الف — قسط نمبر ۱۱

”I am so sorry to hear this.۔۔۔ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا تم نے؟”
داؤد نے بے حد اپ سیٹ ہوکر اُس سے کہا تھا۔ اُسے مومنہ نے کچھ دیر پہلے اُس کے آفس میں آتے ہی ثریا کی بیماری کے بارے میں بتایا تھا۔
”میں نے سوچا کب تک مسئلے ہی لے کر آتی رہوں گی تمہارے اور اقصیٰ کے پاس۔” مومنہ نے اُداس مسکراہٹ کے ساتھ اُس سے کہا تھا۔
”ایسے بات مت کرو کہ لگے کہ تم واقعی سٹار بن گئی ہو۔” داؤد نے اُسے جھڑکتے ہوئے کہا تھا۔
”ہاں سٹار بن گئی ہوں۔۔۔ اور سٹار ٹوٹنے کے لئے ہوتے ہیں۔” مومنہ نے سر جھٹک کر کہا تھا۔
”بکواس مت کرو۔۔۔ میں آؤں گا آنٹی کو دیکھنے۔۔۔ اُس دن جب میں ملا تھا تو کچھ عجیب لگی تھیں مجھے اُن کی باتیں لیکن میں نے سوچا یہ بڑھاپا ہے۔” داؤد نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔
”تم مجھے بس اُس پرانے محلے میں کوئی مناسب سا گھر کرائے پر لے دو۔” اُس نے داؤد سے کہا تھا۔
”اُس محلے میں کوئی ایسا گھر نہیں ملے گا جو تمہارے statureکے مطابق ہو۔۔۔تم دو سال پہلے کی مومنہ سلطان نہیں ہو اب۔ کہ کہیں بھی رہ لوگی۔” داؤد نے جیسے اُسے سمجھایا تھا۔
”میں وہی مومنہ سلطان ہوں داؤد۔۔۔ اور میں کہیں بھی رہ لوں گی۔۔۔ ہر اُس جگہ جہاں میرے ماں باپ رتّی برابر بھی خوش رہ سکیں۔ جہانگیر کو بھول سکیں۔۔۔ یہ مرض میری کامیابی لائی ہے میری ماں کی زندگی میں۔۔۔ میرے پاس وقت ہی نہیں ہے اُن کے ساتھ گزارنے کے لئے۔۔۔ جب وقت تھا تو رزق نہیں تھا اب رزق ہے تو وقت نہیں ہے۔۔۔ اللہ مجھے دونوں چیزیں کیوں نہیں دے دیتا۔” وہ بات کرتے کرتے یک دم رونے لگی تھی۔ داؤد نے اُسے بے اختیار اپنے کندھے سے لگا یا تھا۔
”مومنہ۔۔۔ مومنہ۔۔۔ علاج ہوجائے گا اس کا۔۔۔ تم افورڈ کرسکتی ہو۔۔۔ یہ فیملی ہسٹری میں ہے آنٹی کے۔۔۔ تمہاری وجہ سے نہیں آئی یہ بیماری اُن کی زندگی میں۔” وہ اُسے کندھے سے لگائے تھپک رہا تھا اور بالکل اُسی وقت مومن دروازہ کھول کر اندر آتے آتے رُک گیا تھا۔
دروازے کی جھرّی سے جو منظر اُس نے دیکھا تھا اُس منظر کا پس منظر کیا تھا یہ اُسے جاننے کی ضرورت نہیں تھی۔ مومنہ سلطان کے خلاف اُس کے دل میں یک دم جیسے ایک غبار سا اُٹھا تھا۔ جس تیزی سے اُس نے دروازہ کھولا تھا اُسی تیزی سے وہ دروازہ بند کرکے اپنے آفس میں آگیا تھا۔ داؤد اور مومنہ دیکھ بھی نہیں پائے تھے کہ دروازہ کو کھول کر بند کرنے والا کون تھا۔
اپنے آفس میں آکر وہ بھوکے شیر کی طرح آفس میں ٹہلنے لگا تھا۔ اُسے داؤد پر زیادہ غصہ آرہاتھا یا مومنہ پر اُسے اس وقت سمجھ نہیں آرہی تھی۔ اور کیوں آرہا تھا۔ وہ اگر داؤد کے کندھے سے سرٹکائے ہوئے بھی تھی تو اُسے کیوں تکلیف ہورہی تھی۔ وہ کیوں برداشت نہیں کر پارہا تھا۔ وہ اُس کی تھی کیا۔۔۔؟ بھاڑ میں جاتی وہ ۔۔۔ اور بھاڑ میں جاتی ساری دنیا اور ساری دنیا کی عورتیں۔ کمرے میں ٹہلتے ہوئے اُس نے بے حد تلخی سے سوچا تھا۔
