈائریکٹر کو دے دیتا ہوں کہ بھائی جو سمجھ آئے اس کو شوٹ کردینا، اور وہ بہت اچھا نکل آتا ہے ، تو وہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ بے دلی سے ہی لکھا کریں، دل سے لکھیں گے تو رزلٹ اچھا نہیں آئے گا (قہقہہ)
    ٭ آپ کو نہیں لگتا کہ بلبلے بہت زیادہ طویل ہوگیا ہے اس کو اب بند ہوجانا چاہیے؟
    علی عمران: دیکھیں اگر آپ میری پسند ناپسند پر جائیں گے تو اس وقت ٹیلی ویژن پر چلنے والے آدھے سے زیادہ ڈرامے بند ہوجائیں گے ( مسکراتے ہوئے) میں نے کہا نا کہ چینل کی بھی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں اور ایسا ہرگز نہیں ہے کہ چینل ڈھیٹ بن کر بیٹھا ہوا ہے ، مجھے آج بھی بہت لوگ ملتے ہیں جو بلبلے دیکھتے ہیں اور باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔ میرا ماننا یہ ضرور ہے کہ اس کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔ یقینی طور پر ایک چیز اگر اتنی طویل ہوگی تو ایک وقت آئے گا کہ لوگ اس کو گھر کا سامان سمجھنے لگتے ہیں۔
    ٭ آپ نے کامیڈی کے علاوہ سنجیدہ بھی لکھا ہے؟
    علی عمران: میں نے شروعات سنجیدہ کام سے ہی کی۔ اب بدقسمتی ہے کہ لوگوں کو اس کے حوالے سے زیادہ پتا نہیں (قہقہہ) میں تو مزاح لکھتا ہی نہیں تھا ، نہ ہی لکھنا چاہتا تھا۔ میں نے کامیڈی کبھی نہیں لکھی، تھیٹر میں ڈارک کامیڈی تھوڑی بہت لکھی اور شاید وہی چیز میرے کام آگئی۔ ایک سیریل آتا تھا میں اور تم جو اظفرکرتے تھے،اس کے رائٹر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہوگیا تو اظفر میرے پاس آگئے اور کہنے لگے کہ علی بھائی آپ نے یہ لکھنا ہے ، میں نے کہا یار مجھے تو کامیڈی نہیں لکھنا آتا، تو انہوں نے کہا یار اتنا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، میرے ساتھ بیٹھ جاؤ یوں کرو، یہ کرو، اور ایسے کرلیتے ہیں، اور واقعی اظفر نے بڑا آسان کردیا۔
    ٭ آپ کے اب تک کے کیے گئے پراجیکٹ میں کون سا پراجیکٹ ہے جو آپ کو بہت پسند ہے؟
    علی عمران: میں نے شروع میں ایک شارٹ پلے کیا تھا، خاموشی کے نام سے جس میں فیصل قریشی اور ثانیہ سعید تھے اور عمران پٹیل اس کے ڈائریکٹر تھے، وہ پلے مجھے بہت پسند تھا۔ دوسرا میرا ایک سیریل تھا خراشیں، سیفی حسن نے ڈائریکٹ کیا تھا وہ بھی مجھے بہت پسند ہے۔ پھر فہد مصطفیٰ نے ایک سیریز شروع کی تھی ‘اور پھر’ کے نام سے اس کے میں نے پلے لکھے تھے۔ کامیڈی میں مجھے جو پسند ہے وہ نادانیاں ہیں، اور بلبلے۔۔اب تو نہیں لیکن شروع میں بہت پسند تھا(مسکراتے ہوئے)
    ٭ مقابلے کے باقی ایڈیٹرز میں کون سے ایسے ہیں جن کا کام آپ کو بہتر لگتا ہے؟

  • سیاہ اور سفید کے درمیان

    سیاہ اور سفید کے درمیان

    ناول

    ”سیاہ اور سفید کے درمیان ”

    تحریر: نائلہ عرفان

    Surah Al-Baqarah
    (Ayat 286)
    ”خدا کسی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔اُس کوثواب بھی اُسی کا ملے گاجو ارادہ سے کرے اور اُس پر عذاب بھی اُسی کا ہو گا جوارادہ سے کرے۔ اے رب ہمارے نہ پکڑ ہم کو اگر ہم بھولیں یا چُوکیں۔ اے رب ہمارے اور نہ رکھ ہم پر بوجھ بھاری جیسا رکھا تھا ہم سے اگلے لوگوں پر ۔ اے رب ہمارے اور نہ اُٹھوا ہم سے وہ بوجھ کہ جس کی ہم کو طاقت نہیں اور درگزر کر ہم سے اور بخش ہم کو اور رحم کر ہم پر تو ہی ہمارا رب ہے ۔ مدد کر ہماری کافروں پر” ۔
    (سورہ البقرہ آیت 286)

    ”A journey of a thousand miles begins with a single step”
    میلوں کی مسافت پہلا قدم اُٹھانے سے ہی طے ہوتی ہے۔

