Tag: Urdu fiction

  • شہرِذات — عمیرہ احمد

    ”خدا کا خوف کرو فلک! اتنی دیر میں لوگ چاند پر جا کر واپس آجاتے ہیں جتنی دیر میں تم صرف اپنی آنکھوں کا میک اپ کررہی ہو۔ میں تمہیں ایک بار پھر یقین دلاتی ہوں، وہاں سلمان انصر کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس لیے اتنے ہتھیاروں سے لیس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔”
    رشنا کی بیزاری اب اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی اور وہ سیدھا سیدھا طنز کرنے پر اتر آئی تھی۔ مگر اس کی کسی بات کا فلک پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ وہ اسی سکون و اطمینان سے اپنی پلکوں پر مسکارا کی ایک اور کوٹنگ کرتی رہی۔
    ”اٹھ جاؤ فلک! اٹھ جاؤ ہم کنسرٹ پر جارہے ہیں کسی فیشن شو میں نہیں اب بس کرو۔” اس کی خاموشی نے رشنا کو کچھ اور تپایا۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر اس کے سامنے پڑی میک اپ کٹ کو اٹھا کر بند کر دیا۔
    ”تمہیں کیا تکلیف ہے یار! چند منٹ انتظار نہیں کرسکتیں؟” فلک نے اس کے ہاتھ سے میک اپ کٹ چھینتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے قطعاً کوئی تکلیف نہیں ہے مگر یار جتنی جانفشانی سے تم میک اپ میں مصروف ہو، اس سے تمہیں ضرور کوئی تکلیف ہو جائے گی۔”
    فلک اس کی بات کا جواب دئیے بغیر ایک بار پھر مسکارا لگانے میں مصروف ہو گئی۔ رشنا ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھ کر ہلکی سی مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگی فلک اپنے چہرے پر جمی اس کی آنکھوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میک اپ میں مصروف رہی۔
    ”فلک! تمہیں آخر میک اپ کی ضرورت ہی کیا ہے۔ تمہیں تو خدا نے پہلے ہی بہت مکمل بنایا ہے۔ میک اپ کی ضرورت تو ان لوگوں کو ہوتی ہے جن میں کوئی خامی کوئی کمی رہ گئی ہو۔ تم میں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔” چند لمحے اس کے چہرے پر نظر جمائے رکھنے کے بعد رشنا نے کہا۔
    ایک دلکش مسکراہٹ فلک کے چہرے پر لہرائی۔ ایک خاص ادا سے دایاں ابرو اچکاتے ہوئے اس نے کہا۔





    ”جانتی ہوں مجھے میک اپ کی ضرورت نہیں ہے مگر سلمان کو میک اپ پسند ہے اور جو چیز اسے پسند ہے، وہ فلک کو کیسے ناپسند ہوسکتی ہے۔ مس رشنا کمال! یہ سب سنگھار صرف اسی ایک شخص کے لیے کر رہی ہوں تاکہ اس کی نظر کہیں اور نہ جاسکے۔ اگر کوئی چہرہ اس کے خیالوں میں رہے تو وہ یہی چہرہ ہو اگر کوئی وجود اس کی نظر کو اسیر کرے تو وہ یہی وجود ہو۔”
    فلک نے میک اپ کٹ بند کرکے دراز میں رکھ دی۔
    ”دل تو اس بندے کا پہلے ہی جیت چکی ہو اب باقی کیا رہا جسے حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ وہ بندہ تمہارے پیچھے اس قدر دیوانہ ہے کہ اس سب سنگھار کے بغیر بھی اس کی نظر تمہارے علاوہ کسی اور چہرے پر نہیں ٹکے گی۔”
    رشنا نے رشک آمیز حسرت سے کہا تھا۔ ایک تفاخر آمیز مسکراہٹ سے فلک اپنے تراشیدہ بالوں میں برش کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    خوبصورتی کی اگر کوئی حد ہوتی تو وہ حد فلک شیرافگن تھی۔ وہ مجسم حسن تھی جو نظر ایک بار اس چہرے کو دیکھ لیتی وہ دوبارہ کچھ اور دیکھنے کے قابل نہیں رہتی تھی۔ اسے نظروں کا اسیر کرنے کا ہنر آتا تھا۔ بعض دفعہ وہ اپنے وجود کو آئینے میں دیکھتی اور خود اپنے سحر میں گرفتار ہو جاتی اور پھر سوچتی۔
    ”اگر میں ایک عورت ہوتے ہوئے خود اپنے ہی عکس سے نظر ہٹا نہیں سکتی تو کسی مرد کے لیے یہ کتنا مشکل ہو گا۔”
    یہ احساس اسے بیٹھے بٹھائے قلوپطرہ بنا جاتا پھر وہ گھنٹوں آئینے کے سامنے بیٹھی سنگھار میں مصروف رہتی۔ بہت سے لوگوں کو دنیا میں صرف ایک چیز ملتی ہے اور بس ایک ہی چیز ملتی ہے۔ بعض لوگوں کو دنیا میں سب کچھ ملتا ہے اور سب کچھ ہی ملتا ہے، فلک شیرافگن دوسری فہرست میں آتی تھی۔ وہ شیرافگن جلیل کی اکلوتی بیٹی تھی اور شیرافگن جلیل ملک کے نامور انڈسٹریلسٹ تھے۔ اسے چاہا نہیں گیا تھا۔ بے تحاشا چاہا گیا تھا اگر اس کے ماں باپ کا بس چلتا تو وہ واقعی اسے اپنی پلکوں پر بٹھا لیتے۔ وہ خود پسند بھی تھی اور خود پرست بھی مگر کوئی اور خامی اس میں نہیں تھی یا شاید اس کا حسن کسی دوسرے کو اتنی جرأت ہی نہیں دیتا تھا کہ وہ فلک شیرافگن کی کوئی خامی ڈھونڈ پاتا۔
    اس نے ہر جگہ سے ستائش پائی تھی چاہے وہ گھر ہو یا سکول، کالج ہو یا یونیورسٹی۔ وہ لڑکیاں بھی جو اس سے حسد کرتی تھیں۔ کہیں نہ کہیں ان کے دل میں بھی اس سے دوستی کی خواہش ضرور دبی رہتی تھی۔ بعض دفعہ کوئی دل ہی دل میں اس سے سخت بدگمان ہوتا اسے ناپسند کرتا اس کے بارے میں دوسروں سے غلط باتیں کہتا اور پھر وہ ایک بار ہی اس سے مخاطب ہوتی، حال احوال پوچھتی، مسکراتی اور اگلا چاروں شانے چت ہو جاتا پھر اس میں کوئی مزاحمت ہی باقی نہیں رہتی تھی۔ اگلے کتنے دن وہ اسی احساس کے ساتھ ساتویں آسمان پر رہتا کہ فلک شیرافگن نے اس سے بات کی ہے اس کا حال احوال دریافت کیا ہے اسے دیکھ کر مسکرائی ہے۔ پھر وہ دوبارہ کبھی اس کی مخالفت کرنے کی جرأت نہ کر پاتا۔ وہ اکثر اپنے مخالفین کو اسی طرح چت کیا کرتی تھی۔
    وہ یونیورسٹی میں ایم ایف اے کر رہی تھی مگر اس کا حلقہ احباب لمبا چوڑا نہیں تھا۔ اس کے دوستوں کی تعداد محدود تھی۔ اس کی چند دوستیں وہی تھیں جن کے ساتھ اسکول کے زمانے سے اس کی دوستی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلق نہ صرف مضبوط ہوا تھا بلکہ اس کی دوستوں میں کوئی اضافہ بھی نہیں ہوا تھا۔ رشنا بھی اس کی ان ہی گہری دوستوں میں سے ایک تھی اور اس سے اور مریم سے ہی اس کا سب سے زیادہ میل جول تھا۔
    فلک کے لیے رشتے تب سے آنے شروع ہو گئے تھے جب وہ اسکول میں تھی۔ مگر شیرافگن نے بڑی خوبصورتی سے سب کو ٹال دیا تھا وہ چھوٹی عمر میں اس کی شادی کرنا نہیں چاہتے تھے ویسے بھی وہ جانتے تھے کہ فلک کے لیے کبھی بھی رشتوں کی کمی نہیں ہو گی۔ وہ نہ صرف بے پناہ خوبصورت تھی بلکہ ان کی ساری دولت کی بھی مالک تھی پھر ایسی سونے کی چڑیا کو پھانسنے کے لیے شکاریوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ کیوں نہ ہوتا۔
    وہ شروع سے کو ایجوکیشن میں پڑھی تھی اور شروع سے ہی اس کے پیچھے بھاگنے والوں کی فہرست بہت لمبی تھی۔ مگر فلک نے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی تھی یا پھر شاید اس کو کسی میں اتنی کشش ہی محسوس نہیں ہوئی تھی کہ وہ اس کے بارے میں سوچتی بلکہ وہ اکثر اپنی فرینڈز کے ساتھ مل کر ایسے عشاق کا مذاق اڑایا کرتی تھی۔ رشنا اکثر اس سے کہا کرتی تھی۔ ”جو لوگ خود خوبصورت ہوتے ہیں، انہیں کسی دوسرے سے محبت ذرا کم ہی ہوتی ہے اور عشق تو دور کی بات ہے۔” وہ ہر بار اس کی باتوں پر قہقہہ لگایا کرتی تھی۔
    سلمان انصر سے اس کی ملاقات اپنی ایک دوست کی بہن کی شادی کی تقریب میں ہوئی تھی۔ آواری میں سوئمنگ پول کے کنارے ایک ٹیبل پر وہ اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی حسب معمول بہت سی نظروں کا مرکز بنی ہوئی تھی اور اس بات سے آگاہ بھی تھی اور بے پرواہ بھی اپنی دوستوں کے کسی بات پر قہقہہ لگاتے ہوئے اس کی نظر سوئمنگ پول کے دوسرے کنارے پر موجود ایک ٹیبل پر پڑی تھی۔ سیاہ جینز اور اسی رنگ کی لیدر کی جیکٹ اور ٹی شرٹ میں ملبوس وہ بندہ اس ٹیبل کی سب سے خاص چیز تھا۔ وہ اتنی دور سے بھی اس کے چہرے کے نقوش کی خوبصورتی کو محسوس کر سکتی تھی۔ وہ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لڑکے کی بات سن رہا تھا اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے گلاس سے کوک کے سپ لے رہا تھا۔ فلک چاہتے ہوئے بھی اس سے نظر ہٹا نہیں پائی۔ اپنی فرینڈ کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے وہ وقفے وقفے سے اسے دیکھ رہی تھی اور کچھ دیر بعد اچانک اسے احساس ہوا تھا کہ وہ صرف فلک کی توجہ کا مرکز نہیں تھا۔ کچھ اور نظریں بھی بار بار اس کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ اور اس احساس نے پہلی بار اسے حسد سے روشناس کروایا تھا۔ اس کے دل میں بڑی شدت سے اس کے پاس جانے کی خواہش پیدا ہوئی۔
    ”رشنا! یہ سوئمنگ پول کے دوسری طرف ٹیبل پر بلیک آؤٹ فٹ میں جو بندہ ہے، اسے جانتی ہو؟”
    اس نے اچانک رشنا سے سرگوشی میں پوچھا جو اس کے پاس بیٹھی ہوئی تھی رشنا نے نظر دوڑائی تھی۔ ”نہیں یار یہ کوئی نیا بندہ ہے کم ازکم میں واقف نہیں ہوں۔” اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا تھا۔
    پھر فلک نے یہی سوال ٹیبل کے گرد بیٹھی ہوئی اپنی دوسری دوستوں سے کیا تھا۔ سب کا جواب نفی میں تھا۔
    ”رمشہ سے پوچھو، میرا خیال ہے، یہ اس کے بہنوئی کا کوئی دوست ہو گا۔” رشنا نے اس سے کہا تھا۔ وہ رشنا کے ساتھ اٹھ کر اسٹیج کی طرف آگئی تھی۔ وہاں رمشہ، دولہا دلہن کے ساتھ بیٹھی تصویریں بنوا رہی تھی۔ فلک نے اسے ایک طرف بلوایا اور اس بندے کے بارے میں پوچھا تھا وہ اپنے بھائی سے اس کے بارے میں پوچھنے گئی تھی۔
    ”یہ سلمان انصر ہے، اسد بھائی کا کزن ہے۔” اس نے آکر اپنے بہنوئی کا نام لیا تھا۔ فلک نے اس سے کہا تھا کہ وہ اسے اس سے ملوائے۔
    ”اچھا چلو ٹھیک ہے۔ اسد بھائی کا چھوٹا بھائی جمشید بھی اسی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس کے پاس تمہیں لے جاتی ہوں ظاہر ہے وہ خود ہی ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کا تعارف کروا دے گا۔ ” رمشہ نے اس ٹیبل پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
    فلک دھڑکتے دل کے ساتھ رمشہ کے ساتھ اس ٹیبل کی طرف آگئی تھی۔ وہ دور سے جتنا خوبصورت نظر آرہا تھا پاس آکر اس سے زیادہ اچھا لگا تھا اسے۔ رمشہ کے ساتھ جب وہ اس ٹیبل کے پاس پہنچی تو رمشہ نے جمشید سے اس کا تعارف کروایا تھا پھر جمشید نے باری باری ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے لڑکوں کا تعارف ان سے کروایا تھا۔
    سلمان انصر نے اپنے تعارف پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہیلو کہا تھا۔ پھر وہ پہلے کی طرح ارد گرد نظر دوڑانے میں مصروف ہو گیا تھا۔ فلک کے لیے یہ بات حیران کن تھی۔ وہ اس ٹیبل پر بیٹھے ہوئے دوسرے لڑکوں کی طرح اسے ستائشی نظروں سے نہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کے دل کو کچھ ٹھیس لگی تھی، کچھ دل گرفتہ سی وہ واپس اپنی میز پر آگئی تھی۔ فنکشن کے اختتام تک اس کی توجہ اسی پر مرکوز رہی تھی مگر اس نے سلمان انصر کو ایک بار بھی اپنی طرف متوجہ نہیں دیکھا۔
    اگلے کئی دن وہ اس کے بارے میں سوچتی رہی۔ وہ چہرہ جیسے اس کے دماغ میں کہیں فیڈ ہو گیا تھا۔ وہ چاہتے ہوئے بھی اسے اپنے ذہن سے جھٹک نہیں پارہی تھی۔
    سلمان انصر سے اس کی دوسری ملاقات Pace میں ہوئی تھی۔ وہ ہاتھوں میں کچھ شاپنگ بیگز تھامے باہر کی طرف آرہا تھا۔ جبکہ وہ اندر جارہی تھی۔ اسے سامنے سے آتے دیکھ کر فلک کے قدم رُک گئے۔
    ”ہیلو!” پاس آنے پر فلک نے بے تابی سے اسے مخاطب کیا وہ کچھ حیران ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں شناسائی کی چمک نہیں تھی۔
    فلک کو شاک لگا۔ ”کیا مجھ میں ایسی کوئی بات بھی اسے نظر نہیں آئی کہ یہ مجھے یاد رکھتا۔” اس نے سوچا تھا۔
    ”سوری، میں نے آپ کو پہچانا نہیں ہے۔”
    فلک نے کچھ دل گرفتہ ہو کر دو ہفتے پہلے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بتایا۔
    وہ ایک دم مسکرایا۔ ”مجھے یاد آگیا کیسی ہیں آپ؟”
    اس کی مسکراہٹ نے فلک کی ساری سنجیدگی دور کر دی تھی ”میں ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟”
    ”فائن۔”
    ”اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو کیا میں آپ کو لنچ کی آفر کر سکتی ہوں؟” اس نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر اس سے کہا تھا۔
    وہ اس اچانک آفر پر کچھ حیران ہوا تھا۔
    ”لنچ آل رائٹ چلیں۔” چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے کہا تھا۔
    دونوں باہر نکل آئے۔ فلک نے اپنے ڈرائیور کو واپس بھجوا دیا۔ سلمان کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے اسکا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
    ”کہاں چلیں؟” اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا تھا۔
    ”فیوجی یاما۔” وہ گاڑی کو ریورس کرتے ہوئے سڑک پر لے آیا تھا۔




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۱۰ (آخری قسط)

