صدقہ جاریہ — قرسم فاطمہ

”پیارے بچے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو پھر وہ خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں ہو اسے اللہ ضرور لائے گا۔اللہ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔” ( لقمان:16 )
”میرے دادا کہا کرتے تھے،پُتر! اللہ کے گھر کسی چیز کی کمی نہیں۔ اس کے گھر دیر ضرور ہے مگر اندھیر نہیں اور میں جواب میں کہتا: ابو جی! کیا اللہ کا بھی کوئی گھر ہوتا ہے؟ دادا بے اختیار ہنسنے لگتے پھر کہتے: پُتر! یہ پوری کائنات اس سوہنے رب کا گھر ہی تو ہے۔ مگر میں نہیں سمجھتا تھا پھر جب سمجھنے لگا تو اللہ اپنے گھر سے میرا گھر بھی بھرتا گیا۔جب اللہ اپنے گھر سے عطا کررہا ہے، تو میرے بیٹے ہم کیوں رزق کی تگ و دو میں پریشان ہوتے ہیں؟” لقمان احمد نے مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے کو سمجھایا۔
”بابا جان! میں رزق کے لیے نہیں آپ کے لیے پریشان ہورہا ہوں۔اس عمر میں ایک بار پھر آپ محنت مزدوری میں لگ جائیں گے۔صرف اس لیے کہ میری خواہش پوری ہوجائے؟ نہیں،اب نہیں!” وہ اپنے باپ کے سامنے سر جھکائے بیٹھا انتہائی کمزور آواز میں کہہ رہا تھا۔ اس کے لہجے میں زمانوں کی تکان تھی۔
”بیٹے! اگر تم نہیں بھی چاہتے تو سمجھ لو تمہاری ماں کہہ رہی ہے۔اس کی خواہش تھی کہ تم لندن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرو۔تم اپنی ماں…”
”ایک تو ہر بات میں امی کو مت لایا کریں۔ میں جانتا ہوں اُن کی ایسی کوئی خواہش نہیں تھی اور اگر کوئی خواہش تھی تو وہ مرگئی۔” اس نے آخری لفظ کہتے ہوئے اپنے باپ کے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھا۔ وہ کرسی سے اُٹھ کر ستاروں سے ڈھکا آسمان تکنے لگا۔
”انسان مرجاتے ہیں، خواہشیں نہیں۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ پیسوں کا مسئلہ نہیں ہے بیٹے۔ میں نے ساری زندگی تمہارے لیے ہی محنت کی ہے، کیونکہ میں جانتا ہوں ایک دن تم میرے لیے صدقہ جاریہ بنو گے۔” بوڑھے باپ نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھ اسے تسلی دی۔
”بابا جان! آپ میرے لیے اور کیا کیا کریں گے۔اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ دو سال مزید آپ میرے لیے پیسے اکٹھے کرتے رہیں گے۔ اتنا بوجھ نہ ڈالیں میرے کندھوں پر۔ میں نہیں اتارسکوں گا۔کبھی بھی نہیں۔ آپ کی ایک دن کی محنت کا بھی نہیں۔” ایان احمد نے اپنے بوڑھے باپ کے ہاتھ تھامتے ہوئے سر جھکا لیا۔اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
”بیٹے! رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے جو چیز ہمیں انتہائی قریب سے بھی دکھائی نہیں دیتی،وہ اس کے لیے تو کبھی مخفی ہوتی ہی نہیں۔ پیسے کہاں سے آئیں گے؟ زمین سے، آسمان سے؟یہ سوچنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر رائی کے دانے کے برابر یا کسی پہاڑ کے برابر بھی رزق ہمارے لیے لکھا ہے نا تو وہ ہمارے تک پہنچ جائے گا۔ تم بس دعا کرو کہ جو ہمارے لیے لکھ دیا گیا ہے ہم اس تک پہنچ جائیں۔ اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پیسوں کی کمی کے باعث ترک کبھی مت کرنا۔” بوڑھے باپ نے حکیمانہ انداز میں ایان کو سمجھایا۔