    سید مظہر حسین مرحوم کے انتقال کو آج سوا مہینے پورا ہوا قُل دسواں اور چہلم سب ہی پورے اہتمام سے منائے گئے ۔رشتے دار عموماََدن رات کا کھانا بھیجوایا کر تے جب کہ پرُ لطف ناشتے کا اہتمام محلے داروں نے سنبھالا ہوا تھا۔ایک روز تو مختلف شہروں سے آئے مظہر صاحب کے بہن بھائیوں نے رات کو ہی سو چ لیا کہ صبح اُٹھ کر تندوری نان بمعہ لیاقت سفید مکھن منگوالی جائیں جو کہ کو ئٹہ کی خاص سوغات سمجھی جا تی ہے ۔ساتھ میں دودھ والے سے تازہ دودھ لے کر دودھ پتی چائے بھی چڑھ گئی ۔ابھی ناشتے کا پہلا دور اختتام پذیر نہیں ہوا تھا کہ ڈاکٹر شاہ زمان کے گھر سے گرماگرم ناشتے کی ایک اور بڑی ٹرے آگئی ۔دو مختلف طرح کے آملیٹ،گھر کے بنے دس پندرہ پراٹھے ،تازہ ڈبل روٹی ،چھوٹی بلیوبینڈ مکھن کی ٹکیہ ،جیم اور شہد کی دو شیشیا ں اور چائے کے دو فل سائز تھرماس ۔ سب کی آنکھیں ناشتے کی اس ٹرے کو دیکھ کر کُھلی کی کُھلی رہ گئیں پھر تقریباََ سبھی نے پچھلے ناشتے کو کو صاف کر کے اگلے نا شتے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ غم زدہ حلیمہ بھابھی اگرچہ عدّت میں تھیں مگرگھر والی ہونے کے ناطے ہر آئے گئے کا خیال رکھنا اُن کا فرض ٹھہرا پہلے انہوں نے شکرئیے کے ساتھ ناشتے کی ٹرے وصول کی ۔بعد میں بچے کُچے نا شتے کو سمیٹ کر دُرناز )برتن دھونے والی ادھیڑ عمر خاتون( کے حوالے کیا ۔پھر اپنا تیرھواں سپارہ کھول کر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پڑھنے بیٹھ گئیں ۔رات کو بھی بڑی ذمہ داری سے انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے تمام برتنوں میں دیگ کا کھانا بھرا پھر گرم جوش شکریہ ادا کر نے کی خصوصی تاکید کے ساتھ ٹرے واپس بھیجوادی۔
    سوئم کی قر آن خوانی کا انتظام عورتوں کا گھر پر اور مردو ںکے لیے سامنے خالی پلاٹ پر کیا گیا تھا۔مظہر صاحب کے گھر کے بالکل سامنے سحر این جی او (NGO)کا دفتر ہے ۔دفتر کے ساتھ والے پلاٹ پرمالک پلاٹ سے پوچھ کر چار دیواری کھڑی کر دی ۔سکیورٹی (security)کیمرہ ‘ رات بھر آدھی گلی کو روشن رکھنے والی پاور فل اسٹریٹ لائٹ بھی لگوادی گئی اور گیٹ پر چوکیدار بیٹھا دیا ۔اس طرح نہ صرف دفتر والوں کو ایک بہترین پارکنگ لاٹ مل گیا ۔بلکہ گلی کی سکیورٹی کا بھی خاطر خواہ انتظام ہو گیا ۔این جی او (NGO)میں ہر وقت لوگوں کے آنے جانے سے ایک رونق سی لگی رہتی ۔بہر حال جب حلیمہ اور شیراز نے سوئم کا دن مُقررکرلیا تو محلے میں اطلا ع بھیجوا دی گئی ۔کوئٹہ کے لوگوں میں خلوص کا تناسب بڑے شہروں کی نسبت کچھ زیادہ ہی ہے۔بس تو پھر کیا تھا محلے کا ایک لڑکا دوڑ کر این جی او (NGO)کے چوکیدار کے پاس گیا اور اُس سے پارکنگ لاٹ رسمِ قُل کے لیے مانگ لیا۔واضح رہے کہ یہ وہی چوکیدار ہے ۔جس سے مظہر صاحب کی اپنی پوری زندگی ٹھنی رہی ۔جب بھی گھر سے نکلتے اِسے کسی نہ کسی بات پر ضرور ہی رگڑتے جیسے کبھی کہتے کہ ”تمہارا لوگ جب بھی لاٹ سے گاڑی نکالتا ہے ‘ہمارے تھڑے پر ضرور چڑھاتا ہے ‘کبھی ٹوٹ گیا ۔تو میں نے مالک کے پاس لڑنے پہنچ جانا ہے "یا پھر کہتے” تمہارے دفتر میں ہر وقت لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے ۔ پوری گلی میں شور وغُل ڈال رکھا ہے” شیراز نے دبّی زبان میں کئی مرتبہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ”ابّا !اوّل تو ہمارا تھڑا خا صا مضبوط سیمنٹ کا بنا ہوا ہے ۔شیشے کا نہیں کہ ذرا سا گاڑی چڑ ھنے پر ٹوٹ جائے ۔دوسرا یہ کہ یہاں سے نکلنے کا اور راستہ بھی نہے ۔تیسرا یہ کہ اِن لوگوں سے ہماری ہمسائے داری ہے اور چوکیدار ایک غریب شریف آدمی ہے ۔آپ ہر وقت اُس کا پیچھا نہ پکڑا کرئیں "مگر مرحوم کچھ پیدائشی برہمی کا شکا ر تھے ،سوچھوٹی چھوٹی باتوں پر فساد کھڑا کر ناطبیعت میں رچ بس گیا تھا۔ کف افسوس کیا خبر تھی کہ ایک روز اِسی لاٹ پر اُن کی رسمِ قُل ہوگی اوریہی این جی او (NGO)والے انتظام کریںگے۔
    خیر شیراز اکثر آتے جاتے چوکیدار کے ہاتھ پر کبھی ہزار ‘پانچ سو رکھ دیتا ۔اس غریب چوکیدار نے حق ہمسایہ گیری ادا کرتے ہوئے ”لشتم چشتم این جی او (NGO)کے مالک کو فون کر کے اجازت طلب کی اور پھر انتظامات میں بھی خوب آگے آگے رہا ۔حتی کہ ہرے پھول دار ٹینٹ کو روشن رکھنے کے لیے جو دو بڑے بڑے بلب لگوئے گئے تھے اُن کا کنکشن بھی سامنے مظہر صاحب کے گھر سے لینے کے بجائے ساتھ موجود این جی اوکے دفتر سے دے ڈالا ۔سوئم کے لیے چکن کڑاہی ،مٹن پلائو اور میٹھے چاولوں کی جو تین دیگیں آئیں وہ بھی اُسی نے دیگ والے کے ساتھ مل کر گدھے گاڑی سے اُتروائیں اور پلاٹ کے سامنے خالی سڑک پر رکھ وادیں۔اسی لئے حاضرینِ محفل اس چھوٹی سی زندگی میں آپ سب کے ساتھ بھلے رہئے کوئی پتہ نہیںکہ کوئی کب کہاں اور کس طرح آپ کا بھلا کر جاتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب سب نے مل کر کئی کلام پاک اور سینکڑوں مرتبہ سورةیسٰین پڑھ ڈالی تو حلیمہ نے حافظ سلیمہ مندوخیل سے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پرُسوز دُعا کی التماس کی ۔۔۔۔کافی دیر تک اللہ سبحان وتعالی کے آگے عاجزی سے گڑگڑ انے اور توبہ استغفار کرنے کے بعد انھوں نے کٹے ہوئے موسمی پھلوں ودیگر پکوانوں کی سوخ پھول دار خوان سے دھکی پلیٹوں پر فاتحہ دے ڈالی۔اس طویل روح پُرور رتقریب کے اختتام تک حلیمہ بھابھی اس قدر تھک چکی تھیں کہ صوفے پر کچھ دیر کے لیے یہ کہہ کر بیٹھ گئیں کہ خدارا اب مجھے نہ اُٹھانا کیونکہ اب اگر اُٹھی تو ڈر ہے کہ چکرا کر کہیں گر ہی نہ پڑوں ۔
    دراصل اللہ نے مظہر حسین اور حلیمہ مظہر کو صرف دو ہی اولادیں دی ہیں ۔عائلہ مظہر اور شیراز مظہر۔ عائلہ توشادی کر کے امریکہ چلی گئی تو اُس کا آنا جانا ہوا مشکل ۔بچا شیراز تو وہ بیچارہ باہر کا انتظام سنبھا لے کہ اندر کا؟ لہٰذا اندرونِ خانہ کی تمام تر ذمہ داری آئی حلیمہ بھابھی کے کندھوں پر۔ اب انھیں کبھی سفید چادروں کے لیے آواز پڑتی تو کبھی کسی کو جائے نماز یںدرکار ہوتیںعین سوئم کی قران خوانی کے درمیان ڈرائنگ روم کے بیرونی دروازے کے پاس والے کونے سے آواز آئی بھابی !اگر بتیاں کہاں ہیں ؟اِن کے بغیر قرآن خوانی کا بھلا کیا مزہ ”
    لو بھلا بتائو یہ قرآن خوانی مرحوم کی روح کو بخشوانے کے لیے رکھوائی ہے یا تمہارے مزے کے لیے۔ یہ آواز عطرت پھوپھو کی تھی ۔مسز عطر ت عثمان مظہر صاحب کے دس بہن بھائیوں میں سے ساتویں نمبر پر ہیں۔خاتون جس محفل میں جاتیں کچھ الگ ہی نظر آتیں وجہ چہرے پر تنا شکنوں کا منفرد جال شکنوں کی ترتیب کچھ اس پرکارہے ماتھے پر لمبائی کے رُخ چار اور چوڑائی کے رُخ چھ ، دونوں آنکھوں کے گرد بے تحاشہ چھوٹی چھوٹی لکیریں اور سب سے واضح ناک کے سرے سے لیکر ہونٹوں کے کناروں تک آتی اسمائل لائنز،(حالانکہ کے مسکرانے سے اُن کا دور کا بھی واستہ نہیں تھا )جب بھی وہ منہ ٹیڑھا کر کے بو لتیںتو وہ کچھ اور بھی واضح ہو جاتیں ۔پچھلے سال جب وہ ا پنی ڈاکٹر بیٹی کو امتحان دِلوانے لندن لیکر گئیں تو اپنی کاسموٹولوجسٹ بھابھی سے زبر دستی مفت میں بوٹوکس کے انجکشنز لگوالئے اور فلرز بھی ڈلوالئے ۔

