الف — قسط نمبر ۱۱

سٹوڈیو میں داخل ہوتے ہی بے اختیار اُس کی جان میں جان آئی تھی۔ مومنہ سلطان ایک کرسی پر بیٹھی ہوئی سکرپٹ پر ایک پینسل سے کچھ نوٹس لکھ رہی تھی۔ قلبِ مومن کو لگا وہ ایک بار پھر زندہ ہوا ہے۔ یعنی وہ ناراضی کا کوئی معاملہ نہیں تھا۔
”آپ نے Paintingsواپس کیوں کردیں؟” اُس کے سامنے ایک دوسری کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہی مومن نے اُس سے پوچھا تھا۔ اُس نے سراُٹھا کر اُسے دیکھا اور وہ مسکرائی۔
”آپ ڈر گئے ہوں گے کہ شاید میں نے فلم چھوڑ دی ہے۔”
”نہیں خوف آپ کی ناراضگی کا تھا کہ پتہ نہیں اس بار کیا غلطی کر بیٹھا ہوں۔” مومن بھی مسکرا دیا تھا۔
”نہیں کسی ناراضگی کے بغیر لوٹائی ہیں میں نے یہ تصویریں۔” مومنہ نے مدھم آواز میں کہا تھا۔
”کیوں؟” مومن نے کُریدا۔
”میرے اُستاد ہیں ایک۔ انہوں نے ہی لوٹانے کا کہا ہے اس لئے لوٹادیں۔” اُس نے جواباً کہا ۔
”وہ اس فلم کا معاوضہ تھا۔” مومن نے جیسے اُسے یاد دلایا تھا۔
”یہ فلم تو بغیر معاوضے کے بھی کرلیتی میں۔” اُس کے جواب نے مومن کو حیران کیا تھا۔
”کیوں؟” اس بار مومنہ نے اُس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے کہا۔
”آپ بڑے سوال کرتے ہیں۔” وہ چند لمحوں کے لئے خاموش رہا پھر مسکرایا۔
”میری ماں بھی یہی کہا کرتی تھی۔” وہ جیسے بے اختیار کہہ بیٹھا اور پھر کہہ کر پچھتایا ۔ وہ دوسرا موقع تھا کہ وہ اُس کے سامنے کسی دوسری عورت کاذکر کررہا تھا اور مومنہ جانتی تھی وہ دوسری عورت کون تھی۔
”مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ میں وہ پینٹنگز آپ کو واپس بھیج دوں۔ وہ میرا کل اثاثہ ہیں۔۔۔جو آپ لے گئی تھیں۔۔۔ باقی سب تو آ ہی جائے گا میرے پاس۔” ایک لحظہ کے لئے مومنہ کو شائبہ ہوا مومن کی آنکھوں میں نمی لہرائی تھی مگر پھر جیسے وہ آنکھیں چھپاتا ہوا اُٹھ کر گیا تھا۔
مومنہ کو یقین نہیں آیا تھا وہ شخص رو سکتا تھا۔۔۔ شکر گزار ہوسکتا تھا۔۔۔ احسان مند ہوسکتا تھا۔۔۔ اعتبار کرسکتا تھا۔۔۔رحم کرسکتا تھا۔۔۔ مومنہ سلطان بس یہ بھول گئی تھی وہ قلبِ مومن تھا۔مومن ہوجانے میں دیر ہی کتنی لگتی اُسے۔
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

عبدالعلی کی وہ ساری Paintingsاُس کے گھر کی مختلف دیواروں پر لگی ہوئی تھیں۔ اُس کے بیڈ روم میں گیسٹ روم میں ڈرائننگ۔۔۔لاؤنج۔۔۔ ہر جگہ جیسے عبدالعلی کی ایک نشانی سجادی تھی اُس نے۔۔۔ یوں جیسے وہ چاہتا تھا وہ آیات اُس کے آس پاس نظر آتی رہیں اُسے یاد دلاتی رہیں کہ وہ کون تھا کہاں سے گزر کر آیا تھا۔
اُن تصویروں کو اپنے اپارٹمنٹ کی دیواروں پر سجاتے ہوئے اُسے مومنہ کے ساتھ ساتھ اُس اُستاد کا بھی خیال آتا رہا تھا جس نے مومنہ کو کہا تھا کہ وہ اُسے یہ ساری paintingsواپس کردے اور قلبِ مومن اُلجھا تھا اس بات پر ۔۔۔ آخر اُس آدمی کو کیا پڑی تھی کہ وہ اُسے اُس کی چیزیں واپس دلاتا۔ وہ اگلا ایک ہفتہ پاکستان سے باہر تھی ورنہ اگلے دن قلبِ مومن اُس سے ضرور پوچھ لیتا اور جب تک وہ دوبارہ آئی تھی قلبِ مومن اُس اُستاد کو بھول چکا تھا۔
