Author: misbah116@hotmail.com

  • بہاولپور کی کہانی | نواب صاحب

    بہاولپور کی کہانی | نواب صاحب

    بہاولپور کی کہانی
    نواب صاحب
    زاہدہ عروج تاج

    زاہدہ عروج تاج صاحبہ ساہیوال میں پیدا ہوئیں اور آج کل بہاولپور مقیم ہیں۔ ایف اے تک روایتی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مختلف شارٹ کورسز کیے، پھر جی ایچ کیو اسلام آباد میں دفاعی تربیت کے ساتھ دیگر کورسز میں حصہ لیا۔ 1993ء سے لکھنے کا آغاز کیا۔ مختلف رسائل میں بڑوں کے لیے افسانے اور نظمیں لکھیں۔ طویل وقفے کے بعد 2004ء میں بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا۔ سینکڑوں کہانیاں لکھ چکی ہیں۔ الدعوة اکیڈمی شعبہ بچوں کا ادب سے پاکستان کی بہترین کہانی کار کا ایوارڈ بھی اپنے نام کرچکی ہیں۔

    اس حقیقی کہانی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، لیکن جس ریاست کی یہ کہانی ہے وہاں کے لوگ آج بھی مزے لے لے کر سناتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں ایک ریاست، جس کا نام تھا بہاول پور!
    نہایت خوش حال ریاست تھی۔ یہاں کے نواب صاحب بڑے جی دار تھے۔ وہ اپنی رعایا کا خوب خیال رکھتے۔ ان کے غم اور خوشیوں میں شریک ہوتے۔ لوگوں کی فلاح اور بہبودکے لیے ہمہ وقت تیار رہتے۔ تعلیم اور صحت کے بہتر معیار کے لیے اقدامات ان کی بہترین ترجیح تھی۔ اسی زمانے کی بات ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں کے لیے ایک ا زاد اور خود مختار اسلامی مملکت کی آواز بلند ہوئی اور پھر یہ آواز ہر سو پھیل گئی۔
    نواب صاحب کے ملکہ برطانیہ سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ایک دفعہ وہ انگلستان کی سیر کے لیے گئے۔انگلستان اس وقت بھی امیر اور ترقی یافتہ ملک تھا۔ ایک دن وہ لندن میں بون سٹریٹ پر عام شہریوں کی طرح گھوم پھر رہے تھے کہ ا ن کا گزر گاڑیوں کے ایک شو روم کے سامنے سے ہوا۔ وہ مشہور زمانہ رولز رائس گاڑیوں کا شو روم تھا۔ رولز رائس اس وقت کی سب سے مشہور اور مہنگی گاڑی تھی۔ نواب صاحب کی نظر شوروم میں موجود چمچماتی گاڑیوں پر پڑی۔ وہ اندر جانے لگے تو دروازے پر موجود گارڈ نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی۔ نواب صاحب کے اصرار پر اس نے بہ غور اُن کا حلیہ دیکھا۔ مطلب یہ تھا کہ ایک عام سے انسان کا رولز رائس کے شو روم میں کیا کام؟ بہرحال نواب صاحب کے اعتما دسے گھورنے پر وہ دروازے سے ہٹ گیا اور وہ اندر چلے گئے۔ انہوں نے گاڑیاں دیکھیں اور ایک گاڑی کا ماڈل انہیں بہت پسند آیا۔ انہوں نے سیلز مین سے اس کی قیمت پوچھی۔ وہ رولز رائس کا نیا اور جدید ماڈل تھا جو کہ سب سے مہنگا تھا۔
    ”اس گاڑ ی کی کیا قیمت ہے؟” نواب صاحب نے پوچھا، مگر سیلز مین نے انہیں ایک عام ایشیائی آدمی سمجھ کر طنزیہ نظروں سے دیکھا اور کہا: ”تم یہ گاڑی نہیں خرید سکتے کیوں کہ تمہاری حیثیت نہیں ۔” اُس کا جواب سن کر نواب صا حب طیش میں آگئے۔
    ”میری حیثیت کیا ہے، اس بات سے تمہیں غرض نہیں ہونی چاہیے۔” انہوں نے ملازم کو غصے سے کہا۔ جواب میں ملازم بولا تو کچھ نہیں، مگراس نے عجیب سا منہ بنا کر ہونٹ سکیڑتے ہوئے کندھے اُچکائے۔ نواب صاحب کو کمپنی ملازمین کے رویّے پر پہلے ہی غصہ تھا۔ اب تو وہ اوربھی سیخ پا ہو گئے اور دل ہی دل میںکمپنی کو مزہ چکھانے کا ارادہ لیے ہوٹل واپس آگئے۔ نوابی خون ساری رات کھولتا رہا اور وہ کمپنی کو مزہ چکھانے کا سوچتے اور ٹہلتے رہے۔ آخرکار اُن کے ہونٹوں پر ایک پُراسرار مسکراہٹ اُبھری اور وہ سونے کے ارادے سے بیڈ روم کی جانب بڑھ گئے۔
    اگلے روز نواب صاحب پورے شاہی پروٹوکول اور ملازمین کی فوج کے ساتھ شوروم پہنچے ۔ اس وقت شو روم میں چھے رولز رائس گاڑیاں موجود تھیں ۔نواب صاحب نے چھے کی چھے گاڑیاں خرید لیں۔ قیمت ادا کرنے کے لیے انہوں نے اپنا پاؤں میز پر رکھا اور جوتے میں سے ایک ہیرا نکال کر کمپنی کے نمائندے کو دیا۔ وہ ہیرا ان سب گاڑیوں کی قیمت سے بھی زیادہ مہنگا تھا۔ ایک روز پہلے آنے والے گاہک کو وہ معمولی ایشیائی سمجھے تھے اور آج وہ جس شان سے آیا تھا یہ دیکھ کر کمپنی کے ملازمین ہکا بکا رہ گئے اور ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔
    سب گاڑیاں لمحوں میں خرید لینے اور رقم کی ادائیگی کے انوکھے انداز پر سب حیران تھے ۔ نواب صاحب گاڑیاں خرید کر واپس آگئے ۔گو اپنی حیثیت تو انہوں نے جوتے کے ایک ہیرے سے ہی باور کروا دی تھی، مگر آپ سوچ رہے ہوں گے اس سے کمپنی کو کیا مزہ چکھایا گیا؟ کمپنی کو تو فائدہ ہو گیا۔ اب سنیے! اپنی نوعیت کا یہ دل چسپ اور انوکھا انتقام تھا جس میں بچوں جیسی معصومیت بھی ہے۔
    تو ہو اکچھ یوں کہ نواب صاحب نے گاڑیاں فوری طور پر اپنی ریاست بہاولپور بھجوائیں اور انہیں میونسپل کمیٹی کے حوالے کر دیا۔
    کمیٹی کے عہدیداروں کو حکم دیا کہ ان گاڑیوں سے شہر کی صفائی اور کوڑا کچرا اُٹھانے کا کام لیا جائے۔ ہدایت کے مطابق عہدیداروں نے گاڑیوں کے آگے بڑے بڑے جھاڑو باندھے اور صفائی کا کام شروع کردیا۔

    بہت جلد یہ خبر پوری دنیا میں پھیل گئی کہ دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے ایک نئے ملک پاکستان میں رولز رائس گاڑیاں کوڑا اٹھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ اس خبر کے ساتھ ہی رولز رائس گاڑی کی مارکیٹ ڈاؤن ہونے لگی۔ اب ایسی مہنگی گاڑی کون خریدنا پسند کرے اور کون اس میں بیٹھنا چاہے گا جو کچرا گاڑی کے طور پر استعمال کی جاتی ہو بلکہ ہوا یہ کہ اب رولز رائس گاڑی کا نام سنتے ہی لوگ مذاق اُڑانا شروع کر دیتے۔ جو لوگ پہلے ہی سے رولز رائس گاڑی استعما ل کر رہے تھے وہ بھی حیران و پریشان ہوکر وقتی طور پرگاڑی کا استعمال ترک کر بیٹھے کیوں کہ جدھر سے گاڑی گزرتی لوگ اشارے کر کے وہی انوکھی خبر دہراتے اور قہقہے لگاتے۔
    اس سے گاڑی کی اہمیت کم ہوئی، تو کمپنی مالک کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ فوراً کمپنی کا ایک وفد نواب صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے باضابطہ تحریری معافی مانگی اور درخواست کی کہ گاڑیوں سے یہ گندا کام لینا بند کر دیا جائے تو آپ کی نوازش ہو گی کیوں کہ آپ کے اس اقدام سے کمپنی کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔ پھر پرانی گاڑیاں لے کر انہیں چھے نئی گاڑیاں تحفے میں دیں۔
    نواب صاحب نے ان کی معذرت قبول کرتے ہوئے میونسپلٹی والوں کو حکم دیا کہ گاڑیوں کو اس کام سے ہٹا لیا جائے ۔ اس کے ساتھ انہوں نے کمپنی کے مالک کو اپنے ان اقدام کی وجہ بھی بتائی۔ نواب صاحب نے ان نئی ملنے والی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی قائد اعظم محمد علی جناح کو تحفے میں دی۔ آپ کو بتاتے چلیں ان نواب صاحب کا نام ”نواب محمد خان عباسی ”تھا ۔آج بھی بہاولپور اور چولستان میں نواب صاحب کا یہ قصہ زبانِ زد عام ہے اور لو گ اس قصے کو دہراتے ہوئے مسکرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

  • چج دوآب کی لوک کہانی | مور پنکھ

    چج دوآب کی لوک کہانی | مور پنکھ

    چج دوآب کی لوک کہانی
    مور پنکھ
    محمد ندیم اختر

    بچوں کے ادیبوں پر تحقیقی میگزین ”سہ ماہی ادبِ اطفال” کے منتظم اور مدیر جناب ندیم اختر لیہ میں پیدا ہوئے۔ دورانِ تعلیم بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے کا آغاز کیا، گزشتہ 22 سال سے ادب سے وابستہ ہیں، مختلف رسائل میں قلمی جوہر دکھائے، نمایاں خوبی یہ کہ بچوں کے ادب کی ترویج و اشاعت میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ الف نگر کے لیے یہ ان کی پہلی کاوش ہے۔

