تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۰

”نہیں دیکھیں گے۔ وہ ٹی وی کہاں دیکھتے ہیں اور پھر وہ بھی کمرشل … کیا پتہ چلے گا انہیں؟”
”اگر ان کو پتہ چل گیا ثمر تو میں ان سے صاف کہہ دوں گی کہ مجھے کچھ پتہ نہیں اور اگر تم نے ان سے کہا کہ مجھے سب کچھ پتہ تھا تو …” ثانی نے اپنی بات ادھوری چھوڑی۔ ثمر نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا۔
”قسم سے میں ان سے یہ نہیں کہوں گا کہ تمہیں سب کچھ پتہ تھا … یہی کہوں گا کہ تمہیں کچھ پتا نہیں تھا۔”
اس سے پہلے کہ ثانی کچھ کہتی اس نے شہیر کو باہر آتے دیکھ لیا۔ ”شہیر بھائی آ رہے ہیں۔” اس نے یک دم ثمر کو خبردار کیا۔
وہ بالکل سیدھا ہو کر کھڑا ہو گیا۔ شہیر نے بھی دور سے ان لوگوں کو دیکھ لیا تھا۔ وہ سیدھا ان ہی کی طرف آیا تھا۔
ان دونوں کے پاس آ کر وہ کچھ دیر تک ان دونوں کو پلکیں جھپکائے بغیر گھورتا رہا’ ثمر اور ثانی دونوں اس سے نظریں چرا رہے تھے۔ خاموشی کچھ زیادہ طویل ہوئی تو بالآخر ثمر نے ہی اسے توڑنے کی ہمت کی۔
”ہم لوگ … ایسے ہی ہوٹل دیکھنے کے لیے … یہاں آ گئے تھے … ادھر سے گزر رہے تھے … ثانی نے فرمائش کی تھی۔
اس کی گفتگو کا آغاز خاصی بے ربطی سے ہوا تھا اور ثانی کے ساتھ ساتھ خود اس نے بھی یہ بے ربطی محسوس کی تھی۔
شہیر کی آنکھیں اب اس پر جمی ہوئی تھیں’ اس نے ثمر کی بات میں مداخلت نہیں کی۔ اسے بولنے دیا۔ ثمر کی ہمت میں کچھ اضافہ ہو گیا۔
”ہم دونوں اندر جا رہے تھے تو ان لوگوں سے ملاقات ہو گئی یہ میرے دوست کے والدین اور اس کی بہن ہے … ان کے گھر آنا جانا ہے میرا۔” وہ ایک لمحہ کے لیے رکا پھر اس نے کہا ”یہ خود بھی ماڈلنگ کرتی ہے اور مجھے بھی آفر کر چکی ہے۔” ہمیں ابھی دس منٹ ہی ہوئے ہوں گے یہاں آئے کہ آپ آ گئے … یقین کریں شہیر بھائی ہمارا پہلے سے یہاں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ورنہ شاید آپ کے ساتھ ہی آتے … یہ تو بس سڑک سے گزر رہے تھے تو اچانک خیال آ گیا۔”
شہیر اب بھی بالکل خاموشی کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ ثمر کو اس کی خاموشی نے کچھ پریشان کیا۔ اس کی توقع کے مطابق سوالات کرنا چاہیے تھے تاکہ وہ وضاحتیں دے سکتا۔ مگر شہیر نے کوئی سوالات نہیں کیے ثمر قدرے شرمندگی کے عالم میں خاموش ہو گیا۔
اس کے خاموش ہونے پر شیر نے ایک نظرثانی پر ڈالی اس کا رنگ اب بھی اڑا ہوا تھا۔