    جس سے چہرہ تو سچی بات ہے جیسے پہلے تھا ویسا ہی رہا ۔بھابھی نے کون سا دل سے یہ کام کیا تھا۔بس جان ہی چھڑوائی تھی اپنی مگر وہ خود کو پچپن کے بجائے پینتیس 35))کا سمجھنے لگیں ۔دماغ کے فطور اور لہجے کے غرور میں گراقدرِ اضافہ ہوا کہ ناخن کچھ مزید لمبے ہوگئے لپ اسٹک ،نیل پالش شیڈ کچھ دوہرا گہرا اور انگوٹھیا ںدوسے چار ہوگئیں ۔یہ عطرت پھوپھو ہی تھیں جنھوں نے بھرے مجمع میں جب عورتیںمنہ کھول کھول کر حلیمہ بھابھی کی خدمت گزاری کے گُن گارہی تھیں ۔تو جل کر کہہ دیا کہ "بھئی ! ہمیں کیا پتہ کہ خدمت کی بھی ہے یا نہیں ہم تو سب دوربیٹھے تھے اپنے اپنے گھروں میں۔ میں تو آخیرتک فون کرتی رہی کہ ذراکی ذرا بھائی کی آواز ہی سنُ لو ں مگر کبھی جواب ملتا کہ اّبا ابھی سو رہے ہیں ۔کبھی یہ کہ اُن کی کنڈیشن ایسی نہیں ہے کہ ابھی بات کر سکیں ”
    اپنے سے فقط ڈیڑ ھ دو سال چھوٹی بہن کے بے تُکے پن پربڑی سعدیہ پھوپھو نے خوب ہی بُرا محسوس کیا۔ساتواں سپارہ جو ابھی صرف نصف ہی پڑھا تھا انگلی رکھ کر بند کیا ۔عینک ناک کی ٹپ پر ٹکائی اور پہلے اُسے خوب غور سے دیکھا پھر ٹھوک کر بولئیں ۔”تم نے بالکل صحیح کہا بھلا دوربیٹھے ہوئوں کو یہاں کے باسیوںکی کُلفتوں کا کیا اندازہ ؟ہم توبھئی دو قدم کے فاصلے پر رہتے ہیں ۔لہذا پَل پَل کی خبر ہے کہ پچھلے دو سال سے حلیمہ بھابھی اور شیراز نے کس طرح مظہر بھائی کی خدمت کے لیے اپنا دن اور رات ایک کیا ہوا تھا۔مظہر بھائی پچھلے تیس سالوں سے زیا بیطس کے مریض تھے ۔دوسال پہلے گُردوںنے جواب دے دیا اور بہنا !ڈالیسیز Dialysis))کے مریض کی دیکھ بھال کرنا کو ئی بچو ں کا کھیل نہیں ہے۔آخر کے چند مہینوں میں ہیپاٹائٹس (hepatitis)ہوگیا ۔چہرے کا رنگ کالا سیاہ، جسم پر سیاہ دھّبے مرحوم پیشاب اور پوٹی بھی ڈائیپر(Diaper)میں کر رہے تھے اتنے لہیم شہیم آدمی کے پیمپر(pamper) بدلنا بھی ہر بار ایک مرحلہ ہوتا ۔اوپر سے بھائی کا چِڑچِڑاپن اور کنجوسی اپنے عروج پر تھی اپنے علاج پر بھی جیب سے ایک ٹکا خرچ کرنے کو تیار نہ تھے ۔ایک منٹ کیسی باہر والے اٹینڈئنٹ Attendent))نے ٹِک کر نہ دیا ۔خود ہی ماں بیٹا کبھی اُن کی اُلٹیا ں صاف کرتے تو کبھی مالش کر رہے ہیں ،جسم داب رہے ہیں ۔سچ پوچھوتو اِن دونوں نے اپنی جنت اسی دنیا میں کمالی میں خود اِس بات کی سب سے بڑی گواہ ہوں ۔مگر تم کیا جانو!تم تو خیر سے دور بیٹھی تھیںاپنے گھرمیں "سعدیہ پھوپھو نے اپنی بات ختم کر کے ٹیولپ ٹشو Tulip tissue ))کا پاکٹ سائز پیک اپنے پرس سے نکالا ۔اس میں سے دوخوشبودار سفید ٹشو باہر کھینچے اور بھیگی بھیگی آنکھوں کو خوب رگڑ کر صاف کرنے لگئیں ۔بڑی بہن کے اِس تفصیلی بیان کے بعد عطرت پھوپھو اپنا سا مُنہ لے کر رہ گئیں ہاتھ میں کب سے پکڑی سورةیسٰین کچھ غصے میں اور کچھ وجّدمیں آکر جھوم جھوم کر پڑھنی شروع کر دی ۔سعدیہ پھوپھو اگر چے قرآن خوانی کے درمیا ن باتیں کرنا معیوب خیا ل کر تی تھیں ۔مگر اِس وقت یہ وضاحت دینا بے حد ضروری تھا ۔
    پہلے ہی عائلہ کی عدم موجودگی پہ گھر کے ملازمین سے لے کر ہر آئے گئے نے خوب ہی سوال اُٹھائے ہیں کہ عائلہ اب تک کیوں نہیںآئی؟؟ پہلے باپ کی دو سالہ بیماری میں نہیں آئی اب تدفین پہ بھی غائب ہے !!حلیمہ بھابھی سمجھا سمجھا تھک گئیں کہ امریکہ کوئی پاکستان میں نہیں رکھا ہوا۔پی آئی اے(PIA)کی براہِ راست پرواز بھی امریکہ سے آنا اب بند ہو چکی ہے ۔اگر باپ کی اطلاع ملتے ہی اِسے ٹیکٹس کسی طرح مل بھی جاتے توکنیکٹنگ Connecting))فلائٹ لے کر یہاں کوئٹہ آتے کم از کم دو دن تو لگ ہی جانے تھے اور مظہر صاحب کی تدفین اتنی دیر روکی نہیں جاسکتی تھی۔باڈی اِس حال میں ہی نہیں تھی پھر باہر والوں کی اپنی زندگی کے ہزار ہاں جھمیلے ہیں ۔ہمیں اُس سے کوئی شِکایت نہیں ہے۔آجائے گی وہ اپنی سہولت سے لیکن اللہ کی اِس زمیں پہ جتنے اُبھار اور گھاٹیاں ہیں ۔اِس سے کہیں زیادہ اُبھار اور گھاٹیا ں انسان دماغ پہ موجود ہیں ۔جہاں پراَن گنت سوچیں اُبھر تی پھسلتی رہتی ہیں ،سومولا کی زمین پر ربسنے والے اپنی قیاس آرئیوں سے باز نہیں آتے ۔
    دراصل عائلہ مظہر نے شادی اپنی مرضی سے کی تھی شروع شروع میں تو باپ بیٹی میں خاصی ٹھنی رہی۔مگر امریکہ جانے کے بعد بھی وہ ہرسال ماں باپ سے ملنے آیا کرتی تھی ۔بلکہ ایک مرتبہ ایان کا کوئی طویل پرجیکٹ جاپان میں چل رہا تھا تو عائلہ کوئی سال بھر کے لیے دونوں بچوں کے ساتھ ماں باپ کے پاس پاکستان آگئی تھی۔اِس موقع پر بھی خاندان بھر میں خوب چہ میگوئیاں ہوئیں کہ یقینا میاں بیوی کی علیحدگی ہو گئی ہے۔ آگیا ہو گا کسی گوری کے چکر میں تو بھیج دیاعائلہ کو واپس خیر عائلہ کچھ عرصہ رہ کر چار سالہ سلیمان اور دو سالہ مُحمد کے ساتھ ور جینا (virginia)واپس چلی گئی اور ایسی گئی کہ اب دو ڈھائی سال ہونے کو آئے اُس کا کوئی نام ونشان نہیں ہے۔
    "سعدیہ باجی !یہ اپنی عائلہ نظر نہیں آرہی اِس روز میں تد فین میں آئی تھی تو بھی ملاقات نہیں ہوئی مانا کہ باپ کا غم ہے مگر ایسا بھی کیا کہ بندہ آنے جانے والے مہمانوں سے پُرسہ بھی نہ لے سکے "عائلہ کی بابت خالصتاً ٹھوہ لینے والے انداز میں پوچھنے والی یہ مظہر حسین کے ماموں زاد بھائی کی بیوہ بیگم طاہرہ نسیم تھیں صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ بن رہی ہیں اندر سے خوب ہی جانئے ہیں کہ عا ئلہ یہاں موجود نہیں ہے ۔
    بہر کیف اُن کے اِس سوال پرسعدیہ پھوپھو کا پانی کے جگ کی طرف بڑھتا ہاتھ تھم سا گیا ۔”طاہرہ بھابھی !عائلہ تو نہیں آئی شاید کچھ ٹھہر کر آنے کا ارادہ ہے ”
    ” اچھی بہن !سچ کہو یعنی کہ اب بھی نہیں آئی اللہ جانے کیا معاملہ رہا ہو گا ۔ویسے بھی اپنی عائلہ کی یہ love marriage)) ہے ۔ مظہر بھائی اِس رشتے کے شروع سے ہی خلاف تھے کیا پتہ سسر اور داماد میں کب سے سرد جنگ چل رہی ہو جس کا بدلہ اُس نے عائلہ کو مظہر بھائی کی بیماری نہ میں بھیج کر لیا ہو”انہوں نے مانوقیاس کے سمندر میں ساری کشتیاں ڈبو دئیں ۔اگر آپ نے کبھی پمپکن پیچ(pumpkin patch)کی پھولے پھولے گالوں والی خوب گول مٹول اور گوری چٹّی گڑیاں دیکھی ہوں تو اِس لائن کی وہ گڑیا جو بارہ تیرہ سال کی بچیوں کے لیے ہوتی ہے وہ لے آئیں ۔اُسے پاکستان کے کیسی بہترین برانڈ کے کپڑے پہنا کر سر پر دوپٹہ اُوڑھا دیں اور شکل کی ساری معصومیت سرے سے غائب کر دئیں تو ہوبہو نسیم بھابھی بن جاتی ہیں ۔پہنا اُوڑھنا اِن کا شروع سے ہی بہت اچھا رہا ہے اور کیوں نہ ہو ؟دونوں بیٹے خوب اچھا کمارہے ہیں ۔ایک تو کینڈا میں ہے اور دوسرا کوئٹہ میں کوئی لیب شیب چلا رہا ہے جس طرح کی وہ ٹیڑھی ماں تھیں اولاد خود بخود ہی سیدھی رہتی شرافت سے دونوں بیٹے انھیں خوب اچھا پاکٹ منی دیتے ہیںجو بہو پاس تھی شریف خاندان کی قبول صورت مگر کم پڑ ھی لکھی لڑکی تھی جیسے وہ اہتمام سے اپنے ایم ایس سی پاس بیٹے کے لیے بیاہ کر لئیں تھی ۔اب پائوں کے انگوٹھے تلے ایسا دبارکھا ہے کہ اپنے میکے جانا تو درکنار گھر کے دروازے تک اُن کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتی تھی ۔بھلے گھر میں بے چاری کا دم گھٹا جا رہا ہو ۔
    "اچھی بہن!بس اب کیا بتائوں کہ آخری دونوں میں بھیا مرحوم کی شریانوں کی حالت اِس قدر نازک ہوگئی تھی کہ مزید ڈائی لیسیسزDialysis))ممکن نہیںرہا تھا ۔”انہوں نے سعدیہ پھوپھو کے قریب کھسک کر قدرے راز داری سے کہا انداز ایسا تھا کہ جیسے وہ مرحوم کی تیمار داری کے لیے روزانہ آتی رہی ہوں اور سعدیہ پھوپھو کبھی کبھار حالانکہ حقیقت اِس کے بالکل برعکس تھی ۔وہ خود مرحوم کی طویل بیماری میں صرف ایک آدھ بار ہی خبر گیری کے لیے آسکیں تھیں۔
    ”ڈاکٹر نے صاف جواب دے دیا تھا ،دماغ پر اثر ہونے لگا تو سارا سارا دن عجیب وغریب آوازیں نکالتے رہتے۔کیسی پل چین نہیں تھا یوں لگتا کہ موت کا فرشتہ نظر وں کے سامنے ہر وقت موجود ہو مگر تف ہے بھئی آج کل کی اولاد پر کہ ایسے کڑے وقت میں بھی ماں باپ کی دل جوئی کو نہ آسکے۔
    نہ تو عائلہ اُمید سے ہے نہ اس کے بچے شیرخوار ہیں کہ اتنا لمبا سفر ممکن نہ ہو .عائلہ تو گوروں کے دیس میں جا کر بالکل انہی کی طرح سوچنے لگی ہے کہ اپنے شیڈول کے مطابق آنا جانا ہے ماں باپ بھلے اِس کے بچوں کی صورتوں کو ترستے رہیں "وہ کچھ اور آگے کھسک کر مزید گویا ہوئیں۔
    ”ویسے میں اس کے بچوںسے مل چکی ہوں پہلے دونوں ہی عجیب چڑچڑے سے تھے ۔ہر وقت ماں کا پلو پکڑے ہر آئے گئے کو نوچتے کھسوٹتے رہتے ،بولتے ولتے اُس وقت تو کچھ خاص نہ تھے لگتا ہے کہ عائلہ نے کوئی خاص تمیز نہیں سیکھائی ۔امریکہ کے بجائے کسی چک کی پیداوار لگ رہے تھے ۔اب اپنے خرم (اُن کا چھوٹا بیٹا )کے بچوں کو ہی دیکھ لو ‘میں نے پالنے میں ہی آداب سلام کی تمیز سیکھادی تھی ورنہ آتا جاتا تو اُن کی ماں کو بھی کچھ خاص نہیں ہے۔آپ کی بھابی صاحبہ کیا بتا رہی ہیںکہ صاحبزادی کب تک آئیں گی ؟ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید سعدیہ پھوپھو عائلہ کی صفائی ضرور پیش کرتیں مگر اُن کا دل اِس بارعائلہ سے خوب ہی کھٹا ہو ا تھا ۔اگر چے اپنے ہاتھوں کی پالی بچی تھی دلِ ودماغ یہ مانے کو تیار نہیں تھا مگر حالات کچھ یہی خبر دے رہے تھے کہ عائلہ بدل گئی ہے بہت دُکھی دل سے گویا ہوئیں کہ "اُن سے تو ہم نے پوچھنا چھوڑ دیا ہے ہر ایک کو یہی کہتی پھر تی ہیں کہ باہر والوں کے اپنے سومسلے مسائل ہوتے ہیں جن کا اندازہ ہم پاکستان میں بیٹھ کر نہیں لگا سکتے ۔میرا بھائی تو آخیر تک سب سے پوچھتا رہا کہ عائلہ آگئی کیا ؟میرے سیلمان اور محمد کہا ں ہیں ؟پھر اُن کے معصوم چہرے دیکھنے کی حسرت لیئے لحد میں اُتر گیا بد قسمتی اُس کی بھی کہ باپ کا آخری دیدار نہ کر سکی البتہ حلیمہ بھابھی نے میت کو قبرستان لے جانے سے پہلے پانچ منٹ کے لیے فیس ٹائم پر دیکھایاضرور تھا ۔اُس کے رونے کی ہلکی سی آواز تو میں نے بھی سُنی تھی ۔یہ رونا تو اب عمر بھر کا ہے ۔کچھ بھی کر لو ماں باپ کہاں واپس آتے ہیں ”
    سعدیہ پھوپھوکی بات سنُ کر نسیم بھابھی نے اثبات میں خوب زور سے سر ہلایا پھر اپنے سوجے ہوئے پیر سمیٹ کر اُٹھنے لگ گئیں ۔
    "اچھا اب میں چلوں گی پیر نیچے بیٹھنے سے اور سوج گئے ہیں گھر جا کر اِن کا ذرا مساج کروں تو کچھ سکون آئے ”نسیم بھابھی خود بھی زیابیطس کی مریضہ تھیں مگر پرہیز بالکل بھی نہ کر تیں لہذاکبھی پیر سوجتے تو کبھی چہرہ لیکن اِس کے باوجود بھی خاصی سوشل خاتون تھیں ۔جہاں بھی جاتیں دس پندرہ منٹوں میں مقررہ ہدف پورا کر لیتیں ۔دوسروں کے دل آپس میں کھٹے کر کے خود مطمئن سی جیے جا رہی تھیں ۔
    ”ارے نسیم بھابھی !ذرا روکئیے تو دُعا میں شریک ہو کر ‘دو لقمے کھا کر چلی جائیے گا ۔”سعدیہ پھوپھو نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔ ”اچھی بہن !کھانا تو میں باہرکا کھاتی نہیں ہو ں مگر دُعا میں شرکت لازمی کرو نگی بس میں ذرا لطیف )ڈرائیور)کو فون کر دوں کہ وہ پندرہ منٹ باہر میرانتظار کرے ”نسیم بھابھی نے اپنے کوچ (coach)کے شولڈر بیگ سے آئی فون نکالا اور ڈرائیورکو نمبر ملا کر ہدایت دینے لگ گئیں تو سعدیہ پھوپھو بھی کچن میں ایک نظر ڈالنے کے خیال سے اُٹھ کھڑی ہوئیں ۔

