دانہ پانی — قسط نمبر ۸

”پتر! تو نے ماں باپ سے ملنے نہیں آنا؟ بیٹے کو دیکھنے نہیں آنا؟” یہ چوہدری شجاع تھا جس نے چھے ماہ گزرنے کے بعد بھی مراد کے نہ آنے پر اُسے فون پر پوچھا تھا۔
”ابّا جی! چھٹی نہیں ملتی۔”مراد نے جواباً اُسے کہا تھا۔
” تو چوہدریوں کا پتر ہے، انگریزوں کا نوکر تھوڑی ہے کہ چھٹی نہیں ملتی۔ چھوڑدے ایسی نوکری جس میں تجھے ماںباپ سے ملنے اور اولاد کو دیکھنے کے لئے بھی چھٹی نہ ملے۔”
چوہدری شجاع کو غصّہ آگیا تھا۔
” ایسا نہیں ہوتا یہاں پر ابّا جی! یہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر تاؤ کھاکر نوکریاں نہیں چھوڑسکتے۔” مراد نے ٹھنڈے لہجے میں باپ سے کہا تھا۔
” پر میں آؤں گا، چکر لگاؤں گا۔ نہ آسکا تو پھر آپ لوگوں کو بلالوں گا۔” مراد نے ساتھ باپ کو تسلی بھی دی تھی۔
” ہم نے کیا کرنا ہے وہاں آکے پتر؟ تیرا یہاں آنا ضروری ہے۔ تجھے گاؤں یاد نہیں آتا؟”
مراد کے دل میں ایک ہوک سی اُٹھی تھی۔ گاؤں کی یاد کو دفن کرکے ہی تو وہ زندہ تھا ورنہ اُس کا پورا وجود پھوڑا بن گیا تھا اُن یادوں کے درمیان۔
”ابّا جی! گاؤں کی بات نہ کریں۔ اپنی بات کریں۔آپ ٹھیک ہیں؟”
مراد نے بات بدلی تھی۔
”ہاں! میں ٹھیک ہوں۔ وہ گامو مرگیا۔”
پتہ نہیں خیالوں کی وہ کون سی رو تھی جس میں بہہ کے چوہدری شجاع نے اُسے یہ خبر دی تھی اور اُسے یہ خبر دے کر جیسے وہ پچھتایا تھا۔
دوسری طرف فون پر مراد کے سانس کی آواز بھی نہیں تھی۔ چوہدری شجاع کو لگا فون بند ہوگیا تھا۔
” ہیلو پتر! تو سن رہاہے نا؟”
”ہاں!” دوسری طرف سے مراد نے ایک گہرا سانس لیا تھا۔
” کیسے؟”
اُس کی آواز میں ایک عجیب سی اُداسی تھی۔ اُس نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ کون گامو۔ گامو کو سارا گاؤں پہچانتا تھا اور مراد تو گامو کو زندگی کے آخری لمحے تک نہیں بھلا سکتا تھا۔
” کنویں سے لاش ملی ہے۔”
چوہدری شجاع نے مدھم آواز میں کہا تھا۔ مراد ایک بار پھر گونگا ہوگیا تھا۔ ایک بار پھر اُس کے پاس سارے سوال ختم ہوگئے تھے۔ کنویں سے لاش کیسے مل سکتی تھی۔ اُس میٹھے پانی میں گامو کے لئے موت کیسے ہوسکتی تھی جو اُس کے ہاتھ سے پورے گاؤں کی پیاس بجھاتا تھا۔ مراد وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا جو سچ تھا اورہوچکا تھا اور جو سچ تھا وہ اُس وقت اُس کے ہوش اُڑارہا تھا ۔اُس نے فون بند کردیا تھا۔ ایک لفظ بھی اور کہے بغیر۔ یادوں کے جھکڑ چلنے لگے تھے اور ان جھکڑوں میں مشک اُٹھائے گامو کے ساتھ ساتھ موتیا کا چہرہ بھی چمک رہا تھا۔
” لوگ کہتے ہیں حادثہ ہے، شاید پانی نکالتے ہوئے۔۔۔”
چوہدری شجاع نے آخری جملہ کہتے کہتے ادھورا چھوڑدیا تھا اور وہ جملہ اب اُس کے کانوں میں گونج رہا تھا۔ و ہ اپنے باپ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اُس کے گھر میں کیا اب موتیا تھی؟ اور وہ وہاں نہیں تھی تو کہاں تھی؟ موتیا کی خوشبو اُس کے اردگرد چاروں طرف پھیلنے لگی تھی۔ یوں جیسے وہ کسی دُھند اور کہر میں گِھرگیا تھا۔
