Author: misbah116@hotmail.com

  • چار موسم ۔ حِصّہ  اول ۔ الف نگر

    چار موسم ۔ حِصّہ  اول ۔ الف نگر

    چار موسم

    حِصّہ  اول

    سارہ قیوم

    کسی گاؤں میں ایک نیک دل، سب کی مدد کرنے والی اور ہمیشہ خوش رہنے اور رکھنے والی بُڑھیا رہتی تھی۔ اُس کا ایک غریب بیٹا تھا جس کے بچے ہر وقت دادی کے ساتھ چمٹے رہتے اور نت نئی فرمائشیں کرتے رہتے۔

    ایک بچے نے فرمائش کی: ”دادی اماں! مجھے میٹھا پراٹھا بنا دو۔”

    دوسرا بولا: ”مجھے کھیر بنا دو۔”

    تیسرا ضد کرنے لگا: ”میں تو مرغی کھاؤں گا۔”

    اور اُن کی دیکھا دیکھی باقی بچے بھی ضد کرنے لگے۔ نیک دل بُڑھیا بہت دکھی ہوئی:

    ”ارے میرے بچو!” اُس نے غمگین ہوکر کہا: ”میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، تمہاری فرمائشیں کہاں سے پوری کروں؟”

    اُداس ہو کر بُڑھیا جنگل کی طرف چلی گئی اور تھک کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی۔ اچانک وہاں ٹھنڈ ہوئی اور درخت کے پیچھے سے سفید بالوں، لمبی داڑھی، سفید لباس والا بوڑھا آدمی نکل آیا۔ نیک دل بُڑھیا نے اُسے سلام کیا۔ بوڑھے آدمی نے اپنی سرد آنکھوں سے اُسے دیکھا اور کہا: ”میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔”

    بُڑھیا بولی: ”ضرور پوچھیے۔”

    بوڑھے آدمی نے پوچھا: ”جاڑا کیسا موسم ہے؟”

    ”ارے واہ کیا بات ہے جاڑے کی۔” بُڑھیا نے خوش ہوکر کہا: ”بہت ہی اچھا موسم ہے۔ سردیوں میں گرم گرم چائے پینے کا کتنا مزا آتا ہے اور رضائی میں بیٹھ کر مونگ پھلی، اخروٹ اور بادام کھانا اچھا لگتا ہے۔ جب میں بچوں کو آگ کے گرد اکٹھا کرکے کہانی سناتی ہوں تو مجھے اتنی خوشی ہوتی ہے کہ مت پوچھو۔” بوڑھا یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ اُس نے بڑھیا کو سلام کیا اور چلا گیا۔

    تھوڑی دیر بعد خوش بُو سے جنگل مہک اٹھا اور ایک بہت پیاری لڑکی ہرے رنگ کا لباس اور پھولوں کے زیورات پہنے پھولوں کی ٹوکری لیے بُڑھیا کے سامنے آئی۔

    ”سلام امّاں!” اُس نے نیک دل بُڑھیا سے کہا: ”ایک بات تو بتائیے، یہ بہار کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    بُڑھیا خوشی سے کِھل اٹھی اور چہک کر بولی: ”بہار کا موسم تو میری جان ہے۔ نہ گرمی نہ سردی، درختوں پر نئے پتے آتے ہیں۔ ہر طرف پُھول ہی پُھول کِھل اُٹھتے ہیں۔ بڑی پیاری ہوا چلنے لگتی ہے۔ بہار تو بہت ہی خوب صورت موسم ہے۔”

    لڑکی شکریہ ادا کرکے گئی تو وہاں ایک عورت تیز پیلے رنگ کے لباس میں سامنے آگئی اور پوچھا۔ ”اے اماں! یہ تو بتاؤ گرمی کا موسم کیسا ہوتا ہے؟”

    گرمی کی وجہ سے بُڑھیا نے ہاتھ سے پنکھا جھلتے ہوئے کہا: ”بہت اچھا موسم ہوتا ہے بیٹی! ہم ٹھنڈا ٹھنڈا شربت پیتے ہیں۔ آئس کریم کھاتے ہیں۔ گرمی اپنے ساتھ کتنے مزے دار پھل لاتی ہے۔ آم، تربوز، آڑو اور آلو بخارہ۔ ارے واہ واہ! کیا بات ہے گرمی کی۔”

    وہ سلام کرکے چلی گئی تو ایک گنجا، غمگین شکل والا آدمی بھورے رنگ کے کپڑے پہنے درختوں کے پتے گراتا ہوا وہاں آن پہنچا۔ وہ قریب آکر بولا: ”بڑی بی! آپ کو خزاں کا موسم کیسا لگتا ہے؟”

    بڑھیا نے سمجھ داری سے کہا: ”خزاں بڑا فائدہ مند موسم ہے۔ سب پرانے پتے جھڑ جاتے ہیں تاکہ نئے پتے نکل سکیں۔ لوگوں کو گرمیوں کے کپڑے رکھنے اور کمبل لحاف نکالنے کا وقت مل جاتا ہے۔ بھئی بہت اچھا ہے موسمِ خزاں۔”

    اِس کے بعد وہ چاروں نکل کر سامنے آگئے اور بڑھیا سے کہا: ”امّاں! ہم چار موسم ہیں۔ یہ سفید بالوں والا جاڑا ہے۔ پھولوں والی لڑکی بہار، یہ عورت گرمی اور میں خزاں ہوں۔ آج ہم میں جھگڑا ہوگیا کہ کون سا موسم سب سے اچھا ہے۔ پھر ہمیں آپ آتی دکھائی دیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ آپ سے پوچھا جائے۔ آپ نے ہمیں ہماری اتنی خوبیاں بتائیں۔ ہمیں پتا چل گیا کہ سارے ہی موسم اچھے ہوتے ہیں۔ آپ کی باتوں سے ہم بہت خوش ہوئے۔ اب آپ ہماری طرف سے کچھ تحفے قبول فرمائیے۔”

    موسموں نے نیک دل بُڑھیا کو بڑا سا صندوق دیا۔ بُڑھیا شکریہ ادا کرکے خوشی خوشی واپس چلی آئی۔ صندوق میں اتنے ہیرے، جواہرات اور موتی تھے کہ اُن کو بیچ کر اب وہ بچوں کی سب

    فرمائشیں پوری کرسکتی تھی۔

     

  • بلوچستان کی لوک کہانی ۔ سُنہری برتن ۔ لوک کہانی

    بلوچستان کی لوک کہانی

    سُنہری برتن

    ساجدہ غلام محمد

    جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ میں پیدا ہونے والی ساجدہ غلام محمد آج کل مانچسٹر (انگلینڈ) میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہیں۔ اس صدی کے اوائل سے انہوں نے لکھنے کا آغاز بچوں کے رسائل سے کیا۔ ماہنامہ پھول میں ایک عرصہ تک اپنی بہن ڈاکٹر زاہدہ پروین کے کے ساتھ قلم کے جوہر دکھاتی رہیں۔ بڑوں کے لیے بھی خوب لکھا۔ فکشن ان کا پسندیدہ میدان ہے۔ ”زندگی اک تشنگی” ان کا مقبول ناول جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، تقریباً سو کے قریب کہانیاں بچوں کے مختلف رسائل میں چھپ چکی ہیں۔ الف نگر اور الف کتاب کے لیے مستقل لکھنے والوں میں ان کا نام شامل ہے۔

    صدیوں پرانی بات ہے، بلوچستان میں دریائے بولان کے کنارے ایک بہت بڑا شہر آباد تھا۔ اُس شہر کا اصل نام تو نہ جانے کیا ہوگا، لیکن آج کے زمانے میں اسے ‘مہر گڑھ’ کہا جاتا ہے۔

    مہر گڑھ میں ایک نو سال کا بچہ فنامہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے والدبہت مہارت سے لوہے کے اوزار بناتے اور لوگ اُن سے یہ اوزار خریدتے تھے۔ انہوں نے فنامہ کو بھی مٹی کا ایک خوب صورت سا بیل بنا کر دیا جس سے وہ سارا دن کھیلتا رہتا۔

    ایک دن اچانک فنامہ کے والد بیمار ہوئے اور کچھ ہی روز بعد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ فنامہ تو ابھی چھوٹا تھا اور اس کی والدہ کو بھی علم نہ تھا کہ اوزار کیسے بنائے جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ گھر میں کھانے پینے کا سامان ختم ہونے لگا۔ نوبت یہاں تک آپہنچی کہ اُن کے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ بچا۔

    ”ہمیں بھوک لگی ہے لیکن کھانے کو کچھ نہیں، میں ایسا کرتا ہوں کہ اپنا یہ کھلونا بیل بیچ دیتا ہوں۔” فنامہ نے اداسی سے سوچا اور چپکے سے کھلونا بیل اپنے کپڑوں میں چھپا کر گھر سے نکل گیا۔ اس کی ماں کو اس بات کا علم نہ ہوا۔

    ”میرا بیل خریدلو، بہت خوب صورت ہے۔” فنامہ نے بازار میں کھڑے ہو کر آواز لگائی لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔

    ”یہ میرے والد نے خاص طور پر میرے لیے بنایا تھا، پکی مٹی کا ہے۔ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، یہ بیل خرید لو!” وہ آواز لگاتا رہا۔

    ”یہ ہمارے کس کام کا؟” لوگ اس کے پاس رک کر کچھ دیر کھلونے کو دیکھتے پھر آگے بڑھ جاتے۔ صبح سے شام ہوگئی لیکن کسی نے بھی کھلونا بیل نہ خریدا۔ فنامہ نے بہت دکھی دل سے اپنا کھلونا اٹھایا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔

    ”اے لڑکے! بات سنو۔” اچانک کسی نے اُسے بلایا۔ فنامہ نے سر اُٹھا کر دیکھا تو ایک بڑھیا درخت کے نیچے کھڑی تھی۔

    ”جی امّاں جی!” فنامہ نے بڑھیا کے قریب جاکرنرمی سے پوچھا۔

    ”میں نے اپنی نواسی کے لیے موٹی سیپیوںوالا بہت پیارا سا ہار بنایا تھا۔ اب اُسے دینے جا رہی تھی کہ راستے میں وہ ٹوٹ گیا۔ میری نظر کمزور ہے، مجھے تو تھوڑی سی سیپیاں نظر آئیں جو میں نے اُٹھا لیں۔ اگر تم میری مدد کر سکو تو بہت مہربانی ہوگی۔” فنامہ کا دل چاہا کہ بڑھیا کو انکار کر دے۔

    ”میں بھی تو صبح سے بازار میں کھڑا رہا، کسی نے میری مدد نہیں کی، میں کیوں اس کی مدد کروں؟” اس کے دل میںخیال آیا، لیکن پھر فوراََ ہی اُسے اپنے والد کا جملہ یاد آگیا: ”ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنا، کبھی کسی کو انکار مت کرنا۔” فنامہ نے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ بڑھیا کو دیکھا۔

    ”ٹھیک ہے، باقی کے سیپ میں آپ کو ڈھونڈ دیتا ہوں۔” فنامہ درخت کے آس پاس زمین پر سیپیاں چننے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس نے سیپیاں چُن کر بڑھیا کی طرف بڑھائیں۔

    ”یہ لیں، میں نے ساری سیپیاں اُٹھا لی ہیں۔” فنامہ نے بڑھیا سے کہا۔

    ”بیٹا! تمہارا بہت بہت شکریہ! تم بہت اچھے بچے ہو۔ تم نے میری مدد کی، اس کے بدلے میں تمہیں ایک تحفہ دیتی ہوں۔” بڑھیا نے سیپیاںتھام کر کالے رنگ کی تھیلی سے سنہری رنگ کا ایک گول سا برتن نکال کرفنامہ کی جانب بڑھایا جس پر نقش و نگار کے ساتھ اُونٹ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔

    ”امّاں جی! میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں، تو اِس برتن کا میں کیا کروں گا؟” فنامہ نے حیرت سے کہا۔

    ”اسی لیے تو میں یہ برتن دے رہی ہوں، یہ ایک جادُوئی برتن ہے۔ جب بھی تمہیں بھوک لگے، تم برتن کو اپنے دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ کرچار بار گہری سانس لینا، اس برتن میں تمہارا من پسند کھانا آ جائے گا۔” فنامہ کو بڑھیا کی بات سن کر بڑی حیرت ہوئی۔

    ”کیا واقعی؟ ایسا ہو سکتا ہے؟” اُس نے پوچھا۔

    ”بالکل ایسا ہی ہو گا، بس شرط یہ ہے کہ اس دوران جو بھی ضرورت مند تمہارے گھر آئے، تم اُسے بھی کھانا۔ اب یہ برتن پکڑو، مجھے دیر ہورہی ہے۔” اتنا کہہ کر بڑھیا لاٹھی ٹیکتی ہوئی ایک جانب چل دی۔

    فنامہ ایک ہاتھ میں برتن اور دوسرے ہاتھ میں اپنا کھلونا بیل تھامے گھر پہنچا تو ماں کو اپنا منتظر پایا۔ وہ بہت پریشان تھی، فنامہ نے آگے بڑھ کر فوراً ساری بات ماں کو بتادی۔

    ”چلو! تجربہ کر کے دیکھتے ہیں، اگر برتن میںکھانا نہ آیا تو اِسے پھینک دیں گے یا بیچ دیں گے۔” ماں نے کہا تو فنامہ نے برتن کو فرش پر رکھ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اُس کے منہ کو ڈھانپا اور چار بار گہری سانس لی۔ یکایک کمرے میں مزے دار سی خوش بو پھیل گئی۔ فنامہ نے جلدی سے ہاتھ ہٹائے تو برتن کے اندر اس کا من پسند کھانا آچکا تھا۔ ماں بیٹے نے حیرت اور خوشی سے کھانا کھایا اور تھوڑا سا کھانا چڑیا کو ڈال دیا جس نے ان کے گھر درخت پر گھونسلا بنا رکھا تھا۔

    اب اُن کے دن آرام سے گزرنے لگے۔ کھانے کی کوئی فکر نہیں تھی۔ جب بھی بھوک لگتی، فنامہ برتن کو ہاتھوں سے ڈھانپ کر چار بار گہری سانس لیتا تو فوراََ ہی برتن میں کھانا آجاتا۔ یہ اتفاق تھا یا کچھ اور جب بھی ایسا کچھ ہوتا تو اُن کے گھر کوئی نہ کوئی پرندہ یا جانور ضرور آ جاتا اور فنامہ اسے بھی کھانا ڈال دیتا۔ وہ بڑھیا کی بات کو بھولا نہیں تھا۔ لوگ حیران ہوتے کہ فنامہ یا اُس کی ماں کچھ کام تو کرتے نہیں، لیکن ان کا گزارا کیسے ہو رہا ہے؟

    دن یوں ہی گزرتے گئے۔ اب فنامہ نے بھی اوزار بنانا سیکھ لیے تھے۔ اگرچہ ابھی زیادہ مہارت نہ تھی لیکن وہ محنت سے کام کرتا تھا۔

    ایک دن فنامہ کام سے واپس آیا تو بہت تھکا ہوا تھا۔ بھوک بھی بہت زیادہ تھی۔ اُس نے سنہری برتن نکالا اور ہاتھوں سے ڈھانپ کر چار بار گہری سانس لی۔ برتن میں کھانا تیار تھا۔ فنامہ مسکراتے ہوئے ابھی کھانے ہی لگا تھا کہ ایک بلی آگئی۔

    ”میاؤں!” بلی نے اپنی آمد کی اطلاع دی۔

    ”آ جاؤ آجاؤ، بہت کھانا پڑا ہے۔” فنامہ نے اس کی طرف دیکھا تو بلی تیزی سے چھلانگ لگا کر اُس کے پاس آنے لگی لیکن وہ دیوار پر توازن برقرار نہ رکھ پائی اور جب اِدھر اُدھر پاؤں مارے تو اس کی دُم فنامہ کے کھلونے سے ٹکرا گئی۔ کھلونا بیل اونچائی سے گرا اور ٹکڑوں میں بکھر گیا۔ فنامہ نے غصے سے اپنے پسندیدہ کھلونے کے ٹکڑوں کو دیکھا۔

    ”اوہ! یہ کیا کر دیا تم نے؟” وہ غصے سے چِلّایا پھر اُس نے بلی کو کھانا دینے کے بجائے ایک پتھر زور سے اس کی طرف پھینکا جو بلی کے سر پر لگا۔ وہ بے چاری ”چیاؤں” کرتی ہوئی وہاں سے بھاگ نکلی۔

    ”میرا پسندیدہ کھلونا توڑ دیا!” فنامہ نے افسوس اور غصے سے کھلونے کے ٹکڑے اُٹھائے اور برتن کے قریب لا کر زمین پر رکھ دیے۔ اُس کا ارادہ تھا کہ کھانا کھانے کے بعد انہیں دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرے گا۔ اب کھانا لینے کے لیے اُس نے برتن میں ہاتھ ڈالا لیکن یہ کیا! برتن تو خالی تھا! فنامہ نے گھبرا کر دونوں ہاتھ برتن کے منہ پر رکھ کر چار بار گہری سانس لی اور دوبارہ برتن میں جھانکا۔ وہ ابھی بھی خالی تھا۔ فنامہ کا غصہ پریشانی میں بدل گیا۔ اس نے بلی کو کھانا دینے کے بجائے اسے پتھر مار کر بھگایا تھا، اس لیے برتن کا جادُو بھی ختم ہو گیا تھا۔

    فنامہ اور اُس کی ماں کچھ دن تو کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح برتن کا جادُوئی اثر واپس آ جائے لیکن بے سود۔انہوں نے اِسے بیچنے کی بھی کوشش کی لیکن کسی نے نہ خریدا۔ آخر تنگ آ کر انہوں نے اسے دریا کے کنارے پھینک دیا اور خود محنت کر کے گزر بسر کرنے لگے۔ 

    قارئین! صدیوں تک وہ جادوئی برتن وہیں دریا کنارے پڑا رہا۔ رفتہ رفتہ اسے ریت اور مٹی نے ڈھانپ لیا۔ کچھ سال بعد آنے والے سیلاب نے اسے دنیا کی نظروں سے اوجھل کر دیا۔ کئی صدیاں گزر گئیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل ماہرینِ آثارِقدیمہ نے مہر گڑھ کی باقیات کو دریافت کیا تو انہیں یہ برتن بھی ملا جو اس وقت صوبہ بلوچستان کے ضلع کچھی میں ”مہر گڑھ میوزیم” میںمہر گڑھ کی باقیات کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔کیا خبر کسی دن اُس میں جادُوئی طاقت لوٹ آئے۔

    ٭…٭…٭

  • پشتون لوک ادب سے ماخوذ ۔ تورا بان دیو ۔ لوک کہانی

    پشتون لوک ادب سے ماخوذ ۔ تورا بان دیو ۔ لوک کہانی

    پشتون لوک ادب سے ماخوذ

    تورا بان دیو

    گلِ ارباب

    مشہور کردار ”تورا بان دیو” کی دل چسپ کہانی!