  • چج دوآب کی لوک کہانی | مور پنکھ

    چج دوآب کی لوک کہانی | مور پنکھ

    چج دوآب کی لوک کہانی
    مور پنکھ
    محمد ندیم اختر

    بچوں کے ادیبوں پر تحقیقی میگزین ”سہ ماہی ادبِ اطفال” کے منتظم اور مدیر جناب ندیم اختر لیہ میں پیدا ہوئے۔ دورانِ تعلیم بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے کا آغاز کیا، گزشتہ 22 سال سے ادب سے وابستہ ہیں، مختلف رسائل میں قلمی جوہر دکھائے، نمایاں خوبی یہ کہ بچوں کے ادب کی ترویج و اشاعت میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ الف نگر کے لیے یہ ان کی پہلی کاوش ہے۔

    کہتے ہیں چج دو آب میں مور پنکھ نام کا ایک بچہ رہتا تھا۔ وہ بہترین بانسری بجاتا تھا۔ اس کی بانسری سن کر لوگ سر دھنتے رہ جاتے۔ مور پنکھ اکثر اپنے ماں باپ سے چج دو آب (دریائے جہلم اور چناب کا درمیانی علاقہ) کے رہن سہن کے بارے میں پوچھتا، اس کے اماں باوا بتاتے کہ پتر تُو یہ جس سوکھے دریا کو دیکھ رہا ہے، اصل میں یہ دریائے چناب ہے، جو کبھی روانی سے بہتا تھا۔
    وہ سامنے والے درختوں کے نیچے کشتیوں کا پتن (کشتی کھڑی کرنے کی جگہ) ہوتا تھا جہاں سے ہم سب بستی والے کشتی میں بیٹھ کر دریا پار کرتے تھے۔ اس دریا میں بہار کے موسم میں مور پنکھ آیا کرتے تھے، بہت خوب صورت پرندہ تھا۔ اب تو نجانے کہاں گئے وہ ”مور پنکھ” کبھی دیکھے ہی نہیں۔
    ”بابا! یہاں مور پنکھ اب کیوں نہیں آتے؟” ایک دن ننھے مور پنکھ نے اپنے باوا سے پوچھا۔
    ”پتر! مور پنکھ پانی کی سرزمین پر اترتے ہیں، وہ یہاں دریا پر آتے تھے لیکن جب دریا خشک ہو گیا تو وہ بھی آنا بند ہوگئے۔ شہر کے لوگ جو انہیں دیکھنے آتے تھے انہوں نے بھی آنا بند کر دیا۔ ملتان کے نواب یا مظفرگڑھ کے بڑے زمیندار اور ان کے بچے اپنی بگھیوں پر کشتیوں کے پتن تک آتے، ملاح انہیں کشتیوں پر اس کنارے لاتے اور اُن کی مہمان نوازی کرتے۔ وہ سارا سارا دن یہاں رہتے، اُن کے لیے مچھلی پکتی تھی۔
    جب انہوں نے دیکھا کہ دریا میں اب اتنا پانی نہیں آتا اور نہ ہی ”مور پنکھ” آتے ہیں تو شہر کے لوگوں نے ہماری اِس بستی میں آنا چھوڑ دیا۔” باوا حشمت نے اُسے مکمل تفصیل بتائی۔
    ”چلو خیر ہے ابّا! مور پنکھ نہیں آتے تو کیا ہوا؟ میں بھی مور پنکھ ہی ہوں نا!”
    وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
    ”پتر !تمہارے دادا حضور بخش نے بڑی محنت سے ایک کشتی بنائی تھی، جب اُن کے بازوئوں میں طاقت تو کشتی کا چپو میرے حوالے کر دیا گیا۔ میں ان شہروالوں کو پتن سے یہاں لاتا تھا ، مجھے سب لوگ جانتے تھے اور مور پنکھ پرندے بھی مجھ سے مانوس تھے کیوں کہ میں راتوں کو پانی میں اتر کر ان کے لیے ”دیے”جلایاکرتا تھا ، وہ دریا سے مچھلی پکڑتے اور پانی میں تیرتے تھے پھر ایک دن ایک انگریز افسر آیا تھا، اُسے کہتے سنا کہ یہ پرندہ کہیں دور برف کی وادی سائبریا سے اُڑان بھرتا ہے اور سردیاں نکل جانے پر دوبارہ چلا جاتا ہے۔”
    ”ابّا! کیا دریا اب خشک ہی رہے گا؟” مور پنکھ کچھ پریشان ہوگیا تھا۔
    ”ربّ کرے یہ دوبارہ آباد ہو پھر مور پنکھ بھی لوٹ آئیں گے اور یہاں کی وہ پہلے والی رونق بھی۔” باواحشمت نے ایک آہ بھر کر کہا۔
    ”ابّا! آپ نے میرا نام مور پنکھ کیوں رکھا؟” اس کے ننھے دماغ نے سوال کیا۔
    ”پتر! جب دیکھا کہ اب مور پنکھ یہاں کبھی نہیں آئیں گے تو ہم مایوس ہوگئے اور پھر اِس دوران تم پیدا ہوئے تو اس پرندے کی یاد میں ہم نے تمہارا نام ”مور پنکھ” رکھ دیا۔” ابّا نے پیار سے بتایا۔
    مور پنکھ سر ہلاتا، بانسری بجاتا، اپنی بکریوں کو دریا کنارے چراگاہ پر لے گیا۔ ساتھ وہ اپنے باوا کی باتوں کو یاد کرتا ۔ ایک دن وہ اپنے باوا کے ساتھ ”مولتان” (ملتان کا پرانانام) گیا۔ وہ لوگ بوہڑ گیٹ کے اندر داخل ہوئے تو راستے میں اسے تصویروں والی ایک کتاب ملی جو پھٹی ہوئی تھی ۔ اس نے جھٹ سے اٹھا لی۔
    گھر آکر اس نے کتاب دیکھی تو حیران رہ گیا۔ اس میں دریا، کشتی اور کنارے پر پھول دار باغیچے تھے جہاں بہت سے لوگ گھومتے نظر آئے۔ تصویر میں لگ رہا تھا کہ لوگ کشتی میں بیٹھنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سے اگلے صفحے پر لوگوں سے بھری کشتی دریا کے وسط میں تھی اور ملّاح چپو چلا رہا تھا۔
    مور پنکھ کو یہ تصویریں بہت خوب صورت لگیں۔ اس نے کتاب کا اگلا ورق دیکھا تو وہاں دریا کنارے ایک کچی دکان نظر آئی جہاں مچھلیوں کا ڈھیر پڑا تھا۔ اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ کتنے دن ہو گئے اس نے مچھلی نہیں کھائی تھی۔ ابھی انہی خیالوں میں گم تھا کہ اس کے ہاتھ سے کسی نے کتاب پکڑ لی۔ وہ اس کی امّاں تھی۔
    ”پتر مور پنکھ! یہ کیا ہے ؟” اماں کتاب دیکھنے لگی۔
    ”اماں! کتنی خوب صورت تصویریں ہیں، کیا ہمارا دریائے چناب ایسا ہی خوب صورت ہوتا تھا؟” مور پنکھ نے اماں سے پوچھا۔
    ”ہاں پتر! جس طرح ان تصویروں میں دریا کے اندر پانی ہے، ایسے ہی ہمارے ”دریا بادشاہ” میں پانی ہوتا تھا اور اس کے کنارے سر سبز گھاس کی چادر ہوا کرتی تھی۔ تیرے باوا کی کشتی اس گھاس والے کنارے کے ساتھ آ کر کھڑی ہوتی تھی۔” امّاں نے بڑی حسرت سے تصویریں دیکھ کر اسے بتایا۔
    ”اماں! اگر میں اس کنارے پر درخت لگا لوں اور بازار سے مچھلی لا کر یہاں فروخت کروں، ساتھ ساتھ پھولوں والی کیاریاں بھی بنا لوں تو کیا لوگ دوبارہ یہاں آئیں گے؟” مور پنکھ نے معصومیت سے پوچھا۔

