Tag: کہانیاں

  • اَب سمجھا امی! ۔ سو لفظی کہانی

    اَب سمجھا امی! ۔ سو لفظی کہانی

    سو لفظی کہانی

    اَب سمجھا امی!

    ابن آس محمد

    نو بھائی تھے ہم… ایک بہن… ابو مزدور… جتنا کماتے کم پڑتا۔

    امی پڑھی لکھی تھیں نہ ابو… مگر ہمیں پڑھاتے تھے۔

    اچھے کپڑے نہ ابو پہنتے نہ امی… ہمیں پہناتے تھے۔

    نہ عید مناتے… نہ بقر عید… ہماری عید بنا دیتے۔

    جیسے تیسے کرکے… رات کو ایک ہنڈیا پکتی… ہم مزے سے کھاتے…

    اور امی… بچی ہوئی روٹی دیگچی میں لگا لگا کر کھاتیں۔ کبھی اُن کی یہ حرکت سمجھ میں نہیں آئی۔

    پھر ایک رات… بے روزگاری کے دِنوں میں۔

    اپنی پڑھی لکھی بیوی کو دیگچی میں کھاتے دیکھا۔

    سب سمجھ گیا… اور رو پڑا۔ شکریہ امی…!!!

    ٭…٭…٭

  • آؤ ناشتہ کرلو ۔ بچوں کی کہانیاں

    آؤ ناشتہ کرلو ۔ بچوں کی کہانیاں

    آؤ ناشتہ کرلو

    سارہ قیوم

    پیارے بچو! یہ کہانی ہے چڑیا کے ایک چھوٹے سے بچے کی۔

    امی چڑیا اور ابو چڑے کا ایک منّا سا بیٹا تھا۔ اس کا نام تھا چُنو چِیا۔ وہ بڑا اچھا بچہ تھا۔سکول جاتا ،اپنا ہوم ورک کرتا اور شام کو وقت پر سوجاتا۔ بس اس میں ایک خرابی تھی۔ وہ ناشتہ نہیں کرتا تھا۔

    ”چُنو چِیا” امی آواز دیتیں”آؤ ناشتہ کرلو” چُنو چِیا امی کی پکار سنتے ہی اپنا بستہ اٹھاتا اور یہ جا وہ جا۔

    ابو چڑا روز اس کے لئے نت نئی مزے مزے کی چیزیں لاتے۔ کبھی گندم کے دانے تو کبھی چاول کے دانے۔ کبھی موٹی مکھیاں تو کبھی رس بھرے کیچوے۔ لیکن چُنو چِیا کچھ بھی نہ کھاتا۔ نہ دودھ پیتا نہ ہی روٹی کھاتا۔ بھوکا پیاسا سکول چلا جاتا۔ ایک دن چُنو چِیا صبح سویرے اٹھا۔ 

    ”چُنو چِیا بیٹے!” امی نے پکارا: ”آؤ ناشتہ کرلو۔”

    چُنو چِیا نے جلدی سے اپنابستہ اٹھایا اور سکول کو روانہ ہوگیا۔ بستہ بھاری تھا اور چُنو چِیا منا سا۔ راستہ لمبا تھا اور پیٹ خالی۔اڑتے اڑتے چُنو چِیا کو چکر آنے لگے۔ اس کے پر تھک گئے اور اڑنا مشکل ہوگیا۔ تھوڑی دیر آرام کرنے کے لئے وہ ایک جھاڑی پر بیٹھ گیا۔ اس جھاڑی کے نیچے ایک موٹا سا باگڑ بِلّا لیٹا تھا۔ اس نے جو ایک چڑیا کا بچہ دیکھا تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔

    ”آہا۔” اس نے دل میں سوچا: ”چڑیا کے بچے کا نرم نرم گوشت کھانے کا کتنا مزا آئے گا۔”

    باگڑ بِلّا جھاڑی سے نکل آیا۔چُنو چِیا کی نظر اس پر پڑی تو اس نے گھبرا کر اڑ جانا چاہا لیکن اتنی زور کا چکر آیا کہ وہ جھاڑی سے نیچے گر پڑا۔ اتفاق سے اس وقت اوپر سے مینا خالہ اڑتے ہوئے گزررہی تھیں۔ ان کی نظر جو نیچے پڑی تو کیا دیکھتی ہیں کہ باگڑ بِلّا چُنو چِیا پر حملہ کرنے ہی والا ہے۔ 

    انہوں نے وہیں سے ڈبکی لگائی۔ عین جس وقت باگڑ بِلّے نے چُنو چِیا پر حملہ کیا، مینا خالہ چُنو چِیا کو اپنے پنجوں میں دبوچ کر اُڑ گئیں۔ باگڑ بِلّے کے ہاتھ میں صرف چُنو چِیا کا بستہ آیا۔مینا خالہ چُنو چِیا کو سیدھی ڈاکٹر طوطے کے پاس لے کر گئیں۔ ڈاکٹر طوطے نے چُنو چِیا کا معائنہ کیا اور کہا: ”یہ تو بہت کمزور ہے، ناشتہ نہیں کرتا کیا؟” اگلے دن امی چڑیا اور ابو چڑا سوکر اٹھے تو چُنو چِیا بستر میں نہیں تھا۔ ”ارے!” انہوں نے گھبرا کر کہا: ”چُنو چِیا کہاں گیا؟”اتنے میں باورچی خانے سے چُنو چِیا کی آواز آئی: ”امی ابو چُنو” چِیا پکاررہا تھا ”آئو ناشتہ کر لو۔”

     

  • چار موسم – حصّہ دوم – الف نگر

    چار موسم – حصّہ دوم – الف نگر

    چار موسم

    حصّہ دوم

    سارہ قیوم

    نیک دل بُڑھیا کے گھر کے ساتھ ایک بہت بد مزاج بُڑھیا رہتی تھی۔ سب لوگ اُس سے بہت تنگ تھے۔ وہ ہر وقت اپنے پوتوں پوتیوں کو ڈانٹتی رہتی اور گاؤں والوں سے لڑتی رہتی۔ اُس بڑھیا نے اپنی ہمسائی کے گھر دولت کی ریل پیل دیکھی تو حسد سے جل بُھن گئی۔ فوراً نیک دل بُڑھیا کے گھر جا پہنچی اور لگی سوالات کرنے: ”یہ دولت کہاں سے آئی؟ کس نے دی؟ کیوں دی؟”

    نیک دل بُڑھیا خوش دِلی سے سارے سوالوں کے جواب دیے گئی۔ اُس نے بدمزاج بُڑھیا کو جنگل میں ملنے والے چار موسموں کے بارے میں بتایا۔

    ”بھئی اُنہوں نے مجھ سے کچھ سوال پوچھے۔” نیک دل بڑھیا نے کہا: ”بس میں نے اُن سوالوں کے سچ سچ جواب دیے اور اُنہوں نے مجھے یہ دولت تحفے میں دے دی۔” بد مزاج بُڑھیا اسی وقت اٹھی اور جنگل کو چل پڑی۔ دل میں کہتی جاتی تھی: ”میں بھی چار موسموں سے ملوں گی اور اُن کے سوالوں کے جواب دے کر خوب دولت حاصل کروں گی۔” وہ جنگل میں جاکر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ سفید بالوں والا بُڈّھا آگیا۔ اُس نے بُڑھیا سے پوچھا: ”سردی کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    بد مزاج بُڑھیا تنک کر بولی: ”بھائی! میں تو سچی بات کہوں گی، بہت ہی برا موسم ہے۔ سردی میں ٹھنڈ سے ہڈیاں تک جم جاتی ہیں۔ نزلہ، زکام، کھانسی، بخار۔ اُف! سو بیماریاں لاتا ہے جاڑا۔ سچ پوچھو تو سردی کا موسم تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔”

    بُڈّھے نے اپنی سرد آنکھوں سے بُڑھیا کو گُھورا اور چلا گیا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ پھولوں والی لڑکی آئی۔ اُس نے پوچھا:

    ”بڑی امّاں، بہار کا موسم کیسا لگتا ہے آپ کو؟” بڑھیانے بے زاری سے کہا: ”بھئی بڑا ہی عجیب موسم ہے۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتی ہر کوئی بہار کی تعریف کیوں کرتا ہے؟ پُھولوں کی خوش بُو سے چھینکیں آنے لگتی ہیں۔ بھنورے اور شہد کی مکھیاں بِھنبھناتی پِھرتی ہیں۔ بہت ہی فضول موسم ہے۔” لڑکی اُداس ہوکر چلی گئی۔ فوراً ہی وہاں چمکتے دمکتے بھڑکیلے کپڑے پہنے عورت آن پہنچی اور بڑھیا سے بولی:

    ”بڑی بی! گرمی کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    بد مزاج بُڑھیا غصہ سے بولی: ”اے لڑکی! کیا چھمّک چھلّو بنی گُھوم رہی ہو؟ کتنے فضول کپڑے پہن رکھے ہیں تم نے۔ بھئی گرمی کے موسم کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ کتنا برا موسم ہے؟ جس چیز کو ہاتھ لگاؤ گرم! سر سے لے کر پاؤں تک پسینہ بہتا ہے۔ ہر وقت بس پنکھا ہی جھلتے رہو۔ میں تو کہتی ہوں گرمی کا موسم تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔” بھڑکیلے کپڑوں والی عورت نے غصے سے بُڑھیا کو گُھورا اور چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہاں غمگین چہرے والا گنجا آدمی آیا۔ اُس نے بُڑھیا سے پوچھا: ”امّاں خزاں کا موسم کیسا ہوتا ہے؟” بڑھیا بولی: ”اے میاں گنجے! خزاں سے برا تو موسم ہی کوئی نہیں۔ سارے درخت پتے جھاڑ کر ٹِنڈ مِنڈ ہوجاتے ہیں۔ جہاں جاؤ وہاں سُوکھے پتے پیروں میں آتے ہیں۔ اِدھر صفائی کرو، اُدھر پھر سے گند پڑجاتا ہے۔ کیا فائدہ خزاں کا؟ یہ موسم تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔”

    اِسی وقت چاروں موسم نکل کر سامنے آکھڑے ہوئے بُڑھیا کو ایک گٹھڑی دیتے ہوئے کہا: ”بڑی بی! آپ نے ہمارے سوالوں کے جواب دیئے۔ یہ رہا آپ کا تحفہ…!” بُڑھیا نے خوشی خوشی گٹھڑی اُٹھائی اور اپنے گھر آگئی۔ گھر آکر جب اُس نے گٹھڑی کھولی تو اس سے بے شمار کیڑے مکوڑے، سانپ، بچّھو اور چھپکلیاں نکل کر اُس کے گھر میں پھیل گئے۔ بُڑھیا چیخنے چلاّنے لگی اور موسموں کو کوسنے لگی لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ بُڑھیا نے اپنی بدمزاجی کا پھل پا لیا تھا۔

    ٭…٭…٭

     

  • چار موسم ۔ حِصّہ  اول ۔ الف نگر

    چار موسم ۔ حِصّہ  اول ۔ الف نگر

    چار موسم

    حِصّہ  اول

    سارہ قیوم

    کسی گاؤں میں ایک نیک دل، سب کی مدد کرنے والی اور ہمیشہ خوش رہنے اور رکھنے والی بُڑھیا رہتی تھی۔ اُس کا ایک غریب بیٹا تھا جس کے بچے ہر وقت دادی کے ساتھ چمٹے رہتے اور نت نئی فرمائشیں کرتے رہتے۔

    ایک بچے نے فرمائش کی: ”دادی اماں! مجھے میٹھا پراٹھا بنا دو۔”

    دوسرا بولا: ”مجھے کھیر بنا دو۔”

    تیسرا ضد کرنے لگا: ”میں تو مرغی کھاؤں گا۔”

    اور اُن کی دیکھا دیکھی باقی بچے بھی ضد کرنے لگے۔ نیک دل بُڑھیا بہت دکھی ہوئی:

    ”ارے میرے بچو!” اُس نے غمگین ہوکر کہا: ”میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، تمہاری فرمائشیں کہاں سے پوری کروں؟”

    اُداس ہو کر بُڑھیا جنگل کی طرف چلی گئی اور تھک کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی۔ اچانک وہاں ٹھنڈ ہوئی اور درخت کے پیچھے سے سفید بالوں، لمبی داڑھی، سفید لباس والا بوڑھا آدمی نکل آیا۔ نیک دل بُڑھیا نے اُسے سلام کیا۔ بوڑھے آدمی نے اپنی سرد آنکھوں سے اُسے دیکھا اور کہا: ”میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔”

    بُڑھیا بولی: ”ضرور پوچھیے۔”

    بوڑھے آدمی نے پوچھا: ”جاڑا کیسا موسم ہے؟”

    ”ارے واہ کیا بات ہے جاڑے کی۔” بُڑھیا نے خوش ہوکر کہا: ”بہت ہی اچھا موسم ہے۔ سردیوں میں گرم گرم چائے پینے کا کتنا مزا آتا ہے اور رضائی میں بیٹھ کر مونگ پھلی، اخروٹ اور بادام کھانا اچھا لگتا ہے۔ جب میں بچوں کو آگ کے گرد اکٹھا کرکے کہانی سناتی ہوں تو مجھے اتنی خوشی ہوتی ہے کہ مت پوچھو۔” بوڑھا یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ اُس نے بڑھیا کو سلام کیا اور چلا گیا۔

