سٹیفن کنگ ۔ شاہکار سے پہلے

اس بارے میں بات کرتے ہوئے سٹیفن کنگ نے ایک مرتبہ کہا :
”جب میں چھوٹا تھا تو سوچتا تھا کہ میں انہیں (اپنے باپ کو) ڈھونڈوں گا تا کہ میں ان کا سر پھاڑ سکوں۔ لیکن بعد جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو اکثر سوچتا کہ مجھے انہیں ڈھونڈنا چاہیے تا کہ ان کی طرف کی کہانی بھی جان سکوں، اور اس کے بعد ان کا سر پھاڑ دوں۔ کیوں کہ میرے نزدیک جو انہوں نے کیا، اس کی کوئی معافی نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک دن وہ اٹھے اور ہمیں چھوڑ گئے۔ وہ بہت قرضوں اور بلز کے جھنجھٹ میں چھوڑ گئے جنہیں چکانے کے لیے میری ماں کو بہت محنت کرنی پڑی اور جب میں نے خود شادی کی تو ہر طرح کی پریشانی دیکھنے کے بعد بھی میں نے کبھی الگ ہونے کے بارے میں نہیں سوچا۔ میں Tabitha(بیوی) کی طرف اور بچوں کی طرف دیکھتا اور سوچتا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، میں یہ شادی کبھی ختم نہیں کروں گا۔“
بچپن کی ہی ایک اور یاد جو تجزیہ نگاروں کی نظر میں سٹیفن کنگ کی کچھ زیادہ ثقیل کہانیوں میں جھانکتی ہے، وہ ان کے ایک دوست کی ٹرین حادثے میں موت ہے۔ ان کی فیملی بتاتی ہے کہ سٹیفن ابھی نو عمر ہی تھے کہ چند بچوں کے ساتھ باہر کھیلنے کے لیے نکلے۔کچھ دیر بعد جب واپس لوٹے تو شدید شاک کا شکار اور بالکل گم صم تھے۔ ان کی فیملی کے مطابق کافی دیر تک اس چھوٹے سے سٹیفن کنگ نے کسی سے بات بھی نہیں کی اور ایک دبیز خاموشی کی تہ میں بیٹھے رہے۔ گھر والوں نے شدید پریشانی کے عالم میں دوستوں سے پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ سٹیفن کا ایک دوست چلتی ٹرین کی زد میں آ کر مارا گیا ہے۔ اس حادثے کا سٹیفن کے ذہن پر اثر اتنا گہرا تھا کہ ان کے ذہن نے انہیں شاک سے بچانے کے لیے اس یاد سے بالکل بے گانہ کر دیا۔ اتنا کہ سولہ سال پہلے جب سٹیفن کنگ نے اپنی سوانح حیات لکھی تب بھی اس میں اس واقعے کا کہیں ذکر نہیں کیا۔
اس حساس اور ناراض بچے کی زندگی پر گہری چھاپ تب بھی پڑی جب ایک مرتبہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ گھر کے بالائی خانے کی تلاشی لیتے ہوئے دونوں بھائیوں کو کچھ ایسی چیزیں ملیں جو وہ تلاش نہیں کر رہے تھے۔ اپنے سمندری تاجر باپ کی پسندیدہ کتابوں کا ایک مجموعہ،لا تعداد کامک بکس، ایک ڈائری، اس کی لکھی کچھ آدھی ادھوری کہانیاں اور ایک ویڈیو ریل۔بھائیوں کے ہاتھ جیسے خزانہ لگا تھا۔ دونوں نے چپکے چپکے پیسے جمع کیے اور ایک پروجیکٹر کرائے پر لیا۔ غلطیاں کرتے کرتے آخر کار پروجیکٹر سیٹ کیا اور ویڈیو ریل لگائی اور اپنے باپ کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔ وہ جہاز کی ریلنگ سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اور کیمرے کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا رہا تھا۔ دونوں بھائی خاموشی سے یہ چھوٹی سی ویڈیو دیکھتے رہے۔ ویڈیو ختم ہوئی، دوبارہ ریوائنڈ کیا، اور پھر سے دیکھی۔ کافی دیر یہ ہوتا رہا۔