٭…٭…٭
وہ دبئی سے واپس پاکستان آئی تھی اور پہلے دن اُس کا استقبال اپنے آفس میں مومن نے دو سفید گلابوں کے ساتھ کیا تھا۔
”میں نے سوچا پرانے والے مرجھا گئے ہوں گے۔” اُسے متامل دیکھ کر مومن نے کہا تھا۔
”اب یہ مت پوچھیئے گا مجھے کیسے پتہ چلا اُن کے مرجھانے کا۔” وہ اُس کی بات پر ہنس پڑی تھی۔
”پھول چار دن میں مرجھا جاتے ہیں اور اُنہیں تو بہت دن ہوگئے۔”مومنہ نے مسکراتے ہوئے اُس سے پھول لے لئے تھے۔
”آپ پانی میں رکھتی ہوں گی اس لئے مرجھا گئے۔۔۔ اپنے بالوں میں لگاتیں تو کبھی نہ مرجھاتے۔” اُس کے جملے پر اُس نے سیدھا مومن کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا۔
”آپ مجھ سے فلرٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟”
”میں آپ کا احترام کرتا ہوں۔” اُس کا جواب بھی اتنی ہی تیزی سے آیا تھا۔ مومنہ کو سمجھ میں نہیں آیا وہ اُسے مزید کیا کہتی۔
”یہ کیا ہے؟” مومن نے ایک لفافہ اُس کی طرف بڑھایا تھا۔
”فلم کی feesکا چیک۔۔۔ یہ اُدھار تھا مجھ پر۔۔۔ Paintingsتو واپس کردی ہیں آپ نے۔” مومنہ نے لفافہ کھول کر اُس میں سے وہ چیک نکال کر دیکھا۔ وہ بلینک چیک تھا۔ کچھ حیران ہوکر اُس نے مومن کو دیکھا۔
”آپ اپنی مرضی کا معاوضہ بھرلیں اس میں آپ سے کوئی رعایت نہیں مانگوں گا مگر میرا بینک بیلنس آج کل لامحدود نہیں ہے۔” اُس نے مسکراتے ہوئے مومنہ سے کہا تھا۔
صوفے پر بیٹھتے ہوئے مومنہ نے ایک نظر اُسے دیکھا پھر اپنے بیگ میں سے اپنا پین نکالا اور سامنے پڑے میز پر اُس چیک کو رکھ کر اُس پر ایک رقم لکھ دی۔ پھر کھڑے ہوکر چیک مومن کی طرف بڑھاتے ہوئے اُس نے کہا۔
”یہ ہے میرا معاوضہ۔۔۔ الف کے لئے مگر یہ آپ مجھے تب دیں جب فلم ریلیز ہوکر hitہوجائے۔ تب تک میں یہ سفید گلاب رکھتی ہوں۔” وہ کہتے ہوئے چیک اُسے پکڑا کر سٹوڈیو جانے کے لئے اُس کے کمرے سے نکل گئی تھی۔ مومن نے چیک پر نظر دوڑائی۔ اُس کی لکھی ہوئی رقم 0000001تھی۔
٭…٭…٭
سٹوڈیو اُس دن موسیقی سے گونج رہا تھا۔ جب مومنہ وہاں داخل ہوئی تھی۔ قلبِ مومن فلم کے میوزک ڈائریکٹر کے ساتھ بیٹھا ہوا وہ ساری دُھنیں سن رہا تھا جو وہ اُسے گٹار پر بجا بجا کر سنا رہا تھا اور مومن کچھ غیر مطمئن سا اُنہیں سنتے ہوئے سر ہلا رہا تھا۔ یوں جیسے جو وہ سن رہا تھا اُس سے وہ خو ش نہیں تھا۔
”ٹائٹل سونگ پر کام کررہے ہیں۔ آپ بھی سنیں ذرا۔” اُس نے مومنہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔ وہ بھی اُن سب کے پاس بیٹھ گئی۔
”مجھے ایسے بول چاہیے جس میں الف کی پوری تھیم آجائے۔” وہ اب lyricstسے کہہ رہا تھا جس نے اُسے کچھ lyricsسنائے تھے اور اُس نے rejectکردیئے تھے۔
”مجھے اللہ سے تعلق اُس سے بندے کی محبت کی لائنز چاہیے۔” وہ Lyricstسے کہہ رہا تھا اور اُس نے جواباً مومن سے پوچھا تھا۔