”بابا جان! آپ …”وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر ہمیشہ کی طرح باپ کی گود میں چہرہ ڈھانپ کر خاموش ہوگیا۔ لقمان احمد نے مسکراتے ہوئے ایان کی پیشانی چومی اور اس کی نم آنکھیں صاف کرنے لگے۔
٭…٭…٭




اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا،برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آئے صبر کرنا کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے۔
(لقمان:17)
٭…٭…٭
جنوری کے مہینے میں لندن برف میں دب سا گیا تھا۔ شدید دھند نے تاریک آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔سیاہ روش پر سفید برف چمکنے کو تیار تھی۔سڑک پر اِکا دُکا لوگ نظر آرہے تھے۔
”یہ تم لوگ مجھے کہاں لے آئے ہو؟” گاڑی میں پانچ افراد بیٹھے تھے جن میں ایک مسلسل سوال کررہا تھا جبکہ باقی چار اُس پر ہنس رہے تھے۔
”آدھے گھنٹے سے بکواس کررہا ہوں، مجھے آدھی رات کو کہاں لے جارہے ہو؟ تم لوگ جانتے ہو میں…”
”اوئے فکر نہ کر تجھے زندہ ہی واپس لائیں گے۔” ڈرائیو کرنے والے لڑکے نے بریک لگاتے ہوئے کہا۔
بارہ بجنے میں چند منٹ باقی تھے جب دھند میں لپٹی سڑک پر بنے ریستوران کے قریب گاڑی روک دی گئی۔ وہ پانچوں ایک ساتھ ریستوران میں داخل ہوئے جہاں ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔رات کے اس پہر خاموش اندھیرے میں ایان کا دم گْھٹنے لگا۔اس نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ یکدم شور بلند ہوا۔
”ہیپی برتھ ڈے، ہیپی برتھ ڈے ایان۔” ایک ساتھ بے شمار آوازیں بلند ہوئیں۔ ڈانسنگ لائٹس سے ہال جگمگا اٹھا۔ تیز میوزک کے ساتھ جگمگ کرتی لائٹس اور ایک طرف سے اٹھتا ڈھیروں دھواں دیکھ کر ایان قدرے حیران ہوا۔اس کے تمام کلاس فیلو گول میز پر رکھے کیک کے گرد دائرہ بنائے کھڑے تھے۔
”اب کیا ایسے ہی حیران پریشان کھڑے رہو گے یا کیک بھی کاٹو گے؟”ثنا نے چٹکی بجاتے ہوئے ایان کو متوجہ کیا۔
”تھینک یو سو مچ۔تم لوگوں نے میرے لیے اتنا سب کیا۔” وہ قدرے بوکھلائے ہوئے انداز میں بولا۔
”اگر میں یہ بتادوں کہ اس چھوٹے بچے کو ہم یہاں کیسے لائے ہیں ،تو تم لوگوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہوجائے۔” ایان کیک کاٹنے ہی لگا تھا جب اس کے دوست کی بات سن کر سب قہقہے لگانے لگے۔تیز میوزک اور طنزیہ قہقہوں کی گونج میں اس نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کیک کاٹا۔وہ ان سب خرافات کا عادی کبھی بھی نہیں تھا، مگر اب اس کی مرضی سے کچھ بھی نہیں ہونا تھا۔
”یہ تمہارا پاکستان نہیں ہے اب تو بڑے ہوجاؤ ایان۔”
”یہ لندن ہے لندن! اور تم یہاں انجوائے کرنے آئے ہو۔اب تو ڈرنا چھوڑ دو یار۔” ایک ساتھ بے شمار آوازیں بلند ہوئیں جن کے لہجوں میں طنز و تمسخر تھا۔وہ خاموشی سے مسکراتا رہا۔جواب نہ اس کو دینا آتا تھا اور نہ وہ دینا چاہتا تھا۔لندن میں پچھلے ایک سال سے وہ ہر موقع پر یوں ہی غصہ ضبط کیا کرتا تھا مگر اب قوّتِ برداشت کا چپ کی زنجیروں سے آزاد ہونے کا وقت تھا۔
