داستانِ حیات — علی فاروق

(داستانِ شبِ غم اور قصہ روزِ درد، اُس مظلوم مخلوق کا جسے ”طالبِ علم” کہتے ہیں……)
اپنی پیدائش کے چند لمحات بعد ہی وہ بے چارہ اس بات کا ماتم کر تانظر آتا ہے کہ وہ عاقبت نااندیشوں کے کس جہان میں پھنس گیا۔ بڑوں کی محفل میں ایک جانب اعلانِ شاہی صادر ہوتا ہے: ”ہمارا بیٹا ڈاکٹر بنے گا”دوسری صدا آتی ہے” انجینئر بنے گا” (انسان بنانے کا کبھی کسی کو خیال ہی نہیں آیا) بس اس کی کم بختی شروع ہو جاتی ہے۔
والدین کیا جانیں اس لمحے کی بے چارگی! جب گرم کمبل، حسین نیند اور سہانے خواب، اچانک ایک دھاڑ سے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں: ”بیٹا! اٹھوسکول نہیں جانا”۔ جتنی گالیاں (اور وہ بھی پنجابی میں) موجدِ تعلیم جدید کو دینے کا اُس وقت دل چاہتا ہے وہ بس وہی جانتا ہے۔ دادی اماں کی کہانی والی پریوں کے ساتھ ابھی بچہ بے چارہ تصوراتی محلات میں گھوم رہا ہوتا ہے، مولوی صاحب کی دھاڑ سن کر ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھتا ہے۔
10 کلو وزن والے بچے پر 20کلو کتابیں لاد دی جاتی ہیں (آج تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ اگر گدھے پر کتابوں کا انبار لاد دیا جائے تو وہ ”استاد” ہونے کا دعویٰ کیوں نہیں کرتا… حالاں کہ آج کل ہمارے سیاست دان ایسے اداروں سے بھی ڈگریاں لے لیتے ہیں، جن کا قیام سو سال بعد ہوتا ہے، اور پھر فخریہ طور پر ‘ڈال سے ڈاکٹر’ کہلا کر خوش ہوتے ہیں)… ہائے وہ رِقت انگیز مناظر!! ! جب باپ، بچے کو سکول کے گیٹ سے اندر داخل کرتا بلکہ زبردستی دھکیلتا ہے اور وہ بچہ ایسے بے جان قدم اُٹھاتا مڑ مڑ کر ظالم کو دیکھتا ہے جیسے پھانسی گھاٹ کی جانب جا رہا ہو ۔ اس کی امید کا سہارا hopping best ….. for next time ہی ہوتا ہے۔
چھٹی کی گھنٹی سنتے ہی جو دِلی سکون اور ذہنی اطمینان حاصل ہوتا ہے، گھر آتے ہی ماں جی کے اس اعلان سے سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے: ”تمہارے پاپا نے تمہارے لیے نیا ٹیوٹر مقرر کیا ہے۔ آج سے عصر تا عشا تم گھر میں پڑھائی کیا کرو گے۔”
”اگر کبھی ٹی وی پر پسندیدہ کارٹون لگے ہوں تو ریموٹ فوراً سے پیشتر ایسے جھپٹ لیا جاتا ہے، جیسے حکمران عوام سے جینے کا حق چھینتے ہیں اور ساتھ ہی ڈانٹتے ہوئے کہا جاتا ہے: ”چلو اُٹھو!! پڑھو جاکر ، تمہارے امتحان سر پر ہیں”… (پتانہیں یہ امتحان ہی کیوں سر پر ہوتے ہیں؟ کوئی ہیروں سے سجا تاج کیوں نہیں ہوتا…؟؟)
سارے بڑے (والدین، اساتذہ اور گلی محلوں میں ہوا کے ساتھ اُڑنے والے لفافوں کی طرح بکثرت پائے جانے والے دانشور) فریب کا ایسا لولی پوپ بچے کے منہ میں گھسیڑتے کہ وہ آخر وقت سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ گیم کیا کھیلی گئی۔ ”بیٹا! یہ سکول کے چند سال پڑھ لو، کالج میں تو پھر عیش ہی عیش ہو گا…… محنت کر لو کالج میں ایڈمیشن ہو گیا تو موجیں ہی کرو گے”۔