داؤد کی بدقسمتی تھی کہ وہ مومن کی اس کیفیت میں مومنہ کو اُس کے آفس میں لئے چلا آیا تھا۔
”مومن بھائی یہ مومنہ کو سکرپٹ میں کچھ تبدیلیوں پر بات کرنی ہے اور۔۔۔”
داؤد نے دروازہ کھول کر مومنہ کے ساتھ اندر آتے ہوئے کہنا شروع کیا تھا اور مومن نے بے حد درشتگی سے اُس کی بات کاٹ دی تھی۔
”وہ خود آسکتی ہے۔۔۔ اور بات کرسکتی ہے۔۔۔ تمہاری ترجمانی کی ضرورت نہیں ہے اُسے۔۔۔” مومنہ اور داؤد نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر داؤد نے بے حد نروس انداز میں کہا۔

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

”میں۔۔۔ سوری۔۔۔ ٹھیک ہے مومن بھائی۔۔۔ میں کافی بھجواتا ہوں۔” وہ بڑے شرمندہ سے اندا ز میں کہتا ہوا برق رفتاری سے دروازہ کھول کر باہر چلا گیا تھا اور اُس کے جاتے ہی مومنہ نے بڑے محتاط سے لہجے میں اُس سے کہا۔
”میرا خیال ہے میں شاید غلط وقت پر آگئی ہوں۔۔۔ آپ کا موڈ کسی وجہ سے خراب ہے۔” مومن نے اُس کی بات کاٹتے ہوئے اُتنی ہی بدتمیزی کے ساتھ اُس سے کہا۔
”میں کل ساری رات آپ کو فون کرتا رہا اور آپ نے کال ریسیو نہیں کی۔”
مومنہ نے کچھ گڑبڑا کر اُس سے کہا۔
”اوہ ۔۔۔ سوری۔۔۔ میں نے ۔۔۔ شاید دیکھا نہیں۔”
”دیکھا تو ضرور ہوگا لیکن آپ نے سوچا ہوگا میں فلرٹ کرنے کے لئے آپ کو آدھی رات کو کالز کررہا ہوں۔ کیونکہ فارغ ہوں میں اور آپ کے ”حسن” کو resistنہیں کرپارہا ۔”
مومنہ نے ہکا بکا انداز میں اُسے دیکھا تھا۔ وہ بالکل اُس کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تھا اور اُس کا انداز بے حد جارحانہ تھا۔
”میں دوسروں کے بارے میں اندازے لگانے کی شوقین نہیں ہوں۔” اُس نے اس بار کچھ خفگی سے مومن سے کہا تھا۔
”آپ کا شوق شاید جھوٹ بولنا ہے۔” اُس نے اسی انداز میں اُس سے کہا تھا۔
”ایکسکیوزمی ۔” مومنہ کو سمجھ نہیں آئی وہ کیا بات کررہا تھا۔
”مجھے پسند نہیں ہے کہ میرے ساتھ کام کرنے والے لوگ میرے آفس میں افیئر چلائیں اور میرے سٹوڈیو کو ہوٹل سمجھ لیں۔” مومنہ کو اب بھی اُس کی بات کی سمجھ نہیں آئی تھی۔
”آپ کس کی بات کررہے ہیں؟” اُس نے اس طرح مومن کی بات کاٹی تھی۔
”میں داؤد اور آپ کی بات کررہا ہوں۔” وہ بُت بن گئی ۔ اُس کا چہرہ سرخ ہوا پھر اُس نے قلبِ مومن کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ دے مارا۔
”تم نے ہر ایک کو حسنِ جہاں سمجھ رکھا ہے کہ کچھ بھی کہوگے کچھ بھی سمجھوگے کچھ نہیں ہوگا۔”
گال پر ہاتھ رکھے بے یقینی کے عالم میں وہ شعلہ جوالہ بنی مومنہ سلطان کو اپنے آفس سے نکلتا دیکھتا رہا۔ وہ اُس کی زندگی کا پہلا تھپڑ تھا۔ مگر مارنے والی اُسے اُس کی ماں کا طعنہ دے کر گئی تھی۔
٭…٭…٭