بالا خانے کے اس انبار سے ان دونوں کو H. P. Lovecraft کے افسانوں کا مجموعہ The Lurker in the Shadows ملا۔ بہ قول سٹیفن کنگ” اس کتاب کو پڑھتے ہوئے میں جان گیا تھا کہ اس دنیا میں مجھے اپنی جگہ مل گئی ہے۔“
اپنے باپ کے چھوڑے گئے کتابوں کے اس انبار میں تقریباً تمام کہانیاں ہارر اور مسٹری سے تعلق رکھتی تھیں اور ان کتابوں کو کھنگالتے دونوں بھائیوں کو ڈراﺅنی کہانیاں پڑھنے کا چسکا لگ گیا۔ سٹیفن کنگ نے اس ہی زمانے سے لکھنا بھی شروع کر دیا تھا۔ تب وہ ابھی بارہ سال کے ہی تھے۔ اسی سال انہیں اپنی ایک کہانی کے رد ہونے کی پہلی خبر ملی۔ یہ خبر پھر اگلے کئی سالوں تک بہت باقاعدگی سے اس ٹین ایجر لکھاری کو ملتی رہی۔ سٹیفن کنگ اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ
©”میں نے دیوار میں ایک کیل ٹھونک دی تھی اور اپنی کہانیاں رد ہونے کے نتیجے میں ملنے والے سارے خطوط میں اس کیل پر ٹانک دیتا۔دو سالوں میں ہی وہ کیل اتنا بھر گیا کہ پھر مجھے وہاں لوہے کا ایک بڑا کانٹا لگانا پڑ گیا۔“
کچھ سالوں بعد سٹیفن کے بڑے بھائی ڈیوڈ نے اپنا ایک چھوٹا سا اخبار نکالنا شروع کیا۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں! سٹیفن نے اس اخبار کے لیے باقاعدگی سے مضامین لکھنا شروع کیے، جو شائع بھی ہوئے۔ ان ہی دنوں انہوں نے اپنے دوستوں کے لیے یوں ہی مستی میں کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ تمام دوست بیٹھ کے وہ کہانیاں پڑھتے اور سٹیفن کے ہنر کی داد دیتے۔
ان سب باتوں سے اس ذہین و فطین لکھاری کے دماغ میں ایک شیطانی خیال آیا۔ یوں تو یہ خیال اکثر لکھاریوں کے ذہن میں آتا ہی رہتا ہے، لیکن سٹیفن نے اس سلسلے میں عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
اگلے چند دنوں میں انہوں نے گھر اور سینما میں دیکھی گئی فلموں کو اپنے الفاظ میں مختلف کہانیوں کی صورت میں ڈھالا اور سکول لا کر ہم جماعتوں کو یہ کہانیاں بیچنا شروع کر دیں۔ سٹیفن کے ہنر کے دل دادہ تو وہ سب تھے ہی، لہٰذا ہاتھوں ہاتھ ساری کہانیاں بک گئیں۔ یہ منافع بخش کاروبار ابھی اور بھی چلتا، لیکن کیا ہو بر ی قسمت کا کہ ٹیچر کو اس بزنس کی بھنک پڑ گئی۔ پھر کیا تھا، بے چارے مصنف کو تمام منافع واپس کرنا پڑ گیا۔
لیکن کہتے ہیں نا کہ قسمت ایک دروازہ بند کرے تو دوسرا ضرور کھولتی ہے۔ چربہ سازی سے توبہ کیے سٹیفن کو چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ انہیں خبر ملی کہ ان کی لکھی کہانیوں میں سے ایک “I Was a Teenage Grave Robber” ایک رسالے کی جانب سے اشاعت کے لیے منتخب کر لی گئی ہے۔ چار اقساط پر مبنی یہ ناول اگلے سال کچھ تبدیلیوں کے ساتھ ایک اور رسالے میں بھی شائع ہوا۔ یوں اس نوجوان مصنف کو کچھ حوصلہ ہوا۔

Loading

Read Previous

مایا اینجلو ۔ شاہکار سے پہلے

Read Next

ساغر صدیقی ۔ شاہکار سے پہلے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!