”یہ ٹھیک کہہ رہا ہے شہیر بھائی۔” اس نے ثمر کی بات کی تصدیق کی۔ شہیر نے ایک بار پھر ثمر کو دیکھا اور پُرسکون انداز میں کہا۔
”اپنا والٹ نکالو۔” پہلی بار صحیح معنوں میں ثمر کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔
”جی ! ” اس کے حلق میں آواز یک دم پھنس گئی۔
”اپنا والٹ نکالو۔” شہیر نے اسی انداز میں اپنی بات ایک بار پھر دہرائی۔ اس کا ہاتھ اب ثمر کی طرف بڑھا ہوا تھا۔
ثمر نے اپنی جینز کی ہپ پاکٹ سے والٹ نکال کر شہیر کی طرف بڑھا دیا۔ شہیر نے اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے والٹ پکڑا اور اسے کھول کر اندر موجود کرنسی نوٹ ایک جھٹکے سے باہر نکال لیے’ ثانی کی رنگت کچھ اور پھیکی پڑ گئی جبکہ ثمر کی آواز مکمل طور پر بند ہو گئی تھی۔ اس کے والٹ میں اس وقت چار پانچ ہزار روپے تھے اور شہیر ان نوٹوں کو اس کے سامنے کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
”یہ بھی دوست نے دیے ہوں گے؟۔” ثمر کچھ کہنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر شہیر نے ان نوٹوں کو گنا۔ انہیں دوبارہ والٹ میں ڈالتے ہوئے اس نے والٹ کی باقی چیزوں کو دیکھنا شروع کر دیا۔ ایک جیب میں موجود تمام وزیٹنگ کارڈز نکالتے ہوئے اس نے باری باری انہیں دیکھنا شروع کر دیا۔ چند سیکنڈز میں ذیشان اسد کا وزیٹنگ کارڈ اس کے سامنے تھا۔ تمام گفتگو میں پہلی بار اس کارڈ پر نظر ڈالتے ہوئے شہیر کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے۔ قدرے بے یقینی سے اس نے ثمر کو دیکھا جواب سرجھکائے کھڑا تھا۔ پھر کچھ کہے بغیر اس نے اس کارڈ کو بھی باقی کارڈز کے ساتھ والٹ کے اندر ڈالا اور والٹ ثمر کی طرف واپس بڑھا دیا۔
”تم گھر جاؤ … میں اور ثانی بعد میں آئیں گے۔” اس نے ثمر سے کہا۔
ثمر چند لمحوں تک کچھ کہنے کی کوشش کرتا رہا پھر چپ چاپ والٹ ہپ پاکٹ میں ڈالتے ہوئے تیز قدموں کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔ ثانی کے وہاں شہیر کے ساتھ رہ جانے کا مطلب کیا تھا’ وہ اچھی طرح جانتا تھا۔ وہاں سے گھر واپسی تک وہ مزید کوئی جھوٹ سوچے بغیر خود کو صرف بری طرح کوستا رہا۔
٭٭٭
”پاپا ! آپ کو کیسا لگا ثمر…۔ پی سی کے گیٹ سے باہر گاڑی نکلتے ہی نایاب نے بڑے پر جوش انداز میں ہارون کمال سے پوچھا۔ وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر تھی جبکہ شائستہ’ ہارون کے ساتھ اگلی سیٹ پر تھی۔ گاڑی ہارون ڈرائیور کر رہا تھا۔
ہارون نے بیک ویومرر سے نایاب کو دیکھا۔ ”کس چیز کے بارے میں میری رائے مانگ رہی ہو؟”
نایاب اس کے سوال پر کچھ حیران ہوئی۔
”ثمر کے بارے میں … پاپا!” وہ ہارون کے سوال کو سمجھے بغیر بولی۔
”ثمر کی کسی چیز کے بارے میں ؟” ہارون کمال کا انداز بے حد تیکھا تھا۔
شائستہ نے گردن موڑ کر ہارون کو دیکھا۔ وہ بے حد سنجیدہ نظر آ رہا تھا۔
”کس چیز کے بارے میں ؟” نایاب بے اختیار ہنسی ”پورے کے پورے ثمر کے بارے میں … پاپا … پورے ثمر کے بارے میں پوچھ رہی ہوں۔” ہارون کے انداز سے وہ جیسے محظوظ ہوئی تھی۔
”He is an average guy” (ایک اوسط درجے کا لڑکا ہے۔) ہارون کمال نے تبصرہ کیا۔
”پاپا! آپ انصاف سے نہیں کہہ رہے۔”
”نایاب نے بے یقینی سے بیک ویو مرر کے ہارون کمال کے چہرے کو دیکھا۔
”that is not fair papa ”
”اس جیسے لاکھوں لڑکے پھرتے ہیں اس دنیا میں۔”
”پاپا ! آپ نے اسے ماڈلنگ کرتے نہیں دیکھا ورنہ کبھی یہ بات نہ کہتے۔” نایاب نے ثمر کا دفاع کیا وہ ہارون کے رویے سے قدرے مایوس ہوئی تھی۔ ہارون نے نایاب کی بات کاٹ دی۔
”کیا ہے بھئی وہ … کیمرے کے سامنے ہاتھ پاؤں مار لینے سے کوئی دنیا کو اپنی انگلی پر نہیں اٹھا لیتا۔ مائنڈیو …”
نایاب نے حیرانی سے ایک بار پھر بیک ویومرر سے ہارون کو دیکھا۔ اسے … اس قسم کے تلخ تبصرے کی توقع نہیں تھی۔
”میں تو حیران ہوں کہ تم اس سے اس قدر متاثر کیے ہو گئیں۔” نایاب نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا پھر خاموش ہو گئی۔
”وہ … کیا نام تھا اس کے بھائی کا …؟ ہارون کمال نے شہیر کا نام یاد کرنے کی کوشش کی۔”