…٭…

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

موتیا ہوش و حوا س میں نہیں تھی مگر وہ پھر بھی اس گھر میں ان دولوگوں کے وجود سے باخبر تھی۔ ایک اللہ وسائی جو دن رات سائے کی طرح اُس کے آس پاس گھومتی رہتی، اُسے کھانا کھلاتی، نہلاتی دھلاتی، اُس کے بال بناتی، اُسے بچپن کی طرح ایک بار پھر سے لوریاں گا گاکر سُناتی اور دوسرا گامو جسے کئی بار رات کو آنکھ کھلنے پر وہ اپنے سرہانے بیٹھا دیکھتی۔ وہ ٹکٹکی لگائے اُسے دیکھ رہا ہوتا یا اُس کے ماتھے کو سہلارہا ہوتا۔ موتیا کو اُس گھر میں گامو کے وجود کا احساس اور پہچان تھی ، بس یہ احساس نہیں تھا کہ وہ اُس کا کون تھا اور اب جب وہ نہیں تھا تو وہ اُسے غیر محسوس طور پر ڈھونڈتی پھرتی تھی۔ اُس نے گامو کا آخری دیدار کیا تھا پر وہ اُس وقت وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اُن سے خوفزدہ ہوگئی تھی اور اللہ وسائی شوہر کی آخری رسومات چھوڑ کر اُس کو لئے اندر کمرے میں آکر بیٹھ گئی تھی۔ وہ جانتی تھی گامو زندہ ہوتا یا اب بھی بول سکتا تو اُسے یہی کرنے کو کہتا۔
وہ گھر جو گامو،موتیا اور اللہ وسائی کا کہلاتاتھا اب صرف اللہ وسائی اور موتیا کا رہ گیا تھا۔ پہلے بھی سنسان اور ویران لگتا تھا، اب اور بھی سنسان اور ویران ہوگیا تھا۔
…٭…
جھوک جیون نے جیسا سوکھا اُس سال دیکھا تھا، پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ بارش وہاں پہلے دو تین سالوں سے نہیں ہورہی تھی مگر اس سال گرمی اتنی بڑھی تھی کہ اُس نے جیسے زمین کا پانی بھی چوسنا شروع کردیا تھا۔ نہر سے آبپاشی کے لئے آنے والا پانی کھیتوں اور کھلیانوں کو سیراب کرنے کے لئے پہنچتے پہنچتے کھلوں میں ہی اُڑجاتا۔ جھوک جیون کی زمین یکدم ہی بنجر ہونے لگی تھی۔ کھلوں سے آنے والا پانی پی کر بھی اُس کی پیاس نہیں مٹتی تھی۔
سرسبز کھیت آہستہ آہستہ سمٹنے اور سوکھنے لگے تھے اور گاؤں والوں میں ساتھ ہی سراسیمگی اور پریشانی بھی بڑھنے لگی تھی۔ اس گاؤں میں ایسا سوکھا ایک بار تب پڑا تھا جب تاجور ابھی بیاہ کر نہیں آئی تھی اور جب اللہ وسائی کی گود ابھی ہری نہیں ہوئی تھی اور اب ڈھائی دہائیوں بعد وہ سوکھا اور خشک سالی ایسے لوٹی تھی جیسے سیلاب کا پانی۔ لوگوں کے جانوروں میں بیماری پڑنے لگی تھی اور وہ مرنے لگے تھے۔ گاؤں کے کنویں کا پانی آہستہ آہستہ نیچے جارہا تھا اور اب نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا اور جب چوہدری شجاع ہر جگہ سے بارش کے لئے دعائیں کروا کروا کر تھک گیا تھا تو وہ پیر ابراہیم کے پاس بھی گیا تھا جنہوں نے ہمیشہ کی طرح چوہدری شجاع اور تاجور کے کہنے پر ہاتھ اُٹھا کر دُعا کی تھی اور دُعا کرتے کرتے انہوں نے چوہدری شجاع سے پوچھا تھا:
” گاؤں میں آخری مرنے والا کون تھا؟”
اُن کا لہجہ بے حد عجیب تھا۔ وہ دونوں ہاتھوں کو دعا والے اندازمیں کئے ہوئے اُن سے چہرہ ڈھکے ہوئے پوچھ رہے تھے۔ چوہدری شجاع نے ایک لمحہ کے توقف کے بعد کہا:
” گامو!”