    تھوڑی دیر بعد خوش بُو سے جنگل مہک اٹھا اور ایک بہت پیاری لڑکی ہرے رنگ کا لباس اور پھولوں کے زیورات پہنے پھولوں کی ٹوکری لیے بُڑھیا کے سامنے آئی۔

    ”سلام امّاں!” اُس نے نیک دل بُڑھیا سے کہا: ”ایک بات تو بتائیے، یہ بہار کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    بُڑھیا خوشی سے کِھل اٹھی اور چہک کر بولی: ”بہار کا موسم تو میری جان ہے۔ نہ گرمی نہ سردی، درختوں پر نئے پتے آتے ہیں۔ ہر طرف پُھول ہی پُھول کِھل اُٹھتے ہیں۔ بڑی پیاری ہوا چلنے لگتی ہے۔ بہار تو بہت ہی خوب صورت موسم ہے۔”

    لڑکی شکریہ ادا کرکے گئی تو وہاں ایک عورت تیز پیلے رنگ کے لباس میں سامنے آگئی اور پوچھا۔ ”اے اماں! یہ تو بتاؤ گرمی کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    گرمی کی وجہ سے بُڑھیا نے ہاتھ سے پنکھا جھلتے ہوئے کہا: ”بہت اچھا موسم ہوتا ہے بیٹی! ہم ٹھنڈا ٹھنڈا شربت پیتے ہیں۔ آئس کریم کھاتے ہیں۔ گرمی اپنے ساتھ کتنے مزے دار پھل لاتی ہے۔ آم، تربوز، آڑو اور آلو بخارہ۔ ارے واہ واہ! کیا بات ہے گرمی کی۔”

    وہ سلام کرکے چلی گئی تو ایک گنجا، غمگین شکل والا آدمی بھورے رنگ کے کپڑے پہنے درختوں کے پتے گراتا ہوا وہاں آن پہنچا۔ وہ قریب آکر بولا: ”بڑی بی! آپ کو خزاں کا موسم کیسا لگتا ہے؟”

    بڑھیا نے سمجھ داری سے کہا: ”خزاں بڑا فائدہ مند موسم ہے۔ سب پرانے پتے جھڑ جاتے ہیں تاکہ نئے پتے نکل سکیں۔ لوگوں کو گرمیوں کے کپڑے رکھنے اور کمبل لحاف نکالنے کا وقت مل جاتا ہے۔ بھئی بہت اچھا ہے موسمِ خزاں۔”

    اِس کے بعد وہ چاروں نکل کر سامنے آگئے اور بڑھیا سے کہا: ”امّاں! ہم چار موسم ہیں۔ یہ سفید بالوں والا جاڑا ہے۔ پھولوں والی لڑکی بہار، یہ عورت گرمی اور میں خزاں ہوں۔ آج ہم میں جھگڑا ہوگیا کہ کون سا موسم سب سے اچھا ہے۔ پھر ہمیں آپ آتی دکھائی دیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ آپ سے پوچھا جائے۔ آپ نے ہمیں ہماری اتنی خوبیاں بتائیں۔ ہمیں پتا چل گیا کہ سارے ہی موسم اچھے ہوتے ہیں۔ آپ کی باتوں سے ہم بہت خوش ہوئے۔ اب آپ ہماری طرف سے کچھ تحفے قبول فرمائیے۔”

    موسموں نے نیک دل بُڑھیا کو بڑا سا صندوق دیا۔ بُڑھیا شکریہ ادا کرکے خوشی خوشی واپس چلی آئی۔ صندوق میں اتنے ہیرے، جواہرات اور موتی تھے کہ اُن کو بیچ کر اب وہ بچوں کی سب

    فرمائشیں پوری کرسکتی تھی۔

     

  • بلوچستان کی لوک کہانی ۔ سُنہری برتن ۔ لوک کہانی

    بلوچستان کی لوک کہانی

    سُنہری برتن

    ساجدہ غلام محمد

    جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ میں پیدا ہونے والی ساجدہ غلام محمد آج کل مانچسٹر (انگلینڈ) میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہیں۔ اس صدی کے اوائل سے انہوں نے لکھنے کا آغاز بچوں کے رسائل سے کیا۔ ماہنامہ پھول میں ایک عرصہ تک اپنی بہن ڈاکٹر زاہدہ پروین کے کے ساتھ قلم کے جوہر دکھاتی رہیں۔ بڑوں کے لیے بھی خوب لکھا۔ فکشن ان کا پسندیدہ میدان ہے۔ ”زندگی اک تشنگی” ان کا مقبول ناول جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، تقریباً سو کے قریب کہانیاں بچوں کے مختلف رسائل میں چھپ چکی ہیں۔ الف نگر اور الف کتاب کے لیے مستقل لکھنے والوں میں ان کا نام شامل ہے۔

    صدیوں پرانی بات ہے، بلوچستان میں دریائے بولان کے کنارے ایک بہت بڑا شہر آباد تھا۔ اُس شہر کا اصل نام تو نہ جانے کیا ہوگا، لیکن آج کے زمانے میں اسے ‘مہر گڑھ’ کہا جاتا ہے۔

    مہر گڑھ میں ایک نو سال کا بچہ فنامہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے والدبہت مہارت سے لوہے کے اوزار بناتے اور لوگ اُن سے یہ اوزار خریدتے تھے۔ انہوں نے فنامہ کو بھی مٹی کا ایک خوب صورت سا بیل بنا کر دیا جس سے وہ سارا دن کھیلتا رہتا۔

    ایک دن اچانک فنامہ کے والد بیمار ہوئے اور کچھ ہی روز بعد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ فنامہ تو ابھی چھوٹا تھا اور اس کی والدہ کو بھی علم نہ تھا کہ اوزار کیسے بنائے جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ گھر میں کھانے پینے کا سامان ختم ہونے لگا۔ نوبت یہاں تک آپہنچی کہ اُن کے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ بچا۔

    ”ہمیں بھوک لگی ہے لیکن کھانے کو کچھ نہیں، میں ایسا کرتا ہوں کہ اپنا یہ کھلونا بیل بیچ دیتا ہوں۔” فنامہ نے اداسی سے سوچا اور چپکے سے کھلونا بیل اپنے کپڑوں میں چھپا کر گھر سے نکل گیا۔ اس کی ماں کو اس بات کا علم نہ ہوا۔

    ”میرا بیل خریدلو، بہت خوب صورت ہے۔” فنامہ نے بازار میں کھڑے ہو کر آواز لگائی لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔

    ”یہ میرے والد نے خاص طور پر میرے لیے بنایا تھا، پکی مٹی کا ہے۔ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، یہ بیل خرید لو!” وہ آواز لگاتا رہا۔

    ”یہ ہمارے کس کام کا؟” لوگ اس کے پاس رک کر کچھ دیر کھلونے کو دیکھتے پھر آگے بڑھ جاتے۔ صبح سے شام ہوگئی لیکن کسی نے بھی کھلونا بیل نہ خریدا۔ فنامہ نے بہت دکھی دل سے اپنا کھلونا اٹھایا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔

    ”اے لڑکے! بات سنو۔” اچانک کسی نے اُسے بلایا۔ فنامہ نے سر اُٹھا کر دیکھا تو ایک بڑھیا درخت کے نیچے کھڑی تھی۔

    ”جی امّاں جی!” فنامہ نے بڑھیا کے قریب جاکرنرمی سے پوچھا۔

    ”میں نے اپنی نواسی کے لیے موٹی سیپیوںوالا بہت پیارا سا ہار بنایا تھا۔ اب اُسے دینے جا رہی تھی کہ راستے میں وہ ٹوٹ گیا۔ میری نظر کمزور ہے، مجھے تو تھوڑی سی سیپیاں نظر آئیں جو میں نے اُٹھا لیں۔ اگر تم میری مدد کر سکو تو بہت مہربانی ہوگی۔” فنامہ کا دل چاہا کہ بڑھیا کو انکار کر دے۔

    ”میں بھی تو صبح سے بازار میں کھڑا رہا، کسی نے میری مدد نہیں کی، میں کیوں اس کی مدد کروں؟” اس کے دل میںخیال آیا، لیکن پھر فوراََ ہی اُسے اپنے والد کا جملہ یاد آگیا: ”ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنا، کبھی کسی کو انکار مت کرنا۔” فنامہ نے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ بڑھیا کو دیکھا۔

    ”ٹھیک ہے، باقی کے سیپ میں آپ کو ڈھونڈ دیتا ہوں۔” فنامہ درخت کے آس پاس زمین پر سیپیاں چننے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس نے سیپیاں چُن کر بڑھیا کی طرف بڑھائیں۔

    ”یہ لیں، میں نے ساری سیپیاں اُٹھا لی ہیں۔” فنامہ نے بڑھیا سے کہا۔

    ”بیٹا! تمہارا بہت بہت شکریہ! تم بہت اچھے بچے ہو۔ تم نے میری مدد کی، اس کے بدلے میں تمہیں ایک تحفہ دیتی ہوں۔” بڑھیا نے سیپیاںتھام کر کالے رنگ کی تھیلی سے سنہری رنگ کا ایک گول سا برتن نکال کرفنامہ کی جانب بڑھایا جس پر نقش و نگار کے ساتھ اُونٹ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔

    ”امّاں جی! میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں، تو اِس برتن کا میں کیا کروں گا؟” فنامہ نے حیرت سے کہا۔

    ”اسی لیے تو میں یہ برتن دے رہی ہوں، یہ ایک جادُوئی برتن ہے۔ جب بھی تمہیں بھوک لگے، تم برتن کو اپنے دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ کرچار بار گہری سانس لینا، اس برتن میں تمہارا من پسند کھانا آ جائے گا۔” فنامہ کو بڑھیا کی بات سن کر بڑی حیرت ہوئی۔

    ”کیا واقعی؟ ایسا ہو سکتا ہے؟” اُس نے پوچھا۔

    ”بالکل ایسا ہی ہو گا، بس شرط یہ ہے کہ اس دوران جو بھی ضرورت مند تمہارے گھر آئے، تم اُسے بھی کھانا۔ اب یہ برتن پکڑو، مجھے دیر ہورہی ہے۔” اتنا کہہ کر بڑھیا لاٹھی ٹیکتی ہوئی ایک جانب چل دی۔

    فنامہ ایک ہاتھ میں برتن اور دوسرے ہاتھ میں اپنا کھلونا بیل تھامے گھر پہنچا تو ماں کو اپنا منتظر پایا۔ وہ بہت پریشان تھی، فنامہ نے آگے بڑھ کر فوراً ساری بات ماں کو بتادی۔

    ”چلو! تجربہ کر کے دیکھتے ہیں، اگر برتن میںکھانا نہ آیا تو اِسے پھینک دیں گے یا بیچ دیں گے۔” ماں نے کہا تو فنامہ نے برتن کو فرش پر رکھ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اُس کے منہ کو ڈھانپا اور چار بار گہری سانس لی۔ یکایک کمرے میں مزے دار سی خوش بو پھیل گئی۔ فنامہ نے جلدی سے ہاتھ ہٹائے تو برتن کے اندر اس کا من پسند کھانا آچکا تھا۔ ماں بیٹے نے حیرت اور خوشی سے کھانا کھایا اور تھوڑا سا کھانا چڑیا کو ڈال دیا جس نے ان کے گھر درخت پر گھونسلا بنا رکھا تھا۔

    اب اُن کے دن آرام سے گزرنے لگے۔ کھانے کی کوئی فکر نہیں تھی۔ جب بھی بھوک لگتی، فنامہ برتن کو ہاتھوں سے ڈھانپ کر چار بار گہری سانس لیتا تو فوراََ ہی برتن میں کھانا آجاتا۔ یہ اتفاق تھا یا کچھ اور جب بھی ایسا کچھ ہوتا تو اُن کے گھر کوئی نہ کوئی پرندہ یا جانور ضرور آ جاتا اور فنامہ اسے بھی کھانا ڈال دیتا۔ وہ بڑھیا کی بات کو بھولا نہیں تھا۔ لوگ حیران ہوتے کہ فنامہ یا اُس کی ماں کچھ کام تو کرتے نہیں، لیکن ان کا گزارا کیسے ہو رہا ہے؟

    دن یوں ہی گزرتے گئے۔ اب فنامہ نے بھی اوزار بنانا سیکھ لیے تھے۔ اگرچہ ابھی زیادہ مہارت نہ تھی لیکن وہ محنت سے کام کرتا تھا۔

    ایک دن فنامہ کام سے واپس آیا تو بہت تھکا ہوا تھا۔ بھوک بھی بہت زیادہ تھی۔ اُس نے سنہری برتن نکالا اور ہاتھوں سے ڈھانپ کر چار بار گہری سانس لی۔ برتن میں کھانا تیار تھا۔ فنامہ مسکراتے ہوئے ابھی کھانے ہی لگا تھا کہ ایک بلی آگئی۔

    ”میاؤں!” بلی نے اپنی آمد کی اطلاع دی۔

    ”آ جاؤ آجاؤ، بہت کھانا پڑا ہے۔” فنامہ نے اس کی طرف دیکھا تو بلی تیزی سے چھلانگ لگا کر اُس کے پاس آنے لگی لیکن وہ دیوار پر توازن برقرار نہ رکھ پائی اور جب اِدھر اُدھر پاؤں مارے تو اس کی دُم فنامہ کے کھلونے سے ٹکرا گئی۔ کھلونا بیل اونچائی سے گرا اور ٹکڑوں میں بکھر گیا۔ فنامہ نے غصے سے اپنے پسندیدہ کھلونے کے ٹکڑوں کو دیکھا۔