    وہ اس بوڑھے بھکاری کے پاس فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔ ہاتھ میں پکڑا آدھا برگر اس نے اس کے سامنے رکھ دیا۔ بوڑھا اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ وہ تاش کے پتوں سے گھر بنا رہا تھا… بے حد انہماک بے حد محویت سے یوں جیسے وہ واقعی اصلی گھر تھا… بلاکس سے بننے والا… وہ یوں بیٹھی انہماک سے اس گھر کو دیکھ رہی تھی جیسے وہ اسی کام سے وہاں آئی تھی… 52 پتوں سے بننے والا گھر… وہ سانس روکے پلکیں جھپکائے بغیر پتوں کے اس گھر کو مکمل ہوتے ہوئے دیکھے جا رہی تھی… بوڑھا کپکپاتے ہاتھوں سے آخری دو پتے… رکھنے جا رہا تھا… آخری دو پتے… پھرگھر مکمل ہو جاتا… وہ اب پتے رکھ رہا تھا… اب… اب… ہوا کا ایک جھونکا آیا… یا شاید اس کا ہاتھ کانپا… یا شاید پتے ٹھیک سے رکھے نہیں جا سکے… کچھ ہوا تھا… پورا گھر زمین بوس ہوگیاتھا… بوڑھے نے ایک گالی دی… زینی نے گہرا سانس لیا… آج بھی گھر نہیں بن سکا تھا… ہرروز ان ہی آخری دو پتوں کو رکھتے رکھتے گھر ٹوٹ جاتا… وہ روز یونہی اسی انہماک سے بیٹھ کر گھر دیکھتی جیسے کسی دن تو وہ معجزہ ہو ہی جانا تھا… لیکن وہ معجزہ اب تک نہیں ہوا تھا۔
    ”Hard luck” اس نے بوڑھے سے افسوس کیا اور پانی کی آدھی بوتل بھی اس کے پاس ہی چھوڑ دی۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ اس کا راستہ تھا وہ روز وہاں کام پر جاتے اور آتے ہوئے گزرتی تھی۔ جاتے ہوئے وہ جلدی میں ہوتی رکنے کا وقت نہیں ملتا تھا لیکن آتے ہوئے یہ فٹ پاتھ اور اس پر بیٹھے ہوئے یہ پانچ بھکاری اس کے لیے جیسے amusement parkمیں تبدیل ہوجاتے تھے۔ وہ انہیں تقریباً روزانہ ہی کچھ نہ کچھ دیتی تھی… کبھی چند سکے کبھی چند ڈالر… کبھی کھانے پینے کی چیزیں… اور کبھی آنسو… جو وہ وہاں کسی نہ کسی کے سامنے بیٹھ کر بہاتی تھی… وہاں کون اسے جانتا یا پہچانتا تھا کہ حیرت زدہ ہوتا یا اس پر ترس کھاتا یا اس سے پوچھتا… نہ وہ ان میں سے کسی سے کچھ پوچھتی تھی نہ ان میں سے کوئی اس سے کچھ پوچھتا تھا… جو واحد جملے ان کے درمیان کبھی کبھار exchange ہوتے وہ موسم کے بارے میں تھے… یا greetings یا شکریے کا اظہار… یا پھر وہی۔۔۔۔” bad luck” ،”hard luck” ، ”nice effort”، ”good show”… جو وہ ان میں سے کسی نہ کسی سے کہتی تھی۔
    اگلا سیاہ فام گٹارسٹ اس دن پتہ نہیں کونسا گانا اپنے گٹار پر بجا رہا تھا وہ پہچان نہیں پائی ورنہ اتنے عرصے سے وہ ان پانچ چھ ٹیونز کو پہچاننے لگی تھی جو تقریباً وہ ہر روز بجاتا تھا… اور اس نے باری باری اس سے ان میں سے ہر گانے کے lyrics اور سنگر کے بارے میں پوچھا تھا۔
    لانگ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ بے مقصد اس کے سامنے کھڑی اس کو سنتی رہی… اسے لگتا اسے دیکھ کر وہ ہمیشہ بڑی محنت اور زیادہ توجہ سے بجاتا تھا… وہ اسی کے پاس کھڑے گٹار کو سنتے سنتے بعض دفعہ رونے لگتی تھی… اور اسے احساس بھی نہیں ہوتا تھا… جیسے آج بھی نہیں ہوا تھا۔ گانا ختم ہونے کے بعد لانگ کوٹ کی جیب میں موجود سکوں میں سے ایک سکہ نکال کر اس نے اس کے سامنے پڑے ہیٹ میں ڈالا تھا اور پھراپنے گیلے گالوں کو صاف کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔




    وہ Spanish ہپی آج نہ گیندوں کو ہوا میں آچھال رہا تھا نہ گلاسز کو… وہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا… اور ایسا تب ہوتا جب وہ بہت زیادہ نشے میں ہوتا… اور ہفتے میں ایک دو بار ایسا ضرور ہوتا جب وہ بالکل کسی مردہ جانور کی طرح فٹ پاتھ پر اپنی مخصوص جگہ پر پڑا رہتا… کوئی اسے کچھ دے کر جاتا یا اس کے سامنے پڑے سکے لے جاتا اس کو پتہ نہیں چل سکتا تھا۔ وہ کرتب دکھا رہا ہوتا تو وہ کچھ دیر اس کے سامنے کھڑی رہتی… ہوا میں اچھالی جانے والی چیزوں میں کوئی دلچسپی لیے بغیر… وہ صرف اس کی انگلیوں، کلائیوں اور گلے میں پڑے عجیب عجیب پتھروں والے بینڈز اور زیورات کو دیکھتی رہتی تھی… ان میں سے کون سا پتھر اس نے کس مقصد کے تحت پہنا تھا یہ شاید وہ اب خود بھی نہیں بتا سکتا تھا… جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک سکہ اس نے اس کے سامنے پڑے گلاس میں ڈال دیا وہ اس دن کا پہلا سکہ تھا جو کسی نے اس ہپی کے گلاس میں ڈالا تھا۔
    اگلا بھکاری ایک سیاہ فام نوجوان تھا… اور یہ واحد بھکاری تھا جس کے پا س وہ سب سے کم وقت گزارتی تھی… وہ فلوٹ بجاتا تھا اور اسے بے حد عجیب لگتا تھا… اس نے کسی کو اتنا برا فلوٹ بجاتے زندگی میں نہیں سنا تھا اور وہ شاید یہ سمجھتا تھا کہ وہ بہت اچھا بجاتا تھا اس لیے وہ اپنے پاس رکنے پر ہر شخص کے لیے پہلے سے بھی کوئی خراب دھن بجاتا تھا… زینی کو بعض دفعہ اس کی ”محنت” پر ہنسی آتی… اسنے اپنے سامنے ڈرمز اور سکسا فون بھی رکھے ہوئے تھے لیکن ایسا بہت کم ہوا کہ زینی نے اسے ان میں سے کسی انسٹرومنٹ کو بجاتے دیکھا ہو… وہ صرف فلوٹ ہی بجاتا تھا… کم از کم زینی کے آنے پر… اور آہستہ آہستہ زینی کو احساس ہو نے لگا کہ وہ اسے asian سمجھ کر صرف اس کے لیے فلوٹ بجا رہا تھا… اسے pleaseکرنے کے لیے اسے یقین تھا وہ اسے انڈین سمجھ رہا ہو گا… بعض دفعہ وہ اسے بھکاری نہیں لگتا تھا… چند ایک بار وہ کچھ دنوں کے لیے وہ وہاں سے غائب بھی ہوا… لیکن پھرواپس آگیا… زینی کو وہ کبھی نشے میں محسوس نہیں ہوا تھا اس کے باوجود اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ وہاں اس فٹ پاتھ پر کیوں بیٹھا رہتا تھا… بھیک کیوں مانگتا تھا… اور ہر وقت فلوٹ کیوں بجاتا تھا… جیب سے ایک سکہ نکال کر اس نے ہمیشہ کی طرح اس کے پاس پڑے ایک ڈبے میں اچھال دیا… پھر ہمیشہ کی طرح چلتی ہوئی فٹ پاتھ کے آخر میں بیٹھی اس میکسیکن عورت کے پاس پہنچ گئی جو پھر وہی سکیچ بنا رہی تھی جو وہ ہمیشہ بناتی تھی… ہمیشہ… وہی مرد… وہی خوبصورت مرد… زینی آنکھیں بند کیے بھی اس مرد کے نقوش بتا سکتی تھی… وہ میکسیکن عورت کاغذ پر اس مرد کا چہرہ سکیچ کرتی تھی اور اس کے ہاتھ کی ہر حرکت کے ساتھ زینی کے ذہن پر کسی ”اور” مرد کے نقوش ابھرنے لگتے تھے… اس عورت نے اس مرد کا چہرہ بناتے ہوئے کبھی سر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا… بس پاگلوں کی طرح وہ اپنے کام میں لگی رہتی تھی… اور بعض دفعہ تو وہ زینی کو پاگل ہی لگتی تھی… بعض دفعہ ہر کوئی کسی دوسرے کو پاگل ہی لگتا ہے… وہ ادھیڑعمر عورت تھی… وہ نوجوان مرد تھا… پتہ نہیں وہ کتنے سالوں سے اسی ایک چہرے کو بناتی آرہی تھی… یا ہو سکتا ہے وہ ابھی کچھ عرصہ پہلے سے… اندازہ لگانا مشکل تھا… لیکن یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس مرد کے ساتھ عورت کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا… اس کے نقوش میں اس عورت کے نقوش نہیں تھے۔
    وہ بہت دیر اس عورت کے پاس کھڑی اس چہرے کو کاغذ پر ابھرتے دیکھتی جب سکیچ مکمل ہو جاتا تو عورت بہت سارے دوسرے سکیچز کے ساتھ اس کاغذ کو رکھ کر ایک نیا سکیچ بنانے لگتی تھی… زینی کو کبھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ ان پرانے سکیچز کو کیا کرتی تھی… پھینکتی تھی… پھاڑتی تھی یا کہیں رکھ آتی تھی۔
    اس نے اپنی جیب میں موجود آخری سکہ اس عورت کے سامنے رکھا اور فٹ پاتھ کا موڑ مڑ آئی… اداسی آج بھی اتنی ہی گہری تھی جتنی روز ہوتی تھی… اور صرف سڑک کا یہ وہ حصہ تھا جس سے گزر کر چند لمحوں کے لیے کم ہو جاتی تھی… پھروہ اس فٹ پاتھ کو پیچھے چھوڑ آتی… آگے وہ بلڈنگ تھی جہاں 23 ویں منزل پر اس کا اپارٹمنٹ تھا… اور جہاں کی حالت اتنی ہی ڈپریسنگ تھی جتنا باہر سڑک کا ماحول تھا۔
    وہ کینیڈا آنے کے بعد شروع میں ایک بہتر علاقے میں تھی… بہتر لیکن مہنگے… اور چند ماہ میں کام حاصل نہ کر پانے پر اسے وہ علاقہ چھوڑنا پڑا تھا… جہاں بالآخر اسے کام ملا اس کے قریب ترین یہی علاقہ تھا… یہاں وہ لوگ رہتے تھے جو کینیڈا میں آجانے کے بعد struggle کرنے کے دور سے گزر رہے تھے… جو اپنے اپنے ملکوں اور اپنی اپنی سوسائٹیز کے outcast تھے اور وہ اس خواب کے ساتھ وہاں آئے تھے کہ ایک دن وہ کسی نہ کسی فیلڈ میں کسی نہ کسی طرح excel کریں گے… وہ علاقہ کسی کا بھی ”انتخاب” نہیں تھا… ”مجبوری” تھی… سیڑھی کا پہلا پائیدان… صرف وہ تھی جو سیڑھی کے آخری پائیدان سے اتر کر پہلے پائیدان پر آکر کھڑی ہوئی تھی… کامیابی کو ”چکھ ” لینے کے بعد کامیابی کی خواہش یا خواب کے بغیر… ایک ایک پائی بچانے کی جدوجہد کے بغیر وہ وہاں شاید اپنی زندگی گزارنے نہیں آئی تھی… زندگی ضائع کرنے آئی تھی۔
    اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر وہ اندر چلی آئی۔ ہمیشہ کی طرح بے حد ”سرد خاموشی” نے اس کا استقبال کیا تھا۔ دن ڈوب رہا تھا۔ سٹنگ ایریا کی کھڑکیاں اب روشنی اندر لانے میں ناکام ہو رہی تھیں۔ اس نے لائٹ آن کر دی۔ اپنا لانگ کوٹ اور جوتے اتارتے ہوئے وہ آگے بڑھ آئی۔ ہاتھ میں پکڑا پرس کچن کاؤنٹر پر رکھتے ہوئے وہ کھڑکیوں کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی… یہ اس کا روز کا معمول تھا کام سے واپس آنے کے بعد ان کھڑکیوں کے سامنے کھڑے ہو کر باہر دیکھنا… گزری ہوئی زندگی کو کسی فلم کی طرح ان کھڑکیوں کے شیشوں پر دیکھنا… تکلیف دہ مناظر سے بچنے کی کوشش کرنا… چبھنے والے جملوں کو سماعتوں سے غائب کرنے کی جستجو کرنا… اور پھر پچھتاوا… وہ جیسے روز خود احتسابی کے عمل سے گزرتی تھی… وہ جیسے روز بے یقینی کا شکار ہوتی تھی… جو کچھ ”پری زاد” کرتی رہی تھی… وہ ”زینب ضیائ” کیسے کر سکتی تھی… کیسے؟ اس کے اندر اتنی نفرت، اتنا غصہ، انتقام کا ایسا جذبہ کہاں سے آگیا تھا… یہ عفریت اس نے کس طرح پال لیا تھا… وہ تو زینی تھی اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر اس کی ہر بات پر آمنا و صدقنا کہہ دینے والی سیدھی سادھی لڑکی… پھر اسے کیا ہو گیا تھا؟
    وہ کھڑکی کے سامنے سے ہٹ آئی… ہر بار اس سوال کے آتے ہی وہ شکست خوردہ انداز میں کھڑکی کے سامنے سے ہٹ آتی تھی… فریج میں کل کا پکایا ہوا کھانا ابھی بھی پڑا تھا… وہ اسے نکال کر گرم کرنے لگی… کئی سالوں کے بعد وہ یہاں آکر کھانا پکانے لگی تھی… اور جب پکانے لگی تو اسے احساس ہوا کہ وہ کچھ بھی نہیں بھولی تھی… ہر کھانے کی ترکیب وہ جیسے مشینی انداز میں ذہن میں لاتی… لیکن کسی بھی کھانے کا ذائقہ ویسا نہیں تھا جیسا پہلے تھا… جیسا اس کے گھر میں ”زینی” پکاتی تھی کوئی بھی چیز لاکھ جدوجہد کے بعد اب ویسی نہیں بنتی تھی… اسے پہلے بے بسی کا احساس ہوتا تھا… رونا بھی آتا تھا پھر جیسے اس نے اس بدلے ہوئے ذائقے کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا… یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اس کے ہاتھ کی تاثیر میں کمی آگئی تھی…
    وہ اب رزق حلال کماتی تھی… رزق حلال کھاتی تھی… وہ یہاں آنے سے پہلے ہر وہ چیز کسی نہ کسی کو دے آئی تھی یا چھوڑ آئی تھی جسے اس نے رزق حرام سے پایا تھا… جو چند لاکھ روپے وہ یہاں لے کر آئی تھی وہ اس گھر کو بیچ کر لائی تھی جو ضیاء کا تھا وہ واحد اثاثہ تھا جو اس نے اپنی فیملی سے مانگ کر لیا تھا… کہیں نہ کہیں وہ اپنے ذہن میں آج بھی اپنے باپ کی بات پر یقین رکھے ہوئے تھی کہ رزق حلال میں برکت ہوتی ہے… وہ اس برکت کا اثر اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتی تھی… کہیں نہ کہیں وہ آج بھی اپنے باپ کی بات کی آزمائش چاہتی تھی… اور وہ پیسے واقعی ابھی تک ختم نہیں ہوئے تھے… کسی نہ کسی طرح سے چل رہے تھے… اس کی زندگی میں ویسا سکون نہیں تھا جیسا وہ چاہتی تھی لیکن سکون تھا… وہ مقابلے کی دوڑ سے نکل کر جیسے اطمینان سے تماشائیوں میں جا کھڑی ہوئی تھی۔
    سٹر فرائیڈ، ویجیٹیبلز اوربوائلڈ رائس، وہ یہاں آکر کئی سالوں کے بعد ”کھانا” کھانے لگی تھی… ڈائیٹنگ کے نام پر چھوڑی جانے والی تمام چیزیں… وہ انگلیوں کی پوروں کے ساتھ لقمے بنا کر چاول کھاتی رہی… اسے کینیڈا میں آئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہونے لگا تھا… پیچھے پاکستان میں کیا ہو رہا تھا… شوبزمیں کیا ہو رہا تھا… وہ جیسے بھول گئی تھی۔
    واحد رابطہ جو اس کا کسی کے ساتھ تھا وہ نفیسہ تھیں… جنہیں وہ کبھی کبھار فون کرتی… ان کی شادی کر لینے کی ہدایت اور تشویش سنتی… اپنے بہن بھائیوں کے بارے میں جانتی اور فون رکھ دیتی… وہ اس کے لیے روٹین کی باتیں ہوتی تھیں… وہ سب اب امریکہ میں اکٹھے تھے… ایک سٹیٹ میں… تھوڑے سے فاصلے پر… اور اپنی اپنی زندگی میں settled اور خوش تھے… ان میں سے کسی کی زندگی میں زینی نام کا کوئی خلا نہیں تھا جسے وہ جا کر پر کرتی… ان سب کے لیے وہ اب ایک outsider تھی اور زینی نے اپنے اس سٹیٹس کو قبول کر لیا تھا۔
    دس منٹ میں کھانا ختم کرنے کے بعد اس نے ان چند برتنوں کو صاف کیا اور کچن سے باہر آگئی۔
    مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد عشاء کی نماز تک وہ قرآن پاک پڑھتی رہی… یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ یہ وہ قرآن پاک تھا جسے کبھی ضیاء پڑھا کرتے تھے اور اسے پڑھتے ہوئے بہت بار وہ اپنے ارد گرد ضیاء کی مہک محسوس کرنے لگتی تھی… بہت بار اسے لگتا وہ وہیں کہیں ہیں اس کے آس پاس بہت قریب… لیکن بہت دور… بہت دفعہ اسے قرآن پاک کے صفحات پر اپنے باپ کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہونے لگتا… وہ ہر لائن کے نیچے انگلی پھیرتے تھے… وہ بھی ہر لائن کے نیچے انگلی پھیرا کرتی تھی… کبھی کبھار بھول جاتی… اور پھر احساس ہونے پر دوبارہ اسی طرح انگلی پھیرنے لگتی تھی۔
    ضیاء کو اتنے سالوں میں اس نے کبھی خواب میں نہیں دیکھا تھا… کبھی نہیں… لیکن ان کی خوشبو کو بھی اس نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا جس طرح وہ اب کرنے لگی تھی… اس ایک سال میں بہت بار تہجدمیں روتے ہوئے اسے لگتا ضیاء اس کے پاس آبیٹھے تھے… ناراض لیکن بے چین… خفا لیکن اس کے پاس… سارا قصور اس کا قصور تھا… ساری غلطی اس کی غلطی تھی… وہ ہمیشہ روتی تھی لیکن کچھ کہے بغیر… کوئی گلہ کوئی شکایت کیے بغیر… سب نے اس سے بہت کچھ کہا تھا صرف ایک ضیا نے ہی کچھ نہیں کہا تھا… وہ اب سننا چاہتی تھی باپ سے… یہ جاننے کے باوجود کہ اس نے ضیاء سے کیا کہا تھا… وہ جیسے چاہتی تھی کہ باپ بھی ملامت کرے… سب کچھ کہہ دے… پر بات کرے اس سے… لیکن وہاں خاموشی تھی… اور خاموشی اسے رلاتی تھی… باپ کی خفگی اتنے سالوں میں اس طرح پہلی بار چبھی تھی اسے… تب جب وہ ”میں جو کچھ کر رہی ہوں ٹھیک کر رہی ہوں” کے زعم سے باہر آگئی تھی۔
    ”اللہ بڑا معاف کرنے والا بڑارحیم ہوتا ہے زینی۔” وہ شاید پانچ چھ سال کی تھی جب اس نے پہلی بار اپنے باپ کے منہ سے سنا تھا۔ وہ رات کو ان کے ساتھ سوتی تھی اور سوال پوچھ پوچھ کر ان کا کتنا وقت ضائع کرتی تھی اسے احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔ ”سب کو معاف کر دیتا ہے؟” اس نے باپ کے سینے سے سر اٹھا کر ضیاء کا چہرہ دیکھا۔
    ”ہاں سب کو” ضیاء نے اطمینان سے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں؟” وہ اس کی بات پر بے اختیار ہنسے۔
    ”کیونکہ وہ ہمارا رب ہے۔ اس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ وہ ہم سے بڑی محبت کرتا ہے۔” انہوں نے اس کے ماتھے پر آئے بالوں کو ہٹاتے ہوئے کہا۔
    ”کتنی محبت کرتا ہے؟” وہ بے حد سنجیدہ تھی۔
    ”ستر ماؤں جتنی۔”
    ”آپ جتنی نہیں۔” وہ جیسے بے حد مایوس ہوئی۔
    ضیاء کھلکھلا کر ہنستے رہے۔ انہوں نے اسے لپٹا لیا تھا۔
    ”ہاں میرے جتنی بھی بلکہ مجھ سے بہت زیادہ۔”




