Tag: Urdu fiction

  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۳

    تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۳

    دروازے پر لگی گھنٹی کو دوبار بجایا گیا تھا۔ فاطمہ کچن میں مصروف تھی۔ گھر میں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا وہ چاول دھو رہی تھی۔ چاول دھوتے دھوتے وہ برتن رکھ کر ہاتھ پونچھتے ہوئے جب تک دروازے کے پاس آئی۔ دروازے پر لگی گھنٹی ایک بار پھر بجنے لگی تھی۔ شہیر اور ثمر دونوں اس طرح اس وقت گھنٹی بجا کر نہیں آتے تھے اور محلے میں سے جب بھی کوئی آتا، وہ عام طور پر دروازہ ہی بجایا کرتا تھا۔
    ”کون؟” فاطمہ نے اندر سے ہی پوچھا۔ دروازے کے دوسری طرف کچھ کھسر پھسر ہوئی فاطمہ کو اندازہ ہو گیا کہ وہاں دو افراد موجود تھے۔
    ”فاطمہ! دروازہ کھولو۔” کسی نسوانی آواز نے اس سے کہا۔
    فاطمہ نے دروازہ کھول دیا۔ زمین جیسے یک دم اس کے پیروں کے نیچے سے نکل گئی تھی۔ اسے دروازے پر کھڑے لوگوں کو پہچاننے میں وقت نہیں ہوئی تھی مگر بعض دفعہ پہچاننا اذیت ناک ہوتا ہے۔ اس وقت بھی ہو رہا تھا۔ اسے لگا اس کا گھر یک دم کسی بھونچال کی زد میں آگیا تھا۔
    ٭٭٭
    ”شہیر بھائی؟”نایاب نے قدرے حیرانی سے ثمر سے کہا۔
    ”ہاں شہیر بھائی۔”ثمر نے اثبات میں سر ہلایا۔
    ”مگر میری ممی شہیر بھائی سے کب ملیں ؟”نایاب کو حیرت ہو رہی تھی۔
    یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ شائستہ ‘شہیر سے مل کر اس طرح باتیں کرتیں وہ تو خود اسے ثمر سے ملنے سے سے منع کر رہی تھیں ۔ پھر شہیر کو اس طرح کے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔
    ”ایک بار نہیں تمہاری ممی کئی بار شہیر بھائی سے ملی ہیں۔”
    ثمر نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا ۔ وہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا شائستہ کا انکشاف نایاب کے لیے بھی انکشاف ہی تھا ۔ اور نایاب کے چہرے کے تاثرات دیکھنے پر اسے یہ اندازہ ہو گیاتھا کہ وہ صرف انکشاف نہیں تھا۔وہ نایاب کے لیے شاک بھی تھا۔
    ”مگر ممی تمہارے بھائی سے کیوں ملیں گی وہ تو مجھے …”نایاب بے اختیار کہتے کہتے رک گئی۔
    ”مجھے کیا ؟”ثمر نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔




    ”مجھے بالکل یقین نہیں ہے اس بات کا کہ ممی تمہارے بھائی سے ملتی رہی ہیں۔”نایاب نے اس کے سوال کا جواب گول کرتے ہوئے کہا۔ ممی کا آخر تمہارے بھائی سے تعلق کیا ہے۔ وہ تو تب تک انہیں جانتی بھی نہیں تھیں جب تک میں نے انہیں تم لوگوں سے نہیں ملوایا۔ اور ممی نے کبھی گھر میں تمہارے بھائی کا ذکر نہیں کیا۔”
    ”مگر شہیر بھائی ہر بار تمہاری ممی سے ملنے کے بعد گھر میں اس ملاقات کا احوال بتاتے تھے ۔ اس لئے میں کم از کم یہ نہیں مان سکتا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہوں گے۔ ”
    ثمر نے نایاب کی بات کاٹ کر کہا ۔ اسے نایاب کے لہجے سے اندازہ ہو رہا تھا۔ کہ وہ اگلے کسی جملے میں شہیر کو جھوٹا ہی کہتی۔ وہ اسی طرح بے دھڑک کوئی بات کرنے والی تھی اور ثمر اس کے منہ سے شہیر کے بارے میں اس طرح کی بات نہیں سن سکتا تھا۔
    چند لہحے تک دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے رہے۔ اگر پچھلادن ثمر کے لیے بدترین تھا تو آج کا دن نایاب کے لیے مگرنایاب کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ صرف ابتدا تھی۔بد ترین انکشافات ابھی باقی تھے۔
    ”اگر ممی تمہارے بھائی سے ملتی رہی تھیں تو تم نے پہلے مجھے کیوں نہیں بتایا؟”نایاب کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی۔
    ”بتایا تو انہوں نے بھی تمہیں نہیں ہے۔ ”ثمر نے کہا۔
    ”تم اپنی بات کرو۔”نایاب نے کچھ ناراضی سے کہا۔
    ”میں نے ضروری نہیں سمجھا ۔ آخر کیا کہتا تم سے؟ثمر نے کندھے اچکائے۔
    ”شہیر بھائی ان ملاقاتوں کو اتفاقیہ سمجھتے رہے تھے اور میں بھی یہی سمجھتا رہا۔ ”
    ”تو ہو سکتا ہے وہ ملاقاتیں اتفاقیہ ہی ہوں ۔”نایاب کو یک دم کچھ حوصلہ ہوا۔
    ”اتفاقیہ ملاقاتوں کے نتیجے میں کوئی کسی کی پروموشن کرواتا ہے نہ پے بڑھواتا ہے۔”
    ”ممی نے کس کی پروموشن…”نایاب نے بات ادھوری چھوڑی پلک جھپکتے میں اس کی سمجھ میں آگیا تھا۔ کہ ثمر کس کی بات کر رہا ہے۔
    ”ہاں ‘تمہاری ممی نے شہیر بھائی کے باس سے کہہ کر انکی پروموشن کروائی ہے۔ ”
    نایاب کی ٹانگیں یک دم کانپنے لگیں ۔ وہ اپنے باپ اور ماں دونوں کے نت نئے افیئرز سے واقف تھی۔ اس نے باپ کی طرح ماں کو بھی اپنے سے بہت کم عمر لڑکوں کے ساتھ وقت گزاری کرتے دیکھا تھا مگر وہ سب لڑکے ان کی اپنی کلاس کے ہی ہوتے تھے۔ شائستہ انہیں ہارون کی طرح دوستی کا نام دیتی تھی اور نایاب اور اسد نہ چاہتے ہوئے بھی ان لوگوں سے ہیلو ہائے کر لیتے تھے۔
    نایاب کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ شائستہ ا س کے دوست کے بھائی کے ساتھ اس طرح انوالو ہوگی اور خود اسے اس کے ساتھ میل جول رکھنے سے منع کرے گی۔
    ”تمہیں اگر اب بھی یقین نہیں آرہا تو تم اپنی ممی سے پوچھ لو۔”ثمر اس کی دلی کیفیات سے بے خبر کہتا رہا تھا۔
    ”تمہاری ممی نے شہیر بھائی سے کہا کہ وہ ان سے اس لیے بار بار مل رہی ہیں کیونکہ انہیں دیکھ کر انہیں اپنا گمشدہ بیٹا یاد آرہا ہے۔”
    نایاب نے بے اختیار آنکھیں بند کر لیں ۔ اسے شائستہ سے گھن آئی تھی۔ وہ شہیر کو پھانسنے کے لیے کس سطح پر گر گئی تھی۔
    ”انہوں نے شہیر بھائی کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کو ۔آج تک ڈھونڈ رہی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ کبھی نہ کبھی وہ انہیں دیکھ کر انہیں پالیں گی۔ اب تم کہہ رہی ہو کہ تمہیں ایسے کسی بھائی کا پتہ نہیں ۔”ثمر نے الجھے ہوئے اندازمیںکہا ۔”پھر سچ جھوٹ کا فیصلہ کس طرح ہو تم خود طے کر سکتی ہو کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ۔ تمہاری ممی شہیر بھائی سے اس طرح کے سوالات کر رہی تھیں جیسے انہیں شک ہو کہ وہ ہمارا بھائی نہیں ان کا بیٹا ہے اورمیری امی ہی وہ خاتون ہیں جو انہیں اغوا کر کے لے گئی ہوں۔”
    ”ثمر!جہاں تک میں جانتی ہوں اسد بھائی کے علاوہ میرا اور کوئی بھائی نہیں ہے۔”نایاب نے لرزتی ہوئی آواز میں اس کی بات کاٹ دی۔
    ”اور اگر ایسا کبھی کچھ ہوا بھی تھا تو میں اس کے بارے میں نہیں جانتی ۔ ممی نے کبھی ہم لوگوں سے ایسی بات نہیں کی اور ممی نے کیا پاپا نے بھی کبھی ا یسا کچھ نہیں کہا۔ ”نایاب بے حد پریشان نظر آرہی تھی۔
    ”اور اگراس طرح کی کوئی بات تھی اور وہ تمہارے بھائی سے مل رہی تھیں تو انہیں مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی۔ وہ تو مجھے تم سے ملنے سے منع کرتی رہی ہیں۔اس بار نایاب نے یہ بات نہیں چھپائی تھی۔
    ”تم لوگوں کی فیملی بیک گراؤنڈ کے بارے میں وہ مجھ سے بھی شروع میں پوچھتی رہی تھی مگر میں یہی سمجھتی رہی کہ وہ ایسا صرف احتیاطاً کر رہی ہیں کیونکہ میری تم سے دوستی ہوگئی تھی۔ اس لیے مجھے کبھی یہ شبہ نہیں ہو اکہ وہ یہ چھان بین شہیر بھائی کے حوالے سے کر رہی ہیں…میرے لیے یہ ساری باتیں ناقابل یقین ہیں۔”نایاب نے بے بسی سے کہا۔
    ”تمہاری جگہ کوئی اور مجھ سے یہ سب کچھ کہتا تو میں سمجھتی کہ وہ بکواس کر رہا ہے۔ میری ممی پر الزام لگا رہا ہے۔گمشدہ بھائی…تم خود سوچو کیا یہ قابل یقین بات ہے؟”
    ”نہیں…لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور ان کو ایسے کسی حادثے کا سامنا نہیں کرناپڑا تو پھر شہیر بھائی سے ملاقاتوں کا مقصد کیا ہے اور اس طرح کی عنایات اور پھر اس طرح کی باتیں …میں کیا کہوں اس سب کو ؟”
    ”میں ممی سے بات کروں گی۔” نایاب نے پرسوچ اندازمیں کہا۔
    ”تمہیں پتا ہے مجھے یوں لگتا ہے میری فیس کی ادائیگی بھی تمہاری ممی نے کی ہے ۔”ثمر نے یک دم جیسے کوئی خیال آنے پر کہا۔
    نایاب کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
    اور صرف اتنا ہی نہیں ‘تمہیں پتہ ہے ثانی کے لیے کسی نے کچھ رقم آئی بی اے کے اخراجات کے لیے بھجوائی ہے…مجھے لگتا ہے یہ عنایت بھی تمہاری ممی ہی کی ہے کیونکہ جس آدمی کا نام ا س خط پر لکھا تھا اسے ہم نہیں جانتے۔ اس کا پتہ بھی غلط ہے اور کوئی کیوں یک دم ہمیں لاکھوں روپے دینا شروع کر دے گا۔ ”ثمر کہہ رہا تھا۔ اور نایاب ہکا بکا اس کی باتیں سن رہی تھی۔
    ”یہ سب کچھ تب سے ہونا شروع ہوا ہے جب سے تمہاری ممی نے شہیر بھائی سے ملنا شروع کیا ہے۔ ”
    ثمر بات کرتے ہوئے جیسے کڑی سے کڑی ملا رہا تھا۔ نایاب کا دل چاہا ۔ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے ۔ آخر شائستہ کس حوالے سے ان لوگوں پر لاکھوں لٹا رہی تھی۔ کیا صرف شہیر کے چکر میں یا پھر وہ واقعی اسے اپنا بیٹا سمجھ رہی تھی۔ یہ کیا مذاق تھا؟ اس عمر میں پہلی بار ایک گمشدہ بیٹے کی کہانی سامنے آئی تھی۔ اور نایاب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ اس بات پر ہنسے یاروئے۔
    ٭٭٭
    شائستہ ڈائنگ روم سے اٹھ کر تیار ہونے کے لیے اپنے بیڈ روم میں آئی مگر اس کا ذہن مسلسل ہارون اور منصور کے بارے میں سوچ ر ہا تھا۔ آخر دونوں کے درمیان کیا ہو رہا تھا۔ اس نے فوری طور پر ان کی مشترکہ فیکٹری جانے کا فیصلہ کیا۔ اسے یقین تھا کہ اگر ان کے درمیان بزنس کے حوالے سے کوئی اختلافات ہیں تو وہ فیکٹری جا کر بہت آسانی سے ان اختلافات کا سرا ڈھونڈ سکتی تھی۔ وہ یک دم منصور سے ایک ملاقات کی ضرورت محسوس کرنے لگی تھی۔
    تیار ہوتے ہوئے اچانک اسے رات والی انگوٹھی یاد آئی۔وہ رات کو اسے غور سے نہیں دیکھ سکی تھی۔ وہ اس کی مالیت کا اندازہ لگانا چاہتی تھی۔ بالوںمیں برش کرتے کرتے وہ اپنے بیڈ کی طرف چلی آئی۔ برش کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس نے دراز کو پور اکھولا اور اندر موجود چیزوں کو ادھر ادھر کرتے ہوئے انگوٹھی تلاش کرنے لگی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا اس نے رات کو ہارون سے جھگڑے کے دوران انگوٹھی کو دراز کے اندر ہی پھینکا تھا۔ مگر اس وقت چیزوں کو ادھر ادھر کرنے پر بھی اسے وہ انگوٹھی کہیں نظر نہیں آئی تھی ۔ کچھ الجھتے ہوئے اس نے دراز کو باہر کھنیچ لیا اور اس میں موجود چیزوں کوبیڈ پر الٹ دیا ۔ دراز میں اتنی چیزیں نہیں تھیں کہ اسے ان میں کسی چھوٹی سی چیز کو ڈھونڈ نے میں زیادہ وقت لگتا اور خاص طور پر اب جب سب کچھ اس کے سامنے بکھر اہوا تھا۔ وہ ایک نظر میں بھی دیکھ سکتی تھی کہ ان چیزوں کے درمیان اس انگوٹھی کا نام و نشان بھی کہیں نہیں ہے۔




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۲

    تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۲

    منصور علی کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ وہ بلاشبہ رخشی تھی۔ چوبیس پچیس سال کے اس لمبے تڑنگے نوجوان کے ساتھ بلاشبہ وہ وہی تھی۔ وہ دونوں پی سی کی لابی میں کھلنڈرے اور بے فکرے انداز میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے باتیں کرتے اور قہقہے لگاتے ہوئے ونڈو شاپنگ کر رہے تھے۔ منصور کو اپنا خون کھولتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے رخشی کو اس سے پہلے کبھی کسی مرد کے ساتھ اتنی بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔
    وہ اس وقت عام طور پر اپنے آفس میں ہوتا تھا۔ یہ صرف ایک اتفاق تھا کہ آج وہ اپنے کسی کلائنٹ سے ملنے پی سی آیا تھا اور ملاقات کے بعد لابی سے گزرتے ہوئے رخشی اس کی نظروں میں آ گئی۔ کچھ دیر کے لیے تو وہ یہ یقین ہی نہیں کر پایا کہ وہ واقعی رخشی کو ہی وہاں دیکھ رہا ہے۔ اسے اس وقت گھر پر اس کے بیٹے کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ وہ اکیلی ہوتی تو وہ اس کے پاس چلا جاتا مگر سارا مسئلہ اس کے ساتھ وہاں موجود دوسرے لڑکے کا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل چاہا کہ وہ ہر لحاظ بالائے طاق رکھتے ہوئے سیدھا رخشی کے پاس جائے اور اس کا بازو پکڑ کر کھینچتے ہوئے اسے وہاں سے لے جائے۔ مگر پھر اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور رخشی کو کال کرنے لگا۔ موبائل کی بیل بہت دیر تک بجتی رہی۔ رخشی اسی طرح اپنے ساتھی لڑکے کے ساتھ گپیں لگاتی رہی۔ پھر شاید اس کے ساتھی لڑکے نے ہی اس کے پرس میں بجتے فون کی طرف اس کی توجہ مبذول کروائی تھی۔
    منصور نے رخشی کو چونکتے اور اپنے پرس سے موبائل نکال کر اس پر موجود نمبر دیکھتے اور پھر موبائل کو آف ہوتے سنا۔ اس نے بے اختیار دانت کچکچائے۔ رخشی نے موبائل کو مسکراتے ہوئے دوبارہ پرس میں ڈالا اور ساتھی لڑکے سے کچھ کہتے ہوئے اگلے شو کیس کی طرف بڑھ گئی۔
    منصور نے موبائل اپنی جیب میں رکھ لیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس وقت کیا کرے۔ اپنا سر پھوڑے یا رخشی کا۔
    رخشی اب اس کی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس کا تعاقب کرے مگر وہ جانتا تھا کہ ایسی صورت میں جلد یا بدیر وہ خود پر کنٹرول کھو دے گا۔
    خود پر جبر کرتے ہوئے وہ بالآخر وہاں سے چلا آیا۔ اس نے بہتر یہی سمجھا تھا کہ وہ رخشی کے گھر آنے پر ہی اس سے بات کرے۔
    اس دوپہر منصور علی نے بے شمار سگریٹ پھونک ڈالے تھے۔ وہ رخشی کے انتظار میں بیڈروم سے لاؤنج اور لاؤنج سے پورچ تک کے چکر کاٹتا رہا۔ سگریٹ کے ہرکش کے ساتھ وہ رخشی کے ساتھ گزارے ہوئے تمام لمحات یاد کرتا رہا۔ ماضی فلم کی طرح اس کے سامنے بار بار آتا اور جاتا رہا۔ اپنی آنکھوں سے رخشی کو ایک اور مرد کے ساتھ دیکھنے کے باوجود اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ رخشی اس کے ساتھ بے وفائی کر سکتی ہے۔ اسے دھوکا دے سکتی ہے۔ ان کی شادی کو دس بیس سال تو نہیں ہوئے تھے کہ رخشی اتنی جلدی اس سے اکتا جاتی اور پھر اس نے رخشی کے لیے بہت سی قربانیاں دی تھیں اپنی بیوی بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔ کیا رخشی کو یہ یاد نہیں رہا تھا؟ وہ بار بار چکر لگاتا خود سے پوچھتا رہا۔