    کہتے ہیں چج دو آب میں مور پنکھ نام کا ایک بچہ رہتا تھا۔ وہ بہترین بانسری بجاتا تھا۔ اس کی بانسری سن کر لوگ سر دھنتے رہ جاتے۔ مور پنکھ اکثر اپنے ماں باپ سے چج دو آب (دریائے جہلم اور چناب کا درمیانی علاقہ) کے رہن سہن کے بارے میں پوچھتا، اس کے اماں باوا بتاتے کہ پتر تُو یہ جس سوکھے دریا کو دیکھ رہا ہے، اصل میں یہ دریائے چناب ہے، جو کبھی روانی سے بہتا تھا۔
    وہ سامنے والے درختوں کے نیچے کشتیوں کا پتن (کشتی کھڑی کرنے کی جگہ) ہوتا تھا جہاں سے ہم سب بستی والے کشتی میں بیٹھ کر دریا پار کرتے تھے۔ اس دریا میں بہار کے موسم میں مور پنکھ آیا کرتے تھے، بہت خوب صورت پرندہ تھا۔ اب تو نجانے کہاں گئے وہ ”مور پنکھ” کبھی دیکھے ہی نہیں۔
    ”بابا! یہاں مور پنکھ اب کیوں نہیں آتے؟” ایک دن ننھے مور پنکھ نے اپنے باوا سے پوچھا۔
    ”پتر! مور پنکھ پانی کی سرزمین پر اترتے ہیں، وہ یہاں دریا پر آتے تھے لیکن جب دریا خشک ہو گیا تو وہ بھی آنا بند ہوگئے۔ شہر کے لوگ جو انہیں دیکھنے آتے تھے انہوں نے بھی آنا بند کر دیا۔ ملتان کے نواب یا مظفرگڑھ کے بڑے زمیندار اور ان کے بچے اپنی بگھیوں پر کشتیوں کے پتن تک آتے، ملاح انہیں کشتیوں پر اس کنارے لاتے اور اُن کی مہمان نوازی کرتے۔ وہ سارا سارا دن یہاں رہتے، اُن کے لیے مچھلی پکتی تھی۔
    جب انہوں نے دیکھا کہ دریا میں اب اتنا پانی نہیں آتا اور نہ ہی ”مور پنکھ” آتے ہیں تو شہر کے لوگوں نے ہماری اِس بستی میں آنا چھوڑ دیا۔” باوا حشمت نے اُسے مکمل تفصیل بتائی۔
    ”چلو خیر ہے ابّا! مور پنکھ نہیں آتے تو کیا ہوا؟ میں بھی مور پنکھ ہی ہوں نا!”
    وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
    ”پتر !تمہارے دادا حضور بخش نے بڑی محنت سے ایک کشتی بنائی تھی، جب اُن کے بازوئوں میں طاقت تو کشتی کا چپو میرے حوالے کر دیا گیا۔ میں ان شہروالوں کو پتن سے یہاں لاتا تھا ، مجھے سب لوگ جانتے تھے اور مور پنکھ پرندے بھی مجھ سے مانوس تھے کیوں کہ میں راتوں کو پانی میں اتر کر ان کے لیے ”دیے”جلایاکرتا تھا ، وہ دریا سے مچھلی پکڑتے اور پانی میں تیرتے تھے پھر ایک دن ایک انگریز افسر آیا تھا، اُسے کہتے سنا کہ یہ پرندہ کہیں دور برف کی وادی سائبریا سے اُڑان بھرتا ہے اور سردیاں نکل جانے پر دوبارہ چلا جاتا ہے۔”
    ”ابّا! کیا دریا اب خشک ہی رہے گا؟” مور پنکھ کچھ پریشان ہوگیا تھا۔
    ”ربّ کرے یہ دوبارہ آباد ہو پھر مور پنکھ بھی لوٹ آئیں گے اور یہاں کی وہ پہلے والی رونق بھی۔” باواحشمت نے ایک آہ بھر کر کہا۔
    ”ابّا! آپ نے میرا نام مور پنکھ کیوں رکھا؟” اس کے ننھے دماغ نے سوال کیا۔
    ”پتر! جب دیکھا کہ اب مور پنکھ یہاں کبھی نہیں آئیں گے تو ہم مایوس ہوگئے اور پھر اِس دوران تم پیدا ہوئے تو اس پرندے کی یاد میں ہم نے تمہارا نام ”مور پنکھ” رکھ دیا۔” ابّا نے پیار سے بتایا۔
    مور پنکھ سر ہلاتا، بانسری بجاتا، اپنی بکریوں کو دریا کنارے چراگاہ پر لے گیا۔ ساتھ وہ اپنے باوا کی باتوں کو یاد کرتا ۔ ایک دن وہ اپنے باوا کے ساتھ ”مولتان” (ملتان کا پرانانام) گیا۔ وہ لوگ بوہڑ گیٹ کے اندر داخل ہوئے تو راستے میں اسے تصویروں والی ایک کتاب ملی جو پھٹی ہوئی تھی ۔ اس نے جھٹ سے اٹھا لی۔
    گھر آکر اس نے کتاب دیکھی تو حیران رہ گیا۔ اس میں دریا، کشتی اور کنارے پر پھول دار باغیچے تھے جہاں بہت سے لوگ گھومتے نظر آئے۔ تصویر میں لگ رہا تھا کہ لوگ کشتی میں بیٹھنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سے اگلے صفحے پر لوگوں سے بھری کشتی دریا کے وسط میں تھی اور ملّاح چپو چلا رہا تھا۔
    مور پنکھ کو یہ تصویریں بہت خوب صورت لگیں۔ اس نے کتاب کا اگلا ورق دیکھا تو وہاں دریا کنارے ایک کچی دکان نظر آئی جہاں مچھلیوں کا ڈھیر پڑا تھا۔ اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ کتنے دن ہو گئے اس نے مچھلی نہیں کھائی تھی۔ ابھی انہی خیالوں میں گم تھا کہ اس کے ہاتھ سے کسی نے کتاب پکڑ لی۔ وہ اس کی امّاں تھی۔
    ”پتر مور پنکھ! یہ کیا ہے ؟” اماں کتاب دیکھنے لگی۔
    ”اماں! کتنی خوب صورت تصویریں ہیں، کیا ہمارا دریائے چناب ایسا ہی خوب صورت ہوتا تھا؟” مور پنکھ نے اماں سے پوچھا۔
    ”ہاں پتر! جس طرح ان تصویروں میں دریا کے اندر پانی ہے، ایسے ہی ہمارے ”دریا بادشاہ” میں پانی ہوتا تھا اور اس کے کنارے سر سبز گھاس کی چادر ہوا کرتی تھی۔ تیرے باوا کی کشتی اس گھاس والے کنارے کے ساتھ آ کر کھڑی ہوتی تھی۔” امّاں نے بڑی حسرت سے تصویریں دیکھ کر اسے بتایا۔
    ”اماں! اگر میں اس کنارے پر درخت لگا لوں اور بازار سے مچھلی لا کر یہاں فروخت کروں، ساتھ ساتھ پھولوں والی کیاریاں بھی بنا لوں تو کیا لوگ دوبارہ یہاں آئیں گے؟” مور پنکھ نے معصومیت سے پوچھا۔

    ”ہاں، کیوں نہیں پتر!” امّاں مسکرا دی۔
    ”تو پھر آپ باوا سے بات کریں نا!” مور پنکھ نے اماں سے درخواست کی۔
    ”ٹھیک ہے، شام کو ہم تمہارے باوا سے بات کریں گے۔” امی نے مور پنکھ سے وعدہ کیا۔ پھر شام کے وقت وہ سب صحن میں بیٹھے تھے۔ مور پنکھ کی اماں بولی:
    ”مور پنکھ کے باوا! میں نے ایک منصوبہ سوچا ہے۔”
    ”بھلا وہ کیا منصوبہ ہے؟” باوا نے پوچھا۔
    ”گھر میں جو اتنی بکریاں ہیں، ان میں سے اگر تین بکریاں بیچ دی جائیں تو ہمیں مور پنکھ کی خواہش پوری کرنے کے لیے پیسے مل سکتے ہیں۔” اماں نے مکمل تفصیل سے منصوبہ بتایا۔
    ”ہاں یہ ہو سکتا ہے، میں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں کہ ان بکریوں سے ہم اپنے مور پنکھ کی خوشی خرید سکتے ہیں۔” باوا نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
    ”اور ہاں! وہ اللہ وسایا کی زمین ہے نا! جو آدھی دریا برد ہو چکی ہے۔ اس سے بات کرتا ہوں، اگر وہ مان گیا تو ہم وہاں مچھلی کا کام شر وع کریں گے۔ ہم آنے والے بدھ کو قریبی قصبے میں لگنے والی مویشی منڈی میں اپنی بکریاں بیچ دیں گے۔ شہر میں ایک مچھلی فروش میرا واقف ہے۔ اس سے بات کروں گا کہ وہ فارم کی مچھلی ہمیں فراہم کر سکے۔ یوں لوگ دریا کی سیر کرنے آئیں گے البتہ انہیں پیارا پرندہ ”مو ر پنکھ ”نظر نہیں آئے گا۔” باوا کی آوا ز میں غم تھا۔
    ”میں ہوں نا مور پنکھ بابا!” مور پنکھ نے ہنس کر کہاتو سب مسکرا دیے۔
    …٭…
    اس دن مور پنکھ بہت خوش تھا کہ اب وہ دریا کنارے درخت لگائے گا۔ کنارے پر کھڑی اپنے باوا کی کشتی کو نیا رنگ کرے گا۔ کیاریاں بنا کر گھاس لگائے گا، پھر مور پنکھ اور اس کے باوا نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام شروع کر دیا۔ جب انہوں نے دریا کنارے درخت لگائے، کشتی کو رنگ کیا اور کیاریوں میں گھا س لگائی تو ان کی بستی کے ساتھ ساتھ قریبی بستیوں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ باوا حشمت دریا کنارے مچھلی پکانے کا کام شروع کررہا ہے پھر واقعی دو ہفتے کی مسلسل محنت کے بعد وہ شہر سے مچھلی لانے کے قابل ہو گئے۔
    …٭…
    صبح انہوں نے شہر جاناتھا مگر رات کو آسمان پر گہر ے بادل چھاگئے۔ یوں لگتا تھا کہ ساون اب کھل کے برسے گا۔ ساری رات بادل گرجتے رہے۔ صبح ہوتے ہی بادلوں نے برسنا شروع کیا۔ مسلسل کئی گھنٹے تک بارش ہوتی رہی۔ اماں اور باوا حشمت دعائیں مانگ رہے تھے۔ کچے گھر کے صحن کی ایک دیوار بھی گر گئی۔ آسمان پر ابھی بھی بادل تھے۔ یہ مون سون کا آغاز تھا۔ انہیں خبر تھی کہ مون سون میں برسات تو ہوتی ہے لیکن جتنی بارش اس دن ہوئی، پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ کھیتوں میں گھٹنوں تک پانی کھڑا ہو گیا۔ بستی کے سارے لوگ اپنے گھر وں میں دبکے رہے۔ مور پنکھ اور اس کے باوا اسی وجہ سے بازار نہ جاسکے۔
    اگلے دن دریا چناب میں اونچے درجے کا سیلاب آگیا، علاقے میں سرکار کا نمائندہ اعلان کررہا تھا کہ اس بار خطرہ زیادہ ہے، سب لوگ محفوظ جگہوں پر منتقل ہوجائیں۔ یہ خبر سنتے ہی پوری بستی کی طرح مور پنکھ اور اس کے اماں باوا نے بھی پوٹلی میں کچھ کپڑے باندھے اور اپنی بکریاں لے کر بستی والوں کے ساتھ کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
    وہ آدھی رات کا وقت تھا جب سیلابی ریلا ان کی بستی تک پہنچا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پانی دریا سے نکل کر بستی میں داخل ہوگیا۔ صبح تک پانی کی سطح چھے فٹ تک پہنچ چکی تھی۔ بستی سے باہر ایک اونچے ٹیلے تک پانی کی چادر تھی اور ٹیلے کے ساتھ جو گھر نشیبی سطح پر تھے، پانی ان کی چھتوں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ اس طرح دریائے چناب میں سیلاب کا سلسلہ ایک ہفتہ تک جاری رہا۔ اس دوران مور پنکھ اور اس کے گھر والے قریبی قصبے میں چلے گئے جہاں انہیں تین وقت کا کھانا دیا جاتا تھا۔ کوئی ایک ماہ بعد جب علاقے میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوئی تو وہ اپنے گھروں کی جانب لوٹے۔
    جب وہ اپنی بستی میں پہنچے تو ان کے گھر کی جگہ مٹی کا ڈھیر پڑا تھا۔ باقی بستی کی طرح ان کا گھر بھی پانی کے کسی ریلے میں بہہ گیا تھا۔ گھر کا سامان بھی اجڑ گیا تھا۔ جو بکریاں وہ اپنے ساتھ لے گئے تھے، وہ دورانِ سیلاب وبا پھیلنے سے مر گئی تھیں۔ گھر کی جگہ مٹی کا ڈھیر دیکھ کر اماں اور باوا دونوں دہاڑیں مار کر رونے لگے۔ ان کو روتا دیکھ کر مور پنکھ سے بھی نہ رہا گیا۔ انہیں چپ کرانے والا کوئی نہ تھا۔ مور پنکھ اپنی اماں کی گو د میں چھوٹے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔
    ”اماں اب کیا کریں گے؟” اس نے پوچھا۔

    ”پتر! چپ کر، ہم دریا ئی لوگ ہیں، ہماری قسمت میں یہی سب کچھ ہے اگر ”دریا بادشاہ” خشک ہو جائے تو ہم برباد ہوتے ہیں اور اگر اس میں پانی آ جائے تو بھی ہم ہی مارے جاتے ہیں۔” اماں نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔
    داستان سنانے والے کہتے ہیں کہ اس رات مور پنکھ اور اس کے امّاں باوا اپنے گھر کے ملبے پر چٹائی بچھا کر سوئے۔ آدھی رات کو کہیں سے بانسری کی آوا ز آئی، رات کے اس پہر بانسری کی آواز میں ایک خاص درد تھا۔
    پھر صبح لوگوں نے دیکھا کہ وہ تینوں مٹی کے ڈھیر پر مردہ پائے گئے ۔ آج تک یہ معما حل نہ ہوسکا کہ آدھی رات تک بانسری بجانے والا مور پنکھ اوراس کے گھر والے کیسے موت کے منہ میں چلے گئے؟
    کچھ لوگوں نے کہا کہ رات کوئی سانپ انہیں ڈس گیا، کوئی کچھ کہتا اور کوئی کچھ! البتہ مور پنکھ کی بانسری اتنی سریلی تھی کہ پوری بستی کو جاتے جاتے درد دے گئی ۔ ان کی موت کی خبر دوسری بستیوں تک بھی جا پہنچی، یوں آہستہ آہستہ اس بستی کو ”مور پنکھ والی بستی ”کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔
    آج بھی اگر آپ دریائے چنا ب کے اس کنارے پر بستی دوآنہ بہادر کے راستے بستی مکو جمال سے گزریں تو چاچا خیرو کا بیٹا اپنے باپ اور دادا سے سنی سنائی ”مور پنکھ” بستی کی یہ کہانی دہراتا ہے۔ اس کی آواز میں جو درد ہے ، وہ شاید وہیں جاکر سننے والا ہی محسوس کرسکے۔
    ٭…٭…٭