    ”ہاں، کیوں نہیں پتر!” امّاں مسکرا دی۔
    ”تو پھر آپ باوا سے بات کریں نا!” مور پنکھ نے اماں سے درخواست کی۔
    ”ٹھیک ہے، شام کو ہم تمہارے باوا سے بات کریں گے۔” امی نے مور پنکھ سے وعدہ کیا۔ پھر شام کے وقت وہ سب صحن میں بیٹھے تھے۔ مور پنکھ کی اماں بولی:
    ”مور پنکھ کے باوا! میں نے ایک منصوبہ سوچا ہے۔”
    ”بھلا وہ کیا منصوبہ ہے؟” باوا نے پوچھا۔
    ”گھر میں جو اتنی بکریاں ہیں، ان میں سے اگر تین بکریاں بیچ دی جائیں تو ہمیں مور پنکھ کی خواہش پوری کرنے کے لیے پیسے مل سکتے ہیں۔” اماں نے مکمل تفصیل سے منصوبہ بتایا۔
    ”ہاں یہ ہو سکتا ہے، میں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں کہ ان بکریوں سے ہم اپنے مور پنکھ کی خوشی خرید سکتے ہیں۔” باوا نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
    ”اور ہاں! وہ اللہ وسایا کی زمین ہے نا! جو آدھی دریا برد ہو چکی ہے۔ اس سے بات کرتا ہوں، اگر وہ مان گیا تو ہم وہاں مچھلی کا کام شر وع کریں گے۔ ہم آنے والے بدھ کو قریبی قصبے میں لگنے والی مویشی منڈی میں اپنی بکریاں بیچ دیں گے۔ شہر میں ایک مچھلی فروش میرا واقف ہے۔ اس سے بات کروں گا کہ وہ فارم کی مچھلی ہمیں فراہم کر سکے۔ یوں لوگ دریا کی سیر کرنے آئیں گے البتہ انہیں پیارا پرندہ ”مو ر پنکھ ”نظر نہیں آئے گا۔” باوا کی آوا ز میں غم تھا۔
    ”میں ہوں نا مور پنکھ بابا!” مور پنکھ نے ہنس کر کہاتو سب مسکرا دیے۔
    …٭…
    اس دن مور پنکھ بہت خوش تھا کہ اب وہ دریا کنارے درخت لگائے گا۔ کنارے پر کھڑی اپنے باوا کی کشتی کو نیا رنگ کرے گا۔ کیاریاں بنا کر گھاس لگائے گا، پھر مور پنکھ اور اس کے باوا نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام شروع کر دیا۔ جب انہوں نے دریا کنارے درخت لگائے، کشتی کو رنگ کیا اور کیاریوں میں گھا س لگائی تو ان کی بستی کے ساتھ ساتھ قریبی بستیوں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ باوا حشمت دریا کنارے مچھلی پکانے کا کام شروع کررہا ہے پھر واقعی دو ہفتے کی مسلسل محنت کے بعد وہ شہر سے مچھلی لانے کے قابل ہو گئے۔
    …٭…
    صبح انہوں نے شہر جاناتھا مگر رات کو آسمان پر گہر ے بادل چھاگئے۔ یوں لگتا تھا کہ ساون اب کھل کے برسے گا۔ ساری رات بادل گرجتے رہے۔ صبح ہوتے ہی بادلوں نے برسنا شروع کیا۔ مسلسل کئی گھنٹے تک بارش ہوتی رہی۔ اماں اور باوا حشمت دعائیں مانگ رہے تھے۔ کچے گھر کے صحن کی ایک دیوار بھی گر گئی۔ آسمان پر ابھی بھی بادل تھے۔ یہ مون سون کا آغاز تھا۔ انہیں خبر تھی کہ مون سون میں برسات تو ہوتی ہے لیکن جتنی بارش اس دن ہوئی، پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ کھیتوں میں گھٹنوں تک پانی کھڑا ہو گیا۔ بستی کے سارے لوگ اپنے گھر وں میں دبکے رہے۔ مور پنکھ اور اس کے باوا اسی وجہ سے بازار نہ جاسکے۔
    اگلے دن دریا چناب میں اونچے درجے کا سیلاب آگیا، علاقے میں سرکار کا نمائندہ اعلان کررہا تھا کہ اس بار خطرہ زیادہ ہے، سب لوگ محفوظ جگہوں پر منتقل ہوجائیں۔ یہ خبر سنتے ہی پوری بستی کی طرح مور پنکھ اور اس کے اماں باوا نے بھی پوٹلی میں کچھ کپڑے باندھے اور اپنی بکریاں لے کر بستی والوں کے ساتھ کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
    وہ آدھی رات کا وقت تھا جب سیلابی ریلا ان کی بستی تک پہنچا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پانی دریا سے نکل کر بستی میں داخل ہوگیا۔ صبح تک پانی کی سطح چھے فٹ تک پہنچ چکی تھی۔ بستی سے باہر ایک اونچے ٹیلے تک پانی کی چادر تھی اور ٹیلے کے ساتھ جو گھر نشیبی سطح پر تھے، پانی ان کی چھتوں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ اس طرح دریائے چناب میں سیلاب کا سلسلہ ایک ہفتہ تک جاری رہا۔ اس دوران مور پنکھ اور اس کے گھر والے قریبی قصبے میں چلے گئے جہاں انہیں تین وقت کا کھانا دیا جاتا تھا۔ کوئی ایک ماہ بعد جب علاقے میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوئی تو وہ اپنے گھروں کی جانب لوٹے۔
    جب وہ اپنی بستی میں پہنچے تو ان کے گھر کی جگہ مٹی کا ڈھیر پڑا تھا۔ باقی بستی کی طرح ان کا گھر بھی پانی کے کسی ریلے میں بہہ گیا تھا۔ گھر کا سامان بھی اجڑ گیا تھا۔ جو بکریاں وہ اپنے ساتھ لے گئے تھے، وہ دورانِ سیلاب وبا پھیلنے سے مر گئی تھیں۔ گھر کی جگہ مٹی کا ڈھیر دیکھ کر اماں اور باوا دونوں دہاڑیں مار کر رونے لگے۔ ان کو روتا دیکھ کر مور پنکھ سے بھی نہ رہا گیا۔ انہیں چپ کرانے والا کوئی نہ تھا۔ مور پنکھ اپنی اماں کی گو د میں چھوٹے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔
    ”اماں اب کیا کریں گے؟” اس نے پوچھا۔