    ”مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ مجھے کوئی غلط فہمی ہوئی ہو، رخشی کا اس لڑکے کے ساتھ ایسا کوئی تعلق نہ ہو۔” منصور کبھی ایک انتہا پر پہنچا کبھی دوسری پر۔ کبھی اسے رخشی ہر طرح سے مجرم نظر آتی اور کبھی وہ اس پر شک کرنے پر خود کو ملامت کرنے لگتا۔
    رخشی تقریباً روز ہی شاپنگ کے لیے باہر جایا کرتی تھی اور کئی بار باہر ہوتے ہوئے وہ منصور کا فون اٹینڈ نہیں کرتی تھی۔ منصور کو کبھی اس پر شک نہیں ہوا تھا۔ شک کی کوئی وجہ ہی نہیں تھی۔ چھوٹے موٹے اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود وہ ابھی بھی اس کی چہیتی بیوی تھی اور اس کے خیال میں وہ اس کی وفادار بھی تھی۔ اور اب ایک دم اسے تصویر کا دوسرا رخ نظر آنے لگا تھا اور زندگی میں پہلی بار ہی اس نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کی زحمت کی تھی۔
    رخشی اس کے گھر پہنچنے کے تقریباً تین گھنٹے کے بعد آئی تھی اور منصور کو پہلے سے گھر پر پا کر وہ ذرا نہیں چونکی۔
    ”آپ آج اس وقت گھر پر کیسے؟” اس نے منصور کو باہر پورچ میں گاڑی سے اترتے ہی دیکھ لیا تھا جو اس کی گاڑی کی آواز سن کر باہر آیا تھا۔
    منصور نے جواب دینے کے بجائے اس کا بازو پکڑا اور اسے تقریباً کھینچتے ہوئے اندر لے گیا۔ رخشی کے اوسان خطا ہو گئے۔
    ”کیا ہوا ہے آپ کو؟ کیا کر رہے ہیں؟” اس نے خود کو چھڑانے کے لیے مزاحمت کی تھی مگر وہ کامیاب نہیں ہوئی۔ منصور کچھ کہے بغیر اسے کھینچتا ہوا بیڈ روم میں لے گیا۔ بیڈروم کا دروازہ بند ہوتے ہی رخشی نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو منصور کی گرفت سے چھڑوایا۔
    ”کیا بدتمیزی ہے یہ؟” اس نے جھنجلاتے ہوئے کہا۔ ”گھر کے نوکر…”
    منصور نے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی۔ ”کہاں سے آ رہی ہو تم؟”
    رخشی کو اس کا سوال سمجھنے میں صرف ایک لمحہ لگا تھا۔ وہ جان گئی کہ منصور نے اسے باہر کسی کے ساتھ دیکھ لیا تھا اور پھر اسے خود پر قابو پانے میں چند سیکنڈ ہی لگے تھے۔
    ”شاپنگ کے لیے گئی تھی۔”
    ”کہاں؟”
    ”پی سی۔”
    ”کس کے ساتھ؟”
    ”اپنے کزن کے ساتھ۔” رخشی نے اطمینان سے کہا۔ منصور بے اختیار سٹپٹایا۔
    ”کزن…؟” کون سا کزن؟ میں تمہارے کسی کزن سے واقف نہیں۔”
    ”آپ میری فیملی کے کتنے لوگوں سے ملے ہیں کہ میرے ہر کزن سے واقف ہوتے؟”
    رخشی نے دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔
    ”کزن کے ساتھ اتنی بے تکلفی؟”
    ”آپ کے خاندان میں نہیں ہوتی ہوگی، میرے خاندان میں ہوتی ہے۔”
    منصور چند لمحہ پرُسوچ انداز میں اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
    ”آپ نے مجھے پی سی میں دیکھ لیا تھا تو اسی وقت میرے پاس آتے، میں آپ کو بھی اس سے ملواتی۔ اس طرح گھر میں آ کر تماشا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔”
    منصور کی خاموشی سے اسے یک دم شہہ ملی تھی۔ منصور اب بھی چپ چاپ اسے دیکھ رہا تھا۔
    ”میں نے اگر آپ سے اپنی مرضی سے شادی کی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ مجھ پر شک کریں۔” میں کہیں بھی، کسی بھی وقت، کسی سے بھی مل سکتی ہوں کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ آپ…”
    منصور نے یک دم اس کی بات کاٹی۔
    ”کیا نام ہے تمہارے اس کزن کا؟” رخشی کے ذہن میں فوری طور پرکچھ نہیں آیا۔ ایک لحظہ کی خاموشی کے بعد وہ بولی۔
    ”آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟”
    ”وجہ بتا دوں گا پہلے تم نام بتاؤ۔”
    ”خرم!”
    ”تم نے کہا کزن ہے۔ کس رشتے سے، چچا کا بیٹا ہے یا ماموں کا؟” منصور سرد مہری سے پوچھنے لگا۔
    ”وہ…” رخشی جواب دیتے ہوئے لڑکھڑائی۔ ”سیکنڈ کزن ہے۔”
    ”کیا کرتا ہے؟”
    ”بزنس۔” رخشی جھوٹ پر جھوٹ بول رہی تھی۔
    ”کس چیز کا بزنس؟”
    ”یہ تو میں نے اس سے نہیں پوچھا۔”
    ”کہاں رہتا ہے؟”
    ”آپ اتنی لمبی تفتیش کیوں کر رہے ہیں؟” اس بار وہ بے اختیار جھنجلائی۔ ”کیا آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے؟”
    ”میں تم سے پوچھ رہا ہوں کہ وہ کہاں رہتا ہے؟” منصور کا لہجہ اس بار پہلے سے زیادہ سخت تھا۔
    رخشی نے ایک علاقے کا نام بتا دیا۔ منصور نے مزید کوئی سوال کرنے کے بجائے اپنا موبائل نکالا اور اس پر ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔ رخشی قدرے بے چینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
    منصور رسمی سلام دعا کے بعد پوچھ رہا تھا۔
    ”رخشی کا کوئی کزن ہے خرم؟” رخشی ایک لمحے میں جان گئی کہ منصور کس سے بات کر رہا تھا۔ دوسری طرف صاعقہ تھی پہلی بار صحیح معنوں میں اسے پیروں کے نیچے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کی باتوں کی تصدیق کے لیے وہ صاعقہ کو فون کر دے گا۔
    ”ہاں خیریت ہے۔ بس آپ یہ بتائیں کہ اس کا کوئی کزن خرم ہے۔ اور اگر ہے تو وہ کہاں رہتا ہے؟”
    منصور کی نظریں فون پر بات کرتے ہوئے رخشی کے چہرے پر تھیں اور اس نے رخشی کا رنگ اڑتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ دوسری طرف سے صاعقہ کچھ کہہ رہی تھی۔ منصور نے اس کی بات سنی رخشی نے اس کی آنکھوں میں دیکھ لیا تھا کہ اسے دوسری طرف سے کیا جواب ملا ہوگا۔ صاعقہ کی بات سنتے سنتے اس نے اچانک فون بند کر دیا۔
    ”تمہاری ماں بہت چالاک ہے۔ تمہاری طرح اسے یہ تو یاد آ گیا ہے کہ تمہارا خرم نامی کوئی کزن ہے مگر یہ یاد نہیں آیا کہ وہ کہاں رہتا ہے؟” وہ آگ بگولہ ہوتے ہوئے بولا۔ ”اور اگر میں اس سے یہ پوچھ لیتا کہ وہ کس رشتے سے تمہارا کزن ہے تو مجھے یقین ہے۔ اس کا جواب تمہارے جواب سے مختلف ہوتا اور اگر میں اسے اس کا حلیہ بتانے کا کہتا تو پھر تو شاید وہ بول ہی نہ پاتی۔”
    اس نے ایک لمحہ کے لیے توقف کیا۔ ”اب تم اس کا صحیح تعارف مجھ سے کرواؤ گی یا پھر…”
    اس بار اس نے دانستہ طور پر اپنا جملہ چھوڑ دیا۔
    ”آپ کیا سمجھ رہے ہیں اس کا مجھ سے کیا رشتہ ہے؟” رخشی نے منصور کو دیکھا۔
    ”یہاں بات میری سمجھ کی نہیں ہو رہی تمہارے رشتے کی ہو رہی ہے۔” منصور حلق کے بل چلایا۔ ”کون ہے وہ تمہارا؟”
    ”دوست…” رخشی نے بے اختیار کہا۔ منصور کو یقین نہیں آیا۔
    ”بوائے فرینڈ؟” رخشی خاموشی سے منصور علی کو دیکھتی رہی۔ جو اسی انداز میں اسے دیکھ رہا تھا۔
    ”بوائے فرینڈ ہے وہ تمہارا؟” منصورعلی دھیرے سے بڑبڑایا۔
    ٭٭٭




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۰

    تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۰

    گھر میں کسی کو بھی ثمر کے کمرشل کی شوٹنگ کا پتہ نہیں تھا۔ صرف ثانیہ اس بارے میں جانتی تھی اور ثمر نے بہت منتوں کے بعد اس سے وعدہ لیا تھا کہ وہ شہیر یا فاطمہ کو اس بارے میں کچھ نہیں بتائے گی۔
    ثمر کے ہیئر اسٹائل میں ہونے والی تبدیلی کو شہیر نے بہت دلچسپی سے دیکھا تھا اور اس کی تعریف بھی کی تھی مگر اسے بھی یہ شک نہیں ہوا تھا کہ وہ ہیئر اسٹائل کسی آنے والے کمرشل کا نتیجہ بھی ہو سکتا تھا۔
    وہ کمرشل کی ریہرسلز اور شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے جتنا پُرجوش تھا’ بعد میں اتنا ہی خاموش ہو گیا تھا۔ ثانی کو چند دن اس کے رویے پر حیرت ہوئی تھی کہ اس نے ہمیشہ کی طرح اس کے کان کھانے کی کوشش کیوں نہیں کی’ کمرشل کے بارے میں بتابتا کے ‘ مگر پھر اس نے اسے نظر انداز کر دیا۔ لیکن وہ زیادہ دن اسے نظر انداز نہیں کر سکی تھی۔
    وہ کمرشل کی شوٹنگ کا پہلا دن تھا۔ ثمر شام کے قریب واپس آیا تھا اور ہمیشہ کی طرح سب کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد صحن کے تخت پر جا بیٹھا۔
    رات کافی گزر گئی’ جب کمرے کے اند کام کرتے کرتے ثانی کو اچانک ثمر کا خیال آیا۔ فاطمہ تب تک سو چکی تھی اور دوسرے کمرے میں شہیر بھی سو چکا تھا۔ کمرے کی صحن میں کھلنے والی کھڑکی سے اسے تخت پر لیٹا ہوا ثمر نظر آیا۔ اپنی کتاب بند کر کے وہ باہر نکل آئی۔
    ثمر اپنے دونوں بازو سر کے نیچے رکھے تخت پر سیدھا لیٹا آسمان کو دیکھنے میں مصروف تھا۔ ثانی اس کے پاس آ کر تخت پر بیٹھ گئی۔ ثمر اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ ثانی نے سر اٹھا کر سیاہ آسمان اور اس میں نظر آنے والے ستاروں کو دیکھا پھر ثمر کو دیکھا۔
    ”سارے تارے گن لیے؟” اس نے پوچھا۔
    ”ہاں۔” اس نے اسی طرح آسمان پر نظریں جمائے کہا۔
    ”کتنے ہیں؟”
    ”میری گنتی ختم ہو گئی ہے۔” ثمر نے اسی انداز میں کہا۔
    ”تب تو صرف سو ہی گن سکے ہو گے تم۔” ثانی نے پھر سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔
    ”نہیں۔”
    ”پھر؟”
    ”ایک سو ایک ہیں۔” اس نے اسی سنجیدگی سے کہا۔ ثانی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
    ”تو پھر اب سوجاؤ۔”
    ”سو جاؤں گا۔” وہ اسی سنجیدگی سے بولا۔
    ”تم نے مجھے اپنی شوٹنگ کے بارے میں نہیں بتایا؟” ثانی نے پوچھا۔




    وہ خاموشی سے آسمان کو دیکھتا رہا۔ ثانی کو اس کا انداز خلاف عادت لگا۔
    ”کیا بات ہے۔” اس نے قدرے تشویش کے عالم میں ثمر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    ”کچھ نہیں۔” اس نے مدھم آواز میں جواب دیا۔
    ”شوٹنگ ٹھیک نہیں ہوئی؟”
    ”نہیں۔ شوٹنگ ٹھیک ہوئی ہے۔”
    ”پھر کیا ہوا ہے؟”
    ”کچھ نہیں۔”
    ”تو پھر اس طرح چپ کیوں ہو؟”
    ”چپ کب ہوں’ باتیں تو کر رہاہوں۔”
    ”مگر عجیب سی باتیں کر رہے ہو۔”
    ”تم تو ہمیشہ ہی کہتی ہو کہ میری باتیں عجیب ہیں۔”
    وہ چند لمحے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کچھ اندازہ لگانے کی کوشش کرنے لگی۔
    ”تم پریشان ہو؟”
    اس بار ثمر نے نظریں آسمان سے ہٹا کر اسے دیکھا۔ ”پریشان کیوں ہوں گا؟” اس نے جواباً سوال کیا۔
    ”یہ تو تم مجھے بتاؤ۔”
    وہ یک دم اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ثانی کو اب کوئی شبہ نہیں رہا تھا کہ وہ پریشان تھا۔ اس کے برابر تخت پر بیٹھا وہ انگلی کے ناخن سے اپنے انگوٹھے کے ناخن کو کھرچنے لگا۔
    ”کیا بات ہے ثومی! ” ثانی نے بڑی نرمی کے ساتھ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    ”میں آج کل بہت عجیب عجیب باتیں سوچتا رہتا ہوں۔” اس نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”کیسی باتیں؟” اس نے ثمر کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
    ”بہت ساری باتیں۔”
    ”مثلاً؟” وہ کچھ دیر خاموش رہا۔
    ”میرے جیسے فیملی بیک گراؤنڈ کے ساتھ شوبز میں آگے جانا بہت مشکل کام ہے۔” اس نے بہت مدھم آواز میں کہا۔ ثانی نے بمشکل اس کی آواز سنی۔
    ”لوگ بہت سے سوال کرتے ہیں۔ میرے پاس جواب ہی نہیں ہوتا۔” وہ پھر رکا۔ ”یہاں کانٹیکٹس کی ضرورت ہے۔ سورسز کا استعمال آنا چاہیے۔ میرے پاس تو دونوں ہی نہیں ہیں اور فیملی بیک گراؤنڈ تو …” وہ چپ ہو گیا۔ ثانی نے اس کی رنجیدگی کو محسوس کیا۔
    ”میں اسی لیے تم کو منع کرتی تھی کہ شوبز میں آنے کا خیال اپنے دل سے نکال دو۔” ثانی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ ”یہ ہمارے جیسے لوگوں کی فیلڈ نہیں ہے۔ اس کمرشل کو بھی چھوڑ دو۔”
    ”نہیں۔” اس نے دو ٹوک انداز میں سرہلایا۔ ”میں نہیں چھوڑوں گا۔ مجھے جو کچھ کرنا ہے’ اسی فیلڈ میں کرنا ہے۔ یہ نہیں کر سکوں گا تو کچھ بھی نہیں کروں گا۔”
    ”تو پھر یہ سب کچھ کیوں سوچ رہے ہو۔ یہ سب کچھ تو ایسے ہی رہے گا۔ بیک گراؤنڈ بھی’ ہمارا اسٹیٹس بھی اور لوگوں کے سوال بھی۔” ثانی نے کندھے اچکائے۔
    ”میں ان سب چیزوں سے ڈرتا نہیں ہوں’ صرف تکلیف ہوتی ہے مجھے۔”
    ثمر نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”کیا ان بیساکھیوں کے بغیر میں کچھ نہیں ہوں۔ میرا ٹیلنٹ کچھ بھی نہیں ہے؟۔” اس نے جیسے احتجاج کیا۔
    ”ٹیلنٹ کو آج کے دور میں پروں کی ضرورت ہوتی ہے یا پیروں کی اور یہ دونوں چیزیں اسے ہم جیسے لوگ نہیں دے سکتے۔” ابھی تو تم نے چند دن ایک کمرشل کے لیے گزارے ہیں اور تم یہ سب کچھ سوچ رہے ہو۔ آگے تو اس سے زیادہ تکلیف وہ رستہ ہے۔”
    ”جو بھی ہے’ چلنا تو مجھے اسی رستہ پر ہے۔ میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا میرا ٹیلنٹ واقعی کچھ نہیں ہے۔”
    ”اور کتنے دن ہیں اس کمرشل کی شوٹنگ میں؟”
    ”چار۔”
    ”اس کے بعد تم اپنی اسٹڈیز پر توجہ دو۔ ایگزامز قریب آ رہے ہیں۔” ثانی نے ایک بار پھر اس کے کندھے کو تھپتھپایا۔
    ”تمہیں پتا ہے’ وہ مجھے کتنے پیسے دے رہے ہیں۔” ثمر کو جیسے یک دم یاد آیا۔
    ”مجھے کیسے پتا ہو سکتا ہے ۔ تم نے کب بتایا ہے۔” ثانی نے کہا۔
    ”بیس ہزار۔”
    ثانی بے یقینی سے کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ ”بیس ہزار … واقعی ؟”
    ”ہاں’ واقعی دے رہے ہیں۔” ثمر نے اسے یقین دلایا۔
    ”تم کیا کرو گے اتنے پیسوں کا؟” ثانی پر جوش ہوئی۔
    ”تمہیں دے دوں گا۔” ثمر نے شرارت سے کہا۔
    ”خیر مجھے تو کبھی نہیں دو گے۔ امی کو دے دینا۔” اسے فوراً فاطمہ کا خیال آیا۔
    ”تاکہ وہ فوراً جوتوں سے میری تواضع کریں۔” ثمر نے بُرا مانا۔ ”پوچھیں گی نہیں کہ یہ روپے کہاں سے آئے ہیں۔”
    ”تم کہہ دینا کہ پرائز بانڈ نکلا ہے۔”