  • کشمیری لوک کہانی | مہرالنسا اور سبز پری

    کشمیری لوک کہانی | مہرالنسا اور سبز پری

    کشمیری لوک کہانی
    مہرالنسا اور سبز پری
    مدیحہ شاہد

    آخر کیا راز تھا کہ روز بہ روز اس میں تبدیلی آرہی تھی؟
    کئی صدیاں پہلے کشمیر کی سر سبز وادی میں ایک چھوٹی سی لڑکی اپنے والد اور سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ اُس کا نام مہرالنسا تھا۔ اُس کی سوتیلی ماں حاسد اور ظالم تھی۔ اُس کے والد کسان تھے اور سارا دِن کھیتوں میں کام کرتے۔ وہ بھی اُس کی سوتیلی ماں کی بدزبانی سے ڈرتے تھے۔ سوتیلی ماں مہرالنسا سے گھر کے سارے کام کرواتی اور اُسے رات کا بچا کھانا دیتی۔ بعض دفعہ تو مہرالنسا کو فاقے بھی کرنے پڑتے۔ گھر پر سوتیلی ماں کی حکومت تھی۔ مہرالنسا سارا دن خاموشی سے کاموں میں مصروف رہتی۔
    ایک دن مہرالنسا بکریاں چراتے ہوئے اپنے علاقے سے ذرا دور نِکل آئی۔ دریائے نیلم کے کنارے گھنا جنگل آباد تھا جہاں سے گزرتے ہوئے اچانک اُس نے ایک نسوانی آواز سُنی۔
    ”سنو اچھی لڑکی! کیا تم میری مدد کرسکتی ہو؟”
    مہرالنسا نے چونک کر آواز کے تعاقب میں دیکھا، تو ذرا فاصلے پر جھاڑیوں میں اُسے سبز آنکھوں والی حسین و جمیل پری نظر آئی جس کا ایک پر کانٹوں میں پھنس گیا تھا اور وہ کوشش کے باوجود نکال نہیں پا رہی تھی۔ اُس کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔ مہرالنسا خوب صورت پری کو اِس حالت میں دیکھ کر حیران رہ گئی۔ وہ بے حد رحم دل اور نیک لڑکی تھی۔ اُس نے پری کے قریب آکر پوچھا:
    ”آپ کون ہیں؟” پری نے اپنی سبز چمکتی آنکھیں اُٹھا کر اُسے دیکھا، اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
    ”میں پرستان سے آئی ہوں۔ میرا نام سبز پری ہے۔ یہاں سے گزرتے ہوئے میرا ایک پر کانٹوں میں پھنس گیا ہے۔ کیا تم میرے پَر کو کانٹوں سے نکال سکتی ہو؟”
    یہ سن کر مہرالنسا احتیاط سے کانٹوں کے درمیان چلتے ہوئے سبز پری کے پاس آئی پھر اس نے نرمی سے اُس کا پَر کانٹوں سے نکالا۔ سبز پری کو کچھ آرام ملا مگر وہ تھوڑی زخمی تھی۔
    مہرالنسا اُسے دریا کے کنارے بٹھا کر بھاگتے ہوئے گھر آئی۔ صَد شکر کہ اُس کی سوتیلی ماں گھر نہیں تھی۔ وہ اپنے کسی رشتہ دار کے ہاں گئی ہوئی تھی۔ وہ مرہم اور نیم گرم پانی لے کر واپس پری کے پاس پہنچی۔ مہرالنسا نے نیم گرم پانی سے سبز پری کا زخم صاف کیا اور اُس پر مرہم لگایا۔ پری اب خود کو بہتر محسوس کرنے لگی۔ اب وہ اُڑ کر پرستان جاسکتی تھی۔ وہ مہرالنسا سے بے حد خوش ہوئی۔
    اُس نے مہرالنسا سے کہا: ”تم ایک اچھی اور نیک لڑکی ہو۔ تم نے میری مدد کی، بتاؤ تمہیں کیا چاہیے؟”
    ”مجھے کھانا چاہیے۔” مہرالنسا نے مدھم آواز میں جواب دیا۔
    یہ سُن کر پری چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گئی۔ اُس نے معصوم مہرالنسا کا دُکھ اپنے دل میں محسوس کیا۔ پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد اُس نے اپنے بالوں میں لگا گلابی پھول اُتار کر اُس کے ہاتھ پر رکھا۔

    ”یہ پھول میری طرف سے تحفہ ہے۔ جب تم اِس پھول کو سبزیوں پر رکھو گی تو وہ پک کر تمہارے سامنے آجائیں گی اور تم انہیں کھا کر اپنا پیٹ بھر سکو گی۔ جب تم اِسے گندم یا اناج پر رکھو گی تو تمہارے لیے پکی ہوئی روٹیاں آجائیں گی۔ جب تم اِسے پھلوں پر رکھو گی تو پھلوں کا شربت تیار ہو جائے گا اور تم سیر ہوکر پی سکو گی۔”
    مہرالنسا غور سے پھول کو دیکھنے لگی۔ وہ جادو کا پھول بے حد خوب صورت تھا۔ مہرالنسا بکریاں چرانے جاتی تو واپسی پر جنگل اور کھیت سے اناج، سبزی اور پھل توڑ کر اپنی چادر میں چُھپا گھر لے آتی۔ رات کو جب سب لوگ سو جاتے تو وہ پری کی ہدایت پر عمل کرکے مزے مزے کے کھانے کھاتی پھر سو جاتی۔
    اُس کی صحت روز بہ روز نکھرنے لگی۔ سوتیلی ماں حیران ہوتی کہ یہ تو سب کا بچا ہوا کھانا کھاتی ہے اور بعض دفعہ تو اسے بھوکے پیٹ ہی سونا پڑتا ہے پھر بھی یہ روز بہ روزحسِین ہوتی جارہی ہے۔ آخر راز کیا ہے؟ اُس نے اِس بات کا پتا لگانے کی بہت کوشش کی مگر اُسے کامیابی نہ ہوسکی۔ وقت گزرتا رہا یہاں تک مہرالنسا اٹھارہ برس کی ہوگئی۔ دور دور تک اُس کے حُسن کے چرچے پھیل گئے۔
    ایک دن گاؤں کے زمین دار کا بیٹا گھوڑے پر سوار جنگل میں شکار کھیلنے گیا۔ اس نے دریا کے کنارے مہرالنسا کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اِتنی خوب صورت لڑکی اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
    وہ مہرالنسا کا تعاقب کرتے ہوئے اس کے گھر پہنچا اور اگلے ہی دن اُس کے والدین مہرالنسا کا ہاتھ مانگنے اس کے گھر چلے آئے۔
    مہرالنسا کا باپ بہت خوش تھا کہ اُس کی بیٹی کا اِتنا اچھا رشتہ آیا ہے۔ اس نے فوراً ہاں کردی۔ سوتیلی ماں پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔ وہ اب بوڑھی ہوچکی تھی۔ وہ چاہنے کے باوجود بھی مہرالنسا کی شادی نہ رُکوا سکی۔
    مہرالنسا کی شادی دھوم دھام سے زمین دار کے بیٹے سے ہوگئی۔ سارے گاؤں والوں نے جشن منایا۔ اُس کی شادی میں سبز پری نے بھی شرکت کی۔ مہرالنسا اپنے دولہا کے سنگ خوشی خوشی رخصت ہوگئی۔
    ٭…٭…٭

  • بلتستانی لوک کہانی | ماس جنالی

    بلتستانی لوک کہانی | ماس جنالی

    بلتستانی لوک کہانی
    ماس جنالی
    محمد عثمان طفیل

    محمد عثمان طفیل 1984ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ بی ایس سی کے بعد لاہور چلے آئے اور ایک ادبی جریدے سے منسلک ہوگئے۔ اس کے بعد اخبار طلبہ، مجلة الاساتذہ اور روضہ الاطفال کے مدیر رہے۔ بچوں کی علمی، ادبی اور تربیتی سرگرمیوں میں بھرپور دل چسپی لیتے ہیں۔ مختلف ادروں سے بیس سے زائد کتب شائع ہوچکی ہیں۔ آج کل لاہور میں مقیم ہیں اور ایک تعلیمی ادارے کی نصابی کتب کی تیاری کا کام بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ الف نگر کے لیے قلمی تعاون اور مشاورت میں خصوصی شفقت فرماتے ہیں۔

     

    ”مومو…! مومو…!”
    عبداللہ یوگوی نے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کیا اور آواز کی سمت دیکھا۔ اس کا بھانجا بلتی زبان میں ماموں، ماموں کہتا ہوا اُس کی طرف آ رہا تھا۔
    ” اللہ خیر کرے۔” اس نے دل ہی دل میں سوچا پھر کندھے پر ٹکائی ”کدال” اور ہاتھ میں پکڑا ”پھاوڑا ”زمین پر رکھ دیا۔
    ”چی سونگس جولے؟” (کیا ہوا؟)
    بھانجے کے قریب پہنچتے ہی عبداللہ یوگوی نے پریشانی سے پوچھا۔ اس کے بھانجے نے بولنے کی کوشش کی مگر پھولی سانسوں کے سبب یہ ممکن نہ سکا۔ اس نے ہانپتے ہانپتے ایک جانب اشارہ کیا۔ عبداللہ نے دیکھا تو یوں لگا جیسے دور کہیں لوگوں کا ہجوم سا ہو۔غور کرنے پر اُسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ سب اِسی طرف آ رہے ہیں۔ وہ غلط نہیں تھا، ہجوم اُسی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے منظر واضح ہونا شروع ہوا اور لوگوں کے چہرے نظر آنے لگے۔
    ”ان میں تو نیت قبول حیات کاکا خیل بھی موجود ہیں۔” عبداللہ بڑبڑایا۔ نیت قبول حیات ضلع غذِر کے حاکم تھے۔ ان کے ساتھ بہت سے مقامی نوجوان تھے جنہوں نے عبداللہ ہی کی طرح کدا لیں اور پھاوڑے اٹھا رکھے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد اس کے دل میں اُبھرتے تمام سوالوں کے جواب مل گئے۔ اپنے حاکم کی ہدایت پر اس نے دیگر نوجوانوں سے مل کر ایک بڑے میدان کو ہموار کرنے کا کام شروع کردیا۔
    …٭…
    ”آہ میرے مولا!” عبداللہ یوگوی نے کدال زمین پر ماری اور مٹی کے ڈھیر پر بیٹھ گیا۔ وہ سطح سمندر سے ساڑھے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر موجود تھا مگر اس کے باوجود پسینا پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ یہ معاملہ صرف اسی کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے تمام ساتھی پسینے سے بھیگے ہوئے تھے۔ اس نے کچھ دیر سانس درست کیا اور پھر سے کام میں جت گیا۔ گھنٹے دنوں میں اور دن ہفتوں میں ڈھلتے رہے۔ ان کے حاکم نیت قبول حیات مسلسل اُن کی حوصلہ افزائی میں مصروف تھے۔ بالآخر وہ وقت آیا کہ لگ بھگ 56 میٹر چوڑا اور 200 میٹر لمبا زمین کا ٹکڑا بالکل ہموار ہوگیا۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا لیکن انسانی ہمت و حوصلے نے اسے آسان بنا دیا۔
    نیت قبول حیات کو کام مکمل ہونے کی اطلاع ملی تو وہ بھاگم بھاگ وہاں پہنچے۔ انہوں نے ایک نظر اس میدان کودیکھا اور تصور ہی تصورمیں برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ ”ایولین ہے کوب” کا چہرہ دیکھا جو اس میدان کو دیکھ کر خوشی سے چمک اٹھے گا۔ چند دن بعد جب تمام تیاریاں مکمل ہوگئیں تو ”ای ایچ کوب” نے اس میدان کا دورہ کیا۔ کام اس کی توقع سے بھی بڑھ کر شان دار ہوا تھا۔ اس نے نیت قبول حیات کو بہت اعلیٰ انعام کی پیش کش کی۔ بھلا ایسے کام انعامات کی لالچ میں کب مکمل ہوتے ہیں۔ نیت قبول حیات تو اپنے آباء و اجداد بالخصوص علی شیر خان انچن سے متعلق سوچ رہا تھا جس نے یہ سارا علاقہ فتح کرکے پہلی بار یہاں ”ماس جنالی” بنایا اور ”چوگان” جیسے کھیل کا آغاز کیا۔ سوچتے سوچتے اس کے ذہن میں نہ جانے کیا آیا کہ اس نے ای ایچ کوب سے ایک انوکھی فرمائش کی۔
    ”بس آپ یہ کام کروا دیں، میں اسے ہی اپنا انعام سمجھوں گا۔”
    ای ایچ کوب کچھ لمحے ہچکچایا اور پھر بولا: ”ٹھیک ہے۔ تمہاری خواہش پر ایسا ہی ہو گا۔”
    …٭…

