Tag: Urdu fiction

  • عکس — قسط نمبر ۱۴

    اس آئینے نے کئی سال پہلے کی طرح آج بھی شہربانو کی نظر کو خود سے ہٹنے نہیں دیا… گزر جانے نہیں دیا۔ وہ آئینے کے سامنے رک گئی، وقت نے اس آئینے پر اپنے نشانات بڑھا دیے تھے… ہلکی سی بوسیدگی، چند داغ، کئی نئی لکیریں، آب و تاب کھوئی ہوئی چمک، بجھی ہوئی رنگت… وقت نے ایسے ہی بہت سے نشانات اس کے اپنے وجود اور اس چہرے پربھی چھوڑے تھے جس کا عکس آئینے میں دیکھنے پر شناخت کرتے ہوئے اسے چند لمحے لگے تھے۔
    وہ آئینے میں خود کو دن میں کئی بار دیکھتی تھی… لیکن اس آئینے میں نظر آنے والا عکس اس نے کئی سال بعد دیکھا تھا… ایک نظر اس نے خود کو دیکھا پھر اپنے عقب میں نمودار ہونے والے مرد کو… شیردل کو… آئینے میں دونوں کی نظریں لمحے بھر کے لیے ایک دوسرے سے ملی تھیں پھر دونوں نے ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا لیں۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے ایک دوسرے سے اسی طرح نظریں چراتے ہوئے ہی پھر رہے تھے۔ آئینے میں ایک لمحے کے لیے جیسے ان کی زندگی جھلکی تھی… وہ زندگی جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزار رہے تھے… کئی سال سے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ… اور ایک دوسرے سے کئی صدیوں کے فاصلے پر… ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار… اور اس محبت کو کائی کی طرح اپنے وجود سے نوچتے ہوئے۔
    شیردل اس کے پاس سے گزر کر کھلے ہوئے اندرونی دروازے سے اندر چلا گیا تھا۔ شہربانو نے سر اٹھا کر ایک گہرا سانس لیتے ہوئے ایک بار پھر اس آئینے کو اور اس گھر کو دیکھا۔
    زندگی میں اس گھر سے زیادہ نفرت اسے کبھی کسی دوسری جگہ سے نہیں ہوئی تھی… نفرت شاید ایک بہت معمولی لفظ تھا اپنے ان احساسات کو بیان کرنے کے لیے جو وہ اس گھر کے لیے رکھتی تھی… وہاں کی ایک ایک چیز کے لیے رکھتی تھی… اگر کوئی اسے کبھی کہتا کہ دنیا میں وہ کون سی ایک جگہ تھی جسے وہ آگ لگا کر بھسم کر دینا چاہتی تھی تو شہربانو اس گھر کا نام لیتی… اور اس تمام نفرت کے باوجود شہربانو وہاں آنے اور وہاں رہنے پر مجبور تھی۔ کیونکہ وہ اس گھر کی ملکہ تھی۔
    ……٭……




    بختیار شیردل نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک لفافہ نکالا اور اسے خیردین کے سامنے پڑی سینٹر ٹیبل پر رکھ دیا۔ چند لمحوں کے لیے بات کا آغاز کرنے کے لیے لفظ ڈھونڈتے ہوئے انہیں بھی دانتوں پسینے آگئے تھے۔ زندگی میں پہلی بار وہ کسی کے پاس معذرت کرنے کے لیے پہنچے تھے اور جس چیز کی معذرت وہ کرنا چاہتے تھے اس کا ذکر بھی زبان پر لاتے ہوئے وہ منوں بوجھ کے نیچے دب رہے تھے۔ وہ طبقاتی فرق پر یقین رکھتے تھے لیکن بے ضمیری پر نہیں۔ ان کے برابرمیں بیٹھی ہوئی منزہ نے ایک بار بھی خیردین کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ بس بے تاثر چہرے کے ساتھ نظریں جھکائے اپنی کلائی میں موجود رولیکس گھڑی پر انگلیاں پھیرتی رہی۔ بختیارشیردل کو اسے خیردین کے پاس معذرت کے لیے چلنے پر تیار کرنے کے لیے زندگی میں پہلی بار بہت سخت لفظوں کا استعمال کرنا پڑا تھا اور ان لفظوں نے منزہ کی خفگی کو جیسے بڑھا دیا تھا۔ شوہر کے غصے نے انہیں ہتھیار ڈالنے اور ان کی بات ماننے پر مجبور کر دیا تھا لیکن وہ دل میں موجود کدورت کو ختم نہیں کر سکی تھی۔ بختیارشیردل جیسے ایک چور کو اس گھر میں اس مالک کے سامنے لے آئے تھے جس کے گھر میں ڈاکا ڈالا گیا تھا۔
    ”آپ کچھ لیں گے؟” غیر متوقع طور پر گفتگو کا آغاز خیردین نے کیا تھا۔ وہ شاید ان کی مشکل بھانپ گیا تھا۔
    ”نہیں کچھ نہیں… thank you۔” بختیار نے بڑی شائستگی کے ساتھ انکار کیا۔ خیردین نے ان کے انکار کے باوجود کارنر ٹیبل پر پڑا انٹرکام کا ریسیور اٹھا کر ملازم سے چائے کے لیے کہا اور پھر ریسیور رکھ دیا۔ ہتک کی کوئی انتہا تھی جو منزہ اس وقت وہاں خیردین کے سامنے بیٹھے ہوئے محسوس کررہی تھی۔ وہ اسی گھر میں ایک مہینہ اس کی اور اس کے بچوں کی خدمت کرتا رہا تھا۔ اس کے کپڑوں کو استری کرنے سے لے کر اس کے جوتے صاف کرنے تک… صبح اس کو بیڈ ٹی پہنچانے سے لے کر آدھی رات کو کسی بھی وقت طلب کیے جانے پر حاضر ہو جانے تک… اور اس کی کبھی جرأت نہیں ہوئی تھی کہ وہ اس کے سامنے بیٹھ سکے… وہ ہاتھ باندھ کر آتا تھا، ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا تھا اور اسی طرح ہاتھ باندھے سر جھکائے چلا جایا کرتا تھا اور اب وہ ان کے لیے اس گھر کے اس صوفے پر بیٹھ کر چائے آرڈر کر رہا تھا جہاں پر میزبان بیٹھا کرتا تھا اور اب وہ ان کے ساتھ انہی برتنوں میں چائے پیے گا جن برتنوں میں وہ پئیں گے اور یہ سب اس کے اس احمق شوہر کی وجہ سے ہورہا تھا جو 21 گریڈ کا ایک سیکریٹری ہوتے ہوئے 18 گریڈ کی ایک ڈپٹی کمشنر کے گھر اپنے ضمیر کی چبھن مٹانے آیا تھا۔
    ”idiot۔” اس نے دل ہی دل میں اپنے شوہر کو کوسا۔ وہاں خیردین کے برابر بیٹھنا منزہ کے لیے جیسے کوئلوں کی انگیٹھی پر بیٹھنے کے برابر تھا۔ اتنے سال اپنے بھائی کی جس عزت کو بچانے کے لیے وہ کامیاب جدوجہد کرتی آرہی تھی وہ آج بیچ چوراہے نیلام ہونے چلی تھی اور اس کا سارا کریڈٹ اس کے ”باضمیر” شوہر اور الو کے پٹھے بیٹے کو جاتا تھا۔
    ”میں اپنی فیملی کی طرف سے شہباز حسین سے ہونے والی ساری غلطیوں کے لیے معذرت کرنے آیا ہوں۔” بختیار نے بالآخر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔ ”شہباز اب اس دنیا میں نہیں ہے ورنہ میں اسے ساتھ لے کر آپ کے پاس آتا۔ اس نے جو کچھ بھی آپ کے اور آپ کی نواسی کے ساتھ کیا وہ کسی بھی لحاظ سے کسی اچھے انسان کا رویہ نہیں ہو سکتا۔ میں اس کے طرزعمل کے لیے آپ سے کتنا شرمندہ ہوں آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے۔” آنسو خیردین کی آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح ایک لمحہ میں امڈ آئے تھے۔ اسے بختیار شیردل سے اتنے کھلے لفظوں میں اس گفتگو کی امید نہیں تھی۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ آج کی ملاقات کس لیے ہورہی تھی۔ ایبک شیردل کے والدین اگر اس سے ملنے آرہے تھے تو کس لیے آرہے تھے… اس نے بہت سے اندازے لگانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے کسی اندازے میں شہباز حسین نہیں آیا تھا اور اب اتنے سالوں بعد منزہ کو دیکھنے پر اور بختیار کے منہ سے اسی قصے کا ذکر سننے پر وہ جیسے بری طرح دل گرفتہ ہوا تھا۔ وہ بختیار شیردل سے اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب کے بعد بھی دو تین سرکاری فنکشنز میں ایبک شیردل کے ساتھ مل چکا تھا لیکن وہ منزہ سے پہلی بار مل رہا تھا۔ بختیار کی گفتگو سنتے ہوئے اس کا ذہن ابھی بھی یہ ماننے پر تیار نہیں ہورہا تھا کہ چڑیا اس سے ایبک شیردل کے بارے میں اتنا بڑا راز چھپا سکتی تھی… کیا وہ بھی اسی کی طرح اس خاندان کی شناخت سے بے خبر تھی؟ اس نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور تبھی بختیار نے اس کیس کا ذکر شروع کر دیا۔ خیردین کو کرنٹ لگا تھا تو اس کا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا تھا وہ جانتی تھی ایبک شیردل کون تھا اور اس نے پھر بھی خیردین کو کبھی اس کے بارے میں نہیں بتایا… کیوں؟ خیردین کو زندگی میں پہلی بار اپنی چڑیا سے گلہ ہوا تھا۔
    ……٭……
    شیردل اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔ وہ شہربانو سے ان دو سوالوں کی ان الفاظ میں توقع نہیں کررہا تھا۔ نہ وہ عکس کا ذکر اس انداز میں سننے کی امید رکھے ہوئے تھا۔
    شہربانو کو اس کی اس خاموشی سے خنجر کی کاٹ جیسی تکلیف ہوئی جو ان دو سوالوں کے جواب میں اسے شیردل سے ملی تھی۔ سارے خدشات، ساری بدگمانیوں، سارے گلے شکووں کے باوجود بھی کہیں نہ کہیں اسے بھی جیسے ایک عجیب سی امید تھی کہ وہ بے ساختہ انکار کرے گا، تردید کرے گا… اس نے ایسا تو کچھ نہیں پوچھا تھا اس سے کہ اس کے سامنے کھائی آجاتی۔ شیردل کی خاموشی نے اس کے اندر کے شور کو یک دم اور بڑھا دیا تھا۔
    ”مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جواب اتنا مشکل ہے تمہارے لیے۔” شہربانو نے عجیب شکست خوردگی کے ساتھ اس کے چہرے سے نظریں ہٹائیں۔ شکست اس کے غصے کو عجیب طرح سے بھڑکانے لگی تھی۔
    ”احمقانہ باتوں اورسوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے میرے پاس۔” شیردل نے بالآخر جیسے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”احمقانہ؟” وہ تلخی سے ہنس پڑی۔ ”شیردل تم اپنے دل سے پوچھو کہ تمہیں یہ سوال احمقانہ لگا ہے؟” اس نے عجیب چیلنج کرنے والے انداز میں اس سے کہا۔
    ”ہاں مجھے لگا ہے۔ اسی لیے کہا ہے تم سے…” شیردل نے بڑی خفگی کے ساتھ اس سے کہا۔ ”ہم کیس کو ڈسکس کررہے تھے… میرے اور عکس کے حوالے سے کوئی ڈسکشن نہیں ہورہی تھی۔”
    ”یہ کیس تمہاری وجہ سے شروع ہوا ہے۔ تمہارے اورعکس کے اس تعلق کی وجہ سے شروع ہوا ہے جس پر تم بات نہیں کرنا چاہتے۔ اس ساری کہانی میں یہ تیسرا اینگل نہ ہوتا تو یہ کیس بھی کورٹ میں نہ ہوتا۔” شہربانو نے بے حد تلخی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔




  • عکس — قسط نمبر ۱۳

    چند لمحے پہلے آئینے میں نظر آنے والے اپنے عکس کو اس بار اس نے خیردین کی آنکھوں میں منعکس ہوتے دیکھا تھا۔
    ایک سرخ اور سنہرے کامدار دوپٹے کے ہالے میں دلہن کا روپ لیے چمکتا ہوا اس کا چہرہ… ماتھے کے بیچوں بیچ تاج کی طرح ٹکا اس کے لباس کے ہم رنگ سرخ پتھروں سے مرصع بیضوی شکل کا ایک ٹیکا… اس کے کانوں میں ہلکورے لیتے لمبے لمبے جھمکے جن کے نچلے حصے پر لٹکتے سرخ باریک موتی اس کی قمیص کے گہرے گول گلے سے ہمیشہ کی طرح نمایاں کالر بون کو گردن کے ذرا سے خم پر چومنے لگتے تھے اور اس کی باریک صراحی دار گردن کے گرد موجود سرخ پتھروں کا وہ نیکلس جس کا نیچے کو نکلا ہوا سنہری بیضوی حصہ اس کی سرخ قمیص کے سرے کو چھو رہا تھا۔ وہ آئینے میں اپنے شفاف اور واضح اس عکس کو دیکھ کر مبہوت نہیں ہوئی تھی۔ خیردین کی آنکھوں میں اپنے دھند لائے ہوئے عکس کو دیکھ کر ہوگئی تھی۔ وہ اپنے نانا کی آنکھوں کی نمی میں ہلکورے لے رہی تھی یا شاید وہ اس کی اپنی آنکھوں کی نمی تھی جس نے خیردین کی آنکھوں کی نمی میں دھند لاتے اس کے عکس کو کچھ اور دھند لا کر دیا تھا۔