    اونچے پہاڑوں اور سر سبز درختوں کے جھنڈ میں موجود اس بستی میں آج خوف اور دہشت کا راج تھا۔ مائیں ننھے منے بچوں کو سینے سے لگائے سلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ بوڑھے اور جوان مرد اپنے ہاتھوں میں لکڑی کے ڈنڈے پکڑے سنہری پہاڑ سے نکلتے سفید دھوئیں کو دیکھ رہے تھے۔ تورا بان دیو ہر مہینے کی چودہ تاریخ کو اسی دھوئیں میں سے نکل کر بستی میں آتا تھا۔ جب وہ آدم بُو آدم بُو کرتا بستی کے گھروں میں جھانکتا تب ماؤں کے دل سینے میں یوں پھڑپھڑانے لگتے جیسے بلی کے پنجوں میں کبوتر پھڑپھڑاتا ہے۔

    تورا بان دیو کا جسم پہاڑ جیسا مضبوط اور قد شاہ بلوط کے پیڑ جتنا اونچا تھا۔ اُس کے دانت بہت لمبے اور سفید تھے لیکن ان پر سرخ دھبے صاف نظر آتے تھے۔ آج بھی وہ پہاڑوں سے نکلا اور اب بستی کے ہر گھر میں جھانکتے ہوئے آدم بُو آدم بُو کرتا اپنے شکار کی تلاش میں تھا۔

    کنال، گوتم اور اشوک یہ تینوں بھائی دیوار کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔ ظالم دیو نے دیکھا تینوں بہت صحت مند ہیں تو اس نے ہاتھ بڑھا کر اُنہیں اٹھا لیا اور اپنے دانت کچکچاتے ہوئے واپس ہونے لگا۔ تینوں بچے چیخ رہے تھے۔ بستی کے لوگ گھروں سے نکل کر ان کے ماں باپ کو تسلی دینے لگے۔ بچوں کے والدین نے بہت شور مچایا۔ پتھروں اور ڈنڈوں سے دیو کو مارنے کی کوشش کی، لیکن اس کے بھاری وجود پر صرف اتنا اثر ہوا جتنا انسان کے کان پر جوں رینگنے کا ہوتا ہے۔ وہ قہقہے لگاتا ہوا تینوں بھائیوں کو گردن سے پکڑ کر پہاڑوں میں چلا گیا۔

    تینوں میں کنال بہت بہادر، گوتم چالاک اور اشوک بہت خوب صورت تھا، لیکن اُن کی خوب صورتی چالاکی اور بہادری اس وقت کسی کام کی نہ تھی۔ انہیں اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی۔ تورا بان دیو نے انہیں ایک بڑے کمرے میں قید کر دیا۔ اسی کمرے میں نمک مرچ کی بڑی بڑی بوریاں بھی پڑی ہوئی تھیں۔

    ”ہاہاہا… کل دوپہر کو میں تمہاے اوپر نمک، مرچ، مسالا چھڑک کر ایک ایک کو کچا چبا جاؤں گا۔ گوتم اور اشوک سہم کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، جب کہ کنال بہادری سے سینہ تان کر تورا بان کو گھور رہا تھا۔

    دیو ہنستا ہوا باہر نکلا تو تینوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ ”تم لوگ فکر نہ کرو ہم اس ظالم دیو کی قید سے رہائی پا لیں گے۔” کنال نے کہا تو گوتم اور اشوک بھی سوچنے لگے کہ یہاں سے کیسے نکلا جائے؟

    اسی وقت بھاری جادوئی دروازہ کھلا اور ایک سنہرے بالوں والی خوب صورت لڑکی تین نوکروں کے ساتھ اندر آگئی۔ اُن کے ہاتھوں میں طرح طرح کے کھانوں کے تھال تھے۔

    ”میں اس محل کی شہزادی ہوں، میرا نام تانیا ہے۔ تورا بان دیو میرا مالک ہے۔ یہ کھانا اس لیے ہے کہ تم لوگ اسے کھا کر میرے مالک کی خوراک بننے کے لیے کچھ اور بھی صحت مند ہوجائو۔” شہزادی کی آواز بہت میٹھی لیکن بات بہت کڑوی تھی۔ چالاک گوتم نے اک منصوبہ بنا کر اُس سے پوچھا: ”اے پیاری شہزادی! آپ کا مالک تو اتنا بد صورت اور خطرناک شکل و صورت والا ہے جب کہ آپ پریوں کی ملکہ لگتی ہو۔”

    وہ خوش ہوکر بولی: ”ہاں اے اجنبی لڑکے! یہ سچ ہے لیکن اُس نے مجھے پالا ہے۔ وہ میرے باپ کو قتل کر کے مجھے اور میری ماں جینا پری کو زبردستی محل سے اٹھا لایا تھا پھر وہ میری ماں کو شادی کے لیے مجبور کرتا رہا۔ میری ماں نے اپنے شوہر، محل، ماں باپ اور سہیلیوں کے غم میں موت کو گلے لگا لیا۔ تب تورا بان دیو نے میری پرورش بہت سخت انداز میں کی اور میری خوب صورتی دیکھ کر مجھے اس محل کی شہزادی بنا دیا۔” شہزادی کی داستان سن کر گوتم نے جلدی سے پوچھا: ”شہزادی صاحبہ! کیا آپ کو محل سے نکلنے کی اجازت ہے؟” شہزادی تانیا کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ روتے ہوئے بولی:

    ”اے اجنبی لڑکے! میں جب سے یہاں آئی ہوں آج تک اس محل سے باہر نہیں نکلی۔ محل کی دیواریں فلک بوس ہیں اور میں کمزور سی لڑکی۔” شہزادی اُداس ہوگئی تھی ۔ ”اچھا اب زیادہ باتیں نہ کرو اور کھانا کھا لو ورنہ مالک مجھ سے ناراض ہو کر سزا دیں گے۔” یہ کہہ کر شہزادی اور اس کے نوکر واپس چلے گئے۔

    وہ تینوں بھائی سر جوڑے باہر نکلنے کے منصوبے بنا رہے تھے کہ دو کنیزیں ہاتھوں میں پھلوں اور میٹھے کے تھا ل لے کر حاضر ہوگئیں۔ انہیں دیکھ کر خوب صورت بھائی اشوک نے چالاک بھائی گوتم کے اشارے پر رونا شروع کردیا اور باقی دو اسے تسلی دینے لگے۔

    ”مجھے اس خوب صورت شہزادی کی یاد ستا رہی ہے جو تورا بان دیو کی خاص شہزادی ہے۔ میں نے اتنی حسِین شہزادی زندگی میں نہیں دیکھی۔” کنیزوں نے واپس جا کر سارا ماجرا شہزادی تانیا کو سنا دیا۔ شہزادی بہت متاثر ہوئی اور تورا بان دیو کی نظروں سے چھپ کر رات کو اُن سے ملنے آگئی۔

    اشوک نے خوشی کا اظہار کیا تو شہزادی اُداس ہوکر بولی: ”اے اجنبی آدم زاد! مجھے افسوس ہے کہ تم لوگ میرے مالک کی خوراک بننے والے ہو، تم سے پہلے بھی ہر مہینے صحت مند اور خوب صورت آدم زاد میرے مالک کی خوراک بنے ہیں، لیکن کبھی اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا آج ہو رہا ہے۔”

    گوتم نے کہا: ”اے خوب صورت شہزادی! میرے پاس ایک منصوبہ ہے۔ اگر تم ہمارا ساتھ دو تو سب کی جان بچ سکتی ہے اور ہم تمہیں بھی اس محل سے رہا کرا سکتے ہیں۔” شہزادی کچھ دیر سوچ کر اُن کی مدد کے لیے راضی ہوگئی لیکن اس نے تینوں بھائیوں کو بتایا کہ تورا بان دیو کو مارنا اُن کے بس کی بات نہیں ہے کیوں کہ اس کی جان ایک طوطے میں ہے۔ وہ طوطا سات سمندر پار تورا بان کے خفیہ محل میں بند ہے۔ البتہ اس وقت تم سب کو اس قید سے نجات تورا بان کو گرا دینے سے بھی مل سکتی ہے، کیوں کہ یہ اتنا بھاری بھرکم ہے کہ اگر ایک دفعہ زمین پر گر گیا تو پھر اُٹھ نہیں سکتا، ایک بار یہاں سے نکلو پھر میں تم لوگوں کو اس طوطے تک پہنچنے کا طریقہ بتا دوں گی۔” تینوں بہت خوش تھے کہ زندگی بچنے کی امید پیدا ہوگئی ہے ۔

    دوسری صبح شہزادی نے اپنی کنیزوں سے کہا: ”تورابان مالک اس بار آدم زاد کو کچا نہیں کھائیں گے بلکہ مکھن میں تل کر کھانا چاہتے ہیں۔ اس لیے مکھن کی چاٹیاں قید خانے میں رکھوا دو۔” انہوں نے حکم کی تعمیل کی ۔

    دوپہر کو جب تورا بان دیو بھوک سے بے تاب ہو کر تہ خانے میں داخل ہوا تو گوتم نے چالاکی دکھاتے ہوئے چاٹی سے مکھن نکال کر زمین پر گرا دیا۔ مکھن سے تورا بان کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے زمین پر گر گیا۔ دیو کے گرتے ہی سارا محل یوں ہلنے لگا جیسے بھونچال آگیا ہو ۔

    تورا بان کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے، لیکن اس سے پہلے کہ یہ شعلے انہیں جلاتے، بہادر کنال چلّایا: ”جلدی کرو۔” پھر تینوں بھائیوں نے قریب پڑی بوریوں سے نمک اور مرچوں کی مٹھیاں بھر بھر کر اُس کی آنکھوں میں ڈالنا شروع کر دیں۔ دیو اتنا بھاری تھا کہ اسے زمین سے اٹھانے کے لیے بہت سارے جنّوں کو بلانا ضروری تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں کی تکلیف سے تڑپ کر غلاموں اور کنیزوں کو پکارنا شروع کر دیا، لیکن وہ سب اس ظالم سے اتنا تنگ تھے کہ کوئی اس کی مدد کو نہ آیا۔ بہادر کنال نے کہا: ”اے ظالم دیو: تم انسانوں پر ظلم کرتے رہے ہو اور جنات بھی تم سے تنگ ہیں۔ تمہاری سزا یہ ہے کہ اس قید خانے میں بند رہو اور بھوکے پیاسے تڑپ تڑپ کر مر جاؤ۔”

    دیو نے قہقہہ لگا کر کہا: ”اے بے وقوف آدم زادو! تم لوگ مجھے کسی صورت نہیں مار سکتے، جب تک کہ اس طوطے کو نہ مارو گے جس میں میری جان ہے۔”

    تینوں بھائیوں نے یک زبان ہو کر عزم کیا کہ ہم تمہاری جان اس طوطے سے ضرور نکالیں گے اور ہماری مدد ہمارا مالک کرے گا۔”

    تورا بان دیو کے زمین پر گرنے سے اس کے جادو کا محل ٹوٹ کر بکھرنے لگا تھا۔ شہزادی تانیا نے کنیزوں اور غلاموں کو آزاد کر دیا اور خود خوب صورت بھائی اشوک کا ہاتھ پکڑ کر آدم زادوں کی دنیا کی جانب روانہ ہوگئی ۔

    ٭…٭…٭

  • وہ کون تھا؟ ۔ نانگا پربت کی لوک کہانی

    نانگا پربت کی لوک کہانی

    وہ کون تھا؟

    زرین قمر

    ”یہ کہانی زیادہ پرانی نہیں، لیکن پھر بھی اسے کئی سال بیت چکے ہیں۔ ان دنوں ہوائی جہاز اتنے عام تھے نہ جدید۔ بلتستان میں کوہ پیمائی کے لیے ہندوستان کے اندر اور باہر سے چند لوگ وادی میں پہنچے۔ وہ نانگا پربت کی چوٹی پر جانا چاہتے تھے۔ تمام حفاظتی سامان سے لیس وہ اپنے استاد کے ساتھ وادی سے روانہ ہوئے جہاں سے پہاڑ پر چڑھائی کا مرحلہ شروع ہونا تھا۔

    پہاڑوں پر جگہ جگہ برف جمی ہوئی تھی۔ سب اسکاؤٹس اپنے استاد شیر دل کے ساتھ کوہ پیمائی کرتے ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں جنگلی درخت خاصی تعداد میں تھے اور وہاں پہاڑوں سے بہ کر آنے والی ندی گزر رہی تھی۔ وہ کئی گھنٹے چلنے کے بعد کچھ تھکن محسوس کرنے لگے۔ چناں چہ کچھ دیر آرام کی غرض سے اسی جگہ بیٹھ گئے۔ اچانک شیر دل کی نظر دور ایک وجود پر پڑی جو برف میں دھنسا ہوا تھا۔

    ”تم سب رکو، میں ابھی آتا ہوں۔” استاد شیر دل جلدی سے اس طرف لپکا۔ اس نے قریب پہنچ کر برف میں دھنسے اس انسانی وجود کو چُھوا جو زندہ تھا پھر ڈرتے ڈرتے اسے مخاطب کیا:

    ”تم… تم کون ہو؟” شیر دل کو دیکھ کر وہ اجنبی اُٹھ بیٹھا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ اس کا خاکی لباس جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔

    ”اے دوست! تم کون ہو؟” شیر دل نے ایک بار پھر پوچھا۔ وہ اجنبی اب خالی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

    ”میرا خیال ہے تم کوہ پیما نہیں ہو؟ کیا راستہ بھول گئے ہو؟” شیر دل نے اس کے چہرے سے برف کے ذرّات ہٹاتے ہوئے پوچھا۔

    ”مم… میرا خیال بھی یہی ہے، یہ کون سی جگہ ہے؟” اجنبی نے یوں کہا جیسے وہ نیند میں بول رہا ہو۔

    ”ہم اس وقت نانگا پربت پر ہیں اور اس قاتل پہاڑ (Killer Mountain) کو عبور کرنا چاہتے ہیں۔” شیر دل نے کہا۔

    ”کلر ماؤنٹین؟” اجنبی نے یوں دہرایا جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہا۔

    ”ویسے تم یہاں کیا کررہے تھے؟ اور برف میں کیسے پھنس گئے؟” شیر دل نے اجنبی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔

    ”مجھے کچھ پتا نہیں۔” اجنبی نے جواب دیا۔

    ”اوہ! کیا تم اکیلے ہو؟” شیر دل نے دوبارہ پوچھا۔

    ”شاید… شاید میں اکیلا ہی ہوں۔” اُس نے مبہم سا جواب دیا۔ اس بار اُس کی نظریں اسکاؤٹس کے گروپ پر تھیں جو ندی سے اپنے ترماس میں پانی بھرتے ہوئے آپس میں مذاق کررہے تھے۔

    ”تمہارے پاس کھانے پینے کو کچھ ہے؟” شیر دل نے پوچھا۔

    ”نہیں، کچھ نہیں ہے۔” اس نے مختصر جواب دیا جس پر شیر دل کو حیرت ہوئی۔

    ”تمہارا نام کیا ہے؟” شیر دل نے پوچھا۔

    ”احمد علی… احمد علی اوستم ہے میرا نام۔” اس نے جواب دیا۔

    ”اوستم! میرا نام شیر دل ہے۔ تمہاری طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی، تم چاہو تو ہمارے ساتھ چل سکتے ہو۔” شیر دل نے اسے پیشکش کی۔

    ”تم کہاں جارہے ہو؟” اوستم نے پوچھا۔

    ”ہم اس چوٹی کو سر کرنے آئے ہیں، اگر تم ہمارے ساتھ چلو تو ہم تمہیں اس پہاڑ کے دوسری جانب بنے رینجر اسٹیشن تک چھوڑ سکتے ہیں۔” شیر دل کو اس کی حالت پر ترس آرہا تھا۔

    ”ہم وہاں کب تک پہنچیں گے؟” اوستم نے پوچھا۔

    ”کل سہ پہر تک۔” شیر دل نے مسکراتے ہوئے کہا تو اوستم لاچارگی سے اُسے دیکھنے لگا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ شہری آبادی یہاں سے کتنی دور ہے اور بغیر خوراک کے کب تک گزارا کرسکے گا۔

    ”ٹھیک ہے۔” اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد مجبوراً منہ کھولا۔

    ”چلو… آگے چلتے ہیں۔” شیر دل نے اُسے ساتھ لیا اور اپنے ساتھیوں سے جا ملا۔ اب سبھی اونچی چٹانوں پر آگے بڑھنے لگے۔ اوستم بھی ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس کے ذہن میں بار بار کلر ماؤنٹین، کلر ماؤٹین کے الفاظ گونج رہے تھے اور وہ بار بار ہلکی آواز میں انہیں دہرا رہا تھا۔ شیر دل کا پورا دھیان اس کی طرف تھا۔

    کچھ دور چلنے کے بعد وہ دو پہاڑیوں کے درمیان تنگ سے راستے میں داخل ہوگئے۔ اب پہاڑیوں پر جمی برف کی تہ موٹی ہوتی جارہی تھی۔ پائن کے اونچے اونچے درخت سر اٹھائے کھڑے تھے۔ ہوا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔ کئی گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد شیر دل نے اسکاؤٹس کو رکنے کا اشارہ کیا۔

    ”آپ سبھی لوگ تھوڑی دیر آرام کر لیں کیوں کہ یہاں سے آگے کئی بل دار پگڈنڈیاں ہیں۔ راستہ دشوارہو گا۔”

    ”اوکے سر!” ایک اسکاؤٹ نے جواب دیا۔ پھر وہ اپنے تھرماس اور بوتلوں سے پانی پینے لگے تھے۔

    ”بہت زیادہ پانی مت پیو، تمہارے پیٹ میں مروڑ شروع ہوجائیں گے۔” شیر دل نے انہیں تنبیہہ کی۔

    بے تحاشا سرد موسم کے باوجود شیر دل کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔ یہ دیکھ کر اوستم نے اپنی جیب سے نیلے رنگ کا رومال نکالا اور خاموشی سے اس کی طرف بڑھایا۔

    ”میرا خیال ہے میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور کوہ پیمائی اب مجھے تھکا دیتی ہے۔” شیر دل نے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا پھر اس نے شکریہ کہہ کر رومال واپس اوستم کو دے دیا۔ کچھ لمحوں بعد شیردل نے ایک گھونٹ پانی پیا اور تھرماس اوستم کی طرف بڑھایا لیکن اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ شیر دل نے نوٹ کیا کہ اسے پیاس محسوس ہوئی اور نہ وہ تھکا ہوا لگ رہا تھا، البتہ بیمار ضرور تھا۔

    ”کیا تم تھکے نہیں ہو؟” شیر دل نے حیرت سے پوچھا۔

    ”میں ٹھیک ہوں۔” اوستم نے کہا۔

    ”اس کا مطلب ہے تم مجھ سے بہتر ہو، دراصل میں نے ان اسکاؤٹس کے ساتھ خاصی کوہ پیمائی کی ہے، اسی لیے تھک گیا ہوں۔” شیر دل نے ہنستے ہوئے کہا پھر وہ دوبارہ اوستم کو مخاطب کرنے لگا:

    ”سنو! تم نے کبھی کوہ پیمائی کی ہے؟” اس نے ایک پتھر پر بیٹھتے ہوئے کہا تو اوستم کچھ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

    ”مجھے یاد پڑتا ہے کہ میری بیوی اور ایک بچہ تھا۔” اُس نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا تو سب حیران رہ گئے۔

    ”ہم اس بچے کا نام محمد علی رکھنے والے تھے۔” اس نے پھر کہا۔

    ”رکھنے والے تھے؟ کیا مطلب؟” شیر دل نے مزید حیرت سے پوچھا۔

    ”جب وہ پیدا ہوا تو میں اُن کے ساتھ نہیں تھا۔” اوستم کے لہجے میں دکھ اور مایوسی تھی۔ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا جیسے کسی دردناک حادثے کو یاد کررہا ہو۔

    ”اوستم… اوستم سنو!” شیر دل نے اسے پکارا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی بے چینی برقرار تھی۔

    ”اوستم! سنو میں تم سے بات کررہا ہوں۔” شیر دل نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے کہا۔ تمام کوہ پیما اُس کی حالت دیکھ کر دائرے کی صورت میں اس کے اردگرد جمع ہوگئے۔

    ”میں ٹھیک ہوں۔” اچانک اوستم نے کہا۔

    ”مجھے لگ رہا ہے جیسے تم میری بات سن ہی نہیں رہے، تمہارے چہرے پر ایسے عجیب تاثرات ہیں جو میں نے پہلے کبھی کسی شخص کے چہرے پر نہیں دیکھے۔” شیر دل نے کہا۔

    ”میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔” اوستم نے ایک بار پھر مختصر جواب دیا۔

    ”چلو! آگے چلتے ہیں۔” شیر دل نے اسکاؤٹس کو اشارہ کیا۔

    ایک گھنٹے تک وہ پہاڑ پر چڑھتے رہے اور اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں۔ ان میں اتنی تیزی تھی کہ برفیلی چٹانوں پر قدم جمانا مشکل تھا۔ کئی بار وہ لوگ پھسلے لیکن ان سب نے اپنی کمر کے گرد رسی باندھی ہوئی تھی اور ہاتھوں میں پہاڑ پر چڑھنے کے لیے استعمال ہونے والی کلہاڑیاں تھیں۔ بڑی بڑی لوہے کی کیلیں ان کی کمر کے گرد لٹک رہی تھیں جنہیں وہ ضرورت کے وقت استعمال کرتے تھے۔ برف باری شروع ہوئی تو تیز ہوا کے جھکّڑ چلنے لگے۔

    ”اندھیرا ہونے سے پہلے ہمیں محفوظ جگہ پر رکنا ہوگا لیکن دور دور تک کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں رکا جاسکے۔” شیر دل نے اطراف پر نظر دوڑائی ہر طرف برف پوش پہاڑیاں اور بادل نظر آرہے تھے۔

    اچانک شیر دل کا پاؤں پھسلا اور وہ تیزی سے کئی فٹ تک نیچے گرتا چلا گیا۔ موت اس کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھی۔

    ”بب… بچاؤ… مم… میں گررہا ہوں۔” شیر دل کے منہ سے نکلا ہی تھا کہ اچانک کسی نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا۔ شیر دل نے سر گھما کر دیکھا، وہ اوستم تھا۔ اس نے شیر دل کو اوپر کھینچ لیا۔ حواس ذرا بحال ہوئے تو شیر دل کو یاد آیا کہ اوستم تو اس کے ساتھ تھا۔ وہ اتنی جلدی اس تک کیسے پہنچ گیا؟ یہ سوچتے ہوئے وہ ایک پتھر پر بیٹھ گیا، پھر اندھیرا پھیلنے تک اوستم انہیں ایک ایسے غار تک لے گیا جو برف پوش پہاڑی پر واقع تھا۔ وہ رات انہوں نے اس غار میں گزاری۔

    ”تم صبح سے ہمارے ساتھ ہو ابھی تک کچھ نہیں کھایا، پہلے ہی کمزور ہو کچھ کھالو۔” ایک سینئر اسکاؤٹ نے احمد علی اوستم سے کہا۔

    ”مجھے بھوک نہیں ہے۔” اس نے مختصر بات کی۔

    صبح صادق ہوتے ہی انہوں نے دوبارہ کوہ پیمائی شروع کردی۔ اب وہ چوٹی کے خاصے قریب پہنچ گئے تھے۔

    ”ہم چوٹی سر کرنے کے بعد ہی دم لیں گے۔” شیر دل نے اپنے ساتھیوں سے کہا تو ان کا جوش اور ولولہ مزید بڑھ گیا۔ ایک گھنٹے بعد وہ چوٹی پر پہنچ چکے تھے۔

    شیر دل نے نیچے نظر دوڑائی، دور پہاڑوں کے دامن میں اسے شوگران کی وادی نظر آئی۔ ان کا راستہ پہاڑیوں کے گرد چکر کھاتا ہوا نیچے جارہا تھا۔ کچھ ہی نیچے آنے کے بعد، اوستم نے راستے کے بائیں جانب چھوٹے سے برف کے میدان کی طرف دیکھا جہاں جگہ جگہ ہلکی دھات کی شیٹیں برف میں دبی تھیں۔ ان کے جو حصے باہر تھے وہ دھوپ میں چمک رہے تھے۔

    ”وہ کیا ہے؟” اوستم نے پوچھا۔

    ”یہ کسی پرانے جہاز کے ٹکڑے ہیں، کیا تم ان کے بارے میں نہیں جانتے؟” شیر دل نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔

    ”یہ جہاز بہت سال پہلے ایک برفانی طوفان میں گر گیا تھا۔ اس وقت جہازوں میں راڈار نہیں ہوتے تھے۔”

    ”یہ کیسے کریش ہوا؟” اوستم نے مزید پوچھا۔

    ”اس کا پائلٹ بہت اونچی پرواز کر رہا تھا۔ شدید طوفان کی وجہ سے اُسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا چناں چہ جہاز پہاڑی سے ٹکرا گیا۔” شیر دل نے کہا پھر وہ ان دھاتی ٹکڑوں کی طرف بڑھنے لگے۔