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۹

    تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۹

    ”مبارک ہو’ بیٹا ہوا ہے۔” ڈاکٹر نے منصور علی کو اطلاع دی۔ منصور علی یک دم کھل اٹھے۔
    ”اور رخشی … وہ کیسی ہے؟”
    ”وہ بھی بالکل ٹھیک ہیں’ آپ ابھی تھوڑی دیر میں ان سے مل سکتے ہیں۔”
    لیڈی ڈاکٹر کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔ منصور علی یک دم جیسے آسمان پر جا پہنچے تھے۔ وہ اب دو بیٹوں کے باپ تھے۔ روشان کے اکلوتا ہونے کی وجہ سے وہ اس کے سامنے جس طرح گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتے تھے’ وہ مجبوری اب یک دم ختم ہو گئی تھی۔ منصور علی کو اس میں کوئی شبہ نہیں رہا تھا کہ رخشی ان کے اور ان کے گھر کے لیے بے حد خوش قسمت ثابت ہوئی تھی۔ وہ جب سے ان کی زندگی میں شامل ہوئی تھی’ سب کچھ بدل گیا تھا’ ہر بازی ان ہی کے ہاتھ آ رہی تھی۔
    ”کون کہتا ہے’ دوسری شادی انسان کو راس نہیں آتی۔ ” کچھ دیر بعد رخشی کے پاس بیٹھے اپنے بیٹے کو گود میں لیے منصور علی نے سوچا تھا۔
    رخشی فخریہ نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ منیزہ کی گری ہوئی سلطنت کا آخری ستون بھی ہلا کر گرانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ اس نے منصور علی کی واحد کمزوری کو بھی ختم کر دیا تھا۔ روشان اور روشان کے ذریعے کوئی دوسرا اب منصور علی کو استعمال نہیں کر سکتا تھا۔
    ”تم مجھے بتاؤ’ تمہیں کیا تحفہ چاہیے؟” منصور علی نے رخشی کو بڑی محبت سے مخاطب کیا۔ ”میں چاہتا ہوں تمہیں اپنے بیٹے کے بدلے میں اتنی قیمتی نہیں تو اس سے کچھ کم قیمتی چیز تو دوں۔”
    ”تحفہ تو میں ضرور لوں گی۔” رخشی نے اطمینان سے کہا۔ ”آپ نے خود کہہ دیا’ اچھا کیا۔ نہ بھی کہتے ‘ تب بھی میں خود آپ سے اپنا تحفہ مانگ لیتی۔”
    ”بھئی! اس لیے تو میں نے یہ موقع نہیں آنے دیا کہ تمہیں خود تحفہ یاد دلانا پڑے۔ آج تک کبھی ایسا ہوا ہے کہ تمہیں مجھ سے مانگ کر تحفہ لینا پڑا ہو۔ ہمیشہ میں ہی تم سے کہتا ہوں۔” منصور علی نے کہا۔




    ”اپنے لیے کیوں نہیں’ صرف بیٹے کے لیے کیوں۔ میں تو دونوں کو منہ مانگا تحفہ دینے کو تیار ہوں۔” منصور علی نے اعتراض کیا۔
    ”نہیں’ آپ میرے بیٹے کو میری مرضی کا تحفہ دے دیں گے تو میرے لیے آپ کی بات ماننا ہی ایک تحفہ ہو گا۔” رخشی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”خیر یہ’ تو نہیں ہو سکتا کہ میں تمہیں بیٹے کی پیدائش پر کچھ بھی نہ دوں مگر ٹھیک ہے۔ پہلے تم بتاؤ’ تمہیں بیٹے کے لیے کیا چاہیے۔” منصور علی جواباً مسکرائے۔
    ”میری ہمت نہیں ہو رہی۔” رخشی یک دم کہتے کہتے ہچکچائی۔
    ”ارے یہ کیا بات ہوئی’ بولو بھئی! کیا چاہیے تمہیں اپنے بیٹے کے لیے۔”
    ”آپ نہ مانے تو؟”
    ”کیوں نہیں مانوں گا’ آج تک کبھی تمہاری مرضی کا تحفہ دینے سے انکار کیا ہے۔ تم نے جس چیز پر ہاتھ رکھا’ میں نے خرید دی بلکہ جس چیز کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا’ میں وہ چیز بھی لے آیا تو پھر اب کیا ہو گیا۔”
    ”تحفے کی مالیت زیادہ ہے’ اس لیے کہہ رہی ہوں۔”
    ”تحفے کی مالیت کو چھوڑو’ تم صرف نام لو پھر اگر میں وہ چیز تمہارے بیٹے کو نہ دوں تو پھر کہنا۔”
    ”سوچ لیں۔”
    ”منصور علی کو سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ منہ سے تب ہی کوئی بات نکالتا ہے جب وہ اس پر پہلے ہی سوچ چکا ہو۔” منصور علی نے بے حد اطمینان اور لاپروائی کے انداز میں کہا۔ ”تم صرف بتاؤ کہ تمہیں اپنے بیٹے کے لیے کیا چاہیے۔”
    رخشی نے ایک نظر مسکراتے ہوئے منصور علی پر ڈالی پھر ان کی گود میں موجود اپنے بیٹے کو دیکھا اور پھر ایک اطمینان بھرا سانس لے کر اس نے کہا۔
    ”میری خواہش ہے کہ آپ اپنی پرانی فیکٹری میرے بیٹے کے نام کر دیں۔”
    منصور علی کے چہرے سے پلک جھپکتے میں مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ ”پرانی فیکٹری؟”
    ”کیوں’ مشکل میں ڈال دیا؟” رخشی عجیب سے انداز میں مسکرائی۔
    ”نہیں ‘ اتنی چھوٹی موٹی فرمائشوں سے میں مشکل میں نہیں پڑا کرتا۔” منصور علی نے جیسے اپنے حواس پر قابو پایا۔”تم سے وعدہ کیا ہے’ اس لیے پورا تو کرنا ہے۔” انہوں نے گود میں لیے ہوئے بیٹے کو چوما۔ ”تم چاہتی ہو یہ فیکٹری میں اس کے نام کردوں’ ٹھیک ہے’ میں کر دیتا ہوں۔ اب تم خوش ہو؟” منصور علی نے مسکراتے ہوئے رخشی سے پوچھا۔
    رخشی کا چہرہ یک دم کھل اٹھا۔ اسے توقع نہیں تھی کہ منصور علی اتنی آسانی سے اس کی بات مان جائیں گے۔
    ”خوش …؟ آپ کو اندازہ نہیں ہے’ میں بہت خوش ہوں۔” اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
    ”اچھا پھر یہ بتاؤ کہ تمہیں تحفے میں کیا چاہیے؟”
    ”آپ نے اتنا بڑا تحفہ میرے کہنے پر میرے بیٹے کو دیا ہے کہ مجھے اب اور کسی تحفے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔” رخشی نے کہا۔
    ”مگر میری خواہش ہے کہ تم مجھ سے اپنے لیے کچھ مانگو۔” منصور علی نے اصرار کیا۔
    ”نہیں’ میری اب اور کوئی فرمائش نہیں ہے’ مجھے پہلے ہی بہت کچھ مل چکا ہے۔ آپ جیسا شوہر… گھر … بیٹا … سب کچھ … بس اور کچھ نہیں چاہیے مجھے۔” رخشی نے ایک بار پھر انکار کیا۔
    ”اس کا مطلب ہے کہ مجھے اپنی مرضی سے تمہیں کچھ دینا پڑے گا۔” منصور علی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ٭٭٭
    ”منصور چچا سے زیادہ خود غرض انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا۔” اسامہ فون پر کہہ رہا تھا۔ ”مجھے حیرت ہے کہ مجھے آج تک یہ احساس کیوں نہیں ہوا کہ وہ اتنے خود غرض انسان ہیں۔ یہ سب کچھ صرف رخشی کی وجہ سے نہیں ہو رہا’ وہ خود ہی ایک اچھے انسان نہیں ہیں۔ رخشی نے تو صرف ان کے اندر کی چھپی ہوئی کمینگی کو ہم سب کے سامنے لا رکھا ہے۔”
    فون کا ریسیور تھامے صبغہ چپ چاپ اسامہ کو اپنے دل کی بھڑاس نکالتے سن رہی تھی۔ وہ بے حد غصے اور طیش میں تھا۔ منصور سے ملاقات کے فوراً بعد اس نے کئی بار فون کر کے صبغہ سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر رخشی کی ہدایت کے مطابق ملازم فون پر اسامہ کی آواز سنتے ہی صبغہ کے گھر نہ ہونے کا کہتے رہے۔ منصور علی کے رخشی کے پاس ہاسپٹل چلے جانے کے بعد صبغہ نے اسامہ کو فون کیا’ وہ گھر پر ہی تھا اور اب وہ اسے کچھ گھنٹے پہلے منصور علی کے ساتھ آفس میں ہونے والی گفتگو بتاتے ہوئے پیچ و تاب کھا رہا تھا۔
    ”اور تم … تم مجھے یہ بتا رہی ہو کہ انہوں نے تمہیں وکیل سے مل کر خلع کے کاغذات پر سائن کرنے کے لئے کہا ہے۔ آخر تم نے ان کے منہ سے یہ سن کیسے لیا۔ تمہیں چاہیے تھا’ تم انہیں کھری کھری سناتیں۔ آخر وہ اپنے آپ کو سمجھنے کیا لگے ہیں۔ دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ خوف نہیں آتا انہیں؟ خوف نہیں آتا تو کم از کم کچھ شرم ہی کر لیں۔ اپنی بیٹیوں کو طلاق دلوا رہے ہیں’ صرف اپنا گھر بسانے کے لیے۔ خاندان والے جو کچھ ان کے بارے میں کہہ رہے ہیں’ ان کو سننا چاہیے تاکہ انہیں پتا چلے کہ دولت سارے عیب نہیں ڈھانپ لیتی۔ لوگ سامنے بات نہ کر سکیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیچھے بھی خاموش رہتے ہیں۔”
    اسامہ یہ جاننے کے باوجود کہ صبغہ اس معاملے میں پوری طرح بے بس ہے’ بولتا جا رہا تھا۔
    ”جب تمہارے والد بزرگوار مجھ سے گفتگو فرما رہے تھے تو میرا دل چاہا تھا۔ میں دو جھانپڑ رسید کروں ان کے اور ان کی طبیعت صاف کر دوں مگر مجھے صرف اپنے رشتے کا لحاظ تھا جو ان کو بالکل نہیں تھا … مگر یہ جس طرح کی حرکتیں فرما رہے ہیں’ یہ بہت جلد پٹیں گے … مجھ سے نہیں تو کسی اور سے سہی۔ ” اسامہ نے ہر لحاظ اور احترام بالائے طاق رکھ دیا تھا۔
    ”تم کیوں چپ ہو’ بولو کچھ۔ ” اسامہ کو اچانک خیال آیا کہ وہ بہت دیر سے خاموش ہے۔
    ”میں کیا بولوں’ کہنے کے لیے باقی کیا رہ گیا ہے۔” صبغہ نے پھیکے لہجہ میں کہا۔
    ”میں تمہیں صاف صاف بتا رہا ہوں’ تم کسی قسم کے کسی کاغذ پر سائن نہیں کرو گی۔ میں منصور چچا کو بتا چکا ہوں کہ وہ مجھ سے طلاق کی توقع نہ رکھیں اور وہ مجھے تو کسی طرح پریشرائز نہیں کر سکتے اور اب ان کے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ وہ تمہیں مجبور کریں اور تم … تم کسی کاغذ پر سائن نہیں کرو گی۔ انہیں بتا دو کہ کسی بھی قیمتی پر مجھ سے خلع نہیں لو گی’ سنا تم نے۔” اسامہ نے سختی سے کہا۔
    ”اور اگر پاپا نے مجھے گھر سے نکال دیا تو … ؟ مجھے’ روشان’ زارا اور رابعہ کو؟”
    ”تو کیا ہو گا’ کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی۔” چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اسامہ نے کہا۔ ”تم میرے پاس آ سکتی ہو’ میری بیوی ہو تم۔”
    ”اور روشان ‘ رابعہ اور زارا۔ وہ کہاں جائیں گے۔”
    ”وہ تمہاری ممی کے پاس جا سکتے ہیں۔”
    ”میری ممی انہیں کہاں رکھیں گی’ کوئی گھر ہے ان کا؟ وہ خود صفدر انکل کے پاس رہ رہی ہیں اور جس طرح رہ رہی ہیں’ صرف میں جانتی ہوں۔”
    ”روشان’ رابعہ اور زارا تمہاری ذمہ داری نہیں ہیں۔ وہ تمہارے والدین کی ذمہ داری ہیں۔ تمہیں صرف اپنے اور میرے بارے میں سوچنا چاہیے’ اپنی اور میری زندگی کے بارے میں۔” اسامہ نے کہا۔
    ”مجھے ان کے بارے میں بھی سوچنا ہے’ میں ان کو فٹ پاتھ پر نہیں لا سکتی۔ آپ پاپا کو جانتے ہیں’ ان کے نزدیک ہماری کتنی اہمیت ہے’ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ پاپا تو ہم سب لوگوں کو گھر سے نکالنے میں چند منٹ بھی نہیں لگائیں گے۔”
    ”تو اس کا مطلب ہے کہ تم طلاق کے بارے میں سوچ رہی ہو۔” اسامہ نے بے یقینی سے کہا۔
    ”نہیں’ میں طلاق کے بارے میں نہیں سوچ رہی ہوں۔ میں تو آپ کو اپنے خدشات بتا رہی ہوں۔ میرے آگے کنواں ہے اور پیچھے کھائی۔ میں تو کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہی ہوں۔” صبغہ نے اسامہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۸

    تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۸

    ”آپ کو وہاں نہیں جاناچاہیے تھا ممی!” امبر نے تھکے ہوئے اندازمیں کہا۔
    ”آپ کو یہ سب کچھ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ سب کچھ کرنے سے کیا حاصل ہوا۔ صرف بے عزتی۔” منیزہ اس کی بات پر بھڑک اٹھیں۔
    ”بے عزتی۔ بے عزتی تو میں اس کی کرکے آئی ہوں اور ایسی کرکے آئی ہوں کہ وہ ساری عمر یاد رکھے گی۔”
    ”وہ سب کچھ پاپا کو بتا دے گی۔” امبر نے اپنے خدشے کا اظہار کیا۔
    ”میں منصور سے ڈرتی نہیں ہوں۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ وہ منصور کو سب کچھ بتا دیتی ہے۔ اچھا ہے وہ منصور کو سب کچھ بتائے۔ سب کچھ۔ تاکہ اسے پتا چلے کہ اب میں اس کے ساتھ کیا کرنے والی ہوں۔ منیزہ بولتی جارہی تھیں۔
    ”اسے پتہ چلنا چاہیے کہ میں اب اسے چین سے جینے نہیں دوں گی۔ نہ اس کو۔ نہ اس کی اس بیوی کو۔”
    منیزہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی واپس آئی تھیں اور اب وہ امبر کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ امبر نے رخشی کے گھر جانے سے پہلے بھی منیزہ کو بہت روکنے کی کوشش کی تھی، مگر منیزہ نے اس کی ایک نہیں سنی اور اب اس کی واپسی پر بھی وہ منیزہ کی اس حرکت پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر رہی تھی۔ جبکہ منیزہ حسبِ معمول اسے جھڑکنے میں مصروف تھیں کہ یہ سب کچھ اس کی وجہ سے ہوا تھا۔
    ”میں ابھی کچھ دیر میں شکیل بھائی کے پاس جاؤں گی سب کچھ بتا دوں گی انہیں، پھر دیکھنا تم وہ کرتے کیا ہیں تمہارے باپ کے ساتھ۔” منیزہ نے اپنے بھائی کا نام لیتے ہوئے کہا۔
    اور تب ہی منیزہ نے منصور علی کی گاڑی کی آواز سنی۔ امبر اور اس کے درمیان نظروں کا تبادلہ ہوا منیزہ کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔
    ”دیکھا کیسے دوڑا چلا آیا ہے اپنی اس چڑیل کی تکلیف پر۔ ورنہ اس وقت گھر آنے کے لیے پہلے کبھی اس کے پاس وقت ہی نہیں رہا۔”
    ”امبر نے منیزہ کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا اس کے چہرے پر تشویش تھی۔ وہ ماں اور باپ کے درمیان ایک اور جھگڑے کی توقع کر رہی تھی۔ کیونکہ منیزہ جھگڑے کے موڈ میں تھیں اور منصور علی کا اس وقت اس طرح بے وقت آنا ظاہر کر رہا تھا کہ رخشی نے انہیں اس معاملے کی اطلاع دے دی ہوگی۔ اس نے منیزہ اور منصور علی کے درمیان زندگی میں پہلے کبھی جھگڑے ہوتے نہیں دیکھے تھے اور اب جب اچانک اس کے سامنے جھگڑے ہونے لگے تھے تو وہ شدید قسم کے ڈپریشن کا شکار ہو رہی تھی اور یہ جھگڑے اب جو نوعیت اختیار کر گئے تھے۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ بہت جلد نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو جائے گی۔
    منیزہ کی بات کے جواب میں امبر نے کچھ نہیں کہا۔ وہ صرف دھڑکتے دل کے ساتھ منصور علی کے اندر آنے کا انتظار کرتی رہی، اور چند لمحوں میں منصور علی کالاؤنج میں نمودار ہونے والا چہرہ اس کی بدترین خدشات کی تصدیق کر رہا تھا۔ ان کے چہرے اور آنکھوں میں غصے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔
    امبر کو توقع تھی کہ وہ آتے ہی چیخنے چلانے لگیں گے مگر ایسا نہیں ہوا تھا وہ اندر آکر صوفے پر بیٹھی ہوئی منیزہ کے بالمقابل کھڑے ہو گئے اور انہوں نے درشت لہجے میں امبر سے کہا۔
    ”یہاں سے دفع ہو جاؤ۔” امبر حیرانی سے ان کا چہرہ دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ منصور نے اسی سانس میں منیزہ سے کہا۔
    ”تم اپنا سامان پیک کرو اور یہاں سے نکل جاؤ۔ ابھی اور اسی وقت۔” امبر وہاں سے جاتے جاتے رک گئی۔
    ”یہ میرا گھر ہے۔ کوئی مجھے یہاں سے نہیں نکال سکتا۔ سمجھے تم۔”
    منیزہ نے بلند آواز میں کہا۔
    ”تمہارا گھر؟ کیسا گھر؟ کہاں سے لائی تھیں یہ گھر؟ باپ نے دیا تھا؟ بھائیوں نے دیا تھا؟ کس نے دیا تھا؟” منصور علی یک دم چلانے لگے۔
    ”یہ میرا گھر ہے۔ صرف میرا۔ اور میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ تم ابھی اور اسی وقت اس گھر سے نکل جاؤ؟”
    ”میں یہاں سے نکل جاؤں، تاکہ تم اس عورت کو یہاں لا کر عیش کرو۔” منیزہ نے بھی اسی طرح چلاتے ہوئے کہا۔
    ”وہ عورت میری بیوی ہے۔”
    ”میں بیوی ہوں تمہاری۔”