    لیکن خیردین اور وہ پھر بھی ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ساتھ… بے یقینی کے ایک عجیب سے جہاں میں پہنچے ہوئے۔
    اس کے چہرے سے بالا خر نظریں پہلے خیردین نے ہی ہٹائی تھیں۔ وہ اپنی چڑیا کو اپنی نظر لگنے سے بھی بچانا چاہتا تھا۔ یہ اس کا وہ روپ تھا جس کو دیکھنے کے لیے وہ کئی سالوں سے متمنی تھا اور آج اس روپ میں چڑیا کو دیکھتے ہوئے اس کا دل عجیب سی خوشی اور طمانیت کے ساتھ ساتھ بڑی عجیب سی کسک محسوس کرنے لگا تھا۔ اس کی چڑیا کو اپنا جیون ساتھی مل گیا تھا وہ اس کے ساتھ اب ایک نئے سفر پر اڑجانے والی تھی۔
    عکس نے خیردین کو خود سے نظریں چراتے ہوئے آگے بڑھتے اور اسے اپنے ساتھ لپٹاتے دیکھا۔ وہ جذباتی نہیں تھی لیکن وہ اس لمحے رودی تھی۔
    وہ چند منٹ پہلے بیوٹی پارلر سے نکاح کی اس سادہ تقریب میں شرکت کے لیے پہنچی تھی جو اسی گھر کے لان میں منعقد کی گئی تھی اور دروازے پر اس کا استقبال خیردین نے ہی کیا تھا۔ وہ چڑیا کے چند گھنٹے پہلے پارلر جانے کے بعد سے وہاں مہمانوں کا استقبال کرتا وہاں سے ہلا نہیں تھا۔ اسے اپنی چڑیا کی واپسی کا انتظار تھا۔ دلہن کے روپ میں اس پر پہلی نظر ڈالنے کی بے قراری… خیردین کی نظریں مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اور انہیں پائیں باغ کی طرف بھیجتے ہوئے بھی گیٹ پر جمی رہی تھیں۔
    اور اب جب وہ گھر کے اندرونی دروازے کے سامنے گھر کے اندر جانے کے لیے اپنی چند دوستوں کے ساتھ کھڑی تھی تو خیردین کا دل عجیب طرح سے بوجھل تھا۔ وہ عام لڑکی نہیں تھی نہ خیردین نے اسے عام طرح سے پالا تھا پھر بھی وہ ایک لڑکی تھی اور خیردین کا دل ویسے ہی اندیشوں اور خدشات سے دوچار تھا جیسے اندیشے کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کو ایک انجان آدمی کے ساتھ ایک انجان سفر پر رخصت کرتے ہوئے رکھتا…چاہے وہ انجان آدمی جیون ساتھی ہی کیوں نہ ہوتا۔ چاہے وہ انجان سفر زندگی کا سفر ہی کیوں نہیں ہوتا۔
    خیردین نے اسے کندھوں سے تھامے ہوئے اس کے جھکے ہوئے سر کو پھر ماتھے کو چوما ،عکس نے ایک بار پھر سر اٹھا کر اپنے نانا کو دیکھا وہ کتنی خوب صورت لگ رہی تھی اس نے خیردین کی آنکھوں میں دیکھ لیا تھا۔ وہ اس کے لیے کیا دعائیں کررہا تھا وہ اس کے ساکت ہونٹ سے بھی سن سکتی تھی۔ عکس مراد علی نے اپنی ساری زندگی میں ایسا مرد کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ شفیق تھا، رہبر تھا، دوست تھا، غم خوار تھا، اس پر جان چھڑکنے والا تھا اوروہ اس کے لیے اپنی انا اور عزت کو ہر بار کی طرح اس بار بھی کہیں بہت پیچھے رکھ آیا تھا۔ ایسا کون ملے گا اسے جو اسے خیردین کی طرح چاہے گا… کبھی کوئی نہیں مل سکتا، کوئی اس جیسا ہو ہی نہیں سکتا ،کوئی اس کے لیے اپنے دل میں ویسی غیر مشروط محبت رکھ ہی نہیں سکتا۔ چڑیا نے اپنے نانا کی آنکھوں میںیہ سب پڑھا تھا۔ کھلی کتاب کی طرح جس کا ایک ایک لفظ خود بول رہا تھا۔
    بنا کچھ کہے اس نے خیردین کا ہاتھ تھام لیاتھا۔ اس ہاتھ کے لمس میں وہ تشکر جھلک رہا تھاجو عکس کے دل میں تھا اور جو اس کے نرم ہاتھ کی سخت گرفت میں تھا۔
    ”میں تمہارے بغیر بہت اداس ہوجاؤں گا چڑیا۔”خیردین نے اپنی نم آنکھیں صاف کرتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”نانا میں آپ کی زندگی سے کہیں جاؤں گی تو اداس ہوں گے نا آپ۔ میں کہیں نہیں جارہی ، میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہی رہوں گی۔” خیردین رنجیدگی سے اس کی تسلی سنتے ہوئے مسکرادیا تھا۔ وہ اسے بچوں کی طرح بہلا رہی تھی۔
    ”رک کیوں گئیں؟” خیردین نے اسے گھر کے اندرونی دروازے میں رکتے دیکھ کر کہا۔
    ”نہیں… ایسے ہی۔” وہ چونکی تھی اور اس نے اپنے ان سات ساتھیوں سے نظریں ہٹا لی تھیں جو ایک بار پھر اس کا استقبال کرنے کے لیے وہاں موجود تھے اور جنہیں وہ ہمیشہ اس گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہیں نہ کہیں دیکھتی رہی تھی۔ وہ سات اس کی زندگی کے اس نئے سفر پر اسے رخصت کرنے کے لیے ایک بار پھر وہاں موجود تھے۔
    ٹوفو اس کے رو پہلی چوڑی دار پاجامے کی چوڑیوں کے ساتھ لٹکا اپنا توازن برقرار رکھنے کی جدو جہد میں مصروف تھا۔ کنٹا اس کی پینسل ہیل والے جوتے کے اسٹرپ سے چپکا اس کے پیروں پر بنے مہندی کے نقش ونگار پر غور فرمانے میں مصروف تھا۔ منٹا ایک باجا پکڑے گھر کی دہلیز پر ادھر سے ادھر جاتے ہوئے اسے بجانے میں لگا تھا۔ ڈیڈو اچھل اچھل کر اس کے ٹخنوں تک پہنچتی سرخ قمیص کے سنہری کامدار دامن کو پکڑنے کی کوشش میں لگا تھا۔ ٹوکو اس کے زمین تک لٹکنے والے دوپٹے کے پلو سے لٹکا ہوا تھا اور کٹو اور ٹنٹو خوشی سے بے قابو سر پر سالگرہ والی نوکدار لمبی ٹوپیاں پہنے پھر کی کی طرح گول گول گھومتے چکراتے پھر رہے تھے۔ وہ سب اس کی خوشیوں کو سیلیبریٹ کررہے تھے۔ چڑیا نے اس غیر مرئی دنیا کو مسکراتے ہوئے دیکھا جو صرف اسے نظر آتی تھی اور جہاں کی ملکہ وہ تھی۔
    ایلس آج اپنے اس ونڈر لینڈ کو چھوڑ کر اپنے جیون ساتھی کے ساتھ ایک نئے ونڈر لینڈ کو آباد کرنے جارہی تھی۔
    ……٭……
    ان دونوں نے بہت دور سے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تھا۔ شیردل چند لمحے پہلے ہی ہاسپٹل کے اس کوریڈور میں داخل ہوا تھا جہاں خیردین کا کمرا تھا اور عکس ابھی ابھی ہاسپٹل سے کسی کام کے لیے باہر نکل رہی تھی۔ شیردل کو آتے دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی تھی۔ بہت دور سے بھی دونوں نے ایک دوسرے کو ایک خیرمقدمی مسکراہٹ دی تھی۔
    ”کب آئے؟” عکس نے اس کے قریب آنے پر علیک سلیک کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”ابھی، ابھی۔” شیردل نے جواب دیتے ہوئے اس کے چہرے کو جیسے کھوجنے کی کوشش کی، وہ ہمیشہ کی طرح ناکام رہا تھا۔ وہاں ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے علاوہ اسے کچھ نہیں ملا تھا۔ ایک انتہائی اطمینان بھری مسکراہٹ جس میں کسی قسم کا کوئی اضطراب نہیں تھا۔
    ”کیا ضرورت تھی اتنی جلدی یہاں آنے کی؟ ریسٹ کرتے… کل پرسوں آجاتے یا فون پر حال پوچھ لیتے۔” عکس نے اسے کہا۔
    ”انکل کیسے ہیں؟” شیردل نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس سے پوچھا۔
    ”اللہ کا شکر ہے پہلے سے بہت بہتر ہیں۔” عکس نے جواباً کہا۔ ”تمہاری فلائٹ کیسی رہی؟”
    ”ٹھیک تھی، تم نے مجھے اپنی suspensionکے بارے میں نہیں بتایا۔” شیردل نے چھوٹتے ہی وہ سوال کیا جو ہاسپٹل تک آنے کے پورے راستے میں اسے پریشان کرتا رہا تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹکی پھر اس نے اسی اطمینان سے کہا۔
    ”کیا بتاتی؟”ایک لمحے کے لیے اس کے سوال نے شیردل کو لاجواب کیا۔
    ”انفارم کرتیں مجھے، کل میری اور تمہاری بات ہوئی ہے تم نے ذکر تک نہیں کیا۔” وہ بات کرتے کرتے شکایت کرگیا۔
    ”فائدہ کیا ہوتا؟” اس کا اطمینان برقرار تھا۔
    نقصان بھی کوئی نہیں تھا۔” شیردل نے جتایا۔
    ”میں نے نہیں بتایا تو بھی پتا تو چل ہی گیا نا تمہیں… ایسا کوئی راز تو نہیں تھا کہ پتا نہ چلتا۔ نانا سے ملوگے؟” اس نے اس کی شکایت کو بے پروائی سے نظر انداز کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” شیردل نے مختصراً کہا اور قدم آگے بڑھادیے۔ عکس بھی اس کے ساتھ واپس پلٹ گئی تھی۔
    ”suspensionکیوں ہوئی؟” شیردل نے ساتھ چلتے ہوئے اس سے پوچھا، وہ گردن موڑ کر اس کو دیکھتے ہوئے مسکرائی۔
    ”پوری چارج شیٹ سناؤں یا صرف بنیادی وجہ بتاؤں؟” اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جس سے شیردل پر گھڑوں پانی پڑا تھا۔
    ”میں نے تمہیں منع کیا تھا۔” شیردل نے اس سے نظریں چراتے ہوئے خفگی سے کہا۔ ”اسی سب سے بچانا چاہتا تھا تمہیں، اسی سب سے بچانے کے لیے وارن کررہا تھا تمہیں۔”
    ”میں نے تم سے کوئی شکایت کی ہے؟” اس نے شیردل کی بات بڑے تحمل سے کاٹ دی تھی۔ ”اب تمہیں پتا چلا میں نے تمہیں کیوں نہیں بتایا تھا اپنی سسپینشن کے بارے میں۔”
    ”تم اپنا سروس ریکارڈ خراب کررہی ہو عکس۔” شیردل چلتے چلتے رک گیا تھا۔
    ”شیردل وہ میرا مسئلہ ہے تم اس کے بارے میں پریشان نہ ہو۔ مجھے چارج کیا گیا ہے میں انہیں explanation دے لوں گی۔ اور میرے لیے یہ سب غیر متوقع نہیں ہے۔ جس دن میں نے کیس فائل کیا تھا مجھے اندازہ تھا کہ میں کون سا پینڈورہ باکس کھولنے جارہی ہوں۔ اس لیے تم پریشان مت ہو۔ تم اپنی فیملی اور اپنے انکل کو defend کرو… مجھے کیس لڑنے کے لیے جو کرنا پڑا میں وہ کروں گی لیکن ہم پھر بھی دوست رہیں گے۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔ زندگی میں پہلی بار اسے عکس مراد علی بے وقوف لگی تھی۔
    ”تم عقل سے پیدل ہو۔” وہ کہے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔
    ”اچھا؟”وہ بے اختیار ہنس دی تھی۔
    ”تم اتنا آسان سمجھ رہی ہو یہ سب کچھ… تمہارا خیال ہے کہ تمہیں اگر suspend کیا گیا ہے تو پھر تمہاری explanationلے کرتم سے معذرت کرتے ہوئے تمہیں بحال کردیا جائے گا۔” وہ طنزیہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    ”شیردل میں کیس واپس نہیں لوں گی اور اب تو بالکل بھی نہیں۔ تم نانا کی عیادت کرنا چاہتے ہو یا ویسے ہی واپس جانا چاہتے ہو؟” اس نے شیردل کی بات کاٹ کر اسے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”جہنم میں جاؤ تم۔” شیردل اس کے جملے پر بری طرح جھنجلایا… وہ دوبارہ قدم اٹھاتے ہوئے مسکرائی۔
    ”میں وہاں سے گزر کر آئی ہوں۔ دوبارہ بھی جانا پڑا تو باہر نکلنے کا راستہ جانتی ہوں۔” اس کا اطمینان قا بل داد تھا اوروہ داد دیتا اگر کیس اس کے اپنے خلاف نہ ہوا ہوتا۔
    ”اور اب نانا سے میری suspension کا قصہ لے کر مت بیٹھنا۔” اس نے ساتھ چلتے ہوئے اسے ہدایت کی۔
    ”انہیں کچھ بتانا ہوتا تو سب سے پہلے اس کیس کے بارے میں بتاتا۔” وہ ساتھ چلتے ہوئے خفگی سے بولا۔
    ”عقل مند ہوگئے ہو۔” وہ داد نہیں تھی راز کو راز رکھے رکھنے کی ترغیب تھی اور شیردل یہ بات جانتا تھا۔
    خیردین بستر پہ لیٹے ہوئے دروازے میں داخل ہوتے شیردل کو دیکھ کر مدھم انداز میں ہلکا سا مسکرایا تھا۔ شیردل بھی جواباً مسکرایا۔ وہ عکس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوا تھا اور اس سے کچھ بات کرتے کرتے وہ خیردین کے بستر کے قریب آگیا۔ خیردین پر ذرا سا جھکتے ہوئے اس نے خیردین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بڑی نرم آواز میں آس سے پوچھا۔
    ”آپ کی طبیعت اب کیسی ہے انکل؟” خیردین مسکرایا تھا۔




  • جواز — امایہ خان

    ”میں بہت جلد واپس آئوں گی۔” نہایت گرم جوشی سے الوداع کہتے ہوئے اس نے بیپ سے رخصت لی۔ اپنے ریستوران کے مالک گرومیل کو اس نے پہلے ہی مطلع کردیا تھا۔ پیزیریا انٹیکا (pizzeria antica)، اٹلی کے شہر بریشیا کے شمال میں واقع تھا اور اسے وہاں ویٹر کی ملازمت کرتے تین ماہ ہوگئے تھے۔ اس مختصر سی مدت میں ہی اس نے اپنی خوش اخلاقی اور زندہ دلی سے سب گاہکوں کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ اسی لیے گرومیل ملتانی اس سے بے حد خوش تھا۔ وہ دوسری ایشیائی عورتوں کی طرح مردوں سے ہچکچاتی نہیں تھی بلکہ مسلمان ہونے کے باوجود مغربی لباس پہنتی اور ان ہی کے اطوار اپنائے ہوئے تھی۔ اطالوی زبان پر اُسے مکمل عبور تھا جس کی اہم ترین وجہ شاید بیپ تیمپینی سے دیرینہ تعلقات تھے۔




    گرومیل کئی بار کام ختم ہونے کے بعد اسے تیمپینی کے ساتھ جاتے دیکھ چکا تھا۔ وہ تیمپینی باشندہ تھا۔ پیشے کے لحاظ سے ترکھان اور اس کی عمر پینتیس برس تھی۔ اُس نے موقع دیکھ کر ایک دوبار سمجھانا چاہا۔
    ” تم ابھی کم عمر ہو، کسی بیس اکیس سال کے لڑکے سے دوستی کیوں نہیں کرتیں؟” جس پر وہ خوش دلی سے مسکرا کر بولی:
    ”میں نے اس کی عمر دیکھ کر محبت نہیں کی۔” گرومیل اس جواب پر محض کندھے اُچکا کر رہ جاتا۔ ظاہر ہے وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں آزادی تھی۔ جب اس کے ماں باپ نہیں روک سکے، تو وہ کیا کرسکتا تھا؟ اس کے بعد ملتانی نے کبھی ایسا کوئی سوال نہیں کیا، یہ جاننے کے بعد بھی کہ وہ مستقل طور پر تیمپینی کے گھر منتقل ہوگئی ہے، وہ کچھ نہیں بولا تھا۔
    اس شام تین دن کی رخصت لے کر وہ اس کے ریستوران سے نکلی اور پیدل چلتی ہوئی بیپ کے اپارٹمنٹ تک پہنچی تو وہ اسے دروازے پر ہی مل گیا۔ دو چار اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد وہ جلد واپسی کا وعدہ کرتی وہاں سے روانہ ہوگئی۔ بیپ کو اس نے بتایا تھا کہ فرانس سے کچھ رشتہ دار ملنے کے لیے آئے ہیں اور اس کا باپ چاہتا ہے وہ خود ان کے لائے ہوئے تحائف وصول کرے ، اس لیے وہ جارہی تھی۔ اپنے والدین اور رشتہ داروں سے مل کر اسے کل شام تک واپس آجانا تھا۔ اپنی چھٹی کا تیسرا دن وہ صرف بیپ کے ساتھ گزارتی مگر ایسا نہ ہوا۔
    دوسرا اور پھر تیسرا دن بھی یونہی گزر گیا، اس کی کوئی خیر خبر نہ آئی۔ عموماً بیپ اس سے ان دنوں میں خود سے رابطہ نہیں کرتا تھا جب وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوتی تھی، لیکن اب مجبوری تھی۔ وہ اس کے لیے مزید فکر مند تب ہوا جب لاکھ کوشش کے باوجود بھی موبائل پر اس سے رابطہ نہ ہوسکا۔ اس کا فون مسلسل آف تھا۔
    چوتھے دن کا سورج غروب ہوتے ساتھ ہی بیپ کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے پولیزیا میں شکایت درج کی جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے بعد carbeneria کو حنا کی گمشدگی کی اطلاع کردی۔ انہیں شک تھا کہ بیپ کی لِٹل ڈول کو اس کے باپ نے کہیں غائب کردیا ہے۔
    ٭…٭…٭