”یہ جوس لو ایان۔” باسط نے اس کے ہاتھ میں گلاس تھماتے ہوئے ثنا کے کان میں سرگوشی کی جس پر وہ قہقہہ لگانے لگی۔ ایان نے خاموشی سے گلاس تھام لیا جو اس کے لیے زہر ثابت ہوا۔
”یہ ۔یہ کیا ہے اس گلاس میں؟” ابھی گلاس سے اس کے لب چھوئے ہی تھے کہ وہ ٹھٹک گیا۔وہ اس بدبو سے واقف تھا۔
”یہ کیا گھٹیا حرکت ہے؟ تم جوس کے نام پر مجھے شراب پلا رہے ہو؟” وہ یکدم چیخنے لگا۔تیز میوزک کے باعث وہ بے حد بلند آواز میں باسط کا گریبان پکڑتے ہوئے غرّایا تھا۔
”ایان چھوڑ دے یار۔یہ صرف مذاق تھا۔ہم نے تمہیں بتا دینا تھا بس یہ چھوٹا سا مذاق تھا۔” اکبر ایان کے ہاتھ تھامتے ہوئے اسے سمجھانے لگا۔ دیارِ غیر میں اکبر اس کا واحد اچھا دوست تھا۔
”چھوٹا سا مذاق؟ مائی فٹ!” اس نے انتہائی غصے میں میز پر رکھا گلاس پوری قوت سے زمین پر دے مارا۔
”یہ تم لوگوں کے لیے مذاق ہوگا میرے لیے نہیں اور …اکبر! تم ۔تم بھی؟ تم جیسے گھٹیا انسان ایسی ہی گِری ہوئی حرکت کرسکتے ہیں۔” میوزک بند ہوچکا تھا۔ رات کے اس پہر بولنے والا اب صرف ایان احمد تھا۔
”ایک بات تم لوگ ہمیشہ یاد رکھنا میرا ایمان ابھی زندہ ہے۔تم لوگ چاہ کر بھی میرے اندر حرام نہیں اُنڈیل سکتے۔کبھی بھی نہیں ۔” اس کا چہرہ غصے سے لال ہوچکا تھا۔وہ ٹوٹے گلاس کو ٹھوکر مارتے ہوئے ریستوران سے باہر نکل آیا۔
”یان ۔ایان! میری بات سن یار۔” اکبر اس کے پیچھے بھاگا، مگر اب اُسے کسی کی پروا نہیں تھی۔ وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔دور بہت دور۔
موسم شدید بگڑ چکا تھا۔ بارش بھی ایان کے آنسوؤں کے مانند برستی ہی جاری تھی۔جب ساتھ کوئی رونے والا نہ تھا تو بارش نے اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔وہ مسلسل چلنے کے باعث تھک چکا تھا۔کتنا وقت گزر چکا تھا اور دن نکلنے میں کتنا وقت تھا اسے کچھ معلوم نہ تھا۔وہ کہاں پہنچ چکا تھا اور یہاں سے واپس کیسے جانا تھا وہ اس سوچ سے بھی بے پروا تھا۔ طویل مسافت کے بعد وہ ایک دکان کے باہر برآمدے کے نیچے فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔
٭…٭…٭
”بابا جان! میں نے آپ سے کتنا کہا تھا مجھے صنم کدوں کے اس جہاں میں نہ بھیجیں۔ میں یہاں روز مرتا ہوں۔ ہر صبح،ہر شام،ہر رات۔ میں اتنے عرصے میں بھی ان لوگوں جیسا نہیں بن پایا، مگر میں پھر بھی مطمئن ہوں۔” وہ ہاتھ میں کاغذ تھامے خود کلامی کرنے لگا۔کاغذ پر لکھی قرآنی آیات پر نظریں جمائے وہ کہیں کھو گیا۔ماضی سایہ بن کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا۔
”مگر بابا یہ تو قرآن پاک کی آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔آپ تو کہہ رہے تھے آپ نے میرے لیے نصیحتیں لکھی ہیں۔” وہ بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے باپ سے سوالیہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔کل کی فلائٹ سے وہ لندن جانے کی تیاری مکمل کرچکا تھا۔