    ”پتر! چپ کر، ہم دریا ئی لوگ ہیں، ہماری قسمت میں یہی سب کچھ ہے اگر ”دریا بادشاہ” خشک ہو جائے تو ہم برباد ہوتے ہیں اور اگر اس میں پانی آ جائے تو بھی ہم ہی مارے جاتے ہیں۔” اماں نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔
    داستان سنانے والے کہتے ہیں کہ اس رات مور پنکھ اور اس کے امّاں باوا اپنے گھر کے ملبے پر چٹائی بچھا کر سوئے۔ آدھی رات کو کہیں سے بانسری کی آوا ز آئی، رات کے اس پہر بانسری کی آواز میں ایک خاص درد تھا۔
    پھر صبح لوگوں نے دیکھا کہ وہ تینوں مٹی کے ڈھیر پر مردہ پائے گئے ۔ آج تک یہ معما حل نہ ہوسکا کہ آدھی رات تک بانسری بجانے والا مور پنکھ اوراس کے گھر والے کیسے موت کے منہ میں چلے گئے؟
    کچھ لوگوں نے کہا کہ رات کوئی سانپ انہیں ڈس گیا، کوئی کچھ کہتا اور کوئی کچھ! البتہ مور پنکھ کی بانسری اتنی سریلی تھی کہ پوری بستی کو جاتے جاتے درد دے گئی ۔ ان کی موت کی خبر دوسری بستیوں تک بھی جا پہنچی، یوں آہستہ آہستہ اس بستی کو ”مور پنکھ والی بستی ”کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔
    آج بھی اگر آپ دریائے چنا ب کے اس کنارے پر بستی دوآنہ بہادر کے راستے بستی مکو جمال سے گزریں تو چاچا خیرو کا بیٹا اپنے باپ اور دادا سے سنی سنائی ”مور پنکھ” بستی کی یہ کہانی دہراتا ہے۔ اس کی آواز میں جو درد ہے ، وہ شاید وہیں جاکر سننے والا ہی محسوس کرسکے۔
    ٭…٭…٭

  • کراچی کی لوک کہانی | مائی کی روشنی

    کراچی کی لوک کہانی | مائی کی روشنی

    کراچی کی لوک کہانی
    مائی کی روشنی
    فرزانہ روحی اسلم

    فرزانہ روحی اسلم نے 1980ء میں روزنامہ جنگ سے لکھنے کا آغاز کیا۔ پاکستان بھر کے بچوں کے رسائل میں لکھ چکی ہیں۔ کراچی سے تعلق اور پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کررکھا ہے۔ درجنوں ایوارڈز اپنے نام کرچکی ہیں۔ کہانیوں کا ایک مجموعہ ”صندل کا درخت” لاہور سے شائع ہوا، افسانہ نگاری کے علاوہ نظم بھی لکھتی رہی ہیں۔

    برسوں پرانی بات ہے۔ ”مائی” نامی ایک عورت کا خاندان سمندر کنارے آباد تھا۔ کچا گھر مٹی اور لکڑی سے بنا ہوا تھاجب کہ دروازے پر کپڑے کا پردہ تان دیا گیا تھا۔ اصل نام تو اس کا معلوم نہیں، البتہ سب اسے مائی کہتے تھے۔ وہ سب ماہی گیر تھے۔ مچھلیاں پکڑتے، بیچتے اور کھاتے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دنیا نہیں دیکھی تھی۔ اُن کے بچے سمندر کنارے مٹی کے گھروندے بناتے یا پھر سیپیوں سے کھیلتے۔ کھیل ہی کھیل میں وہ جال بُننا اور مچھلیاں پکڑنا بھی سیکھ جاتے۔
    اُس دن مائی نے گھر کے کام کاج صبح سویرے ہی ختم کرلیے تھے۔ا ب اسے دوپہر کا انتظار تھا کہ اس کا شوہر مچھلیاں پکڑ لائے تو وہ انہیں پکائے۔ آج اُس کے بچوں نے چاول کھانے کی فرمائش کی تھی۔ لہٰذا اُس نے پہلے ہی چاول اُبال لیے اور اب کونڈی میں نمک، مرچ لہسن اور زیرہ کوٹ کر مچھلی کا مسالا تیار کر رہی تھی۔ اتنے میں اُس کا شوہر دو بڑی مچھلیاں لے کر آگیا۔ اس نے نہایت مہارت سے مچھلیوں کو کاٹا، صاف کیا اور مسالا لگا کر انہیں تل دیا۔ اُبلے چاولوں کے ساتھ لذیذ مچھلی کھا کر سب آرام کی غرض سے لیٹ گئے۔شام کے وقت اس کے شوہر کو دوبارہ سمندر کنارے جانا تھا۔ بچوں نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ وہ بھی سمندر کا نظارہ کریں گے۔ چناں چہ مائی بھی اپنے بچوں کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئی۔
    ایسا نظارہ انہوںنے پہلے کم ہی دیکھا تھا۔ بہت سارے لوگ سمندر دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ مائی اور اس کے بچوں کو بہت اچھا لگا اور وہ اُجلے کپڑوں والے صاف ستھرے لوگوں اور ان کے گول مٹول بچوں کو دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔ تاہم مائی کی خو شی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ وہ جہاں کھڑی تھی وہاں سے کچھ فاصلے پرکوئی عورت چِلّا رہی تھی۔ اُس کا خاندان جس کشتی میں سوار تھا شاید وہ اُلٹ گئی تھی۔ ساحل پہ کھڑے مچھیرے اُس جانب بھاگنے لگے جد ھر سے آواز آرہی تھی۔ مائی بھی تیزی سے اُس جانب لپکی۔ اس کی آنکھوں نے دور کچھ لوگوں کوڈوبتے دیکھا۔ وہ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ ڈوبتا ابھرتا سر اور پانی کی سطح سے اوپر ایک ہاتھ دیکھ کر مائی پریشان ہوگئی۔ کچھ لوگ اسے بچانے کے لیے پانی میں ا تر کر دور جا چکے تھے اور اب شا ید وہ بھی پانی کے تھپیڑوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ بہت سے مچھیرے پانی میں کودے او ر تیرتے ہوئے ایک ایک شخص کو کھینچ کر کنارے تک لانے لگے۔
    کشتی کے قریب وہ ڈوبنے والا لڑکا پانی میں بہت دور جا چکا تھا۔ اب بھی اس کا ہاتھ کسی لمحے دکھائی دے رہا تھا۔مائی چلائی: ”اسے بچائو،جلدی کرو۔” لیکن وہ دور تھا، کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ اتنی دور گہرے سمندر میں جائے۔ مائی نے اپنے شوہر کا بازو پکڑتے ہوئے کہا:”تم جائو جلدی کرو ،زندگی بچائو۔”
    ”وہ بہت دور چلا گیا ہے، اب اسے بچانا بہت مشکل ہے۔” اس کے شوہر نے جواب دیا۔
    ”مگر وہ ابھی ڈوبا نہیں ہے۔”یہ کہتے ہوئے مائی نے اپنی اوڑھنی کنارے پر پھینکی اور سمندر میں کود گئی۔ یہ دیکھتے ہی اس کے شوہر نے بھی اس کے پیچھے چھلانگ لگا دی اور اسے آواز دینے لگا، مگر مائی دلیری سے سمندری لہروںکا مقابلہ کرتی آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔اس پرایک ہی دھن سوار تھی کہ ”زندگی بچانی ہے۔”
    جلد ہی مائی نے اس ہاتھ کو جا لیا جسے اس نے ساحل پر سے دیکھا تھا۔ اس کا شوہر اور دیگر مچھیرے بھی وہاں تک آ پہنچے۔ مائی اس ہاتھ کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ اسے واپسی مشکل لگنے لگی، پھر بھی وہ ہمت ہارنے کو تیار نہیں تھی۔ اس نے موجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دور سے ایک کشتی کو دیکھا۔ اس نے کچھ کہنا چاہا مگر آواز حلق میں گھٹ کر ہی رہ گئی۔ پھر بھی وہ پانی کی مخالف سمت بڑھتی رہی۔
    ”اسے بچائو، جلدی کرو۔” وہ دوبارہ چلّائی۔ اس کی حوصلہ مند آواز نے لہروں کو ہارنے پر مجبور کردیا۔ کشتی اب اس کے بالکل قریب تھی۔ مچھیروں نے انہیں جلد ہی گھسیٹ کر کشتی میں ڈال لیا اور ان کے پیٹ سے پانی نکالنے لگے۔ جب مائی کے حواس بحال ہوئے تواس نے خود کو ساحل پر دیکھا، اسے فوری طور پر مطب پہنچایا گیا۔ وہ بہت تھک گئی تھی اور زخمی بھی تھی، مگر ایک زندگی کے بچ جانے پر خوشی اس کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی۔
    ”آج ایک زندگی بچ گئی ورنہ رات بھر سمندر کنارے سوگ ہوتا،ہمارے گھروں میں دیے بجھا دیے جاتے۔” وہ بڑ بڑائی۔
    مائی کو اندھیرا پسند نہ تھا۔ اسے روشنی اچھی لگتی تھی۔زندگی بچانے کی خوشی میں رات بھر گائوں میں چراغاں ہوا۔ لوگ مائی کو مبارک باد دینے آتے رہے۔ دور دور تک مائی کی ہمت اور بہادری کے چرچے ہونے لگے۔ رفتہ رفتہ اس کے گائوں کا نام اسی کے نام سے ”مائی کولاچی ” پکارا جانے لگا۔ جس کا مطلب ہے ”مائی کی روشنی” یہ نام اس گائوں کو اتنا راس آیا کہ یہاں برکتیں نازل ہونے لگیں۔ مچھیروں کو سمندر سے ڈھیروں مچھلیاں ہاتھ آنے لگیں۔ ان کا کاروبار ترقی کرنے لگا۔ مچھلیوں کا کاروبار پھیلا تو مزید آسانیاں مہیا ہونے لگیں۔ سڑکیں بن گئیں اور جب سڑک بن جائے تو آمد و رفت بھی بڑھ جاتی ہے جس سے بڑے پیمانے پر کاروبار شروع ہوجاتا ہے۔ مائی کو لاچی میں بھی یہی ہوا۔