    ”باجی مجھے بس دو منٹ بات کرنی ہے صفیہ سے، مجھے گوجرانوالہ کا یہ نمبرملادیں۔”
    اس کی منت بھرے انداز میں کی گئی درخواست کو رد کرنا رباب کے لیے آسان نہیں تھا، مگر پھر بھی اس نے کہا۔
    ”تمہارا شوہر پھر چلائے گا یہاں آکر، اسی لیے دلاور نے منع کیا ہے کہ میں تمہاری کوئی مدد نہ کروں۔”
    ”اچھا! تو پھر یہ بیلنس ڈلوادیں فون میں۔” اس نے ڈوپٹے کے پلّو میں بندھے چند مڑے تڑے نوٹ اور سِکے نکال کر اس کے سامنے میز پر رکھ دیے۔ رباب کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ بشریٰ نے یہ معمولی رقم بھی کس مشکل سے جمع کی ہوگی، اس کا دل پسیج گیا۔
    ”رہنے دو، آئو بات کروادیتی ہوں۔”
    ”شکریہ جی! لیکن بتایئے گا نہیں آپ دلاور بھائی کو، سلیم کو پتا لگا، تو میری ہڈی پسلی ایک کر دے گا۔”
    ”ٹھیک ہے! نہیں بتائوں گی لیکن جلدی بات ختم کرنا۔” رباب نے ریسیور کان سے لگا کر اس کے ہاتھ سے پرچہ لیا اور نمبر ملانے لگی۔ کال ملا کر دینے کے بعد وہ خود وہاں سے ہٹ گئی۔ دس منٹ بعد جب وہ واپس آئی تو منظر حسبِ توقع ہی تھا۔ بشریٰ ہمیشہ کی طرح دوپٹے میں منہ چھپا کر رو رہی تھی۔
    ”مجھے بھی لے جا اماں، یہاں نئیں رہنا… مینوں لے جا۔” اپنی بیٹی کی وہی پرانی گردان سن کر بشریٰ کے آنسو بہے چلے جارہے تھے۔ رباب کو بہ یک وقت دونوں ماں بیٹی پر غصہ بھی آیا اور ترس بھی۔
    ”بس فون ملانے کا شوق ہے، بات تو کرتی نہیں ہے بیٹی سے۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی بشریٰ کے نزدیک آئی جو آہستگی سے ریسیور واپس رکھ رہی تھی۔
    ”کیا ہوا؟ بات کیوں نہیں کی؟”
    ”کرلی جی!” بشریٰ نے ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھے اور جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”بہت مہربانی جی! اللہ آپ کو جزا دے۔” اُس نے جاتے ہوئے کہا اور رباب اُس کی دعا پر محض سرہلا کر رہ گئی۔
    ٭…٭…٭
    ”وائی ال انفرنو” (go to hell)” فلورا نے حقارت سے گھورتے ہوئے اسے جہنم میں جانے کا مشورہ دیا اور وہ ڈھٹائی سے مسکراتا اپنی میز کی جانب بڑھ گیا، جیسے بس یہی سننے کے لیے کھڑا ہو۔ چار سال میں اسے اب اتنی اطالوی زبان تو سمجھ آنے لگی تھی مگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تھا۔ کچھ دن پہلے ہی اس نے پرانے ریستوران سے دھکے دے کر نکالے جانے کے بعد یہاں آنا شروع کردیا تھا۔ تب سے اس کا معمول تھا کہ ریستوران میں داخل ہوتے ہی فلورا کے پاس کائونٹر پر جاکر اسے چھیڑتا۔
    ”میں تمہارے ساتھ رات گزارنا پسند کروں گا…”vogho dormise con teاس فقرے کو بھی وہ کئی دنوں کی لگاتار محنت کے بعد یاد کرپایا تھا۔ وہ اسکول کے زمانے سے ہی سبق یاد کرنے میں بڑا ”ماٹھا تھا۔” تب ہی تنگ آکر چوتھی کے بعد ماسٹر صاحب اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر چھوڑ آئے تھے۔ جس کے بعد اس نے ابا کے ساتھ باڑے پر وقت دینا شروع کردیا۔ ابا کے پاس چھے بھینسیں تھیں۔ ان کا دودھ گائوں کے گھر گھر پہنچایا جاتا، وہ بھی ابا کے ساتھ لگ گیا۔ ابا تو ویسے بھی اس کی پڑھائی کے حق میں نہ تھا۔ یہ تو بے چارے اسکول ماسٹر صاحب کا شوق تھا جو زبردستی بچوں کو پکڑ پکڑ کر پڑھنے بٹھاتے۔ انہوں نے کتنے ہی بچوں کو پڑھا یا لیکن سلیم نے ایسا زچ کیا کہ خود ہی تنگ آکر گھر چھوڑ آئے۔
    میلان پہنچ کر کئی مواقع پر اسے اپنی تعلیم سے عدم توجہی پر پچھتاوا ہوا۔ اگر وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی ہی بول پاتا تو شاید اسے ایسی مشکل پیش نہ آتی۔ اَسّی نوے کی دہائی سے اٹلی کی حکومت کی آسان پالیسیوں کی بہ دولت سینکڑوں پاکستانی روزگار کے حصول کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر آتے رہے تھے۔ سلیم بھی اپنی تمام تر نالائقیوں کے باوجود کام حاصل کرنے میں کام یاب ہوگیا۔ فیکٹریوں میں زیادہ تر سِکھ سپروائزر تھے جن سے مشینوں کا کام سمجھنا مشکل نہ تھا۔ تکلیف تو رہائش، کھانے پینے اور ملنے جلنے میں تھی۔
    میلان میں کچھ عرصہ گزار کر اب وہ بھی دیگر پاکستانیوں کی دیکھا دیکھی بریشیا شفٹ ہوگیا تھا۔ یہاں جنوبی ایشیا سے آئے مسلمانوں کی تعداد روز بہ روز بڑھ رہی تھی۔ زیادہ تر کا تعلق غریب اور ان پڑھ طبقے سے تھا اور غیر قانونی طریقے سے آئے پاکستانیوں کو بھی قدرے کم معاوضے پر کام مل جاتا تھا۔ ملازمت دینے میں بہت فیاض مگر عزت دار شہری کی حیثیت سے انہیں تسلیم کرنے میں اطالوی معاشرہ نہایت تنگ دل ثابت ہوا۔
    دن رات گدھوں کی طرح کام میں مصروف رہنے کے بعد بدبودار پسینے میں شرابور، گندے کپڑوں میں ملبوس مزدوروں کا ریستوران میں گھس آنا میلان کے نازک طبع شہریوں کو بے حد گراں گزرتا تھا۔ حال تو بریشیا میں بھی کم و بیش یہی تھا۔ مقامی لوگ ان سے کراہت محسوس کرتے لیکن زیادہ تر خوف کھاتے تھے، اسی لیے میل جو ل بڑھانے سے گریز کرتے تھے۔ ویسے ہی ان کے پاس تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ نائٹ لائف انجوائے کرنے کے لیے زیادہ تر کے پاس فاضل رقم نہ ہوتی اور جن کے پاس ہوتی ان کے انداز و اطوار دیکھ کر کوئی گھاس بھی نہیں ڈالتا تھا۔
    سلیم یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ فلورا کبھی اثبات میں جواب نہیں دے گی۔ اس کے باوجود وہ محض تنگ کرنے کے لیے یہ فقرہ اسے بلاناغہ سنایا کرتا۔ پہلے پہل تو اس کے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں بولے گئے اطالوی فقرے کو فلورا سمجھ ہی نہ پائی اور اسے نظر انداز کردیا، مگر جب ہر روز ریستوران کا چکر لگانا اور خاص طور پر فلورا کے نزدیک آکر یہ جملہ کہنا اس کا معمول بن گیا تب اسے توجہ دینا پڑی اور جب اُسے سمجھ آیا کہ سلیم اُسے رات گزارنے کی پیشکش کررہا ہے تو وہ غصے میں آگ بگولا ہوگئی۔ مجبوری یہ تھی کہ ویٹرس کی حیثیت سے اسے ریستوران میں آئے گاہکوں سے بدلحاظی کی اجازت نہ تھی۔ تنگ آکر اس نے ریستوران کے مالک سے شکایت کردی جس نے اسے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ یعقوب، جو کچن میں صفائی ستھرائی پر مامور تھا، کو بلوا کر سلیم کو دھمکی دی گئی کہ اگلی بار معمولی سی شکایت پر اسے فی الفور ہراساں کرنے کے الزام میں پولیزیا کے حوالے کردیا جائے گا۔ یعقوب نے نہایت واضح الفاظ میں اسے وہاں آنے سے ہی منع کردیا جس کے بعد سلیم نے دوبارہ اس ریستوران کا رُخ نہیں کیا، وہ کہیں اور جانے لگا۔
    ٭…٭…٭




  • عکس — قسط نمبر ۱۲

    عکس نے گاڑی سے اترتے ہوئے سر اٹھا کر اس آئینے کو دیکھا جو اس گھر کے برآمدے میں دروازے کے پاس رکھا تھا اور جس میں اس وقت شیر دل اور شہر بانو کی پشت نظر آرہی تھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ کمشنر اوراس کی بیوی کا استقبال کررہے تھے جن کی گاڑی اس وقت پورچ میں داخلی برآمدے کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔ خود اس کی گاڑی پورچ کی چھت سے باہر تھی۔وہ وہاں سے اس آئینے کو دیکھ سکتی تھی اور وہ وہاں سے بھی شیر دل اور شہر بانو کو بھی دیکھ سکتی تھی۔ ایک گہری سانس لے کر اس نے دل کی دھڑکن پر قابو پایا تھا۔ دوسری گہری سانس میں اس نے اپنے دماغ سے وہ سب غائب کرنے کی کوشش کی تھی جس کی کرچیاں اس گھرکے سامنے بیرونی سڑک پر سامان کے ایک ڈھیر پر اپنی ماں کے ساتھ گزاری ہوئی ایک رات سے یہاں اندر تک چپے چپے پر بکھری ہوئی تھیں۔