    ”میں جب بھی اس پہاڑی پر چڑھتا ہوں تو یہ اپنی جگہ سے کچھ ہلے ہوتے ہیں لیکن میرے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔” شیر دل نے بتایا۔ اب وہ چکر دار راستے سے گزرتے ہوئے ان دھاتی ٹکڑوں تک آگئے تو ان کی نظر جہاز کے اس حصے پر پڑی جس میں انجن تھا۔ وہ جہاز بس دو افراد کے بیٹھنے کے لیے ہی تھا۔

    ”کیا کوئی زندہ بھی بچا تھا؟” کچھ دیر بعد اوستم نے سوال کیا۔

    ”نہیں، وہ دونوں مر گئے تھے ان کی باقیات پہاڑی پر بکھر گئی تھیں۔”

    اوستم اپنا سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا جیسے اس کی طبیعت خراب ہوگئی ہو۔

    ”دیکھو! ہم تقریباً پہنچ چکے ہیں بس تھوڑی دیر کا سفر ہے۔” شیر دل نے اسے حوصلہ دیا۔ مگر وہ خاموشی سے بیٹھا رہا۔

    ”اوستم! کیا ہوا؟ رک کیوں گئے؟” شیر دل اب اس کے قریب آکر پوچھنے لگا جیسے ہی اس نے اوستم کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ ایک دم تڑپ اٹھا۔

    ”کیا ہے؟ جاؤ تم لوگ… مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ۔” غصے سے اُس کی آنکھیں لال ہورہی تھیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ رو رہا ہو۔ یہ دیکھ کر شیر دل گھبرا گیا، وہ ذرا سا پیچھے ہٹ کر حیرانی سے اوستم کو دیکھنے لگا۔

    ”مجھے تنہا چھوڑ دو۔” اوستم نے زور سے کہا تو شیر دل جھٹ سے پیچھے ہٹ گیا پھر وہ بوجھل قدموں سے اسکاؤٹس کے پاس جاپہنچا۔

    سفر کرتے کرتے وہ سب چوٹی کے عین اوپر والے حصے پر پہنچ چکے تھے۔ خوشی سے انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ مبارک باد دی پھر شیر دل تمام اسکاؤٹس کو لے کر رینجر کیمپ میں چلا گیا۔ کیمپ کے انچارج نے ان کا استقبال کیا۔ خیرو عافیت دریافت کرنے کے بعد شیر دل نے ذرا جھجکتے ہوئے اوستم کا ذکر چھیڑ دیا۔

    ”اوہ! تمہیں کہاں ملا؟” کیپٹن نے اس سے دریافت کیا۔

    ”وہ وہاں پہاڑی کے مغربی سلسلے سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔” شیر دل نے کہا۔ 

    ”اچھا! تم میرے سوالوں کا جواب دو، کیا وہ تیس سال کا لگتا ہے؟”

    ”ہاں، بالکل لگتا ہے۔”

    ”اس کا قد چھے فٹ اور خاکی وردی پہنی ہوئی ہے؟”

    ”ہاں!” شیر دل کے لہجے میں حیرت تھی کیوں کہ اس نے کیپٹن کو اوستم کا حلیہ نہیں بتایا تھا۔

    ”اس کے بال کالے، رنگ گورا اور آنکھیں نیلی ہیں؟” کیپٹن نے پوچھا۔

    ”اوہ! بالکل ایسا ہی ہے۔”

    ”وہ بولتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے نیند میں ہو؟”

    ”ہاں، ایسا ہی ہے جیسے وہ برسوں سے بیمار ہو۔”

    ”بس پھر… وہ کبھی کیمپ میں نہیں آئے گا۔” کیپٹن نے مسکرا کر کہا۔

    ”اوہ! وہ… وہ ہے کون؟” شیر دل اور اس کے ساتھی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ ۔

    ”اس ٹوٹے ہوئے جہاز کا پائلٹ۔” کیپٹن نے بتایا اور تھوڑی دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔

    ”میں لوگوں کے بتانے پر کئی بار وہاں گیا ہوں لیکن وہ مجھے کبھی نظر نہیں آیا، اس کا تعلق ریسکیو ٹیم سے تھا وہ کوہ پیمائی کرنے والوں کی جانیں بچاتا تھا۔ ایک دن کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم برف میں پھنس گئی۔ اوستم نے بچانے کی بہت کوشش کی مگر طوفان شدید تھا۔ وہ ٹیم کو نہ بچا سکا بلکہ خود بھی اسی طوفان کی نذر ہوگیا۔ اس کا جہاز کہیں برف میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔” کیپٹن نے افسردگی سے تفصیل بتائی۔

    ”اوہ! حیران کن…” شیر دل کو دھچکا لگا اور وہ سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھی بھی مارے حیرت کے کیپٹن کو دیکھ رہے تھے۔ بلتستان کے باسی آج بھی یہ کہانی سناتے ہیں۔ کہتے ہیں کئی سال گزرنے کے بعد آج بھی اوستم برف میں پھنسنے والوں کو مشکل سے نکالتا ہے۔ آج بھی وہ کسی سائے کی طرح نانگا پربت کے دیس میں نظر آتا ہے۔

    ٭…٭…٭

  • والٹ ڈزنی ۔ شاہکار سے پہلے


    والٹ ڈزنی
    صوفیہ کاشف

    ایک اینی میٹر کے طور پر اپنے کیریئر کا پہلا پراجیکٹ کرتے اور ہزاروں ڈالر کا مقروض ہوتے ہوے، بینز (beans) کے ڈبوں پر گزارا کرتے اور آفس کے کاغذات اور کینوس کے ڈھیر میں سوتے جب والٹ سے یہ پوچھا جاتا کچھ پیسہ بھی کمایا تو وہ ہنستا اور کہتا: ” نہیں!…… لیکن مجھے مزا خوب آیا”.
    مکی ماﺅس کے باپ اور ڈزنی لینڈ کے خالق والٹ ڈزنی سے کون واقف نہیں۔ والٹ ڈزنی جو خود کو والٹ کہلانا پسند کرتا خوبصورت خوا ب دیکھتا اور ان خوابوں کو زندگی کے سنگ دل حقائق کے بیچ ممکن کر دیتا۔ والٹر الائس ڈزنی کی زندگی کا آغاز ہی مشکلات اور غربت سے بھرپور تھا.. اس کی پلکوں سے جڑے خوابوں کے انداز کچھ بھی ہوں مگر زندگی کی ترجیحات کا تعین کرتے والٹ ڈزنی نے اپنے شوق، محبتوں اور جذبوں کو سب سے اونچا رکھا اسی لیے ہمیشہ اپنے کام سے لُطف اٹھاتا رہا۔ مُسکرانا، عزم لیے معاشی مسائل سے گزر جانا ڈزنی کی زندگی کا نصب العین تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ وہ معاشی پسماندگی بھی تھی جنہوں نے اس کا بچپن مشکلات کی نذر کرکے اس کے کھیل اور مسکراہٹوں کو اس سے چھین لیا تھا۔ حالات کی سختی سے وہ کندن بن کر نکلا تھا اور ہر حا ل، ہر مشکل میں ہنسنے مسکرانے اور پرُعزم رہنے کا ہنر سیکھ چکا تھا۔ اپنے جوان دل کی ہر دھڑکن پر وہ ناچنا اور اپنے سب خوابوں کو دن کی روشنی میں جینا چاہتا تھا۔ خوش قسمتی سے یہ خواب اور جذبے عورت، دولت اور نشے کے گرد نہیں بلکہ اپنے کارٹون کرداروں کی مسکراہٹوں چٹکلوں اور اٹھکھیلیوں کے گرد گھومتے تھے۔ مکی ماﺅس کی انگلی تھام کر خوابوں کی پرُمسرت اور رنگین دنیا کے سفرپر نکلتے والٹ ڈزنی کے عشق کا دیوتا کارٹون کرداروں کی ہنستی مسکراتی دنیا تھی۔
    "آخر تم کب بڑے ہو گے؟” اس کے دوست اکثر اس سے کہتے۔
    سنہرے بالوں اور تیکھے نقوش والے شرارتی اور ہنس مکھ والٹ ڈزنی کا بچپن مارسلین کے ایک فارم ہاوس پر گزرا۔ سنگترے کے زرد درختوں، بیدِ مجنوں اور گل باس کے جامنی پھولوں کے بیچ گھڑ سواری کرنا، جھیل کے ٹھنڈے پانی سے مچھلیاں پکڑنا، برف سے بھرے میدانوں میں پھسلنا اس کے بچپن کی گہری یادوں کا حصہ ہے۔ مارسلین کی دو بہترین یادیں جنہوں نے والٹ کے آنے والے مستقبل کی سمت تعین کرنے میں مدددی۔ وہ آنٹی میگی اور انکل ڈاک شیرڈ کی شفقت اور حوصلہ افزائی کی ہے۔ آنٹی میگی والٹ کو ونڈر بواے کہہ کر پکارتیں اور انکل شیرڈ نے خاص طور پرسات سالہ والٹ سے اپنے محبوب گھوڑے کا خاکہ بنوایا اور معاوضے کے طور پر ایک نکل والٹ کو ادا کیا۔ بعض روایات کے مطابق اس خاکے کو فریم کروا کر اپنے کمرے کی زینت بھی بنایا۔ آٹھ سال تک رنگوں، تصویروں اور خاکوں کے ساتھ مارسلین کے کھلے ہرے میدانوں، اونچے گھنے درختوں اور فطرت کی خوب صورتیوں نے والٹ کی زندگی میں رنگ بھرے اور یہ وقت والٹ کی زندگی کا سب سے متاثر کن باب تھا جسے والٹ نے ہمیشہ اپنی یاداشت میں محفوظ رکھا۔
    پچھلی دو صدیوں میں سب سے زرخیز تخیل کے مالک والٹ کی محنت ،جستجواور ریاضتوں کی کہانی جوانی کے خوبصورت خوابوں سے نہیں بلکہ بچپن کی نوخیز نرم ہتھیلیوں اور ننھے پیروں سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ فطرت جن افراد کو بُلند مقام کے لیے تخلیق کرتی ہے انہیں کندن بنانے کے لیے آغاز سے ہی معصوم اور کمزور ہاتھوں کو سنگِ آشنائی عطا کر دیتی ہے۔ سڈنی شیلڈن کی طرح ڈزنی کا بچپن بھی غربت اور افلاس میں والدین کے شانہ بہ شانہ معاشیات کو سنبھالنے کی کوشش میں گزرامگر سڈنی شیلڈن سے زیادہ مشکل اس طرح کہ والٹ ڈزنی کی مشقت کی ابتدا آٹھ نو سال کی عمر سے ہو چکی تھی۔ والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹاتے نو سالہ والٹ ایک بڑے علاقے میں گھر گھر دو بار اخبار پہنچاتا مگر اس کے باوجود اس کی جیب میں پاکٹ منی کہ نام پر ایک سکّہ تک نہ ہوتا۔ پاکٹ منی کے حصول کے لئے نو سالہ والٹ نے فارمیسی کی دوائیاں سپلائی کیں، اپنی مقرر تعداد سے زیادہ اخبارات کی سپلائی کی اور سکول کے تفریح کے اوقات میں ایک دُکان پر ٹافیاں بیچیں تاکہ خود کچھ سکّے والد سے نظر بچا کے اپنے لیے بچا سکے۔
    "اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں ہر وقت کام میں مصروف تھا۔ میرا مطلب ہے مجھے در حقیت کھیلنے کا وقت نہ ملا!”
    نو سال کی کم عمری میں جب آسودہ حال گھرانوں کے بچے جھولوں، کھلونوں اور والدین کی گود میں وقت گزارتے، والٹ کے پاس کھیل سیکھنے، کھیلنے اور نیند پوری کرنے کا وقت نہ تھا۔ سردی ہو یا گرمی، کُہر ہو یا برف باری، والٹ ڈزنی کو اپنی مزدوری ہر موسم اور ہر حال میں نبھانی پڑتی۔ وہ کبھی دوسرے بچوں کی طرح گیند پکڑنا نہ سیکھ سکا کیوں کہ گیند پکڑنا سیکھنے کے لیے اس سے کھیلنا ضروری ہے اور نو سالہ کمسن مزدور کے پاس کھیلنے کا وقت نہ تھا۔ لوگوں کے گھروں میں اخبار پہنچاتے ان کے پورچ میں کہیں ڈزنی کو کھلونے نظر آتے تو وہیں بیٹھ کر کچھ دیر ان سے کھیلتا اور پھر کھلونے وہیں چھوڑ کر اٹھ جاتا۔
    اخباروں سے بھرا ریڑھا دھکیلتے سردی سے کپکپاتے تھک کر کبھی اخباروں کے ڈھیر میں اور کبھی کسی گاہک کے گھر کے گرم پورچ میں لیٹ کر سو جانا والٹ ڈزنی کا شوق نہیں جان توڑ مجبوری تھی اور یہ مزدوری کم و بیش چھے سال تک والٹ نے نبھائی۔ اس مشقت کی تھکاوٹ اور مزدوری کی الجھنیں اس کے لاشعور پر ایسے گہرے نقوش چھوڑ گئیں کہ ساری عمر اسے ایک ڈراﺅنے خواب کی طرح یاد رہیں۔ حتیٰ کہ چالیس سال کی عمر میں بھی والٹ آدھی رات کو پسینے سے شرابور اس خوف سے اُٹھ بیٹھتا کہ کہ کوئی گھر اخبار پھینکنے سے رہ نہ جائے اور گلی کی نکڑ پر کھڑا اس کا باپ، اسے دوبارہ وہاں اخبار پھینکنے کے لئے اسی طویل رستے پر نہ دوڑا دے۔
    معاشی بدحالیوں اور جابہ جا بدلے گئے کاروبار میں ناکامیوں کا شکار الائس ڈزنی (باپ) کے مزاج کی تلخی اور معاشی مسائل کی سختی دو بیٹوں کے سہارا بن جانے کے باوجود حل ہونا تو کجاکم بھی نہ ہوئی۔ بڑے دو بیٹوں کے گھر سے بھاگ جانے نے تندی مزاج پر اور بھی برا اثر ڈالا۔ باپ کی شکست خوردہ اور ٹوٹی ہمت کا سارا غصہ دو چھوٹے بیٹوں پر نکلتا اور وہ ہتھوڑوں اور ڈنڈوں سے اپنے بازو اور سہارا بنے بیٹوں پر حملہ آور ہو جاتا۔ نارسائی اور محرومیوں سے بھرے بچپن میں والٹ اور راے (بھائی) معاشی حالات کی تلخی کے ساتھ ایک ناکام ترین باپ کی زودورنجی پٹائی کی صورت برداشت کرنے پر مجبور تھے۔
    سٹی کا سکول…….. والٹ کے لیے ایک نیا قدم ثابت ہوا۔ ہر وقت تصویریںاور خاکے بنانے والا والٹ بہت جلد سکول میں نمایاں نظر آنے لگا اور جلد ہی سکول کا باقاعدہ آرٹسٹ اور سکول کے سرکاری اخبار میں کارٹونسٹ مقرر ہو گیا۔ سکول میں گزارے سات سالوں کا جو سب سے اہم کام والٹ نے کیا وہ ڈرائنگ، ڈرائنگ اور صرف ڈرائنگ تھی۔ کارٹون اور خاکے بنانا اور ان کی نمائش کرنا والٹ کا بنیادی مقصد بن چکا تھا اور جب وہ خاکے نہیں بناتا تو وہ خاکہ نگاری پر غوروخوص کرتا اور کسی اخبار سے جڑے اپنے ایک کارٹونسٹ بننے کے مستقبل کے میٹھے میٹھے سپنے دیکھتا۔ والٹ کے اس قدر جنون کو دیکھتے ہوئے اس کے باپ نے والٹ کو آرٹ کلاس کی اجازت دی اس کے باوجود اس وقت اس شعبے کا عام عوام کی نظر میں کہیں کوئی مستقبل نہ تھا۔ والٹ نے اپنی دلچسپی میں مہارت حاصل کرنے کے لئے ہفتہ وار آرٹ کی کلاسز بھی لیں اور خط وکتابت کے ذریعے آرٹ کا ایک کورس بھی کیا۔
    باپ کی بے جا سختیوں، ڈسپلن اور کفایت شعاری کے باوجود والٹ کی شخصیت اس کے بالکل اُلٹ ثابت ہوئی۔ والٹ ایک ہنس مکھ، قہقہوں، اٹھکھیلیوں کا شوقین اور شرارتوں کا شیدائی تھا۔ اس کی پور پور میں جوش و جذبہ بھرا تھا کچھ کر دکھانے کا اور کچھ بدل دینے کا۔ الائس جس قدر کفایت شعار اور پیسے جوڑ کر رکھنے والا تھا والٹ اپنی غربت کے باوجود کُھلے ہاتھ کا مالک تھا خصوصاً اپنے شوق کی راہ میں پیسہ اس کے لیے ہاتھ کا میل تھا۔ اس کی محنت اور کوشش کا پہیہ اس کے شوق اور جنون کے ایندھن سے چلتا رہتا۔
    "وہ جو بھی کرنا چاہتا بغیر نفع و نقصان کا سوچے وہ کر گزرتا۔ وہ ہمیشہ اپنے خیالات حقیقت بنانے
    کی کوشش کرتا خواہ اس کے پاس اس کے لئے وسائل ہوں یا نہیں!”
    حتی کہ الائس کو بھی اپنے بیٹے کی یہ خوبی یا خامی ماننی پڑی۔
    1918 ءمیں جنگِ عظیم کے دوران سولہ سال کی عمر میں نوجوان والٹ میں وطن کے لیے کچھ کرنے کا عزم جاگا اور وہ ملٹری میں بھرتی ہونے کے ارادے سے جاپہنچا۔ کم عمری آڑے آئی اور ایک سپاہی کے طور پر وہ مسترد ہو گیا۔ ہار نہ ماننے والا والٹ اپنی عمر غلط بتا کر آخرکا ریڈ کریسنٹ کی ایمبولنس سروس میں بھرتی ہونے میں کامیاب ہوا اور سال بھر فرانس میں اپنی جنگی ملازمت کے دوران اپنے بنائے کارٹون سے سجی ایمبولینس چلاتا رہا۔
    دنیا کی اُبھرتی ہوی طاقت امریکا کے لیے اپنی خدمات پوری کر کے والٹ کنساس پہنچا تو سب سے پہلی مشکل غمِ روزگار کی تھی۔ بچپن سے کارٹون بناتے والٹ کی اب سب سے بڑی خواہش اخبار میں ایک کارٹونسٹ بننے کی تھی۔ والٹ کے باپ جیسے بھائی رائے کے تعلقات کی مدد سے اسے ایک آرٹ شاپ میں تربیتی ملازمت مل گئی۔
    "وہ مجھے تصویریں بنانے کے پیسے دے رہے ہیں۔! "
    سترہ سال کی عمر میں ایک کاروباری فنکار بن جانا والٹ کے لئے بہت بڑا اعزاز تھا۔ ایک ایسی عظیم کامیابی جس کی خوشی سنبھالے نہ سنبھلتی تھی۔ اپنے شوق کو روزگار اور کمائی کا ذریعہ بنتا دیکھنا والٹ کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک تھی۔ شوق اور لگاﺅ کو معاشیات سنبھالتے اور غمِ روزگا رکا تریاق بنتے دیکھنا والٹ کے لیے ایک معجزہ بھی تھا اور نئے افق کے دروازے کھولتا ایک رستہ بھی۔ والٹ کو اک ادراک سا ہونے لگا کہ انگلیوں کی مہارت کا جادو زندگی کی مشکلوں کا سہارا بھی بن سکتا ہے۔ بیسویں صدی عیسوی کی شروعات میں کارٹونسٹ کا صرف یہی مستقبل تھا کہ وہ اخبار میں کارٹون بنائے یا چھوٹی چند سیکنڈز اور منٹوں کے خاموش اشتہار بناے جائیں۔ یقینی طور پر والٹ ڈزنی سے پہلے کارٹون سیریز اور کارٹون پر مبنی لمبی فیچر فلموں کے بارے میں تخّیل کا بڑا کام صرف والٹ کی سوچ اور کوششوں نے کیا۔ اسی لیے بجا طور پر والٹ ڈزنی ساری کارٹون دنیا کے بانیوں میں شمار ہوا اور مکیماس کا باپ کہلایا۔
    آرٹ کی دکان میں نوکری کی خوشی زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوئی۔ کرسمس کی چھٹیوں کے بعد آرٹ شاپ پر کام کم ہو جانے کی بنا پر والٹ کو اس ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ والٹ ڈزنی ایک بار پھر روزگار کی مشکل میں پھنس گیا۔ اِدھر اُدھر ملازمت کی ناکام کوشش کے بعد والٹ نے اپنے دوست کے ساتھ مل کے ایک آرٹ شاپ کھولنے کا فیصلہ کیا اور……… IWWERKS-DISNEY کے نام سے اس دکان کا آغاز کیا۔ فرانس میں فوج کی ایمبولینس سروس سے کمایا گیا معاوضہ اپنے والد سے منگوا کر والٹ نے دفتر کے لیے بنیادی سازوسامان کا انتظام کیا اور جلد ہی اتنا منافع کما لیا کہ دوسرے ماہ اپنا ذاتی دفتر حاصل کرنا ان کے لیے ممکن ہو گیا۔ ایک مناسب منافع بخش کاروبار ی شروعات کے باوجود والٹ کے دل میں اپنے کارٹون کرداروں کی سیریز بنانے کا خواب زندہ و جاوید تھا۔ کاروبار کے ساتھ ساتھ وہ اپنے کارٹون کی مشہوری بھی جاری رکھے ہوا تھا اور اس مشہوری کی بنا پر والٹ کو ایک اشتہاری فلم بنانے والی کمپنی Kansas City Film Ad. میں 40ڈالر والی نوکری مل گئی۔ ذاتی کاروبار دوست کے حوالے کر کے والٹ نے اس نوکری کا آغاز کیا۔ مگر دوست تنہا اس کاروبار کو نہ سنبھال پایا اور جلد اس دکان کو بند کر کے وہ بھی نوکری میں والٹ کے ساتھ شریک ہو گیا۔