”اللہ سے تعلق۔۔۔؟ کیا تعلق ہے اللہ اور بندے کا۔۔۔ آپ مجھے بتادیں پھر میں وہی گیت کے بولوں میں کردیتا ہوں۔” Lyricstجہاں اُلجھا تھا وہاں اُس نے سیدھا مومن سے پوچھ لیا تھا۔ وہ اُس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔
پھر وہ سوال تھا جو اُس فلم کا سکرپٹ لکھنے کی کوشش میں پہلی بار رائٹر نے بھی اُس سے کہا تھا اور تب وہ اُسے کچھ نہیں کہہ سکا تھا اور یہ وہ سوال تھا جو اُس نے عبدالعلی سے ایک رات کیا تھا جب وہ یہ فلم خود لکھنے بیٹھا تھا اور بُری طرح اُلجھا ہوا تھا۔
”اپنی فلم کے لئے ایک ایسی کہانی لکھنے کی کوشش کررہا ہوں جو انسان اور اللہ کا تعلق بتائے۔۔۔ پر ابھی تک کہانی کا نام تک نہیں لکھ سکا میں۔۔۔ بس بار بار اپنا نام لکھتا رہتا ہوں پہلے Pageپر۔۔۔A story by QALB E MOMIN۔”
اُس نے عبدالعلی کے سامنے اپنی بے چارگی کا اظہار کیا تھا۔ اُنہیں وہ کاغذ دکھاتے ہوئے جو بالکل خالی تھے اور پہلے صفحے پر اُس کے نام کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ رات کو اُس وقت اُس کے کمرے میں کسی کام سے آئے تھے اور مومن کو انہوں نے اُس کی سٹڈی ٹیبل پر جیسے کچھ زچ حالت میں دیکھا تھا۔
”انسان اور اللہ کا تعلق کیا ہے مومن؟” انہوں نے جواباً اُس سے پوچھا تھا۔
وہ ہنس پڑا تھا۔
”آپ مجھ سے وہی سوال کررہے ہیں دادا جو میرے رائٹرز نے مجھ سے کیا تھا۔”
”تم نے کیا جواب دیا؟”
”کوئی جواب تھا ہی نہیں میرے پاس۔” اُس نے کندھے اُچکاتے ہوئے دادا کے سامنے صاف گوئی سے کہا۔
”کیا تعلق ہے انسان اور اللہ کا۔۔۔ آپ تو جانتے ہوں گے؟” اس نے عبدالعلی کو جیسے کُریدتے ہوئے اُن سے پوچھا تھا۔
”اللہ کے نام میں ہے انسان اور اللہ کا تعلق۔۔۔ الف۔۔۔ایک سیدھی لکیر جیسا تعلق۔۔۔ جس کے ایک سرے پر اللہ ہے اور دوسرے سرے پر بندہ۔۔۔ الف سیدھا ہے تو اللہ بے حد قریب۔۔۔ الف ٹیڑھا کردے انسان تو نہ بندے کو اللہ کا پتہ لگے گا نہ اللہ بندے کی خبر رکھے گا۔”انہوں نے مدھم آواز میں اُس سے کہا تھا۔
”اور میرا الف ہمیشہ سے ٹیڑھا ہے۔” اُس نے بے ساختہ کہا تھا۔
”تو سیدھا کرلو۔۔۔ تمہارے ہاتھ میں ہے ساری لکیروں کی طرح یہ لکیر بھی۔” انہوں نے نرمی سے کہتے ہوئے اُس کے سکرپٹ کے پہلے صفحے پر اُس کے نام سے اوپر ALIFلکھ دیا تھا۔
”اللہ کے نام میں ہے انسان اور اللہ کا تعلق۔۔۔الف۔ ۔۔جس کے ایک سرے پر اللہ ہے اور دوسرے سرے پر بندہ۔۔۔ الف سیدھا ہے تو اللہ بے حد قریب ۔۔۔ الف ٹیڑھا کردے بندہ تو نہ بندے کو اللہ کا پتہ ہوگا نہ اللہ بندے کی خبر رکھے گا۔”
وہ عجیب انداز میں دادا کے جملے وہاں بیٹھے دہراتا چلا گیا تھا۔ کسی معمول کے انداز میں جو سحر زدہ تھا۔ وہاں سٹوڈیو میں کچھ دیر کے لئے سب پر خاموشی چھا گئی تھی یوں جیسے کسی کو مومن سے ایسی وضاحت دے پانے کی توقع ہی نہ ہو۔ مومنہ دم بخود اُس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ قلبِ مومن ایسی گفتگو کرسکتا تھا ۔ یہ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا مگر وہ جملے جیسے تتلیوں کی طرح اُس کی سماعتوں پر رقصاں تھے اور وہ اُسے دیکھتی جارہی تھی۔ وہ اب میوزیشن اور شاعر کے ساتھ ایک بار پھر گفتگو میں مصروف تھا۔ اُس نے مومنہ کی طرف نہیں دیکھا تھا۔