”یہ آیات میں نے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیے لکھی ہیں۔ مجھے یقین ہے اگر تم ان نصیحتوں پر عمل کرو گے تو ہمیشہ راہِ راست پر رہو گے میرے بچے۔ مجھ سے دور تو جارہے ہو، مگر اس صفحے کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا۔ اسے روز دیکھنا۔ بلاناغہ پڑھنا پھر دیکھنا تم خودبخود ان پر عمل بھی کرنے لگو گے۔” ماسٹر لقمان اداس تھے مگر پھر بھی مسکرانے لگے۔
”تمام والدین کو اپنی اولاد کی تربیت کرتے وقت حکیم لقمان کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی یہ نصیحتیں یاد رکھنی چاہئیں پھر تربیت کرنا کافی آسان ہوجائے گا۔”
”جی جی بابا جان! آپ کی ساری باتیں میں ویسے بھی یاد رکھوں گا اور یہ آیات بھی ۔ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا۔” ایان نے عادتاً باپ کے دونوں ہاتھ تھام کر مان رکھ لیا۔ماضی بادلوں کے سنگ بہہ گیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی۔
”آج آپ کو ایک راز کی بات بتاتا ہوں۔آپ کی ساری حکمتیں اور نصیحتیں تو ایک طرف مگر آپ کے ہاتھ سے لکھی قرآن کی یہ چند آیات ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہیں۔آج بھی میں ان کی برکت سے بچ گیا۔” وہ ہلکا سا مسکرایا۔
”آپ نے میرے اندر حلال رزق اور ایمان کی تپش کو ایسے بھر دیا ہے کہ میں ہمیشہ بھٹکنے سے پہلے ہی بچالیا جاتا ہوں، مگر بابا جان! اب میں تھکنے لگا ہوں۔اپنے نفس اور خواہشات کو دفن کرکے دوسروں کو راہِ راست پر لانے کی کوششیں کرتے کرتے تھک گیا ہوں۔ کوئی میری مانتا ہی نہیں۔ سب ہنستے ہیں مجھ پر ۔ پھر میں بھی سب کے سامنے ہنسنے لگتا ہوں۔”بارش قدرے تھم چکی تھی،ایان کے آنسوؤں کی طرح۔
”مگر بابا۔ آج میرا ضبط ٹوٹ گیا۔میں یہ سوچ سوچ کر کانپ رہا ہوں کہ اگر میں وہ گلاس پی لیتا تو جہنم کے کس گڑھے میں گرتا، لیکن میں یہ سوچ کر مزید کانپنے لگتا ہوں کہ کسی بیرونی قوت نے مجھے گناہ کرنے سے روک لیااور پھر جواب بھی فوراً مل گیا۔ آپ کی دعاؤں سے۔ وہ دعائیں جو میری ہر منزل کا راستہ آسان کردیتی ہیں۔”ایان دنیا سے بے پرواہ کاغذ تھامے اپنی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا جب فجر کی پکار بلند ہوئی۔آواز بے حد مدھم قدرے دور سے آرہی تھی۔پکار جس قدر مدھم تھی پکارنے والا اتنا ہی قریب تھا۔
”میرے لیے یہ دعا بھی کیا کریں بابا جان کہ میرا دل بے شک مرجائے بس ضمیر نہ مرے۔دل مرتا ہے تو صرف انسان ہی مرتا ہے ۔ضمیر مرجائے تو انسانیت مرجاتی ہے۔” وہ فٹ پاتھ سے اٹھا تو اس کے جوتے اور جیکٹ برف سے بھر چکے تھے۔وہ مسکرانے لگا۔دل کا بوجھ کم ہوا، تو مسجد کی تلاش میں وہ ایک بار پھر چلنے لگا۔
”اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر یقینا آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھے کی ہے۔”(لقمان:19)
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

چنگیزی ہاؤس — ایم زیڈ شیخ

Read Next

نالائق — نورالسعد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!