  • فاتحین ۔ حدیث کہانی

    فاتحین ۔ حدیث کہانی

     

    فاتحین
    سید ثمر احمد

    مدھم خوش بو ، سرد شام، دھیمی روشنی اور پِن ڈراپ سائلنس۔ ستر اسی لوگوں کا یہ مجمع اہلِ درد کا اکٹھ تھا۔ یہ محض سننے، دھننے اور سر جھٹک کے اٹھ جانے والے لوگ نہیں تھی بلکہ یہاں بیٹھا ہر شخص اپنا حصہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ وہ زندگی کو سو کر اٹھنا، کھانا پینا، کاروباریا ملازمت کرنا، واپس آنا، نسل بڑھانا اور پھر سوجانا سے بڑھ کے سمجھتے تھے۔ جیسے یہ چنے ہوئے لوگ ہوں، قحط کے دور میں اسے دور کرنے کی تدبیریں اور عمل رکھنے والے مجذوب، جنہیں کسی آہ، کسی واہ کی پروا نہیں تھی۔ یہ راز پا چکے تھے کہ اگر محلہ صاف نہ کیا گیا تو محض گھر صاف رکھنے سے بیماری سے بچاؤ ناممکن ہوگا۔ یہ خود غرضوں کا مجمع تھا، یا شاید بے غرضوں کا۔ ان کی ساخت پرداخت کی گئی تھی۔ کچھ نئے تھے کچھ پرانے،لیکن سبھی سرشار، مطمئن اور بے قرار۔ ایسا نہیں کہ ا ن کے جذبات نہیں تھے، انہیں محبتیں نہیں ہوتی تھیں، ان کے جسم پیٹ سے خالی تھییایہ زمانے سے کٹے ہوئے ملنگ تھے، نہیں۔ یہ کچھ اور تھے جیسے جوہر ہوتا ہے۔ حشمت بیگ نے خام مال کندن بنادیا تھا۔ ان کا چہرہ نورِیقین سے تمتا رہا تھا۔ 
    ”آپ کو ایک واقعہ سناؤں؟” مجمع میں حشمت بیگ کی آواز گونجی، خاموشی اجازت تھی۔
    ”زمین دار نے استاد سے عرض کی کہ آپ میرے بچے کو بھی کچھ وقت دے دیا کریں۔ اب دیکھیے! علم کی اہمیت اور تڑپ کیا ہوتی ہے، استاد کیسا ہوتا ہے اور طالب علم کیا ہوتا ہے۔ آپ بات سمجھ رہے ہیں نا؟”۔ بے آواز خاموش چہروں میں اثبات کی حرکت پیدا ہوئی۔ 
    ”استاد نے کہا میرے پاس وقت نہیں بچتا۔ میں آٹھ کوس فاصلہ پیدل طے کرکے جاتا ہوں، پڑھاتا ہوں، پھر واپسی۔ اس لیے آپ کے پیسے آپ کو مبارک۔ اگر وقت ہوتا تو ضرور دیتا۔ زمین دار پہلے سے طے کر آیا تھا کہ سوال کا حل کیا ہے۔ بولا، میرے اصطبل میں کئی گھوڑے ہیں، آپ ان میں سے ایک لے لیجیے، اس طرح فاصلہ جلد طے ہوجائے گا، اس سے جو وقت بچے وہ میرے بچہ کے لیے اعزاز ہوگا۔ استاد نے آمادگی ظاہر کی اور سلسلہ چل نکلا۔” حشمت بیگ نے خاموش چہروں پر نظر دوڑائی جو ان کی بات سننے کے لیے ہمہ تن گوش تھے۔وہ پھر گویا ہوئے:
    ” اسی گاؤں میں ایک اور بچہ تھا، علم کا حریص۔ اس نے استاد سے درخواست کی کہ مجھ غریب کو بھی پڑھا دیجیے۔استاد نے اسے بھی وہی جواب دیا جو زمین دار کو دیا تھا، کہ دو جگہوں پہ پڑھا کے وقت اگر بچتا تو ضرور تمہیں دے دیتا ،لہذا میں مجبور ہوں۔ بچہ بھی ذہین اورہوشیار تھا۔ عرض کی کہ جب آپ گاؤں میں داخل ہوں تو میں آپ کے گھوڑے کے ساتھ ساتھ چل لیا کروں گا۔ اسی دوران آپ مجھے نیاسبق دے دیا کریں اور پرانا سن لیا کریں، جب زمین دار کا گھر آئے تو چلے جایا کریں، کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ استاد نے اپنے لائق شاگرد کے جذبہ کو دیکھتے ہوئے ہاں کردی۔ بھلا ایسے شاگرد روز روز تھوڑا ہی ملا کرتے ہیں۔ تاریخ نے اس بچہ کا نام لکھا جس نے اپنی ابتدائی تعلیم گھوڑے کے پیچھے بھاگتے حاصل کی تھی، اور اس کا نامہے محمد بن حامد الغزالی۔ ”
    ”امام غزالی؟’۔ مجمع میں سے کسی نے تصدیق چاہی۔” 
    ”جی ہاں! امام غزالی” حشمت بیگ نے ستائشی لہجے میں جواب دیا۔ 
    ” یہ تھے ہمارے اسلاف۔،یہ تھے وہ کہ جن کی دنیا پیروی کرتی تھی، جن کے فیشن اپنانا فخر سمجھتی تھی، جن کی زبان ترقی کی معراج سمجھی جاتی تھی، جو دنیا میں امام کی حیثیت رکھتے تھے، جن کے علاقے سونا اگلتے تھے، جو اپنی وقت کی بہترین ٹیکنالوجی کے خالق تھے، جو اپنے وقت کے معتبر ترین اور معزز ترین لوگ تھے اور دانش جن کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی رہتی تھی۔ ” حاضرین ان کی اور اپنی حالت کا تقابل کرتے ہوئے سرشاری اور بے قراری سے سر دھن رہے تھے۔ 
    اسی اثنا میں شربت سرو کیا جانے لگا۔ بیگ صاحب جانے شربت بھی کہاں سے منگوایا کرتے تھے۔ جیسے ہمارے دور کے ایک صاحب کا کھانا بہت مزے دار تھا۔ ان سے پوچھا گیاکہ یہ کھانا آپ خود بناتے ہیں لیکن یہ اتنا لذیذ کیسے ہوتا ہے؟ ایسا ذائقہ کہیں اور نہیں ملتا۔توانہوں نے جواب دیاکہ اس کے مسالے دنیا بھر سے مجھے جنات اکھٹا کر کے دیتے ہیں۔ لگتا ہے جتنا مزے دار شربت یہاں ملتا ہے، اس کے پیچھے بھی کہانی کچھ اورہے۔ابھی ہم اپنی سوچوں میں ہی گم تھے کہ بیگ صاحب نے اپنی گفت گو کا سلسلہ پھر جوڑا:
    ”یار! صرف گلے پھاڑ کے نعرے لگانے سے کچھ کب ہوا ہے؟ تاریخ میں کوئی مثال ملتی ہے تو ہمیں بھی کوئی بتائے۔ ابھی یونیسکو کی ہیومن ڈیویلپمنٹ رپورٹ آئی ہے جس کے مطابق ہم مسلمان ہر سال اوسطاً ایک سے بھی کم کتاب پڑھتے ہیں اور ایک یورپی تقریباًتین اعشاریہ پانچکتابیں پڑھتا ہے جب کہ ایک اسرائیلی پینتالیسکتابیں۔ فرق تو صاف ظاہر ہے پھر۔” ابھی بیگ صاحب اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہوئے ہی تھے کہ مجمع میں سے ایک نو جوان کی آواز ابھری:
    ”سر! مسئلہٹائم کا ہے۔ میں نے کئی بار پڑھنے کی کوشش کی لیکن وقت ہی نہیں نکل پاتا۔” 
    حشمت بیگ صاحب مسکرائے اور گویا ہوئے: 
    ” یار! جن کے پاس فیس بک استعمال کرنے کے لیے گھنٹوں ہوں ،انہیں سنجیدہ مطالعہ کے لیے وقت کیسے نہیں مل پاتا؟”۔ نوجوان کھسیا نا سا ہو گیا۔بیگ صاحب پھر محوِکلام ہوئے:
    ”بیٹے !ہم لاہور میں بیٹھے ہیں۔ کراچی والے ہم سے زیادہ مصروف ہیں لیکن وہاں رجحان زیادہ ہے۔ اور یورپ والے ان سے زیادہ۔ یہ ان کاتو بہانا ہو سکتا ہے ،ہمارا نہیں۔ ”
    ”لیکن سر ایک اور مسئلہ غربت کا بھی تو ہے۔ یہاں دو وقت کی روٹی سے فرصت ملے تو بندہ کچھ کرے نا۔’ایک الجھی ہوئی سرگوشی ہوئی۔
    ”بیٹا! پھر جنہیں مالی فراغت میسر ہے وہ کیوں نہیں پڑھتے؟ جیسے عرب مسلمان ۔مغربی دنیا کا فرد ایک سال میں اوسطاً دوسوگھنٹے پڑھتا ہے۔ اور ہم سمیت عرب مسلمان آپ جانتے ہو کتنا مطالعہ کرتے ہیں؟ صرف چھے منٹ۔ یہ عرب تھاٹ فانڈیشن کی رپورٹ ہے۔’بیگ صاحب کی شفیق آواز میں تاسف نمایاں تھا۔
    ”سر معذرت !میں برِصغیر کی مثال دینا چاہ رہا تھا۔” آواز اسی نو جوان کی تھی۔ بیگ صاحبب کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ 
    ”آپ کے علم میں ہے کہ دنیا بھر میں ایک ہفتے کے دوران سب سے زیادہ کون سے ملک کے لوگ پڑھتے ہیں؟” بیگ صاحب نے الٹا اس نوجوان سے سوال کردیا۔ 
    ”نہیں سر۔”
    ”ہندوستان کے،ایک ہفتے میں دس گھنٹے اور بیالیس منٹ۔ اب کہاں جائیں حیرت کے سوا؟ یار اسرائیل کے پچپنلوگ کموڈ پہ بیٹھ کے بھی پڑھنے کے عادی ہیں۔ انگلینڈ کے لوگوں نے فلمیں کم دیکھیں ہیں ایک سال میں اور کتابیں زیادہ پڑھیں ہیں۔ ہم کچھ تو سوچیں یا صرف باتیں ہی کرنی ہیں۔” بیگ صاحب آج معمول سے ہٹ کر کچھ جذباتی سے ہوگئے تھے۔ان کی آواز رندھ گئی تھی۔ اپنے زوال کو عروج سے بدلنے کا عزم رکھنے والا یہ باہمت درویش علم کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ پاتا تھا۔مجمع میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھاگئی۔ یہ خاموشی اس مجلس کا مستقل حصہ تھی۔لوگ ایک تاثر میں ڈوبے رہتے یہاں تک کہ گفت گو کاسلسلہ دوبارہ جڑ جاتا۔ لیکن اس بار بہت سے لوگوں کی ٹھنڈی آہیں ایک ساتھ بلند ہوئی تھیں اورایک سنسناہٹ پیدا کرگئی تھیں۔ 

    ”وقت وقت کی بات ہے ۔ایک دورتھا جب مسلمانوں کے شہر روشنیوں میں ڈوبے ہوتے تھے۔ اس وقت شان الیزے اور لندن کیچڑ میں لت پت ہوتے تھے۔ بڑی بیگمات چوراہوں سے گزرتے ہوئے اپنے فراک اوپراٹھا لیا کرتی تھیں کہ گندے نہ ہوجائیں۔ ایک وقت تھاجب کسی کے سر میں درد ہوتا تو یورپ میں پادری بتایا کرتے کہ اس میں شیطان گھس گیا ہے۔ اب اس کاواحد علاج یہ ہے کہ سرمیں ڈنڈے مارے جائیں۔پھر شیطان بچتا نہ مریض ۔” بیگ صاحب کی اس بات پر مجمع میں ایک قہقہہ بلند ہوا ۔
    وائے ناکامی متاعِ کاررواں جاتارہا
    کاررواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
    حشمت بیگ کتنی دیر سرجھکائے تاسف میں ہلاتے رہے۔ یہ ان کی عادت تھی، جوشعر پسند آجاتا ہے اس کا لطف صحیح سے اٹھاتے اور دیکھنے والے احساس لیے بغیر نہ رہ پاتے۔ وہ کہاکرتے کہ جس نے شعر کا لطف لینا نہ سیکھا، اس نے کیا زندگی گزاری۔
    ”چلو تمہیں مزے کا واقعہ سناؤں۔”بیگ صاحب کے چہرے پہ کچھ تازگی نمودار ہوئی تھی۔ 
    ”ایک وقت تھا کہ دنیامیں تین بڑی سلطنتیں تھیں اور تینوں کے بادشاہ مسلمان تھے اورتینوں کے ناموں کے ساتھ عظمت کا لاحقہ لگا ہوا تھا۔ ہندوستان میں اکبرِ اعظم،ایران میں صفوی سلطنت کے عباسِ معظم اور ترکمانِ عثمانیہ میں سلطان سلیمان ذیشان ،سلیمان دی میگنیفیشنٹ۔انگلستان والے کہیں لڑنے جانے لگے توایک سفارت سلطان سلیمان کے پاس بھیجی۔ یہ سفارت عرضی لے کر آئی تھی کہ ہمیں ایک مہم درپیش ہے اور آپ سے گزارش ہے کہ ہماری غیر موجودگی میں ہماری سلطنت کی حفاظت کی جائے تاکہ فرانس والے قبضہ نہ جما سکیں۔ یہ تھے ہمارے اسلاف، یہ تھے ہم۔” مجمع ایک بار پھر سر دھن کر رہ گیا۔ 
    ”توہم کیا کرسکتے ہیں اس سب میں؟ہم تو نقصان پہ نقصان اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہم، ہمارے بچے سبھی۔ ہردن ایک نیا حادثہ ، ایک نیا سانحہ۔ خوشیاں توہم سے جیسے روٹھ ہی گئیں ہیں۔آئے روز ڈپریشن میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔خوشی کی خبر مل جائے تو یقین ہی نہیں آتا، اتنے جھوٹ ہمارے ساتھ ہوئے ہیں کہ سچ پر بھی جھوٹ کاگمان ہوتا ہے۔”ایک شخص بولتا چلا گیا جس کے چہرے پر حالات کی پریشانیاں رقم تھیں۔
    پروفیسر ازل کا سکون لیے ہوئے سنتے رہے، مسکراتے رہے۔ وہ شخص خاموش ہوا تو سدا کاامید پرست گویا ہوا۔