پیر ابراہیم نے اپنے چہرے کے سامنے سے ہاتھ ہٹادیئے۔ اُن کا چہرہ زرد ہورہا تھا۔وہ کچھ دیر چوہدری شجاع کا چہرہ دیکھتے رہے جو انہیں گامو کی موت کی تفصیل بتارہا تھا۔ جب وہ خاموش ہوا تو پیرابراہیم نے کہا:
”استغفار کرو تم بھی، تاجور بھی، گاؤں والے بھی۔ ابھی بہت ساری بلائیں اور آفتیں آئیں گی تم لوگوں کی بستی پر۔ توبہ استغفار کرو۔ تمہار ی بستی سے جو نیک آدمی گیا ہے، وہ ناراض ہوکر گیا ہے۔ اُس کی بیوی اور بیٹی کے دروازے پر جاؤ، اُن سے معافی مانگو۔ اُن کا خیال رکھو، ورنہ بستی اُجڑ جائے گی۔”
وہ عجیب سے اندازمیں کہہ رہے تھے اور اُن کا جسم لرز رہا تھا۔ چوہدری شجاع کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔
”آپ دعا کریں نا، اس ہی لئے آیا ہوں آپ کے پاس۔”
‘ ‘دعا کی نہیں توبہ کی ضرورت ہے تم لوگوں کو۔ صدقہ خیرات جو کرسکتے ہو کرو۔ جو اناج رکھا ہے، بانٹ دو غریبوں میں۔ شاید کوئی عمل روک لے آنے والی تباہی کو۔”
پیر ابراہیم کے اب آنسو گرنے لگے تھے اور چوہدری شجاع کا دل ڈوبنے لگا تھا۔
تاجور سے چوہدری شجاع نے سب کچھ اُس ہی طرح دہرایا تھا جس طرح پیر ابراہیم نے بتایا تھا۔ وہ نہ لرزی تھی ، نہ کانپی تھی اور نہ اُس پر کوئی دہشت سوار ہوئی تھی۔
” باباجان کو ساری عمر کمّی کمین ہی نیک لگتے ہیں۔ اُن کو وہ اپنی اولادوں سے بھی بڑھ کر محترم ہوجاتے ہیں۔ آپ فکر نہ کریں کچھ نہیں ہوگا۔ گامو کوئی فرشتہ نہیں تھا ، نہ ولی، نہ کوئی پیر۔سوکھا پہلے بھی پڑتا رہا ہے اس گاؤں میں۔ اس دفعہ پھر پڑ گیا تو کیا ہوا۔ ان شا ء اللہ تعالیٰ ہوجائے گی بارش۔ میری ماں سیّدانی تھیں اور جہاں سیّدوں کی بیٹیاں آباد ہوں،وہاںدانہ پانی ختم نہیں ہوتا۔ دیکھ لینا کچھ نہیں ہوگا۔”
تاجور نے پیر ابراہیم کی اُن باتوں اور ہدایات کے جواب میں شوہر سے بڑی نخوت اور لاپرواہی سے یہ سب کچھ کہا تھا ۔ اُسے لگا باپ ایک بار پھر خوامخواہ میں ہی انہیں موتیا کے حوالے سے شرمسار کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ چوہدری شجاع اُس کی باتوں پر مطمئن نہیں ہواتھا۔ اُس کا دل ابھی بھی خوفزدہ تھا پر تاجور کی دلیری نے جیسے اسے بھی کچھ ہمت دے دی تھی۔
”ہاں! ٹھیک تو کہتی تھی۔ سوکھا پہلے بھی پڑچکا ہے یہاں اور پھر ختم بھی ہوگیا تھا تو پھر اس بار کون سی انہونی ہوجائے گی۔ ”
چوہدری شجاع نے جیسے اپنے آپ کو تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔
” سب کچھ غریبوں میں بانٹ دیا اور سوکھا لمبا کھنچ گیا تو پھر ہم کیا کریں گے؟”