    سب کچھ غائب ہونا شروع ہوگیا تھا۔ وہ ایک عام سرکاری رہائش گاہ تھی اب اس کے لیے۔ ایسی درجنوں عمارتوں میں وہ جاچکی تھی رہ چکی تھی۔ اس گھر میں بھی اس کے لیے کچھ غیر معمولی نہیں تھا… ایک عام پرانی لیکن شاندار عمارت۔ ویسی ہی ایک تقریب جو وہ کئی دفعہ اٹینڈ کرتی آئی تھی۔ ایک پرانی طرز کا پورچ اور داخلی دروازے کے پاس ایک پرانا آئینہ… ایک سرسری نگاہ میں اس مینٹل بلاک کے ساتھ اس نے صرف یہ دیکھا تھا… کسی بھی چیز پر نظر جمائے بغیر ہر چیز سے نظریں چراتے ہوئے۔ لوگ… جگہ نہیں… باتیں… چیزیں نہیں…میں کوئی تکلیف دہ یاد ذہن میں نہیں لاؤں گی۔ میں ماضی کی کسی چیز کے بارے میں سوچ ہی نہیں رہی۔ میرا کل کا ورک شیڈول کیا ہے؟ یہاں سے ڈنر کے بعد کیا کیا کام کرنے ہیں میں نے؟ وہ اپنے ذہن کو مسلسل بھٹکارہی تھی ،بڑی کامیابی کے ساتھ۔ ایک کے بعد ایک رکاوٹ کو عبور کررہی تھی، جب تک اس نے شہر بانو اور شیر دل کو اکٹھا نہیں دیکھ لیا تھا۔ وہ شہر بانو کو تصویروں میں دیکھ چکی تھی ۔وہ اسے چند فنگشنز میں شیر دل کے ساتھ دور سے دیکھ چکی تھی لیکن وہ آج پہلی بار اسے اتنے قریب سے دیکھنے والی تھی، اس سے ملنے والی تھی…اس بار بی ڈول سے جو اس کے بچپن کی چندcinations faمیں سے ایک تھی اور جو اس کی زندگی میں سیاہ ترین باب کا اضافہ کرنے والے شخص سے منسلک تھی… اورجو اس شخص کی زندگی کا حصہ تھی جس سے اس نے شدید محبت کی تھی ۔
    آئینے میں نظرآتے اس عکس سے نظریں ہٹاتے ہوئے عکس مراد علی نے جیسے خود کو سنبھالنے کی ایک اور کوشش کرتے ہوئے لمحے بھر کے لیے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں سے ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی… وہ برسات جو اس کی آنکھوں سے نہیں برس پارہی تھی وہ کہیں اور سے برسنا شروع ہوگئی تھی اس نے ڈرائیور سے کچھ بات کرنے کی کوشش کی تھی جو اس کے لیے دروازہ کھولنے کے لیے باہر آیا تھا۔ خود کو سنبھالنے کے لیے وہ ہر چیز کا سہارا لے رہی تھی۔
    پانی کی ہلکی سی پھوار نے اس کے چہرے، بالوں اور لباس کو ذرا سا نم کیا اور برآمدے میں کمشنر اور اس کی بیوی کا استقبال کرتے ہوئے شیر دل نے بالکل اس لمحے گردن موڑ کر اس کو دیکھا تھا۔ وہ سیاہ موتیوں سے ایمبرائیڈڈز ایک فٹنگ والا سیاہ شیفون کا لباس پہنے ہوئے تھی جو اس کے متناسب جسم کو کچھ اور بھی متناسب کررہا تھا۔ عام طور پر کھلے رہنے والے گھنے سیاہ بال اس وقت ایک سیاہ نیٹ میں ڈھیلے جوڑے کی شکل میں اس کی گردن کے پیچھے سمٹے اس کی پتلی اور لمبی گردن کو نمایاں کیے ہوئے تھے۔ دائیں کندھے پر اسٹول کی شکل میں تہ شدہ دوپٹاڈالے وہ بائیں ہاتھ میں ایک بہت چھوٹا اور خوب صورت سیاہ پرس پکڑے ہوئے تھی۔ شیر دل نے اس سے نظریں ہٹائیں۔ مشکل کام تھا یہ اور اس نے مشکل سے ہی کیا تھا۔ وہ کمشنر اور ان کی فیملی کے ساتھ آئی تھی۔ کمشنر اور ان کی بیوی گاڑی سے اتر کر اندر جانے کے بجائے چند لمحوں کے لیے وہیں برآمدے میں رک گئے تھے۔ کمشنر کا استقبال کرنے کے بعد شیر دل برآمدے سے نکل کر اس کی گاڑی کی طرف بڑھ آیا تھا۔ عکس کی طرف جاتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اس نے اپنی جیب میں پڑا ٹشو پیپر ٹٹولا تھا۔ اس کی یہ بے اختیاری شہر بانو نے نوٹس کی تھی جس کے برابر سے وہ یک دم ہٹا تھا۔ اس نے کمشنر کی گاڑی کے پورچ سے ہٹ جانے اور عکس کی گاڑی کے آگے آنے کا بھی انتظار نہیں کیا تھا۔ وہ یہ نہیں دیکھ پائی تھی کہ عکس کے گاڑی سے نکل آنے پر وہ اس کا استقبال کرنے چلا گیا تھا۔ وہ دور جاتے شیر دل سے نظریں ہٹانا چاہتی تھی لیکن وہ ہٹا نہیں پائی تھی۔ کمشنر کی بیوی سے بات کرتے ہوئے بھی وہ عجیب بے چین انداز میں شیر دل کو لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے اس گاڑی کی طرف بڑھتے دیکھتی رہی تھی جہاں اس کی طرف پشت کیے ڈرائیور سے بات کرتے ہوئے عکس مراد علی کو اس نے ایک عجیب سے اضطراب کے ساتھ دیکھا تھا۔
    ڈرائیور سے بات کرتے ہوئے عکس جب تک پلٹی شیر دل اس کے سامنے کھڑا تھا۔ دونوں بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے ۔عکس نے اس سے نظر چرائی… خود کو سنبھالا… پھر اسے دیکھا… وہ بہت بارایک دوسرے کے اتنے ہی قریب آکر کھڑے ہوچکے تھے… بہت بارایک دوسرے کے بالمقابل اتنے ہی فاصلے پر کھڑے ایک دوسرے کی آنکھوں میں یونہی جھانکتے بھی رہے تھے… اور عکس مراد علی نے کبھی ان آنکھوں میں پہچان کی کوئی جھلک نہیں دیکھی تھی… نہ چڑیا کے لیے… نہ اس سترہ سالہ عکس مراد علی کے لیے جو ایک انٹر کالجیٹ کے مقابلے میں ایبک شیر دل کا نام ہی سن کر بدک گئی تھی۔ جس نے اپنے کیرئیر کے بد ترین تقریری مقابلے میں اسٹیج پر روسٹرم کے پیچھے کھڑے ایک ایک لمحہ اس خوف میں گزارہ تھا کہ وہ ابھی…ابھی چڑیا کو پہچان لے گا… اور وہ یہ کیوں نہ سوچتی کہ وہ اسے پہچان لے گا۔ چڑیا کی زندگی کے آٹھ سال ایبک شیر دل کے بارے میں سوچتے گزرے تھے۔ آٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی اگر کوئی اس سے ایبک کا حلیہ پوچھتا تو وہ سیکنڈز میں اس کے حلیے کی ڈیٹیل بتادیتی۔ اس کے نین نقش سے لے کر اس کے زیر استعمال ا سنیکرز اورا سپورٹس وئیر کے لیبلز اور برانڈز تک اسے یاد تھے۔ وہ ایبک کے ساتھ گزارے ہوئے ان چند ہفتوں کو اپنے ذہن کی ڈائری کی انٹریز کی طرح پڑھ سکتی تھی… ایبک کا ایک ایک جملہ… ایک ایک بات… پھر اگر وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ بھی ایبک کو اسی طرح یاد ہوگی تو یہ زیادہ بڑی خوش فہمی نہیں تھی۔ آٹھ سال اتنا طویل عرصہ نہیں ہوتا کہ ایبک اس کے چہرے کے نقوش میں کوئی یاد کھوج نہیں پاتا… لیکن ایبک شیر دل اسے نہیں پہچانتا تھا۔ وہ نام سے اسے نہیں پہچان سکتا تھا کیونکہ خیر دین اسے چڑیا کہتا تھا یا پھر فاطمہ… اس کے نام کا دوسرا حصہ جس سے وہ چڑیا کے بعد جانی اور پہچانی جاتی تھی… عکس کے نام سے وہ اسکول کے علاوہ اور کہیں نہیں پکاری جاتی تھی۔ نہ گھر میں نہ خاندان میں… فاطمہ اس کے نام کا وہ حصہ تھا جس کا اضافہ اس کی پیدائش کے بعد اس کے خاندان کے افراد کے عکس نام سے اسے پکارنے میں دقت کے بعد کیا گیا تھا۔ خیر دین نے اس کا نام بڑے شوق سے رکھا تھا لیکن چند ہفتوں میں ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس نام کو اس کے خاندان اور گاؤں والے کبھی بھی صحیح تلفظ سے ادا نہیں کرسکتے تھے۔ خیر دین نے چڑیا کا نام نہیں بدلا صرف اس میں فاطمہ کا اضافہ کردیا لیکن وہ اسکول ،کالج میں عکس مراد علی کے طور پر ہی جانی جاتی رہی۔ ایبک بھی خیر دین کی طرح اسے عکس یا فاطمہ کے بجائے چڑیا ہی کہتا رہا تھا۔ چڑیا کو پھر بھی خوش فہمی تھی وہ عکس کا لفظ سنتے ہی چڑیا تک پہنچ جائے گا، وہ اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالتے ہی اسے پہچاننے لگے گا۔ یہ پہچا ن چڑیا کو کبھی خوف زدہ نہ کرتی اگر اس رات اس نے ایبک کو وہاںریلنگ کے پاس کھڑے چلاتے نہ دیکھ لیا ہوتا۔خوف اور دہشت کے عالم میں بھی ایبک کے سامنے بے لباسی کا احساس چڑیا کو گاڑ دینے کے لیے کافی تھا۔ اس کی چیخوں نے چڑیا کی جان بچائی تھی مگر ان آٹھ سالوں میں بہت بار چڑیا اس ایک نظر سے نادم رہی جو اس نے ایبک کو خود پر ڈالتے دیکھی تھی… وہ جس حالت میں ایبک کے سامنے آئی تھی وہ اس حالت میں کبھی بھی اس کے سامنے آنا نہیں چاہتی تھی۔ اور اسے جیسے خوف بھی یہی تھا کہ وہ اسے پہچانے گا تو اس بے لباسی کے حوالے سے اس ایک رات کے حوالے سے پہچانے گا… ان چند شاندار ہفتوں میں اکٹھے گزارے ہوئے یادگار وقت کے حوالے سے نہیں۔
    اس تقریری مقابلے کے بعد بھی اسے یقین تھاایبک کو اگر فوری طور پر وہ یاد نہیں آئی ہوگی تو گھر جا کر یاد آجاتی… چند دنوں کے بعد یاد آجاتی… اور کچھ نہیں تو کم از کم چڑیا کا چہرہ اس کے نظروں میں بھی اٹک جاتا۔
    اس کی یہ خوش فہمی اکیڈمی میں دو ر ہوگئی تھی۔ عکس مراد علی کے حوالے سے ایبک شیر دل کی کسی قسم کی کوئی یادداشت نہیں تھی… اسے شروع میں یقین نہیں آیا کہ وہ واقعی اسے یاد نہیں تھی۔ کئی ہفتے وہ اسے اگنور کرتی رہی صرف اسی ایک خدشے کے تحت کہ وہ اب اسے ضرور پہچان لے گا… اگر چڑیا کا چہرہ نہ پہچان سکا تو کم از کم سات آٹھ سال پہلے ہونے والے اس تقریری مقابلے کی تو کوئی میموری ہوگئی اس کے پاس…
    اورجب عکس مراد علی کو با لا خر یہ یقین آیا کہ ایبک شیر دل کو اس کے حوالے سے” کچھ بھی” یاد نہیں تھا تو وہ ہل کر رہ گئی تھی… شاک کی ایک عجیب سی کیفیت تھی جس سے وہ دوچار ہوئی تھی۔ ایبک شیر دل کمزور یاد داشت کا مالک نہیں تھا کم از کم عکس کو اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا اس کے باوجود اس کا یاد نہ رہنا صرف ایک چیز کا اظہار تھا… چڑیا ایبک کے لیے ٹائم پا س تھی… وہ اس کے لیے وہ اہمیت نہیں رکھتی تھی جو ایبک اس کے لیے رکھتا تھا…اور کیوں اہمیت رکھتی آخر وہ ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے ایک کم عمر بچے کے لیے جس کے پاس کزنز اور دوستوں کا ایک جم غفیر تھا جو اسی کی طرح کے سوشل سیٹ اپ سے تعلق رکھتے تھے۔ چڑیا ایک چھوٹے شہر میں آکر بوریت سے بچنے کے لیے ڈھونڈی جانے والی ایک ساتھی ہوسکتی تھی لیکن وہ اس کی وہ دوست نہیں ہوسکتی تھی جسے اس نے واپس ایجی سن اپنے جیسے دوستوں میں جا کر مس کیا ہو… وہ چڑیا کے بچپن کی بہترین چیزوں میں سے ایک تھا لیکن چڑیا ایبک کے لیے ایک بہترین یاد کیسے ہوسکتی تھی۔ بڑے سالوں بعد عکس مراد علی نے بیٹھ کر جذباتیت کی گرد جھاڑ کر اپنے اور ایبک کے تعلق کو دیکھا تھا اور عجیب سی ندامت اور رنجیدگی ہوئی تھی اسے۔
    ایبک شیردل ،عکس مراد علی کو اس تقریری مقابلے کے حوالے سے بھی یاد نہیں رکھ پایا تھا… اسے اپنی شکل و صورت کے حوالے سے کوئی خوش فہمی کبھی نہیں رہی تھی لیکن وہ یہ ضرور جانتی تھی کہ مرد اسے اگنور نہیں کرسکتے، وہ کم از کم اتنے معمولی خدوخال کی مالک نہیں تھی کہ ایبک اسے یاد بھی نہ رکھتا… اور یہاں اسے اہم سمجھنے کا سوال بھی نہیں تھا یہاں بات صرف یاد رکھنے کی تھی… صرف اور صرف یادداشت کا حصہ رکھنے کی… عکس مراد علی وہ بھی نہیں تھی۔
    ”زندگی میں ہارنے والوں کو بہت کم لوگ یاد رکھتے ہیں… ہار انسان کے غیر معمولی چہرے کو بھی معمولی بنادیتی ہے اور جیت معمولی شکل کو غیر معمولی ۔”عکس مرادعلی نے اس گتھی کو خیر دین سے حل کروانے کی کوشش کی تھی۔
    ”میرے ساتھ اکیڈمی میں ایک لڑکا ہے نانا… سات آٹھ سال پہلے ایک انٹر کالجیٹ مقابلے میں اس نے مجھے ہر ا کر وہ مقابلہ جیتا تھا لیکن میں حیران ہوں کہ اسے میں یاد تک نہیں حالانکہ وہ مجھے یاد ہے۔” اس نے خیر دین کو ایبک شیر دل کانام لیے بغیر اپنا مسئلہ بتایا۔ مجھے لگتا ہے وہ دکھاوا کررہا ہے مجھے نہ پہچاننے کا ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسے میں یاد ہی نہ ہوں۔” عکس نے اپنا اندازہ بھی اس کے ساتھ شیئر کیا۔
    ”لوگ ہارنے والوں کے چہروں اور ناموں پر غور نہیں کرتے چڑیا۔ تم نے تو دوسری ،تیسری پوزیشن بھی نہیں لی اس مقابلے میں… پھر تمہیں وہ کس حوالے سے یاد رکھتا… ہارنے والے تو بہت سے ہوتے ہیں۔ ” کیا تلخ حقیقت تھی جو خیر دین نے مصری کی ڈلی کی طرح توڑ کر چڑیا کے سامنے رکھ دی تھی۔ ایبک شیر دل عام شخص تھا اس کی نفسیات بھی عام شخص جیسی ہی تھی… جیت اور جیتنے والوں کو یاد رکھنے کی کوشش …ہار اور ہارنے والوں کو بھول جانے کی… وہ اوپر دیکھنے کا عادی تھا نیچے نہیں۔
    زندگی میں ایک اور سبق عکس مراد علی نے اس دن حاصل کیا تھا۔ وہ زندگی میں ان تمام لوگوں کے چہروں اور ناموں پر بھی غور کرے گی جنہیں وہ زندگی میں ہرائے گی۔ وہ زندگی میں خود کبھی عکس مراد علی جیسے حریف کا سامنا نہیں چاہتی تھی جو یک دم کسی dark horse کی طرح ایک دن اس کے سامنے آکر کھڑا ہوجائے اور اسے اس کے بارے میں کچھ بھی پتا نہ ہوتا۔
    بلیک ڈنر سوٹ کے ساتھ ایک سرخ striped ٹائی لگائے، سلور کف لنکس اور ٹائی پر ایک کرسٹل کی ٹائی پن لگائے وہ اپنے اس حلیے میں اس کے سامنے کھڑا تھا جو اس کی ایک وجہ شہرت تھی۔ اکیڈمی میں کوئی اور کامنراپنی ڈریسنگ سینس میں شیر دل کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ عکس مراد علی نے اتنے سالوں کی سروس میں بھی شیر دل سے زیادہ خوش لباس مرد نہیں دیکھا۔
    عکس نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ ستائشی نظروں سے شیر دل کو دیکھا ہوا کے ایک جھونکے نے شیر دل کی ٹائی کو اڑایا۔ عکس کی نظر بھٹکی، اس کی ٹائی کو اڑنے سے روک دینے کی خواہش کو اس نے اتنی ہی بے اختیاری کے ساتھ دبایا جس طرح وہ ابھری تھی۔
    دونوں کے درمیان اب خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ ہورہا تھا۔ وہی رسمی جملے… اور وہی ان کہے مفہوم… وہ ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے بات کررہا تھا اور وہ کبھی بھی اس کے چہرے سے اس کے دل تک نہیں پہنچ پایا تھا۔ وہ اسے راستے میں ہی بھٹکا دیتی تھی… ہمیشہ بڑی کامیابی کے ساتھ… عکس نے سوچا اس کے چہرے پر نظریں جمائے شیر دل کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پر موجود کون سی شے کس کو ماند کررہی تھی۔ اس کے کانوں کی لوؤں میں دمکتے سفید موتیوں کے studs اس کی شفاف چمکدار سیاہ آئی لائنر سے سجی آنکھوں کو یا سرخ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں سے جھلکتی دودھیا دانتوں کی قطار کو جو اس کی مسکراہٹ کو اور بھی دلکش کررہی تھی۔ بارش کی پھوار کے ننھے ننھے قطرے اوس کے قطروں کی طرح اس کے بالوں اور چہرے پر چمک رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل کا دل چاہا وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کردے… صرف ایک لمحے کے لیے… پھر اس نے نظر چرائی تھی… جیب سے ایک ٹشو نکال کر غیر محسوس انداز میں عکس کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا۔
    ”تم نے بڑا رسک لیا۔” عکس نے وہ ٹشو تھام کر اسی غیر محسوس انداز میں اپنا چہرہ اور سر تھپتھپاتے ہوئے کچھ حیرانی سے اس سے پوچھا۔
    ”کیا؟” وہ دونوں اب ساتھ چل رہے تھے۔
    ”بارش میں گاڑی سے نکل آئیں۔” قدم بڑھاتے ہوئے شیر دل نے اس سے کچھ سنجیدگی سے کہا۔
    ”تو؟” وہ الجھی۔
    ”اگر میک اپ بہہ جاتا تو؟” اس بار شیر دل کے ہونٹوں اور آنکھوں میں شرارت لہرائی تھی۔ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایک سیاہ آئی لائنر اور لپ اسٹک کے علاوہ شاید ہی کچھ اور لگائے ہوئے تھی۔
    ”ہاں رسک تو تھا۔ میک اپ صاف ہوجاتا تو تم اس سے زیادہ گھورتے مجھے… جتنا ابھی گھوررہے تھے۔” عکس نے ہاتھ میں پکڑے ٹشو کو بڑی نفاست سے لپیٹ کر پرس میں بے نیاز ی سے رکھتے ہوئے کہا۔جواب بھی ویسا ہی آیا تھا جیسا سوال کیا گیا تھا۔ اسے دیکھے بغیر شیر دل نے بے اختیار سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی۔ وہ اس کی اس حس مزاح کی عادی تھی۔ اسے دیکھ کر شیر دل کے لیے خاموش رہنا اور کسی نہ کسی بات پر کوئی کوئی نہ کوئی پھڑکتا ہوا تبصرہ نہ کرنا ناممکن تھا۔ وہ بچپن سے اس کی عادی تھی۔ ایبک شیر دل کے پاس بچپن میں بھی احمقانہ باتوں کا ڈھیر ہوتا تھا اور ڈھیر کا مطلب ڈھیر ہی ہوتا تھا اور وہ ہر احمقانہ بات بے حد سنجیدگی سے کرتا تھا۔ چڑیا اس کے ان چند قریبی ساتھیوں میں سے ایک ثابت ہوئی تھی جو بہت جلد ہی یہ سمجھ گئی تھی کہ وہ ساری باتیں کم از کم ایبک کے لیے احمقانہ نہیں تھیں۔ وہ انہیں بڑی سنجیدگی سے کرتا تھا… اور چڑیا دوسرے بچوں کے بر عکس بڑی سنجیدگی سے انہیں سن لیا کرتی تھی… اس کی یہ عادت اب بھی قائم تھی۔
    وہ اب باقی لوگوں کے قریب پہنچ چکے تھے۔ شیر دل اسے جواباً کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ کمشنر کی بیوی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے شہر بانو عکس کے استقبال کے لیے کچھ آگے بڑھ آئی تھی۔ دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
    ”شہر بانو …عکس مراد علی۔” چند لفظوں میں شیر دل نے باری باری دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا۔ دونوں ناموں کے ساتھ کوئی سیاق وسباق نہیں تھا پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو اس سے کہیں زیادہ جانتی تھیں جتنا شیر دل نے ان کا تعارف کروایا تھا۔سفید شیفون کے کلیوں والے کرتے اور چوڑی دار پاجامے میں شہر بانو ایک باربی ڈول لگ رہی تھی۔ عکس اس کے لیے کوئی اور تشبیہ نہیں ڈھونڈ سکی تھی۔ وہ آج بھی اس کی بار بی ڈول تھی۔ ڈاکٹر فرح کی بیٹی کے پاس موجود وہ گڑیا جو اسے ہمیشہ للچایا کرتی تھی اور اس جیسی گڑیا خرید نے کے لیے اس نے خیر دین سے بہت اصرار کیا تھا۔
    خیر دین اسے لے لے کر بازاروں میں کھلونوں کی دکانوں پر باربی ڈول کی تلاش میں پھرتا رہا تھا۔ جو سستی نقل دکانوں پر مل رہی تھی وہ چڑیا کو پسند نہیں آرہی تھی وہ اصل اور نقل کا فرق بتا نہیں سکتی تھی لیکن سمجھتی ضرور تھی اور جو اصلی باربی ڈول اسے چند دکانوں میں نظر آئی تھی اس کی قیمت اتنی تھی کہ خیر دین اسے چڑیا کو دکھا سکتا تھا دلوا نہیں سکتا تھا ۔کئی دن بازاروں کی خاک چھاننے کے بعد با لآخر چڑیا کو پتا چل گیا تھا کہ باربی ڈول اس کی استطاعت اور اوقات سے باہر کی چیز تھی اور اس کے لیے ضد یا اصرار کرنا خیر دین کو تکلیف اور شرمندگی کے علاوہ کچھ نہ دیتا۔ اس نے باربی ڈول کی فرمائش ختم کردی تھی مگر وہ اس کے حواس پر سوار رہی تھی۔ تین سالہ شہر بانو پر پہلی نظر میں بھی اسے خوب صورت ایوننگ گاؤن والی وہ باربی ڈول ہی یاد آئی تھی۔ اس کے صرف بال سنہری نہیں تھے مگرا س کی خوب صورتی ،ناز نخرہ ،لباس سب اسی باربی ڈول جیسا تھا جو اس کے لیے untouchable تھی۔
    اتنے سالوں بعد شہر بانو کو دیکھتے ہوئے عکس مراد علی کو آج بھی بار بی ڈول ہی یاد آئی تھی۔ دودھیا رنگت، سیاہ لمبی خمدار آنکھیں، ننھی سی نوک والی تیکھی ناک اور بے حد باریک مسکراتے ہونٹ… عکس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی اس کو دیکھ کر… اسے آج بھی اس پر ویسا ہی پیار آیا تھا جیسا اس کو پہلی بار دیکھ کر آیا تھا۔ اس کا دل آج بھی اس کی طرف سے اسی طرح ہمکا تھا جس طرح پہلی بار اسے دیکھ کر ہمک کر اس کی طرف گیا تھا۔ شیر دل کو اس سے زیادہ پرفیکٹ لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔ وہ واقعی صرف شیر دل کے ساتھ سجتی تھی۔ اس کی طرف بڑھتے ہوئے عکس نے سوچا تھا۔ شیر دل کے ذہن میں سب سے پہلے شہر بانو کے حوالے سے اس طرح کا خیال ڈالنے والی بھی وہی تھی۔
    ”میرا خیال ہے وہ تم سے محبت کرتی ہے۔” اس نے فون پر شیر دل سے شہر بانو کے حوالے سے کوئی قصہ سننے کے بعد کہا تھا۔ وہ جواباً ہنسا تھا۔
    ”یہ کون سی نئی بات ہے جو تم مجھے بتارہی ہو، میں جانتا ہوں وہ مجھ سے محبت کرتی ہے… مجھ پر مرتی ہے۔” اس نے آخری جملہ بڑے اعتماد سے بڑے جتانے والے انداز میں کہا تھا۔”کوئی پہلی لڑکی تو نہیں ہے وہ جسے مجھ سے محبت ہوگئی ہو…”
    مسٹر شیخ چلی تم اگر شیخیاں بگھارنا بند کرو تو میں کچھ کہوں۔” عکس نے اس کی بات کاٹتے ہوئے اسے ٹوکا۔”تم سے زندگی میں پہلی بار کوئی اچھی لڑکی محبت کررہی ہے۔”
    ” now that’s not fair ” شیر دل نے اس کی بات کاٹ کر احتجاج کیا۔”تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو… تمہیں کیا پتا مجھ پر کون کون مرتا…” عکس نے اس کی بات کاٹی۔
    ”تم تقریر کرنے کے بجائے ان لڑکیوں کے ناموں کی ایک لسٹ بنالو جو تم پر مرنے کا شرف حاصل کرچکی ہیں… ہوسکے تو تصویریں بھی لگالینا ساتھ… تصویریں تو ہوں گی نا ہر لڑکی کی تمہارے پاس؟ عکس نے اسے بظاہر بڑی سنجیدگی سے مشورہ دیتے ہوئے کہا یوں جیسے دونوں اکیڈمی میں کوئی سینڈ پکیٹ رپورٹ تیار کرنے کے بارے میں suggestion پر تبادلہ خیال کررہے تھے۔