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۹

    سعید نواز نے زینی اور شیرازکے تعلق کے بارے میں پتا کروایا یا نہیں لیکن بہر حال انہوں نے دوبارہ شیراز سے اس سلسلے میں بات نہیں کی تھی اور یہ شیراز کے لیے جیسے معجزے سے کم نہیں تھا اور اس نے اس معجزے کے لیے کتنی دعائیں مانگی تھیں، یہ صرف وہی جانتا تھا۔ اگلے چھ ماہ وہ بے حد محتاط رہا تھا۔
    زینی سے رابطے کا تو فی الحال سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ زینی اس کے خلاف اپنے دل میں کتنا غصہ رکھتی تھی۔ شیراز نے ان چند ”گرل فرینڈز” کے ساتھ بھی ہر طرح کا رابطہ منقطع کر دیا جن کے ساتھ وہ پچھلے کچھ عرصہ سے انوالوڈ تھا۔
    شینا کی زبان پر کچھ عرصہ تک پری زاد کا ذکر اور اس کے حوالے سے طعنے رہے تھے مگر پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا پری زاد جیسے قصہ پارینہ بنتی گئی۔
    شیراز اس عرصہ میں آیک فرمانبردار شوہر بن کر دکھانے کے لیے جتنی کوشش کر سکتا تھا وہ کرتا رہا تھا۔ دفتر اور گھر کے علاوہ اپنی سوشل لائف مکمل طور پر کاٹ دی تھی۔ دوبارہ سے شینا اور سعیدنواز کا اعتماد جیتنے کے لیے اسے بہت محنت کرنا پڑ رہی تھی۔ وہ انہیں یقین دلانا چاہتا تھا کہ وہ اتنا ہی بے ضرر تھا جتنا وہ سمجھتے تھے اور پری زاد والا قصہ ایک اتفاق کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
    یہاں تک کہ شیراز نے شینا کے بیٹے پر بھی اس طرح توجہ دینی شروع کر دی جیسے وہ اس کا اپنا بچہ ہو۔ اس کے دل میں ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید اس بچے پر دی جانے والی توجہ ہی کے بدلے میں شینا اسے معاف کر دے اور اس کے رویے میں کچھ بہتری آئے۔
    لیکن شینا کے رویے میں بہتری کے لیے کی جانے والی ہر کوشش ڈھاک کے تین پات ثابت ہوئی۔ سہیل کے ساتھ اس کے تعلقات اسی طرح عروج پر تھے اور اب وہ کھلے عام ان کے گھر آنے لگا تھا اور شیراز نے زہر کا یہ گھونٹ بھی پی لیا تھا۔
    اس نے جیسے اس بات پر سمجھوتہ کر لیا تھا کہ سہیل کو شینا کی زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں ساری زندگی رہنا ہے۔ وہ بعض دفعہ شینا کی سہیل کے لیے محبت دیکھ کر حیران بھی ہوتا تھا۔ حسد کرنا تو خیر اب اس نے کب کا چھوڑ دیا تھا۔
    سہیل سے شینا کا تعلق اور محبت اب سعید نواز کے علاوہ اور کسی کو اپ سیٹ نہیں کرتی تھی۔ صرف سعید نواز تھا جسے سہیل اور شینا کا یہ میل جول ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا اور اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ سہیل کو گولی مار دیتا لیکن اس جذبے میں شیراز سے ہمدردی کا کوئی عنصر نہیں تھا بلکہ سعید نواز کو سہیل اور اس کے گھر والوں سے ذاتی مخاصمت تھی اور بیٹی ایسی تھی کہ وہ اس پر جان چھڑکتا تھا اور وہ اسی طرح سہیل پر مرتی تھی۔
    باپ کی ناپسندیدگی ناراضی یا مخاصمت جیسے اس کے لیے کوئی معنی نہیں ر کھتے تھے۔




    شیراز کو کبھی تو سعید نواز پر غصہ آتا، کبھی ترس اور کبھی اسے خوشی ہوتی۔ شینا وہ پہاڑ تھی جس کے سامنے سعید نواز آگیا تھا۔
    شیرا ز کی باقی دونوں بہنوں کی شادی بھی اب ہو چکی تھی۔ اکبر اور نسیم اب بالکل اکیلے تھے۔ شیراز کوشش کے باوجود ان کے پاس جانے اور بیٹھنے پر بھی خود کو آمادہ نہیں کر پاتا تھا۔ اکبر اور نسیم کے پاس بات کرنے والے جو موضوعات تھے ان پر بات کرنے سے شیراز کو بری طرح غصہ آتا تھا۔
    وہ اس بات پر صدمے سے بے حال ہوتے کہ ان کے بیٹے کی ابھی تک کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ ہی مستقبل میں کسی اولاد کا امکان نظرآتا ہے۔ اپنی اگلی نسل انہیں دور دور تک کہیں نظر نہیں آرہی تھی اور صرف یہی سوچ کہ ان کی نسل ان کے بیٹے کے ساتھ ہی ختم ہونے والی ہے۔ اکبر اور نسیم کو بے حال نہ کرتی تو اور کیا کرتی۔
    وقتاً فوقتاً وہ اب شیراز کو خفیہ طور پردوسری شادی کا مشورہ بھی دینے لگے تھے۔ یہ صرف شیراز جانتا تھا کہ وہ اسے دوسری شادی کا نہیں،خود کشی کا مشورہ دے رہے ہیں۔ سعید نواز یا شینا سے دوسری شادی کا چھپا رہنا ناممکن تھا اور اس کے بعد پتا چلنے پر وہ اس کا جو حشر کرتے وہ شیراز کو ایسے کسی ارادے سے باز رکھنے کے لیے کافی تھا۔
    جبکہ اکبر اور نسیم کا اصرار تھا کہ وہ دوسری شادی کر کے اپنی دوسری بیوی کو ان کے پاس رکھے۔ انہیں یقین تھا کہ شینا یا اس کے باپ کو اس کی شادی کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔ انہیں آب اپنے بڑھاپے اور تنہائی کا خیال بھی پریشان کرتا تھا۔
    بعض دفعہ شیراز واقعی دوسری شادی کے بارے میں سوچنے لگتا تھا۔ کچھ دیر کے لیے وہ واقعی فرض کر لیتا تھا کہ شینا اور سعید نواز کو اس کی شادی کے بارے میں پتا نہیں چلے گا۔ وہ اپنی بیوی کو یہاں اپنے ماں باپ کے پاس رکھے گا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہو گی۔ اور پھر اسے خیال آتا۔ لیکن اگر ہو گئی تو؟ اور اس تو کے بعد نظر آنے والی تصویر اتنی ہولناک تھی کہ اس کے سارے ارادے لمحہ بھر میں غائب ہوجاتے۔
    وہ ایک دلدل میں پھنس چکا تھا جس میں وہ ہاتھ پاؤں مار سکتا تھا لیکن باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ کسی لڑکی کے ساتھ کوئی افیر چلانا اور کچھ وقت گزارنا دوسری بات تھی لیکن کسی کو مستقل طور پر اپنی زندگی میں شامل کرنا ایسا قدم تھا جو وہ اٹھانے کے قابل نہیں تھا اسے اپنے آس پاس ملنے جلنے والے افراد میں اب بہت سارے ایسے مرد نظر آنے لگے تھے جو اس جیسی ہی دوہری تہری زندگیاں گزار رہے تھے۔ بہت سارے ایسے مرد جنہوں نے کامیابی کے زینے چڑھنے کے لیے امیر سسرال کا سہارا لیا تھا۔اور ان میں سے بظاہر کوئی ناخوش نظر نہیں آتا تھا ہر ایک کامیاب زندگی گزارتا نظر آرہا تھا۔ ہر ایک کی زندگی میں وہ معجزے ہو چکے تھے جس کے لیے انہوں نے کامیابی کی یہ سیڑھی ڈھونڈی تھی۔ لیکن ہر ایک کی زندگیوں میں کہیں نہ کہیں وہ شگاف بھی نظر آتے تھے جو صرف شیراز یا شیراز جیسے دوسرے لوگ ہی دیکھ سکتے تھے۔ جو ویسی زندگیاں گزار رہے تھے اور جو ان ماسک کو پہچان سکتے تھے جو وہ سب پہن کر ایک دوسرے کے سامنے آتے تھے۔
    ٭٭٭
    ”کرم علی کو فون کرنا چاہیے آپ کو۔” سلطان نے اس سے کہا۔ وہ دو دن پہلے کرم علی کی فلم کی شوٹنگ کے لیے اوٹوا آئی تھی اور یہاں آتے ہی سلطان نے اسے بار بار کرم علی سے رابطے کے لیے کہنا شروع کر دیا تھا۔ وہ اسے رابطے کا نہ بھی کہتا تب بھی زینی کو اوٹوا میں اس کے ساتھ گزرے ہوئے وہ دو ہفتے بری طرح یادآنے لگے تھے اور اس کے ساتھ ہی کرم علی بھی۔
    کیوں یاد آرہا تھا یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
    ”کیوں فون کرنا چاہیے مجھے؟” زینی نے بے حد سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”آپ کواچھا لگا تھا وہ پری جی۔” سلطان نے اس کے کسی زخم کو چھیڑا تھا۔
    ”اس سے کیا ہوتا ہے؟” زینی نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”کچھ نہیں ہوتا کیا؟” سلطان نے بے حد چبھتے ہوئے اندازمیں پوچھا۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اس نے کہا۔
    ”نہیں کچھ نہیں ہوتا۔”
    ”چلیں میں پراچہ صاحب سے کہوں گا وہی ملاقات کا انتظام کروا دیں۔ کھانا وانا تو کریں گے کرم علی صاحب… ہر پروڈیوسر کرتا ہے۔” سلطان نے جیسے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”خبر دار تم نے پراچہ سے اس سلسلے میں کوئی بات کی میں نے کہا نا مجھے کرم علی سے نہیں ملنا، نہ ہی بات کرنی ہے۔” زینی نے بے حد سنجیدگی سے کہا اسے سلطان کی بات سے زیادہ اس کے انداز پر غصہ آیا تھا۔ سلطان اس وقت اسے غصے میں دیکھ کر خاموش ہو گیا۔
    اسے منع کرنے کے باوجود زینی کو جیسے کوئی موہوم سی امید تھی کہ وہ اتنے ہفتے کے قیام میں کبھی نہ کبھی اس سے رابطے کی کوشش کرے گا۔ وہ لاشعوری طور پر منتظر تھی کہ وہ کسی نہ کسی دن سیٹ پر شوٹنگ دیکھنے سہی آئے گا تو… کرم علی نہیں آیا تھا۔
    ”آپ کو پتہ ہے کرم علی کی شادی ہو گئی ہے۔”دو ہفتے کے بعد ایک دن سلطان نے منہ لٹکا کر زینی کو بتایا۔ وہ اس وقت سین کے دوران آنکھوں کے میک اپ کی ری ٹچنگ کر رہی تھی چند لمحوں کے لیے زینی کو ہاتھ میں پکڑے آئی شیڈز کے کلرز کو پہچاننا اور یہ طے کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ وہ کون سا کلر استعمال کر رہی تھی۔ اس کا کوئی تعلق تھا کہ وہ چند لمحوں کے لیے اس طرح سکتے میں آئی تھی۔
    ”اچھا ہوا، تمہیں کس نے بتایا؟”
    چند لمحوں کے بعد جیسے اس نے اس شاک سے خود کو آزاد کرتے ہوئے کہا۔ وہ ایک بار پھر آئی شیڈز پر نظریں جمائے ہوئے ان کو پہچاننے کی کوشش میں مصروف تھی۔
    ”کیااچھا ہوا پری جی؟ مجھے توذرا خوشی نہیں ہوئی اس کی شادی کا سن کر۔” سلطان نے منہ بسورتے ہوئے کہا تھا۔
    ”تمہاری خوشی یا نا خوشی سے کیا فرق پڑتا ہے۔ سلطان… کرم علی خوش ہے اپنی شادی سے۔ یہ کافی ہے۔”
    اس نے بالآخر شیڈز پہچاننے شروع کر دیے تھے لیکن آوازکی لرزش پر قابو پانے میں اسے ابھی بھی دقت ہو رہی تھی۔
    ”آپ بھی صحیح کہتی ہیں پری جی۔” سلطان نے گہرا سانس لیا۔
    ”پراچھا آدمی تھا اگر آپ۔۔۔۔” سلطان نے بات ادھوری چھوڑ دی زینی نے سر اٹھا کر سامنے کوریوگرافر کو ایکٹرز کو ڈانس کی ریہرسل کرواتے ہوئے دیکھا آج اسے ایک ڈانس کی شوٹنگ کروانی تھی۔ زینی کا دل یک دم اچاٹ ہو گیا تھا۔
    ”سلطان اگر میں آج شوٹنگ نہ کرواؤں تو؟ پیک اپ ہو سکتا ہے کیا؟”
    زینی نے سامنے لوگوں کو سین کی تیاری کرتے ہوئے سلطان سے کہا۔
    سلطان نے چونک کر اس کاچہرہ دیکھا اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس نے سیٹ پر اسے کرم علی کی شادی کے بارے میں بتا کر غلطی کی تھی لیکن غلطی ہو چکی تھی۔
    ٭٭٭