    سیٹی بجی اور کئی گھوڑے ہنہناتے ہوئے ”پڑنجو” (پولو والی گیند) کی طرف لپکے۔ شانزے نے بھی جلدی سے اپنے عربی گھوڑے کو ایڑلگائی۔ گھوڑے نے کچھ اَڑی کی اور پھر سوار کے حکم پر دوڑ پڑا۔ یہ گھوڑا اس کے لالہ کا تھا۔ شانزے اپنے سرخ و سپید لالہ کو اس سرمئی گھوڑے کو دوڑاتا ہوا دیکھتی تو ماشاء اللہ ماشاء اللہ کا ورد کرنے لگتی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ لالہ گھوڑے کی شان بڑھا رہے ہیں یا گھوڑا لالہ کی۔
    لالہ جانتے تھے کہ شانزے کو گھڑ سواری کا بہت شوق ہے۔ انہوں نے خود اُسے ایک بہترین گھڑ سوار بنایا تھا۔ اس وقت بھی شانزے ہاتھ میں ایک لمبی سی ہاکی تھامے گھوڑا دوڑا رہی تھی۔ وہ ہر صورت میں ”پڑنجو” حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن ایسا ہو نہیں پارہا تھا۔ دوسری ٹیم کے کھلاڑی مسلسل ایک دوسرے کی طرف پڑنجو پھینک رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ گول کرنے میں کامیاب ہوجاتے، شانزے کی ٹیم کے ایک کھلاڑی نے پڑنجو چھین لی۔ اگلے ہی لمحے پڑنجو شانزے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ شانزے نے بڑی مہارت سے اُسے روکا اور آگے بڑھا دیا۔
    وہ اس وقت ”ماس جنالی” کے تاریخی میدان میں موجود تھی۔ ”چوگان” اپنے عروج پر تھا اور ان کا مقابلہ چترال کی بے حد ماہر ٹیم سے تھا۔ شانزے بلتستانی ٹیم کا حصہ تھی اور اس وقت وہ اپنے لالہ کے گھوڑے پر سوار تھی۔ یہ خیال آتے ہی کہ وہ لالہ کی بجائے خود ٹیم کا حصہ ہے، شانزے چونک سی گئی۔وقت اچانک ٹھہر گیا اور اُسے لگا کہ شندور کا میدان بلند ہوتے ہوتے بادلوں کے ساتھ تیرنے لگا ہے۔ گھوڑے دوڑنے کے بجائے اُڑنے لگے تھے اور پڑنجو کو بھی پر لگ چکے تھے۔ وہ بڑی پھرتی سے مخالف ٹیم کے سب کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑتی آگے بڑھ رہی تھی۔ گول کے قریب پہنچ کر اُس نے ہاکی فضا میں بلند کی اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب اس کا توازن بگڑ گیا۔ ایک ہلکی سی چیخ کے ساتھ شانزے گھوڑے سے نیچے آگری۔نیچے زمین تو تھی نہیں، اسے لگا کہ وہ نیچے ہی نیچے گرتی جا رہی ہے۔
    …٭…

  • منگھو پیر

    منگھو پیر

    منگھو پیر
    دلشاد نسیم

    میرے ننھے منے دوستو! ان کا اصل نام خواجہ حسن سخی سلطان ہے لیکن منگھو پیر کے نام سے مشہور ہوئے اور اسی نام سے وہ علاقہ مشہور ہے۔
    منگھو پیر کی درگاہ کراچی کے شمال مغرب میں واقع پہاڑی پر ہے۔ خواجہ حسن سخی سلطان المعروف منگھوپیر کے آباء و اجداد گیارہویں صدی میں برصغیر آئے تھے۔ روایت ہے کہ چھے سات سو سال قبل صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر ایک قافلے کے ہمراہ حج کے لیے جا رہے تھے کہ اس وقت کے بدنام زمانہ ڈاکو منگھووسا نے مسافروں کو لوٹنے کی کوشش کی مگر بابافرید کے حسن و سلوک سے متاثر ہوکر اس نے اسلام قبول کیا اور گناہوں سے توبہ کر لی۔ اس کے بعد اسی منگھو وسا نے اللہ کی راہ میں خود کو وقف کردیا۔
    مقامی لوگ کہتے ہیں کہ منگھوپیر کے دربار کے نزدیک بہنے والے چشمے سے جلدی امراض کا علاج ہوتا ہے یعنی اگر کسی کو جلد کے مسائل ہیں تو وہ منگھو پیر احاطے کے قریب بہنے والے چشمے کے پانی سے نہائے، اللہ کے حکم سے ٹھیک ہو جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس چشمے کے پانی میں قدرتی طور پر گندھک موجود ہے جو جلدی امراض کو دور کرنے کے کام آتا ہے۔
    آج بھی زائرین اس چشمے کے پانی سے غسل کرتے ہیں۔ ہر سال 8 ذوالحجہ کو ہزاروں عقیدت مند سلطان سخی منگھوپیر کا عرس مناتے ہیں۔ وہاں ساون کے مہینے سے پہلے میلہ منعقد ہوتا ہے جسے ”شیدی میلہ” کہتے ہیں۔ یہاں صدیوں پرانے تالاب میں مگر مچھ پائے جاتے ہیں۔ شیدی کراچی شہر کے قدیم باشندے ہیں۔ وہ صدیوں سے اس مزار کے عقیدت مند ہیں۔ ان کا طرزِ زندگی افریقی باشندوں سے ملتا جلتا ہے۔ ان کے بزرگ برسوں پہلے افریقہ سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے تھے۔ شکل و صورت میں بھی یہ افریقی ہی لگتے ہیں۔

    میلے میں آنے والے عقیدت مند جلوس کی شکل میں ڈھول بجاتے ہیں۔ جانور ذبح کرتے اور پھر ان جانوروں کا گوشت مگرمچھوں کو کھلا دیتے ہیں۔
    عرس اور شیدی میلے کے موقع پر تالاب میں موجود مگرمچھ عوام کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ ان مگرمچھوں سے کئی دل چسپ اور حیرت انگیز روایات منسوب ہیں۔ 19 ویں صدی کی تحریروں میں مزار کا ذکر ملتا ہے۔ مگرمچھوں کی ہزاروں سال پرانی باقیات بھی ملتی ہیں۔ کئی عقیدت مندوں کے مطابق مگرمچھوں نے ان پھولوں سے جنم لیا جو منگھوپیر بابا نے تالاب میں پھینکے تھے۔
    کچھ لوگوں کے مطابق یہ جوئیں تھیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ منگھو بابا ان مگرمچھوں پر سواری کرتے تھے۔ گو یہاں کبھی مگرمچھوں کے حملے کا کوئی واقعہ نہیں ہوا پھر بھی مجاور حضرات عقیدت مندوں کو خبردار رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مگرمچھ انسانوں سے مانوس ہیں اور پیٹ بھرنے کے لیے زائرین کی دی گئی خوراک پر انحصار کرتے ہیں اور ان میں خود سے شکار کر کے کھانے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔
    کراچی میں آج یہ پہاڑی علاقہ منگھوپیر کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ ان کے احاطے کے قریب بہنے والا چشمہ برسوں سے اپنے زائرین کو سیراب کررہا ہے۔
    ٭…٭…٭

  • کراچی کی لوک کہانی | مائی کی روشنی

    کراچی کی لوک کہانی | مائی کی روشنی

    کراچی کی لوک کہانی
    مائی کی روشنی
    فرزانہ روحی اسلم

    فرزانہ روحی اسلم نے 1980ء میں روزنامہ جنگ سے لکھنے کا آغاز کیا۔ پاکستان بھر کے بچوں کے رسائل میں لکھ چکی ہیں۔ کراچی سے تعلق اور پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کررکھا ہے۔ درجنوں ایوارڈز اپنے نام کرچکی ہیں۔ کہانیوں کا ایک مجموعہ ”صندل کا درخت” لاہور سے شائع ہوا، افسانہ نگاری کے علاوہ نظم بھی لکھتی رہی ہیں۔

