رنگ ریز — قرۃ العین خرم ہاشمی

” بھائی یہ لال رنگ کا ڈوپٹہ رنگ دو گے !” ایک عورت نے مصروف سے انداز میں کہتے ہوئے اپنے ہاتھ میں پکڑا ڈوپٹہ آگے بڑھایا تھا ۔ شالا رنگ والا خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا ۔
” میرا دامن تو پہلے ہی کسی کے خون سے رنگ چکا ہے ! میں اب کیا کوئی اور رنگ ، رنگوں گا !جاو بی بی ! کسی اور سے پوچھ لو!”
شالا رنگ والے نے بے زاری سے کہتے ہوئے ، اپنی جگہ سے اٹھا تھا ۔ اس عورت نے کافی دیر منت سماجت کی مگر شالا رنگ والا نہیں مانا ۔ وہ عورت مایوس ہو کر وہاں سے پلٹ گئی ۔




” شالا بھائی ! سنبھالو خود کو !اس میں تمہارا کیا قصور !” جمیل احمد نے ہمدردی سے کہا ۔ شالا رنگ والا سر جھکا کر رہ گیا ۔ اس دن جمیل احمد وہاں سے واپس آتے ہوئے بہت اداس تھا ۔ پھر یہ اداسی کئی دن اس کے ساتھ ساتھ رہی ۔ اس کے کام کو ضرورت سے زیادہ پسند کیا گیا پندرہ دن بعد جمیل احمد ، پرانی گلی آیا مگر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا ۔ پچھلے گزرے کئی سالوں میں آج پہلی بار ، اس نے شالا رنگ والے کو اس کی جگہ پر بیٹھے ہو ئے نہیں دیکھا تھا ۔ جمیل احمد نے چائے کے کھوکے پہ بیٹھے بابا جی سے پوچھا ، تو وہ گہری سانس لے کر رہ گئے ۔
” بس بیٹا ! کیا کہوں ۔۔! کشتی کے ڈوبنے کے لئے ایک چھوٹا سا سوراخ ، اور انسان کے تباہ ہونے کے لئے ہی اس کا بڑا بول بہت ہوتا ہے !”
” کیا مطلب بابا جی میں سمجھا نہیں !” جمیل احمد نے حیرت سے سوال کیا ۔
” بیٹا سمجھ تو اب وہ نہیں رہا ہے ! کہتا ہے کہ
” میرا دعوی تھا کہ ایسا کونسا رنگ ہے جو میں نہیں رنگ سکتا ہوں !کوئی ایسا رنگ بتا دے ، میں رنگنا ہی چھوڑ دوں گا ! اور اس نے چھوڑ دیا!بہت سمجھایا ہے سب نے اس نمانے کو مگر جس طرح رنگوں میں پکا تھا ، ضد کا بھی پکا نکلا ہے ! نہیں مانتا !’
جمیل احمد نے باباجی سے اس کے گھر کا پتا پوچھا اور ڈھونڈتا ہوا بالاخر اس کے گھر پہنچ ہی گیا ۔شکر تھا کہ شالا رنگ والا گھر پہ ہی موجود تھا ۔ دروازے پر جب اس نے اپنا نام بتایا تو فورا ہی کھل گیا ۔ دروازہ ایک کمزور اور پریشان حال جوان عورت نے کھولا ، جو اس کی گھر والی تھی ، اس کی گود میں دو سال کا بچہ بھی تھا ۔ اس نے سلام کرتے ہوئے ، اسے اندر آنے کا اشارہ کیا ۔جمیل احمد نے چھوٹے سے صحن میں قدم رکھا تو ایک نظر میں ہی ، گھر کے مکینوں کا حال اس کے سامنے عیاں ہو گیا تھا ۔
شالا رنگ والے کا گھر ویسا ہی تھا ، جیسے غریب لوگوں کا ہوتا ہے ۔ چھوٹے سے مکان کی ہر چیز سے غربت ٹپک رہی تھی ۔شالا رنگ والا،نیم تاریک چھوٹے سے کمرے میں چارپائی پہ لیٹا، آنکھوں پہ بازو رکھے ، کسی سوچ میں گم تھا ، کیوں کہ اس کے مسلسل ہلتے پاوں بتا رہے تھے کہ وہ سویا ہوا نہیں ہے ۔ جمیل احمد کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھااو ر گرم جوشی سے اسے گلے سے لگا لیا ۔
” مایوسی کے اندھیرے میں کسی ہمدرد کا نظر آنا ، اندھیرے میں چمکتے جگنو کی طرح لگتا ہے نا!” شالا رنگ والے نے اداسی سے مسکراتے ہوئے کہا ۔ اس کا چہرہ بہت اترا ہوا تھا اور آنکھوں میں رت جگوں کی لالی تھی ۔ شالارنگ والے نے اسے پاس رکھی پرانی سی کرسی پہ بٹھایا اور کمرے کے دروازے پہ کھڑا ہو کر آواز لگائی ۔ اپنی بیوی کو جلدی سے اچھی سی چائے بنا نے کا کہہ وہ اس کی طرف متوجہ ہوا ۔
” شالا بھائی ! کسی تکلف کی ضرورت نہیں ہے ! میں تم سے ملنے پرانی گلی گیا تو پتا چلا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔!”