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۷

    من و سلویٰ — قسط نمبر ۷

    ”یہ کس نے بھیجے ہیں؟” زینی نے اس بے نام پیلے گلابوں کے گلدستے پر نظر ڈالتے ہوئے مڑکر سلطان سے پوچھا۔
    آج تک اسے کسی نے پیلے گلاب نہیں بھیجے تھے۔ اسے ہمیشہ سرخ گلاب ہی ملتے تھے۔ خون کی طرح سرخ گلاب یہ شاید کوئی نہیں جانتا تھا کہ زینی کو صرف پیلے گلاب پسند تھے اس کو کبھی بھی گلاب کا سرخ پھول اچھا نہیں لگا تھا اور اب اس کے گھر پر بھجوائے جانے والے پھولوں میں سرخ گلابوں کی بھر مار ہوتی تھی زینی ایک نظر بھی ان میں سے کسی بکے پر نہیں ڈالتی تھی۔ صرف یہ ایک بکے تھا جس پر اس کی نہ صرف نظر ٹکی ہوئی تھی بلکہ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھا لیا تھا۔
    ”پتا نہیں، ساتھ یہ لفافہ آیا تھا۔”
    سلطان نے ایک بند لفافہ اس کی طرف بڑھایا زینی نے پھول رکھتے ہوئے بے حد دلچسپی سے اس لفافے کو کھولا۔ اندر ایک چھوٹے سے کارڈ پر صرف دو لفظ لکھے تھے۔
    ”For Zaini”
    ایک لمحہ کے لئے زینی کا ہاتھ کپکپایا۔ یہ زینی کو پھول بھیجنے والا کون تھا؟ کون تھا جو نہ صرف اس کا نام جانتا تھا، بلکہ اس کی پسند سے بھی واقف تھا۔ ذہن کی اسکرین پر ابھرنے والا چہرہ ایک ہی تھا، شیراز کا چہرہ مگر وہ ہینڈ رائٹنگ شیراز کی ہینڈ رائٹنگ نہیں تھی۔
    وہ چند لمحے خالی خالی نظروں سے اس کارڈ کو دیکھتی رہی۔ پھر اس نے کارڈ کو دوبارہ لفافے کے اندر رکھ دیا اور اسے ایک طرف پھینک دیا۔ وہ خوش فہمیوں کے جال سے آزاد ہو چکی تھی۔
    اپنے جوتے اتار کر وہ صوفے پر بیٹھ کر سگریٹ پینے لگی۔ سلطان اسے اخبارات میں آنے والے ریویوز پڑھ کر سنا رہا تھا جو اس کی فلم کے متعلق تھے۔ زینی بے حد سنجیدگی سے ان ریویوز کو سنتی رہی۔ اسے کسی تنقید یا تعریف میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن سلطان کو تھی وہ باقاعدگی سے اس کے بارے میں کسی بھی اخبار میں آنے والی ہر خبر ہر تبصرے کو اس تک پہنچاتا۔
    اور زینی کا رد عمل اسے حیران کرتا یہ فلم انڈسٹری کی پہلی ہیروئن تھی جسے اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ لوگ اور اخبار والے اس کے بارے میں کیا کہہ رہے تھے۔
    زینی کے ساتھ گزرنے والا ہر دن اسے زینی کے کسی نئے رخ سے آشنا کرتا تھا وہ اس کے گھر کے افراد سے واقف تھا۔ ان کی زندگیوں کے بارے میں جانتا تھا مگر جس ایک لڑکی کے ساتھ وہ دن رات گزار رہا تھا وہ کسی بھید کی طرح تھی اس کے لئے، فلم انڈسٹری میں وہ کیوں آئی تھی؟ یہ سلطان جانتا تھا۔
    پیسہ کمانے کے لئے۔




    مگر وہ پیسہ کس لیے کما رہی تھی۔ یہ سلطان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ اس نے زینی کو کبھی اپنے پیسے اپنے زیورات اپنی قیمتی چیزوں کو کسی لاکر کسی تالے میں رکھتے نہیں دیکھا تھا۔ وہ باہر پڑی ہوتیں۔ ڈریسنگ ٹیبل پر، بیڈ کی درازوں میں۔ بیڈ کی سائیڈ ٹیبلز پر، لیکن باہر… سامنے دعوت عام دیتے ہوئے… سلطان اس کے زیورات اور پیسے کو سنبھالتے سنبھالتے تنگ آجاتا۔ لیکن ہر روز اس کا کسی نہ کسی سیٹ کا کچھ نہ کچھ گم ہوتا رہتا۔ اور یہ صرف اور صرف زینی کی لاپروائی کی وجہ سے ہوتا تھا۔ لیکن سلطان کو حیرت ہوتی تھی کبھی کسی رقم، کسی زیور، کسی قیمتی چیز کے گم ہونے پر اس نے زینی کو پریشان نہیں دیکھا تھا، مجال تھی کہ اس کے ماتھے پر ایک سلوٹ تک آجاتی، یوں لگتا جیسے اسے پروا ہی نہیں تھی اس کی کیا چیز کھو رہی ہے۔
    ”جب پیسے کو حفاظت سے نہیں رکھنا تو اسے حاصل کرنے کے لئے ہلکان کیوں ہو رہی ہیں پری جی؟”
    سلطان نے اس دن جھنجھلا کر اس کے ایک سیٹ پر شوٹنگ کے دوران کہا تھا زینی کا پرس گم ہو گیا تھا اور اس میں صبح ہی سلطان نے بینک سے ایک چیک کیش کروا کر پچاس ہزار رکھے تھے۔
    ”پیسے کی ضرورت ہے مجھے، اس سے محبت نہیں۔” وہ زینی کے جواب پر بول نہیں سکا تھا۔
    ”اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی چیزیں کھوتا پھرے؟” سلطان نے کچھ دیر کے بعد خفگی سے کہا۔
    ”جو کھویا ہے میں نے، وہ اگر گنوا دوں تمہیں تو ان کے سامنے یہ ساری چیزیں کچھ لگیں ہی نا۔”
    اس نے ہنس کر سلطان سے کہا تھا۔
    سلطان کی سمجھ میں نہیں آیا وہ اس سے کیا کہے۔ وہ سننے اور سمجھنے والی شے نہیں تھی۔ وہ پری زاد تھی۔ اور وہ، وہ کرتی تھی جو اس کے دل میں آتا تھا۔
    پہلی فلم کی کامیابی کے بعد اس کے سامنے آفرز کے انبار لگ گئے تھے اور زینی نے وہی کیا تھا جو اس صورت حال میں کوئی بھی ایکٹریس کرتی اس نے 25 فلمیں سائن کر لی تھیں۔ فلم انڈسٹری کے ہر بڑے چھوٹے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کی فلم اس نے سائن کی تھی۔
    تبریز پاشا اس پر بڑا جزبز ہوا تھا۔ وہ اگلے پانچ سالوں تک زینی کو صرف اپنی فلموں میں کام کرتے دیکھنا چاہتا تھا اور وہ بار بار زینی کو یہ بات جتانا نہیں بھولتا تھا کہ زینی کو فلم انڈسٹری میں اس کی فلم کی وجہ سے کامیابی ملی تھی۔ اس پر سب سے زیادہ ”حق” اس کا تھا۔ مگر وہ بہر حال زینی پر پہرے نہیں لگا سکتا تھا۔
    اس نے فلم انڈسٹری کی ہر ہیروئن کو ایک ہٹ فلم کے بعد ایگریمنٹ توڑتے پایا تھا اور و ہ جانتا تھا کہ زینی بھی یہی کرے گی، کامیابی سیلاب کی مانند ہوتی ہے اس کے سامنے بند باندھنے والا احمق ہوتا ہے اور تبریز پاشا بہر حال احمق نہیں تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا اسے ٹھوکر مارنے کے لئے زینی کو کوئی اور زینہ مل جائے اور وہ جانتا تھا کہ اس وقت انڈسٹری کا ہر پروڈیوسر زینی کے لئے سیڑھی کا پائیدان بننے کا خواہش مند تھا۔
    اور زینی کے اس طرح دھڑا دھڑ فلمیں سائن کرنے پر جزبز ہونے والا وہ اکیلا نہیں تھا۔ سلطان نے بھی زینی کو بے حد روکنے کی کوشش کی تھی۔
    اس چھوٹی فلم انڈسٹری میں سال میں دو چار فلموں سے زیادہ فلموں کے ہٹ ہونے کا امکان کم تھا اور پچیس فلموں میں سے بیس فلموں کے فلاپ ہونے کا مطلب ایک نئی ہیروئن کے لئے کیا تھا۔ یہ سلطان جانتا تھا زینی نہیں۔ لیکن زینی اس معاملے میں اس کی بات سننے پر تیار نہیں تھی۔ مجبوراً سلطان نے اسے ان فلموں کو سائن کرنے دیا مگر زینی کو ڈیٹس دینے کے سلسلے میں اس نے بے حد ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان میں سے بہت سے پروڈیوسرز کو دوسرے اور تیسرے سال کی ڈیٹس دیں۔
    ان میں سے کچھ پرانے پروڈیوسرز نے اس پر کچھ ہنگامہ ضرور کیا۔ مگر نئے پروڈیوسر جو صرف ایک فلم کے پروڈیوسر کے طور پر اپنا نام اور ہیروئن کے ساتھ تصویر دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ تھوڑی سی چوں چرا کے بعد ان ڈیٹس پر رضا مند ہو گئے تھے۔
    پہلے سال میں پری زاد کی صرف دس فلمیں سیٹ پر تھیں اور ان میں سے کسی فلم میں سفیر اس کے ساتھ نہیں تھا۔ پہلے سفیر لوگوں کو پری زاد کو اپنے ساتھ کاسٹ کرنے سے منع کرتا تھا۔ اب یہ کام پری زاد نے کیا تھا۔ اس نے ہر پروڈیوسر سے ہیرو کا نام تبدیل کروا کر فلم سائن کی تھی۔ اور سلطان اس پر بھی خوش نہیں تھا۔
    سفیر کے علاوہ باقی سارے ہیرو سیکنڈ لیڈ سمجھے جاتے تھے اور سیکنڈ لیڈ ایکٹرز کے ساتھ ہیروئن کے طور پر فلم کرنا سلطان کے نزدیک پروفیشنل خود کشی تھی اور سلطان خائف تھا کہ جیسے ہی اس کی ابتدائی کچھ فلمیں فلاپ ہوئیں پروڈیوسر نام کے پرندے اس کی دیواروں سے غائب ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اس وقت اس کو سفیر کے ساتھ فلم کی ضرورت پڑتی اور سلطان جانتا تھا کہ سفیر جیسا منتقم مزاج آدمی اس وقت پری زاد کے ساتھ کبھی فلم نہ کرتا۔
    پری زاد اس وقت گرتی ہوئی دیوار ہوتی اور سفیر گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا دینے کی شہرت نہیں رکھتا تھا۔ خاص طور پر اس صورت حال میں جب ہر پروڈیوسر سفیر کو یہ بتاتا کہ وہ اسے فلم سے اس لیے کٹ کر رہا تھا کہ پری زاد اس کے ساتھ اس کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتی۔ سفیر یہ سب کچھ بھولنے والا نہیں تھا اور سفیر ہی کیا اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہ سب کچھ نہیں بھولتا۔ مگر پری زاد کو سفیر سے کتنی چڑ تھی۔ یہ سلطان کو پتہ نہیں تھا اس کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے کیرئیر کی دو بڑی غلطیاں ایک ہی وقت میں کر رہی تھی اور ایک ہی وقت میں دو غلطیاں بہت تھیں، سلطان کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ ”بہت” زینی کے لئے ”بہت” نہیں تھیں۔
    ”میں انور حبیب کی ڈائریکشن میں کام نہیں کروں گی۔ تم صبح اخبار میں میرا بیان لگوا دو۔”
    وہ اس وقت گاڑی میں تبریز پاشا کے گھر ہونے والی ایک فلمی پارٹی سے واپس آرہے تھے جب راستے میں زینی نے سلطان کے سر پر بے حد آرام سے ایک اور بم پھوڑا۔
    ****




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۴

    سر جھکائے اس نے فرش پر نظر آنے والے پیروں کو باری باری دیکھنا شروع کیا۔ نکاح خواں، ایجاب وقبول کی عبارت سے پہلے کے چند جملے ادا کر رہا تھا۔ اس کے اندر جیسے لاوا ابل پڑنے کو تیار تھا۔ وہ سارے ان لوگوں کے پاؤں تھے جو اس کے وجود کو سیڑھی بنا کر اوپر جانا چاہتے تھے۔ اس کا باپ، ماں، بہنیں۔ چند لمحوں کے لیے اسے لگا وہ سارے پیر اس کے جسم کے اوپر سے گزر رہے تھے۔ ہاتھیوں کے کسی جھنڈ کی طرح اسے روندتے رگیدتے ہوئے، چند لمحوں کے لیے اسے واقعی اپنا وجود بے حد کچلا اور مسلا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے جیسے گہرا سانس لے کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
    آخر وہ کیوں ان لوگوں کے لیے سیڑھی بنے، انہیں اپنے اوپر سے گزرنے دے؟ اس نے سوچا۔ لیکن وہ کر کیا سکتی تھی۔ اس کے ہاتھ کٹے ہوئے تھے۔
    پھر اسے یک دم کسی کا خیال آیا۔ خوف کی ایک لہر سی اس کے جسم کے اندر سے گزری۔
    ”تم نے اگر ہاں کی تو میں خود کو گالی مار لوں گا۔ تمہارے گھر سے تمہاری بارات جائے گی تو میرے گھر سے میرا جنازہ۔”
    اس کے کانوں میں اس کی دھمکی گونجی، اسے یقین تھا، وہ جو کہتا تھا کر گزرتا تھا۔ وہ یہ بھی جانتی تھی۔ وہ اس وقت ریوالور لے کر وہیں کہیں آس پاس ہو گا۔ وہ ”ہاں” کہتی، نکاح خواں باہر جا کر اعلان کرتا اور اس کے بعد…
    میک اپ سے لپے پُتے چہرے پر بھی اسے پسینے کے قطرے نمودار ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اسے باہر بیٹھے اپنے سے بائیس سال بڑے بوڑھے بے حد معمولی صورت کے اس ”امیر آدمی” سے شدید نفرت محسوس ہوئی۔ جوشادی کے نام پر اس کا ”سودا” کرنے آیا تھا۔ اسے اتنی ہی نفرت اس کمرے میں موجود اپنے ”خونی رشتوں” سے ہوئی جن کی مرضی اور خوشی سے وہ سودا طے پایا تھا۔
    ساری دنیا میں صرف ایک ہی شخص تھا جو اس سے محبت کرتا تھا اور وہ شخص اس شادی کی صورت میں آ پنی جان دینے کو تیار تھا۔ اسے وہ سارے وعدے یاد آئے جو وہ چار سال سے ایک دوسرے کے ساتھ کر رہے تھے۔ سارے منصوبے، سارے خواب۔ اور اب نئی بھیانک تعبیر ان کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی تھی۔ کہ وہ اسے بھی ایک خواب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک ڈراؤنا خواب۔
    مووی کیمرے کی تیز روشنی جیسے اس کے چہرے کو جلا رہی تھی۔ کمرہ اس وقت لوگوں سے بری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس کے چچا،ماموں، چچیاں، ممانیاں، محلے کی چند دوسری عورتیں ہر ایک وہاں جیسے کوئی تماشا دیکھنے کے لیے کھڑا تھا یا کم از کم وہ جس ذہنی حالت میں تھی اس کو ایسا ہی لگ رہاتھا۔
    نکاح خواں اب بالآخر اس سے وہ سوال کررہا تھا جس کے جواب کی تیاری وہ پچھلے ایک ہفتہ سے کر رہی تھی، کمرے میں یک دم خاموشی چھا گئی تھی۔
    ٭٭٭





