دانہ پانی — قسط نمبر ۸

چوہدری مراد کے دونوں بیٹوں کی مثالیں دی جاتیں جس کی شادی اُن کے بیٹے کے ساتھ ہوئی تھی اور دو سالوں میں وہاں دوبیٹے آگئے تھے اور اُن کے بیٹے کا گھر سُونا تھا۔ اُس کا شوہر بھی ماں باپ کی باتیں سُن سُن کر اُس سے بے التفاتی کا شکار ہونے لگا تھا۔ وہ دو دفعہ اُس کے پاس کویت سے ہوکر واپس آگئی تھی۔وہ عیش و آرام جس کے وہ خواب دیکھتے ہوئے شادی کر کے کویت گئی تھی، بھسم ہوگئے تھے۔ وہ پیار محبت شادی کے شروع کے چند ہفتوں میں ہی اُڑ گیا تھا۔
دو ر ہونے کے باوجود سسرال والوں کو سعید اور اُس کی آمدنی پر مکمل قابو تھا اور بتول ایک روپیہ بھی اپنی مرضی سے خرچ نہیں کرسکتی تھی۔ جو خوف ہر وقت اُس کے گرد منڈلاتا رہتا تھا وہ یہی تھا کہ ماں باپ کے مجبور کرنے پر سعید کہیں ایک اور شادی نہ کرلے اوراُسے پتہ ہی نہ چلے۔ وہ ہولاتی ہوئی کویت اور اپنے گاؤں کے چکر کاٹتی رہتی۔ وہ سارے اللے تللے جو اُسے چوہدرائن کے دیئے ہوئے پیسوں سے کرنے تھے وہ ہوا بن کر اُڑ گئے تھے۔ اُس کا وہ پورا جہیز اُس کے سسرال والوں نے اپنی بیٹیوں میں بانٹ دیا تھا کیونکہ وہ کویت چلی گئی تھی اور بھابھی کی ہر چیز ضائع ہورہی تھی، اس لئے بہتر تھا کہ وہ بیٹیوں کو اُن کے سسرا ل میں بھیج دی جاتی۔
بتول پہلی بار کویت سے واپس آنے پر ایک خالی کمر ے میں بان کی چارپائی پر سوئی تھی کیونکہ کمرے کے پردے اور فرنیچر تک اُس کی نندوں میں تقسیم ہوچکا تھا اور اُس کے جھگڑنے پر سعید نے اُسے کہا تھا کہ اُسے چیزوں کی اتنی پروا ہے تو وہ چوہدریوں کے گھر سے اور لے آئے۔آخر اُس کی ماں اب بھی تو وہاں ہی کام کرتی تھی اور بتول حویلی جانے کا سوچنے سے بھی ڈرتی تھی اور خود تاجور نے بھی شکوراں سے کہا ہوا تھا کہ بتول اب حویلی نہ آئے۔
تاجور کو یہ خدشہ تھا کہ بتول کی زبان سے اگر کچھ نکل گیا تو وہ ماہ نور اور اُس کے بیٹے کے کانوں تک نہ پہنچ جائے۔ اُس نے جو سازش کی تھی اُسے اُس پر شرم نہیں تھی،مگر اُس سازش کے کھل جانے کا خوف ضرور تھا۔
انسان اللہ کے سامنے گناہ کرنے سے نہیں ڈرتا، لیکن بندوں کے سامنے اُن گناہوں کے آجانے سے ضرور ڈرتاہے۔
”تو مجھے یہ بتا بتول کہ کوئی خوشخبری ہے؟”
شکوراں کو اُس کی کیفیت سے یکدم جیسے اُس کے حاملہ ہونے کا خیال آیا۔ اُس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ماں سے کہا:
”مجھے لگتا ہے میری نسل نے آگے نہیں بڑھنا امّاں۔ میرے گھر نہیں ہونا بچہ!”
شکوراں نے جیسے ہول کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
” کیسی باتیں کررہی ہے تو بتول؟ کیوں اس وقت برے الفاظ زبان پر لارہی ہے۔ رب سوہنے کے گھر دیر ہے، اندھیر نہیں۔”
بتول نے ماں کی تسلیوں کو سنتے ہوئے اُس کا چہرہ دیکھا۔
”امّاں! مجھے لگتاہے توبہ کئے بغیر کچھ نہیں ہونا۔ کسی سے معافی لئے بغیر کچھ نہیں ہونا۔”
وہ عجیب سے انداز میں بڑبڑائی تھی۔
” کس سے معافی لینی ہے تو نے؟ کیا کیا ہے تو نے؟”
شکوراں کو سمجھ نہیں آئی تھی۔ بتول انگلیاں چٹخاتے ہوئے اُسی طرح پھرتی رہی۔ اُس نے ماں کی بات کا جواب نہیں دیا تھا اور شکوراں بغور اپنی بیٹی کو دیکھتی رہی، یوں جیسے اس جگسا پزل کو حل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
…٭…