٭…٭…٭
اُس کے کمرے میں اُس vaseمیں دوسرے رکھے ہوئے سفید گلابوں کے ساتھ ہی دو تازہ سفید گلاب بھی پانی میں رکھے ہوئے تھے۔ اُس نے مومن کے دیئے ہوئے اُن پہلے گلابوں کو بھی نہیں پھینکا تھا۔
اُس رات سٹوڈیو سے واپس آکر وہ اُن سفید گلابوں کے سامنے دوبارہ آکر کھڑی ہوگئی تھی۔
”کچھ غلط ہورہا ہے یہ جو بھی ہورہا ہے اور یہ نہیں ہونا چاہیے۔” اُس نے اپنے آپ سے بڑبڑاتے ہوئے کہا تھا۔ وہ خود کو سرزنش کررہی تھی۔
لیکن مومن کے لفظ نہ اُس کے دل کو چھوڑنے پر تیار تھے نہ ذہن کو نہ اُس کی سماعتوں کو۔۔۔وہ حسنِ جہاں کا کردار ادا کرتے کرتے قلبِ مومن کے سامنے ویسے ہی بے اختیار ہورہی تھی جیسے حسنِ جہاں تھی۔ اور وہ بے اختیار ہونا نہیں چاہتی تھی۔
پیار صرف اندھا نہیں ہوتا ۔۔۔بہرا بھی ہوتا ہے۔ عقل کی کسی دلیل کو نہ مانتا ہے نہ سنتا ہے۔
٭…٭…٭
”یہ کہانی ایک لیٹر باکس سے شروع ہوتی ہے جو ایک بچہ بناتا ہے تاکہ وہ اُس کے ذریعہ سے اللہ سے وہ سب کچھ مانگ سکے جو اُس کی خواہش ہے۔”
قلبِ مومن سکرپٹ ہاتھ میں پکڑے سٹول پر بیٹھا پوری کاسٹ کے ساتھ ریڈنگ سیشن کرتے ہوئے الف کی کہانی سکرپٹ کو دیکھے بغیر اُنہیں سنارہا تھا۔ اور وہ سب اُس کہانی کو سنتے ہوئے جیسے جھوم رہے تھے۔ اور اُنہیں سب میں مومنہ سلطان بھی تھی جو باقی سب کے برعکس قلبِ مومن کی سنائی ہوئی کہانی کے دوران کسی تاثر کے بغیر بیٹھی تھی۔ پینسل سے وہ سکرپٹ کے اوپر لاشعوری طور پر کچھ نہ کچھ بنارہی تھی اور وہ اُس کی اُلجھن ظاہر کررہا تھا۔
مومن نے انٹرویل سے پہلے کا ایک ایک سین جیسے زبانی سنایا تھا۔ ڈائیلاگز اُسے رٹے ہوئے تھے۔ کرداروں کے بارے میں ایک ایک بات اُسے ازبر تھی۔مومنہ یہ نہ جانتی ہوتی کہ یہ اس کی ”آپ بیتی” تھی کہانی نہیں تو وہ اُس سے متاثر ہوجاتی جیسے وہ سب ہورہے تھے جو اُس کے جملوں اور سچوشنز کو سُن سُن کر سر دُھن رہے تھے۔
”کمال انٹرویل ہے مومن بھائی۔۔۔ audienceکو ہلنے نہیں دے گا سینما سے۔۔۔ تو انٹرویل پر کہانی کے ولن سلطان کی اینٹری ہوتی ہے۔ اور وہ اس گھر کا سکون تباہ و برباد کرنے والا ہے۔ ایسا ہی ہے نا؟” عباس نے تالیاں بجاتے ہوئے جیسے مومن کو انٹرویل سے پہلے تک کے سکرپٹ پر داد دی تھی اور پھر پوچھا تھا اور مومنہ اپنے باپ کے نام پر جیسے کٹ کر رہ گئی تھی۔
”ہاں۔۔۔ اور اب ذرا سلطان کے کریکٹر کو بھی ڈسکس کرلیتے ہیں۔” مومن نے عباس کو جواب دیتے ہوئے زیاد سے کہا تھا جو سلطان کا رول کررہا تھا۔
”عالیہ کا میک اپ آرٹسٹ رہا ہے وہ اور صرف میک ا پ آرٹسٹ نہیں اُس کا بوائے فرینڈ بھی جو اُس کی شادی عالیان سے کبھی نہیں ہونے دینا چاہتا۔ ایک بے حد شاطر انسان جس نے عالیہ کو ہمیشہ exploitکیا۔ اُس کو اُس کی فیملی کی طرح کمائی کا ذریعہ سمجھا اور اُس سے بہانوں بہانوں سے پیسہ لوٹتا رہا اور عالیہ ہمیشہ یہ سمجھتی رہتی ہے کہ سلطان اُس سے سچی محبت کرتا تھا۔”