    ”بیوی تھیں اب نہیں ہو۔ میرا وکیل طلاق کے کاغذات تیار کر رہا ہے اور میں تمہیں زبانی طور پر ابھی اور اسی وقت تین بار طلاق دیتا ہوں۔ اب یہاں سے چلی جاؤ۔” منیزہ کا رنگ یک دم سفید ہو گیا جبکہ امبر بے یقینی کے عالم میں مصنور علی کا چہرہ دیکھنے لگی۔
    ”سنا نہیں تم نے۔ میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے۔ یہاں سے چلی جاؤ۔’ منصور علی ایک بار پھر بلند آواز میں چلائے۔
    ”تم۔ تم۔ اس طرح مجھے طلاق کیسے دے سکتے ہو؟” منیزہ کی آواز اور انداز دونوں میں لڑکھڑاہٹ تھی۔
    ”کیوں نہیں دے سکتا۔ دے چکا ہوں تمہیں میں طلاق۔”
    ”میں۔ میں اس گھر سے نہیں جاؤں گی۔ کبھی نہیں جاؤں گی۔” منیزہ یک دم ہذیانی انداز میں چلانے لگیں۔
    ”یہ میرا گھر ہے۔ میرا گھر ہے یہ۔ تمہارے کہنے پر نہیں جاؤں گی میں یہا ںسے۔”
    اس بار منصور علی نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے منیزہ کو بازو سے پکڑ لیا اور گھسیٹتے ہوئے انہیں وہاں سے لے جانے لگے۔ امبر یک دم جیسے ہوش میں آگئی۔ منیزہ مزاحمت کر رہی تھیں۔
    ”پاپا۔ پاپا۔ ممی کو چھوڑ دیں۔ مت نکالیں انہیں گھر سے۔ آپ پاگل ہوگئے ہیں۔” امبر بھاگتی ہوئی ان دونوں کے پیچھے آگئی۔
    ”ہاں پاگل ہو گیا ہوں۔” منصور بلند آواز میں دھاڑے۔
    ”پاگل کر دیا ہے تم لوگوں نے مجھے۔” وہ اسے مسلسل باہر کی طرف گھسیٹتے ہوئے کہہ رہے تھے۔
    ”اس پاگل پن سے ہی تو چھٹکارا چاہتا ہوں۔”
    ”یہ گھر ہمارا ہے۔ آپ میری ممی کو یہاں سے نہیں نکال سکتے۔ رخشی کیلیے آپ ہمارے ساتھ یہ سب کر رہے ہیں۔” امبر نے منیزہ کے بازو کو اس سے چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں میں اس کے لیے یہ سب کچھ کر رہا ہوں، کیونکہ وہ میری واحد بیوی ہے۔ تم لوگوں سے میرا ہر رشتہ ختم ہو چکا ہے۔ تمہیں اس عورت سے ہمدردی ہو رہی ہے تو تم بھی اس عورت کے ساتھ یہاں سے نکل جاؤ اور دوبارہ مجھے اپنی شکل دکھانے کی کوشش مت کرنا۔ چلی جاؤ تم بھی اس عورت کے ساتھ۔”
    منصور اب اس پر بھی دھاڑ رہے تھے وہ منیزہ کو کھینچتے ہوئے لاؤنج سے باہر پورچ میں لے آئے تھے۔ دن کے اجالے میں گھر کے اندر او رباہر کام کرنے والے ملازمین گم صم یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ منیزہ اب بھی خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر ان کی مزاحمت اب پہلے کی نسبت زیادہ بے سود ہو رہی تھی۔ امبر روتے ہوئے مسلسل منیزہ کے بازو کو منصور علی سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر منصور علی کے سامنے اس کی یہ کوشش بھی ناکام ثابت ہو رہی تھی۔
    ”پلیز۔ پاپا۔ پلیز۔ اس طرح تماشا مت بنائیں ہمارا۔” پلیز وہ روتے ہوئے منصور کی منت سماجت کرنے لگی۔
    ”تماشا۔ یہ عورت دوسروں کا تماشا بنانے کا فن جانتی ہے تو اسے بھی تو اس تماشے کا ایک حصہ بننا چاہیے یہ کیوں گئی تھی رخشی کے گھر؟ کیوں گئی تھی وہاں؟”
    منصور علی اس بات کی پرواہ کیے بغیر چلا رہے تھے کہ اب ان کی آواز باہر کام کرنے والے ملازمین تک بھی پہنچ رہی تھی۔
    ”کیوں بے عزتی کی اس نے اس کی؟ کیوں گالیاں بکیں اس نے اسے؟”
    ”پاپا! آپ انہیں معاف کر دیں، ان سے غلطی ہو گئی، وہ دوبارہ وہاں نہیں جائیں گی۔ وہ دوبارہ کبھی ایسا کچھ نہیں کریں گی۔” امبر اب بری طرح رو رہی تھی۔
    ”آپ کو ہم سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ ممی کو اور ہمیں رہنے دیں، اس گھر میں… اس طرح باہر نہ نکالیں۔”
    ”میں ہزار بار جاؤں گی اس عورت کے گھر… بار بار اس کی اسی طرح بے عزتی کروں گی… تم کیسے روک لو گے مجھے… اس گھر سے نکال دو گے، تب بھی وہاں جاؤں گی۔”
    منیزہ چلائیں۔ منصور نے پوری قوت سے ان کے چہرے پر تھپڑ مارا۔
    ”تم وہاں جاؤ گی تو میں تمہیں قتل کروا دوں گا۔”
    ”ساری عمر تمہاری جیل میں گزر جائے گی۔”
    ”گزر جائے مگر تم سے تو جان چھوٹ جائے گی میری۔”
    ”پاپا پلیز… پلیز… یہ مت کریں۔” امبر نے روتے ہوئے مداخلت کی۔
    ”تم اندر چلی جاؤ، میں تمہیں یہاں سے نہیں نکال رہا مگر اس عورت کو میں نہیں رکھوں گا۔”
    ”میں ممی کو نہیں چھوڑ سکتی۔ میں انہیں نہیں چھوڑ سکتی۔”
    ”پھر جاؤ ماں کے ساتھ، دھکے کھاؤ، چوکیدار گیٹ کھولو۔” منصور نے زہر آلود انداز میں اس سے کہتے ہوئے چوکیدار سے کہا۔
    چوکیدار جو گھبراہٹ کے عالم میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اس نے قدرے ہڑبڑاتے ہوئے گیٹ کو کھول دیا۔
    امبر نے منیزہ کے پیچھے بھاگنے کی کوشش کی۔ منصور نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ وہ گیٹ کے درمیان میں کھڑا تھا۔
    ”میری بات سنو امبر! اس گیٹ کو پار کرکے اس عورت کے ساتھ جاؤ گی تو دوبارہ یہ گیٹ تمہارے لیے بھی نہیں کھلے گا، کبھی نہیں۔ اس عورت کو رہنے دو، تم واپس اندر چلی جاؤ۔” منصور علی نے بے حد سرد اور تنبیہی انداز میں امبر سے کہا۔
    ”اندر کیا ہے؟” امبر نے روتے ہوئے گیٹ کے اندرونی جانب اپنے گھر کی طرف اشارہ کیا۔
    ”کچھ رہ گیا ہے اندر؟ میرا تو باپ تک نہیں ہو گا وہاں پھر کیا کرنا ہے مجھے وہاں رہ کر۔ آپ کو اس گیٹ کو کھولنے کے بارے میں کبھی سوچنے کی ضرورت نہیں پڑے گی… میں اب مرکر بھی یہاں نہیں آؤں گی۔” اس نے اپنے بازو کو چھڑاتے ہوئے کہا۔
    ”سب کچھ ختم کر دیا آپ نے… سب کچھ… سب کچھ مٹی کرکے رکھ دیا آپ نے… اور میں نے اس مٹی میں آپ کے ساتھ جڑنے والا ہر رشتہ دفنا دیا۔ بہت چھوٹے آدمی تھے آپ…” وہ اب الٹے قدموں گیٹ کو کراس کر رہی تھی۔
    ”بہت چھوٹے آدمی…”
    ”گیٹ بند کردو۔” منصور علی بلند آواز میں چلائے اور پلٹ کر اندر جانے لگے۔
    ”کھلا رہنے دیں اسے۔” چوکیدار تیز رفتاری سے گیٹ کو بند کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ امبر اسی طرح پیچھے جاتی ہوئی پھر چلائی۔
    ”کھلا رہنے دیں اسے… میں اندر نہیں آؤں گی… ممی اندر نہیں آئیں گی… کوئی نہیں آئے گا آپ کے گھر بھی… کوئی نہیں۔” وہ اب جیسے پاگلوں کی طرح چلا رہی تھی۔
    ”سنا آپ نے… سنا آپ نے؟… آپ سن لیں… کان کھول کر سن لیں… امبر کی شکل اب دوبارہ نہیں دیکھیں گے آپ! مر کربھی نہیں۔”
    منیزہ گیٹ کے سامنے اسی جگہ پر بیٹھی رو رہی تھیں۔ انہوں نے اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ گیٹ اب بند ہو رہا تھا، بہت دور تیز تیز قدموں کے ساتھ منصور علی اندر جارہے تھے۔ بند ہوتے ہوئے گیٹ سے منیزہ نے برستی آنکھوں کے ساتھ اس شخص کی پشت کو دیکھا تھا۔ وہ شخص چند لمحے پہلے اس کا پورا جہاں تھا۔ بند ہوتے ہوئے گیٹ نے زمین پر پہلی بار کسی کے آسمان اور جہاں کو نظروں سے اوجھل کر دیا تھا۔
    صبغہ پانچ دن کے لیے اپنے کالج کے اسٹوڈنٹس کے ساتھ مری ٹرپ پر گئی ہوئی تھی۔ وہ منصور اور منیزہ کے درمیان ہونے والی چپقلش اور تلخ کلامی سے واقف تھی اور وہ اس پر فکر مند بھی تھی مگر اس نے کبھی یہ تصور نہیں کیا تھا کہ منصور دوسری شادی جیسا قدم اٹھا سکتے تھے اور وہ بھی رخشی جیسی لڑکی سے۔
    وہ اسی دن ٹرپ سے رات کو واپس آئی جس دن منصور نے منیزہ کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیا تھا۔ اس نے سہ پہر کے قریب منصور علی کو واپسی کے سفر کے دوران ایک دوست کے موبائل سے فون کیا۔ منصور کا لہجہ اور انداز اسے خلاف معمول بہت ترش اور اکھڑا ہوا لگا، وہ کچھ حیران ہوئی۔
    ”پاپا… میں صبغہ بول رہی ہوں۔” اس نے ایک بار پھر اپنا نام دہرایا۔ ایک لمحے کے لیے اسے اندیشہ ہوا کہ شاید منصور نے اس کی آواز پہچانی نہیں، اس لیے وہ اس سے اتنی تلخی سے بول رہے ہیں۔
    ”جانتا ہوں کہ تم صبغہ بول رہی ہو۔” منصور کے لہجے میں اب ترشی کے ساتھ ساتھ جھنجھلاہٹ بھی تھی۔
    ”میں نے آپ کو بتانا تھا، ہم نو بجے کالج پہنچ رہے ہیں۔ آپ گاڑی بھجوا دیں گے یا پھر میں اپنی فرینڈ کے ساتھ آجاؤں۔ وہ مجھے آفر کر رہی ہے کہ اس کا ڈرائیور مجھے ڈراپ کر دے گا۔” صبغہ نے منصور کے لہجے پر قدرے محتاط ہوتے ہوئے اپنی فرینڈ کی آفر دہرائی۔
    ”فرینڈ سے کہنا وہی تمہیں اپنی گاڑی پر ڈراپ کر دے گی۔” منصور نے کسی سلام دعا کے بغیر روکھے انداز میں کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔
    صبغہ بے یقینی کے عالم میں اپنے موبائل کو دیکھتی رہی۔ منصور علی کبھی اس طرح بات نہیں کرتے تھے جس طرح انہوں نے اب کی تھی۔ پچھلے کچھ ماہ میں اگرچہ منیزہ سے ان کے جھگڑے ہوتے رہے تھے اور وہ بچوں کو بھی نظر انداز کرتے رہے تھے مگر اس کے باوجود وہ ان سے کبھی اس طرح پیش نہیں آئے تھے جس طرح اب… صبغہ کو بہت عجیب سا احساس ہوا۔
    ”ہو سکتا ہے پاپا کسی وجہ سے پریشان ہوں یا پھر مصروف ہوں اور میں نے انہیں اچانک فون کرکے پریشان کر دیا ہو، اس لیے وہ اس طرح بات کر رہے ہوں۔” اس نے اپنے آپ کو تسلی دینے کی کوشش کی۔




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۷

    تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۷

    وہ دونوں آواری میں بیٹھے ہوئے تھے، رخشی سلور گرے سلک کی ساڑھی باندھے ہوئے تھی، اس کے کھلے بال جسم کی حرکت کے ساتھ اس کے سیلو لیس بلاؤز سے نظر آنے والے بازوؤں پر گرتے تو وہ کبھی ہاتھ کبھی سر اور گردن کے جھٹکے سے انہیں پیچھے پھینک دیتی۔
    منصور علی اس پر سے نظریں نہیں ہٹا پارہے تھے۔ وہ دونوں سارا دن آفس میں ساتھ ہوتے تھے۔ منصور علی سارا دن اسے دیکھتے رہتے، اس سے باتیں کرتے رہتے، اس کے باوجود وہ جب بھی رات کو اس کے ساتھ ڈنر کے لیے کہیں جاتے، رخشی انہیں اسی طرح مسمرائز کر دیا کرتی تھی۔
    منصور علی کے لیے ہر بار اسے بنا سنورا دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا کہ وہ کل زیادہ اچھی لگ رہی تھی یا آج… وہ ہر بار پہلے سے زیادہ پُرکشش اور حسین لگتی تھی اور منصور علی خود کو ہر بار پہلے سے زیادہ مجبور او ربے بس پاتے تھے۔ انہیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا تھا کہ رخشی دنیا کی سب سے حسین لڑکی ہے۔
    ”آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کو مجھ سے کوئی خاص بات کرنی ہے۔” رخشی نے اپنے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے منصور علی کو یاد دلایا۔
    وہ دونوں ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہاں آکر بیٹھے تھے اور منصور علی نے دوپہر میں ڈنر کا پروگرام طے کرتے ہوئے کہا تھا۔
    ”آج مجھے تم سے ایک خاص بات کرنی ہے۔”
    رخشی تب ان کے آفس میں بیٹھی تھی۔ اس نے منصور علی کے چہرے کو غور سے دیکھا اور مسکرا دی۔
    ”ایسی بھی کیا خاص بات ہے؟”
    ”ہے کوئی خاص بات… میں چاہتا ہوں، تم آج بہت اچھی طرح تیار ہو، میرے ساتھ ڈنر پر باہر جانے کے لیے۔”
    رخشی ان کی بات پر کھکھلا کر ہنس پڑی۔” میں آپ کے ساتھ جانے کے لیے ہر بار ہی خاص طور پر تیار ہوتی ہوں۔ میرے لیے آپ کے ساتھ ڈنر پر جانا کوئی عام واقعہ نہیں ہوتا۔”