    ”اوہ! یہ کیا کر دیا تم نے؟” وہ غصے سے چِلّایا پھر اُس نے بلی کو کھانا دینے کے بجائے ایک پتھر زور سے اس کی طرف پھینکا جو بلی کے سر پر لگا۔ وہ بے چاری ”چیاؤں” کرتی ہوئی وہاں سے بھاگ نکلی۔

    ”میرا پسندیدہ کھلونا توڑ دیا!” فنامہ نے افسوس اور غصے سے کھلونے کے ٹکڑے اُٹھائے اور برتن کے قریب لا کر زمین پر رکھ دیے۔ اُس کا ارادہ تھا کہ کھانا کھانے کے بعد انہیں دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرے گا۔ اب کھانا لینے کے لیے اُس نے برتن میں ہاتھ ڈالا لیکن یہ کیا! برتن تو خالی تھا! فنامہ نے گھبرا کر دونوں ہاتھ برتن کے منہ پر رکھ کر چار بار گہری سانس لی اور دوبارہ برتن میں جھانکا۔ وہ ابھی بھی خالی تھا۔ فنامہ کا غصہ پریشانی میں بدل گیا۔ اس نے بلی کو کھانا دینے کے بجائے اسے پتھر مار کر بھگایا تھا، اس لیے برتن کا جادُو بھی ختم ہو گیا تھا۔

    فنامہ اور اُس کی ماں کچھ دن تو کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح برتن کا جادُوئی اثر واپس آ جائے لیکن بے سود۔انہوں نے اِسے بیچنے کی بھی کوشش کی لیکن کسی نے نہ خریدا۔ آخر تنگ آ کر انہوں نے اسے دریا کے کنارے پھینک دیا اور خود محنت کر کے گزر بسر کرنے لگے۔ 

    قارئین! صدیوں تک وہ جادوئی برتن وہیں دریا کنارے پڑا رہا۔ رفتہ رفتہ اسے ریت اور مٹی نے ڈھانپ لیا۔ کچھ سال بعد آنے والے سیلاب نے اسے دنیا کی نظروں سے اوجھل کر دیا۔ کئی صدیاں گزر گئیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل ماہرینِ آثارِقدیمہ نے مہر گڑھ کی باقیات کو دریافت کیا تو انہیں یہ برتن بھی ملا جو اس وقت صوبہ بلوچستان کے ضلع کچھی میں ”مہر گڑھ میوزیم” میںمہر گڑھ کی باقیات کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔کیا خبر کسی دن اُس میں جادُوئی طاقت لوٹ آئے۔

    ٭…٭…٭

  • پشتون لوک ادب سے ماخوذ ۔ تورا بان دیو ۔ لوک کہانی

    پشتون لوک ادب سے ماخوذ ۔ تورا بان دیو ۔ لوک کہانی

    پشتون لوک ادب سے ماخوذ

    تورا بان دیو

    گلِ ارباب

    مشہور کردار ”تورا بان دیو” کی دل چسپ کہانی!

    اونچے پہاڑوں اور سر سبز درختوں کے جھنڈ میں موجود اس بستی میں آج خوف اور دہشت کا راج تھا۔ مائیں ننھے منے بچوں کو سینے سے لگائے سلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ بوڑھے اور جوان مرد اپنے ہاتھوں میں لکڑی کے ڈنڈے پکڑے سنہری پہاڑ سے نکلتے سفید دھوئیں کو دیکھ رہے تھے۔ تورا بان دیو ہر مہینے کی چودہ تاریخ کو اسی دھوئیں میں سے نکل کر بستی میں آتا تھا۔ جب وہ آدم بُو آدم بُو کرتا بستی کے گھروں میں جھانکتا تب ماؤں کے دل سینے میں یوں پھڑپھڑانے لگتے جیسے بلی کے پنجوں میں کبوتر پھڑپھڑاتا ہے۔

    تورا بان دیو کا جسم پہاڑ جیسا مضبوط اور قد شاہ بلوط کے پیڑ جتنا اونچا تھا۔ اُس کے دانت بہت لمبے اور سفید تھے لیکن ان پر سرخ دھبے صاف نظر آتے تھے۔ آج بھی وہ پہاڑوں سے نکلا اور اب بستی کے ہر گھر میں جھانکتے ہوئے آدم بُو آدم بُو کرتا اپنے شکار کی تلاش میں تھا۔

    کنال، گوتم اور اشوک یہ تینوں بھائی دیوار کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔ ظالم دیو نے دیکھا تینوں بہت صحت مند ہیں تو اس نے ہاتھ بڑھا کر اُنہیں اٹھا لیا اور اپنے دانت کچکچاتے ہوئے واپس ہونے لگا۔ تینوں بچے چیخ رہے تھے۔ بستی کے لوگ گھروں سے نکل کر ان کے ماں باپ کو تسلی دینے لگے۔ بچوں کے والدین نے بہت شور مچایا۔ پتھروں اور ڈنڈوں سے دیو کو مارنے کی کوشش کی، لیکن اس کے بھاری وجود پر صرف اتنا اثر ہوا جتنا انسان کے کان پر جوں رینگنے کا ہوتا ہے۔ وہ قہقہے لگاتا ہوا تینوں بھائیوں کو گردن سے پکڑ کر پہاڑوں میں چلا گیا۔

    تینوں میں کنال بہت بہادر، گوتم چالاک اور اشوک بہت خوب صورت تھا، لیکن اُن کی خوب صورتی چالاکی اور بہادری اس وقت کسی کام کی نہ تھی۔ انہیں اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی۔ تورا بان دیو نے انہیں ایک بڑے کمرے میں قید کر دیا۔ اسی کمرے میں نمک مرچ کی بڑی بڑی بوریاں بھی پڑی ہوئی تھیں۔

    ”ہاہاہا… کل دوپہر کو میں تمہاے اوپر نمک، مرچ، مسالا چھڑک کر ایک ایک کو کچا چبا جاؤں گا۔ گوتم اور اشوک سہم کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، جب کہ کنال بہادری سے سینہ تان کر تورا بان کو گھور رہا تھا۔

    دیو ہنستا ہوا باہر نکلا تو تینوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ ”تم لوگ فکر نہ کرو ہم اس ظالم دیو کی قید سے رہائی پا لیں گے۔” کنال نے کہا تو گوتم اور اشوک بھی سوچنے لگے کہ یہاں سے کیسے نکلا جائے؟

    اسی وقت بھاری جادوئی دروازہ کھلا اور ایک سنہرے بالوں والی خوب صورت لڑکی تین نوکروں کے ساتھ اندر آگئی۔ اُن کے ہاتھوں میں طرح طرح کے کھانوں کے تھال تھے۔

    ”میں اس محل کی شہزادی ہوں، میرا نام تانیا ہے۔ تورا بان دیو میرا مالک ہے۔ یہ کھانا اس لیے ہے کہ تم لوگ اسے کھا کر میرے مالک کی خوراک بننے کے لیے کچھ اور بھی صحت مند ہوجائو۔” شہزادی کی آواز بہت میٹھی لیکن بات بہت کڑوی تھی۔ چالاک گوتم نے اک منصوبہ بنا کر اُس سے پوچھا: ”اے پیاری شہزادی! آپ کا مالک تو اتنا بد صورت اور خطرناک شکل و صورت والا ہے جب کہ آپ پریوں کی ملکہ لگتی ہو۔”

    وہ خوش ہوکر بولی: ”ہاں اے اجنبی لڑکے! یہ سچ ہے لیکن اُس نے مجھے پالا ہے۔ وہ میرے باپ کو قتل کر کے مجھے اور میری ماں جینا پری کو زبردستی محل سے اٹھا لایا تھا پھر وہ میری ماں کو شادی کے لیے مجبور کرتا رہا۔ میری ماں نے اپنے شوہر، محل، ماں باپ اور سہیلیوں کے غم میں موت کو گلے لگا لیا۔ تب تورا بان دیو نے میری پرورش بہت سخت انداز میں کی اور میری خوب صورتی دیکھ کر مجھے اس محل کی شہزادی بنا دیا۔” شہزادی کی داستان سن کر گوتم نے جلدی سے پوچھا: ”شہزادی صاحبہ! کیا آپ کو محل سے نکلنے کی اجازت ہے؟” شہزادی تانیا کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ روتے ہوئے بولی:

    ”اے اجنبی لڑکے! میں جب سے یہاں آئی ہوں آج تک اس محل سے باہر نہیں نکلی۔ محل کی دیواریں فلک بوس ہیں اور میں کمزور سی لڑکی۔” شہزادی اُداس ہوگئی تھی ۔ ”اچھا اب زیادہ باتیں نہ کرو اور کھانا کھا لو ورنہ مالک مجھ سے ناراض ہو کر سزا دیں گے۔” یہ کہہ کر شہزادی اور اس کے نوکر واپس چلے گئے۔

    وہ تینوں بھائی سر جوڑے باہر نکلنے کے منصوبے بنا رہے تھے کہ دو کنیزیں ہاتھوں میں پھلوں اور میٹھے کے تھا ل لے کر حاضر ہوگئیں۔ انہیں دیکھ کر خوب صورت بھائی اشوک نے چالاک بھائی گوتم کے اشارے پر رونا شروع کردیا اور باقی دو اسے تسلی دینے لگے۔

    ”مجھے اس خوب صورت شہزادی کی یاد ستا رہی ہے جو تورا بان دیو کی خاص شہزادی ہے۔ میں نے اتنی حسِین شہزادی زندگی میں نہیں دیکھی۔” کنیزوں نے واپس جا کر سارا ماجرا شہزادی تانیا کو سنا دیا۔ شہزادی بہت متاثر ہوئی اور تورا بان دیو کی نظروں سے چھپ کر رات کو اُن سے ملنے آگئی۔

    اشوک نے خوشی کا اظہار کیا تو شہزادی اُداس ہوکر بولی: ”اے اجنبی آدم زاد! مجھے افسوس ہے کہ تم لوگ میرے مالک کی خوراک بننے والے ہو، تم سے پہلے بھی ہر مہینے صحت مند اور خوب صورت آدم زاد میرے مالک کی خوراک بنے ہیں، لیکن کبھی اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا آج ہو رہا ہے۔”

    گوتم نے کہا: ”اے خوب صورت شہزادی! میرے پاس ایک منصوبہ ہے۔ اگر تم ہمارا ساتھ دو تو سب کی جان بچ سکتی ہے اور ہم تمہیں بھی اس محل سے رہا کرا سکتے ہیں۔” شہزادی کچھ دیر سوچ کر اُن کی مدد کے لیے راضی ہوگئی لیکن اس نے تینوں بھائیوں کو بتایا کہ تورا بان دیو کو مارنا اُن کے بس کی بات نہیں ہے کیوں کہ اس کی جان ایک طوطے میں ہے۔ وہ طوطا سات سمندر پار تورا بان کے خفیہ محل میں بند ہے۔ البتہ اس وقت تم سب کو اس قید سے نجات تورا بان کو گرا دینے سے بھی مل سکتی ہے، کیوں کہ یہ اتنا بھاری بھرکم ہے کہ اگر ایک دفعہ زمین پر گر گیا تو پھر اُٹھ نہیں سکتا، ایک بار یہاں سے نکلو پھر میں تم لوگوں کو اس طوطے تک پہنچنے کا طریقہ بتا دوں گی۔” تینوں بہت خوش تھے کہ زندگی بچنے کی امید پیدا ہوگئی ہے ۔

    دوسری صبح شہزادی نے اپنی کنیزوں سے کہا: ”تورابان مالک اس بار آدم زاد کو کچا نہیں کھائیں گے بلکہ مکھن میں تل کر کھانا چاہتے ہیں۔ اس لیے مکھن کی چاٹیاں قید خانے میں رکھوا دو۔” انہوں نے حکم کی تعمیل کی ۔

    دوپہر کو جب تورا بان دیو بھوک سے بے تاب ہو کر تہ خانے میں داخل ہوا تو گوتم نے چالاکی دکھاتے ہوئے چاٹی سے مکھن نکال کر زمین پر گرا دیا۔ مکھن سے تورا بان کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے زمین پر گر گیا۔ دیو کے گرتے ہی سارا محل یوں ہلنے لگا جیسے بھونچال آگیا ہو ۔

    تورا بان کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے، لیکن اس سے پہلے کہ یہ شعلے انہیں جلاتے، بہادر کنال چلّایا: ”جلدی کرو۔” پھر تینوں بھائیوں نے قریب پڑی بوریوں سے نمک اور مرچوں کی مٹھیاں بھر بھر کر اُس کی آنکھوں میں ڈالنا شروع کر دیں۔ دیو اتنا بھاری تھا کہ اسے زمین سے اٹھانے کے لیے بہت سارے جنّوں کو بلانا ضروری تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں کی تکلیف سے تڑپ کر غلاموں اور کنیزوں کو پکارنا شروع کر دیا، لیکن وہ سب اس ظالم سے اتنا تنگ تھے کہ کوئی اس کی مدد کو نہ آیا۔ بہادر کنال نے کہا: ”اے ظالم دیو: تم انسانوں پر ظلم کرتے رہے ہو اور جنات بھی تم سے تنگ ہیں۔ تمہاری سزا یہ ہے کہ اس قید خانے میں بند رہو اور بھوکے پیاسے تڑپ تڑپ کر مر جاؤ۔”