”ایک جھانپڑ داؤد کو بھی دے مارتی۔” سمندر کے کنارے بیٹھے ہوئے اقصیٰ نے بڑی خفگی سے اُس سے کہا تھا۔
”اُس کا کیا قصور تھا؟” مومنہ نے بے ساختہ کہا۔
”اُس نے اپروچ کیا تھا تمہیں اس فلم کے لئے اور میں نے منع کیا تھا تمہیں۔” اقصیٰ نے جیسے اُسے یاد دلایا تھا۔
”اُس نے مجبو رنہیں کیا تھا فلم کی کہانی نے مجبور کیا تھا۔۔۔ غلطی ہوگئی۔”
سمندر کے پانی میں پتھر پھینکتے ہوئے مومنہ نے اقصیٰ سے کہا۔ اُس نے پتہ نہیں پچھلے ایک گھنٹہ میں وہاں بیٹھے ہوئے سمندر میں کتنے پتھر پھینکے تھے اور اقصیٰ اُس کا چہرہ دیکھتی رہی تھی۔
”قلبِ مومن جیسے لوگ کبھی راہ راست پر نہیں آتے۔ وہ پہلے یہاں ہوتے ہیں پھر وہاں۔ یہ جو بیچ کا راستہ ہے نا۔ اُنہیں ان پر چلنا نہیں آتا۔”اقصیٰ نے جیسے اُسے تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔
”مجھے لگا آگیا۔” مومنہ نے ایک پتھر اور پھینکا تھا سمندر میں۔
”اچھا ہوا تمہاری جان چھوٹ گئی۔ اب اگلی انٹر نیشنل فلم کرنا لوکل فلم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ تمہیں یہ فلم سائن کرنی ہی نہیں چاہیے تھی۔” وہ اُس سے کہتی جارہی تھی۔
”کچھ چیزوں سے جان چھوٹ کر بھی نہیں چھوٹتی۔” ایک اور پتھر پانی میں پھینکتے ہوئے مومنہ نے کہا تھا۔
”مثلا۔۔۔؟” اقصیٰ نے اُس سے پوچھا۔
”مجھے لگتا ہے میں پیار کر بیٹھی ہوں مومن سے۔۔۔جیسے حسنِ جہاں طہٰ سے کر بیٹھی تھی۔۔۔ غلطی کی نا؟”
اُس نے بھرّائی ہوئی آواز میں اقصیٰ سے کہا اور اقصیٰ ساکت تھی۔ مومنہ آہستہ سے اُس کے گلے لگ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔ وہ اُسے تھپکنے لگی تھی۔
٭…٭…٭
”اتنی بڑی بات آپ نے سوچ بھی کیسے لی مومن بھائی۔۔۔؟مطلب۔۔۔ میری شادی ہونے والی ہے اقصیٰ سے۔۔۔ اور آپ۔۔۔ اور پھر سیدھا مومنہ سے ہی جاکر کہہ دیا۔۔۔ شک ہوا تھا تو مجھ سے کہتے۔۔۔ مجھ سے بات کرتے۔۔۔ آپ سے کتنی بار کہا تھا میں نے۔۔۔ وہ Divaنہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی Divaکی طرح رہتی ہے۔ ”
داؤد کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ مومن پر غصہ کرے یا ترس کھائے۔ وہ اُس کے سامنے سرجھکائے چپ چاپ بیٹھا تھا۔ مومنہ کے وہاں سے نکلتے ہی داؤد کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اُس کے اور مومن کے درمیان کچھ ہوا تھا مگر جو ہوا تھا اُس کا تعلق اُس سے تھا ،اس کا تصور تو داؤد کے فرشتوں نے بھی نہیں کیا ہوگا۔ مومن نے بے حد صاف گوئی اور شرمندگی سے اُسے سب کچھ بتایاتھا۔ اور داؤد کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی۔
”تم مجھے بتادیتے اُس کی ماں کی بیماری کے بارے میں۔” بہت لمبی خاموشی کے بعد مومن نے بالاآخر کہا تھا۔
”آپ موقع تو دیتے۔۔۔ آپ تو چانس ہی نہیں دیتے کسی بات کا۔” وہ جھلایا تھا۔
”کچھ کرسکتے ہو اب؟” مومن نے ڈھیٹ بن کر اُس سے کہا تھا۔