    برسوں پرانی بات ہے۔ ”مائی” نامی ایک عورت کا خاندان سمندر کنارے آباد تھا۔ کچا گھر مٹی اور لکڑی سے بنا ہوا تھاجب کہ دروازے پر کپڑے کا پردہ تان دیا گیا تھا۔ اصل نام تو اس کا معلوم نہیں، البتہ سب اسے مائی کہتے تھے۔ وہ سب ماہی گیر تھے۔ مچھلیاں پکڑتے، بیچتے اور کھاتے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دنیا نہیں دیکھی تھی۔ اُن کے بچے سمندر کنارے مٹی کے گھروندے بناتے یا پھر سیپیوں سے کھیلتے۔ کھیل ہی کھیل میں وہ جال بُننا اور مچھلیاں پکڑنا بھی سیکھ جاتے۔
    اُس دن مائی نے گھر کے کام کاج صبح سویرے ہی ختم کرلیے تھے۔ا ب اسے دوپہر کا انتظار تھا کہ اس کا شوہر مچھلیاں پکڑ لائے تو وہ انہیں پکائے۔ آج اُس کے بچوں نے چاول کھانے کی فرمائش کی تھی۔ لہٰذا اُس نے پہلے ہی چاول اُبال لیے اور اب کونڈی میں نمک، مرچ لہسن اور زیرہ کوٹ کر مچھلی کا مسالا تیار کر رہی تھی۔ اتنے میں اُس کا شوہر دو بڑی مچھلیاں لے کر آگیا۔ اس نے نہایت مہارت سے مچھلیوں کو کاٹا، صاف کیا اور مسالا لگا کر انہیں تل دیا۔ اُبلے چاولوں کے ساتھ لذیذ مچھلی کھا کر سب آرام کی غرض سے لیٹ گئے۔شام کے وقت اس کے شوہر کو دوبارہ سمندر کنارے جانا تھا۔ بچوں نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ وہ بھی سمندر کا نظارہ کریں گے۔ چناں چہ مائی بھی اپنے بچوں کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئی۔
    ایسا نظارہ انہوںنے پہلے کم ہی دیکھا تھا۔ بہت سارے لوگ سمندر دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ مائی اور اس کے بچوں کو بہت اچھا لگا اور وہ اُجلے کپڑوں والے صاف ستھرے لوگوں اور ان کے گول مٹول بچوں کو دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔ تاہم مائی کی خو شی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ وہ جہاں کھڑی تھی وہاں سے کچھ فاصلے پرکوئی عورت چِلّا رہی تھی۔ اُس کا خاندان جس کشتی میں سوار تھا شاید وہ اُلٹ گئی تھی۔ ساحل پہ کھڑے مچھیرے اُس جانب بھاگنے لگے جد ھر سے آواز آرہی تھی۔ مائی بھی تیزی سے اُس جانب لپکی۔ اس کی آنکھوں نے دور کچھ لوگوں کوڈوبتے دیکھا۔ وہ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ ڈوبتا ابھرتا سر اور پانی کی سطح سے اوپر ایک ہاتھ دیکھ کر مائی پریشان ہوگئی۔ کچھ لوگ اسے بچانے کے لیے پانی میں ا تر کر دور جا چکے تھے اور اب شا ید وہ بھی پانی کے تھپیڑوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ بہت سے مچھیرے پانی میں کودے او ر تیرتے ہوئے ایک ایک شخص کو کھینچ کر کنارے تک لانے لگے۔
    کشتی کے قریب وہ ڈوبنے والا لڑکا پانی میں بہت دور جا چکا تھا۔ اب بھی اس کا ہاتھ کسی لمحے دکھائی دے رہا تھا۔مائی چلائی: ”اسے بچائو،جلدی کرو۔” لیکن وہ دور تھا، کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ اتنی دور گہرے سمندر میں جائے۔ مائی نے اپنے شوہر کا بازو پکڑتے ہوئے کہا:”تم جائو جلدی کرو ،زندگی بچائو۔”
    ”وہ بہت دور چلا گیا ہے، اب اسے بچانا بہت مشکل ہے۔” اس کے شوہر نے جواب دیا۔
    ”مگر وہ ابھی ڈوبا نہیں ہے۔”یہ کہتے ہوئے مائی نے اپنی اوڑھنی کنارے پر پھینکی اور سمندر میں کود گئی۔ یہ دیکھتے ہی اس کے شوہر نے بھی اس کے پیچھے چھلانگ لگا دی اور اسے آواز دینے لگا، مگر مائی دلیری سے سمندری لہروںکا مقابلہ کرتی آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔اس پرایک ہی دھن سوار تھی کہ ”زندگی بچانی ہے۔”
    جلد ہی مائی نے اس ہاتھ کو جا لیا جسے اس نے ساحل پر سے دیکھا تھا۔ اس کا شوہر اور دیگر مچھیرے بھی وہاں تک آ پہنچے۔ مائی اس ہاتھ کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ اسے واپسی مشکل لگنے لگی، پھر بھی وہ ہمت ہارنے کو تیار نہیں تھی۔ اس نے موجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دور سے ایک کشتی کو دیکھا۔ اس نے کچھ کہنا چاہا مگر آواز حلق میں گھٹ کر ہی رہ گئی۔ پھر بھی وہ پانی کی مخالف سمت بڑھتی رہی۔
    ”اسے بچائو، جلدی کرو۔” وہ دوبارہ چلّائی۔ اس کی حوصلہ مند آواز نے لہروں کو ہارنے پر مجبور کردیا۔ کشتی اب اس کے بالکل قریب تھی۔ مچھیروں نے انہیں جلد ہی گھسیٹ کر کشتی میں ڈال لیا اور ان کے پیٹ سے پانی نکالنے لگے۔ جب مائی کے حواس بحال ہوئے تواس نے خود کو ساحل پر دیکھا، اسے فوری طور پر مطب پہنچایا گیا۔ وہ بہت تھک گئی تھی اور زخمی بھی تھی، مگر ایک زندگی کے بچ جانے پر خوشی اس کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی۔
    ”آج ایک زندگی بچ گئی ورنہ رات بھر سمندر کنارے سوگ ہوتا،ہمارے گھروں میں دیے بجھا دیے جاتے۔” وہ بڑ بڑائی۔
    مائی کو اندھیرا پسند نہ تھا۔ اسے روشنی اچھی لگتی تھی۔زندگی بچانے کی خوشی میں رات بھر گائوں میں چراغاں ہوا۔ لوگ مائی کو مبارک باد دینے آتے رہے۔ دور دور تک مائی کی ہمت اور بہادری کے چرچے ہونے لگے۔ رفتہ رفتہ اس کے گائوں کا نام اسی کے نام سے ”مائی کولاچی ” پکارا جانے لگا۔ جس کا مطلب ہے ”مائی کی روشنی” یہ نام اس گائوں کو اتنا راس آیا کہ یہاں برکتیں نازل ہونے لگیں۔ مچھیروں کو سمندر سے ڈھیروں مچھلیاں ہاتھ آنے لگیں۔ ان کا کاروبار ترقی کرنے لگا۔ مچھلیوں کا کاروبار پھیلا تو مزید آسانیاں مہیا ہونے لگیں۔ سڑکیں بن گئیں اور جب سڑک بن جائے تو آمد و رفت بھی بڑھ جاتی ہے جس سے بڑے پیمانے پر کاروبار شروع ہوجاتا ہے۔ مائی کو لاچی میں بھی یہی ہوا۔

    مچھلیوں کی پوری دنیا میں سپلائی شروع ہوگئی۔ روز گار کے دروازے کھلے تو دیگر شہروں سے بھی روزگار کی تلاش میں مائی کولاچی آنا شروع ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وقت نے پلٹا کھایا اور گائوں ایک شہر بن کر جگمگانے لگا ۔”مائی کولاچی” روشنیوں کا شہر کہلانے لگا جس کی سڑکیں اور عمارتیں رات کو روشنی بکھیرنے لگیں، برقی قمقمے جلنے بجھنے لگے۔شہر کی شہرت دور دور تک پھیلنے لگی۔دنیا بھر سے تاجروںنے یہاں آنا شروع کیا۔ شہر کی جگمگا ہٹ دیکھنے دور دراز سے لوگ کشاں کشاں آنے لگے۔ ترقی کے ساتھ ساتھ اس شہر کا نام بھی بدلتا گیا۔ کولاچی، کلاچی، کرانچی اور پھرکراچی ہوگیا۔
    یہاں کے باشندوں نے نئے نئے کام کیے، سوچنے والوںنے نئی نئی باتیں سوچیں، یوں شہر کی ترقی کو چار چاند لگ گئے، مگر وہ اس مائی کی زندگی سے محبت اور بہادری کو فراموش نہ کرسکے۔ یہ جو رات گئے کراچی کی عمارتیں ،سڑکیںاور سائن بورڈ روشن رہتے ہیں۔ یہ دراصل” مائی کولاچی ”کی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔جب تک کراچی روشن رہے گا مائی کی یاد تازہ رہے گی۔ کراچی کی تاریخ کے اوراق پلٹنے والوں کو مائی کولاچی کا ذکر سنہری حروف سے لکھا دکھائی دیتا رہے گا۔

  • لوک داستان (سنی سنائی) | مَن سراج

    لوک داستان (سنی سنائی) | مَن سراج

    لوک داستان (سنی سنائی)
    مَن سراج
    منیر احمد راشد

    ایوارڈ یافتہ رائٹر، ٹرینر، ایڈیٹر اور کمانڈر فور جیسے جاسوسی ناول کے مصنف جناب منیر احمد راشد خانیوال میں پیدا ہوئے۔ زمانۂ طالب علمی میں کراچی چلے گئے۔ زندگی کا طویل عرصہ اسی شہر میں گزرا۔ کئی کتابیں لکھیں، کہانیاں، بچوں کی نظمیں اور ناول اس کے علاوہ ہیں۔
    آنکھ مچولی کے ایڈیٹوریل بورڈ میں شامل ہے۔ بعدازاں نصابی کتب کا ادارہ بنایا۔ اپنے وسیع تجربے اور علمی کارناموں سے نئی نسل کے ذہنوں کی آبیاری کرتے رہے۔ اسی دوران عالمی اداروں کے ساتھ بھی منسلک رہے۔ آج کل IBER میں بطور سی ای او ذمہ داریاں بااحسن نبھا رہے ہیں۔ الف نگر کے لیے ”من سراج” جیسی خوب صورت تحریر ان کی خصوصی شفقت ہے۔

    مَن سراج یعنی دل کا چراغ… روشن دل یا دل کا روشن کرنے والا

    وہ ایسا ہی تھا، بالکل اپنے نام کی طرح۔ مَن سراج کو دیکھنے سے بس ایک ہی جذبہ دل میں اُبھرتا تھا… محبت کا جذبہ۔
    اُس دن بھی ایسا ہی ہوا کہ بادشاہ اپنے لائولشکر کے ساتھ شکار گاہ میں موجود تھا۔ بہت سے ہرن اُس کے شوقِ کی بھینٹ چڑھ چکے تھے۔ وہ مزید کی تلاش میں گھنے جنگل کے اندر تک آگیا۔ اس کی عقابی نظریں درختوں کے پار اُس چھوٹے سبزہ زار پر جمی تھیں جہاں پانی کا تالاب دکھائی دے رہا تھا۔
    بادشاہ کو یقین تھا کہ ہرن یہاں ضرور آئیں گے۔ زندگی کی بقا کے لیے پانی ضروری ہے، مگر آج اُس تالاب کا پانی بعض زندگیوں کی فنا کا پیغام لانے والا تھا لیکن ہمیشہ ویسا تو نہیں ہوتا جیسا ظاہر میں نظر آتا ہے۔ اُس دن بھی ایسا ہی ہوا۔ بادشاہ اور اُس کے ساتھی تالاب پر نظریں جمائے ہوئے تھے کہ انہیں درختوں کی اوٹ سے ایک ہر نوٹا (ہرن کا بچہ) گھاس کے میدان میں نظر آیا۔
    آس پاس کے ماحول سے بے پروا، آنے والے خطروں سے بے خبر۔ ایک مستانی چال چلتا ہوا وہ تالاب پر آیا۔ پانی پیا، سر اُٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا، دور درختوں کے پیچھے اُسے کچھ ہلچل محسوس ہوئی۔ وہ خراماں خراماں درختوں کی طرف چل نکلا۔ بادشاہ اُس کی بے باکی اور معصومیت سے متاثر ہوا۔ اُس نے حکم دیا کہ ہر نوٹے پر تیر نہ چلایا جائے۔ ہرنوٹا قریب آیا تو اُس کے مزید جوہر کھلے۔ بڑی بڑی غزالی آنکھیں جن میں معصومیت کے ساتھ ساتھ حیرت بھی تھی اور محبت بھی۔ نوخیز بدن، بادشاہ کو اُس پر پیار آگیا۔ گھوڑے سے اترا اور درختوں سے باہر نکل کر پیار سے ہرنوٹے کو پکارنے لگا۔ پہلے وہ ذرا سا جھجکا، پھر قریب آگیا۔
    بادشاہ نے اسے گود میں اُٹھا لیا۔ پیار کرنے والے ہی پیار کو پہچانتے ہیں۔ بادشاہ نے محبت سے سر سہلایا تو ہرنوٹا رام ہوگیا۔ یہ دیکھ کر بادشاہ نے اعلان کردیا کہ یہ اُس کا پالتو ہرن ہے اور اِس کا نام ”من سراج” ہوگا۔ جلد ہی من سراج بادشاہ کا چہیتا بن گیا۔ بادشاہ ہی کیا وہ تو ملکہ کی بھی آنکھ کا تارہ تھا۔ بادشاہ جب بھی شکار پر جاتا تو ملکہ کے ساتھ ساتھ ہر نوٹا بھی اُس کے ساتھ میں ہوتا۔ من سراج بھی رفتہ رفتہ بادشاہ کے ساتھ مانوس ہوگیا۔
    بادشاہ شکار پر جاتا تو من سراج اُس کے لیے شکار گھیر کر بادشاہ کے نشانے پر لے آتا۔ یوں بادشاہ تلاش کی زحمت سے بچتا اور انتظار کی کوفت سے بھی۔ ہر شکار کے بعد وہ بادشاہ کی محبت میں اور گھیرا چلا جاتا۔ دن یونہی گزرتے گئے۔ من سراج جوان ہوگیا۔ اُس کا حسن اور نکھر آیا تھا۔ بے فکری کا کھانا، آرام سے رہنا۔ اُس کی صحت بہت اچھی تھی۔ چال کا مستانہ پن اور آنکھوں کا خمار اور زیادہ ہوگیا تھا۔ بادشاہ کا پیار اُس کی زندگی کا سرمایہ تھا۔ زندگی عیش میں گزر رہی تھی۔ راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔
    ایک دن بادشاہ نے کئی میل فاصلہ طے کرکے اپنی مخصوص شکارگاہ کا رخ کیا۔ جہاں سے اسے من سراج بھی ملا تھا۔ من سراج بہت دن سے اِدھر نہیں آیا تھا۔ اب جو واپس آیا، وطن کی مٹی کو چھوا، تو بچپن کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ ماں باپ، بہن بھائی، دوست یار سب یاد آنے لگے اور سب سے بڑھ کر پیکو۔
    پیکو اُس کی بچپن کی دوست تھی۔ ساتھ کھیلنا، ساتھ کھانا، جنگل ہو یا سبزہ زار، تنہا ہو یا ہرنوں کی ڈار، وہ ساتھ ساتھ رہتے۔ من سراج کو پیکو کے ساتھ گھومنا اچھا لگتا تھا۔ اس وقت تو وہ بچہ تھا۔ یہ بات نہیں سمجھتا تھا، لیکن اب اسے معلوم ہوچکا تھا کہ وہ پیکو سے اس کی دوستی ہی نہیں بلکہ دلی تعلق بھی تھا۔ پیکو بھی اُس کے ساتھ خوب کھیلتی تھی۔ وہ اسے پیار سے کُو کُو کہہ کر بلاتی تھی۔