چوہدری شجاع نے سوچا تھا اور پھر پیر ابراہیم کی باتوں کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
”ہاں توبہ ضرور کرلیتا ہوں۔ تسبیح کرلیا کروں گا۔ مولوی صاحب سے بھی کہہ دو ں گا کہ گاؤں والوں سے استغفار کروائیں اور جمعے کے خطبے میں بھی توبہ پر بات کریں۔ باقی اللہ مالک ہے۔”
وہ جیسے خود ہی مطمئن ہوگیا تھا۔
…٭…
جھوک جیون میں پڑتے ہوئے سوکھے کے درمیان بتول کی گود ایک بار پھر ہری ہوئی تھی۔ وہ سعید کے ساتھ گاؤں میں دو مہینے کے لئے رہنے آئی تھی اور اس بار اس خوشخبری کے ملتے ہی اُس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ بچے کی پیدائش سے پہلے موتیاکے پاس جاکر اُس سے معافی مانگے گی۔ سعید اُسے گاؤں میں ہی چھوڑکر واپس چلا گیا تھا اور بتول دن گن گن کر گزارنے لگی تھی۔ وہ چوتھا مہینہ تھا جب اُس نے بالآخر موتیا کے پاس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب تک اُس کو ٹھہرنے والے سارے حمل پہلے تین مہینوں میں ہی ضائع ہوجاتے تھے۔ یہ پہلا حمل تھا جو چوتھے مہینے تک پہنچا تھا اور بتول نے جیسے گھڑی کی سوئیوں کو گن گن کر یہ وقت گزارا تھا۔
” نہ بتول! اس حالت میں مت جا تو موتیا کو دیکھنے، تو پریشان ہوجائے گی۔ اللہ نہ کرے تیری حالت بگڑ گئی تو؟”
شکوراں نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
”نہیں امّاں! مجھے جانا ہے ۔ میں آج تک اُس سے چاچا کا افسوس بھی نہیں کرسکی اور اب نہیں جاؤں گی تو پھر آگے چل کر نہیں جاسکوں گی۔”
اُس نے ماں کو تاویل دی تھی۔
”پر بتول اب جانا کیوں ضروری ہوگیا ہے؟ تو اتنے ہفتوں سے یہاں ہے،افسوس کرنا ہی تھا تو پہلے کرلیتی۔”
شکوراں کو اب بھی سمجھ نہیں آرہی تھی۔
”بس امّاں! مجھے نہ روک، مجھے جانے دے۔” وہ جھنجھلا گئی تھی۔
”چل پھر میں تیرے ساتھ چلتی ہوں۔”
”نہیں امّاں! میں اکیلے ہی ملنا چاہتی ہوں اُس سے۔ ”
بتول نے ضد کی تھی اور شکوراں کے بغیر ہی گھر سے نکل کھڑی ہوئی تھی۔
اللہ وسائی کے گھر کا دروازہ چوپٹ کھلا تھا ۔ دروازے کا ایک پٹ کواڑوں کے ساتھ بس لٹکا ہوا تھا۔ شاید اُسے سیدھا کرنے کی کوشش کی جاتی تو وہ ہاتھوں میں ہی آجاتا۔ شکوراں نے ایک گہری سانس لے کر جیسے اپنے حواس اور اعصاب پر قابو پایا تھا اور پھروہ اندر گئی تھی۔
صحن کے بیچوں بیچ ایک چارپائی پر موتیا بیٹھی تھی اور بتول کے قدموں کی آہٹ پر اُس نے سر اُٹھا کر دیکھا تھا اور بتول ہل کر رہ گئی تھی۔ ہڈیوں کا وہ ڈھانچہ اُس حسن پری کا تو نہیں ہوسکتا تھا جسے سات گاؤں موتیا کے نام سے جانتے تھے۔