    مچھلیوں کی پوری دنیا میں سپلائی شروع ہوگئی۔ روز گار کے دروازے کھلے تو دیگر شہروں سے بھی روزگار کی تلاش میں مائی کولاچی آنا شروع ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وقت نے پلٹا کھایا اور گائوں ایک شہر بن کر جگمگانے لگا ۔”مائی کولاچی” روشنیوں کا شہر کہلانے لگا جس کی سڑکیں اور عمارتیں رات کو روشنی بکھیرنے لگیں، برقی قمقمے جلنے بجھنے لگے۔شہر کی شہرت دور دور تک پھیلنے لگی۔دنیا بھر سے تاجروںنے یہاں آنا شروع کیا۔ شہر کی جگمگا ہٹ دیکھنے دور دراز سے لوگ کشاں کشاں آنے لگے۔ ترقی کے ساتھ ساتھ اس شہر کا نام بھی بدلتا گیا۔ کولاچی، کلاچی، کرانچی اور پھرکراچی ہوگیا۔
    یہاں کے باشندوں نے نئے نئے کام کیے، سوچنے والوںنے نئی نئی باتیں سوچیں، یوں شہر کی ترقی کو چار چاند لگ گئے، مگر وہ اس مائی کی زندگی سے محبت اور بہادری کو فراموش نہ کرسکے۔ یہ جو رات گئے کراچی کی عمارتیں ،سڑکیںاور سائن بورڈ روشن رہتے ہیں۔ یہ دراصل” مائی کولاچی ”کی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔جب تک کراچی روشن رہے گا مائی کی یاد تازہ رہے گی۔ کراچی کی تاریخ کے اوراق پلٹنے والوں کو مائی کولاچی کا ذکر سنہری حروف سے لکھا دکھائی دیتا رہے گا۔

  • لوہ پور کا شہزادہ

    لوہ پور کا شہزادہ

    لوہ پور کا شہزادہ

    حافظ محمد دانش عارفین حیرت

    لوہ پور کے قیام کے بعد یہ شہر کئی صدیاں ہندوؤں کے زیر تحت رہا، پھر کئی سو سال بعدشہاب الدین غوری نے 1186ء میں لاہور کو فتح کیا۔بعد ازاں یہ شہر خاندان غلاماں کے ہاتھوں میں آ گیا۔1290ء میں خلجی خاندان نے اس پر قبضہ کیا۔1320ء میں تغلق خاندان، 1414ء سید خاندان 1451ء لودھی خاندان کے تحت رہا۔ 1526ء میں ظہیر الدین بابر مغل حکمران نے ابراہیم لودھی کو شکست دی اور یوں سلطنت مغلیہ وجود میں آئی۔مغلوں نے اپنے دور میں یہاں عظیم الشان عمارات تعمیر کروائیں، کئی باغات لگوائے۔اکبر بادشاہ نے شاہی قلعہ کو از سر نو تعمیر کیا۔ شاہ جہان نے شالامار باغ تعمیر کروایا ۔1646ء میں شہزادی جہاں آراء نے دریائے راوی کے کنارے چوبرجی باغ تعمیر کروایا،جس کا بیرونی دروازہ آج بھی موجود ہے۔1673ء میں اورنگزیب عالم گیر نے شاہی قلعہ کے سامنے بادشاہی مسجد تعمیر کروائی۔ 1857ء میں آخری مغل بادشاہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو ہندوستان انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا۔ البتہ لاہور کو ہر دور میں خاص اہمیت حاصل رہی۔

    صدیوں قبل شری رام چندر نامی ہندئووں کے ایک مشہور بزرگ گزرے ہیں۔ ہندئووں کے نزدیک شری رام چندر کا بہت بڑا مقام ہے۔ وہ بادشاہ دشرتھ کے بیٹے تھے۔ شری رام خود تو بادشاہ نہ تھے، لیکن ان کی حیثیت بادشاہ سے کم بھی نہ تھی۔ ان کا چھوٹا بھائی بھرت بادشاہ اپنے بھائی رام چندر کی بہت عزت کرتا تھا۔ بھرت ریاست اُودھ کا حکمران تھا۔ اس کی سلطنت خاصی وسیع تھی۔ اردگرد کے مہاراجے ان سے جلتے اور اس کے علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے حملے کیا کرتے۔ جنگجو دریائے راوی کے کنارے سے آتے تھے۔ اس زمانے میں راوی بہت بڑا دریا تھا۔
    بھرت اِن حملوں کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔ اُس نے اپنے بڑے بھائی شری رام چندر سے اس کا ذکر کیا۔ شری رام چندر بھی ان حملوں سے بہت نالاں تھے۔ ان کے دو بیٹے تھے۔ ایک کانام لوہ، دوسرے کا نام قوہ تھا۔ دونوں شہزادے نہایت ہونہار تھے۔ ان حملوں کا جواب دینے کے لیے شری رام چندر کی نظر اپنے بیٹوں کی طرف گئی۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: ”تم دونوں جانتے ہو کہ ہماری ریاست پر اردگرد کے علاقوں سے حملے ہوتے رہتے ہیں۔ ان حملوں سے ہماری رعایا کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ تم دونوں بہادر ہو، رعایا کی حفاظت کرنا تمہارا بھی فرض ہے۔ کیا تم دشمنوں کے حملے سے بچاؤ کے لیے کوئی تدبیر دے سکتے ہو؟”
    ”اباجان!” آپ بھرت چاچا سے کہہ کر اس علاقے میں سپاہی متعین کروا دیں۔ ہمارے سپاہی وہاں ہوں گے تو دشمنوں کو حملے کا فوری اور بھرپور جواب دیں گے۔”
    شہزادوں نے ادب سے کہا۔
    ”سپاہی پہلے ہی سے وہاں موجود ہیں مگر اس کے باوجود حملہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمارا خیال ہے کہ تم دونوں مل کر وہاں جاؤ اور دشمنوں کے حملے کا منہ توڑ جواب دو۔ اگر راجہ یا شاہی خاندان کا کوئی فرد فوج کے ہمراہ ہو تو سپاہی ہمت نہیں ہارتے بلکہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں۔ تم دونوں کی اس حوالے سے کیا رائے ہے؟” شری رام چند نے بیٹوں سے پوچھا۔

    ”ہم اس کے لیے تیار ہیں۔” دونوں شہزادوں نے شاہی آداب کے مطابق جھک کر جواب دیا۔
    ”اچھی بات ہے۔ جاؤ اور جلدی اس سفر کی تیاری کرو۔” شری رام نے کہا۔
    ”جی ابا حضور!” دونوں شہزادوں نے سعادت مندی سے جواب دیا۔
    شری رام چندر نے چھوٹے بھائی بھرت کو تمام بات کہہ سنائی۔ بادشاہ بھرت یہ سن کر خوش اور مطمئن ہوگیا۔ دونوں شہزادوں یعنی قوہ اور لوہ کے درمیان طے پایا کہ لوہ دریائے راوی کے کنارے فوج کے پاس ہوگا جب کہ قوہ کچھ فاصلے پر فوج ایک دستہ لیے رکے گا۔ جیسے ہی کوئی حملہ ہو گا ،تو لوہ فوری طور پر حملے کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ پیچھے قوہ تک بھی پیغام پہنچا دے گا کہ شہر پر دشمنوں نے حملہ کردیا ہے۔ قوہ جلدی سے کمک لوہ تک روانہ کرے گا۔
    تازہ دم کمک پہنچتے دیکھ کر دشمن گھبرا کر بھاگ جائے گا۔ اس طرح اُن کی دھاک بیٹھ جائے گی۔ چناں چہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ کچھ عرصہ تو دونوں بھائی ایسے ہی شہر کی حفاظت کرتے رہے لیکن کب تک اس طرح کھلے آسمان تلے رہتے۔ دونوں بھائیوں نے آپس میں مشورہ کیااور اپنے والد کو پیغام بھیجا: ”ہم یہاں پر شہر آباد کرنا چاہتے ہیں، آپ کی اجازت چاہیے۔”
    ان کے والد نے خوشی سے اجازت دے دی بلکہ چاچا بھرت بادشاہ نے شہر بسانے کے لیے تما م خرچ قومی خزانے سے ادا کیا۔ چناں چہ قوہ نے ایک چھوٹا سا شہر بسایا جسے آج قصور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اِدھر لوہ نے دریائے راوی کے کنارے مزدور بلائے اور شہر کی تعمیر شروع کروا دی۔ شہر کے گرد ایک بڑی سی دیوار کھڑی کی گئی۔ اس دیوار میں ایک خفیہ راستہ اور بارہ دروازے بنائے گئے۔
    یہ دروازے شہر میں داخل ہونے اور دشمنوں سے بچاؤ کا کام دیتے تھے۔ جب بھی کوئی حملہ ہوتا شہر کے دروازے بند کر لیے جاتے اور تیر انداز شہر کی دیوار پر سے دشمنوں پر تیر برساتے۔ یہ دروازے مختلف شہروں کی طرف کھلتے تھے۔ اس نسبت سے ہی ان دروازوں کے نام رکھے گئے۔ ہندو مہاراجاؤں کے ہاں ایک خاص مقام شاہی خاندان کی رہائش کے لیے بنایا جاتا تھا۔
    اس علاقے میں عام لوگوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے شہر کے اندر لوہ نے شاہی خاندان کے لیے ایک قلعہ تعمیر کروایا اور اپنی رعایا کی حفاظت کرنے لگا۔ یوں شہر کی بنیاد رکھنے سے شری رام چندر اور بھرت کو شہر پر ہونے والے حملوں سے نجات مل گئی اور رعایا عیش و آرام سے زندگی بسر کرنے لگی۔
    یہ شہر چوں کہ لوہ نے بسایا تھا، اس لیے اُسے ” لوہ پور” کہا جانے لگا۔ یہاں سب سے پہلے حکومت بھی لوہ نے کی۔ اسی شہر کی نسبت سے اُسے لوہ پور کا شہزادہ کہا جانے لگا۔ بعد میں یہاں حکومت کرنے والے راجپوت اس شہر کو ”لوہ کوٹ” کے نام سے پکارنے لگے۔ دنیا کے مشہور سیاح ”الادریسی ” نے اسے ”لہاور” کا نام دیا۔ مختلف وقتوں میں مختلف ناموں سے پکارے جانے کے بعد آخر یہ لاہور بن گیا۔
    ٭…٭…٭