پھر کالج یونی ورسٹی کے زمانے میں یہ ہدایت ہوتی کہ اب یہ آخری سٹیج ہے تمہاری سٹڈیز کی، اس کو بھی اچھا ہونا چاہیے، پروفیشنل لائف میں تو مزے ہی مزے ہوں گے……” (ہر دور کے اینڈ پہ ان کے ”عیش” کے وعدے کو تازہ دم کرنے کی بات کی جائے تو …… مٹی پائو جی…… رات گئی، بات گئی!!)
ایک طالب علم جس دور کے بارے میں سہانے خواب دیکھتاہے۔ اب وہ شروع ہوتا ہے تعلیمی سفر کے اختتام پر اور ”جن گھر والوں کا ہمیشہ کھاتے رہے” ان کو کھلانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے شروع کرنے سے… اب جناب صاحب کے پاس ڈگری ہے…… اعلیٰ تعلیم …… اور اپنے تمام کوائف اٹھا کر مطلوبہ ملازمت ڈھونڈنے کے لیے اتنی جگہوں کے دھکے کھاتا ہے کہ اسے بعض دفعہ وہ چند کاغذات بھی پہاڑ سے زیادہ وزنی محسوس ہوتے ہیں۔
اس سارے دور میں کھوجتی نگاہیں، ذومعنی اشارے اور مثالی ”حسن سلوک” بعض رشتہ داروں کی جانب سے تحفے میں ملتاہے وہ بھی زبردست ہے……
”بیٹاابھی تک جاب ہی نہیں ملی … وہ اسلم صاحب کا بیٹا بھی تو اسی یونی ورسٹی سے پڑھا ہے، وہ کب سے اتنی اچھی پوسٹ پر بیٹھا ہے……” پھر سرگوشی کرتے ہوئے ”رزلٹ تو ٹھیک آیا اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں!” ہاہاہاہا۔
(بس چچا جان ایک بات بھول گئے کہ اسلم صاحب کے چچا ایک بڑی انڈسٹری کے چیئرمین ہیں)
”میں تو شاہ صاحب سے پہلے ہی کہتا تھا کہ کاروبار میں ڈال دو چھوکرے کو، کیا رکھا ہے انگریزی پڑھائیوں میں!!! خوفِ خدا باقیہے نا مخلوق سے شرم …… اپنے ہمسائے کو ہی دیکھ لو، کہاں پہنچ گیا ہے اس کا کاروبار……”ایک ہمسائے کی کا جلتی پر تیل ڈالنے کا کام۔
”ہاتھ کا کاری گر ہوتا تو باہر ہی چلا جاتا… (چاہے وہاں جا کر ٹیکسی چلانا پڑتی) …… آپ نے تو ایسے ہی اتنی رقم ضائع کر دی اس پر…” ایک رشتہ دار کی جلی کٹی۔
پر ان سب سے زیادہ تکلیف دہ موقع وہ ہوتا ہے جب ماں کہتی ہے کہ بیٹا …… فارغ بیٹھے ہو تو ذرا یہ ”مٹر” ہی چھیل دو…… مشین کی سوئی میں ”دھاگا” ڈال دو…… ”جالے” ہی اتار دو …… اور بابا کہتے ہیں بیٹا …… ”کال” نہیں آئی کہیں سے !!!!!خالی کیوں بیٹھے ہو تو کار ہی صاف کر دو۔”
ان حالات کے بعد اقبال کے شاہین کو زندہ رہنے کے لیے اقبال کے ہی تجویز کردہ نسخے پر عمل کرنا پڑے گا ……… بہ قول شاعر مشرق علامہ اقبال:
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

سوئٹو کا محافظ — عمارہ خان

Read Next

شب گزیدہ — زید عفّان

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!