    پیکو کی یاد آتے ہی من سراج میں کُو کُو جاگ اُٹھا۔ وہ چوکڑیاں بھرتا جنگل میں گم ہوگیا۔ اُسے معلوم تھا کہ پیکو کہاں ملے گی۔ وہ تالاب کے دوسری طرف لمبی اونچی گھاس کے میدان میں پہنچا اور بلند آواز سے پکارا۔
    ”پیکو… پیکو۔” اُس کی آواز فضائوں کا سینہ چیرتی پیکو کے کانوں تک پہنچ گئی۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ فضا ”کُوکُو… کُو کُو کی آواز سے گونج اٹھی پھر ایک خوب صورت ہرنی درختوں کی اوٹ سے نکلی اور اُس کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ مدت کے بعد ملے تھے مگر ایک دوسرے کو پہچاننے میں دقّت نہیں ہوئی۔ من سراج بہت خوش تھا، پیکو بھی مسرور تھی۔ دونوں بچھڑے دنوں کی یادوں میں کھو گئے۔
    من سراج کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ اُس نے بادشاہ سے ملنے سے لے کر آج تک کے سارے قصّے سنائے۔ بادشاہ کی محبت، ملکہ کی شفقت، درباریوں کی عقیدت اور درباری جانوروں میں اُس کی عظمت، کیا کیا نہیں تھا سنانے کو۔ پھر اُس نے بادشاہ کے لیے اپنی محبت کا تذکرہ کیا۔ اُس کے لیے دی گئی قربانیوں کے قصّے سنائے۔ اُس کے لیے گھیرے گئے شکاروں کی کہانیاں بیان کیں۔ پیکو سنتی رہی، جیسے جیسے قصّے آگے بڑھتے رہے پیکو کی دل چسپی اسی طرح اکتاہٹ میں بدلتی گئی۔ کچھ دیر بعد من سراج کو بھی اس کا احساس ہوا وہ جلدی سے بولا:
    ”پیکو! تم خوش نہیں ہوئی میری کامیابیوں سے؟”
    ”کوُ کُو! اِس میں کامیابی کہاں ہے؟” اُس نے دکھی لہجے میں کہا۔
    ”تم تو یاد رکھنا اور اپنائیت دینا ہی بھول گئے۔” پیکو خاموش ہوگئی، من سراج اُسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد پیکو دوبارہ بولی:
    ”تم انسانوں میں رہ کر اُنہی کی طرح سوچنے لگے ہو، مطلب پرست کوکو! بادشاہ تمہیں دو وقت کا کھانا دے کر اُسے محبت کہتا ہے اور پھر تمہیں تمہارے ہی بہن بھائیوں اور ہم نسلوں کو شکار کرتا ہے۔ تم خوش ہو کہ بادشاہ کی محبت کا حق ادا کررہے ہو اور وہ خوش ہے کہ ایک ہرن کو پال کر بیسیوں ہرنوں کی کھال آسانی سے کھینچ لیتا ہے۔” وہ تھوڑی دیر کے لیے رکی پھر بولی:
    ”کُوکُو! تم تو لالچ کے جھانسے میں آگئے، یہ محبت نہیں، غلامی ہے۔ ذرا سوچو! تمہاری وجہ سے کتنے کُوکُو اپنی پیکوئوں سے بچھڑ گئے، کتنی پیکوئیں میری طرح اپنے کُو کُو کے انتظار میں جدائی کا عذاب جھیل رہی ہوں گی، لیکن نہیں تمہیں کیا پتا جدائی کا عذاب کیا ہوتا ہے؟ تم تو اپنے بادشاہ کے محل میں راج کررہے ہو۔ تمہیں کیا پتا تو جنگل کی رات کتنی بھیانک ہوتی ہے۔”
    اس سے پہلے کہ پیکو کچھ اور کہتی، کہیں سے ایک سنسناتا ہوا تیر آیا اور پیکو کے جسم میں آرپار ہوگیا۔ ایک درد ناک چیخ اُس کے حلق سے نکلی اور وہ تڑپتے ہوئے وہیں ڈھیر ہوگئی۔ من سراج کو کچھ کہنے سننے کا موقع ہی نہ ملا، اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔ اچانک بادشاہ کے شکاری آئے اور پیکو کی لاش اُٹھا کر لے گئے۔ من سراج آنکھوں میں آنسو لیے بوجھل قدموں سے اُن کے ساتھ تھا۔ شکار گاہ میں آکر بھی اُس کی حالت نہ بدلی۔ اس کی آنکھوں میں پیکو کا لاشا اور کانوں میں اُس کی آخری چیخ کی گونج سمائی ہوئی تھی: ”کُوکُو! یہ محبت نہیں، غلامی ہے۔” وہ پیکو کی باتیں یاد کرنے لگا۔
    اب اُسے کچھ بھی دکھائی یا سنائی نہیں دیتا تھا۔ نہ بادشاہ کی محبت بھری چمکار نہ اُس کا پیار، نہ ملکہ کی شفقت اور نہ اس کے ہاتھ کا لمس، من سراج کا من مرگیا تھا۔ لوگوںنے خیال کیا کہ شاید جنگل میں اُس نے کوئی زہریلی چیز کھا لی، اس لیے بیمار ہے، مگر اُس نے غم کھایا تھا اور اب آہستہ آہستہ غم اُسے کھا رہا تھا۔ بادشاہ نے بہت علاج کرایا، مگر من سراج سنبھل نہ پایا اور چند روز بعد اپنی پیکو کے پاس چلا گیا۔
    بادشاہ بہت دکھی ہوا۔ اُس نے جہانگیر پورہ کی اسی شکار گاہ میں تالاب کے پاس اپنی محبت کے اظہار کے طور پر ایک مینار تعمیر کرایا۔ ”ہرن مینار۔” محبت کی طرح ایک لازوال یادگار۔
    سینکڑوں برس بیت جانے کے باوجود ہرن مینار آج بھی سر اُٹھائے کھڑا ہے۔ روزانہ ہزاروں لوگ یہاں آتے ہیں۔ ہرن اور بادشاہ کی محبت بھری اِس داستان کو یاد کرتے ہیں، مگر کم ہی لوگ اصل کہانی جانتے ہیں۔
    لوگ کہتے ہیں کہ جن کے دل محبت کے نور سے سیراب ہوں انہیں آج بھی ”ہرن مینار” کے اردگرد پھیلے درختوںکے جھنڈ میں ہرنوں کی ایک جوڑی کے سائے سر سراتے نظر آتے ہیں۔
    دل کے کانوں سے سنیں تو پیکو… کُو کُو… پیکو… کُو کُو کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں، مگر افسوس کہ اکثر لوگ یہاں صرف پکنک منانے آتے ہیں۔ خالی دلوں کو ہرن مینار، عشق کا شاہکار نہیں محض ایک مینار نظر آتا ہے۔
    ٭…٭…٭
    یہ سترہویں صدی عیسوی کا ذکر ہے۔ ہندوستان پر مغل بادشاہ جہانگیر کی حکومت تھی۔ باپ شہنشاہ اکبر نے پیار سے اُس کا نام شیخو رکھا تھا۔ شیخو کو شکار کا بے حد شوق تھا۔ اُس نے لاہور سے چالیس میل کے فاصلے پر گھنے جنگلات اور سرسبز گھاس سے لدے میدانوں کے بیچوں بیچ ایک شکار گاہ بنائی تھی جہاں وہ اکثر شکار کے لیے آیا کرتا تھا۔ یہاں ایک تالاب اور ایک تین منزلہ استراحت گاہ بھی تھی جہاں وہ آرام کرتا۔ بعد میں اُس نے اِس شکارگاہ کے قریب ایک شہر آباد کیا جس کا نام جہانگیر پورہ تھا۔ آج کل لوگ اُسے شیخوپورہ کے نام سے جانتے ہیں۔ ہرن مینار شیخوپورہ کی تاریخی تفریح گاہ ہے۔ یہ مینار اُسی ہرن کی یادگار کے طور پر تعمیر کیا گیا جو جہانگیر کا پالتو تھا۔
    ٭…٭…٭

  • لوہ پور کا شہزادہ

    لوہ پور کا شہزادہ

    لوہ پور کا شہزادہ

    حافظ محمد دانش عارفین حیرت

    لوہ پور کے قیام کے بعد یہ شہر کئی صدیاں ہندوؤں کے زیر تحت رہا، پھر کئی سو سال بعدشہاب الدین غوری نے 1186ء میں لاہور کو فتح کیا۔بعد ازاں یہ شہر خاندان غلاماں کے ہاتھوں میں آ گیا۔1290ء میں خلجی خاندان نے اس پر قبضہ کیا۔1320ء میں تغلق خاندان، 1414ء سید خاندان 1451ء لودھی خاندان کے تحت رہا۔ 1526ء میں ظہیر الدین بابر مغل حکمران نے ابراہیم لودھی کو شکست دی اور یوں سلطنت مغلیہ وجود میں آئی۔مغلوں نے اپنے دور میں یہاں عظیم الشان عمارات تعمیر کروائیں، کئی باغات لگوائے۔اکبر بادشاہ نے شاہی قلعہ کو از سر نو تعمیر کیا۔ شاہ جہان نے شالامار باغ تعمیر کروایا ۔1646ء میں شہزادی جہاں آراء نے دریائے راوی کے کنارے چوبرجی باغ تعمیر کروایا،جس کا بیرونی دروازہ آج بھی موجود ہے۔1673ء میں اورنگزیب عالم گیر نے شاہی قلعہ کے سامنے بادشاہی مسجد تعمیر کروائی۔ 1857ء میں آخری مغل بادشاہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو ہندوستان انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا۔ البتہ لاہور کو ہر دور میں خاص اہمیت حاصل رہی۔

    صدیوں قبل شری رام چندر نامی ہندئووں کے ایک مشہور بزرگ گزرے ہیں۔ ہندئووں کے نزدیک شری رام چندر کا بہت بڑا مقام ہے۔ وہ بادشاہ دشرتھ کے بیٹے تھے۔ شری رام خود تو بادشاہ نہ تھے، لیکن ان کی حیثیت بادشاہ سے کم بھی نہ تھی۔ ان کا چھوٹا بھائی بھرت بادشاہ اپنے بھائی رام چندر کی بہت عزت کرتا تھا۔ بھرت ریاست اُودھ کا حکمران تھا۔ اس کی سلطنت خاصی وسیع تھی۔ اردگرد کے مہاراجے ان سے جلتے اور اس کے علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے حملے کیا کرتے۔ جنگجو دریائے راوی کے کنارے سے آتے تھے۔ اس زمانے میں راوی بہت بڑا دریا تھا۔
    بھرت اِن حملوں کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔ اُس نے اپنے بڑے بھائی شری رام چندر سے اس کا ذکر کیا۔ شری رام چندر بھی ان حملوں سے بہت نالاں تھے۔ ان کے دو بیٹے تھے۔ ایک کانام لوہ، دوسرے کا نام قوہ تھا۔ دونوں شہزادے نہایت ہونہار تھے۔ ان حملوں کا جواب دینے کے لیے شری رام چندر کی نظر اپنے بیٹوں کی طرف گئی۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: ”تم دونوں جانتے ہو کہ ہماری ریاست پر اردگرد کے علاقوں سے حملے ہوتے رہتے ہیں۔ ان حملوں سے ہماری رعایا کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ تم دونوں بہادر ہو، رعایا کی حفاظت کرنا تمہارا بھی فرض ہے۔ کیا تم دشمنوں کے حملے سے بچاؤ کے لیے کوئی تدبیر دے سکتے ہو؟”
    ”اباجان!” آپ بھرت چاچا سے کہہ کر اس علاقے میں سپاہی متعین کروا دیں۔ ہمارے سپاہی وہاں ہوں گے تو دشمنوں کو حملے کا فوری اور بھرپور جواب دیں گے۔”
    شہزادوں نے ادب سے کہا۔
    ”سپاہی پہلے ہی سے وہاں موجود ہیں مگر اس کے باوجود حملہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمارا خیال ہے کہ تم دونوں مل کر وہاں جاؤ اور دشمنوں کے حملے کا منہ توڑ جواب دو۔ اگر راجہ یا شاہی خاندان کا کوئی فرد فوج کے ہمراہ ہو تو سپاہی ہمت نہیں ہارتے بلکہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں۔ تم دونوں کی اس حوالے سے کیا رائے ہے؟” شری رام چند نے بیٹوں سے پوچھا۔