”شہیر ثوبان۔” شائستہ نے بے اختیار کہا۔
”ہاں … شہیر ثوبان … میں تو اس کی بات پر شاکڈ رہ گیا۔ باپ مر چکا ہے … ماں ٹیچر ہے … وہ بھی گورنمنٹ اسکول میں۔” ہارون کی آواز اور لہجے میں تحقیر تھی۔ ”کیا سوشل اسٹیٹس ہے ان لوگوں کا … جن سے تم متاثر ہوئی پھر رہی ہو۔”’
نایاب کے ماتھے پر بل ابھر رہے تھے۔
”اور تم … تم تو مجھ سے کہہ رہی تھیں کہ اس کا تعلق کسی اچھی فیملی سے ہے؟” ہارون کمال کو اچانک جیسے یاد آیا۔
”ہاں … میں نے کہا تھا … مجھے لگا تھا …” نایاب اس اچانک سوال پر گڑبڑائی پھر جیسے سنبھلی۔ ”اب جس طرح آپ پہلی ہی ملاقات میں فیملی کے بارے میں سوال کرنے بیٹھ گئے تھے … میں تو اس طرح اس سے نہیں پوچھ سکتی تھی۔” نایاب نے قدرے خفگی سے کہا۔
”پوچھنا چاہیے تھا۔” ہارون نے ایک بار پھر اس کی بات کاٹی۔ ”سب سے پہلے فیملی کے بارے میں پوچھنا چاہیے … اور وہ بھی پہلی ملاقت میں۔”
نایاب نے قدرے بے بسی سے کندھے اچکائے۔ ہارون کمال نے اپنی بات جاری رکھی۔ ”اور تم بار بار اس کی ماڈلنگ کی بات کر رہی ہو۔”
”مگر پاپا! مجھے اس کی فیملی سے کیا کنسرن ہے … میں تو ماڈلنگ کی تعریف کر رہی تھی۔ اس کی ماڈلنگ امپریسو ہے۔ آپ انکل ذیشان سے اس کے بارے میں پوچھیں۔”
”جو بھی ہو … تمہیں اس سے زیادہ بے تکلف نہیں ہونا چاہیے۔ ان فیملیز کے لڑکے اس طرح کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔” ہارون کمال کی سنجیدگی برقرار تھی۔
نایاب نے ایک بار پھر قدرے حیرانی سے بیک ویومرر میں سے ہارون کو دیکھا۔ ”کیسے مواقع پاپا؟ … اور کیا فائدہ ؟”
شائستہ کو ہارون کی بات سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی اور اس نے قدرے ناگواری سے ہارون کو دیکھا۔
”میں نہیں چاہتا کہ ثمر کے ساتھ تمہاری بے تکلفی میں اضافہ ہو … اسے خود سے فاصلے پر رکھو۔” ہارون کمال نے تنبیہی انداز میں کہا۔
”Now you are taking it too far Papa” (پاپا! آپ حد کر رہے ہیں) اس سے کیا بے تکلفی ہے میری … کام کر رہا ہے میرے ساتھ کمرشل میں … اور جس طرح باقی لوگوں سے بات کرتی ہوں اسی طرح اس کے ساتھ بھی کرتی ہوں … اور آپ … آپ بات کو کہاں سے کہاں لے جا رہے ہیں۔” نایاب نے ہلکی آواز میں غصے سے کہا۔
”غصے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے نایاب…” اس کی ناراضی نے ہارون کمال کے لہجے میں تبدیلی پیدا کر دی۔
”کیوں ضرورت نہیں ہے۔” نایاب اب ہارون کی بات سننے پر تیار نہیں تھی۔ ”آپ خود چھوٹی سی بات کو کہاں سے کہاں لے جا رہے ہیں…” اس کے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ میں پہلے تو ثمر کے بارے میں آپ کی رائے سے بالکل اتفاق نہیں کرتی۔ وہ بہت ڈیسنٹ لڑکا ہے۔ دوسرے لڑکوں کی طرح نہیں ہے۔ اور پھر کمرشل ختم ہوا … میری اس سے واقفیت بھی ختم ہو گئی… دوبارہ کسی کمرشل میں اگر اکٹھے کام کیا تو میں اس کے ساتھ Rude تو نہیں ہو سکتی۔”
اس ساری گفتگو میں شائستہ نے پہلی بار مداخلت کی۔ ”میرا خیال ہے اب اس بات کو یہیں ختم کر دینا چاہیے … تم جس طرح چاہو … ثمر سے ملو … ہارون تم کو کچھ نہیں کہیں گے۔”
”مگر ممی! ابھی آپ کے سامنے پاپا نے کہا ہے کہ …”
شائستہ نے نایاب کے احتجاج کو نظر انداز کرتے اس کو آگے بولنے سے روک دیا۔ ”جو کہا ہے اب اس کا ریفرنس دینے کی ضرورت نہیں ہے بہرحال ثمر کے ایشو کو اب ختم ہو جانا چاہیے … اتنا اچھا وقت گزارنے کے بعد اب اتنی معمولی سی بات پر اس طرح بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
شائستہ نے جیسے بات ختم کی۔ ہارون نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ وہ خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتا رہا۔ پچھلی سیٹ پر نایاب ہونٹ بھینچے غصے کے عالم میں گاڑی سے باہر دیکھتی رہی۔
٭٭٭




Loading

Read Previous

تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۹

Read Next

تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۱

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!