    ”آج بہت جلدی گھر آگئیں… کالج تو اتنی جلدی بند نہیں ہوتا۔” ربیعہ نے دروازہ کھولتے ہوئے زینی سے کہا۔
    ”ہاں، بس آگئی۔” اس نے بے حد مبہم جواب دیا اور پھر اندر کمرے کی طرف جانے کے بجائے صحن میں بچھی چار پائی کی طرف آگئی۔
    ”سونے لگی ہو؟” ربیعہ نے اسے چار پائی پر لیٹتے ہوئے دیکھ کر حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” زینی نے اس بار بھی اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ پھر چار پائی پر چت لیٹ گئی۔ ربیعہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں اس کو دیکھتی رہی۔ زینی چار پائی پر چت لیٹی دیوار پر چڑھی انگور کی بیل کو دیکھ رہی تھی۔
    ”کیا سوچ رہی ہو؟” ربیعہ اس کے پاس آگئی۔
    ”کچھ نہیں۔” اس نے ربیعہ کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔
    ”رمشہ سے ملیں؟” ربیعہ اس کے پاس چار پائی پر بیٹھ گئی۔
    ”ہاں!” وہ بد ستور انگور کی بیل کو دیکھتے ہوئے ربیعہ کے سوالوں کے جواب دے رہی تھی۔
    ”تمہاری اتنی لمبی غیر حاضری سے تو بہت پریشان ہوئی ہو گی وہ۔”
    ”نہیں۔ وہ خود بھی چھٹی پر تھی۔ اسلام آباد گئی ہوئی تھی ایک ہفتہ پہلے دوبارہ کالج جوائن کیا ہے اس نے ویسے بھی اب تو فارغ کرنے والے ہیں ایک دو دن میں۔ ساری کلاسز نہیں ہو رہی ہیں اب۔”
    ”اس کو پتا ہے تمہارے اور شیراز کے بارے میں؟” ربیعہ نے کچھ تامل کے بعد اس سے پوچھا۔
    ”پورے کالج کو پتا ہے میری منگنی ٹوٹنے کے بارے میں۔ محلے کی جو لڑکیاں کالج پڑھتی ہیں، انہوں نے سب کچھ بتایا ہوا ہے وہاں۔ رمشہ کو بھی کسی نے بتا دیا تھا۔”
    ”کیا بتا دیا تھا؟”
    ”یہی کہ میرے منگیتر نے مجھے رنگے ہاتھوں کسی لڑکے کے ساتھ گلی میں پکڑا ہے۔”
    ربیعہ کا دل کٹا۔ اس نے ایسی لاتعلقی سے کہا تھا جیسے وہ اپنے بارے میں نہیں کسی دوسرے کے بارے میں بات کر رہی ہو۔
    ”کسی کو یقین نہیں آیا ہو گا کالج میں ان سب باتوں پر اور رمشہ کو تو بالکل بھی نہیں۔ میں جانتی ہوں سب وہاں تمہیں کتنا پسند کرتے ہیں اور چار سال سے دیکھ رہے ہیں سب تمہیں وہاں، اس بکواس پر تو کسی نے یقین ہی نہیں کیا ہو گا۔”
    ربیعہ کے لہجے میں بے حد اعتماد تھا۔ زینی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اسی طرح خاموشی سے انگور کی بیل کی کو دیکھتی رہی جس پر صحن سے ایک چڑیا اڑ کر جا بیٹھی تھی۔ شاید اسے وہاں کوئی کیڑا نظر آیا تھا اور اب وہ پتوں میں اس کیڑے کو تلاش کرنے کے لئے چونچیں مارنے میں مصروف تھی۔ ربیعہ کچھ دیر اس کے جواب کی منتظر رہی۔ لیکن جب اس نے کچھ نہیں کہا تو ربیعہ نے جیسے قدرے بے صبری کے ساتھ اس سے دوبارہ پوچھا۔
    ”کیا کہا سب نے؟”
    ”کچھ نہیں۔” اس نے اسی لاتعلقی سے کہا۔
    ربیعہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ ”کچھ بھی نہیں؟ کسی نے کچھ بھی نہیں کہا؟”
    زینی کبھی پریشان کالج چلی جاتی تھی تو سو لوگ اس کو تسلیاں دیتے پھرتے تھے۔ وہ بھی جو اس کو جانتے تک نہیں ہوتے تھے اور وہ گھر آکر بڑے فخریہ انداز میں ربیعہ کو یہ سب بتاتی تھی اور اب اس کی منگنی ٹوٹ گئی تھی اور کسی نے کچھ نہیں کہا۔ یہ ناقابل یقین تھا۔ ان چار سالوں کے دوران پورے کالج کو زینی کی صرف منگنی کے بارے میں ہی نہیں یہ تک پتا تھا کہ اس کا منگیتر بے حد قابل ہے اور سول سروس کے امتحان میں بیٹھنے سے لے کر اسے کوالیفائی کرنے تک سب کچھ کالج میں پہنچتا رہا تھا۔ ان ساری معلومات کو پہنچانے میں زینی کا نہیں محلے کی لڑکیوں کا ہاتھ تھا جو زینی کے کالج میں ہی اس کی جونیئر یا سینئر تھیں… اس کی منگنی کا کالج کی لڑکیوں کو پتا نہ ہوتا تو بہت سے رشتے زینی کے لیے کالج سے ہی آتے۔ لڑکیاں اس کے حسن پر کچھ اسی طرح فریفتہ تھیں وہاں۔
    ”زبان سے تو مجھ سے کسی نے کچھ نہیں کہا… نظروں سے بہت کچھ کہا۔” زینی ابھی بھی اس چڑیا کو دیکھ رہی تھی ”لڑکیاں مجھے دیکھ کر سرگوشیوں میں باتیں کرتی رہیں، کچھ ہنستی رہیں، کچھ گھورتی رہیں یوں جیسے منگنی ٹوٹنے کے بعد میرے سر پر سینگ نکل آئے ہوں۔”
    وہ اب بھی اس طرح بات کر رہی تھی جیسے کسی اور کی بات کر رہی ہو۔ ربیعہ کو دھچکا لگا۔
    ”رمشہ نے توکچھ کہا ہو گا تم سے؟” ربیعہ نے جیسے کسی آس میں پوچھا۔
    ”ہاں… وہ پریشان تھی۔ لڑکیاں میری عدم موجودگی میں اس سے آکر اس لڑکے کے بارے میں پوچھتی رہیں، جس کے ساتھ شیراز نے مجھے پکڑا تھا۔ ان میں سے کچھ رمشہ کو کالج کے گیٹ پر کھڑے ہونے والے کچھ لڑکوں کے نام اور حلیے بتاتی رہیں جو میرے لیے وہاں کھڑے ہوتے تھے۔ ان کا خیال تھا میں ان ہی میں سے کسی لڑکے کے ساتھ انوالوڈ تھی۔
    کسی گاڑی والے امیر لڑکے کے ساتھ اس کے پیسے کے لئے، کیونکہ سب کو پتا ہے کہ میں غریب ہوں، غربت کی وجہ سے میں لالچ میں آگئی تھی۔”
    چڑیا کو ابھی تک وہ کیڑا نہیں ملا تھا وہ ایک پتے سے دوسرے پر پھدک رہی تھی۔ اس کی ہر حرکت کے ساتھ زینب کی نظریں اس کا تعاقب کر رہی تھیں۔
    ”بس سب نے یہی کہا، کسی نے کچھ اور نہیں کہا؟” ربیعہ کو جیسے شاک لگا۔
    ”نہیں۔ اور بھی بہت کچھ پوچھتی رہی تھیں لڑکیاں… یہ کہ شیراز نے مجھے اس لڑکے کے ساتھ کس حالت میں پکڑا تھا؟ کیا اس نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ یا ہم کوئی اور قابل اعتراض حرکت کر رہے تھے گلی میں؟ کچھ لڑکیوں نے رمشہ کو بتایا کہ شیراز نے مجھے گلی میں نہیں پکڑا، کسی لڑکے کے ساتھ اس کی گاڑی میں پکڑا تھا۔ کچھ نے رمشہ سے کہا کہ شیراز نے دراصل مجھے کسی لڑکے کے ساتھ کالج کے پاس کسی چھوٹے ہوٹل کے کمرے میں پکڑا تھا۔ وہ ہوٹل کا نام جاننا چاہتی تھیں۔ کچھ نے کہا کہ شیراز کو اکیڈمی میں اس لڑکے نے اپنے ساتھ میرے کچھ بلو پرنٹس بھیجے تھے۔ جن کو صرف شیراز نے نہیں وہاں پوری اکیڈمی نے دیکھا اور شیراز کی بے حد رسوائی ہوئی۔ کچھ نے رمشہ کو قسم کھا کر بتایا کہ انہوں نے خود کئی بار مجھے کالج کے باہر مختلف لڑکوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر جاتے دیکھا تھا بعض نے بتایا کہ میں گیٹ پر کسی لڑکے کو دیکھ کر مسکراتی تھی اور اشارے کرتی تھی۔”
    ربیعہ کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ اس کا جسم کانپنے لگا تھا۔ وہ پچھتا رہی تھی۔ اس نے کیوں صبح اسے کالج جانے سے نہیں روکا تھا۔
    ”اللہ ان لوگوں کو، ان بہتان لگانے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔” ربیعہ کو بے اختیار رونا آگیا۔
    ”اللہ سب کا رب ہے۔ وہ سب کو معاف کر دیتا ہے۔” زینی کے لہجے کی سرد مہری نے ربیعہ کو اور رلایا۔
    زینی ابھی بھی چڑیا کو دیکھ رہی تھی۔ ربیعہ نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ زینی کو دیکھا۔ وہ چارپائی کے سرہانے والی لکڑی کے فریم پر سر ٹکائے لیٹی ہوئی تھی۔ صحن میں اترتی دھوپ اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی اور اس دھوپ نے اس کے رنگ کو سنہری مائل سرخ کر دیا تھا۔ اس کے گلے اور کانوں میں کچھ نہیں تھا۔ البتہ بالوں کی بہت سی چھوٹی بڑی لٹیں اس کی گردن، پیشانی اور چہرے کے اطراف چپکی ہوئی تھیں۔ کالج کے سفید یونیفارم کی شرٹ کے کالر پر بھی اس کے بالوں کی چند چھوٹی چھوٹی لٹیں چپکی ہوئی تھیں۔ ربیعہ نے سفید رنگ کسی پر زینی سے زیادہ سجتا نہیں دیکھا تھا۔ لیکن پھر سوال یہ تھا کہ اس پر کیا نہیں سجتا تھا۔ اس کی بے حد تیکھی ناک کے اطراف میں پسینے کے بہت سے چھوٹے چھوٹے قطرے نمودار ہو رہے تھے۔ وہ قطرے اس کے ماتھے، پیشانی اور گردن پر بھی نمودار ہو رہے تھے۔ چار پائی پر اس حالت میں لیٹی وہ ربیعہ کو کوئی مومی مجسمہ لگی تھی جسے دھوپ آہستہ آہستہ پگھلا رہی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس سے نظر ہٹانا مشکل تھا۔ وہ فنا ”ہو جانے” والا حسن تھا اور وہ فنا ”کر دینے والا” حسن تھا۔
    اس کی خوب صورتی دیکھ کر ربیعہ کو اور رونا آیا مگر زینی ارد گرد سے بے خبر اس بیل پر اسی چڑیا کو دیکھنے میں محو تھی۔ آخر اسے رزق کیوں نہیں مل رہا تھا؟




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۳

    زندگی کے آخری لمحوں میں اس نے ایک بار پھر اپنی موت کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی، وہ ناکام رہی۔ وہ اس کے پیروں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھ سکی تھی۔ فرش پر چلتے پھرتے اس کے پیر۔ وہ وارڈ روب کی طرف جا رہا تھا۔ بلند آواز میں کچھ کہتے ہوئے۔ کیا کہہ رہا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اس کے ذہن نے ایک دم الفاظ کا مفہوم سمجھنا چھوڑ دیا تھا۔ ہر آواز اس کے لیے شور بن گئی تھی۔ ایک بے معنی، بے ہنگم، بے مقصد شور۔
    وہ فرش پر اس کے پیروں کے قریب وارڈ روب میں موجود کپڑوں کو گرتے دیکھ رہی تھی۔ وہ اب بھی کچھ کہہ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنے بیڈ سائیڈ ٹیبل کی دراز کی طرف اسے جاتے دیکھا۔ وہ کمرے میں ہر طرف کسی چیز کو تلاش کر رہا تھا۔ زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ جانتی تھی کہ اسے کس شے کی تلاش تھی۔ پیسے کی اور اس تلاش میں شاید اسے یہ احساس بھی نہیں رہا تھا کہ کچھ دیر پہلے اس نے جسے بری طرح زدو کوب کیا تھا۔ وہ مر رہی تھی یا مرنے والی تھی۔ ورنہ آخر یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ اسے مرنے دیتا۔ آخر وہ اس کا شوہر تھا۔ آخر وہ اس سے محبت کرتا تھا۔ شوہر؟ محبت؟ محبت؟ شوہر؟
    اس کا ذہن اب جیسے کسی شے کو، کسی لفظ کو کوئی مفہوم دینے میں ناکام ہو رہا تھا۔ اوندھے منہ فرش پر گری وہ بے حد کوشش کے باوجود بھی کراہ نہیں پا رہی تھی۔ بے حد کوشش کے باوجود بھی اپنے وجود کو حرکت دینے میں ناکام ہو رہی تھی۔ صرف اس کا سانس تھا جو ابھی چل رہا تھا۔ کیوں چل رہا تھا؟ کیا رہ گیا تھا؟
    موت اس کے کمرے کے فرش پر ابھی بھی ادھر سے ادھر چل رہی تھی۔ اس نے بے یقینی سے ایک آخری بار جیسے سوچنے کی کوشش کی تو کیا اتنے سالوں سے وہ اپنی موت سے محبت میں مبتلا تھی؟ وہ اتنے سالوں سے کیا وہ اپنے موت کے ساتھ ایک ہی گھر میں، ایک ہی کمرے میں ،ایک ہی بستر پر رہتی آرہی تھی؟
    زرّی کو آخری سانس لینے تک یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اس شخص کے ہاتھوں مر رہی تھی جو اس کی زندگی تھا۔
    ٭٭٭





    اس نے بے یقینی سے سامنے بیٹھے وکیل کو دیکھا۔ پھر اپنے کپکپاتے ہاتھوں کو مٹھیوں کی صورت میں بھینچ لیا۔ا سے شرمندگی ہو رہی تھی۔ وکیل اس کی حالت دیکھ کر کیا سمجھ رہا ہو گا۔
    وہ کچھ سمجھ رہا تھا یا نہیں۔ بہر حال اس وقت اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا۔ یہ صرف ٹیبل کے دوسری طرف بیٹھے سر سے پاؤں تک بری طرح لرزتے کانپتے اس تیس سالہ نوجوان کے لیے شاک تھا مگر خود اس وکیل کے پچیس سالہ کیرئیر میں یہ سب کچھ بہت بار ہو چکا تھا۔
    ”دوبارہ پڑھ کر سنا سکتے ہیں؟”
    اس نے اپنی زبان اور جسم کی لرزش پرقابو پاتے ہوئے کہا۔ وکیل اسے دیکھ کر مسکرایا۔ پھر بے حد میکانکی انداز میں ایک بار پھر وہی سب کچھ دہرانے لگا۔
    اس نے پلکیں جھپکائے بغیر، دم سادھے پوری توجہ سے ان دس لائنز کو سنا۔ وہ تسلی کرنا چاہتا تھا کہ اسے سننے میں کچھ غلطی تو نہیں ہوئی۔ پچھلے ہفتے بھی اسی جگہ اس وکیل کے آفس میں بیٹھے اس کو اس نے پانچ بار سنا تھا۔ اگر وکیل کے ساتھ اس کی اپائنمنٹ ختم نہ ہو جاتی تو شاید وہ اس وکیل کو پانچ بار اور وہی کاغذ اور وہی چند لائنیں پڑھنے کے لیے کہتا۔
    اس نے پورا ویک اینڈ ڈھنگ سے کچھ کھائے پیئے بغیر گزار دیا تھا۔ جمعہ کو اس کی وکیل سے ملاقات ہوئی تھی۔ آج پیر تھا۔ اس نے زندگی میں ہمیشہ ویک اینڈ کے آنے کا انتظار کیا تھا۔ کبھی اس طرح اس کے گزرنے کا نہیں جمعے اور ہفتے کی رات کو وہ سو نہیں سکا۔ اس کی نیند یکدم پتا نہیں کہاں غائب ہو گئی تھی۔ اور اتوار کی رات کو وہ نیند میں کوئی بے حد برا خواب دیکھ کر ایک بار پھر جاگ گیا تھا۔ پھر باقی کی رات اس نے بستر میں بیٹھے کھڑکی کو گھورنے یا کمرے کے چکر لگاتے گزار دی۔
    پیر کی صبح وہ اس لاء فرم کے کھلنے سے بھی پہلے جا کر وہاں بیٹھ گیا تھا جس کے ساتھ وہ وکیل منسلک تھا۔
    اس کی اپوائنٹ منٹ ساڑھے گیارہ بجے تھی۔ وہ تب تک سخت سردی میں پارکنگ لاٹ میں بیٹھا رہا۔ یوں جیسے اسے ڈر ہو کہ وہ وہاں سے ہٹا تو یہ سب کچھ کسی خواب کی طرح غائب ہو جائے گا۔
    اور اب وہ دس منٹ سے وہاں بیٹھا ہوا تھا۔
    ”آپ اور کافی لیں گے؟” وکیل نے جیسے اس کاغذ کو ایک بار پھر پڑھنے سے بچنے کے لیے کہا۔
    ”ہاں۔” اس نے اپنے سامنے پڑے خالی ڈسپوزبل کپ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    وکیل نے خود اٹھنے کے بجائے انٹر کام کا ریسیور اٹھا کر اپنی سیکرٹری کو اندر بلایا۔ وہ کمرے کے ایک کونے میں ہی پڑے کافی میکر سے کافی کے دو کپ ان دونوں کے سامنے رکھ گئی۔ وکیل نے ایک سائیڈ ٹیبل پر پڑا کو کونٹ کو کیز کا چھوٹا سا جار اٹھا کر اس کا ڈھکن کھولتے ہوئے اس نوجوان کے آگے کیا۔ اس نے ایک دفعہ اپنے دائیں ہاتھ کو پوری قوت سے کھولنے اور دوبارہ بھینچنے کے بعد جار میں ہاتھ ڈال کر ایک کوکی نکال لی۔ وکیل نے خود بھی ایک کوکی نکالتے ہوئے جار کو دوبارہ بند کر کے اسی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
    سامنے بیٹھے نوجوان نے کوکی کا آدھے سے زیادہ حصہ دانتوں سے کاٹ کر کافی کا ایک گھونٹ لیا اور ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے وکیل سے کہا۔
    ”آپ اس کاغذ کو ایک بارپھر پڑھیں۔” وکیل کا دل چاہا، وہ اب اپنا سر پیٹ لے۔
    ٭٭٭
    ”یہ کیا ہے؟” شیراز نے حیرانی سے اس قیمتی پرفیوم کودیکھا جو زینب اس کی طرف بڑھا رہی تھی۔
    وہ اگلے دن اکیڈمی جانے والا تھا اور اس دن اسے لے کر باہر کھانا کھلانے آیا تھا۔ کوئی دوسری بیٹی ہوتی تو ضیا اسے کبھی اس طرح منگیتر کے ساتھ باہر جانے نہ دیتے مگر یہ زینی تھی اور اس کی ضد پر انہوں نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ وہ زندگی میں پہلی بار شیراز کے ساتھ اکیلی کہیں باہر جا رہی تھی۔
    ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے بعد وہ اسے ایک پارک میں لے آیا تھا۔ پارک کی بینچ پر بیٹھے باتیں کرتے ہوئے زینب نے اپنے بیگ سے وہ پرفیوم نکال کر شیراز کے ہاتھ میں تھمایا تھا۔
    ”آپ کے لیے ہے یہ۔” زینب نے مسکراتے ہوئے شیراز سے کہا۔ ”آپ کو بہت پسند تھا نا۔”
    وہ چار چھ ماہ پہلے کسی دوست کے گھر سے وہ پرفیوم لگا کر زینب کے گھر آیا تھا۔
    ”ارے! میں کہاں اس طرح کے مہنگے پرفیوم خرید سکتا ہوں۔ یہ تو ایک دوست کے گھر گیا تھا وہیں استعمال کر لیا۔”
    اس نے تب زینب کے پوچھنے پر بتایا تھا۔ وہ شرٹ اس نے اگلے چند ہفتے دوبارہ نہیں پہنی بلکہ اسے اپنی دوسری شرٹس کے ساتھ رکھ دیا جن میں سے اسی پرفیوم کی مہک آنے لگی تھی اور وہ اگلے کئی دن ان دوسری شرٹس کو استعمال کرتا رہا۔ زینب کو اس نے ہنسی ہنسی میں یہ بات بتائی تھی۔
    ”کتنے کا ہو گا یہ پرفیوم؟” زینب نے تب بے حد سنجیدگی سے اس سے پوچھا۔
    ”دو ڈھائی ہزار کا۔” شیراز نے بتایا پھر اس نے ایک ہلکا سا قہقہہ لگا کر کہا تھا۔ ”یہ کوئی شرٹ، رومال اور گھڑی نہیں ہے زینب بی بی! جو تم مجھے فوراً لا دو گی۔”
    وہ جانتا تھا۔ زینی اس سے اس پرفیوم کی قیمت کیوں پوچھ رہی تھی۔ زینب نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ دو ڈھائی ہزار واقعی معمولی رقم نہیں تھی۔
    اور اب اتنے ماہ کے بعد ہیوگو باس شیراز کے ہاتھوں میں تھا۔
    ”لیکن اتنے پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟” شیراز اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔
    ”یہ مت پوچھیں۔” زینب نے بے اختیار کہا۔
    ”پھر بھی۔۔۔۔” شیراز نے اصرار کیا۔
    ”میں نے کہا نا۔ یہ مت پوچھیں۔” وہ اسے یہ نہیں بتانا چاہتی تھی کہ اس نے پچھلے کئی ماہ سے اپنے لئے کپڑوں کا ایک جوڑا بھی نہیں بنوایا تھا۔ وہ ضیا سے جیب خرچ کے طور پر ملنے والے روپے تک جمع کرتی رہی تھی۔ اپنے چھوٹے موٹے اخراجات اور کالج آنے جانے کا کرایہ وہ ٹیوشن سے نکال لیتی تھی اور اتنے ماہ میں بہت کم ایسا ہوا تھا کہ اس نے کالج میں کینٹین سے کچھ کھایا تھا۔ اگر شیراز ان مہینوں میں وقتاً فوقتاً اس سے ادھار رقم نہ لیتا رہا ہوتا تو زینب بہت پہلے اسے وہ پرفیوم خرید کر دے دیتی۔
    شیراز اب پیکنگ کھول کر قدرے جوش کے عالم میں وہ پرفیوم لگا رہا تھا۔ زینی اس کے چہرے پر پھیلی خوشی کو دیکھ رہی تھی۔ اسے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے تھا کہ وہ خوش تھا۔ اس کے دیے گئے کسی تحفے نے اسے مسرور کیا تھا۔
    ”تم بہت عجیب ہو زینی!” اس نے پرفیوم دوبارہ ڈبے میں رکھتے ہوئے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا۔
    ”کیوں عجیب کیوں ہوں؟” زینی نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ”محبت میں اس طرح تو مرد کرتے ہیں کہ عورت کی زبان پر کسی چیز کا مطالبہ آئے اور وہ سرد ھڑ کی بازی لگا کر اس کو پورا کر دیں۔ ایسی عورتیں نہیں د یکھیں جو یہ کرتی ہوں۔” شیراز اس بار بے حد سنجیدگی کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔
    ”محبت میں یہ کہاں لکھا ہے ۔ کون کس کے لیے کیا کرے گا اور کس کو کس کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ بس یہ دل کی بات ہے۔ میں وہ کرتی ہوں جو میرا دل مجھ سے کہتا ہے اور آپ کو اس خوشی کا اندازہ تک نہیں ہو سکتا جو مجھے ہوتی ہے جب میں آپ کے لیے کچھ کرتی ہوں۔ آپ کے لیے، نہیں کرنا تو پھر اور کس کے لیے کرنا ہے۔”
    شیراز کے ہاتھ سے پرفیوم لے کر اس نے بڑے قرینے اور سلیقے کے ساتھ پیک کیا۔ شیراز نے اسے قدرے بے ڈھنگے انداز میں پیک کیا تھا۔
    ”میں تمہارے لیے بہت کچھ کروں گا زینی! بہت کچھ تم… تم میرے گھر میں ملکہ کی طرح رہو گی۔”
    شیراز نے یک دم اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ اسے واقعی اس وقت زینی پر بے حد پیار آرہا تھا۔
    ”گھر میں ملکہ بنا کر چاہے نہ رکھیں مگر دل میں کنیز بن کر ضرور رہنے دیں۔”زینی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”ضرور کنیز بنا کر رکھتا اگر تم اتنی خوبصورت نہ ہوتیں۔” وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا۔ ”لیکن اب اتنی خوب صورت لڑکی کو کوئی کنیز تھوڑی بناتا ہے۔”
    ”میں بہت اداس ہو جاؤں گی آپ کے بغیر۔” زینی نے یک دم اداس ہوتے ہوئے کہا۔ اسے یاد آگیا تھا کہ وہ اگلے دن اکیڈمی جا رہا تھا۔
    ”اداس ہونے والی کیا بات ہے۔ میں دو ہفتے میں ایک بار تو آہی جایا کروں گا۔” شیراز نے اسے تسلی دی۔