    دیو نے قہقہہ لگا کر کہا: ”اے بے وقوف آدم زادو! تم لوگ مجھے کسی صورت نہیں مار سکتے، جب تک کہ اس طوطے کو نہ مارو گے جس میں میری جان ہے۔”

    تینوں بھائیوں نے یک زبان ہو کر عزم کیا کہ ہم تمہاری جان اس طوطے سے ضرور نکالیں گے اور ہماری مدد ہمارا مالک کرے گا۔”

    تورا بان دیو کے زمین پر گرنے سے اس کے جادو کا محل ٹوٹ کر بکھرنے لگا تھا۔ شہزادی تانیا نے کنیزوں اور غلاموں کو آزاد کر دیا اور خود خوب صورت بھائی اشوک کا ہاتھ پکڑ کر آدم زادوں کی دنیا کی جانب روانہ ہوگئی ۔

    ٭…٭…٭

  • وہ کون تھا؟ ۔ نانگا پربت کی لوک کہانی

    وہ کون تھا؟ ۔ نانگا پربت کی لوک کہانی

    نانگا پربت کی لوک کہانی

    وہ کون تھا؟

    زرین قمر

    ”یہ کہانی زیادہ پرانی نہیں، لیکن پھر بھی اسے کئی سال بیت چکے ہیں۔ ان دنوں ہوائی جہاز اتنے عام تھے نہ جدید۔ بلتستان میں کوہ پیمائی کے لیے ہندوستان کے اندر اور باہر سے چند لوگ وادی میں پہنچے۔ وہ نانگا پربت کی چوٹی پر جانا چاہتے تھے۔ تمام حفاظتی سامان سے لیس وہ اپنے استاد کے ساتھ وادی سے روانہ ہوئے جہاں سے پہاڑ پر چڑھائی کا مرحلہ شروع ہونا تھا۔

    پہاڑوں پر جگہ جگہ برف جمی ہوئی تھی۔ سب اسکاؤٹس اپنے استاد شیر دل کے ساتھ کوہ پیمائی کرتے ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں جنگلی درخت خاصی تعداد میں تھے اور وہاں پہاڑوں سے بہ کر آنے والی ندی گزر رہی تھی۔ وہ کئی گھنٹے چلنے کے بعد کچھ تھکن محسوس کرنے لگے۔ چناں چہ کچھ دیر آرام کی غرض سے اسی جگہ بیٹھ گئے۔ اچانک شیر دل کی نظر دور ایک وجود پر پڑی جو برف میں دھنسا ہوا تھا۔

    ”تم سب رکو، میں ابھی آتا ہوں۔” استاد شیر دل جلدی سے اس طرف لپکا۔ اس نے قریب پہنچ کر برف میں دھنسے اس انسانی وجود کو چُھوا جو زندہ تھا پھر ڈرتے ڈرتے اسے مخاطب کیا:

    ”تم… تم کون ہو؟” شیر دل کو دیکھ کر وہ اجنبی اُٹھ بیٹھا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ اس کا خاکی لباس جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔

    ”اے دوست! تم کون ہو؟” شیر دل نے ایک بار پھر پوچھا۔ وہ اجنبی اب خالی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

    ”میرا خیال ہے تم کوہ پیما نہیں ہو؟ کیا راستہ بھول گئے ہو؟” شیر دل نے اس کے چہرے سے برف کے ذرّات ہٹاتے ہوئے پوچھا۔

    ”مم… میرا خیال بھی یہی ہے، یہ کون سی جگہ ہے؟” اجنبی نے یوں کہا جیسے وہ نیند میں بول رہا ہو۔

    ”ہم اس وقت نانگا پربت پر ہیں اور اس قاتل پہاڑ (Killer Mountain) کو عبور کرنا چاہتے ہیں۔” شیر دل نے کہا۔

    ”کلر ماؤنٹین؟” اجنبی نے یوں دہرایا جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہا۔

    ”ویسے تم یہاں کیا کررہے تھے؟ اور برف میں کیسے پھنس گئے؟” شیر دل نے اجنبی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔

    ”مجھے کچھ پتا نہیں۔” اجنبی نے جواب دیا۔

    ”اوہ! کیا تم اکیلے ہو؟” شیر دل نے دوبارہ پوچھا۔

    ”شاید… شاید میں اکیلا ہی ہوں۔” اُس نے مبہم سا جواب دیا۔ اس بار اُس کی نظریں اسکاؤٹس کے گروپ پر تھیں جو ندی سے اپنے ترماس میں پانی بھرتے ہوئے آپس میں مذاق کررہے تھے۔

    ”تمہارے پاس کھانے پینے کو کچھ ہے؟” شیر دل نے پوچھا۔

    ”نہیں، کچھ نہیں ہے۔” اس نے مختصر جواب دیا جس پر شیر دل کو حیرت ہوئی۔

    ”تمہارا نام کیا ہے؟” شیر دل نے پوچھا۔

    ”احمد علی… احمد علی اوستم ہے میرا نام۔” اس نے جواب دیا۔

    ”اوستم! میرا نام شیر دل ہے۔ تمہاری طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی، تم چاہو تو ہمارے ساتھ چل سکتے ہو۔” شیر دل نے اسے پیشکش کی۔

    ”تم کہاں جارہے ہو؟” اوستم نے پوچھا۔

    ”ہم اس چوٹی کو سر کرنے آئے ہیں، اگر تم ہمارے ساتھ چلو تو ہم تمہیں اس پہاڑ کے دوسری جانب بنے رینجر اسٹیشن تک چھوڑ سکتے ہیں۔” شیر دل کو اس کی حالت پر ترس آرہا تھا۔

    ”ہم وہاں کب تک پہنچیں گے؟” اوستم نے پوچھا۔

    ”کل سہ پہر تک۔” شیر دل نے مسکراتے ہوئے کہا تو اوستم لاچارگی سے اُسے دیکھنے لگا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ شہری آبادی یہاں سے کتنی دور ہے اور بغیر خوراک کے کب تک گزارا کرسکے گا۔

    ”ٹھیک ہے۔” اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد مجبوراً منہ کھولا۔

    ”چلو… آگے چلتے ہیں۔” شیر دل نے اُسے ساتھ لیا اور اپنے ساتھیوں سے جا ملا۔ اب سبھی اونچی چٹانوں پر آگے بڑھنے لگے۔ اوستم بھی ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس کے ذہن میں بار بار کلر ماؤنٹین، کلر ماؤٹین کے الفاظ گونج رہے تھے اور وہ بار بار ہلکی آواز میں انہیں دہرا رہا تھا۔ شیر دل کا پورا دھیان اس کی طرف تھا۔

    کچھ دور چلنے کے بعد وہ دو پہاڑیوں کے درمیان تنگ سے راستے میں داخل ہوگئے۔ اب پہاڑیوں پر جمی برف کی تہ موٹی ہوتی جارہی تھی۔ پائن کے اونچے اونچے درخت سر اٹھائے کھڑے تھے۔ ہوا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔ کئی گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد شیر دل نے اسکاؤٹس کو رکنے کا اشارہ کیا۔

    ”آپ سبھی لوگ تھوڑی دیر آرام کر لیں کیوں کہ یہاں سے آگے کئی بل دار پگڈنڈیاں ہیں۔ راستہ دشوارہو گا۔”

    ”اوکے سر!” ایک اسکاؤٹ نے جواب دیا۔ پھر وہ اپنے تھرماس اور بوتلوں سے پانی پینے لگے تھے۔

    ”بہت زیادہ پانی مت پیو، تمہارے پیٹ میں مروڑ شروع ہوجائیں گے۔” شیر دل نے انہیں تنبیہہ کی۔

    بے تحاشا سرد موسم کے باوجود شیر دل کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔ یہ دیکھ کر اوستم نے اپنی جیب سے نیلے رنگ کا رومال نکالا اور خاموشی سے اس کی طرف بڑھایا۔

    ”میرا خیال ہے میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور کوہ پیمائی اب مجھے تھکا دیتی ہے۔” شیر دل نے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا پھر اس نے شکریہ کہہ کر رومال واپس اوستم کو دے دیا۔ کچھ لمحوں بعد شیردل نے ایک گھونٹ پانی پیا اور تھرماس اوستم کی طرف بڑھایا لیکن اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ شیر دل نے نوٹ کیا کہ اسے پیاس محسوس ہوئی اور نہ وہ تھکا ہوا لگ رہا تھا، البتہ بیمار ضرور تھا۔

    ”کیا تم تھکے نہیں ہو؟” شیر دل نے حیرت سے پوچھا۔

    ”میں ٹھیک ہوں۔” اوستم نے کہا۔

    ”اس کا مطلب ہے تم مجھ سے بہتر ہو، دراصل میں نے ان اسکاؤٹس کے ساتھ خاصی کوہ پیمائی کی ہے، اسی لیے تھک گیا ہوں۔” شیر دل نے ہنستے ہوئے کہا پھر وہ دوبارہ اوستم کو مخاطب کرنے لگا:

    ”سنو! تم نے کبھی کوہ پیمائی کی ہے؟” اس نے ایک پتھر پر بیٹھتے ہوئے کہا تو اوستم کچھ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

    ”مجھے یاد پڑتا ہے کہ میری بیوی اور ایک بچہ تھا۔” اُس نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا تو سب حیران رہ گئے۔

    ”ہم اس بچے کا نام محمد علی رکھنے والے تھے۔” اس نے پھر کہا۔

    ”رکھنے والے تھے؟ کیا مطلب؟” شیر دل نے مزید حیرت سے پوچھا۔

    ”جب وہ پیدا ہوا تو میں اُن کے ساتھ نہیں تھا۔” اوستم کے لہجے میں دکھ اور مایوسی تھی۔ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا جیسے کسی دردناک حادثے کو یاد کررہا ہو۔

    ”اوستم… اوستم سنو!” شیر دل نے اسے پکارا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی بے چینی برقرار تھی۔

    ”اوستم! سنو میں تم سے بات کررہا ہوں۔” شیر دل نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے کہا۔ تمام کوہ پیما اُس کی حالت دیکھ کر دائرے کی صورت میں اس کے اردگرد جمع ہوگئے۔

    ”میں ٹھیک ہوں۔” اچانک اوستم نے کہا۔

    ”مجھے لگ رہا ہے جیسے تم میری بات سن ہی نہیں رہے، تمہارے چہرے پر ایسے عجیب تاثرات ہیں جو میں نے پہلے کبھی کسی شخص کے چہرے پر نہیں دیکھے۔” شیر دل نے کہا۔

    ”میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔” اوستم نے ایک بار پھر مختصر جواب دیا۔

    ”چلو! آگے چلتے ہیں۔” شیر دل نے اسکاؤٹس کو اشارہ کیا۔

    ایک گھنٹے تک وہ پہاڑ پر چڑھتے رہے اور اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں۔ ان میں اتنی تیزی تھی کہ برفیلی چٹانوں پر قدم جمانا مشکل تھا۔ کئی بار وہ لوگ پھسلے لیکن ان سب نے اپنی کمر کے گرد رسی باندھی ہوئی تھی اور ہاتھوں میں پہاڑ پر چڑھنے کے لیے استعمال ہونے والی کلہاڑیاں تھیں۔ بڑی بڑی لوہے کی کیلیں ان کی کمر کے گرد لٹک رہی تھیں جنہیں وہ ضرورت کے وقت استعمال کرتے تھے۔ برف باری شروع ہوئی تو تیز ہوا کے جھکّڑ چلنے لگے۔

    ”اندھیرا ہونے سے پہلے ہمیں محفوظ جگہ پر رکنا ہوگا لیکن دور دور تک کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں رکا جاسکے۔” شیر دل نے اطراف پر نظر دوڑائی ہر طرف برف پوش پہاڑیاں اور بادل نظر آرہے تھے۔

    اچانک شیر دل کا پاؤں پھسلا اور وہ تیزی سے کئی فٹ تک نیچے گرتا چلا گیا۔ موت اس کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھی۔

    ”بب… بچاؤ… مم… میں گررہا ہوں۔” شیر دل کے منہ سے نکلا ہی تھا کہ اچانک کسی نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا۔ شیر دل نے سر گھما کر دیکھا، وہ اوستم تھا۔ اس نے شیر دل کو اوپر کھینچ لیا۔ حواس ذرا بحال ہوئے تو شیر دل کو یاد آیا کہ اوستم تو اس کے ساتھ تھا۔ وہ اتنی جلدی اس تک کیسے پہنچ گیا؟ یہ سوچتے ہوئے وہ ایک پتھر پر بیٹھ گیا، پھر اندھیرا پھیلنے تک اوستم انہیں ایک ایسے غار تک لے گیا جو برف پوش پہاڑی پر واقع تھا۔ وہ رات انہوں نے اس غار میں گزاری۔

    ”تم صبح سے ہمارے ساتھ ہو ابھی تک کچھ نہیں کھایا، پہلے ہی کمزور ہو کچھ کھالو۔” ایک سینئر اسکاؤٹ نے احمد علی اوستم سے کہا۔

    ”مجھے بھوک نہیں ہے۔” اس نے مختصر بات کی۔

    صبح صادق ہوتے ہی انہوں نے دوبارہ کوہ پیمائی شروع کردی۔ اب وہ چوٹی کے خاصے قریب پہنچ گئے تھے۔