  • چچا غالب طلبا کی نظر سے — عائشہ تنویر

    چچا غالب کو کون نہیں جانتا؟ ادب کا ذوق تو ہر ایک کو نہیں ہوتا، لیکن اردو لازمی پڑھنے والوں کے لئے بھی غالب وہ چچا ہیں جو ہر وقت بھتیجے، بھتیجیوں کی جان کے درپے رہتے ہیں۔
    میٹرک میں ان کے خطوط، اسلوب، شاعری کی تشریح پر جان کھپائی تو، اور آگے جا کر ان کی شاعری کے حسنِ بیان و خواص کو بھی سراہا۔ یہ غالب ہی ہیں جنہوں نے کتنے فیل ہونے والوں کو بچایا ہے اور پاس ہونے والوں کو فیل کرایا ہے۔




    سچ تو یہ ہے کہ طلبا تو پھر طلبا ہی ہوتے ہیں، لیکن اردو ادب کے نقاد بھی غالب کے لئے متضاد آرار رکھتے ہیں۔ کوئی ان کی نثر کا قائل ہے، تو کوئی ان کی شاعری کا دلدادہ ہے۔ نیرنگ خیال کے تو کیا ہی کہنے مگر کوئی ہم سے پوچھے تو ہم تو غالب کی پسند کو پسند کرتے ہیں۔ جی ہاں! آم جن کے بارے میں غالب اور ہماری رائے یکساں ہے کہ "آم ہوں اور بے حد ہوں”
    عموماً سائنس کے طلبا جو محض کسی خاص پیشے میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، چچا غالب ان کے لئے کسی خوف سے کم نہیں، قصور اس میں چچا کا بھی نہیں کہ طلبا ہی دھیان سارا اپنے ان مضامین پر دیتے ہیں جن کا امتحان ہونا ہو اور لازمی مضامین میں دلچسپی نہیں رکھتے اور یہاں غالب کی انا کے کیا کہنے، بے توجہی تو انہیں گوارا نہیں۔ اپنی ذات کا غرور تو ان کا خاصہ ہے کہ خود فرماتے ہیں:
    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
    جب خود شناسی کا یہ عالم ہو تو طلبا پر وہ کیوں کر رحم کریں گے؟ سو نمبر کم کروا کر طلبا کا دل دکھاتے ہیں۔ اسی لئے طلبا غالب سے خائف ہی رہتے ہیں۔
    ویسے یہ بات تو ہمارے والدین اور اساتذہ کے سوچنے کی ہے کہ ایک طرف ہمیں عاجزی کا سبق دیتے ہیں، عشق معشوقی سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں تو دوسری جانب غالب پڑھاتے ہیں جو خود فرماتے ہیں:
    عشق نے غالب نکما کر دیا
    ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
    سو اگر ہماری نئی نسل کا پسندیدہ مشغلہ عشق و عاشقی ہو، تو ان سے کیا شکوہ؟ ابھی تو یہ شکر ہے کہ غالب کے اشعار طلبہ کو من و عن سمجھ ہی نہیں آتے اور بہت سے معنی و مفہوم کے مبہم رہ جانے کے سبب وہ محبوب کے پیچھے غالب کی طرح خوار نہیں ہوتے، بلکہ "ایک جائے گا تو دوسرا آئے گا” کے قائل ہیں۔
    کچھ دن پہلے ہمارا ایک محفل میں جانا ہوا۔ وہاں چند طلبا بیٹھے خدا جانے غالب کے اشعار کی گہرائی میں اترنا چاہتے تھے یا اس سے انتقام لینا چاہتے تھے، ہم جان نہ سکے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کی تشریحات اتنی "گہری” تھی کہ شعر خود اس میں ڈوب کر مر گیا۔
    چند تشریحات آپ کو بھی سناتے ہیں، کیا معلوم آپ کو امتحان میں ضرورت پڑ جائے۔
    شعر عرض کیا:
    کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہونا




    اب خوب صحت کے حامل ایک طالب علم کے، جن کی جسامت دیکھ کر قتل تو دور کی بات انہیں گھورتے بھی ڈر لگے، بولنا شروع ہوئے.
    ” دراصل شاعر اس شعر میں اس بلی جیسے قاتل کی حالتِ زار پر روشنی ڈال رہے ہیں، جو نو سو چوہے کھا کر حج کو چلی تھی۔ اب قاتل صاحب بھی جب ایک بندے کو قتل کرنے پہنچے تو وہ باتوں میں ماہر تھا۔ اس نے قاتل کو سیدھی راہ دکھانے کو یوں دل پذیر تقریر کی کہ قاتل کو بھی اپنی عاقبت سنوارنے کا خیال آیا لیکن اس نے اپنے آخری شکار کو کہا:
    "جناب باتیں آپ کی ساری درست ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں تو آپ کے قتل کا ایڈوانس لے کر رنگ والے کو دے بھی چکا، نیا گھر بس تیار ہے، تھوڑی بہت آرائش باقی ہے.اب ایڈوانس واپس تو کر نہیں سکتا تو آپ کو تو مرنا پڑے گا۔ آئندہ کے لئے میں توبہ کرتا ہوں۔ پکا وعدہ کہ آپ کی آخری خواہش کا احترام کیا جائے گا۔”
    اب مقتول میاں اپنی حالت زار پر خوب روئے کہ کیا ہوتا اگر قاتل نے ایڈوانس نہ کھایا ہوتا، یا ان کے محبوب نے ہی یہ کام اس قاتل کا گھر مکمل ہونے کے بعد اسے سونپا ہوتا۔ کچھ تو بچت کی راہ نکل آتی۔ اب تو مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ساری محنت اور تقریر رائیگاں گئی۔
    ہائے تیری پشیمانی میرے کسی کام کی نہیں۔
    ابھی ہم ان پہلوان کی تشریح کی تشریح ہی کر رہے تھے کہ ان کا دوسرا ساتھی بولا:
    "میں تو یہ کہتا ہوں کہ آخر لوگ اس طور تحقیق کیوں نہیں کرتے کہ غالب کی موت طبعی نہ تھی۔ دھمکیاں تو عرصے سے مل رہی تھیں۔ آخر ایک دن ایک با ذوق نے عقیدت رکھنے کے باوجود پاپی پیٹ کے لئے ان کی جان لے لی۔”
    ان صاحب کا تعلق یقینا کراچی سے تھا اور ارادہ بھی پولیس میں جانے کا تھا، تب ہی تو شعر سے تفتیش کا آغاز کیا۔
    ان کی بات سُن کر ہم غالب کے دور کے امن و امان کے مسائل کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ کسی ٹی وی پروگرام کے شوقین نے بروقت مداخلت کی۔
    "ارے چھوڑو یار، تم شبیر سے پوچھ لو، کوئی جانے نہ جانے شبیر تو جانتا ہو گا ناں، اس کی معلومات غضب کی ہیں، تم ذرا مجھے اس دوسرے شعر کے معنی سمجھاؤ۔
    آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
    کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
    "ہممم!!!”
    بہت دیر سوچ بچار کے بعد ایک عاشق گویا ہوئے:
    "دراصل تم اس بات کو یوں لو کہ اب دلی وِلّی کو تو ہم جانتے نہیں، لیکن سر نے کہا تھا غالب کی شاعری زمان ومکان سے آزاد ہے۔”




  • عکس — قسط نمبر ۷

    اپنے تنے ہوئے جسم کو حتی الامکان ریلیکس کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے پہلی بار اس آئینے کو دیکھا، وہ اب بھی ویسے ہی وہاں کھڑا تھا۔ اپنے اسی استقبالی، خیرمقدمی انداز میں… اسی غرور اور طنطنے کے ساتھ… اسی پراسراریت میں لپٹے جس نے پہلی بار اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ برآمدے میں قدم بڑھاتے ہوئے اس نے آئینے پر ایک نظر اور دوڑائی تھی۔




    اس گھر میں اس کی آمد 26 سال بعد ہوئی تھی اور ان 26 سالوں کو اس نے جیسے ایک مونو سیکنڈ میں calculate کر لیا تھا۔ گھر کے اندرونی دروازے کو اس کے انتظار میں کھڑے ملازم نے کھولتے ہوئے اسے سلام کیا تھا۔ اس نے سانس روک کر اس دروازے سے اندر قدم رکھا تھا۔ اس کا ماتحت عملہ اس کے ہمراہ تھا۔ اس کا پی اے اس گھر کی تفصیلات سے اسے آگاہ کر رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل چاہا وہ اسے روک دے۔ اسے اس گھر کے تعارف کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ گھر اس کی یادداشت کا انمٹ حصہ تھا جسے کھرچ کھرچ کر مٹا دینے کی ہر کوشش ناکام رہی تھی۔
    ہال میں پہنچ کر چند لمحوں کے لیے اس کے قدم فریز ہو گئے تھے۔ وہ سیڑھیاں اب اس کے سامنے تھیں۔ سیڑھیاں، چیخیں اور…
    ”وہ وہاں کچن کا دروازہ ہے۔” پی اے کا جملہ اسے جیسے کرنٹ کی طرح لگا تھا جو اسے حال میں واپس لے آیا تھا۔ اس نے چونک کر ان سیڑھیوں سے نظریں ہٹائیں اور پی اے کو دیکھا۔
    ”پانی مل سکتاہے؟” اپنے اعصاب اور حواس پر بیک وقت قابو رکھنے کی کوشش میں اس نے لگاتار بولتے پی اے کو ٹوکا۔ پی اے فوری طورپر اس کی پیاس بجھانے کے انتظامات میں مصروف ہو گیا۔ اسے اپنے گرد جو خاموشی چاہیے تھی وہ چند منٹوں کے لیے ہی سہی لیکن مل گئی تھی۔ جسم میں سے گزرتی خوف کی ایک لہر کو اس نے جیسے خود کو ساکت رکھتے ہوئے earth کیا۔ غیر محسوس انداز میں اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتے ہوئے اس نے ایک نظر اپنی کلائی پر ڈالی۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔ اسی غیر محسوس انداز میں ہاتھ جھٹکتے اور نظریں چراتے ہوئے اس نے پانی کا وہ گلاس تھاما جو اس کے سامنے ایک ٹرے میں پیش کیا گیا تھا۔ اس نے ایک سانس میں وہ گلاس خالی کیا تھا۔ وہ گھر اسے کس طرح ہیبت زدہ کرنے والا تھا یہ اس کے لیے کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ اس نے وہاں پوسٹ نہ ہونے کی مقدور بھر کوشش کی تھی مگر کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ وہ آسیب زدہ گھر 26 سالوں کے بعد جیسے اسے ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔
    ”مجھے اس گھر کو ایک نظر دیکھنے دیں۔”پی اے نے اس کے پانی کا گلاس رکھتے ہی دوبارہ بولنا شروع کیا ہی تھا جب کہ اس نے اسے ٹوک دیا اور قدم آگے بڑھا دیے۔ ماتحت عملے نے کچھ حیران نظروں کا تبادلہ کیا لیکن پھر کچھ کہے بغیر اس کے ہمراہ ہو لیے۔
    گھر بہت تبدیل ہو چکا تھا لیکن وہاں موجود پرانی چیزوں میں سے کوئی بھی ایسی نہیں تھی جسے اس نے ایک ہی نظر میں نہ پہچان لیا ہو۔ اسے رہائشی عمارت کا جائزہ لینے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی۔ اس گھر نے اس کی زندگی میں idealاور idealism نام کی چیز کو چھین لیا تھا اور بہت سارے سوال دے دیے تھے جنہیں اس کا دماغ بہت سالوں تک کھوجتا رہا… الجھتا رہا… ناکام ہوتا رہا… اور پھر جب بالآخر اسے جواب ملا تھا تو بے یقینی کی ایک عجیب سی کیفیت نے اگلے کئی سال اسے اپنے حصار میں رکھا اور بے یقینی وہ واحد شے نہیں تھی جو بہت عرصے اس کے ہمراہ رہی تھی… ایک ناقابل بیان اذیت بھی، شرم اور دکھ کا ایک عجیب احساس بھی اور ان تمام احساسات کے درمیان وہ ایک چہرہ بھی جو اپنی آنکھوں میں خوف اور دہشت لیے اسے دیکھ رہاتھا۔ صرف چند سیکنڈز کے لیے ملنے والی وہ نگاہ جس کا تصور بھی اسے ٹھنڈے پسینے دلانے کے لیے کافی تھا۔
    اوپر والے فلور کے تقریباً تمام کمرے لاکڈ تھے۔ اس نے کسی کمرے کو نہیں کھلوایا۔ وہاں اب ایسا کچھ نہیں تھا جسے دیکھنے کی اسے خواہش تھی۔ اس گھر کا ماسٹر بیڈ روم بھی لاکڈ تھا اور صرف وہ واحد کمرا تھا جس کے دروازے کے باہر اس کے قدم چند لمحوں کے لیے فریز ہوئے تھے۔ ایک لمحے کے لیے اس کمرے میں جانے کی شدید خواہش نے اسے آن گھیرا تھا پھر اس نے اسی رفتار سے اس خواہش کو جھٹک دیا تھا۔
    ”باہر چلتے ہیں۔” اس نے جیسے منٹوں میں عمارت کے اندرونی جائزے کو مکمل کرتے ہوئے کہا۔ وہاں اندر کھڑے بہت سی چیزوں اور یادوں کا ایک سیلاب تھا جو اسے بہائے لیے جارہا تھا۔ اس نے اپنے وجود کو غرق ہونے سے بچانے کی جیسے ایک اور کوشش کی تھی۔
    عمارت کے اردگرد موجود لان پہلی نظر میں اسے ویسا ہی لگا تھا… اور دوسری نظر نے اسے وہ خاردار جھاڑیاں، کھوکھلے ہوتے تنے اور سوکھے ہوئے پیڑ پودے دکھانے شروع کر دیے تھے جو بظاہر اس تراش خراش کے دم پر کھڑے تھے جو یقینا اس کی آمد سے ایک دن پہلے کی گئی تھی۔ 26 سال پہلے وہ لان اس حالت میں نہیں تھا… نہ وہ لان نہ وہاں کے درخت اور پودے اور نہ ٹینس کا وہ کورٹ جس پر آخری میچ یقینا سالوں پہلے کھیلا گیا تھا۔ سب کچھ بوسیدہ اور خستہ حال تھا ان تکلیف دہ یادوں کی طرح جو اس کے اندر سرکنڈوں کی طرح سر نکالے ہمہ وقت موجود رہنے کے باوجود ایک لمبے عرصے سے وہ کاٹ اور چبھن کھو چکی تھیں جس نے اس کے بچپن کے ایک بڑے حصے کو بے حد بے رحمی سے لہولہان اور مسخ کیا تھا۔
    ”اس طرف سرونٹ کوارٹرز ہیں۔” پی اے نے اسے کسی رہنمائی کا انتظار کیے بغیر لان کے عقبی حصے میں کسی سدھائے ہوئے جانور کی طرح جاتے ہوئے دیکھ کر کچھ حیرانی کے ساتھ کہا۔ اس کو ڈی سی کے انداز میں اس عمارت کے لیے ایک عجیب سی familiarity (مانوسیت، واقفیت) نظر آرہی تھی۔
    ”پتا ہے۔”اس کے انداز میں واقعی ہی ایک عجیب سی مانوسیت تھی اس گھر کے لیے۔ کوئی اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتا تب بھی اس کے لیے عمارت کے عقبی حصے میں اس جگہ جانا دشوار نہ ہوتا۔ اس کے قدم اب جس رستے پر تھے وہاں اس کی زندگی کی بہترین اور بدترین یادیں بکھری تھیں۔ کچن کے عقبی دروازے سے کئی فرلانگ دور۔ عمارت کے بالکل عقب میں، وہاں اب وہ کوارٹر نہیں تھا۔ چند لمحوں کے لیے اس نے اپنے آپ کو اسی شاک اور بے بسی کی حالت میں پایا جو اس نے 26 سال پہلے اس رات محسوس کی تھی۔
    وہ closure اب بھی نہیں ہوا تھا جس کی خواہش اسے وہاں تک لے آئی تھی۔ وہ آسیب اب بھی اس کے وجود کے اندر ہی رہنے والا تھا۔
    ……٭……




    ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ ایبک فرنٹ رو میں اس مباحثے کے دوسرے مقررین کے ساتھ بیٹھا اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھتی فاطمہ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ پہلی بار ایچی سن کی ٹیم میں شامل ہو کر کسی انٹرکالجیٹ مقابلے میں شریک ہونے آیا تھا۔ کنیئرڈ کی ٹیم ہمیشہ سے ہی ایک سخت حریف رہی تھی ان کے لیے… اور ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کے اضافی advantage کے ساتھ وہ اس بار کچھ اور بھی deadly ہو سکتی تھی۔ اس کے برابر بیٹھے اس کے ٹیم میٹ اکبر علی نے اسے اسٹیج پر چڑھتی ہوئی فاطمہ کے بارے میں انفارم کرنا شروع کیا۔ وہ کنیئرڈ کالج کا Ace تھی۔ کم سے کم اکبر کی باتوں سے اس نے یہی اندازہ لگایا تھا۔ وہ بہت سے مقابلوں میں اس لڑکی کے ہاتھوں ٹرافی گنوا چکا تھا۔ فلک شگاف تالیوں کی گونج میں اس سے آٹھ دس گز دور اس کے تقریباً بالمقابل اس لڑکی نے روسٹرم سنبھال لیا تھا۔
    ہال میں اب پن ڈراپ سائلنس ہو گئی تھی۔ اس لڑکی پر نظریں جمائے ایبک کے ہونٹوں پر بے اختیار ایک مسکراہٹ رینگی۔ یہ وہ پروٹوکول تھا جو آڈیئنس صرف ایک چیمپئن ڈبیٹر کو دیتا تھا۔ اس لڑکی کی تقریر میں اس کی دلچسپی اور تجسس کچھ اور بڑھ گیا تھا۔ وہ اب روسٹرم پر لگا مائیک ٹھیک کر رہی تھی اور اس وقت پہلی بار ایبک نے اسے نروس محسوس کیا… اور اگر ایسا تھا تو ایک حریف کے طور پر یہ مقابلہ شروع ہونے سے پہلے کی سب سے اچھی خبر تھی۔ وہ اتنا ہی mean تھا جتنا کسی بھی مقابلے کے حریف ایک دوسرے کے لیے ہو سکتے تھے خاص طور پر اس صورت میں جب مدمقابل صنف نازک ہو اوراس کی کامیابی کے قوی امکانات ہوں۔ ایبک کو وہاں نیچے بیٹھے اگر کسی بات کا اندازہ نہیں ہوا تھا تو وہ یہ تھا کہ اس لڑکی کی نروس نیس کی وجہ وہ خود تھا۔وہ اگر اسٹیج سے نیچے بیٹھا اس پر نظریں جمائے اس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لینے میں مصروف تھا تو وہ روسٹرم کے سامنے کھڑی اس کو نہ دیکھنے کے باوجود اس کے وجود سے کسی پہاڑ میں دبے آتش فشاں کی طرح باخبر تھی۔
    ایبک نے مباحثے کے آغاز میں چند ہی جملوں کے بعد اسے پہلی بار یک دم خاموش ہوتے دیکھا۔ وہ واضح طور پر تقریر بھولی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ غلطی نوٹس ہوتی کنیئرڈ کی ٹیم اور ہال میں بیٹھی آڈیئنس نے تالیاں پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ کسی مقرر کی غلطی کو کوراپ کرنے کا سب سے بہترین طریقہ… ایبک اور وہاں بیٹھے دوسرے کالجز کے مقررین میں خوشی کی ایک لہر سی دوڑی تھی۔ تقریر بھولنا اور شروع کے چند سیکنڈز میں ہی بھولنا کسی مقرر کے لیے کتنا demoralising تھا وہ سب جانتے تھے۔ فاطمہ کی تقریر میں سب کا انہماک پہلے ہی تھا۔ اب اشتیاق بھی بڑھ گیا تھا۔




  • صلیب — ثمینہ طاہر بٹ

    بعض اوقات انسان جو سوچتا ہے، جو کرنا چاہتا ہے وہ کر نہیں پاتا۔ کبھی زمانے کی زبانیں راہ کی رکاوٹ بن جاتی ہیں، تو کبھی ذات برادری کے خود ساختہ، بے بنیاد اور کھوکھلے اصول، کہیں انا کی دیوار بیچ میں آ جاتی ہے، تو کہیں ضد اور غصہ اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی صلیب خود اپنے شانوں پر اٹھا نی پڑتی ہے۔ اس وقت اسے اپنے ارد گرد نہ تو کوئی اپنا ہم درد دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی رہ نما نظر آتا ہے۔ بس وہ انسان ہوتا ہے اور اس کے ناکردہ گناہوں کا بوجھ، جسے وہ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے چلتا چلا جاتا ہے۔




    شہر کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کے برن یونٹ کے اندر پڑی ادھ جلی لڑکی کی کرب ناک چیخیں اب آہستہ آہستہ دم توڑ رہی تھیں۔ وہ شاید غنودگی میں جا رہی تھی یا پھر بے ہوشی میں، دور سے دیکھنے پر کچھ خاص اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ اس برن یونٹ میں اس حالت میں لائی جانی والی وہ پہلی لڑکی نہیں تھی۔ یہاں تو روزانہ ہی اس طرح کے کئی مریض آتے جاتے رہتے تھے۔ برن یونٹ کی سرد اور خاموش دیواریں دن میں کئی بار ایسے ہی اندوہ ناک اور دل دوز مناظر دیکھتی تھیں۔ تیزاب پھینک کر جلائی جانے والی دوشیزائیں، پٹرول اور تیل چھڑک کر زندہ جلائے جانے والی بہوویں اور ان کے درد سے تڑپتے اپنے مُنہ سے موت مانگتے وجود دیکھ دیکھ کر ان دیواروں کی آنکھیں بھی پتھرا چکی تھیں۔ ان مریضوں کے خلق سے نکلنے والی کرب ناک چیخیں ، آہیں اور کراہیں برداشت کرنا ان دیواروں ہی کا کام تھا یا پھر اس وارڈ میں مشینی انداز میں اپنے اپنے کام میں منہمک نرسوں اور ڈاکٹرز کا حوصلہ ، جو شاید اب ان دیواروں کی طرح ہی سرد اور بے حس ہو چکے تھے۔ وارڈ کے اندر وہ جان کنی کے عالم میں مبتلا تھی۔ کمرے کے باہر سفید بالوں اور جھکے شانوں والا اس کا پریشان حال باپ سنگی مجسمے کی صورت سر جھکائے حزن و ملال کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ اس کی گود میں قطرہ قطرہ گرنے والے بے بسی کے آنسوؤں کو دیکھ کر احساس ہو رہا تھا کہ اس کے پتھرائے وجود میں ابھی بھی زندگی کے کچھ آثار باقی ہیں۔
    ”ڈاکٹر!! اب کیسی حالت ہے اس burn victum کی؟ کیا ہم اس کا بیان لے سکتے ہیں؟” سنگی مجسمے کے کانوں میں ایک جانی پہچانی آواز پڑی تو جیسے اس کے بے جان ہوتے وجود میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ بعض اوقات ایسے بھی تو ہوتا ہے ناں کہ جب ہم مایوسی اور دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں خود کو دھنستا ہوا محسوس کرتے ہیں، تو اسی وقت ہمارے آس پاس ہی ہمارے قریب، بہت قریب امید کے جگنو ٹمٹمانے لگتے ہیں۔ جب خوف اور اکیلا پن اپنے نوکیلے پنجے ہماری روح میں گاڑنے لگتے ہیں، تو ہماراکوئی اپنا، کوئی بہت ہم درد ایک دم ہاتھ بڑھا کر ہمیں اس خوف، اس اکیلے پن کے پنجے سے چھڑوا کر دور، بہت دور لے جاتا ہے۔ اس وقت بھی یہی ہوا تھا۔
    ”بلال۔” ان کے مضطرب ہونٹوں نے بے آواز جنبش کی تھی، مگر یہ آواز شاید دل سے نکلی تھی اس لیے سیدھی دل تک ہی پہنچی تھی۔
    ”پروفیسر صاحب آپ؟ آپ یہاں… کیسے… کیوں…؟” بلال نے یک لخت پلٹ کر دھیمی لرزتی آواز کی سمت دیکھا اور پھر کچھ اور دیکھنے کے قابل ہی نہ رہا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کا وجود پتھر میں ڈھل چکا ہے۔ خوف کی بھاری صلیب نے اس کی روح، اس کے دل کو اپنے بوجھ تلے دبا لیا تھا۔ وہ اندھوں کی طرح گرتا پڑتا پروفیسر صاحب تک پہنچا اور اب ان کے قدموں میں بیٹھا ان کے بے بسی سے بہتے آنسو چن رہا تھا۔
    S.P بلال احمد اور جان بہ لب مریضہ کا مجبور باپ… یہ کیسا کنکشن تھا۔ پولیس کی بھاری نفری سمیت وہاں موجود ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے کان بھی کھڑے ہو چکے تھے۔ وہ سب تجسس بھرے انداز سے SP بلال صاحب کو اس ادھ جلی مریضہ کے باپ کے آنسو پونچھتے، انہیں گلے لگاتے، ان کے ہاتھ چومتے دیکھ رہے تھے۔
    ”سر! یہ اُسی مریضہ کے والد ہیں، جن کے بارے میں آپ investigation کرنے آئے ہیں۔” ڈاکٹر فاریہ نے ان کے پاس آتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا تو بلال احمد کا سارا وجود پتھر سے بھربھری ریت میں تبدیل ہو گیا۔ اسے لگا وہ وہیں، اسی کاریڈور میں ننھے ننھے ذرات بن کر بکھرتا جا رہا ہو۔ اس کے اپنے وجود کی ریت اُڑ اُڑ کر اس کی حیران آنکھوں میں چبھ رہی تھی۔




    ”قندیل!!” حیرت اور خوف کے غلبے کے زِیر اثر اس کی آواز بھی کہیں دم توڑتی جا رہی تھی۔
    ”بلال! قندیل جل گئی۔ میری قندیل جل گئی۔ بلال… میری قندیل بجھ گئی۔” پروفیسر صاحب اس کے شانے پر سر رکھ کر نوحہ کناں ہوئے تو وہ بھی جیسے ہوش میں آگیا۔
    ”نہیں بابا! قندیل نہیں بجھے گی۔ قندیل کبھی نہیں بجھ سکتی بابا، کبھی بھی نہیں!” پروفیسر صاحب نے ایک دم چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ ان کی ساکت نگاہیں بلال احمد کے پر عزم روشن چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ وہ روشن چہرہ جسے انہوں نے اپنے ہاتھوں خود سے دور کر دیا تھا۔
    پروفیسر عالم صاحب کا شمار ان اساتذہ میں ہوتا تھا جوعِلم کا عَلم اٹھائے نسل ِ انسانی کے لیے مشعلِ راہ بنے ہر طرف روشنی کی کرنیں بکھیرتے رہتے ہیں۔ ان کے بے شمار شاگرد تھے اور ان کے گھر اور دل کے دروازے علم کی پیاس رکھنے والوں کے لیے ہر وقت کھلے رہتے تھے۔ جس طرح پہاڑوں کے درمیان بہنے والا چشمہ ، بل کھاتا اپنی دھن میں مگن لوگوں کی پیاس بجھاتا چلتا چلا جاتا ہے، اسی طرح پروفیسر عالم صاحب بھی اپنے شاگردوں میں بلا امتیاز و تفریق علم کی دولت لٹا رہے تھے اور لوٹنے والے دونوں ہاتھوں سے جھولیاں بھر بھر کر لوٹ رہے تھے۔
    بلال بھی ان کا ایسا ہی ایک شاگرد تھا۔ بلا کا ذہین اور سیلف میڈ انسان۔ بلال جیسے لوگوں کے لیے زندگی کبھی بھی مہربان دوست ثابت نہیں ہوتی۔ انہیں اپنی راہ میں پڑے پتھروں پر قدم جما جما کر چلنا پڑتا ہے۔ کبھی گرتے، کبھی سنبھلتے کسی نہ کسی طرح وہ لوگ بھی منزل پر پہنچ ہی جاتے ہیں، مگر یہ خوش نصیبی بھی صرف چند لوگوں کے حصے میں ہی آتی ہے اور بلال بھی بلا شبہ ان ہی خوش نصیبوں میں سے ایک تھا۔
    اس کا اس بھری دنیا میں بوڑھی دادی کے سوا اور کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ اپنے والدین اور دادی کے ساتھ گاؤں میں رہتا تھا۔ شاید وہ ہمیشہ ہی وہیں رہ کر پلتا بڑھتا اور جوان ہو کر اپنے باپ دادا کی طرح اپنی آبائی زینیں سنبھالتا، مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ اگر ایسا ہو جاتا تو وہ نہ ہوتا جو تقدیر میں لکھا جا چکا تھا۔ بلال اگر ان پڑھ دیہاتی ہی رہتا، تو وہ ”بیت العلم ” کا مکین کیسے بنتا؟
    پروفیسر عالم نے اپنی رہایش گاہ کو ”بیت العلم” کا نام دے رکھا تھا۔ وہ اپنی بیگم اور اکلوتی بیٹی کے ساتھ بڑی مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔ اگر ان کا اوڑھنا بچھونا درس تدریس تھا تو مہک عالم کی زندگی کا محور عالم صاحب اور چھے سالہ قندیل کی خوشیوں کا خیال رکھنا تھا۔ سب ٹھیک چل رہا تھا، مگر اچانک چلتے چلتے ان کی زندگی جیسے رک سی گئی۔ مہک کو موسمی بخار نے جکڑ لیا۔ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف خود پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتی تھیں اور یہی بے توجہی ان کے ساتھ ساتھ ان کے شوہر اور بیٹی پر بہت بھاری پڑی۔ مسلسل رہنے والا بخار کسی بڑی بیماری کا پیشِ خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور جب سارے ٹیسٹ کروائے گئے، تو وقت ہاتھ سے ریت کی طرح نکل چکا تھا۔ مہک کو کینسر جیسے موذی مرض نے اپنا نشانہ بنا لیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے بڑی ہمت سے حالات کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور اپنے فرائضِ منصبی کے ساتھ ساتھ مہک کے علاج پر بھی پوری توجہ مرکوز کر دی، مگر اب واقعی دیر ہو چکی تھی۔ مہک کے پاس وقت بہت کم بچا تھا اور اسے اپنے سے زیادہ قندیل اور عالم صاحب کی فکر ستاتی تھی۔
    ادھر بلال کے ساتھ بھی قسمت نے عجیب کھیل کھیلا تھا۔ وہ اپنی دادی کے ساتھ ان کی دور پرے کی عزیزہ ” مہک عالم” کی عیادت کے لیے شہر آیا تھا کہ پیچھے سے اس کی دنیا ہمیشہ کے لیے اجاڑ دی گئی۔ وہی گاؤں کی دشمنیاں اور زمین جائیداد کے بکھیڑے۔ اس کے داد کے شریکوں نے پیچھے اس کے ماں باپ اور بہن کو مار ڈالا اور ان کے گھر اور زمینوں پر قبضہ کر لیا۔ دادی جو مہک کی دور پرے کی پھپھو تھیں یہ خبر سن کر ہوش وحواس کھو بیٹھیں۔ وہ تو اپنی مرتی بھتیجی کی آخری بار عیادت کو گئی تھیں اور اب خود اسی ہسپتال میں بستر علالت پر آن پڑی تھیں۔ عالم صاحب کا نرم دل بھی ان پر گزرنے والی قیامت سے لرز سا گیا۔ اس پر جب بلال کے باپ کے شریکوں نے اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا، تو وہ اور زیادہ پریشان ہو گئے۔ دس سالہ معصوم بلال کی موہنی اور معصوم صورت ان کے دل میں ایسی بسی کہ انہوں نے اس کے رشتے داروں کو صاف انکار کر دیا۔
    عالم صاحب کے اس انکار نے دوسری طرف آگ سی بھڑکا دی تھی۔ وہ لوگ تو دشمنیاں پالنے کے عادی تھے، انہوں نے عالم صاحب کو بھی اپنا دشمن مان لیا، مگر یہاں بلال کی دادی نے عقل مندی کا ثبوت دیا اور عالم صاحب اور بلال کے سر سے اس دشمنی کا بوجھ اتارنے کے لیے اپنی ساری زمینیں، گھر، مال مویشی سب کچھ شریکوں کے نام لگا دیا۔ سب معامالات کورٹ کچہری میں ہوئے۔ پکے کاغذات پر انگوٹھے لگے اور بوا رحمت نے اپنی کل دنیا، اپنے پوتے کی جان اس دشمنی کے گرداب سے بچالی۔
    بلال کی جان تو بچ گئی، مگر مہک کو مزید مہلت نہ ملی اور وہ ایک دن باتیں کرتے کرتے اس سکون سے سوئی کہ پھر آنکھ ہی نہ کھول پائی۔ قندیل کے سر سے ممتا کی چھاؤں چھن گئی، مگر بوا جی نے اسے اپنی محبت بھری آغوش میں بھر لیا۔ اب بوا جی کی زندگی کا مقصد بلال کے ساتھ ساتھ قندیل بھی بن چکی تھی۔ پروفیسر عالم، مہک کی ابدی جدائی کو بڑی جی داری سے جھیل گئے تھے۔ انہوں نے خود کو پہلے سے زیادہ مصروف کر لیا۔ اپنے گھر کو اکیڈمی میں تبدیل کر دیا اور خود درس وتدریس میں کھو گئے۔
    ”بابا! بلال کا رزلٹ آگیا، دیکھیں اس نے پورے صوبے میں ٹاپ کیا ہے! ” قندیل بے حد خوش تھی۔ اس کے مسکراتے چہرے پر ایک انوکھی سی خوشی پھیلی تھی جیسے بلال کا نہیں اس کا اپنا رزلٹ آگیا ہو۔ پروفیسر صاحب نے کتاب سے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر اس کی خوشی کو محسوس کرتے ہوئے خود بھی خوش ہو گئے۔ بلال ان کے لیے سگی اولاد سے کم نہیں تھا اور پھر اس کی ذہانت، شرافت اور تابع داری اسے اور زیادہ ان کے دل کے قریب کرتی تھی۔




  • عکس — قسط نمبر ۵

    اس اسٹینڈنگ مرر میں اپنے عکس پر پہلی نظر ڈالتے ہی اس نے اپنی یادداشت کے سارے خانوں کو جسم سے اترے ہوئے لباس کی جیبوں کی طرح کھنگالنا اور جھاڑنا شروع کردیا تھا۔ کتنے سال بعد اس نے اس مرر کو دیکھا تھا اور اس مرر میں کیا کیا دیکھا تھا۔