یہ صرف بتول نہیں تھی جو اُسے دیکھ رہی تھی، موتیا بھی اُسے اُس ہی طرح پلکیں جھپکائے بغیر دیکھ رہی تھی۔ اُس کی مٹھی میں پکڑے سکّے اب اُس کی مٹھی سے گررہے تھے۔ بتول آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اُس کے پاس گئی اور پھر اُس کے بالمقابل چارپائی پر بیٹھ گئی۔
” تو نے مجھے پہچانا موتیا؟”
بتول نے مدھم آواز میں موتیا سے پوچھا تھا اور وہ اسی طرح بغیر کسی تاثر کے اُسے دیکھتی رہی۔ بتول کادل یکدم بھر آیا تھا۔ وہ اپنے گناہ کا نتیجہ دیکھ رہی تھی اور اس کا دل زار و زار رونے کو چا ہ رہا تھا۔ اُس نے موتیا کے لئے یہ کبھی نہیں چاہا تھا نہ سوچا تھا ۔اُس کو لگتا تھا چوہدری مراد سے شادی نہ بھی ہوئی تو بھی موتیا کو کوئی نہ کوئی ویسا ہی ملے گا۔ وہ ڈاکٹر بن رہی تھی اور حسن کی دولت سے مالا مال تھی۔ اُس نے کبھی موتیا کو اس حالت میں پہنچادینے کا نہیں سوچا تھا۔
” مجھے معاف کردے موتیا! میں تیرے پیر پکڑ کر تجھ سے معافی مانگنے آئی ہوں۔” بتول اب اُس کے پیر پکڑے ہوئے رورہی تھی۔
” میں نے ظلم کیا تجھ پر، نہ میں لالچی ہوتی، نہ چوہدرائن کے کہنے پر تجھے پھنسواتی۔ تیرے سامنے سب کچھ کہنے آئی ہوں، بتانے آئی ہوں تجھے کہ وہ میں تھی جس نے تجھے اور تیرے پیار کو اُس رات ڈسا تھا۔ میں سعید کو پانے کے لئے لالچ میں آئی تھی۔ میری عقل پر پتھر پڑگئے تھے۔ میں نے چوہدری مراد کو تیرا نہیں ہونے دیا۔ پر اب تو مجھے معاف کردے۔ تیری آہ میری اولاد کو پیدا ہونے سے پہلے ہی کھارہی ہے موتیا۔ مجھے معاف کردے۔ اس بار پھر پیٹ سے ہوں میں۔ اس بار دعا کردے میرے لئے کہ میرے بچے کو کچھ نہ ہو۔”
بتول نے روتے ہوئے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پیٹ پر رکھا تھا۔موتیا کچھ دیر اپنا ہاتھ اُس کے پیٹ پر پر رکھے رہی، پھر وہ عجیب سے انداز میں مسکرائی تھی ۔ چارپائی پر پڑے سکوں میں سے ایک سکہ اُٹھا کر اُس نے بتول کا ہاتھ پکڑ کر اُس کی ہتھیلی کے بیچوں بیچ رکھ دیا تھا، پھر اُس نے اُس کی مٹھی بند کردی تھی۔
” تو نے اس سازش کے لئے مجھے معاف کردیا نا موتیا؟ تو نے کردیا نا معاف مجھے؟” بتول نے بے قراری سے اُس سے پوچھا تھا اور موتیا اسی مسکراہٹ کے ساتھ چپ چاپ اُسے دیکھتی رہی۔
بتول کو اپنے عقب میں دروازے پر کوئی آہٹ سنائی دی تھی۔ وہ کرنٹ کھاکر پلٹی تھی۔ دروازے کے بیچوں بیچ ایک بُت کھڑا تھا ، اور وہ بُت چوہدری مراد کا تھا۔
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

پنج فرمان — سحر ساجد

Read Next

سعی — سحر ساجد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!