    ”ہم چوٹی سر کرنے کے بعد ہی دم لیں گے۔” شیر دل نے اپنے ساتھیوں سے کہا تو ان کا جوش اور ولولہ مزید بڑھ گیا۔ ایک گھنٹے بعد وہ چوٹی پر پہنچ چکے تھے۔

    شیر دل نے نیچے نظر دوڑائی، دور پہاڑوں کے دامن میں اسے شوگران کی وادی نظر آئی۔ ان کا راستہ پہاڑیوں کے گرد چکر کھاتا ہوا نیچے جارہا تھا۔ کچھ ہی نیچے آنے کے بعد، اوستم نے راستے کے بائیں جانب چھوٹے سے برف کے میدان کی طرف دیکھا جہاں جگہ جگہ ہلکی دھات کی شیٹیں برف میں دبی تھیں۔ ان کے جو حصے باہر تھے وہ دھوپ میں چمک رہے تھے۔

    ”وہ کیا ہے؟” اوستم نے پوچھا۔

    ”یہ کسی پرانے جہاز کے ٹکڑے ہیں، کیا تم ان کے بارے میں نہیں جانتے؟” شیر دل نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔

    ”یہ جہاز بہت سال پہلے ایک برفانی طوفان میں گر گیا تھا۔ اس وقت جہازوں میں راڈار نہیں ہوتے تھے۔”

    ”یہ کیسے کریش ہوا؟” اوستم نے مزید پوچھا۔

    ”اس کا پائلٹ بہت اونچی پرواز کر رہا تھا۔ شدید طوفان کی وجہ سے اُسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا چناں چہ جہاز پہاڑی سے ٹکرا گیا۔” شیر دل نے کہا پھر وہ ان دھاتی ٹکڑوں کی طرف بڑھنے لگے۔

    ”میں جب بھی اس پہاڑی پر چڑھتا ہوں تو یہ اپنی جگہ سے کچھ ہلے ہوتے ہیں لیکن میرے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔” شیر دل نے بتایا۔ اب وہ چکر دار راستے سے گزرتے ہوئے ان دھاتی ٹکڑوں تک آگئے تو ان کی نظر جہاز کے اس حصے پر پڑی جس میں انجن تھا۔ وہ جہاز بس دو افراد کے بیٹھنے کے لیے ہی تھا۔

    ”کیا کوئی زندہ بھی بچا تھا؟” کچھ دیر بعد اوستم نے سوال کیا۔

    ”نہیں، وہ دونوں مر گئے تھے ان کی باقیات پہاڑی پر بکھر گئی تھیں۔”

    اوستم اپنا سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا جیسے اس کی طبیعت خراب ہوگئی ہو۔

    ”دیکھو! ہم تقریباً پہنچ چکے ہیں بس تھوڑی دیر کا سفر ہے۔” شیر دل نے اسے حوصلہ دیا۔ مگر وہ خاموشی سے بیٹھا رہا۔

    ”اوستم! کیا ہوا؟ رک کیوں گئے؟” شیر دل اب اس کے قریب آکر پوچھنے لگا جیسے ہی اس نے اوستم کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ ایک دم تڑپ اٹھا۔

    ”کیا ہے؟ جاؤ تم لوگ… مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ۔” غصے سے اُس کی آنکھیں لال ہورہی تھیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ رو رہا ہو۔ یہ دیکھ کر شیر دل گھبرا گیا، وہ ذرا سا پیچھے ہٹ کر حیرانی سے اوستم کو دیکھنے لگا۔

    ”مجھے تنہا چھوڑ دو۔” اوستم نے زور سے کہا تو شیر دل جھٹ سے پیچھے ہٹ گیا پھر وہ بوجھل قدموں سے اسکاؤٹس کے پاس جاپہنچا۔

    سفر کرتے کرتے وہ سب چوٹی کے عین اوپر والے حصے پر پہنچ چکے تھے۔ خوشی سے انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ مبارک باد دی پھر شیر دل تمام اسکاؤٹس کو لے کر رینجر کیمپ میں چلا گیا۔ کیمپ کے انچارج نے ان کا استقبال کیا۔ خیرو عافیت دریافت کرنے کے بعد شیر دل نے ذرا جھجکتے ہوئے اوستم کا ذکر چھیڑ دیا۔

    ”اوہ! تمہیں کہاں ملا؟” کیپٹن نے اس سے دریافت کیا۔

    ”وہ وہاں پہاڑی کے مغربی سلسلے سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔” شیر دل نے کہا۔ 

    ”اچھا! تم میرے سوالوں کا جواب دو، کیا وہ تیس سال کا لگتا ہے؟”

    ”ہاں، بالکل لگتا ہے۔”

    ”اس کا قد چھے فٹ اور خاکی وردی پہنی ہوئی ہے؟”

    ”ہاں!” شیر دل کے لہجے میں حیرت تھی کیوں کہ اس نے کیپٹن کو اوستم کا حلیہ نہیں بتایا تھا۔

    ”اس کے بال کالے، رنگ گورا اور آنکھیں نیلی ہیں؟” کیپٹن نے پوچھا۔

    ”اوہ! بالکل ایسا ہی ہے۔”

    ”وہ بولتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے نیند میں ہو؟”

    ”ہاں، ایسا ہی ہے جیسے وہ برسوں سے بیمار ہو۔”

    ”بس پھر… وہ کبھی کیمپ میں نہیں آئے گا۔” کیپٹن نے مسکرا کر کہا۔

    ”اوہ! وہ… وہ ہے کون؟” شیر دل اور اس کے ساتھی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ ۔

    ”اس ٹوٹے ہوئے جہاز کا پائلٹ۔” کیپٹن نے بتایا اور تھوڑی دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔

    ”میں لوگوں کے بتانے پر کئی بار وہاں گیا ہوں لیکن وہ مجھے کبھی نظر نہیں آیا، اس کا تعلق ریسکیو ٹیم سے تھا وہ کوہ پیمائی کرنے والوں کی جانیں بچاتا تھا۔ ایک دن کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم برف میں پھنس گئی۔ اوستم نے بچانے کی بہت کوشش کی مگر طوفان شدید تھا۔ وہ ٹیم کو نہ بچا سکا بلکہ خود بھی اسی طوفان کی نذر ہوگیا۔ اس کا جہاز کہیں برف میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔” کیپٹن نے افسردگی سے تفصیل بتائی۔

    ”اوہ! حیران کن…” شیر دل کو دھچکا لگا اور وہ سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھی بھی مارے حیرت کے کیپٹن کو دیکھ رہے تھے۔ بلتستان کے باسی آج بھی یہ کہانی سناتے ہیں۔ کہتے ہیں کئی سال گزرنے کے بعد آج بھی اوستم برف میں پھنسنے والوں کو مشکل سے نکالتا ہے۔ آج بھی وہ کسی سائے کی طرح نانگا پربت کے دیس میں نظر آتا ہے۔