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۲

    شوکت زماں اسے پچھلے پندرہ منٹ سے گالیاں دے رہا تھا۔ پہلے پنجابی پھر اردو، اب انگریزی میں۔ وہ کچن میں مصروف تھا۔ لیکن شوکت زماں کی آواز اس تک بخوبی پہنچ رہی تھی۔ شوکت زماں کے کھانے کا وقت ہو رہا تھا۔ وہ ٹرے میں سوپ کے پیالے رکھنے لگا۔ لاؤنج عبور کر کے کمرے کے کھلے دروازے سے اندر آیا تو وہ اسے فرینچ میں گالیاں دینا شروع کر چکا تھا۔ اس کا مطلب تھا۔ وہ اب جلد ہی چپ ہونے والا تھا۔ اس کی فرنیچ اچھی تھی نہ اس میں اس کی گالیوں کا ذخیرہ الفاظ۔
    شوکت زماں اب خاموش ہو کر ہانپ رہا تھا یا ہانپنے کی وجہ سے خاموش ہو گیا تھا۔ اس نے ٹرے صوفے کے پاس پڑی سینٹر ٹیبل پر رکھی اور اس میں سے پہلا پیالہ اٹھا کر بیڈ پر اس کے پاس لے آیا۔
    ”تو آخر جاتا کیوں نہیں یہاں سے؟ کتے کی طرح میرے گھر کیوں پڑا ہوا ہے تو کیا سمجھتا ہے میں تجھے کچھ دوں گا؟ ایک پینی تک نہیں ملے گی تجھے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ تیرے دل میں کتنا لالچ ہے۔”
    گالیوں کے بعد وہ اسی طرح کی گفتگو کرتا تھا۔ اس نے حسب معمول پہلا پیالہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ شوکت زماں نے ہمیشہ کی طرح پہلا پیالہ اٹھا کر پوری قوت سے فرش پر پھینکا۔ وہ مطمئن ہو کر واپس سینٹر ٹیبل کی طرف مڑ گیا۔
    ”وصیت لکھوا دی ہے میں نے وکیل کو ہر چیز خیرات میں بانٹ دی ہے میں نے، یہ گھر، میرے گیس اسٹیشن، سپراسٹور، بینک اکاؤنٹ سب کچھ، اس گھر کا فرنیچر تک میں نے اولڈ ہوم کو دے دیا ہے۔ اس کتیا، اس کے بچوں اور تیرے لیے ایک تنکا تک نہیں چھوڑا میں نے تم سب کو بھی تو پتا چلے شوکت زماں کیا چیز ہے کیا کر سکتا ہے۔”
    دوسرا پیالہ اٹھاتے ہوئے اس نے شوکت زماں کو اردو میں کہتے سنا اس نے پچھلے جملے پنجابی میں کہے تھے۔




    وہ دوسرا پیالہ لے کر اس کے سامنے آگیا۔ اس بار پیالہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھنے کے بجائے اس نے اس پیالے کو کھڑے کھڑے شوکت زماں کی طرف بڑھایا۔ شوکت زماں نے پیالہ اس کے ہاتھوں سے لے کر پوری قوت سے سوپ اس کے سینے پر اچھال دیا اور پیالہ ایک بار پھر فرش پر پھینک دیا۔ وہ چھنا کے سے ٹوٹا۔ اس نے اپنے سوپ میں لتھڑے کپڑوں پر ایک نظر ڈالی اور مطمئن ہو کر ایک بار پھر سینٹر ٹیبل کی طرف بڑھا۔
    ”میں تم سب کو برباد کر کے رکھ دوں گا۔ پولیس کو اطلاع کروں گا تمہارے بارے میں جھوٹے مقدمے بنواؤں گا تمہارے خلاف۔ تجھے ڈی پورٹ کروا دوں گا۔ اس ملک سے یا پھر ساری عمر جیل میں گزرے گی تمہاری، تمہارا خاندان ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے گا، بھیک مانگتے پھریں گے سڑکوں پر۔ تجھے ابھی پتا نہیں شوکت زماں کیا کر سکتا ہے۔”
    شوکت زماں اب انگلش میں حلق کے بل چلا رہا تھا۔ وہ تیسرا پیالہ اٹھا کر اس کے پاس چلا آیا، شوکت زماں نے کبھی اسے فرینچ میں نہیں دھمکایا تھا۔ وہ اسے جانتا تھا اسے فرینچ نہیں آتی، وہ فرینچ میں اسے صرف گالیاں دیتا تھا کیونکہ وہاں اپنے چار سالہ قیام کے دوران فرینچ کے جو چند لفظ اس نے سیکھے تھے۔ وہ گالیاں ہی تھیں اور وہ بھی شوکت زمان کی مدد سے۔
    وہ تیسرا پیالہ لے کر اس بار شوکت زماں کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔ شوکت زماں نے پوری طاقت سے اس کے چہرے پر تھوکا۔ اس نے دائیں بازو کی شرٹ سے اسے صاف کیا، شوکت زماں نے پوری قوت سے اس کے دائیں گال پر تھپڑ مارا۔ پھر بائیں ہاتھ سے تھپڑا مارا۔ اس نے شوکت زماں کو روکنے کی کوشش کرنے کے بجائے سوپ کے پیالے کو پوری قوت سے پکڑے رکھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا۔ سوپ گر جائے پھر شوکت زماں کیا پیتا۔
    پہلا تھپڑ، دوسرا، تیسرا، چوتھا دو دائیں گال پر دو بائیں گال پر پھر داہنے کندھے پر دائیں ہاتھ کا بھر پور مکا پھر بائیں کندھے پر بائیں ہاتھ کا مکا اور اب اس کے سر کے بالوں کی باری تھی۔ شوکت زماں اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے اس کے بال کھینچ رہا تھا اور وہ سوپ کے پیالے کو سنبھالے اس Sequence کو دل میں دہرا رہا تھا جس میں شوکت زماں اس کی پٹائی کر رہا تھا۔
    شوکت زماں اب قدرے بے دم ہو کر ہانپ رہا تھا۔ اس نے اطمینان کے ساتھ سوپ کے پیالے سے پہلا چمچہ بھر کر شوکت زماں کے منہ کی طرف بڑھایا۔ شوکت زماں نے منہ کھول کر سوپ پی لیا۔ اس نے دوسرا چمچہ بڑھایا۔ اس نے وہ بھی پی لیا۔ اب اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ رہے تھے۔ وہ جانتا تھا اب شوکت زماں آگے کیا کرنے والا تھا۔ اس نے تیسرا چمچہ اس کے ہونٹوں کی طرف بڑھایا اس نے پیا آنسو اب اس کے گالوں پر بہنے لگے تھے اس نے چوتھا چمچہ بھی پیا وہ اب سسکیاں لینے لگا تھا پانچواں، چھٹا، ساتواں، آٹھواں، نواں چمچہ، دسواں چمچہ اس سوپ کے پیالے کا آخری چمچہ تھا۔
    اور شوکت زماں نے اب بیڈ سے اٹھ کر اس کے پاؤں پکڑ لیے تھے۔ وہ بلند آواز میں زار وقطار رو رہا تھا۔
    ”دیکھ لے میری بات مان لے تجھے اللہ کا واسطہ… تجھے تیری ماں کا واسطہ مجھ پر ترس کھا… رحم کر… دیکھ لے تو جو کہے گا میں کروں گا بس مجھ پر ترس کھا۔”
    شوکت زماں اب اس کی ٹانگوں سے چپکا گڑگڑاتا ہوا اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے بے حد رحم بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
    اس نے اپنی ساری زندگی میں شوکت زماں سے زیادہ ”شریف، رحم دل، بااخلاق، بامروت، اعلا ظرف، مہذب، شائستہ اور غنی” انسان نہیں دیکھا تھا۔
    ایک گہرا سانس لے کر اس نے شوکت زماں کو دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔ شوکت زماں یک دم رونا بھول گیا۔ شاک کے عالم میں کچھ دیر وہ بے حس و حرکت اس کے قدموں میں بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے اس کے پیروں سے ہاٹھ ہٹا لیے۔ مزید ایک لفظ بھی کہے بغیر وہ وہیں اس کے قدموں میں کمرے کے فرش پر کسی نوزائیدہ بچے کی طرح گھٹنے اپنے سینے تک سکیڑے کروٹ کے بل یوں فرش پر ڈھے گیا جیسے وہ مر گیا ہو۔
    تھوڑی دیر بعد اس نے بیڈ پہ کھڑے ہو کر شوکت زماں کو پھلانگا۔ ابھی اسے کمرے کا فرش صاف کرنا تھا۔ اپنے کپڑے تبدیل کرنے تھے اور رات کے کھانے کے لیے سوپ کے تین پیالے تیار کرنے تھے۔
    *****
    کرم علی نے زندگی کا پہلا سفر سترہ سال کی عمر میں ایک جعلی شناختی کارڈ اور جعلی پاسپورٹ پر مچھلیاں پکڑنے والے ایک ٹرالر پر کیا تھا۔ وہ اسی کی دہائی کے پہلے چند سالوں میں غیر قانونی طور پر کویت پہنچنے والے پہلے تین لوگوں میں سب سے بڑا تھا۔ اس کے ساتھ دوسرے لڑکوں کی عمریں پندہ سولہ سال تھیں۔ وہ ان تینوں لڑکوں میں سب سے زیادہ صحت مند بھی تھا۔ ان میں سے ایک کو جذام دوسرے کو ٹی بی جبکہ کرم علی کو صرف برص تھا۔ اس کی کمر اور پیٹ پر سفید دھبے تھے۔ لیکن کرم علی جانتا تھا کچھ عرصہ میں وہ پورے جسم پر پھیل جائیں گے۔ اور اس کے بعد کسی عرب ملک کا سفر کرنا اور وہاں پر کام حاصل کرنا بے حد دشوار ہوتا۔ عرب برص کے مریضوں سے نفرت کرتے تھے اور 80کی دہائی میں ایشیائی ممالک میں برص کا مرض بے حد عام تھا۔
    وہ اس ٹرالر پر موجود واحد ”لیگل” بندہ تھا۔ باقی کے دونوں لڑکوں کے پاس شناختی کارڈ اور پاسپورٹ نہیں تھے۔ وہ یا یہ جعلی کاغذات تیار کروا سکتے تھے یا کویت کے اس غیر قانونی سفر کے لیے ٹرالر والے کو پیسے دے سکتے تھے۔
    ان دونوں لڑکوں کی طرح کرم نے بھی ٹرالر والے کو پانچ ہزار روپے دیے تھے۔ اس میں سے پندرہ سو روپے اس نے پچھلے چار سال میں صبح کے وقت اسکول جانے سے پہلے اخبار بیچ کر، سہ پہر کو پھلوں کی ریڑھی لگا کر، شام کو سگنلز پر پھولوں کے گجرے بیچ کر اور رات کو لفافے جوڑ کر جمع کیے تھے۔ ان پندرہ سو میں کچھ رقم سردیوں میں کوئلہ بیچنے، عیدوں پر غبارے بیچنے، چودہ اگست پر جھنڈیاں، جھنڈے بیچنے اور شب برات پر آتش بازی کا سامان بیچنے سے بھی حاصل ہوئی تھی۔ جمع ہونے والی یہ رقم بہت زیادہ ہوتی اگر کرم تیرہ سال کی عمر سے اپنا گھر خود نہ چلا رہا ہوتا۔ اس کے گھر میں ماں باپ سمیت آٹھ افراد تھے اور بدقسمتی سے وہ ماں باپ اور بہن بھائیوں سب سے ”بڑا” تھا۔ اس کے ماں باپ ذمہ داریوں کو اٹھانے کے اعتبار سے اس سے بعد میں آتے تھے۔
    کرم علی کا باپ جہاں داد سال کے بارہ مہینے میں بارہ مختلف کام کرتا تھا اور کسی ایک کام سے بھی اسے اتنی آمدنی نہیں ہوتی تھی جسے وہ ”پان سگریٹ” کی اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے کے بعد گھر میں دیتا اور گھر کے اخراجات پورے ہوتے۔
    شادی کے چودہ سالوں میں صرف شادی کا پہلا سال تھا جب جہاں داد باقاعدگی سے اپنی بیوی کو خرچا دیتا رہا اس کے بعد کرم علی پیدا ہو گیا اور جہاں داد بیٹے کی پیدائش کے بعد شادی کے دوسرے ہی سال جیسے ہر ذمہ داری سے آزاد ہو گیا۔ گھر میں اب اگلی نسل آگئی تھی یعنی دوسرا مرد۔
    اگلے تین سال اخراجات کی ذمہ داری جہاں داد کا باپ اٹھاتا رہا۔ کیونکہ جہاں داد کی بیوی اس کی بھتیجی تھی اور اسی کے اصرار پر اس کے بھائی نے اپنی بیٹی کی شادی جہاں داد کو بے حد ناپسند کرنے کے باوجود بھی کر دی تھی۔ ان دو سالوں میں جہاں داد کے ہاں دو بیٹیوں کا اضافہ ہوا اور اس کا دل بیوی اور گھر سے مزید اچاٹ ہو گیا۔ اس کے کسی بھائی کے ہاں دو بیٹیاں نہیں تھیں اگر کسی کی دوسری بیٹی ہوئی تھی تو پیدائش کے کچھ عرصہ کے بعد مر گئی اور اب اس کے ہاں دو بیٹیاں ہو گئی تھیں۔ وہ جتنا دکھی ہوتا کم تھا۔ کرم علی پر اب دو بہنوں کی ذمہ داری بھی آگئی تھی۔ کیونکہ جہاں داد کے خاندان میں بہنوں کو ہمیشہ بڑا بھائی ہی بیاہتا تھا۔
    اگلے چار سال گھر کے اخراجات جہاں داد کے باپ کی موت کے بعد اس کے بڑے دونوں بھائیوں نے اٹھائے تھے کیونکہ وہ سب ایک ہی گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ کھانا پینا بھی مشترکہ تھا اور جہاں داد کو لعنت ملامت کرنے کے باوجود اس کے بھائی اس کی بیوی اور بچوں کو ہر ماہ تھوڑی بہت رقم دیتے رہے۔ کرم علی کو اسی زمانے میں اس کے تایا کے بچوں کے ساتھ ایک سرکاری اسکول میں داخل کروا دیا گیا۔
    پاکستان میں ٹیلی ویژن کی نشریات کا آغا ز ہو چکا تھا۔ جہاں داد کے ایک بڑے بھائی کے کمرے میں بھی ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی آگیا تھا جس نے گھر کی دوسری عورتوں اوربچوں کی طرح جہاں داد کی بیوی کو بھی خواب دکھانے شروع کر دیے تھے۔ پینٹ کوٹ میں ملبوس سگار پیتا، فرفرانگریزی بولتا لمبی گاڑی سے اترنے والا اور ایک بڑے سے گھر میں رہنے والا اونچا لمبا خوب صورت، پڑھا لکھا مرد۔