جمیل احمد کو سمجھ نہیں آیا کہ آگے کیا کہے ۔ شالا رنگ والا سمجھ کر سر ہلانے لگا ۔
” مجھے آپ کے آنے کا یقین تھا !اسی لئے روز انتظار کرتا تھا ۔”شالا رنگ والا اس کے سامنے زمین پر بچھی میلی سی دری پہ بیٹھ گیا ۔
”لگتا ہے کہ تم نے اس دن والے واقعے کودل سے لگا لیا ہے !بھول جاو اس بات کو میرے بھائی !زندگی اور موت ہمارے اختیار میں نہیں ہے ! اس کا دینے والا اور لینے والا کوئی اور ہے !”جمیل احمد نے اسے سمجھایا تھا ۔ اسی وقت اس کی بیوی ڈوپٹے کا گھونگھٹ نکالے ، سلام کرتی ہوئی اندر چلی آئی ۔
” آپ کے بارے میں بہت سنا ہے جمیل بھائی ! یہ آپ کو بہت مانتے ہیں ! مہربانی فرما کر ، انھیں سمجھائیں ! یوں سب چھوڑ چھاڑ کر گھر بیٹھ گئے ہیں ۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے تین بچے ہیں ۔ یہ کمائیں گے نہیں تو ہم مہنگائی کے اس طوفان کا سامنا کیسے کریں گے !”
اس کی بیوی نے بے چارگی سے کہا اور جمیل نے اسے تسلی دی اور اس کی یقین دہانی کروانے پر ، دعائیں دیتی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔
” شالا بھائی ! تم سمجھدار ہو پھر بھی !”
جمیل احمد نے تاسف سے اس کے جھکے سر کو دیکھا تھا ۔شالا رنگ والے نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔
”آپ تو جانتے ہیں ناجمیل بھائی ۔۔!مجھے اپنے کام ، اپنے ہنر پر کتنا مان تھا ! اتنے سالوں میں آج تک کوئی مجھے چیلینج نہیں کر سکا ، کوئی میرے مقابل نہیں آ سکا ۔۔! سب کہتے تھے کہ شالا رنگ والے ،جیسا رنگریز ، اس پورے شہر میں کوئی نہیں ہے ! عورتیں میرے پاس کئی کئی سالوں سے ، اور پورے یقین کے ساتھ آتی تھیں۔۔! اگر میںعاجزی کی نظر سے دیکھتا ، تو یہ اس رب کی دی ہوئی عزت تھی مگر میں نے کیا کیا؟
میں نے تکبر کی سیڑھی پر قدم رکھ کر ، کاملیت کا دعوی کر دیا ۔۔! کہ کوئی ہے جو مجھے ہارا سکے ، میرے دعوے کو غلط قرار دے سکے ۔۔!
میں تو رنگوں میں کھیلتا ہوں ، سانس لیتا ہوں ، بھلا ایسا کونسا رنگ ہے جو میں آج تک نہیں رنگ سکا تھا۔۔ ۔۔!
مگر پھر کیا ہوا؟
میرا دعوی ، ٹوٹا بھی تو کیسے ۔۔! ایک غریب ، بے سہارا ،بھوک سے بلکتی عورت کی وجہ سے ۔۔۔!
اس نے کہا تھا کہ ” شالا رنگ والے کا چہرہ آنسوں سے تر تھا ، اس نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہنا شروع کیا ، جیسے اس دن کا منظر نگاہوں کے سامنے آکر پھر سے زندہ ہو گیا ہو ۔
” جسکے بول اتنے کڑوے ہوں ، اس کے رنگ بھلا کیسے سچے ہوں گے ۔۔۔۔!اتنے رنگوں کو رنگتا ہے ، کاش کبھی انسانیت کا رنگ بھی دیکھا ہوتا ۔۔۔۔۔!”شالا رنگ والا اپنے حال میں لوٹ کر ایک دم ہی ڈھاریں مار مار کر رونے لگا ۔
”ساری زندگی رنگوں کو جاننے اور پرکھنے والا ، دنیا کا سب سے بڑا اور گہرا رنگ ، جو احساس اور ہمدردی سے بن کر انسانیت میں ڈھلتا ہے ، اسے کیسے بھول گیا ۔۔۔۔۔!
میں اپنے مان میں کیسے چوک گیا ۔۔۔!میں بھلا کیسے دوبارہ کسی رنگ کو رنگ سکتا ہوں ؟ میرے سارے رنگ ” بے حسی” کے رنگ میں مل کر گم ہو چکے ہیں ! اب میرے اندر صرف پچھتاوے اور ندامت کی تیز بارش ہے ! اور کوئی بھلا بارش میں بھی رنگتا ہے !”




Loading

Read Previous

عکس — قسط نمبر ۱۵

Read Next

میں نے پالے طوطے چار

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!