    ”میں چاہتا ہوں آج تم ساڑھی پہنو… تم پر ساڑھی بہت اچھی لگتی ہے۔” منصور علی نے ایک اور فرمائش کی۔
    ”مجھے بھی ساڑھی بہت اچھی لگتی ہے۔ مگر وہ خاص بات کیا ہے آپ یہاں نہیں بتا سکتے۔ مجھے تو بہت تجسس ہو رہا ہے۔” رخشی نے بڑے انداز سے کہا۔
    ”نہیں، وہ خاص بات میں یہاں نہیں بتا سکتا۔ یہ جگہ ایسی باتوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔” منصور نے بھی اسی انداز میں کہا۔
    ”تو ٹھیک ہے پھر ڈنر کا انتظار کرنا پڑے گا۔”
    اور اب وہ منصور علی کو وہ گفتگو یاد دلا رہی تھی۔
    ”دراصل میں تم سے بات کرنے کے لیے مناسب الفاظ تلاش کر رہا ہوں، میں بہت دنوں سے تم سے ایک بات کہنا چاہتا تھا مگر ہر بار میری ہمت جواب دے جاتی تھی۔ آج بہر حال میں نے یہ طے کر لیا کہ جو بھی ہو مجھے آج تم سے یہ بات کہہ دینا ہے۔” منصور علی بڑی سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، جب کہ رخشی بے نیازی سے مشروب پینے میں مصروف تھی۔
    ”رخشی میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔”
    منصور علی کا خیال تھا کہ رخشی یک دم حیران ہو جائے گی۔ نروس ہو گی، کہے گی میں ایسی بات کی توقع ہی نہیں کر رہی تھی۔ بے یقینی سے انہیں دیکھے گی… لیکن ان کی کوئی توقع پوری نہیں ہوئی۔ رخشی کے چہرے پر حیرت آئی نہ بے یقینی… شاک نظر آیا نہ اس کا رنگ بدلا… نہ اس کے ہونٹ کپکپائے۔
    اس نے ان کی بات ان کے چہرے پر نظریں جما کر سنی اور پھر ٹیبل سے مشروب کا گلاس دوبارہ اٹھاتے ہوئے بڑے اطمینان سے کہا۔ ”کیوں…؟”
    منصور علی اس سوال کی توقع نہیں کر رہے تھے اور شاید اس ردِّ عمل کی بھی۔
    ”کیوں…؟ کے بارے میں تو میں کچھ نہیں بتا سکتا۔ صرف یہ جانتا ہوں کہ مجھے تم سے محبت ہے اور میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔” منصور علی نے کہا۔ رخشی نے مشروب کا ایک اور گھونٹ لیا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے گلاس کو نیچے رکھ دیا۔
    ”میں جانتی ہوں آپ کومجھ سے محبت ہے اور یقینا آپ کو بھی پتا ہو گا کہ مجھے بھی آپ سے محبت ہے۔ مگر شادی…” وہ رک گئی۔
    ”تم نے بات ادھوری کیوں چھوڑ دی؟”
    منصور علی کچھ بے چین ہوئے۔
    ”میں نے آپ کے ساتھ شادی کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔” رخشی نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔
    ”کیوں؟” منصور علی کو جسے شاک لگا۔
    ”کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ کو کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔”
    ”کیسی تکلیف؟”
    ”آپ کے گھر والے؟” رخشی نے ایک بار پھر بات ادھوری چھوڑ دی۔
    ”رخشی! میرے گھر والے میرا مسئلہ ہیں۔ تمہیں ان سے کسی قسم کا خدشہ نہیں ہونا چاہیے۔” منصور علی نے فوراً کہا۔
    ”مجھے ان سے اپنے بارے میں کوئی خدشہ نہیں ہے، میں آپ کے بارے میں پریشان ہوں میں نہیں چاہتی آپ کسی پریشانی کا شکار ہوں۔”
    ”تم فکرمند مت ہو، میں اس صورتِ حال کو ہینڈل کر لوں گا۔ میں اس سارے معاملے پر غور کر چکا ہوں اور پھر فوری طور پر تو اس شادی کے بارے میں میرے اور تمہارے علاوہ کسی اور کو پتا نہیں چلے گا۔ تم اسی طرح آفس آتی رہو گی۔” منصور علی نے کہا۔
    ”میں خفیہ شادی پر یقین نہیں رکھتی۔” رخشی نے بہت سنجیدگی سے کہا۔ ”نہ ہی میرے گھر والے مجھے ایسی کوئی شادی کرنے دیں گے۔” منصور علی کی جان جیسے حلق میں اٹک گئی۔ رخشی نے اپنی بات جاری رکھی۔
    ”پھر شادی سے کیا فرق پڑتا ہے۔ مجھے آپ سے محبت ہے اور میں آپ کے ساتھ شادی کے بغیر بھی بہت اچھی زندگی گزار رہی ہوں۔ پھر ضروری تو نہیں کہ اس تعلق کو کسی رشتے کا نام دیا جائے۔ میں جانتی ہوں کہ آپ سے محبت کرکے میں نے ایک غلطی کی ہے اور شاید اس سے بھی بڑی غلطی یہ زندگی، جو آپ کے ساتھ گزاری ہے مگر میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔” رخشی کے چہرے پر اب اداسی نظر آرہی تھی۔ منصور علی کی بے چینی میں اضافہ ہونے لگا۔
    ”میں بہت پہلے ہی یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ آپ مجھ سے شادی نہیں کر سکیں گے۔ اعلانیہ شادی… اور میں نے اس حقیقت کے ساتھ بھی کمپرومائز کر لیا تھا۔ ہم دونوں اس طرح بھی اچھی زندگی گزار سکتے ہیں، کم از کم اس وقت تک، جب تک میرے گھر والے میری شادی کہیں اور نہیں کر دیتے۔” منصور علی بے یقینی سے اسے دیکھنے لگے۔
    ‘تم… تم… کسی دوسرے سے شادی کس طرح کر لو گی۔ میرے ساتھ اس طرح کی زندگی گزارتے رہنے کے بعد۔” منصور علی کہے بغیر نہیں رہ سکے۔
    ”آپ بھی تو ایک کامیاب شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں اس سب کے باوجود…” منصور علی جواباً کچھ نہیں بول سکے، کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے کہا۔
    ”میری شادی شدہ زندگی کامیاب نہیں ہے۔ تم اچھی طرح جانتی ہو…”
    ”کامیاب ہو یا نہ ہو، شادی شدہ زندگی تو ہے نا… آپ کا ایک گھر ہے… بچے ہیں… مستقبل ہے… آپ ہر طرح سے محفوظ ہیں، حالانکہ آپ ایک مرد ہیں۔ میں تو پھر ایک لڑکی ہوں۔ جسے ہر قدم پر تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ میری بھی خواہش ہے کہ میرا ایک گھر ہو… بچے ہوں… شوہر ہو… میرا مستقبل محفوظ ہو…”
    ”مگر تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔”
    ”اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہو سکتا ہے میں شادی کے بعد بھی آپ ہی سے محبت کرتی رہوں، مگر میں صرف محبت کے نام پر تو زندگی نہیں گزار سکتی۔” رخشی نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    منصور علی کے کانوں میں جیسے گھنٹیاں بجنے لگیں۔ وہ وہی باتیں کر رہی تھی جن کا ذکر ہارون کمال نے کیا تھا۔ وہ ایک بار پھر ہارون کمال کی ذہانت اور دور اندیشی کے قائل ہو گئے۔ ہارون کمال نے رخشی کے بارے میں جو کہا تھا ٹھیک کہا تھا۔
    ”میں اسی لیے تو تم سے شادی کرناچاہتا ہوں۔ تمہیں وہی تحفظ دینے کے لیے۔” منصور علی نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے کہا۔
    ”خفیہ شادی… جسے آپ کسی وقت بھی ختم کر سکتے ہیں۔”
    ”میں کیوں ختم کروں گا اس شادی کو… میں تم سے محبت کرتا ہوں رخشی!”
    ”آپ ٹھیک کہتے ہیں میں جانتی ہوں آپ کومجھ سے محبت ہے لیکن اس کے باوجود میں خفیہ شادی کرنا نہیں چاہتی، اس سب کو اسی طرح چلنے دیں۔” رخشی نے قطعیت سے کہا۔
    ”رخشی! میں وقتی طور پر خفیہ شادی کر رہا ہوں، وقت آنے پر میں اس کے بارے میں سب کو بتاد دوں گا۔” منصور علی نے پینترا بدلا۔
    ”آپ نے اپنی بیوی اور فیملی کے ردِّ عمل کے بارے میں سوچا ہے؟ اگر انہوںنے آپ کو مجھے طلاق دینے پر مجبور کیا تو…؟” رخشی اب بھی سنجیدہ تھی۔
    ”ایسا نہیں ہوگا… ایسا کبھی بھی نہیں ہو گا۔ میں تمہیں کسی بھی صورت میں طلاق نہیں دوںگا۔” منصور علی نے حتمی لہجے میں کہا۔
    ”آپ ان کے ردِّ عمل کا سامنا کس طرح کریں گے۔ ان کے پریشر کو کیسے ہینڈل کریں گے۔ خاص طور پر امبر کو… آپ اس سے بہت محبت کرتے ہیں اور وہ میری اور آپ کی شادی کو کبھی برداشت نہیں کرے گی۔”
    ”میں اس سے بہت محبت کرتا ہو مگر میں اس کو اپنے اور تمہارے درمیان آنے نہیں دوں گا۔ میں تم سے زیادہ اس سے محبت تو نہیں کرتا۔” رخشی کے چہرے پر بے اختیار ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
    ”آپ نے آج تک اس کی کسی بات کو نہیں ٹالا… اس کی کوئی بات رد نہیں کی۔ اس بات کو کیسے رد کر سکیں گے۔” اس نے اپنی مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے کہا۔
    ”پہلے کی بات اور تھی۔ تب میری زندگی میں تم نہیں آئی تھیں۔ اب کی بات اور ہے۔ اگر میں نے کبھی اس کی کوئی بات رد نہیں کی تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں اس کی کوئی بات رد کروں گا بھی نہیں۔” منصور علی نے کہا۔
    رخشی کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی، منصور علی نے اچانک ایک انگوٹھی نکال کر میز پر رخشی کے سامنے رکھ دی۔ رخشی کی نظریں اس انگوٹھی پر جم گئیں۔ اس کی آنکھوں میں پسندیدگی تھی، کچھ دیر تک انگوٹھی کو دیکھتے رہنے کے بعد اس نے انگوٹھی اٹھانے کی بجائے اپنا ہاتھ منصور علی کی طرف بڑھا دیا۔ منصور علی کے چہرے پر چمک آگئی۔ رخشی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے منصور علی نے دوسرے ہاتھ سے انگوٹھی رخشی کی انگلی میں پہنا دی۔
    ٭٭٭




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۶

    تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۶

    ”تمہارے گھر میں نے کل بھی پیغام بھیجا تھا مگر تم کل آئے ہی نہیں۔” عبدالکریم پینٹر نے سامنے کھڑے اس چودہ پندرہ سالہ سرخ و سفید خوبصورت دبلے پتلے لڑکے سے کہا جس کی مسیں ابھی بھیگ رہی تھیں۔
    ”کل میں کچھ مصروف تھا۔ آپ کا پیغام ملا تھا مگر اس وقت میں گھر پر نہیں تھا۔ اس لیے نہیں آ سکا۔” لڑکے نے بڑے مؤدب انداز میں کہا۔
    ”چلو خیر’ کوئی بات نہیں … میں نے اس لیے کل پیغام دے دیا تھا کہ کچھ ارجنٹ کام آن پڑا تھا۔ تم کل آ جاتے تو کام کچھ جلدی ہو جاتا۔” عبدالکریم نے پینٹ کے ڈبے کو کھولتے ہوئے کہا۔
    ”میں آپ کا ارجنٹ کام سب سے پہلے کر دوں گا۔ آپ کو وقت سے پہلے کام مل جائے گا۔” لڑکے نے اطمینان دلایا۔
    ”ہاں وہ تو مجھے پتا ہے … کام تو تم فوراً کر دو گے۔ مگر میں تو تمہاری سہولت کے لیے ہی کہہ رہا تھا۔ جلد کام پر پہنچ جاتا تو تمہیں ہی آسانی ہوتی۔ اتنی افراتفری میں کام نہ کرنا پڑتا۔”
    وہ لڑکا جواب میں کچھ کہنے کے بجائے دکان کے اندر داخل ہو گیا۔
    ”اس الماری میں دیکھو۔ چارٹ اور کتابیں پڑی ہوئی ہیں۔” عبدالکریم نے اسے اندر جاتے دیکھ کر پیچھے سے آواز لگائی۔ وہ لڑکا سیدھا اس الماری کی طرف چلا گیا۔ الماری میں کچھ چارٹ اور کتابیں پڑی ہوئی تھیں۔ اس نے ان کتابوں کے نشان زدہ صفحات کو کھول کر دیکھا۔ کچھ دیر وہ انہیں دیکھتا رہا پھر عبدالکریم کی طرف آ گیا۔
    ”یہی صفحات ہیں؟” اس نے باری باری عبدالکریم کو وہ کتابیں کھول کر دکھائیں۔
    ”ہاں یہی ہیں … ویسے میں نے ایک کاغذ پر ان صفحات اور ان چیزوں کے نام بھی لکھ دیے ہیں جنہیں تمہیں چارٹ پر اتارنا ہے … تم ایک دفعہ اس کاغذ کو بھی پڑھ لو اور دیکھ لو کہ یہ وہی صفحات ہیں۔” عبدالکریم اسے ایک کاغذ تھماتے ہوئے کہا۔
    لڑکے نے کاغذ پر نظریں دوڑائیں۔