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۱

    من و سلویٰ کا بنیادی موضوع رزق حلال ہے۔ بنی اسرائیل پر نازل کی جانے والی نعمتوں میں سے ایک من و سلویٰ تھی۔ من ایک میٹھی دانے دار شے تھی جو آسمان سے رات کو شبنم کی طرح گر کر جم جاتی۔ سلویٰ ایک بٹیر تھا جو کثیر تعداد میں ان کے علاقے میں آتا اور وہ اسے پکڑ کر کھاتے۔ بنی اسرائیل چالیس سال تک جلا وطنی کے دور میں یہ آسمانی رزق کھاتے رہے پھر اس رزق پر اعتراض کرتے ہوئے حضرت موسیٰ سے ”زمینی رزق” کا مطالبہ کرنے لگے۔ وہ اس ”پاکیزہ سادہ کھانے” کے بجائے انواع و اقسام کے کھانے چاہتے تھے۔
    مجھے من و سلویٰ کے بارے میں پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ بنی اسرائیل کے ”من و سلویٰ” اور ہمارے ”رزق حلال” میں بہت مماثلت ہے۔ وہ ”پاکیزہ سادہ کھانا” تھا۔ یہ ”پاکیزہ سادہ رزق” ہے۔ دونوں کا حصول بے حد آسان ہے مگر بنی اسرائیل کے لیے من و سلویٰ پر انحصار کرنا اور ہمارے لیے رزق حلال پر جینا مشکل ہے۔ وہ بنی اسرائیل کی سوچ تھی، یہ ہماری سوچ ہے۔ وہ من و سلویٰ سے ”ناخوش” تھے اور اس کا ”مذاق” اڑاتے تھے۔ ناشکری کرتے تھے۔ ہم کو رزق حلال ”پسند” نہیں ہے اور ہم اس پر ”اعتراض” کرتے ہیں۔ انہیں زمین سے اگنے والا انواع و اقسام کا رزق چاہیے تھا۔ ہمیں شارٹ کٹ سے کم وقت میں بہت زیادہ پیسہ چاہیے۔
    بنی اسرائیل کی قوم کہتی تھی کہ موسی کا رب ”کنجوس” ہے جس کے پاس ان کے لیے من و سلویٰ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ہم آج یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہمارا خدا” ہمیں رزق حلال کے علاوہ کچھ نہ دے کر ”تنگ” کر رہا ہے۔ بنی اسرائیل اپنی اس سوچ اور ناشکری کی وجہ سے مغضوب ہوئی اور ہم…
    یقینا ہم مغضوب ہونا نہیں چاہتے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ من و سلویٰ کے معاملے میں نظر آنے والی یہ مماثلت افسوس ناک ہے، شرم ناک ہے یا ہولناک، اس کا فیصلہ ہم سب اپنی اپنی جگہ پر کر سکتے ہیں۔
    اور آخر میں بس ایک بات…
    من و سلویٰ کوئی اسلامی کہانی نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی اسلامک اسکالرلی فکشن ہے۔ ایک ایشو کے بارے میں میری ذاتی رائے ہے جو بالکل غلط بھی ہو سکتی ہے۔ میرا علم ناقص ہے، میری عقل محدود اور مجھے ان دونوں پر کوئی گمان نہیں مگر میری نیت میں کوئی خرابی نہیں اور میں اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں۔
    تو ”من و سلویٰ” حاضر ہے۔

    عمیرہ احمد




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۵ (آخری قسط)

    ”یہ قتل منصور علی نے کیا ہے۔ ”ہارون کمال نے جیسے کمرے میں بم پھوڑا تھا۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اپنے وکیل سے بات کر کے فارغ ہوا تھا اور اس گفتگو کے دوران ہی برق رفتاری سے اس نے اپنے بچاؤ کا پلان تیار کر لیا تھا واحد چیز جس کا اسے خوف تھا وہ اسد کا روِعمل تھا۔ مگر وہ اسد کے رد عمل کی خاطر اپنی جان داؤ پر نہیں لگا سکتا تھا وکیل سے گفتگو سے دوران ہی وہ یہ اچھی طرح جان چکا تھا کہ وہ بری طرح پھنس چکا ہے۔ اس کے خلاف بہت سارے ثبوے اکٹھے ہو چکے تھے اور اگرتحقیق شروع ہو جاتی تو پھندا اس کے گلے میں پوری طرح فٹ آتا اس لیے اس نے امبر سے اپنے تعلقات کو ظاہر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
    فون کا ریسیور نیچے رکھتے ہی اس نے اے ایس پی سے کہا۔
    ”یہ قتل منصور علی نے کیا ہے اوروہ مجھے اس میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔”
    اسد کے ساتھ ساتھ اے ایس پی بھی اس کی بات پر چونکا۔
    ”آپ کا مطلب ہے، امبر کو اس کے اپنے باپ نے قتل کیا ہے مگر سوال پیداہوتا ہے کہ کس لیے؟کوئی باپ صرف اپنے بزنس پارٹنر کو پھنسانے کے لیے تو اپنی بیٹی کا قتل نہیں کر سکتا ۔”اے ایس پی نے اس کی بات کو جیسے پوری طرح رد کرتے ہوئے کہا۔
    ”میں اور امبر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ ”ہارون کمال نے کمرے میں اسد کی موجودگی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے جی کڑا کر کے کہا”اور کچھ عرصہ تک ہم دونوں شادی کرلیتے ۔ منصور کو تب تک اس ساری صورت حال کا پتہ نہیں تھا۔”
    ”اسد پتھر کے مجسمے کی طرح ہارون کمال کودیکھ رہا تھا۔
    ”امبر منصور کے ساتھ نہیں رہتی تھی۔ وہ منصور کی سابقہ بیوی کے ساتھ رہتی تھی۔ پھر ایک دن وہ مجھ سے شادی کرنے کے لیے گھر چھوڑ کر میرے پاس آگئی ۔میں نے وقتی طور پر اسے اپنے فلیٹ میں رکھا مگر اسی رات اچانک منصوربھی وہاں آگیا۔ امبر کو وہاں میرے ساتھ دیکھ کر وہ آگ بگولہ ہو گیا۔ میںکچھ پریشانی اور شرمندگی کے عالم میں وہاں سے چلا گیا۔جب میں واپس آیا تو منصور اور امبر دونوں وہاں نہیں تھے۔ میں سمجھا کہ شاید منصور امبر کولے گیا ہے ۔ مگر اس کے اگلے دن منصورنے ہر جگہ یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس کی بیٹی میرے ساتھ شادی کر چکی ہے۔ ”




    اس سے پہلے کہ ہارون کچھ اور کہتا، اسد ایک جھٹکے سے اٹھا اور کمرے سے نکل گیا۔ اے ایس پی نے اسد کے بگڑے ہوئے تیوروں اور اس کے اٹھ کر جانے کے انداز کو غور سے دیکھا ۔ ہارون نے ایک بار پھر بات شروع کر دی۔”
    ”میں نے منصور کی ان ہی باتوں کی وجہ سے بزنس ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس نے امبر کو قتل کر دیا ہے۔ میں نے اس رات واقعی ایک بیگ خریدا تھا۔ کیونکہ میں اور امبر اگلے ایک دو دنوں میں دبئی چلے جاتے ۔ امبر کو بیگ کی ضرورت تھی۔ مگر میں یہ نہیں جانتا تھا کہ منصور علی اتنا گھناؤنا قدم اٹھالے گا۔”
    ہارون کمال کی کہانی بالکل پرفیکٹ تھی، اس میں کہیں جھول نہیں تھا۔ اے ایس پی بری طرح الجھا کہانی میں ایک نیا موڑ آگیا تھا۔ وہ ہارون کمال کو قاتل سمجھ کر وہاں آیا تھا مگر ۔
    ”اور یہ فلیٹ کہاں ہے؟”اے ایس پی نے اپنے ہاتھ میں پکڑے کاغذات پر کچھ نوٹ کرتے ہوئے کہا۔ ہارون نے ایڈریس لکھوادیا۔
    ”یہ آخری بار تھی جب آپ نے امبر کو دیکھا؟”اس نے پوچھا۔
    ”ہاں۔”
    ”تاریخ بتاسکتے ہیں ؟”ہارون نے تاریخ بتائی۔ اے ایس پی نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں’پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس لڑکی کی ڈیتھ ان ہی دنوں میں ہوئی ہے۔میں اب منصورعلی سے ملوں گا مگراس سے پہلے اس فلیٹ کو دیکھوں گا۔ میں فی الحال آپ کو گرفتار نہیں کر رہا۔آپ بیرون ملک جانے کی کوشش مت کیجئے گا۔میں منصور علی سے ملنے کے بعد آپ کو بتاؤں گا کہ آپ پر شبہ برقرار ہے یا پھر ہم منصور علی کو گرفتار کررہے ہیں۔”
    اے ایس پی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
    ”میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ آپ کو یہ سب کچھ صاف صاف بتادیا ہے تہ آئندہ بھی کچھ نہیں چھپاؤں گا۔ امبر کی موت کا مجھے بھی بہت افسوس ہے۔”
    اس سے پہلے کہ ہارون کچھ اور کہتا، اے ایس پی نے اس کی بات کاٹ دی۔
    ”میں اسی وقت اس فلیٹ پر جانا چاہتا ہوں ۔”
    ”مگر اس وقت تو میرا وکیل یہاں پہنچنے والا ہو گا۔”
    ”آپ وکیل سے ملیں ، مجھے کسی اور کے ساتھ وہاں بھجوا دیں یا پھر آپ مجھے صرف ایڈریس بتا دیں ۔”اے ایس پی نے کہا۔
    ”میں آپ کو اپنے پی اے کے ساتھ وہاں بھجوادیتا ہوں ۔”ہارون نے فون اٹھا کر اپنے پی اے کو اندر بلایا اور پھر اسے ہدایات دیتے ہوئے اے ایس پی کے ساتھ رخصت کیا۔
    اے ایس پی کے جاتے ہی وکیل وہاں پہنچ گیا تھا۔ اگلا ایک گھنٹہ ہارون نے وکیل کے ساتھ گزارا اور اسی میٹنگ کے دوران اس نے شائستہ کی کال اٹینڈ کی تھی۔ اور شائستہ کے منہ سے نایاب کی کورٹ میرج کا سن کر اس کے پاؤں کے نیچے سے محاورتاً نہیںحقیقتاََ زمین نکل گئی تھی۔ وہ ابھی پہلے شاک سے باہر نہیں نکلا تھا کہ ایک اور مصیبت اس کے سر پر آن پڑی تھی۔
    وکیل کے ساتھ میٹنگ ادھوری چھوڑ کر وہ گھر کی طرف روانہ ہوا۔ مگر پورا رستہ وہ بے حد اپ سیٹ رہا تھا۔
    گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر نایاب کی گاڑی پر پڑی تھی۔ اس کا مطلب تھا نایاب بھی اس وقت گھر پر ہی تھی ہارون نے سوچنے کی کوشش کی کہ وہ آخر کس کے ساتھ کورٹ میرج جیسا بڑا قدم اٹھا سکتی ہے۔ اس کی اتنی دوستی کسی لڑکے کے ساتھ نہیں تھی سوائے…ثمر کے اور بہر حال وہ اتنی بے و قوف نہیں تھی کہ ان سارے حالات میں ثمر کے ساتھ اپنے ماں باپ کو بتائے بغیر کورٹ میرج کر لیتی اور پھر اچانک ہارون کو احساس ہواکہ اگر اسے کسی کے ساتھ چھپ کر شادی کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے تو وہ ثمر ہی ہو سکتا ہے کیونکہ وہی ایک شخص تھا جس کے ساتھ کبھی بھی کسی بھی حالات میں ہارون اور شائستہ شادی کے لیے تیار نہ ہوتے ۔ ہارون کا بلڈ پریشر کچھ اور ہائی ہو چکا تھا۔ اس کا بس چلتا تو ثمر کو مار ڈالتا ۔ مگر اس وقت تو اسے اپنی بیٹی سے بات کرنا تھی۔
    لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اس کے سارے اند زوں اور بد ترین خدشات کی تصدیق ہو گئی تھی۔ نایاب اور ثمر ایک صوفہ پر بیٹھے ہوئے تھے اور شائستہ ایک دوسرے صوفے پر بیٹھی بے حد غصہ کے عالم میں ان سے کچھ کہہ رہی تھی۔
    نایاب نے ہارون کو لاؤنج میں داخل ہوتے دیکھ لیا تھا اور یقیناََ اس کے تاثرات سے اسے اندازہ بھی ہوگیا تھا۔ کہ اس کا باپ بے حد خراب موڈ میں ہے۔
    شائستہ ہارون کو دیکھتے ہی اٹھ کر کھڑی ہو گئی ، یہی کام نایاب اور ثمر نے کیا تھا۔ ثمر یک دم ہی بے حد نروس ہو گیا تھا۔
    شائستہ کو ہارون کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں پڑی ۔
    ”اس لڑکے سے شادی کی ہے تم نے ؟” ہارون نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہی دھاڑتے ہوئے نایاب کو مخاطب کیا ۔ ثمر کے برعکس وہ نروس نہیں تھا اگر تھی بھی تو وہ ظاہر نہیں کر رہی تھی۔
    ”ہاں !اس نے بڑے اعتماد سے ہارون کو جواب دیا۔ ہارون نے اس اعتماد کا جواب انگلش میں ثمر کو کچھ گالیوں سے دیا۔
    ”پلیز پاپا ! مائنڈ یو ر لینگویج ۔”نایاب نے بے حد ناراضی سے کہا۔ ”آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ آپ میرے شوہر سے بات کر رہے ہیں ۔”
    ”تمہارا شوہر مائی فٹ ! میں اس دو ٹکے کے لڑکے کواپنا داماد بنا لوں جس سے بہترمیرے ملازم ہیں جس کا نہ کوئی آگے ہے نہ پیچھے ۔ پتہ نہیں یہ کس کی ناجائز اولاد ہے جسے تم پکڑ کر ہارون کمال کا دامادبنانے چلی ہو۔ ”ہارون کمال نے یہ کہتے ہوئے شائستہ کو نہیں دیکھا جس کی آنکھیں اس وقت ہارون کو دیکھتے ہوئے آگ برسا رہی تھیں ۔ ثمر کا چہرہ ہارون کے جملوں پر سرخ ہو گیا تھا۔ اگر چہ اسے ا سی قسم کے استقبال کی امید تھی۔ اس کے باوجود اسے لگا کہ اس نے یہاں آکر بہت بڑی غلطی کی ہے۔
    ”مجھے ثمر کے خاندان سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔میرے لیے صرف وہ اہم ہے۔ ”نایاب نے ہارون کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
    ”اس لڑکے نے تمہیں ٹریپ کیا ہے۔ تمہیں سیڑھی بنا کر ہارون کمال کی دولت حاصل کرنا چاہتا ہے۔”ہارون نے ثمر کی طرف انگلی اٹھاکر نایاب سے کہا۔
    ”مجھے آپ کی دولت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں گھر داماد بننے نہیں آیا ہوں ۔ میں نایاب کو یہا ں سے اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤں گا۔ ”
    ثمر نے پہلی دفعہ ساری گفتگو میں مداخلت کی …اور اس کا پہلا جملہ ہی ہارون کے صبر کا پیمانہ لبریز کرنے کے لیے کافی تھا۔ وہ غصے میں لپکتے ہوئے ثمرکی طرف گیا اور اسے گر یبان سے پکڑ لیا۔ اس سے پہلے کہ ثمر کچھ کرتا، ہارون نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا۔ اور پھر دوسرا تھپڑ، نایاب چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے ہارون کو روکنے کی کوشش کی مگر ہارون غصہ میں آگ بگولہ ہو رہا تھا۔ ؟ثمر کی ناک سے خون نکلنے لگا تھا۔ وہ اب اپنے چہرے کو ڈھانپ رہا تھا مگر ہارون پوری قوت سے اپنے بوٹوں کے ساتھ اس کی ٹانگوں پر ٹھوکریںمار رہا تھا۔
    شائستہ بے حس وحرکت لاؤنج میں کھڑی تھی ۔ وہ یہ سب کچھ نہیں چاہتی تھی مگر اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ یہ سب کچھ کیسے بند کرے ۔ نایاب ہارون اور ثمر کے بیچ میں آنے کی کوشش کر رہی تھی اور اس میں ناکام ہونے پر وہ بری طرح رونے لگی ۔ ثمر اپنے آپ کو بچانے میں ناکام ہو رہا تھا۔ اسے ہارون کمال کا لحاظ نہ ہوتا تو شاید وہ بھی جواباََ ہارون کمال پر اب تک ہاتھ اٹھا چکا ہوتا۔
    شہیر نے یہ سارا منظر لاؤنج کی ریلنگ کے کنارے کھڑے ہو کر دیکھا تھا۔ وہ چند لمحے پہلے ہی نیچے ہونے والا شور سن کر اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا اور باہر نکلتے ہی نیچے لاؤنج میں ثمر کو ہارون کے ہاتھوں پٹتے دیکھ کر وہ ایک لمحہ کے لیے شاکڈ رہ گیا تھا۔ اس نے پہلی نظرمیں ثمر کو پہچانا نہیں مگر اگلے ہی لمحے وہ پاگلوں کی طرح بھاگتے ہوئے دیوانہ وار سیڑھیاں اترتے نیچے پہنچا’اور پوری قوت سے ہارون کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ثمر کے سامنے آگیا۔ ہارون نے سرخ آنکھوںکے ساتھ اسے دیکھا۔
    ”سامنے سے ہٹو ۔”اس نے بلند آواز میں چیختے ہوئے شہیر سے کہا۔
    ”میں نہیں ہٹو ں گا ۔ آپ میرے بھائی کو اس طرح نہیں مار سکتے۔ ”
    ”شہیر !تم یہاں سے جاؤ، یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے۔ ”شائستہ نے ہارون کی بات کو نظر انداز کر….کے چند قدم آگے آتے ہوئے شہیر سے کہا۔
    ”نہیں میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ آپ لوگوں کی ہمت کیسے ہوئی کہ آپ لوگ ثمر کو اس طرح ماریں۔”
    شہیر اب اشتعال میں تھا۔
    ”ثمر کو جرأت کیسے ہوئی کہ یہ نایاب کیساتھ شادی کر لے۔”شائستہ نے ترکی بہ ترکی کہا۔
    شہیر کو جھٹکا لگا”نایاب سے شادی ؟”اس نے پلٹ کر ثمر کو دیکھا۔
    ”I can explain۔”ثمر نے مدھم آواز میں اپنی ناک سے نکلتا خون صاف کرتے ہوئے کہا۔ شہیر کا دل چاہا تھا، وہ ایک ہاتھ خود بھی اسے جڑ دے ۔ وہ واقعی اُلو کا پٹھا تھا۔
    ”اس سے کہو، یہ ابھی اور اسی وقت نایاب کو تحریری طور پر طلاق دے ۔ ”شائستہ نے کہا۔ ”اور دوبارہ کبھی نایاب سے ملنے کی کوشش نہ کرے ۔”
    ”میں کبھی مر کے بھی ثمر سے طلاق نہیں لوں گی۔سن لیا آپ لوگوں نے۔”نایاب بے اختیار ہو کر چلائی۔




