مکمل آسمان — سیدہ فرحین جعفری

وہ اکثر اماں کو ہنستے ہوئے کہتے:
”خوش بختے،تیرے سر کا سائیں سلامت ہے تو تجھے کسی اور کے سہارے کی کیا ضرورت۔ میرے ہوتے تم کبھی کسی کی محتاج نہ ہو گی۔”
ان کی ہنسی میں کی گئی بات اس وقت تو میرے سر سے گزر جاتی، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہ اپنی اولاد کو سمجھنے میں غلط نہیں تھے۔ وقت کے ساتھ احساس ندامت نے دل میں کنڈلی مار لی تھی۔ ہم انسان وقت پر کیوں نہیں سمجھ پاتے؟
شہر جا کر پڑھائی کرنا مجھے کسی خواب سے کم نہیں لگتا تھا، لیکن اماں، ان کے دل کا کیا جو اپنے اکلوتے سپوت میں دھڑکتا تھا۔ ہر ماں کی طرح وہ بھی مرتے دم تک اپنے بیٹے کو سینے سے لگائے رکھنا چاہتی تھیں، لیکن میرا دل ، وہ تو شہر جانے کے خیال ہی سے خوشی کی لے پر تھرکنے لگا تھا۔ ماں کے دل کی حالت سمجھاہی نہیں۔
بابا نے نہ جانے اماں کو کیسے راضی کیا۔ میں یہ جاننا نہیں چاہتا تھا ،لیکن اللہ نے مجھے احساس دلانا تھا، اس لیے جانے سے ایک رات پہلے شدید پیاس کے احساس کے تحت اٹھا، تو کچھ دبی دبی سسکیوں نے میرے قدم روک لیے۔ وہ آواز تو میں لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا ۔ میری اماں رو رہی تھی، لیکن کیوں ؟ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں دروازے پر کھڑا ہو گیا۔




”بھلی مانس! جانے والوں کا راستہ نہیں روکا کرتے۔ آج اسے واسطے دے کر روک لے گی، لیکن یاد رکھنا، وہ دل سے کبھی یہاں رہ نہیں پائے گا ، باغی ہو جائے گا۔ پھر اسے جب موقع ملے گا وہ نکل جائے گا اور شاید پھر کبھی پلٹ کر بھی نہیں آئے گا۔”
بابا کی آواز سے لمحے بھر کے لیے میرا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا۔
”وہ شہر میں پڑھ کر بڑا آدمی بن جائے گا ، جو خواب ہمارے پورے نہ ہوئے وہ ہم اپنی اولاد کے پورے کر کے خوش ہو سکتے ہیں۔”
خواب ایک بار پھر میری آنکھوں میں چمکنے لگے۔ میں خود غرض ہو گیا تھا ، اچھے مستقبل کا خیال مجھے کچھ اور سوچنے ہی نہیں دیتا تھا۔ اماں کی بہت ساری دعائوں کے ساتھ میں شہر کے لیے روانہ ہوا۔ اماں نے گھر کے دروازے سے ہی آنسوئوں کے ساتھ مجھے رخصت کیا۔
”بھائی ارشد کے پتر کی طرح شہر جا کر اماں بابا کو بھول نہ جانا پتر۔”
اماں کی بات مجھے بہت ناگوار گزری تھی، لیکن وقت کی نزاکت دیکھتے ہوئے میں نے گلے لگا کر انہیں یاد رکھنے کی یقین دہانی کروائی۔ بابا مجھے اڈے تک چھوڑنے ساتھ چل دیے، وہیں اپنی زمین کے پاس بابا نے مجھے میری پہچان یاد دلانا ضروری سمجھا۔ شاید وہ مستقبل کے اندھیروں سے آگاہ تھے۔
”ہاشم پتر! یہ مٹی ہماری پہچان ہے۔ اپنی پہچان کبھی مت بھولنا کیوں کہ جو انسان اپنی پہچان بھول جاتا ہے، وہ خود کو بھی کھو دیتا ہے۔ میں نے بابا کے گلے لگ کے ان کے ایک ایک لفظ کی تائید کی اور روشن مستقبل کے حسین خواب آنکھوں میں سجائے شہر روانہ ہوگیا۔
٭…٭…٭
یہاں ایک نئی دنیا میری منتظر تھی۔ شہر آکر مجھے ایک دن بھی کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ بابا کی بہ دولت سخاوت انکل کے گھر رہائش اختیار کی جو بابا کے گہرے دوست تھے۔ وہ بھی ایک عرصہ پہلے گائوں چھوڑ کر شہر آکرآباد ہو گئے تھے۔ ایک پو ش علاقے میں عالی شان گھر ان کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ اللہ اللہ کرکے میرا کالج میں ایڈمیشن ہوا۔ کالج کیا تھا، ہم جیسے گائوں کے لوگوں کے لیے حیرت کدہ تھا۔ مجھے ایڈجسٹ ہونا مشکل لیکن دل چسپ لگا ۔ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا تو میں تھوڑا مصروف ہوگیا۔ میں پڑھائی میں اچھا تھا۔ میری کام یابی کا سفر شروع ہو گیا اور میں پلٹنا بھول گیا۔ کالج کے بعد یونیورسٹی مجھے میری منزل کی طرف لے جارہی تھی۔ ہر کام یابی پر اماں بابا کی طرف سے دعائوں کا سلسلہ بڑھتا گیا۔ مزید کام یابیاں میرے قدم چومنے لگیں۔ راہ میں مجھے کسی بھی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑا اور میری ان تھک محنت سے بالآخر میں نے وکالت کی ڈگری حاصل کرلی۔ مجھے یہی لگتا تھا کہ یہ سب میری محنت کا نتیجہ ہے۔
اماں بابا کے پاس پہلے دو ماہ ، پھرچھے ماہ اور پھر سال بعد چکر لگتا ۔ وہاں ایک دن بھی رکنا مجھے عذاب لگنے لگا تھا۔ اماں کے ہاتھ کے کھانے جو کبھی میری کم زوری ہوا کرتے تھے، ان سے مجھے تیل کی بو آنے لگی۔ مٹی کی خوش بو سے میرا سانس رکنے لگا۔ میں جتنے دن بھی گائوں رہتا، اماں بابا سے دور رہتا۔ جن گوبر بھرے ہا تھوں اور مٹی کی خوش بو سے مہکتے آنچل سے لپٹ کے میں بڑا ہوا تھا، مجھے ان سے بدبو آنے لگی تھی۔ میں پاگلوں کی طرح سارا دن خود پر برینڈڈ پرفیومز کے اسپرے کرتا رہتا۔ اماں مجھ سے بہت مرعوب رہتیں کہ میرا بیٹا شہری بابو بن گیا ہے ۔ ابا بہت سمجھ دار تھے۔ وہ شاید میرے رنگ ڈھنگ پہچان گئے تھے۔ وہ کبھی مجھے گائوں آنے پر مجبور نہیں کرتے تھے۔ میں ایک دن میں ہی وہاں سے کام کا بہانہ کر کے بھاگ آتا۔




Loading

Read Previous

کیمرہ فلٹرز — فریحہ واحد

Read Next

امربیل — قسط نمبر ۱۳

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!