    ”یہی سارے صفحات ہیں۔” اس نے کاغذ کو جیب میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”یہ پرسوں چاہیے۔” عبدالکریم نے بتایا۔
    ”میں کوشش کروں گا کہ کل ہی آپ کو بنا کر دے دوں۔” لڑکے نے ایک شاپر میں ان کتابوں کو ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”کل دے دو تو اور اچھا ہے۔” عبدالکریم نے کہا۔
    ”مجھے مار کر دے دیں۔” لڑکے کو اچانک خیال آیا۔
    ”دیکھ’ لو وہاں سامنے پڑے ہیں۔” عبدالکریم نے اپنی جگہ سے ہلے بغیر کہا۔
    وہ لڑکا بڑے مانوس انداز میں الماری کے اس حصے کی طرف بڑھ گیا جہاں بہت سے مارکرز اور مختلف قسم کے رنگ اور برش پڑے ہوئے تھے۔ اس نے باری باری دو تین مارکرز کو ایک کاغذ پر چلا کر چیک کیا اور پھر انہیں بھی اس شاپر میں ڈال لیا جس میں اس نے ان کتابوں اور چارٹس کو ڈالا تھا۔
    ”پھر میں جاؤں؟” لڑکے نے باہر نکلتے ہوئے پوچھا۔
    ”ہاں تم جاؤ …” عبدالکریم نے اس سے کہا۔ مگر پھر آواز دے کر اسے روک لیا۔
    ”میں سوچ رہا ہوں کہ تم سے اب بینر لکھوانا بھی شروع کر دوں… بہت کام آ رہا ہے آج کل میرے پاس اور میں وقت پر کر ہی نہیں پا رہا۔” عبدالکریم نے ایک ڈبے میں تارپین کا تیل انڈیلتے ہوئے کہا۔ ”تم نے سوچا ہے کبھی بینر لکھنے کا؟”
    ”نہیں سوچا تو کبھی نہیں … مگر میں نے اس طرح کے رنگ کبھی استعمال نہیں کیے جو بینر پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے کہ میں اچھا بینر لکھ سکوں گا یا اسے خراب کر دوں گا۔” لڑکے نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا۔
    ”اس بارے میں تم فکر مند نہ ہو … میں ہوں نا۔ تمہیں سب سکھا دوں گا … دو چار بینر لکھو گے تو خود ہی ہاتھ صاف ہو جائے گا۔ اور پھر بینر کے تو پیسے بھی زیادہ ملیں گے۔ چارٹ کے تو کچھ بھی نہیں ملتے۔ چھٹی کے دو چار دن میرے پاس آ جاؤ … میں تمہیں ساری بنیادی باتیں سکھا دوں گا … تم ماشاء اللہ ویسے بھی ہر کام بڑی جلدی سیکھتے ہو۔”
    عبدالکریم نے اس کی تعریف کی’ لڑکے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
    ”ٹھیک ہے۔ میں امی سے بات کر کے آپ کو بتاؤں گا…” اس نے عبدالکریم سے سے کہا۔ وہ دکان سے نکل کر اپنی اس سائیکل کے پاس جا کھڑا ہوا جسے مختلف رنگوں کے نقش و نگار سے پینٹ کیا گیا تھا یقینا یہ اس لڑکے کا اپنا ہی کمال تھا۔ وہ سائیکل کے ہینڈل پر شاپر لٹکا رہا تھا جب عبدالکریم نے ایک بار پھر اسے پیچھے سے آواز دی۔
    ”اپنے بھائی کو ذرا میرے پاس بھجوانا۔” لڑکے نے مڑ کر عبدالکریم کو دیکھا۔
    ”اچھا’ میں گھر جا کر انہیں بتا دوں گا۔ وہ شام کو ذرا دیر سے آتے ہیں۔ آپ دکان پر ہی ہوں گے؟”
    ”ہاں سات بجے تک تو میں دکان پر ہی رہوں گا… اگر سات بجے تک وہ آ سکے تو ٹھیک ہے’ ورنہ پھر اس سے کہنا کہ کل مجھ سے مل لے۔” عبدالکریم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ جی اچھا۔ میں کہہ دوں گا۔ لڑکے نے بڑی فرمانبرداری کے ساتھ کہا اور سائیکل پر سوار ہو گیا۔
    عبدالکریم لاشعوری طور پر اسے دور جاتے دیکھتا رہا۔ اس کی نظروں میں اس لڑکے کے لیے ستائش تھی۔
    ٭٭٭
    ”مجھے یاد ہے بھئی … میں نہیں بتاؤں گا کسی کو بھی۔” منصور علی نے خوشگوار لہجے میں کہا۔ ”ویسے اگر تمہاری ممی کو پتا چل بھی جائے تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ وہ خاصی اچھی خاتون ہیں۔”
    ”ہاں۔ مجھے پتا ہے وہ بہت اچھی خاتون ہیں … اور آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ وہ رخشی کو پسند نہیں کرتیں۔” امبر نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہوئے انہیں یاد دلایا۔
    ”آج کوئی خاص بات ہے۔ باپ بیٹی باہر سے ہی اکٹھے آ رہے ہیں۔” منیزہ نے ان دونوں پر نظر ڈالتے ہوئے کچھ تجسس کے عالم میں کہا۔
    ”روشان کہاں ہے؟” منصور علی نے منیزہ کی بات کے جواب میں الٹا سوال کر دیا۔
    ”اپنے ایک دوست کی طرف گیا ہے۔”
    ”اس وقت؟” منصور علی نے قدرے تشویش سے گھڑی پر نظر ڈالی۔
    ”سہیل آیا تھا لینے … ان دونوں کو کسی تیسرے دوست کی طرف جانا تھا … منیزہ نے روشان کے دوست کا نام لیتے ہوئے کہا۔
    ”پھر بھی تمہیں روک ٹوک کرنی چاہیے۔ اسے … شام کے وقت اس کا باہر نکلنا مناسب نہیں ہے۔ ابھی وہ اتنا بڑا نہیں ہوا۔” منصور علی نے اسی انداز میں کہا۔
    ”بڑا نہیں ہوا … مگر بڑا ہو تو رہا ہے۔ اب اس عمر میں بچوں کو باندھ کر رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ میں تو کہتی رہتی ہوں اسے … مگر آپ کو پتا ہے وہ کتنا ضدی ہے۔ امبر کی طرح آپ نے اسے بھی سر چڑھایا ہوا ہے پھر وہ میری بات کیوں سنے گا۔” منیزہ نے کہا۔
    امبر نے ان کی بات پر گردن کو ایک جھٹکا دیا۔ ”بس ممی کو پتا نہیں کیوں ہر بات میں میرا ریفرنس دینا ضروری ہوتا ہے … بات کسی کی بھی ہو رہی ہو … ممی فوراً مجھ پر پہنچ جائیں گی۔ اور پاپا اگر روشان باہر چلا بھی جاتا ہے تو کیا برائی ہے … سہیل اس کا اتنا اچھا دوست ہے اور پھر اب روشان اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے جتنا آپ اس کو سمجھتے ہیں … اچھا ہے کچھ باہر نکلے گا تو اس میں کانفیڈنس آئے گا۔
    ”آپ اس معاملے میں زیادہ ہی محتاط ہو رہے ہیں۔
    پہلے تو آپ کے پاس یہ لاجک تھی کہ اپنا ملک نہیں ہے۔ پتا نہیں کیسے لوگ ہوں اس کے فرینڈز کے گھر والے … اگر کچھ نقصان پہنچ گیا تو … ۔ مگر اب تو آپ اپنے ملک میں ہیں’ اس کے سارے فرینڈز اور ان کے گھر والوں کو جانتے ہیں۔ پھر آپ اتنا پریشان کیوں ہوتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ اس کے دوست بھی تو اسی کی عمر کے ہیں مگر وہ کتنی آزادی سے ادھر اُدھر گھومتے پھرتے ہیں اور روشان وہ بے چارہ ہر وقت مجھ سے شکایت ہی کرتا رہتا ہے۔” امبر نے اس کی حمایت کرتے ہوئے ایک لمبی تقریر کر ڈالی۔
    ”ایک اسے باپ کی سپورٹ … دوسرے تمہارے جیسی بہن کی … پھر میری وہ کہاں سننے والا ہے … میں نے اسی لیے اس کے معاملات میں دخل دینا چھوڑ دیا ہے۔” اس سے پہلے کہ امبر کی بات کے جواب میں منصور کچھ کہتے… منیزہ بول اٹھیں۔ ”پھر آپ کہتے رہتے ہیں کہ میں اسے سمجھاؤں۔ اس پر چیک رکھوں…”
    ”اچھا اب تم روشان کے قصے کو رہنے دو۔ بچہ ہے’ وہ مجھے صرف اس لیے کچھ فکر ہوئی ہے … ورنہ ایسی کوئی برائی نہیں ہے اس میں۔”
    منصور علی نے فوراً اپنا بیان بدلتے ہوئے کہا۔ ”اب تم ایسا کرو کہ مجھے چائے پلاؤ۔”
    ”چائے تو ابھی آ جاتی ہے۔ میں نے ملازمہ سے کہہ دیا تھا آپ کی گاڑی کا ہارن سن کر … وہ ابھی لا رہی ہو گی۔” منیزہ نے ایک بار پھر ٹی وی کا والیم بلند کرتے ہوئے منصور سے کہا۔ امبر اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔
    ”بیٹا بیٹھو … تم میرے ساتھ چائے ہی پی لو۔” منصور علی نے بڑی محبت سے اسے دیکھا۔
    ”نہیں پاپا! کام ہے … پہلے بھی میںنے اتنا انتظار کیا آپ کا۔” اس نے جاتے ہوئے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
    ٭٭٭
    منصور علی سے بات کرنے کے بعد امبر نے رخشی کو کال کی۔ ”رخشی! میں نے پاپا سے بات کر لی ہے۔”
    ”پھر … وہ کیا کہہ رہے ہیں؟”
    ”وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کوئی نہ کوئی انتظام کر دیں گے۔ مگر چند دن لگ جائیں گے۔”
    ”مجھے اندازہ ہے’ مکان ڈھونڈنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔” رخشی نے سنجیدگی سے سے کہا۔
    ”بس ٹھیک ہے مجھے ویسے ہی خیال آ رہا تھا کہ شاید تم جلدی شفٹ ہونا چاہو۔” امبر نے کچھ مطمئن ہوتے ہوئے کہا۔
    ”اب مجھے یہ بتاؤ کہ تم کالج کب سے آ رہی ہو؟” امبر نے اس سے پوچھا۔
    ”امبر! میں اپنی اسٹڈیز چھوڑنے کا سوچ رہی ہوں۔” دوسری طرف سے رخشی کی بات پر وہ کچھ چونک گئی۔




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۵

    تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۵

    پارٹی اپنے پورے عروج پر تھی… بلال وحیدی کی ہر پارٹی کی طرح یہ پارٹی بھی اپنی مثال آپ تھی… پورے شہر کی کریم وہاں پر تھی… بلال وحیدی شہر میں اپنی پارٹیز کی وجہ سے ہی جانا جاتا تھا… یہ پارٹیز ایلیٹ کلاس کو جہاں سوشلائز کرنے کا موقع دیتی تھیں وہاں بزنس کمیونٹی اپنی بہت سی ڈیلز بھی ان پارٹیز کے توسط سے کرتی تھی۔
    عید کے فوراً بعد ہونے والی اس پارٹی میں زیادہ تر فیمیلیز کو مدعو کیا گیا تھا اور اس بار بلال وحیدی نے گیسٹ لسٹ میں کچھ تبدیلی کی تھی ورنہ عام طور پر اس کی پارٹیز میں کپلز ہی بلوائے جاتے تھے اس پارٹی میں روایت کے برعکس فیمیلز کو مدعو کیا گیا تھا او ریہ بلال وحیدی کی تیسری پارٹی تھی جس میں منصور علی شرکت کر رہے تھے۔ اس سے پہلے وہ پارٹیز میں اکیلے ہی شرکت کر چکے تھے۔ لیٹ نائٹ پارٹیز میں منیزہ اکثر شرکت نہیں کرتی تھیں حالانکہ وہ خاصی سوشل تھیں مگر ان پارٹیز میں وہ اپنے آپ کو Odd one out محسوس کرتی تھی… کیونکہ وہاں آنے والی تمام عورتیں بہت زیادہ پڑھی لکھی ہوتی تھیں… اور یہ صرف تعلیم یا وہاں بولی جانے والی نان اسٹاپ انگلش نہیں تھی جس سے وہ نروس ہوتی تھیں بلکہ اپنے حلیے سے بھی ہوتی تھیں… وہاں آنے والی زیادہ تر عورتیں، ‘گلاس فگر’ رکھتی تھیں اور زیادہ تر مغربی لبا س میں ملبوس ہوتی تھیں جبکہ خود منیزہ خاصا بے ڈول قسم کا جسم رکھتی تھی اور ان کے زیادہ تر ملبوسات شلوار قمیض یا Occasional ساڑھی کی شکل میں ہوتی اور وہاں جانے کے بعد انہیں اپنے بے تحاشا بڑھے ہوئے وزن کا خاصی شدت سے احساس ہوتا… ان کے برعکس منصور علی نے اپنے آپ کو بالکل فٹ رکھا ہوا تھا… وہ ہفتے میں تین بار گالف کھیلنے جاتے تھے اور بعض دفعہ سوئمنگ بھی کرتے۔
    منیزہ اپنے وزن کو کم کرنے کی کوشش کے لیے اپنی روٹین تو خیر کیا تبدیل کرتیں البتہ انہوں نے ایسی پارٹیز میں جانا تقریباً ختم ہی کر دیا… یہی وجہ تھی کہ اب منصور علی ایسی پارٹیز میں اکیلے ہی جایا کرتے گھے مگر اس پارٹی میں وہ نہ صرف منیزہ کو بلکہ امبر، صبغہ اور روشان کو بھی لائے تھے اور وہ سب وہاں کے ماحول سے خاصے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
    ”منصور صاحب ادھر آئیے آپ کو کسی سے ملوانا ہے۔”




    بلال وحیدی مستقل ادھر سے ادھر پھرتے ہوئے اپنے مختلف مہمانوں کو آپس میں ملوا رہے تھے اور اسی سلسلے میں وہ منصور کے پاس بھی آئے تھے۔ منصور ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے… وہ انہیں کچھ فاصلے پر کھڑے مشروبات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک گروپ کے پاس لے آئے۔
    ”ان سے ملیے یہ منصور علی ہیں… چیمبر آف کامرس کے نئے ممبر بنے ہیں… پاکستان آئے تو انہیں کچھ ہی عرصہ ہوا ہے مگر یہاں ان کی فیکٹری کافی سالوں سے ہے اور شہر کی چند بڑی فیکٹریز میں سے ایک ہے۔ آپ لوگوں نے نام تو سنا ہی ہو گا۔” بلال وحیدی نے منصور علی کی فیکٹری کا نام لیتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں نام تو سنا ہے لیکن چیمبر میں کسی نے نام نہیں سنا ہو گا… مگر میرا تو خیال ہے کہ وہ فیکٹری مسعود علی صاحب کی ہے ان سے تو ایک دوبار ملاقات بھی ہوئی ہے میری۔” گروپ میں کھڑے ایک شخص نے منصور علی سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
    ”مسعود علی… منصور علی کے بڑے بھائی ہیں۔ فیکٹری تو ان ہی کی ہے مگر چونکہ یہ بیرون ملک تھے تو مسعود علی ہی فیکٹری کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔ اب یہ واپس آگئے ہی تو فیکٹری کا انتظام بھی انہوں نے خود سنبھال لیا ہے۔” بلال وحیدی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
    ”تو مسعود علی صاحب نے فیکٹری چھوڑ دی؟” اسی شخص نے کچھ تجسس آمیز انداز میں کہا۔
    ”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ وہ بھی وہیں ہیں، میں بھی وہیں ہوں، ان کے بھی کچھ شیئرز ہیں فیکٹری میں…” اس بار منصور نے خود بتایا۔
    ”آپ بیرون ملک کیا کرتے تھے؟”
    ”کرنسی کی ایکسچینج کا کام تھا میرا۔” منصور علی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”اور یہ ہارون کمال ہیں… ان سے ملوانے کے لیے لے کر آیا ہوں میں آپ اس دن پوچھ رہے تھے۔”
    اس بار بلال وحیدی نے ایک اور آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو ٹراؤزرز کی ایک جیب میں ایک ہاتھ ڈالے دوسرے میں مشروب کا گلاس پکڑے بڑی لاپروائی اور بے نیازی کے ساتھ مسکراتے ہوئے منصور علی اور وہاں موجود باقی تمام لوگوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سن رہا تھا۔ بلال وحیدی کے تعارف کروانے پر اس نے ٹراؤزرز کی جیب سے اپنا بایاں ہاتھ باہر نکال کر گلاس اس میں منتقل کیا اور دوسرا ہاتھ منصور علی کی طرف بڑھا دیا۔ جسے منصور علی نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ تھاما۔
    ”اچھا تو یہ ہارون کمال ہیں… میں نے خاصا شہرہ سنا ہے شہر میں آپ کا… چیمبر میں بھی خاصی باتیں ہوتی ہیں آپ کی…” منصور علی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”آپ کے بارے میں بھی خاصا کچھ سنا ہے میں نے بلال وحیدی سے۔” ہارون کمال نے جواباً مسکراتے ہوئے ان سے کہا۔
    ”بلال وحیدی کو عادت ہے ہر ایک کے بارے میں کچھ نہ کچھ سناتے رہنے کی۔”
    وہاں موجود ایک اور شخص نے قدرے بلند آواز میں کہا… جس پر ایک ہلکا سا فہمائشی قہقہہ لگا بلال وحیدی کا اپنا قہقہہ سب سے اونچا تھا۔
    ”منصور علی اس بار چیمبر کے الیکشن میں کھڑے ہو رہے ہیں سیکریٹری کے لیے…” بلال وحید نے منصور علی کے بارے میں جیسے انکشاف کیا۔
    ”اور یقینا آپ کے گروپ کی طرف سے ہی کھڑے ہو رہے ہوں گے۔” ہارون کمال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”ظاہر ہے دوسرے گروپ والے اتنے فراخ دل کہاں ہیں کہ اس طرح کے مواقع دیتے پھریں، نئے لوگوں کو۔ یہ ہمارا گروپ ہی ہے جس کا موٹو ہے… "Lets back up the new blood” بلال وحیدی نے بڑے فخریہ انداز میں کہا۔
    ”اور آپ کا ہر نیا امیدوار 45 سے کم کا نہیں ہوتا… کیا مذاق ہے۔” اس بار ایک اور شخص نے تبصرہ کیا ایک اور فہمائشی قہقہہ لگا۔
    ”دوسرا گروپ تو 60 سے کم کے کسی امیدوار کو دیکھتا ہی نہیں ہے، ہم تو پھر بھی 45 کے لوگ میدان میں اتار رہے ہیں… 45 اور 60 کا فرق دیکھیں اظہار صاحب…! اور ہمیں ووٹ دیں۔” بلال وحیدی نے خوشگوار انداز میں اس شخص سے کہا۔
    ”آپ کو یہ بات کہنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے تھا کہ میں خود 65 سال کا ہوں۔” اظہار سعید نے اسی برجستگی سے کہا… ایک اور قہقہ لگا۔
    ”بہرحال اس بار میں بلال وحیدی کے گروپ کو ہی ووٹ دوں گا۔ اتنی پارٹیز اٹینڈ کرنے کے بعد یہ مجھ پر فرض ہو گیا ہے۔ کیوں بلال وحیدی صاحب؟” اظہار سعید نے مسکراتے ہوئے بلال وحیدی سے کہا۔
    ”خیر پارٹیز میں تو آپ کو تب بھی انوائیٹ کرتا رہا ہوں’ جب آپ ”دوسروں” کے … ووٹر تھے۔ پارٹیز کو بیچ میں نہ ہی لائیں تو بہتر ہے۔ یہ تو صرف میل ملاپ کے لیے ہوتی ہیں۔” بلال وحیدی نے اظہار سعید کی بات کے جواب میں کہا۔
    ”اس بار تو آپ کفر توڑ ہی دیں اظہار صاحب! پارٹیرز کی بات کیے بغیر ہی ووٹ دے دیں’ ورنہ دوسرے دھڑے والے مجھ پر اور الزمات لگانے لگیں گے۔” بلال وحیدی نے معنی خیز انداز میں کہا۔
    ”آپ نے اس بار امیدوار ہی ایسے کھڑے کر دیے ہیں کہ مجھے انکار کرنا ہی مشکل ہو گیا ہے’ سارا ینگ بلڈ لے آئے ہو بلال وحیدی! میرے جیسے بھی دو چار لوگوں کو آزمانا تھا۔” اظہار سعید نے کہا۔
    ”اگلی بار اظہار صاحب …! اگلی بار … آپ جیسوں کو نہیں آپ کو ہی آزماؤں گا۔ آپ پہلے ووٹر تو بنیں پھر امیدوار بھی بنا لیں گے۔” ایک اور فہمائشی قہقہہ لگا۔
    ”بات سے بات نکالنا تو کوئی بلال وحیدی سے سیکھے۔” اظہار سعید نے قدرے محظوظ ہوتے ہوئے بلال وحیدی کے جملے کے جواب میں کہا۔
    ہارون کمال بڑی دلچسپی سے وہاں ہونے والی گفتگو سن رہا تھا اور گفتگو سننے کے ساتھ وہ ادھر اُدھر اچٹتی نظریں بھی دوڑا رہا تھا۔ شائستہ اس سے کچھ فاصلے پر چند مردوں اور عورتوں کے ایک گروپ کے ساتھ کھڑی باتوں میں مصروف تھی۔ ہارون کمال نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر یک دم وہ ہاتھ میں پکڑا مشروب کا گلاس ہونٹوں تک لے جاتے جاتے رک گیا۔ ایک ستائشی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ابھری تھی۔ اس کی توجہ مکمل طور پر ان لوگوں سے ہٹ گئی تھی جن کے ساتھ وہ کھڑا تھا۔
    اس کی توجہ کا مرکز بننے والی لڑکی سفید سلیویس لباس میں ملبوس تھی’ اس کے لباس پر سفید موتیوں کا کام تھا اور اسی طرح کے موتیوں کی ایک مالا گلے میں پہنے ہوئے تھی۔ کانوں میں لٹکنے والے آویزے بھی ایسے ہی ایک ایک موتی پر مشتمل تھے۔ کندھوں سے قدرے نیچے تک لٹکنے والے گھنے سلکی بالوں کو وہ بار بار گردن کے ایک جھٹکے کے ساتھ پرے کر رہی تھی۔ اس کی سفید رنگت اور سفید لباس اس حد تک مماثلت رکھتے تھے کہ ہارون کمال کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو رہا تھا کہ اس کا لباس کہاں ختم ہو رہا تھا اور اس کی جلد کہاں سے شروع ہو رہی تھی۔ وہ چند لڑکیوں کے ساتھ مشروب کا گلاس ہاتھ میں لیے کھڑی تھی۔ اور کچھ دیر بعد وہ کسی بات پر ہنسی تھی۔
    ہارون کمال نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔ بہت عرصے کے بعد اس نے اس طرح کا حسن دیکھا تھا۔ شائستہ کے بعد پہلی بار … وہ لڑکی اس سلیولیس لباس میں دوپٹے کے بغیر تھی اور اس کا وجود کسی خوبصوت مجسمے کی طرح لگ رہا تھا’ ایک نظر اردگرد دوڑانے پر ہارون کمال کو احساس ہو گیا تھا کہ وہ اس پر نظریں جمانے والا واحد آدمی نہیں تھا۔ آس پاس کھڑے اور بھی بہت سے مرد اور عوتیں اسی کو دیکھنے میں مصروف تھے۔ اور ان تمام نظروں میں ستائش اور مرعوبیت تھی۔
    ہارون کمال بے اختیار اس کے پاس جانا چاہتا تھا۔ جو دور سے اس قدر خوبصورت لگ رہی تھی’ وہ قریب سے کیا قیامت ڈھاتی ہو گی۔ مگر اس کے قریب جانے کے لیے اس کے پاس کیا جواز تھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے گلاس میں موجود مشروب کے چند اور گھونٹ لیے۔
    ”آپ کی کیا رائے ہے کمال صاحب؟” بلال وحیدی نے اچانک اسے مخاطب کیا۔
    ہارون کمال یک دم گڑ بڑا گیا۔ ااس کی نظر اس لڑکی پر سے ہٹ گئی۔ وہ سمجھ نہیں پایا’ بلال وحیدی نے کس چیز کے بار یمیں اس کی رائے مانگی ہے۔
    ”سوری’ میں آپ کی بات نہیں سن سکا۔” ہارون کمال نے معذرت کی۔ ”آپ کس چیز کے بارے میں میری رائے پوچھ رہے ہیں؟” اس نے بلال وحیدی سے کہا۔
    ”میں امتنان …” بلاول وحیدی کا جملہ امتنان صدیقی نے کاٹ دیا۔
    ان دونوں کے درمیان نوک جھونک ہونے لگی۔ ہارون کمال نے چند منٹوں کے بعد گردن موڑ کر ایک بار پھر اس طرف دیکھا جہاں وہ لڑکی موجود تھی۔ وہ اب وہاں نہیں تھی۔
    ٭٭٭
    کھانا سرو کیا جا چکا تھا’ سائیڈ میں لگی ہوئی ایک ٹیبل سے پلیٹ اٹھانے کے لیے وہ آگے بڑھی’ اس سے پہلے کہ وہ پلیٹ اٹھاتی ایک مردانہ ہاتھ نے پلیٹ اٹھا کر اس کی طرف بڑھا دی۔ اس لڑکی نے کچھ ناپسندیدگی سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑے اس آدمی کو دیکھا جو اپنے ہاتھ میں پکڑی دو پلیٹوں میں سے ایک اس کی طرف بڑھا رہا تھا۔
    ”چالیس پینتالیس سال کا وہ دراز قد شخص غیر معمولی طورپر دلکش تھا اس نے سنجیدگی سے ایک ناقدانہ نظر اس پر ڈالی اور پھر اس کے بڑھتے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے میز پر موجود پلیٹوں میں سے ایک پلیٹ اٹھالی۔ اس آدمی کے چہرے پر کچھ دیر پہلے موجود مسکراہٹ یک دم غائب ہو گئی’ قدرے خفیف ہو کر اس نے پلیٹ واپس ٹیبل پر رکھ دی۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتی۔ اس آدمی نے اسے مخاطب کیا۔
    ”شاید آپ کو میرا پلیٹ دینا اچھا نہیں لگا؟” اس نے کہا۔
    اس لڑکی نے آگے بڑھایا ہوا قدم پیچھے کر لیا۔
    ”یقینا مجھے آپ کا پلیٹ دینا اچھا نہیں لگا۔ ”اس نے مستحکم آواز میں اسی کے انداز میں جواب دیا۔




  • میرے آسماں سے ذرا پرے — مونا نقوی

    میرے آسماں سے ذرا پرے — مونا نقوی

    ”محبت کے دل میں اترنے کا کوئی خاص موسم نہیں ہوتا کہ وہ آئے اور اپنی روپہلی کرنوں سے کسی وجود کا احاطہ کر کے اسے دل کش زنجیر میں جکڑ لے ۔محبت تو کبھی بھی، کسی بھی لمحے صحیفہ ٔ نور کے مانند دلوں میں اترتی اور دل کو اس الوہی جذبے سے آشنا کرکے، راتوں کی نیندیں اُڑا کے اور جاگتی آنکھوں میں حسیں سپنے سجا دیتی ہے۔ یہ دل کا سکون لوٹ کر بھی ایک الگ ہی قرار اور احساس سے آشنا کرتی ہے۔ عظام تم کیا جانو محبت اور اِس کے خوب صورت فلسفے کو ۔” وہ محبت کی حسین وادیوں میں ٹہلتی کسی خوب صورت خیال میں کھوئی اپنا فلسفہ جھاڑ رہی تھی۔
    ”مت بھولو وریشہ، تم جس محبت کے جذبے کے زیرِ اثر خوب صورت الفاظ میں فلسفۂ محبت جھاڑ رہی ہو، اس جذبے سے تمہیں آشنا کروانے کاسہر اما بہ دولت عظام حیدر کو جاتا ہے۔” وہ اپنا کالر درست کرتے ہوئے گویا ہوا۔
    ”ورنہ تم بھی اِس دنیا کی وہی عام سی لڑکی رہتیں، جو چاہے جانے کے خواب دیکھتی تو ہے مگر کبھی انہیں حقیقت بنتے نہیں دیکھ پاتی۔” وہ وریشہ کی خوب صورت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
    ”مانتی ہوں، مجھے ایک عام سی لڑکی سے خاص تمہاری محبت نے بنایا ہے اور میں ہمیشہ خاص رہنا چاہتی ہوں۔ تمہاری نظر میں بھی اور دنیا کی نظروں میں بھی۔” اس کی آنکھوں میں خوف اور لہجے میں التجا تھی۔ اسے کھونے کا خوف تو خود کو نہ کھونے کی التجا کرتی وہ نگاہیں آج بھی عظام کے ذہن پرنقش تھیں۔ وہ لہجہ آج بھی اس کی سماعتوں میں گونجتا تھا۔
    ”عظام اور وریشہ اک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ جدائی نام کی کوئی چیز کبھی بھی ہم دونوں کے درمیان نہیں آ سکتی۔”
    عظام کے پر اعتماد لہجے میں بلا کا یقین تھا اور اسی شب وریشہ کا دل اس یقین پر ایمان لے آیا تھا۔ نیچے عظام کی خالہ زاد کی مہندی کے فنکشن سے فراغت کے بعد سب رشتہ دار خوش گپیوں میں مصروف تھے اور چھت پر عظام اور وریشہ مستقبل کے سہانے خواب بُن رہے تھے۔ دور آسمان پر چمکتا چودھویں کا چاند دونوں کو محبت کے عہدو پیماں کرتا دیکھ ان کی بلائیں لے رہا تھا تو چمکتے ستارے مبارک باد اور سلامتی کی دُعائوں کے سندیسے بھیج رہے تھے۔
    ٭…٭…٭




    وہ آج بھی بے بسی کی تصویر بنی اپنے شوہر کو اپنی آنکھوں کے سامنے بے وفائی کرتے دیکھ رہی تھی لیکن ہمیشہ کی طرح مہر برلب تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ارمغان کا روز روز اپنی نئی گرل فرینڈز کو گھر لے آنا اور رات گئے بے مقصد گفت گو کرتے رہنا اور پھر ان آزاد ماحول کی پروردہ لڑکیوں کو گھر تک چھوڑنے جانا محض اسے دکھ اور تکلیف پہنچانے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔وہ اس کے چہرے پر چھانے والی اُداسی اور آنکھوں میں اترنے والی نمی سے محظوظ ہوتا تھا۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اُداس ہو جاتی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے رخساروں پر بہنے لگتے۔ بعض اوقات وہ تنگ آکر علیحدگی کا فیصلہ کرتی مگر ارمغان کے چبھتے نشتر جیسے الفاظ اس کی زبان بند کروا دیتے۔
    ”احسان مانو میرا جو تم جیسی بدنامی کی پوٹلی کو میں نے قبول کر لیا۔ یا د رکھو، میں نے چھوڑ دیا تو تم کہیں کی نہیں رہو گی۔ گھر والے تو ڈیڑھ سال سے ملنے تک نہیں آئے تمہیں، ان کے علاوہ بھی کوئی ٹھکانہ ہے جہاں رہ سکو تم؟ اگر بنا چکی ہو تو بتا دو، میں ابھی گھر بدر کرنے کو تیار ہوں تمہیں ۔” ا س کے پاس ارمغان کی کسی بات کا جواب نہیں ہوتا۔ وہ یہ سوچ کر چپ رہتی کہ اگر ارمغان نے اسے چھوڑ دیا تو وہ کہاں جائے گی۔ وہ خاموشی سے لب سیے پلٹ آتی۔
    ٭…٭…٭
    ”زندگی کا ہر لمحہ جو تمہارے بن گزرتا ہے، اس لمحے کی روداد نہ پوچھو وریشہ، ایسا لگتا ہے جیسے موت و حیات کے بیچ لٹک رہا ہوں۔” وریشہ آج کافی دنوں بعد عظام کے گھر آئی تھی اور وہ موقع ملتے ہی دلِ بے تاب کے قصے سنانے بیٹھ گیا تھا۔
    ”اُف عظام! تم بھی نا بات بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہو کہ جھوٹ زیادہ اور حقیقت کم ہی لگتی ہے۔” وریشہ اس کی بات سنتے ہی ہلکا سا ہنستے ہوئے بولی۔
    ”قسم سے اک لفظ جھوٹ نہیں کہتا وریشہ!” وہ جھٹ سے اس کے سامنے بیٹھ کر اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے بولا:
    ”محسوس کرو، اس دل کی دھڑکن کی ہر لے میں تمہارا نام لیتا ہے میرا دل ۔تم میری سانسوں کے چلنے کا سبب ہو ۔اگر تم دور ہوئیں تو دل کے بند ہونے سے پہلے ہی میری سانسیں رک جائیں گی۔” وریشہ نے اس کے ہونٹوں پر تڑپ کر ہاتھ رکھا۔
    ”حالت تو وریشہ کی بھی تم سے کم نہیں، تمہاری یہ باتیں خوف زدہ کر دیتی ہیں مجھے۔ یا تو تم خود پاگل ہو جائو گے یا مجھے کر دو گے۔”
    ”محبت کبھی انسان کو پاگل نہیں ہونے دیتی وریشہ مگر یہ سچ ہے کہ محبت پاگل پن کا دوسرا نام ہے۔ کسی کا دیوانہ ہو کر ہوش و خرد کہاں کچھ سمجھنے اور دیکھنے کے قابل رہتے ہیں؟”
    ”عظام! مجھے ڈر لگتا ہے تمہاری محبت سے ، تمہاری باتوں سے۔” وہ خوف زدہ نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی جو اس کاہاتھ تھامے عجیب و غریب باتیں کر رہا تھا۔ وریشہ، عظام کی پھوپھی زاد تھی۔ دونوں میں پسندیدگی تو لڑکپن میں قدم رکھتے ہی ہو گئی تھی، مگر اظہارِ محبت کرنے میں انہیں چھے سال لگ گئے۔
    ٭…٭…٭
    ”آپ کو یہ جاب کیوں چاہیے وریشہ؟”
    ”ذہنی سکون کے لیے سر۔”اولڈ ایج ہوم کے مالک نے وریشہ سے سوال کیا، تو اس نے فوراً جواب دیا۔
    ”آپ کو واقعی لگتا ہے اِس جاب سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا؟” اس کے جواب پر بے ساختہ پوچھا گیا۔
    ”جی سر!بزرگوں کی خدمت سے، ان کا خیال رکھ کر اور ان کی دعائوں سے لگتا ہے مجھے واقعی ذہنی سکون ملے گا۔” وریشہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
    ”جب کہ مجھے لگتا ہے اِن بزرگوں کے قریب رہ کر، ان کی زندگی کی کہانیاں سن کر آپ کو دکھ اور تکلیف کے سوا کچھ نہ ملے گا۔”
    ”آپ بس مجھے یہ جاب دے دیں سر، مجھے ذہنی سکون ہی ملے گا۔ میں اُن کے دُکھ بانٹ کر اپنے غم اور دکھ بھول جائوں گی۔ ” اس کے لہجے میں التجا در آئی۔ اپنے حالات سے فرار اسے یہاں جاب کرنے میں ہی نظر آرہا تھا۔
    ”اوکے وریشہ! آپ ابھی سے جوائن کر سکتی ہیں۔” ریحان احمر نے خوش دلی سے کہا، تو وریشہ کااُداس چہرہ اک دم کھل اٹھا۔ ریحان نے آج پہلی بار گہرے سیاہ بادلوں کے پیچھے سے چاند کو نمودار ہوتے دیکھا تھا۔
    ٭…٭…٭
    وہ ایک وفادار اور فرض شناس بیوی کی طرح اپنے تمام فرائض ادا کر رہی تھی۔ ارمغان کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت تن دہی سے پورا کرتی۔ ارمغان کو کبھی بھی گھریلو کام میں اُس سے شکایت نہیں ہوئی تھی۔ صبح ارمغان کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ اس کی ضرورت کی ہر چیز تیار رکھتی۔ اس کے تیار ہونے سے پہلے ہی وہ ناشتا ٹیبل پر لگا چکی ہوتی۔ وہ خاموشی سے ناشتا کرتا اور وہ ہر روز ہی اس کے منہ سے تعریف کے چند کلمات سننے کی منتظر رہتی لیکن وہ بنا کچھ کہے اُٹھ جاتا۔ وہ سرد آہ بھر کر اسے جاتا دیکھتی رہ جاتی۔وہ اپنی قسمت کے اِس فیصلے پر شکوہ کناں نہیں تھی بلکہ وہ صبر کے گھونٹ پیتے ہوئے شکر سے زندگی گزار رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    اولڈ ایج ہوم میں وریشہ کا دل لگ گیا تھا۔ اس کی بے قرار زندگی میں ایک ٹھہرائو آگیا تھا۔ بزرگوں کے سایۂ شفقت اور ان کی دعائوں نے اسے نیا حوصلہ بخشا تھا۔ وہ بہت محبت اور توجہ سے ہر ایک کی بات سنتی۔ ان کی کہانیاں اسے کبھی مغموم کر دیتیں تو کبھی جینے کے نئے گر سکھاتیں مگر پھر بھی اس کے اندر کا خالی پن گھر لوٹتے ہی اس کے دل میں براجمان ہو جاتا۔ اُداسیوں کے کُہر زدہ ماحول سے وہ جتنا نکلنے کی کوشش کرتی، اتنا ہی اسے اپنے چاروں طرف گہرا ہوتے پاتی۔ وہ کسی ایسے سرے کی تلاش میں تھی جسے پکڑ کر اِس ماحول سے باہر نکل سکے، مگر فی الحال ایسا کوئی سرا اسے دستیاب نہیں تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”خود کو بہت بڑا تیس مار خان سمجھتے ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ہمارے گھر اور ہمارے بزنس پر بھی قبضہ کر لو گے؟” عظام کو اس سے پہلے میں نے ایسے غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔ بس دست و گریباں ہونا باقی تھا، مگر اُس نے خود پر کنٹرول رکھا۔
    ”میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ تم کیا اول فول بک رہے ہو۔ کہنا کیا چاہ رہے ہو تم؟” ارمغان نے سمجھ نہ آنے والے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”اتنے بھی ”چھنے کاکے” نہیں ہو تم جو سمجھ نہیں آ رہی۔ جب دیکھو اِس گھر میں موصوف کے گن گائے جارہے ہیں اور یہ بھولی صورت پوچھ رہی ہے کہ کیا کہنا چاہ رہے ہو تم۔” عظام کو فائنل ائیر میں سپلی آنے پر چھوٹے ماموں سے اچھی خاصی ڈانٹ پڑی تھی اور وہ اپنا سارا غصہ ارمغان پر اتار رہا تھا اور کیوں نہ اتارتا؟ ماموں نے ارمغان کی قابلیت اور ذہانت کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے جو ملا دیے تھے ۔ یہ بات عظام کو ہمیشہ کی طرح ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
    ”قسم سے میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، تم بد گمانی سے کام مت لو ۔”ارمغان نے اپنے ازلی پُرسکون اندازمیں کہا۔
    ”خوب سمجھتا ہوں میں اِس معصوم صورت کے پیچھے ایک عیار انسان چھپا بیٹھا ہے۔” عظام کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میرے روکنے کے باوجود وہ ارمغان کو بے نقط سنائے جا رہا تھا اور وہ میرے سامنے اس کے رویے کی وجہ سے شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔
    ”عظام کیا کروں ایسا کہ تمہاری بد گمانی دور ہو جائے ۔ تمہارا دل صاف ہو جائیمیری طرف سے۔” وہ روہانسا ہو گیا ۔ نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں میں نمی تیرتے دیکھ کر میرا دل دکھنے لگا تھا۔
    ”اِس گھر سے چلے جائو، اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتا تمہارا وجود ۔” عظام نفرت سے کہتا ہوا باہر نکل گیا۔ ارمغان کی نیلی آنکھوں میں نمی در آئی تھی۔
    ”بہت غلط کرتا ہے عظام آپ کے ساتھ۔” میرے پاس اسے ہم دردی میں کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
    ”عادت ہوگئی ہے مجھے یہ سب سننے کی۔ آپ دکھی نہ ہوں ۔آج کون سا پہلی بار ہوا ہے آپ کے سامنے۔”
    ”آپ بہت اچھیہیں ارمغان۔ کبھی حوصلہ نہ ہارئیے گا۔ کوئی بھی مشکل ہو، بس ثابت قدم رہیے گا۔”
    وہ اثبات میں سرہلا کر باہر نکل گیا اور میں اس مضبوط انسان کو جاتا دیکھتی رہ گئی جس کا حوصلہ چٹان جیسا تھا جسے وقت کی کوئی بھی تیز آندھی گرا نہیں سکی تھی۔
    ٭…٭…٭
    مریم آپی شادی کے بعد آج پہلی مرتبہ ایک ہفتہ رہنے کے لیے آئی تھیں۔ سب کزنز ان کے پاس جمع تھے۔
    ”بس میں نے سوچ لیا ، سب کی شادی جلد کروا کے ہی دم لوں گی۔”
    ”بھئی کیوں؟ آخر ہم معصوموں کی آزادی سے کیوں خوامخواہ کا بیر ہو نے لگا آپ کو؟” عظام کے بڑے بھائی اسجد جھٹ سے بولے۔
    ”کیوں کہ اس گھر کی اکلوتی بیٹی کے بیاہ کر چلے جانے سے اِس گھر میں بیٹی کی کمی جو ہو گئی ہے۔ چچی جان سے کہہ دیا ہے میں نے، تین بیٹیاں جلد آئیں گی اِس گھر میں اور انہوں نے رشتہ ڈھونڈنے کی ذمے داری بھی مجھے سونپی ہے۔” انہوں نے اپنی طرف اشارہ کر کے اتراتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے تو منظور ہے۔آپ کی چوائس ویسے بھی بہت اچھی ہے مریم آپی۔” عظام جھٹ سے اٹھ کے مریم آپی کے پاس بیٹھ گیا۔
    ”پہلے تو اسجد بھائی کی باری ہے، مریم آپی اِن کے لیے کوئی لڑکی نظر میںرکھیے۔” میں نے عظام کی بات کے جواب میں فوراً کہا تو میری بات سن کے عظام بد مزہ ہوتے ہوئے بولا۔
    ”آپی! اسلام میں کہیں شرط نہیں کہ پہلے بڑے کی شادی ہو۔” عظام مجھے منہ چڑا کر بولا۔
    ”اسلام میں نہیں لکھا مگر زمانے کادستور یہی ہے کہ پہلے بڑے بھائی کی شادی ہو اور پھر چھوٹے کی۔”مریم آپی بھی اسے تنگ کرنے کے موڈمیں تھیں۔ مجھے دیکھ کر آنکھ دبا کے بولیں، تو عظام کھڑکی کے پاس جا کر کھڑاہوگیا۔
    ”آپی پہلے بتائیں اسجد بھائی کے ساتھ کیسی لڑکی جچے گی؟”میں نے شرارت سے اسجد بھائی کو دیکھ کر کہا جن کے کان کھڑے ہو چکے تھے۔
    ”اِس کے ساتھ کوئی فضول خرچ اور ماڈرن سی لڑکی سوٹ کرے گی ۔جیسا یہ خود ہے، ویسی ہی لڑکی ہونی چاہیے۔ بس گھومنے پھرنے اور شاپنگ کرنے کی شوقین۔”
    ”واہ واہ! آپی ایسا ہو جائے تو سونے پہ سہاگا ہے۔ مجھے بھی کوئی روک ٹوک اور خرچوں کے لیے رونے والی شریکِ حیات کی خواہش نہیں۔”اسجد بھائی جھٹ سے بولے۔
    ”السلام علیکم آپی۔” ارمغان آفس سے آنے کے بعد سیدھا مریم آپی سے ملنے چلا آیا۔ آج بھی وہ تھری پیس سکائی بلیو سوٹ میں ہمیشہ کی طرح غضب ڈھا رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی عظام کا منہ بن گیا۔
    ”وعلیکم السلام میرے شہزادے بھائی۔” مریم آپی نے محبت پاش نظروں سے ارمغان کو دیکھتے ہوئے نہایت خوش دلی سے جواب دیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس ہی بیڈ پر بٹھا لیا۔
    ”اور میرے ساتھ کون جچے گی؟ کیسی بھابی لانا چاہیں گی آپ میری بیوی کی صورت میں؟” عظام میرے بگڑتے تیوروں سے محظو ظ ہوتے ہو ئے بولا۔
    ”اُف پھوٹ گئی اُس کی قسمت جو تمہاری بیوی بنے گی۔” آپی نے اپنا الٹا ہاتھ پیشانی پر مارتے ہوئے کہا، تو سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔
    ”اب ایسی بھی بات نہیں، بہت کیئرنگ اور محبت کرنے والا شوہر ہوں گا میں۔”عظام نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
    ”بالکل! مگر اس کے ساتھ ساتھ تمہارے نخرے…” مریم آپی نے نخرے کی”ے” کو لمبا کھینچا تو عظام میرے قریب بیٹھتے ہوئے آہستہ سے بولا:
    ”بہ خوشی اٹھا لے گی میرے نخرے ۔”میں نے مسکرا کے سر جھکا لیا۔