    آئینہ اتنے سالوں کے بعد آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔ کم آب و تاب کے ساتھ لیکن اسی وقار کے ساتھ جس کے ساتھ اس نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔گھر کا ایکسٹیرئر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہ آئینہ جیسے کسی شہزادی کا رومال تھا جسے وہ پھاڑ کر پھٹنے اور غائب ہونے سے پہلے شہزادے کی رہنمائی کے لیے باہر چھوڑ گئی تھی۔ واحد سراغ … ہر ہر بھید تک لے جانے اور اسے پانے والا۔ چند لمحوں کے لیے اس آئینے کو دیکھتے ہوئے اسے یوں لگا تھا جیسے وہ بھی تب ہی وہاں سے ہٹے گا۔ غائب ہوگا جب حضرت سلیمان کے عصا کی طرح اسے بھی کھڑے کھڑے دیمک لگ جائے گی، پھر ایک دن وہ برادے کے ایک ڈھیر اور آئینے سے شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں تبدیل ہو کر وہاں سے ہٹادیا جاتا۔ پتا نہیں وہاں کھڑا وہ کس کس کا عکس دیکھتا اور دکھاتا رہا تھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ اس آئینے میں نظر آتی عمارت کے بیرونی حصے کے عکس کو دیکھنے لگی۔ انگلیوں کی پوروں پر اس نے جیسے وہ سال گنے تھے جب وہ آخری بار اس گھر سے گئی تھی۔ وہ گھر جو اس کی زندگی کا خوب صورت ترین اور سیاہ ترین باب تھا۔ وہ گھر جس سے زیادہ محبت اور نفرت اسے کبھی کسی جگہ سے نہیں ہوئی تھی لیکن وہ گھر جو وہاں آکر بسنے والے انسانوں کے تمام احساسات سے بے نیاز آج بھی اسی تمکنت سے وہاں کھڑا تھا۔
    اور پھر آئینے میں اپنے اور اس گھر کے عکس کے درمیان اس نے یک دم کسی کو نمودار ہوتے دیکھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ بے اختیار مسکرائی۔ اس نے زندگی میں اس مرد کے علاوہ صرف ایک مرد کو …وہ آگے کچھ سوچ نہیں پائی، وہ اب اس کے عقب میں کھڑا اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھے اس کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا
    ”You look lovely ”وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
    ”Thank you for flattering me”اس نے جواباً کہا۔ وہ اس کے عکس پر نظر جمائے ہوئے بے اختیار مسکرایا۔ گہری، گرم جوش، بہت کچھ یاد دلادینے والی آنکھیں… بے حد باریک ہونٹوں پر آنے اور کھیلنے والی بے ساختہ اور خمدار مسکراہٹ… اور یہ مسکراہٹ کیا کیا طوفان نہیں اٹھادیتی تھی۔ کون کون سی قیامت تھی جو بپا نہیں کردیتی تھی۔
    ”You are more than welcome” اس نے ذرا ساہنس کر اس کی بات پر جیسے کسی ندامت کا اظہار کیے بغیر دھڑلے سے کہا۔
    ”تمہیں پتا ہے میں پہلی بار اس گھر میں کب آئی تھی؟” اس نے آئینے میں اس کے عکس کے عقب میں موجود عمارت پر ایک نظر ڈالتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔ وہ اب بھی اس کے کندھے پر اسی طرح دونوں ہاتھ جمائے ،ٹکائے کھڑا تھا۔وہ اس کے ہاتھوں کا دباؤ محسوس کررہی تھی، نرم ،سہارا دیتا ہوا دباؤ۔ چند لمحوں کے لیے جیسے اس کا دل اس سے لپٹ جانے کو چاہا تھا۔
    ”جب…” اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن آواز حلق سے نہیں نکل سکی۔ آنسوؤں کے ایک ریلے نے اس کی قوت گویائی اور بینائی دونوں کو بیک وقت مفلوج کیا تھا۔ یادیں تھیں… درد کے آبلے تھے جو گرم پانی کے چشموں کی سطح پر ابھرنے والے بلبلوں کی طرح پھٹنے لگے تھے۔ کندھوں پر ٹکے وہ دونوں ہاتھ سرعت سے بازوؤں پر آئے پھر انہوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ حصار جس نے زندگی میں کبھی اس کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا، وہ حصار جواس کے لیے ایک عطا تھا کسی کا تحفہ۔ اس کے بازوؤں کے حصار میں روتے ہوئے اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کون سے کانٹے پہلے نکال کر اس کو دکھائے… وہ جو پاؤں میں تھے یا وہ جو دل میں تھے۔ سمجھ میں یہ بھی نہیں آرہا تھا کہ وہ جو یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس کو دوبارہ بھلانے کے لیے وہ کیا کرے گی۔
    اس گھر کے برآمدے میں لگا وہ آئینہ، شہزادی تک پہنچانے والا واحد سراغ، اب جیسے شہزادے کو اس کے پاس لے آیا تھا، پہاڑ کی اس کھوہ میں جہاں ایک شہزادی کو کئی سال پہلے گہری نیند سلادیاگیا تھا۔
    ……٭……




    شیر دل نے اس کو کاریڈور میں داخل ہوتے ہی بہت دور سے دیکھ لیا تھا۔ وہ کمشنر آفس کے میٹنگ روم کے داخلی دروازے پر کھڑی اپنے عملے کے کسی رکن کو ہدایت دینے میں مصروف تھی۔
    چیف کمشنر کے ساتھ ڈویژن کے تمام ڈی سیز کی دس بجے ہونے والی میٹنگ کا انتظام اس کی ذمے داری تھی۔ شیر دل کے ہونٹوں پر بے ساختہ ایک مسکراہٹ رینگی تھی اور ایسا کیوں تھا وہ کبھی سمجھ نہیں پایاتھا۔
    عکس مراد علی کو اپنے سامنے پاکر اسے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی یا پھر غصہ آتا تھا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ بے تاثر رہ پایا ہو… خوشی کا وہ حال ہوتا تھا کہ وہ بہت دن تک اس کے ٹرانس سے باہر نہیں نکل پاتا تھا… اور غصہ سمندر کی ایک شوریدہ لہر کی طرح آکر گزر جاتا تھا۔
    ایمرلڈگرین لانگ شرٹ میں سیاہ چوڑی دار پاجامے اور دوپٹے میں کندھوں سے کافی نیچے تک جاتے اسٹیپس میں کٹے ہوئے گھنے سیاہ بالوں کو وہ اب بھی بات کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں جھٹک رہی تھی۔ وہ اس کو کئی سالوں بعد دیکھ رہا تھا لیکن شیر دل کو کم از کم دور سے اس میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا تھا۔ اس نے اپنے سامنے کھڑے شخص کے ساتھ بات کرتے کرتے اپنا رخ موڑا تھا اور تب اس نے بھی شیر دل کو دیکھ لیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل نے اس کو بھی بات کرتے کرتے ٹھٹکتے دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر بھی ایک مسکراہٹ آئی تھی۔ نظروں اور مسکراہٹوں کے تبادلے کے بعد اس نے عملے کے اس فرد کو کچھ آخری ہدایات دیں۔ شیر دل کے اس کے قریب پہنچتے پہنچتے اس کا عملہ وہاں سے رخصت ہوچکا تھا۔ اس کے بالمقابل جا کر کھڑے ہوتے ہوئے شیر دل کا دل بے اختیار مچلا تھا کہ وہ اپنے عقب میں آنے والے اپنے اسٹاف کو وہاں سے رخصت کردے… کم سے کم چند لمحوں کے لیے۔ عکس کو دیکھ کراس کے دل میں ہر قسم کی احمقانہ اور بچگانہ خواہشات پیدا ہوتی رہتی تھیں اور یہ ہمیشہ سے تھا۔ ہاں پہلے کبھی اس نے اپنی ان تمام خواہشات کو احمقانہ اور بچگانہ کا لیبل نہیں لگا یا تھا، اب لگانے لگا تھا۔ یہ کام وہ نہ کرتا تو وہ کرتی جو اس سے تین فٹ کے فاصلے پر اس کے سامنے کھڑی اپنی سیاہ، چمکدار، شفاف، گہری آنکھوں اور بے حدجان لیوا مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”ہیلو!اس کے خیر مقدمی کلمات کے آغاز سے پہلے ہی شیر دل نے کہا تھا۔
    ”سر آپ کیسے ہیں؟
    ”I am good آپ کیسی ہیں میم؟”
    ”I am fine too، آپ کا سفر ٹھیک رہا؟”
    ”جی، چیف آچکے ہیں؟”
    ”وہ بس راستے میں ہیں، دس منٹ میں پہنچ جائیں گے۔” کمشنر آفس میں کھڑے ادھر سے ادھر جاتے ہوئے انتظامی عملے کے بیچ میں وہ ایک دوسرے سے یہی کہہ سکتے تھے جو کہہ رہے تھے… فارمل انداز اور کلمات۔ صرف ان کی مسکراہٹ اور آنکھیں تھیں جو ایک دوسرے کو وہ پہنچارہی تھیں جو ان کے احساسات تھے۔ صرف چند منٹ وہ وہاں کھڑا رہا تھا پھر میٹنگ روم میں چلا گیا تھا، اس کے پاس سے نہ ہلنے کی خواہش کے باوجود…
    میٹنگ ٹھیک وقت پر شروع ہوئی تھی۔ شیر دل کمشنر کے بائیں جانب میز کی پہلی کرسی پر تھا اور وہ اس کے بالمقابل کمشنر کے داہنی جانب پہلی سیٹ پر براجمان تھی۔ اور اس سیٹنگ ارینجمنٹ سے شیر دل کو کم از کم یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے لیے ٹیبل کے سرے پر بیٹھے ہوئے کمشنر اور میٹنگ پر توجہ مرکوز رکھنا آج کافی مشکل ثابت ہونے والا تھا اور ایسا ہی ہوا تھا… وہ بار بار بھٹک رہا تھا، اسے دیکھتے اور سنتے ہوئے۔ وہ اب بھی اسی طرح بات کررہی تھی جس طرح ہمیشہ کرتی تھی۔ نپا تلا انداز، تول کر بولنے کی عادت، بے حد ٹھہراؤ والا دھیما، ملائم لہجہ اور بے حد شستہ اور مدلل گفتگو۔




  • عکس — قسط نمبر ۳

    ایبک اس شیول مرر کے سامنے کھڑا اپنا ریکٹ گھماتے گھماتے رک گیا تھا۔ یہ آئینے میں ابھرنے والا ایک عکس تھا جس نے اسے روکا تھا اور وہ یہ نہیں جانتا تھاوہ چہرہ ساری عمر ہر بار سامنے آنے پر اسی طرح اسے فریز کر دیا کرے گا۔ اس نے چڑیا کو پہلی بار اسی آئینے میں دیکھا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ چڑیا پچھلے کئی دنوں سے اسے کئی بار دیکھ چکی تھی… ٹینس کورٹ پر صاحب کے ساتھ ٹینس کھیلتے… لان میں صاحب کی بیٹی اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلتے… Frisbeeپکڑنے میں ناکامی پر اپنے چھوٹے بہن بھائی پر چلاتے اور خفا ہوتے ہوئے… وہ صاحب کے گھرآئے ہوئے مہمان تھے اور صاحب کے گھر ویک اینڈ پر مہمانوں اور ان کے ساتھ ان کے بچوں کا آنا کوئی انوکھی بات نہیں تھی مگر یہ صاحب کے ہاں لمبی چھٹیاں گزارنے کے لیے آئے ہوئے مہمان تھے۔




    صاحب کے گھر کا سناٹا ان تین بہن بھائیوں کی سرگرمیوں سے ٹوٹنے لگا تھا جن میں سے ایک ایبک سب سے بڑا تھا۔ آٹھ سالہ وہ بچہ اپنے قدوقامت سے دس سال کا لگتا تھا… وہ جب بھی گھر سے باہر نظر آتا اس کے ہاتھ میں زیادہ تر ٹینس ریکٹ ہی ہوتا جسے وہ بے مقصد گھماتا ، ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتا رہتا… کبھی کبھار اس کی چھ سالہ بہن اس کے ساتھ ٹینس کھیلتی لیکن وہ کسی اعتبار سے ایبک کا مقابلہ نہیں کر پاتی تھی۔ وہ جسمانی طور پر بہت مضبوط تھا… لڑکا تھا… بہن سے عمر میں دو سال بڑا تھا… اور تکنیک کے اعتبار سے بہت Soundتھا… اور پانچ سال کی عمر سے ٹینس ریکٹ اٹھائے ہوئے تھا۔ ٹینس جیسے ان کا خاندانی کھیل تھا، ان کی ننھیالی اور ددھیالی فیملی میں کوئی ایسا نہیں تھا جو ٹینس نہ کھیلتا ہو… مگر ان میں سے کسی میں بھی ٹینس کے لیے ایبک جیسا پیشن نہیں تھا… وہ سوئمنگ کرتا تھا یا پھر ٹینس کھیلتا تھا اور اس گھر میں آنے کے ایک ہفتے میں ہی چڑیا یہ جان چکی تھی۔
    ایبک کے آنے کے بعد صاحب باقاعدگی سے شام کے وقت اس کے ساتھ لان ٹینس کھیلا کرتے کبھی کبھار ایبک کی ممی، بہن بھائی اور صاحب کی بیوی اور بیٹی بھی وہاں موجود ہوتے لیکن عام طور پر صرف صاحب اور ایبک ہی کھیل رہے ہوتے اور صاحب مسلسل ایبک کو ہدایات دے رہے ہوتے۔ ایبک صاحب سے کبھی جیت نہیں پاتا تھا لیکن کبھی کبھار وہ کوئی اچھا شاٹ مار دیتا اور صاحب اس شاٹ کو Missکر دیتے اور تب کورٹ میں فاتحانہ انداز میں چلانے والا صرف ایبک نہیں ہوتا تھا کسی پودے یا درخت کے پیچھے چھپی ہوئی چڑیا بھی اتنی ہی مسرور ہوتی تھی اور اس کے سات بونے بھی… وہ آٹھوں اس کے اس اتفاقی شاٹ کو بھی اس طرح سلیبریٹ کرتے جیسے وہ ایک پوائنٹ نہیں میچ جیت گیا ہو۔ ایبک چڑیا کو کیوں اچھا لگا تھا؟ اس وقت اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ Aweمیں تھی۔ اس وقت تک وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس کا ہم عمر تھا… اس کے لیے متاثر ہونے کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ ٹینس کھیلتا تھا اور بہت اچھی کھیلتا تھا اور جب وہ فریز لی پھینکتا تھا تو کوئی نوکر بھی اس کو نہیں پکڑ پاتا تھا۔ وہ ان تین بچوں کا سردار تھا جو اس وقت اس گھر میں تھے اور وہ جس طرح ان تینوں بچوں کو کنٹرول کرتا تھا۔ وہ کہیں سے بھی ایک آٹھ سالہ بچہ نہیں لگتا تھا۔
    چڑیا ، صاحب کے ریکٹ کو دیکھ کر ہمیشہ فیسینیٹ ہوتی تھی لیکن وہ کبھی خواہش کے باوجود اس ریکٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکی تھی۔ اس کے ساتھ کھیلنا تو خیر بہت دور کی بات تھی۔ اس وقت تک اسے وہ ٹینس ریکٹ بہت ہلکی پھلکی کوئی چیز لگتا تھا کیونکہ اس نے صاحب کو اسے ایک ہلکی پھلکی چیز ہی کی طرح اٹھائے اور کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ اسے اندازہ تک نہیں تھا کہ وہ اس ریکٹ کو موقع مل جانے پر اٹھا کر گھما بھی نہیں سکے گی۔
    ایبک اپنا ریکٹ اکثر لان میں چھوڑ کر چلا جاتا تھا اور موقع ہونے کے باوجود چڑیا اس ریکٹ کے قریب جانے کی ہمت بھی نہیں کر پاتی تھی۔ اسے خوف ہوتا تھا کہ ایبک کسی بھی وقت نمودار ہو سکتا تھا اور چند بار واقعی ایسا ہوا تھا کہ وہ ہمت کر کے اس ٹیبل کے پاس جانے کی تیاری کر رہی ہوتی جہاں ایبک اپنا ریکٹ چھوڑ کر گیا تھا اور ایبک کھانے پینے کی کوئی چیز لیے یک دم دوبارہ لان میں آ جاتا۔ وہ ہمیشہ اتنے دبے قدموں میں آتا تھا کہ چڑیا اس سے خائف رہنے لگی تھی اسے لاشعوری طور پر یہ یقین ہو گیا تھا کہ وہ جب بھی اس کے ریکٹ کو پکڑنے کے لیے اس ٹیبل کے پاس جائے گی۔ ایبک وہاں آ جائے گا۔
    وہ اب پہلے کی طرح کیاریوں میں سے ٹینس بالز بھی نہیں نکال پاتی تھی کیونکہ ایبک کھیل ختم ہونے کے بعد تمام بالز خود ڈھونڈ کر ٹینس بالز کے ڈبے میں بالز پوری کر کے ہی لان سے روانہ ہوتا۔ اس نے چڑیا کی زندگی کی ایک سب سے پسندیدہ سرگرمی چھین لی تھی لیکن اس کے باوجود چڑیا کو ایبک اچھا لگتا تھا۔ وہ اکیلے ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتے ہوئے کورٹ پر خود ہی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا… چڑیا اور اس کے سات بونے اس کی ان خود کلامیوں سے محظوظ ہوتے رہتے۔ چڑیا نے پہلی بار اپنے علاوہ کسی دوسرے کو خود سے گفتگو کا شوقین پایا تھا اور ایبک کے لیے اس کی پسندیدگی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا۔ کبھی کبھار اس کی باتیں سنتے ہوئے اس کا دل چاہتا وہ ان کی باتوں کا جواب دے اور وہ دیتی بھی لیکن سرگوشی میں اپنے بونوں کو۔ لیکن ایبک کی وہ ساری باتیں، جھلاہٹیں، خود کلامیاں چڑیا کے لیے جیسے ایک شاندار تفریح تھی۔ وہ اس کی Vocabularyبڑھا رہا تھا… ایبک کے منہ سے سننے والا ہر نیا لفظ وہ خیر دین کے سامنے رکھ دیتی تھی اور ان میں سے زیادہ تر لفظ خیر دین کے لیے بھی نئے تھے۔ چڑیا خیر دین کو یہ نہیں بتاتی تھی کہ اس نے وہ لفظ کہاں سنا تھا لیکن وہ خیر دین کی لاعلمی اور کم علمی کو کسی اعتراض کے بغیر قبول کر لیتی تھی۔




    بعض دفعہ ایبک کو اپنے بہن بھائیوں یا اکیلے کھیلتے ہوئے دیکھ کر چڑیا کا بے تحاشا دل چاہتا تھا کہ وہ خود بھی اس کے ساتھ جا کر کھیلنے لگے۔ ایبک کی اچھالی ہوئی ہوا میں اڑتی ہوئی اس فریز بی کو جسے کوئی پکڑ نہیں پاتا وہ پکڑ لے۔ ایبک کی ٹینس Serve کو وہ دوسرے کورٹ سے اتنی ہی طاقت کے ساتھ Return کرے جس قوت سے وہ پھینکی گئی تھی اور اسے یقین تھا وہ ایسا کر سکتی تھی۔ ایک بچے کی معصومیت اور خوش فہمی اسے یہ بتا ہی نہیں پا رہے تھے کہ کھیل کھیلنے اور اچھا کھیلنے کے لیے صرف خواہش اور موقع نہیں Skillکی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹینس کا وہ ریکٹ جسے ایبک بڑی آسانی سے گھماتا اور ہلاتا نظر آتا تھا اس کے پیچھے Will نہیں Skill تھی۔ اس کے تین سالوں کا تجربہ تھا۔ فریز بی کی وہ ڈسک تھی جو ہوا میں تیرتی کسی کے ہاتھ نہیں آتی تھی۔ وہ اس کے ہاتھ سے بھی اسی طرح چھوٹ کر گرتی جس طرح دوسروں کے ہاتھوں سے… لیکن بچے آدھی زندگی اور آدھی خواہشات خوابوں اور فینٹسی میں پوری کرتے ہیں… نہ نپولین کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ تھا نہ اس کی زندگی میں ہوتا ہے… اور چڑیا کے ساتھ تو سات دوست بونے بھی تھے۔
    ”نانا جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو میں ٹینس کی پلیئر بنوں گی۔” ایبک کے آنے کے چند دنوں کے بعد ایک دن چڑیا نے خیر دین سے ریکٹ کی فرمائش کرتے ہوئے اسے اپنے کیئریئر میں تبدیلی کا عندیہ دیا۔
    ”نہیں بیٹا، لڑکیاں ٹینس نہیں کھیلتیں۔” خیر دین نے فوراً اسے ٹوکا۔
    ”ٹی وی پر تو کھیلتی ہیں… وہ جو ومبلڈن ہوتا ہے۔” چڑیا نے پی ٹی وی پر دیکھے جانے والے کسی میچ اور ٹورنامنٹ کی اسے یاد دلائی۔
    ”ہاں پر وہ تو انگریزوں کے ملک میں ہوتا ہے اور انگریز عورتیں کھیلتی ہیں۔” خیر دین جواب دیتے ہوئے صاحب کی بیوی اور اب ایبک کی ممی کو بھول گیا تھا چڑیا نہیں، اس نے خیر دین کو یاد دلانے میں دیر نہیں کی۔
    ”بیٹا وہ صاحب لوگ ہیں، وہ کھیل سکتے ہیں ہم نہیں کھیل سکتے۔” خیر دین نے بے اختیار گہری سانس لیتے ہوئے اس سے کہا۔ چڑیا کو اب بار بار صاحب اور اپنی کلاس کا فرق سمجھانا اور بتانا خیر دین کو بڑا مشکل لگتا تھا۔ خاص طور پر اس لیے کیونکہ ساری عمر وہ چڑیا کے سامنے ایک ”بڑا آدمی” بنا رہا تھا اور اب اس بڑے آدمی کو اس بچی کے سامنے یہ خول اتارنا پڑ رہا تھا اور یہ آسان نہیں تھا مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ وہ اسے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کھلا پلا رہا تھا۔ اسے انگلش میڈیم اسکول بھی بھیج رہا تھا۔ اس انگلش میڈیم اسکول میں جہاں اس جیسا آدمی اپنی اولاد کو بھیجنے کے صرف خواب دیکھ سکتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ چڑیا کے پاؤں زمین پر بھی رکھنا چاہتا تھا۔ اس کو پرواز سے روکنا چاہتا تھا۔
    ”بہت سارے کام صاحب لوگ کر سکتے ہیں لیکن ہم نہیں…” چڑیا کو اس فلاسفی کی سمجھ آئی تھی یا نہیں لیکن یہ ایک جملہ اس نے کسی طوطے کی طرح اپنے سسٹم میں بغیر بحث کے فیڈ کیا تھا۔




  • عکس — قسط نمبر ۲

    وہ اس اسٹینڈنگ مرر کے سامنے کھڑی چند لمحوں کے لیے جیسے فریز ہو گئی تھی۔ خیر دین ہمیشہ اسے نصیحت کیا کرتا تھا۔
    ”بیٹا۔ شام کے بعد کبھی گھر میں لگے آئینوں کے سامنے مت جانا اور خاص طور پر برآمدے میں پڑے اس بڑے آئینے کے سامنے۔” چڑیا، خیر دین کی نصیحت پر کچھ حیران ہو گئی تھی۔
    ”پر کیوں نانا؟”
    ”کہتے ہیں شام کے بعد وہ آئینے دیکھنے آتے ہیں۔” خیر دین نے کچھ اٹک کر اسے بتایا۔ چڑیا نے وہ کا حدوداربہ نہیں پوچھا تھا۔ وہ جانتی تھی، وہ کون تھے؟ اس کا چہرہ خوشی اور جوش سے سرخ پڑ گیا تھا۔ خیر دین کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اپنی احتیاطوں میں اس نے چڑیا کو جیسے خزانے کی کنجی دے دی تھی۔ تو بالآخر اب سارے گھر میں ماری، ماری پھرنے کے بجائے اسے صرف شام کے بعد گھر میں لگے ہوئے آئینوں کے آس پاس رہنا تھا۔ چڑیا نے دل ہی دل میں اپنی نئی حکمت عملی طے کی۔
    نانا آپ نے کبھی ان آئینوں میں ان کو دیکھا؟” چڑیا نے جیسے بڑی احتیاط کے عالم میں سرگوشی کی۔ خیر دین نے اسے سمجھا دیا تھا کہ بار بار ان کا نام نہیں لینا چاہیے ورنہ وہ ناراض ہو سکتے ہیں تو چڑیا اب اکیلے میں بھی ان کو بونا نہیں کہتی تھی البتہ ان بونوں کے نام لینے میں اسے تامل نہیں ہوتا تھا۔




    ”نہیں، میں نے تو نہیں دیکھا لیکن گھر میں رہنے والے دوسرے نوکروں نے دیکھا ہے… خاص طور پر وہ باہر والے بڑے آئینے میں۔” خیر دین روانی میں بتاتا گیا۔ چڑیا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسی وقت چڑیا کی طرح اڑتے ہوئے ان آئینوں کے اردگرد منڈلانے لگے۔
    اگلے دن ڈی سی ہاؤس میں آتے ہی چڑیا نے سب سے پہلے گھر کے آئینے گننے شروع کر دئیے تھے۔ بیرونی آئینے کے علاوہ گھر کے مرکزی ہال، اندرونی برآمدے اور چند دوسرے کمروں میں ملا کر پانچ چھوٹے بڑے آئینے تھے۔ کچھ کمرے جو بند تھے وہ وہاں کے آئینے نہیں گن سکتی تھی اور ان میں سے صرف ایک آئینہ تھا جو چڑیا شام کے بعد آسانی سے دیکھ سکتی تھی اور وہ مرکزی دروازے کے باہر برآمدے میں لگا… شیول اسٹینڈنگ مرر تھا۔ اس آئینے نے سات آٹھ سال کی اس بچی کو پہلے کبھی اس طرح فیسینیٹ نہیں کیا تھا جس طرح اب کرنے لگا تھا۔ وہ دن میں بھی کئی بار اب اس آئینے کے پاس جانے لگی تھی۔ کئی بار آئینے کے سامنے کھڑی وہ اس کے اکھڑے ہوئے پینٹ بیکنگ میں کنٹا، منٹا، شنٹو، ڈیڈو، ٹوفو، ٹوکو، کیٹو کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی رہتی… بعض دفعہ گلیکسی کے ستاروں کی شکل کی طرح وہ بھی اس پینٹ میں ان سات بونوں کو کسی نہ کسی حد تک ڈھونڈ ہی لیتی… اور بعض دفعہ وہ اسے حرکت کرتے بھی نظر آتے صرف اسٹیٹک نہیں… لیکن پھر بھی اس کا لاشعور کہیں نہ کہیں اس سے کہہ رہا تھا کہ جو وہ آئینے میں پہچان رہی ہے وہ غیر مرئی نہیں ہے… وہ ویسا پراسرار اور مافوق الفطرت نہیں تھا جتنا گھر میں خودبخود حرکت کرنے والی چیزیں جو اب اس کے لیے para normal چیز نہیں رہی تھی۔ وہ ان حرکت کرنے والی چیزوں کے تعاقب میں جاتی تھی، تجسس اور اشتیاق کے عالم میں… خیر دین کی طرح آیات نہیں پھونکتی تھی… بلکہ کئی دفعہ اس حرکت کرنے والی چیز کو بعد میں بھی الٹ پلٹ کر دیکھتی رہتی یوں جیسے وہ اس نظر نہ آنے والے بونے کی کوئی نشانی اس چیز پر دیکھنا چاہتی تھی جو اسے حرکت دیتا رہا تھا۔ اسے کبھی کچھ نظر نہیں آیا تھا… کیونکہ وہ یہ طے نہیں کر پائی تھی کہ آخر وہ ان گلاسوں، پلیٹوں اور دوسری چیزوں پر دیکھنا چاہتی تھی… کوئی بڑا شاید ان چیزوں پر فنگر پرنٹس تلاش کرتا کوئی دوسرا نشان یا پھر کوئی بالوں کا ٹکڑا… چڑیا ان بونوں کے کپڑوں، جوتوں اور پہنی ہوئی دوسری چیزوں کا کوئی حصہ دیکھنا چاہتی تھی… ان کی رنگین پُھندنے والی ٹوپی کے کوئی دھاگے، ان کے رنگین رومال ، کوئی سونے یا چاندی کا سکہ… کوئی بٹن… یا کوئی ایسی چیز جسے وہ اپنے پاس فخریہ طور پر رکھ سکے اور پھر سب کو دکھا سکے۔
    لیکن دن گزرتے گئے اور اسے وہاں کوئی بونا نظر نہیں آیا اور جب وہ انتظار اور امید ختم کر بیٹھی تب یک دم اس شام اسے باہر برآمدے میں لگے آئینے میں پہلی بار کچھ نظر آیا تھا۔ وہ اس شام خیر دین اور گھر کے دوسرے ملازمین کے ساتھ نئے ڈپٹی کمشنر کے انتظار میں گھر کے باہر کھڑی تھی۔ نیا ڈپٹی کمشنر اس گھر میں منتقل ہونے سے پہلے اس گھر کا جائزہ لینے کے لیے اس شام وہاں آنے والا تھا اور خیر دین اس کے اصرار پر اسے بھی وہاں ساتھ لے آیا تھا۔ وہ خود دوسرے ملازمین کے ساتھ گپ شپ لگانے لگا اور چڑیا ہمیشہ کی طرح سامنے والے لان میں بیٹھی ہوئی بلیوں کے ساتھ کھیلنے لگی۔ ان بلیوں کے ساتھ دوڑتے بھاگتے وہ پسینے سے شرابور ہو گئی تھی اور کسی بلی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہی وہ لان سے ڈرائیو وے اور وہاں سے برآمدے میں آئی تھی اور برآمدے میں آتے ہی بلی کو بھول کر وہ اس آئینے کی طرف آئی تھی۔ شام ہو رہی تھی، پھولی ہوئی سانس اور پسینے سے شرابور وہ آ کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ وہ اس وقت آئینے میں اپنے بال اور چہرہ صاف کرنا چاہتی تھی لیکن اس نے آئنے میں کچھ دیکھا تھا۔ ایک نظر میں وہ اسے اپنا وہم لگا تھا لیکن وہاں آئینے میں کچھ تھا… کوئی کھڑا تھا… وہاں کسی کا عکس تھا… بہت چھوٹے سے قد کا کوئی…
    اس سے پہلے کہ وہ غور کر پاتی خیر دین نے اسے آواز دی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کی گاڑی گھر کے اندر داخل ہو رہی تھی۔ تمام ملازمین مستعد ہو گئے تھے۔ چڑیا نے خیر دین کی آواز پر لاشعوری طور پر ایک لمحے کے لیے پلٹ کر دیکھا پھر وہ دوبارہ گردن موڑ کر اس آئینے کو دیکھا… وہاں اب وہ نہیں تھا… جو اسے نظر آیا تھا… سیاہ رنگت والا ایک بے حد چھوٹے قد اور بڑی بڑی موٹی آنکھوں اور سرخ موٹے ہونٹوں والا ایک آدمی… جو اسے دیکھ رہا تھا… نظریں جمائے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے… وہ بے حد بدصورت تھا… اور ایک لمحے کے لیے چڑیا کا جسم پتے کی طرح کانپا تھا۔ اس نے زندگی میں اس جسامت کا کوئی انسان پہلی بار دیکھا تھا… لیکن اس کا تجسس غائب نہیں ہوا تھا… خوف اور تجسس… لیکن اس کے نظر ہٹاتے ہی وہ آئینے سے غائب ہو گیا تھا… اور اب جب وہ دوبارہ آئینے کو دیکھ رہی تھی تو وہ وہاں نہیں تھا… آئینے پر برآمدے میں جلنے والی روشنیوں کا عکس پڑ رہا تھا۔ چڑیا چند قدم اور آگے بڑھ آئی یوں جیسے وہ آئینہ کوئی دیوار تھا جس کے پار و ہ دیکھنا چاہتی تھی… وہاں اس آئینے میں اب اس کا اپنا عکس تھا… اپنے چہرے اور آنکھوں کی حیرانی کے ساتھ… اس کے ذہن نے اس آدمی کو بونا نہیں سمجھا تھا… بونے ایسے نہیں ہو سکتے تھے… وہ کیوٹ، شرارتی ، رنگین کپڑوں اور معصوم چہروں والی مخلوق تھی چڑیا کے ذہن میں… اور آئینے میں نظر آنے والے آدمی کا سیاہ جسم کسی ریچھ کے جسم کی طرح بالوں سے ڈھکا ہوا تھا صرف اس کا چہرہ تھا جو نسبتاً صاف تھا۔
    ایک لمحے کے لیے اس نے آنکھیں بند کیں پھر آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے دوبارہ آئینے کو دیکھا اور اس بار اس کی آنکھیں ایک بار پھر حیرانی کے عالم میں کھلی تھیں۔
    آئینے میں اب ایک بے حد خوبرو، دراز قد آدمی کا عکس تھا جو برآمدے میں داخل ہو رہا تھا۔ چڑیا نے حیرانی سے آئینے کو دیکھا۔ وہ ٹھگنا، بدصورت آدمی اتنا خوبصورت اور لمبا کیسے ہو گیا تھا…؟ وہ ایک لمحے کے لیے حیران ہوئی… پھر اس نے اس آدمی کے پیچھے خیر دین اور دوسرے لوگوں کا عکس دیکھا اور وہ جیسے کرنٹ کھا کر حال میں واپس آئی تھی۔ وہ نیا ڈپٹی کمشنر تھا۔
    ”سر یہ میری نواسی ہے۔” چڑیا نے پلٹ کر دیکھا۔ نیا ڈپٹی کمشنر اور باقی تمام لوگ اب اس کے سامنے تھے اور خیر دین بڑے عاجزانہ انداز میں ڈپٹی کمشنر سے اس کا تعارف کروا رہا تھا جو پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا۔ چڑیا نے خیر دین کے تعارف پر سلام کرتے ہوئے پُراعتماد انداز میں آپنا ہاتھ اس ڈپٹی کمشنر کی طرف بڑھایا تھا جس نے کچھ دلچسپی سے اسے دیکھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے ہاتھ ملایا پھر خیر دین سے کہا۔
    ”ہاں۔ عابد نے بتایا تھا مجھے۔” وہ کہتے ہوئے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ چڑیا نے ایک لمحے کے لیے ان تمام لوگوں کو اندر جاتے ہوئے دیکھا پھر وہ دوبارہ پلٹ کر اس آئینے کو دیکھنے لگی جس میں اس نے آج ایک بونا دیکھا تھا لیکن وہ اسے پہچان نہیں پائی تھی۔
    …٭٭…