  • حضرت خضر علیہ السلام ۔ قرآن کہانی

    حضرت خضر علیہ السلام

    عمیرا علیم

    انسان کی ظاہر بین نگاہ جو دیکھتی ہے وہ اس سے اپنی مرضی کے نتائج اخذ کرتا ہے۔ درحقیقت کائنات کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی وہ مصلحتیں کار فرما ہوتی ہیں، جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ جیسا کہ بدکاروں کا عیش و عشرت میں ہونا، ظالموں اور نافرمانوں پر انعامات کی بارش، نیک لوگوں کا خستہ حال ہونا، بہ ظاہر ایسے حالات ہیں، جن کی وجہ سے لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
    نبوت کے آغاز سے ہی کفار نے نبی کریم ﷺ مخالفت شروع کر دی تھی اور پھر یہ مخالفت انتہا تک پہنچ گئی۔ مخالفین نے آپﷺ اور اصحاب کے خلاف اعتراضات، الزامات، تضحیک اور مخالفانہ پروپیگنڈے کا محاذ قائم کر رکھا تھا۔ اللہ تبارک تعالیٰ کی طرف سے سورۂ کہف میں مختلف واقعات بیان کیے گئے، جن میں مسلمانوں کو ہمت و حوصلے کا درس دیا گیا اور سمجھایا گیا کہ بہ ظاہر مسلمانوں کو ایک مشکل دور ضرور درپیش ہے لیکن جلد ہی یہ وقت گزر جائے گا۔ لہٰذا مسلمان صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
    سورۂ کہف میں بیان کردہ واقعات میں سے ایک اہم واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا ہے اس واقعے میں اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت خضر علیہ السلام کے ذریعے اپنے کارخانۂ مشیت میں شب و روز رونما ہونے والے واقعات میں سے چند ایک پر پردہ اُٹھا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہلکی سی جھلک دکھائی اور یہ واضح کیا کہ ظاہر و باطن میں کیا تفریق پنہاں ہے۔
    روایات میں یہ قصہ کچھ یوں شروع ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام لوگوں کو وعظ و نصیحت فرما رہے تھے اور آپ علیہ السلام کے بیان سے لوگوں پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ کسی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا: ’’اے اللہ کے رسول! کیا روئے زمین پر آپ سے بھی بڑا کوئی عالم ہے؟‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ 
    اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی بات سخت ناپسند فرمائی اور آپ علیہ السلام کی سرزنش فرمائی کہ آپ علیہ السلام نے علم و حکمت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں نہیں فرمائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی گئی کہ ’’میرا ایک بندہ جو دو دریاؤں کے سنگم پر رہتا ہے وہ تجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو ارشاد ہوا: ’’اپنے ساتھ ایک مچھلی لیجئے اور اِسے ٹوکرے میں رکھئے۔ جس جگہ مچھلی گم ہو گی۔ وہی آپ کی جائے ملاقات ہو گی۔‘‘
    ایک دفعہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ حضرت خضر علیہ السلام سے جس شخص کی ملاقات ہوئی تھی وہ اللہ کے رسول اورنبی حضرت موسیٰ علیہ السلام نہیں بلکہ کوئی اور تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’وہ اللہ کا دشمن جھوٹ بکتا ہے۔‘‘
    قرآن اس شخص کے نام کے حوالے سے خاموش ہے جس سے ملنے کی خواہش کا اظہار حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیا لیکن تمام معتبر احادیث میں ان کا نام خضر بتایا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کی کچھ روایات کے مطابق یہ قصہ حضرت الیاس علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کے کئی برس بعد پیش آیا۔
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی لی اور سفر کا آغاز اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کشتی کے ذریعے کیا۔ آپ علیہ السلام نے جس ساتھی کے ساتھ سفر کیا اُس کا نام قران میں نہیں بتایا گیا۔ لیکن بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے اور ان کی ڈیوٹی تھی جہاں مچھلی گم ہو جائے آپ علیہ السلام کو فوراً آگاہ کرے۔ راستے میں دونوں سستانے کے لیے بیٹھ گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ تب ہی اچانک مچھلی ٹوکری میں تڑپنے لگی۔ قریب ہی دریا میں گر گئی اور جہاں جہاں سے گزری ایک سرنگ بنتی چلی گئی اور پانی ساکت ہو گیا یہ تھی اللہ کی قدرت۔ آپ علیہ السلام کے ساتھی نے آپ علیہ السلام کو نہ جگایا اور ارادہ کیا کہ جب آپ جاگیں گے تو آپ کو خبر دیں گے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قیام کیا وہاں ایک چٹان کے نیچے حیات (زندگی) نامی چشمہ بہتا تھا، جس بھی چیز تک اُس کا پانی پہنچ جاتا وہ زندہ ہو جاتی۔ جیسے ہی مچھلی اُس پانی میں گئی وہ زندہ ہو گئی اور بے تاب ہو کر پانی میں کود گئی۔ 
    جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جاگے تو آپ علیہ السلام کے ساتھی یہ بات بھول گئے اور اس کا ذکر نہ کیا۔ سفر کا دوبارہ آغاز ہوا اور جب دوسرا دن ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کہا: ’’ہمارا صبح کا کھانا لے آؤ بے شک ہمیں اپنے سفر میں بڑی مشقتبرداشت کرنی پڑی ہے۔‘‘ تب یوشع بن نون نے آپ علیہ السلام کو مچھلی کے بارے میں اطلاع دی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی کے ساتھ واپسی سفر کیا اور اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی پانی میں کودی تھی یہاں ان کی حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ نبی کریم ﷺ کے فرمان ہے کہ: ’’ دونوں نشان دیکھتے ہوئے واپس لوٹے حتیٰ کہ چٹان تک پہنچ گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کپڑا اوڑھے لیٹاہوا ہے۔‘‘ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے سمندر کے درمیان پانی پر چٹائی بچھائی ہوئی تھی اور اس پرلیٹے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بتایا: ’’میں موسیٰ علیہ السلام ہوں۔‘ ‘حضرت خضر علیہ السلام بولے: ’’بنی اسرائیل کا نبی موسیٰ علیہ السلام؟‘‘ آپؑ نے فرمایا: ’’ہاں میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ مجھے اس ہدایت کی تعلیم دیں جس سے آپ کو نوازا گیا ہے۔‘‘
    حضرت خضر علیہ السلام فرمانے لگے۔ ’’اے موسیٰ! اللہ نے آپ کو تو رات سے نوازا ہے۔ آپ کے پاس تو وحی آتی ہے۔ آپ کو جو علم عطا ہوا وہ مجھے سیکھنا نہیں چاہیے اور جو علم مجھے ملا وہ آپ کو نہیں سیکھنا چاہیے۔‘‘ تبھی ایک پرندے (چڑیا) نے سمندر سے اپنی چونچ سے پانی پیا۔ یہ دیکھ کر حضرت خضر علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میرے اور آپ کے علم کو اللہ تعالیٰ کے علم سے وہ نسبت بھی نہیں جو چڑیا کی چونچ میں موجود پانی کو سمندر سے ہے۔‘‘ لیکن جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زیادہ اصرار کیا تو حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: ’’اے موسیٰ ! آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بار بار کہنے پر وہ آپ علیہ السلام کو ساتھ لے کر چلنے لگے اور فرمایا :’’ اگر آپ کو ساتھ رہنا ہے تو میں جو بھی کروں گا، اس کے بارے میں کوئی سوال مت کیجیے گا۔‘‘
    حضرت موسیٰ علیہ السلام ،حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ چلنے لگے۔ ساحلِ سمندر کے ساتھ چلتے ہوئے وہ ایک کشتی پر سوار ہوئے۔ کشتی کے ملاحوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کہا کہ آپ تو اللہ کے نیک بندے ہیں لہٰذا انہوں نے اس بندۂ صالح کو کرایہ لیے بغیر سوار کرلیا۔ حضرت خضر نے چپکے سے کشتی میں سوراخ کر ڈالا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ فعل سخت ناپسند فرمایا اور بول اُٹھے: ’’کیا تو نے اس لیے شگاف کیا ہے کہ اس کی سواریاں ڈوب جائیں۔ یقیناًتم نے بہت برا کام کیا ہے۔‘‘ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا میں نے آپ کو کہاتھا آپ میرے ساتھ رہتے ہوئے صبر نہیں کر سکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عذر خواہی چاہی اور بولے میری بھول تھی۔ اس دفعہ درگزر فرمائیں۔
    کشتی سے اُتر کر دونوں نے دوبارہ سفر کا آغاز کیا۔ اُنہیں راستے میں ایک لڑکا ملا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر کچل ڈالا۔ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو ہم جولیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا اور اس مسخرے کافر لڑکے کو پکڑا، لٹایا اور چھری سے ذبح کر ڈالا۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ فعل برداشت نہ کر سکے اور نہایت غضب ناک ہو کر بولے: ’’آپ نے ایک معصوم ذی نفس کو مار ڈالا۔‘‘ حضرت خضر علیہ السلام بولے: ’’میں نے کہا تھاکہ آپ سے کہ آپ میری معیت میں صبر نہیں کر سکیں گے۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور آپ معذرت خواہ ہوئے اور فرمایا: ’’اگر میں ایسی غلطی کا دوبارہ ارتکاب کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ مت رکھیے گا۔‘‘
    ایک بار پھر سفرشروع ہوا اور دونوں چلتے چلتے ایک گاؤں پہنچے۔ بھوک سے بے حال، گاؤں والوں سے کھانا طلب کیا لیکن گاؤں والوں نے آپ کی میزبانی سے انکار کر دیا۔ وہاں ایک دیوار گرنے کے قریب تھی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس دیوار کو دوبارہ تعمیر کر دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام حیران ہوئے اور بولے آپ کے ساتھ گاؤں والوں نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ آپ کو اس دیوار کی تعمیر کی اُجرت لینی چاہیے تاکہ کھانا خریدا جا سکے۔ یہ سُن کر حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: ’’بس اب ہمارے راستے جدا ہوئے۔ لیکن میں وہ حقائق واضح کر دوں جن کی وجہ سے میں نے یہ تینوں کام سرانجام دیئے۔
    وہ کشتی جس میں ہم سوار ہوئے وہ چند غریب آدمیوں کی تھی۔ جس راستے سے وہ گزر رہی تھی وہاں آگے ایک بادشاہ رہتا تھا، جو زبردستی کشتیاں چھین لیتا۔ لیکن وہ عیب دار کشتی نہیں پکڑتا تھا یہی وجہ تھی کہ میں نے اُس میں شگاف ڈالا۔ تاکہ وہ لوگ اس کی مرمت کروا کر دوبارہ استعمال کر سکیں۔
    اور جس لڑکے کو میں نے مار ڈالا وہ مومن والدین کی اولاد تھا۔ لیکن اُس نے جوانی میں سرکشی اور کفر میں مبتلا ہو کر اپنے والدین کے لیے اذیت کا باعث بننا تھاچناں چہ میں نے اُس کو قتل کر دیا۔ اب اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اُن کو نیک اور صالح اولاد عطا کرے گا۔
    اور جہاں تک دیوار کا معاملہ ہے، وہ دو یتیم بھائیوں کی ملکیت تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ جب وہ جوانی کی عمر کو پہنچیں گے تو وہ اس کو دیکھ لیں گے اور میں نے یہ تمام کام اللہ تبارک تعالیٰ کی مرضی سے سر انجام دیئے۔‘‘
    بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس خزانے سے مراد علم ہے (یعنی وہاں کتابیں دفن ہوں گی) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس خزانے کا اللہ تبارک تعالیٰ نے کتابِ مبین میں ذکر کیا ہے وہ دراصل سونے کی مضبوطی تختی تھی جس پر یہ عبارت کنندہ تھی: ’’مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے اور پھر مشقت میں پڑتا ہے۔ مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر جو جہنم کا ذکر کرتا ہے اور پھر بھی ہنستا ہے۔ مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر جس کے سامنے موت کا ذکر کیا جاتا ہے اور پھر بھی وہ غافل رہتا ہے۔لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہماری تو یہ تمنا ہے کہ کاش حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صبر کیا ہوتا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں ہمیں کچھ مزید بھی بتاتا۔‘‘
    علماء حضرت خضر علیہ السلام سے متعلق مختلف آراء رکھتے ہیں۔ کچھ علماء کا خیال ہے کہ آپ نبی تھے، کچھ کہتے ہیں کہ آپ ولی تھے جب کہ کچھ کی یہ رائے ہے کہ آپ فرشتے تھے۔ بہرحال قرآن سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ بندے تھے، آپ کوئی عام شخص نہ تھے۔ کیوں کہ حضرت خضر علیہ السلام نے جو تین کام کیے، ان میں سے پہلے دو کام تمام شریعتوں سے متصادم ہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی شریعت یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ کسی بے گناہ کو قتل کر دیا جائے یا کسی کی ذاتی چیز کو خراب کیا جائے۔ لیکن یہ ثابت ہے کہ حضرت خضر نے یہ کام اللہ کی رضا سے سرانجام دیئے ۔ اللہ نے آپ کو ایک خاص علم سے نوازا تھا اور ان کاموں کو کرنے میں اللہ کی مصلحت کار فرما تھی۔
    اصل سوال یہ ہے کہ اللہ کے ان احکام کی نوعیت کیا تھی۔ کیوں کہ یہ تشریحی احکام نہ تھے اور نہ ہی کسی انسان کے لیے یہ گنجائش رکھی گئی کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر بلا ثبوت الہام کی بنیاد پر ناحق قتل کرے یا کسی کی مملوکہ چیز خراب کرے۔ یہ احکام ان تکوینی احکام سے ملتے جلتے ہیں جن کے تحت کوئی بیمار ہو جاتا ہے، کسی کو زندگی سے نوازا جاتا ہے، کسی کو موت آتی ہے جب کہ کسی کو صحت و تن درستی عطا ہوتی ہے۔ تمام علماء اکرام اس بات سے متفق ہیں کہ کوئی انسان الہام کی بنیاد پر یہ افعال سرانجام نہیں دے سکتا۔ ان کاموں کے لیے فرشتے مقرر ہیں۔
    یہ ایک لاحاصل بحث ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام ولی تھے، نبی تھے، فرشتے تھے یا اللہ کی کوئی اور مخلوق رہیں اس قصے سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور وہ سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام مصلحت سے خالی نہیں اور ذاتِ باری تعالیٰ کے ہر کام میں بہتری کا کوئی نہ کوئی پہلو چھپا ہوتا ہے۔ اس لیے جو بھی معاملہ درپیش ہو اللہ کی رضا پر راضی رہیں اور صبر کریں۔ بے شک اللہ آسانیاں پیدا کرنے والا ہے۔

    ****

  • صحرا کی بلبل؛  ریشماں ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    صحرا کی بلبل؛ ریشماں ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

    انہیں ہم یاد کرتے ہیں


    5/5

    صحرا کی بلبل؛  ریشماں
    لعل خان

    یہ سال1959ء تھا۔ پاکستان بارہ برس کا ہو چکا تھا۔سلیم فارانی اور سید پطرس بخاری جیسے فاضل اساتذہ کی سرپرستی میں رہنے والے سیدسلیم گیلانی تب تک مقابلے کا امتحان پاس کرکے اسسٹنٹ ریجنل ڈائریکٹر بننے کے بعد واشنگٹن ڈی سی امریکہ کے لیے سکرپٹ ایڈیٹر،اناؤنسر اور پروڈیوسر کا سفر بھی طے کر چکے تھے۔ یہ اس وقت ریڈیو پاکستان کے مشہور ترین براڈ کاسٹر تھے اور ریڈیو پاکستان کے لیے ڈائریکٹر جنرل بننے کے لیے ان کا سفر جاری تھا۔یہ وہی سید سلیم گیلانی ہیں جنہوں نے مہدی حسن،فریدہ خانم اور ثریا ملتانیکر جیسی مایہ ناز اور بے مثال آوازوں کو ڈھونڈا تھا۔یہ جوہر شناس اور جوہر تلاش انسان تھے اور ہیروں کو ڈھونڈنا اور پھر انہیں تراش کر انمول بنا دینا انہیں بے حد پسند تھا۔سال 1959ء چل رہا تھا اور یہ اس سال کے لیے کسی نئی آواز کی تلاش میں بھٹک رہے تھے۔ یہ تلاش انہیں ”سیہون شریف“ لے گئی جہاں ”حضرت لعل شہباز قلندر“کا مزار ہے۔ یہ اس دن مزار پر پہنچے اور عجیب منظر دیکھا۔ لوگوں کا ایک ہجوم عالمِ سوز میں ڈوب کر جھوم رہا تھا۔ ان کی نظر لاتعداد ”دھمال“ ڈالنے والوں پر پڑی اور ساتھ ہی کانوں میں مدھر،دل کو موہ لینے والی پرسوز مگر معصوم سی آواز رس گھولنے لگی۔ یہ جوہر ی تھے اور ہیرا ان کے کہیں بے حد قریب تھا۔ یہ بے تاب ہو کر جھومتے ہوئے مدہوش ہجوم کو چیرکر آگے بڑھے اور پھر ساکت کھڑے رہ گئے۔ نو دس سال کی ایک بچی ”گڑوی“ سامنے رکھ کر ”لعل میری پت رکھیو“ گانے میں مصروف تھی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور سلیم گیلانی کی آنکھیں دھیرے دھیرے نم ہو رہی تھیں۔ یہ بچی غربت کی چلتی پھرتی تصویر تھی۔ سلیم گیلانی اس کی آواز نہ سنتے تو شاید وہ ان کی ایک نظرِ غلط کی حقدار بھی نہ ٹھہرتی۔ وہ زیادہ سے زیادہ اسے فقیروں کی بچی سمجھ کر ایک آنے کی بھیک دے دیتے مگر انہوں نے پہلے اس کی آواز سن لی تھی اور اب وہ ان کے لیے خاص ہو چکی تھی۔بچی اپنی پشت پر کھڑے ہوئے مقدر سے بے نیاز گڑوی بجا تے ہوئے لہرا لہرا کر گا رہی تھی اور دھمال بڑھتا چلا جا رہا تھا۔یہ کافی دیر تک اپنی درد بھری آواز میں سر بکھیرتی رہی اور سلیم گیلانی مدہوش ہو کر سنتے رہے۔بالاخر اس جادوئی آواز کا طلسم ٹوٹا اور ماحول میں ایک دم گہری خاموشی چھا گئی۔جھومتے ہوئے سر ساکت ہو گئے اور دھمال ڈالتے ہوئے پاؤں رک گئے۔سلیم گیلانی ایک دم ہوش میں آئے اور بے تابی سے آگے بڑھے۔بچی گڑوی سنبھالتے ہوئے اٹھ رہی تھی جب انہوں نے سامنے آکر اس ننھی کوئل کو دیکھا اور بڑی محبت سے پوچھا:
    ”بیٹی تمہارا نام کیا ہے؟“
    بچی نے قدرے حیرت سے سامنے پینٹ کوٹ میں کھڑے ہوئے اجنبی شخص کو دیکھا اور معصوم سی آواز میں بولی۔
    ”پٹھانی بیگم۔“
    جوہری کے ہاتھ ہیرا لگ چکا تھا۔پٹھانی بیگم نام کا یہ ہیرا آگے چل کر ”ریشماں“ بنا اور دنیا کے سامنے آیا۔
    ٭……٭……٭
    آپ سب نے مشہور محاورہ ”گودڑی میں لعل“ سن رکھا ہو گا۔یہ محاورہ برصغیر کی مایہ ناز فوک گلوکارہ ریشماں جی پر صادق آتا ہے۔اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم ریشماں جی کے ماضی میں جائیں گے۔اٹھارویں صدی کے آخر میں بھارتی ریاست راجھستان میں خانہ بدوش قبیلوں کی اکثریت تھی۔ یہ لوگ نسلاً بھی خانہ بدوش ہی کہلاتے تھے۔ یہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے مگر بیسویں صدی کی ابتدا میں یہاں اسلام کی تبلیغ شروع ہوئی اور اکثر خانہ بدوش قبائل اس دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر دائرہئ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ریشماں کے دادا ”سخی محمد“ کا تعلق بھی ایسے ہی ایک خانہ بدوش قبیلے سے تھا۔ یہ لوگ گھوڑے اور اونٹ پالتے تھے۔ خانہ بدوش کی کوئی زمین نہیں ہوتی۔ ہجرت ان کا مقدر اور زمین کے مختلف ٹکڑوں پر بنتی اور اجڑتی رہنے والی جھگیاں ان کا مستقبل ہوتی ہیں۔ گھوڑے اور اونٹ پال کر یہ قبائل اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کا بندوبست بھی کرتے تھے اور مسلسل ہجرت کے لیے سواری کی ضرورت بھی پوری کرتے تھے۔ریشماں کے والد حاجی محمد مشتاق ہندوستانی ریاست راجھستان کے شہر بیکانیر میں پیدا ہوئے۔یہ بھی اپنے والد کی طرح گھوڑے اور اونٹ پالتے تھے اور ان کا ٹھکانہ بھی وہی مخصوص ”جھگی“ تھی جو خانہ بدوشوں کی نشانی ہوتی ہے۔ریشماں جی 1947ء کو راجھستان کے ضلع چرو اور تحصیل رتن نگر کے ایک گاؤں ”لوہا“ میں پیدا ہوئیں۔ان کا سنِ پیدائش کہیں کہیں 1948ء بھی بتایا گیا ہے، مہینہ اور تاریخ سے تاریخ آج بھی ناواقف ہے۔خانہ بدوش قبیلوں میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا رواج تھا اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ محمد مشتاق کی پہلی بیوی سے تھیں،دوسری یا پھر تیسری بیوی کی اولاد تھیں۔ تاریخ میں ان کے بہن بھائیوں کا ذکر بھی نہیں ملتا۔ تقسیمِ ہند کے فوراً بعد ریشماں اپنے ماں باپ اور قبیلے کے باقی لوگوں کے ساتھ پاکستان کے شہر کراچی میں آ گئیں۔یہ اس وقت صرف ایک ماہ کی تھیں۔ خانہ بدوش قبائل میں تعلیم کا تصور آج تک پیدا نہیں ہو سکا۔ ان لوگوں کے بچے بھی جانوروں کی طرح پل کر بڑے ہو جاتے ہیں مگر ریشماں جی اس نعمت سے محروم رہنے کے باوجود بھی قبیلے کی سب سے خوش قسمت بچی تھیں، اللہ نے ان کو پرسوز مدھر آواز کے ساتھ سروں کے سنگ چلنے کا سلیقہ بھی پیدائشی طور پر عنایت فرما دیا تھا۔ریشماں جی نے گائیکی کی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ قبیلے کی عورتیں شادی بیاہ جیسی تقریبات کے علاوہ اولیاء کرام کے مزار پر جا کر گڑوی بجایا کرتی تھیں،ریشماں بھی ان میں شامل ہو گئیں اور جلد ہی اپنی آواز کی وجہ سے قبیلے میں اہمیت کی حامل ہو گئیں۔یہ سلیم گیلانی کی نظر میں آنے سے پہلے سندھ میں اولیا ء کرام کے مزاروں پر صوفیانہ کلام گایا کرتی تھیں۔جہاں شہرت کی بات آئے تو ہم بلاشبہ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ شہرت کی سیڑھی پر ان کا پہلا قدم سلیم گیلانی صاحب کی وجہ سے پڑا مگر بات شناخت کی ہو تو ریشماں جی نے اپنی زندگی کے لاشعوری برسوں میں ہی لوکل آبادیوں میں اپنی پہچان بنا لی تھی۔انہیں چھوٹی محفلوں میں اور مزاروں پر صوفیانہ کلام پیش کرنے کے لیے باقاعدہ بلایا جاتا تھا۔سر سنگیت ان کی فطرت میں شامل تھا اس لیے بنا کسی روایتی تعلیم کے بھی ریشماں جی سروں پر عبور رکھتی تھیں اور حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر ان کے ”لعل میری پت رکھیو“ میں ان کی آواز کے ساتھ ان کی سنگیت کی لے پر مہارت ہی تھی جس نے سلیم گیلانی کو ان کی طرف متوجہ کر دیا تھا۔ 1960ء میں یہی صوفیانہ کلام ان کی زندگی کا پہلا پیشہ ورانہ قدم بھی ثابت ہوا۔سلیم گیلانی وقت ضائع کیے بغیر انہیں اسٹوڈیو میں لے گئے اور ریڈیو پاکستان سے راجھستانی کوئل کوکنے لگی۔بحیثیت فوک گلوکارہ یہ ریشماں جی کا آغاز تھا اور کیا شاندار آغاز تھا جس نے آن کی آن میں برصغیر کے لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔یہ شہرت اور کامیابی کی طرف ریشماں جی کا پہلا قدم تھا۔یہ گودڑی کے اس لعل کی آواز تھی جس نے کم و بیش چوالیس سال تک کروڑوں لوگوں کو اپنا گرویدہ بنائے رکھا۔
    ٭……٭……٭
    پاکستان ٹیلی ویژن کی بنیاد 1960ء کی دہائی میں رکھی گئی۔ ریشماں جی اس وقت تک ریڈیو پاکستان کے ذریعے مشہور ہو چکی تھیں اس لیے ٹیلی ویژن تک ان کی رسائی بالکل آسان رہی۔یہاں سے ان کی شہرت سرحد پار پہنچنے لگی۔ ساٹھ کی دہائی میں بالی ووڈ پر مشہور فلمی ہیرو اور فلمساز ”راج کپور“ کا راج تھا۔ یہ آواز ان کے کانوں تک پہنچی اور انہوں نے ریشماں جی کواپنی فلم ”بوبی“ کے لیے گانا ریکارڈ کروانے کی پیشکش کی۔یہ فلم 1973میں ریلیز کی گئی تھی جس کے ڈائریکٹر خود راج کپور تھے، رائٹر خواجہ عباس تھے اور اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں راج کپور کے بیٹے رشی کپور پہلی مرتبہ مرکزی کردار ادا کر رہے تھے، ان کے مقابل ڈمپل کباڈیا تھیں  اور موسیقی ترتیب دینے والے لکشمی کانت پیارے لال تھے۔ریشماں جی اس فلم کے لیے خود کوئی گانا ریکارڈ نہیں کروا سکیں تھیں مگر ان کے گانے ”اکھیاں نوں رہن دے“ کو اردو زبان میں تبدیل کر کے لتا منگیشکر نے گایا تھا۔فلم بلاک بسٹر ثابت ہوئی اور اس میں بڑا ہاتھ میوزک کا تھا۔ہم ایک طرح سے اس فلم کو بولی ووڈ میں ریشماں جی کا آغاز کہہ سکتے ہیں۔
    ہم اب 1973ء سے 1983پر آتے ہیں۔ سال 1983ء کو ریشماں جی کا سال یا ”لمبی جدائی“ کا سال کہنا چاہیے۔لمبی جدائی چھ منٹ اور چھبیس سیکنڈ کا ایک ایسا دھماکہ تھا جس نے پلے بیک سنگنگ میں ریشماں جی کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔آپ کو شاید حیرت ہو کہ ریشماں جی نے پلے بیک سنگنگ بہت کم کی ہے۔وہ اس شعبے میں تکنیکی مسائل سے بھی دو چار رہتی تھیں اور ان کی منفرد بھاری آواز بھی ان کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی تھی مگر ”لمبی جدائی“ کتنی لمبی ثابت ہوئی، اس کا اندازہ آپ اچھی طرح کر سکتے ہیں۔اس گانے کو پاکستان اور ہندوستان کے بے شمار گلوکاروں نے گایا اور یہ گانا آج تک مختلف آواز اور لہجوں میں سنا جا رہا ہے۔آج کا بچہ ریشماں جی سے بھلے ہی ناواقف ہو مگر ”لمبی جدائی“ کو اس نے ضرور گنگنا رکھا ہوتا ہے۔یہ گانا 1983ء میں ریلیز ہونے والی ہندوستانی فلم ”ہیرو“ میں شامل کیا گیا تھاجو فلم ریلیز ہونے کے بعد فلم کی شناخت بن گیا۔اس فلم کے پروڈیوسر اور ڈائیریکٹر ”سبھاش گھئی“ تھے۔سبھاش گھئی اور ریشماں جی کے مابین جان پہچان کروانے والے بھی راج کپور تھے۔فلم کی کہانی سبھاش گھئی،مکتا گھئی اور رام کلکر نے لکھی تھی۔اس فلم کی موسیقی بھی لکشمی کانت پیارے لال نے ترتیب دی تھی۔جیکی شروف اور میناکشی مرکزی کرداروں میں تھے اور آپ کو مزے کی بات بتاؤں کہ اس فلم میں  کُل چھ گانے تھے جن میں سے تین لتا منگیشکر نے گائے اور دو گانے منہار اور انورادھا نے گائے،ہماری ریشماں جی کے حصے میں صرف ایک گانا آیا اور اس ایک گانے نے ہندوستانی میوزک کو پچھاڑ کر رکھ دیا۔آپ اگر پرانے گانے نہیں سنتے تب بھی آپ لتا منگیشکر سے اچھی طرح واقف ہوں گے۔ بالی ووڈ انڈسٹری کو کھڑا کرنے میں لتا جی کی آواز کا کتنا ہاتھ ہے، یہ بات پورا ہندوستان اور پاکستان جانتا ہے اور اس فلم میں ان کے اور ریشماں جی کے درمیان ایک اور تین کا مقابلہ تھا جسے ریشماں جی نے صرف جیتا نہیں بلکہ اس فلم میں انہوں نے لتاجی کو ”ناک آؤٹ“ کر دیا جس کا ثبوت یہ ہے کہ اس فلم کی پہچان آج بھی ”لمبی جدائی“ ہی ہے۔فلم کے کسی اور گانے کے حصے میں اتنی شہرت نہیں آ سکی جو ریشماں جی کی آواز کو ملی۔اس گانے نے صحیح معنوں میں ریشماں جی کو برِصغیر کی صف اول کی گلوکاراؤں میں لا کھڑا کیاتھا۔ اس فلم کے بعد ریشماں جی کو بالی ووڈ کی طرف سے آفرز آتی رہیں۔ انہوں نے کچھ فلموں میں اپنی آواز بھی دی مگر پلے بیک سنگنگ کی طرف فطری طور پر ان کا رجحان نہیں تھا۔ان کی پسندیدہ موسیقی اول و آخر صرف صوفیانہ کلام رہی۔ بالی ووڈ بہرحال اس فلم کے بعد ریشماں جی کا کافی عرصے تک دیوانہ رہا۔آپ اس دیوانگی کا اندازہ یوں کر لیجیے کہ ”لمبی جدائی“ کے اکیس سال بعد2004ء میں ریشماں جی کا ایک گانا ”عشق دی گلی وچ“ بھارتی میوزک چارٹ پر ٹاپ ٹین میں شامل رہا۔ان کے چاہنے والوں میں ”اندرا گاندھی“ بھی شامل تھیں۔اندرا گاندھی نے ریشماں جی کو بذات خود بھارت آنے کی دعوت دی تھی جسے ریشماں نے قبول کیا تھا اور وہاں انہیں اتنی عزت اور محبت سے نوازا گیا تھا کہ ریشماں جی مرتے دم تک اندرا گاندھی کی میزبانی کی تعریف کرتی رہیں۔وقت رخصت اندرا گاندھی نے کہا تھا:
    ”مانگ ریشماں ……کیا مانگتی ہے؟“