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۴

    منصور علی، ہارون کمال کے سامنے بیٹھا اسے گھور رہا تھا۔ ہارون ابھی کچھ دیر پہلے ہی اپنے وکیل کے ساتھ فیکٹری کے آفس میں داخل ہوا تھا۔ منصور پچھلے آدھ گھنٹے سے اپنے وکیل کے ساتھ وہاں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا اور اب جب وہ آ کر اطمینان کے ساتھ اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا تو منصور کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ہارون کا گریبان پکڑ لے۔
    وہ اس وقت واقعی ڈھٹائی اور بے شرمی کی سب سے اونچی سطح پر تھا۔ جہاں پر وہ صرف ایک ایسا مرد تھا جس کی چہیتی بیوی ایک ”سازش” کے تحت اس سے جدا کر دی گئی تھی۔ جس کا بزنس’ اس کا پارٹنر اس کی اپنی بیٹی کے کہنے پر اسے تباہ کرنے پر مل گیا تھا۔ اس کے دل میں ہارون کمال کو اپنی کم عمر بیٹی کے شوہر کے طور پر دیکھ کر کوئی غصہ’ کوئی نفرت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔ اگر یہ دونوں جذبات پیدا ہو بھی رہے تھے تو امبر کے خلاف … جو اسے تباہ کرنے پر تل گئی تھی۔ اور ہارون اسے امبر کے ہاتھ ایک ہتھیار کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔
    ”ہارون کمال صاحب نے …” ہارون کمال کے وکیل نے اپنی نشست سنبھالتے ہی رسمی علیک سلیک کے بعد کہنا شروع کیا’ مگر منصور نے اس کی بات کاٹ دی۔
    ”میں ہارون سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔” منصور نے درشتی سے کہا۔
    ”تم مجھے اکیلا سمجھو۔” ہارون نے اپنے وکیل کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کہا۔ منصور کو اس کا اطمینان کانٹے کی طرح چبھا۔
    ”میں ان دونوں وکیلوں کے ساتھ کوئی ذاتی معاملہ ڈسکس کرنا نہیں چاہتا۔ میں اپنی اور تمہاری عزت اچھالنا نہیں چاہتا۔” منصور نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
    ”یہ اچھی بات ہے۔ ” ہارون نے سرہلایا اور پُرسکون انداز میں کہا۔
    ”میرے اور تمہارے درمیان ویسے بھی کوئی ذاتی معاملات نہیں ہیں’ صرف کاروباری معاملات ہی ہیں اور میں انہیں بھی ختم کر دینا چاہتا ہوں اور میں نہیں سمجھتا کہ کاروباری معاملات ختم کر دینے سے تمہاری یا میری عزت کو خطرہ ہو گا۔”
    منصور نے اپنے اور اس کے وکیل پر ایک نظر ڈالی اور پھر جیسے کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے کہا۔
    ”ٹھیک ہے اگر تمہیں اپنی عزت کی پروا نہیں ہے تو پھر مجھے بھی نہیں ہونا چاہیے۔ میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم یہ سب کس کے اشارے پر کر رہے ہو۔”
    ”کس کے اشارے پر کر رہا ہوں؟” ہارون نے اسی انداز میں پوچھا۔




    ”امبر کے اشارے پر۔” منصور نے جیسے بم اس کے سر پر پھوڑا۔ ہارون کا جسم ایک لمحہ کے لیے تن گیا۔
    ”کون امبر؟” اس نے صرف ایک ساعت کا توقف کر کے کہا۔ کمرے میں بیٹھے دونوں وکیلوں کے چہروں پر حیرت کے تاثرات در آئے۔
    ”تمہاری دوسری بیوی۔”منصور نے زہریلے انداز میں کہا۔
    ”تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ ” ہارون نے کہا۔
    ”میری صرف ایک ہی بیوی ہے اور اس کا نام شائستہ ہے۔” ہارون نے کاٹ کھانے والے انداز میں کہا۔
    ”تم نے دوسری شادی کر لی ہے’ تو تم سمجھ رہے ہو پوری دنیا تمہارے نقش قدم پر چلنے لگی”۔ ”وہ لڑکی آج باپ کو تباہ کر رہی ہے’ کل تمہیں بھی تباہ کر دے گی ہارون!۔” منصور نے جیسے ہارون کی بات نہیں سنی تھی۔ ”تم اگر یہ سمجھ رہے ہو کہ اس نے تمہاری محبت میں گرفتار ہو کر تم سے شادی کی ہے تو یہ تمہاری بھول ہے۔ وہ مجھے تباہ کرنے کے لیے تمہاری بیوی بنی ہے۔”
    ”تم کیا بکواس کر رہے ہو؟” ہارون نے بلند آواز میں اس کی بات کاٹی۔
    میں نے کسی امبر کے ساتھ نہیں شادی نہیں کی ہے۔ یہ سب تمہارا اور تمہاری بیٹی کا ذاتی مسئلہ ہے۔ میں اگر تمہارے ساتھ پارٹنرشپ ختم کر رہا ہوں تو میرے پاس اس کے لیے بہت ٹھوس اور ذاتی وجوہات ہیں ۔”
    ”تم مجھے دھوکا نہیں دے سکتے ہارون !مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتے۔ ”منصور نے تیزی سے کہا۔ ”میں نے خود تمہارے فلیٹ پر اس کے کپڑے اور اس کی چیزیں دیکھی ہیں ، میںجانتا ہوں وہ وہیں رہ رہی ہے، میں نے اس وقت ان چیزوں کو نہیںپہچانا تھا،مگر اب میںجان گیا ہوں کہ وہ چیزیں مجھے کیوں مانوس لگ رہی تھیں ۔ میں جانتا ہوں تم نے امبر سے شادی کر لی ہے اور وہ وہیں رہ رہی ہے۔”
    ہارون کمال چند لمحوں کے لیے کچھ نہیں بول سکا۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر ، بالکل ساکت منصور کودیکھ رہا تھا، جو اسی انداز میں سرخ چہرے کے ساتھ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے تھا۔ دونوں وکیل ہکا بکا ان دونوں کو دیکھ رہے تھے، وہ کم از کم اس سب کی توقع کر کے وہاں نہیں آئے تھے۔
    ”تم سے بات کرنا بیکار ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ ہم آمنے سامنے بیٹھ کر ان معاملات کو حل کر لیںگے، مگر میرا خیال ہے کہ اب میرا وکیل ہی تم سے رابطہ رکھے تو بہتر رہے گا۔ ”ہارون کمال یک دم اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ منصور بھی اسی برق رفتاری سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔
    ”تم اس طرح مجھ سے بات کیے بغیر نہیں جاسکتے۔”
    ”تم مجھے کیسے روک سکتے ہو؟”ہارون دو بدو بولا ۔
    ”اس فیکٹری میں میرا روپیہ اور محنت لگی ہے تم اس طرح مجھے اس سے بے دخل نہیں کر سکتے۔”
    ”ٹھیک ہے نہیں کرتا پھر تم خرید لو اسے …میرے شیئرز بھی لے لو ۔”ہارون نے اسی انداز میں کہا ۔ ”اور مجھے پوری ادائیگی کر دو۔”
    ”تم جانتے ہو میں فوری طور پر یہ بھی نہیں کر سکتا۔” ”میرے لیے اتنی رقم کوئی معنی نہیں رکھتی۔”ہارون نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
    ”ہارون ایک دفعہ پھر سوچو…تم امبر کی باتوں …”منصور نے اپنی آواز کو کچھ دھیما کرتے ہوئے کہا۔ مگر ہارون نے اسے بات مکمل کرنے نہیں دی۔
    ”شٹ اپ….اب امبر کا نام میرے سامنے مت لینا…تم اپنا ذہنی توازن کھوچکے ہو، اس لیے خوامخواہ اپنی بیٹی کو میرے گلے ڈال رہے ہو۔اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ اس طرح تم فیکٹری حاصل کر لو گے تو یہ تمہاری بھول ہے۔”ہارون نے تیز آوازمیں کہا اور پھر مزید کچھ کہے بغیر دروازہ کھول کر باہر چلا گیا۔ منصور ہونٹ کاٹتے ہوئے بند دروازے کو دیکھتا رہا۔
    ٭٭٭
    صبغہ نے ہاتھ میں پکڑا کا رڈٹیبل کے دوسری طرف بیٹھے نوجوان آدمی کی طرف بڑھا دیا۔ وہ اس وقت ایک سے وکیل کے چیمبر میںبیٹھی ہوئی تھی۔
    ”مجھے شہیر ثوبان نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ ”صبغہ نے اس شخص سے کہا۔ جس پر اس نے کارڈ پر سرسری سی نظر ڈالی،پھر اسے اپنی ٹیبل پر رکھتے ہوئے صبغہ سے پوچھا۔
    ”آپ کیا لیں گی ؟چائے یا سوفْٹ ڈرنک ؟”
    ”نہیں کچھ نہیں ۔”صبغہ نے جواباََ مسکرانے کی کوشش کی۔ وہاں کوئی آئینہ نہ ہونے کے باوجود اسے یقین تھا کہ وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوئی ہے ۔اس آدمی نے میز کے نیچے کسی بٹن کو دبایا تھا، ایک دوسرا شخص اندر داخل ہوا۔
    ”دو سو فٹ ڈرنک لے آؤ۔”
    اس نے آنے والے شخص سے کہا، یہ جیسے صبغہ کے انکار کا ردعمل تھا۔ جب اندر آنیوالا شخص دوبارہ باہر نکل گیا تو اس نے بات شروع کی۔
    ”دیکھیں ، میں کوئی قانونی کاروائی کرنا نہیں چاہتی ہوں، میں اس کے علاوہ اورکچھ نہیں چاہتی ۔”اس نے اپنے پہلے ہی جملے پر سامنے بیٹھے ہوئے شخص کے ماتھے پر چند لکیروں کو نمودار ہوتے دیکھا ۔صبغہ نے اس کے تاثرات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
    ”میں صرف اپنی بہن سے رابطہ کرنا چاہتی ہوں ۔اس کی خیریت جاننا چاہتی ہوں ، میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتی۔”اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی اس نے ٹیبل پر پڑا کارڈا ٹھا کر اس پر پھر سے ایک نظر ڈالی اور صبغہ سے کہا۔
    ”آپ کو شہیر ثوبان سمیع نے ہی بھیجاہے؟”وہ اس کا سوال نہیں سمجھ سکی ۔ کچھ دیر ہو نق نظروں سے اسے دیکھنے کے بعداس نے پوچھا۔
    ”ہاں …کیوں؟”
    ”کچھ نہیں …مجھے لگتا ہے کوئی کنفیوژن ہے۔”وہ آدمی جیسے بڑبڑایا۔
    ”خیر آپ کیا بتا رہی تھیں ؟”اس نے پوچھا اور اپنے سامنے میز پر ایک رائٹنگ پیڈ کھول کر پین ہاتھ میں لے لیا۔
    ”لیکن ٹھہریں ، پہلے آپ مجھے اپنی بہن کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔کیونکہ شہیر نے مجھ سے ایسے کسی معاملے کے بارے میں بات نہیں کی تھی۔ اس نے بس یہ کہا تھا کہ آپ کو جاب کو ضرورت ہے اور میرے پاس ایک ریسپشنسٹ کی ویکینسی تھی۔ ْ”
    صبغہ بے اختیار شرمندہ ہوئی، اس کا جی چاہا وہ پلک جھپکتے وہاں سے غائب ہوجائے ۔توشہیر نے وہ کارڈ صرف جاب کے حوالے سے دیا تھا۔ اسے یاد آیا، اس کے ساتھ اس روز ہونے والی ملاقات میں اس نے کہا تھا کہ وہ جاب کے سلسلے میںاس کی مدد کرے گااور یقینا اس نے اتنے دنوں میں یہی کیا تھا اور وہ…اسے یقین نہیں آیاکہ وہ زندگی میں اتنی بڑی حماقت کر سکتی تھی۔ مگر وہ کر چکی تھی۔
    مزید ایک لفظ کہے بغیر اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
    ”کیا ہوا؟”اس نے حیرانی سے کہا۔
    ”کچھ نہیں ، مجھے کچھ غلط فہمی ہو گئی تھی۔ ”صبغہ نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
    ”آپ پلیز بیٹھے ۔”وہ ایک لمحے میں اس کی شرمندگی بھانپ گیا۔
    ”ٹھیک ہے، شہیر نے آپ کی جاب کے لیے کہا تھا مگر میں اس معاملے میں بھی آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔”