
باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۶ ۔۔۔۔ شاذیہ خان
اگلے دن ماں اور مُنی ناشتہ کر رہی تھیں کہ منی نے ڈرتے ڈرتے بات شروع کی۔ ”اماں ایک بات کہوں؟ناراض تو نہیں ہوگی؟” ”ہاں
![]()

اگلے دن ماں اور مُنی ناشتہ کر رہی تھیں کہ منی نے ڈرتے ڈرتے بات شروع کی۔ ”اماں ایک بات کہوں؟ناراض تو نہیں ہوگی؟” ”ہاں
![]()

کنول شکل سے اجڑی ہوئی، چہرے پر خراشیں اور چوٹ کے نشان لیے بار بار بے چینی سے ریحان کے فلیٹ پر کھڑی بیل دے
![]()

کلاس روم اس وقت ہنستے کھلکھلاتے ہوئے چہروں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر چہرے پر سُرخی تھی۔ ہر لب کے کنارے پھیلے ہوئے تھے۔ دائیں
![]()

اپنی دکان پر روبی سے باتیں کرتے ہوئے عابدایک دم طیش میں آ گیا کیوں کہ اسے لگ رہا تھا کہ روبی اسے روز ایک
![]()

فوزیہ ہاتھ میں گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا پتا لیے بس سے نیچے اتری اور ایک راہ گیر کو پرچی دکھاتے ہوئے ایڈریس دریافت کیا۔
![]()

آج کافی دن کے بعد فوزیہ عابد کی دکان میں کھڑی چیزیں دیکھ رہی تھی۔اب گاہ بہ گاہ وہ اس کی دکان میں آتی رہتی
![]()

گاؤں کی سب سے الہڑ،بے باک اور منہ پھٹ مٹیار فوزیہ بتول تھی جو کسی کو خاطر میں نہ لاتی،جس راستے سے گزرتی نوجوان اپنا
![]()

ناول ”سیاہ اور سفید کے درمیان ” تحریر: نائلہ عرفان Surah Al-Baqarah (Ayat 286) ”خدا کسی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں
![]()

قسط نمبر4 ”چنبیلی کے پھول“ اُسے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا۔ کچھ لمحوں کے لئے اس کے حواس منجمد ہوگئے۔ وہ اتنی بے
![]()

تحریر:نوید احمد قسط نمبر3 ”چنبیلی کے پھول“ زوار نے اُس کی طرف دیکھا تو اُس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی مگر وہ مسکرا بھی نہ سکی۔
![]()