    ریشماں جی نے کہا تھا۔
    ”میرے آبائی گاؤں ”لوہا“ تک جانے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے…راستہ بنوا دیجیے۔“
    اور اگلی مرتبہ جب ریشماں جی بھارت گئیں تو ان کے گاؤں لوہا تک ”ریشماں روڈ“ کے نام سے پختہ سڑک بن چکی تھی،گاؤں میں لاری اڈہ بن چکا تھااور بجلی بھی پہنچا دی گئی تھی۔یہ سب ایک پرستار کا اپنے پسندیدہ ستارے کو خراجِ عقیدت تھا۔
    ریشماں جی کے زمانے کے بالی ووڈ کے تمام مشہور ستارے انہیں سنتے اور پسند کرتے تھے اور انہیں بھارت آنے کی دعوتیں ملتی رہتی تھیں۔یہ ایک مرتبہ خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر حاضری دینے گئیں۔دلیپ کمار صاحب کو پتا چلا تو فوراً ملنے کے لیے بے تاب ہو گئے اور ملاقات میں انہوں نے باقاعدہ شکوہ بھی کر دیا کہ انہیں مطلع کیے بغیر وہ آئیں اور شاید واپس بھی چلی جاتیں۔
    دلیپ کمار صاحب نے انہیں ملتے ہی جو پہلے لفظ کہے تھے وہ آپ بھی ملاحظہ کیجیے۔
    ”مجھے اگر بروقت آپ کے آنے کی اطلاع مل جاتی تو میں خود آپ کے استقبال کے لیے موجود ہوتا۔“
    دھرمیندر،سنیل دت،امیتابھ بچن،دلیر مہدی،گرداس مان،سردول سکندر اور ان جیسے بے شمار مشہور ہستیاں ہماری ریشماں جی کے پرستاروں میں شامل تھیں۔
    ٭……٭……٭
    پاکستانی میوزک پر ریشماں جی کے اثرات کافی گہرے اور دیرپا رہے۔صوفیانہ کلام میں کافی گلوکاروں اور گلوکاراؤں نے ان کی پیروی کی اور نام کمایا۔عاطف اسلم پاکستانی پاپ میوزک کا جانا پہچانا نام ہیں،انہوں نے بھی ریشماں جی کی”لمبی جدائی“ گا کر اپنی پہچان بنائی اور خوب نام کمایا۔ہم یہ بالکل نہیں کہہ سکتے کہ کسی نے ان کے گانوں کا حق ادا نہیں کیا مگر ریشماں جی تک پہنچنا ناممکن ہے کیونکہ وہ ”God Gifted“ تھیں۔ ان کے گانے کا انداز بالکل فطری تھا۔ ان کے سروں میں ایسا سحر تھا کہ انہیں ساز کی مدد کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ 12برس کی عمر میں ”گڑوی“ بجا کر ”لعل میری“ سے لوگوں کو دھمال پر مجبور کرنے والی گلوکارہ کے فن کوچھو لینا آسان نہیں تھا۔جنرل ایوب خان نے انہیں بلاوجہ ”بلبلِ صحرا“ کا خطاب نہیں دیا تھا۔ وہ واقعی صحرا کی بلبل تھیں جو آج کے زمانے میں ناپید ہو چکی ہے۔ جنرل ایوب خان،یحییٰ خان، ذولفقار علی بھٹو،غلام اسحاق خان،پرویز مشرف اور ان جیسی مشہور شخصیات ریشماں جی کو بے حد شوق سے سنا کرتی تھیں۔
    ٭……٭……٭
    ریشماں جی ذاتی زندگی میں بے حد سادہ اور بھولی بھالی معصوم عورت تھیں۔انہوں نے ہارمونیم پلیئر ”خان محمد“ سے شادی کی تھی جس سے ان کے دو بیٹے ساون اور لطیف پیدا ہوئے، ایک بیٹی ”لے پالک“ تھی جس کا نام کہیں پر روبی اور کہیں پر خدیجہ لکھا گیا ہے۔ساون اور روبی دونوں گلوکاری کے شعبے سے منسلک ہیں۔ساون کے نام پر ایک مرتبہ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ ساون کے مہینے میں پیدا ہوا تھا اس لیے اس کا نام ساون رکھا گیا تھا۔ان کے شوہر خان محمد نے بعد ازاں دوسری شادی کرلی۔ 1998ء میں ان کے شوہر خان محمد انتقال کر گئے تھے۔
    ریشماں جی خوبصورت دل کی مالک سادہ لوح خاتون تھیں،دنیا کی چالاکیوں سے قطعی ناواقف تھیں،ہر کسی کو اپنا دوست اور مخلص سمجھ بیٹھتی تھیں کیونکہ یہ ان کے اپنے اوصاف تھے اور وہ اسی نظر سے دنیا کو دیکھنے کی عادی تھیں۔انہوں نے اپنی پوری زندگی میں لین دین کے معاملات پر کسی سے بحث نہیں کی۔وہ بات کو جھگڑے تک پہنچنے کی نوبت نہیں آنے دیتی تھیں بلکہ چپ سادھ کر راستہ بدل لیتی تھیں۔نرم دل،ہمدرد،مہربان اور مذہب پسند خاتون تھیں۔انہوں نے مسجد بھی بنوائی،اچھے وقتوں میں لوگوں کی مدد بھی کی اور دنیاوی معاملات میں مروت کو ہمیشہ سب سے اوپر رکھا۔
    کہا جاتا ہے کہ پلے بیک سنگنگ سے ان کی کنارہ کشی کی وجہ چند ایک فلم پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز تھے جنہوں نے ان کی بھاری آواز کو جواز بنا کر انہیں کہا تھا کہ وہ فلمی گانوں کے لیے موزوں نہیں ہیں مگر میں اس بات کو نہیں مانتا۔میرے نزدیک سچ یہ ہے کہ ریشماں جی کو فلموں کے لیے گانا سرے سے پسند ہی نہیں تھا۔ انہیں فوک میوزک پسند تھا اور اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔میرا یقین ہے کہ اگر وہ فلموں کے لیے اپنی آواز دینے میں دل چسپی رکھتیں تو آج بولی ووڈ اور بالی ووڈ میں سب سے زیادہ گائے جانے والے گانے انہی کے ہوتے۔
    ٭……٭……٭
    ریشماں جی کو پہلی مرتبہ 1980ء میں گلے کی تکلیف ہوئی تھی۔ اس وقت علاج سے بہتر ہونے کے بعد وہ چوبیس سال تک پرفارم کرتی رہیں۔2005ء میں انہوں نے گلوکاری کو خیرباد کہا تھا اور 2007ء کے آخر میں وہ دوبارہ گلے کی تکلیف میں مبتلا ہوئیں اور یہ اذیت ناک حقیقت سامنے آئی کہ وہ گلے کے کینسر میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے بہادری سے چھے سال تک کینسر کا مقابلہ کیامگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔صحرا کی بلبل 3نومبر 2013ء کو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ لمبی جدائی گا کر دنیا کو جیتنے والی بالآخر دنیا کو لمبی جدائی دے کر چلی گئی۔ریشماں جی میرے اللہ کی قدرت کا ایک کرشمہ تھیں،یہ میرے رب کی طاقت ہے جو کیچڑ میں کنول اگا دیتا ہے،صحرا میں پھول کھلا دیتا ہے،گودڑی میں لعل پیدا کر دیتا ہے،بے مول وجود کو انمول روشنی دے کر دنیا کی آنکھیں چکاچوند کر دیتا ہے اور پھر اس انمول روشنی کو واپس لے لیتا ہے۔
    ریشماں جی کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ”لیجنڈز آف پاکستان“ اور ”ستارہ ئامتیاز“ جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ ریشماں جی اب ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں مگر ان کے گائے ہوئے کلام رہتی دنیا تک زندہ رہیں گے۔ جو ایک مرتبہ انہیں سن لے گا وہ ہمیشہ انہیں سنتا ہی رہے گا۔ہر آنے والی نسل میں کوئی نہ کوئی ایسا موجود رہے گا جو کہے گا:
    ”صحرا میں کبھی بلبل آئی تھی“
    ٭……٭……٭
    ریشماں جی نے جو بھی گایا،لاجواب گایا۔ان کا کون سا گانا آپ کو بتاؤں اور کون سا چھوڑ دوں؟ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے اس لیے میں آپ کو صرف وہ گانا بتاؤں گا جو مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔
    اکثر شبِ تنہائی میں
    اکثر شبِ تنہائی میں
    کچھ دیر پہلے نیند سے
    گزری ہوئی دلچسپیاں
    بیتے ہوئے دن عیش کے
    بنتے ہیں شمع زندگی
    اور ڈالتے ہیں روشنی
    میرے دلِ صدِ چاک پر
    اکثر شبِ تنہائی میں
    ایک مرتبہ ضرور سنیے گا۔شائد آپ بھی کہہ اٹھیں  ”صحرا میں کبھی بلبل آئی تھی“