    ٭…٭…٭

  • والٹ ڈزنی ۔ شاہکار سے پہلے

    والٹ ڈزنی ۔ شاہکار سے پہلے


    والٹ ڈزنی
    صوفیہ کاشف

    ایک اینی میٹر کے طور پر اپنے کیریئر کا پہلا پراجیکٹ کرتے اور ہزاروں ڈالر کا مقروض ہوتے ہوے، بینز (beans) کے ڈبوں پر گزارا کرتے اور آفس کے کاغذات اور کینوس کے ڈھیر میں سوتے جب والٹ سے یہ پوچھا جاتا کچھ پیسہ بھی کمایا تو وہ ہنستا اور کہتا: ” نہیں!…… لیکن مجھے مزا خوب آیا”.
    مکی ماﺅس کے باپ اور ڈزنی لینڈ کے خالق والٹ ڈزنی سے کون واقف نہیں۔ والٹ ڈزنی جو خود کو والٹ کہلانا پسند کرتا خوبصورت خوا ب دیکھتا اور ان خوابوں کو زندگی کے سنگ دل حقائق کے بیچ ممکن کر دیتا۔ والٹر الائس ڈزنی کی زندگی کا آغاز ہی مشکلات اور غربت سے بھرپور تھا.. اس کی پلکوں سے جڑے خوابوں کے انداز کچھ بھی ہوں مگر زندگی کی ترجیحات کا تعین کرتے والٹ ڈزنی نے اپنے شوق، محبتوں اور جذبوں کو سب سے اونچا رکھا اسی لیے ہمیشہ اپنے کام سے لُطف اٹھاتا رہا۔ مُسکرانا، عزم لیے معاشی مسائل سے گزر جانا ڈزنی کی زندگی کا نصب العین تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ وہ معاشی پسماندگی بھی تھی جنہوں نے اس کا بچپن مشکلات کی نذر کرکے اس کے کھیل اور مسکراہٹوں کو اس سے چھین لیا تھا۔ حالات کی سختی سے وہ کندن بن کر نکلا تھا اور ہر حا ل، ہر مشکل میں ہنسنے مسکرانے اور پرُعزم رہنے کا ہنر سیکھ چکا تھا۔ اپنے جوان دل کی ہر دھڑکن پر وہ ناچنا اور اپنے سب خوابوں کو دن کی روشنی میں جینا چاہتا تھا۔ خوش قسمتی سے یہ خواب اور جذبے عورت، دولت اور نشے کے گرد نہیں بلکہ اپنے کارٹون کرداروں کی مسکراہٹوں چٹکلوں اور اٹھکھیلیوں کے گرد گھومتے تھے۔ مکی ماﺅس کی انگلی تھام کر خوابوں کی پرُمسرت اور رنگین دنیا کے سفرپر نکلتے والٹ ڈزنی کے عشق کا دیوتا کارٹون کرداروں کی ہنستی مسکراتی دنیا تھی۔
    "آخر تم کب بڑے ہو گے؟” اس کے دوست اکثر اس سے کہتے۔
    سنہرے بالوں اور تیکھے نقوش والے شرارتی اور ہنس مکھ والٹ ڈزنی کا بچپن مارسلین کے ایک فارم ہاوس پر گزرا۔ سنگترے کے زرد درختوں، بیدِ مجنوں اور گل باس کے جامنی پھولوں کے بیچ گھڑ سواری کرنا، جھیل کے ٹھنڈے پانی سے مچھلیاں پکڑنا، برف سے بھرے میدانوں میں پھسلنا اس کے بچپن کی گہری یادوں کا حصہ ہے۔ مارسلین کی دو بہترین یادیں جنہوں نے والٹ کے آنے والے مستقبل کی سمت تعین کرنے میں مدددی۔ وہ آنٹی میگی اور انکل ڈاک شیرڈ کی شفقت اور حوصلہ افزائی کی ہے۔ آنٹی میگی والٹ کو ونڈر بواے کہہ کر پکارتیں اور انکل شیرڈ نے خاص طور پرسات سالہ والٹ سے اپنے محبوب گھوڑے کا خاکہ بنوایا اور معاوضے کے طور پر ایک نکل والٹ کو ادا کیا۔ بعض روایات کے مطابق اس خاکے کو فریم کروا کر اپنے کمرے کی زینت بھی بنایا۔ آٹھ سال تک رنگوں، تصویروں اور خاکوں کے ساتھ مارسلین کے کھلے ہرے میدانوں، اونچے گھنے درختوں اور فطرت کی خوب صورتیوں نے والٹ کی زندگی میں رنگ بھرے اور یہ وقت والٹ کی زندگی کا سب سے متاثر کن باب تھا جسے والٹ نے ہمیشہ اپنی یاداشت میں محفوظ رکھا۔
    پچھلی دو صدیوں میں سب سے زرخیز تخیل کے مالک والٹ کی محنت ،جستجواور ریاضتوں کی کہانی جوانی کے خوبصورت خوابوں سے نہیں بلکہ بچپن کی نوخیز نرم ہتھیلیوں اور ننھے پیروں سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ فطرت جن افراد کو بُلند مقام کے لیے تخلیق کرتی ہے انہیں کندن بنانے کے لیے آغاز سے ہی معصوم اور کمزور ہاتھوں کو سنگِ آشنائی عطا کر دیتی ہے۔ سڈنی شیلڈن کی طرح ڈزنی کا بچپن بھی غربت اور افلاس میں والدین کے شانہ بہ شانہ معاشیات کو سنبھالنے کی کوشش میں گزرامگر سڈنی شیلڈن سے زیادہ مشکل اس طرح کہ والٹ ڈزنی کی مشقت کی ابتدا آٹھ نو سال کی عمر سے ہو چکی تھی۔ والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹاتے نو سالہ والٹ ایک بڑے علاقے میں گھر گھر دو بار اخبار پہنچاتا مگر اس کے باوجود اس کی جیب میں پاکٹ منی کہ نام پر ایک سکّہ تک نہ ہوتا۔ پاکٹ منی کے حصول کے لئے نو سالہ والٹ نے فارمیسی کی دوائیاں سپلائی کیں، اپنی مقرر تعداد سے زیادہ اخبارات کی سپلائی کی اور سکول کے تفریح کے اوقات میں ایک دُکان پر ٹافیاں بیچیں تاکہ خود کچھ سکّے والد سے نظر بچا کے اپنے لیے بچا سکے۔
    "اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں ہر وقت کام میں مصروف تھا۔ میرا مطلب ہے مجھے در حقیت کھیلنے کا وقت نہ ملا!”
    نو سال کی کم عمری میں جب آسودہ حال گھرانوں کے بچے جھولوں، کھلونوں اور والدین کی گود میں وقت گزارتے، والٹ کے پاس کھیل سیکھنے، کھیلنے اور نیند پوری کرنے کا وقت نہ تھا۔ سردی ہو یا گرمی، کُہر ہو یا برف باری، والٹ ڈزنی کو اپنی مزدوری ہر موسم اور ہر حال میں نبھانی پڑتی۔ وہ کبھی دوسرے بچوں کی طرح گیند پکڑنا نہ سیکھ سکا کیوں کہ گیند پکڑنا سیکھنے کے لیے اس سے کھیلنا ضروری ہے اور نو سالہ کمسن مزدور کے پاس کھیلنے کا وقت نہ تھا۔ لوگوں کے گھروں میں اخبار پہنچاتے ان کے پورچ میں کہیں ڈزنی کو کھلونے نظر آتے تو وہیں بیٹھ کر کچھ دیر ان سے کھیلتا اور پھر کھلونے وہیں چھوڑ کر اٹھ جاتا۔
    اخباروں سے بھرا ریڑھا دھکیلتے سردی سے کپکپاتے تھک کر کبھی اخباروں کے ڈھیر میں اور کبھی کسی گاہک کے گھر کے گرم پورچ میں لیٹ کر سو جانا والٹ ڈزنی کا شوق نہیں جان توڑ مجبوری تھی اور یہ مزدوری کم و بیش چھے سال تک والٹ نے نبھائی۔ اس مشقت کی تھکاوٹ اور مزدوری کی الجھنیں اس کے لاشعور پر ایسے گہرے نقوش چھوڑ گئیں کہ ساری عمر اسے ایک ڈراﺅنے خواب کی طرح یاد رہیں۔ حتیٰ کہ چالیس سال کی عمر میں بھی والٹ آدھی رات کو پسینے سے شرابور اس خوف سے اُٹھ بیٹھتا کہ کہ کوئی گھر اخبار پھینکنے سے رہ نہ جائے اور گلی کی نکڑ پر کھڑا اس کا باپ، اسے دوبارہ وہاں اخبار پھینکنے کے لئے اسی طویل رستے پر نہ دوڑا دے۔
    معاشی بدحالیوں اور جابہ جا بدلے گئے کاروبار میں ناکامیوں کا شکار الائس ڈزنی (باپ) کے مزاج کی تلخی اور معاشی مسائل کی سختی دو بیٹوں کے سہارا بن جانے کے باوجود حل ہونا تو کجاکم بھی نہ ہوئی۔ بڑے دو بیٹوں کے گھر سے بھاگ جانے نے تندی مزاج پر اور بھی برا اثر ڈالا۔ باپ کی شکست خوردہ اور ٹوٹی ہمت کا سارا غصہ دو چھوٹے بیٹوں پر نکلتا اور وہ ہتھوڑوں اور ڈنڈوں سے اپنے بازو اور سہارا بنے بیٹوں پر حملہ آور ہو جاتا۔ نارسائی اور محرومیوں سے بھرے بچپن میں والٹ اور راے (بھائی) معاشی حالات کی تلخی کے ساتھ ایک ناکام ترین باپ کی زودورنجی پٹائی کی صورت برداشت کرنے پر مجبور تھے۔
    سٹی کا سکول…….. والٹ کے لیے ایک نیا قدم ثابت ہوا۔ ہر وقت تصویریںاور خاکے بنانے والا والٹ بہت جلد سکول میں نمایاں نظر آنے لگا اور جلد ہی سکول کا باقاعدہ آرٹسٹ اور سکول کے سرکاری اخبار میں کارٹونسٹ مقرر ہو گیا۔ سکول میں گزارے سات سالوں کا جو سب سے اہم کام والٹ نے کیا وہ ڈرائنگ، ڈرائنگ اور صرف ڈرائنگ تھی۔ کارٹون اور خاکے بنانا اور ان کی نمائش کرنا والٹ کا بنیادی مقصد بن چکا تھا اور جب وہ خاکے نہیں بناتا تو وہ خاکہ نگاری پر غوروخوص کرتا اور کسی اخبار سے جڑے اپنے ایک کارٹونسٹ بننے کے مستقبل کے میٹھے میٹھے سپنے دیکھتا۔ والٹ کے اس قدر جنون کو دیکھتے ہوئے اس کے باپ نے والٹ کو آرٹ کلاس کی اجازت دی اس کے باوجود اس وقت اس شعبے کا عام عوام کی نظر میں کہیں کوئی مستقبل نہ تھا۔ والٹ نے اپنی دلچسپی میں مہارت حاصل کرنے کے لئے ہفتہ وار آرٹ کی کلاسز بھی لیں اور خط وکتابت کے ذریعے آرٹ کا ایک کورس بھی کیا۔
    باپ کی بے جا سختیوں، ڈسپلن اور کفایت شعاری کے باوجود والٹ کی شخصیت اس کے بالکل اُلٹ ثابت ہوئی۔ والٹ ایک ہنس مکھ، قہقہوں، اٹھکھیلیوں کا شوقین اور شرارتوں کا شیدائی تھا۔ اس کی پور پور میں جوش و جذبہ بھرا تھا کچھ کر دکھانے کا اور کچھ بدل دینے کا۔ الائس جس قدر کفایت شعار اور پیسے جوڑ کر رکھنے والا تھا والٹ اپنی غربت کے باوجود کُھلے ہاتھ کا مالک تھا خصوصاً اپنے شوق کی راہ میں پیسہ اس کے لیے ہاتھ کا میل تھا۔ اس کی محنت اور کوشش کا پہیہ اس کے شوق اور جنون کے ایندھن سے چلتا رہتا۔
    "وہ جو بھی کرنا چاہتا بغیر نفع و نقصان کا سوچے وہ کر گزرتا۔ وہ ہمیشہ اپنے خیالات حقیقت بنانے
    کی کوشش کرتا خواہ اس کے پاس اس کے لئے وسائل ہوں یا نہیں!”
    حتی کہ الائس کو بھی اپنے بیٹے کی یہ خوبی یا خامی ماننی پڑی۔
    1918 ءمیں جنگِ عظیم کے دوران سولہ سال کی عمر میں نوجوان والٹ میں وطن کے لیے کچھ کرنے کا عزم جاگا اور وہ ملٹری میں بھرتی ہونے کے ارادے سے جاپہنچا۔ کم عمری آڑے آئی اور ایک سپاہی کے طور پر وہ مسترد ہو گیا۔ ہار نہ ماننے والا والٹ اپنی عمر غلط بتا کر آخرکا ریڈ کریسنٹ کی ایمبولنس سروس میں بھرتی ہونے میں کامیاب ہوا اور سال بھر فرانس میں اپنی جنگی ملازمت کے دوران اپنے بنائے کارٹون سے سجی ایمبولینس چلاتا رہا۔
    دنیا کی اُبھرتی ہوی طاقت امریکا کے لیے اپنی خدمات پوری کر کے والٹ کنساس پہنچا تو سب سے پہلی مشکل غمِ روزگار کی تھی۔ بچپن سے کارٹون بناتے والٹ کی اب سب سے بڑی خواہش اخبار میں ایک کارٹونسٹ بننے کی تھی۔ والٹ کے باپ جیسے بھائی رائے کے تعلقات کی مدد سے اسے ایک آرٹ شاپ میں تربیتی ملازمت مل گئی۔
    "وہ مجھے تصویریں بنانے کے پیسے دے رہے ہیں۔! "
    سترہ سال کی عمر میں ایک کاروباری فنکار بن جانا والٹ کے لئے بہت بڑا اعزاز تھا۔ ایک ایسی عظیم کامیابی جس کی خوشی سنبھالے نہ سنبھلتی تھی۔ اپنے شوق کو روزگار اور کمائی کا ذریعہ بنتا دیکھنا والٹ کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک تھی۔ شوق اور لگاﺅ کو معاشیات سنبھالتے اور غمِ روزگا رکا تریاق بنتے دیکھنا والٹ کے لیے ایک معجزہ بھی تھا اور نئے افق کے دروازے کھولتا ایک رستہ بھی۔ والٹ کو اک ادراک سا ہونے لگا کہ انگلیوں کی مہارت کا جادو زندگی کی مشکلوں کا سہارا بھی بن سکتا ہے۔ بیسویں صدی عیسوی کی شروعات میں کارٹونسٹ کا صرف یہی مستقبل تھا کہ وہ اخبار میں کارٹون بنائے یا چھوٹی چند سیکنڈز اور منٹوں کے خاموش اشتہار بناے جائیں۔ یقینی طور پر والٹ ڈزنی سے پہلے کارٹون سیریز اور کارٹون پر مبنی لمبی فیچر فلموں کے بارے میں تخّیل کا بڑا کام صرف والٹ کی سوچ اور کوششوں نے کیا۔ اسی لیے بجا طور پر والٹ ڈزنی ساری کارٹون دنیا کے بانیوں میں شمار ہوا اور مکیماس کا باپ کہلایا۔
    آرٹ کی دکان میں نوکری کی خوشی زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوئی۔ کرسمس کی چھٹیوں کے بعد آرٹ شاپ پر کام کم ہو جانے کی بنا پر والٹ کو اس ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ والٹ ڈزنی ایک بار پھر روزگار کی مشکل میں پھنس گیا۔ اِدھر اُدھر ملازمت کی ناکام کوشش کے بعد والٹ نے اپنے دوست کے ساتھ مل کے ایک آرٹ شاپ کھولنے کا فیصلہ کیا اور……… IWWERKS-DISNEY کے نام سے اس دکان کا آغاز کیا۔ فرانس میں فوج کی ایمبولینس سروس سے کمایا گیا معاوضہ اپنے والد سے منگوا کر والٹ نے دفتر کے لیے بنیادی سازوسامان کا انتظام کیا اور جلد ہی اتنا منافع کما لیا کہ دوسرے ماہ اپنا ذاتی دفتر حاصل کرنا ان کے لیے ممکن ہو گیا۔ ایک مناسب منافع بخش کاروبار ی شروعات کے باوجود والٹ کے دل میں اپنے کارٹون کرداروں کی سیریز بنانے کا خواب زندہ و جاوید تھا۔ کاروبار کے ساتھ ساتھ وہ اپنے کارٹون کی مشہوری بھی جاری رکھے ہوا تھا اور اس مشہوری کی بنا پر والٹ کو ایک اشتہاری فلم بنانے والی کمپنی Kansas City Film Ad. میں 40ڈالر والی نوکری مل گئی۔ ذاتی کاروبار دوست کے حوالے کر کے والٹ نے اس نوکری کا آغاز کیا۔ مگر دوست تنہا اس کاروبار کو نہ سنبھال پایا اور جلد اس دکان کو بند کر کے وہ بھی نوکری میں والٹ کے ساتھ شریک ہو گیا۔

  • فاتحین ۔ حدیث کہانی

    فاتحین ۔ حدیث کہانی

     