قلبِ مومن سلطان کا کردار وضاحت کے ساتھ بیان کررہا تھا اور مومنہ کی بے چینی بڑھ رہی تھی۔
”عالیہ اتنے سالوں کی غربت کی زندگی میں رہنے کے بعد دوبارہ گلیمر کی دنیا میں واپس جانا چاہتی ہے اور اس کے لئے وہ اپنے شوہر کو دھوکہ دیتے ہوئے ایک بار پھر سلطان کا سہارا لیتی ہے۔” مومن اپنی بات جاری نہیں رکھ سکا تھا۔ مومنہ نے مداخلت کی تھی۔
”میرا ایک سوال ہے۔” قلبِ مومن نے چونک کر اُسے دیکھا تھا۔
”جی مومنہ۔۔۔کہیے۔” مومن نے اُس سے کہا تھا۔
”مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ جو عورت اپنے بچے کا زخم نہ دیکھ سکے اور اُس کے ہاتھ سے لگنے والی چوٹ کو بھی ہنس کر سہہ جائے وہ اتنی کمزور کیسے پڑ گئی کہ اُسے سلطان کی ضرورت محسوس ہونے لگی؟” مومنہ نے سکرپٹ میں ایک شرو ع کے سین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔
”Pointتو validہے باس۔۔۔ عالیہ کی کچھ سمجھ نہیں آرہی۔۔۔ وہ عالیان اور عبداللہ کے بارے میں پاگل ہے اور پھر بھی دھوکہ دے گی اُن دونوں کو۔” عباس نے یک دم مومنہ کے اعتراض پر اُس کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا۔
”عورتیں جذباتی اور کمزور ہوتی ہیں۔ خاص طور پر شوبز کی عورتیں۔۔۔ بھٹک جاتی ہیں۔ گھر بنانا صرف خاندانی عورتوں کا کام ہوتا ہے۔۔۔ بُرا مت منایئے گا مومنہ جی۔” سلطان کا رول ادا کرنے والے اداکار زیاد نے کہنا شروع کیا تھا اور بات کرتے کرتے اُسے اچانک مومنہ کا خیال آیا تھا اور اُس نے کچھ گڑبڑا کر آخری جملے میں اُس سے معذرت کی تھی۔
”نہیں نہیں۔۔۔ معذرت کی کیا ضرورت ہے یہ جملے اتنی بار سُنے ہیں اپنے بارے میں کہ اب ان کا زہر بھی امرت کی طرح لگتا ہے۔۔۔ آپ کیوں شرمندہ ہورہے ہیں۔” مومنہ نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ زیاد سے کہا تھا اور پھر مومن کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”عورت ہوتی تو بھٹک جاتی ماں نہیں بھٹکتی۔۔۔ وہ صرف exploitہوتی ہے تو بچے کے لئے۔۔۔ ہوسکتا ہے عالیہ بھی ہوئی ہو۔ اپنے بچے کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے۔۔۔ ہوسکتا ہے وہ اپنی کوئی چیز بیچنا چاہتی ہو اس لئے بلایا ہو اُس نے سلطان کو۔” مومن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے اُس نے کہا تھا۔
قلبِ مومن کو اُس کی آنکھوں کے تاثر نے پریشان کیا تھا۔ وہ کہانی اُس نے لکھی تھی وہ اُس کے کرداروں کا motiveکیسے جان سکتی تھی۔۔۔؟ وہ رائے دے رہی تھی مشورہ یا اُس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔ مومن کو سمجھ نہیں آیا تھا۔

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۹ (آخری قسط) ۔۔۔۔ شاذیہ خان

Read Next

الف — قسط نمبر ۱۲ (آخری قسط)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!