    ٭……٭……٭

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ختم شد

    اس پوسٹ کو شیئر کریں


    Facebook-f


    Twitter


    Instagram


    Whatsapp

  • شاہ ماران ۔ افسانہ

    شاہ ماران
    پراسرار کہانی
    علینہ عرفان

    اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ آشفتہ سر انسانوں نے ہر زمانے میں محبت کو ایک نئی معراج پر پہنچایا ہے۔ محبت ایک ایسا الوہی جذبہ ہے جو کسی کسی پر اپنا رنگ جماتا ہے اور جس پر یہ رنگ چڑھ جائے وہ اپنی ایک الگ ہی دنیا میں قیام کر لیتا ہے۔ جہاں اس کے چاروں جانب رنگ و روشنی کی برسات ہوتی ہے یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کبھی کبھی محبت نامی یہ جذبہ انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوقات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ محبت کی ایسی ہی ایک مثال ”شاہ ماران“ نے بھی قائم کی۔ شاہ ماران…… جو کہنے کو تو ”سانپوں کی ملکہ“ تھی لیکن اس کے دل میں موجزن محبت کا ٹھاٹھے مارتا سمندر  ایک اجنبی انسان کو تاعمر اس کا قرض دار بنا گیا۔
    صدیوں پہلے کی بات ہے، ترکی کے جنوبی شہر ترسس میں زیرِ زمین سانپوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی جہاں وہ سب امن و آشتی سے رہتے تھے۔ ان کی ملکہ”شاہ ماران“ ایک نہایت ہی سمجھ بوجھ والی ملکہ تھی۔ اس کے بنائے قاعدے ساری رعایا دل و جان سے تسلیم کرتی تھی کیونکہ ان میں حکمت و دانش  پوشیدہ ہوتی تھی۔ جتنا خیال وہ اپنی رعایا کا رکھتی تھی اتنا ہی اس کی رعایا اس پر جان چھڑکتی تھی۔ شاہ ماران کا اوپری دھڑ عورت سے مشابہ تھا جبکہ اس کا زیریں حصہ ناگن جیسا ہی تھا۔ وہ اپنی خوبصورتی میں بھی یکتا تھی۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کے پاس ہزاروں قصے ہیں جن میں عقل و دانش کی باتیں چھپی ہوتی ہیں۔ کوئی بھی اس کے یہ قصہ سنتا، اس کا گرویدہ ہو جاتا۔ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ سب اس کے علم و حکمت کے بھی معترف تھے۔ الغرض ان کی دنیا میں چین ہی چین تھا۔
    مگر شاہ ماران نہیں جانتی تھی کہ اس کی زندگی میں یہ چین اب کچھ ہی دنوں کا مہمان ہے۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ آنے والے دنوں میں اس کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ اس کی روانی سے بہتی زندگی کا رُخ ہی موڑ دیں گے۔
    ان زیرِ زمین سانپوں کو آج تک کسی انسان نے نہیں دیکھا تھا۔ یہ سانپ اپنی دنیا میں ہی مگن تھے لیکن پھر جمش نامی لکڑیوں کے ایک بیوپاری نے ان سانپوں کی موجود گی کا راز پا لیا۔
    ہوا کچھ یو ں کہ جمش اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ترسس کے علاقے میں شہد کی تلاش میں پہنچا جہاں انہیں ایک غار میں اصلی شہد کی موجودگی کا علم ہوا۔ وہ اس غار کے پاس پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں شہد کا ایک بڑا ذخیرہ واقعی موجود تھا۔ تب جمش کے دوستوں کے دل میں بے ایمانی نے سر ابھارا۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ جمش کو اسی غار میں تنِ تنہا چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ شہد جمع ہی نہ کر پائے اور وہ اس کے حصے کا شہد بھی لے جائیں۔
    اور پھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔ وہ کچھ دور چل کر دانستہ جمش سے الگ ہو گئے اور اسے یہاں اکیلا چھوڑ دیا۔ پہلے تو جمش کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ اس کے دوستوں نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے لیکن جب تک سمجھ آیاتب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔اب اسے یہاں اکیلا ہی رہنا تھا تاوقتیکہ اسے واپسی کا راستہ مل جائے اور تب اچانک ہی اس کی نظر غار کے عقب سے چھن کر آنے والی روشنی کی جانب گئی۔ تجسس نے اسے اس روشنی کا پتہ لگانے پر مجبور کیا۔ جمش غار کے پیچھے گیا اور روشنی کا منبع تلاش کیا وہ روشنی اسی غار کے عقب سے آ رہی تھی۔ غار کے پچھلے حصے میں پڑے پتھر اس روشنی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے۔
    جمش نے ان پتھروں کو ہٹایا اور غار کے اندر داخل ہوا۔ کافی اندر جانے کے بعد اس نے جو دیکھا اسے اس پر یقین ہی نہ آیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک نہایت ہی خوبصورت باغ موجود تھا۔ وہ اس باغ میں جانے سے خود کو روک نہیں پایا اور گھٹنوں کے بل چلتا ہوا اندر داخل ہوا۔ باغ روشنیوں، پھولوں اور سانپوں سے بھرا ہوا تھا۔ انواع و اقسام کے سانپ وہاں موجود تھے۔ جمش کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے اور تب ہی اس کی نظر ایک تخت پر بیٹھی ”شاہ ماران“ پر پڑی۔ دودھیا رنگت کی حامل یہ سانپ اپنی خوبصورتی کے باعث باقی سب سے منفرد دکھائی دے رہی تھی۔ جمش آگے بڑھا اور اچانک ”شاہ ماران“ کی نگاہ اس کی جانب گئی اور اس ایک نگاہ نے ہی ایک آدم زاد اور ایک سانپ کو لازوال محبت میں باندھ دیا۔ وہ دونوں پہلی نظر کی محبت کا شکار ہو گئے۔
    شاہ ماران نے جمش کی جھجھک کو محسوس کرتے ہوئے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا، تب جمش آگے آیا اور اپنی ساتھ گزری ساری روداد ملکہ کو کہہ سنائی۔ شاہ ماران کو اس کے ساتھ ہونے والے دھوکے کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ تب شاہ ماران نے اسے اپنا مہمان بننے کی دعوت دی کہ وہ جب تک چاہے یہاں رہ سکتا ہے۔
    ”اے اجنبی! تمہاری داستان سن کر مجھے بہت افسوس ہوا ہے، اگر تم چاہو تو کچھ دن ہمارے ساتھ قیام کر سکتے ہو۔ یہاں تمہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ تم جب چاہو اپنے وطن واپس جا سکتے ہو۔“شاہ ماران کی یہ بات سن کر جمش نے کہا:
    ”اے ملکہ! میں یہاں رہنے کو اپنی خوش نصیبی تصور کروں گا۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ جب تک میں یہاں ہو آپ کا وفادار بن کر رہوں گا۔“
    جمش کی یہ بات سن کر شاہ ماران کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری اور اس نے اپنے خدام کوجمش کو مہمان خانے میں لے جانے کا اشارہ کیا۔ اس غار میں سانپوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی جہاں ان کی سہولت کا ہر سامان بدرجہ اتم موجود تھا۔ جمش نے اپنا کہا سچ کر دکھایا۔ اس نے شاہ ماران کا اعتماد جیت لیا۔ اس کا دل یہاں ایسا لگا کہ اس نے واپس جانے کا خیال ہی اپنے ذہن سے نکال دیا۔ ایک دن یونہی شاہ ماران نے جمش سے کہا:
    ”جمش، تمہیں پتہ ہے۔ تم نے ہمیں کیسے ڈھونڈ نکالا؟ کیسے تم ہماری دنیا دریافت کر پائے؟“ شاہ ماران کے اس سوال پر جمش نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا:
    ”شاہ ماران میں نہیں جانتا، لیکن جاننا چاہتا ہوں۔۔“ تب شاہ ماران گویا ہوئی:
    ”تمہارے پاس جو سچا دل ہے، اس کی بدولت تم ہماری دنیا دیکھ پائے اور ہم تک پہنچ پائے تمہاری روح پاک ہے۔ تمہیں خداوند نے ”اجنہ“(تیسری آنکھ) سے نوازا ہے۔ اسی لیے انسانوں میں سے صرف تم ہی ہم تک آئے۔ اسی اجنہ کی بدولت تم اس مادی اور فانی دنیا سے پرے جو ایک اور دنیا ہے، اسے دیکھ سکتے ہو۔ اس دنیا میں حقیقی خوشیاں اور راحتیں پنہاں ہیں۔“
    شاہ ماران کی یہ باتیں سن کر جمش کی محبت اور عقیدت میں اور اضافہ ہو جاتا۔ اسے اس کے جیسے انسانوں نے دھوکہ دیا تھا جبکہ ان سانپوں کے بیچ رہتے ہوئے اسے ذرہ برابر بھی خوف محسوس نہیں ہوا تھا۔ جمش کئی سال تک شاہ ماران کے ساتھ اسی غار میں رہا۔
    لیکن کئی سال بعد ایک روز اسے اپنی دنیا اور اپنے لوگوں کی یاد ستائی اور اس نے اپنی دنیا میں لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ گو شاہ ماران دل سے ایسا نہیں چاہتی تھی لیکن اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ اپنی محبت کے باعث جمش کو روک لے۔ وہ محبت میں اپنے محبوب کی خوشی چاہتی تھی۔ اس لیے اس نے جمش کو خوش دلی کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی لیکن اس نے جمش سے ایک وعدہ لیا۔
    ”جمش! آج تمہیں کو مجھ سے ایک عہدکرنا ہوگا  اگر تمہاری نظر میں میری کوئی اہمیت ہے تواسی اہمیت کے پیشِ نظر تم وعدہ کرو کہ یہاں سے جانے کے بعد تم کبھی بھی کسی کو بھی اس جگہ اور سانپوں کی اس دنیا کے بارے میں نہیں بتاؤ گے اور کسی بھی حال میں اپنا وعدہ نہیں توڑو گے۔“
    شاہ ماران کی یہ بات سن کر جمش نے کہا تھا:
    ”شاہ ماران! میں وعدہ کرتا ہوں کہ کسی کو کبھی بھی تمہارے بارے میں پتہ نہیں چلے گا اور میں صدقِ دل سے اپنے اس وعدے کو نبھاؤں گا۔“ یہ کہہ کر جمش نے شاہ ماران سے رخصت لی۔ شاہ ماران کا دل کٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا لیکن اس نے خود پر قابو رکھا اور جمش کو الوداع کہا۔ دوسری جانب اپنی دنیا میں واپس جانے کے بعد بھی کئی سال تک جمش نے شاہ ماران سے کیا اپنا وعدہ نبھایا، لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ ابھی قسمت کاایک اور کاری وار اس پر ہونا باقی ہے۔
    جمش کو اپنی دنیا میں واپس آئے کئی سال گزر چکے تھے کہ انہی دنوں ترکی کے بادشاہ کی طبعیت ناساز ہو گئی۔ قرب و جوار کے سارے طبیبوں اور جادوگروں کو بلا یا گیا لیکن بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی طبیعت کسی طور صحیح ہونے میں ہی نہیں آ رہی تھی۔ اب تو بادشاہ کی جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ سارے ملک پر سوگ کی فضا قائم تھی۔ بظاہر کوئی بیماری نہ ہونے کے باوجود بھی بادشاہ روز بہ روز موت کی جانب بڑھ رہا تھا۔ بالآخر ملک کی سب سے برگزیدہ شخصیت نے کئی روز کی محنت اور مختلف عملیات کے بعد بادشاہ کے لیے علاج تجویز کر ہی لیا۔
    بادشاہ کو ایک بار پھر صحت مند اور اس بیماری سے چھٹکارہ دلانے کے لیے جو علاج تجویز کیا گیا وہ یہ تھا کہ کہیں سے بھی اور کیسے بھی کر کے سانپوں کی ملکہ ”شاہ ماران“ کو تلاش کیا جائے۔ شاہ ماران حکمت اور لازوال خوبصورتی کا استعارہ ہے۔ اسی لیے شاہ ماران کو ہلاک کر کے بادشاہ کو اس کا گوشت کھلانے سے ہی بادشاہ کو اپنی پرسرار بیماری سے چھٹکارہ ملے گا۔ جب بادشاہ کے علاج کا یہ طریقہ زبان زدِ عام ہوا تو کسی نہ کسی طرح یہ بات بھی نکلی کہ جمش اس بات سے واقف ہے کہ شاہ ماران کو کہاں تلاش کیا جائے۔
    جمش کے کانوں میں بھی اس بات کی بھنک پڑ رہی تھی لیکن وہ خاموش تھا۔ پھر ایک دن اسے محل کی جانب سے بلاوا آیا۔ وہ محل پہنچا تو اسے وزیرِ سلطنت کے روبرو پیش کیا گیا۔ اس کو سامنے دیکھ کر وزیرِ سلطنت گویا ہوئے: 
    ”آؤ جمش! ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔“
    جمش:”عالی جاہ میں حاضر ہوں۔۔“
    وزیر:”جیسا کہ تم جانتے ہو بادشاہ سلامت کی طبیعت پچھلے کئی دنوں سے ناساز ہے۔ اب رعایا کے سب سے بر گزیدہ طبیب نے ان کے علاج کے لیے جو تجویز پیش کی ہے اس کے سلسلے میں محل میں تمہارے نام کی گونج سنائی دی ہے۔ ایسی شنید ملی ہے کہ تم شاہ ماران کا پتہ جانتے ہو لہٰذا امید کی جاتی ہے کہ تم بادشاہ سلامت کی بیماری کو ختم کرنے میں مدد کرو گے۔۔“
    جمش:”یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں اپنی سلطنت کے کچھ کام آ سکوں لیکن میں آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میرے بارے میں آپ نے جو بھی سنا ہے وہ افواہ ہے۔ میں شاہ ماران کے ٹھکانے سے واقف نہیں ہوں۔ میں تو خود اتنے برس سے نہ جانے کہاں کہاں کی خاک چھانتا پھر رہا ہوں۔ میرا علم اس بارے میں محدود ہے۔“
    ”جمش تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“ وزیر نے سخت لہجے میں کہا۔
    ”عالی جاہ! میں تو آپ سے حقیقت بیان کر رہا ہوں۔ میں واقعی شاہ ماران کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ جمش کی یہ بات سن کر وزیر جلال میں آگیا اور آگ اگلتے ہوئے لہجے میں بولا:
    ”جمش تمہیں اپنی یہ ہوشیاری بہت مہنگی پڑے گی۔ تمہارے پاس صرف آج کی رات ہے، اچھی طرح سوچ لو کہ تم شاہ ماران کا ٹھکانے بتاؤ گے یا ہم دوسرے طریقے اپنائیں۔ تم بہت اچھی طرح جانتے ہو کہ اگر تم نے اس سلسلے میں ہوشیاری دکھائی تو اپنے پیاروں کی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جن اپنوں کی یاد تمہیں برسوں بعد واپس لے آئی۔ تم انہی اپنوں کی موت کی وجہ بن جاؤ۔“ 
    وزیر کی یہ بات سن کر جمش کا چہرہ خوف سے سفید پڑ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ سلطنت کے عمائدین سے دشمنی مول نہیں لے سکتا، لیکن یہ تو اس کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس کے اپنوں کی جان کے دشمن بن جائیں گے۔ اس کو سوچوں میں ڈوبا دیکھ کر وزیر گویا ہوا۔
    ”اب تم جاؤ اور آج کی رات خو ب سوچو۔ صبح اپنے فیصلے کے ساتھ محل پہنچ جانا۔ اگر تم نہ آئے تو تمہارے خاندان کا نام صفحہئ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔“
    جمش کو محل سے جانے کی اجازت تو مل گئی تھی لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کے پر کتر دیے گئے ہیں۔ اس کے پاس راستے محدود تھے اور سوچیں لا محدود۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ شاہ ماران سے کیا وعدہ نبھائے یا اپنے خاندان کو بچائے۔
    اسی ادھیڑ بن میں وہ اپنے گھر پہنچا۔ گھر والے بھی اس کی غائب دماغی محسوس کر رہے تھے۔ سب نے وجہ جاننے کی کوشش کی، لیکن جمش نے کسی کو بھی کچھ نہ بتایا بتاتا بھی کیا بتانے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ سلطنت نے اسے عجیب مخمصے میں الجھا دیا تھا۔ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ وقت تھا کہ اس کے ہاتھوں سے پھسلے جا رہا تھا اور یہ ہی سوچتے سوچتے سو گیا۔ صبح جمش اٹھا تو قدرے مطمئن تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے کہیں سے اطمینان کی دولت ہاتھ لگ گئی ہو۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہ ہی جمش ہے جو کل سے انتہائی پریشان تھا۔ اپنے گھر والوں کو اپنی طرف سے اطمینان دلا کر جمش محل کی جانب روانہ ہوا۔
    محل میں اسے وزیر کے سامنے پیش کیا گیا۔
    ”آؤ جمش! ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے“ جمش کو دیکھ کر وزیرِ سلطنت گویا ہوا۔
    ”میں وزیرِ باتدبیر کے حکم سے روگردانی نہیں کرسکتا۔“ جمش نے ادب سے جھک کر کہا۔
    ”اس کا مطلب تم ہمیں شاہ ماران کے ٹھکانے کی جانب لے کر جانے کے لیے تیار ہو۔۔“ وزیر نے جمش سے پوچھا۔
    ”جی ہاں بالکل! آپ کے حکم سے انحراف نہیں کیا جا سکتا جبکہ بادشاہ سلامت کی صحت سے زیادہ بھی مجھے کوئی چیز عزیز نہیں۔“ جمش کے جواب سے وزیر کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی اور اس نے سپہ سالار کو حکم دیا کہ وہ فوج کا کچھ دستہ جمش اور اس کے ساتھ جانے کے لیے تیار کرے۔ وہ لوگ شاہ ماران کا کھوج لگانے ابھی اسی وقت نکلیں گے وزیر کے حکم پر فوری عمل ہوا اور آٹھ لوگوں پر مشتمل یہ ایک چھوٹا سا دستہ جنگل کی جانب روانہ ہوا۔
    کچھ ہی دیر میں جمش کے بتائے راستے پر چلتے ہوئے یہ دستہ اسی غار کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ وزیر کو ابھی بھی جمش پر شک تھا۔ اسے لگ رہاتھا کہ جمش صرف ان لوگوں کا وقت ضائع کر رہا ہے۔ اس لیے وزیر نے پہلے اپنے آدمیوں سے کہا کہ وہ غار کے آس پاس کا جائزہ لیں کہ یہاں کہیں سانپوں کی موجودگی کے نشانات ہیں بھی یا نہیں۔ وزیر کے ساتھ آئے دستے نے چاروں جانب کا جائزہ لیا اورواپس آ کر وزیر سے کہا کہ یہاں دور و نزدیک کہیں بھی سانپوں کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی۔
    یہ بات سن کر وزیر نے ایک قہر آلود نظر جمش پر ڈالی اور زہر خند لہجے میں بولا:
    ”جمش! ایک بات کا خیال رکھنا، اگر تم نے ہم سے جھوٹ بولنے کی کوشش کی تو نتائج کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔یہاں اگر شاہ ماران نہ ملی توتم بھی یہاں سے زندہ واپس نہ جا پاؤ گے۔“
     وزیر کی بات سن کر جمش مضبوط لہجے میں گویا ہوا۔
    ”میں وزیرِ با تدبیر کو پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ شاہ ماران کا ٹھکانہ  یہ ہی ہے۔ اگرچہ میرا دل یہ سوچ کر ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوا جا رہا ہے کہ میں شاہ ماران کی موت کا ذمہ دار بن رہا ہوں، لیکن میرا خدا جانتا ہے کہ میں یہ سب اپنی خوشی سے نہیں کر رہا بلکہ مجھ پر زبردستی اس سب کو مسلط کیا جا رہا ہے۔ میں بہت مجبور ہو کر یہاں تک آیا ہوں۔ مجھ پر شک کرکے مجھے مزید رسوا نہ کیا جائے۔“
    جمش کی یہ بات سن کر وزیر گرج کر بولا:
    ”اگر ایسا ہے تو تم جاؤ اور اپنے ساتھ میرے دو آدمی بھی لیکر جاؤ اور شاہ ماران کو ہمارے سامنے حاضر کرو۔ اب ہم شاہ ماران کو اپنے سامنے دیکھنے کے لیے لمحہ بھر کی بھی دیر برداشت نہیں کریں گے۔“
    وزیر کی یہ بات سن کر جمش اپنے گھوڑے سے اترا اور جنگل میں اس جانب چل پڑا جہاں غار میں سانپوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔ غار کے پچھلے حصے کی جانب پہنچ کر جمش نے شاہ ماران کو آواز دی۔ ایسا نہیں تھا کہ صرف جمش کے دل کی دنیا ہی تہہ و بالا تھی بلکہ اندر غار میں موجود سانپوں کی دنیا میں بھی ایک زلزلہ سا آیا ہوا تھا۔ شاہ ماران نے رات ہی اپنی ساری رعایا کو جمع کر کے انہیں اپنے فیصلے سے متعلق بتا دیا تھا۔ یہ سنتے ہی رعایا میں سوگ کی سی فضا قائم ہو گئی تھی۔ اب تک سانپوں کی اس دنیا میں شاہ ماران کا حکم سر آنکھوں پر لیا جاتا تھا۔ سب جانتے تھے کہ شاہ ماران کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے، لیکن اس بار ان سب کو شاہ ماران کے اس فیصلے سے  اختلاف تھا۔ سب جانتے تھے کہ اس فیصلے سے شاہ ماران نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ پوری رعایا کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے انہوں نے شاہ ماران کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، لیکن شاہ ماران اپنے اس فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ابھی بھی سانپوں کی اس دنیا میں اسی بات کو لیکر بحث چل رہی تھی کہ شاہ ماران اپنے تخت کی طرف بڑھتی نظر آئی۔ شاہ ماران کو دیکھتے ہی تمام رعایا ادب سے خاموش ہو گئی۔ سوگوار سی شاہ ماران اپنے تخت پر براجمان ہوئی اور اپنی رعایا سے مخاطب ہوئی:
    ”میں آپ سب کی بے چینی اور تذبذب کو جانتی ہوں لیکن میرا یقین کریں، میری جانب سے اٹھایا جانے والا قدم آپ سب کے مستقبل کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔“
    شاہ ماران کی یہ بات سن کر اس کا معتمد ِ خاص آگے بڑھااور ادب سے گویا ہوا:
    ”ملکہ! ساری رعایا یہ بات جانتی ہے کہ آپ نے آج تک ہمارے لیے جو بھی فیصلے کیے ہیں ان میں ہماری بھلائی پوشیدہ رہی ہے، لیکن آپ کا یہ فیصلہ ہم سب پر گراں گزر رہا ہے۔“
    اس کی یہ بات سن کر شاہ ماران کے چہرے پر ایک پھیکی سی ہنسی نظر آئی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی معتمدِ خاص بولا:
    ”ہم آج تک آپ کا ہر حکم مانتے آئے ہیں، لیکن آپ کو یاد ہو گا کہ جب آپ اس آدم زاد کو یہاں مہمان بنا رہی تھیں تب بھی رعایا میں بے چینی پھیل گئی تھی کہ یہ انسان کسی کے دوست نہیں ہوتے اور آج آپ گواہ ہیں کہ کس طرح اتنے سال یہاں رہنے کے باوجود وہ آدم زاد آپ کی جان کے درپے ہے۔ یہ انسان کسی کے نہیں ہوتے۔ وہ آپ کی محبت، عزت،صلہ رحمی اورخدمت سب بھول کر آپ کو نقصان پہنچانے آپ کے ٹھکانے پر چلا آیاہے۔ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اسے اس غداری کا مزہ چکھائیں۔“
    اس کی یہ بات سن کر شاہ ماران متانت سے بولی:
    ”نہیں نہیں! ایسا کبھی سوچنا بھی نہیں۔ جمش نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ اسے معتوب ٹھہرایا جائے۔ وہ جو کچھ کر رہا ہے میری ہی ایما پر کر رہا ہے۔ تم سب کومیری حکمت پر بھروسہ ہے تو یہ یاد رکھو کہ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے اور یہ بھی یاد رکھنا کہ میں نے جمش سے بہت محبت کی تھی۔ ہم سانپوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ہم صرف بدلہ لیتے ہیں لیکن اس دنیا میں جب تک ایک انسان بھی زندہ رہے گا میری اور جمش کی کہانی امر رہے گی۔ دنیا میری محبت کی مثالیں دے گی۔“
    ابھی یہ گفتگو جاری ہی تھی کہ باہر سے جمش کی آواز سنائی دی جو شاہ ماران کو آوازیں دے رہا تھا۔ جمش کی آواز سن کر شاہ ماران نے اپنی رعایا سے رخصت کی اجازت مانگی۔
    ”اب میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ میری نصیحتوں پر عمل کرنا۔ آپس میں اسی طرح رہنا جیسے میرے سامنے رہتے آئے تھے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے، جب تک باہر سے آدم بو آتی رہے تم میں سے کسی نے بھی باہر نہیں آنا ہے۔ انسانوں کے بعد باہر جا کرتم مجھے واپس یہاں لانے کے مجاز ہو۔ بس اتنا یاد رکھنا کہ میں اپنی آنے والی نسلوں اور اپنی رعایا کو قتلِ عام سے بچانے کے لیے اپنی قربانی پیش کر رہی ہوں اور یہ ہی ایک مخلص ملکہ کا فرض ہوتا ہے۔“
    شاہ مارا ن نے ابھی اتنا کہا ہی تھا کہا پھرسے جمش کی آواز سنائی دی جو اسے ہی پکار رہا تھا۔ شاہ ماران نے اپنی سلطنت اور رعایا پر ایک آخری اور الوداعی نظر ڈالی اور پھر غار کے دہانے کی جانب بڑھ گئی۔ اندر اتنے سانپوں کی موجودگی کے باوجود سکوت طاری تھا۔ ساری رعایا اپنی رحم دل ملکہ کی آخری شبیہ اپنی آنکھوں میں اتار رہے تھے۔
    جمش جیسے ہی شاہ ماران کو ڈھونڈنے کے لیے وزیر سے الگ ہوا۔ وزیر نے اپنے ساتھ آئے بقیہ گھڑسواروں کو طلب کیا اور کہا:
    ”مجھے جمش پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے و ہ ہم سے جھوٹ بول رہا ہو۔ اسی لیے میں تم سب کو حکم دیتا ہوں کہ چاہے جمش شاہ ماران کو حاضر کرے یا نہ کرے، دونوں صورتوں میں موت ہی اس کا مقدر بننی چاہیے۔ اگر تو وہ شاہ ماران کو حاضر کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے سلطنت کو گمراہ کرنے کے جرم میں موت ملے گی اور اگر وہ شاہ ماران کو لے بھی آتا ہے توبھی بادشاہ کو یہ بات کبھی پتا نہیں چلنی چاہیے کہ انہیں صحت یاب کرنے میں میرے علاوہ کوئی اور شامل تھا۔“ 
    وزیر کی یہ بات سن کر فوجیوں نے سرِ تسلیم خم کر دیا اور وزیر کے چہرے پر ایک شیطانی ہنسی کھیلنے لگی۔
    جمش کی آواز پر شاہ ماران اپنی زیرِ زمین دنیا سے باہر چلی آئی۔ دونوں کچھ دیر تک ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتے رہے۔ ایسا لگ رہا تھا دونوں کے درمیان ایسی گفتگو ہو رہی ہے جو صرف ان دونوں تک ہی محدود ہے کوئی اور اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔
    جمش کی نگاہیں شاہ ماران سے شکوہ کر رہی تھیں۔
    ”شاہ ماران تم ایسا کیوں کر رہی ہو۔ میں کبھی بھی وعدہ خلاف نہیں بننا چاہتا تھا، لیکن رات میں نے تمہیں خواب میں دیکھا اور پھر وہ ہی کر رہا ہوں جو تم نے کہا۔“ جمش کی یہ بات سن کر شاہ ماران مسکرانے لگی اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر گویا ہوئی۔ 
    ”تمہیں اپنا خواب یاد ہے ناں۔“ 
    ”بالکل یاد ہے۔۔تم کل رات میرے خواب میں آئی تھیں اور تم نے ہی مجھے ہدایت دی تھی کہ میں کسی سے کچھ بھی کہے بغیر محل جاؤں اور وزیر کو تمہارے ٹھکانے تک لے آؤں لیکن میں سمجھ نہیں پا رہا کہ تم ایسا کیوں کر رہی ہو۔ کیوں خود کو قربان کر رہی ہو؟“
    جمش کی یہ بات سن کر شاہ ماران مسکرائی اور کھوئے کھوئے لہجے میں بولی: 
    ”جمش! ہم سانپوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ہم فطرتاً ایذا پسند، ظالم اور بدلے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، لیکن تمہاری شاہ ماران ایسی نہیں۔ مجھے تم سے محبت ہے۔ تمہاری روح پاک ہے۔ تمہیں اس خداوند نے ”اجنہ“ سے نوازا ہے۔ میں اپنی حکمت سے دیکھ چکی ہوں کہ یہ وزیر تمہاری جان کے درپے ہے۔ چاہے تم مجھے اس کے سامنے لیکر جاؤ یا نہ لیکر جاؤ، اس نے تمہیں مارنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ تمہیں مار کر وہ میری کھوج میں اس سارے جنگل کو آگ لگا دیتا۔ میری رعایا جل کر بھسم ہو جاتی۔ میں نہ تمہیں مرتے ہوئے دیکھ سکتی ہوں اور نہ اپنی رعایا کو۔ اس لیے وزیر کے سامنے جانے کے بعد بھی جیسا میں کہوں تم ویسا ہی کرنا۔ امید ہے تم میری یہ آخری گزارش ضرور مانو گے۔“
    شاہ ماران کی یہ بات سن کر جمش نے انتہائی عقیدت اور محبت سے اس پیار و ایثار کی دیوی کو دیکھا جو اپنی محبت اور اپنے فرض کے لیے اپنی جان تک دینے سے گریز نہیں کر رہی تھی۔ اس لمحے جمش کو شاہ ماران سے ایک بار پھر محبت ہو گئی۔ جمش کے ساتھ آئے گھڑ سوار بھی شاہ ماران کو دیکھ کر مبہوت رہ گئے۔ اس کاحسن ایسے ہی سب کو ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیتا تھا۔بالاخر جمش اور شاہ ماران کے درمیان ساری باتیں ختم ہوئیں اور جمش شاہ ماران کو لیکر اس سمت بڑھا جہاں وزیر ان دونوں کا انتظار کر رہا تھا۔
    شاہ ماران کو دیکھ کر وزیر بھی ایک لمحے کے لیے گنگ رہ گیا۔ اتنا مکمل حسن کسی نے کہاں دیکھا تھا۔ وزیر کو اپنی جانب متوجہ پاکر شاہ ماران ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی:
    ”کیا بات ہے وزیرِ باتدبیر، مجھ سے ملنے کی اتنی بے تابی کیوں تھی تمہیں۔“
    شاہ ماران کی آواز پر وزیر اپنے حواسوں میں واپس آیا اور کہا:
    ”ہمارے بادشاہ بے حد بیمار ہیں اورسلطنت کے طبیب نے تمہاری ہلاکت میں ہی ان کی صحت مندی بیان کی ہے۔ اب یا تو تم خود رضاکارانہ طور مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ ورنہ ہمارے پاس اور بھی کئی حربے ہیں۔“
    وزیر کی یہ بات سن کر شاہ ماران کے چہرے پر ایک طنزیہ ہنسی نظر آئی۔
    ”وزیر میرا نام شاہ ماران ہے میں سانپوں کی ملکہ ہوں اور ملکہ تو ہمیشہ ہی بادشاہ پر قربان ہوتی آئی ہے۔میں اس سلطنت کے لیے جان دینے پر تیار ہوں۔  مجھے مارنے کے بعد ایک برتن میں پانی ڈال کر میرے گوشت کو اس میں پکایا جائے۔ میرا گوشت کھانے سے بادشاہ کو ان کی بیماری سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی، لیکن میری ایک گزارش ہے اس برتن کا پانی جمش کو پلایاجائے کیونکہ جو شخص یہ پانی پیے گا اسے حکمت اور دانائی کی لا زوال قوتیں مل جائیں گی اور وہ شخص درازی عمر پائے گا جبکہ کوئی بیماری اسے چھو کر بھی نہیں گزرے گی۔ میں چاہتی ہوں میرے مرنے کے بعد جمش کو یہ تمام فوائد حاصل ہوں۔“
    شاہ ماران کی یہ بات سن کر وزیر کے چہرے پر ایک کمینی سی ہنسی دکھائی دی اور اس نے شاہ ماران سے وعدہ کر لیا کہ جیسا وہ چاہتی ہے ویسا ہی ہوگا۔
    اور پھر سب نے دیکھا کہ حسن و خوبصورتی کا استعارہ وہ ملکہ جو ایک آدم زاد سے بے تحاشہ محبت کرتی تھی۔ اس کی محبت میں خود کو فنا کرنے کے لیے تیار ہو گئی۔ وزیر کے ساتھ آئے گھڑسوار شاہ ماران کو باندھنے کے لیے آگے بڑھے تو شاہ ماران نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں منع کیا اور اپنے ساتھ لائے خنجر سے پلک جھپکتے میں اپنی نس کاٹ لی۔ شاہ ماران غش کھا کر گرنے لگی تو جمش نے اسے سنبھال لیا۔ جمش کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر شاہ ماران کے چہرے کو عقیدت سے دھو رہے تھے اور شاہ ماران کی بند آنکھوں میں آخری شبیہ جمش کی ہی لہرا رہی تھی اور پھر شاہ ماران نے دم توڑ دیا۔
        وزیر نے یہ دیکھا تو اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ جمش کو شاہ ماران سے الگ کر دیا جائے۔ جمش جو شاہ ماران کو چھوڑنے کے لیے راضی نہیں تھا۔ اسے کھینچ کر شاہ ماران سے الگ کیا گیا اور شاہ ماران کے جسم کے ٹکڑے کر کے اسے ایک بڑے سے برتن میں ڈال کر پکایا جانے لگا۔ شاہ ماران کی ہدایت کے مطابق جب اس برتن کا پانی جمش کو دینے کے لیے سپاہی وزیر کے پاس اس کی اجازت لینے گئے تو وزیر نے ان کے ہاتھ سے برتن لے کر ایک ہی سانس میں پورے کا پورا پانی اپنے حلق میں اتار لیا۔
    لیکن یہ کیا، پانی پیتے ہی وزیر ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا۔وہ اپنے حلق پر ہاتھ رکھے چیختا ہوا زمین پر گرا اور خون کا ایک فوارا سا اس کے حلق سے بر آمد ہوا۔بس ایک لمحہ ہی لگا تھا کہ اس لالچی وزیر کا خاتمہ ہونے میں۔شاہ ماران جانتی تھی کہ اس پانی کی تاثیر کا سنتے ہی وزیر جمش کو یہ پانی پینے نہیں دے گا اور وہ یہ ہی چاہتی تھی۔وہ جانتی تھی کہ یہ پانی وزیر کی ہلاکت کا کام کرے گا اوریہ پانی پیتے ہی مکار وزیر کا خاتمہ ہو جائے گا اور ویسا ہی ہوا۔ محض ایک لمحے میں ہی وزیر کا تڑپتا وجود ساکت ہو گیا۔ اس کے ساتھ آئے فوجی بھی حیران و پریشان کھڑے صورتحال کو سمجھنے کو کوشش کر رہے تھے جبکہ جمش کے دل میں شاہ ماران کی عقیدت کئی گنا اور بڑھ گئی تھی۔
    شاہ ماران جانتی تھی کہ وزیر جمش کو مارنے کے درپے ہے۔ وہ خود اس دنیا میں نہ ہوتے ہوئے بھی جمش کی حفاظت کا انتظام کر گئی تھی۔ وہ وزیر کی فطرت پہچان گئی تھی۔۔جانتی تھی کہ اس پانی کی خوبیوں کے بارے میں سنتے ہی وزیر وہ پانی پی جائے گا اور مر جائے گا۔یوں وہ مر کر بھی اپنی محبت کو امر کر گئی۔
    جمش کو اس صورتحال کو سمجھنے میں کچھ دیر لگی اور پھر وہ اپنے ساتھ آئے سپاہیوں سے گویا ہوا: 
    ”تم سب نے دیکھا کہ ابھی کیا ہوا۔ وزیر باتدبیر نے لالچ کیا اور اپنے انجام کو پہنچا اگر تم لوگ بھی اپنی عافیت چاہتے ہو تو وہ کرو جو میں کہتا ہوں۔ تم سب دیکھ ہی چکے ہو کہ میری نیت بالکل صاف تھی۔ میں ایک وفادار رعایا کی طرح بادشاہ کو ان کی بیماری سے نجات دلانا چاہتا تھا۔ اب اگر تم سب بھی اپنی خیریت چاہتے ہو تو شاہ ماران کی قربانی کو ضائع ہونے سے بچاؤ اورمحل کی جانب کوچ کرو۔ ہمیں جلد از جلد یہ گوشت بادشاہ کو کھلا کر انہیں اس موذی مرض سے نجات دلانی ہے۔“
    سپاہیوں پر جمش کی باتوں کا اثر ہوا وہ اپنی آنکھوں سے ہی دیکھ چکے تھے کہ یہ شخص مخلص ہے، چنانچہ فوراً ہی خیمے سمیٹے گئے اور محل کی جانب کوچ کیا گیا۔ محل پہنچتے ہی جمش بادشاہ کے روبرو پیش ہوا۔ بادشاہ کے سامنے شاہ ماران کا گوشت پیش کیا گیا۔ جیسے جیسے بادشاہ گوشت کھاتا گیا اس کے جسم میں نئی زندگی دوڑتی گئی اور آخری لقمہ لینے تک بادشاہ بالکل بھلا چنگا ہو چکا تھا۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ وہ ہی بادشاہ ہے جو پچھلے کئی مہینوں سے صاحبِ فراش تھا۔
      جمش نے جنگل میں پیش آئے واقعہ کی تفصیلات بادشاہ کے گوش گزار کیں۔ بادشاہ جہاں شاہ ماران کی محبت اور قربانی کا سن کر حیران ہوا وہیں وزیر کی مکاری اور اپنی بے خبری پر افسوس کا اظہار کیا۔ تمام سچائی سننے کے بعد بادشاہ نے جمش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے سلطنت کا وزیر مقرر کر دیا۔
    ”میں اپنی صحت یابی کے لیے شاہ ماران اور جمش کا شکرگزارہوں جمش کو خداوند نے ”اجنہ“ سے نوازا ہے اور اسی لیے میں اپنی سلطنت کی فلاح کے لیے جمش کو آپ سب کا نیا وزیر مقرر کرتا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ جمش اپنے فرائض بخوبی انجام دیں گے۔“ 
    یوں سب نے جمش کو اپنا نیا وزیر مان لیا اور جمش نے بھی انتہائی ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
    سانپ جو ہمیشہ ہی نفرت اور سراسیمگی کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اس واقعے کے بعد سلطنت میں ان کے بارے میں سب کی رائے یکایک بدل گئی۔ ایک سانپ کی ایک آدم زاد سے ایسی محبت پر سب انگشت بدنداں تھے۔
    کہتے ہیں کہ جب جمش کی وفات ہوئی تو اس کے جنازے میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سانپوں کو بھی دیکھا گیا۔یہ سانپ سب سے الگ تھلگ ایک قطار میں چلے جا رہے تھے۔ ہو سکتا ہے یہ سانپ اپنی ملکہ کے محبوب کے آخری دیدار کو آئے ہوں۔
    عین ممکن ہے کہ اس دنیا میں نہ سہی لیکن ہماری دنیا سے متوازی جو ایک اور دنیا موجود ہے اس میں ”اجنہ“ کے باعث ”جمش“ اور ”شاہ ماران“ پھر ایک ہو گئے ہوں۔ کیا پتا شاہ ماران جس نے اپنی محبت میں خود کو فنا کر دیا۔۔دوسری دنیا میں اپنے محبوب کو پا کر اپنی محبت کی طرح امر ہو گئی ہو۔
    ____________________________________________________________________