    فاتحین
    سید ثمر احمد

    مدھم خوش بو ، سرد شام، دھیمی روشنی اور پِن ڈراپ سائلنس۔ ستر اسی لوگوں کا یہ مجمع اہلِ درد کا اکٹھ تھا۔ یہ محض سننے، دھننے اور سر جھٹک کے اٹھ جانے والے لوگ نہیں تھی بلکہ یہاں بیٹھا ہر شخص اپنا حصہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ وہ زندگی کو سو کر اٹھنا، کھانا پینا، کاروباریا ملازمت کرنا، واپس آنا، نسل بڑھانا اور پھر سوجانا سے بڑھ کے سمجھتے تھے۔ جیسے یہ چنے ہوئے لوگ ہوں، قحط کے دور میں اسے دور کرنے کی تدبیریں اور عمل رکھنے والے مجذوب، جنہیں کسی آہ، کسی واہ کی پروا نہیں تھی۔ یہ راز پا چکے تھے کہ اگر محلہ صاف نہ کیا گیا تو محض گھر صاف رکھنے سے بیماری سے بچاؤ ناممکن ہوگا۔ یہ خود غرضوں کا مجمع تھا، یا شاید بے غرضوں کا۔ ان کی ساخت پرداخت کی گئی تھی۔ کچھ نئے تھے کچھ پرانے،لیکن سبھی سرشار، مطمئن اور بے قرار۔ ایسا نہیں کہ ا ن کے جذبات نہیں تھے، انہیں محبتیں نہیں ہوتی تھیں، ان کے جسم پیٹ سے خالی تھییایہ زمانے سے کٹے ہوئے ملنگ تھے، نہیں۔ یہ کچھ اور تھے جیسے جوہر ہوتا ہے۔ حشمت بیگ نے خام مال کندن بنادیا تھا۔ ان کا چہرہ نورِیقین سے تمتا رہا تھا۔ 
    ”آپ کو ایک واقعہ سناؤں؟” مجمع میں حشمت بیگ کی آواز گونجی، خاموشی اجازت تھی۔
    ”زمین دار نے استاد سے عرض کی کہ آپ میرے بچے کو بھی کچھ وقت دے دیا کریں۔ اب دیکھیے! علم کی اہمیت اور تڑپ کیا ہوتی ہے، استاد کیسا ہوتا ہے اور طالب علم کیا ہوتا ہے۔ آپ بات سمجھ رہے ہیں نا؟”۔ بے آواز خاموش چہروں میں اثبات کی حرکت پیدا ہوئی۔ 
    ”استاد نے کہا میرے پاس وقت نہیں بچتا۔ میں آٹھ کوس فاصلہ پیدل طے کرکے جاتا ہوں، پڑھاتا ہوں، پھر واپسی۔ اس لیے آپ کے پیسے آپ کو مبارک۔ اگر وقت ہوتا تو ضرور دیتا۔ زمین دار پہلے سے طے کر آیا تھا کہ سوال کا حل کیا ہے۔ بولا، میرے اصطبل میں کئی گھوڑے ہیں، آپ ان میں سے ایک لے لیجیے، اس طرح فاصلہ جلد طے ہوجائے گا، اس سے جو وقت بچے وہ میرے بچہ کے لیے اعزاز ہوگا۔ استاد نے آمادگی ظاہر کی اور سلسلہ چل نکلا۔” حشمت بیگ نے خاموش چہروں پر نظر دوڑائی جو ان کی بات سننے کے لیے ہمہ تن گوش تھے۔وہ پھر گویا ہوئے:
    ” اسی گاؤں میں ایک اور بچہ تھا، علم کا حریص۔ اس نے استاد سے درخواست کی کہ مجھ غریب کو بھی پڑھا دیجیے۔استاد نے اسے بھی وہی جواب دیا جو زمین دار کو دیا تھا، کہ دو جگہوں پہ پڑھا کے وقت اگر بچتا تو ضرور تمہیں دے دیتا ،لہذا میں مجبور ہوں۔ بچہ بھی ذہین اورہوشیار تھا۔ عرض کی کہ جب آپ گاؤں میں داخل ہوں تو میں آپ کے گھوڑے کے ساتھ ساتھ چل لیا کروں گا۔ اسی دوران آپ مجھے نیاسبق دے دیا کریں اور پرانا سن لیا کریں، جب زمین دار کا گھر آئے تو چلے جایا کریں، کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ استاد نے اپنے لائق شاگرد کے جذبہ کو دیکھتے ہوئے ہاں کردی۔ بھلا ایسے شاگرد روز روز تھوڑا ہی ملا کرتے ہیں۔ تاریخ نے اس بچہ کا نام لکھا جس نے اپنی ابتدائی تعلیم گھوڑے کے پیچھے بھاگتے حاصل کی تھی، اور اس کا نامہے محمد بن حامد الغزالی۔ ”
    ”امام غزالی؟’۔ مجمع میں سے کسی نے تصدیق چاہی۔” 
    ”جی ہاں! امام غزالی” حشمت بیگ نے ستائشی لہجے میں جواب دیا۔ 
    ” یہ تھے ہمارے اسلاف۔،یہ تھے وہ کہ جن کی دنیا پیروی کرتی تھی، جن کے فیشن اپنانا فخر سمجھتی تھی، جن کی زبان ترقی کی معراج سمجھی جاتی تھی، جو دنیا میں امام کی حیثیت رکھتے تھے، جن کے علاقے سونا اگلتے تھے، جو اپنی وقت کی بہترین ٹیکنالوجی کے خالق تھے، جو اپنے وقت کے معتبر ترین اور معزز ترین لوگ تھے اور دانش جن کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی رہتی تھی۔ ” حاضرین ان کی اور اپنی حالت کا تقابل کرتے ہوئے سرشاری اور بے قراری سے سر دھن رہے تھے۔ 
    اسی اثنا میں شربت سرو کیا جانے لگا۔ بیگ صاحب جانے شربت بھی کہاں سے منگوایا کرتے تھے۔ جیسے ہمارے دور کے ایک صاحب کا کھانا بہت مزے دار تھا۔ ان سے پوچھا گیاکہ یہ کھانا آپ خود بناتے ہیں لیکن یہ اتنا لذیذ کیسے ہوتا ہے؟ ایسا ذائقہ کہیں اور نہیں ملتا۔توانہوں نے جواب دیاکہ اس کے مسالے دنیا بھر سے مجھے جنات اکھٹا کر کے دیتے ہیں۔ لگتا ہے جتنا مزے دار شربت یہاں ملتا ہے، اس کے پیچھے بھی کہانی کچھ اورہے۔ابھی ہم اپنی سوچوں میں ہی گم تھے کہ بیگ صاحب نے اپنی گفت گو کا سلسلہ پھر جوڑا:
    ”یار! صرف گلے پھاڑ کے نعرے لگانے سے کچھ کب ہوا ہے؟ تاریخ میں کوئی مثال ملتی ہے تو ہمیں بھی کوئی بتائے۔ ابھی یونیسکو کی ہیومن ڈیویلپمنٹ رپورٹ آئی ہے جس کے مطابق ہم مسلمان ہر سال اوسطاً ایک سے بھی کم کتاب پڑھتے ہیں اور ایک یورپی تقریباًتین اعشاریہ پانچکتابیں پڑھتا ہے جب کہ ایک اسرائیلی پینتالیسکتابیں۔ فرق تو صاف ظاہر ہے پھر۔” ابھی بیگ صاحب اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہوئے ہی تھے کہ مجمع میں سے ایک نو جوان کی آواز ابھری:
    ”سر! مسئلہٹائم کا ہے۔ میں نے کئی بار پڑھنے کی کوشش کی لیکن وقت ہی نہیں نکل پاتا۔” 
    حشمت بیگ صاحب مسکرائے اور گویا ہوئے: 
    ” یار! جن کے پاس فیس بک استعمال کرنے کے لیے گھنٹوں ہوں ،انہیں سنجیدہ مطالعہ کے لیے وقت کیسے نہیں مل پاتا؟”۔ نوجوان کھسیا نا سا ہو گیا۔بیگ صاحب پھر محوِکلام ہوئے:
    ”بیٹے !ہم لاہور میں بیٹھے ہیں۔ کراچی والے ہم سے زیادہ مصروف ہیں لیکن وہاں رجحان زیادہ ہے۔ اور یورپ والے ان سے زیادہ۔ یہ ان کاتو بہانا ہو سکتا ہے ،ہمارا نہیں۔ ”
    ”لیکن سر ایک اور مسئلہ غربت کا بھی تو ہے۔ یہاں دو وقت کی روٹی سے فرصت ملے تو بندہ کچھ کرے نا۔’ایک الجھی ہوئی سرگوشی ہوئی۔
    ”بیٹا! پھر جنہیں مالی فراغت میسر ہے وہ کیوں نہیں پڑھتے؟ جیسے عرب مسلمان ۔مغربی دنیا کا فرد ایک سال میں اوسطاً دوسوگھنٹے پڑھتا ہے۔ اور ہم سمیت عرب مسلمان آپ جانتے ہو کتنا مطالعہ کرتے ہیں؟ صرف چھے منٹ۔ یہ عرب تھاٹ فانڈیشن کی رپورٹ ہے۔’بیگ صاحب کی شفیق آواز میں تاسف نمایاں تھا۔
    ”سر معذرت !میں برِصغیر کی مثال دینا چاہ رہا تھا۔” آواز اسی نو جوان کی تھی۔ بیگ صاحبب کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ 
    ”آپ کے علم میں ہے کہ دنیا بھر میں ایک ہفتے کے دوران سب سے زیادہ کون سے ملک کے لوگ پڑھتے ہیں؟” بیگ صاحب نے الٹا اس نوجوان سے سوال کردیا۔ 
    ”نہیں سر۔”
    ”ہندوستان کے،ایک ہفتے میں دس گھنٹے اور بیالیس منٹ۔ اب کہاں جائیں حیرت کے سوا؟ یار اسرائیل کے پچپنلوگ کموڈ پہ بیٹھ کے بھی پڑھنے کے عادی ہیں۔ انگلینڈ کے لوگوں نے فلمیں کم دیکھیں ہیں ایک سال میں اور کتابیں زیادہ پڑھیں ہیں۔ ہم کچھ تو سوچیں یا صرف باتیں ہی کرنی ہیں۔” بیگ صاحب آج معمول سے ہٹ کر کچھ جذباتی سے ہوگئے تھے۔ان کی آواز رندھ گئی تھی۔ اپنے زوال کو عروج سے بدلنے کا عزم رکھنے والا یہ باہمت درویش علم کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ پاتا تھا۔مجمع میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھاگئی۔ یہ خاموشی اس مجلس کا مستقل حصہ تھی۔لوگ ایک تاثر میں ڈوبے رہتے یہاں تک کہ گفت گو کاسلسلہ دوبارہ جڑ جاتا۔ لیکن اس بار بہت سے لوگوں کی ٹھنڈی آہیں ایک ساتھ بلند ہوئی تھیں اورایک سنسناہٹ پیدا کرگئی تھیں۔ 

    ”وقت وقت کی بات ہے ۔ایک دورتھا جب مسلمانوں کے شہر روشنیوں میں ڈوبے ہوتے تھے۔ اس وقت شان الیزے اور لندن کیچڑ میں لت پت ہوتے تھے۔ بڑی بیگمات چوراہوں سے گزرتے ہوئے اپنے فراک اوپراٹھا لیا کرتی تھیں کہ گندے نہ ہوجائیں۔ ایک وقت تھاجب کسی کے سر میں درد ہوتا تو یورپ میں پادری بتایا کرتے کہ اس میں شیطان گھس گیا ہے۔ اب اس کاواحد علاج یہ ہے کہ سرمیں ڈنڈے مارے جائیں۔پھر شیطان بچتا نہ مریض ۔” بیگ صاحب کی اس بات پر مجمع میں ایک قہقہہ بلند ہوا ۔
    وائے ناکامی متاعِ کاررواں جاتارہا
    کاررواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
    حشمت بیگ کتنی دیر سرجھکائے تاسف میں ہلاتے رہے۔ یہ ان کی عادت تھی، جوشعر پسند آجاتا ہے اس کا لطف صحیح سے اٹھاتے اور دیکھنے والے احساس لیے بغیر نہ رہ پاتے۔ وہ کہاکرتے کہ جس نے شعر کا لطف لینا نہ سیکھا، اس نے کیا زندگی گزاری۔
    ”چلو تمہیں مزے کا واقعہ سناؤں۔”بیگ صاحب کے چہرے پہ کچھ تازگی نمودار ہوئی تھی۔ 
    ”ایک وقت تھا کہ دنیامیں تین بڑی سلطنتیں تھیں اور تینوں کے بادشاہ مسلمان تھے اورتینوں کے ناموں کے ساتھ عظمت کا لاحقہ لگا ہوا تھا۔ ہندوستان میں اکبرِ اعظم،ایران میں صفوی سلطنت کے عباسِ معظم اور ترکمانِ عثمانیہ میں سلطان سلیمان ذیشان ،سلیمان دی میگنیفیشنٹ۔انگلستان والے کہیں لڑنے جانے لگے توایک سفارت سلطان سلیمان کے پاس بھیجی۔ یہ سفارت عرضی لے کر آئی تھی کہ ہمیں ایک مہم درپیش ہے اور آپ سے گزارش ہے کہ ہماری غیر موجودگی میں ہماری سلطنت کی حفاظت کی جائے تاکہ فرانس والے قبضہ نہ جما سکیں۔ یہ تھے ہمارے اسلاف، یہ تھے ہم۔” مجمع ایک بار پھر سر دھن کر رہ گیا۔ 
    ”توہم کیا کرسکتے ہیں اس سب میں؟ہم تو نقصان پہ نقصان اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہم، ہمارے بچے سبھی۔ ہردن ایک نیا حادثہ ، ایک نیا سانحہ۔ خوشیاں توہم سے جیسے روٹھ ہی گئیں ہیں۔آئے روز ڈپریشن میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔خوشی کی خبر مل جائے تو یقین ہی نہیں آتا، اتنے جھوٹ ہمارے ساتھ ہوئے ہیں کہ سچ پر بھی جھوٹ کاگمان ہوتا ہے۔”ایک شخص بولتا چلا گیا جس کے چہرے پر حالات کی پریشانیاں رقم تھیں۔
    پروفیسر ازل کا سکون لیے ہوئے سنتے رہے، مسکراتے رہے۔ وہ شخص خاموش ہوا تو سدا کاامید پرست گویا ہوا۔