”ہاں۔۔۔ دُعا۔” داؤد نے بھی اُسی انداز میں کہا تھا۔
”بیٹھ کر کرو پھر۔” مومن نے اُٹھتے ہوئے اُس سے کہا تھا۔
”مومن بھائی مومنہ سلطان نے فلم چھوڑی تو یہ فلم نہیں بنے گی یہ بتارہا ہوں میں آپ کو۔۔۔’ دروازے سے نکلتے ہوئے اُس نے داؤد کو کہتے سنا تھا لیکن جواب دیئے بغیر وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔
وہ نادم تھا مگر اُس ندامت کے اظہار کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ شاید اُس کے اور مومنہ سلطان کے ستارے ہی نہیں ملتے تھے اور کیوں نہیں ملتے تھے اُسے یہ جاننا تھا۔
٭…٭…٭
وہ سرخ آنکھوں اور سُتے ہوئے چہرے کے ساتھ لاؤنج میں داخل ہوئی تھی اور داخل ہوتے ہی پچھتائی تھی۔ وہاں سلطان بیٹھا ہوا تھا۔
”آج بہت دیر ہوگئی مومنہ۔”
”جی آبا دیر ہوگئی ۔ اب سونے جارہی ہوں آپ بھی سوجائیں۔”
وہ کہتے ہوئے رُکے بغیر اُن سے نظریں ملائے بغیر اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ اُس نے دُعا کی تھی سلطان نے اُس کی سرخ سوجی ہوئی آنکھیں نہ دیکھی ہوں۔ وہ اُس سے کچھ بھی پوچھنے نہ آئے۔ دُعا قبول نہیں ہوئی تھی۔
اُس نے کمرے میں آکر اُس گلاس vaseمیں پڑے سفید گلاب نکال کر اُنہیں ابھی ڈسٹ بن میں پھینکا ہی تھا جب وہ دروازہ بجا کر اندر داخل ہوا تھا۔
”ابا کوئی سوال نہ پوچھئے گا۔ میں بہت روئی ہوں اب اور رونا نہیں چاہتی۔ ” اُس نے سلطان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا۔
”کس نے رُلایا ہے تمہیں؟” سلطان کچھ دیر کھڑا رہا تھا پھر کچھ بے چین ہوکر اُس نے مومنہ سے پوچھا تھا۔
”میں حسنِ جہاں ہوں۔۔۔ کون رُلائے گا مجھے ابا۔” اُس کی آنکھیں یک دم آنسوؤں سے بھر آئی تھیں۔
”قلبِ مومن ۔” سلطان نے بے اختیار کہا تھا۔
”وہ کیوں judgeکرتا ہے ہر عورت کو ۔۔۔ کیوں ہر عورت اُس کی نظر میں حسنِ جہاں ہے؟” وہ روتے ہوئے باپ سے پوچھ رہی تھی۔
”ہر عورت اُس کی نظروں میں حسنِ جہاں نہیں ہے۔ صرف حسنِ جہاں ہی حسنِ جہاں ہے۔ حسنِ جہاں کا زوال لکھا ہے قلبِ مومن نے اپنے ہاتھ سے۔۔۔”
سلطان صوفہ پر بیٹھتے ہوئے عجیب سے لہجے میں بڑبڑایا تھا۔
”اُس کی وجہ سے خودکشی کی تھی حسنِ جہاں نے؟ ” مومنہ نے یک دم پوچھا۔ سلطان نے سراُٹھا کر اُسے دیکھا۔
”کیسے مری تھی وہ؟” وہ اُسے کُرید رہی تھی۔
”اس سکرپٹ میں تو لکھا ہے کہ وہ دوسری شادی کرکے خوشی سے جیتی رہی تھی۔” وہ سلطان سے کہہ رہی تھی ۔ یوں جیسے حسنِ جہاں کی داستان کا باقی حصہ سُننا چاہتی تھی۔
”میں نے مارا تھا اُسے۔۔۔ یہ کام میں نے کیا تھا۔” سلطان بڑبڑایا تھا اور مومنہ جیسے فریز ہوگئی تھی۔
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۹ (آخری قسط) ۔۔۔۔ شاذیہ خان

Read Next

الف — قسط نمبر ۱۲ (آخری قسط)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!