  • گوادر کی لوک کہانی (سنی سنائی)

    گوادر کی لوک کہانی (سنی سنائی)

    گوادر کی لوک کہانی (سنی سنائی)
    انوکھا جزیرہ
    مصباح ناز

    جہلم سے تعلق رکھنے والی مصباح ناز نے بی کام کررکھا ہے۔ لکھنے پڑھنے کا جنون بچپن ہی سے تھا۔ پہلی کہانی 2018ء میں الف کتاب پورٹل پر شائع ہوئی۔ اس سے مزید لکھنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ بچوں کے لیے ”انوکھا جزیرہ” یقینا ان کے روشن ادبی مستقبل کی نوید ہے۔
    آج کل پاکستان کے ساحلی شہر گوادر کے پوری دنیا میں چرچے ہیں۔ برسوں سے اس شہر میں رہنے والے ماہی گیر جانتے ہیں کہ یہاں سمندر کے بیچوں بیچ کئی چھوٹے چھوٹے جزیرے موجود ہیں۔ اسی علاقے کی ایک لوک داستان جسے آج بھی مقامی لوگ بڑے دل چسپ انداز میں سناتے ہیںکہ برسوں پہلے یہاں ساحل کے پاس جوہن دار نام کا ایک مچھیرا رہتا تھا۔ وہ اپنی گزر بسر کے لیے جال بُنتا، مچھلیاں پکڑتا، پھر انہیں بیچ کر پیسے کماتا تھا۔
    ایک روز جوہن دار نے دوسرے مچھیروںکے ہمراہ گہرے سمندر میں جال لگانے کا فیصلہ کیا، چناں چہ وہ سبھی ایک کشتی میں سوار ہوئے پھر کچھ دیر بعد کشتی سمندر کی لہروں پر سفر کرتی ہوئی گہرے پانی کی طرف جانے لگی ۔چلتے چلتے وہ بہت دور پہنچ گئے۔ہر طرف پانی ہی پانی تھا ۔کشتی میں اس وقت جوہن دار سمیت پانچ لوگ سوار تھے ۔سیر کرتے اور مچھلیاں پکڑتے شام کا وقت ہوا تو اچانک ایک مچھیرے نے بتایا کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہونے والا ہے۔
    ”اوہ ! اب کیا ہوگا؟میرے خیا ل میں ہمیں واپس چلنا چاہیے ۔”دوسرے مچھیرے نے کہا۔ اچانک جوہن دار چِلّااُٹھا:’دوستو! سامنے دیکھو ،وہ کیا ہے ؟”
    سب نے گہرے پانی کی طرف نگاہ دوڑائی تو انہیں ایک نشان سا نظر آیا ۔ شایدسامنے کو ئی چھوٹا سا جزیرہ تھا۔
    ”میرے خیال میں ہمیں اسی طرف چلنا چاہیے۔” یہ کہہ کر جوہن دار نے کشتی کا رخ جزیرے کی جانب کردیا ۔وہاں پہنچتے ہی جوہن دار نے دوستوں کی مدد سے کشتی کا لنگر ڈال دیا۔ اس جزیرے پر پہلے کبھی اِن کا گزر نہیں ہوا تھا۔اسی لیے وہ ذرا محتاط اندا ز میںقدم اٹھاتے آگے بڑھنے لگے۔ ابھی انہوں نے جزیرے پر کھانے پینے کے سامان کی تلاش شروع ہی کی تھی کہ اچانک وہاں عجیب شکلوں والے کچھ لوگ آئے اورانہیں زبردستی پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔
    جوہن اورباقی مچھیرے اس ناگہانی آفت سے گھبرا گئے ۔ان کی آنکھیں بند کرکے انہیں ایک ویران جگہ پر لے جایا گیا۔کچھ دیر بعدوہ سبھی ایک غار میں قید تھے۔ جب ان کی آنکھوں سے پٹی ہٹائی گئی تو خود کو اس خوف ناک جگہ پردیکھ کر وہ پریشان ہوگئے۔ سامنے اونچی جگہ پر ڈرائونی شکل والاایک آدمی بیٹھا تھا۔ اس کا نام نپکو تھا۔ نپکو اپنا تازہ شکار دیکھ کرہولے سے مسکرا رہا تھا۔
    ”تم کون لوگ ہو ؟اور ہم سے کیا چاہتے ہو؟” جوہن دار نے گھبرا کر پوچھا۔

    ”یہ جزیرہ ہمارا ہے اور ہماری اجازت کے بغیر یہاں کوئی پرندہ بھی پَر نہیں مار سکتا، تم لوگوں نے ہم سے پوچھے بغیر یہاں کشتی کیوں روکی؟ اسی لیے میرے آدمی تمہیں یہاں لے آئے ہیں۔” نپکو نے رعب دار آواز میں کہا۔
    ”مگر ہمیں معلوم نہ تھا،آپ اگر ہمیں معاف کردوتو ہم فوراََ یہاں سے چلے جاتے ہیں۔” جوہن نے درخواست کی لیکن نپکو نہ مانا ،وہ بہت بے رحم اور ظالم جادوگر تھا۔ اس نے فوراً کوئی منتر پڑھا پھر جوہن کے سوا باقی تمام مچھیروں کو مٹی کا پتلا بنا دیا۔ یہ دیکھ کر جوہن مزیدخوف زدہ ہوگیا۔ نپکواب جوہن سے مخاطب ہوا:
    ”سنو!تم مجھے بہادر لگتے ہو، میرے پاس تمہارے لیے ایک کام ہے، اگر تم نے میرا وہ کام کردیا تو میں تمہارے دوستوں کو پھر سے اصل صورت میں لے آئوں گا،صرف یہی نہیں،بلکہ تم لوگو ںکو آزاد بھی کردوں گا۔” نپکو نے کہا۔
    ”اوہ!کیسا کام؟” جوہن دار نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
    ”ہمارے دیوتا کو تمہارے دیس کے ایک درویش عامل نے مٹی کا پتلا بنا دیا ہے، دیوتا ہمیں ایک مفید قسم کا جادو سکھا رہے تھے مگر عامل کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ اس نے اپنے عمل سے ہمارے دیوتا کو مٹی کا بنا دیا۔کئی سال بعد وہ عامل مرگیا اور مرتے وقت اس نے یہ سارا عمل اپنی بیٹی کو سکھا دیا تھا ۔ اب اس کی بیٹی یہ سب کچھ جانتی ہے۔ اگر تم اُسے اغوا کرکے یہاں لے آئو تو وہ ہمارے دیوتا کو ٹھیک کرسکتی ہے۔” نپکو نے تفصیل بتائی۔
    جوہن کے پاس اپنے دوست مچھیروں کی زندگی بچانے کا کوئی اور راستہ نہ تھا، اسی لیے وہ مان گیا۔ مشن پر جانے سے پہلے نپکو نے جوہن کو ایک جادوئی ہار دیا۔
    ”لو،یہ رکھ لو، اگرتم یہ ہار کسی طرح عامل کی بیٹی کے گلے میں پہنا دو، تو وہ اسی وقت تمہاری قید میںآجائے گی۔” نپکو نے اسے ہار دیتے ہوئے کہا۔
    جوہن ہار لیے سفر پر روانہ ہوگیا۔ چلتے چلتے وہ اس بستی میں پہنچ گیا جہاں عامل کی بیٹی رہتی تھی۔ اس نے لوگوں سے اُس عامل کے گھر کا پتا پوچھا اور کچھ ہی دیر بعد اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ دروازے پر دستک دی تو ایک لڑکی نے دروازہ کھولا۔ سامنے ایک مسافر کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ جوہن سے کچھ پوچھتی ،وہ خود ہی بول پڑا:
    ”اے نیک دل لڑکی !میں مسافر ہوں اورسفر کرکے کافی تھک گیا ہوں۔مجھے پینے کے لیے پانی چاہیے۔” جوہن کی معصوم شکل پر لڑکی کو رحم آیا۔ اس نے جوہن کو دروازے پر ہی رکنے کاکہا اور تھوڑی دیر بعد اس کے لیے پانی لے آئی۔
    ”نام کیا ہے تمہارا ؟” لڑکی نے اس سے پوچھا۔
    ”جوہن… جوہن نام ہے میرا، یہ ساتھ والے شہر سے آیا ہوں۔”
    ”کیا کرنے آئے یہاں؟” لڑکی نے سپاٹ لہجے میںپوچھا۔
    ”تت… تاجر ہوں۔” جوہن نے فوراََ بات بنائی۔