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

بتول اگلے کئی دن موتیا کے گھر جانے کے لئے اُس کی گلی جاتی رہی اور اُس کے گھر کے سامنے سے ہو کر واپس آجاتی۔ گامو کے گھر کا دروازہ اب ٹوٹا ہوا تھا اور اُس کی لکڑیوں میں جگہ جگہ خلا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے اب کوئی اُسے دیکھنے والا ہی نہیں رہا۔ موتیا کے ساتھ گزرا ہوا اچھا وقت اُس کی آنکھوں کے سامنے گزرتا رہا اور اُس کا پچھتاوا جیسے بڑھتا ہی چلا گیا۔
”اے میرے مالک! جتنا بوجھ میرے سینے پر ڈال دیا ہے، اُتنا چوہدرائن پر بھی تو ڈال۔ جتنی سزا مجھے میرے گناہ کی دے رہا ہے، اُن کو بھی تو دے۔ میں اولاد کے لئے ترس رہی ہوں اور چوہدرائن کے گھر بیٹے پر بیٹے آرہے ہیں۔ کیا ساری سزائیں غریبوں کے مقدر میں ہی لکھی ہیں؟ امیروں کے گناہ بھی خطا، ناقابلِ سزا۔”
بتول اپنے آپ سے خود جنگ لڑنے میں مصروف تھی، اگر اُس کے ساتھ سب کچھ ہونے کی وجہ اُس کا گناہ تھا تو اُس گناہ کو کروانے والی کے گھر پر کوئی آفت کیوں نہیں ٹوٹ رہی تھی۔ وہ عجیب کشمکش کا شکار تھی۔
”موتیا سے بات کرنے کی ہمت نہیں تو کیا میں سب کچھ چوہدری مراد کو بتادوں؟”
اُس نے واپسی کے راستے میں سوچا تھا۔ پر وہ کیا کرے گا۔ اب تک تو وہ بھول چکا ہوگا موتیا کو۔ اب تو پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ گیا تھا۔ اب کچھ بھی کرنے کا فائدہ نہیں تھا ۔چوہدی مراد اُسے بھول گئے ہوئے تب بھی تاجور اُسے جان سے مار دے گی۔ نہ بھولے ہوئے تو خود چوہدری مراد کے ہاتھوں اُس کی جان جاتی۔ آگے کنواں اور پیچھے کھائی میں بتول کو وہیں کھڑے رہنے میں عافیت نظر آئی تھی جہاں وہ کھڑی تھی۔ اُس کو ابھی زندہ رہ کر سزا کاٹنی تھی۔
…٭…
وہ گاؤں کے مولوی صاحب تھے جو صبح کنویں کے برابر اپنے کھیتوں میں چرنے والی اپنی بکریوں کے لئے پانی نکالنے آئے تھے۔کنویں میں گرائے جانے والا ڈول کسی چیز سے ٹکرایا تھا اور مولوی صاحب حیران ہوئے تھے۔ منہ اندھیرے اُنہیں یہ اندازہ نہیں ہوا تھا کہ کنویں میں وہ کیا چیز تھی جس سے پانی بھرنے کے لئے پھینکا جانے والا ڈول بار بار ٹکرا رہا تھا۔ ایک عجیب وہم اُنہیں آیا تھا اور اُس وہم کی تصدیق یا تردید کے لئے وہ سورج نکلنے تک کنویں پر بیٹھے رہے اور سورج نکلتے ہی انہوں نے جھانک کر کنویں میں دیکھنے کی کوشش کی تھی۔ گہرے کنویں کی تہہ میں نظر آنے والے پانی پر اوندھے منہ کسی کا وجود پانی کے ہلکوروں کے ساتھ چل رہا تھا۔ مولوی صاحب غش کھاتے کھاتے بچے تھے ۔ اُس گاؤں کی تاریخ میں اُس کنویں سے ملنے والی وہ پہلی لاش تھی اور وہ لاش گامو کی تھی۔