    ”ہم اس کے لیے تیار ہیں۔” دونوں شہزادوں نے شاہی آداب کے مطابق جھک کر جواب دیا۔
    ”اچھی بات ہے۔ جاؤ اور جلدی اس سفر کی تیاری کرو۔” شری رام نے کہا۔
    ”جی ابا حضور!” دونوں شہزادوں نے سعادت مندی سے جواب دیا۔
    شری رام چندر نے چھوٹے بھائی بھرت کو تمام بات کہہ سنائی۔ بادشاہ بھرت یہ سن کر خوش اور مطمئن ہوگیا۔ دونوں شہزادوں یعنی قوہ اور لوہ کے درمیان طے پایا کہ لوہ دریائے راوی کے کنارے فوج کے پاس ہوگا جب کہ قوہ کچھ فاصلے پر فوج ایک دستہ لیے رکے گا۔ جیسے ہی کوئی حملہ ہو گا ،تو لوہ فوری طور پر حملے کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ پیچھے قوہ تک بھی پیغام پہنچا دے گا کہ شہر پر دشمنوں نے حملہ کردیا ہے۔ قوہ جلدی سے کمک لوہ تک روانہ کرے گا۔
    تازہ دم کمک پہنچتے دیکھ کر دشمن گھبرا کر بھاگ جائے گا۔ اس طرح اُن کی دھاک بیٹھ جائے گی۔ چناں چہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ کچھ عرصہ تو دونوں بھائی ایسے ہی شہر کی حفاظت کرتے رہے لیکن کب تک اس طرح کھلے آسمان تلے رہتے۔ دونوں بھائیوں نے آپس میں مشورہ کیااور اپنے والد کو پیغام بھیجا: ”ہم یہاں پر شہر آباد کرنا چاہتے ہیں، آپ کی اجازت چاہیے۔”
    ان کے والد نے خوشی سے اجازت دے دی بلکہ چاچا بھرت بادشاہ نے شہر بسانے کے لیے تما م خرچ قومی خزانے سے ادا کیا۔ چناں چہ قوہ نے ایک چھوٹا سا شہر بسایا جسے آج قصور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اِدھر لوہ نے دریائے راوی کے کنارے مزدور بلائے اور شہر کی تعمیر شروع کروا دی۔ شہر کے گرد ایک بڑی سی دیوار کھڑی کی گئی۔ اس دیوار میں ایک خفیہ راستہ اور بارہ دروازے بنائے گئے۔
    یہ دروازے شہر میں داخل ہونے اور دشمنوں سے بچاؤ کا کام دیتے تھے۔ جب بھی کوئی حملہ ہوتا شہر کے دروازے بند کر لیے جاتے اور تیر انداز شہر کی دیوار پر سے دشمنوں پر تیر برساتے۔ یہ دروازے مختلف شہروں کی طرف کھلتے تھے۔ اس نسبت سے ہی ان دروازوں کے نام رکھے گئے۔ ہندو مہاراجاؤں کے ہاں ایک خاص مقام شاہی خاندان کی رہائش کے لیے بنایا جاتا تھا۔
    اس علاقے میں عام لوگوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے شہر کے اندر لوہ نے شاہی خاندان کے لیے ایک قلعہ تعمیر کروایا اور اپنی رعایا کی حفاظت کرنے لگا۔ یوں شہر کی بنیاد رکھنے سے شری رام چندر اور بھرت کو شہر پر ہونے والے حملوں سے نجات مل گئی اور رعایا عیش و آرام سے زندگی بسر کرنے لگی۔
    یہ شہر چوں کہ لوہ نے بسایا تھا، اس لیے اُسے ” لوہ پور” کہا جانے لگا۔ یہاں سب سے پہلے حکومت بھی لوہ نے کی۔ اسی شہر کی نسبت سے اُسے لوہ پور کا شہزادہ کہا جانے لگا۔ بعد میں یہاں حکومت کرنے والے راجپوت اس شہر کو ”لوہ کوٹ” کے نام سے پکارنے لگے۔ دنیا کے مشہور سیاح ”الادریسی ” نے اسے ”لہاور” کا نام دیا۔ مختلف وقتوں میں مختلف ناموں سے پکارے جانے کے بعد آخر یہ لاہور بن گیا۔
    ٭…٭…٭

  • کوّا اور لالی | سنی سنائی لوک کہانی

    کوّا اور لالی | سنی سنائی لوک کہانی

    سنی سنائی لوک کہانی
    کوّا اور لالی
    قیصر مشتاق

    قیصر مشتاق فروری 1991ء کو اوکاڑہ میں پیدا ہوئے۔ تاہم بچپن سے ہی خاندان کے ساتھ کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ دورانِ تعلیم ادبی سفر کا آغاز کیا۔ مگر تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی اس طرف خاص توجہ دی۔ افسانے اور کہانیاں لکھنا ان کا شوق ہے۔ الف کتاب اور الف نگر میں مستقل لکھ رہے ہیں، مختلف مقابلہ جات میں نمایاں پوزیشن بھی لے چکے ہیں۔
    دسمبر کا مہینہ شروع ہوا تو سردی مزید بڑھ گئی۔ ہر صبح اور ہر شام دھند میں ہی لپٹی نظر آتی، اسکولز میں سردیوں کی چھٹیوں کا اعلان ہوا تو بچوں میں تو جیسے خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اب کچھ دنوں تک وہ مزے سے لحافوں میں دُبک کر دادی جان سے ڈھیروں کہانیاں سن سکتے تھے۔
    ایک شام چاروں بچے دادی جان کے کمرے میں داخل ہوئے۔ دادی انگیٹھی کے پاس ہی بیٹھی آگ سینک رہی تھیں۔ کہانی کی فرمائش کی تو دادی جان ہولے سے مسکرائیں اور سب کو پاس ہی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ احمد، شانی، علی اور عائشہ دادی کے ارد گرد بیٹھ گئے۔
    اتنی دیر میں چھوٹی چچی ایک تھالی میں ڈھیر ساری مونگ پھلی اور گڑ لے آئیں۔ بچے مزید خوش ہو گئے اور انہوں نے مونگ پھلی سے مٹھیاں بھر لیں۔
    ”دیکھو بچو! مونگ پھلی کے چھلکے نیچے مت پھینکنا۔ ایک جگہ اکٹھے رکھنا۔” چچی کی بات پر سب نے اثبات میں سر ہلایا اور دادی کی طرف متوجہ ہوگئے۔
    ”آج میں آپ سب کو لالی اور کوّے کی کہانی سناتی ہوں۔” دادی جان نے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔
    ”دادی! یہ لالی بھی ایک پرندہ ہے نا؟” شانی نے پوچھا۔
    ”ہاں بیٹا! لالی کھیتوں اور کنوؤں میں رہتی ہے۔ یہ ایشیا کا ایک عام پرندہ ہے۔” دادی نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے بتایا۔
    ”جی جی! میں نے دیکھی ہے لالی۔ اس کے نیلے رنگ کے چھوٹے چھوٹے انڈے ہوتے ہیں نا؟” علی نے پرُ جوش انداز میں بتایا۔
    ”جی بالکل علی بیٹا! اب کہانی سنیں؟” چچی نے کہا تو وہ خاموش ہوگئے۔
    ”اچھا تو بچو! یہ کہانی ہے ایک گائوں کی جہاں ایک لالی اور کوّا رہتے تھے۔ اُن میں بڑی دوستی تھی۔ دونوں سارے کام مل جل کر کرتے لیکن اکثر ایسا ہوتا کہ پانی کی تلاش میں انہیں دور جانا پڑتا تھا۔ لالی بہت مخلص اور خیال کرنے والی جب کہ کوّا کہیں نہ کہیں کاہلی دکھا جاتا تھا۔
    ایک دن سمجھ دار لالی نے کوے سے کہا: ”دوست! کیوں نہ ہم کنواں کھود کر پانی نکالیں اور فصل اگائیں؟”
    کوّے کو لالی کی بات اچھی لگی اور پھر دونوں نے کنواں کھودنا شروع کر دیا۔ لالی نہایت ایمان داری اور تیزی سے اپنا کام کر رہی تھی جب کہ کوا تھوڑی ہی دیر میں سست پڑ گیا۔ وہ بڑی کاہلی اور بے دلی سے کھدائی کر رہا تھا۔ اچانک کوے کی چونچ ٹوٹ گئی اور وہ رک گیا۔
    ”کیا ہوا دوست؟” لالی نے فکرمندی سے پوچھا۔

    ”میری تو چونچ ہی ٹوٹ گئی، اب میں کنواں نہیں کھود سکتا۔ تم ایسا کرو کنواں کھودو، میں اپنی چونچ بنوا کر ابھی آیا۔” کوّے نے کہا تو لالی نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔
    کوّا پُھر سے اڑ کر چلا گیا۔ لالی اپنے کام میں لگی رہی، کئی دن تک جب کوّا نہ آیا تو لالی نے اکیلے ہی سارا کام مکمل کرلیا۔ جب اس نے کنواں کھود لیا تو کوّے کو آواز دی:
    ”کاں وے کاں کھوہ کھٹیا پیا۔” (اے کوّے! میں نے کنواں کھود لیا)
    دادی نے مخصوص انداز میں گنگنایا تو سارے بچے خوب مسکرائے۔
    ”بچو! کہیں دور سے کوّے کی آواز آئی: چُنج گھڑیندا لاٹھی لیندا آیا، لالی آیا” (اپنی چونچ بنوا کر اور کنویں کی پلی لے کر میں جلد ہی آیا لالی)
    لالی نے اس کا انتظار کیا۔ جب کوّا نہ آیا تو اس نے چند دوستوں کی مدد سے کنویں سے پانی نکلوایا اور کوّے کو پھر سے آواز دی:
    ”کاں وے کاں پانی نکلیا پیا۔” (اے کوّے! کنویں سے پانی نکل آیا) دادی کے مخصوص انداز پر بچے پھر سے کھلکھلا کے ہنس پڑے۔ دادی نے کہانی جاری رکھی، بچو! اُدھر سے کوّے نے آواز دی:
    ”تیں فصل بواتے پانی لا، میں آیا لالی آیا۔” (اے لالی! تم فصل بو کر پانی لگاؤ، میں آتا ہوں)
    سن کر لالی نے انتظار کرنا چھوڑ دیا اور سوچا کیوں نہ میں خود ہی فصل کے لیے کیاریاں تیار کر لوں۔ اس نے کیاریاں بنا لیں اور ایک بار پھر کوّے کو آواز دی، لیکن کوے کی طرف سے پھر سے وہی جواب آیا۔
    اب لالی نے کیاریوں میں بیج بویا اور انہیں پانی دے دیا۔ وہ ہر بار کوّے کو آواز دیتی اور مدد کا کہتی لیکن کوّا وہی جواب دیتا کہ تم فصل تیار کرو میں بس جلدی سے آیا۔ دادی جان ذرا دم لینے کے لیے رک گئیں۔
    ”کوّا کتنا نکما تھا چچی!” عائشہ جو کہ چچی سے چپکی بیٹھی تھی اچانک بولی تو چچی نے ہاں میں سر ہلایا۔
    ”ہاں عائشہ! اُسے چاہیے تھا کہ لالی کی مدد کرتا۔” دادی جان نے کہانی دوبارہ شروع کی۔ ”بچو! کچھ وقت گزرا تو گندم کے پودوں پر خوشے نکل آئے۔ لالی بے چاری ہر وقت فصل کی رکھوالی کرتی رہتی۔ اس نے کئی بار اپنے دوست کو آواز دی لیکن وہ نہ آیا۔ دیکھتے دیکھتے خوشے پک گئے تو لالی نے پھر آواز لگائی۔
    ”کاں وے کاں کنک پک جے گئی۔” (اے کوے! گندم پک چکی ہے)
    لیکن ایک بار پھر کوا نہ آیا۔ لالی نے فصل کاٹی اور جب اناج کا ڈھیر لگ گیا تو اس نے ایک بار پھر کوے کو پکارا۔ اس بار کوا ایک طرف سے اڑتا ہوا آگیا اور لالی کی تیار کردہ فصل کو دیکھ کے اس کے دل میں لالچ آگیا۔
    لالی نے کہا: ”بے شک تم نے میری مدد نہیں کی، لیکن تم میرے دوست ہو کیوں نہ ہم گندم آپس میں بانٹ لیں۔”
    ”ٹھیک ہے پیاری لالی! تم نے اتنی محنت کی، اب یہ کام میں کرتا ہوں۔” کوّے نے چالاکی سے کہا۔
    یوں کوے نے گندم کے دانے بانٹنا شروع کیے۔ اُس کی نیت خراب تھی۔ چناں چہ نہایت چالاکی سے اس نے گندم کا ڈھیر اپنی طرف کِھسکا لیا جب کہ بھوسا لالی کو دے دیا۔ لالی نے یہ دیکھا تو اُسے کو شدید غصہ آیا۔ وہ ناراض ہوکر بولی:
    ”میں نے کنواں کھودا، پانی نکالا، زمین تیار کی، بیج بویا، فصل کی رکھوالی کی، فصل کاٹی اور اب تم نے میرے حصے میں صرف بھوسا رکھ دیا، تم غلط کر رہے ہو اور آج کے بعد تم میرے دوست نہیں ہو۔ چلے جائو یہاں سے۔” لالی نے کہا لیکن ڈھیٹ کوے پر کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے لالی کی بات سنی اَن سنی کر دی۔
    اچانک زور سے بادل گرجا اور بارش شروع ہوگئی۔ بس پھر کیا تھا، لالی جلدی سے اُڑی اور بھوسے کے ڈھیر میں جا چھپی۔ کوا بوکھلا یا ہوا گندم کے دانوں کے ڈھیر میں سر چھپانے کی کوشش کرتا رہا، آخر وہ ڈھیر میں گھس کر بیٹھ گیا۔ بارش کی وجہ سے ڈھیر سرکتا رہا۔ کوّا اس کے نیچے دب چکا تھا۔ اس نے بہت کوشش کی کہ نکل سکے لیکن بارش کے زور اور پانی سے گندم اور بھی وزنی ہو چکی تھی۔
    وہ اس کے نیچے دبا رہا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ دم گھٹنے سے مر گیا۔ بارش رکی تو لالی باہر آئی۔ اس نے سارا منظر دیکھا تو اسے کوے پر بہت دُکھ ہوا جس نے کاہلی، چالاکی اور دھوکے سے کام لے کر برا انجام پایا تھا۔
    ”دادی پھر کیا ہوا؟” شانی نے اونگھتے ہوئے پوچھا جب کہ باقی سب مونگ پھلی ختم کیے بیٹھے آگ سینک رہے تھے۔
    ”میرے بچے! پھر لالی نے ساری گندم محفوظ کی اور مزے سے رہنے لگی۔ اب اس کے پاس اپنا کنواں بھی تھا اور اناج بھی۔” دادی نے کہا۔
    ”لالی کتنی محنتی تھی نا۔” عائشہ نے نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں! محنت میں عظمت ہے اور کبھی ضائع نہیں جاتی۔” چچی نے کہا۔
    ”اچھا بچو! شاباش، اب سو جاؤ۔” دادی نے کہا تو سب سونے کے لیے چلے گئے۔
    ٭…٭…٭