  • حضرت خضر علیہ السلام ۔ قرآن کہانی

    حضرت خضر علیہ السلام

    عمیرا علیم

    انسان کی ظاہر بین نگاہ جو دیکھتی ہے وہ اس سے اپنی مرضی کے نتائج اخذ کرتا ہے۔ درحقیقت کائنات کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی وہ مصلحتیں کار فرما ہوتی ہیں، جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ جیسا کہ بدکاروں کا عیش و عشرت میں ہونا، ظالموں اور نافرمانوں پر انعامات کی بارش، نیک لوگوں کا خستہ حال ہونا، بہ ظاہر ایسے حالات ہیں، جن کی وجہ سے لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
    نبوت کے آغاز سے ہی کفار نے نبی کریم ﷺ مخالفت شروع کر دی تھی اور پھر یہ مخالفت انتہا تک پہنچ گئی۔ مخالفین نے آپﷺ اور اصحاب کے خلاف اعتراضات، الزامات، تضحیک اور مخالفانہ پروپیگنڈے کا محاذ قائم کر رکھا تھا۔ اللہ تبارک تعالیٰ کی طرف سے سورۂ کہف میں مختلف واقعات بیان کیے گئے، جن میں مسلمانوں کو ہمت و حوصلے کا درس دیا گیا اور سمجھایا گیا کہ بہ ظاہر مسلمانوں کو ایک مشکل دور ضرور درپیش ہے لیکن جلد ہی یہ وقت گزر جائے گا۔ لہٰذا مسلمان صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
    سورۂ کہف میں بیان کردہ واقعات میں سے ایک اہم واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا ہے اس واقعے میں اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت خضر علیہ السلام کے ذریعے اپنے کارخانۂ مشیت میں شب و روز رونما ہونے والے واقعات میں سے چند ایک پر پردہ اُٹھا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہلکی سی جھلک دکھائی اور یہ واضح کیا کہ ظاہر و باطن میں کیا تفریق پنہاں ہے۔
    روایات میں یہ قصہ کچھ یوں شروع ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام لوگوں کو وعظ و نصیحت فرما رہے تھے اور آپ علیہ السلام کے بیان سے لوگوں پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ کسی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا: ’’اے اللہ کے رسول! کیا روئے زمین پر آپ سے بھی بڑا کوئی عالم ہے؟‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ 
    اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی بات سخت ناپسند فرمائی اور آپ علیہ السلام کی سرزنش فرمائی کہ آپ علیہ السلام نے علم و حکمت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں نہیں فرمائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی گئی کہ ’’میرا ایک بندہ جو دو دریاؤں کے سنگم پر رہتا ہے وہ تجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو ارشاد ہوا: ’’اپنے ساتھ ایک مچھلی لیجئے اور اِسے ٹوکرے میں رکھئے۔ جس جگہ مچھلی گم ہو گی۔ وہی آپ کی جائے ملاقات ہو گی۔‘‘
    ایک دفعہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ حضرت خضر علیہ السلام سے جس شخص کی ملاقات ہوئی تھی وہ اللہ کے رسول اورنبی حضرت موسیٰ علیہ السلام نہیں بلکہ کوئی اور تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’وہ اللہ کا دشمن جھوٹ بکتا ہے۔‘‘
    قرآن اس شخص کے نام کے حوالے سے خاموش ہے جس سے ملنے کی خواہش کا اظہار حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیا لیکن تمام معتبر احادیث میں ان کا نام خضر بتایا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کی کچھ روایات کے مطابق یہ قصہ حضرت الیاس علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کے کئی برس بعد پیش آیا۔
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی لی اور سفر کا آغاز اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کشتی کے ذریعے کیا۔ آپ علیہ السلام نے جس ساتھی کے ساتھ سفر کیا اُس کا نام قران میں نہیں بتایا گیا۔ لیکن بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے اور ان کی ڈیوٹی تھی جہاں مچھلی گم ہو جائے آپ علیہ السلام کو فوراً آگاہ کرے۔ راستے میں دونوں سستانے کے لیے بیٹھ گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ تب ہی اچانک مچھلی ٹوکری میں تڑپنے لگی۔ قریب ہی دریا میں گر گئی اور جہاں جہاں سے گزری ایک سرنگ بنتی چلی گئی اور پانی ساکت ہو گیا یہ تھی اللہ کی قدرت۔ آپ علیہ السلام کے ساتھی نے آپ علیہ السلام کو نہ جگایا اور ارادہ کیا کہ جب آپ جاگیں گے تو آپ کو خبر دیں گے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قیام کیا وہاں ایک چٹان کے نیچے حیات (زندگی) نامی چشمہ بہتا تھا، جس بھی چیز تک اُس کا پانی پہنچ جاتا وہ زندہ ہو جاتی۔ جیسے ہی مچھلی اُس پانی میں گئی وہ زندہ ہو گئی اور بے تاب ہو کر پانی میں کود گئی۔ 
    جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جاگے تو آپ علیہ السلام کے ساتھی یہ بات بھول گئے اور اس کا ذکر نہ کیا۔ سفر کا دوبارہ آغاز ہوا اور جب دوسرا دن ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کہا: ’’ہمارا صبح کا کھانا لے آؤ بے شک ہمیں اپنے سفر میں بڑی مشقتبرداشت کرنی پڑی ہے۔‘‘ تب یوشع بن نون نے آپ علیہ السلام کو مچھلی کے بارے میں اطلاع دی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی کے ساتھ واپسی سفر کیا اور اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی پانی میں کودی تھی یہاں ان کی حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ نبی کریم ﷺ کے فرمان ہے کہ: ’’ دونوں نشان دیکھتے ہوئے واپس لوٹے حتیٰ کہ چٹان تک پہنچ گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کپڑا اوڑھے لیٹاہوا ہے۔‘‘ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے سمندر کے درمیان پانی پر چٹائی بچھائی ہوئی تھی اور اس پرلیٹے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بتایا: ’’میں موسیٰ علیہ السلام ہوں۔‘ ‘حضرت خضر علیہ السلام بولے: ’’بنی اسرائیل کا نبی موسیٰ علیہ السلام؟‘‘ آپؑ نے فرمایا: ’’ہاں میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ مجھے اس ہدایت کی تعلیم دیں جس سے آپ کو نوازا گیا ہے۔‘‘
    حضرت خضر علیہ السلام فرمانے لگے۔ ’’اے موسیٰ! اللہ نے آپ کو تو رات سے نوازا ہے۔ آپ کے پاس تو وحی آتی ہے۔ آپ کو جو علم عطا ہوا وہ مجھے سیکھنا نہیں چاہیے اور جو علم مجھے ملا وہ آپ کو نہیں سیکھنا چاہیے۔‘‘ تبھی ایک پرندے (چڑیا) نے سمندر سے اپنی چونچ سے پانی پیا۔ یہ دیکھ کر حضرت خضر علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میرے اور آپ کے علم کو اللہ تعالیٰ کے علم سے وہ نسبت بھی نہیں جو چڑیا کی چونچ میں موجود پانی کو سمندر سے ہے۔‘‘ لیکن جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زیادہ اصرار کیا تو حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: ’’اے موسیٰ ! آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بار بار کہنے پر وہ آپ علیہ السلام کو ساتھ لے کر چلنے لگے اور فرمایا :’’ اگر آپ کو ساتھ رہنا ہے تو میں جو بھی کروں گا، اس کے بارے میں کوئی سوال مت کیجیے گا۔‘‘
    حضرت موسیٰ علیہ السلام ،حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ چلنے لگے۔ ساحلِ سمندر کے ساتھ چلتے ہوئے وہ ایک کشتی پر سوار ہوئے۔ کشتی کے ملاحوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کہا کہ آپ تو اللہ کے نیک بندے ہیں لہٰذا انہوں نے اس بندۂ صالح کو کرایہ لیے بغیر سوار کرلیا۔ حضرت خضر نے چپکے سے کشتی میں سوراخ کر ڈالا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ فعل سخت ناپسند فرمایا اور بول اُٹھے: ’’کیا تو نے اس لیے شگاف کیا ہے کہ اس کی سواریاں ڈوب جائیں۔ یقیناًتم نے بہت برا کام کیا ہے۔‘‘ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا میں نے آپ کو کہاتھا آپ میرے ساتھ رہتے ہوئے صبر نہیں کر سکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عذر خواہی چاہی اور بولے میری بھول تھی۔ اس دفعہ درگزر فرمائیں۔
    کشتی سے اُتر کر دونوں نے دوبارہ سفر کا آغاز کیا۔ اُنہیں راستے میں ایک لڑکا ملا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر کچل ڈالا۔ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو ہم جولیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا اور اس مسخرے کافر لڑکے کو پکڑا، لٹایا اور چھری سے ذبح کر ڈالا۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ فعل برداشت نہ کر سکے اور نہایت غضب ناک ہو کر بولے: ’’آپ نے ایک معصوم ذی نفس کو مار ڈالا۔‘‘ حضرت خضر علیہ السلام بولے: ’’میں نے کہا تھاکہ آپ سے کہ آپ میری معیت میں صبر نہیں کر سکیں گے۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور آپ معذرت خواہ ہوئے اور فرمایا: ’’اگر میں ایسی غلطی کا دوبارہ ارتکاب کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ مت رکھیے گا۔‘‘
    ایک بار پھر سفرشروع ہوا اور دونوں چلتے چلتے ایک گاؤں پہنچے۔ بھوک سے بے حال، گاؤں والوں سے کھانا طلب کیا لیکن گاؤں والوں نے آپ کی میزبانی سے انکار کر دیا۔ وہاں ایک دیوار گرنے کے قریب تھی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس دیوار کو دوبارہ تعمیر کر دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام حیران ہوئے اور بولے آپ کے ساتھ گاؤں والوں نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ آپ کو اس دیوار کی تعمیر کی اُجرت لینی چاہیے تاکہ کھانا خریدا جا سکے۔ یہ سُن کر حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: ’’بس اب ہمارے راستے جدا ہوئے۔ لیکن میں وہ حقائق واضح کر دوں جن کی وجہ سے میں نے یہ تینوں کام سرانجام دیئے۔
    وہ کشتی جس میں ہم سوار ہوئے وہ چند غریب آدمیوں کی تھی۔ جس راستے سے وہ گزر رہی تھی وہاں آگے ایک بادشاہ رہتا تھا، جو زبردستی کشتیاں چھین لیتا۔ لیکن وہ عیب دار کشتی نہیں پکڑتا تھا یہی وجہ تھی کہ میں نے اُس میں شگاف ڈالا۔ تاکہ وہ لوگ اس کی مرمت کروا کر دوبارہ استعمال کر سکیں۔
    اور جس لڑکے کو میں نے مار ڈالا وہ مومن والدین کی اولاد تھا۔ لیکن اُس نے جوانی میں سرکشی اور کفر میں مبتلا ہو کر اپنے والدین کے لیے اذیت کا باعث بننا تھاچناں چہ میں نے اُس کو قتل کر دیا۔ اب اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اُن کو نیک اور صالح اولاد عطا کرے گا۔
    اور جہاں تک دیوار کا معاملہ ہے، وہ دو یتیم بھائیوں کی ملکیت تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ جب وہ جوانی کی عمر کو پہنچیں گے تو وہ اس کو دیکھ لیں گے اور میں نے یہ تمام کام اللہ تبارک تعالیٰ کی مرضی سے سر انجام دیئے۔‘‘
    بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس خزانے سے مراد علم ہے (یعنی وہاں کتابیں دفن ہوں گی) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس خزانے کا اللہ تبارک تعالیٰ نے کتابِ مبین میں ذکر کیا ہے وہ دراصل سونے کی مضبوطی تختی تھی جس پر یہ عبارت کنندہ تھی: ’’مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے اور پھر مشقت میں پڑتا ہے۔ مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر جو جہنم کا ذکر کرتا ہے اور پھر بھی ہنستا ہے۔ مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر جس کے سامنے موت کا ذکر کیا جاتا ہے اور پھر بھی وہ غافل رہتا ہے۔لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہماری تو یہ تمنا ہے کہ کاش حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صبر کیا ہوتا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں ہمیں کچھ مزید بھی بتاتا۔‘‘
    علماء حضرت خضر علیہ السلام سے متعلق مختلف آراء رکھتے ہیں۔ کچھ علماء کا خیال ہے کہ آپ نبی تھے، کچھ کہتے ہیں کہ آپ ولی تھے جب کہ کچھ کی یہ رائے ہے کہ آپ فرشتے تھے۔ بہرحال قرآن سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ بندے تھے، آپ کوئی عام شخص نہ تھے۔ کیوں کہ حضرت خضر علیہ السلام نے جو تین کام کیے، ان میں سے پہلے دو کام تمام شریعتوں سے متصادم ہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی شریعت یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ کسی بے گناہ کو قتل کر دیا جائے یا کسی کی ذاتی چیز کو خراب کیا جائے۔ لیکن یہ ثابت ہے کہ حضرت خضر نے یہ کام اللہ کی رضا سے سرانجام دیئے ۔ اللہ نے آپ کو ایک خاص علم سے نوازا تھا اور ان کاموں کو کرنے میں اللہ کی مصلحت کار فرما تھی۔
    اصل سوال یہ ہے کہ اللہ کے ان احکام کی نوعیت کیا تھی۔ کیوں کہ یہ تشریحی احکام نہ تھے اور نہ ہی کسی انسان کے لیے یہ گنجائش رکھی گئی کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر بلا ثبوت الہام کی بنیاد پر ناحق قتل کرے یا کسی کی مملوکہ چیز خراب کرے۔ یہ احکام ان تکوینی احکام سے ملتے جلتے ہیں جن کے تحت کوئی بیمار ہو جاتا ہے، کسی کو زندگی سے نوازا جاتا ہے، کسی کو موت آتی ہے جب کہ کسی کو صحت و تن درستی عطا ہوتی ہے۔ تمام علماء اکرام اس بات سے متفق ہیں کہ کوئی انسان الہام کی بنیاد پر یہ افعال سرانجام نہیں دے سکتا۔ ان کاموں کے لیے فرشتے مقرر ہیں۔
    یہ ایک لاحاصل بحث ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام ولی تھے، نبی تھے، فرشتے تھے یا اللہ کی کوئی اور مخلوق رہیں اس قصے سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور وہ سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام مصلحت سے خالی نہیں اور ذاتِ باری تعالیٰ کے ہر کام میں بہتری کا کوئی نہ کوئی پہلو چھپا ہوتا ہے۔ اس لیے جو بھی معاملہ درپیش ہو اللہ کی رضا پر راضی رہیں اور صبر کریں۔ بے شک اللہ آسانیاں پیدا کرنے والا ہے۔

    ****