وہ کب وہاں کودا تھا، گرا تھا یا گرایا گیا تھا، یہ کسی کو پتہ نہیں تھا اور یہ سب جانتے تھے۔ گامو کی لاش نے گاؤں والوں کو چُپ لگادی تھی اور ایسی ہی چپ چوہدری شجاع کو بھی وہاں آکر لگی تھی۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اللہ وسائی کو کیسے اطلاع دیتے۔ اُن سب کو لگتا تھا کہ اُسے سنبھالنا مشکل ہوجائے گا، پر ایسا نہیں ہوا تھا۔ وہ کنویں پر آئی تھی اور گاموکی لاش کے سرہانے چُپ چاپ بیٹھ گئی تھی۔
گاؤں والوں کو یقین تھا وہ صدمے میں ہے۔ وہ اُنہیں کیا بتاتی کہ گامو کی مو ت کا صدمہ وہ اُس دن اُٹھا چکی تھی جب اُس کی بیٹی کی بارات نہیں آئی تھی۔ وہ سارے بین جو اُس نے آج کرنے تھے،اُس ہی دن کرلئے تھے۔ یہ گامو تو بس ایک چلتی پھرتی لاش تھا۔ وہ ہنستا گاتا گامو تھوڑی تھا۔ اُس کا سر گود میں رکھے وہ اُس کے گیلے بال یوں سمیٹتی رہی جیسے وہ سویا ہوا تھا۔ پھر گاؤں والوں نے اللہ وسائی کو حق باہو کا کلام پڑھتے سُنا تھا۔ اپنی توتلی آواز میں۔ وہی کلام جو گامو پڑھتا تھا۔
الف اللہ چنبے دی بوٹی مرشد من وچ لائی ہو
نفی اثبات دا پانی ملیا ہر رگے ہر جائی ہو
اندر بوٹی مشک مچایا تے جاں پھلاں تے آئی ہو
جیوے مرشد کامل باہو، جیں ایہہ بوٹی لائی ہو
چوہدری شجاع اُس توتلی آواز کی بازگشت میں وہاں سے واپس حویلی گیا تھا۔ اللہ وسائی نے اُس کی کوئی بھی مدد لینے سے انکار کردیا تھا۔ اُسے گامو کو چوہدریوں کے پیسوں کا کفن نہیں پہنانا تھا۔
گاموگاؤں کا پہلا ”کمّی” تھا جس نے موت کے بعد بھی چوہدریوں کی امداد ٹھکرائی تھی۔
” کنویں میں گر کیسے گیا؟’
تاجور نے خبر ملنے پر اتنے عام سے لہجے میں یہ سوال پوچھا تھا کہ چوہدری شجاع نے کوئی جواب ہی نہیں دیا تھا۔ وہ بس غمزدہ اپنا حقہ گڑگڑاتا رہا تھا۔ تاجور اُس کی شکل دیکھتی رہی، پھر کوئی جواب نہ ملنے پر اُس نے کہا:
”اچھا! میں ملازموں کو کہتی ہوں کھانے کا انتظام کردیں اُس کے گھر تعزیت کے لئے آنے والوں کے لئے۔”
”مت بھیجنا کچھ بھی اُس کے یہاں۔ اللہ وسائی کچھ نہیں لے گی۔” چوہدری شجاع نے عجیب سے لہجے میں اُس سے کہا تھا۔
” نہیں تو نہ سہی!خیرات زکوة کے لئے گاؤں میں کمّی بہتیرے۔” تاجور نخوت سے کہہ کر وہاںسے چلی گئی تھی۔
گامو کا جنازہ اُس گاؤں کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ یوں لگتا تھا چرند پرند بھی اُس کے جنازے میں شرکت کے لئے آگئے تھے۔ وہاں کسی کو یہ ماننے میں تامل نہیں تھا کہ وہ نیک تھا۔ اور اللہ وسائی کو یقین تھا وہ رب کے پاس گیا تھا ہی موتیا کے لئے۔
…٭…

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

پنج فرمان — سحر ساجد

Read Next

سعی — سحر ساجد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!