  • کپڑے کا سوداگر | سیالکوٹ کی لوک کہانی(سنی سنائی)

    کپڑے کا سوداگر | سیالکوٹ کی لوک کہانی(سنی سنائی)

    سیالکوٹ کی لوک کہانی(سنی سنائی)
    کپڑے کا سوداگر
    نادیہ حسن

    نادیہ حسن آج سے 29سال قبل میرپور خاص (سندھ) میں پیدا ہوئیں۔ آبائی شہر سرگودھا جبکہ شادی کے بعد اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ عالمہ ہیں، اس کے علاوہ عربی اور اردو ادب
    میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ لکھنے کا آغاز 2005ء سے کیا۔ اشتیاق احمد جیسے سینئر ادیب ان کے ادبی استاد رہے۔ آج تک مختلف رسائل میں 200کے قریب کہانیاں لکھ چکی ہیں۔

    گزرے دنوں کی بات ہے، کشمیر اور پنجاب کے درمیان ایک علاقہ جسے آج سیالکوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، یہاں دو بھائی رہا کرتے تھے۔ ان کے والدین وفات پاچکے تھے۔
    بڑے بھائی کا نام اسلم اور چھوٹے کا یوسف تھا۔ وہ دونوں کپڑا بُنتے تھے اور کپڑوں کے تھان شہر سے آنے والے بیوپاریوں کو سستے داموں فروخت کرتے تھے۔ وہ سوداگر ان سے کم داموں کپڑا خریدتے اور شہر جاکر مہنگے داموں فروخت کرتے۔
    اسلم خدا کے دیے رزق پہ راضی رہتا اور اس کا شکر ادا کرتا کہ اس نے ہمیں ہنر عطا کیا ہے کسی کا محتاج نہیں بنایا، لیکن یوسف ہمیشہ زیادہ مال اکٹھا کرنے کی سوچتا رہتا۔ وہ چاہتا تھا کہ شہر جاکر کپڑا فروخت کرکے اور زیادہ نفع حاصل کیا جائے۔ اس نے اسلم سے اس بارے میں بات کی تووہ کہنے لگا:
    ”یوسف! ہمارے پاس شہر جانے کے لیے سواری نہیں ہے اور راستے میں جنگل بیابان ہیں۔ چور ڈاکو ہمارا کپڑا چھین لیں گے اور جان سے بھی مار دیں گے، میرا تو خیال ہے ہم جس حال میں ہیں، ٹھیک ہیں۔”
    یوسف مطمئن نہ ہوا، اس نے اگلے ہی روز شہر سے آنے والے سوداگروں سے حالات پوچھے۔ راستے میں پیش آنے والی دشواریاں اور ان سے نپٹنے کے طریقے معلوم کیے پھر گاؤں میں ایک دوست سے گدھا گاڑی لے کر کپڑوں کے تھان ریڑھی پر رکھے اور علی الصباح سفر کے لیے نکل گیا۔
    اسلم سارا دن اپنے بھائی کی خیریت کی دعائیں کرتا رہا۔ فکر اور پریشانی سے اس کا کسی کام میں دل نہ لگتا تھا۔ والدین کی وفات کے بعد اس نے یوسف کو باپ بن کر پالا تھا۔ اَب اس کا یوں میلوں دور اکیلے جانا اس کے لیے انتہائی پریشانی کا باعث تھا۔ وہ رات گئے تک اس کی خیریت سے لوٹنے کی دعائیں کرتا رہا اور اسی حالت میں سو گیا۔
    صبح سویرے اٹھتے ہی یوسف کا خیال آدھمکا۔ اُداس و پریشان حالت میں اس نے فجر کی نماز ادا کی، تلاوت کی اور کپڑا بُننے بیٹھ گیا۔ اسی اداسی میں تین دن بیت گئے۔ تیسرے دن اسے ایک ماہی گیر نے بتایا کہ گاؤں میں شہر سے اناج خریدنے کچھ سوداگر آئے ہوئے ہیں۔ اسلم فوراً سوداگروں کے پاس پہنچ گیا۔
    ”السلام علیکم دوستو! کیا شہر میں ہمارے گاؤں کا کوئی لڑکا پہنچا ہے؟ جس کا نام یوسف ہے۔”اس نے سوال کیا۔
    ”یوسف؟” سوداگر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
    ”ہاں یوسف! میرا چھوٹا بھائی، کپڑا فروخت کرنے شہر گیا تھا۔” اسلم بے چینی سے پوچھنے لگا۔
    ”اچھا اچھا! وہ کپڑے کا سوداگر یوسف! ہاں وہ محنتی لڑکا شہر میں ہی ہے۔” سوداگر کی بات سنتے ہی اسلم کی جان میں جان آگئی۔ اس نے گویا تین دن بعد سکون کا سانس لیا تھا۔ وہ جلدی سے بولا:

    ”اچھا ہوسکے تو اُسے میرا سلام کہنا اور اسے کہنا جلد واپس آجائے۔”
    ”ہاں اس کے کپڑے تو فروخت ہوچکے ہیں، ایک دو دن میں لوٹ آئے گا۔” ایک سوداگر بولا۔
    اسلم گھر واپس آگیا۔ اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور یوسف کا انتظار کرنے لگا۔ یوسف دو دن بعد واپس آیا۔ وہ شہر سے ڈھیروں روپے کما کر لایا تھا۔
    ”دیکھیں بھائی جان! جتنے پیسے ہم تین مہینے میں کماتے تھے وہ میں نے تین دن میں کما لیے۔ میں اب ہر مہینے شہر جایا کروں گا اور ڈھیروں روپے کما کر لایا کروں گا۔” یوسف چہک کر بولا۔
    ”ہاں یوسف تم ٹھیک کہتے ہو، لیکن راستہ پُر خطر ہے۔” اسلم نے کہا۔
    ”ارے بھائی جان! آپ غم نہ کریں۔” یوسف نے تسلی دی۔
    اب وہ ہر مہینے شہر جاکر کپڑا فروخت کرتا۔ دونوں بھائی پہلے سے زیادہ کپڑا بُننے لگے ۔ رفتہ رفتہ انہوں اپنی گدھا گاڑی بھی خریدلی۔ ایک دن یوسف چارپائی پر لیٹا ہوا تھا کہ اسے خیال آیا:
    ”کپڑا بُننے کا سارا کام میں اور بھائی جان مل کرکرتے ہیں، لیکن شہر میں اکیلا جاتا ہوں۔ کپڑا فروخت کرنے کی ساری مشقت میں خود اُٹھاتا ہوں۔ میرا نفع بھائی جان کے نفع سے دوگنا ہونا چاہیے۔”
    یہ خیال آتے ہی اس نے کچھ حساب لگایا پھر آئندہ ہر بار شہر سے آتے ہوئے مال کے تین حصے کرنے لگا۔ ایک حصہ اپنے دوست کے پاس امانت رکھواتا اور باقی مال گھر لا کر بڑے بھائی کو دے دیتا۔ اسلم مال کو دونوں میں برابر تقسیم کردیتا۔
    بڑے بھائی اسلم نے منافع کم ہونے کی شکایت کی، تو یوسف نے شہر میں کپڑے کے نرخ گرنے کا بہانہ بنا کر ٹال دیا۔ اسلم سیدھا سادہ تھا، سو جلدی مان گیا۔
    کئی مہینے بیت گئے۔ یوسف کے دوست کے پاس اس کی بہت سی رقم جمع ہوچکی تھی جس کا اسلم کو علم نہیں تھا۔
    ایک دن اسلم، یوسف کے پاس ایک صندوق لے کر آیا جس کو تالا لگا ہوا تھا۔ یوسف نے یہ صندوق کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پہلے وہ حیران ہوا کہ اس میں ایسا کیا ہے جس کو بھائی نے تالا لگا رکھا ہے۔ ابھی وہ اسی سوچ و بچار میں تھا کہ اسلم نے چابی نکال کر تالا کھول دیا۔ اس کے اندر اشرفیوں کے ڈھیر تھے۔ یوسف کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اشرفیوں سے بھرا صندوق!!!
    اسی اثنا میں اسلم بولا: ”میرے پیارے بھائی یوسف! یہ اشرفیاں تمہاری امانت ہیں۔ ہم دونوں مل کر کام کرتے تھے لیکن تم میری نسبت زیادہ کام کرتے تھے۔ تم شہر جاتے تھے، محنت مشقت سے کپڑا فروخت کرتے تھے۔ اس لیے تم جتنا مال لاتے تھے، میں اس کے تین حصے کیا کرتا تھا۔ ایک حصہ تمہیں دیتا، ایک اپنے پاس رکھتا اور ایک حصہ تم سے چھپا کر تمہارے لیے رکھ دیتا۔ اب تمہاری شادی کا وقت ہے۔ تمہیں اپنے لیے گھر بنانا ہے، تو تم اِن پیسوں سے بنا لو۔ یہ لے لو، یہ تمہاری امانت ہیں۔”
    اسلم کے منہ سے یہ سب سن کر یوسف کا سر شرمندگی سے جھک گیا۔ وہ جلدی سے بھائی کے قدموں میں گر کر معافی مانگنے لگا۔ بڑے بھائی کے باقی احسانات کیا کم تھے کہ یہ اتنا بڑا احسان… اور خود اِس کی کم ظرفی… یوسف سوچنے لگا کہ میں اپنے محسن سے بدگمان ہوا۔ اس سے پیسے چھپاتا رہا۔ اسے لگا وہ اب کبھی بھی اپنے بڑے بھائی اسلم سے نظریں نہیں ملا سکے گا لیکن ساری بات کا علم ہونے کے بعد اسلم نے اپنے چھوٹے بھائی کو نا صرف معاف کردیا بلکہ دھوم دھام سے اس کی شادی بھی کی۔ آج بھی ہماری نسلیں اور ہمارے بچے اپنی نانی یا دادی سے یہ لوک کہانی سنتے ہیں تو سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ انسان کو واقعی اعلیٰ ظرف ہونا چاہیے۔
    ٭…٭…٭