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۲

    ”برقع کے کچھ فائدے ہیں یہ مجھے آج پتا چلا ہے۔” وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا شوخی سے کہہ رہا تھا۔
    ”مگر اس کے نقصانات بہرحال زیادہ ہیں یہ حسن کو چھپا دیتا ہے اور دنیا میں حسن ہی تو دکھانے والی چیز ہے۔”
    اس نے اب راوی کے کنارے گاڑی روک لی۔
    ”اور تم صرف حسن نہیں سراپا حسن ہو۔” اب وہ اس کی طرف گردن موڑے کہہ رہا تھا۔
    شائستہ ونڈ اسکرین سے باہر دیکھتی رہی۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ہارون کمال سے نظریں ملا سکتی۔
    ”تو بات گاڑی سے باہر چلتے پھرتے ہوگی؟ یا پھر…” اس نے پہلی بار ہارون کی بات کاٹی۔
    ”نہیں یہیں بات کر لیتے ہیں۔” برقع اوڑھنے کے باوجود شائستہ کو خوف تھا کہ گاڑی سے باہر نکلنے پر کوئی نہ کوئی اسے دیکھ لے گا اور پہچان لے گا اور وہ اسی شناخت سے خوفزدہ تھی۔
    ”ٹھیک ہے یہیں بات کر لیتے ہیں… سب سے پہلے تو چہرے سے یہ نقاب ہٹا دو، کیونکہ میں چہرے پر نقاب کے ساتھ بات نہیں کروں گا۔” ہارون نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”لیکن اگر کسی نے دیکھ لیا تو میرے لیے بہت مشکل ہو جائے گی۔”
    ”میں تمہیں راوی کے کنارے شہر سے تقریباً باہر لے آیا ہوں… یہاں تمہیں کون دیکھ سکتا ہے اور اگر کوئی دیکھ بھی لیتا ہے تو میں سب کچھ ہینڈل کرلوں گا۔”
    ہارون نے متاثر ہوئے بغیر کہا۔ شائستہ کچھ دیر سوچتی رہی پھر اس نے آہستہ آہستہ چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ ہارون کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
    ”تم نے میری رنگ نہیں پہنی؟” اس نے بات شروع کرتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں… مجھے چھپا کر رکھنا پڑی کیونکہ سب کو اس واقعہ کا پتا چل گیا تھا اور امی اور بابا بہت ناراض تھے۔” سر جھکائے شائستہ نے جواب دیا۔
    ”ْیوں؟” ہارون نے بڑے تیکھے انداز میں پوچھا۔
    ”انہوں نے اپنی بے عزتی محسوس کی۔”




    ”جس کا بدلہ انہوں نے میرے والدین کو بے عزت کرکے لیا۔”
    ”میں اس کے لیے معذرت…” ہارون نے شائستہ کی بات کاٹ دی۔
    ”میں نے تمہیں یہاں کسی معذرت کے لیے نہیں بلوایا۔ تمہارا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔”
    شائستہ نے اس کی بات پر سکون کا سانس لیا۔
    ”تمہارے گھر والے بہت عجیب ہیں شائستہ…! غاروں میں رہنے والے لوگ ہوتے تھے نا اس طرح کی Breed ہے تمہارے گھر میں… پتہ نہیں کون سی صدی میں جیتے ہیں انکل۔”
    اس کے لہجے میں تمسخر اور تحقیر تھی اور شائستہ کو یہ دونوں چیزیں بری نہیں لگیں۔
    ”تمہارا دم نہیں گھٹتا اس گھر میں؟” اس نے شائستہ سے پوچھا۔
    وہ خاموش رہی۔ ”تم جیسی لڑکی کو اس گھر میں نہیں ہونا چاہیے۔”
    شائستہ کو لگا جیسے ہارون کو اس پر ترس آرہا ہو۔
    ”اور میں نے اسی لیے تمہیں اس گھر سے نکال لانے کی کوشش کی… مگر تمہارے ماں باپ… ڈوبنے والا شخص اپنے ساتھ ڈوبنے والے کو کبھی بچنے نہیں دیتا… وہ چاہتا ہے وہ بھی اسی کی طرح پانی میں غوطے کھاتا رہے اور انکل بھی یہی چاہتے ہیں وہ خود جس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں ویسی ہی زندگی وہ اپنی اولاد پر بھی تھوپ دینا چاہتے ہیں بلکہ تھوپ چکے ہیں… اب بس تم رہ گئی ہو اور وہ تمہیں بھی چھوڑنا نہیں چاہتے۔”
    شائستہ کو بے اختیار خود پر ترس آیا۔
    ”تم خود سوچو۔ کون سا باپ ہوگا جو میرے جیسے بندے کے پرپوزل کو اس طرح اپنی بیٹی کے لیے رد کر دے گا۔ کس چیز کی کمی ہے مجھ میں؟ کیا میں خوبصورت نہیں؟ دولت مند نہیں؟ تعلیم یافتہ نہیں؟ ان کے پہلے دونوں دامادوں سے بہتر نہیں؟ پھر بھی وہ اس پرپوزل کو ٹھکرا رہے ہیں… صرف اپنی ضد کی خاطر… میرے باپ سے ان کے اختلافات ہوسکتے ہیں، مگر مجھ سے ان کا کیا اختلاف ہے۔ یہ میری سمجھ سے بالاتر ہے… وہ انا کے مارے ہوئے ہیں یا حسد کے… یا پھر دونوں کے یہ میں نہیں جانتا لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ وہ تمہاری زندگی برباد کر دیں گے۔ انہیں تمہاری پسند، ناپسند سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔”
    وہ مسلسل بولتا جا رہا تھا اور شائستہ اسی خاموشی سے سن رہی تھی۔ اس نے ایک بار بھی اسے روکنے یا اس کے کسی تبصرے پر اعتراض نہیں کیا۔ اس وقت اسے ہارون کی باتوں میں سچ اور صرف سچ نظر آرہا تھا۔
    ”جس شخص کو اپنی اولاد سے محبت ہو۔ وہ اپنی اولاد کی زندگی کے سارے فیصلے خود کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ کیا انہوں نے تم سے پوچھا کہ تمہاری میرے بارے میں کیا رائے ہے؟ تم کیا چاہتی ہو؟ نہیں انہوں نے نہیں پوچھا ہو گا۔ انہوں نے اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ہوگی، یہ سوال تو وہ شخص اپنی بیٹی سے پوچھتا جس شخص کو اپنی بیٹی کی خوشیاں عزیز ہوتیں مگر انکل اکبر جیسا شخص جسے اپنی ناک کے علاوہ دنیا میں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ وہ ایسی باتوں کی پروا کیوں کریں۔ مجھے حیرت تم پر ہے شائستہ! تم میں تو اتنی جرأت ہونی چاہیے تھی کہ تم انکل اکبر کے سامنے آکر اپنی پسند کا اظہار کر دیتیں… انہیں بتاتیں کہ تمہیں یہ پرپوزل قبول ہے اور تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔”
    ”یہ سب کرنا بہت مشکل ہے۔” شائستہ نے پہلی بار اس گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں مشکل ہے؟” اس نے تنک کر کہا۔
    ”ہمارے گھر میں لڑکیوں کو اتنی آزادی نہیں ہے کہ وہ اپنی پسند یا ناپسند بتاتی پھریں یا کسی ایسے پروپوزل کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں جسے ماں باپ رد کرچکے ہوں۔”
    ”یعنی تم بھی خاموشی سے وہاں شادی کرلو گی جہاں تمہارے والدین چاہیں گے چاہے وہ شخص تمہیں پسند ہو یا نہ ہو؟”
    وہ خاموش رہی۔ ہارون نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا۔
    ”میں نہیں جانتی۔” شائستہ نے بے بسی سے کہا۔
    ”اپنی زندگی کے بارے میں تم نہیں جانتیں تو پھر کون جانتا ہے انکل اکبر؟” وہ ایک بابر پھر ہنسا۔
    ”ویسے میرے پرپوزل کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟”
    وہ چپ رہی۔
    ”ایک بار پھر خاموشی… وہی خاموشی… اور میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ میں خاموشی کو ہمیشہ اقرار سمجھتا ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ تمہیں میرے پرپوزل پر کوئی اعتراض نہیں ہے؟’
    وہ پھر خاموش رہی، ہارون نے ایک گہری سانس لی۔
    ”تو پھر تم اپنے والدین سے بات کیوں نہیں کرتیں۔ انہیں بتاؤ کہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔”
    ”یہ یہ نہیں کرسکتی۔ یہ ممکن نہیں ہے۔”
    ”کیوں ممکن نہیں ہے؟ تم کوئی گائے بھینس تو نہیں ہو، جس کی کوئی رائے ہی نہ ہو یا پھر میں یہ سمجھوں کہ تمہیں مجھ سے محبت ہی نہیں ہے اور میں کسی خوش فہمی کا شکار ہوں۔”
    ”ایسا نہیں ہے… لیکن آپ سمجھتے کیوں نہیں میں مجبور ہوں۔” شائستہ نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا۔
    ”مجھے نفرت ہے ان لڑکیوں سے جو محبت کسی سے کرتی ہیں اور شادی کسی سے۔ یا انسان محبت نہ کرے یا پھر شادی بھی اسی بندے سے کرے جس سے اسے محبت ہو اور بکواس کرتا ہے وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ وہ مجبور ہے اگر کوئی محبت کرتے ہوئے مجبور نہیں ہے تو شادی کرتے ہوئے کیسے ہو سکتا ہے۔ مجھے تم سے محبت ہے اور میں کسی دوسری جگہ شادی نہیں کروں گا، دنیا کی کوئی طاقت کسی دوسری لڑکی کو میری بیوی نہیں بنا سکتی۔ حتیٰ کہ کوئی بڑی سے بڑی مجبوری بھی… اور تم… تم یہاں میرے سامنے بیٹھ کر محبت کا اقرار کر رہی ہو اور ساتھ یہ کہہ رہی ہو کہ تم مجھ سے شادی نہیں کر سکتیں کیونکہ تم مجبور ہو… ویری فنی۔”
    ”عورت میں اتنی جرأت ہونی چاہیے کہ وہ جس مرد سے محبت کا اقرار کرے اسی کی بیوی بنے یا پھر کبھی شادی نہ کرے۔ کم از کم اپنی مجبوریوں کے رونے کبھی نہ روئے۔” شائستہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ بہت سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ کچھ دیر پہلے کی شوخی اور شگفتگی کا نام و نشان بھی نہیں تھا اس کے چہرے پر۔
    ”میرے لیے وہ کام بہت مشکل ہے جو آپ چاہتے ہیں۔” شائستہ نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔
    ”تمہارا اس طرح یہاں آنا بھی بہت مشکل تھا تم نے یہ مشکل کام کیا تو وہ بھی کرسکتی ہو۔” ہارون اس کے لہجے کی بے بسی سے متاثر نہیں ہوا۔
    ”بابا انکل کمال کو پسند نہیں کرتے اور وہ کبھی بھی آپ کا پرپوزل قبول نہیں کریں گے۔”
    ”میرے باپ کو کیوں ناپسند کرتے ہیں وہ۔ کیا صرف اس لیے کہ میرا باپ ان سے زیادہ ترقی کر گیا ہے۔ زندگی کے ہر میدان میں میرے باپ نے انہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔” وہ خاموش رہی۔ ”بہرحال وہ میرے باپ کو پسند کرتے ہیں یا نہیں یا میں انہیں اچھا لگتا ہوں یا نہیں لیکن مجھے شادی تم ہی سے کرنی ہے۔ مجھ میں اتنی غیرت ضرور ہے کہ جس سے میں محبت کروں اسے کسی دوسرے کی بیوی نہ بننے دوں۔ تمہارے نام کے ساتھ کسی دوسرے شخص کا نام میں نہیں لگنے دوں گا۔ اس لیے تم گھر میں اپنے علاوہ اپنے ماں باپ سے میرے بارے میں بات کرو اور میں اپنے ماں باپ کو ایک بار پھر تمہارے گھر بھیجوں گا۔” اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔ شائستہ صرف اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔
    ٭٭٭