  • آشنا ۔ افسانہ

    آشنا ۔ افسانہ

    آشنا
    شاہ رخ نذیر

    رات کی سیاہ چادر سے نکل کر صبح کی پہلی کرن نمودار ہوئی، فجر کی نماز کے بعد وہ معمول کے مطابق لان مےں آگئی تھی۔ گھاس پر گری اوس کو محسوس کرنے کے لےے چپل لال اےنٹوں کی روش پر اتار کر ننگے پاﺅں گھاس پر چلنے لگی۔ لان مےں چہار سو خاموشی تھی مگر اس کے اندر اےک عجےب سی ہلچل مچی تھی۔ وہ خالی نظروں سے آسمان کو دےکھنے لگی۔ بھوری شربتی آنکھوں کے کٹورے گرم پانی سے بھرنے لگے اور پلک جھپکتے ہی گوہرِناےاب سےپ سے نکل کر گال پر بہ گئے۔ لفظوں کی مےخےں کانوں مےں پےوست ہونے لگےں ۔ چڑےوں کی چہچہاہٹ نے خاموشی کا طلسم توڑاتو ہاتھوں کی پشت سے آنکھےں رگڑتے ہوئے سےنے مےں قےد سانس آہ کی صورت خنک ہوا کے سپرد کی اور واپس گھر کے اندر چلی گئی۔
    صبح ناشتے کی مےز پر ہاشم کے سوا سب ہی موجود تھے۔ افق ناشتا ٹےبل پر لگوانے کے بعد سےدھی ہاشم کے کمرے کی طرف آگئی۔ دروازے پر دستک دےنے کے ساتھ وہ ہاشم کو آواز بھی دے رہی تھی۔ کھٹ کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلاتو سامنے کھڑے شخص کو دےکھ کر وہ تقرےباً چلّا اٹھی۔
    ”تم“؟
    ”تم کب آئے“؟ آواز مےں خوشی نماےاں تھی۔
    ”رات چار بجے۔“ وہ دروازے سے ہٹا اور اونگھتاہوا واپس کمرے مےں چلا گےا۔ پھر بےڈ پر گرتے ہوئے تقرےباًنےم دراز ہوگےا۔
    ”مےں تائی امی کو بتاتی ہوں ، تم اور ہاشم بھائی جلدی سے ناشتے کے لےے آجاﺅ“۔ وہ کہتی ہوئی دروازے ہی سے پلٹ گئی ۔ کمرے مےں ہاشم کے علاوہ حسّان بھی موجود تھا۔ وہ آج صبح ہی اسلام آباد سے آےا تھا۔ پچھلے اےک سال سے وہ بزنس کے سلسلے مےں اسلام آباد مےں مقےم تھا۔ آج ناشتے کی مےز پر خوشی کا سماں تھا، حسّان اتنے دنوں بعد جو آےا تھا۔
    ٭….٭….٭
    فاخرہ اور افق بہت چھوٹی تھےں جب ان کے والدےن کا انتقال ہوا۔ عبےد حےدر، افق کے تاےااسے اپنے ساتھ لے آئے تھے جب کہ فاخرہ کو صائمہ پھوپھو نے پالا تھا۔ ہاشم، حسّان ردا اور وردہ عبےد حےدر کے بچے تھے۔ حسّان اور افق بہت اچھے دوست تھے۔ دونوں اےک دوسرے کی ہر بات بنا کہے ہی سمجھ جاتے ۔ بچپن مےں وہ اپنی ہر بات اےک دوسرے سے شےئر کرتے، پر جوانی کی دہلےز پر قدم رکھتے ہی بہت کچھ بدل گےا تھا۔ وہ اب بھی بہت اچھے دوست تھے مگر اب افق اپنی باتےں حسّان سے شےئر نہیں کرتی تھی۔
    لان مےں بکھری سرما کی نرم دھوپ مےں وہ لوگ بےٹھے کارڈز کھےل رہے تھے۔ جب ہاشم اور ردا مےں جھگڑا شروع ہوگےا۔ ہاشم مسلسل کارڈز مےں ہےرا پھےری کر رہاتھا۔ ردا اس حرکت سے بری طرح زچ ہوگئی تو کارڈز پھےنکتے ہوئے چلی گئی۔ ہاشم نے سر جھکا کر گرے ہوئے کارڈز کی جانب دےکھا اور کسی فاتح کی سی مسکراہٹ سجائے کہنے لگا:
    ”واہ جی …. اب خود ہار رہی ہے تو مجھے چےٹر کہہ رہی ہے۔“
    ”آپ اگر اےسے ہی کرتے رہے نا تو ہاشم بھائی اگلی بار کوئی آپ کے ساتھ کھےلے گا نہےں۔“ افق نے مصنوعی رعب دکھاےا تو ہاشم کھل کر ہنس دیا۔
    ”کےا ہورہا ہے بھئی؟ لگتا ہے کوئی محفل جمی ہے ےہاں تو“ حسّان داخلی دروازے سے اندر آےا تو ان سب کو وہاں موجود پا کر سےدھا ان کے پا س چلا آےا۔
    ”کچھ نہےں ، ہاشم بھائی بھر پور طرےقے سے چےٹنگ کر رہے ہےں۔“ وردہ بھی ردا کی زبان بولی۔
    ”ارے ےہ کوئی نئی بات تھوڑی ہے ےہ ہاشم تو پےدائشی چےٹر ہے۔“
    ”افق اچھی سی کافی تو بنا دو پلےز۔“ حسّان کرسی کھےنچ کر ہاشم کے مقابل بےٹھ گےا تو وردہ اور افق اٹھ کر اندر چلی گئےں۔ ہاشم حسّان سے کتنی دےر بزنس کے بارے مےں باتےں کرتا رہا۔ پھر اچانک ہی کچھ ےاد آنے پر وہ توقف کے بعد بولا۔
    ”افق کے لےے رشتہ آےا تھا پچھلے دنوں۔“ حسّان جو مصروفےت سے موبائل دےکھ رہا تھا، ہاشم کی آواز پر اسکرےن پر چلتا اس کا ہاتھ رُک گےا اور وہ ذرا سےدھا ہوکر بےٹھ گےا۔
    ”اس بار بھی…. اس با ر بھی انکار ہوگےا۔ وجہ وہ ہی تھی۔“ ہاشم نے کچھ جھجکتے ہوئے اپنی بات مکمل کی تو حسّان کی سپاٹ پےشانی پر سلوٹےں نمودار ہوگئےں۔ افق کے لےے پچھلے اےک سال مےں کئی رشتے آئے تھے مگر ہر جگہ سے ےکے بعد دےگرے انکار سُن کر گھر مےں تقرےباً سب ہی پرےشان تھے۔ ہاشم جب بھی اسے رشتوں کے انکار کی وجہ بتاتا تو وہ اےک دم ہی بھڑک اٹھتا۔ ان سب باتوں کے درمےان اسے سب سے پہلے افق کا خےال آتا، وہ جانتا تھاکہ وہ اپنی تکلےف اور دکھ کسی سے شےئر نہےں کرے گی۔ وہ افق کی عادات سے بہت اچھی طرح واقف تھا، اسے معلوم تھا کہ وہ ان لوگوں مےں سے نہےں ہے جو اپنے دکھوں کا اشتہار لگائے گھومتے ہےں۔
    ٭….٭….٭
    وہ کچن مےں اپنے لےے چائے بنا رہا تھا جب لاﺅنج سے آتی آوازےں اس کی سماعت سے ٹکرائیں۔ وہ قدم قدم چلتا ہوا کچن کے دروازے تک آےا تو آوازوں نے لفظوں کاسہارا لے کر مفہوم دماغ تک پہنچاےا تھا۔ باہر سلمیٰ عبےد کی دوست ان پر بگڑ رہی تھےں۔
    ”نہےں بھئی، مجھے معاف کرو سلمیٰ ، اس بار مےں کوئی رشتہ نہےں لانے والی۔ پچھلی بار مجھ سے باتےں چھپا کر تم نے اچھا نہےں کےا ان باتوں کی وجہ سے مےری اتنی بے عزّتی ہوئی لڑکے والوں کے سامنے۔ وہ تو اچھا ہوا پہلے ہی پتا چل گےا سب ، ورنہ بعد مےں پتاچلتا تو سارا الزام مےرے سر آتا۔ وےسے اےک بات ہے سلمیٰ جب سب کہہ رہے ہےں تو کچھ تو سچائی ہوگی ان باتوں مےں۔ تمہیں مجھ سے ےہ سب چھپانا نہےں چاہیے تھا۔“
    سلمیٰ عبےد خاموشی سے سر جھکائے ان کی باتےں سُن رہی تھی۔ حسّان جو کچن کے دروازے میں کھڑا سب سن رہا تھا ، ےک لخت ہی غصّے مےں آگیا۔ تےزی سے چلتا ہوا لاﺅنج مےں آےا اور کچھ کہنے کے ارادے سے لب وا ہی کیے تھے کہ سلمیٰ نے آنکھ کے اشارے سے روک دےا۔ وہ مٹھی بھنچتے اور دانت پےستے ہوئے وہاں سے چلا گےا۔ سلمیٰ بھی اپنی دوست کے جانے کے بعد افق کے کمرے مےں آگئی۔ وہ اس وقت اسٹڈی سے چند کتابےں لا کر پڑھنے بےٹھی تھی۔سلمیٰ خاموشی سے اس کے پاس آکر بےٹھ گئےں۔
    ”کچھ کہنا چاہتی ہےں تائی امّی؟“ وہ سلمیٰ کے چہرے پر پرےشانی کے تاثرات بآسانی دےکھ سکتی تھی۔
    ”کل تم اچھے سے تےار ہو جانا اور وردہ، ردا کے ساتھ مل کر کھانے کے انتظامات بھی دےکھ لےنا۔“ وہ جانتی تھی سلمیٰ کس بارے مےں بات کر رہی ہےں۔ پھر بھی وہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز مےں سلمیٰ کی طرف دےکھنے لگی۔ صحےح تو ہے، تکلےف سے بچنے کے لےے کچھ باتےں نہ ہی سمجھی جائےں تو اس مےں مضائقہ ہی کےا ہے۔ اگلے دن ساری تےارےاں مکمل کر کے تاےا ابّو اور تائی امّی لڑکے والوں کا انتظار کر رہے تھے۔ جب لڑکے والوں نے فون کر کے آنے سے انکار کردےا تو سلمیٰ تائی کے سارے خدشات ےک لخت ہی ےقےن مےں بدل گئے۔ ان کو یہی ڈر تھا کہ اس بار بھی انکار نہ ہوجائے اور پھر اےسا ہی ہوا تھا۔ لاﺅنج مےں عجےب سا سکوت طاری تھا، کبھی کبھار کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے پر لگتا ہے لفظ ہم سے روٹھ کر کہےں دور جا بےٹھے ہےں۔ اےک طوےل خاموشی کے بعد سلمیٰ عبےد نے کہنا شروع کےا۔
    ”آخر اور کتنی جگہ سے اےسے ہی انکار سننا پڑے گا۔ صرف افق کا ہی تو گھر نہےں بسانا ہمےں، وردہ اور ردا کا بھی تو سوچنا ہے۔ خےر اےک رشتہ آےا تھا پر مےں نے انہےں کچھ وقت سوچنے کا کہا تھا۔ اگر آپ کو ٹھےک لگے تو ان کو بلا لےں؟“سلمیٰ عبےد حےدر سے مخاطب تھیں۔
    ”کون سا رشتہ؟ آپ نے پہلے کےوں نہےں بتاےا؟“ عبےد حےدر نے انھےں کچھ اچنبھے سے دےکھا۔
    ”وہ دراصل۔ لڑکا…. مےرا مطلب …. آدمی کی پہلی بےوی کا انتقال ہوچکا ہے۔ پےنتالےس سال عمر ہے اور…. وردہ کی عُمر کی اےک بیٹی اور بےٹا ہے۔ مجھے اس وقت لگا کہ کوئی بہتر رشتہ مل جائے گا مگر اب جب سارے راستے بند لگنے لگے ہےں تو مجھے لگتا ہے ےہ ہی رشتہ ٹھےک ہے۔“ سلمیٰ عبےد نے تفصےلاً ساری بات بتائی تو عبےد حےدر کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگے۔
    ”ٹھےک ہے آپ ان لوگوں کو بلا لےں، پھر دےکھتے ہےں۔“
    ”نہےں بابا، مجھے لگتا ہے ہمےں کوئی اور اچھا رشتہ دےکھنا چاہےے۔“ حسّان نے تحمل سے کہا۔
    ”ےہ رشتہ بھی بہت اچھا ہے اس مےں کےا برائی ہے؟“سلمیٰ عبےد نے حسّان کو ٹوکا۔
    ”افق سے دُگنی عمر ہے اس آدمی کی، جوان بچے بھی ہےں اور آپ کہہ رہی ہےں….“ حسّان نے لفظوں کو چباتے ہوئے بات ادھوری چھوڑدی۔
    ”تو کےا ہوا، ہاشم کی منکوحہ بھی تو اس سے عمر مےں چھوٹی ہے۔“ حسّان کے لب استہزائےہ ٹےڑھے ہوئے، سلمیٰ نے کتنی کمزور دلےل دی تھی۔
    ”عافےہ بھابھی صرف دو سال چھوٹی ہےں ہاشم سے اور ہاشم کے جوان بچے بھی نہےں ہیں۔“
    ”کتنی ہی جگہ سے تو انکار ہوچکا ہے اور اب اتنی مشکل سے تو ےہ اےک رشتہ آےا ہے، اسے بھی تم لوگ ٹھکرا رہے ہو تم لوگ اچھی طرح جانتے ہوکہ ہر جگہ سے انکار کےوں ہو رہا ہے۔“ سلمیٰ کچھ جھجکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
    ”بہت بوگس وجہ ہے لوگوں کے انکار کی۔ اگر وہ طلاق ےافتہ ہے تو اس مےں افق کی کےا غلطی ہے، اور پلےز بابا اےک بار تو آپ اس پر ظلم کر چکے ہےں اس فےضی سے شادی کروا کر خدارا اب کی بار کچھ اےسا مت کےجئے گا جس سے اس کی تکلےف مےں مزےد اضافہ ہو۔“ حسّان غصّے مےں کہتا ہوا لاﺅنج سے باہر نکل گےا اور پےچھے سب اےک دوسرے کا منہ تکتے رہے۔
    ٭….٭….٭